9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 9:84

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ان میں سے کوئی مر جائے تو کبھی اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر (جا کر) کھڑے ہونا۔ یہ خدا اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرتے رہے اور مرے بھی نافرمان (ہی مرے)

ولا تصل علی احد منھم مات ابدًا اور ان میں سے کوئی مرجائے تو اس کیلئے کبھی دعا نہ کرو۔ صلوٰۃ سے مراد اس جگہ میّت کیلئے دعا و استغفار ہے۔ نماز جنازہ میں بھی دعا و استغفار ہی ہوتی ہے ‘ اسلئے نماز جنازہ بھی اس میں داخل ہے۔ ابدًا (کبھی) یعنی کبھی ان کے مردہ کیلئے دعا نہ کرو۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان میں سے جو منافق دوامی موت مرگیا ہو یعنی کفر پر مرا ہو ‘ اس کیلئے دعا نہ کرو۔ کافروں کو دوبارہ زندہ کرنا عذاب دینے کیلئے ہوگا ‘ فائدہ اندوزی اور حصول ثواب کیلئے نہ ہوگا گویا وہ زندہ ہی نہ ہوگا ‘ اسی لئے کافر کے حق میں فرمایا ہے : لاَ یَمُوْتُ فِیْھَا وَلاَ یَحْییٰ ۔ ولا تقم علی قبرہ اور اس کی قبر پر (بھی) نہ کھڑے ہو۔ نہ دفن کرنے کیلئے ‘ نہ زیارت کیلئے۔ روایت میں آیا ہے کہ میّت کو دفن کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ قبر پر دعا کرنے کیلئے توقف فرماتے تھے ‘ اسی لئے قبر پر کھڑا ہونے کی ممانعت فرما دی۔ انھم کفروا باللہ ورسولہ وماتوا وھم فٰسقون۔ کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور کفر ہی کی حالت میں مرگئے۔ یہ کلام ممانعت صلوٰۃ کی علت ہے یا منافقوں کی دوامی موت کی تائید۔ بخاری نے بوساطت ابن عباس ‘ حضرت عمر بن خطاب کا بیان نقل کیا ہے کہ جب عبد اللہ بن ابی کا انتقال ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ کو اس کے جنازہ کی نماز پڑھنے کی دعوت دی گئی۔ حضرت عمرنے گنتی کر کے بتایا کہ ابن ابی نے فلاں دن یہ یہ باتیں کہی تھیں اور فلاں دن یہ یہ باتیں (یعنی منافق تھا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے (استغفار کرنے اور نہ کرنے کا) اختیار دیا گیا ہے ‘ لہٰذا میں نے (اس کیلئے استغفار کرنے کو) اختیار کرلیا اور اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ستر بار سے زائد میری دعا کرنے سے اس کی مغفرت ہوجائے گی تو میں ستر بار سے زائد دعائے مغفرت کرتا۔ غرض آپ نے عبد اللہ کے جنازہ کی نماز پڑھی ‘ پھر نماز سے واپسی کے بعد زیادہ توقف نہیں کیا تھا کہ سورت برأت کی دو آیتیں نازل ہوگئیں۔ بخاری نے حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ عبد اللہ کے جنازہ پر اس وقت پہنچے جب کہ اس کو قبر کے گڑھے میں داخل کیا جا چکا تھا۔ آپ نے جنازہ باہر نکلوایا اور اپنے زانو پر اس (کے سر) کو رکھ کر اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور اپنا کرتہ اس کو پہنایا۔ صحیحین میں حضرت ابن عمر کی روایت سے آیا ہے کہ عبد اللہ بن ابی کے بیٹے حضرت عبد اللہ نیک مخلص لوگوں میں سے تھے۔ انہوں نے اپنے باپ کے مرض موت میں رسول اللہ ﷺ سے باپ کیلئے دعائے مغفرت کرنے کی درخواست کی ‘ حضور ﷺ نے دعا کردی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حاکم نے صحیح سند سے اور دلائل میں بیہقی نے حضرت اسامہ بن زید کی روایت سے بیان کیا ہے کہ مرض موت کی حالت میں ابن ابی نے رسول اللہ ﷺ کو بلوا کر درخواست کی کہ آپ میرے لئے دعائے مغفرت کر دیجئے اور اپنے اس کپڑے کا مجھے کفن دلوا دیجئے جو آپ کے بدن سے لگا ہو اور میرے جنازہ کی نماز پڑھ دیجئے۔ چناچہ اس کے انتقال کے بعد کفن دینے کیلئے رسول اللہ ﷺ نے اپنا کرتہ عنایت فرما دیا اور نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ بخاری نے حضرت جابر کی روایت سے لکھا ہے کہ بدر کے دن (قیدیوں میں) جب حضرت عباس کو لایا گیا تو اس وقت آپ کے بدن پر کرتہ نہ تھا (اور کسی کا کرتہ آپ کے جسم پر آ بھی نہیں سکتا تھا) عبد اللہ بن ابی نے اپنا کرتہ حضرت عباس کو دے دیا ‘ وہ آپ کے بدن پر ٹھیک تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے وہی کرتہ آپ کو پہنا دیا ‘ پھر اس کے بدلہ میں وہ کرتہ ابن ابی کے مرنے کے بعد عنایت فرمایا تھا جس کا اس کو کفن دیا گیا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبد اللہ بن ابی سے (اس کے مرنے کے بعد) جو سلوک کیا (یعنی قمیص مبارک اس کو پہنائی اور اس کے جنازہ کی نماز پڑھی) اس کے متعلق صحابہ نے آپ سے کچھ کلام کیا (یعنی مؤدبانہ شکایت کی) حضور ﷺ نے فرمایا : میرا کرتہ اور میری نماز اللہ (کے عذاب) سے اس کو نہیں بچائے گی۔ خدا کی قسم ! میری خواہش تو یہ تھی کہ اس کی وجہ سے اس کی قوم کے ایک ہزار آدمی مسلمان ہوجائیں۔ راوی کا بیان ہے کہ ابن ابی کی قوم والوں نے جب دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی قمیص سے اس نے تبرک حاصل کیا تو ایک ہزار آدمی مسلمان ہوگئے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ نے کسی منافق کی نماز نہیں پڑھی اور وقت وفات تک کسی منافق کی قبر پر دعا کرنے نہیں کھڑے ہوئے۔
Ayah 9:85

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

ان کے اولاد اور مال سے تعجب نہ کرنا۔ ان چیزوں سے خدا یہ چاہتا ہے کہ ان کو دنیا میں عذاب کرے اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) یہ کافر ہی ہوں

ولا تعجبک اموالھم واولادھم انما یرید اللہ ان یعذبھم بھا فی الدنیا وتزھق انفسھم وھم کٰفرون۔ اور ان کے اموال و اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ کو صرف یہ منظور ہے کہ ان چیزوں کی وجہ سے دنیا میں بھی ان کو گرفتار عذاب رکھے اور ان کا دم حالت کفر ہی میں نکل جائے۔ یہ مکرر تاکید ہے (یعنی منافقوں کا وہی فریق مراد ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں کیا گیا۔ اسی کی مزید حالت اس آیت میں بیان کی گئی ہے جس سے پہلے مضمون کی تاکید ہو رہی ہے) اور مقام کا تقاضا بھی یہی تھی۔ انسان کی نظر مال و اولاد پر لگی رہتی ہے اور کسی کا دل اس کو چھوڑنے کو نہیں چاہتا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مذکورۂ بالا فریق کے علاوہ اس آیت سے کوئی دوسرا فریق مراد ہو۔
Ayah 9:86

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ خدا پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ ہو کر لڑائی کرو تو جو ان میں دولت مند ہیں وہ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو رہنے ہی دیجیئے کہ جو لوگ گھروں میں رہیں گے ہم بھی ان کے ساتھ رہیں

واذا انزلت سورة ان امنوا باللہ وجاھدوا وامع رسولہ استاذنک اولوا الطول منھم اور اور جب (قرآن کی) کوئی سورت یا سورت کا کوئی حصہ نازل کیا گیا (جس میں حکم دیا گیا) کہ اللہ پر ایمان لاؤ (یعنی اللہ کے رسول ﷺ کے حکم جہاد کی تعمیل کرو) اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر جہاد کرو تو دولت والے منافقوں نے (جن کو جہاد میں شریک نہ ہونے کا کوئی عذر نہیں تھا) آپ سے (اپنے گھروں میں) بیٹھے رہنے کی اجازت طلب کی۔ وقالوا ذرنانکن مع القاعدین۔ اور کہنے لگے : آپ ہم کو چھوڑ دیجئے کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ رہیں جو (عذر کی وجہ سے اپنے گھروں میں) بیٹھ رہے ہیں۔
Ayah 9:87

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

یہ اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں۔ (گھروں میں بیٹھ) رہیں ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے تو یہ سمجھتے ہی نہیں

