Ayah 9:102واٰخرون اور (اعراب میں سے یا مدینہ والوں میں سے) کچھ اور لوگ ہیں (جو منافق نہیں ہیں بلکہ ان کی حالت یہ ہے)
اعترفوا بذنوبھم خلطوا عملاً صالحًا واخر سیءًا انہوں نے اپنے قصور کا اقرار کرلیا ہے۔ یعنی غزوۂ تبوک میں شریک نہ ہونے اور نہ جانے کا کوئی جھوٹا عذر نہیں پیش کیا بلکہ اپنے قصور کا اعتراف کرلیا۔ انہوں نے نیک عمل کو برے عمل کے ساتھ مخلوط کردیا۔ نیک عمل سے مراد ہے : ایمان ‘ نماز اور رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب رہ کر متعدد مرتبہ جہاد میں شرکت اور تبوک سے غیرحاضری پر ندامت اور اظہار قصور۔ برے عمل سے مراد ہے : تبوک سے غیرحاضری اور اس معاملہ میں منافقوں کے ساتھ عملی موافقت۔ وَاٰخَرَ سَیِّءًا میں واؤ بمعنی بَ ہے ‘ برے عمل کے ساتھ۔
عسی اللہ ان یتوب علیھم امید ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول فرما لے گا۔ اِعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِھِمْکا لفظ اپنے اندر توبہ کا مفہوم رکھتا ہے ‘ اسلئے فرمایا کہ امید ہے اللہ ان کی توبہ قبول فرما لے گا۔
ان اللہ غفور رحیم۔ بلاشبہ اللہ غفور و رحم ہے۔ توبہ کرنے والے سے درگذر فرماتا اور اس پر مہربانی کرتا ہے۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس کی روایت سے ‘ نیز بیہقی نے اس آیت کے ذیل میں حضرت سعید بن مسیب کے حوالہ سے بیان کیا ہے ‘ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ لوگ دس تھے جو رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب ہو کر غزوۂ تبوک پر نہیں گئے تھے ‘ انہی میں سے ابو لبابہ بھی تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لے آئے تو ان میں سے سات آدمیوں نے مسجد کے ستونوں سے خود اپنے کو بندھوا دیا۔ مسجد سے واپسی کے وقت رسول اللہ ﷺ کی گذرگاہ اسی طرف تھی۔ جب حضور ﷺ نے ان کو دیکھا تو فرمایا : یہ خود بندھے ہوئے لوگ کون ہیں ؟ صحابہ نے عرض کیا : یہ ابو لبابہ اور ان کے ساتھی ہیں جو آپ کے ساتھ نہیں گئے تھے ‘ اسلئے انہوں نے اللہ سے عہد کر رکھا ہے کہ جب تک حضور ﷺ ان سے راضی نہ ہوجائیں گے اور اپنے دست خاص سے ان کو نہ کھولیں گے ‘ یہ خود کھلنے پر تیار نہ ہوں گے۔ انہوں نے اپنے قصور کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں بھی اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ ان کو خود نہیں کھولوں گا اور ان کا عذر نہیں قبول کروں گا تاوقتیکہ اللہ ہی ان کو نہ کھولے۔ یہ مجھ سے منحرف ہو کر مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد پر نہیں گئے۔ ان حضرات کو جب رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان پہنچا تو بولے : ہم بھی اپنے کو نہیں کھولیں گے تاوقتیکہ اللہ ہی نہ کھولے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (اس آیت میں لفظ عَسٰی آیا ہے جس کا معنی ہے امید۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے قطعی حکم ان کی توبہ قبول کرنے کا نہیں دیا تھا ‘ صرف امید کا اظہار فرمایا ہے ‘ لیکن) اللہ کی طرف سے امید کا اظہار چونکہ وجوب پر دلالت کرتا ہے ‘ اس لئے اس جگہ عَسٰی کا معنی وجوب کا ہے ‘ اسی بناء پر اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ نے توبہ قبول ہونے کی خبر ان لوگوں کے پاس بھیج دی اور ان کا عذر قبول فرما لیا اور ان کو رہا کرا دیا۔ حضرت سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ابولبابہ کو رہا کرنے کیلئے آدمی بھیجا تو انہوں نے سوائے رسول اللہ ﷺ کے ‘ کسی اور کے ہاتھ سے رہا ہونے سے انکار کردیا۔ آخر رسول اللہ ﷺ نے تشریف لے جا کر دست مبارک سے ان کو کھولا۔ پھر یہ حضرات اپنے اپنے مال لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! یہ ہمارے مال ہیں ‘ ان کو ہماری طرف سے بطور صدقہ قبول فرما لیجئے اور ہمارے لئے دعائے مغفرت فرما دیجئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے تمہارے مال لینے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ اس پر اللہ نے آیت ذیل نازل فرمائی :
Ayah 9:103خذ من اموالھم صدقۃً ان کے مالوں سے صدقہ لے لو۔ یعنی گناہوں کے کفارہ میں (جو مال وہ دے رہے ہیں) لے لو۔ بعض کے نزدیک صدقہ سے مراد زکوٰۃ ہے۔
تطھرھم (وہ صدقہ) ان کو گناہوں سے پاک کر دے گا ‘ یا تم ان کو مال صدقہ لے کر گناہوں سے پاک کر دو گے۔ پہلی صورت میں تطہر کی ضمیر مؤنث غائب صدقہ کی طرف راجع ہوگی۔ دوسری صورت میں خطاب کا صیغہ ہوگا اور رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہوگا۔
فتزکیھم بھا اور تم ان کو صدقہ لے کر پاکیزہ و صاف کر دو گے۔ یعنی ان کی نیکیاں بڑھا دو گے اور مخلص اہل ایمان کے درجات پر پہنچا دو گے۔
ابن جریر نے علی بن ابی طلحہ کے طریق سے حضرت ابن عباس کا قول یہی نقل کیا ہے اور حضرت سعید بن جبیر ‘ ضحاک اور زید بن اسلم کے اقوال سے بھی یہی مقدار نقل کی ہے۔ لیکن بغوی نے لکھا ہے کہ عطیہ کی روایت سے حضرت ابن عباس کے قول میں ستونوں سے خود بندھ جانے والے لوگوں کی تعداد صرف پانچ بیان کی گئی ہے جن میں ابولبابہ بھی تھے۔ اور حضرت سعید بن جبیر و زید بن اسلم کے اقوال میں آٹھ اور قتادہ و ضحاک کے اقوال میں سات بیان کی گئی ہے۔ ابن مردویہ اور ابن ابی حاتم نے بروایت عوفی ‘ حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ (ایک) جہاد پر تشریف لے گئے مگر ابولبابہ اور ان کے ساتھ پانچ دوسرے آدمی پیچھے رہ گئے (جہاد پر نہ جاسکے) پھر ابو لبابہ نے اور پانچ میں سے دو آدمیوں نے غور کیا ‘ پشیمان ہوئے اور ان لوگوں کو اپنی تباہی (یعنی دین کی بربادی) کا یقین ہوگیا۔ کہنے لگے : ہم تو (ٹھنڈے) سایہ میں عورتوں کے ساتھ چین کریں اور رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب (دوسرے) مسلمان جہاد میں شریک ہوں (یہ بڑا گناہ ہے) خدا کی قسم ! ہم ستونوں سے خود اپنے کو باندھ دیں گے اور اس وقت تک نہ کھولیں گے جب تک رسول اللہ ﷺ خود نہ کھولیں۔ چناچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ تین آدمی رہ گئے جنہوں نے اپنے آپ کو نہیں بندھوایا تھا (الحدیث) ۔
عبد نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت سات آدمیوں کے حق میں نازل ہوئی جن میں سے چار یعنی ابو البابہ ‘ مرداس ‘ اوس اور جذام نے اپنے آپ کو ستونوں سے باندھ دیا تھا۔
ابن مندہ نے الصحابہ میں اور ابو الشیخ نے بطریق ثوری از اعمش از ابو سفیان ‘ حضرت جابر کا بیان نقل کیا ہے کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی ہمرکابی سے رہ گئے تھے ‘ ان میں سے ابو البابہ ‘ اوس بن جذام ‘ ثعلبہ بن ودیعہ ‘ کعب بن مالک ‘ مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ تھے۔ ابو لبابہ اور ثعلبہ (وغیرہ) نے اپنے آپ کو ستونوں سے بندھوا دیا تھا اور (رہائی کے بعد) اپنے مال لا کر خدمت گرامی میں پیش کئے تھے اور عرض کیا تھا : یا رسول اللہ ﷺ ! اس کو لے لیجئے ‘ اسی نے ہم کو آپ کے ہمرکاب جانے سے روکا تھا۔ حضور ﷺ نے انہی حضرات کے متعلق فرمایا تھا : میں ان کو نہیں کھولوں گا جب تک اللہ ان کو نہ کھلوائے۔ انہی کے متعلق آیت وَاٰخَرُوْنَ اِعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِھِمْ الخ نازل ہوئی تھی۔ اس حدیث کی سند قوی ہے۔
