9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 9:13

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر (خدا) کے جلا وطن کرنے کا عزم مصمم کر لیا اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی) ابتدا کی۔ کیا تم ایسے لوگوں سے ڈرتے ہو حالانکہ ڈرنے کے لائق خدا ہے بشرطیکہ ایمان رکھتے ہو

الا تقاتلون قوما نکثوآ ایمانھم وھموا باخراج الرسول تم ایسے لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور رسول کے جلاوطن کرنے کی تجویز کی۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ آیت میں قومًاسے مراد ہیں یہودی اور منافق اور کفار مدینہ جنہوں نے معاہدہ شکنی کی تھی اور رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو لے کر جب تبوک تشریف لے گئے تھے تو مدینہ سے رسول اللہ ﷺ کو نکال دینے کا ارادہ کیا تھا اور کہا تھا : لَیُخَرِجَنَّ الاَ عَزّ مِنْھَا الْاَذَلٌ۔ وھم یدء وکم اول مرۃٍط اور انہوں نے تم سے پہلے چھیڑ نکالی ‘ یعنی تمہاری دشمنی کی ابتداء کی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے کوئی قتال نہیں کیا تھا مگر انہوں نے (خلاف معاہدہ) مشرکوں کی مدد کی۔ یہ تفسیر اور قومًا سے کفار مدینہ مراد لینا ہی صحیح اور قوی ہے کیونکہ یہ سورت غزوۂ تبوک کے بعد نازل ہوئی تھی ‘ اس وقت اہل مکہ مسلمان ہوچکے تھے ‘ لہٰذا اہل مکہ کے متعلق اس آیت کا نزول نہیں ہوسکتا (اور کفار مکہ مراد نہیں ہوسکتے) اس کے علاوہ ہَمُّوْا کا لفظ بتارہا ہے کہ کافروں نے رسول اللہ ﷺ کو نکال دینے کا ارادہ تو کیا تھا مگر کامیاب نہ ہو سکے مگر اہل مکہ نے (مسلمان ہونے سے پہلے) رسول اللہ ﷺ کو شہید کرنے کا مشورہ کر کے طے کرلیا تھا کہ آپ کو قتل کردیں گے اور بالآخر ایسے حالات پیدا کر دئیے تھے کہ آپ مکہ چھوڑ دینے پر مجبور ہوگئے (آخرکار مکہ سے ہجرت کرلی) اللہ نے فرمایا ہے : وَاِخرَاجُ اَہْلِہٖ مِنْہُ اکْبْرُ عِنْدَ اللّٰہِ ۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک کفار مکہ مراد ہیں جنہوں نے صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کی ‘ بنی خزاعہ کے خلاف بنی بکر کی مدد کی۔ انہوں نے ہی دارالندوہ میں جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ کو قتل کردینے کا ارادہ کیا۔ واقعہ یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اسلام کی دعوت دی ‘ قرآن پیش کیا ‘ دلائل سے قائل کیا اور قرآن کی طرح کلام پیش کرنے کا چیلنج کیا لیکن وہ دشمنی اور قتال پر کمربستہ ہوگئے۔ دارالندوہ میں جمع ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا مشورہ طے کیا۔ مشرکوں نے آغاز جنگ کیا ‘ اس کے ثبوت میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جب ابو سفیان والا قافلہ صحیح سالم نکل آیا تب بھی ابوجہل نے کہا کہ جب تک ہم محمد اور اس کے ساتھیوں کی جڑیں نہ اکھاڑ دیں گے ‘ واپس نہ جائیں گے۔ یا آغاز جنگ کا یہ مطلب بیان کیا جائے کہ (بنی بکر کو مدد دے کر) بنی خزاعہ سے لڑنے کا آغاز مشرکوں نے ہی کیا۔ یہ آخری تاویل اسی وقت درست ہوگی جب آیات مذکورہ کا نزول فتح مکہ سے پہلے قرار دیں ‘ اگر ایسا تسلیم کرلیا جائے تو پھر حضرت ابن عباس کا یہ قول صحیح ہوجائے گا کہ ان آیات کا نزول ابو سفیان وغیرہ کے متعلق ہوا __ اور الاَّ الَّذِیْنَ عَاھَدْتُّمْ ثُمَّ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوْا الَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا اَلھُمْ ........ سے مراد قریش ہیں جن سے جنگ نہ کرنے کا حکم اللہ نے اپنے رسول کو دے دیا تھا بشرطیکہ قریش معاہدۂ صلح پر قائم رہیں ‘ لیکن وہ قائم نہ رہے۔ اتخشونھمج کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ یعنی کیا تم ان سے لڑنا اس اندیشہ سے ترک کرتے ہو کہ شاید تم پر ان کی طرف سے کوئی مصیبت آجائے گی۔ استفہام انکاری ہے۔ مطلب یہ کہ ان سے ڈرنا نہیں چاہئے۔ فا اللہ احق ان تخشوہ ان کنتم مؤمنین۔ پس اللہ اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ یعنی اللہ اس امر کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کے حکم جہاد و قتال کی تعمیل نہ کرنے سے ڈرو۔ فَاللّٰہُمیں فاء سببیت کیلئے ہے ‘ یعنی اللہ کا خوف دوسروں سے نہ ڈرنے کا سبب ہے۔ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ شرط ہے جس کی جزاء پر کلام سابق دلالت کر رہا ہے ‘ اسلئے مزید ذکر کی ضرورت نہیں ‘ یعنی اگر تم مؤمن ہو تو اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرو۔ جو شخص عقیدہ رکھتا ہو کہ جواہر و اعراض اور بندوں کے افعال کا خالق اللہ ہی ہے اور اس کی مشیت و ارادہ کے بغیر کوئی کسی کو نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتا تو اس کے ایمان کا تقاضا ہے کہ اللہ کے سوا وہ کسی سے نہ ڈرے۔ ترک قتال پر تنبیہ کے بعد اگلی آیت میں قتال کا حکم پھر دیا اور فرمایا :
Ayah 9:14

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

ان سے (خوب) لڑو۔ خدا ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا

قاتلوھم یعذبھم اللہ بایدیکم ویخزھم وینصرکم علیھم ویشف صدور قوم مؤمنین : ان سے لڑو ‘ اللہ تمہارے ہاتھوں سے (قتل کرا کے) ان کو عذاب دے گا اور (قید و بند کے ذریعہ سے) ان کو ذلیل کرے گا اور (اپنی مدد سے) اروں پر تم کو غلبہ دے گا اور اہل ایمان کے دلوں کو تسکین دے گا
Ayah 9:15

