9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 9:61

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ (وہ) کان (ہے تو) تمہاری بھلائی کے لیے۔ وہ خدا کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہے۔ اور جو لوگ رسول خدا کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لیے عذاب الیم (تیار) ہے

(بقیہ حاشیہ سابقہ آیت) ایک شبہ : رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ حضرت عمر کو عطا فرمایا تھا ‘ وہ تو کام کی اجرت تھی ‘ فقر کی وجہ سے نہیں عطا فرمایا تھا ‘ اسی لئے فرمایا تھا کہ اس کو لے لو ‘ اس سے تمول حاصل کرو اور خیرات کرو۔ عمل کی اجرت کا ثبوت مسلم کی اس روایت سے ہوتا ہے جس میں ابو حمید ساعدی نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب نے مجھے صدقہ (زکوٰۃ) کے کام پر مامور کیا۔ کام تمام کرنے کے بعد جب میں نے رقم زکوٰۃ ادا کردی تو آپ نے اجرت عمل مجھے دینے کا حکم دیا۔ میں نے عرض کیا : (امیر المؤمنین ! ) میں نے تو اللہ کے واسطے کام کیا ہے ‘ میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے (اس سے لے لوں گا) فرمایا : جو کچھ تم کو دیا گیا ہے وہ لے لو ‘ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں میں نے بھی (تحصیل زکوٰۃ کا) کام کیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے کام کی اجرت دی تو میں نے بھی تمہاری طرح کہا تھا ‘ لیکن حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایا : جب تم کو بغیر سوال کے دیا جائے تو کھاؤ اور خیرات کرو۔ میں کہتا ہوں : الفاظ عام ہیں اور عموم الفاظ ہی معتبر ہے۔ واقعہ کی خصوصیت ناقابل اعتبار ہے۔ الفاظ کا عموم یہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : جب تم کو اس مال میں سے کچھ مل جائے اور تم ازخود نہ حریص ہو نہ سائل تو اس کو لے لو۔ ان الفاظ میں کوئی خصوصیت نہیں ہے۔ جو شخص احادیث کی تلاش کرے گا ‘ اس کو احادیث میں صراحت کے ساتھ یا دلالۃً یہ بات ملے گی کہ رسول اللہ ﷺ نے صحیح و تندرست سائل کو زکوٰۃ کا مال عطا فرمایا۔ مسلم نے بیان کیا ہے کہ حضرت انس نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا رہا تھا۔ آپ موٹی کناری کی نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ ایک دیہاتی نے چادر پکڑ کر اتنی زور سے کھینچی کہ چادر کی کناری کا نشان گردن مبارک کے ایک طرف پڑگیا۔ پھر کہنے لگا : محمد ! جو مال تمہارے پاس ہے ‘ اس میں سے کچھ مجھے بھی دو ۔ حضور ﷺ نے اس کی طرف گردن موڑی اور ہنس دئیے ‘ پھر اس کو کچھ دینے کا حکم دیا۔ حافظ ابن حجر نے کہا : اس باب کی اکثر احادیث اس کی شاہد ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ میں نے جو احادیث ذکر کردیں ‘ بالاجمال ان سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ طاقتور محتاج کو زکوٰۃ دینا جائز ہے ‘ اس نے سوال کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ ہاں سائل قوی کو دینا تو جائز ہے مگر اس کا سوال کرنا اور سوال کر کے لینا مکروہ ہے۔ اس صورت میں وہ حدیث جس میں طاقتور تندرست آدمی کیلئے زکوٰۃ حلال نہ ہونے کی صر 1 حت کی گئی ہے ‘ دو ہی معنی کی حامل ہے : ایک یہ کہ اس کیلئے سوال کرنا حلال نہیں۔ دوسرا یہ کہ سوال کے بعد زکوٰۃ کا جو مال اس کو دیا جائے ‘ وہ اس کیلئے حلال نہیں۔ اور ظاہر ہے کہ نفی حلت والی احادیث کا سوال ہی کے واقعہ سے تعلق ہے (لہٰذا قوی و تندرست محتاج کیلئے سوال کرنا حرام ہے لیکن جو مال بغیر سوال کے اس کو مل جائے یا سوال کے بعد ملے ‘ اس کی حرمت ثابت نہیں ہوتی) ۔ مسئلہ : اکثر ائمہ کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کیلئے نہ واجب صدقہ (یعنی فرض زکوٰۃ کا مال) لینا حلال تھا نہ نفل صدقہ (خیرات) لینا۔ امام شافعی اور امام احمد کے دو مختلف قول خیرات لینے کے جواز و عدم جواز کے متعلق آئے ہیں۔ جمہور کے قول کی دلیل حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک راستہ پر گذرے ‘ وہاں چھوارہ پڑا تھا۔ فرمایا : اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کا ہوگا تو میں اس کو کھا لیتا۔ متفق علیہ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جب کوئی کھانا پیش کیا جاتا تو آپ دریافت فرماتے : یہ ہدیہ ہے یا صدقہ ؟ اگر صدقہ کہا جاتا تو آپ ساتھیوں سے فرماتے کہ تم کھالو ‘ خود نہ کھاتے اور اگر ہدیہ کہا جاتا تو آپ ہاتھ بڑھا دیتے اور ساتھیوں کے ساتھ خود بھی کھاتے۔ متفق علیہ۔ طحاوی نے بھی بہزاد بن حکیم کے دادا کی روایت سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ آل رسول کیلئے بھی صدقہ حلال نہ تھا۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ حضرت حسن بن حضرت علی نے صدقہ کا ایک چھوارہ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا۔ حضور ﷺ نے منہ سے پھینک دینے کیلئے فرمایا آخ آخ۔ پھر فرمایا : ہم صدقہ نہیں کھایا کرتے۔ متفق علیہ مسئلہ : رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضور ﷺ کے قرابت داروں کیلئے زکوٰۃ و خیرات کھانے کی حرمت و حلت میں علماء کا اختلاف ہے اور چار مختلف اقوال ہیں : (1) مطلقاً جائز ہے۔ زکوٰۃ ہو یا خیرات ‘ اب آل رسول کیلئے ہر قسم کا صدقہ کھانا درست ہے۔ ایک روایت میں اس قول کی نسبت امام ابوحنیفہ کی طرف کی گئی ہے۔ اس قول کی کوئی شرعی دلیل موجود نہیں ہے ‘ فقط ایک قیاسی استنباط ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اقارب کو زکوٰۃ کے مال میں سے حصہ دینے کے بجائے مال غنیمت کے خمس (جو رسول اللہ ﷺ کا حصہ تھا) کا خمس (یعنی کل مال غنیمت کا پچیسواں حصہ) دے دیا کرتے تھے۔ جب حضور ﷺ کی وفات کے بعد آل رسول کا پچیسواں حصہ ساقط ہوگیا تو صدقہ کی حرمت بھی ان کیلئے ساقط ہوگئی۔ مطلقاً ناجائز ہے۔ نہ زکوٰۃ لینی جائز ہے نہ خیرات۔ یہ قول صاحبین کا ہے ‘ طحاوی اور ابن ہمام نے اسی کو اختیار کیا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہم آل محمد صدقہ نہیں کھاتے ‘ عام ہے۔ دوسری روایت میں آیا ہے : ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں۔ رواہ مسلم والطبرانی وا لطحاوی من حدیث عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ومن حدیث رشد بن مالک۔ امام احمد اور طحاوی نے حضرت حسن کے قصہ میں بھی یہی الفاظ نقل کئے ہیں۔ (3) زکوٰۃ لینی جائز ہے ‘ خیرات لینی درست نہیں۔ یہ صرف امام مالک کا قول ہے۔ اس کی دلیل یہ بیان کی گئی ہے کہ فرض تو ایک لازمی حق ہوتا ہے ‘ اس کو لینے میں آل رسول ﷺ کی کوئی توہین نہیں ہوتی اور خیرات لینے میں حقارت و ذلت ہوتی ہے۔ اس قول کی تردید کیلئے مذکورۂ بالا احادیث کافی ہیں۔ (4) خیرات جائز ہے ‘ زکوٰۃ جائز نہیں۔ امام ابوحنیفہ کا مشہور مسلک اور امام شافعی و امام حنبل کا صحیح قول یہی ہے۔ امام مالک کی طرف بھی ایک روایت میں اس قول کی نسبت کی گئی ہے ‘ بلکہ امام مالک سے تو چاروں اقوال مروی ہیں اور چاروں روایات مشہور ہیں۔ اس قول کی دلیل یہ ہے کہ مندرجۂ بالا احادیث میں آل محمد ﷺ کیلئے جس صدقہ کی ممانعت آئی ہے ‘ اس سے مراد فرض صدقہ (زکوٰۃ) ہے اور فرض زکوٰۃ کی حرمت ہی حضرت مطلب بن ربیعہ بن حارث کی حدیث میں مراد ہے۔ حضرت ربیعہ بن حارث اور حضرت عباس بن عبدالمطلب ایک بار جمع ہوئے اور بولے : اگر ہم ان دونوں لڑکوں یعنی مجھے اور فضل بن عباس کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس غرض کیلئے بھیج دیں کہ آپ تحصیل زکوٰۃ کی خدمت پر ان دونوں کو مقرر کردیں تاکہ دوسرے لوگوں کو جو اجرت ملتی ہے ‘ وہ ان کو بھی مل جایا کرے تو مناسب معلوم ہوتا ہے۔ حضرت علی نے فرمایا : ان کو نہ بھیجو (مگر حضرت علی کا مشورہ کسی نے نہ مانا) چناچہ ہم خدمت گرامی میں حاضر ہوئے۔ حضور ﷺ اس روز حضرت زینب بنت حجش کے گھر تھے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم اب نکاح کے قابل ہوگئے اور آپ (اقارب کے ساتھ) سب سے زیادہ اچھا سلوک کرنے والے اور بڑے کنبہ پرور ہیں۔ ہم اسلئے خدمت گرامی میں حاضر ہوئے ہیں کہ آپ وصول زکوٰۃ کی خدمت پر ہم کو بھی مامور فرما دیں۔ جس طرح اور لوگ وصول کر کے داخل کرتے ہیں اور اجرت پاتے ہیں ‘ ہم بھی وصول کر کے داخل کردیں گے اور ہم کو بھی دوسروں کی طرح اجرت مل جائے گی (اس طرح ہم نکاح کرسکیں گے اور ہمارا گذارا ہوجائے گا) یہ سن کر حضور ﷺ دیر تک خاموش رہے ‘ پھر فرمایا : آل محمد کیلئے صدقہ مناسب نہیں ‘ یہ لوگوں کا میل کچیل ہے۔ تم محمیہ بن جزء اسدی اور نوفل بن حارث بن عبدالمطلب کو بلا لاؤ۔ محمیہ کو حضور ﷺ نے مال خمس کی نگرانی پر مامور فرما دیا تھا۔ جب دونوں آگئے تو محمیہ سے فرمایا : اس لڑکے فضل بن عباس سے اپنی لڑکی کا نکاح کر دو ۔ محمیہ نے نکاح کردیا اور نوفل بن حارث سے فرمایا : تم اس لڑکے سے اپنی لڑکی کا نکاح کر دو ۔ انہوں نے بھی اپنی لڑکی کا نکاح حسب الحکم کردیا۔ پھر محمیہ سے فرمایا : خمس میں سے ان دونوں کا مہر اتنا اتنا دے دو ۔ رواہ مسلم۔ یہ حدیث بتارہی ہے کہ وصول زکوٰۃ پر اگر کوئی ہاشمی مامور ہو تب بھی مال زکوٰۃ میں سے اجرت لینی اس کیلئے جائز نہیں اور مامور نہ ہو تو جواز کی کوئی وجہ نہیں۔ لیکن اس حدیث میں صدقہ سے مراد زکوٰۃ ہے جس کو وصول کرنے کیلئے رسول اللہ ﷺ لوگوں کو مقرر فرماتے تھے۔ خاندان رسول کے صدقہ لینے کا جواز مندرجۂ ذیل واقعہ سے ظاہر ہو رہا ہے ‘ اس کے راوی حضرت ابن عباس ہیں۔ واقعہ یہ ہوا کہ مدینہ کا قافلہ (کہیں سے تجارتی سامان لے کر) آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے کچھ سامان خریدا اور چند اوقیہ نقرئی کے نفع سے اس کو بیچ ڈالا ‘ پھر وہ روپیہ خاندان عبدالمطلب کی بیواؤں کو بطور صدقہ دے دیا ‘ پھر فرمایا : آئندہ جس چیز کی قیمت میرے پاس نہ ہوگی ‘ میں اس کو نہیں خریدوں گا۔ امام شافعی نے بیان کیا ہے کہ حضرت امام جعفر مکہ اور مدینہ کے درمیان میں پانی کی جو سبیلیں تھیں ‘ ان سے پانی پی لیا کرتے تھے۔ اس پر حضرت ابراہیم بن محمد نے فرمایا : آپ صدقہ کا پانی پی لیتے ہیں ؟ فرمایا : ہمارے لئے صرف صدقۂ مفروضہ حرام کیا گیا ہے (اور یہ سبیل کا پانی خیراتی پانی ہوتا ہے) اگر کوئی یہ کہے کہ اوقاف کا حکم دوسرے صدقات سے الگ ہے (اوقاف سے فائدہ اٹھانا تمام مسلمانوں کیلئے جائز ہے ‘ خاندان رسول بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے) تو یہ بےدلیل دعویٰ ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو امام جعفر یوں فرماتے کہ اوقاف کا حکم دوسرے صدقات سے جدا ہے ‘ یہ نہ فرماتے کہ ہمارے لئے صرف فرض صدقہ (زکوٰۃ) حرام کیا گیا ہے۔ بخاری وغیرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہم کسی کو اپنا وارث نہیں چھوڑتے ‘ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔ زندگی میں رسول اللہ ﷺ سال بھر کا خرچ گھر والوں کو دے دیا کرتے تھے اور جو کچھ بچ رہتا ‘ اس کو اللہ کے مال کی طرح اللہ کے راستہ میں (یعنی جہاد کی تیاری ‘ گھوڑوں کی خریداری ‘ ہتھیاروں کی فراہمی وغیرہ) صرف کرتے تھے۔ حضور ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر ‘ حضرت علی اور حضرت عباس بھی رسول اللہ ﷺ کے عمل کی طرح کیا کرتے تھے (یعنی ترکۂ رسول میں سے جو حقیقت میں ترکہ نہ تھا بلکہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد اس کا حکم خیرات یا صدقہ کا حکم تھا ‘ اقارب رسول اللہ کو حضور ﷺ کی تقسیم کے مطابق دیا کرتے تھے) اس سے ظاہر ہوگیا کہ بنی ہاشم کیلئے ہر صدقہ (خواہ خیرات ہی ہو) حرام نہ تھا (بلکہ صرف زکوٰۃ حرام تھی) ۔ مسئلہ : اکثر ائمہ کے نزدیک ہاشمی ‘ ہاشمی کی بھی زکوٰۃ نہیں لے سکتا۔ امام ابو یوسف اس کو جائز کہتے ہیں۔ کیونکہ صدقہ چونکہ لوگوں کا میل کچیل ہوتا ہے ‘ اسلئے بنی ہاشم کیلئے حرام کیا گیا تھا مگر اپنا صدقہ خود کھانے میں کوئی حرج نہیں (کسی طرح کی توہین نہیں) ہم کہتے ہیں : بنی ہاشم کے شرف کا تقاضا ہے کہ وہ تمام لوگوں کے (خواہ وہ ہاشمی ہی ہو) میل کچیل سے اپنے کو محفوظ رکھیں ‘ اسلئے ہاشمی ‘ ہاشمی کی بھی زکوٰۃ نہیں لے سکتا۔ مسئلہ : بنی ہاشم کیلئے زکوٰۃ حرام ہے ‘ ان میں پانچ بطن شامل ہیں : آل علی ‘ آل عباس ‘ آل جعفر ‘ آل عقیل ‘ آل حارث بن عبدالمطلب۔ یہ امام اعظم اور امام مالک کا قول ہے۔ امام شافعی کے نزدیک بنی مطلب بھی ان میں شامل ہیں ‘ کیونکہ خمس میں سے رسول اللہ ﷺ جو ذوی القربیٰ کو دیتے تھے تو بنی مطلب کو بھی اس کا حصہ دار بناتے تھے ‘ ان کو بھی دیتے تھے۔ مسائل خمس میں حضرت جبیر بن مطعم کی روایت ہم ذکر کرچکے ہیں۔ مسئلہ : امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے نزدیک بنی ہاشم کے غلاموں کیلئے بھی زکوٰۃ حرام ہے۔ امام شافعی اور امام مالک کا بھی صحیح ترین قول یہی ہے۔ بعض کے نزدیک بنی ہاشم کے موالی کیلئے زکوٰۃ حرام نہیں۔ امام ابو یوسف نے فرمایا : موالی کی طرف بنی ہاشم کے سوا اور کسی کو نہیں پھیرا جائے گا۔ امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی مخزومی شخص کو تحصیل زکوٰۃ پر مقرر فرمایا۔ اس شخص نے ابو رافع سے کہا : تم بھی میرے ساتھ چلو ‘ تم کو بھی کچھ مل جائے گا۔ ابو رافع نے کہا : رسول اللہ ﷺ سے پوچھے بغیر میں نہیں جاسکتا۔ چناچہ ابو رافع نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو حضور ﷺ نے فرمایا : ہمارے آل محمد کیلئے صدقہ حلال نہیں اور کسی قوم کا غلام بھی انہی میں سے ہوتا ہے (یعنی اس کا حکم بھی ویسا ہی ہوتا ہے جیسے اس کے آقا کا) یہ حدیث حضرت ابورافع کی روایت سے امام احمد ‘ ابو داؤد ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن حبان اور حاکم نے بیان کی ہے اور طبرانی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے ابورافع کا نام ارقم بن ابی الارقم تھا۔ مسئلہ : مال زکوٰۃ کو ایک شہر سے دوسرے شہر کو لے جانا مکروہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ سے فرمایا تھا : ان کے مالداروں سے لیا جائے اور ان کے حاجت مندوں کو لوٹا دیا جائے۔ منقول ہے کہ زکوٰۃ کا جو مال خراسان سے شام لایا گیا تھا ‘ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے پھر شام سے خراسان کو لوٹا دیا۔ فریضۃ من اللہ یہ حکم اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔ فریضۃً یا مصدر (مفعول مطلق) ہے جو تاکید فعل کیلئے ذکر کیا گیا ہے یعنی اللہ کی طرف سے بلاشبہ یہ فرض کیا گیا ہے ‘ یا حال ہے۔ وا اللہ علیم حکیم۔ اور اللہ بڑے علم والا ‘ بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ مصلحت سے خوب واقف ہے اور حکمت کے ساتھ تقسیم کرنے والا ہے۔ کوئی فیصلہ بےمحل نہیں کرتا ‘ ہر چیز کو اس کے مقام پر قائم کرتا ہے۔ ابن ابی شیبہ ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد کا بیان اور ابن ابی حاتم نے سدی کا قول نقل کیا ہے کہ کچھ منافق جمع ہوئے ‘ ان میں حلاس بن سوید بن صامت مخشی بن حمیر اور ودیعہ بن ثابت بھی تھے۔ ان کا ارادہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی کچھ ہجو اور آپ پر کچھ نکتہ چینی کریں۔ ان میں سے ایک نے اس فعل سے سب کو روکا اور کہنے لگا : ہم کو ڈر ہے کہ یہ خبر محمد ﷺ کو پہنچ جائے گی اور پھر (ان کی نظر میں) یہ تمہارا جرم بن جائے گا۔ ایک شخص نے کہا : محمد ﷺ تو صرف کان ہیں (ہر ایک کا عذر سن لیتے ہیں) ہم قسمیں کھا لیں گے تو وہ ہم کو سچا مان لیں گے۔ حلاس بولا : ہم تو جو کچھ چاہیں گے کہیں گے ‘ پھر محمد ﷺ کے پاس جا کر اپنے قول کے منکر ہوجائیں گے اور قسم کھا لیں گے تو وہ ہماری بات سچ مان لیں گے۔ محمد ﷺ تو صرف کان ہیں۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی : ومنھم الذی یؤدون النبي ویقولون ھو اذن ان (منافقوں) میں کچھ ایسے ہیں کہ نبی کو ایذائیں پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں : آپ تو سراسر کان ہیں (ہر بات کان دے کر سن لیتے ہیں) ایذائیں دیتے ہیں ‘ یعنی غیبت کرتے ہیں ‘ آپ کی باتیں بچلاتے ہیں اور نازیبا الفاظ کہتے ہیں۔ اور اس اندیشہ سے کہ کہیں رسول اللہ ﷺ کو ان کی باتوں کی خبر نہ پہنچ جائے ‘ ان کو روکا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ وہ تو ہر بات کان دے کر سن لیتے اور سچا جان لیتے ہیں۔ جس طرح (دیدبانی کرنے والے) جاسوس کو مبالغۃً آنکھ کہا جاتا ہے ‘ اسی طرح ہر بات کو کان رکھ کر سن لینے کی وجہ سے منافقوں نے آپ کو کان کہا۔ یا مضاف محذوف ہے ‘ اصل میں ذواُذُنٍ (کان والا) تھا یا اُذُنٌ مشتق ہے اَذِنَ اُذُنًا سے۔ اَذِن کا معنی ہے : کان رکھ کر سن لیا۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ منبتل بن حارث رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھ کر آپ کی باتیں سنتا اور جا کر منافقوں سے نقل کرتا تھا ‘ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ محمد بن اسحاق نے لکھا ہے کہ منبتل کالا ‘ لمبا ‘ پراگندہ مو ‘ سرخ چشم ‘ چپکے گالوں والا بدرو آدمی تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا تھا : جو شیطان کو دیکھنا چاہتا ہو تو اس کو دیکھ لے۔ یہ شخص رسول اللہ ﷺ کی باتیں جا کر منافقوں سے چپکے چپکے کہتا تھا۔ اس سے کہا گیا : ایسا نہ کر۔ کہنے لگا : محمد ﷺ تو سراسر کان ہیں۔ جو ان سے کچھ جا کر کہہ دیتا ہے ‘ اس کو مان لیتے ہیں۔ ہم جو کچھ چاہیں گے کہیں گے ‘ پھر جا کر جھوٹی قسمیں کھا لیں گے (اور کہے ہوئے سے منکر ہوجائیں گے) تو وہ ہم کو سچا جان لیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ نے ان کے جواب میں فرمایا : قل اذن خیر لکم آپ کہہ دیجئے کہ وہ کان دے کر وہی بات سنتے ہیں جو تمہارے حق میں سراسر خیر ہے۔ اذُن کی خیر کی طرف اضافت ہے ‘ جیسے رجل صدقٍ (بھلائی کے کان ‘ سچائی کا آدمی) گویا یوں کہا گیا کہ وہ بیشک کان ہیں مگر ان کا کان ہونا تمہارے لئے بہتر ہے۔ یا یہ معنی ہے کہ وہ تمہاری بھلائی اور بہتری کی بات کان لگا کر سنتے ہیں ‘ شر اور بگاڑ کی بات نہیں سنتے ‘ غیبت اور چغلی کی بات نہیں سنتے ‘ عذر کرنے والے کی معذرت سن لیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مؤمن بھولا ‘ شریف ہوتا ہے اور کافر خبیث ‘ کمینہ۔ رواہ ابو داؤد والترمذی والحاکم عن ابی ہریرۃ۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ وہ خیر ‘ حق اور ہر واجب القبول بات کو سنتے ہیں اور ان کے خلاف باتوں کو نہیں سنتے۔ یؤمن باللہ ویؤمن للمؤمنین وہ اللہ کو مانتے ہیں اور مؤمنوں کا یقین کرتے ہیں۔ یعنی ہر مؤمن سے ان کو حسن ظن ہے ‘ اسلئے جو شخص بھی ایمان ظاہر کرتا ہے ‘ اس کو سچا مان لیتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ مخلص مؤمنوں کو سچا جانتے ہیں ‘ منافقوں کو سچا نہیں جانتے مگر ان کے عذر کو قبول کرلیتے ہیں۔ چونکہ ایمان باللہ سے مراد ہے کفر کی ضد ‘ اسلئے اوّل یؤمن کے بعد باللہ بَ کے ساتھ فرمایا اور دوسرے یؤمن سے مراد ہے تصدیق جو تکذیب کی ضد ہے ‘ اسلئے للمؤمنین لام کے ساتھ فرمایا (اوّل کا معنی ہوا اللہ کو مانتے ہیں اور دوسرے یؤمنکا معنی ہوا مؤمنوں کی بات کو سچا جانتے ہیں) ۔ ورحمۃ للذین امنوا منکم اور ان لوگوں کیلئے رحمت ہیں جو تم میں سے ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔ یعنی جو لوگ ایمان کا زبان سے اظہار کرتے ہیں ‘ ان کی بات کو قبول کرلیتے ہیں ‘ ان کا اندرونی راز فاش نہیں کرتے (اور ان کے منافق ہونے کا اعلان نہیں فرماتے) اس جملہ میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ نادانی یا تمہارے حال کو نہ جاننے کی وجہ سے وہ تمہارے قول کو قبول نہیں کرتے ‘ بلکہ تم پر چونکہ مہربان ہیں اور تم سے نرمی کرنی چاہتے ہیں ‘ اسلئے پردہ فاش نہیں کرتے اور عذر کو مان لیتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میں سے جو مخلص مؤمن ہیں ‘ ان کیلئے رسول ﷺ سراسر رحمت ہیں ‘ کفر سے نکال کر ایمان کی طرف لانے والے ہیں۔ قیامت کے دن ان کی شفاعت کریں گے اور دوزخ سے رہا کرا کے جنت میں لے جائیں گے۔ والذین یؤذون رسول اللہ لھم عذاب الیم۔ اور جو لوگ اللہ کے رسول ﷺ کو دکھ دیتے ہیں ‘ انہی کیلئے دردناک عذاب ہے۔ اس بات سے ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا کہ اللہ کے رسول نے ان کی بات مان لی اور عذر قبول کرلیا۔ مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول منافقوں کی ایک جماعت کے متعلق ہوا جو غزوۂ تبوک کو نہیں گئے تھے اور جب رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لے آئے تو حاضر ہو کر (طرح طرح کے) عذر پیش کرنے اور قسمیں کھانے لگے۔ انہی کے متعلق اللہ نے نازل فرمایا :
Ayah 9:62