بغوی نے لکھا ہے : تمام روایات حضرت ابو لبابہ کے نام پر متفق ہیں۔ بعض لوگوں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ آیت کا نزول صرف ابولبابہ کے حق میں ہوا۔
بغوی نے لکھا ہے : اس میں اختلاف ہے کہ ابو لبابہ کا جرم کونسا تھا جس کے سلسلہ میں یہ آیت اتری۔ مجاہد نے کہا : ابولبابہ نے بنی قریظہ سے کہا کہ اگر ان (یعنی حضرت معاذ) کے فیصلہ کی شرط پر راضی ہو کر تم اپنی گڑھی سے نیچے اترے تو (حلق پر انگلی پھیرتے ہوئے اشارہ کیا کہ یہ ہوجائے گا ‘ یعنی) ذبح کر دئیے جاؤ گے۔ ہم نے یہ قصہ سورة الانفال کی آیت یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَخُوْنُوا اللّٰہَ الخ کی تفسیر کے ذیل میں ذکر کردیا ہے۔ ابن اسحاق اور بیہقی کا بھی یہی خیال ہے کہ حضرت ابو لبابہ کا ستون سے خود بندھنا بنی قریظہ کے واقعہ ہی سے متعلق تھا۔
زہری کا قول ہے کہ آیت کے نزول کا تعلق تبوک کے واقعہ سے ہے۔ میں کہتا ہوں : شاید دونوں قصوروں کی وجہ سے ابولبابہ نے اپنے آپ کو ستون سے باندھا ہو۔ اس کی تائید حضرت ابن عباس اور حضرت سعید بن مسیب کے اقوال مندرجۂ بالا سے ہوتی ہے۔ ابن مردویہ نے واقدی کے سلسلہ والی سند سے حضرت ام سلمہ کا بیان نقل کیا ہے کہ ابولبابہ کی توبہ (قبول ہونے) کی آیت میرے گھر میں اتری تھی۔ سحر کے وقت میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہنستے سنا تو عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہنسی کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا : ابولبابہ کی توبہ قبول ہوگئی۔ میں نے عرض کیا : کیا میں ان کو اس کی اطلاع دے دوں ؟ فرمایا : تمہاری مرضی۔ میں نے حجرہ کے دروازہ پر کھڑے ہو کر آواز دی : ابو لبابہ ! تم کو بشارت ہو ‘ اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی۔ یہ پردہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آواز سنتے ہی لوگ ابولبابہ کو کھولنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ابولبابہ نے کہا : (ابھی نہیں) رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئیں ‘ وہ ہی مجھے کھولیں گے۔ صبح کو جب حضور ﷺ گھر سے برآمد ہوئے تو آپ نے جا کر کھولا اور آیت وَاٰخَرُوْنَ اِعْتَرَفُوْاالخ نازل ہوئی۔
حضرت ام سلمہ کی اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ جس قصور کی معافی نازل ہوئی تھی ‘ وہ وہی قصور تھا جو بنی قریظہ کے متعلق حضرت ابو لبابہ سے صادر ہوگیا تھا ‘ کیونکہ تبوک کا جہاد تو پردہ کی آیت نازل ہونے کے بعد ہوا تھا۔ لہٰذا اولیٰ یہ ہے کہ ستون سے بندش کا واقعہ دونوں قصوں کے نتیجہ میں قرار دیا جائے کیونکہ روایتیں دونوں صحیح ہیں۔
وصل علیھم اور ان کیلئے دعائے مغفرت کرو۔ بغوی نے لکھا ہے کہ صدقہ کا مال لیتے وقت کیا امام پر واجب ہے کہ دینے والے کیلئے دعا کرے ؟ بعض علماء نے نزدیک واجب ہے ‘ بعض کے نزدیک مستحب۔ بعض کے نزدیک واجب زکوٰۃ وصول کرتے وقت تو دعا دینی واجب ہے اور نفل صدقہ کے وصول کرتے وقت مستحب۔ بعض کا قول ہے کہ امام پر واجب ہے۔ مگر فقیر اگر مالدار سے لے تو دینے والے کو دعا دینی مستحب ہے۔
بخاری کا بیان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ نے فرمایا (حضرت ابو اوفیٰ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حدیبیہ کے موقع پر درخت کے نیچے رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر (تجدید) بیعت کی تھی) کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جب لوگ صدقہ کا مال پیش کرتے تھے تو حضور ﷺ (دعا دیتے اور) فرماتے : اے اللہ ! ان پر رحمت نازل فرما۔ چناچہ میرے باپ نے بھی جب اپنے صدقہ کا مال پیش کیا تو حضور ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! آل ابی اوفیٰ پر رحمت نازل فرما۔
صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ لغت میں صلوٰۃ کا معنی ہے : دعاء ‘ رحمت ‘ استغفار اور اللہ کی طرف سے رسول ﷺ کی تعریف۔ جب لفظ صلوٰۃ کی نسبت بندوں کی طرف کی جاتی ہے تو دعا اور استغفار ہوتا ہے۔ آیت میں یہی معنی مراد ہے۔ ایک حدیث آتی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی کھانے کیلئے بلائے تو دعوت قبول کرلینا چاہئے (اور جانا چاہئے) پھر اگر روزہ نہ ہو تو کھا لینا چاہئے اور روزہ دار ہو تو (میزبان کیلئے) صلوٰۃ یعنی دعا کرنا چاہئے۔ رواہ احمد و مسلم وابو داؤد والترمذی عن ابی ہریرۃ۔
حضرت جابر کی روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میرے شوہر کیلئے صلوٰۃ کر دیجئے ‘ یعنی دعائے مغفرت فرما دیجئے۔ حضور ﷺ نے دعا کردی۔ اخرجہ احمد۔ اس روایت کی تصحیح ابن حبان نے کی ہے : جب لفظ صلوٰۃ کی نسبت اللہ کی طرف کی جاتی ہے تو رحمت اور پسندیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔ حضرت ابو اوفیٰ کیلئے رسول اللہ ﷺ نے جو دعا کی تھی ‘ اس میں صلوٰۃ سے مراد رحمت ہی ہے۔ ابو داؤد اور نسائی نے حضرت قیس بن سعد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! اپنی صلوٰۃ اور رحمت سعد بن عبادہ کی آل پر کر دے۔ اس روایت کی سند عمدہ ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ملائکہ مؤمن کی روح سے کہتے ہیں : تجھ پر اور تیرے بدن پر اللہ کی رحمت ہو۔
احادیث مذکورہ کے الفاظ کی روشنی میں اور لغوی معنی کے پیش نظر یحییٰ بن یحییٰ نے کہا کہ انبیاء کے علاوہ دوسروں کیلئے بھی اگر لفظ صلوٰۃ استعمال کرلیا جائے یعنی لفظ صلوٰۃ سے ان کیلئے دعا کی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن محدثین اور فقہاء اسلام کی اصطلاح ہے کہ لفظ صلوٰۃ انبیاء کیلئے مخصوص ہے ‘ یا ہمارے نبی ﷺ کیلئے خاص ہے اور دوسروں کیلئے اس کا استعمال ذیلی طور پر کیا جاسکتا ہے۔ اسی اصطلاح کی بناء پر امام مالک نے فرمایا : میری رائے میں انبیاء کے سوا دوسروں کے واسطے لفظ صلوٰۃ کا استعمال مکروہ ہے۔ قاضی عیاض نے کہا کہ یہ قول امام مالک اور سفیان کا ہے اور یہی مسلک متکلمین اور فقہاء کا ہے۔ فقہاء اسلام نے کہا : انبیاء کے سوا دوسروں کیلئے رضاءٍ مغفرت اور رحمت وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے جائیں (صلوٰۃ کا لفظ استعمال نہ کیا جائے) انبیاء کے سوا دوسروں کیلئے لفظ صلوٰۃ کا استعمال (خلافت راشدہ اور بنی امیہ کے عہد میں) معروف نہ تھا ‘ بنی ہاشم یعنی خلفاء عباسیہ کے دور میں اس کی ایجاد ہوئی (لہٰذا یہ بدعت ہے) ۔