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور ان کے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رحمت کرے گا۔ اور خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے

ویذھب غیظ قلوبھم : اور ان کے دلوں کی بےچینی کو دور کرے گا۔ یعنی قریش نے بنی بکر کی مدد کر کے جو ان کے دلوں میں غصہ کی آگ بھڑکا دی ہے ‘ اس کو (قریش کی ذلت و قتل کے ذریعہ سے) ٹھنڈا کرے گا۔ ابو الشیخ نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول بنی خزاعہ کی بابت ہوا جنہوں نے مکہ میں بنی بکر کو قتل کیا تھا۔ عکرمہ نے بھی یہی کہا ہے کہ یہ آیت بنی خزاعہ کے متعلق نازل ہوئی۔ سدی کا بھی یہی قول ہے کہ قوم مؤمنین سے مراد بنی خزاعہ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے حلیف تھے ‘ بنی بکر کے قتل سے ان کے دلوں کو تسکین حاصل ہوئی تھی۔ ویتوب اللہ لی من یشاء وا اللہ علیم حکیم۔ اور جس کو چاہے گا اللہ توبہ کی توفیق دے دے گا اور اللہ (ماضی و مستقبل کو) خوب جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ آیت میں چند معجزات ہیں ‘ اس امر کی پیشین گوئی ہے کہ بعض لوگ کفر سے توبہ کرلیں گے اور اللہ بہت لوگوں کو اسلام کی توفیق دے گا۔ چناچہ ابو سفیان ‘ عکرمہ بن ابی جہل اور سہیل بن عمرو وغیرہ بکثرت سرداران قریش مسلمان ہوگئے۔ بغوی نے لکھا ہے : روایت میں آیا ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (قتل) مؤقوف کرو ‘ مگر بنی خزاعہ کیلئے بنی بکر کو قتل کرنے کا عصر تک اختیار ہے (مفہوم حدیث) ۔
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ (بےآزمائش) چھوڑ دیئے جاؤ گے اور ابھی خدا نے ایسے لوگوں کو متمیز کیا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے جہاد کئے اور خدا اور اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

ام حسبدتم ان تترکوا او لما یعلم اللہ الذین جاھدوا منکم ولم یتخذوا من دون اللہ ولا رسولہ ولا المؤمنین ولیجۃ ط کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ تم یونہی چھوڑ دئیے جاؤ گے حالانکہ اللہ نے (ظاہر طور پر) ابھی ان لوگوں کو تو تمہارے اندر سے چھانٹا ہی نہیں جنہوں نے (ایسے موقع پر) جہاد کیا اور اللہ اور اللہ کے رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی کو خاص دوست نہ بنایا ہو۔ مسلمانوں کو جہاد جب کسی قدر ناگوار ہوا تو اَمْ حَسْبِتُمْ سے خطاب کر کے ان کو توبیخ کی گئی۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ خطاب منافقوں کو ہے۔ اَمْ بمعنی بَلْہے اور استفہام زجر کیلئے ہے۔ اَنْ تُتْرَکُواسے یہ مراد ہے کہ تم کو جہاد کا حکم نہیں دیا جائے گا ‘ تمہارا امتحان نہیں لیا جائے گا اور سچے جھوٹے کو چھانٹ کر الگ الگ نہیں کیا جائے گا۔ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُکا یہ مطلب ہے کہ ابھی تک مجاہدوں کے جہاد کا عملی ظہور نہیں ہوا۔ نفی علم سے بطور مبالغہ نفی معلوم مراد ہے ‘ گویا مدلل طور پر معلوم کی نفی ثابت کردی گئی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اللہ کو اس کا علم ہوتا اور اللہ کو علم نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسا واقعہ ہی نہیں ہوا ‘ یا یوں کہا جائے کہ لازم بول کر ملزوم مراد ہے کیونکہ ہر واقعہ کیلئے اللہ کا علم لازم ہے اور جب اللہ کا علم نہیں تو اس کا ملزوم یعنی وہ واقعہ ہی نہیں۔ وَلَمْ یَتَّخِذُوْا کا عطف جاھَدُوْا پر ہے اور وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ کا مفعول ہے۔ وَلِیْجَۃً کا معنی ہے : اندرونی دوست ‘ رازدار۔ لَمَّا یَعْلَمِسے اس طرف اشارہ ہے کہ امت محمدیہ میں مخلص مجاہدین کے پائے جانے کی امید رکھنا چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت میں ایک گروہ مسلسل ایسا ہوتا رہے گا جو اللہ کے احکام کو قائم کرے گا۔ کوئی ان کی مدد نہ کرے اور کوئی مخالفت کرے ‘ ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا (یعنی اللہ ان کا مددگار اور حامی ہوگا ‘ کسی مخالف کی مخالفت ان پر اثر انداز نہ ہوگی) وہ اسی حالت پر قائم ہوں گے کہ اللہ کا حکم آجائے گا (قیامت برپا ہوجائے گی) یہ حدیث معاویہ کی روایت سے صحیحین میں منقول ہے اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اس کو بیان کیا ہے ‘ حاکم نے بھی یہ حدیث حضرت عمر کی روایت سے بیان کی ہے اور اس کو صحیح بھی کہا ہے لیکن آخری الفاظ یہ ہیں کہ میری امت کا ایک گروہ برابر حق پر قائم رہے گا یہاں تک کہ قیامت بپا ہوجائے گی۔ وا اللہ خیبر بما تعملون اور جو کچھ تم کرتے ہو ‘ اللہ اس سے بخوبی باخبر ہے۔ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جَاھَدُوْا الخ سے اللہ کے علم کی (بعض صورتوں میں) نفی کا شبہ ہوتا تھا اور گمان جاتا تھا کہ ہمارے بعض اعمال اللہ کو معلوم نہیں ‘ اس بدگمانی کو دور کرنے کیلئے فرمایا کہ اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ حضرت ابن عباس راوی ہیں کہ جب جنگ بدر میں حضرت عباس گرفتار ہو کر آئے تو مسلمانوں نے ان کو کفر اختیار کرنے اور قرابت منقطع کرنے کی شرم دلائی اور حضرت علی نے کلام میں درشتی کی۔ حضرت عباس نے فرمایا : کیا وجہ کہ تم ہماری برائیاں تو ذکر کر رہے ہو اور ہماری خوبیوں کا کوئی تذکر نہیں کرتے ؟ حضرت علی نے فرمایا : کیا تم لوگوں میں کچھ خوبیاں بھی ہیں ؟ حضرت عباس نے فرمایا : جی ہیں ‘ ہم مسجد حرام کی تعمیر کرتے ہیں ‘ ہم کعبہ کی دربانی کرتے ہیں ‘ ہم حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں۔ اس پر حضرت عباس کے کلام کے رد میں اللہ تعالیٰ نے آیت ذیل نازل فرمائی۔
Ayah 9:17