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

مومنو! یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کر دیں۔ حالانکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے تو خدا اور اس کے پیغمبر خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہیں

یحلفون باللہ لکم لیرضوکم (اے مسلمانو ! ) وہ تم کو راضی کرنے کیلئے تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں (اور قسمیں کھا کھا کر عذر پیش کرتے ہیں) ۔ وا اللہ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مؤمنین۔ حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ حق رکھتے ہیں کہ اگر یہ لوگ سچے مسلمان ہیں تو اس کو (طاعت اور خلوص قلبی کے ذریعہ سے) راضی کریں۔ یُرْضُوْہُکی ضمیر ان کی طرف راجع ہے ‘ کیونکہ جھوٹی قسمیں کھا کر اللہ کو راضی نہیں کیا جاسکتا بلکہ خلوص قلبی اور طاعت سے ہی اس کی رضامندی حاصل ہوسکتی ہے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک اللہ اور رسول میں سے ہر ایک کی طرف ضمیر راجع ہے۔ چونکہ اللہ کی اور اس کے رسول کی رضامندی ایک ہی ہے ‘ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ‘ اسلئے ضمیر واحد کی استعمال کی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ رسول کی طرف ضمیر راجع ہے ‘ کیونکہ رسول کو ایذا دینے اور راضی کرنے ہی کے سلسلے میں کلام کا نزول ہوا۔ اِنْ کَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ شرط مؤخر ہے۔ یعنی اگر وہ مؤمن ہیں تو طاعت اور اخلاص کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنا چاہئے۔ مگر انہوں نے نہ اللہ کو راضی کیا ‘ نہ اللہ کے رسول کو ‘ نہ خلوص کے ساتھ ایمان لائے۔
Ayah 9:63

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم کی آگ (تیار) ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے

الم یعلموا انہ من یحادد اللہ ورسولہ فان لہ نار جھنم خالدًا فیھا کیا ان کو خبر نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا (جیسا کہ یہ لوگ کر رہے ہیں) تو یہ بات ٹھہر چکی ہے کہ ایسے شخص کو دوزخ کی آگ اس طور پر نصیب ہوگی کہ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ یُحَادِدُکا معنی ہے یخالفُیعنی نافرمانی کر کے اور جہاد کو نہ جا کر جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرے گا۔ یحادد کا باب مفاعلۃ ہے ‘ حَدٌّمادہ ہے۔ حد کا معنی ہے جانب۔ کسی کی مخالف کرنے والا بھی اپنے مخالف کی جہت سے ہٹ کر دوسری جانب چلا جاتا ہے۔ (1) [ یزید بن ہارون کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے ایک دن خطبہ دیا اور خطبہ میں فرمایا : ایک بندہ کو لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا۔ اللہ نے دنیا میں اس کو اپنی نعمتوں سے نوازا ہوگا ‘ اس کے رزق میں کشادگی عطا فرمائی ہوگی اور تندرستی بھی مرحمت کی ہوگی۔ اللہ کی پیشی ہوگی تو اس سے پوچھا جائے گا : تو نے اس دن کیلئے کیا عمل کئے تھے اور اپنے لئے پہلے سے کیا بھیجا تھا ؟ اس شخص کو اس وقت کوئی بھلائی نظر نہ آئے گی کیونکہ اس نے کچھ بھیجا ہی نہ ہوگا۔ وہ رونے لگے گا کہ آنسو بہنے لگیں گے۔ پھر اس کو عار دلائی جائے گی اور رسوا کیا جائے گا ‘ اتنا کہ آخر وہ کہہ اٹھے گا : اے میرے رب ! مجھے دوزخ میں بھیج دے ‘ اس جگہ سے تو مجھے رہائی دے۔ یہی مفہوم ہے اللہ کے قول مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاَنَّ لَہٗ نَارَ جَھَنَّمَ الخ کا۔] ذلک الخزی العظیم۔ (اور) یہ بڑی رسوائی ہے۔ آیت سابقہ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَحَقُّ اَنْ یُّرُُوْہُ کی (معنوی) علت کا اظہار اس آیت میں کیا ہے۔ اللہ اگر ناراض ہو اور اس کے حکم کے خلاف عمل کیا جائے تو داخلۂ جہنم کے علاوہ کوئی اور نتیجہ نہیں نکل سکتا ہے۔ دوسروں کی ناراضگی ہیچ ہے ‘ کسی اور کا ناراض ہونا موجب نار نہیں۔ کسی شاعر کا قول ہے اور کیسا اچھا قول ہے : کاش ! تو (میرے لئے) شیریں ہوتا ‘ خواہ (میری) زندگی (ہر طرف سے) تلخ ہوتی اور کاش ! تو راضی رہتا ‘ خواہ سارا جہاں ناراض ہوتا اور کاش ! میرے تیرے تعلقات خراب نہ ہوتے ‘ خواہ ساری دنیا سے میرے علائق تباہ ہوجاتے۔ بغوی نے قتادہ اور سدی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ آیت یَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ لَکُمْ لِیُرْضُوْکُمْ منافقوں کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی تھی ‘ حلاس بن سوید بھی اس گروہ میں شامل تھا۔ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں کچھ برے الفاظ کہے تھے اور یہ بھی کہا تھا کہ اگر محمد ﷺ کا قول حق ہے تو (یقینا) ہم لوگ گدھوں سے بھی بدتر ہیں۔ حضرت عامر بن قیس نے اس واقعہ کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو پہنچا دی۔ پورا قصہ ہم آگے ذکر کریں گے۔
Ayah 9:64

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان (کے پیغمبر) پر کہیں کوئی ایسی سورت (نہ) اُتر آئے کہ ان کے دل کی باتوں کو ان (مسلمانوں) پر ظاہر کر دے۔ کہہ دو کہ ہنسی کئے جاؤ۔ جس بات سے تم ڈرتے ہو خدا اس کو ضرور ظاہر کردے گا

