Ayah 9:45انما یستاذنک الذین یؤمنون باللہ والیوم الاخر وارتابت قلوبھم فھم فی ریبھم یترددون۔ (جہاد میں شریک نہ ہونے کی) اجازت کے طلبگار تو صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں ‘ سو وہ اپنے شکوک میں پڑے ہوئے حیران ہیں۔ کبھی جہاد میں ساتھ جانے کا ارادہ کرلیتے ہیں تاکہ اگر مسلمانوں کو کامیابی ہوجائے تو مسلمانوں کی طرف سے ان کو کوئی دکھ نہ پہنچے اور کبھی شریک نہیں ہونا چاہتے ‘ کیونکہ ان کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ کبھی واپس نہیں آسکتے۔
دونوں جگہ اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھنے اور نہ رکھنے کا ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ جہاد کی محبت تو ایمان کا تقاضا ہے تاکہ آخرت میں ثواب مل جائے ‘ اس کیلئے اجازت طلب کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے اور عدم ایمان ترک جہاد کا خواستگار ہے کیونکہ ثواب کی امید ہی معدوم ہے۔
Ayah 9:46ولو ارادوا الخروج لا عدوا لہ عدۃ اور اگر وہ (جہاد کو) چلنے کا ارادہ کرتے تو اس کیلئے کچھ سامان تو تیار کرتے۔ عُدَّۃً سے مراد ہے : سفر اور جہاد کا سامان ‘ ہتھیار ‘ گھوڑے ‘ اونٹ (وغیرہ) ۔
ولکن کرہ اللہ انبعاثھم فثبطھم وقیل اقعدوا مع القعدین۔ لیکن (خیر ہوئی) اللہ تعالیٰ نے ان کے اٹھنے (یعنی جہاد کیلئے جانے) کو پسند نہیں کیا ‘ اسی لئے ان کو توفیق نہ دی اور (بحکم تکوینی) کہہ دیا گیا کہ اپاہج لوگوں کے ساتھ تم بھی یہاں بیٹھے رہو۔ وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ الخ سے یہ استدراک ہے ‘ گویا کلام یوں ہوا کہ انہوں نے جہاد کو نکلنے کا ارادہ نہیں کیا اور رکے رہے کیونکہ اللہ کو ان کا نکلنا پسند نہ تھا ‘ اللہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ (جہاد کیلئے) اٹھیں۔ ثَبَّطَھُمْ اللہ نے ان کو روک دیا بزدلی اور سستی کے سبب سے۔ اُقْعُدُوْا یعنی اپنے گھروں میں بیٹھے رہو۔ القاعدین سے مراد ہیں : بیمار ‘ اپاہج۔ بعض کے نزدیک عورتیں اور بچے مراد ہیں۔
ا اللہ نے ان کے دلوں کے اندر جو جہاد کو جانے سے کراہت پیدا کردی یا شیطان نے وسوسہ ڈال دیا ‘ اس کو بطور مجاز حکم قعود قرار دیا۔ یا قِیْلَسے خود ان کے قول کو نقل کیا گیا ہے (یعنی انہوں نے آپس میں کہا تھا کہ گھروں میں بیٹھ رہو) یا رسول اللہ ﷺ نے جو ان کو بیٹھ رہنے کی اجازت دے دی تھی ‘ اس کو بیان کیا گیا ہے (ان سب صورتوں میں قِیْلَسے مراد امر تکوینی نہ ہوگا) ۔
رسول اللہ ﷺ کی جہاد تبوک پر روانگی
اکثر منافقوں کا ساتھ دینے سے انکار
ماہ رجب 9 ھ میں رسول اللہ ﷺ مدینہ سے برآمد ہوئے اور ثنیۃ الوداع میں فوجی کیمپ لگایا۔ (وہاں) آپ کے ساتھ لوگوں کی تیس ہزار سے زائد تعداد تھی۔ محمد بن اسحاق اور محمد بن عمرو بن سعد کا یہی قول ہے۔ حاکم نے الاکلیل میں حضرت معاذ کی روایت سے یہ ہی بیان کیا ہے ‘ لیکن حاکم نے الاکلیل میں ابو ذرعہ رازی کا قول نقل کیا ہے کہ تبوک (کی روانگی) میں لوگوں کی ستر ہزار کی تعداد تھی ‘ یعنی تابع اور متبوع دونوں کی مجموعی تعداد اتنی تھی۔ مذکورۂ بالا دونوں قولوں کا تعارض دور کرنے کیلئے حاکم نے یہی تاویل کی ہے صرف گھوڑ سوار دس ہزار تھے۔
عبدالرزاق اور ابن سعد کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعرات کو روانہ ہوئے ‘ جمعرات کو روانہ ہونا ہی آپ کو پسند تھا۔
بقول ابن ہشام حضور ﷺ نے مدینہ میں اپنا جانشین محمد بن مسلمہ انصاری کو بنایا تھا۔ درا وردی کی روایت میں محمد بن مسلمہ کی جگہ سباع بن عرفظہ کا نام آیا ہے اور محمد بن عمر و ابن سعد نے لکھا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابن ام مکتوم کو حضور ﷺ نے اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ لیکن ہمارے نزدیک محمد بن مسلمہ انصاری کا جانشین ہونا زیادہ قوی ہے۔ محمد بن مسلمہ سوائے تبوک کے اور کسی غزوہ میں حضور ﷺ سے الگ نہیں رہے۔
