Ayah 9:112التآئبون (شرک سے) توبہ کرنے والے یعنی وہ لوگ جنہوں نے شرک سے توبہ کرلی اور نفاق سے پاک ہوگئے۔
التائبون خبر ہے ‘ مبتداء محذوف ہے یعنی وہ توبہ کرنے والے ہیں۔ یعنی جن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرلی اور تمام احکام کی تعمیل کا عہد کرلیا ‘ وہ ان تمام اوصاف کے حامل ہیں ‘ جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ التائبون مبتداء ہو اور بعد کو ذکر ہونے والے اصاف خبر ہوں یعنی حقیقت میں کفر کرنے والے اوصاف کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ خبر محذوف ہو یعنی توبہ کرنے والے جنتی ہیں ‘ خواہ انہوں نے اس وقت جہاد میں شرکت نہ کی ہو مگر ان کے اندر عداوت وعناد کا جذبہ نہ ہو اور یہ ارادہ نہ ہو کہ جب اللہ جہاد کی طاقت دے گا تب بھی جہاد نہیں کریں گے۔ زجاج نے کہا : گویا (اس صورت میں) جنت کا وعدہ تمام مؤمنوں سے ہوگا ‘ جیسے اللہ نے دوسری آیت میں فرمایا ہے : وَکُلاَّ وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی اور سب سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔
العٰبدون (شرک جلی و خفی کو چھوڑ کر فقط اللہ کی) عبادت کرنے والے۔
الحامدون (دکھ سکھ میں اللہ کی) تعریف کرنے والے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بہت زیادہ ثنائے خدا کرنے والوں کو جو دکھ سکھ میں (یعنی راحت ہو یا تکلیف ‘ ہر حال میں) اللہ کی تعریف کرتے ہیں ‘ سب سے پہلے جنت کی طرف بلایا جائے گا۔ رواہ الطبرانی ‘ والحاکم ‘ والبیہقی فی شعب الایمان بسند صحیح عن ابن عباس۔
السآئحون روزے رکھنے والے۔ ابن جریر نے حضرت عبید بن عمر کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے السائحون کا معنی دریافت کیا گیا۔ فرمایا : روزے رکھنے والے۔ بغوی نے حضرت ابن مسعود کا بھی یہی قول بیان کیا ہے۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ کا موقوف قول نقل کیا ہے کہ اس آیت میں سیاحت (کا معنی) روزے رکھنا ہے۔
سفیان بن عیینہ نے فرمایا : روزے دار کو سائح اسلئے کہا جاتا ہے کہ وہ تمام لذتیں ‘ کھانا ‘ پینا اور قربت صنفی کرنا ترک کردیتا ہے (جیسے مسافر ان لذتوں سے محروم ہوجاتا ہے) حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آدم زاد کے ہر نیک عمل کا اجر دس گنے سے سات سو گنے تک بڑھا دیا جاتا ہے سوائے روزہ کے ‘ جس کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دوں گا۔ بندہ میرے لئے اپنی خواہش صنفی اور کھانا ترک کرتا ہے (الحدیث) متفق علیہ۔
عطاء نے کہا : السائحون سے مراد غازی ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ جیسا کہ ابن ماجہ ‘ حاکم اور بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : مروی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے سیاحت کی اجازت دے دیجئے۔ فرمایا : میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔
عکرمہ نے کہا : سیاحت کرنے والوں سے مراد طالب علم ہیں جو علم کی طلب میں ملکوں میں پھرتے ہیں۔ حضرت ابو درداء کا بیان ہے : میں نے خود سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : جو طلب علم کی راہ میں چلتا ہے ‘ اللہ اس کو جنت کے راستہ پر چلائے جائے گا اور فرشتے طالب علم کیلئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور عالم کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ وہ (ملائکہ) جو آسمانوں میں ہیں اور وہ (ملائکہ اور انس و جن) جو زمین میں ہیں اور پانی کے اندر مچھلیاں۔ عالم کی برتری عابد پر ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی فضیلت دوسرے ستاروں پر۔ علماء ‘ انبیاء کے (علم کے) وارث ہیں اور انبیاء نے کوئی درہم و دینار میراث میں نہیں چھوڑا بلکہ علم کی میراث چھوڑی۔ اب جو اس ترکہ کا وارث ہوا ‘ وہ بڑا خوش نصیب ہوا۔ رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ وابو داؤد۔
الراکعون الساجدون رکوع کرنے والے ‘ سجدہ کرنے والے یعنی نماز پڑھنے والے۔ نماز پڑھنے والوں کا ذکر دو لفظوں سے کیا الرّاکعون الساجدون ہر ایک سے نماز پڑھنے والے مراد ہیں (تو گویا نماز پڑھنے والوں کا ذکر دو بار کیا) تکرار ذکر دلالت کر رہی ہے کہ نماز تمام عبادتوں پر فضیلت رکھتی ہے۔ حضرت ابن مسعود کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : کونسا عمل اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے ؟ فرمایا : وقت پر نماز۔ میں نے عرض کیا : اس کے بعد کونسا ؟ فرمایا : ماں باپ کی فرمانبرداری کرنی۔ میں نے عرض کیا : اس کے بعد کونسا ؟ فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد۔ صحیح بخاری و مسلم۔ ابو نعیم نے فضل بن دکین کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نماز دین کا ستون ہے۔
ابن عساکر نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا : نماز مؤمن کا نور ہے۔ قضاعی نے حضرت علی کی روایت سے بیان کیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ہر تقویٰ والے کیلئے نماز (ا اللہ کے) قرب کا ذریعہ ہے۔ مسلم ‘ ابوداؤد اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب سے سب حالتوں سے زیادہ قریب ہوتا ہے ‘ پس تم دعا زیادہ کیا کرو۔
