Ayah 9:34یایھا الذین امنوا ان کثیرًا من الاحبار والرھبان اے اہل ایمان ! بکثرت علماء اہل کتاب اور عیسائیوں کے درویش۔ احبار سے مراد ہیں : اہل کتاب کے علماء (خواہ یہودی ہوں یا عیسائی) اور رہبان سے مراد ہیں عیسائی درویش (کیونکہ یہودیوں میں رہبانیت کا دستور نہ تھا) ۔
لیاکلون بلاشبہ کھاتے ہیں۔ کھانے سے مراد ہے فائدہ اندوز ہونا۔ چونکہ فائدہ اندوز ہونے کی سب سے بڑی صورت کھانا ہے ‘ اسلئے لیاکلون فرمایا (مال کا مقصد کھانا ‘ پینا ‘ پہننا اور استعمال کرنا ہے۔ کھانے کا درجہ سب سے مقدم ہے ‘ یہ مدار زندگی ہے) ۔
اموال الناس بالباطل لوگوں کے مال ناجائز طور پر۔ باطل سے مراد ہے رشوت لے کر لوگوں کے فیصلے کرنا ‘ اللہ کے کلام میں تحریف کرنا ‘ خود اپنے ہاتھوں سے لکھ کر یہ کہنا کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ حکم ہے (یعنی خود تراشیدہ احکام کو حکم خدا کہنا) رسول اللہ ﷺ کے ان اوصاف کو جو ان کی کتابوں میں صحیح صحیح مذکور تھے ‘ بدل دینا۔ ان کو اندیشہ تھا کہ اگر رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کریں گے (اور اظہار کردیں گے کہ جس رسول کے اوصاف ہماری کتابوں میں مذکور ہیں ‘ وہ رسول یہی ہیں) تو زبردست عوام اور نچلے درجہ کے ہم مذہب لوگوں سے ان کو جو کچھ کھانے پینے کو ملتا تھا ‘ وہ ختم ہوجائے گا (ان کی مذہبی سیادت اور دنیوی کمائی ختم ہوجائے گی) ۔
ویصدون عن سبیل اللہ ط اور اللہ کی راہ سے (دوسروں کو) روکتے ہیں۔ اللہ کی راہ سے مراد ہے اللہ کا دین ‘ یعنی اسلام۔
والذین یکنزون الذھب والفضۃ اور جو لوگ سونا چاندی جمع کر کے (یعنی کنز بنا کے) رکھتے ہیں۔ بظاہر الَّذِیْنَ سے مراد احبار اور رہبان ہی ہیں اور اس جملہ کا عطف محذوف پر ہے جس پر سابق کلام دلالت کر رہا ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا : الَّذِیْنَ یَأکُلُوْنَ اَمْوَال النَّاسِ وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَاس صورت میں آئندہ فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍکا حکم اہل کتاب کیلئے خصوصیت کے ساتھ ہوگا۔
حسن نے بعض صحابہ کا قول نقل کیا ہے کہ اہل کتاب کے علاوہ دوسرے لوگوں کیلئے دلالت النص سے یہ حکم ثابت ہوجائے گا۔ حضرت ابوذر کا قول ہے کہ یہ کلام علیحدہ ہے ‘ اہل کتاب کیلئے مخصوص نہیں ہے ‘ اس صورت میں فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَاب اَلِیْمِ کا تعلق خبری صرف اَلَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ سے ہوگا اور اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّھْبَانِ لَیَاکُلُوْنَ اَمْوَال النَّاس بالْبَاطِلِ وَیَصُّدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کے بعد فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ محذوف ہوگا۔ حذف کی وجہ صرف یہ ہے کہ آئندہ اَلَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ کے بعد اس کا ذکر کردیا گیا ہے۔ مذکور محذوف پر دلالت کر رہا ہے۔
ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ لا اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ یعنی سونے چاندی میں سے کسی کو راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے (گویا مضاف محذوف یعنی لاَ یُنْفِقُوْنَ کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھَا) یا خزائن و اموال مراد ہیں (اور واحد مؤنث کی ضمیر جمع کی طرف راجع کردی گئی) یا الفضہ کی طرف ضمیر راجع ہے کیونکہ چاندی ہی کثیر الاستعمال ہے (سونے کے سکے تو بہت کم استعمال میں آتے ہیں) سونے اور چاندی کو ساتھ ساتھ ذکر کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ تعیین نصاب کیلئے ایک کو دوسرے کے ساتھ ملایا جاسکتا ہے اور ملانے کے بعد ایک نصاب بنا کر اس کی زکوٰۃ ادا کی جائے۔ ملانے کی صورت میں امام ابوحنیفہ کے نزدیک قیمت کا حساب لگا لینا ہے (اگر مجموعی قیمت بقدر نصاب ہوجائے تو زکوٰۃ ادا کی جائے) امام ابو یوسف اور امام احمد کے نزدیک (قیمت کا لحاظ نہیں ‘ وزن کا لحاظ ہے) سونے چاندی کو باہم ملایا جائے گا۔ مثلاً کسی کے پاس دس مثقال سونا اور سو درہم ہیں ‘ تو باتفاق زکوٰۃ واجب ہوگی (دس مثقال سونا واجب الزکوٰۃ ہے) لیکن اگر پانچ مثقال سونا ہے جس کی قیمت سو درہم یا اس سے زاہد ہے تو سونے کی قیمت کو درہموں کے ساتھ ملا دیں گے ‘ یعنی نصاب دراہم بنائیں گے۔ اگر نصاب چاندی (دو سو درہم) ہوجائے گا تو امام صاحب کے نزدیک زکوٰۃ واجب ہوگی اور صاحبین کے نزدیک وجوب زکوٰۃ نہ ہوگا (کیونکہ سات مثقال سے کم سونے پر زکوٰۃ نہیں) اگر پانچ مثقال سونا اور سو درہم ہوں اور سو درہم کی قیمت دس مثقال سونا ہو تو کل پندرہ مثقال سونا ہوجائے گا۔ امام صاحب کے نزدیک سب کو سونا قرار دے کر سونے کی زکوٰۃ دی جائے گی اور صاحبین کے نزدیک کسی کی زکوٰۃ نہ ہوگی ‘ نہ پانچ مثقال سونے پر زکوٰۃ ہے نہ سو درہم پر اور سونے کی قیمت کا اعتبار نہیں۔
آیت میں اشارہ اس طرف بھی ہے کہ سونے میں سے الگ اور چاندی میں سے الگ زکوٰۃ نکالنے کی ضرورت نہیں بلکہ دونوں جنسوں کی زکوٰۃ ایک ہی جنس میں سے دی جاسکتی ہے (یہ اشارہ لاَ یُنْفِقُوْنَھَا میں مفرد کی ضمیر ذکر کرنے سے مستفاد ہوتا ہے) ۔