ابو عمر نے حضرت علی بن ابی طالب کو رسول اللہ ﷺ کا جانشین قرار دیا ہے۔ ابن دحیہ نے بھی ذکر کیا ہے اور یہی زیادہ صحیح بھی ہے۔ عبدالرزاق نے المصنف میں صحیح سند سے حضرت سعد بن ابی وقاص کا بیان نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ تبوک کو روانہ ہوئے تو مدینہ میں اپنا جانشین حضرت علی بن ابی طالب کو مقرر فرما دیا۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کو اپنی جگہ اپنے اہل بیت کا نگراں مقرر فرمایا تھا اور حکم دیا تھا کہ اہل بیت کے پاس رہیں۔ منافقوں نے اس واقعہ کو (فتنہ پیدا کرنے کیلئے غلط طور پر) اچھالا اور کہنے لگے : رسول اللہ ﷺ علی کا ساتھ رہنا اپنے لئے بار سمجھتے تھے اور ان سے ناراض تھے (اسلئے چھوڑ گئے) حضرت علی کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ اپنے ہتھیار لے کر فوراً نکل کھڑے ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے۔ حضور ﷺ اس وقت مقام جرف میں تھے۔ آپ نے حضور ﷺ کو منافقوں کی بات کی اطلاع دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ جھوٹے ہیں۔ میں نے تم کو صرف ان لوگوں کی نگرانی کیلئے اپنے بجائے چھوڑا ہے جو میرے بعد رہ گئے ہیں ‘ لہٰذا تم میری جگہ میرے گھر والوں کی اور اپنے گھر والوں کی نگرانی کرو۔ اے علی ! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ کیلئے ہارون تھے ‘ مگر (فرق یہ ہے کہ) میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ حسب الحکم حضرت علی لوٹ آئے۔ یہ حدیث بخاری و مسلم کی متفق علیہ ہے۔
عبدا اللہ بن ابی رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب روانہ ہوا تھا مگر اس نے اپنی جماعت کا پڑاؤ رسول اللہ ﷺ کی لشکرگاہ سے الگ ذباب کی طرف کچھ نچلے حصہ میں قائم کیا۔ جب تک رسول اللہ ﷺ فروکش رہے ‘ عبد اللہ بھی مقیم رہا۔ لیکن جب رسول اللہ ﷺ تبوک کی جانب روانہ ہوئے تو عبد اللہ نے ساتھ چھوڑ دیا اور اپنے ساتھی منافقوں کو لے کر مدینہ کو لوٹ آیا اور کہنے لگا : محمد ﷺ باوجود اتنی بدحالی (سختی) اور گرمی کے اتنی لمبی مسافت پر بنی الاصفر سے لڑنے چلے ہیں ‘ جس کی ان میں طاقت نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بنی الاصفر سے لڑنا کھیل ہے۔ خدا کی قسم ! مجھے تو دکھائی دے رہا ہے کہ محمد ﷺ کے ساتھی رسیوں میں بندھے ہوئے ہیں (یعنی گرفتار ہوجائیں گے ‘ بلکہ ان کی گرفتاری اتنی یقینی ہے کہ مجھے وہ بندھے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں) عبد اللہ بن ابی نے اس قسم کی خبریں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے متعلق فتنہ پیدا کرنے کیلئے مشہور کی تھیں۔ اللہ نے ابن ابی اور اس کے ساتھیوں کے متعلق آیات ذیل نازل فرمائیں۔
Ayah 9:47لو خرجوا فیکم مازا دوکم الاخبالا اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ شامل ہوجاتے تو سوائے اس کے کہ اور دوگنا فساد کرتے ‘ اور کیا ہوتا۔ الاَّخَبَالاً یعنی تمہارے لئے سوائے شرو فساد کے اور کچھ نہیں بڑھاتے (مطلب یہ ہے کہ استثناء متصل ہے اور خبال سے مراد ہے : شر و فساد) جہاد کے وقت مسلمانوں کے دلوں میں خوف ڈال کر بزدلی پیدا کرتے یا کافروں کی مدد کرتے اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے۔
چونکہ مستثیٰ منہ (بہت زیادہ) عام ہے (یعنی کچھ ‘ کوئی چیز) اسلئے لفظ مَا زَادُوْکُمْسے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ منافق ‘ مسلمانوں کے اندر فساد تو اب بھی کر رہے ہیں اور جہاد پر جاتے تو اس وقت اور زیادہ فساد بپا کرتے۔ بعض لوگوں کو اسی تو ہم کی بنیاد پر استثناء کے منقطع ہونے کا دھوکہ ہوا ‘ مگر یہ غلط ہے کیونکہ اس صورت میں استناء مفرغ نہ ہوگا۔
ولا وضعوا خللکم اور تمہارے درمیان دوڑے دوڑے پھرتے۔ وضَعَ الْبَعیرُ وَضعًا (لازم) اونٹ تیز دوڑا۔
اَوْضَعُوْا (متعدی) اسی سے بنایا گیا ہے ‘ یعنی وہ اپنی سواریوں کو تیز دوڑاتے۔ مطلب یہ کہ ادھر ادھر تیزی کے ساتھ چغلیاں کھاتے پھرتے ‘ شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوتے۔ مسلمانوں کی مدد نہ کرتے ‘ بےمدد چھوڑ دیتے۔ خِلالکا معنی ہے : وسط ‘ درمیان۔ بعض اہل تفسیر نے اس جملہ کی یہ تشریح کی ہے کہ وہ ایسے امور کی کوشش کرتے جو تمہارے اندر خلل (اور نظام کی ابتری) کرنے والے تھے۔
یبغونکم الفتنۃ فتنہ پیدا کرنے کی فکر میں۔ یعنی تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر کے اور تمہارے دلوں میں دشمنوں کا رعب ڈال کر فتنہ پیدا کرنے کے طلبگار ہوتے۔ یہ جملہ اَوْضَعُوْا کی ضمیر سے حال ہے۔
وفیکم سمعون لھم اور (اب بھی) تمہارے اندر ان کے کچھ جاسوس لگے ہوئے ہیں (جو ان کیلئے تمہاری باتیں سنتے اور ان کو پہنچاتے ہیں) یہ مطلب قتادہ نے بیان کیا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ تمہارے اندر کچھ کمزور لوگ ان کی باتیں سنتے اور ان کا کہا مانتے ہیں۔