الاٰمرون بالمعروف بھلائی کا حکم دینے والے ‘ یعنی ایمان اور اطاعت کا حکم دینے والے۔
والناھون عن المنکر اور برے کاموں سے ‘ یعنی شرک اور گناہ سے روکنے والے۔ بعض علماء نے کہا : المعروف سے مراد سنت اور المنکر سے مراد بدعت ہے۔ دونوں کے درمیان حرف عطف (واؤ) کا ذکر کرنا اس امر پر دلالت کر رہا ہے کہ ان دونوں اوصاف کا مجموعہ ایک ہی خصلت ہے۔
والحفظون لحدود اللہ اور اللہ کی بندشوں کی پابندی رکھنے والے۔ یعنی اللہ کے وہ ضوابط و قوانین جو بندہ اور خدا کے درمیان اللہ نے قائم کیے ہیں ‘ ان کی نگہداشت کرنے والے۔
بعض علماء نے لکھا ہے کہ الحافظون کو مستقل طور پر حرف عطف (واؤ) کے ساتھ ذکر کرنے سے اس امر پر تنبیہ کی گئی ہے کہ پہلے جن اعلیٰ خصائل کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا گیا ہے ‘ ان کا اجمالی مجموعہ حفظ حدود اللہ ہے۔ وہ تفصیل تھی ‘ یہ اجمال ہے۔
میں کہتا ہوں : شاید یہ وجہ بھی ہے کہ گزشتہ کلام میں جن صفات حمیدہ کا ذکر کیا گیا ہے ‘ ان کی حدبندی اس فقرہ میں کردی گئی ہے تاکہ اپنی طرف سے ان میں کچھ زیادتی بھی نہ کی جائے ‘ نہ رہبانیت ہو ‘ نہ ظاہری شکل اور باطنی معنی میں کوئی کمی کی جائے۔ گویا مذکورۂ بالا اوصاف کا مجموعہ ہوا ضوابط و قوانین کی تعمیل اور حفاظت حدود کا معنی ہوا اخلاص اور حضور کامل کیونکہ حدود کی پابندی قلبی حضور کامل کے بغیر ممکن نہیں۔ اور اخلاص و حضور قلب دل والوں کی صحبت سے حاصل ہوتا ہے
وبشر المؤمنین۔ اور ایمان والوں کو بشارت دے دو ۔ یعنی ان لوگوں کو بشارت دے دو جن کے اندر صفات مندرجۂ بالا موجود ہیں۔ اَلْمُؤْمِنِیْنَ کے لفظ سے اس طرح اشارہ ہے کہ ایمان کا تقاضا صفات مذکورہ ہیں اور مؤمن کامل وہی ہوتا ہے جو صفات مذکورہ کا حامل ہو۔
کس بات کی بشارت دے دو ‘ اس کا ذکر نہیں کیا کیونکہ وہ نعمت جس کی بشارت دینے کا حکم دیا جا رہا ہے ‘ اتنی عظیم الشان ہے جو نہ بیان کی جاسکتی ہے ‘ نہ کسی کے دماغ میں اس کا تصور آسکتا ہے ‘ نہ کسی نے اس کو سنا ہے۔ وا اللہ اعلم
شیخین نے صحیحین میں حضرت سعید بن مسیب کے باپ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ابو طالب کے مرنے کے وقت رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے۔ ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو وہاں موجود پایا۔ آپ نے ابو طالب سے فرمایا : چچا ! لا الٰہ الا اللہ ایک بار کہہ دیجئے تاکہ اللہ کے سامنے میں آپ کی طرف سے اس کو دلیل کے طور پر پیش کرسکوں۔ ابو جہل اور عبد اللہ بولے : ابو طالب ! کیا تم عبدالمطلب کے دین سے پھر جاؤ گے ؟ رسول اللہ ﷺ (بار بار) کلمۂ توحید پیش کرتے رہے اور ابوجہل و عبد اللہ اپنی بات برابر کہتے رہے۔ آخر ابو طالب نے کہا : عبدالمطلب کے مذہب پر۔ ایک روایت میں اتنا اور بھی آیا ہے کہ ابو طالب نے لا الٰہ الا اللہ کہنے سے انکار کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وا اللہ ! جب تک مجھے ممانعت نہیں کردی جائے گی ‘ میں آپ کی مغفرت کیلئے دعا کرتا رہوں گا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 9:113ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی من بعد ماتبین لھم انھم اصحب الجحیم پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکوں کیلئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں ‘ اس امر کے ظاہر ہونے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں۔
اس آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ زندہ مشرکوں کیلئے دعائے مغفرت جائز ہے کیونکہ ایسی دعاء کا معنی ہے مشرکوں کو توفیق ایمان ملنے کی درخواست (اور اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ مستحسن ہے) مسلم نے حضرت ابوہریرہ کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سے فرمایا تھا : لا الٰہ الا اللہ کہہ دیجئے ‘ میں قیامت کے دن آپ کیلئے اس کی شہادت دوں گا۔ چچا نے کہا : اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ قریش عار دلائیں گے اور کہیں گے کہ ابو طالب نے ڈر کر ایسا اقرار کرلیا تو میں یہ کلمہ کہہ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کردیتا۔ اس پر اللہ نے آیت اِنَّکَ لاَ تَھْدِیْ مَنْ اَجْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَھدِیْ مَنْ یَّشَاء نازل فرمائی۔
بخاری نے حضرت ابو سعید خدری کا قول نقل کیا ہے ‘ حضرت ابو سعید نے فرمایا : میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا کا تذکرہ آنے کے وقت فرمایا : شاید قیامت کے دن ان کو میری شفاعت (کچھ) فائدہ پہنچائے اور ان کو ٹخنوں ٹخنوں تک آگ میں کردیا جائے جس سے ان کا دماغ ابلنے لگے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت کردہ حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ آیت مندرجۂ بالا مکہ میں ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی۔