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بےکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

ما کان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ شھدین علی انفسھم بالکفر اولئک حبطت اعمالھم وفی النار ھم خلدون۔ مشرکوں کی یہ لیاقت ہی نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں ایسی حالت میں کہ وہ خود اپنے کافر ہونے کا (کھلم کھلا) اقرار کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال اکارت ہیں اور دوزخ ہی میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ مَسَاجِدَ اللّٰہِ یعنی کسی مسجد کو آباد کرنے کا مشرکوں کو حق نہیں ‘ کعبہ کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ اس کی تعمیر کے حقدار تو صرف مسلمان ہی ہیں۔ تعمیر کرنے یا آباد کرنے سے کیا مراد ہے ‘ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک تو اللہ کی عبادت کرنی مراد ہے۔ مسجد کی آبادی اللہ کی عبادت سے ہوتی ہے اور کافر چونکہ اللہ واحد کی (بغیر شرک کے) عبادت نہیں کرتے ‘ لہٰذا ان کو مسجد میں عبادت (مشرکانہ) کرنے کا حق نہیں ہے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ تعمیر مساجد سے مراد یہی عرفی تعمیر ہے ‘ یعنی مسجدوں کی عمارت بنانا یا اس کی مرمت کرنا۔ کافر کو اس سے روک دیا جائے گا اور اگر وہ اس کی وصیت کر کے مرے گا تو اس کی وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ بعض لوگوں کے نزدیک اس جگہ تعمیر مسجد سے مراد ہے مسجد میں داخل ہونا اور مسجد میں بیٹھنا۔ امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابن حبان اور حاکم نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم کسی کو مسجد آباد کرتے دیکھو تو اس کے مؤمن ہونے کی شہادت دو کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : انما یعمر مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَن اٰمَنَ باللّٰہ۔ حسن نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ مشرکوں کو یہ حق نہیں کہ ان کو مسجد حرام کا اہل (مالک یا قابض یا متصرف) بننے کیلئے چھوڑ دیا جائے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ مساجد اللہ سے مراد مسجد حرام ہے۔ ایک مسجد کو مساجد کہنے کی یہ وجہ ہے کہ مسجد حرام تمام مساجد کا قبلہ ہے ‘ اس کی تعمیر مجموعۂ مساجد کی تعمیر ہے۔ یہ توجیہ حسن نے کی ہے۔ فراء کا قول ہے کہ عرب کبھی واحد کا صیغہ بول کر جمع مراد لے لیتے ہیں اور کبھی جمع سے واحد۔ دیکھو ! اگر کوئی شخص کسی ایک خچر پر سوار ہو تو وہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے خچروں پر چڑھنا شروع کردیا ہے اور اگر کوئی (مالدار) کہے کہ میں کثیر الدرہم یا کثیر الدینار ہوں تو اس کی مرا دہوتی ہے کہ کثیر الدراہم اور کثیر الدنانیر ہوں اور اس کا یہ کلام صحیح ہوتا ہے۔ شَاھِدِیْنَ علٰٓی اَنْفُسِھِمْ بالْکُفْرِ- یَعْمُرُوْاکی ضمیر سے حال ہے ‘ یعنی وہ شرک اور تکذیب رسول علی الاعلان کرتے ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین دو متضاد چیزوں کے حامل نہیں ہوسکتے کہ بیت اللہ کی آباد کاری بھی کریں اور دوسروں کی پوجا بھی ‘ ایسا نہیں ہوسکتا۔ حسن نے کہا : انہوں نے صراحۃً یہ نہیں کہا تھا کہ ہم کافر ہیں بلکہ ان کا کفر آگیں کلام ان کے کفر کا شاہد تھا۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ ان کے اپنے کافر ہونے پر شہادت یہ تھی کہ وہ بت پرستی کرتے تھے ‘ بیت حرم کے باہر دیواروں کے پاس انہوں نے کچھ بت نصب کر رکھے تھے۔ جب بیت اللہ کا برہنہ طواف کرتے تھے تو ہر چکر میں بتوں کے سامنے سجدے کرتے تھے۔ سدی نے کہا : ان کی اپنے کفر پر شہادت یہ تھی کہ جب کسی عیسائی سے پوچھا جاتا : تو کون ہے ؟ وہ جواب دیتا : میں نصرانی ہوں۔ اسی طرح یہودی بھی دریافت کرنے کے بعد اپنے کو یہودی کہتا تھا۔ اُولٰٓءِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالَھُمْ یعنی یہ لوگ جو حاجیوں کو پانی پلانے اور کعبہ کو آباد کرنے اور قیدیوں کو رہا کرانے کے مدعی ہیں اور اپنی ان اچھائیوں پر نازاں ہیں۔ چونکہ یہ لوجہ اللہ نہیں ہیں ‘ اسلئے اللہ کے نزدیک ناکارہ ہیں اور انہی وجوہ سے یہ دوامی جہنمی ہیں۔
Ayah 9:18

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے اور زکواة دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں میں (داخل) ہوں