وا اللہ علیم بالظلمین۔ اور ان ظالموں کو اللہ خوب جانتا ہے۔ ان کے اندرونی خیالات اور بیرونی حرکات سے واقف ہے ‘ وہ ان کو خوب سمجھے گا۔
Ayah 9:48لقد ابتغوا الفتنۃ من قبل وقلبوا لک الامور انہوں نے تو پہلے بھی فتنہ پردازی کی فکر کی تھی اور آپ کیلئے کارروائیوں کی الٹ پھیر کرتے رہے تھے۔ یعنی اس سے پہلے جنگ احد میں بھی ابن ابی اپنے ساتھیوں کو لے کر واپس لوٹ گیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ آپ کا کام الٹ جائے ‘ آپ کے ساتھی منتشر ہوجائیں اور اہل ایمان کو بےمدد چھوڑ دیا جائے۔ آپ کے کام کو بگاڑنے کی انہوں نے تدبیریں کی تھیں اور دسیسہ کاریوں سے کام لیا تھا۔
حتی جاء الحق وظھر امر اللہ وھم کارھون یہاں تک کہ سچا وعدہ آگیا اور اللہ کا حکم غالب رہا اور ان کو ناگوار ہی گذرتا رہا۔ الحق سے مراد ہے اللہ کی مدد اور دین اسلام کی تائید۔ ظَھَرَ اَمر اللّٰہِ یعنی اللہ کا دین غالب ہوگیا۔
Ayah 9:49ومنھم من یقول ائذن لی ولا تفتني اور ان (منافقوں) میں بغضا شخص وہ ہے جو کہتا ہے کہ مجھے (یہیں رہنے اور ساتھ نہ چلنے کی) اجازت دے دیجئے اور مجھے مصیبت میں نہ ڈالئے۔ اس قول کا قائل جد بن قیس منافق تھا۔ ابن المنذر ‘ طبرانی ‘ ابن مردویہ اور المعرفۃ میں ابو نعیم نے حضرت ابن عباس کی روایت سے اور ابن ابی حاتم و ابن مردویہ نے حضرت جابر بن عبد اللہ کے حوالہ سے اور محمد بن اسحاق و محمد بن عمرو بن عقبہ نے اپنے مشائخ کی سند سے بیان کیا کہ جد بن قیس اپنے ساتھیوں کو (جن کی تعداد دس سے کم تھی) لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مسجد میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ مجھ یہیں رہ جانے کی اجازت دے دیجئے۔ میری کچھ کھیتی باڑی کی زمین ہے (جس کی نگرانی ضروری ہے) میں اس کی وجہ سے معذور ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تیاری کرو ‘ تم فراخ دست ہو ‘ شاید (مال غنیمت میں) تم کو بنی الاصفر (اہل روم) کی کوئی عورت مل جائے۔ جد نے عرض کیا : مجھے تو اجازت دے ہی دیجئے اور مصیبت میں نہ ڈالئے۔ میری قوم والے واقف ہیں کہ کوئی بھی مجھ سے زیادہ عورتوں کا دلدادہ نہیں ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں رومی عورتوں کو دیکھ پاؤں گا تو اپنے کو روک نہ سکوں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف سے رخ موڑ لیا اور فرمایا : ہم نے تم کو اجازت دے دی۔
محمد بن عمر نے اتنا زائد بیان کیا ہے کہ جد کا بیٹا عبد اللہ (خالص مؤمن اور) بدری صحابی تھا اور حضرت معاذ بن جبل کا اخیافی بھائی بھی تھا۔ عبد اللہ نے اس واقعہ کے بعد اپنے باپ سے جا کر کہا : آپ نے رسول اللہ ﷺ کے فرمان کو کیوں رد کردیا ؟ وا اللہ ! بنی سلمہ میں آپ سے زیادہ مالدار تو کوئی بھی نہیں ہے۔ آپ نہ خود جا رہے ہیں نہ (اپنی طرف سے) کسی کو سواری دے رہے ہیں۔ جد نے کہا : بیٹے ! سخت گرمی (طوفانی) ہوا اور تنگ حالی کے زمانہ میں رومیوں کے مقابلہ پر میں کیسے جاسکتا ہوں۔ اس وقت تو میں اپنے گھر میں ہوں پھر بھی رومیوں کے خوف سے خالی نہیں ہوں ‘ ان سے لڑنے کیلئے کیسے جاسکتا ہوں۔ بیٹے ! خدا کی قسم ‘ میں زمانہ کے چکروں سے واقف ہوں (یعنی خوب سوجھ بوجھ اور تجربہ رکھتا ہوں ‘ زمانہ کا سرد گرم چکھے ہوئے ہوں) بیٹے نے کلام میں کچھ درشتی کی اور کہا : خدا کی قسم ! اور کوئی بات نہیں ہے ‘ یہ تو صرف نفاق ہے۔ خدا کی قسم ! رسول اللہ ﷺ پر کوئی آیت نازل ہوجائے گی اور آپ اس کو پڑھیں گے (اور تمہارے نفاق ظاہر ہوجائے گا) جد نے یہ کلام سن کر جھنڈا اٹھا کر بیٹے کے منہ پر مارا اور بیٹا چلا گیا ‘ باپ سے پھر بات نہ کی۔ اور اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی۔
طبرانی ‘ ابن مردویہ اور ابو نعیم کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جد بن قیس سے فرمایا : رومیوں سے جہاد کرنے کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟ جد نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں عورتوں کا دلدادہ آدمی ہوں ‘ رومیوں کی عورتوں کو دیکھ کر میں فتنہ میں پڑجاؤں گا۔ مجھے تو آپ یہیں رک جانے کی اجازت دے دیجے اور مصیبت میں نہ ڈالئے۔ اس پر یہ آیت اتری۔ بغوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (جد بن قیس سے) فرمایا : ابو وہب ! رومیوں سے جنگ کرنے کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ (شدید) تم کو باندی غلام قیدی ہاتھ لگ جائیں۔ جد نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میری قوم والے جانتے ہیں کہ میں عورتوں کا شیفتہ ہوں ‘ مجھے اندیشہ ہے کہ رومیوں کی عورتوں کو دیکھ کر میں رک نہ سکوں گا۔ آپ مجھے یہیں رکنے کی اجازت دے دیجئے اور عورتوں کی مصیبت میں نہ ڈالئے۔ میں آپ لوگوں کی مالی مدد کر دوں گا۔