یحذر المنفقون ان تنزل علیھم سورة تنبءھم بما فی قلوبھم منافق لوگ (طبعاً ) اس سے اندیشہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں پر کوئی سورت (مثلاً یہ آیت) نازل نہ ہوجائے جو ان کو ان منافقوں کے مافی الضمیر پر اطلاع دے دے۔ اوّل دونوں ضمیریں مؤمنوں کی طرف اور آخری فی قلوبھم کی ضمیر منافقوں کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ منافقوں کو اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی عداوت اور حسد جو ہمارے دلوں میں ہے ‘ کہیں کسی آیت کے ذریعہ سے اس کا پردہ فاش نہ کردیا جائے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ علیہم کی ضمیر بھی منافقوں کی طرف راجع ہو ‘ کیونکہ منافقوں کے بارے میں کسی آیت کا نزول ان کے خلاف پڑے گا اور جب اس آیت کی تلاوت کی جائے گی تو مسلمانوں کو منافقوں کے خلاف دلیل مل جائے گی۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ منافقوں کو اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں ہمارے خلاف کوئی آیت نازل ہو کر ہمارے قلبی حسد و عداوت کا پردہ فاش نہ کر دے۔ بغوی نے لکھا ہے : منافق آپس میں خفیہ باتیں کرتے تھے اور ڈرتے تھے کہ کوئی آیت نازل ہو کر ان کو رسوا نہ کر دے۔ اس کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے معاملہ میں ان کو تردد تھا (اگر کامل یقین نہ تھا تو محکم انکار بھی نہ تھا ‘ شک میں پڑے ہوئے تھے ‘ اسی لئے) ان کو اندیشہ تھا کہ اگر رسول سچے ہیں تو کہیں اللہ کی طرف سے ان کی رسوائی نہ ہوجائے۔ بعض علماء کے نزدیک یَحْذَرُ اگرچہ خبر کی صورت میں ہے مگر امر کے معنی میں ہے ‘ یعنی منافقوں کو ڈرتے رہنا چاہئے۔ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ منافق یہ باتیں آپس میں بطور استہزاء کہتے تھے۔ آئندہ جملہ سے اس قول کی تائید ہوتی ہے۔ فرمایا ہے : قل استھزء وا ان اللہ مخرج ما تخذرون۔ آپ کہہ دیجئے : اچھا ! تم استہزاء کرتے رہو ‘ بیشک اللہ اس چیز کو ظاہر کر کے رہے گا جس (کے اظہار) کا تم اندیشہ کرتے ہو۔ یہ امر بطور تہدید ہے ‘ یعنی جس سورت کے نزول یا برائیوں کا پردہ فاش ہونے کا تم کو اندیشہ ہے ‘ وہ تو اللہ ضرور کرے گا۔ تمہاری خفیہ عداوت کو ضرور ظاہر کر دے گا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ نے ستر منافقوں کے نام مع ولدیت کے ذکر کئے تھے ‘ مگر مسلمانوں پر مہربانی فرمائی اور ان کے (ذہنوں سے اور تلاوت سے ہر طرح سے) منسوخ کردیا کہ آئندہ کوئی ان مخلص مسلمانوں کو عار نہ دلائے اور طعن تشنیع نہ کرے کہ تمہارے باپ تو ایسے منافق تھے۔ بغوی نے لکھا ہے : آیت کا نزول ان بارہ منافقوں کے حق میں ہوا تھا جو گھاٹی کے اوپر جا کر اس غرض سے کھڑے ہوگئے تھے کہ جب رسول اللہ ﷺ تبوک سے واپسی میں اس گھاٹی پر چڑھیں گے تو اچانک ہم ان کو قتل کردیں گے۔ حضرت جبرئیل نے رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع دے دی۔ قصے کی پوری تفصیل حسب ذیل ہے۔ امام احمد نے حضرت ابو طفیل کی روایت سے ‘ بیہقی نے حضرت حذیفہ کی روایت سے اور ابن سعد نے حضرت جبیر بن مطعم کی روایت سے بیان کیا۔ نیز ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ضحاک (تابعی) کے حوالہ سے ‘ بیہقی نے عروہ اور ابن اسحاق کی وساطت سے اور محمد بن عمر نے اپنے مشائخ روایت کی سند سے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ کسی سفر میں تھے اور کسی راستے میں گزر رہے تھے کہ منافقوں میں سے کچھ لوگوں نے باہم مشورہ کر کے یہ طے کرلیا کہ گھاٹی کے اوپر رسول اللہ ﷺ کو گرا کر قتل کردیں۔ مشورہ طے کرنے کے بعد موقع کی تلاش میں رہے۔ چناچہ (سفر مذکور میں) جب رسول اللہ ﷺ نے کسی گھاٹی پر چلنے کا ارادہ کیا تو منافق بھی آپ کے ساتھ ہو لئے تاکہ جس وقت آپ گھاٹی پر چڑھیں تو منافق آپ کو اونٹنی سے اٹھا کر وادی میں پھینک دیں۔ اللہ نے ان کی مکاری کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو دے دی۔ چناچہ جب رسول اللہ ﷺ گھاٹی پر چڑھنے لگے تو آپ کی طرف سے ایک منادی نے ندا کردی کہ رسول اللہ ﷺ گھاٹی کے راستہ میں جا رہے ہیں۔ خبردار ! کوئی بھی گھاٹی کے راستہ سے نہ جائے ‘ سب وادی کے اندر سے جائیں۔ تم لوگوں کیلئے وادی کے اندر سے جانا آسان بھی ہے (اوپر چڑھنے سے بچ جاؤ گے) حسب الحکم سب لوگوں نے بطن وادی کی راہ اختیار کی مگر جن منافقوں نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی تدبیر کی تھی ‘ انہوں نے جب یہ حکم سنا تو (اپنے ارادہ سے باز نہ آئے اور اپنے منصوبہ کی تکمیل کیلئے) تیار ہوگئے اور چہروں پر کپڑا باندھ لیا (اور گھاٹی پر جا چھپے) رسول اللہ ﷺ نے جب گھاٹی پر اس شان سے چلنا شروع کیا کہ حسب الحکم آگے آگے حضرت عمار بن یاسر اونٹنی کی مہار پکڑے جا رہے تھے اور پیچھے پیچھے حضرت حذیفہ بن یمان ہنکا رہے تھے ‘ اچانک (چھپے ہوئے لوگوں کی) کچھ آہٹ محسوس ہوئی۔ ساتھیوں نے نیزے تان لئے اور اونٹنی کو زور سے بھگایا ‘ اونٹنی اتنی تیزی سے بھاگی کہ کچھ سامان بھی گرپڑا۔ رات اندھیری تھی۔ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی بھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گھاٹی میں پہنچ گئے۔ حضرت حمزہ کا بیان ہے کہ (گھاٹی کے اندر مشعل کی طرح) میری پانچوں انگلیاں روشن ہوگئیں جن کی روشنی میں ہم نے کوڑا ‘ رسی اور دوسرا گرا پڑا سامان جمع کرلیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حذیفہ کو حکم دیا کہ (آنے والے) لوگوں کو واپس لوٹا دیں۔ حضرت حذیفہ کے پاس ایک ٹیڑھی موٹھ کی برچھی دار لاٹھی تھی ‘ آپ اس لاٹھی سے آنے والے لوگوں کی سواریوں کا رخ لوٹانے لگے اور فرمایا : اے اللہ کے دشمنو ! ادھر ہی جاؤ ‘ ادھر ہی رہو۔ ان لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ کو ہمارے ارادے کی اطلاع مل گئی ‘ اسلئے فوراً تیزی کے ساتھ گھاٹی سے اتر کر دوسرے لوگوں سے جا ملے۔ حضرت حذیفہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آگئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : حذیفہ ! اونٹنی کو مارو اور عمار ! تم پیدل چلو۔ سب لوگ تیزی سے چلے یہاں تک کہ یہ دونوں بزرگ گھاٹی کے اوپر پہنچ گئے اور رسول اللہ ﷺ گھاٹی سے باہر نکل گئے اور لوگوں کا انتظار کرنے لگے۔ پھر حضرت حذیفہ سے فرمایا : جن لوگوں کو تم نے لوٹایا تھا ‘ کیا ان میں سے کسی کو پہچانا بھی ؟ حضرت حذیفہ نے عرض کیا : حضور ﷺ ! رات کا اندھیرا تھا اور ان کے چہروں پر کپڑے بندھے تھے ‘ میں نے نہیں پہچانا ‘ ہاں ان کی اونٹنیوں کو پہچان لیا۔ فرمایا : تم سمجھے بھی کہ ان کا ارادہ کیا تھا ؟ حضرت حذیفہ نے عرض کیا : خدا کی قسم ‘ حضور ﷺ ! مجھے تو کچھ علم نہیں۔ فرمایا : انہوں نے داؤ کیا تھا کہ میرے ساتھ ساتھ چلیں اور جب میں گھاٹی پر چڑھوں تو پتھر مار مار کر مجھے گھاٹی سے نیچے پھینک دیں۔ اللہ نے مجھے ان کے نام اور ان کے باپوں کے نام بتا دئیے ‘ میں انشاء اللہ تم کو ان کی اطلاع دے دوں گا۔ حضرت حذیفہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! جب لوگ آجائیں تو آپ حکم دے دیجئے کہ ان (بےایمانوں) کی گردنیں مار دی جائیں۔ فرمایا : نہیں ‘ لوگ باتیں بنائیں گے اور کہیں گے کہ محمد نے اپنے ساتھیوں کو قتل کرنا شروع کردیا (بغوی کی روایت کے الفاظ میں کچھ اختلاف ہے مگر مطلب ایک ہی ہے) ہمارے لئے اللہ کافی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حذیفہ اور حضرت عمار کو ان منافقوں کے نام بتا دئیے تھے مگر فرما دیا تھا کہ ان کو پوشیدہ رکھنا۔ غرض صبح ہوئی تو حضرت اسید بن حضیر نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! رات آپ وادی کے اندر کی راہ سے کیوں نہ چلے ‘ یہ راستہ تو گھاٹی کے راستے سے آسان تھا۔ فرمایا : ابو یحییٰ ! کیا تم جانتے ہو کہ منافقوں کا میرے متعلق کیا رادہ تھا اور انہوں نے کیا طے کیا تھا ؟ ان کا خیال تھا کہ میرے پیچھے پیچھے آئیں گے اور رات کی تاریکی میں میری اونٹنی کا سینہ بند اور تسمے کاٹ کر اونٹنی کے آر چبھو دیں گے (چنانچہ ایسا ہی ہوا) قریب تھا کہ اونٹنی سے مجھے نیچے پھینک دیں۔ حضرت اسید نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اب سب لوگ جمع ہیں اور اتر پڑے ہیں (یعنی فروکش ہوگئے ہیں اور پڑاؤ ڈال لیا ہے) آپ ہر خاندان کو حکم دے دیں کہ اس خاندان کے جس شخص نے یہ ارادہ کیا ہو ‘ خاندان والے ہی اس کو قتل کردیں اور اگر آپ کی رائے میں مناسب ہو تو مجھے (ان کے نام) بتا دیجئے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ! میں اس جگہ سے ہٹوں گا بھی نہیں کہ ان کے سر آپ کی خدمت میں لا کر حاضر کر دوں۔ فرمایا : مجھے یہ بات پسند نہیں کہ لوگ باتیں بنائیں اور کہیں کہ جب محمد کی لڑائی مشرکوں سے ختم ہوگئی تو وہ اپنے ساتھیوں پر ہاتھ صاف کرنے لگا۔ حضرت اسید نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! وہ تو آپ کے ساتھی نہیں ہیں۔ فرمایا : کیا وہ لا الٰہ الا اللہ کی شہادت کا اظہار نہیں کرتے ہیں ؟ حضرت اسید نے عرض کیا : جی ‘ کرتے تو ہیں۔ فرمایا : اسی وجہ سے میں ان کے قتل سے باز رہا۔ محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت حذیفہ کو حکم دیا کہ عبد اللہ بن سعد بن ابی السرح اور ابو حاضر اعرابی اور عامر ابو عامر اور حلاس بن سوید بن صامت اور مجمع بن حارثہ اور ملیح تمیمی اور حصیر بن نمیر اور طعمہ بن ابیرق اور عبد اللہ بن عیینہ اور مرہ بن ربیع کو بلا لاؤ۔ حلاس ہی وہ شخص تھا جس نے کہا تھا : جب تک آج رات گھاٹی سے محمد ﷺ کو ہم پھینک نہ دیں گے ‘ باز نہ رہیں گے۔ اگر محمد ﷺ اور اس کے ساتھی ہم سے بہتر ہیں تو ہم پھر بکریاں ہوں گے اور وہ چرواہے ‘ ہم بےعقل ہوں گے اور وہ عقل والے۔ ملیح تمیمی وہ شخص تھا جس نے کعبہ کی خوشبو چرائی تھی اور مرتد ہو کر بھاگ گیا تھا مگر سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کہاں جائے۔ ملک میں مارا مارا پھرتا رہا تھا۔ حصیر بن نمیر وہ ہے جس نے زکوٰۃ کی چیزیں چرائی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : کمبخت ! یہ حرکت تو نے کیوں کی ؟ کہنے لگا : مجھے اس حرکت پر اس خیال نے آمادہ کیا کہ اللہ آپ کو اس بات پر مطلع نہیں کرے گا (کیونکہ آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں) لیکن اب جبکہ اللہ نے آپ کو آگاہ کردیا تو مجھے یقین ہوگیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اب میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اس وقت سے پہلے میں آپ پر ایمان نہیں لایا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات سن کر اس سے درگذر فرما لی اور معاف کردیا۔ عبد اللہ بن عیینہ وہی شخص تھا جس نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا : آج رات جاگ لو ‘ ہمیشہ کیلئے نجات پالو گے۔ خدا کی قسم ! اس شخص کو قتل کردینے کے سوا تمہارا کوئی کام نہیں (اس کے بغیر تمہارا کام نہ ہوگا) رسول اللہ ﷺ نے اس کو بلوا کر فرمایا : کمبخت ! اگر میں مارا جاتا تو تجھے کیا فائدہ پہنچتا ؟ دشمن خدا کہنے لگا : اے اللہ کے نبی ! خدا کی قسم ‘ جب سے اللہ نے آپ کو فتح عنایت کی ہے ‘ ہم برابر خیریت کے ساتھ ہیں۔ ہم تو بس اللہ اور آپ کی ذات کے سبب سے (خیریت اور آسائش میں) ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو چھوڑ دیا۔ مرہ بن ربیع وہ شخص تھا جس نے عبد اللہ بن ابی کے کندھے پر ہاتھ مار کر کہا تھا : اس رکاوٹ کو دور کر دو ۔ اس ایک اکیلے شخص کے قتل کے بعد تو ہمارے لئے چین ہی چین ہے۔ عام لوگ اس کے قتل سے مطمئن ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو بلوا کر فرمایا : ارے ! تو نے ایسی باتیں کیوں کہیں ؟ اس نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! میں نے تو ان میں سے کوئی بات نہیں کہی ‘ اگر کہی ہوتی تو آپ کو معلوم ہی ہوتی۔ غرض ان بارہ منافقوں کو رسول اللہ ﷺ نے جمع کیا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرنی چاہی تھی اور رسول اللہ ﷺ کو قتل کردینے کا ارادہ کیا تھا۔ سب کو ان کی کہی ہوئی باتیں ‘ ان کی گفتگو اور ان کے ظاہر و باطن کی حالت بتائی اور آپ کو ان چیزوں کا علم وحی سے ہوا تھا۔ آیت وَھُمَّوآ بِمَا لَمْ یَنَالُوْا سے اسی طرف اشارہ ہے۔ یہ بارہ آدمی نفاق اور اللہ اور اللہ کے رسول سے جنگ کے ارادہ ہی کی حالت میں مرگئے۔ بیہقی نے حضرت حذیفہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کیلئے بددعا کی تھی اور فرمایا تھا : الٰہی ! ان کو دنبل میں مبتلا کر دے۔ یعنی آگ کی ایک چنگاری میں جو ان کے دلوں کی رگ پر لگے اور وہ ہلاک ہوجائیں۔ مسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے ساتھیوں میں بارہ آدمی منافق ہیں۔ یہ اس وقت تک جنت میں نہیں جائیں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل نہ ہوجائے (اور سوئی کے ناکہ میں اونٹ کا داخل ہونا محال ہے ‘ لہٰذا ان کا جنت میں داخل ہونا بھی محال ہے) آٹھ کا کام تمام تو دنبل کر دے گا۔ یعنی آگ کا ایک چراغ جو ان کے شانوں کے درمیان پیدا ہوگا اور سینوں سے پار ہوجائے گا۔ بیہقی نے کہا : ہم کو حضرت حذیفہ کی روایت پہنچی ہے کہ یہ لوگ چودہ یا پندرہ تھے۔ یہ واقعہ اس زمانہ کا ہے جب رسول اللہ ﷺ تبوک سے واپس آ رہے تھے۔
Ayah 9:65