ترمذی اور حاکم نے بیان کیا اور ترمذی نے اس روایت کو حسن کہا بھی ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : میں نے ایک شخص کو اپنے مشرک ماں باپ کیلئے دعائے مغفرت کرتے سنا تو میں نے کہا : کیا تو اپنے ماں باپ کیلئے دعائے مغفرت کر رہا ہے باوجودیکہ وہ مشرک تھے ؟ اس نے جواب دیا : حضرت ابراہیم نے بھی تو اپنے مشرک باپ کیلئے دعائے مغفرت کی تھی۔ میں نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کیا۔ اس پر آیت مَا کَان للنَّبِیِّ الخ نازل ہوئی۔
ممکن ہے یہ قصہ بھی ابو طالب کی موت کے واقعہ ہی کے زمانہ میں ہوا ہو (اور دونوں واقعات آیت مذکورہ کے نزول کا سبب ہوں) ۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ آیت مذکورہ کا نزول رسول اللہ ﷺ کی والدہ آمنہ بی بی کے متعلق ہوا تھا۔ ان روایات میں سے کوئی روایت صحیح نہیں ہے ‘ نہ اس قابل ہے کہ جو قوی روایت ہم نے اوپر ذکر کی ہے (جس میں آیت کا نزول ابو طالب کے متعلق بیان کیا گیا ہے) اس کے مقابلہ میں پیش کی جاسکے ‘ اسلئے ایسی روایات کو قبول نہ کرنا ضروری ہے۔
حاکم نے اور بیہقی نے دلائل میں ایوب بن ہانی کے طریق سے بروایت مسروق ‘ حضرت ابن مسعود کا بیان نقل کیا ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ قبرستان تشریف لے گئے ‘ ہم بھی ساتھ گئے۔ آپ نے ہم کو بیٹھ جانے کا حکم دیا ‘ ہم بیٹھ گئے۔ آپ قبروں کو پھلانگتے ہوئے ایک قبر کے پاس پہنچے اور دیر تک کچھ چپکے چپکے قبر سے فرمایا ‘ پھر روتے ہوئے اٹھ گئے۔ آپ کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رونے لگے۔ پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے۔ حضرت عمر سامنے آگئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کو کس بات سے رونا آگیا ؟ ہم بھی آپ کے رونے کی وجہ سے رونے لگے اور گھبرا گئے۔ حضور ﷺ تشریف لے آئے اور ہمارے پاس بیٹھ کر فرمایا : میرے رونے کی وجہ سے تم لوگ گھبرا گئے۔ ہم نے عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : جس قبر سے تم نے مجھے چپکے چپکے کچھ کہتے دیکھا تھا ‘ وہ (میری والدہ) آمنہ بنت وہب کی قبر ہے۔ میں نے اس کی زیارت کرنے کی اللہ سے اجازت مانگی تھی ‘ اللہ نے اجازت دے دی۔ پھر میں نے ان کیلئے دعائے مغفرت کرنے کی اللہ سے اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہیں ملی اور مجھ پر مَا کَان للنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے دو آیات نازل ہوئیں۔ اس کی وجہ سے مجھ پر وہ رقت طاری ہوئی جو ماں کی وجہ سے اولاد پر طاری ہوتی ہے ‘ اسی بات نے مجھے رلایا۔
حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ‘ لیکن ذہبی نے شرح مستدرک میں اس پر گرفت کی ہے اور لکھا ہے کہ ایوب بن ہانی کو ابن معین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
طبرانی اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوۂ تبوک سے واپس آگئے اور عمرہ کرنے روانہ ہوئے اور عسفان کی گھاٹی سے نیچے اترے تو اپنی والدہ کی قبر پر جا کر فروکش ہوئے۔ اس سے آگے وہی بیان ہے جو حضرت ابن مسعود کی روایت میں آیا ہے۔ سیوطی نے کہا : اس حدیث کی سند ضعیف ہے ‘ ناقابل اعتماد۔
بغوی نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت بریدہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ (فتح کے بعد) مکہ میں تشریف لائے تو اپنی والدہ آمنہ کی قبر پر پہنچ کر اس انتظار میں کھڑے ہوگئے کہ آپ کو (ا اللہ کی طرف سے) اجازت مل جائے تو والدہ کیلئے دعائے مغفرت کریں یہاں تک کہ سورج میں گرمی آگئی۔ اس پر آیت مَا کَان للنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ الخ نازل ہوئی۔
ابن سعد اور ابن شاہین نے یہ حدیث حضرت بریدہ کے ان الفاظ کے ساتھ بیان کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کرلیا تو اپنی والدہ کی قبر پر گئے اور جا کر بیٹھ گئے۔ ابن جریر نے حضرت بریدہ کی روایت ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے جو بغوی نے نقل کئے ہیں۔ ابن سعد نے طبقات میں اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد صراحت کی ہے کہ یہ غلط ہے۔ حضرت آمنہ کی قبر ابواء میں ہے ‘ مکہ میں نہیں ہے۔
امام احمد اور ابن مردویہ نے حضرت بریدہ کا بیان اس طرح نقل کیا ہے : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔ مجھے عسفان پر ٹھہرنا پڑا۔ حضور ﷺ نے (وہاں) اپنی والدہ کی قبر دیکھی ‘ فوراً وضو کیا ‘ نماز پڑھی اور رونے لگے۔ پھر فرمایا : میں نے اپنے رب سے ان کیلئے شفاعت کرنے کی اجازت مانگی تھی مگر مجھے ممانعت کردی گئی۔ پھر اللہ نے نازل فرمایا : مَا کَان للنَّبِیِّ الخ۔ سیوطی نے کہا : اس حدیث کے تمام طرق (روایت) مجروح ہیں۔