امام ابوحنیفہ اور ایک جماعت کے علماء کا قول ہے کہ انبیاء کے علاوہ دوسروں کیلئے لفظ صلوٰۃ کا استعمال مستقل طور پر (یعنی تنہا غیرانبیاء کیلئے) درست نہیں ‘ ذیلی طور پر (یعنی انبیاء کے بعد اگر دوسروں کا ذکر آیا ہو تو بالتبع) درست ہے ‘ کیونکہ اہل شریعت کی اصطلاح میں انبیاء خصوصاً رسول اللہ ﷺ کی عظمت کے اظہار کیلئے لفظ صلوٰۃ خاص کرلیا گیا ہے ‘ لہٰذا انبیاء کے علاوہ دوسروں کیلئے اس کا استعمال جائز نہیں۔ اللہ نے فرمایا : لاَ تَجْعَلُوْا دُعَآء الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا۔ اسی بناء پر حضرت ابن عباس نے فرمایا : کسی کی طرف سے سوائے رسول اللہ ﷺ کے ‘ کسی اور پر صلوٰۃ بھیجنا (یعنی لفظ صلوٰۃ سے دعا کرنا) مناسب نہیں۔ رواہ ابن ابی شیبۃ من طریق عثمان بن حکیم عن عکرمۃ وہذا سند صحیح۔
بیہقی نے کہا : حضرت ابن عباس کے اس کلام کا یہ مطلب ہے کہ تعظیم کے طور پر انبیاء کے علاوہ دوسروں کیلئے لفظ صلوٰۃ نہ ذکر کیا جائے ‘ اگر دعاء کے طور پر ہو تو کوئی حرج نہیں۔ ابن قیم نے کہا : پسندیدہ بات یہ ہے کہ انبیاء ‘ ملائکہ ‘ امہات المؤمنین ‘ آل رسول ‘ ذریات رسول اور تمام اہل طاعت کیلئے بالاجمال (بغیر کسی شخصی تعین اور نام کے) لفظ صلوٰۃ کا استعمال صحیح ہے اور انبیاء کے علاوہ کسی معین شخصیت کیلئے اس کا استعمال مکروہ ہے۔ کسی معین شخصیت کیلئے اگر استعمال کیا جائے گا تو یہ شعار بن جائے گا۔ خصوصاً ایسی صورت میں تو کراہت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب اس لفظ کا (خصوصی) استعمال ایسی شخصیتوں کیلئے کیا جائے جن کے ہم پایہ بلکہ ان سے برتر فضائل رکھنے والے دوسرے افراد ہوں اور ان افضل یا مساوی المرتبہ افراد کیلئے تو لفظ صلوٰۃ استعمال نہ کیا جائے اور دوسروں کیلئے کیا جائے ‘ جیسے رافضی کرتے ہیں۔ کذا قال الحافظ ابن حجر۔
ان صلوتک سکن لھم بیشک تمہاری دعا ان کیلئے رحمت ہے۔ حضرت ابن عباس نے سکَن کا ترجمہ رحمت کیا ہے۔ ابو عبیدہ نے سکون خاطر اور طمانیت قلب ترجمہ کیا ہے ‘ یعنی تمہاری دعا ان کیلئے سکون خاطر اور دل کے ٹھیراؤ کا ذریعہ ہے۔ ان کو اطمینان ہوجائے گا کہ اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی۔
میں کہتا ہوں : پاک باطن اور صاف قلب رکھنے والوں سے اگر کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو گناہ کی ظلمت ان کے دل پر چھا جاتی ہے اور اندر کچھ تاریکی محسوس ہونے لگتی ہے ‘ لیکن جب اللہ کے رسول ﷺ ان کیلئے دعائے مغفرت کردیتے ہیں اور اللہ ان کو معاف کردیتا ہے تو دل کی تاریکی اور گھٹن دور ہوجاتی ہے۔ یا دل کے اندر گناہ کی تاریکی اور گھٹن ایسی ہوتی ہے جیسے معدہ سے بخارات چڑھنے اور اطراف قلب میں جمع ہو کر دل پر دباؤ ڈالنے سے خفقان پیدا ہوجاتا ہے اور جب بخارات کا دباؤ معدہ کی اصلاح سے ختم ہوجاتا ہے تو خفقان جاتا رہتا ہے۔ یہی حالت گناہ سے پیدا ہونے والی تاریکی کی وجہ سے دل کی بےچینی کی ہوتی ہے اور مغفرت کی وجہ سے ان کا زوال ہو کر سکون و اطمینان پیدا ہوجاتا ہے۔ سچ فرمایا ہے کہ اللہ کی یاد سے دلوں کو سکون ہوجاتا ہے۔
وا اللہ سمیع اور اللہ سننے والا ہے ان کے اعتراف قصور اور ان کیلئے رسول اللہ ﷺ کی دعا و استغفار کو۔
علیم۔ خوب واقف ہے ان کی ندامت (اور توبہ) سے۔
بغوی نے (آیت ذیل کے سبب نزول کے متعلق) لکھا ہے کہ جب ان حضرات کی توبہ قبول ہوگئی تو وہ لوگ جو (سستی یا کسی اور وجہ سے) تبوک کو نہ گئے تھے اور انہوں نے (گناہ کا علی الاعلان اقرار کر کے) توبہ بھی نہیں کی تھی ‘ کہنے لگے : کل تک تو یہ لوگ ہمارے ساتھ تھے ‘ کوئی ان سے میل جول بھی نہیں رکھتا تھا نہ کوئی ان سے بات کرتا تھا۔ اب یہ نئی بات کیا ہوگئی ؟ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 9:104الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ یاخذ الصدقات کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور ان کے صدقات کو (قبول کے ہاتھوں سے) لے لیتا ہے۔ یعنی اس طرح قبول کرلیتا ہے جیسے کوئی کسی چیز کو معاوضہ ادا کرنے کیلئے لے لیتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جو بندہ پاک کمائی سے خیرات کرتا ہے ‘ اور اللہ صرف پاک (کمائی کی خیرات) کو ہی قبول فرماتا ہے اور آسمان کی طرف پاک (کلام ‘ عمل ‘ خیرات) کو ہی عروج نصیب ہوتا ہے تو وہ گویا اس خیرات کو اللہ کے ہاتھ میں رکھتا ہے ‘ اللہ اپنے ہاتھ میں اس کو (اس طرح) بڑھاتا ہے جس طرح تم اپنے بچے کو (اس کی پشت پر ہاتھ پھیر پھیر کر) پرورش کرتے ہو یہاں تک کہ ایک لقمہ قیامت کے دن بڑے پہاڑ کے برابر ہو کر سامنے آئے گا۔ یہ فرمانے کے بعد حضور ﷺ نے آیت اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَأخُذُ الصَّدَقٰتِ تلاوت فرمائی۔ رواہ الشافعی۔
صحیحین کی روایت بھی اسی روایت کی ہم معنی ہے ‘ اس میں اتنا اور ہے کہ جو شخص پاک کمائی سے ایک چھوارے برابر خیرات کرتا ہے اور اللہ پاک کو ہی قبول کرتا ہے تو اللہ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کو قبول فرما لیتا ہے الخ۔
وان اللہ ھو التواب الرحیم اور اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا ‘ رحم کرنے والا ہے۔ یعنی توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرنا اور ان پر مہربانی کرنا اس کی شان ہے۔
Ayah 9:105وقل اور آپ کہہ دیجئے۔ یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے ‘ یا سب لوگوں کو۔
اعملوا (جو چاہو) کرو۔
فسیری اللہ عملکم اللہ تمہارے (اچھے برے) عمل کو دیکھ لے گا ‘ اس سے کچھ پوشیدہ نہیں ہے۔
ورسولہ والمؤمنون اور اللہ کا رسول اور مسلمان بھی (دیکھ لیں گے) جو چیز تم چھپاؤ گے ‘ اللہ وحی کے ذریعے سے اپنے رسول پر اس کا اظہار کر دے گا اور پھر مسلمان بھی واقف ہوجائیں گے۔
مجاہد نے کہا : یہ دھمکی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ اپنے نبی کو اطلاع دے دے گا اور مؤمنوں کی واقفیت اس طرح ہوگی کہ اللہ ان کے دلوں میں اہل صلاح کی محبت پیدا کر دے گا اور جو لوگ مفسد ہوں گے ‘ ان کی نفرت اہل ایمان کے دلوں میں ڈال دے گا۔
وستر دون الی علم الغیب والشھادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون۔ اور ضرور تم کو ایسے کے پاس لے جایا جائے گا جو تمام کھلی اور چھپی چیزوں کا جاننے والا ہے ‘ سو وہ تم کو تمہارا سب کیا ہوا بتادے گا۔