رضوا بان یکونوا مع الخوالف انہوں نے پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہنے کو پسند کیا۔ الخوالف سے مرا ہیں عورتیں جو مردوں کے جانے کے بعد اپنے گھروں میں رہی تھیں۔ خوالف ‘ خالفۃٌ کی جمع ہے۔ بعض نے کہا : خالفہ بےکار ‘ بےنفع آدمیوں کو کہتے ہیں۔ محاورہ میں کہا جاتا ہے : ” فلانٌ خالفۃُ قومِہٖ “ فلاں شخص اپنی قوم میں نچلے درجہ کا (یعنی بیکار یا ناکارہ) ہے۔ مراد یہ ہے کہ انہوں نے ناکارہ لوگوں کے ساتھ رہنے کو پسند کیا۔ وطبع علی قلوبھم اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ یعنی اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے جس کی وجہ سے ان کو بھلائیوں کی خوبی اور برائیوں کی خرابی سمجھ میں نہیں آتی۔ فھم لا یفقھون۔ پس وہ نہیں سمجھتے کہ جہاد اور رسول اللہ ﷺ کی موافقت میں کیسی خوش نصیبی ہے اور مخالفت میں کیسی بدبختی۔
Ayah 9:88

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

لیکن پیغمبر اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے۔ انہیں لوگوں کے لیے بھلائیاں ہیں۔ اور یہی مراد پانے والے ہیں

لکن الرسول والذین امنوا معہ جاھدوا باموالھم وانفسھم لیکن رسول ﷺ اور رسول ﷺ کے ساتھی (مخلص) اہل ایمان نے اپنے مال و جان سے جہاد کیا۔ یعنی اگر ان منافقوں نے ساتھ نہیں دیا اور جہاد کو نہیں گئے تو دین اسلام کا کوئی نقصان نہیں ہوا ‘ ان سے بہتر اور افضل لوگوں نے جہاد کیا۔ واولئک لھم الخیرات اور یہی ہیں وہ جن کیلئے بھلائیاں ‘ یعنی دونوں جہان کے منافع ہیں۔ بعض کے نزدیک الخیرات سے مراد ہیں حوریں۔ اللہ نے (حوروں کے متعلق) فرمایا ہے : فِیْھِنَّ خَیْرَاتٌ حِسَانٌ۔ خیرات ‘ خیرۃ کی جمع ہے۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ خیر کے (مرادی حقیقی) معنی سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ اللہ نے فرمایا ہے : فَلاَ تَعْلَمُ نَفُسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ کوئی بھی نہیں جانتا کہ ان کیلئے کیسی آنکھوں کی خنکی چھپا کر رکھی گئی ہے۔ میں کہتا ہوں : حضرت ابن عباس کی مراد یہ ہے کہ لفظ خیر تمام منافع کو شامل ہے (اور چونکہ تمام نعمتوں سے کوئی بھی واقف نہیں ‘ اسلئے لفظ خیر کے حقیقی مرادی معنی کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا) ۔ واولئک ھم الفلحون : اور وہی ہیں کامیاب ہونے والے
Ayah 9:89

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

خدا نے ان کے لیے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہی گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے

اعد اللہ لھم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ذلک الفوز العظیم۔ اللہ نے ان کیلئے جنتیں تیار کردی ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہیں ‘ ان کے اندر وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔ آخرت میں جو بھلائیاں ان کو ملیں گی ‘ اس آیت میں ان کا (مجمل) اظہار ہے۔
Ayah 9:90

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور صحرا نشینوں میں سے بھی کچھ لوگ عذر کرتے ہوئے (تمہارے پاس) آئے کہ ان کو بھی اجازت دی جائے اور جنہوں نے خدا اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا وہ (گھر میں) بیٹھ رہے سو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے ہیں ان کو دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا

وجآء المعذرون من الاعراب لیؤذن لھم اور دیہاتیوں میں سے کچھ بہانہ باز لوگ آئے تاکہ ان کو گھر رہنے کی اجازت مل جائے۔ یعنی تنگ حالی اور کثرت عیال کا عذر پیش کرنے والے اعرابی آئے۔ المعذِّرون (باب افتعال سے ہے) اصل میں معتذرون تھا۔ فراء کا یہی قول ہے۔ یا المعذِّرونباب تفعیل سے ہے ‘ یعنی (صحیح) عذر پیش کرنے میں کوتاہی کرنے والے اور (جھوٹے) عذر پیش کر کے یقین دلانے والے کو ہم معذور ہیں ‘ حالانکہ وہ معذور نہیں ہیں۔ ان کو اذن دے دی جائے ‘ یعنی جہاد کو نہ جانے اور گھروں میں بیٹھ رہنے کی اجازت دے دی جائے۔ محمد بن عمر کا بیان ہے کہ کچھ منافق رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جہاد میں نہ چلنے کی اجازت لینے کیلئے حاضر ہوئے ‘ حالانکہ ان کو کوئی عذر نہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اجازت دے دی۔ ابن مردویہ نے حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے جد بن قیس کو جہاد کیلئے ساتھ نہ چلنے کی اجازت دے دی تو کچھ اور منافق طلب اذن کیلئے حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم کو بھی اجازت دے دیجئے ‘ ہم اس گرمی میں جہاد کو نہیں نکل سکتے۔ حضور ﷺ نے ان کو اجازت دے دی اور منہ پھیرلیا اور یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ نے ان کو معذور نہیں قرار دیا۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے : وہ قبیلۂ بنی غفار کی ایک جماعت تھی (جن کی تعداد دس سے کم تھی۔ نفر دس سے کم تعداد کی جماعت کو کہتے ہیں) محمد بن عمر نے کہا : وہ بیاسی آدمی تھے جن میں خفاف بن ایما بھی تھا۔ انہی کے متعلق آیت وَاِذَاُ نْزِلْتَ سُوْرَۃٌ .......... وَطَبَعَ اللّٰہ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ تک نازل ہوئی۔ ضحاک نے کہا : عذر پیش کرنے ولے عامر بن طفیل کی قوم والے تھے جو اپنے اوپر سے الزام کو دفع کرنے کیلئے حاضر خدمت ہوئے تھے اور انہوں نے عرض کیا تھا : یا رسول اللہ ﷺ ! اگر ہم آپ کے ساتھ جہاد کو جاتے تو قبائل طے کے جنگلی لوگ ہماری بیویوں ‘ بچوں اور جانوروں کو آکر لوٹ لیتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے تمہاری خبریں مجھے پہلے ہی بتادی ہیں ‘ آئندہ اللہ ہم کو تمہاری ضرورت سے بےنیاز کر دے گا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جو لوگ جہاد کو نہیں گئے تھے اور انہوں نے عذر پیش کیا تھا ‘ ان کو (جہاد پر نہ جانے کی) اجازت رسول اللہ ﷺ نے دے دی تھی۔ وقعد الذین کذبوا اللہ ورسولہ اور بیٹھ رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو (دل سے) جھٹلایا ‘ یعنی منافق لوگ۔ اس تفسیر پر مذکور الصدر اوّل فریق گناہگار نہ قرار پائے گا لیکن ظاہر یہی ہے کہ ان لوگوں سے مراد بھی وہی لوگ ہیں جن کا ذکر شروع میں آیا ہے۔ اللہ نے منافقوں کو جھوٹا قرار دیا ہے جنہوں نے جھوٹے عذر پیش کئے تھے۔ یا یوں کہا جائے کہ عذر والوں کا لفظ عام ہے ‘ اس میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جو محض سستی کی وجہ سے جہاد کو نہیں گئے (کافر نہ تھے) ابو عمرو بن علاء نے کہا : دونوں فریق گناہگار تھے ‘ وہ فریق بھی جنہوں نے جھوٹے عذر پیش کئے۔ وجاء المعذرون میں یہی فریق مراد ہے اور وہ فریق بھی جنہوں نے جہاد کو نہ جانے کا کوئی (جھوٹا) عذر بھی نہیں پیش کیا بلکہ اللہ کے حکم کے خلاف بیباکی کا اظہار کیا (اور حکم سے بغاوت کی) یہ منافقوں کا فریق تھا ‘ ان کو اللہ نے آیت ذیل میں عذاب کی دھمکی دی اور فرمایا : سیصیب الذین کفروا منھم عذاب الیم۔ اعراب میں سے یا مُعَذَّرین میں سے جنہوں نے کفر کیا ‘ ان کو دردناک عذاب ضرور پہنچے گا۔ (گویا) جو لوگ سستی کی وجہ سے جہاد کو نہیں گئے تھے ‘ ان کیلئے یہ وعید نہیں ہے بلکہ کفر کی وجہ سے جو شریک نہیں ہوئے ‘ ان کیلئے عذاب کی دھمکی ہے۔ ابن ابی حاتم نے بیان کیا کہ حضرت زید بن ثابت نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کا کاتب تھا اور سورة برأت لکھ رہا تھا اور قلم کو اپنے کان پر رکھے ہوئے تھا اور حضور ﷺ وحی کے منتظر تھے کہ آگے کیا اترتا ہے ‘ اتنے میں ایک نابینا آیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں اندھا ہوں ‘ میرے متعلق کیا حکم ہے ؟ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 9:91

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر نہ ان پر جن کے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد نہ ہوں یعنی) جب کہ خدا اور اس کے رسول کے خیراندیش (اور دل سے ان کے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