طبرانی نے دوسری سند سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہاد کرو اور مال غنیمت میں رومی عورتوں کو حاصل کرو۔ بعض منافق کہنے لگے : یہ تم کو عورتوں کے لالچ میں پھانسنا چاہتے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
مذکورۂ بالا روایات کی روشنی میں لاَ تَفْتِنِّیکا مطلب یہ ہوگا کہ رومی عورتوں کے فتنہ میں مجھے نہ ڈالئے کہ میں ان کی محبت کی وجہ سے گناہ اور مصیبت میں پھنس جاؤں اور صبر نہ کرسکوں۔ بعض لوگوں کے نزدیک فتنہ سے مراد ہے : مال اور بیوی بچوں کی بربادی ‘ یعنی میرے بعد ان کا کوئی نگراں نہ رہے گا اور سب کی تباہی ہوجائے گی۔
بعض علماء نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ آپ مجھے خود ساتھ نہ جانے کی اجازت دے دیجئے ‘ ایسا نہ ہو کہ آپ کے حکم کی خلاف ورزی کر کے میں گناہ میں پڑجاؤں اور آپ کی اجازت نہ ہونے کے باوجود بیٹھ رہوں۔ یعنی میں تو بہرطور نہیں جاؤں گا ‘ خواہ آپ اجازت قیام دیں یا نہ دیں۔
الا فی الفتنۃ سقطوا خوب سمجھ لو کہ یہ لوگ مصیبت میں تو (خود) پڑ ہی چکے۔ یعنی مصیبت اور خرابی تو وہ ہے جس میں یہ خود پڑے ہوئے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جہاد کو نہ جانا اور نفاق کا ظاہر ہوجانا ہی ان کی خرابی ہے۔
وان جھنم لمحیطۃ بالکافرین۔ اور یقیناً جہنم ان کافروں کو محیط ہے۔ یعنی قیامت کے دن ان سب کو اپنے اندر سمیٹ لے گی ‘ یا اب گھیرے ہوئے ہے کیونکہ جہنم میں داخل ہونے کے اسباب ان کو گھیرے ہوئے ہیں (تو گویا جہنم گھیرے ہوئے ہے) ۔
Ayah 9:50ان تصبک حسنۃ تسؤھم وان تصبک مصیبۃ یقولوا قد اخذنا امرنا من قبل ویتولوا وھم فرحون اگر آپ کو کوئی اچھی حالت پیش آتی ہے تو ان کو دکھ ہوتا ہے اور اگر آپ پر کوئی حادثہ آپڑتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو (اسی لئے) پہلے سے اپنے معاملہ میں احتیاط کرلی تھی اور (یہ کہہ کر) وہ خوش ہوتے چلے جاتے ہیں۔
تُصِبْکَمیں خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ حَسَنَۃٌ سے فتح اور مال غنیمت مراد ہے۔ مُصِیْبَۃٌ سے مراد ہے : شکست یا مشقت و دشواری جیسے احد کے دن ہوئی تھی۔ یعنی جب رسول اللہ ﷺ پر جنگ میں کسی طرح کی شکست یا مشقت پڑتی ہے تو منافق اپنے شریک نہ ہونے اور ساتھ نہ جانے پر خوش ہوتے ہیں اور اپنی دور بینی کی تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے تو اس مصیبت کے آنے سے پہلے ہی وہ بات اختیار کرلی تھی جو ہمارے لئے زیادہ مناسب اور مفید تھی ‘ ہم شریک ہی نہ ہوئے۔ یَتَوَلَّوْا یعنی رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ‘ یا اپنے مجمع کی طرف سے ‘ یا اپنے اس بیان کے بعد خوش خوش چلے جاتے ہیں اور مسلمانوں کی مصیبت سے شاد ہوتے ہیں۔
Ayah 9:51قل لن یصینا الا ما کتب اللہ لنا (اے محمد ! ) آپ کہہ دیجئے : ہم پر کوئی حادثہ نہیں پڑ سکتا (اچھا ہو یا برا) مگر وہی جو اللہ نے ہمارے مقدر فرما دیا ہے۔ یعنی لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے ‘ خواہ فتح ہو یا شہادت (عربی زبان میں لام فائدہ کیلئے اور علٰیضرر کیلئے آتا ہے ‘ اس ضابطہ کی روشنی میں لَنَا کا معنی ہوا : ہمارے فائدے کیلئے اللہ نے جو کچھ لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے ‘ وہی ہم کو پہنچے گا۔ عَلَیْنَا نہیں فرمایا ‘ یعنی لَنَا اَوْ عَلَیْنَا نہیں کہا جس کا معنی اس طرح ہوجاتا کہ ہمارے فائدے کی ہو یا ضرر کی ‘ جو بات بھی اللہ نے لکھ دی ہے ‘ وہی ہم کو پہنچے گی) بات یہ ہے کہ فتح ہو یا شہادت ‘ دونوں صورتوں میں ہمارا فائدہ ہے ‘ اسلئے علینا نہیں ذکر کیا (ا اللہ کی طرف سے لکھا ہوا ہمارے لئے بہرحال ضرررساں نہیں ہے) صرف لَنَا فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے راوی حضرت صہیب ہیں کہ مؤمن کی بھی عجیب حالت ہے ‘ اس کیلئے ہر بات خیر ہے اور ہر بات کا خیر ہونا صرف مؤمن کیلئے مخصوص ہے۔ اگر اس کو سکھ پہنچتا ہے اور وہ شکر کرتا ہے تو یہ سکھ اس کیلئے خیر ہوتا ہے اور اگر اس کو دکھ پہنچتا ہے اور وہ صبر کرتا ہے تو یہ دکھ اس کیلئے خیر ہوتا ہے۔ رواہ احمد و مسلم۔ بیہقی نے یہ حدیث حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت سے بیان کی ہے۔