Ayah 9:106واخرون مرجون لامر اللہ اما یعذبھم واما یتوب علیھم اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کے حکم آنے تک ملتوی ہے کہ ان کو سزا دے گا یا ان کی توبہ قبول کرے گا۔ یعنی مدینہ کے رہنے والے ان لوگوں میں سے جو تبوک کے جہاد پر نہیں گئے ‘ کچھ اور لوگ ہیں جن کا فیصلہ اللہ کے حکم آنے تک ڈھیل میں پڑا ہوا ہے۔ وہ چاہے تو عذاب دے ‘ اس کو صغیرہ گناہ پر بھی عذاب دینے کا اختیار ہے اور چاہے تو بغیر توبہ کے معاف کر دے ‘ وہ کبیرہ گناہوں کو بھی بغیر توبہ کے معاف کرسکتا ہے ‘ کوئی چیز اس پر لازم نہیں ہے ‘ لہٰذا بندوں کو امید بھی رکھنی چاہئے اور ڈرتے بھی رہنا چاہئے (ا اللہ کو تو کسی کو عذاب دینے یا بخش دینے میں کوئی تردد ہو نہیں سکتا ‘ اس کا علم تو یقینی ہے کہ کس کو معاف کرے گا اور کس کو سزا دے گا۔ شک تو بندوں کے علم میں ہوتا ہے اور عذاب و مغفرت میں تردد تو بندوں کو ہی ہونا چاہئے ‘ اسلئے آیت میں) لفظ اِمَّا کا استعمال بندوں کے لحاظ سے کیا گیا ہے (یعنی اِمَّاشک و تردد کے موقع پر آتا ہے اور بندوں کو مغفرت و عذاب میں تردد ہوسکتا ہے ‘ اسلئے انہی کے علم کی مناسبت سے لفظ اِمَّا ذکر کیا گیا) ۔
وا اللہ علیم حکیم۔ اور اللہ (ان کے احوال کو) خوب جاننے والا ہے اور (جو سلوک ان سے کرے گا اس کی) مصلحت سے بھی وہی واقف ہے۔ شیخین نے حضرت کعب بن مالک کی روایت سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰہِسے مراد کعب بن مالک ‘ ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع ہیں۔ یہ ان دس آدمیوں میں سے تھے جو تبوک میں شریک نہیں ہوئے تھے اور مسجد کے ستونوں سے بھی انہوں نے اپنے آپ کو بندھوایا نہ تھا (مگر اپنے جرم کا کھل کر اقرار کرلیا تھا ‘ کوئی بہانہ نہیں کیا تھا) رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دے دیا تھا کہ ان تینوں حضرات سے سلام کلام ترک کردیں۔ ان حضرات نے جب سلوک دیکھا تو خلوص نیت کے ساتھ تائب ہوگئے اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا۔ آخر اللہ نے ان پر رحم کیا (اور ان کا قصور بھی معاف کردیا گیا) ہم ان کا قصہ آگے لکھیں گے۔
محمد بن اسحاق نے حضرت ابو رہم کلثوم بن حصین غفاری کی روایت سے بیان کیا ہے۔ حضرت ابو رہم ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے حضور ﷺ کے دست مبارک پر (تجدید) بیعت کی تھی۔
ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ نیز ابن المنذر نے حضرت سعید بن جبیر کی روایت سے اور محمد بن عمر نے یزید بن رومان کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ عمرو بن عوف کے قبیلہ نے ایک مسجد تعمیر کی اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آدمی کو بھیجا کہ آپ ﷺ تشریف لا کر اس مسجد میں نماز پڑھیں۔ غنم بن عوف کے قبیلہ نے جب یہ بات دیکھی تو ان کو حسد ہوا اور انہوں نے کہا : ہم بھی ایک مسجد بنائیں گے جیسی انہوں نے بنائی ہے (بات یہ ہوئی تھی کہ) شام کو روانہ ہونے سے پہلے ابو عامر فاسق نے ان سے کہا تھا : تم لوگ ایک مسجد تعمیر کرو اور جتنے اسلحہ ممکن ہوں اس میں (پوشیدہ طور پر) جمع کرلو۔ میں قیصر روم کے پاس جا رہا ہوں ‘ وہاں سے رومیوں کا ایک لشکر لا کر محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو یہاں سے نکال باہر کر دوں گا۔ ابو عامر فاسق اللہ اور رسول ﷺ کے خلاف بغاوت کر کے رسول اللہ ﷺ سے لڑنے کے ارادہ سے مدینہ سے گیا تھا ‘ چناچہ یہ لوگ ابو عامر کے آنے (اور رومیوں کا لشکر ساتھ لانے) کے انتظار میں تھے۔ مسجد تیار ہوگئی تو انہوں نے چاہا کہ رسول اللہ ﷺ اس میں نماز پڑھیں تاکہ ان کا جو مقصد تھا یعنی فساد ‘ کفر اور اسلام سے عناد ‘ اس کو کامیاب ہونے کا موقع مل جائے۔ جب رسول اللہ ﷺ تبوک کو روانہ ہونے کی تیاری کر رہے تھے کہ ان کی طرف سے کچھ لوگوں نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم نے ایک مسجد بنائی ہے۔ مقصد تعمیر یہ ہے کہ جو بیمار یا حاجت مند مسجد گرامی میں حاضر نہیں ہوسکتے ‘ یا سخت سردی کی رات ہو ‘ یا بارش کی رات ہو اور لوگ وہاں سے یہاں حاضر نہ ہو سکیں تو وہ اس مسجد میں نماز پڑھ لیں۔ ہماری خواہش ہے کہ حضور ﷺ تشریف لا کر اس مسجد میں نماز پڑھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اب تو میں برسر سفر ہوں اور کام میں مشغول ہوں ‘ جب ہم انشاء اللہ واپس آئیں گے تو تمہاری مسجد میں نماز پڑھیں گے۔ چناچہ آپ جب تبوک سے واپس ہو کر مقام ذی اوان میں اترے تو مندرجۂ ذیل آیت نازل ہوئی۔ یہ مقام مدینہ سے ایک گھنٹہ کی راہ کے فاصلہ پر تھا۔
Ayah 9:107والذین اتخذوا مسجدًا اضرارًا اور بعض لوگ ایسے ہیں جنہوں نے (اسلام کو) ضرر پہنچانے کیلئے مسجد بنائی ہے۔ یعنی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کیلئے۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ بارہ آدمیوں نے اس مسجد کی تعمیر کی تھی : (1) قبیلۂ بنی عبید بن زید کا حذام بن خالد ‘ یہ بنی عمرو بن عوف کا ایک فرد تھا (2) قبیلۂ بنی امیہ بن زید کا ثعلبہ بن حاطب (3) بنی صبیعہ بن زید کا معتب بن قشیر (4) حبیبہ بن ازعر اور (5) نبتل بن حارث (6) نجاد بن عثمان اور (7) قبیلۂ بنی عمرو بن عوف کا عباد بن حنیف جو سہل بن حنیف کا بھائی تھا اور (8) حارثہ بن عامر اور اس کے دونوں بیٹے (9) مجمع بن حارثہ اور (10) زید بن حارثہ اور (11) ودیعہ بن ثابت اور ایک اور شخص جس کو (12) بخرج کہا جاتا تھا۔ ان سب نے اس مسجد کی تعمیر مسجد قبا کو ضرر پہنچانے کیلئے کی تھی۔
وکفرًا اور اللہ و رسول کا انکار کرنے کے سبب۔
وتفریقًا بین المؤمنین اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کیلئے۔ مسلمان مسجد قبا میں نماز پڑھتے تھے ‘ مجمع بن حارثہ نماز پڑھتا تھا۔ ان لوگوں نے دوسری مسجد اس غرض سے بنائی کہ (مسجد قبا میں نماز پڑھنے والے) کچھ لوگ اس مسجد میں نماز پڑھنے لگیں اور اس طرح (دین کے نام پر) مسلمانوں کے ٹکڑے ہوجائیں اور اختلاف پیدا ہوجائے۔
وارصادًا لمن حارب اللہ و رسولہ من قبل اور اس شخص کے قیام کا سامان کرنے کیلئے جو پہلے سے ہی اللہ اور اس کے رسول کا مخالف تھا۔
بغوی نے لکھا ہے : مَنْ حَارَبَ اللّٰہَ سے مراد ابو عامر راہب ہے جو حضرت حنظلہ غسیل الملائکہ کا باپ تھا اور قبیلۂ بنی عمرو بن عوف کا ایک فرد تھا۔ اسلام آنے سے پہلے یہ شخص کمبل پوش عیسائی راہب ہوگیا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو ابو عامر نے پوچھا : آپ یہ کیا مذہب لے کر آئے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ خالص دین توحید ہے جو ابراہیم کا دین تھا۔ ابو عامر نے کہا : دین حنیفیت پر تو میں ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم دین حنیفیت (دین ابراہیمی) پر نہیں ہو۔ ابوعامر نے کہا : کیوں نہیں (میں یقیناً دین ابراہیمی پر ہوں) آپ نے حنیفیت کے اندر دوسری چیزوں کو شامل کرلیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : میں نے ایسا نہیں کیا ‘ میں تو خالص ‘ نکھری ہوئی ‘ روشن شریعت لے کر آیا ہوں۔ ابو عامر نے کہا : تو ہم میں سے جو جھوٹا ہو ‘ خدا کرے وہ یکہ و تنہا ‘ خانہ بدر ‘ مسافرت کی حالت میں مرے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ ایسا ہی کرے۔ حضور ﷺ نے (بجائے راہب کے) اس کا نام ابو عامر فاسق رکھ دیا۔ احد کی لڑائی کے دن ابو عامر نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا : جو قوم بھی آپ سے لڑے گی ‘ میں اس کے ساتھ مل کر آپ سے لڑوں گا۔ چناچہ جنگ حنین تک وہ برابر رسول اللہ ﷺ کے خلاف دوسری قوموں سے مل کر لڑتا رہا۔ ہوازن کی شکست کے بعد شام بھاگ گیا اور منافقوں کو یہ پیام بھیجا گیا کہ تم لوگ تیار رہنا۔ ایک مسجد بنا کر جس قدر اسلحہ ہو سکیں ‘ اس میں جمع رکھنا۔ میں قیصر روم کے پاس جا رہا ہوں ‘ وہاں سے رومیوں کا ایک لشکر لا کر محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو نکال باہر کر دوں گا۔ ابو عامر کے مشورہ کے موافق ان لوگوں نے مسجد قبا کے برابر ایک مسجد بنا لی۔ مِنْ قَبْلُسے مراد یا تو یہ معنی ہیں کہ مسجد بنانے سے پہلے اس شخص نے اللہ اور رسول ﷺ کے خلاف بغاوت اور جنگ کی تھی ‘ یا یہ مطلب ہے کہ تبوک کے جہاد سے غیر حاضر ہونے سے پہلے ہی انہوں نے مسجد بنا لی تھی۔ اوّل مطلب پر مِنْ قَبْلُکا تعلق حارَبَ سے اور دوسری صورت میں اتّخذوا سے ہوگا۔