چونکہ چاندی سونا ثمینت کیلئے متعین ہیں اور دوسرے مالوں کا اندازہ چاندی سونے (یعنی ان کی قیمت) کے ذریعہ سے لگایا جاتا ہے ‘ اسی لئے دوسرے کسی قسم کے مال کا اس جگہ ذکر نہیں کیا ‘ صرف ............. چاندی سونے کا کیا۔ دیکھو ! تجارتی سامان کی قیمت اگر چاندی یا سونے کے نصاب کو پہنچ جائے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوجاتی ہے ‘ کسی قسم کا دوسرا مال معیار زکوٰۃ نہیں ہے۔ تخصیص ذہب و فضہ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ عام طور پر انہی کو جمع کر کے رکھتے ہیں (اور دوسری چیزوں کی ذخیرہ اندوزی تو صرف تجارت کیلئے کرتے ہیں) اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے کی دو صورتیں ہیں : (ا) بالکل خرچ نہ کیا جائے ‘ نہ اللہ کی راہ میں نہ شیطان کی راہ میں (2) اللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا جائے ‘ اپنے نفس اور شیطان کی راہ میں صرف کیا جائے۔ جیسے ایک آیت میں آیا ہے کہ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ۔ آیت میں چونکہ اہل کتاب کے علماء و مشائخ کی باطل خوری اور اللہ کی راہ سے روکنے کا تذکرہ کیا گیا ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ راہ خدا میں خرچ نہ کرنے سے مطلقاً خرچ نہ کرنا مراد ہے (یعنی انتہائی کنجوسی) یَکْنِزُوْنَکا لفظ اسی پر دلالت کر رہا ہے۔
ا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا لفظ عام ہے ‘ اس میں فرض زکوٰۃ ‘ نفل خیرات اور تمام واجب و مستحب صدقات داخل ہیں۔ حضرت ابن مسعود کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص بامید ثواب اپنے بال بچوں پر صرف کرتا ہے ‘ وہ اس کیلئے صدقہ (ایسی خیرات جو موجب ثواب ہے) ہوتا ہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک وہ دینار ہے جس کو تو راہ خدا (جہاد) میں خرچ کرے ‘ ایک وہ دینار ہے جو تو کسی غلام (کی آزادی) کیلئے صرف کرے ‘ ایک وہ دینار ہے جو تو کسی مسکین کو خیرات کرے ‘ ایک وہ دینار ہے جو تو اپنے بال بچوں کے (ضروری) صرف میں لائے۔ ان میں سب سے زیادہ ثواب والا وہ دینار ہے جو تو اپنے بال بچوں کے (ضروری) صرف میں لائے (صحیح مسلم) ۔
حضرت ثوبان راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اجر وثواب میں) سب سے بڑھ کر وہ دینار ہے جو آدمی اپنے بال بچوں کے (ضروری) مصارف میں لاتا ہے اور وہ دینار ہے جو راہ خدا میں کسی سواری کے صرف میں لاتا ہے اور وہ دینار ہے جو جہاد کے موقع پر کسی ساتھی کیلئے خرچ کرتا ہے۔
حضرت ام سلمہ کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ابو سلمہ (سابق شوہر) کے بچے جو میرے بھی بچے ہیں ‘ اگر میں ان کیلئے کچھ خرچ کروں تو کیا مجھے ثواب ملے گا ؟ فرمایا : ان کیلئے خرچ کرو۔ جو کچھ ان کیلئے خرچ کرو گی ‘ اس کا ثواب پاؤ گی (بخاری و مسلم) حضرت ابن مسعود کی بیوی زینب کا بیان ہے کہ میں نے اور ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا : ہم اگر اپنے شوہر کو کچھ خیرات دیں تو کیا ہم کو اس کا ثواب ملے گا ؟ فرمایا : دوہر اجر ملے گا ‘ خیرات کا اور رشتہ (نوازی) کا (بخاری و مسلم)
فبشرھم بعذاب الیم۔ پس ان کو دردناک عذاب کی اطلاع دے دو ‘ یعنی دونوں گروہوں کو۔ ان کو بھی جو ناجائز طور پر لوگوں کا مال کھاتے ہیں اور ان کو بھی جو چاندی سونا جمع کر کے رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔
فائدہ : چونکہ وعید عذاب کو دو فعلوں کا نتیجہ قرار دیا ہے : ایک جمع کر کے رکھنا ‘ دوسرا راہ خدا میں خرچ نہ کرنا۔ اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر ضروری واجب حصہ راہ خدا میں صرف کردیا جائے (یعنی زکوٰۃ اور صدقۂ واجبہ ادا کردیا جائے) تو پھر چاندی سونا جمع کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ اسی پر اجماع ہے۔
طبرانی نے الاوسط میں اور ابن عدی نے الکامل میں اور ابن مردویہ و بیہقی نے سنن میں حضرت ابن عمر کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا فرمان نقل کیا ہے کہ جس کی زکوٰۃ ادا کردی جائے ‘ وہ کنز نہیں یعنی وہ کنز نہیں جس پر عذاب کی وعید آئی ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ مجاہد نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے : جب یہ آیت اتری تو مسلمانوں کو یہ حکم بڑا شاق گذرا۔ انہوں نے کہا : ایسا کون کرسکتا ہے کہ اپنے بچوں کیلئے کچھ نہ چھوڑے ؟ اس کا تذکرہ حضرت عمر نے رسول اللہ ﷺ سے کردیا ‘ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ نے زکوٰۃ اسی لئے تو فرض کی ہے کہ تمہارا باقی مال پاک ہوجائے (یعنی زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد باقی مال جمع کرنا ممنوع نہیں اور ایسا مال ناپاک نہیں) یہ حدیث ابو داؤد 1‘ ابو یعلی ‘ ابن ابی حاتم ‘ حاکم ‘ ابن مردویہ اور بیہقی نے بھی حضرت عباس کی روایت سے بیان کی ہے۔ اس میں اتنا زائد ہے کہ میراث کے حصوں کی فرضیت تو ہوئی اسی لئے ہے کہ تمہارے بعد والے (ورثہ) کیلئے (ترکہ) ہوجائے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عمر نے فرمایا : مجھے پرواہ نہ ہوگی اگر میرے پاس کوہ احد کے برابر سونا ہو (بشرطیکہ) میں اس کی گنتی کر کے اس کی زکوٰۃ ادا کر دوں اور اللہ کی طاعت پر عمل کروں۔ ابن ابی حاتم ‘ حاکم ‘ ابو الشیخ اور ابن حبان نے حضرت علی کا قول نقل کیا ہے کہ جو مال (یعنی ترکہ) چار ہزار درہم سے زائد ہو ‘ وہ کنز ہے ‘ اس کی زکوٰۃ ادا کردی گئی ہو یا نہ ادا کی گئی ہو اور جو اس سے کم ہو ‘ وہ نفقہ ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جو حاجت سے زائد ہو ‘ وہ کنز ہے۔ کیونکہ حضرت ابوذر کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچا ‘ اس وقت حضور ﷺ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے دیکھ کر فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! وہ بہت گھاٹا پانے والے ہیں۔ میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ قربان ! کون لوگ ؟ فرمایا : بڑے مالدار ‘ سوائے ان (مالداروں) کے جو اس طرح اور اس طرح دیتے ہی (یعنی) آگے سے اور پیچھے اور دائیں بائیں سے (لٹاتے ہیں) اور ایسے لوگ بہت کم ہیں (صحیح مسلم و صحیح بخاری)
حضرت ابوذر کی مرفوع حدیث ہے کہ جس نے سونا چاندی ترکہ میں چھوڑا ‘ اسی سے (قیامت کے دن) اس کو داغا جائے گا۔ اخرجہ البخاری فی تاریخہ وابن جریر و ابن مردویہ۔ میں کہتا ہوں : شاید اس حدیث کی مراد یہ ہے کہ جس نے سونے چاندی کا حق یعنی زکوٰۃ ادا نہیں کی اور بغیر زکوٰۃ ادا کئے مرگیا ‘ اس کو داغ لگائے جائیں گے۔ اسی طرح سابق حدیث میں بھی وہی مالدار مستثنیٰ ہیں جو فرض مالی ادا کرتے ہیں۔ زیادہ مالداروں پر زیادہ مال کی ادائیگی بھی واجب ہوتی ہے ‘ اسلئے ہر طرف سے اور ہر خیر کے راستہ میں ان کو خرچ کرنا ضروری ہے۔
جو علماء فاضل از حاجت مال کو کنز کہتے ہیں ‘ وہ اپنے اس قول کے ثبوت میں حضرت ابو امامہ کی روایت پیش کرتے ہیں کہ اہل صفہ میں سے ایک آدمی مرگیا اور اس کے تہبند میں سے ایک دینار نکلا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ ایک داغ ہے۔ پھر دوسرا شخص مرگیا اور اس کے تہبند میں سے دو دینار نکلے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : یہ دو داغ ہیں۔ رواہ البغوی۔ حضرت ابن مسعود کی روایت ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک آدمی مرگیا ‘ اس کی چادر میں سے دو دینار ملے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ دو داغ ہیں۔
حضرت مسعود بن عمر کی روایت ہے کہ ایک شخص (کا جنازہ) نماز پڑھنے کیلئے لایا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : اس کا ترکہ کتنا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : دو یا تین دینار۔ فرمایا : اس نے دو یا تین داغ چھوڑے۔ میں حضرت عبد اللہ ابوالقاسم سے ملا ‘ انہوں نے فرمایا : وہ شخص لوگوں سے (جمع کرنے کیلئے) مانگتا تھا۔ رواہ البیہقی من بروایۃ یحییٰ بن عبدالحمید الحمانی۔
میں کہتا ہوں : جو تشریح ابو القاسم نے بیان کی ‘ یہی مراد حضرت ابو امامہ اور حضرت ابن مسعود کی روایتوں کی بھی ہوسکتی ہے (شاید وہ لوگ بھی مانگتے ہوں گے) ۔
صورت مسئلہ اس طور پر بھی بیان کی جاسکتی ہے کہ جو شخص صوفی ہوگیا تو کل کو اختیار کرلیا ‘ دنیا کو ترک کردیا اور اس پر لوگوں کی کفالت و ذمہ داری بھی نہ ہو ‘ نہ اس کے بیوی بچے ہوں نہ دوسرے مستحقین ‘ اس کیلئے اپنی حاجت سے زائد روک رکھنا جائز نہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : اَوْفُوْا بالْعُقُوْدِ- اَوْفُوْا بالْعَھْدِ (اپنا عہد پورا کرو) اہل صفہ ایسے ہی (تارک الدنیا ‘ متوکل ‘ مجرد) لوگ تھے (نہ ان کے بال بچے تھے نہ مستحقین) ۔
حضرت علی تمام صوفیہ کے پیشواء اعظم تھے ‘ آپ کے کلام میں عیالدار صوفی کا حکم مذکور ہے۔ (1) [ حضرت بریدہ کی روایت ہے کہ جب آیت والَّذِیْنَ یَکِنْزُوْنَ الَّذہَبَ وَالْفِضَّۃَ الخ نازل ہوئی تو صحابہ نے کہا : آج کنز کے متعلق جو حکم نازل ہونا تھا ‘ ہوگیا۔ حضرت ابوبکر نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اب ہم کیا چیز اندوختہ کریں ؟ فرمایا : ذکر کرنے والی زبان ‘ شکر گذار دل اور نیک بی بی جو ایمان پر تمہاری مدد کرے۔]
Ayah 9:35یوم یحمیٰ علیھا فی نار جھنم کہ اسی روز واقع ہوگی جبکہ دوزخ کی آگ میں اوّل ان کو تپایا جائے گا۔ یعنی ان کو آگ میں داخل کیا جائے گا ‘ پھر آگ کو سونے چاندی یا دراہم و دنانیر پر دہکایا جائے گا۔
فتکوٰی بھا جباھھم وجنوبھم وظہورھم پھر اس سے ان کی پیشانیوں اور پہلوؤں کو اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ جباہ سے مراد ہیں : جسم کے سامنے کے حصے (چہرہ ‘ ناک ‘ سینہ ‘ پیٹ ‘ ران کا اگلا حصہ ‘ زانو وغیرہ) جنوب سے مراد ہیں : دائیں بائیں کے حصے ( پہلو) اور ظہور سے مراد ہیں : جسم کے پچھلے حصے (کمر ‘ سرین ‘ پشت ‘ گردن ‘ گدی وغیرہ) مراد یہ ہے کہ ہر طرف سے ان کو دہکتے سونے چاندی سے داغا جائے گا۔ بعض علماء نے کہا کہ مذکورہ اعضاء کو خصوصیت کے ساتھ ذکر کرنے کی یہ وجہ ہے کہ کفار ‘ فقراء اور مساکین کو دیکھ کر تیوری چڑھا لیتے اور ترش روئی کا اظہار کرتے تھے اور جب مساکین کسی مجلس میں شریک ہوتے تھے تو وہ لوگ اپنے ساتھیوں کو لے کر وہاں سے کترا جاتے اور پشت پھیر کر چل دیتے تھے اور فقراء کی طرف سے منہ موڑ لیتے تھے۔
خصوصی ذکر کی یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ انہی بیرونی اعضاء کے اندر انسان کے اعضائے رئیسہ دماغ ‘ دل اور جگر ہوتے ہیں۔