ھو مولٰنا وہی ہمارا مددگار اور کارساز ہے۔ اسلئے اس نے جو کچھ ہمارے لئے مقدر فرمایا ‘ وہ ہمارے لئے برا نہیں ہوسکتا۔
وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون اور اہل ایمان کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے۔ عَلَی اللہ کا تعلق محذوف فعل سے ہے اور جو فعل مذکور ہے ‘ وہ محذوف فعل کی تاکید ہے۔ فلیتوکل کی فاء سے اس طرح اشارہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور پر اہل ایمان کو توکل نہ کرنا چاہئے کیونکہ وہی ان کا کارساز ہے اور ہر چیز پر وہی قادر ہے۔
Ayah 9:52قل ھل تربصون بنا الا احدی الحسنیین آپ کہہ دیجئے کہ تم تو ہمارے حق میں دو بہتریوں میں سے ایک بہتری کے ہی منتظر رہتے ہو۔
یہ خطاب کافروں یا منافقوں کو ہے۔ اِحْدَی الْحُسْنََیَیْنِدو اچھے نتیجوں میں سے ایک نتیجہ۔ ایک شہادت جو دخول جنت اور دوامی زندگی کے حصول کے ذریعہ ہے ‘ دوسری فتح اور مال غنیمت۔ اِحْدَی الْحُسْنََیَیْنِ سے مراد ہے : شہادت ‘ یعنی تم ہمارے قتل ہوجانے کی تمنا کر رہے ہو اور قتل ہوجانا تمہاری نظر میں برا ہے مگر ہمارے لئے وہ بھی سراسر بھلائی ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص ان کی راہ میں (جہاد کرنے کیلئے) نکلا ہو اور اس کے خروج کا سبب سوائے اللہ پر ایمان رکھنے اور اللہ کے پیغمبروں کو سچا جاننے کے سوا اور کچھ نہ ہو (یعنی کوئی نفسانی لالچ نہ ہو ‘ نہ حصول مال ‘ نہ ملک گیری اور اقتدار ‘ نہ شہرت و عزت دنیوی) تو اللہ نے اس کیلئے وعدہ فرما لیا ہے کہ یا تو حاصل کردہ ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس کو (صحیح وسالم) واپس کر دوں گا یا (بصورت شہادت) جنت میں داخل کر دوں گا ‘ متفق علیہ۔ یعنی دونوں چیزوں میں سے ایک اس کو ضرور عطا کروں گا (فتح یا جنت) لیکن اس سے یہ نہ سمجھنا کہ فتح کے ساتھ جنت نہیں مل سکتی۔
ونحن نتربص بکم ان یصیبکم اللہ بعذاب من عندہ او بایدینا اور ہم تمہارے حق میں اس کے منتطر ہیں کہ اللہ تم پر کوئی عذاب واقع کرے گا (خواہ) اپنی طرف سے (دنیا اور آخرت میں) یا ہمارے ہاتھوں سے۔ یعنی ہم تمہارے حق میں دو برے نتیجوں میں سے ایک کے منتظر ہیں : یا تو قیامت کے دن اللہ اپنے عذاب میں تم کو مبتلا کرے گا اگر تم فتحیاب ہوگئے ‘ یا ہمارے ہاتھوں سے تم کو عذاب دے گا۔ کفر کی حالت میں تم ہمارے ہاتھوں سے مارے جاؤ گے اور دوامی جہنمی بنو گے بشرطیکہ تم نے (نزول عذاب سے پہلے زندگی میں) توبہ نہ کی۔ اس مطلب پر خطاب عام کافروں کو ہوگا ‘ لیکن اگر مخاطب صرف منافقوں کو قرار دیا جائے تو یہ مطلب ہوگا کہ اگر تم نفاق کی حالت میں مرگئے اور تمہارا کفر ظاہر نہ ہوا تو اللہ تم کو دنیا میں اسی طرح تباہ کر دے گا جیسے گزشتہ اقوام کو اس نے تباہ کردیا اور تباہ کرنے کے بعد تم کو دوزخ کے عذاب میں مبتلا کرے گا اور اگر تم نے اپنے قلبی کفر کا اظہار کردیا تو کفر کی وجہ سے مارے جاؤ گے (بہرحال دونوں نتائج برے ہیں اور دونوں میں سے کوئی نتیجہ تم کو بھگتنا ہوگا) ۔
فتربصوا انا معکم متربصون۔ لہٰذا تم (ہمارے نتیجہ کے) منتظر رہو اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے انجام کے منتظر ہیں۔ حسن نے کہا : آیت کا مطلب یہ ہے کہ شیطان نے جو وعدے تم سے کئے ہیں ‘ تم اس کے وعدوں کا انتظار کرو اور ہم سے جو دین کو غالب بنانے کا وعدہ اللہ نے کیا ہے ‘ ہم اس کے منتظر ہیں۔
Ayah 9:53قل انفقوا طوعا او کرھا لن یتقبل منکم انکم کنتم قوما فاسقین۔ آپ کہہ دیجئے کہ تم خواہ خوشی سے صدقہ دو یا ناگواری سے ‘ تم سے کسی طرح قبول نہیں کیا جائے گا ‘ کیونکہ بلاشبہ تم (مسلمانوں کے گروہ سے) خارج ہو۔
طوعًا اوکرہًاحال ہے۔ طوعًاسے مراد وہ صرف ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لازم نہیں کیا گیا اور کرھًاسے وہ دینا مراد ہے جس کو ادا کرنا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اللہ کی طرف سے جس صرف کو لازم کیا گیا ہے ‘ اس کو ادا کرنا منافقوں پر دشوار اور شاق تھا ‘ دل کو ناگوار تھا ‘ اسلئے اس کو کرہ (دل کی ناگواری) فرمایا۔ اَنْفِقُوْا اگرچہ امر کا صیغہ ہے لیکن خبر کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارا خرچ کرنا بہرطور برابر ہے۔ اپنی طرف سے بغیر وجوب کے دو یا وجوبی رقم دو ‘ دونوں صورتوں میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ کلام حقیقت میں جد بن قیس کے قول کا جواب ہے ‘ اس نے کہا تھا : میں آپ کی مالی مدد کر دوں گا۔ عدم قبول کی دو شکلیں ہیں :