ولیحلفن ان اردنا الا الحسنٰی اور یہ لوگ قسمیں کھائیں گے کہ سوائے بھلائی کے ہماری اور کچھ نیت نہیں۔
الحسنٰی بھلائی یعنی سخت گرمی اور بارش میں مسلمانوں کا آرام اور جو ضعیف و کمزور رسول اللہ ﷺ کی مسجد تک نہ پہنچ سکتے ہوں ‘ ان کیلئے سہولت ہمارے پیش نظر تھی۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے عوفی کی سند سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مسجد قبا تعمیر کرائی تو کچھ انصار جن میں سے ایک شخص بخرج بھی تھا ‘ گئے اور انہوں نے مسجد نفاق بنائی۔ رسول اللہ ﷺ نے بخرج سے فرمایا : اس سے تیرا مقصد کیا ہے ؟ کہنے لگا : یا رسول اللہ ﷺ ! میرا مقصد تو صرف بھلائی ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
وا اللہ یشھد انھم لکذبون اور اللہ شاہد ہے کہ یہ لوگ اپنے قول و قسم میں جھوٹے ہیں۔
Ayah 9:108لا تقسم فیہ ابدًا آپ (نماز کیلئے) اس میں کبھی نہ کھڑے ہوں۔ حضرت ابن عباس نے تفسیری مطلب یہی فرمایا۔
ابن النجار نے کہا : منافقوں نے یہ مسجد قبا والی مسجد کے مقابلہ میں بنائی تھی۔ سب وہاں جمع ہوتے اور رسول اللہ ﷺ کی برائی کرتے اور آپ کا مذاق بناتے تھے۔ جب (تبوک سے واپسی میں) رسول اللہ ﷺ مقام ذی اوان میں تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن اسحاق نے بسلسلۂ زہری حضرت ابو رہم کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی سالم بن عوف کے مالک بن دخشم کو اور قبیلۂ عاصم بن عدی کے معن بن عدی کو طلب فرمایا۔ بغوی نے مالک بن دخشم کے ساتھ عامر بن اسکن اور حضرت حمزہ کے قاتل وحشی کا بھی ذکر کیا ہے ‘ عاصم کا ذکر نہیں کیا اور ذہبی نے التجرید میں سوید بن عباس انصاری کا نام بھی بیان کیا ہے اور فرمایا : حق ناشناس لوگوں کی بنائی ہوئی اس مسجد کو جا کر ڈھا دو اور جلادو۔ حسب الحکم یہ حضرات تیزی کے ساتھ چلے گئے اور سالم بن عوف کے محلہ میں پہنچ کر مالک نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا : آپ لوگ میرا انتظار کریں ‘ میں آتا ہوں۔ یہ کہہ کر اپنے گھر جا کر کھجور کی کچھ خشک ٹہنیاں لے کر ان میں آگ لگائی ‘ پھر سب حضرات دوڑ کر مغرب و عشاء کے درمیان مسجد میں پہنچے ‘ اس وقت مسجد والے مسجد میں موجود تھے۔ ان حضرات نے مسجد کو آگ لگا دی اور ڈھا کر زمین کے برابر کردیا۔ اہل مسجد ادھر ادھر منتشر ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا : اس جگہ کوڑا گھر بنا دیا جائے جہاں مرد اور جانور اور غلاظتیں ڈالی جائیں۔ ابو عامر فاسق ملک شام میں یکہ و تنہا ‘ خانہ برباد ‘ مسافت کی حالت میں مرگیا۔
محمد بن یوسف صالحی کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے عاصم بن عدی کو پیشکش کی کہ اس مسجد کے مقام پر وہ اپنا مکان بنا لیں۔ حضرت عاصم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اس مسجد کے بارے میں اللہ نے جو حکم نازل فرمایا ہے۔ اس کے بعد تو میں اس میں مکان نہیں بنا سکتا۔ البتہ ثابت بن اقرم کو یہ جگہ عنایت فرما دیجئے ‘ ان کے پاس کوئی مکان نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ثابت کو وہ جگہ عطا فرما دی لیکن اس مکان میں ثابت کا کوئی بچہ پیدا نہ ہوا۔ نہ کسی کبوتر نے وہاں بچہ نکالا نہ کسی مرغی نے انڈے سیئے (یعنی انڈوں پر بیٹھ کر بچہ نہیں نکالا) ۔
بغوی نے بیان کیا : روایت میں آیا ہے کہ بنی عمرو بن عوف جنہوں نے مسجد قبا بنائی تھی ‘ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست کی کہ مجمع بن حارثہ کو ان کی مسجد میں امام بنا دیں۔ حضرت عمر نے انکار کردیا اور فرمایا : (اس کی) آنکھ ٹھنڈی نہ ہو ‘ کیا یہ مسجد ضرار میں امام نہ تھا ؟ حضرت مجمع نے عرض کیا : امیر المؤمنین ! میرے خلاف فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کیجئے۔ میں نے مسجد ضرار میں نماز ضرور پڑھی تھی لیکن مجھے معلوم نہ تھا کہ ان لوگوں کی نیت کیا ہے۔ اگر مجھے ان کا مخفی ارادہ معلوم ہوتا تو میں وہاں نماز نہیں پڑھتا۔ میں لڑکا تھا مگر قرآن پڑھا ہو اور وہ لوگ بوڑھے تھے مگر ناخواندہ ‘ اسلئے میں نے نماز پڑھا دی۔ میں یہ ہی خیال کرتا تھا کہ تعمیر مسجد سے ان کی غرض حصول ثواب ہے ‘ ان کے دلوں کے خیالات کا مجھے علم نہ تھا۔ حضرت عمر نے حضرت مجمع کے اس عذر کو قبول فرما لیا اور ان کے بیان کی تصدیق کی اور ان کو مسجد قبا میں نماز پڑھانے کا حکم دے دیا۔
لمسجد اسس علی التقویٰ من اول یوم احق ان تقوم فیہ پہلے دن سے جس مسجد کی بنیاد تقوے پر رکھی گئی اس میں نماز پڑھنی بلاشبہ تمہارے لئے زیادہ مناسب ہے۔ پہلے دن سے مراد ہے تعمیر و تاسیس کا پہلا دن ‘ یا ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ کے مدینہ میں فروکش ہونے کا پہلا دن۔ کذا قال السہیلی۔ حضرت ابن عمر ‘ حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابوسعید خدری نے فرمایا : لَمَسْجِدٌسے مراد مسجد نبوی ہے ‘ یعنی مدینہ والی مسجد۔ امام احمد ‘ ابن ابی شیبہ ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابو یعلی ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابو الشیخ ‘ حاکم ‘ ابن مردویہ اور بیہقی نے (دلائل میں) ذکر کیا کہ حضرت ابو سعید خدری نے فرمایا : میں امہات المؤمنین میں سے کسی کے گھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کونسی مسجد ہے (جس کے متعلق فرمایا گیا ہے) کہ اس کی تاسیس تقوے پر کی گئی ہے ؟ حضور ﷺ نے ایک مٹھی کنکریاں لے کر زمین پر ماریں اور فرمایا : یہ ہی تمہاری مسجد مدینہ کی مسجد۔
طبرانی اور ضیاء مقدسی نے المختارہ میں حضرت زید بن ثابث کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس مسجد کے متعلق دریافت کیا گیا جس کی بناء تقوے پر رکھی گئی تھی ‘ فرمایا : وہ میری یہ ہی مسجد ہے۔
ابن ابی شیبہ اور ابن مردویہ کی روایت ہے کہ حضرت ابن عمر سے دریافت کیا گیا : جس مسجد کی تاسیس تقوے پر ہوئی ‘ وہ کونسی مسجد ہے : فرمایا : رسول اللہ ﷺ کی مسجد۔