لیس علی الضعفآء ولا علی المرضٰی ولا علی الذین لا یجدون ما ینفقون حرج اذا نصحوا اللہ ورسولہ ما علی المحسنین من سبیل وا اللہ غفور رحیم۔ کم طاقت لوگوں اور بیماروں پر کوئی گناہ نہیں اور ان لوگوں پر جن کو خرچ کرنے کو میسر نہیں جبکہ یہ اللہ اور رسول کے ساتھ (اور احکام میں) خلوص رکھیں ‘ ان نیکوکاروں پر کسی قسم کا الزام عائد نہیں اور اللہ بڑی مغفرت اور بڑی رحمت والا ہے۔ حضرت ابن عباس نے ضعفاء کی تفسیر میں فرمایا : اپاہج ‘ بوڑھے ‘ بےطاقت ‘ مجبور لوگ۔ بعض کے نزدیک بچے اور بعض کے نزدیک عورتیں مراد ہیں۔ مَرْضٰی یعنی نابینا وغیرہ۔ حرج سے مراد ہے تنگی ‘ گناہ۔ یعنی اگر جہاد کو نہ جائیں تو ان کیلئے کوئی تنگی اور گناہ نہیں بشرطیکہ اللہ اور اس کے رسول کی خیرخواہی کریں ‘ یعنی ظاہر و باطن دونوں میں مؤمن و اطاعت گذار ہوں ‘ یا خیرخواہی کرنے سے مراد یہ ہے کہ زبان و عمل سے جتنا ہو سکے اسلام اور مسلمانوں کی خیرخواہی کریں۔ علیہمکی جگہ المحسنین کہنے سے اس طرح اشارہ ہے کہ ایسے لوگ بھلائی کرنے والوں کی فہرست میں شمار کرنے کے قابل ہیں ‘ قابل عتاب نہیں ہیں۔ وا اللہ غفورٌ رَّحیم یعنی اللہ ان کو معاف کرنے والا ہے ‘ یا یہ مراد ہے کہ اللہ بدکاروں کو معاف کرنے والا ‘ مہربان ہے۔ پھر یہ تو بھلائی کرنے والے ہیں ‘ ان کو ضرور ہی معاف کر دے گا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ قتادہ نے کہا : اس آیت کا نزول حضرت عابد بن عمرو اور ان کے ساتھیوں کے متعلق ہوا تھا۔ ضحاک نے کہا : حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم کے حق میں یہ آیت اتری تھی ‘ آپ نابینا تھے۔ بخاری اور ابن سعد نے حضرت انس کی روایت سے نیز ابن سعد نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوۂ تبوک سے لوٹے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا کہ مدینہ میں کچھ لوگ ایسے موجود ہیں کہ جب تم کسی راہ پر چلے اور جس وادی کو تم نے طے کیا ‘ وہ تمہارے ساتھ رہے (یعنی اس جہادی سفر میں ہر جگہ وہ تمہارے ساتھ تھے اگرچہ تم کو نظر نہ آتے تھے اور وہ مدینہ سے باہر نہیں نکلے تھے) صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! وہ تو مدینہ میں رہے۔ فرمایا : (ہاں) وہ مدینہ میں رہے ‘ ان کو عذر نے روک رکھا تھا۔
Ayah 9:92

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہ تھا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے

ولا علی الذین ازا ما اتوک لتحملھم قلت لا اجد ما احملکم علیہ تولوا واعینھم تفیض من الدمع حزنًا الا یجدوا ما ینفقون۔ اور نہ ان لوگوں پر (کوئی گناہ ہے) کہ جس وقت وہ آپ کے پاس اس غرض سے آتے ہیں کہ آپ ان کو کوئی سواری دے دیں اور آپ کہہ دیتے ہیں کہ میرے پاس تو کوئی چیز نہیں جس پر میں تم کو سوار کر دوں تو وہ (ناکام) اس حالت سے واپس چلے جاتے ہیں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے ہیں اس غم میں کہ (افسوس) ان کو خرچ کرنے کو کچھ بھی میسر نہیں۔ اس کلام کا عطف الضعفاء یا المحسنین پر ہے۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے استدعاء کی تھی کہ (جہاد کے سفر پر جانے کیلئے) ہم کو کوئی سواری عنایت فرما دیجئے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ (جن لوگوں کے پاس سواریاں نہ تھیں ‘ ان) لوگوں نے یہ خواہش کی تھی کہ ہم کو پیوند لگے موزے اور مرمت کی ہوئی جوتیاں عنایت کر دیجئے تاکہ ہم آپ کے ساتھ دوڑ سکیں۔ آنکھیں آنسوؤں سے بہہ رہی تھیں ‘ یعنی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس جملہ میں بلاغت سے اتنے آنسو بہہ رہے تھے کہ گویا آنکھیں بہتے ہوئے آنسو بن گئی تھیں۔ مَا یُنْفِقُوْنَ یعنی جہاد میں صرف کرنے کیلئے ان کے پاس کچھ نہیں ہے ‘ اس کا ان کو رنج تھا اور اس رنج کی وجہ سے وہ رو رہے تھے۔ ابن جریر اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے ‘ نیز ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی کی روایت سے اور ابن اسحاق و ابن المنذر و ابو الشیخ نے زہری ‘ یزید بن رومان ‘ عبد اللہ بن ابی بکر ‘ عاصم بن محمد بن عمر اور قتادہ کے حوالہ سے بیان کیا کہ صحابہ کی ایک جماعت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سواریاں طلب کرنے کیلئے حاضر ہوئی۔ یہ سب تنگ دست اور محتاج تھے اور رسول اللہ ﷺ کی ہمرکابی سے رہ جانا بھی نہ چاہتے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : میرے پاس سواریاں نہیں کہ سوار ہونے کیلئے تم کو دے سکوں۔ یہ لوگ روتے ہوئے اس رنج کے ساتھ واپس چلے گئے کہ ان کے پاس خرچ (کر کے سواریاں خریدنے) کیلئے کچھ نہیں ہے (اور رسول اللہ ﷺ کے پاس بھی کوئی زائد سواری نہیں ہے) ۔ محمد بن یوسف صالحی نے کہا کہ ان لوگوں کے ناموں کے بارے میں راویوں کا اختلاف ہے۔ بنی عمرو بن عوف کے سالم بن عمیر اوسی اور علیہ بن زید اور ابو لیلیٰ بن عبدالرحمن بن کعب اور ہر می بن عبد اللہ پر تو سب کا اتفاق ہے۔ عرباض بن ساریہ پر قرظی اور ابن اسحاق اور واقدی کا اتفاق ہے۔ ابن سعد ‘ ابن حزم اور ابو عمرو سہیلی نے بھی ان کا اتباع کیا ہے اور ابن حزم و سہیلی نے تو اس پر یقین کا اظہار بھی کیا ہے اور ابونعیم نے حضرت ابن عباس کی طرف اس قول کی نسبت کی ہے۔ قرظی اور ابن اسحاق کا عمرو بن حمام بن جموح پر بھی اتفاق ہے۔ قرظی اور ابن عقبہ اور ابن اسحاق نے عبد اللہ بن مغفل کا نام بھی بالاتفاق ذکر کیا ہے۔ ابن سعد اور یعقوب بن سفیان اور ابی ابن حاتم نے بیان کیا کہ حضرت عبد اللہ بن مغفل نے فرمایا : میں (اپنے کو) اس گروہ میں پاتا ہوں جن کا ذکر اللہ نے ولا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلُھُمْ الخ میں فرمایا ہے۔ ا بن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو جہاد کیلئے اٹھ کھڑے ہونے کا حکم دیا تو صحابہ کا ایک گروہ جس میں عبد اللہ بن مغفل مزنی بھی تھے ‘ حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم کو سواری دیجئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : خدا کی قسم ! میرے پاس تو کوئی (زائد) سواری نہیں کہ تم کو سوار ہونے کیلئے دے سکوں۔ یہ لوگ روتے ہوئے لوٹ گئے۔ ان پر جہاد سے رک جانا اور خرچ و سواری میسر نہ آنا بڑا شاق گذرا۔ اللہ نے ان کو معذور قرار دیا اور انہی کے متعلق فرمایا : وَلاَ عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلُھُمْ الخ۔ قرظی اور ابن عمر کا صخر کے بیٹے سلمہ پر بھی اتفاق ہے ‘ مگر قرظی نے سلمہ کی جگہ سلمان کا لفظ ذکر کیا ہے۔ قرظی اور ابن عقبہ نے عمرو بن عنمہ بن عدی اور عبد اللہ بن عمرو مزنی کے نام بھی ذکر کئے ہیں۔ ابن اسحاق نے عبد اللہ مزنی کو عبد اللہ بن مغفل کی بجائے بیان کیا ہے ‘ صرف قرظی نے عبدالرحمن بن زید حارثی اور حرمی بن عمرو مازنی کے نام ذکر کئے ہیں۔ محمد بن عمرو نے کہا : کہا جاتا ہے کہ عمرو بن عوف بھی انہی میں سے تھے۔ ابن سعد نے لکھا ہے : بعض روایات میں آیا ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ معقل بن یسار بھی ان میں شامل تھے۔ حاکم نے حرمی بن مبارک بن نجار کا نام بھی ان میں ذکر کیا ہے۔ ابن عابد نے مہدی بن عبدالرحمن کو اور محمد بن کعب نے سالم بن عمرو واقفی کو ان میں شامل کیا ہے۔ ابن سعد نے کہا : بعض لوگ کہتے ہیں کہ روتے ہوئے لوٹنے والے مقرن کے سات بیٹے تھے اور یہ سب مزنی تھے۔ انتہیٰ کلامہ ‘ یہ نعمان ‘ سوید ‘ مغفل ‘ عقیل اور سنان تھے (دو ناموں کا ذکر نہیں کیا) ۔ ابن اسحاق نے یونس اور ابن عمر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ علیہ بن زید کو جب خود کوئی سواری نہیں ملی اور نہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی (زائد) سواری ایسی تھی کہ علیہ کو سواری کیلئے مل جاتی تو وہ رات سے نکل کھڑے ہوتے۔ انہوں نے جتنی نماز چاہی پڑھی ‘ پھر رونے لگے اور دعا کی : اے اللہ ! تو نے جہاد کا حکم دیا اور ترغیب دی (اور میرے پاس جہاد میں جانے کیلئے سواری نہیں ہے ‘ اب) میں ہر مسلمان پر (اپنی ہر چیز) تصدق کر دوں گا اس حق کے عوض جو مسلمان پر عائد ہوتا ہو ‘ خواہ مجھے مال دینا پڑے یا جسم یا آبرو۔ جب صبح ہوئی اور لوگوں کے ساتھ عَلِیّہ بھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آج رات صدقہ دینے (کا وعدہ کرنے) والا کہاں ہے ؟ سب لوگ خاموش رہے ‘ کوئی نہیں کھڑا ہوا۔ عَلِیّہ کھڑے ہوگئے اور حضور ﷺ کو اپنے قول کی اطلاع دے دی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تجھ کو بشارت ہو ‘ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! (تیرا) صدقہ مقبول زکوٰۃ میں لکھ لیا گیا۔ ابن اسحاق اور محمد بن عمر کا بیان ہے کہ جب سواری کے طلبگاروں کو رسول اللہ ﷺ سواریاں نہ دے سکے اور لوگ روتے ہوئے حضور ﷺ کے پاس سے لوٹے تو ان رونے والوں میں ابو یعلی اور عبد اللہ بن مغفل بھی تھے (راستہ میں) ان کی ملاقات یامین بن عمرو نضری سے ہوئی۔ یامین نے دونوں کو روتا دیکھ کر رونے کی وجہ دریافت کی۔ دونوں بزرگوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سواریاں مانگنے حاضر ہوئے لیکن حضور ﷺ کے پاس کوئی ایسی سواری ہی نہ تھی جو آپ ہم کو دے دیتے اور ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں کہ جہاد کو جاسکیں اور رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب جہاد پر نہ جانا بھی ہم کو گوارا نہیں (رونے کی بس یہ وجہ ہے) وجہ گریہ سن کر یامین نے ان کو پانی سینچنے والا ایک اونٹ اور زاد راہ کیلئے ہر ایک کو دو صاع (تقریباً آٹھ سیر) چھوارے دے دئیے۔ محمد بن عمرو نے اتنا زائد بھی بیان کیا ہے کہ حضرت عباس بن عبدامطلب نے بھی دو آدمیوں کیلئے سواری کا انتظام کردیا اور حضرت عثمان بن عفان نے لشکر کی تیاری کے علاوہ مزید تین آدمیوں کو سواریاں دے دیں۔ میں کہتا ہوں : سواری سے محروم کل سولہ آدمی تھے (جو جہاد میں شریک ہونے کیلئے بیتاب تھے) جن میں سے سات کا تو اس طرح انتظام ہوگیا اور راوی کے شک کی وجہ سے دو آدمیوں کو ان میں سے اور کم کردیا جائے تو سات آدمی رہ جاتے ہیں (جو سواری سے محروم رہے اور جانے کیلئے روتے تھے) انہی کے متعلق اللہ نے ولا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلُھُمْ الخ فرمایا۔ بخاری و مسلم نے صحیحین میں لکھا ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے فرمایا : میں اشعر قبلیہ کے چند آدمیوں کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہ درخواست کرنے کیلئے کہ ان لوگوں کو سواری کی ضرورت ہے ان کو سواریاں عطا فرما دی جائیں ‘ حاضر ہوا۔ دوسری روایت میں آیا ہے : میرے ساتھیوں نے مجھے خدمت گرامی میں سواریاں طلب کرنے کیلئے بھیجا۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میرے ساتھیوں نے مجھے خدمت گرامی میں یہ عرض کرنے کیلئے بھیجا ہے کہ آپ ان کو سواریاں عنایت فرما دیجئے۔ میری اس حاضری اور گذارش کے وقت حضور ﷺ غصہ میں تھے اور مجھے پتہ نہ تھا۔ فرمایا : میں تم کو کوئی سواری نہیں دوں گا اور نہ میرے پاس کوئی (زائد) سواری ہے کہ تم کو دے سکوں۔ انکاری جواب سن کر میں غمگین حالت میں لوٹ آیا اور یہ اندیشہ بھی ہوا کہ میرے خلاف رسول اللہ ﷺ نے کچھ دل میں احساس (نہ) کرلیا ہو۔ واپس آکر اپنے ساتھیوں سے رسول اللہ ﷺ کا جواب نقل کردیا۔ کچھ وقفہ کے بعد ہی رسول اللہ ﷺ کے پاس غنیمت کے کچھ اونٹ آئے اور ذرا سی دیر کے بعد ہی میں نے حضرت بلال کی ندا سنی جو پکار رہے تھے : عبد اللہ بن قیس کہاں ہے ؟ میں نے فوراً جواب دیا۔ حضرت بلال نے کہا : رسول اللہ ﷺ تم کو بلا رہے ہیں ‘ حکم کی تعمیل کرو۔ میں خدمت گرامی میں حاضر ہوگیا۔ فرمایا : یہ ایک جٹ (دو اونٹ ایک رسی سے بندھے ہوئے) اور یہ جٹ میں نے اسی وقت سعد سے چھ اونٹوں کے بدلے میں خریدے ہیں۔ تم ان کو اپنے ساتھیوں کے پاس لے جاؤ اور ان سے کہہ دو کہ اللہ نے فرمایا کہ اللہ کے رسول نے تم کو سواری کیلئے دئیے ہیں ‘ ان پر سوار ہوجانا۔ حضرت ابو موسیٰ کا بیان ہے : میں اونٹ لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور ان سے کہا : اللہ کے رسول ﷺ نے یہ اونٹ سوار ہونے کیلئے تم کو دئیے ہیں ‘ لیکن تم یہ خیال نہ کرنا کہ میں نے پہلے جو بات تم سے کہی تھی ‘ وہ رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمائی تھی۔ جب میں نے حضور ﷺ سے پہلی بار تمہارے لئے درخواست کی تھی اور حضور ﷺ نے منع فرما دیا تھا ‘ پھر اس کے بعد اب عنایت فرما دئیے (اس واقعہ کے گواہ موجود ہیں) تم میں سے کوئی میرے ساتھ ان لوگوں کے پاس چلے جنہوں نے میرا اور حضور ﷺ کا کلام سنا تھا ‘ میں اس (تحقیقات) کے بغیر تم کو نہیں چھوڑوں گا۔ ساتھیوں نے کہا : خدا کی قسم ! آپ ہمارے نزدیک سچے ہیں اور جو آپ کی خواہش ہے ‘ ہم ایسا بھی کردیں گے۔ چناچہ میں اپنے ساتھیوں میں سے چند آدمیوں کو لے کر ان لوگوں کے پاس پہنچا جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان اور ابتدائی انکار پھر عطا کا حکم سنا تھا۔ گواہوں نے وہ بات ان لوگوں کے سامنے بیان کردی جو میں نے اپنے ساتھیوں سے بیان کی تھی۔ پھر ہم نے (یعنی میں نے اور میرے ساتھیوں نے) کہا : خدا کی قسم ! اس میں ہم کو برکت حاصل نہ ہوگی (کیونکہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ناراضگی کے ساتھ یہ اونٹ عنایت فرمائے ہیں) حسب مشورہ ہم لوٹ کر خدمت گرامی میں حاضر ہوئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : میں نے (از خود) تم کو یہ سواریاں نہیں دی ہیں بلکہ اللہ نے دی ہیں۔ پھر فرمایا : آئندہ اگر میں کسی بات پر قسم کھاؤں گا اور اس سے بہتر (قسم کے خلاف) اگر کوئی معاملہ سامنے آیا تو انشاء اللہ میں قسم کا کفارہ دے دوں گا اور بہتر بات کو اختیار کرلوں گا۔
Ayah 9:93

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

الزام تو ان لوگوں پر ہے۔ جو دولت مند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہیں (یعنی) اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں۔ خدا نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے پس وہ سمجھتے ہی نہیں