حافظ ابن حجر نے بخاری کی شرح میں لکھا ہے : جو شخص حضرت ابن مسعود والی حدیث کو صحیح کہتا ہے ‘ وہ اس کو صحیح لذاتہٖ نہیں کہتا بلکہ اسلئے صحیح کہتا ہے کہ ان طریقوں سے اس کی روایت کی گئی ہے ‘ مگر میں نے ان طریقوں پر غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ تمام طرق روایت مجروح ہیں۔ اس کے علاوہ اس حدیث کے معلول ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ صحیحین کی اس روایت کے خلاف ہے جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ اس آیت کا نزول مکہ میں ابو طالب کے انتقال کے موقع پر ہوا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ قتادہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : میں اپنے باپ کیلئے مغفرت کی دعا اسی طرح کروں گا جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کیلئے کی تھی۔ اس پر آیت مَا کَان للنَّبِیِّ الخ نازل ہوئی۔ یہ روایت مرسل ہے ‘ صحیح نہیں ہے ‘ ضعیف ہے ‘ صحیحین کی روایت کے خلاف ہے۔
لہٰذا اس آیت کو دلیل بنا کر حضور ﷺ کے والدین کو مشرک قرار دینا درست نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے والدین کو مؤمن ثابت کرنے کیلئے سیوطی نے چند رسائل لکھے ہیں ‘ بلکہ حضرت آدم (علیہ السلام) تک آپ ﷺ کے تمام آباء و اجداد و امہات کے ایمان کو ثابت کیا ہے۔ میں نے ان سب کا خلاصہ کر کے اس موضوع پر ایک رسالہ تقدیس آباء النبی ﷺ تالیف کردیا ہے۔ اس جگہ اس موضوع پر زیادہ تفصیل سے بحث کرنے کی گنجائش نہیں۔
ایک شبہ : صحیحین کی حدیث میں ابو طالب کے انتقال کے وقت ابو جہل کا ابو طالب سے یہ کہنا کہ کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے پھرجائیں گے اور ابو طالب کا آخری جواب یہ دینا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں ‘ بتارہا ہے کہ عبدالمطلب مشرک تھے (پھر حضور ﷺ کے تمام آباؤ اجداد کا موحد ہونا کہاں سے ثابت ہوا) ۔
جواب : اس حدیث سے یہ نہیں نکلتا کہ عبدالمطلب مشرک تھے ‘ عبدالمطلب یقینامؤمن تھے۔ ابن سعد نے طبقات میں اپنی خصوصی سندوں سے بیان کیا ہے کہ عبدالمطلب نے رسول اللہ ﷺ کی کھلائی ام ایمن سے کہا : اے برکت ! میرے بیٹے کی طرف سے غفلت نہ کر ‘ میں نے بیری کے درخت کے پاس اس کو دیکھا تھا۔ اور اہل کتاب کہتے ہیں کہ میرا یہ بیٹا اس امت کا پیغمبر ہے۔ بات یہ ہے کہ عبدالمطلب دور جاہلیت میں تھے ‘ آسمانی شریعتوں سے ناواقف تھے۔ وہ زمانہ فترت کا تھا اور فترت کے زمانہ میں صرف توحید کا اقرار کافی ہے (فترت اس مدت کو کہتے ہیں جس میں گزشتہ پیغمبر کی شریعت مٹ چکی ہو ‘ کالعدم ہو ‘ اصل شریعت گم ہوچکی ہو اور نیا پیغمبر ابھی آیا نہ ہو) تمام شرائع سے عبدالمطلب کی ناواقفیت ابوجہل کو معلوم تھی ‘ اس کی وجہ سے اس کو اور ابو طالب کو یہ خیال قائم کرنے کا موقع ملا کہ عبدالمطلب کے مذہب کے خلاف محمد رسول اللہ ﷺ کوئی نیا مذہب پیش کر رہے ہیں اور ان کا جدید دین عبدالمطلب کے دین سے ٹکراتا ہے ‘ اسلئے ابو طالب نے کہہ دیا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔
Ayah 9:114وما کان استغفار ابرھیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ اور حضرت ابراہیم کا اپنے باپ کیلئے دعائے مغفرت کرنا صرف اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے باپ سے اس کا وعدہ کرلیا تھا۔
حضرت ابراہیم کے بات سے مراد آزر ہے۔ آزر آپ کا چچا تھا ‘ باپ کا نام تارخ تھا۔ اس کی پوری تفصیل سورة الانعام میں گزر چکی ہے۔
بعض اہل تفسیر کا خیال ہے کہ وَعَدَ کی ضمیر بات کی طرف راجع ہے اور ایَّاہُ سے مراد حضرت ابراہیم ہیں ‘ یعنی باپ نے حضرت ابراہیم سے مسلمان ہونے کا وعدہ کرلیا تھا ‘ اس پر حضرت ابراہیم نے فرمایا : میں آپ کیلئے اپنے رب سے دعائے مغفرت کروں گا ‘ جبکہ آپ مسلمان ہوجائیں گے۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک وَعَدَ کا فاعل حضرت ابراہیم ہیں اور ایَّاہُ سے مراد حضرت ابراہیم کا باپ (ہم نے ترجمہ اسی قول کے موافق کیا ہے (یعنی حضرت ابراہیم نے باپ کے مسلمان ہوجانے کی امید میں یہ وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارے لئے دعائے مغفرت کروں گا۔ اس تفسیر کی تائید اس امر سے ہوتی ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے : قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْٓ اِبِرٰھِیْمَ ....... لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَکَتک۔ اس آیت میں حضرت ابراہیم کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے مگر حضرت ابراہیم نے جو باپ کیلئے دعائے مغفرت کی تھی اس کو عمومی حکم اتباع سے مستثنیٰ کردیا ‘ یعنی اس میں حضرت ابراہیم کی پیروی نہ کی جائے۔ اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ حضرت ابراہیم کا باپ مشرک تھا اور باوجود اس کے مشرک ہونے کے محض اس کے مسلمان ہوجانے کی امید پر حضرت ابراہیم نے اس سے وعدہ کرلیا تھا کہ میں تیرے لئے اپنے رب سے دعائے مغفرت کروں گا۔ صحیح حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اولاد آدم (علیہ السلام) کے جتنے قرون (صدیاں) گذرے ان سب میں سے بہترین دور میں میں مبعوث ہوا (یعنی میرے آباؤ اجداد بہترین قرون میں قرن در قرن گذرتے گئے۔ آخری قرن جو سب سے بہتر قرن ہے ‘ میری بعثت کا قرن ہے) اس حدیث کے صحیح ہوتے ہوئے کیسے کہا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سلسلۂ آباؤ اجداد میں کوئی کافر گذرا ہے۔