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے ہم تو یوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے

ولئن سالتھم لیقولن انما کنا نخوض ونلعب قل ابا اللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستھزء ون۔ اور اگر آپ ان سے پوچھیں تو کہہ دیں گے کہ ہم تو محض مشغلہ اور خوش طبعی کر رہے تھے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ کیا اللہ کے ساتھ اور اس کی آیتوں کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ تم ہنسی کررہے تھے ؟ یعنی ان کے استہزاء پر ڈانٹنے اور حجت پوری کرنے کیلئے ان سے یہ بات کہو اور ان کی معذرتوں کا اعتبار نہ کرو۔ جس چیز کو انہوں نے موضوع استہزاء بنایا تھا (یعنی اللہ ‘ اللہ کی آیات ‘ اللہ کا رسول) اس پر حرف تقریر (یعنی ہمزہ استفہامی تقریری) کا داخل ہونا بتارہا ہے کہ گویا ان لوگوں کو اپنے استہزاء کرنے کا اعتراف ہے ‘ اسی وجہ سے بجائے اس کے کہ ان کے استہزاء کا ذکر کیا جائے ‘ ان کے اس قصور پر ان کو توبیخ کی گئی۔ اہل تفسیر نے اس کلام کی یہی تشریح کی ہے (حاصل تشریح یہ ہے کہ ہمزہ تقریری باللہ وآیاتہ ورسولہ پر داخل کرنا بتارہا ہے کہ ان کو اپنے استہزاء کا اعتراف تھا ‘ کیونکہ ہمزہ تقریری اسی چیز پر داخل کی جاتی ہے جو ثابت شدہ ہو اور مخاطب کو اس کا انکار نہ ہو تو گویا اپنے استہزاء کا انکار نہ تھا ‘ وہ معترف تھے کہ ہم نے جو کچھ کہا ‘ وہ مذاق سے کہا۔ اس پر اللہ نے ان کو توبیخ کی کہ کیا یہ چیزیں استہزاء کی ہیں ؟ کیا تم اللہ ‘ اس کے کلام اور اس کے رسول کو موضوع استہزاء بنا رہے تھے ؟ ) میں کہتا ہوں : منافقوں کا یہ قول اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ جو بجائے خود استہزاء کا ان کی طرف سے اعتراف ہے ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے تھے ‘ اس کا مقصد استہزاء کرنا نہ تھا بلکہ تفریحی کلام تھا۔ راستہ طے کرنے کیلئے ہم بطو رمذاق ایسی باتیں کررہے تھے۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک مجلس میں ایک شخص نے کہا : ہم نے اپنے ان قرآن پڑھنے والوں کی طرح کسی شخص کو نہیں دیکھا جو ان کی طرح کھانے کا حریص ‘ زبان کا جھوٹا اور دشمن سے مقابلہ کے وقت بزدل ہو۔ ایک اور شخص یہ بات سن کر بولا : تو نے جھوٹ کہا ‘ تو منافق ہے۔ میں تیری اس بات کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو ضرور دوں گا۔ چناچہ یہ خبر رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گئی اور قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوگئی۔ (1) [ شریح بن عبید کا بیان ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابو درداء سے کہا : اے قرآن خوانوں کے گروہ ! کیا وجہ کہ تم لوگ ہم سے زیادہ ڈرپوک ہو ‘ تم سے کچھ مانگا جاتا ہے تو بڑی کنجوسی کرتے ہو اور کھاتے وقت بڑے بڑے لقمے نگلتے ہو ؟ حضرت ابو درداء نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا اور کوئی جواب نہ دیا اور جا کر حضرت عمر کو اطلاع دے دی۔ حضرت عمر اس شخص کے پاس گئے اور اس کا کپڑا پکڑ کر گلے میں ڈال کر کھینچتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے۔ وہ شخص کہنے لگا : اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ اس پر اللہ نے اپنے نبی کے پاس وحی بھیجی اور فرمایا : وَلَءِنْ سَألْتَھُمْ لَیَقُوْلُنَ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ ۔] حضرت ابن عمر نے فرمایا : میں نے اس (منافق) شخص کو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے کجاوہ سے لٹکا ہوا تھا ‘ پتھریاں اس کو زخمی کر رہی تھیں اور وہ کہہ رہا تھا : اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ اور حضور ﷺ فرما رہے تھے : اَبِاللّٰہِ وَاٰیٰاتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَھْزِءُوْنَ ۔ بیہقی نے دوسری سند سے حضرت ابن عمر کی یہ روایت نقل کی ہے ‘ اس روایت میں اس شخص کا نام عبد اللہ بن ابی بتایا گیا ہے۔ بغوی نے بھی حضرت عمر کی روایت سے اسی طرح ذکر کیا ہے۔ ابن جریر نے قتادہ کا بیان نقل کیا ہے کہ کچھ منافقوں نے غزوۂ تبوک میں کہا : یہ شخص امید لگائے ہوئے ہے کہ شام کے محلات اور قلعے فتح کرلے گا ‘ ایسا ہونا بہت بعید ہے۔ اللہ نے اس قول کی اطلاع اپنے نبی کو دے دی۔ حضور ﷺ ان منافقوں کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا : تم نے ایسا ایسا کہا تھا ؟ وہ کہنے لگے : اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ ۔ اس پر اس آیت کا نزول ہوا۔ بغوی نے اس آیت کا سبب نزول کلبی ‘ مقاتل اور قتادہ کے قول کے بموجب اس طرح لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ غزوۂ تبوک میں (شام کی طرف) جا رہے تھے اور آپ سے آگے آگے تین منافق چل رہے تھے جن میں سے دو قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کا مذاق اڑا رہے تھے اور تیسرا ہنس رہا تھا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ وہ کہہ رہے تھے کہ محمد ﷺ خیال کر رہے ہیں کہ وہ رومیوں پر غالب آجائیں گے اور ان کے شہروں کو فتح کرلیں گے ‘ ایسا ہونا بہت بعید ہے۔ دوسری روایت میں آیا ہے : وہ کہہ رہے تھے کہ مدینہ میں جو ہمارے ساتھی رہتے ہیں ‘ ان کے متعلق قرآن (ا اللہ کی طرف سے) نازل ہوا ہے ‘ حالانکہ وہ تو محمد ﷺ ہی کا قول اور انہی کا کلام ہے۔ اس بات کی اطلاع اللہ نے اپنے نبی کو دے دی۔ آپ نے حکم دیا کہ ان شتر سواروں کو روک کر میرے پاس لاؤ۔ جب وہ آگئے تو فرمایا : تم نے ایسا ایسا کہا تھا ؟ کہنے لگے : اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ یعنی جس طرح قافلہ والے راستہ طے کرنے کیلئے باتیں کرتے اور تفریحی کلام کرتے جاتے ہیں ‘ ہم بھی اسی طرح باتیں کر رہے تھے۔ یہ واقعہ مدینہ سے تبوک کو جاتے میں ہوا تھا۔ محمد بن اسحاق اور محمد بن عمر کا بیان ہے کہ کچھ منافقوں کی ایک جماعت رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب تبوک کو جا رہی تھی۔ یہ لوگ صرف مال غنیمت کی طمع میں نکلے تھے۔ ان میں بنی عمرو بن عوف کا ودیعہ بن ثابت اور حلاس بن صامت اور بنی اشجع کا مخشی بن حمیر بھی تھے۔ محمد بن عمر نے ثعلبہ بن حاطب کا نام بھی ذکر کیا ہے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : کل اسی جگہ پر یہ لوگ رسیوں میں بندھے ہوئے ہوں گے۔ اس کہنے کا مقصد تھا رسول اللہ ﷺ کے متعلق سنسنی پیدا کردینا اور مسلمانوں کے دلوں میں خوف و ہراس ڈال دینا۔ حلاس بن عمر نے عمیر کی ماں سے نکاح کرلیا تھا ‘ عمیر اس کے زیر پرورش تھے۔ اس نے کہا : اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو پھر خدا کی قسم ! ہم گدھوں سے بھی بدتر ہیں۔ اگر اس بات کی وجہ سے واپسی کے بعد ہم میں سے ہر ایک کے سو کوڑے مارے ہیں تو خدا کی قسم ! یہ ضرب مجھے پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ ہمارے اندر قرآن نازل ہو (یعنی قرآن کا نزول مجھے اتنا ناگوار ہے کہ سو کوڑے کھانا آسان ہے مگر قرآن کا نزول پسند نہیں) رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمار بن یاسر سے فرمایا : یہ لوگ جل گئے۔ جلد ان کے پاس پہنچو اور جو کچھ انہوں نے کہا ہے ‘ اس کو دریافت کرو۔ اگر انکار کریں تو ان سے کہنا : تم نے ضرور ایسی ایسی باتیں کہی ہیں (یعنی تفصیل بتادینا) حضرت عمار ان کے پاس گئے اور ان سے ان کی باتیں بیان کیں (جب ان کو معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ کو ہماری باتوں کی خبر ہوگئی ہے تو) وہ عذر کرنے کیلئے حاضر خدمت ہوئے۔ ودیعہ بن ثابت نے آکر رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے کجاوہ کا پچھلا حصہ پکڑ لیا ‘ حضور ﷺ اونٹنی پر سوار تھے (وہ کجاوہ پکڑے لٹکا ہوا تھا اور) اس کی دونوں ٹانگوں پر کنکریاں لگ رہی تھیں ‘ اسی حالت میں کہہ رہا تھا : یا رسول اللہ ! اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ ۔ انہی لوگوں کے بارے میں اللہ نے نازل فرمایا : وَلَءِنْ سَأَلْتَھُمْ لَیَقُوْلُنَ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللّٰہِ وَاٰیٰاتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ اِنْ کُنْتُمْ تَسْتَھْزِءُوْنَ ۔
Ayah 9:66