انما یعمر مسجد اللہ من امن باللہ والیوم الاخر واقام الصلوۃ واتی الزکوۃ ولم یخش الا اللہ قف اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا تو صرف ان لوگوں کا کام ہے جو اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان لائیں اور نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور سوائے اللہ کے اور کسی سے نہ ڈریں۔ خوفناک چیزوں سے ڈرنا فطری ہے ‘ ہر ہوشمند کا فطرتاً ہولناک چیزوں سے (کم و بیش بغیر ارادہ و اختیار کے) ڈرنا ضروری ہے ‘ اسلئے آیت کی یہ مراد ہے کہ دین کے معاملہ میں وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور کسی کے خوف سے اللہ کے حکم کی پابندی نہیں چھوڑتے۔ آیت میں رسول پر ایمان لانے کا ذکر نہیں ہے کیونکہ اللہ پر صحیح ایمان ‘ رسول پر ایمان لانے کے بغیر ممکن نہیں۔ رسول کے ذریعہ سے اللہ پر صحیح ایمان کی تعلیم ملتی ہے۔ چونکہ اہل ایمان ہی علمی اور عملی کمالات کا مجموعہ ہوتے ہیں ‘ اسلئے مساجد کی آبادکاری کو انہی کیلئے مخصوص کردیا۔ وفد عبدالقیس کے قصہ میں حضرت ابن عباس کی روایت سے صحیحین میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ اللہ واحد پر ایمان لانے کی کیا حقیقت ہے ؟ حاضرین نے جواب دیا : اللہ اور اس کا رسول ہی بخوبی عالم ہے۔ فرمایا : لا الٰہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی شہادت دینا الخ عمارت مساجد سے اس جگہ مراد ہے ہمیشہ عبادت ذکر الٰہی اور علم و قرآن کی تعلیم سے مسجدوں کو آباد رکھنا۔ حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم کسی کو دیکھو کہ وہ مسجد کا عادی بن گیا ہے (جب کام سے چھوٹتا ہے ‘ مسجد کا رخ کرتا ہے) تو اس کے مؤمن ہونے کی شہادت دو کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ رواہ الترمذی والدارمی والبغوی۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص صبح یا شام مسجد کو جاتا ہے تو جتنی مرتبہ بھی جائے ‘ اللہ (ہر مرتبہ جانے کے بدلے میں) اس کیلئے جنت میں ایک مکان تیار کردیتا ہے۔ متفق علیہ۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس رو زا اللہ کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ‘ اس روز سات آدمیوں کو اللہ اپنے سایہ میں لے لے گا۔ ان سات میں رسول اللہ ﷺ نے ایک اس آدمی کا شمار کیا کہ جب وہ مسجد سے نکلتا ہے تو واپس مسجد میں آنے تک دل اس کا مسجد میں ہی پڑا رہتا ہے۔ متفق علیہ۔ حضرت سلمان راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص گھر میں اچھی طرح وضو کرنے کے بعد مسجد کو جاتا ہے ‘ وہ اللہ کی ملاقات کو آنے والا (یعنی اللہ کا مہمان) ہوجاتا ہے اور میزبان پر حق ہے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ رواہ الطبرانی وعبدالرزاق وابن جریر فی تفسیریہما والبیہقی فی شعب الایمان۔ عمرو بن میمون کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی فرماتے تھے : زمین پر مسجدیں اللہ کے گھر ہیں۔ جو ان مسجدوں میں اللہ کی ملاقات کو آئے ‘ اللہ پر حق ہے کہ وہ ان کی عزت کرے۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان وعبدالرزاق وابن جریر فی تفسیریہما۔ مسجد کی آبادکاری کے ذیل میں آتا ہے کہ مسجد کو بنانا ‘ سجانا ‘ روشن کرنا اور مناسب امور سے اس کی حفاظت کرنا مثلاً خریدو فروحت اور دنیا کی باتوں سے اس کو پاک رکھنا۔ محمود بن لبید کا بیان ہے کہ حضرت عثمان بن عفان نے ایک مسجد بنانے کا ارادہ کیا۔ لوگوں نے اس کو ناپسند کیا (کیونکہ مدینہ شریف میں رسول اللہ ﷺ کی مبارک مسجد موجود تھی) اور اس ارادہ کو ترک کرنے کی خواہش کی۔ حضرت عثمان نے فرمایا : میں نے خود سنا ہے ‘ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : جو اللہ کیلئے مسجد بنائے گا ‘ اللہ اس کیلئے جنت میں گھر بنائے گا۔ دوسری روایت میں آیا ہے : اسی شکل کا گھر اللہ اس کیلئے جنت میں بنائے گا۔ ایک اور روایت میں آیا ہے : جو شخص اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کوئی مسجد بنائے گا ‘ اللہ اس کیلئے ویسا ہی مکان جنت میں بنائے گا۔ رواہ احمد و الشیخان فی الصحیحین والترمذی وصححہ وابن ماجہ والبغوی۔ ابن ماجہ نے یہ حدیث حضرت علی کی روایت سے بھی بیان کی ہے۔ امام احمد نے حضرت ابن عباس کی روایت سے صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ جو شخص اللہ کیلئے کوئی مسجد بنائے گا ‘ گو ایسا ہی گھونسلہ ہو جیسے قطاۃ اپنے انڈوں کے بنا لیتی ہے ‘ اللہ اس کیلئے جنت میں مکان بنائے گا۔ طبرانی نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ جو شخص اللہ کیلئے مسجد بنائے گا ‘ اللہ جنت کے اندر اس سے بڑا مکان اس کیلئے بنائے گا۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی شخص مسجد کے اندر کسی کو اپنی گم شدہ اونٹنی تلاش کرتے سنے تو کہے : اللہ کرے تیری اونٹنی واپس نہ ملے ‘ کیونکہ مسجدیں اس کام کیلئے نہیں بنائی گئی ہیں۔ رواہ مسلم حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ گھروں کے اندر مسجد (نماز کی جگہ) بنا لی جائے اور اس کو پاک صاف اور خوشبودار رکھا جائے۔ رواہ ابو داؤد والترمذی وابن ماجہ۔ حضرت عمرو بن شعیب کے دادا راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے اندر اشعار گا کر پڑھنے اور خریدو فروخت اور نماز سے پہلے وہاں گھیرا بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ رواہ ابو داؤد والترمذی۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تم کسی کو مسجد کے اندر خریدو فروخت کرتے دیکھو تو کہو : اللہ تجھے اس تجارت میں نفع نہ دے اور اگر مسجد کے اندر کسی کو گم شدہ اونٹنی ڈھونڈتے (یعنی لوگوں سے پوچھتے اور کہتے سنتے) پاؤ تو کہو : اللہ کرے تیری اونٹنی واپس نہ ملے۔ رواہ الترمذی والدارمی۔ فعسٰٓی اولئک ان یکونوا من المھتدین۔ پس ایسے لوگوں کی نسبت توقع (یعنی وعدہ) ہے کہ اپنے مقصود تک پہنچ جائیں گے۔ المہتدین یعنی اطاعت الٰہی کے پابند جو ان کو جنت میں لے جانے والی ہے (اگرچہ اللہ کے فرمانبرداروں کا جنت میں داخلہ یقینی ہے مگر) صیغۂ امید (عسیٰ ) کا استعمال بہ چند وجوہ کیا گیا : (1) کافر جو اپنے اعمال سے فائدہ اندوز ہونے اور ہدایت یافتہ ہونے کا یقین کئے بیٹھے تھے ‘ ان کو تنبیہ اور زجر کرنا مقصود ہے کہ تم کس گنتی میں ہو ‘ تم کو تو اپنے اعمال کے نتیجہ انگیز ہونے کی امید ہی نہ رکھنی چاہئے۔ مسلمانوں کے ہدایت یافتہ ہونے کا معاملہ گومگو اور غیر یقینی حالت میں ہے ‘ مسلمان بھی اپنے کو قطعی نجات یافتہ نہیں کہہ سکتے۔ (2) مسلمانوں کو بازداشت کہ کہیں اپنے اعمال پر مغرور نہ ہوجانا اور اپنی ان نیکیوں پر بھروسہ نہ بیٹھنا (بلکہ خوف کے ساتھ امید رکھنا) ۔ ابو نعیم نے حضرت علی کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کسی پیغمبر کے پاس وحی بھیجی کہ تمہاری امت میں جو میرے اطاعت گذار بندے ہیں ‘ ان سے کہہ دو کہ اپنے اعمال پر مگن نہ ہوجانا کیونکہ قیامت کے دن جب میں کسی بندے کی حساب فہمی کروں گا اور اس کو عذاب دینا چاہوں گا تو عذاب دوں گا (اس کے اعمال موجب نجات نہ ہو سکیں گے) اور تمہاری امت میں جو میرے نافرمان ہیں ‘ ان سے کہہ دو کہ خود اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالو (اور ناامید نہ ہو) میں بڑے بڑے گناہ بخش دوں گا اور پرواہ نہ کروں گا۔ وا اللہ اعلم۔ مسلم اور ابن حبان اور ابو داؤد نے کہا کہ حضرت نعمان بن بشیر نے فرمایا : میں چند صحابیوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ہم میں سے ایک آدمی کہنے لگا : مسلمان ہونے کے بعد مجھے پرواہ نہیں کہ میں اللہ کیلئے کوئی عمل کروں ‘ بس میں تو حاجیوں کو پانی پلاؤں گا (اسی کو سب سے زیادہ اچھا عمل جانتا ہوں) دوسرے نے کہا کہ نہیں ‘ مسجد حرام کی آباد کاری (سب سے اچھا عمل ہے ‘ میں تو یہی کروں گا) تیسرا بولا : (سب غلط ہیں) جو کچھ تم نے کہا ‘ اس سے بڑھ کر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس مت چیخو۔ یہ واقعہ جمعہ کے دن کا تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا : جمعہ کی نماز کے بعد میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر تمہارے ان جھگڑوں کے متعلق دریافت کروں گا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 9:19