فلما تبین لہ ان عدو اللہ تبرا منہ (باپ کے کفر کی حالت پر مرنے سے یا اللہ کی طرف سے اطلاع ملنے کی وجہ سے کہ وہ کافر مرے گا) جب حضرت ابراہیم پر کھل گیا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے باپ سے بیزار ہوجانے کا اظہار کیا اور دعائے مغفرت قطع کردی۔
بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس آیت کا تعلق آخرت سے ہے ‘ یعنی آخرت میں جب حضرت ابراہیم پر واضح ہوجائے گا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوجائیں گے۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن حضرت ابراہیم کی ملاقات ان کے باپ آزر سے ہوگی۔ آزر کا چہرہ اس وقت دھنوالا ‘ پژمردہ ‘ خاک آلود ہوگا۔ حضرت ابراہیم اس سے کہیں گے : کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ میری ہدایت کے خلاف نہ کر۔ باپ جواب دے گا : آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضرت ابراہیم (بارگاہ الٰہی میں) عرض کریں گے : اے میرے مالک ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جس روز لوگوں کو (قبروں سے) اٹھایا جائے گا اس روز تو مجھے رسوا نہیں کرے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور کونسی رسوائی ہوگی جو میرے باپ کی حالت ہے۔ اللہ فرمائے گا : میں نے کافروں کیلئے جنت حرام کردی ہے۔ پھر حکم ہوگا : ابراہیم ! اپنے قدموں کے نیچے دیکھو۔ حضرت ابراہیم اپنے قدموں کی طرف دیکھیں گے تو ان کو (گندگی یا کیچڑ میں) لتھڑا ہوا ایک پشمی بجو نظر آئے گا ‘ پھر اس کو ٹانگوں سے پکڑ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک روایت میں اتنا اور بھی آیا ہے کہ حضرت ابراہیم اس سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔
ان ابرھیم لاواہ حلیم۔ واقعی ابراہیم رحیم المزاج ‘ حلیم الطبع تھے۔ حضرت کعب احبار نے کہا : اوَّاہٌ وہ شخص ہے جو اللہ کے خوف کی وجہ سے بہت زیادہ آہیں کھینچے (آہ آہ کرے) حضرت ابراہیم اپنی زندگی میں دوزخ کے خوف سے بکثرت آہیں بھرتے تھے۔ بعض نے کہا کہ گناہوں کی وجہ سے آہیں بھرنے والے کو اوَّاہٌ کہا جاتا ہے۔ مآل اور حاصل دونوں قولوں کا ایک ہی ہے (کہ بکثرت آہیں کھینچنے والے کو اوَّاہٌ کہا جاتا ہے ‘ خواہ اللہ کے خوف اور دوزخ کے ڈر سے ہو یا اپنے گناہوں کے اندیشہ سے۔ عطاء نے کہا : اوَّاہٌ سے وہ شخص ہے جو دوزخ سے ڈرتا ہو اور جو امور اللہ کو پسند نہیں ‘ ان سے تائب ہو۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : اوَّاہٌ سے مراد ہے بکثرت دعا کرنے والا۔ حضرت ابن عباس نے تشریح کی : مؤمن بکثرت توبہ کرنے والا اوَّاہٌ ہے۔ حسن اور قتادہ نے کہا : اوَّاہٌ وہ شخص ہے جو اللہ کے بندوں پر شفت و مہربانی کرے۔ مجاہد نے کہا : صاحب یقین مراد ہے۔ عکرمہ نے کہا : یہ لفظ حبشی زبان کا ہے ‘ حبشی زبان میں اوَّاہٌ کا معنی ہے یقین رکھنے والا۔ عقبہ بن عامر نے کہا : اوَّاہٌ سے مراد ہے بہت زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والا۔ حضرت سعید بن جبیر کے نزدیک بہت زیادہ سیاحت کرنے والا اوَّاہٌ ہے۔ ایک روایت میں حضرت سعید بن جبیر کا قول آیا ہے کہ اوَّاہٌ سے مراد ہے معلم خیر۔ نخعی نے کہا : اوَّاہٌ کا معنی ہے دانشمند۔ قاموس میں ہے : اوَّاہٌ یقین کرنے والا ‘ یا دعا کرنے والا ‘ یا مہربانی کرنے والا ‘ یا دانشمند ‘ یا ایمان رکھنے والا۔ یہ آخری معنی حبشی زبان میں ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا : اوَّاہٌ سے وہ شخص مراد ہے جو خوف سے آہ آہ کرنے والا ‘ یقین کی وجہ سے گڑگڑانے والا اور طاعت کا التزام کرنے والا ہو۔ زجاج نے کہا : ابوعبیدہ کا قول ان تمام معانی کو جامع ہے جو اوَّاہٌ کے بیان کئے جاتے ہیں۔ حلیم کا معنی ہے دوسروں کی ضرر رساں حرکتوں سے درگذر کرنے والا (بردبار) حضرت ابراہیم حلیم تھے ‘ باوجودیکہ باپ نے ان سے کہا تھا کہ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر مار مار کر ہلاک کر دوں گا ‘ لیکن حضرت ابراہیم نے فرمایا : آپ کو (دوزخ سے) سلامتی نصیب ہو ‘ میں اپنے رب سے آپ کیلئے دعائے مغفرت کروں گا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : حلیم کا معنی ہے سردار۔ قاموس میں ہے : حلم کا معنی ہے تحمل اور دانائی۔ حلیم (صفت مشبہ کا صیغہ) حلم سے ہی بنا ہے۔ حضرت ابراہیم کو جس بات نے باپ کیلئے دعائے مغفرت کرنے پر آمادہ کیا اس (علت استغفار) کو یہ جملہ واضح کر رہا ہے (یعنی حضرت ابراہیم اواہ و حلیم تھے ‘ اسلئے انہوں نے باپ کیلئے دعائے مغفرت کی) مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ کچھ لوگ (اپنے اپنے قبائل سے) خدمت گرامی میں حاضر ہو کر مسلمان ہوگئے۔ اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی ‘ نہ بیت المقدس کو چھوڑ کر کعبے کی طرف رخ موڑنے کا حکم نازل ہوا تھا۔ یہ لوگ مسلمان ہو کر اسی حالت میں اپنے گھروں کو چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد حرمت شراب اور تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا ‘ مگر ان کو اس کی اطلاع نہیں پہنچی۔ کچھ مدت کے بعد جب پھر مدینہ آئے اور شراب کی حرمت اور تحویل قبلہ کا ان کو علم ہوا تو انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ جس دین پر تھے (اس درمیانی مدت میں) ہمارا مسلک اس سے الگ رہا۔ ہم اس مدت میں شرابیں پیتے اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے رہے (اسلئے) ہم گمراہ رہے (اب ہمارا کیا ہوگا) اس پر اللہ نے آیت ذیل نازل فرمائی :