مسجد نبوی کی فضیلت میں وہ حدیث آئی ہے جس کو شیخین نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے (یا یوں ترجمہ کیا جائے کہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوگا اور میرا منبر میرے حوض پر ہوگا۔ وا اللہ اعلم۔ بغوی کی روایت میں بجائے گھر کے قبر کا لفظ آیا ہے۔
شیخین اور احمد اور نسائی نے حضرت عبد اللہ بن زید مازنی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ایک باغ ہے جنت کے باغوں میں سے۔ ترمذی نے بھی حضرت علی کی روایت سے یہی بیان کیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں میں سوائے مسجد حرام (کعبہ) کے ‘ ہزار نمازوں سے بہتر ہے۔
بعض علماء کا خیال ہے کہ مسجد اُسِّس علی التقوٰی مسجد قبا ہے۔ عطیہ کی روایت میں حضرت ابن عباس کا یہی قول آیا ہے۔ حضرت عروہ بن زبیر ‘ حضرت سعید بن جبیر اور قتادہ کا بھی یہی قول ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مسجد قبا کی تاسیس کی تھی۔ ہجرت کر کے جب حضور ﷺ مدینہ کو آئے تو جتنے بھی دنوں یعنی پیر سے جمعہ تک قبا میں قیام فرمایا اور اس عرصہ میں یہاں نماز پڑھی۔ ابن جریر اور ابن المنذر اور ابن ابی حاتم اور بیہقی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے اور ابو الشیخ نے ضحاک کی روایت سے یہی بیان کیا ہے۔
بخاری نے عبد اللہ بن دینار کی وساطت سے حضرت ابن عمر کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر شنبہ کو پیدل یا سوار ہو کر مسجد قبا کو تشریف لے جاتے تھے۔ حضرت ابن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ نافع نے حضرت ابن عمر کا قول اتنا زائد نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ داؤدی ‘ سہیلی اور حافظ ابن حجر نے کہا : یہ (تفسیری) اختلاف نہیں ہے کیونکہ دونوں میں سے ہر مسجد کی تاسیس تقوے پر ہوئی تھی۔
میں کہتا ہوں : مراد یہ ہے کہ مورد نزول گو خاص ہو مگر اعتبار الفاظ کے عموم کا ہوتا ہے اور مسجدٌ نکرہ موصوفہ ہے ‘ اس کی صفت اُسِّس علی التقوٰی ہے اور یہ بھی صفت عام ہے لیکن آیت کی رفتار بتارہی ہے کہ آیت میں مسجد قبا مراد ہے اور اسی کے متعلق آیت کا نزول ہوا کیونکہ مسجد ضرار کی تعمیر مسجد قبا کو نقصان پہنچانے کیلئے ہی کی گئی تھی۔ پھر بعد والی آیت سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے ‘ فرمایا ہے :
فیہ رجال یحبون ان یتطھروا وا اللہ یحب المتطھرین اس میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں۔ اور اللہ خوب پاک ہونے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ خوب پاک ہونے سے مراد ہے ناپاکی ‘ جنابت ‘ نجاست (غلاظت) گناہ اور برے خصائل سے پاک ہونا۔ بغوی نے اپنی سند سے حضرت ابوہریرہ کا بیان نقل کیا ہے کہ آیت فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْااہل قبا کے حق میں نازل ہوئی۔ یہ لوگ پانی سے استنجا کرتے تھے تو ان کی بابت یہ آیت نازل ہوئی۔ ترمذی کی بھی یہی روایت ہے۔
ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ مہاجرین کو ساتھ لے کر پیدل روانہ ہوئے اور مسجد قبا کے دروازے پر پہنچ کر کھڑے ہوگئے۔ اندر انصار بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگ مؤمن ہو ؟ انصار خاموش رہے۔ حضور ﷺ نے پھر یہی فرمایا ‘ اس پر حضرت عمر نے عرض کیا : یہ یقیناً مؤمن ہیں اور میں بھی ان کے ساتھ ہوں۔ فرمایا : کیا تم قضاء (خداوندی) پر راضی ہو ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں۔ فرمایا : کیا تم مصیبت پر صبر کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں۔ فرمایا : کیا تم راحت پر شکر کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں۔ فرمایا : قسم ہے مالک کعبہ کی ! تم مؤمن ہو۔ پھر آپ (ان کے پاس) بیٹھ گئے اور فرمایا : اے گروہ انصار ! اللہ نے تمہاری تعریف فرمائی ہے۔ تم وضو اور رفع حاجت کے وقت کیا کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! رفع حاجت کے بعد ہم تین پتھروں کا استعمال کرتے ہیں اور پتھروں کے بعد پانی کا استعمال کرتے ہیں۔ اس پر حضور ﷺ نے آیت فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْا تلاوت فرمائی۔
ابن خزیمہ نے صحیح میں حضرت عویمر بن ساعدہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اہل قبا کے پاس مسجد قبا میں تشریف لے گئے اور فرمایا : تمہاری مسجد کے قصہ میں تمہاری پاکی کی اللہ نے بہت اچھی تعریف کی ہے۔ تم لوگ طہارت کیسے کرتے ہو (جس کی اللہ نے تعریف کی ہے) انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ کی قسم ‘ اور کچھ تو ہمیں معلوم نہیں ‘ صرف اتنی بات تھی کہ ہمارے پڑوس میں جو یہودی رہتے تھے ‘ وہ رفع حاجت کے بعد پانی سے استنجا کرتے تھے سو ہم نے بھی پانی سے استنجا کرنا شروع کردیا۔ دوسری روایت میں آیا کہ ہم پتھروں کے استعمال کے بعد پانی سے استنجا کرتے ہیں۔ فرمایا : وہ یہی ہے ‘ تم ایسا ضرور کیا کرو۔
عمر بن شیبہ نے اخبار المدینہ میں ولید بن ابی المنذر کی وساطت سے یحییٰ بن سہل انصاری کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت سہل انصاری نے فرمایا : یہ آیت اہل قبا کے حق میں نازل ہوئی جو رفع حاجت کے بعد پانی سے استنجا کرتے تھے۔
ابن جریر نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ اہل قبا میں سے کچھ لوگوں نے پانی سے طہارت کرنے کی ایجاد کی۔ ان ہی کے متعلق آیت فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْا نازل ہوئی۔
Ayah 9:109افمن اسس بنیانہ علی تقوی من اللہ ورضوان خیر ام من اسس بنیانہ علی شفاجرف ھارٍ فانھا ربہ فی نار جھنم پھر کیا ایسا شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت (مسجد) کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی خوشنودی پر رکھی یا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی گھاٹی (غار) کے کنارے پر جو کہ گرنے ہی کو ہو ‘ رکھی پھر وہ عمارت اپنے بنانے والے کو لے کر دوزخ کی آگ میں گر پڑی۔
اَفَمَنْ میں سوال تقریری ہے اور جواب چونکہ واضح تھا ‘ اسلئے اس کو ذکر نہیں کیا۔ بُنْیَانَہٗ سے مراد ہے اپنے دین کی بنیاد یا اپنی عمارت کی بنیاد۔ عَلی اتقوٰی یعنی اللہ کے خوف اور اللہ کی رضا جوئی کی مضبوط دیواروں اور بنیادوں پر۔ عَلٰی شفاجُرُفٍ یعنی کمزور ترین بنیادوں اور ضعیف ترین دیواروں پر۔ شفا۔ شفیر۔ جرف سب کا معنی ہے کنارہ ‘ یعنی کسی وادی اور نالہ کا وہ کنارہ جس کے اندر سیلاب کی وجہ سے خلا پیدا ہوگیا ہو اور کنارے کی نوک باہر کو نکل آئی ہو۔ ہَارٍپھٹا ہوا جو گرنے کے قریب ہو۔ ہَارٍکی اصل ھَوِرٌ اور بقول بغوی ہائرتھی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ لفظ ہار یَھَارٌ سے مشتق ہے۔ ہارَکا معنی ہے : گرگیا ‘ ڈھ گیا۔ اس جگہ ہارٍ سے مراد ہے : وہ کنارہ جو گر پڑنے کے قریب ہو۔