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد محترم یعنی (خانہٴ کعبہ) کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ یہ لوگ خدا کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

اجعلتم سقایۃ الحاج وعمارۃ المسجد الحرام کمن امن باللہ والیوم الاخر وجاھد فی سبیل اللہ لا یستون عند اللہ وا اللہ لا یھدی القوم الظلمین۔ کیا تم لوگوں نے حاجیوں کے پانی پلانے کو اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص کے برابر قرار دے لیا ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لایا ہو اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو۔ یہ سب برابر نہیں اللہ کے نزدیک اور جو لوگ بےانصاف ہیں ‘ اللہ ان کو سمجھ نہیں دیتا۔ فریابی نے ابن سرین کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت علی بن ابی طالب مکہ پہنچے اور حضرت عباس سے فرمایا : چچا ! آپ ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ سے جا کر کیوں نہیں مل جاتے (کہ دینی اور دنیوی سعادت حاصل ہو) حضرت عباس نے کہا : میں مسجد حرام کی آباد کاری اور کعبہ کی دربانی کرتا ہوں۔ اس پر آیت مذکورہ کا نزول ہوا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ جب بدر کے دن حضرت عباس گرفتار کر لئے گئے تو انہوں نے فرمایا : اگر تم لوگ اسلام ‘ ہجرت اور جہاد میں ہم سے آگے بڑھ گئے تو (ہمارے فضائل بھی کم نہیں ہیں) ہم بھی مسجد حرام کی آبادی کرتے اور حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ مطلب یہ کہ مشرک رہتے ہوئے مسجد حرام کی آباد کاری اور حاجیوں کو پانی پلانا غیر مفید ہے۔ اللہ پر ایمان اور رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب رہ کر جہاد کرنا ‘ مشرکوں کی ان خدمات سے کہیں بہتر ہے۔ بغوی نے کہا کہ حسن ‘ شعبی اور محمد بن کعب قرظی نے کہا۔ اسی طرح ابن جریر نے محمد بن کعب کی روایت سے لکھ ا ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت علی ‘ حضرت عباس اور طلحہ بن شیبہ کے حق میں ہوا تھا۔ تینوں نے اپنے اپنے کارناموں کا فخریہ اظہار کیا تھا۔ طلحہ نے کہا : میں کعبہ کا متولی ہوں ‘ میرے ہاتھ میں کعبہ کی کنجیاں ہیں۔ حضرت عباس نے کہا : میں حاجیوں کو پانی پلاتا ہوں ‘ یہ میری ڈیوٹی اور میرا حق ہے۔ حضرت علی نے فرمایا : میں نہیں جانتا آپ لوگ کیا کہہ رہے ہیں ‘ میں نے قبلہ کی طرف رخ کر کے چھ سال نمازیں پڑھی ہیں ‘ یعنی سب لوگوں سے پہلے اور میں مجاہد ہوں (راہ خدا میں میں نے جہاد کئے ہیں) اس پر آیت مذکورہ کا نزول ہوا۔ سقایتہ ‘ سقیکا اور عمارۃ ‘ عَمَرَکا مصدر ہے۔ مضاف محذوف ہے ‘ یعنی اہل سقایۃ اور اہل عمارۃ کو کیا تم اہل ایمان کے برابر قرار دیتے ہو ؟ یا مَن اٰمَنَ سے پہلے مصدر محذوف ہے ‘ یعنی کیا سقایتہ وعمارۃ کو مؤمنوں کے ایمان کے برابر جانتے ہو ؟ یا یوں کہا جائے کہ سقایتہ وعمارۃ مصدر ہیں مگر اسم فاعل کے معنی میں ‘ یعنیسقایتہ بمعنی ساقی اور عمارۃ بمعنی عامر کے ہے جیسے والْعَاقِبَۃُ للتّقوٰی میں تقویٰ بمعنی متقی کے ہے ‘ یا لفظ اہل محذوف ہے۔ اس کی تائید حضرت زبیر کی قراءت سے بھی ہوتی ہے جس میں سقایتہ وعمارۃ کی جگہ سقاۃ (اسم فاعل جمع ‘ ساقی مفرد) اور عَمَرَہ (اسم فاعل جمع ‘ عامر مفرد) آیا ہے۔ اَجَعَلْتُمْمیں استفہام انکاری ہے۔ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان مناظرہ کے متعلق اگر آیت کا نزول قرار دیا جائے تو دونوں میں مشابہت کی نفی ظاہر ہے ‘ کہاں مشرک اور ان کے برباد شدہ اعمال اور کہاں مؤمن اور ان کے مقبول اعمال۔ حضرت ابن عباس اور محمد بن کعب قرظی کی روایت پر یہی مطلب ہوگا اور اگر مسلمانوں کے اندرونی اختلاف کے متعلق آیت کا نزول مانا جائے جیسا کہ حضرت نعمان بن بشیر کی روایت میں آیا ہے اور مسلم نے اس روایت کو نقل کیا ہے تو اس وقت عمارۃ مسجد یعنی مسجد کی آباد کاری سے مراد ہوگا۔ مسجد بنانا ‘ نمازوں اور دعاؤں سے آباد کاری مراد نہ ہوگی کیونکہ اللہ کا ذکر تو جہاد سے افضل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : اللہ کے ذکر سے زیادہ عذاب الٰہی سے بچانے والی کوئی چیز نہیں۔ یہ حدیث امام مالک اور ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت معاذ بن جبل کی روایت سے نقل کی ہے اور بیہقی نے دعوات کبیر میں حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت سے اس کو بیان کیا ہے۔ بیہقی کی روایت میں آخر میں اتنا زائد آیا ہے کہ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا جہاد بھی (ذکر سے افضل) نہیں ؟ فرمایا : اور نہ اللہ کی راہ میں جہاد ‘ ذکر سے افضل ہے مگر یہ کہ اتنی شمشیر زنی کی جائے کہ تلوار ٹوٹ جائے۔ حضرت ابو درداء کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تم کو بتاؤں کہ تمہارے مالک کے نزدیک تمہارا کونسا عمل سب سے اچھا اور پاکیزہ اور بلندترین درجہ والا اور راہ خدا میں سونے چاندی کو صرف کرنے سے بھی اعلیٰ ہے اور اس بات سے بھی افضل ہے کہ تم دشمنوں کے مقابلہ پر جا کر ان کی گردنیں مارو اور وہ تمہاری گردنیں کاٹیں۔ صحابہ نے عرض کیا : ضرور فرمائیے۔ فرمایا : اللہ کا ذکر (ان تمام اعمال سے افضل ہے) رواہ احمد والترمذی وابن ماجۃ۔ امام مالک نے اس حدیث کو (رسول اللہ صلی اللہ علیہ کا فرمان نہیں قرار دیا بلکہ) حضرت ابو درداء پر روایت کے سلسلہ کو موقوف کیا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا : قیامت کے دن اللہ کے پاس سب سے اونچے درجہ والے اور سب سے برتر کون لوگ ہوں گے ؟ فرمایا : اللہ کی بکثرت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اور کیا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے سے بھی (ا اللہ کا ذکر بکثرت کرنے والے افضل ہیں) فرمایا : اگر کوئی تلوار سے کافروں کو اتنا مارے کہ تلوار ٹوٹ جائے یا خون سے رنگ جائے تب بھی اللہ کا ذکر کرنے ولاا اس سے افضل ہوگا۔ رواہ احمد والترمذی۔ ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ آخر آیت واللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْظَّالِمِیْن سے ان لوگوں کے قول کی تائید ہو رہی ہے جن کے نزدیک عدم استواء سے مراد ہے مسلمانوں کے ایمان و جہاد اور مشرکوں کے سقایت حجاج و عمارت مسجد حرام کے درمیان نابرابری کو ظاہر کرنا۔ مطلب یہ کہ اللہ ان ظالموں یعنی مشرکوں کو ہدایت ہی نصیب نہیں کرتا ‘ پھر یہ ان لوگوں کے برابر کیسے ہوسکتے ہیں جن کو اللہ نے ہدایت یافتہ بنا دیا اور حق کی توفیق عنایت کردی ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک الْظَّالِمِیْنَ سے مراد (مشرکین نہیں بلکہ) وہ لوگ ہیں جو مشرکوں اور مسلمانوں کو برابر قرار دیتے ہیں۔ زمزم سے پانی پینے پلانے کا قصّہ بخاری وغیرہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سقایہ (پانی پینے پلانے کا مقام) کے پاس تشریف لائے اور پانی طلب فرمایا۔ حضرت عباس نے (اپنے بیٹے سے) کہا : فضل ! اپنی ماں کے پاس جا کر رسول اللہ ﷺ کیلئے اس سے پانی لے آؤ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے اسی (سقایہ) کا پانی پلاؤ۔ حضرت عباس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! لوگ اس میں ہاتھ ڈالتے ہیں۔ فرمایا : اسی سے پلاؤ۔ چناچہ آپ نے اسی کا پانی پیا ‘ پھر زمزم (کے چشمہ) پر تشریف لے گئے۔ لوگ پانی پلا رہے تھے اور چشمہ کے اندر کام کر رہے تھے۔ فرمایا : کام کئے جاؤ ‘ تم اچھے کام پر لگے ہو۔ پھر فرمایا : اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مغلوب ہوجاؤ گے (یعنی لوگوں کا ہجوم اتنا ٹوٹ پڑے گا اور مجھے دیکھ کر اتنے لوگ اندر اترنے کی کوشش کریں گے کہ تم بےبس ہوجاؤ گے) تو میں بھی اندر اتر کر (مشک یا ڈول کی) رسی اپنے اس مقام پر رکھ لیتا (حضور ﷺ نے اپنے کاندھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ لفظ فرمایا تھا) ۔ مسلم کا بیان ہے کہ بکر بن عبد اللہ مازنی نے کہا : میں حضرت ابن عباس کے پاس کعبہ کے قریب بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا : کیا وجہ کہ تمہارے چچا کے بیٹے تو شہد اور دودھ پلاتے ہیں اور تم لوگ نبیذ پلاتے ہو ؟ کیا یہ بات تمہارے افلاس کی وجہ سے ہے یا بخل کی وجہ سے ؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا : الحمد اللہ ! ہم محتاج نہیں ‘ نہ ہمارے اندر کنجوسی ہے۔ بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اونٹنی پر سوار ہو کر (زمزم پر) تشریف لائے تھے ‘ پیچھے اسامہ بیٹھے ہوئے تھے ‘ آپ نے فرمایا تھا : تم لوگوں نے خوب کیا ‘ تم نے ٹھیک کیا ‘ یونہی کئے جاؤ۔ اب ہم نہیں چاہتے کہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کو بدل ڈالیں۔
Ayah 9:20