ھذا ما کنزتم لانفسکم فذوقوا ما کنتم تکنزون۔ (بطور تنبیہ ان سے کہا جائے گا) یہ مال وہی ہے جو تم نے اپنے فائدہ کیلئے جمع کیا تھا (اور سمجھتے تھے کہ جو کچھ ہم نے جمع کیا ہے ‘ وہ ہمارے کام آئے گا اور ہمارے لئے مددگار ہوگا) اب اپنے جمع کردہ مال کا یا اس کو جمع کرنے کا مزہ چکھو۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو سونے چاندی کا مالک اس کا حق (زکوٰۃ) ادا نہ کرے گا ‘ قیامت کے دن اس سونے چاندی سے اس کیلئے آگ کی چٹانیں بنائی جائیں گی اور دوزخ کی آگ میں ان کو دہکا کر اس شخص کے پہلو ‘ پیشانی اور پشت پر داغ لگائے جائیں گے۔ جب وہ کچھ ٹھنڈی پڑجائیں گی تو دوبارہ تپا کر داغ لگائے جائیں گے اور ایسا اس (پورے) دن ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہوگی۔ آخر جب بندوں کا فیصلہ ہوچکے گا تو اس شخص کو اس کا راستہ بتادیا جائے گا ‘ جنت کو جانے والا یا دوزخ کو جانے والا۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اونٹوں کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا : اور جو اونٹوں والا ان کا حق (یعنی زکوٰۃ) ادا نہ کرے گا اور پانی پلانے کے دن ان کو دوہنا (اور دودھ میں سے مساکین کو دینا بھی) منجملہ حقوق کے ہے ‘ قیامت کے دن ایک ہموار میدان میں اونٹوں کے سامنے اس کو لٹایا جائے گا۔ اونٹ سب موجودہوں گے ‘ ایک بچہ بھی کم نہ ہوگا۔ یہ اونٹ اپنے موزوں (یعنی کھروں) سے اس کو روندیں گے اور منہ سے کاٹیں گے۔ اوّل حصہ جب روندتا چلا جائے گا تو پچھلا حصہ پھر (روندنے کیلئے) لوٹ پڑے گا (یعنی روندنے کا سلسلہ نہ ٹوٹے گا) ایسا اس (پورے) دن ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہوگی۔ آخر جب بندوں کا فیصلہ ہوچکے گا تو اس کو اس کا راستہ بتادیا جائے گا ‘ جنت کی طرف یا دوزخ کی طرف۔ عرض کیا گیا : گائے بھینس اور بھیڑ بکریوں کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا : ان کا مالک اگر حق ادا نہ کرے گا تو ہموار میدان میں ان جانوروں کے سامنے اس کو پچھاڑ کر لٹایا جائے گا۔ سب جانور موجود ہوں گے ‘ کوئی غیر حاضر نہ ہوگا۔ ان میں کوئی ایسا نہ ہوگا کہ اس کے سینگ پیچھے کو مڑے ہوئے ہوں ‘ نہ کوئی جانور منڈا ہوگا ‘ نہ سینگ ٹوٹا ہوا (سب کے سینگ نوک دار آگے کی طرف ہوں گے) یہ تمام جانور اس شخص کو اپنے سینگوں سے ماریں گے اور کھروں سے روندیں گے۔ اوّل حصہ گزرتا جائے گا اور پچھلا حصہ لوٹ کر آتا جائے گا۔ یہ عذاب اس (پورے) دن ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہوگی۔ آخر جب لوگوں کا فیصلہ ہوچکے گا تو اس کو اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا ‘ جنت کا یا دوزخ کا (رواہ مسلم) ۔
یہ حدیث گویا آیت کی تفسیر ہے۔ اس میں اس امر کی صراحت ہے کہ وہ کنز جس کو تپا کر داغ دئیے جائیں گے ‘ اس سے مراد وہ کنز ہے جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی ہو۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کو اللہ نے مال دیا ہو اور اس نے اس مال کی زکوٰۃ نہ دی ہو ‘ قیامت کے دن وہ مال اس گنجے سانپ کی شکل پر کردیا جائے گا جس کی آنکھوں کے اوپر سیاہ (دھاریاں یا) نقطے ہوتے ہیں۔ یہ سانپ بصورت طوق اس کے گلے میں پڑجائے گا اور دونوں باچھوں کو پکڑ کر (چیرے گا اور) کہے گا : میں تیرا مال ہوں ‘ میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر حضور ﷺ نے آیت ولا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ الخ تلاوت فرمائی۔ رواہ البخاری
حضرت ابوذر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص کے پاس اونٹ یا گائے یا بھینس یا بھیڑ بکریاں ہوں اور وہ ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرتا ہو ‘ قیامت کے دن ان کو بڑا عظیم الجثہ ‘ خوب موٹا تازہ بنا کر لایا جائے گا اور یہ (جانور) اس (مالک) کو اپنے موزوں کھروں سے روندیں گے اور سینگوں سے ماریں گے۔ جب پچھلی جماعت (پامال کرتی ہوئی) نکل جائے گی تو اگلی جماعت (لوٹ کر دوبارہ) روندنے آجائے گی۔ یوں ہی اس وقت تک ہوتا رہے گا کہ لوگوں کا فیصلہ ہوجائے (صحیح بخاری و صحیح مسلم) ۔
Ayah 9:36ان عدۃ الشھور عند اللہ اثنا عشر یقیناً (ایک سال کے) مہینوں کی (انتہائی) گنتی بارہ مہینے ہے۔
شھرًا فی کتب اللہ اللہ کی کتاب میں۔ یعنی لوح محفوظ میں یا اللہ کے حکم میں۔
یوم خلق السموت والارض (اسی وقت سے) جبکہ اللہ نے آسمان و زمین کو بنایا تھا۔ یعنی حج ‘ زکوٰۃ اور روزوں کیلئے اللہ کے نزدیک چاند کے مہینے معتبر ہیں اور ایک سال کے بارہ مہینے ہوتے ہیں۔ یعنی ایک سال کا دور اللہ کے نزدیک بارہ مہینے کا ہوتا ہے جن میں سے ایک مہینہ روزوں کیلئے اور چند ماہ حج (کو جانے) کے اور سال کے خاتمہ ادائے زکوٰۃ کے وجوب کیلئے ہے۔
منھا اربعۃ حرم جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ یعنی ان میں لڑائی کا آغاز حرام ہے (دفاع کی حرمت نہیں)
رجب کا ایک مہینہ الگ ہے اور ذیعقدہ ‘ ذی الحجہ ‘ محرم تین ماہ مسلسل ہیں۔
ذلک الدین القیم یہ ہی (یعنی چاند کے مہینے ہونا اور سال بغیر کمی بیشی کے پورے بارہ ماہ کا ہونا) دین مستقیم ہے۔
یعنی دین ابراہیمی ہے جس کو ترک کرنا جائز نہیں (ایک وقت کو چھوڑ کر دوسرا وقت ادائے فریضہ کیلئے مقرر کرلینا درست نہیں) جیسے نصاریٰ نے رمضان کے روزے چھوڑ کر ان کی جگہ بہار کے معتدل موسم میں پچاس روزے ازخود مقرر کر لئے۔