مطلب یہ ہے کہ جس نے مضبوط بنیادوں پر یعنی اللہ کے خوف اور رضا جوئی پر اپنی عمارت کی تاسیس کی ‘ وہ بہتر ہے یا وہ شخص بہتر ہے جس نے کمزور ترین بنیادوں پر یعنی باطل اور نفاق پر اپنی عمارت اٹھائی۔ تقویٰ کی ضد شرک و نفاق ہے ‘ اسلئے شفاجُرُفٍ سے بطور کنایہ شریک و نفاق مراد ہے۔ فَانْھَارَ بِہٖ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی ان کا نفاق ان کو جہنم میں لے گیا۔ بغوی نے کہا : مراد یہ ہے کہ اس مسجد کی بناء نقصان رسانی کیلئے ایسی ہے جیسے جہنم کے آخری کنارہ (کڑاڑہ) پر تعمیر کی گئی ہو کہ کنارہ ڈھ کر اوپر عمارت بنانے والوں کو جہنم میں لے گرے گا۔
محمد بن یوسف صالحی نے ابن عطیہ کا قول نقل کیا ہے ‘ مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے فرمایا : وہ مسجد جس کی بناء و تاسیس تقویٰ پر قرار دی گئی ہے ‘ اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے اور اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی تَقْوٰی مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٍ میں بینانِ سے مراد مسجد قبا ہے اور اَمْ مَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی شَفَاجُرُفٍ میں بنیانٍ سے مراد بالاجماع مسجد ضرار ہے۔
وا اللہ لا یھدی القوم الظالمین۔ اور اللہ ایسے ظالموں (کافروں) کو ہدایت نہیں فرماتا ‘ یعنی صلاح و نجات کا راستہ نہیں بتاتا۔
ابن المنذر نے حضرت سعید بن جبیر اور قتادہ اور جریج کا قول نقل کیا ہے ‘ نیز ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ کی روایت بیان کی ہے۔ ان تینوں حضرات کا بیان ہے : ہم سے ذکر کیا گیا کہ مسجد ضرار میں جب ایک جگہ کھو دی گئی تو لوگوں نے وہاں سے دھواں نکلتا دیکھا۔ بغوی نے حضرت جابر بن عبد اللہ کا بیان نقل کیا ہے ‘ آپ نے فرمایا : میں نے مسجد ضرار سے دھواں نکلتے دیکھا۔
Ayah 9:110لا یزال بینانھم الذی بنوا ریبۃ فی قلوبھم وہ عمارت جو انہوں نے بنائی ‘ ہمیشہ ان کے دلوں میں (کانٹا بن کر) کھٹکتی رہے گی۔ ریبۃً سے مراد ہے : شک و نفاق ‘ یعنی یہ عمارت ان کے دلوں میں شک و نفاق کے ترقی کرنے کا سبب بنی رہے گی اور وہ برابر یہی خیال کرتے رہیں گے کہ ہم نے یہ بھلائی کا کام کیا ‘ جیسے حضرت موسیٰ کی قوم کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچ گئی تھی (اسی طرح اس مسجد ضرار کی محبت ان منافقوں کے دلوں میں جم گئی ہے) حضرت ابن عباس نے یہی تفسیر فرمائی ہے۔ کلبی نے ریبۃً کا ترجمہ کیا : حسرت و پشیمانی ‘ کیونکہ ان لوگوں کو اس مسجد کی تعمیر پر پشیمانی ہوگئی تھی۔ سدی نے ریبۃً کا معنی کیا : غیظاً ‘ یعنی اس عمارت کو ڈھا دینا ہمیشہ ان کے دلوں کے اندر غصہ اور غضب کو بھڑکاتا رہے گا۔
الا ان تقطع قلوبھم ہاں ان کے دل پارہ پارہ ہوجائیں (تو شک و نفاق ان کے دلوں سے ختم ہوجائے گا) یعنی نفاق برابر ہر وقت ان کے دلوں میں جما رہے گا ‘ مگر اس وقت ختم ہوگا کہ ان کے دل ہی پھٹ جائیں اور ایسا وقت آجائے کہ ان کے دلوں میں جاننے کی صلاحیت ہی نہ رہے۔ بعض علماء نے کہا : دلوں کے پارہ پارہ ہونے سے مراد ہے : منافقوں کا قتل ہونا ‘ یا قبر میں چلا جانا ‘ یا دوزخ میں پہنچ جانا۔ ضحاک اور قتادہ نے کہا : مرتے دم تک یہ شک میں پڑے رہیں گے ‘ مرجائیں گے تو شک دور ہوگا اور حقیقت کا یقین ہوگا۔
وا اللہ علیم حکیم۔ اور اللہ (ان کی نیتوں کو) جاننے والا ہے (اور مسجد ضرار کو گرا دینے کا جو حکم اس نے دیا ‘ اس کی مصلحت سے واقف ہے) ۔
اہل سیر نے بیان کیا ہے کہ بعثت کے گیا رھویں سال حج کے زمانہ میں رسول اللہ ﷺ باہر نکلے ‘ یعنی مکہ سے برآمد ہوئے اور قبائل عرب پر اپنی نبوت پیش کی۔ ایک روز گھاٹی کے پاس تھے کہ قبیلۂ خزرج کی ایک جماعت سے ملاقات ہوگئی۔ حضور ﷺ نے پوچھا : آپ لوگ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : خزرج کے لوگ ہیں۔ فرمایا : کیا (کچھ دیر) بیٹھ سکتے ہو ‘ میں تم سے کچھ بات کروں گا۔ خزرجیوں نے جواب دیا : بیشک۔ چناچہ حضور ﷺ کے ساتھ سب بیٹھ گئے۔ آپ نے ان کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی ‘ اسلام پیش کیا اور قرآن پڑھ کر سنایا۔
ا اللہ کی قدرت کہ یہودی ان لوگوں کے ساتھ ان بستیوں میں رہتے تھے اور اہل کتاب تھے۔ اوس و خررج تعداد میں یہودیوں سے زائد تھے مگر سب بت پرست تھے۔ یہودیوں سے جب ان لوگوں کا کچھ جھگڑا ہوا تھا تو یہودی کہتے تھے : ایک نبی کی بعثت اب ہونے ہی والی ہے ‘ اس کی بعثت کا زمانہ قریب آپہنچا ہے۔ ہم اس کے ساتھ مل کر تم کو قتل کریں گے۔
جب رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں سے بات کی تو وہ آپ کے اوصاف کو پہچان گئے (کیونکہ یہودیوں کی زبانی آنے والے پیغمبر کے اوصاف کا ان کو علم پہلے ہی سے تھا) اور آپس میں کہنے لگے : دیکھو ! یہودی ان کے پاس تم سے پہلے نہ پہنچنے پائیں۔ چناچہ سب نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو قبول کرلیا اور قبیلۂ خزرج کے چھ آدمی مسلمان ہوگئے : اسعد بن زرارہ ‘ عوف بن حارث جن کی والدہ کا نام عفراء تھا ‘ رافع بن مالک ‘ قطبہ بن عامر بن جدیدہ ‘ عقبہ بن عامر بن نابی ‘ جابر بن عبد اللہ بن رباب۔ بعض روایات میں جابر کی جگہ عبادہ بن صامت کا نام آیا ہے۔ بعض نے سات آدمیوں کے مسلمان ہونے کی صراحت کی ہے ‘ گویا جابر اور عبادہ دونوں کو جمع کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم میری پشت پناہی کرو گے کہ میں اپنے رب کا پیام پہنچا سکوں۔ ان لوگوں نے عرض کیا : (یا رسول اللہ ﷺ ! ) پچھلے سال ہی جنگ بعاث ہمارے آپس میں ہوچکی ہے ‘ اس روز ہم نے آپس میں خوب کشت و خون کیا تھا۔ اگر ایسی حالت میں آپ ہمارے ہاں تشریف لائیں گے تو ہماری پوری جماعت آپ کے ساتھ نہ ہو سکے گی۔ اب تو آپ ہم کو اجازت دیجئے کہ ہم لوگ اپنے قبائل میں لوٹ کر چلے جائیں ‘ ممکن ہے کہ اللہ ہماری باہم صلح کرا دے اور ہم ان لوگوں کو اسی چیز کی دعوت دیں جس چیز کی طرف آپ نے ہم کو بلایا ہے۔ امید ہے کہ اس وقت اللہ سب کو آپ کی حمایت کرنے پر متفق کر دے گا اور اگر سب آپ کے پیرو ہوگئے تو پھر کوئی آپ کے خلاف نہ جائے گا۔ آئندہ سال حج کے زمانہ میں ہم آپ سے پھر ملیں گے۔ اس گفتگو کے بعد یہ حضرات مدینہ کو لوٹ گئے اور مدینہ کو واپس ہونے کے بعد انصاریوں کے ہر گھر میں رسول اللہ ﷺ کا تذکرہ پھیل گیا ‘ کوئی گھر ایسا نہ رہا جس میں آپ کا ذکر نہ ہوتا۔ پھر اگلے سال یعنی بعثت کے بارہویں برس بارہ یا گیارہ آدمیوں نے آکر گھاٹی میں رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی۔ یہ گھاٹی دوسری گھاٹی تھی۔ ان بارہ میں پانچ تو جابر کے علاوہ وہی تھے جن کا ذکر اوپر کردیا گیا ہے اور سات یہ تھے : عوف بن حارث کا بھائی معاذ بن حارث ‘ ذکوان ‘ عبادہ بن صامت ‘ یزید بن ثعلبہ ‘ عباس بن عبادہ بن فضلہ۔ یہ پانچوں خزرجی تھے اور دو شخص قبیلۂ اوس کے تھے : بنی الاشہل کا ابو الہثیم بن تیہان اور عویمر بن ساعدہ۔