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دیں گے کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں

لا تعتذروا تم (اب یہ بیہودہ) عذر نہ کرو ‘ یعنی جھوٹی معذرت کوشیاں نہ کرو ‘ تمہاری تمام معذرت کوشیوں کا جھوٹ ظاہر ہوچکا۔ قد کفرتم بعد ایمانکم تم اپنے کو مؤمن کہنے کے بعد کفر کرنے لگے۔ یعنی (دلوں میں کفر چھپا رکھنے کے باوجود کم از کم زبانوں سے تو) تم پہلے ایمان کا اظہار کرتے تھے ‘ اب رسول اللہ ﷺ پر طعن تشنیع کرنے کی وجہ سے تم علی الاعلان کافر ہوگئے اور تمہارا کفر ظاہر ہوگیا۔ ان نعف عن طآئفۃ منکم نعذب طآئفۃ بانھم کانوا مجرمین۔ اگر ہم تم میں سے بعض کو چھوڑ بھی دیں تاہم بعض کو تو ضرور سزا دیں گے ‘ اس وجہ سے کہ وہ (علم ازلی میں) مجرم تھے۔ یعنی اگر توبہ کرنے اور خلوص نیت رکھنے کی وجہ سے ہم تم میں سے بعض لوگوں کا قصور معاف کر بھی دیں گے تب بھی دوسرے منافقوں کو (جنہوں نے سچے دل سے) توبہ نہ کی ہوگی ‘ عذاب دیں گے کیونکہ نفاق پر جمے رہنے ‘ رسول کو ایذاء دینے اور قرآن و رسول سے استہزاء کرنے کے وہ مجرم ہیں (اور یہ جرائم ایسے نہیں کہ بغیر خالص توبہ کے معاف کئے جاسکیں) ۔ محمد بن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ صرف ایک شخص مخشی بن حمیر اشجعی کا جرم معاف کیا گیا (ابن اسحاق کی مراد شاید یہ ہے کہ عن طائفۃ سے مراد صرف ایک شخص ہے ‘ یا یہ مراد ہے کہ روایتہ صرف ایک شخص کا قصور معاف ہونا ثابت ہے ‘ باقی لوگوں کا علم نہیں) مخشی منافقوں کے ساتھ ہنستا تو تھا مگر زبان سے اس نے کچھ نہیں کہا تھا اور سب سے الگ الگ راستہ میں چل رہا تھا ‘ بلکہ منافقوں کی بعض باتوں کو پسند بھی نہ کرتا تھا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس نے نفاق سے توبہ کی اور دعا کی : اے اللہ ! میں ایسی آیت سن رہا ہو جس سے میری آنکھوں کو ٹھنڈک مل رہی ہے۔ اس کے سننے سے تو رونگٹے کھڑ ہوجاتے ہیں اور دل لرز جاتے ہیں۔ اے اللہ ! میری موت اپنی راہ میں قتل کی شکل میں مقدر کر دے (اور یہ بھی) کوئی نہ کہے کہ میں نے غسل دیا ‘ میں نے دفن کیا (یعنی مجھے کوئی غسل بھی نہ دے نہ دفن کرے) چناچہ جنگ یمامہ میں یہ شہید ہوگئے اور سوائے ان کے کسی مسلمان کو معلوم بھی نہ ہوا کہ وہ کہاں شہید ہوئے (اور جنازہ کہاں گیا) مخشی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا تھا : یا رسول اللہ ﷺ ! میرا نام اور ولدیت بدل دیجئے (گویا کفر کے زمانہ کے نام سے بھی ان کو نفرت ہوگئی تھی) حضور ﷺ نے ان کا نام عبدالرحمن یا عبد اللہ رکھ دیا۔
Ayah 9:67

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ہم جنس (یعنی ایک طرح کے) ہیں کہ برے کام کرنے کو کہتے اور نیک کاموں سے منع کرتے اور (خرچ کرنے سے) ہاتھ بند کئے رہتے ہیں۔ انہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے ان کو بھلا دیا۔ بےشک منافق نافرمان ہیں