انما السبیل علی الذین یستاذنونک وھم اغنیآء (عذاب اور عتاب کی) راہ تو ان لوگوں پر ہے جو مالدار ہوتے ہوئے (جہاد میں نہ جانے کی) آپ سے اجازت طلب کر رہے ہیں۔ یعنی سفر کی تیاری کا سامان ان کے پاس موجود ہے (اور پھرجانا نہیں چاہتے) ۔ رضوا بان یکونوا مع الخوالف وطبع اللہ علی قلوبھم فھم لا یعلمون۔ وہ لوگ (انتہائی بےحمیتی سے) خانہ نشین عورتوں کے ساتھ رہنے پر راضی ہوگئے اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی جس سے وہ (گناہ وثواب کو) جانتے بھی نہیں۔ بلاعذر جہاد کو نہ جانے کی اجازت طلب کرنے کا سبب اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے پست درجہ میں رہنے اور عورتوں ‘ بچوں ‘ بیماروں ‘ اپاہجوں کی فہرست میں داخل ہوجانے کو پسند کیا (اسی وجہ سے باوجود مالدار ہونے کے اجازت طلب کی) اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے کہ وہ اپنی بدانجامی سے غافل ہوگئے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کے خلاف کرنے اور جہاد سے بیٹھ رہنے کو اختیار کیا ‘ اس کے علاوہ ان کو کچھ علم نہیں (کہ اس کا نتیجہ کتنا برا نکلے گا) ۔
Ayah 9:94

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے تم کہنا کہ مت عذر کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے خدا نے ہم کو تمہارے سب حالات بتا دیئے ہیں۔ اور ابھی خدا اور اس کا رسول تمہارے عملوں کو (اور) دیکھیں گے پھر تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا

یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیھم قل لا تعتذروا لن نؤمن لکم قد نبانا اللہ من اخبارکم : جب تم ان کے پاس لوٹو گے تو وہ تمہارے سامنے عذر کریں گے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے : عذر نہ پیش کرو۔ ہم تمہاری باتوں کا یقین نہیں کریں گے ‘ اللہ نے تمہاری کچھ خبریں ہم کو بتادی ہیں۔ یعنی وہ منافق جو غزوۂ تبوک کو نہیں گئے ‘ معذرت پیش کریں گے۔ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ ایسے لوگ کچھ اوپر اسّی تھے۔ خطاب رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو ہے۔ واپسی سے مراد ہے تبوک سے مدینہ کو واپسی۔ آیت بطور معجزہ پیشین گوئی ہے جو صحیح ثابت ہوئی۔ منافق جھوٹے عذر پیش کرنے کیلئے حاضر ہوئے۔ عذر پیش نہ کرو یعنی جھوٹے عذر نہ بیان کرو ‘ ہم تمہاری ان باتوں کا یقین نہیں کریں گے۔ یہ آخری فقرہ عذر پیش کرنے کی ممانعت کی علت ہے۔ عذر پیش کرنے والے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ اس کے عذر کو صحیح مانا جائے۔ ا اللہ نے ہم کو تمہاری خبروں سے آگاہ کردیا ہے ‘ یعنی تمہاری بعض خبروں سے اللہ نے اپنے نبی کو وحی کے ذریعے اطلاع دے دی ہے۔ بعض خبروں سے مراد ہیں شر انگیز فساد ‘ آفریں قلبی خیالات اور خود تراشیدہ جھوٹے عذر۔ وسیری اللہ عملکم ورسولہ اور آئندہ اللہ اور اس کا رسول تمہارے عمل کو دیکھے گا کہ آگے تم نفاق سے توبہ کرتے ہو یا اسی پر قائم رہتے ہو۔ آیت میں (لطیف طرز کے ساتھ) توبہ کرنے کی ترغیب اور توبہ کی مہلت دینے کی صراحت ہے۔ ثم تردون الی عالم الغیب والشھادۃ پھر تم لوٹائے جاؤ گے پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے (ا اللہ) کی طرف۔ یعنی مرنے کے بعد اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ بجائے ضمیر (ہٖ ) لانے کے عالم الغیب والشھادۃِ کہنے میں یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ تمہارے ظاہر و باطن سے واقف ہے ‘ نہ تمہارا کوئی دلی خیال اس سے پوشیدہ ہے نہ عمل۔ فینبئکم بما کنتم تعلمون۔ پھر وہ تمہارے کرتوت تم کو بتائے گا۔ یعنی تمہارے اعمال کا عذاب دے گا۔
Ayah 9:95

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ گے تو تمہارے روبرو خدا کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو سو اُن کی طرف التفات نہ کرنا۔ یہ ناپاک ہیں اور جو یہ کام کرتے رہے ہیں اس کے بدلہ ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے

سیحلفون باللہ لکم اذا انقلبتم الیھم لتعرضوا عنھم جب تم ان کے پاس پلٹ کر جاؤ گے تو وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے اعراض کرلو۔ اور ان کو عتاب نہ کرو۔ فاعرضوا عنھم سو تم ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو اور ان کو سخت سست نہ کہو ‘ نہ ان کے ساتھ رہو۔ انھم رجس وہ لوگ بالکل گندے ہیں۔ یعنی ان کے باطن گندے ہیں ‘ اسلئے ان سے انسیت بڑھانا اور ان کی صحبت اختیار کرنا جائز نہیں اور چونکہ ان میں پاک ہونے اور پاکیزہ بننے کی صلاحیت و قابلیت ہی باقی نہیں رہی ‘ اسلئے ان کو عتاب و سرزنش بھی نہ کرو۔ عتاب کا مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ وہ توبہ پر آمادہ ہوجائیں اور پچھلی حرکتوں سے رجوع کر کے آئندہ کیلئے عہد کرلیں اور پاک ہوجائیں ‘ مگر توبہ کرنے اور پاک ہونے کی جب ان میں صلاحیت ہی نہیں رہی تو عتاب لاحاصل ہے۔ وما وٰھم جھنم اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اسلئے تم ان سے میل جول نہ کرو اور ان کی صحبت سے بچو۔ یہ بھی ترک مصاحبت کی علت ہے۔ ناپاک ہونا اور جہنمی ہونا ‘ دونوں کا تقاضا ہے کہ ان کی صحبت ترک کی جائے۔ جزآء بما کانوا یکسبون۔ جو کچھ وہ کماتے تھے ‘ اس کے بدلہ میں ان کو یہ سزا دی جائے گی ‘ یا جہنم میں ان کا ٹھکانا بداعمالی کے عوض ہوگا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ آیت جد بن قیس ‘ معتب بن قشیر اور ان کے ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی۔ ان کی مجموعی تعداد اسّی تھی اور سب کے سب منافق تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ میں رونق افروز ہوئے تو آپ نے مسلمانوں کو حکم دے دیا کہ ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ترک کر دو اور ان سے بات چیت بھی نہ کرو۔ مقاتل نے کہا : اس آیت کا نزول عبد اللہ بن ابی بن خلف کے بارے میں ہوا جس نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا تھا : اب آپ مجھ سے راضی ہوجائیں۔ میں قسم کھاتا ہوں اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ اس واقعہ کے بعد میں (کسی جہاد میں) آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا (ہر جہاد میں شریک ہوں گا) ۔
Ayah 9:96

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہو جاؤ لیکن اگر تم اُن سے خوش ہو جاؤ گے تو خدا تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا

یحلفون لکم لترضوا عنھم وہ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں کہ تم ان سے رضامند ہوجاؤ۔ اور جیسے پہلے ان سے سلوک کرتے تھے ‘ وہی سلوک جاری رکھو۔ فان ترضوا عنھم فان اللہ لا یرضی عن القوم الفاسقین۔ تو اگر تم ان سے رضامند بھی ہوجاؤ گے تب بھی اللہ ان بدکاروں سے راضی نہ ہوگا۔ الفاسقین کا لفظ ذکر کر کے اپنی ناراضگی کی وجہ بھی بیان کردی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ تم کو دھوکہ دے کر رضامند بھی کرلیں اور تم ان کی خفیہ حالتوں سے ناواقف ہونے کی بناء پر ان سے رضامند بھی ہوجاؤ تب بھی یہ اللہ کو دھوکہ نہیں دے سکتے اور اللہ سے اپنی حالت نہیں چھپاسکتے ‘ اسلئے اللہ ان سے رضامند نہ ہوگا اور اللہ کی ناراضگی کی موجودگی میں تمہاری رضامندی ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گی۔ ان پر دنیا میں ذلت اور آخرت میں عذاب ضرور آئے گا۔ حاصل یہ ہے کہ تم لوگ ان کے دھوکہ میں نہ آنا اور رضامند نہ ہوجانا۔
Ayah 9:97

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور اس قابل ہیں کہ جو احکام (شریعت) خدا نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ان سے واقف (ہی) نہ ہوں۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