Ayah 9:115وما کان اللہ لیضل قومًا بعد اذھدھم حتی یبین لھم ما یتقون اور ہدایت یاب کردینے کے بعد اللہ کسی قوم کو اس وقت تک گمراہ نہیں قرار دیتا جب تک وہ چیزیں ان کو نہ بتادے جن سے ان کو پرہیز رکھنا چاہئے۔ یعنی اسلام کی ہدایت دینے کے بعد اللہ کسی قوم کو گمراہ نہیں قرار دیتا اور نہ ان کا کسی فعل پر مؤاخذہ کرے گا تاوقتیکہ ان کے سامنے کھول کر وہ امور نہ بیان کر دے جن سے ان کو بچنا لازم ہے اور جن کو آئندہ اختیار کرنے کے بعد وہ گمراہ قرار پانے کے مستحق ہوجاتے ہیں۔
بعض علماء نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے جو اپنے چچا کے متعلق فرمایا تھا کہ جب تک مجھے ممانعت نہ ہوجائے میں آپ کیلئے دعائے مغفرت کرتا رہوں گا۔ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کیلئے قول مذکور کا عذر بیان فرما دیا (کہ یہ قول رسول اور وعدۂ استغفار ممانعت دعا سے پہلے تھا ‘ اسلئے ناقابل مؤاخذہ ہے) یہ بھی کہا گیا ہے کہ ممانعت سے پہلے جن لوگوں نے اپنے مشرک آباؤ اجداد کیلئے دعائے مغفرت کی تھی ان کو اس آیت میں معذور ‘ ناقابل مؤاخذہ قرار دینا مقصود ہے۔ مجاہد نے کہا : آیت میں مشرکوں کیلئے دعائے مغفرت کرنے والے مؤمنوں کا حکم تو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے لیکن حکم عام ہے (قبل از نزول حکم) ہر معصیت وطاعت کو شامل ہے (یعنی نزول حکم سے پہلے کا کوئی فعل قابل مؤاخذہ نہیں۔ یہ ضابطہ عمومی ہے ‘ مشرکوں کیلئے قبل از ممانعت دعائے مغفرت کرنے کی ہی اس میں خصوصیت نہیں ہے) ۔
ان اللہ بکل شیء علیم۔ بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ یعنی کس نے ناواقفیت اور عدم علم کی وجہ سے ایسا کیا اور کس نے سرکشی اور تمرد کے جذبہ کے زیر اثر کیا ‘ کون گمراہ قرار دیئے جانے کا مستحق ہے اور کون اس کا مستحق نہیں ہے ‘ اللہ ان باتوں کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 9:116ان اللہ لہ ملک السموت والارض یحي ویمیت وما لکم من دون اللہ من ولی ولانصیر۔ بلاشبہ آسمانوں کی اور زمین کی حکومت اللہ ہی کی ہے ‘ وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے۔ (اے لوگو ! ) اللہ کے سوا نہ کوئی تمہارا حامی ہے کہ اللہ سے تم کو بچا سکے نہ کوئی مددگار کہ اللہ کے بھیجے ہوئے ضرر کو روک سکے ‘ اسلئے تمہارے لئے جائز نہیں کہ مشرکوں سے (قلبی) دوستی کرو اور ان کیلئے مغفرت کی دعائیں کرو خواہ وہ تمہارے قرابتدار ہی ہوں۔ تمہارے لئے اللہ کی دوستی اور مدد کافی ہے۔
Ayah 9:117لقد تاب اللہ علی النبی والمھجرین والانصار اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے حال پر اور مہاجرین و انصار کے حال پر توجہ فرمائی۔ منافقوں کو تبوک کے جہاد میں شرکت نہ کرنے کی جو اجازت دے دی گئی تھی ‘ اس قصور کو اللہ نے معاف کردیا۔ یا یہ معنی ہے کہ کہ گناہگار قرار دینے سے اللہ نے ان کو بچا لیا ‘ جیسے (رسول اللہ ﷺ کے متعلق) فرمایا ہے : لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذُنِبْکَم وَمَا تَأْخَّرَ ۔ بعض نے کہا : یہ توبہ کی ترغیب ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں جو توبہ کا محتاج نہ ہو ‘ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ بھی توبہ کے ضرورت مند ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : تم سب اللہ سے توبہ کرو۔ بات یہ ہے کہ ہر شخص جس درجہ پر بھی ہو ‘ اپنے سے اونچے درجہ پر پہنچنے سے قاصر رہتا ہی ہے (اور اونچے درجہ تک پہنچنا چاہتا ہے) لہٰذا جو کمی اس کے اندر ہو اس سے توبہ کرنا ضروری ہے۔ آیت میں توبہ کی فضیلت کا اظہار کیا گیا ہے کہ توبہ انبیاء و صالحین کا خصوصی مقام ہے۔ بعض نے کہا : اس آیت میں رسول کا ذکر بطور تمہید ہے ‘ کیونکہ آپ صحابہ کی توبہ قبول ہونے کا ذریعہ تھے ‘ اسلئے آپ کا ذکر شروع میں بطور تمہید کردیا گیا۔ جیسے آیت لِلّٰہِ خُمُسُہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی میں اللہ کا ذکر بطور تمہید ہے۔
الذین اتبعوا فی ساعۃ العسرۃ جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا۔ یعنی جب رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین و انصار کو تبوک کے جہاد کی ترغیب دی تو انہوں نے آپ کا اتباع کیا۔ ساعۃ سے مراد ہے وقت۔ عسرت سختی۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کیلئے سواری ‘ زاد راہ اور پانی کی بہت تنگی اور دشواری تھی ‘ اسلئے غزوۂ تبوک کو غزوۃ العسرۃ یا غزوۃ جیش العسرت کہا جاتا ہے ‘ غزوۃ الجیش بھی اسی کو کہتے ہیں۔ کذا قال البغوی