فلا تظلموا فیھن انفسکم سو ان مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو ‘ یعنی کوئی گناہ نہ کرو۔ ہنَّ ضمیر بارہ مہینوں کی طرف راجع ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ کی طرف لوٹائی جائے کیونکہ اربعۃٌ کا لفظ قریب بھی ہے اور گناہ کی ممانعت کے حکم کو اس کی حرمت پر ہی متفرع بھی کیا ہے۔ ظلم سے مراد ہے ان کی حرمت کی پرواہ نہ کرنا اور ان میں قتل و قتال نہ کرنا۔ قتادہ نے کہا : حرمت کے مہینوں میں نیک کام کرنے کا ثواب بہت بڑا ہے ‘ لہٰذا ان میں گناہ کرنے کا عذاب بھی بہت بڑا ہے۔ اگرچہ گناہ ہر زمانے میں (برائی کے لحاظ سے) بڑا ہی ہوتا ہے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : ظلم کرنے سے مراد ہے حرام کو حلال بنا لینا اور ان مہینوں میں لوٹ مار (اور جنگ وجدال) کو جائز سمجھنا۔
محمد بن اسحاق بن یسار نے کہا : مطلب یہ ہے کہ حلال مہینوں کو حرام اور حرام مہینوں کو حلال نہ بناؤ ‘ جیسے مشرکوں نے کر رکھا تھا جس کو نسی کہا جاتا تھا (محرم کے مہینہ کو حلال بنا کر صفر کے مہینہ کو حرام قرار دے لیتے تھے ‘ اس کو نسی کہتے تھے یعنی ایک ماہ کی حرمت ٹال کر دوسرے ماہ کی طرف منتقل کردینا) ۔
وقاتلوا المشرکین کافۃ کما یقاتلونکم کافۃً اور سب مشرکوں سے جنگ کرو جیسے وہ تم سے لڑتے ہیں۔
کافَّۃً مصدر ہے۔ کُفَّ عن الامر اس کام سے اس کو روک دیا گیا۔ مجموعہ پر زیادتی نہیں ہوسکتی (گویا) مجموعہ پر زیادتی کو روک دیا جاتا ہے ‘ اسلئے کافۃ کا معنی ہوگیا جمیعًا۔
واعلموا ان اللہ مع المتقین۔ اور جان لو کہ اللہ تقویٰ والوں کے ساتھ ہے۔ یہ متقیوں کیلئے اللہ سے کامل طور پر قریب ہونے کی بشارت ہے اور ان کو طاقتور بنا کر فتحیاب کرنے کی ضمانت ہے۔ اللہ کی معیت متقیوں کے ساتھ (جسمانی معیت نہیں بلکہ) ہر کیفیت سے مبرار ہے (ناقابل بیان اور ناقابل فہم ہے) بغوی نے لکھا ہے کہ حرمت والے مہینوں میں مسئلۂ قتال کے متعلق علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں : پہلے گناہ کبیرہ تھا ‘ پھر آیت قاتلوا المشرکین کافۃ سے اس کی ممانعت کو منسوخ کردیا گیا ‘ اس صورت میں آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ مشرکوں سے ہر زمانہ میں لڑو۔ حرمت والے مہینے ہوں یا دوسرے مہینے ‘ سب میں مشرکوں سے جنگ کرو۔ دیکھو ! رسول اللہ ﷺ نے حنین میں بنی ہوازن سے اور طائف میں بنی ثقیف سے جہاد کیا ‘ شوال بھر اور ذیعقدہ کے کچھ دنوں تک ان کا محاصرہ جاری رکھا۔ یہ قول قتادہ ‘ عطاء خراسانی ‘ زہری اور سفیان ثوری کا ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ قول غلط ہے۔ آیت قاتلوا المشرکین کافۃ آیت منھا اربعۃ حرم کی ناسخ ہو ہی نہیں سکتی۔ دونوں آیتیں متصل ہیں (دونوں کا ساتھ ساتھ نزول ہوا ہے) اور ناسخ کے نزول کا زمانہ منسوخ کے نزول کے زمانہ سے مؤخر ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ حرمت کے مہینوں میں قتال کرنے کی حرمت زمانی ہے اور آیت قاتلوا المشرکین کافّۃً میں عموم زمانی نہیں ہے کہ یہ ناسخ بن سکے (یعنی اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر زمانہ میں مشرکوں سے قتال کرو) آیت کے حکم قتال کو ہر زمانہ کیلئے عام قرار دینا اور یہ مطلب بیان کرنا کہ حرمت والے مہینے ہوں یا دوسرے مہینے ‘ ہر زمانہ میں قتال کرو ‘ یہ ازخود زیادتی ہے۔ آیت میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ رہا رسول اللہ ﷺ کے عمل سے استدلال ‘ تو یہ بھی غلط ہے۔ صحیح یہ ہے کہ ماہ ذیعقدہ کے آتے ہی رسول اللہ ﷺ نے طائف کا محاصرہ اٹھا لیا تھا (اور شوال حرمت والا مہینہ نہیں ہے) اور اگر بالفرض روایت مذکورہ کو صحیح مان بھی لیا جائے تو یہ حدیث آحادہ ہوگی اور حدیث آحاد قرآن کی ناسخ نہیں ہوسکتی۔ اس کے علاوہ یہ بات قابل غور ہے کہ غزوۂ طائف 8 ھ میں ہوا اور اس آیت کا نزول 9 ھ میں ہوا تو سابق واقعہ ‘ پیچھے نازل ہونے والے حکم کو کیسے منسوخ کرسکتا ہے۔ ایک امر یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وفات سے اسّی دن پہلے حجۃ الوداع کے خطبہ میں حرمت والے مہینوں کا بیان کیا تھا ‘ لہٰذا صحیح یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا طائف والا عمل (اگر ثابت ہوجائے تو) منسوخ ہے ‘ آیت منسوخ نہیں ہے۔ ابن جریج کا بیان ہے کہ عطاء بن ابی رباح نے اللہ کی قسم کھا کر کہا تھا کہ آیت منسوخ نہیں کی گئی ‘ نہ حرم کے اندر قتال کرنا جائز ہے نہ حرمت والے مہینوں میں۔ ہاں اگر حرمت والے مہینوں میں کفار مسلمانوں سے جنگ کریں تو (دفاعی) قتال جائز ہے۔ آئندہ آیت سے بھی اسی کی تائید ہو رہی ہے۔
Ayah 9:37انما النسییء نسیئ بروزن فعیل بمعنی مصدر ہے جیسے سعیر ‘ حریق یا اسم مفعول کے معنی میں ہے ‘ جیسے جریج اور قتیل۔
نسیئ کا معنی ہے ٹالنا ‘ مؤخر کردینا یا وہ چیز جس کو مؤخر کردیا جائے۔ بیع میں نِسْیَہ (ادھار) بھی اسی سے بنا ہے۔ اَنْسَاہ اللّٰہ اجَلَہٗ اور نسَّأَنی اجلہ اللہ نے اس کی (زندگی میں ڈھیل دے دی) موت کو پیچھے کردیا۔