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے۔ خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں۔ اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں

الذین امنوا وھاجروا وجاھدوا فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم اعظم درجۃ عند اللہ واولئک ھم الفائزون۔ جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کی اور جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ‘ وہ اللہ کے ہاں بڑے مرتبہ والے ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ یعنی مسجد حرام کی آباد کاری اور حاجیوں کو پانی پلانے پر فخر کرنے والوں سے ان لوگوں کا مرتبہ اونچا ہے اور اللہ کے نزدیک ان کا اعزاز زیادہ ہے ‘ یا ان لوگوں سے مرتبہ بلند ہے جن میں یہ خصوصی صفات نہ ہوں۔ اور یہ ہی (جامع الصفات) لوگ دوزخ سے محفوظ رہنے والے ‘ جنت میں پہنچنے والے اور اونچے اونچے رتبوں پر پہنچنے والے ہیں۔
Ayah 9:21

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے نعمت ہائے جاودانی ہے

یبشرھم ربھم برحمۃ منہ ورضوان وجنات لھم فیھا نعیم مقیم : ان کا رب ان کو بشارت دیتا ہے اپنی طرف سے بڑی رحمت اور بڑی رضامندی اور (جنت کے) ایسے باغوں کی جن کے اندر ان کیلئے دائمی نعمت ہوگی۔
Ayah 9:22

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

(اور وہ) ان میں ابدالاآباد رہیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کے ہاں بڑا صلہ (تیار) ہے

خلدین فیھا ابدًا ان اللہ عندہ اجر عظیم۔ اور ان میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بلاشبہ اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ نعیمٌ مقیمٌ دوامی راحت۔ رحمۃ ‘ رضوان جنات اور نعیم کی تنوین تنکیر کیلئے ہے ‘ یعنی یہ غیر معروف اور غیر معمولی نعمتیں ہوں گی جن سے کوئی واقف ہی نہیں ہے۔ خلود کے معنی کبھی طویل مدت تک باقی رہنے کے بھی آتے ہیں لیکن ابدًا کا لفظ ذکر کرنے سے خلود ابدی ہوگیا ‘ یعنی مدت قیام لازوال ہوگئی۔ اجرعظیم سے یہ مراد ہے کہ جن اعمال کی وجہ سے ان کا استحقاق ثواب ہوا ‘ ان اعمال کے مقابلہ میں یہ نعمتیں بہت بڑی ہوں گی ‘ یا یہ مطلب کہ دنیوی نعمتوں کے مقابلہ میں وہ ثواب بڑا ہوگا۔
Ayah 9:23

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے اہل ایمان! اگر تمہارے (ماں) باپ اور (بہن) بھائی ایمان کے مقابل کفر کو پسند کریں تو ان سے دوستی نہ رکھو۔ اور جو ان سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں

یایھا الذین امنوا لا تتخذوا اباء کم واخوانکم اولیا اللہ استحبوا الکفر علی الایمانط اے ایمان والو ! اپنے باپ (دادا) اور بھائیوں کو دوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو پسند کرتے ہوں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مجاہد نے اس آیت کو گزشتہ آیت سے مربوط قرار دیا ہے ‘ جو حضرت عباس و حضرت طلحہ کے متعلق نازل ہوئی تھی (یعنی اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ الخ سے اس کا تعلق ہے جس کا نزول اس وقت ہوا جب حضرت عباس و حضرت طلحہ نے اپنے کارناموں کو بطور فخر پیش کیا اور ہجرت سے انکار کیا) کلبی نے ابو صالح کی وساطت سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو ہجرت کا حکم دیا تو بعض لوگوں کے اہل و عیال ان سے چمٹ گئے اور اللہ کی قسمیں دے کر کہنے لگے کہ (ہم کو چھوڑ کر) جانے کا ارادہ ترک کر دو ۔ ان لوگوں کے دلوں میں رقت پیدا ہوگئی اور انہوں نے ہجرت چھوڑ دی اور بیوی بچوں کے ساتھ رہنے کا ارادہ کرلیا ‘ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مقاتل نے کہا : اس آیت کا نزول ان نو آدمیوں کے حق میں ہوا جو مرتد ہو کر مکہ کو چلے گئے تھے۔ اللہ نے اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت کردی کہ ان کو اندرونی دوست نہ بناؤ کہ ان پر اپنے راز کھولنے لگو اور ان کے ساتھ مکہ میں قیام کو ہجرت پر ترجیح دینے لگو۔ کذا روی الثعلبی ومن یتولھم منکم فاولئک ھم الظلمون۔ اور تم میں سے جو بھی ان سے (دلی) دوستی کریں گے ‘ پس ایسے لوگ ہی نافرمان ہوں گے۔ یعنی جو شخص ان سے دلی دوستی کرے گا اور ان کو مسلمانوں کے چھپے راز بتائے گا اور ہجرت و جہاد چھوڑ کر ان کے ساتھ رہنے کو پسند کرے گا ‘ وہ ظالم (ناحق کوش) ہوگا (لغت میں ظلم کا معنی ہے کسی چیز کو بیجا رکھنا) کیونکہ دوستی کو اس کے مقام پر نہیں رکھے گا۔ مسلمان کی رفاقت کا مرکز تو مسلمان ہونا چاہئے (اور یہ کافر سے رفاقت کر رہا ہے ‘ مسلمان کو چھوڑ رہا ہے لہٰذا ظالم ہوگا) ۔
Ayah 9:24