الاعراب اشد کفرًا ونفاقًا واجدرا لا یعلموا حدود ما انزل اللہ علی رسولہ (منافق) دیہاتی لوگ کفر اور نفاق میں بہت ہی سخت ہیں اور اسی لائق ہیں کہ انکو ان احکام کا علم نہ ہو جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں۔ چونکہ ان خانہ بدوشوں ‘ صحرا نشینوں کا اہل علم سے اختلاط کم ہے اور قرآن و حدیث سننے کا موقع ان کو کم ملتا ہے اور ان کے دلوں میں سختی اور مزاج میں وحشت و کرختگی بہت ہے ‘ اسلئے شہر میں رہنے والوں سے کفر و نفاق میں یہ آگے بڑھے ہوئے ہیں اور اللہ کے نازل کردہ ضوابط و احکام سے ناواقف رہنے کے زیادہ مستحق ہیں۔ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ سے مراد ہیں تمام فرائض ‘ واجبات ‘ سنن ‘ مباحات ‘ ممنوعات ‘ مکروہات۔ وا اللہ علیم اور اللہ اپنی تمام مخلوق سے بخوبی واقف ہے۔ حکیم حکمت والا ہے۔ دنیا اور آخرت میں جو کچھ مخلوق کے ساتھ کرتا ہے ‘ حکمت کے ساتھ کرتا ہے۔
Ayah 9:98

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ جو خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں۔ ان ہی پر بری مصیبت (واقع) ہو۔ اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

ومن الاعراب من یتخذنا ما ینفق مغرمًا اور بعض صحرا نشین بدو ایسے ہیں کہ جو کچھ وہ راہ خدا میں (بظاہر) صرف کرتے ہیں ‘ اس کو تاوان اور گھاٹا سمجھتے ہیں۔ عطاء نے کہا : یعنی صرف خوف اور دکھاوٹ کے زیر اثر دیتے ہیں ‘ نہ دینے میں ان کو ثواب کی امید ہوتی ہے اور نہ نہ دینے میں عذاب کا خوف۔ ویتربص بکم الدوآئر اور تم پر (زمانہ کی) گردشیں پڑنے کے منتظر رہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وفات پاجائیں اور مشرک غالب آجائیں تو وہ خوو دکھاوٹ کے اس خرچ سے چھوٹ جائیں۔ علیھم دائرۃ السوء برا چکر انہیں (منافقوں) پڑنے والا ہے۔ یہ جملہ معترضہ بددعائیہ ہے ‘ یا خبریہ ہے اور اس میں خبر دی گئی ہے کہ جس گردش میں مسلمانوں کے مبتلا ہونے کے یہ منتظر ہیں ‘ وہ چکر انہی پر پڑے گا (مسلمانوں کا کچھ نہیں بگڑے گا) دائرۃ اسم فاعل (مؤنث) ہے۔ دَورٌ مصدر اور دار یَدُور ماضی و مضارع ہیں۔ زمانہ کا وہ چکر جو کبھی خیر کو اور کبھی شر کو لے کر آتا ہے دائرۃ کہلاتا ہے۔ سُوءٌ دکھ ‘ مصیبت۔ سُوءٌ مصدر ہے ‘ مبالغۃً دائرۃ کی اس کی طرف اضافت کردی گئی ہے ‘ جیسے رجل صدقٍ (سچائی کا آدمی) ۔ وا اللہ سمیع علیم۔ اور اللہ سننے والا ہے ‘ ان باتوں کو جو یہ شیطان آپس میں کرتے ہیں (اور) جاننے والا ہے ‘ ان خیالات کو جو اپنے دلوں میں یہ چھپائے رکھتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ آیت مندرجہ بالا بنی اسد ‘ بنی غطفان اور بنی تمیم کے صحرا نشینوں کے حق میں نازل ہوئی۔ ابو الشیخ نے بھی کلبی کا قول یہی بیان کیا ہے مگر اس میں بنی تمیم کا ذکر نہیں ہے۔
Ayah 9:99

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو خدا کی قُربت اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دیکھو وہ بےشبہ ان کے لیے (موجب) قربت ہے خدا ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

ومن الاعراب من یؤمن باللہ والیوم الاخر اور صحرا نشینوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ ابن جریر نے مجاہد کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ یہ آیت قبیلۂ مزینہ کے مقرن کی اولاد کے حق میں نازل ہوئی۔ انہی کے متعلق آیت ولا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَھُمْ الخ نازل ہوئی تھی۔ عبدالرحمن بن مغفل (مزنی) کا خود بیان ہے کہ ہم مقرن کے دس بیٹے تھے۔ کلبی نے کہا : قبائل تمیم ‘ اسد بن خزیمہ ‘ ہوازن اور عظفان میں سے بنی اسلم ‘ بنی غفار اور بنی جہینہ کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ صحیحین میں حضرت ابن عمر کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (قبیلۂ ) غفار کو اللہ نے بخش دیا (یا اللہ مغفرت کرے) اور قبیلۂ اسلم کو اللہ نے محفوظ رکھا (یا محفوظ رکھے) اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قریش ‘ انصار ‘ جہنیہ ‘ مزینہ ‘ اسلم ‘ غفار ‘ اشجع (سب) دوست اور بھائی ہیں اور ان کا دوست سوائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے اور کوئی نہیں۔ حضرت ابوبکرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسلم اور غفار اور مزینہ اور جہنیہ ‘ تمیم سے اور بنی عامر سے اور دو ہم معاہدہ قبائل یعنی اسد و عظفان سے بہتر ہیں۔ بغوی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسلم ‘ غفار اور کچھ جہینہ اور مزینہ والے اللہ کے نزدیک قیامت کے دن تمیم اور اسد بن خزیمہ اور ہوازن اور عظفان سے بہتر ہوں گے۔ ویتخذ ما ینفق قربٰت عند اللہ وصلوٰت الرسول اور جو کچھ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ‘ اس کو اللہ کے قرب اور رسول کی دعاؤں کے حصول کا سبب سمجھتے ہیں۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ صلوٰۃ رسول سے مراد ہے (کسی کیلئے) رسول اللہ ﷺ کا دعائے مغفرت کرنا۔ ترمذی کے علاوہ باقی اہل صحاح نے خود حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ کی روایت نقل کی ہے کہ جب حضرت عبد اللہ نے اپنی زکوٰۃ (یا خیرات) کا مال خدمت گرامی میں پیش کیا تو حضور ﷺ نے دعا کی : اے اللہ ! ابو اوفیٰ کی اولاد پر رحمت نازل فرما۔ الا انھا قربۃ لھم آگاہ ہوجاؤ ‘ بلاشبہ وہ (یعنی راہ خدا میں ان کا خرچ کرنا) ان (لوگوں) کی قربت کا ذریعہ ہے۔ اللہ نے اس جملہ میں شہادت دی ہے کہ ان کا خیال صحیح ہے اور ان کی امید قربت درست ہے۔ سیدخلھم اللہ فی رحمتہ ان اللہ غفور رحیم۔ یقیناً اللہ ان کو اپنی رحمت یعنی جنت میں داخل فرمائے گا۔ کوئی شک نہیں کہ اللہ (گناہوں کو) بخشنے والا اور رحمت والا ہے۔
Ayah 9:100