المنفقون والمنفقت بعضھم من بعض منافق مرد اور منافق عورتیں ‘ سب ایک طرح کے ہیں۔ یعنی شرک ‘ نفاق اور ایمان سے دور ہونے میں ہم جنس ہیں۔ منافقوں نے قسم کھا کر مسلمانوں سے کہا تھا کہ ہم تم میں سے ہیں۔ ان کی قسم کی تکذیب اور آیت وَمَا ھُمْ مِّنْکُمْ کی تائید اس آیت سے کردی گئی اور آئندہ آیت میں تفصیل کے ساتھ ان کی حالت کو بیان کردیا گیا۔ گویا یہ بتایا کہ ان کے احوال آپس میں ایک جیسے اور مسلمانوں کے احوال کے بالکل برعکس ہیں ‘ اسلئے یہ آپس میں ہم جنس ہیں اور مسلمانوں میں سے نہیں ہیں۔ یامرون بالمنکر برے کاموں کا حکم دیتے ہیں۔ یعنی شرک اور اللہ کی نافرمانی کا حکم دیتے ہیں۔ وینھون عن المعروف اور اچھے کاموں سے روکتے ہیں۔ یعنی ایمان اور اللہ کی فرمانبرداری سے روکتے ہیں اور کہتے ہیں : گرمی میں جہاد کو نہ نکلو۔ ویقبضون ایدیھم اور (ا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے) اپنے ہاتھوں کو سمیٹ لیتے ہیں۔ ہاتھوں کو سمیٹنے سے مراد ہے : کنجوسی کرنا۔ نسوا اللہ وہ اللہ کو بھول گئے۔ گویا وہ جانتے ہی نہیں کہ ان کا کوئی خالق بھی ہے جو ان کے اعمال کی بازپرس کرے گا۔ اپنے خالق کے ذکر سے بالکل غافل ہوگئے اور اس کی طاعت کو قطعاً ترک کردیا۔ ففنسیھم اسلئے اللہ نے بھی ان کو فراموش کردیا۔ یعنی دنیا میں توفیق ایمان اور ہدایت اسلام سے محروم کردیا اور آخرت میں اپنی رحمت سے بےبہرہ بنا کر عذاب میں ڈال دے گا اور پھر خبر بھی نہ لے گا (گویا اس فقرہ میں نسیان سے مراد ہے : دنیوی اور اخروی رحمت سے محروم کردینا ‘ دنیا میں توفیق ایمان سے بےبہرہ چھوڑ دینا اور آخرت میں دوزخ میں ڈال کر چھوڑ دینا۔ ان المنفقین ھم الفسقون۔ بلاشبہ منافق ہی فاسق ہیں۔ یعنی ایمان و اسلام کے دائرہ سے بالکل خارج ہیں (مراد یہ ہے کہ فسق کا لغوی معنی ہے خارج ہونا اور اس جگہ ایمان و اسلام کے دائرہ سے خارج ہونا مراد ہے) ۔
Ayah 9:68

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

الله نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے آتش جہنم کا وعدہ کیا ہے جس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ وہی ان کے لائق ہے۔ اور خدا نے ان پر لعنت کر دی ہے۔ اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب (تیار) ہے

وعد اللہ المنفقین والمنفقت والکفار نار جھنم خالدین فیھاھی حسبھم اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور (علانیہ) کفر کرنے والوں سے دوزخ کی آگ کا عہد کر رکھا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ جہنم کی آگ ان کیلئے کافی ہے۔ یعنی دوزخ میں ہمیشہ رہنا ان کیلئے مقدر کردیا گیا ہے اور ان کے کفر و نفاق کی سزا کیلئے دوزخ کافی ہے۔ دنیا میں عذاب دینے کی ضرورت (تکمیل سزا کیلئے) ضروری نہیں ہے۔ لفظ حَسْبَھُمْ بتارہا ہے کہ دوزخ کا عذاب بہت بڑا ہے ‘ اتنا بڑا کہ اس پر زیادتی نہیں ہوسکتی۔ ولعنھم اللہ اور اللہ نے ان پر پھٹکار کردی ہے۔ یعنی اپنی رحمت سے ان کو دور کردیا ہے اور ذلیل کردیا ہے۔ ولھم عذاب مقیم۔ اور ان کیلئے لازوال عذاب ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ آیت میں وعید عذاب سے مراد صرف عذاب آخرت کی وعید ہے ‘ یا عذاب آخرت کے ساتھ عذاب دنیوی کی بھی وعید مراد ہے۔ منافق نفاق کی تکلیف میں مبتلا تھے ‘ مسلمانوں کے ڈر سے بظاہر مسلمان ہوگئے تھے مگر ہمیشہ اس اندیشہ میں مبتلا تھے کہ اگر ان کا اندرونی راز کھل گیا تو سخت رسوائی ہوگی اور عذاب میں پکڑے جائیں گے۔
Ayah 9:69

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

(تم منافق لوگ) ان لوگوں کی طرح ہو، جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ وہ تم سے بہت زیادہ طاقتور اور مال و اولاد میں کہیں زیادہ تھے تو وہ اپنے حصے سے بہرہ یاب ہوچکے۔ سو جس طرح تم سے پہلے لوگ اپنے حصے سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اسی طرح تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا۔ اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے۔ اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں

کالذین من قبلکم ان لوگوں کی طرح جو ان سے پہلے گذر گئے۔ یعنی اے منافقو ! تم گزشتہ اقوام کے کافروں کی طرح ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم نے بھی وہی حرکتیں کیں جو تم سے پہلے کافروں نے کی تھیں۔ انہوں نے اللہ کے حکم سے سرتابی کی تھی ‘ اسلئے ان پر اللہ کی لعنت پڑی اور تم نے بھی انہی کی طرح سرکشی کی ‘ اسلئے اللہ نے تم پر لعنت کی۔ کانوا اشد منکم قوۃً و اکثر اموالاً واولادًا وہ شدت قوت اور کثرت مال و اولاد میں تم سے بھی زیادہ تھے۔ اقوام گزشتہ کے کافروں کو منافقوں کے ساتھ جن چیزوں میں مشابہت تھی ‘ ان کا اظہار اس آیت میں کیا ہے اور دونوں کے حالات کی وجہ مماثلت بیان کی گئی ہے۔ فاستمتعوا بخلاقھم فاستمتعتم بخلاقکم کما استمتع الذین من قبلکم بخلاقھم : سو انہوں نے اپنے (دنیوی) حصہ سے خوب فائدہ حاصل کیا اور تم نے بھی اپنے (دنیوی) حصہ سے خوب فائدہ حاصل کیا جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں نے اپنے حصہ سے فائدہ حاصل کیا تھا۔ فاستمتعتم سے خطاب منافقوں کو ہے۔ سابق کفار آخرت کی پسندیدہ ‘ لازوال نعمتوں کے حصول کی خواہش و کوشش سے روگرداں ہو کر دنیا کی حقیر ‘ ناپسندیدہ ‘ فنا پذیر لذتوں پر ریجھ گئے تھے۔ ان کی اس حالت کا بیان موجودہ منافقوں اور کافروں کے حال و عمل کی مذمت کی تمہید کے طور پر کیا گیا ہے ‘ کیونکہ یہ بھی انہی کے نقش قدم پر چل رہے تھے اور دونوں کا حال و مآل ایک جیسا تھا۔ وخضتم کالذی خاضوا اور تم بھی بری باتوں میں ویسے ہی گھسے جیسا وہ گھسے تھے۔ یعنی تم بھی باطل اور لہو و لعب میں ویسے ہی گھس گئے جیسے وہ گھسے تھے (الذیاسم موصول مفرد ہے اور خاضوا جمع کا صیغہ ہے اور دونوں میں مطابقت نہیں ہے ‘ اسلئے) الذی سے مراد یا تو خوض (مصدر ہے ‘ یعنی تمہارا باطل میں گھسنا ان کے گھسنے کی طرح) ہے ‘ یا الذی سے مراد فوج (گروہ) ہے (جو لفظ کے اعتبار سے اگرچہ مفرد ہے لیکن معنوی حیثیت سے جمع ہے اور اس کا صلہ جمع کا صیغہ ہوسکتا ہے) ۔ اولئک حبطت اعمالھم فی الدنیا والاخرۃ واولئک ھم الخسرون۔ اور ان لوگوں کے (اچھے) کام دنیا و آخرت میں اکارت گئے اور وہ لوگ بڑے نقصان میں ہیں۔ اعمال برباد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا اور آخرت میں اعمال کے ثواب کے مستحق نہیں قرار پائے۔ حاصل مراد یہ ہے کہ جس طرح ان کے اعمال اکارت گئے اور وہ خسران مآل ہوئے ‘ اسی طرح تمہارے اعمال بھی اکارت جائیں گے اور تم بھی دونوں جہاں میں خسران نصیب ہو گے۔ حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم بھی اپنے سے پہلوں کے پیچھے چلو گے بالشت بہ بالشت اور دست بدست (یعنی قدم بقدم ان کی پیروی کرو گے) یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے بھٹ میں گھسے ہوں تو تم بھی ان کے پیچھے گھسو گے (یعنی کامل پیروی کرو گے ‘ جو برے سے برے کام انہوں نے کئے ہیں ویسے ہی تم کرو گے) ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا (پہلے لوگوں سے مراد) یہودی و نصاریٰ ہیں ؟ فرمایا : اور کون۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : پس لوگ نہیں ہوں گے مگر وہی (یہودی و نصاریٰ ) رواہ البخاری۔ حاکم نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم اپنے سے اگلوں کی راہ پر بالشت بہ بالشت اور ہاتھ بہ ہاتھ ضرور چلو گے یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں گھسا تھا تو تم بھی گھسو گے ‘ اگر ان میں سے کسی نے اپنی بیوی سے سر راہ جماع کیا ہوگا (یعنی لوگوں کے سامنے بےحیائی کے ساتھ) تو تم بھی ایسا ہی کرو گے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : تم لوگ علامات و رفتار (زندگی) میں بنی اسرائیل کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت اختیار کرو گے ‘ تسمہ تسمہ ان کے اعمال کی پیروی کرو گے (یعنی قدم بقدم ان کے پیچھے چلو گے) مگر مجھے یہ معلوم نہیں کہ بچھڑے کی پوجا بھی کرو گے یا نہیں۔