اس جگہ نسیئ سے مراد ہے وہ ادل بدل جو حرمت والے مہینوں کے سلسلہ میں اسلام سے پہلے عرب کرتے تھے۔ ایک حرمت والے مہینہ (کو حلال بنا لیتے اور اس) کی حرمت کو دوسرے (حلال) مہینے پر ڈال دیتے تھے۔ ابن جریر نے ابو مالک کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اہل جاہلیت سال کے تیرہ مہینے کردیتے تھے (ایک ماہ میں لوند مان لیتے تھے پس) محرم کو بھی صفر قرار دیتے تھے ‘ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ عرب ماہہائے حرام کی حرمت کا عقیدہ رکھتے تھے اور یہ عقیدہ انہوں نے دین ابراہیمی سے سیکھا تھا جس پر مضبوطی سے قائم تھے۔ لیکن عموماً ان کی روزی شکار یا پھر لوٹ مار پر موقوف تھی ‘ اسلئے تین مہینے تک پے در پے لڑائی سے رکے رہنا ان کیلئے بڑا دشوار تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کبھی کبھی کسی حرمت والے مہینہ میں ان کی لڑائی واقع ہوجاتی تھی اور لڑائی کو ٹالنا ان کو گوارا نہ ہوتا تھا۔ یہی بنیاد تھی ‘ اس بات کی کہ وہ ایک حرمت والے مہینہ کی حرمت کو دوسرے مہینہ پر ٹال دیتے تھے۔ محرم کو صفر اور صفر کو محرم بنا لیتے تھے (اور اس طرح محرم میں قتل و غارت گری کا جواز نکال لیتے تھے) اور اگر صفر کے مہینہ کی بھی حرمت مؤخر کرنا ہوتی تو ربیع الاوّل کو حرمت کا مہینہ کرلیتے تھے۔ اسی طرح تحریم میں مزید تاخیر کرتے چلے جاتے تھے یہاں تک کہ تحریم کا یہ چکر (ایک ماہ کے بعد دوسرے ماہ پر اور دوسرے ماہ کے بعد تیسرے ماہ پر اور تیسرے ماہ کے بعد حتیٰ کہ) پورے سال کو گھیر لیتا تھا۔ جب اسلام آیا تو اس وقت ایک زمانہ کے بعد محرم کی حرمت محرم ہی میں لوٹ کر آچکی تھی۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں خطبہ دیا (اور اس میں اسی بات کا تذکرہ کیا) صحیحین میں حضرت ابوبکرہ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن (10؍ ذی الحجہ کو) خطاب کیا اور فرمایا : زمانہ چکر کاٹ کر اسی ہیئت پر آگیا ہے جس ہیئت پر آسمان و زمین کی پیدائش کا دن تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہے جن میں چار مہینے حرمت والے مہینے ہیں ‘ تین پے در پے ذیعقدہ ‘ ذی الحجہ ‘ محرم اور (ایک) رجب مضر جو جمادی (الثانیہ) اور شعبان کے درمیان ہوتا ہے۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا : یہ کونسا مہینہ ہے ؟ ہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی خوب واقف ہیں۔ آپ یہ سن کر خاموش رہے۔ ہم نے خیال کیا کہ شاید اس مہینہ کا نام کوئی دوسرا نام (مروج نام کے علاوہ) لیں گے (لیکن) اپ نے فرمایا : کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا : جی ہے ‘ کیوں نہیں۔ فرمایا : یہ شہر کونسا ہے ؟ ہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی خوب واقف ہیں۔ آپ یہ سن کر خاموش رہے۔ ہمارا خیال ہوا کہ شہر کا نام مقررہ نام کے علاوہ کچھ اور لیں گے۔ فرمایا : کیا یہ مکہ شہر نہیں ؟ ہم نے عرض کیا : جی ہے ‘ کیوں نہیں۔ فرمایا : یہ دن کونسا ہے ؟ ہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول خوب واقف ہیں۔ آپ خاموش رہے۔ ہمارا گمان ہوا کہ شاید کہ کوئی دوسرا نام لیں گے۔ لیکن آپ نے فرمایا : کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا : جی ہے ‘ کیوں نہیں۔ فرمایا : تو جس طرح تمہارا یہ دن اس ماہ اور اس شہر میں حرمت والا ہے ‘ اسی طرح تمہارے آپس میں باہمی خون اور مال اور آبروئیں بھی حرام ہیں (کسی کو کسی کا قتل یا آبرو ریزی یا ناجائز مال لینا جائز نہیں) عنقریب تم کو اپنے رب کے سامنے جانا ہوگا اور وہ تمہارے اعمال کی بازپرس کرے گا۔ اسلئے خوب سن لو کہ میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگے۔ تم نے سن لیا ‘ کیا میں نے حکم پہنچا دیا ؟ صحابہ نے عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : اے اللہ تو بھی گواہ ہے۔ اب جو حاضر ہے ‘ وہ اس کو (یہ حکم) پہنچا دے جو اس وقت موجود نہیں ہے۔ کبھی سننے والے سے وہ شخص زیادہ یاد رکھتا ہے جس کو سننے والا پہنچاتا ہے۔ علماء (یا صحابہ) کا بیان ہے کہ عرب (جاہلیت) میں نسیئ کا رواج برابر جاری تھا۔ بعض سال وہ کسی مہینہ میں اور اگلے سال کسی اور مہینے میں وہ حج کرتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے کہ دو سال ایک ہی مہینہ میں حج کرتے تھے۔ ذی الحجہ میں دو سال ‘ محرم میں دو سال ‘ صفر میں دو سال ‘ اسی طرح ہر ماہ میں دو سال حج کرتے تھے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ حج وداع سے پہلے جو حضرت ابوبکر کی زیر قیادت حج کیا گیا ‘ وہ ماہ ذیعقدہ میں دوسرے سال کا حج تھا اور اگلے سال جب رسول اللہ ﷺ نے حج وداع کیا تو وہ حج شرعی یعنی ذی الحجہ میں تھا۔ نویں تاریخ کو آپ نے عرفات میں قیام کیا اور دسویں تاریخ کو منٰی میں خطبہ دیا اور بتایا کہ نسیئ کے مہینے منسوخ ہوگئے اور چکر کاٹ کر زمانۂ (حج) وہیں آگیا جس پر اللہ نے آسمان و زمین کی پیدائش کے دن مہینوں کا حساب قائم کیا تھا۔ حضور ﷺ نے اس کی پابندی کا حکم دیا تاکہ اگلے زمانہ میں اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرلی جائے۔