حسن نے کہا : دس دس آدمیوں کیلئے صرف ایک ایک اونٹ تھا ‘ باری باری سے دس آدمی ایک ہی اونٹ پر سوار ہوجاتے تھے۔ ایک اترتا تھا تو دوسرا چڑھتا تھا۔ زاد راہ کیلئے گھنے ہوئے چھوارے اور خراب قسم کے جَو تھے۔ جو کچھ ساتھ تھا ‘ لوگ اس کو باہم تقسیم کرلیا کرتے تھے۔ پھر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ بعض لوگ انتہائی بھوک کی وجہ سے ایک چھوارہ لے کر منہ میں گھماتے اور جب مزہ لے لیتے تو اپنے ساتھی کو دے دیتے اور وہ اس کو چوستا ‘ پھر ایک گھونٹ اوپر سے پانی پی لیتا۔ اس طرح ایک ہی چھوارہ سب لوگ باری باری سے چوستے اور چوسنے میں ہی چھوارہ ختم ہوجاتا ‘ صرف گٹھلی رہ جاتی۔ لیکن ایمان و یقین کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلے جاتے تھے۔
امام احمد ‘ ابن خزیمہ ‘ ابن حبان اور حاکم نے حضرت عمر بن خطاب کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت عمر نے فرمایا : ہم سخت گرمی کے دنوں میں (رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب) تبوک کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔ ایک پڑاؤ پر اترے اور اتنی پیاس لگی کہ ہم نے خیال کیا کہ اب ہماری گردنیں ٹوٹ جائیں گی۔ بعض لوگ پانی کی تلاش میں جاتے اور خیال ہوتا کہ یہ زندہ لوٹ کر نہ آئے گا۔ بعض لوگ اپنا اونٹ ذبح کر کے اس کے اوجھ سے پانی نکال کر نچوڑ کر پی لیتے اور جو کچھ باقی رہتا ‘ اس کو اپنے کلیجے پر رکھ لیتے۔ حضرت ابوبکر نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ نے دعائے خیر کا آپ کو عادی بنا دیا ہے (یعنی آپ دعائے خیر کرتے ہی ہیں اور اللہ آپ کی دعا قبول فرماتا ہے) اللہ سے ہمارے لئے دعا کر دیجئے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس کو پسند کرتے ہو ؟ حضرت ابوبکر نے عرض کیا : جی ہاں۔ حضور ﷺ نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دئیے اور لوٹا کر نیچے نہ لانے پائے تھے کہ بادل اٹھ کر (لشکر پر) چھا گیا۔ پھر اتنی بارش ہوئی کہ لوگوں کے پاس جو برتن تھے ‘ وہ سب بھر لئے۔ اس کے بعد جو ہم دیکھنے چلے (کہ کہاں کہاں بارش ہوئی) تو معلوم ہوا کہ لشکر سے آگے کہیں بارش نہیں ہوئی) ۔
ابن ابی حاتم نے حضرت ابو حرزہ انصاری کی روایت سے بیان کیا کہ لوگ (تبوک کے راستہ میں) حجر میں اترے۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا : یہاں کا پانی کوئی نہ لے۔ پھر (وہاں سے) کوچ کرنے کے بعد دوسرے پڑاؤ پر اترے۔ پانی کسی کے پاس نہ تھا ‘ لوگوں نے پانی نہ ہونے کی شکایت کی۔ حضور ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کی ‘ اللہ نے فوراً ایک بادل بھیج دیا جس سے اتنی بارش ہوئی کہ سب سیراب ہوگئے۔ ایک انصاری نے اپنے ساتھی سے جس کو لوگ منافق سمجھتے تھے ‘ کہا : ارے دیکھو ! رسول اللہ ﷺ کے دعا کرنے سے اللہ نے ہم پر بارش کردی۔ وہ کہنے لگا : بارش تو فلاں فلاں ستاروں (کے طلوع اور گردش) کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس پر اللہ نے آیت وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ اَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَنازل فرمائی۔
من بعد ما کاد یزیغ قلوب فریق منھم بعد اس کے کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل ہو چلا تھا۔ قلوب فریقٍ یعنی بعض لوگوں کے دلوں میں۔ زیغ سے یہ مراد نہیں ہے کہ بعض لوگوں کے دل دین سے پھرجانے کی طرف مائل ہوگئے تھے بلکہ آگے نہ جانے اور انتہائی شدائد کی وجہ سے واپس ہوجانے کی طرف میلان رکھتے تھے ‘ زیغ سے یہی مراد ہے۔
کلبی نے کہا : بعض لوگوں نے ساتھ نہ جانے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن (سوچنے کے بعد) پیچھے سے رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گئے۔ ابن اسحاق اور محمد بن عمر کا بیان ہے کہ بعض مسلمانوں کی نیت سست پڑگئی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جانے سے رہ گئے (اور وقت آجکل آجکل کہتے گذر گیا) مگر ان لوگوں کو (جانے میں) کوئی تردد نہ تھا (جانا ضرور چاہتے تھے اور جانے کا ارادہ تھا مگر ٹال مٹول میں پڑگئے) ان میں سے کعب بن مالک ‘ ہلال بن امیہ ‘ مرارہ بن ربیع اور ابوذر غفاری بھی تھے۔ یہ گروہ تھا صادق الایمان ‘ ان کے اسلام میں کسی کو کوئی شبہ نہ تھا۔ ابن اسحاق نے حضرت ابن مسعود کا بیان نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ روانہ ہوگئے تو (راستہ میں) بعض لوگ ساتھ چھوڑ (کر واپس) جانے لگے۔ صحابہ عرض کرتے تھے : یا رسول اللہ ﷺ ! فلاں شخص نے ساتھ چھوڑ دیا۔ حضور ﷺ فرماتے تھے : اس کو رہنے دو ۔ اگر اس (کے ساتھ آنے) میں کوئی بہتری ہوگی تو اللہ خود اس کو پیچھے سے تم سے لا ملائے گا ‘ ورنہ میں اس کے متعلق اللہ کے حکم کا انتظار کروں گا (ا اللہ جو حکم دے گا ویسا کروں گا) آخر جب حضرت ابوذر ساتھ سے رہ گئے تو لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ابوذر پیچھے رہ گئے ‘ ان کا اونٹ سست پڑگیا۔ حضور ﷺ نے حسب معمول وہی پہلا جواب دے دیا۔ حضرت ابوذر نے اونٹ کو ڈانٹا مگر اونٹ سست پڑا رہا (چال میں تیزی نہ آئی) یہ دیکھ کر حضرت ابوذر اپنا سامان پشت پر اٹھا کر پیدل رسول اللہ ﷺ کے پیچھے قدم بقدم چل پڑے۔ محمد بن عمر کا بیان ہے کہ حضرت ابوذر فرماتے تھے : میں غزوۂ تبوک میں اپنے اونٹ کی وجہ سے پیچھے رہ گیا تھا (ساتھ نہ جاسکا تھا) اونٹ بہت کمزور اور دبلا تھا۔ میں نے خیال کیا کہ اس کو چند روز چارہ گوت (یعنی خوراک) دے دوں ‘ پھر پیچھے سے (تیزی کے ساتھ) رسول اللہ ﷺ سے جا ملوں گا۔ چناچہ میں چند روز تک اس کو چارہ دیتا رہا ‘ پھر روانہ ہو کر ذی المودہ میں پہنچا تھا کہ اونٹ اڑ گیا۔ میں نے دن بھر اس پر محنت کی مگر وہ اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ آخر میں نے اپنا سامان اپنے اوپر لادا اور (چل دیا) دوپہر کو ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاں سے رسول اللہ ﷺ پر نظر پڑ رہی تھی (جانے والے) مسلمانوں میں سے کسی مسلمان نے مجھے دیکھ لیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ شخص تنہا پیدل چل رہا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ابوذر ہو (تو اچھا ہے) لوگوں نے میری طرف غور سے دیکھا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! خدا کی قسم ‘ یہ ابوذر ہی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ابوذر پر اللہ کی رحمت ہو ‘ تنہا جا رہا ہے۔ اکیلا مرے گا اور اکیلا اٹھایا جائے گا۔ محمد بن یوسف صالحی نے کہا : ہوا بھی ایسا ہی۔ جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے اور اپنی سرگزشت بتائی تو فرمایا : ابو ذر ! میرے پاس پہنچنے تک تو نے جو قدم اٹھایا ‘ اللہ نے اس کے عوض تیرا ایک گناہ معاف کیا۔
طبرانی نے خود حضرت ابو خثیمہ کی روایت سے اور ابن اسحاق و محمد بن عمر نے اپنے مشائخ کی سند سے بیان کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی روانگی کو چند دن گذر گئے تو حضرت ابو خثیمہ (ایک روز) اپنے گھر پہنچے ‘ دن گرم تھا۔ گھر پہنچ کر دیکھا کہ باغ کے اندر ان کی دونوں بیویوں نے الگ الگ دو اٹاریاں بنائی ہیں اور ہر ایک نے اپنی جھونپڑی کو ٹھنڈا کرنے کیلئے چھڑکاؤ کیا ہے اور حضرت ابوخثیمہ کیلئے پانی ٹھنڈا کر کے رکھا ہے اور کھانا تیار کیا ہے۔ جھونپڑی کے دروازہ پر پہنچ کر انہوں نے جو یہ کیفیت دیکھی اور بیویوں نے جو کچھ کیا تھا ‘ اس کا معائنہ کیا تو کہنے لگے : سبحان اللہ ! رسول اللہ ﷺ کی اگلی پچھلی لغزشیں تو اللہ نے معاف کردیں ہیں ‘ اس کے باوجود آپ ٹھیک دوپہر کو (گرم) ہوا اور گرمی میں اپنا اسلحہ کاندھے پر اٹھائے ہوئے (راہ خدا میں نکلے) ہیں اور ابو خثیمہ تیار کھانے پر ٹھنڈے سایہ میں خوبصورت بیوی کے ساتھ اپنے مال میں موجود ہے ‘ یہ انصاف کی بات نہیں ہے۔ خدا کی قسم ! میں دونوں میں سے کسی کی جھونپڑی میں داخل نہ ہوں گا ‘ بلکہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیچھے سے پہنچوں گا۔ تم دونوں میرے لئے زاد راہ تیار کر دو ۔ بیویوں نے زاد راہ تیار کردیا۔ پھر آپ اپنے اونٹ پر سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں چل دئیے ‘ یہاں تک کہ حضور ﷺ سے جا ملے۔ راستہ میں حضرت ابو خثیمہ سے عمیر بن وہب جمحی کا ساتھ ہوگیا تھا۔ وہ بھی رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلے تھے ‘ راستہ میں دونوں ساتھ ہوگئے۔ تبوک کے قریب پہنچ کر حضرت ابو خثیمہ نے عمیر سے کہا : مجھ سے ایک گناہ ہوگیا ہے ‘ اسلئے کوئی حرج نہیں اگر تم میرے ساتھ سے الگ ہوجاؤ۔ غرض جب حضرت ابو خثیمہ رسول اللہ ﷺ کے قریب (یعنی اتنے فاصلہ پر کہ لوگوں کی نظر ان پر پڑجائے) پہنچے تو لوگوں نے کہا : یہ کوئی سوار آ رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابو خثیمہ ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا : وا اللہ ! ابوخثیمہ ہی ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت ابو خثیمہ سے فرمایا : ابو خثیمہ ! تیرا برا ہو۔ حضرت ابو خثیمہ نے آپ کو واقعہ بتایا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے حق میں کچھ کلمات خیر فرمائے اور دعائے خیر کی۔
ثم تاب علیھم پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ تَابَ کی تکرار مفید تاکید ہے۔ پہلی آیت میں منافقوں کو جہاد میں شریک نہ ہونے کی اجازت دینے پر توبہ قبول کرنے کا اظہار کیا گیا تھا اور اس آیت میں منافقوں کی دوستی سے جو قلوب میں کجی پیدا ہونے لگی تھی ‘ اس کو معاف کردینے کا اعلان ہے۔ یا پہلی آیت میں توفیق توبہ عطا کرنے کا اظہار کیا گیا تھا اور اس آیت میں قبول توبہ کا۔ یا اس آیت میں معافی کا اظہار اس شدت و مصیبت کے مقابلہ میں کیا جو اس سفر میں لوگوں نے اٹھائی تھی۔
انہ بھم رؤف رحیم۔ بیشک اللہ ان پر بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جن لوگوں پر اللہ نے رحم کردیا ‘ پھر ان کو اس گناہ کی سزا کبھی نہیں دے گا۔