9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

جو اہل کتاب میں سے خدا پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر (یقین رکھتے ہیں) اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں

قاتلوا الذین لا یؤمنون باللہ ولا بالیوم الاخر ولایحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ولا یدینون دین الحق من الدین اوتو الکتب حتی یعطوا الجزیق عن یدوھم صاغرون۔ جو اہل کتاب نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ روز آخرت پر اور نہ اس چیز کو حرام قرار دیتے ہیں جس کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کردیا ہے اور نہ دین حق اختیار کرتے ہیں ‘ ان سے اس وقت تک لڑو کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھوں سے جزیہ پیش کریں۔ مجاہد نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ کو رومیوں سے جہاد کرنے کا حکم دے دیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اس کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ غزوۂ تبوک پر تشریف لے گئے۔ ایک شبہ : اہل کتاب تو اللہ کو بھی مانتے ہیں اور روز آخرت کو بھی ‘ ان کو غیرمؤمن کیوں فرمایا۔ ازالۂ شبہ : اہل کتاب کا اللہ پر ایمان ایسا نہیں ہوتا جیسا ہونا چاہئے۔ مسیح اور عزیر کو خدا کا بیٹا کہنے کے بعد اللہ کی توحید و بےنیازی اور والدیت سے پاکی کہاں رہی ؟ جب کسی دوسرے کو اللہ جیسا (نسلاً یا صفاً ) مان لیا تو اللہ کی یگانگت و بےہتمائی کہاں باقی رہی ؟ پھر یہودیوں کا اپنے لئے اور عیسائیوں کا اپنے لئے جنت کو مخصوص کرلینا اور یہودیوں کا یہ کہنا کہ صرف چند روز کیلئے ہم کو دوزخ چھو جائے گی اور اہل کتاب کا یہ اختلاف کہ جنت کی نعمتیں ایسی ہی ہوں گی جیسے دنیا کی ‘ یا اس سے الگ ہوں گی اور پھر یہ نزاع کہ جنت دوامی ہے یا فناپذیر اور وہاں کھانا پینا ہوگا یا نہ ہوگا ‘ یہ تمام خیالات و اختلاف عقیدۂ آخرت کو متزلزل اور غیر صحیح بنا دیتے ہیں اور آخرت پر ایمان کو عدم ایمان میں تبدیل کردیتے ہیں۔ وَلاَ یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اور جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دیا ہے ‘ اس کو وہ حرام نہیں قرار دیتے۔ یعنی قرآن و حدیث سے جس چیز کی حرمت ثابت ہے ‘ اس کو وہ حرام نہیں مانتے۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ رسولہ سے (مراد محمد رسول اللہ ﷺ نہیں بلکہ) وہ رسول مراد ہے جس کے اتباع کا اہل کتاب کو دعویٰ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے اصل دین کا بھی اعتقادی اور عملی اتباع نہیں کرتے کیونکہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ نے تو حضور گرامی محمد رسول اللہ ﷺ کا اتباع کرنے کا حکم دیا تھا (اور اہل کتاب اس حکم کو نہیں مانتے اور محمد ﷺ کا اتباع ضروری نہیں سمجھتے) ۔ وَلاَ یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ اور سچے دین کو نہیں اختیار کرتے۔ دین موصوف مضاف اور الحق صفت مضاف الیہ ہے۔ قتادہ کے نزدیک الحق سے مراد اللہ ہے ‘ یعنی اللہ کے دین اسلام کو اختیار نہیں کرتے۔ بعض کے نزدیک الحق سے مراد اسلام ہے۔ ابو عبیدہ نے (الحق سے پہلے مضاف محذوف قرار دیا ہے اور دین کا معنی اطاعت کہا ہے اور) مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ وہ اہل حق کی طاعت کی طرح اللہ کی اطاعت نہیں کرتے۔ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ یعنی وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی ہے۔ اس سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں۔ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صَاغِرُوْنَ یہاں تک لڑو کہ وہ رعیت بن کر جزیہ دینا منظور کرلیں۔ جزیہ کا لغوی معنی ہے بدلہ۔ آخر میں تاء ہیئت جزا کو ظاہر کر رہی ہے ‘ یعنی وہ ہیئت ذلت جو مقررہ رقم ادا کرنے کے وقت ادا کرنے والے کی ہوتی ہے۔ اس سے مراد وہ شخصی ٹیکس ہے جو فی کس مقرر کیا گیا ہو۔ بعض کے نزدیک لفظ جزیہ جَزٰی دَیْنَہٗ (اس نے اپنا قرض چکا دیا) سے مشتق ہے۔ یَدْ سے مراد ہے دست اطاعت ‘ یعنی اطاعت کے ساتھ ادا کریں۔ یا یہ مراد ہے کہ خود اپنے ہاتھ سے ادا کریں ‘ کسی دوسرے کے ہاتھ نہ بھجوائیں۔ حضرت ابن عباس کا یہی قول ہے ‘ اسی لئے اداء جزیہ کیلئے کسی کو اپنا نمائندہ بنانا جائز نہیں۔ یا عَنْ یَدٍ سے مراد ہے مجبور ہو کر ذلت کے ساتھ ادا کرنا۔ ابو عبیدہ نے کہا : جو شخص ناگوارئ خاطر کے ساتھ کوئی چیز دے تو عرب کہتے ہیں : فَلانٌ اعطٰی عَن یدٍ ۔ بعض نے کہا : عَنْ یَدٍ سے مراد ہے نقد ادا کرنا ‘ قرض نہ رکھنا۔ بعض نے کہا : عَنْ یَدٍ سے یہ مراد ہے کہ شکر گذار ہو کر جزیہ ادا کریں کہ مسلمانوں نے ان کو قتل نہیں کیا ‘ کچھ مال لے کر چھوڑ دیا۔ صاغرون یعنی ذلیل اور مغلوب ہونے کی حالت میں جزیہ ادا کریں۔ عکرمہ نے کہا : مراد یہ ہے کہ لینے والا بیٹھا ہو اور دینا والا کھڑا ہو کر پیش کرے۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ اس کی گردن روند کر اس سے جزیہ وصول کیا جائے۔ کلبی نے کہا : لیتے دیتے وقت اس کی گردن پر گھونسا رسید کیا جائے۔ بعض نے کہا : اس کی داڑھی پکڑ کر طمانچہ مارا جائے۔ بعض نے کہا : اس کا گریبان پکڑ کر کھینچتے ہوئے سختی کے ساتھ مقام تحصیل تک لایا جائے۔ بعض نے کہا : جزیہ پیش کرنا ہی ذلت ہے۔ امام شافعی نے فرمایا : ذمیوں پر اسلام کے احکام لاگو کرنا ہی ان کی تذلیل ہے۔ ظاہر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جزیہ لے کر جنگ بند کردینا صرف اہل کتاب کے ساتھ مخصوص ہے ‘ اسی لئے شروع میں حضرت عمر مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیتے تھے ‘ لیکن جب حضرت عبدالرحمن بن عوف نے شہادت دی کہ رسول اللہ ﷺ نے مجوسیوں سے جزیہ قبول فرمایا تھا تو حضرت عمر نے اپنا سابق عمل ترک کردیا۔ رواہ البخاری من حدیث بجالۃ بن عبدۃ۔ امام شافعی کے بجالہ کے (قابل اعتماد یا ناقابل اعتماد ہونے کے) متعلق دو قول ہیں : حدود میں تو امام شافعی نے اس شخص کو مجہول کہا ہے اور جزیہ کے باب میں کہا کہ اس سلسلے کی حدیث صحیح ہے ‘ اسی لئے مجوسیوں سے جزیہ لینے پر اجماع علماء ہے۔ اختلافی مسائل امام ابوحنیفہ کے نزدیک اہل کتاب سے جزیہ لیا جائے گا خواہ وہ عرب ہوں یا عجمی اور عجم کے مشرکوں سے بھی لیا جائے گا خواہ وہ مجوسی ہوں یا بت پرست ‘ البتہ مرتدوں سے نہیں لیا جائے گا۔ امام ابو یوسف کا قول ہے کہ عرب سے بالکل جزیہ نہیں لیا جائے گا ‘ اہل کتاب ہوں یا مشرک۔ جزیہ صرف عجمیوں سے لیا جائے گا ‘ اہل کتاب سے بھی اور مشرکوں سے بھی۔ امام مالک اور اوزاعی کے نزدیک ہر کافر سے جزیہ لیا جائے گا خواہ وہ عرب ہو یا عجمی ‘ کتابی ہو یا کوئی اور۔ ہاں مرتدوں سے اور قریش کے مشرکوں سے نہیں لیا جائے گا۔ امام شافعی نے کہا : جزیہ مذہب کی بنیاد پر ہے ‘ شخصیت کی بنیاد پر نہیں ہے۔ لہٰذا صرف اہل کتاب سے لیا جائے گا خواہ وہ عربی ہوں یا عجمی ‘ بت پرستوں سے بالکل نہیں لیا جائے گا۔ امام شافعی کے نزدیک مجوسی اہل کتاب ہیں۔ امام مالک نے موطأ میں اور امام شافعی نے اَلْاُ مّ میں بیان کیا ہے کہ جعفر بن محمد نے کہا : مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا کہ حضرت عمر نے فرمایا : میں نہیں جانتا کہ ان کے یعنی مجوس کے معاملہ میں کیا کروں ؟ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے فرمایا : میں شہادت دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے یہ فرماتے خود سنا : ” ان کے ساتھ اہل کتاب کا جیسا طریقہ اختیار کرو “۔ امام شافعی نے کہا : ہم سے سفیان نے بوساطت سعید بن مرزبان بروایت نصر بن عاصم بیان کیا کہ فروہ بن نوفل نے کہا : مجوسیوں سے جزیہ کس بنیاد پر لیا جاتا ہے ‘ یہ تو اہل کتاب نہیں ہیں۔ یہ سن کر مستورد (غصہ میں) کھڑے ہوگئے اور فروہ کا گریبان پکڑ لیا اور کہا : دشمن خدا ‘ کیا تو ابوبکر اور عمر اور امیر المؤمنین یعنی علی بن ابی طالب پر طعن کر رہا ہے ؟ ان حضرات نے تو مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔ اس کے بعد مستورد قصر خلافت میں گئے اور اندر سے حضرت علی برآمد ہوئے اور فرمایا : ہائیں ! میں سب سے زیادہ مجوسیوں کی حالت جانتا ہوں ‘ ان کے پاس دینی علم اور کتاب تھی جس کو پڑھتے پڑھاتے تھے۔ ایک بار ان کا بادشاہ نشہ کی حالت میں اپنی بیٹی یا ماں پر جا پڑا ‘ اس کی اس حرکت کو کسی نے دیکھ لیا اور جب بادشاہ کا نشہ اترا تو لوگوں نے اس کو کتابی سزا دینی چاہی۔ بادشاہ نے رعایا کو جمع کیا اور کہا : آدم کے دین سے بہتر کیا کوئی دین ہوسکتا ہے ؟ آدم تو اپنے بیٹوں کا اپنی بیٹیوں سے نکاح کرایا کرتے تھے۔ میں نے آدم کا دین اختیار کرلیا۔ تمہارے لئے بھی آدم کے مذہب سے گریز کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ یہ سن کر لوگوں نے بادشاہ کے مسلک کو اختیار کرلیا اور جس نے مخالفت کی ‘ اس کو قتل کردیا۔ ایک رات میں ہی علماء کے سینوں سے علم زائل ہوچکا تھا۔ پس مجوسی اہل کتاب ہیں ‘ رسول اللہ ﷺ نے اور ابوبکر و عمر نے ان سے جزیہ لیا تھا۔ یہ حدیث ابن جوزی نے التحقیق میں ذکر کی ہے لیکن سعید بن مرزبان پر جرح بھی کی ہے۔ یحییٰ بن سعید نے کہا : سعید بن مرزبان کی روایت لینی میں جائز نہیں سمجھتا۔ یحییٰ (بن قطان) نے کہا : یہ شخص کچھ نہ تھا ‘ اس کی حدیث نہ لکھی جائے۔ قلاس کے نزدیک سعید متروک الحدیث تھا ‘ مگر ابو اسامہ نے اس کو ثقہ کہا ہے اور ابو زرعہ کا قول ہے کہ سعید صدوق تھا مگر مدلس۔ میں کہتا ہوں : امام ابو یوسف نے کتاب الخراج میں بروایت سفیان بن عیینہ بوساطت نضر بن عاصم لیثی لکھا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر نے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا اور میں (تم) سب لوگوں سے مجوسیوں کی حالت سے زیادہ واقف ہوں۔ یہ لوگ اہل کتاب تھے ‘ کتاب الٰہی پڑھتے تھے ‘ علم (شریعت) کی تعلیم دیتے تھے لیکن ان کے سینوں سے علم (الٰہی) نکال لیا گیا۔ امام ابو یوسف نے نصر بن خلیفہ کے حوالہ سے یہ بھی لکھا ہے کہ فروہ بن نوفل اشجعی نے کہا : یہ بات بہت سخت ہے کہ مجوسیوں سے خراج لیا جاتا ہے باوجودیکہ وہ اہل کتاب نہیں ہیں۔ یہ بات سن کر مستورد بن احنف نے کھڑے ہو کر کہا : تو نے رسول اللہ ﷺ پر نکتہ چینی کی ‘ فوراً توبہ کرو ورنہ میں تجھے قتل کر دوں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے تو ہجر کے رہنے والے مجوسیوں سے خراج لیا تھا۔ آخر دونوں اس جھگڑے کو حضرت علی کی خدمت میں لے گئے۔ حضرت علی نے فرمایا : میں مجوسیوں کے متعلق ایک بات بیان کرتے ہوں جس کو تم دونوں پسند کرو گے۔ مجوسی ایک کتابی امت تھی ‘ ان کے پاس (ا اللہ کی) ایک کتاب تھی جس کو وہ پڑھتے تھے۔ ایک بار ان کے بادشاہ نے شراب پی اور نشہ میں اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ کر بستی سے باہر لے گیا۔ پیچھے پیچھے چار آدمی ہو لئے۔ وہاں جا کر اس نے بہن سے قربت کی ‘ پیچھے جانے والے لوگ دیکھ رہے تھے۔ جب نشہ اترا تو بہن نے اس سے کہا : فلاں فلاں لوگوں کی نظروں کے سامنے تو نے ایسی حرکت کی ہے۔ بادشاہ نے کہا : مجھے کچھ معلوم نہیں۔ بہن نے کہا : اب تجھے قتل کردیا جائے گا ورنہ میری بات مان۔ بادشاہ نے کہا : میں ضرور مانوں گا۔ عورت نے کہا : اس فعل کو تو مذہبی مسئلہ بنا دے اور لوگوں سے کہہ دے کہ آدم کا مذہب یہی ہے ‘ حواء کی پیدائش آدم ہی سے ہوئی تھی (گویا حواء ‘ آدم کی بیٹی تھیں) لوگوں کو اسی مذہب کی دعوت دے۔ جو تیرا مذہب مان لے اس کو چھوڑ دے ‘ جو نہ مانے اس کو تلوار سے قتل کر دے۔ بادشاہ نے اس مشورہ پر عمل کیا ‘ مگر بادشاہ کا حکم کسی نے نہیں مانا اور شام تک لوگ قتل ہوتے رہے۔ عورت نے کہا : میں محسوس کرتی ہوں کہ لوگ قتل ہونے سے نہیں ڈرتے ‘ آئندہ تو ان کو جلانے کی دھمکی دے اور ایک جگہ آگ روشن کر دے۔ بادشاہ نے اس مشورہ پر عمل کیا اور لوگوں کو دہکتی آگ میں ڈال دینے کی دھمکی دی تو لوگ ڈر گئے اور بادشاہ کی بات مان لی۔ حضرت علی نے فرمایا : چونکہ مجوسی اہل کتاب تھے ‘ اسلئے رسول اللہ ﷺ نے ان سے خراج لے لیا اور چونکہ مشرک ہوگئے تھے ‘ اسلئے ان سے نکاح اور ان کے ہاتھ کا ذبیحہ حرام قرار دے دیا۔ ابن جوزی نے التحقیق میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اہل فارس کا پیغمبر جب وفات پا گیا تو ابلیس نے ان کیلئے دستور مجوسیت لکھ دیا۔ جواب رسول اللہ ﷺ کے فرمان : مجوسیوں کے ساتھ اہل کتاب جیسا معاملہ کرو ‘ سے ثابت نہیں ہوتا کہ مجوسی اہل کتاب ہیں اور جو سلوک اہل کتاب سے کیا جاتا ہے ‘ وہی مجوسیوں سے بھی کیا جائے ‘ کیونکہ ان سے نکاح اور ان کے ہاتھ کا ذبیحہ تو باجماع امت حرام ہے۔ حدیث کا مطلب صرف اتنا ہے کہ اہل کتاب کی طرح مجوسیوں سے بھی جزیہ لیا جائے ‘ بلکہ حدیث سے تو ہمارے مسلک کی تائید ہوتی ہے کہ مجوسیوں کے اسلاف اگرچہ اہل کتاب تھے اور اللہ کی کتاب پڑھتے پڑھاتے تھے مگر جب سے انہوں نے اللہ کا دین چھوڑ دیا اور کتاب اللہ پر عمل کرنا ترک کردیا تو علم ان کے سینوں سے اٹھا لیا گیا اور ابلیس نے دستور مجوسیت ان کیلئے بنا دیا ‘ اس وقت سے یہ اہل کتاب نہیں ہے ‘ اسی لئے علماء کا اتفاق ہے کہ مجوسی اہل کتاب نہیں ہیں۔ ہاں امام شافعی کا قول ایک روایت میں آیا ہے کہ یہ اہل کتاب ہیں ‘ لیکن دوسری روایت میں امام شافعی کا قول بھی جمہور کے قول کے موافق آیا ہے کہ یہ اہل کتاب نہیں ہیں۔ میں کہتا ہوں : اگر مجوسیوں کے اسلاف کا اہل کتاب ہونا ان مجوسیوں کے اہل کتاب قرار دینے کیلئے کافی ہے تو ہمارے زمانہ کے یہ ہندو بت پرست بھی اہل کتاب ہوجائیں گے۔ ان کے پاس بھی وید نام کی ایک کتاب ہے جس کے چار حصے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ خدائی کتاب ہے۔ پھر ان کے اکثر اصول بھی شرعی اصول کے موافق ہیں اور جن اصولوں میں اختلاف ہے ‘ وہ شیطانی آمیزش کا نتیجہ ہیں۔ جس طرح شیطانی تفرقہ اندازی سے مسلمانوں کی ایک جماعت پھٹ کر تہتر فرقے بن گئی۔ ہندوؤں کے اہل کتاب ہونے کی تائید قرآن سے بھی ہو رہی ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَاِن مِّن اُمَّۃٍ الاَّ خَلاَفِیْھَا نَذِیْرٌ ہر امت میں کوئی نہ کوئی پیغمبر ضرور گذرا ہے۔ مجوسیوں سے تو ہندو اہل کتاب کہلانے کے زیادہ مستحق ہیں۔ مجوسیوں کے بادشاہ نے تو نشہ سے بدمست ہو کر اپنی بہن سے زنا کیا اور اپنے دین و کتاب کو چھوڑ دیا اور دین آدم کا مدعی بن بیٹھا۔ مگر ہندوؤں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی ‘ البتہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا انکار کرنے کی وجہ سے کافر ہوگئے۔ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ چوتھے وید میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی بشارت مذکور ہے جس کو پڑھ کر بعض ہندو مسلمان ہوگئے ہیں۔ وا اللہ اعلم امام شافعی قائل ہیں کہ بت پرستوں سے جزیہ نہ لیا جائے۔ اس کے ثبوت میں بعض شوافع آیت قاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃً (کافروں سے لڑؤ یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے) کو پیش کرتے ہیں۔ مگر اہل کتاب اور مجوسی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں ‘ اہل کتاب کا استثناء تو خود قرآن میں موجود ہے اور مجوسیوں کا استثناء حدیث سے ثابت ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہجر کے رہنے والے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔ ہم کہتے ہیں کہ آیت مذکورہ کے عموم سے مجوسی بالاجماع خارج ہیں۔ ان کی تخصیص کی وجہ حدیث مذکور بھی ہے اور ایک عقلی علت مخصصہ بھی ہے۔ عقلی وجہ تخصیص یہ ہے کہ وہ مشرک ہیں اور ظاہر ہے کہ بت پرست بھی انہی کی طرح مشرک ہیں ‘ لہٰذا بت پرستوں کو بھی مجوسیوں کے حکم میں ہونا چاہئے۔ رہی یہ بات کہ مجوسیوں کے اسلاف اہل کتاب تھے تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا (کیونکہ مشرکوں اور بت پرستوں کے اسلام بھی صحیح طور پر اہل کتاب تھے۔ اس کے علاوہ) یہ مجوسی تو بہرحال اپنے اسلاف کی کتاب کے حامل اور عامل نہیں) ۔ پھر (مجوسیوں کی طرح) بت پرستوں کو باندی غلام بنانا باتفاق علماء درست ہے ‘ لہٰذا مجوسیوں کی طرح ان پر جزیہ مقرر کرنا بھی درست ہونا چاہئے۔ غلامی ہو یا تقرر جزیہ ‘ دونوں صورتوں میں ذاتی (تصرفات کی) آزادی میں تو خلل پڑتا ہی ہے۔ غلام ‘ آقا کیلئے کماتا ہے اور اپنی کمائی سے خود اپنا خرچ بھی چلاتا ہے۔ جزیہ ادا کرنے والا بھی اپنی کمائی سے خود بھی کھاتا ہے اور جزیہ بھی ادا کرتا ہے۔ سلیمان بن بریدہ نے اپنے باپ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کو کسی لشکر یا فوجی دستہ کا امیر بنا کر بھیجتے تھے تو خصوصیت کے ساتھ اللہ سے ڈرنے اور ساتھ والے مسلمانوں سے بھلائی کرنے کی نصیحت فرماتے تھے ‘ پھر فرماتے تھے : اللہ کا نام لے کر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ جو اللہ کے منکر ہوں ‘ ان سے قتال کرنا ‘ لڑنا ‘ شکست نہ کھانا ‘ عہد شکنی نہ کرنا ‘ کسی کے ناک کان نہ کاٹنا ‘ کسی بچے کو قتل نہ کرنا۔ دشمن سے آمنا سامنا ہو تو سب سے پہلے اس کو تین باتوں کی دعوت دینا ‘ اگر وہ ان تین باتوں میں سے ایک بات کو بھی مان نہیں تو قبول کرلینا اور جنگ سے باز رہنا۔ اوّل ان کو اسلام کی دعوت دینا ‘ اگر مان لیں تو تم بھی مان لینا اور ان سے جنگ ترک کردینا ‘ پھر ان سے کہنا کہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر مدینہ کو چلے چلو ‘ وہاں رہنا۔ اگر تم ایسا کرلو گے تو دوسرے مہاجرین کی طرح ہوجاؤ گے۔ ان کا نفع تمہارا نفع اور ان کا ضرر تمہارا ضرر مانا جائے گا۔ اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو ان سے کہہ دینا کہ دوسرے بیرونی مؤمنوں کی فہرست میں ان کا شمار ہوگا۔ اعراب اہل اسلام پر جو حکم لاگو ہے ‘ وہی ان پر ہوگا۔ غنیمت اور فے کے مال میں بغیر جہاد میں شرکت کرنے کے ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔ اگر وہ مسلمان ہونے سے انکار کردیں تو ان سے جزیہ طلب کرنا ‘ جزیہ دے دیں تو لے لینا اور ان سے جنگ ترک کردینا۔ آخر میں اگر وہ جزیہ ادا کرنے سے بھی انکار کردیں تو اللہ سے مدد کی درخواست کرنا اور ان سے قتال کرنا ‘ الحدیث۔ رواہ مسلم حضرت انس کی روایت کردہ حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عرب کتابی سے بھی جزیہ لینا جائز ہے۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالد بن ولید کو اکیدر حاکم دومتہ الجندل کی طرف بھیجا ‘ حضرت خالد اس کو گرفتار کر لائے۔ رسول اللہ ﷺ نے جانی پناہ دے دی اور اداء جزیہ کی شرط پر اس سے صلح کرلی۔ رواہ ابو داؤد حضرت یزید بن رومان اور حضرت عبد اللہ بن صدیق اکبر کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اکیدر بن عبدالملک کندی شاہ دومتہ الجندل کی طرف حضرت خالد بن ولید کو بھیجا تھا۔ اس روایت میں ہے کہ اکیدر سے جزیہ کی شرط پر آپ نے صلح کرلی۔ رواہ ابو داؤد والبیہقی۔ حافظ نے لکھا ہے : اگر اکیدر کا کندی ہونا ثابت ہوجائے تو حکم جزیہ صرف عجم کے ساتھ مخصوص نہ رہے گا ‘ کیونکہ اکیدر کا عربی ہونا یقینی ہوگا (بنی کندہ عرب کا ایک قبیلہ تھا) اور جب یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ جزیہ کے ساتھ نہ اہل کتاب کی خصوصیت ہے نہ عجم کی ‘ تو امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا مسلک صحیح قرار پائے گا۔ دونوں میں صرف اتنا فرق ہوگا کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک عرب کے بت پرستوں سے نہ جزیہ لینا درست ہوگا نہ ان کو غلام بنانا (کیونکہ اکیدر عیسائی یا مجوسی تھا) عبدالرزاق نے بوساطت معمر زہری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (جزیہ پر) بت پرستوں سے صلح کرلی مگر عرب بت پرستوں سے (جزیہ نہیں لیا اور جزیہ لے کر صلح نہیں کی) ۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ عربوں میں ان کے سامنے پلے بڑھے تھے اور قرآن بھی عرب کی زبان میں ہی اترا تھا ‘ اسلئے عرب کیلئے معجزہ کا ظہور ناقابل انکار تھا۔ اسی وجہ سے عرب (کے بت پرستوں) سے سوائے اسلام کے اور کچھ قبول نہیں کیا جاسکتا ورنہ قتال کیا جائے گا۔ یہی حالت مرتدوں کی ہے ‘ مرتد ہدایت پانے اور اسلام کی خوبیوں سے واقف ہونے کے بعد انکار کرتا اور اسلام کو ترک کرتا ہے (اس کے پاس اسلام سے ناواقفیت کا کوئی عذر نہیں ہوتا ‘ اسی لئے) اسلام یا قتال کے سوا اس کی طرف سے جزیہ قبول نہیں کیا جاسکتا۔ امام محمد بن حسن نے بوساطت مقسم حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عرب کے مشرکوں سے سوائے اسلام یا جنگ کے اور کچھ قبول نہ کیا جائے۔ اگر عرب کے بت پرستوں یا مرتدوں پر دست رسی ہوجائے تو ان کے بیوی بچوں کو باندی غلام بنا لیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے بنی اوطاس اور ہوازن کے اہل و عیال کو باندی غلام بنایا تھا۔ یہ لوگ عرب اور مشرک تھے ‘ اسی طرح بنی مصطفیٰ کے اہل و عیال کو باندی غلام بنایا تھا۔ بنی حنیفہ جب مرتد ہوگئے تو حضرت ابوبکر نے ان کے بیوی بچوں کو گرفتار کرا کے باندی غلام بنا کے مجاہدوں کو تقسیم کردیا۔ حضرت محمد بن حضرت علی بن ابی طالب کی ماں اور حضرت زید بن حضرت عبد اللہ بن حضرت عمر کی والدہ بھی انہی میں سے تھیں۔ گرفتار کرنے اور مملوک بنانے کے بعد مرتدوں کے بیوی بچوں کو مسلمان ہونے پر مجبور کیا جائے گا ‘ بت پرستوں کے بیوی بچوں کو اسلام پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ امام شافعی کے نزدیک عرب کے مشرکوں کے بیوی بچوں کو بھی گرفتار کر کے مملوک بنایا جاسکتا ہے۔ امام ابو یوسف کہتے ہیں کہ اکیدر والی حدیث سے اگرچہ ثابت ہو رہا ہے کہ عرب سے بھی جزیہ لیا جائے خواہ وہ اہل کتاب ہو یا مشرک ‘ لیکن دوسری احادیث میں آیا ہے کہ جزیرۂ عرب سے یہودیوں اور عیسائیوں کو نکال دیا جائے اور وہاں مسلمان کے سوا کسی کو نہ چھوڑا جائے۔ ان احادیث سے اکیدر والی حدیث کا حکم منسوخ ہوگیا کیونکہ قبول جزیہ تو عرب کے اندر سکونت رکھنے پر مبنی ہے۔ جب غیرمسلم کی سکونت کی ہی اجازت نہ رہی تو پھر عرب مشرک یا کتابی سے جزیہ لینے کا معنی ہی کیا ہوسکتا ہے۔ حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین باتوں کی نصیحت فرمائی تھی ‘ فرمایا تھا : مشرکوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دو اور (غیرملکی کافروں کے) وفد کو ویسی ہی اجازت (داخلہ) دو جیسی میں دیتا ہوں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : تیسری بات بیان کرنے سے حضور ﷺ خاموش رہے ‘ یا میں بھول گیا۔ متفق علیہ حضرت جابر بن عبد اللہ راوی ہیں کہ حضرت عمر نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ‘ آپ فرما رہے تھے : میں یہود و نصاریٰ کو جزیرۂ عرب سے ضرور نکال دوں گا یہاں تک کہ مسلمان کے سوا کسی کو یہاں نہیں چھوڑوں گا۔ رواہ مسلم امام مالک نے موطأ میں زہری کی روایت سے مرسلاً اور صالح بن اخضر نے زہری کی وساطت سے حضرت ابوہریرہ کا بیان موصولاً نقل کیا ہے کہ جزیرۂ عرب میں دو مذہب اکٹھے نہ ہوں گے۔ مؤخر الذکر روایت اسحاق نے اپنی مسند میں نقل کی ہے۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراح کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو آخری کلام کیا ‘ وہ یہ تھا کہ حضور ﷺ نے فرمایا : یہودیوں کو حجاز سے اور اہل نجران (اہل یمن) کو جزیرۂ عرب سے نکال دو ۔ یہ حدیث امام احمد اور بیہقی نے نقل کی ہے۔ مسئلہ : مقدار جزیہ کا بیان امام ابوحنیفہ کے نزدیک مقدار جزیہ کی تعیین باہم صلح اور رضامندی سے ہونی چاہئے۔ جتنی مقدار بھی باہم طے ہوجائے ‘ کوئی حدبندی نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے (یمن کے) نجرانیوں سے دو ہزار کپڑے کے جوڑوں کی وصولیابی کی شرط پر صلح کی تھی۔ ابوداؤد نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل نجران سے (کپڑے کے) دو ہزار جوڑوں کی شرط پر صلح کی تھی ‘ نصف کی وصولیابی ماہ صفر میں اور نصف کی وصولیابی ماہ رجب میں (قرار پائی تھی) امام ابو یوسف نے کتاب الاموال میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل نجران کو ایک تحریر دے دی تھی جس میں لکھا تھا کہ وہ دو ہزار جوڑے دیں گے ‘ ہر جوڑے کی قیمت ایک اوقیہ ہوگی۔ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ کتاب الاموال کی روایت کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ولوجی نے جو ہر جوڑے کی قیمت پچاس ہزار درہم ضروری قرار دی ہے ‘ وہ غلط ہے کیونکہ ایک اوقیہ کے چالیس درہم ہوتے ہیں۔ ایک جوڑا دو کپڑوں کا ہوتا تھا ‘ تہبند اور چادر۔ ذات اور زمین دونوں کا ٹیکس کپڑوں کی شکل میں وصول کیا جاتا تھا۔ امام ابویوسف نے نجران کے غیرمسلموں کی ذات اور زمینوں پر دو ہزار جوڑوں کی تقسیم مانی ہے۔ زمین کا جزیہ زمین پر قائم رہے گا خواہ وہ زمین کسی ذمی یا تغلبی (عیسائی) یا مسلمان کے ہاتھ فروخت ہی کردی گئی ہو (مگر ٹیکس زمین پر قائم رہے گا) یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں کی زمینوں پر بھی زمین کا جزیہ عائد ہوگا ‘ البتہ پرسنل ٹیکس (شخصی جزیہ) عورتوں اور بچوں پر عائد نہ ہوگا۔ ابی ابن شیبہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت عمر نے بنی تغلب کے عیسائیوں سے اس شرط پر صلح کی تھی کہ جتنا مال ایک مسلمان سے بطور وجوب لیا جائے گا ‘ اس سے دوگنا عیسائی سے لیا جائے گا۔ اگر مسلمانوں کا امیر قوت اور زور کے ساتھ غالب آیا ہو (بطور مصالحت غیر مسلم ‘ مسلمانوں کے زیرسایہ نہ آئے ہوں) تو ہر مالدار امیر آدمی سے چار درہم ماہانہ کے حساب سے سالانہ اڑتالیس درہم اور متوسط سے دو درہم ماہانہ کے حساب سے سالانہ چوبیس درہم اور غریب برسرروزگار سے اگر وہ سال کے زیادہ حصہ میں تندرست رہتا ہو ‘ ایک درہم ماہانہ کے حساب سے سالانہ بارہ درہم لئے جائیں۔ امام ابو حنفیہ کا یہی قول ہے۔ امام مالک کا مشہور قول یہ ہے کہ امیر غریب کا کوئی فرق نہیں ‘ ہر شخص سے چار دینار یا چالیس درہم سالانہ لئے جائیں۔ امام شافعی کے نزدیک ہر غریب امیر سے سالانہ ایک دینار لیا جائے۔ امام احمد کے چار اقوال چار مختلف روایات میں آئے ہیں : پہلی روایت میں امام احمد کا قول امام ابوحنیفہ کے قول کے مطابق آیا ہے۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ مقدار کی تعیین امیر اسلام کی رائے پر ہے ‘ معین مقدار کوئی نہیں۔ ثوری کا یہی قول ہے۔ تیسری روایت میں آیا ہے کہ کم سے کم ایک دینار سالانہ لیا جائے ‘ زیادہ کی حدبندی نہیں ہے۔ چوتھی روایت میں آیا ہے کہ صرف اہل یمن کیلئے ایک دینار فی کس سالانہ مخصوص تھا (یہ حکم عمومی ہر ذمی کیلئے نہیں ہے) حدیث جو اہل یمن کے متعلق آئی ہے ‘ اسی کی تائید کرتی ہے۔ حضرت معاذ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مجھے (عامل بنا کر) یمن کو بھیجا تو حکم دیا کہ ہر بالغ سے ایک دینار یا ایک دینار قیمت کے معافر یمنی کپڑے لئے جائیں۔ رواہ ابو داؤد الترمذی والنسائی والدارقطنی وابن حبان والحاکم۔ شافعی کا بھی یہی قول ہے۔ ابو داؤد نے اس کو حدیث منکر قرار دیا ہے اور صراحت کی ہے کہ مجھے یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ امام احمد بھی اس حدیث کو منکر قرار دیتے تھے۔ بیہقی نے اس حدیث کے راویوں میں کچھ اختلاف نقل کیا ہے۔ کسی سند میں اعمش از ابو وائل ازمسروق از معاذ ہے ‘ کسی میں اعمش از ابو وائل از مسروق ہے (گویا یہ بیان مسروق کا ہے ‘ حضرت معاذ کا نہیں ہے) ۔ ابن حزم نے اس کو منقطع کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ مسروق نے معاذ کو نہیں پایا۔ حافظ ابن حجر نے کہا : ابن حزم کے اس قول میں کلام ہے۔ ترمذی نے اس حدیث کو حَسَنْ کہا ہے۔ ترمذی نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ بعض علماء کے نزدیک اس حدیث کی روایت مرسل ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ امام ابوحنیفہ کے مسلک کی تائید حضرت عمر ‘ حضرت عثمان اور حضرت علی کے قول و عمل سے بھی ہوتی ہے۔ اصحاب سنن نے اپنی کتابوں میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی روایت سے حکم کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت عمر نے حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت عثمان بن حینف کو سواد (عراق بھیجا) دونوں حضرات نے جا کر وہاں کی زمین کا سروے کیا اور خراج مقرر کیا اور لوگوں کے تین درجات مقر کئے (اعلیٰ مالدار ‘ متوسط مالدار ‘ نادار برسرروزگار) پھر واپس آکر اپنی کارگذاری کی اطلاع دے دی۔ حضرت عمر کے بعد حضرت عثمان نے بھی اسی پر عمل کیا۔ ابن ابی شیبہ نے بوساطت علی بن مسہر شیبانی بروایت ابن عون محمد بن عبد اللہ ثقفی بیان کیا کہ حضرت عمر نے پرسنل ٹیکس بڑے مالداروں پر فی کس 48 ہزار درہم سالانہ اور درمیانی طبقہ کے لوگوں پر فی کس 24 ہزار درہم سالانہ اور ناداروں پر فی کس 12 درہم سالانہ مقرر کیا۔ یہ حدیث مرسل ہے۔ ابن زنجویہ نے کتاب الاموال میں از مندل از شیبانی از ابن عون از مغیرہ بن شعبہ مذکورہ بالا حدیث لکھی ہے۔ ابن سعد نے طبقات میں ایک اور سند سے بروایت نضرہ لکھا ہے کہ حضرت عمر نے مفتوحہ ممالک میں ذمیوں پر جزیہ لگایا ‘ مالداروں پر اتنا الخ۔ ایک دوسرے سلسلہ میں حارثہ بن مضر کا بیان آیا ہے کہ حضرت عمر نے عثمان بن حنیف کو بھیجا ‘ انہوں نے فی کس 48 اور 24 اور 12 درہم جزیہ قائم کیا۔ یہ واقعہ صحابہ کی موجودگی کا ہے ‘ کسی نے اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی ‘ اسلئے یہ تجویز اجماع کے قائم مقام ہوگئی۔ امام ابو یوسف نے کتاب الخراج میں بروایت سری بن اسماعیل ‘ عامر شعبی کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت عمر نے عراق کی پیمائش کرائی ‘ 360 کروڑ جریب زمین پیمائش سے نکلی۔ اناج کاری کے جریب پر ایک درہم اور ایک قفیز غلہ اور انگوروں کے ایک جریب پر دس درہم اور کھجوروں کے ایک جریب پر پانچ درہم ٹیکس مقرر کئے اور شخصی جزیہ فی کس 12 اور 24 اور 48 درہم سالانہ طے کئے۔ شعبی نے کہا : مجھ سے سعید بن ابی عروبہ نے بروایت قتادہ ‘ ابن مجلز کا بیان نقل کیا کہ حضرت عمر نے نماز کی امامت اور فوج کی قیادت حضرت عمار بن یاسر کے اور محکمۂ قضاء و خزانہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کے اور زمین کا سروے حضرت عثمان بن حنیف سے متعلق کر کے بھیجا اور ان حضرات کے راشن کیلئے ایک بکری روزانہ مقرر کردی۔ آدھی بکری اور شکمی آلات حضرت عمار کیلئے ‘ چوتھائی بکری حضرت ابن مسعود کیلئے اور چوتھائی بکری حضرت عثمان بن حنیف کیلئے۔ اور فرمایا : میں اپنی ذات کو اور آپ لوگوں کو اس مال کے معاملہ میں یتیم کے سرپرست کی طرح خیال کرتا ہوں۔ اللہ نے فرما دیا ہے کہ جو مالدار ہو ‘ وہ (یتیم کے مال سے) بچا رہے اور جو نادار ہو ‘ وہ (اپنے زیرنگرانی یتیم کے مال میں سے) دستور کے مطابق کھا سکتا ہے۔ جس زمین سے روزانہ ایک بکری لے لی جائے ‘ خدا کی قسم ! میرے خیال میں وہاں بہت جلد نقصان (یعنی بکریوں کی کمی) ہوسکتا ہے۔ حضرت عثمان نے جا کر زمینوں کی پیمائش کی ‘ انگور والی ایک جریب زمین پر دس (درہم) کھجور والی جریب پر آٹھ ‘ گنے کی ایک جریب پر چھ ‘ گیہوں کی ایک جریب پر چار اور جو کی ایک جریب پر دو درہم (سالانہ) مقرر کئے اور شخصی ٹیکس بارہ درہم ‘ چوبیس درہم اور اڑتالیس درہم لاگو کیا اور عورتوں بچوں پر کوئی (شخصی ٹیکس) عائد نہیں کیا۔ سعید کا بیان ہے کہ میرے ایک ساتھی نے روایت میں اتنا اختلاف کیا ہے کہ کھجور کی جریب پر دس درہم اور انگور کی جریب پر آٹھ درہم ہونے کا ذکر کیا ہے۔ محمد بن اسحاق نے بروایت حارثہ بن مطرف بیان کیا کہ حضرت عمر نے سواد (عراق) کو مسلمانوں کیلئے تقسیم کرنے کا ارادہ کیا اور سواد (عراق) کی مردم شماری کرائی تو کافروں کی تعداد اتنی نکلی کہ ایک مسلمان کے مقابلہ میں دو دو ‘ تین تین کافر آئے ( گویا عراق کے دیہاتیوں کی تعداد مسلمانوں سے دوگنی ‘ تین گنی نکلی) یہ دیکھ کر صحابہ نے باہم مشورہ کیا۔ حضرت علی نے فرمایا : یہ کفار تو مسلمانوں کے اقتصادی مددگار ہوسکتے ہیں (اسلئے ان کی زمینیں نہ نکالی جائیں بلکہ سالانہ ٹیکس مقرر کردیا جائے) چناچہ حضرت عثمان بن حنیف کو بھیجا گیا اور عثمان نے جا کر (تین طبقات قائم کئے اور ( 48 اور 24 اور 12 درہم سالانہ مقرر کیے۔ حنفیہ نے حضرت معاذ والی حدیث کا یہ جواب دیا ہے کہ یمن کو فوجی غلبہ سے نہیں فتح کیا گیا بلکہ صلح سے وہاں تسلط قائم کیا گیا۔ اہل یمن سے مقدار جزیہ بھی مصالحت سے طے ہوئی ‘ پھر اہل یمن عموماً محتاج تھے ‘ اسلئے مقدار جزیہ ان پر وہ عائد کی گئی جو مفلسوں پر لاگوہوتی ہے۔ اس کی تائید بخاری کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ ابونجیح نے بیان کیا : میں نے مجاہد سے پوچھا : شام والوں پر تو فی کس چار دینار مقرر کئے گئے اور یمن والوں پر فی کس ایک دینار ‘ اس کی کیا وجہ ہے ؟ مجاہد نے جواب دیا : یہ سہولت کے پیش نظر کیا گیا (اہل شام مالدار تھے اور اہل یمن نادار) سفیان ثوری اور امام احمد کے قول کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ کو تو ایک دینار (فی کس) وصول کرنے کا حکم دیا اور اور نجران کے عیسائیوں سے کپڑوں کے دو ہزار جوڑوں پر مصالحت کرلی اور حضرت عمر نے ذمیوں کے تین درجات قائم کئے ‘ جیسا کہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے۔ اور بنی تغلب سے اتنا جزیہ وصول کرنے پر صلح کی جو مسلمانوں سے وصول کئے جانے والے مال سے دو گنا تھا۔ یہ اختلاف تجویز دلالت کر رہا ہے کہ جزیہ کی کوئی خاص حد شرعاً مقرر نہیں ‘ امام مسلمین کی رائے پر اس کی کمی بیشی موقوف ہے۔ مسئلہ : امام ابوحنیفہ ‘ امام مالک اور امام احمد کے نزدیک بےروزگار مفلس سے جزیہ نہ لیا جائے۔ امام شافعی کا مسلک ایک روایت میں تو یہی ہے ‘ دوسری روایت میں اس کے خلاف آیا ہے۔ مفلس بےروزگار پر بھی جزیہ واجب ہے لیکن ادا کا مطالبہ اس وقت کیا جائے گا جب وہ فراخ دست ہوجائے گا۔ تیسری روایت میں آیا ہے کہ جب ایک سال پورا ہونے پر بھی نادار بےروزگار فراخ دست نہ ہو سکے تو اس کا الحاق دارالحرب سے کردیا جائے (گویا وہ ذمی نہیں رہا) امام شافعی کی دلیل یہ ہے کہ حضرت معاذ سے رسول اللہ ﷺ نے بلاشرط فرما دیا تھا کہ ہر بالغ سے وصول کرنا۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت عثمان بن حنیف نے بےروزگار نادار پر جزیہ مقرر نہیں کیا۔ ابن زنجویہ نے کتاب الاموال میں لکھا ہے کہ ہشیم بن عدی نے بروایت عمر بن نافع بحوالۂ ابوبکر صلہ بن زفرعینی بیان کیا ہے کہ حضرت عمر نے ایک ذمی بوڑھے کو بھیک مانگتے دیکھا تو فرمایا : کیا بات ہے ؟ بوڑھے نے کہا : میرے پاس مال نہیں ہے اور مجھ سے جزیہ لیا جاتا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا : ہم نے تیرے ساتھ انصاف نہیں کیا کہ تیری جوانی (کی کمائی) کھائی ‘ پھر (بڑھاپے میں بھی) تجھ سے جزیہ لے رہے ہیں۔ پھر آپ نے اپنے کارندوں کو لکھ بھیجا کہ بڑے بوڑھے سے جزیہ نہ لیا کرو۔ بعض سلسلۂ روایات میں اتنا زائد ہے کہ کمائی کرنے والے نادار پر بارہ درہم ہیں۔ رواہ البیہقی۔ ابو یوسف نے بروایت عمرو بن نافع بوساطت ابوبکر بیان کیا کہ حضرت عمر کسی شخص کے دروازے کی طرف سے گزرے ‘ وہاں ایک بوڑھا نابینا سائل (بھیک) مانگ رہا تھا۔ باقی حدیث حسب سابق ہے ‘ اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ حضرت عمر نے اس بوڑھے اور اس جیسے دوسرے لوگوں سے جزیہ لینے کا حکم ساقط کردیا۔ ابوبکر کا بیان ہے : میں اس وقت موجود تھا اور میں نے اس بوڑھے کو دیکھا بھی تھا۔ (اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ کتابی یا آن لائن نسخے سے ملاحضہ فرمائیں۔ طوالت کے باعث اس سے زیادہ نقل نہیں کیا جا رہا)
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہود کہتے ہیں کہ عُزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے یہ بھی انہیں کی ریس کرنے میں لگے ہیں۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں

وقالت الیھود عزیر ابن اللہ اور یہودیوں نے کہا : عزیر اللہ کا بیٹا ہے۔ عزیرٌ تنوین کے ساتھ عربی لفظ ہے ‘ اسم تصغیر ہے۔ بعض کے خیال میں عجمی لفظ ہے اور (اس پر تنوین آنے کی وجہ یہ ہے کہ) یہ عربی کے اسم تصغیر کے مشابہ ہے (باوجود چہارحرفی ہونے کے) اتنا ہی خفیف لفظ ہے جیسے نوح ‘ ہود ‘ لوط (پس سہ حرفی عجمی ناموں کی طرح یہ منصرف ہے) ۔ عاصم کسائی اور یعقوب کے علاوہ باقی قاریوں نے اس لفظ کو بغیر تنوین کے پڑھا ہے کیونکہ غیر منصرف ہے۔ عبید بن عمیر نے کہا : اس قول کا قائل صرف فتحاص بن عاذورا یہودی تھا (کوئی اور قائل نہ تھا) اسی نے اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِیَآءُبھی کہا تھا۔ بغوی نے عطیہ عوفی کی روایت سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ یہودیوں میں حضرت عزیر کو ابن اللہ ماننے کی بنیاد اس طرح پڑی کہ جب حضرت عزیر موجود تھے اور توریت بھی موجود تھی اور تابوت بھی یہودیوں کے پاس تھا تو یہودیوں نے توریت پر عمل چھوڑ دیا اور توریت کو انہوں نے کھو دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے توریت ان کے سینوں سے فراموش کرا دی اور تابوت کو اٹھا لیا۔ یہ حالت دیکھ کر حضرت عزیر سے صبر نہ ہوسکا اور انہوں نے اللہ سے دعا وزاری کی۔ اللہ نے دعا قبول فرما لی اور ان کو توریت لوٹا کر عطا فرما دی (یعنی حضرت عزیر کو بھولی ہوئی توریت پھر یاد ہوگئی) حضرت عزیر نے بنی اسرائیل کو اطلاع عام دے دی اور فرمایا : قوم والو ! اللہ نے توریت مجھے دوبارہ عنایت فرما دی۔ لوگ یہ سن کر (ہر طرف سے) ان سے چمٹ گئے (اور یاد کرنے لگے) اس بات کو کافی عرصہ گذر گیا ‘ پھر کچھ مدت کے بعد اللہ نے تابوت بھی نازل فرما دیا (تابوت کے اندر توریت بند تھی) لوگوں نے حضرت عزیر کی تعلیم دی ہوئی توریت کی تابوت والی توریت سے تطبیق کر کے دیکھی تو ایک ہی طرح پایا۔ یہ بات دیکھ کر کہنے لگے : عزیر کو دوبارہ توریت عطا ہونے کی وجہ صرف یہ ہے کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے۔ کلبی نے ذکر کیا ہے کہ بخت نصر جب بنی اسرائیل پر غالب آگیا تو اس نے ان تمام لوگوں کو قتل کردیا جو توریت پڑھتے تھے۔ حضرت عزیر اس زمانہ میں بچہ تھے ‘ اسلئے ان کو قتل نہیں کیا۔ جب (ستر یا سو سال کے بعد قید سے چھوٹ کر) بنی اسرائیل بیت المقدس میں آئے تو کسی کو توریت یاد نہ تھی۔ اللہ نے حضرت عزیر کو مبعوث فرمایا تاکہ ازسرنو وہ توریت کی تعلیم دیں اور اس بات کو اپنے عزیر ہونے کے ثبوت میں پیش کریں ‘ کیونکہ آپ کو سو برس تک مردہ رکھا گیا تھا اور سو برس کے بعد زندہ کر کے بھیجا گیا تھا۔ یہ پورا قصہ ہم نے سورة بقرہ کی آیت اَوْکَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰی قَرْیَۃٍ وَّھِی خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِھَاالخ کی تشریح کے ذیل میں بیان کردیا ہے۔ روایت میں آیا ہے کہ ایک فرشتہ نے ایک برتن میں پانی لا کر حضرت عزیر کو پلا دیا ‘ پیتے ہی ساری توریت حضرت عزیر کے سینے میں نقش ہوگئی۔ پھر جب حضرت عزیر قوم کے پاس آئے اور ان سے کہا : میں عزیر ہوں ‘ تو قوم نے تکذیب کی اور بولے : اگر تم عزیر ہو تو توریت ہم کو لکھوا دو ۔ حضرت عزیر نے توریت لکھ دی۔ پھر کچھ زمانے کے بعد ایک شخص نے کہا : مجھ سے میرے باپ نے اپنے باپ کا مقولہ نقل کیا تھا کہ توریت کو ایک مٹکے میں رکھ کر انگور کی بیلوں (کی جڑ) میں دفن کردیا گیا تھا (تاکہ بخت نصر کے حملہ کے وقت توریت کا ایک نسخہ محفوظ رہے) اس شخص کی اطلاع پر لوگ اس کے ساتھ مقررہ جگہ پر گئے اور وہاں سے توریت نکال لائے۔ جب اس قدیمی توریت کو حضرت عزیر کی لکھوائی ہوئی توریت سے مقابلہ کر کے دیکھا تو دونوں کو مطابق پایا ‘ ایک حرف بھی نہیں چھوٹا تھا۔ اس پر کہنے لگے : اللہ نے ایک شخص کے سینہ میں پوری توریت القاء کردی۔ اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہوسکتی کہ یہ شخص اللہ کا بیٹا ہے۔ اسی وجہ سے یہودی حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا کہنے لگے۔ وقالت انصٰری المسیح ابن اللہ ط اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد عیسائی اکیاسی برس تک اسلام پر قائم رہے۔ قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے اور رمضان کے روزے رکھتے تھے۔ جب نصاریٰ اور یہود میں جنگ ہوئی تو ایک بہادر یہودی نے جس کا نام بولس تھا ‘ حضرت عیسیٰ کے چند صحابیوں کو شہید کردیا ‘ پھر خود ہی یہودیوں سے کہنے لگا : اگر عیسیٰ برحق تھا اور ہم اس کا انکار کر رہے ہیں تو لامحالہ ہم دوزخی ہوں گے اور عیسائی جنت میں جائیں گے۔ اس طرح ہم گھاٹے میں رہیں گے اور عیسائی فائدہ میں (عیسائیوں کو کافر بنانے کی) میں ایک تدبیر کرتا ہوں تاکہ وہ بھی گمراہ ہو کر دوزخی ہوجائیں۔ بولس کے پاس ایک گھوڑا تھا جس کا نام عقاب تھا ‘ عقاب پر سوار ہو کر ہی وہ جنگ کرتا تھا۔ بولس نے اس گھوڑے کی کونچیں کاٹ دیں اور (دکھاوٹ کے طور پر) ندامت کا اظہار کیا اور اپنے سر پر خاک ڈالتا عیسائیوں کے پاس پہنچا۔ نصاریٰ نے پوچھا : تو کون ہے ؟ بولا : میں تمہارا دشمن بولس ہوں۔ مجھے آسمان سے ایک ندا سنائی دی ہے کہ عیسائی ہوئے بغیر تیری توبہ قبول نہ ہوگی ‘ اسلئے میں نے یہودیت سے توبہ کرلی اور عیسائی ہوگیا۔ عیسائی (اس کی باتوں میں آگئے) اور گرجا میں لے گئے۔ وہاں ایک برس تک وہ ایک کوٹھڑی سے باہر نہیں نکلا نہ دن کو نہ رات کو۔ سال بھر میں انجیل سیکھ گیا۔ پھر باہر آیا اور بولا : مجھے ندا آئی ہے کہ اب تیری توبہ قبول ہوگئی۔ عیسائیوں نے اس کی بات سچ مان لی اور اس سے محبت کرنے لگے۔ پھر بولس ‘ نسطورا کو ایک کمرے میں لے گیا اور عیسائیوں پر اس کو اپنا نائب بنا کر کہا کہ عیسیٰ اور مریم اور الٰہ ‘ تینوں (الوہیت کے عناصر) تھے۔ اس کے بعد روم چلا گیا اور روم کے عیسائیوں کو لاہوت و ناسوت کی تعلیم دی (یعنی یہ کہا) کہ عیسیٰ (حقیقت میں) آدمی نہ تھے ‘ نہ جسم تھے۔ ان کی یہ ظاہری انسانیت و جسمانیت تو عالم ناسوت میں تھی ‘ عالم لاہوت میں وہ اللہ کے بیٹے تھے۔ یہ عقیدہ اس نے ایک شخص کو سکھا کر رومیوں پر اپنا خلیفہ بنا دیا۔ پھر ایک اور آدمی کو طلب کیا جس کا نام ملکا تھا ‘ اس کو تعلیم دی کہ اللہ ازلی ابدی ہے اور عیسیٰ بعینہٖ اللہ ہے۔ جب تینوں کا عقیدہ الگ الگ مضبوط کردیا تو ہر ایک کو الگ الگ تنہائی میں طلب کر کے کہا : تو میرا مخصوص مقرب ہے۔ میں نے عیسیٰ کو خواب میں دیکھا ہے ‘ وہ مجھ سے راضی ہیں۔ میں تو کل اپنے کو قربان کر دوں گا (اور عیسیٰ کے پاس چلا جاؤں گا) تم لوگوں کو اپنے عقیدہ اور مسلک کی تعلیم دینا ‘ میں عیسیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اپنے آپ کو ذبح کر دوں گا۔ اس کے بعد وہ ذبح خانہ (خودکشی کے مقام) میں چلا گیا۔ تیسرا دن ہوا تو تینوں میں سے ہر خلیفہ نے لوگوں کو اپنے مسلک کی دعوت دی۔ ہر ایک کا ایک گروہ بن گیا اور تینوں گروہوں میں باہم اختلاف ہوگیا اور آپس میں خوب قتل و قتال ہونے لگا۔ ذلک قولھم بافواھھم ج یہ ان کا قول ہے ان سے منہ کے کہنے کا (قول تو منہ سے ہی ہوتا ہے پھر) بِاَفْوَاھِھِمْ کہنے سے تاکید مقصود ہے تاکہ مجاز کا احتمال بھی نہ رہے ‘ یعنی یہ خود انہی کے منہ سے نکلا ہوا کلام ہے۔ یا یہ مقصد ہے کہ ان کی یہ بات افواہ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی ‘ صرف زبانی دھکوسلا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ بےمعنی لفظ ہے۔ یضاھون قول الذین کفروا من قبلط یہ بھی ان لوگوں کی سی باتیں کرنے لگے جو ان سے پہلے ہوچکے ہیں۔ یُضَاھِؤُْنَ ہمزہ کے ساتھ اور بغیر ہمزہ کے دونوں لغت ہیں۔ ضَاھَیْتُہٗ اور ضاھاتُہٗ دونوں صحیح ہیں۔ مضاف محذوف ہے ‘ یعنی ان کا قول گزشتہ کافروں کے قول کے مشابہ ہے۔ قتادہ اور سدی نے کہا : عیسائیوں کا قول یہودیوں کے قول سے مشابہ ہے۔ یہودیوں نے حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا کہا اور عیسائیوں نے مسیح کو خدا کا بیٹا۔ مجاہد نے کہا : عیسائیوں کا یہ قول مشرکوں کے قول کے مشابہ تھا۔ مشرکین عرب لات ‘ عُزّٰی اور منات کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ حسن نے کہا : عیسائیوں کا یہ قول گزشتہ کافروں کے قول کی طرح کفریہ تھا ‘ یعنی عیسائی کا کفر گزشتہ کافروں کے کفر کی طرح ہے۔ جیسے مشرکین عرب کے متعلق فرمایا : کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ مِّثْلَ قَوْلِھِمْ تَشَابَھَتْ قُلُوْبُھُمْ انہی کے قول کی طرح گزشتہ لوگوں نے بھی کہا تھا۔ ان کے اور ان سب کے دل کفر میں ایک جیسے ہیں۔ قتیبی نے کہا : مراد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کے یہودیوں اور عیسائیوں کا قول بھی اپنے اسلاف کے قول کی طرح ہے ‘ یعنی ان کا یہ کفر قدیمی ہے ‘ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ قاتلھم اللہ ج ” ان کو اللہ کی مار “ یہ (بظاہر) بددعا ہے (اور حقیقت میں) مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کو غارت کردیا۔ ابن جریج نے یہی تفسیر کی ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی ان پر اللہ نے لعنت کردی ہے۔ بعض نے کہا : (بددعا نہیں) اظہار تعجب مقصود ہے۔ انی یؤفکون۔ یہ کدھر الٹے جا رہے ہیں۔ یعنی جب دلائل اور براہین قائم ہیں تو پھر حق سے باطل کی طرف مڑ کر کہاں جا رہے ہیں۔
Ayah 9:31

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو الله کے سوا خدا بنا لیا حالانکہ اُن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے

اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ انہوں نے اپنے علماء اور دریشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا ہے۔ احبار ‘ حِبْرکی جمع ہے۔ حِبر عالم اور (دینی کتابیں) پڑھنے والے کو کہتے ہیں۔ رُہبان (راہب کی جمع ہے) گرجوں میں رہنے والے (تارک الدنیا) عیسائی (جیسے مسلمانوں میں خانقاہ نشین پیر اور درویش) رب قرار دینے سے یہ مراد ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی کرتے اور علماء و فقراء کے احکام کو مانتے ہیں۔ ترمذی نے صحیح میں اور بغوی نے حضرت عدی بن حاتم کا بیان نقل کیا ہے۔ عدی نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میرے گلے میں سونے کی صلیب پڑی ہوئی تھی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : عدی ! اس بت کو اپنی گردن سے نکال کر پھینک دے۔ میں نے اتار دی۔ پھر حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچا تو آپ اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِپڑھ رہے تھے۔ پڑھ چکے تو میں نے عرض کیا : ہم تو علماء و احبار کی پوجا نہیں کرتے تھے۔ فرمایا : کیا ایسی بات نہ تھی کہ اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو جب علماء و احبار حرام قرار دیتے تھے تو تم اس کو حرام سمجھتے تھے اور اللہ کی حرام کی ہوئی چیز کو جب وہ حلال قرار دیتے تھے تو تم اس کو حلال سمجھ لیتے تھے ؟ میں نے عرض کیا : ایسا تو ضرور ہوتا تھا۔ فرمایا : یہی ان کی عبادت تھی۔ عبدا اللہ بن مبارک کا مقولہ ہے کہ دین کو بدل دینے والے بادشاہ ہوتے ہیں یا علماء و مشائخ۔ والمسیح ابن مریمج اور مسیح بن مریم کو بھی انہوں نے رب بنا لیا ہے۔ وما امروا الا لیعبدوا الھا واحدا لا الہ الا ھوط اور ان کو حکم نہیں دیا گیا مگر اس بات کا صرف ایک معبود کی عبادت کریں جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اور وہ اللہ ہے۔ عبادت کرنے سے مراد ہے اطاعت احکام کرنا ‘ یعنی کسی کی اطاعت میں اگر اللہ کی نافرمانی ہوتی ہو تو اس کی اطاعت نہ کریں۔ باقی جس کی اطاعت کا اللہ ہی نے حکم دیا ہے ‘ جیسے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے خلفاء تو ان کی اطاعت حقیقت میں اللہ ہی کی اطاعت ہے۔ لاَ اِلٰہَ الاَّ ھُوَ- اِلٰھاکی دوسری صفت ہے (پہلی صفت واحدًا ہے) ۔ سبحانہ عما یشرکون۔ وہ ان کے شرک سے پاک ہے۔ یعنی وہ جو عبادت وطاعت میں دوسروں کو اللہ کا ساجھی بناتے ہیں ‘ اللہ ان کی اس حرکت سے پاک ہے۔