سب سے پہلے نسیئ کا رواج کس نے قائم کیا ‘ اس میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ حضرت ابن عباس ‘ ضحاک ‘ قتادہ اور مجاہد کا قول ہے کہ نسیئ کے بانی قبیلۂ مالک بن کنانہ کے افراد تھے۔ یہ تین اشخاص تھے : ابو ثمامہ ‘ جندل بن عوف اور ابن امیہ کنانی۔ کلبی نے کہا : سب سے پہلے اس رسم کو جاری کرنے والا نعیم بن ثعلبہ کنانی تھا ‘ یہ حج کے زمانہ میں امیر حج ہوا کرتا تھا۔ جب لوگ حج سے فارغ ہونے لگتے تھے تو وہ کھڑا ہو کر لوگوں سے خطاب کرتا اور کہتا تھا : جو فیصلہ میں کر دوں ‘ اس کی تردید نہیں کی جاسکتی۔ میرے فیصلہ پر نکتہ چینی کی جاسکتی ہے ‘ نہ اس کی تغلیط ہوسکتی ہے۔ مشرک برابر لبیک کہتے جاتے اور اس سے درخواست کرتے کہ ایک ماہ کا لوند کر دے تاکہ وہ لوند کے مہینے میں لوٹ مار کرسکیں۔ اگر وہ کہہ دیتا کہ اس سال صفر (کا مہینہ) حرام ہے (یعنی محرم کی جگہ صفر کو حرمت کا مہینہ قرار دے دیا گیا) تو لوگ فوراً کمانوں سے تانت اتار دیتے اور تیروں سے بوریاں نکال دیتے اور اگر وہ کہہ دیتا کہ یہ ماہ حلال ہے تو لوگ کمانوں پر تانت چڑھا لیتے اور تیروں میں بوریاں پیوست کرلیتے اور لوٹ مار شروع کردیتے۔ نعیم بن ثعلبہ کے بعد امیر حج ایک اور شخص ہوا جس کو جنادہ بن عوف کہا جاتا تھا۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پایا تھا۔ عبدالرحمن بن زید بن اسلم کا بیان ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں (نعیم بن ثعلبہ کے بعد اہل جاہلیت کا حج کرانے والا موسم حج کا امیر) بنی کنانہ کا ایک آدمی تھا ‘ جس کا نام غلمس تھا۔ ایک کنانی شاعر نے اسی کے متعلق کہا تھا کہ لوند کا مہینہ مقرر کرنے والا ہمارے اندر غلمس ہے (آئندہ سال کیلئے) لوند کا اعلان ذی الحجہ میں اس وقت کیا جاتا تھا جب عرب حج کیلئے جمع ہوتے تھے۔
جریر نے بروایت ضحاک ‘ حضرت ابن عباس کی طرف اس قول کی نسبت کی ہے کہ نسیئ کا بانی عمرو بن لخی بن قمعہ بن خندف تھا۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس (قبیلۂ ) بنی کعب کے مورث اعلیٰ عمر بن لخی بن قمعہ بن خندف کو میں نے دوزخ کے اندر دیکھا تھا کہ (اپنی) انتڑیاں گھسیٹتا پھر رہا تھا۔ ہمارا مذکورہ بیان اسی نسیئ کے متعلق تھا جس کو اللہ نے
زیادۃ فی الکفر فرمایا ہے کیونکہ اس نسیئ سے اللہ کے حرام کئے ہوئے (مہینہ) کی حلت اور اللہ کے حلال کئے ہوئے (مہینہ کی حرمت بنا دی جاتی تھی اور اس سے اس کفر میں مزید بیشی ہوجاتی تھی جس میں مشرک مبتلا تھے۔
یضل بہ الذین کفروا اس سے کافروں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔
یحلونہ عاما ویحرمونہ عاما ایک سال تو ایک مہینہ کو حلال بنا لیتے ہیں اور دوسرے سال اسی کو حرام قرار دے دیتے ہیں۔ یہ دونوں جملے گمراہی کی تشریح ہیں ‘ یا جملۂ حالیہ ہیں۔
لیوا طؤا عدۃ ما حرم اللہ تاکہ اللہ کے حرام کئے ہوئے (چار مہینوں) کی گنتی تو پوری کرلیں ‘ گنتی میں موافقت کرلیں۔
فیحلوا ما حرم اللہ اور جو مہینے اللہ نے حرام کر دئیے ہیں ‘ ان کو حلال بنا لیں۔ گویا چار مہینوں کی تعداد ان کے پیش نظر رہتی ہے ‘ وقت کا لحاظ نہیں ہوتا۔
زین لھم سوء اعمالھم ان کی بدکاریاں ان کی نظر میں مرغوب بنا دی گئی ہیں۔ یعنی شیطان نے ان کی نظروں میں بدکاریاں رچا بسا دی ہیں جس کی وجہ سے وہ بدکاری کو اچھا خیال کرتے ہیں۔ یا اللہ کی طرف سے تزئین کا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے ان کی مدد چھوڑ دی اور ان کو گمراہ چھوڑ دیا۔ اگلا جملہ اس معنی سے مناسبت رکھتا ہے۔ فرمایا ہے :
وا اللہ لا یھدی القوم الکافرین۔ اور اللہ کافر لوگوں کو ہدایت یاب نہیں بناتا۔
محمد بن یوسف صالحی نے محمد بن عمر اور محمد بن سعید کی روایت سے نقل کی ہے کہ کچھ نبطی لوگ ملک شام سے مدینہ میں روغن زیتون لاتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں سے تذکرہ کیا کہ رومیوں نے بڑی فوجیں جمع کی ہیں اور ہرقل نے اپنے آدمیوں کو ایک سال کی تنخواہ بھی تقسیم کردی ہے اور ان کے ساتھ مختلف قبائل بنی لخم ‘ بنی جذام ‘ بنی عاملہ ‘ بنی غسان وغیرہ بھی اپنے اپنے مقاموں سے چل دئیے ہیں اور ان کا ہر اوّل دستہ بلقاء تک آگیا ہے۔ مگر یہ ساری اطلاع غلط تھی۔ رسول اللہ ﷺ کو اس خبر کی جب اطلاع پہنچی تو آپ نے بھی لوگوں کو شام کی طرف چڑھائی کرنے کی دعوت دے دی۔ طبرانی نے حضرت عمران بن حصین کا بیان ضعیف سند سے بیان کیا ہے کہ عرب کے عیسائیوں نے ہرقل کو لکھ کر بھیجا تھا کہ یہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے ‘ تباہ ہوچکا ہے۔ لوگ مسلسل قحط میں مبتلا ہیں ‘ ان کے مویشی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اگر آپ اپنے دین کی حمایت چاہتے ہیں تو یہ موقع ہے۔ اس اطلاع پر ہرقل نے اپنے ایک سردار کو چالیس ہزار فوج دے کر روانہ کردیا۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے بھی جہاد کا حکم دے دیا۔
ابن ابی حاتم اور ابو سعید نیشا پوری نے حسن سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا : ابو القاسم ! اگر تم (نبوت کے دعوے میں) سچے ہو تو شام کو جاؤ ‘ وہ انبیاء کی سرزمین ہے۔ حضور ﷺ نے عزم کرلیا اور آپ کے پیش نظر صرف شام کا جہاد تھا۔ جب تبوک میں پہنچے تو اللہ نے سورت بنی اسرائیل کی یہ آیات نازل فرمائیں : وَاِنْ کَانُوْا لیَسْتَفِزُّوْنَکَ مِنَ الْاَرْضِ الخ یعنی وہ تو آپ کو مدینے سے اکھاڑنے کے خواہشمند ہیں۔ ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کا قول اور ابن ابی شیبہ و ابن المنذر نے مجاہد کا قول اور ابن جریر نے حضرت سعید بن جبیر کا بیان نقل کیا ہے کہ اللہ نے جب مشرکوں کو کعبہ کے قریب جانے سے روک دیا اور یہ حکم حج کے زمانہ کیلئے بھی تھا اور بغیر حج کے بھی ‘ تو قریش نے کہا : اب تجارتی سامان ہم کو نہیں ملے گا۔ بازار ختم ہوجائیں گے اور ہم کو جو کچھ تجارت سے ملتا تھا ‘ اب نہیں ملے گا۔ پس اس (تجارتی انقطاع) کے عوض اللہ نے مسلمانوں کو اہل کتاب سے جہاد کرنے کا حکم دے دیا اور اس وقت تک قتال پر مامور کردیا کہ وہ یا تو مسلمان ہوجائیں یا ذلیل ہو کر جزیہ ادا کریں۔ اسی کے متعلق فرمایا : وَاِنْ خِیْفُمْ عَیْلَۃً فَسَوْفَ یُغْنِیْکُمْ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ اگر تم کو ناداری کا اندیشہ ہو تو (اندیشہ نہ کرو) اللہ اپنے فضل سے تم کو ضرور غنی بنا دے گا۔ دوسری آیت میں فرمایا : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلَونَکُمْ مِّنَ الْکُفَارِ وَلْیَجِدُوْا فِیْکُمْ غِلْظَۃً اس پر رسول اللہ ﷺ نے رومیوں سے لڑنے کا پختہ ارادہ کرلیا ‘ کیونکہ عرب کی سرزمین سے وہ ہی سب سے قریب تھے اور دعوت حق کو قبول کرنے کے بھی زیادہ اہل تھے۔ اسلام سے ان کو قرب حاصل تھا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ طائف سے واپس آکر رسول اللہ ﷺ نے رومیوں سے جہاد کرنے کی تیاری کا حکم دے دیا۔ محمد بن یوسف صالحی کا بیان ہے کہ تبوک کے سال جب رسول اللہ ﷺ نے رومیوں سے جہاد کرنے کا ارادہ کیا تو وہ زمانہ بڑی تنگدستی کا تھا۔ گرمی بھی سخت تھی ‘ ملک بھی خشک تھا اور پھلوں کی فصل بھی تیار تھی۔ لوگ اپنے پھلوں کی نگرانی کیلئے مدینہ میں رکنا اور سایہ میں رہنا پسند کرتے تھے۔ ایسے وقت اور اس حالت میں روانگی ان کو ناگوار تھی۔ رسول اللہ ﷺ کا دستور تھا کہ جب کسی جہاد پر جانے کا ارادہ ہوتا تو بطور کنایہ درپردہ فرما دیتے اور توریہ کے طور پر کسی دوسری جگہ کا اظہار کردیتے تھے۔ صرف تبوک کا جہاد ایسا ہوا کہ حضور ﷺ نے کھول کر لوگوں سے ارادہ کا اظہار کردیا کیونکہ مسافت لمبی تھی ‘ زمانہ بھی سخت تھا اور جن دشمنوں کا مقابلہ کرنا تھا ‘ ان کی تعداد بھی بہت تھی۔ حضور ﷺ نے نام لے کر اظہار فرما دیا تاکہ لوگ تیاری کرلیں۔ ابن ابی شیبہ ‘ بخاری اور ابن سعد نے حضرت کعب بن مالک کی روایت سے بھی اسی طرح بیان کیا ہے ‘ اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے گرداگرد رہنے والے قبائل عرب کو بھی شرکت کی دعوت دی تھی اور مکہ کو بھی پیغام بھیج دیا تھا ‘ چناچہ آپ کے ساتھ بکثرت لوگ ہوگئے لیکن منافق اور مخلص مؤمنوں میں سے بھی کچھ سست کار لوگ ساتھ نہیں گئے۔ ان لوگوں کے متعلق اللہ نے آیت ذیل نازل فرمائی :
Ayah 9:38یایھا الذین امنوا مالکم اذا قیل لکم انفروا فی سبیل اللہ اثاقلتم الی الارض اے ایمان والو ! تم لوگوں کو کیا ہوا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں (جہاد کیلئے) نکلو تو زمین کو لگے جاتے ہو۔ یہ خطاب صرف ان مسلمانوں کو ہے جو سستی کی وجہ سے نہیں گئے تھے ‘ یا اس خطاب میں منافق بھی شامل ہیں کیونکہ زبانوں سے تو وہ بھی ایمان کے مدعی تھے۔ ” مالکم “ میں استفہام تنبیہی ہے اور اِذَا قِیْلَ کا مطلب یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے تم کو حکم دے دیا تھا۔ انفروا یعنی نکلو۔ اثَاقَلْتُمْ تم بوجھل ہوگئے ‘ سست پڑگئے یعنی تم اپنی زمین اور اپنے گھروں سے چمٹ گئے۔
ارضیتم بالحیوۃ الدنیا من الاخرۃ کیا تم نے آخرت (کی نعمتوں) کے عوض دنیاوی زندگی کو پسند کرلیا ؟ یعنی آخرت کی نعمتوں کو چھوڑ کر ان کے عوض تم نے دنیوی (حقیر) ساز و سامان کو پسند کرلیا۔
فما متاع الحیوۃ الدنیا فی الاخرۃ الا قلیل یعنی آخرت کی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیوی آرام و راحت نہایت حقیر اور ناپائیدار ہے۔ قلیل سے مراد ہے حقیر ‘ قلیل المیعاد۔
ابن ابی حاتم نے نجدہ بن نقیع کی وساطت سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرب کے ایک قبیلہ کو جہاد کو چلنے کی دعوت دی۔ لیکن قبیلہ والے بوجھل پڑگئے ‘ سستی کی وجہ سے نہیں گئے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 9:39الا تنفرواق یعذبکم عذابا الیما اگر تم جہاد کو (جس کی تم کو دعوت دی جا رہی ہے) نہ نکلے تو اللہ تم کو دردناک عذاب دے گا۔ دنیا میں بھی ‘ آخرت میں بھی۔ جب لوگ نہیں گئے تو دنیا میں اللہ نے بصورت خشک سالی عذاب دیا۔
ویستبدل قوما غیرکم اور تمہارے عوض دوسری قوم کو لے آئے گا۔ یعنی ایسی قوم کو لے آئے گا جو فرمانبردار ہوگی۔ بعض علماء کے نزدیک اس قوم سے مراد اہل یمن ہیں۔ حضرت سعید بن جبیر کے نزدیک اہل فارس مراد ہیں۔
ولا نضروہ شیئا اور تم اس کا کچھ نہیں بگاڑو گے۔ یعنی اللہ کے دین کی مدد کرنے میں تمہاری سست کاری اس کو کچھ ضرر نہیں پہنچائے گی۔ اللہ ہر کام میں ہر چیز سے بےنیاز ہے۔ بعض کے نزدیک ہُ ضمیر رسول کی طرف راجع ہے ‘ یعنی رسول کو تم کوئی ضرر نہ پہنچا سکو گے۔ اللہ نے اپنے رسول سے ان کی حفاظت و کامیابی کا وعدہ کرلیا ہے اور اللہ کے وعدے میں خلاف ورزی ناممکن ہے۔
و اللہ ّ علی کل شیء قدیر۔ اور اللہ ہر چیز پر قابو رکھتا ہے۔ تمہاری جگہ دوسری قوم کو لانے اور اسباب کو بدل دینے اور بغیر کسی کی مدد کے رسول کو نصرت یاب بنا دینے پر بھی قادر ہے۔ جن لوگوں نے جہاد پر جانے میں سستی کی ‘ ان پر آیت میں سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ اول دردناک عذاب کی وعید سنائی جو دنیا اور آخرت دونوں جگہ ہوسکتا ہے ‘ پھر دوسری فرمانبرار قوم کو ان کی جگہ لا سکنے کی اطلاع دی ‘ پھر یہ بھی فرمایا کہ اللہ اپنے دین کو نصرت یاب کرنے میں ان کا محتاج نہیں ہے۔