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے

والسبقون الاولون من المھجرین والانصار اور جو مہاجرین و انصار (ایمان لانے میں) سب سے آگے اور مقدم ہیں۔ المہاجرین یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے قبیلہ اور قوم کو چھوڑا ‘ وطن اور مال کو چھوڑا اور مکہ سے نکل گئے۔ مہاجرین سے مراد ہیں قریش مکہ۔ الانصار یعنی وہ مدینہ والے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو اس وقت جبکہ قوم والوں نے آپ کو نکلنے پر مجبور کردیا تھا ‘ اپنے پاس جگہ دی اور آپ کی مدد کی۔ سابقین سے کونسے مہاجر و انصار مراد ہیں ؟ سعید بن مسیب ‘ قتادہ ‘ ابن سیرین اور ایک جماعت تابعین کے نزدیک وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ عطاء بن ابی رباح کے نزدیک بدری صحابی مراد ہیں۔ شعبی کے نزدیک حدیبیہ کی بیعت رضوان میں شریک ہونے والے مراد ہیں۔ بعض کے نزدیک مہاجرین میں سے صرف آٹھ آدمی مراد ہیں جو سب سے پہلے مسلمان ہوئے ‘ باقی لوگ ان کے بعد اسلام میں داخل ہوئے۔ حضرت ابوبکر ‘ حضرت زید بن حارثہ ‘ حضرت عثمان بن عفان ‘ حضرت زبیر بن عوام ‘ حضرت علی ‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف ‘ حضرت سعد بن ابی وقاص ‘ حضرت طلحہ بن عبیدا اللہ۔ بغوی نے لکھا ہے : رسول اللہ ﷺ کی بیوی حضرت خدیجہ کا سب سے اوّل ایمان لانا تو مسلم الثبوت اور اجماعی قول ہے۔ آپ کے بعد کون سب سے پہلے مسلمان ہوا ‘ اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ نے حضرت خدیجہ کے بعد حضرت علی کو مؤمن اوّل فرمایا ہے۔ اس کی تائید میں خود حضرت علی کا یہ شعر پیش کیا جاتا ہے ؂ سَبَقْتُکم اِلَی الْاِسْلَامِ طُرًّا غلامًا مَا بَلَغْتُ اَواَنَ حُلْمٍ (میں لڑکا ہی تھا ‘ بلوغ کی عمر کو نہیں پہنچا تھا کہ تم سب سے پہلے میں نے اسلام کی طرف سبقت کی) ۔ مجاہد اور ابن اسحاق کے قول پر دس سال کی عمر میں حضرت علی مسلمان ہوئے تھے۔ بعض کے نزدیک حضرت خدیجہ کے بعد سب سے پہلے حضرت ابوبکر ایمان لائے۔ یہ قول حضرت ابن عباس ‘ ابراہیم نخعی اور عامر شعبی کا ہے۔ اس قول کی تائید حضرت حسان کے ان اشعار سے ہوتی ہے جو حضرت ابوبکر کی مدح میں آپ نے کہے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے ان کو تسلیم کیا تھا۔ زہری اور عروہ بن زبیر کے نزدیک حضرت خدیجہ کے بعد سابق الاسلام حضرت زید بن حارثہ تھے۔ اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے ان مختلف اقوال کی باہم تطبیق اس طرح دی ہے کہ مردوں میں سابق الاسلام حضرت ابوبکر تھے ‘ عورتوں میں حضرت خدیجہ ‘ لڑکوں میں حضرت علی اور (آزاد کردہ) غلاموں میں حضرت زید بن حارثہ۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ اسلام لانے کے بعد حضرت ابوبکر نے اپنے اسلام کا اظہار کردیا (چھپا کر نہ رکھا) اور دوسروں کو اللہ اور رسول کی طرف آنے کی دعوت دی۔ آپ ہر دلعزیز ‘ بااخلاق آدمی تھے ‘ قریش کے نسب اور حالات کو سب سے زیادہ جانتے تھے۔ تاجر تھے بڑے بااخلاق اور مخیر۔ قوم کے لوگ آپ کی دانائی اور اچھی صحبت کی وجہ سے مختلف کاموں کیلئے آپ کے پاس آتے اور انسیت رکھتے تھے۔ آپ بھی اپنی قوم میں سے جس پر اعتماد رکھتے تھے ‘ اس کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ چناچہ میری اطلاع کے بموجب حضرت عثمان ‘ حضرت زبیر بن عوام ‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف ‘ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت طلحہ بن عبیدا اللہ آپ ہی کی ترغیب سے ایمان لائے تھے۔ جب یہ حضرات مسلمان ہوگئے تو آپ ان کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سب نے نماز ادا کی۔ پھر دوسرے لوگ مسلمان ہوئے ‘ یہاں تک کہ مسلمان مردوں اور عورتوں کی تعداد سات سال میں انتالیس ہوگئی۔ پھر حضرت عمر مسلمان ہوئے ‘ آپ چالیسویں مسلمان تھے۔ حضرت عمر کے مسلمان ہونے کے بعد مشرکوں نے کہا : آج ہماری طاقت آدھی ہوگئی۔ سات سال کے بعد حضرت عمر کے مسلمان ہونے سے اسلام میں قوت آگئی اور اس کا پھیلاؤ ہونے لگا۔ اسی بنیاد پر حضرت علی نے فرمایا تھا کہ اور لوگوں سے سات برس پہلے میں نے نمازیں پڑھیں۔ سابقین انصار سے مراد وہ لگ ہیں جنہوں نے لیلۃ العقبہ (گھاٹی والی اوّل رات) میں حضور ﷺ کی بیعت کی۔ یہ چھ سات آدمی تھے ‘ پھر (دوسرے سال) دوسری گھاٹی کے موقع پر بارہ آدمی تھے (جنہوں نے بیعت کی) اور (تیسرے سال) تیسری گھاٹی میں ستر تھے (جنہوں نے بیعت کی) ان ایمان لانے والوں میں حضرت ابو زرارہ اور حضرت معصب بن عمیر بھی تھے۔ ان بزرگوں نے (مدینہ پہنچ کر تبلیغ کی اور) قرآن سکھایا۔ ان کی کوشش سے مردوں ‘ عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد مسلمان ہوگئی۔ والذین اتبعوھم باحسان اور (بقیہ امت میں) جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ ان سے سابقین اولین کے علاوہ دوسرے انصار و مہاجر مراد ہیں۔ بعض نے کہا کہ قیامت تک جتنے لوگ سابقین اوّلین کی راہ پر چلنے والے ہوں گے یعنی ایمان میں ‘ ہجرت میں اور رسول اللہ ﷺ (کے دین) کی مدد کرنے میں جو سابقین کے نقش قدم پر چلیں گے ‘ وہ سب مراد ہیں۔ میں کہتا ہوں : ممکن ہے کہ سابقین سے مراد ہوں مقربین ‘ جن کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : وَالسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْنَ اُولٰٓءِکَ الْمُقَرَّبُوْنَ فِیْ جَنَّات النَّعِیْم ثُلَّۃَّ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ ( ثُلَّۃٌ ایک گروہ) ثُلَّۃٌسے مراد ہیں صحابہ ‘ تابعین اور تبع تابعین۔ امت اسلامیہ میں تقدیم انہی کو حاصل ہے۔ اس کے بعد قَلِیْلٌ مِنَ الْاٰخِرِیْنَ فرمایا ‘ یعنی ایک ہزار برس کے بعد جو تھوڑے آدمی کمالات نبوت کے حامل ہوں گے۔ ابتدائی دور میں تو کمالات نبوت کے حاملین کی تعداد بہت زیادہ تھی ‘ لیکن پچھلے دور میں یعنی ہزار برس کے بعد باکمال لوگوں کی تعداد بہت کم ہوگئی۔ حضرت مجدد الف ثانی نے فرمایا : تمام صحابہ ‘ اکثر تابعین اور تھوڑے تبع تابعین کمالات نبوت کے حامل تھے۔ میں کہتا ہوں : اس صورت میں من المہاجرین والانصار میں مِنْ تبعیضیہ نہ ہوگا بلکہ بیانیہ ہوگا اور یہ السابقین الاوّلین کا بیان ہوگا اور اَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ سے مراد سابقین آخرین اور اصحاب الیمین ہیں جن کو ثُلَّۃَّ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ فرمایا ہے ‘ وہ پہلے قرن سے شروع ہو کر ہزار برس پر ختم ہوجائیں گے اور ثُلَّۃَّ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ سے مراد وہ ارباب کمال ہیں جو ہزار برس کے بعد آئے اور جن کی انتہا روز قیامت پر ہوگی۔ عطاء نے کہا : اَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ سے وہ لوگ مراد ہیں جو صحابہ کے ذکر کے وقت ان کیلئے دعائے رحمت کرتے ہیں۔ ابو صخر حمید بن زیاد کا بیان ہے : میں محمد بن کعب قرظی کے پاس گیا اور دریافت کیا : صحابہ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟ فرمایا : تمام صحابہ جنتی ہیں ‘ اچھے نیکوکار ہوں یا برے (گناہگار) میں نے کہا : آپ یہ کہاں سے کہتے ہیں ؟ فرمایا : کلام مجید میں آیا ہے : وَالسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَار (اس میں کوئی شرط نہیں ہے کہ نیک ہوں یا برے) سب کے متعلق فرمایا : رَضی اللہ عَنْھُمْ وَرَضوْا عَنْہٗ ۔ اس کے بعد فرمایا : اَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۔ اس میں تابعین کیلئے شرط لگا دی کہ بھلائیوں میں صحابہ کے تابع ہوں ‘ برائیوں میں تابع نہ ہوں۔ ابو صخر نے کہا : یہ آیت سن کر مجھے محسوس ہوا کہ گویا یہ آیت میں نے پہلے پڑھی ہی نہ تھی ‘ نہ اس کی تفسیر کا مجھے علم تھا۔ محمد بن کعب کے پڑھنے سے مجھے معلوم ہوا کہ یہ بھی قرآن کی آیت ہے۔ میں کہتا ہوں : تمام صحابہ کے جنتی ہونے کی دلیل میں اگر ذیل کی آیت پیش کی جائے تو زیادہ مناسب ہے۔ فرمایا ہے : لاَ یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مِنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ اُوْلٰٓءِکَ اَعْظَمْ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوْا وَکَلاًّ وَّعَدَ اللّٰہُ الْحَسْنٰی جن لوگوں نے فتح مکہ سے پہلے اپنا مال راہ خدا میں صرف کیا اور جہاد کیا ‘ ان کے برابروہ لوگ نہیں ہیں جنہوں نے اپنا مال راہ خدا میں فتح مکہ کے بعد صرف کیا اور جہاد کیا۔ اول گروہ دوسرے گروہ سے اونچا درجہ رکھتا ہے (لیکن) اللہ نے بھلائی یعنی جنت کا وعدہ دونوں گروہوں سے کرلیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ (آپس میں فرق مراتب کے باوجود) تمام صحابہ جنتی ہیں۔ اللہ نے سب سے جنت کا وعدہ کرلیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے صحابہ کو برا نہ کہو۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم میں سے کوئی (کوہ) احد کے برابر سونا راہ خدا میں خرچ کرے گا تو وہ (ثواب میں) صحابہ کے ایک سیر بلکہ آدھے سیر (غلہ ‘ کھجور وغیرہ) کے برابر نہ ہوگا۔ متفق علیہ من حدیث ابی سعید الخدری ترمذی نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس مسلمان کو آگ نہیں چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا یا میرے دیکھنے والے کو (ایمان کی نظر سے) دیکھا۔ ترمذی نے حضرت بریدہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے صحابہ میں سے جب کوئی شخص کسی سرزمین (گاؤں ‘ قصبہ ‘ شہر وغیرہ) میں مرجائے گا تو قیامت کے دن وہ اس زمین کے رہنے والوں کیلئے پیشوا اور نور بنا کر اٹھایا جائے گا۔ رزین نے حضرت عمر بن خطاب کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں۔ جس کی پیروی کرو گے ‘ ہدایت یاب ہو گے۔ رضی اللہ عنھم اللہ ان سب سے راضی ہوا۔ یعنی ان کی طاعت کو اللہ نے قبول کرلیا اور ان کے اعمال کو پسند فرما لیا۔ ورضوا عنہ اور وہ سب اس سے راضی ہوئے۔ یعنی اللہ کا رب اور مالک ہونا اور اسلام کا ان کیلئے دین ہونا اور محمد ﷺ کا رسول و نبی ہونا انہوں نے اپنے دلوں سے پسند کرلیا۔ اللہ نے ان کے دلوں میں اپنی اور اسلام کی اور محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت ڈال دی اور جو دنیوی و اخروی نعمتیں اللہ نے ان کو عطا فرمائیں ‘ ان پر وہ راضی ہوگئے۔ واعدلھم جنت تجری تحتھا الانھر خٰلدین فیھا ابدًا ذلک الفوز العظیم۔ اور اللہ نے ان کیلئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ بڑی کامیابی ہے۔
Ayah 9:101