سورۃ ممتحنہ میں) عورتوں کی بیعت کی جو تفصیل مذکور ہے ‘ اسی اقرار کے ساتھ ان سب نے بیعت کی یعنی یہ کہا کہ ہم شرک نہیں کریں گے ‘ چوری نہیں کریں گے الخ۔ جب سب مسلمان ہوگئے تو مدینہ کو لوٹ گئے۔ مدینہ پہنچ کر اسعد بن زرارہ ان تمام لوگوں کو مدینہ میں جمع کرنے لگے جو مسلمان ہوتے گئے۔ قبائل اوس و خزرج نے رسول اللہ ﷺ کو عرضداشت بھیجی کہ اب کوئی ایسا آدمی ہمارے پاس بھیج دیجئے جو ہم کو قرآن پڑھا دے۔ حضور ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیر کو بھیج دیا۔ اس وقت تک مدینہ میں چالیس مسلمان تھے ‘ حضرت مصعب کی کوشش سے بہت لوگ مسلمان ہوگئے۔ سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر بھی مسلمان ہوگئے اور ان دونوں بزرگوں کے مسلمان ہونے سے بنی عبدالاشہل کے تمام آدمی کیا مرد کیا عورتیں ‘ سب کے سب مسلمان ہوگئے۔ پھر بعثت کے تیرہویں سال تیسری گھاٹی کے موقع پر ایام تشریق میں مدینہ والے حاضر ہوئے اور ستر یا تہتر مردوں اور دو عورتوں نے بیعت کی۔ حاکم نے پچھتر آدمی ہونے کی صراحت کی ہے۔
ابن جریر نے بروایت محمد بن کعب قرظی ‘ نیز بغوی نے ذکر کیا ہے کہ عبد اللہ بن رواحہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ جو چاہیں اپنے رب کے اور اپنے لئے ہم سے شرطیں لے لیجئے (ہم سب کچھ ماننے کو تیار ہیں) حضور ﷺ نے فرمایا : میں اپنے رب کے متعلق تو یہ شرط پیش کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرنا ‘ کسی چیز کو اس کا شریک نہ قرار دینا (یعنی کسی چیز کی پوجا نہ کرنا) اور اپنے لئے یہ شرط پیش کرتا ہوں کہ جس چیز سے تم اپنی جانوں اور مالوں کی حفاظت کرو ‘ اس سے میری بھی حفاظت کرنا (یعنی اپنی جان و مال کی طرح میری حفاظت کرنا) انصار نے کہا : اگر ہم نے ایسا کرلیا تو ہم کو کیا ملے گا ؟ فرمایا : جنت۔ انصار نے کہا : یہ نفع کا سودا ہے ‘ اب ہم اس سودے کو نہ پھیریں گے نہ پھیرنے دیں گے (یا نہ پھیرنے کی خواہش کریں گے) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 9:111ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ بلاشبہ اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور مال (اس وعدہ پر) خرید لئے ہیں کہ ان کیلئے (اس کے عوض) جنت ہے۔ جان و مال خرچ کرنے کے عوض عطائے جنت کو اللہ نے خریدو فروخت قرار دیا۔ اہل سیر نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے جس نے رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ مارا ‘ وہ براء بن معرور یا ابوالہثیم یا اسعد تھے اور یہ شرط کی کہ جس (مصیبت) سے وہ اپنے اہل و عیال کی حفاظت کریں گے ‘ اس سے رسول اللہ ﷺ کی بھی حفاظت کریں گے اور ہر گورے کالے (یعنی تمام انسانوں) کے مقابل آپ کی حمایت کریں گے۔ سب سے پہلے قتال و جہاد کے بارے میں یہی آیت نازل ہوئی ‘ اس کے بعد اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ الخ۔
جب گھاٹی کی رات کو ان حضرات کی یہ بیعت ختم ہوگئی اور کفار قریش سے چھپا کر یہ بیعت ہوئی تھی تو اس کے بعد رسول اللہ نے اپنے ساتھیوں کو مکہ چھوڑ کر مدینہ کو چلے جانے کا حکم دے دیا اور خود مکہ میں ٹھہر کر (ا اللہ کی طرف سے) اجازت ملنے کا انتظار کرتے رہے۔
تیسری گھاٹی کی بیعت سے ایک سال پہلے حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد جو حبشہ سے آئے تھے اور مکہ والوں نے ان کو بڑی تکلیفیں دی تھیں ‘ جب ان کو انصار کے مسلمان ہوجانے کی اطلاع ملی تو مدینہ کو ہجرت کر گئے۔ آپ کا نمبر مدنی مہاجرین میں سب سے پہلا تھا ‘ پھر حضرت عامر بن ربیعہ اور ان کی بیوی لیلیٰ نے ہجرت کی ‘ پھر حضرت عبد اللہ بن حجش نے ‘ پھر پے در پے دوسرے مسلمانوں نے ‘ پھر حضرت عمر بن خطاب اور آپ کے بھائی زید نے اور بیس سواروں کے ساتھ عباس بن ربیعہ نے۔ ان سب نے (مدینہ میں پہنچ کر) حوالی مدینہ میں پڑاؤ کیا۔ پھر حضرت عثمان بن عفان نے ہجرت کی۔ حضرت ابوبکر صدیق نے بارہا حضور ﷺ سے ہجرت کی درخواست کی مگر حضور ﷺ فرماتے رہے : جلدی نہ کرو ‘ شاید اللہ کسی کو تمہارا ساتھی کر دے۔ خیال یہ تھا کہ شاید رسول اللہ ﷺ بھی ان کے ساتھ ہی ہجرت کریں۔ اس کے بعد چوپال میں قریش کا اجتماع ہوا (اور رسول اللہ ﷺ کو شہید کردینے کی انہوں نے خفیہ سازش کی) سورة الانفال میں قریش کی سازش کا اور رسول اللہ ﷺ کے ہجرت کرنے کا بیان آچکا ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے۔
یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون ویقتلون وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں۔ یہ کلام ابتدائی ہے ‘ اس میں خریدنے کی غرض کا اظہار کیا گیا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ یقاتلون (اگرچہ مضارع کا صیغہ ہے مگر) امر کے معنی میں ہے (یعنی لڑو ‘ مارو اور مارے جاؤ) ۔
وعدا علیہ حقًا اللہ نے (اس) خرید پر (جنت دینے کا) سچا پکا وعدہ کرلیا ہے۔ علیہ کی ضمیر شرائ کی طرف لوٹ رہی ہے اور وعدًا فعل محذوف کا مفعول مطلق (برائے تاکید) ہے۔ حقًّا ‘ وعدًاکی صفت ہے یا یہ بھی فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے۔
فی التورٰۃ والانجیل والقران توریت اور انجیل اور قرآن میں۔ توریت و انجیل میں وعدہ کرنے کی صراحت بتارہی ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو بھی جہاد پر مامور کیا گیا تھا اور اس کے بدلہ میں ان سے جنت کا وعدہ کیا گیا تھا۔
ومن اوفٰی بعھدہ من اللہ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا اور کون ہے ؟ (استفہام انکاری ہے)
یعنی کوئی نہیں ہے۔ وعدہ کی خلاف ورزی بری ہے اور اللہ سے اس کا صدور ناممکن ہے۔ وعدہ کی وفا کرم ہے اور اللہ سے بڑھ کر کوئی کریم نہیں۔ نفی کو بصورت استفہام ذکر کرنے میں پرزور طور پر وفائے عہد کا اظہار کیا ہے اور تاکیدی طرز کلام کے ساتھ وعدۂ الٰہی کے حق ہونے کی صراحت ہے۔
فاستبشروا ببیعکم الذی بالعتم بہ پس تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے اللہ سے معاملہ ٹھہرایا ہے ‘ خوشی مناؤ۔
پس تم خوب خوش ہوجاؤ ‘ خوشیاں مناؤ۔ یہ جہاد کرنے والے مؤمنوں کو خطاب ہے۔ پہلے ان کا ذکر غائبانہ تھا ‘ اب مخاطب بنایا گیا۔ بشارت کی وجہ یہ ہے کہ زوال پذیر ‘ حقیر چیز کو دے کر انہوں نے لازوال ‘ اعلیٰ نعمت کو لے لیا۔ اس سے بڑھ کر فائدہ کا سودا اور کیا ہوسکتا ہے۔
حضرت عمر نے فرمایا : اللہ نے تجھ سے خریدو فروخت کی اور دونوں سودوں کا فائدہ تیرے ہی لئے کردیا۔ قتادہ نے کہا : اللہ نے ان کو قیمت دی اور بہت زیادہ دی۔ حسن نے کہا : سنو فائدہ رساں تجارت کا پیام جس میں اللہ نے ہر مؤمن کے ساتھ خریدو فروخت کر کے اس کو فائدہ پہنچایا ہے۔ یہ بھی حسن بصری کا قول ہے کہ اللہ نے تجھے دنیا عطا کی ‘ تو کچھ دنیا دے کر جنت خرید لے۔
وذلک ھو الفوز العظیم۔ اور یہ (فروخت) ہی بڑی کامیابی ہے جس کا حصول انتہائی مقصد ہے۔