(1) رسول اللہ ﷺ اور آپ کے جانشین اس شخص کی اعانت اور صدقہ قبول نہیں کریں گے جس کے منافق ہونے کا ان کو علم ہو۔
(2) اللہ قبول نہیں فرمائے گا ‘ یعنی ثواب نہیں دے گا۔ اِنکم کنتم قومًا فاسقین سے یہ مراد ہے کہ تم مسلمانوں کے گروہ سے خارج ہو ‘ اسلئے تمہاری طرف سے دی ہوئی مالی مدد قبول نہیں کی جائے گی۔ یہ جملہ عدم قبول کی علت ہے اور آئندہ آیت اسی کی توضیح اور تائید ہے۔
Ayah 9:54وما منعھم ان تقبل منھم نفقتھم الا انھم کفروا باللہ وبرسولہ ولا یاتون الصلوۃ الا وھم کسالی ولا ینفقون الا وھم کرھون۔ اور ان کی خیر خیرات قبول ہونے سے کوئی چیز بجز اس کے مانع نہیں کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور نماز نہیں پڑھتے مگر ہارے جی سے اور راہ خیر میں نہیں دیتے مگر ناگواری کے ساتھ ‘ کیونکہ ان کو نہ ثواب کی امید ہے نہ ترک پر عذاب کا اندیشہ۔ ان کی نظر میں زکوٰۃ تاوان ہے اور زکوٰۃ نہ دینا مال غنیمت کا حصول۔
کسالٰی یعنی سستی کی حالت میں ‘ بےدلی کے ساتھ ‘ لوگوں کو دکھانے کیلئے۔ بظاہر دونوں آیات میں تعارض معلوم ہوتا ہے۔ اَنْفِقُوْا طوْعًاسے خوشی کے ساتھ خیر خیرات کرنی ثابت ہو رہی ہے اور لاَ یُنْفِقُوْنَ الاَّ وَھُمْ کَارِھُوْنَ میں خوشی سے صرف کرنے کی مکمل نفی ہے۔ لیکن ہم بیان کرچکے ہیں کہ طوعًا کا معنی ہے : اپنی طرف سے بغیر شرعی وجوب کے اور اس طرح کی خیرات محض دکھاوٹ کیلئے ہوتی ہے۔ بےدلی کے ساتھ ‘ کراہت خاطر کے ساتھ ‘ بغیر خوشی اور دلی رغبت کے (لہٰذا طوعاً خیرات کرنی بھی کٰرِھُوْنَ کے تحت آجاتی ہے) ۔ بعض علماء نے یہ جواب دیا ہے کہ اس جگہ تو واقعی قطعی طور پر بیان کردیا گیا کہ وہ کوئی خیرخیرات بغیر کراہت خاطر کے نہیں کرتے اور آیت میں اَنْفِقُوْا طوْعًا میں فیصلہ برتقدیر فرض ہے ‘ یعنی بالفرض اگر تم بخوشی بھی خیرات کرو تو قبول نہیں کی جائے گی (اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ خوشی سے دیتے بھی ہیں) ۔
Ayah 9:55فلا تعجبک اموالھم ولا اولادھم انما یرید اللہ لیعذبھم بھا فی الحیوۃ الدنیا وتزھن انفسھم وھم کافرون۔ سو ان کے مال و اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ کو صرف یہ منظور ہے کہ ان (دنیوی) چیزوں کی وجہ سے دنیاوی زندگی میں بھی ان کو گرفتار عذاب رکھے اور ان کی جانیں بھی کفر کی ہی حالت میں نکل جائیں۔
اعْجَابْ کا معنی ہے : کسی پسندیدہ چیز پر خوش ہونا۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے جو دولت اور اولاد عطاء کی ہے ‘ وہ پسندیدگی کے قابل نہیں ‘ یہ تو محض ایک ڈھیل ہے جو حقیقت میں وبال ہے۔ مال و اولاد دے کر تو اللہ ان کو دنیوی زندگی میں ہی گرفتار عذاب رکھنا چاہتا ہے۔ دولت جمع کرنے اور اولاد کی دیکھ بھال کیلئے یہ طرح طرح کی فریب کاریاں کرتے ہیں ‘ دکھ اٹھاتے ہیں ‘ تکلیفیں برداشت کرتے ہیں ‘ سختیاں جھیلتے ہیں ‘ مصائب میں گرفتار ہوتے ہیں اور خرچ کرنا ان کے دلوں کو ناگوار ہوتا ہے ‘ اندرونی دکھ ہوتا ہے اور جس کے پاس نہیں ہے ‘ اس کو حسرت و افسوس ہوتا ہے (غرض مال و اولاد ہونے یا نہ ہونے ‘ دونوں صورتوں میں ان پر عذاب ہی عذاب ہے) ۔
مجاہد اور قتادہ نے کہا : آیت میں الفاظ کی کچھ تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل ترتیب اس طرح تھی : دنیوی زندگی میں اللہ نے جو مال و اولاد عطا کی ہے ‘ آپ کو اس پر تعجب نہ ہونا چاہئے۔ اللہ کو یہ منظور ہے کہ مال کمانے ‘ جمع کرنے ‘ جوڑ جوڑ کر رکھنے اور ناجائز راستوں میں خرچ کرنے کی وجہ سے آخرت میں ان کو مبتلائے عذاب کرے۔
زھوقکا اصل لغوی معنی ہے : دشواری کے ساتھ نکلنا ‘ یعنی ان کی جانیں ٹوٹ ٹوٹ کر افسوس اور حسرت کے ساتھ نکلیں اور دنیا میں مبدأ اور معاد کی طرف سے غفلت کی حالت میں رہیں۔ یہی ان کی ڈھیل ہے (کہ یہ نہیں سمجھتے کہ آئندہ جب رسی کھینچی جائے گی تو پھڑپھڑاتے تڑپتے رہ جائیں گے اور کسی طرح رہائی ممکن نہ ہوگی) ۔
آیت میں (معتزلہ کے مسلک کے خلاف) اس امر کی دلیل ہے کہ بندہ کیلئے جو چیز زیادہ مناسب اور مفید ہو ‘ اسی کو عطا کرنا اللہ پر واجب نہیں ہے (بلکہ وہ ضرر رساں ‘ غیر اصلح چیز دے کر بندہ کو مبتلائے عذاب بھی کرسکتا ہے) کیونکہ اس آیت میں اللہ نے بتایا کہ کافروں کو مال و اولاد دے کر (ان کو نوازنا اور ان کو فائدہ پہنچانا مقصود نہیں ہے بلکہ) ان کو گرفتار عذاب کرنا اور کفر کی حالت میں ان کی جانیں نکالنا مقصود ہے۔