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور تمہارے گرد و نواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے۔ ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے

وممن حولکم من الاعراب منافقون اور تمہارے آس پاس (اطراف مدینہ میں) رہنے والے بدویوں میں کچھ لوگ منافق ہیں۔ ان سے مراد ہیں قبائل مزینہ ‘ جہنیہ ‘ اشجع ‘ اسلم اور غفار کے منافق لوگ۔ ابن المنذر نے عکرمہ کے حوالہ سے یہی قول نقل کیا ہے۔ ان قبائل کی قیام گاہیں مدینہ کے گرداگرد تھیں ‘ جن میں سے بعض لوگ منافق بھی تھے۔ ممّن کا مِنْ تبعیضیہ اسی پر دلالت کر رہا ہے۔ احادیث مندرجۂ بالا میں قبائل مذکورہ کی جو تعریف و توصیف آئی ہے ‘ اس سے اس آیت کا تعارض نہیں ہوتا کیونکہ آیت میں بعض کو منافق کہا گیا ہے (اور احادیث مذکورہ میں ان قبائل کی تعریف اکثریت کے لحاظ سے کی گئی ہے) ۔ ومن اھل المدینۃ اور مدینے والوں میں سے بھی کچھ منافق ہیں۔ یعنی قبائل اوس و خزرج میں بھی کچھ منافق ہیں۔ مردوا علی النفاق کہ نفاق کی حد کمال تک پہنچے ہوئے ہیں۔ یہ منافقوں کی صفت ہے ‘ یا منافقوں کی سرشت کا اظہار ہے۔ مَرَدُوْا کا معنی ہے خوگر اور عادی ہوگئے ‘ جم گئے۔ تَمَّرَدَ زَیدٌ عَلٰی رَبِّہٖ زید نے اپنے مالک سے سرکشی کی ‘ نافرمانی پر جم گیا ‘ نافرمانی کا عادی ہوگیا۔ مَرید اور مارد صفت کے صیغے اسی سے بنے ہیں۔ ابن اسحاق نے ترجمہ کیا ہے : اڑ گئے نفاق پر اور نفاق کے علاوہ دوسری چیزوں سے انکار کردیا۔ ابن زید نے ترجمہ کیا : نفاق پر قائم ہوگئے اور توبہ نہیں کی۔ قاموس میں ہے : مَرَدَ یَمُْرُدُ نَصَرَ سے اور مَرُدَ یَمْرُدُ کَرُمَ سے آتا ہے۔ دونوں کا مصدر مردو اور مرادۃ ہے۔ مَرِید مارد اور متمِّرد صفت کے صیغے ہیں (اس کا ترجمہ ہے) آگے بڑھا ‘ سرکشی کی یا جس حالت پر ہے ‘ اس سے آگے بڑھ کر اس حالت کی چوٹی پر پہنچ گیا۔ مَرَدَ عَلَی الشَّیْء اس چیز کا عادی ہوگیا ‘ اس پر قائم ہوگیا۔ بعض اہل لغت نے کہا کہ مردوا علی النفاق کا معنی یہ ہے کہ وہ نفاق پر جم گئے اور ہر بھلائی سے خالی ہوگئے۔ مارداس شخص کو کہتے ہیں جو تمام امور خیر سے خالی ہو۔ لا تعلمھم آپ ان کو (منافق) نہیں جانتے۔ یعنی باوجودیکہ آپ انتہائی دانشمند ‘ زیرک اور سچی فراست رکھنے والے ہیں ‘ لیکن منافق اتنے چالاک اور ہوشیار ہیں کہ تہمت کے ہر مقام سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ بھی ان کے منافق ہونے کو نہیں پہچانتے۔ نحن نعلمھم ہم ان (کی منافقت) کو جانتے ہیں ‘ ہم ان کے چھپے ہوئے رازوں اور چالوں سے واقف ہیں۔ وہ آپ کو دھوکہ دے سکتے ہیں ‘ ہم کو نہیں دے سکتے۔ سنعذبھم مرتین ہم ان کو دو بار عذاب دیں گے۔ دو بار عذاب دینے سے کیا مراد ہے ‘ اس کے تعین میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ کلبی اور سدی نے کہا : (ایک روز) رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کھڑے ہوئے (اور الگ الگ نام لے لے کر مختلف لوگوں کو خطاب کر کے) فرمایا : اے فلاں شخص ! نکل جا ‘ تو قطعاً منافق ہے۔ اے فلاں شخص ! تو بھی نکل جا ‘ تو بھی بلاشبہ منافق ہے۔ اس طرح حضور ﷺ نے مختلف لوگوں کو مسجد سے نکال دیا اور ان کو رسوا کردیا۔ یہ رسوائی اور مجلس نبوی سے نکالا جانا پہلا عذاب ہوا اور دوسرے عذاب سے مراد ہے عذاب قبر۔ مجاہد نے کہا : پہلے عذاب سے مراد ہے قتل و قید اور دوسرے عذاب سے قبر کا عذاب مراد ہے۔ ابن زید نے کہا : پہلے عذاب سے مراد ہیں دنیا میں مال و اولاد پر پڑنے والے مصائب اور دوسرے عذاب سے مراد ہے عذاب قبر۔ مجاہد کا قول دوسری روایت میں آیا ہے کہ منافقوں پر قحط کا عذاب دو مرتبہ پڑا ‘ آیت میں یہی مراد ہے۔ قتادہ نے کہا : دنیا میں دنبل (بدن پر پھوڑے) کا عذاب پہلا عذاب تھا اور عذاب قبر دوسرا عذاب۔ حضرت ابن عباس کا قول مروی ہے کہ (شرعی) تعزیرات کا اجراء پہلا عذاب تھا اور عذاب قبر دوسرا عذاب۔ ابن اسحاق نے کہا : بادل ناخواستہ اسلام میں داخل ہونا اور اسلام سے بغض و نفرت رکھنے کے باوجود مجبوراً اس کے دائرہ میں آنا پہلا عذاب تھا اور عذاب قبر دوسرا عذاب۔ بعض نے کہا : روحیں قبض کرنے کے وقت ملائکہ ان کے چہروں اور پشت پر ماریں گے ‘ یہ پہلا عذاب ہوگا اور عذاب قبر دوسرا عذاب ہوگا۔ بعض نے کہا : منافقوں کی بنائی ہوئی مسجد ضرار (جو مسلمانوں کی جاسوسی کرنے اور ان کو ضرر پہنچانے کیلئے بنائی گئی تھی) کو جلا دینا پہلا عذاب ہوا اور جہنم کی آگ میں جلنا یعنی عذاب قبر دوسرا عذاب۔ میں کہتا ہوں : ان تمام اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلا عذاب دنیوی مراد ہے جس کی شکل کوئی ہو اور دوسرا عذاب قبر کا مراد ہے۔ ثم یردون الی عذاب عظیم۔ پھر ان کو بڑے عذاب کی طرف لوٹا یا جائے گا۔ یعنی جہنم کے عذاب کی طرف جہاں ہمیشہ رہیں گے (جو کیفیت ‘ مقدار ‘ مدت ہر اعتبار سے بڑا ہوگا) ۔