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو خدا اور اس کے رسول سے اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ خدا اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

قل (اے محمد ! ہجرت ترک کرنے والوں سے) آپ کہہ دیجئے۔ ان کان اباؤکم وابناؤکم واخوانکم وازواجکم وعشیرتکم واموال اقتراف تموھا وتجارۃ تخشون کسادھا ومسکن ترضونھا احب الیکم من اللہ ورسولہ وجھاد فی سبیلہ فتربصوا حتی یاتی اللہ بامرہط کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بی بیاں اور تمہارا کنبہ اور وہ مال جو تم کماتے ہو اور وہ تجارت جس میں نکاسی نہ ہونے کا تم کو اندیشہ ہو اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو ‘ تم کو اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہوں تو رکے رہو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (یعنی ہجرت ترک کرنے والوں کو سزا کا فیصلہ) بھیج دے۔ عشیرتکم ‘ عشیرۃٌ عشرۃٌسے مشتق ہے ‘ یعنی قرابتدار۔ حَتّٰی یَاتِیَ جواب شرط بھی ہے اور دھمکی بھی۔ عطاء نے امرکا ترجمہ کیا ہے فیصلہ ‘ یعنی دنیوی اور اخروی عذاب۔ مجاہد اور مقاتل نے اس سے مکہ کی فتح مراد لی ہے۔ وا اللہ لا یھدی القوم الفسقین۔ اور اللہ بےحکمی کرنے والے لوگوں کو ان کے مقصود تک نہیں پہنچاتا۔ الْفَاسِقِیْنَ اللہ کی طاعت سے باہر ہونے والے۔ لاَ یَھْدِیْ راستہ نہیں دکھاتا۔ بیضاوی نے لکھا ہے : آیت میں محبت سے مراد اختیاری محبت ہے ‘ یعنی ان چیزوں کے حصول کو پسند کرنا اور ان کے مقابلے میں اللہ اور اللہ کے رسول کے احکام کو ترک کرنا۔ طبعی فطری محبت مراد نہیں ہے ‘ اس سے بچنے کا تو آدمی مکلف ہی نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں : کمال ایمان یہ ہے کہ آدمی کی طبیعت شریعت کی تابع ہوجائے ‘ تقاضائے طبیعت بھی وہی ہوجائے جو شریعت کا حکم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : جس نے اللہ کی خوشنودی کیلئے محبت کی ‘ اللہ کی خوشنودی کیلئے دشمنی کی ‘ اللہ کی خوشنودی کیلئے دیا ‘ اللہ کی خوشنودی کیلئے روکا (نہیں دیا) اس نے ایمان کامل کرلیا۔ دوسری روایت میں آیا ہے : اس کا ایمان کامل ہوگیا۔ رواہ ابوداؤد وعن ابی امامۃ والترمذی عن معاذ بن جبل مع تقدیم و تاخیر۔ صحیحین میں حضرت انس کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے باپ ‘ بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب (نہ) ہوجاؤں۔ مؤمن نہ ہونے سے مراد مؤمن کامل نہ ہونا ہے۔ (1) [ حضرت عبد اللہ بن ہشام کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا ‘ آپ حضرت عمر بن خطاب کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ حضرت عمر نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! خدا کی قسم ! آپ مجھے سوائے اپنی جان کے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کی نظر میں اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔] صحیحین میں حضرت انس کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین باتیں ہیں ‘ جس کے اندر یہ تین باتیں ہوں گی اس کو ایمان کی مٹھاس ملے گی : (1) اللہ اور رسول اس کو ہر دوسری چیز سے زیادہ محبوب ہوں (2) اگر کسی سے اس کو محبت ہو تو محض اللہ کیلئے ہو اور نفرت ہو تو اللہ ہی کیلئے ہو (3) جب اللہ نے کفر سے اس کو رہا کرا دیا تو پھر کفر میں لوٹنے کو ایسا برا سمجھتا ہو جیسے آگ میں ڈالے جانے کو۔ میں کہتا ہوں : ایمان کی مٹھاس پانے سے مراد ہے ایمان کی لذت پانا ‘ جیسے طبعی مرغوبات میں لذت آتی ہے اور یہ مزا اسی وقت میسر آتا ہے جب پاکیزہ دل اور روشن روح والوں کی صحبت نصیب ہو۔ یہ آیت اور مذکورۂ بالا احادیث دلالت کر رہی ہیں کہ باطنی صفائی کی تحصیل ” مشائخ کی خدمت کے ذریعہ سے “ فرض ہے۔ وَاللّٰہُ لاَ یَھْدِیْ الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَکا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنی معرفت کا راستہ فاسقوں کو نہیں بتاتا۔ بیضاوی نے لکھا ہے : آیت (کے حکم) میں بڑی شدت ہے اور کم ہیں ایسے لوگ جو اس سے بچے رہتے ہوں (یعنی جن کو اللہ ‘ رسول اور جہاد کی محبت ہر چیز سے زائد ہو ‘ ایسے لوگ کم ہیں) میں کہتا ہوں : بس صوفیہ کا گروہ اس سے محفوظ ہے۔ صاحب مدارک نے لکھا ہے : جو لوگ عقیدہ کی کمزوری اور یقین کے ضعف میں مبتلا ہیں ‘ آیت میں ان کی شفاعت حال کا بیان ہے۔ بڑے بڑے پرہیزگار بھی باپ ‘ اولاد اور مال و متاع سے زیادہ دین کی محبت نہیں کرتے۔ میں کہتا ہوں : ہاں جن لوگوں کو اللہ نے اپنی معرفت عطا کردی ہے ‘ وہ وہی بات کہتے ہیں جو مندرجہ ذیل اشعار میں شاعر نے کہی ہے ؂ آنکس کہ ترا شناخت جاں راچہ کند فرزند و عیال و خان وماں راچہ کند دیوانہ کنی ہر دو جہانش بخشی دیوانۂ تو ہر دو جہاں راچہ کند جس نے تجھے پہچان لیا وہ جان ‘ اہل و عیال اور خاندان کا کیا کرے گا۔ تو اس کو اپنا دیوانہ کر کے دونوں جہان بخش رہا ہے ‘ تیرا دیوانہ دونوں جہان کا کیا کرے گا۔