Ayah 9:56ویحلفون باللہ انھم لمنکم وما ھم منکم اور یہ (منافق) اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم میں کے ہیں حالانکہ (واقع میں کافر ہونے کی وجہ سے) وہ تم میں کے نہیں ہیں۔ تم میں کے ہیں ‘ یعنی (مخلص) مسلمانوں میں سے ہیں۔
ولکنھم قوم یفرقون۔ لیکن وہ (تم سے) ڈرنے والے لوگ ہیں۔ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ (اگر ان کا کفر ظاہر ہوجائے گا تو) تم ان کے ساتھ وہی سلوک کرو گے جو مشرکوں سے کرتے ہو۔
Ayah 9:57یوم یجدون ملجا او مغارات او مدخلا لولوا الیہ وھم یجمعون۔ اگر ان لوگوں کو کوئی پناہ گاہ یا غاریا کوئی گھس بیٹھنے کی جگہ مل جاتی تو یہ ضرور منہ اٹھا کر ادھر تیزی سے چل دیتے۔ ملجائ یعنی کوئی حفاظت کا مقام جس میں پناہ لی جاسکتی ‘ یا کوئی قوم جس کے پاس جا کر امن مل جاتا۔ مغارات ‘ مغارۃ کی جمع ہے ‘ یعنی پہاڑی غار۔ مغارہ غور سے ماخوذ ہے ‘ یعنی چھپنے کا مقام۔ عطاء نے کہا : اس سے مراد سرنگ یا تہہ خانے ہیں۔ مُدَّخَلاً یعنی ایسا سوراخ اور گھسنے کا مقام جس کے اندر دشواری کے ساتھ داخلہ ہو جیسے گھونس کا سوراخ۔
لَوَلَّوْا اِلَیْہِ پشت پھیر کر اس طرف بھاگتے۔ وَھُمْ یَجْمَحُوْنَ سرپٹ تیزی کے ساتھ منہ اٹھائے ہوئے دوڑتے ہوئے جیسے بےلگام سرپٹ بھاگتا ہوا گھوڑا۔ آیت کی مراد یہ ہے کہ ان کو تمہارے ساتھ رہنے سے انتہائی نفرت و کراہت ہے۔ اگر کوئی بچاؤ کا مقام ان کو مل جاتا تو وہ تم سے الگ ہوجاتے۔
Ayah 9:58ومنھم من یلمزک فی الصدقات اور ان (منافقوں) میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو (تقسیم) صدقات کے بارے میں آپ پر نکتہ چینی کرتے ہیں ‘ عیب لگاتے ہیں۔ لَمزَہٗاور ھَمَزَہٗاس پر طعن کیا ‘ نکتہ چینی کی۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ آپ تقسیم صدقات انصاف کے ساتھ نہیں کرتے۔ شیخین اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے کہ فتح حنین کے دن قبیلۂہوازن سے چھینا ہوا مال جب رسول اللہ ﷺ نے تقسیم کیا تو سرداران عرب (میں سے بعض) کو تقسیم کے وقت ترجیح دی۔ یہ بات دیکھ کر قوم انصار میں سے ایک شخص بولا : یہ بےانصافی کی تقسیم ہے۔ یا یہ کہا کہ یہ تقسیم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے نہیں کی گئی ہے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : کہ میں نے کہا : میں جا کر رسول اللہ ﷺ کو ان الفاظ کی اطلاع ضرور دوں گا۔ چناچہ میں نے جا کر اطلاع دے دی۔ سن کر چہرۂ مبارک کا رنگ بدل گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ چمڑا رنگنے والے گوند کی طرح سرخ ہوگیا اور فرمایا : اگر اللہ اور اس کا رسول انصاف نہیں کرتا تو پھر اور کون انصاف کرسکتا ہے۔ اللہ کی رحمت ہو موسیٰ پر ‘ ان کو اس سے بھی زیادہ دکھ پہنچایا گیا تھا مگر انہوں نے صبر کیا۔ محمد بن عمر نے اس نکتہ چیں کا نام معتب بن قشیر ذکر کیا ہے جو منافق تھا۔
ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت سے امام بخاری ‘ مسلم اور امام احمد نے حضرت جابر کی روایت سے لکھا ہے کہ جس وقت قبیلہ ہوازن سے حاصل کیا ہوا مال غنیمت رسول اللہ ﷺ تقسیم کر رہے تھے ‘ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑا ہوگیا۔ حضرت ابن عمر اور حضرت ابو سعید خدری کے قول کے موافق یہ شخص بنی تمیم میں سے تھا جس کو ذوالخویصرہ کہا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا بات ہے ؟ اس نے عرض کیا : میرے خیال میں آپ نے انصاف سے کام نہیں لیا۔ انصاف (سے تقسیم) کیجئے۔
دوسری روایت میں آیا ہے کہ اس نے کہا : یا رسول اللہ ! انصاف سے کام لیجئے۔ یہ سنتے ہی حضور ﷺ غضبناک ہوگئے اور فرمایا : ارے ! اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو اور کون کرے گا ؟ اگر میں انصاف نہ کروں تو یہ میری نامرادی اور خسران ہوگا۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : اگر میرے پاس انصاف نہ ہوگا تو اور کس کے پاس ہوگا۔ حضرت عمر نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ ! اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کو قتل کر دوں۔ فرمایا : اللہ کی پناہ ! لوگ کہیں گے کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں۔ اس کو رہنے دو ۔ اس کے کچھ ساتھی ہوں گے جن کی نماز کے مقابلہ میں تم کو اپنی نماز اور جن کے روزوں کے مقابلے میں تم کو اپنے روزے حقیر معلوم ہوں گے۔ وہ قرآن کی قرأت کریں گے مگر قرآن ان کے حلق سے آگے نہ بڑھے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر اپنے شکار سے نکل جاتا ہے ‘ گوبر اور خون کے پار ہوجاتا ہے (اس کے باوجود) اس پر کوئی نشان نہیں ہوتا۔ پھل کو دیکھا جاتا ہے تو اس پر بھی کچھ (خون یا گوبر کا نشان) نہیں ہوتا۔ دونوں پروں کو دیکھا جاتا ہے تو ان پر کچھ نہیں ہوتا اور شکار پر بھی کچھ نہیں پایا جاتا۔