Ayah 9:32

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو پورا کئے بغیر رہنے کا نہیں۔ اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے

یریدون ان یطفؤا نور اللہ بافوھھم ویابی اللہ الا ان یتم نورہ ولو کرہ الکافرون وہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ نہیں پسند کرتا مگر اپنے نور کو پورا کرنا اگرچہ کافروں کو یہ بات ناگوار ہو۔ نور سے مراد ہیں وہ دلائل وبراہین جو اللہ کی وحدانیت اور قدوہیت پر دلالت کر رہی ہیں ‘ یا قرآن مراد ہے ‘ یا رسول اللہ ﷺ کی نبوت۔ اَفْوَاھِھِمْ سے مراد ہیں ان کے منہ سے نکلی ہوئی جھوٹی ‘ بےحقیقت باتیں۔ لفظ افواہ سے اس طرف اشارہ ہے کہ قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت باطل کرنے کیلئے جو تکذیبی قول یہ لوگ منہ سے نکالتے ہیں ‘ وہ ایسے ہی بیکار ہیں جیسے کوئی سورج یا چاند کی روشنی اپنی پھونک سے بجھانے کی کوشش کرے (یعنی ان کی اس کوشش سے قرآن نبوت کا نور بجھ نہ سکے گا) یابَی اللہ اللہ انکار کرتا ہے ‘ یعنی نہیں چاہتا ‘ نہیں پسند کرتا۔ اِتمام نور سے مراد ہے دین کو سربلند کرنا اور دین کا بول بالا کرنا اور دین حق کو آخری نقطۂ تکمیل تک پہنچانا۔ وَلَوْکَرِہَ میں لَوْ شرطیہ ہے۔ چونکہ اوپر والی آیت مضمون جزاء پر دلالت کر رہی ہے ‘ اسلئے جزاء کے ذکر کی ضرورت نہیں۔
Ayah 9:33

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کرے۔ اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں

ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق اسی نے بھیجا اپنے رسول (محمد ﷺ کو ہدایت اور دین حق دے کر۔ اَلْھُدٰی سے مراد قرآن مجید ہے جو حلال حرام فرائض اور احکام کو کھول کر بیان کرتا ہے اور جنت کا راستہ بتاتا ہے۔ دین الحق سے مراد اسلام ہے۔ لیظھرہ علی الدین کلہلا تاکہ اس دین کو تمام مذاہب پر غالب کر دے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس جگہ اظہار سے مراد ہے واقف بنا دینا اور ہٗٓ ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے اور الدِّیْنِ کلِّہٖ سے مراد ہیں تمام شریعتیں ‘ یعنی اللہ نے اپنے رسول کو دین حق کا حامل بنا کر بھیجا تاکہ تمام شریعتوں سے ان کو واقف کر دے۔ دوسرے مفسرین نے لکھا ہے کہ اظہار سے مراد ہے غالب کردینا اور ہٗٓ ضمیر دین حق کی طرف راجع ہے ‘ یعنی اسلام کو دوسرے مذاہب پر غالب کرنے اور ان کو منسوخ کرنے کیلئے۔ یا دوسرے مذاہب والوں پر غالب بنانے کیلئے تاکہ تمام اہل ادیان اسلام کے مطیع ہوجائیں اور اس کو اختیار کرلیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابوہریرہ اور ضحاک نے کہا : یہ بات حضرت عیسیٰ کے نزول کے وقت ہوجائے گی ‘ تمام مذاہب والے مسلمان ہوجائیں گے۔ حضرت ابوہریرہ کی مرفوع روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ کے زمانے میں تمام مذاہب برباد ہوجائیں گے۔ میں کہتا ہوں کہ ظاہر یہ ہے کہ ظہور سے مراد ہے تمام مذاہب پر دین حق کا غلبہ کسی ایک زمانہ میں۔ حضرت مقداد کا بیان اس کی تائید کرتا ہے ‘ حضرت مقداد نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا کہ روئے زمین پر کوئی مٹی کا بنا ہوا مکان ‘ یا ڈیرہ ‘ یا خیمہ ایسا نہ بچے گا کہ اس میں دین اسلام داخل نہ ہو عزت والے کی عزت کے ساتھ یا ذلت والے کی ذلت کے ساتھ (یعنی) کلمۂ اسلام کی وجہ سے یا تو اللہ لوگوں کو عزت عطا فرما دے گا اور وہ کلمہ گو ہوجائیں گے یا اس کلمہ کی وجہ سے لوگوں کو ذلیل کر دے گا کہ (کلمہ کا انکار کریں گے مگر) مجبوراً اطاعت کریں گے۔ حضرت مقداد کہتے ہیں کہ میں نے کہا : تو (اس وقت) دین سارا اللہ ہی کا ہوجائے گا (یعنی سب پر اللہ کے دین کو غلبہ حاصل ہوجائے گا) ۔ میں کہتا ہوں : اللہ نے اپنا یہ وعدہ پورا کیا۔ اکثر اطراف عالم میں مختلف مذاہب والے مسلمانوں کے مطیع ہوگئے اور ایک زمانہ میں مسلمانوں کو سب پر غلبہ حاصل ہوچکا۔ لیکن آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ غلبہ ہمیشہ قائم رہے گا ‘ کیونکہ مسلم نے حضرت عائشہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رات و دن ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ (ایک زمانہ میں تمام دنیا میں) لات و عزّٰی کی پوجا ہونے لگے گی۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آیت ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لَیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٗ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ کے نزول کے بعد تو میرا خیال یہ تھا کہ یہ فیصلہ قطعی ہوچکا (آئندہ کبھی کفر کو غلبہ حاصل نہ ہوگا) فرمایا : یہ (اسلام کا غلبہ) تو ہوگا اور جب تک اللہ چاہے گا ‘ رہے گا پھر ایک پاکیزہ ہوا چلے گی اور جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہوگا ‘ اس کی روح قبض ہوجائے گی اور سوائے اہل شر کے اور کوئی باقی نہ رہے گا ‘ سب لوگ اپنے اسلاف کے مذہب (شرک) کی طرف لوٹ جائیں گے۔ حسن بن فضل نے کہا : آیت میں غلبہ سے مراد ہے واضح دلائل وبراہین کی وجہ سے دین کا غلبہ (یعنی اس دین کا ثبوت ایسے دلائل سے ہوگیا جن کو توڑنا ناممکن ہے) بعض کے نزدیک غلبۂ دین سے مراد ان مذہب والوں پر غلبہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کے گرد و پیش میں رہتے تھے (یعنی مشرک ‘ یہودی ‘ عیسائی ‘ مجوسی وغیرہ) امام شافعی نے فرمایا : اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو تمام مذاہب پر اس طرح غالب کیا کہ ہر سننے والے کو بتادیا ہے کہ رسول حق پر ہیں اور ان کی مخالفت کرنے والے باطل پر۔ اور یہ بھی ظاہر کردیا کہ رسول کا انکار کرنے والے دو گروہ ہیں : ایک تو اہل کتاب اور دوسرے وہ لوگ جو بلاکتاب ہیں (یعنی آسمانی کتاب ان کے پاس نہیں ‘ وہ کتاب الٰہی کے حامل ہونے کے مدعی ہیں) اللہ نے اپنے رسول کو غیر کتابی گروہ پر تو اس طرح غالب کردیا کہ وہ بخوشئ خاطر اسلام کے فرمانبردار ہوگئے اور اہل کتاب پر غلبہ کی یہ صورت ہوئی کہ بعض کو قید کیا ‘ بعض بخوشی مسلمان ہوگئے اور بعض نے ذلت کے ساتھ جزیہ ادا کرنا قبول کیا اور جزیہ کا حکم ان پر لاگو ہوگیا۔ تمام مذاہب پر غلبہ پانے کی یہی صورت ہوئی۔ گویا یہ آیت (یعنی لَیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٗ ) آیت وَیَأْبَی اللّٰہُ الاّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ کا بیان ہے ‘ اسی لئے اس جگہ دوسری بار فرمایا۔ ولو کرہ المشرکون اگرچہ مشرک اس کو پسند نہ کریں۔ اس جگہ کافروں کی جگہ المشرکون فرمایا ‘ دوسری آیت میں الکافرون آیا ہے کیونکہ اس جگہ رسول کے انکار کے ساتھ انہوں نے اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک قرار دے رکھا تھا۔