ان کی علامت یہ ہے کہ ان میں ایک کالا آدمی ہوگا جس کا ایک بازو عورت کی پستان یا گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہوگا۔ یہ لوگ پھرجائیں گے اور سب سے افضل گروہ کے خلاف خروج کریں گے۔ حضرت ابو سعید خدری نے فرمایا : میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی اور شہادت دیتا ہوں کہ حضرت علی بن ابی طالب نے ان لوگوں سے (نہروان پر) جنگ کی ‘ میں آپ کے ساتھ موجود تھا۔ آپ نے اس (نشان والے) آدمی کو تلاش کرایا تو (اس کی مردہ لاش کو) آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ میں نے اس کو غور سے دیکھا تو رسول اللہ ﷺ کے بیان کے مطابق اس کو پایا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ جس (ذوالخویصرہ تمیمی) کے متعلق اس آیت کا نزول قرار دیا گیا ہے ‘ اس کا نام خرقوص بن زہیر تھا اور یہی خارجیوں کا مورث اعلیٰ تھا۔ بظاہر آیت اس شان نزول کو ماننے سے انکار کر رہی ہے کیونکہ آیت میں صدقات کی تقسیم پر نکتہ چینی کرنے کا بیان ہے اور صحیحین کی حدیث میں جس ذی الخویصرہ تمیمی یا معتب بن قشیر کا ذکر کیا گیا ہے ‘ اس کا واقعہ جنگ حنین کے مال غنیمت تقسیم ہونے کے موقع پر ہوا تھا اور (تقسیم غنیمت ‘ تقسیم صدقات سے جدا چیز ہے۔ اس کے علاوہ) اس آیت کا نزول تبوک کے غزوہ میں ہوا جو حنین کے بہت بعد کا ہے۔ میرے نزدیک اس آیت کا نزول اس موقع پر ہوا جب لوگ تبوک کے لشکر کی تیاری کیلئے مال صدقات لا رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ ان صدقات کی تقسیم کر رہے تھے۔ وا اللہ اعلم
کلبی کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول ایک منافق کے بارے میں ہوا جس کا نام ابو الخواص تھا۔ اس نے کہا تھا کہ تقسیم عدل کے ساتھ نہیں کی جا رہی ہے۔
فان اعطوا منھا رضوا وان لم یعطوا منھا اذا ھم یسخطون۔ اگر صدقات میں سے ان کو (زیادہ اور خوب) دے دیا جاتا ہے تو راضی رہتے (اور خوش ہوتے ہیں) اور اگر ان کو (زیادہ) نہیں دیا جاتا تو یکدم ناراض ہوجاتے ہیں۔ لفظ زیادہ کا بین القوسین اضافہ اسلئے کیا گیا کہ آگے کی آیت کا یہی تقاضا ہے (جس میں کچھ نہ کچھ دینا بہرحال ثابت ہے) فرمایا ہے :
Ayah 9:59ولو انھم رضوا ما اتھم اللہ ورسولہ وقالوا حسبنا اللہ سیؤتینا اللہ من فضلہ ورسولہ انا الی اللہ راغبون اور ان کیلئے بہتر ہوتا اگر وہ اس پر راضی رہتے جو کچھ ان کو اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ نے دیا تھا اور یوں کہتے کہ ہمارے لئے اللہ کافی ہے۔ آئندہ اللہ اپنے فضل سے اور اللہ کا رسول ﷺ ہم کو دے دیں گے۔ ہم (تو وسلم اوّل ہی سے) اللہ ہی کی طرف راغب ہیں۔
یعنی اللہ کے رسول ﷺ نے ان کو صدقات اور مال غنیمت میں سے دے دیا اگر وہ اس پر راضی رہتے (ا اللہ براہ راست کسی کو نہیں دیتا ‘ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں سے دلواتا اور تقسیم کراتا ہے) اللہ کا ذکر (دئیے ہوئے مال کی مقدار ‘ خواہ وہ کتنی ہی کم ہو) عظمت ظاہر کرنے اور اس امر پر تنبیہ کرنے کیلئے کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کا عمل حقیقت میں (ازخود نہیں بلکہ) اللہ کے حکم سے ہے اور رسول اللہ ﷺ کے فعل پر اسی طرح راضی رہنا اور سر تسلیم خم کرنا ضروری ہے جس طرح اللہ کے حکم اور تقدیر پر۔ حَسْبُنَا اللّٰہُ یعنی اپنے فضل سے اللہ ہمارے لئے کافی ہے۔ کسی اور طریقہ سے ہماری حاجت کے مطابق اللہ ہم کو عطا فرما دے گا اور کسی دوسرے مال صدقات و غنیمت سے اللہ کا رسول ﷺ ہم کو دے دے گا۔
آئندہ آیت میں صدقات کے مصارف بیان کئے ہیں تاکہ غلط طور پر جو لوگ صدقات لینے کی طمع لگائے ہوئے تھے ‘ ان کی طمع ختم ہوجائے اور ظاہر کردیا جائے کہ وہ صدقات کے مستحق نہیں ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے جس طرح تقسیم کی ‘ وہ ہی صحیح ہے۔