9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 9:70

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا ان کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور ابراہیم کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے لے کر آئے۔ اور خدا تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

الم یاتھم نبا الذین من قبلھم کیا ان کو اگلے کافروں کے حال کی اطلاع نہیں پہنچی جنہوں نے ہمارے پیغمبروں کی نافرمانی اور ہمارے احکام کی مخالفت کی تو ہم نے ان پر عذاب بھیجا اور تباہ کر ڈالا۔ ھِمْ کی ضمیر غائب منافقوں کی طرف راجع ہے۔ یہ خطاب سے غیبت کی طرف انتقال ہے (عبارت میں نیرنگی پیدا کرنے اور منافقوں کو ناقابل خطاب قرار دینے کی طرف یہ ایک لطیف اشارہ ہے) ۔ قوم نوحٍ یعنی نوح کی قوم کی جو پانی کے طوفان سے ہلاک کردی گئی۔ وعادٍ اور قوم عاد کی جو آندھی کے طوفان سے ہلاک کردی گئی۔ وثمود اور قوم ثمود کی جن کو زلزلہ سے تباہ کردیا۔ وقوم ابرٰھیم اور ابراہیم کی قوم کی جن سے اللہ نے اپنی نعمت چھین لی۔ ایک حقیر چیونٹی (یا مچھر) سے نمرود کو ہلاک کردیا اور اس کے ساتھیوں کو غارت کردیا۔ واصحٰب مدین اور میں والوں یعنی شعب کی قوم کی جن پر عذاب بصورت گھٹا آیا ‘ بادل چھا گیا اور اس سے آگ برسی جس سے سب ہلاک ہوگئے۔ والمؤتفکت اور الٹی ہوئی بستیوں ‘ یعنی قوم لوط کی بستیوں کو جن کو الٹ دیا گیا ‘ زمین کو زیر و زبر کردیا گیا اور پھر اوپر سے نوکیلے کنکر برسائے گئے۔ اتتھم رسلھم بالبینت ان کے پیغمبر بالکل کھلے کھلے معجزے ان کے سامنے لائے مگر انہوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی ‘ نتیجہ میں سب کو تباہ کردیا گیا۔ فما کان اللہ لیظلمھم پس اللہ ایسا نہیں کہ ان پر ظلم کرتا۔ یعنی اللہ کا یہ ضابطہ نہیں کہ بغیر جرم کئے ان کو ہلاک کردیتا۔ ولکن کانوا انفسھم یظلمون۔ بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔ یعنی تمہاری طرح انہوں نے بھی پیغمبروں کو جھوٹا قرار دیا اور انبیاء کا حکم نہ مانا جس کے نتیجہ میں ان پر عذاب آگیا۔ تم کو بھی ڈرنا چاہئے کہ کہیں تم پر بھی ان کی طرح عذاب آجائے۔
Ayah 9:71

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے

والمؤمنون والمؤمنت بعضھم اولیاء بعض اور ایماندار مرد و عورتیں آپس میں بعض بعض کے دوست ہیں۔ اللہ کی طاعت اور اللہ کے دین کو سربلند کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے۔ یامرون بالمعروف وہ نیکی ‘ یعنی ایمان وطاعت کا حکم دیتے ہیں۔ وینھون عن المنکر اور بری باتوں سے روکتے ہیں۔ یعنی شرک ‘ نفاق ‘ رسول اللہ کی نافرمانی اور خواہشات نفس کے اتباع سے منع کرتے ہیں۔ ویقیمون الصلوۃ ویؤتون الزکوۃ ویطیعون اللہ ورسولہ اور نماز پابندی سے پوری شرائط کے ساتھ پڑھتے اور زکوٰۃ ادا کرتے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں۔ یعنی اللہ اور رسول ﷺ کے تمام احکام پر چلتے ہیں۔ اولئک سیرحمھم اللہ یہ ہی ہیں جن پر اللہ ضرور رحمت فرمائے گا۔ سَیَرْحَمُ میں سین تاکید پر دلالت کر رہی ہے۔ ان اللہ عزیز یقیناً اللہ غالب ہے ہر چیز پر ‘ کوئی بھی اس سے سرتابی کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ حکیم بڑا حکمت والا ہے ‘ ہر چیز کو اس نے اس کے مقام پر رکھا ہے۔
Ayah 9:72

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضا مندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے

وعد اللہ المؤمنین والمؤمنت جنت تجری من تحتھا الانھر خٰلدین فیھا اللہ نے ایماندار مردوں اور عوروں سے ایسی جنتیں دینے کا وعدہ کرلیا ہے جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ‘ ان جنتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ومسٰکن طیبۃ فی جنت عدن اور عدن کے باغوں میں ستھرے عمدہ مکان دینے کا (وعدہ کیا ہے) مکانوں کے طیب ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ان کے اندر زندگی پر لطف اور پاکیزہ ہوگی ‘ یا یہ کہ نفس مؤمن اس کو پسند کرے گا اور پاکیزہ سمجھے گا۔ عدن کا معنی ہے : قیام اور دوام۔ عَدَنَ بالْمَکَانِ کا معنی ہے : اس جگہ قیام کیا۔ صاحب مدارک نے لکھا ہے کہ عدن ایک جنت کا نام ہے ‘ کیونکہ ایک اور آیت آئی ہے جَنَّاتُ عَدْنِ انِ لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ (التی اسم موصول موصوف ہے اور وَعَدَ الرَّحْمٰنُپورا جملہ اس کی صفت ہے) اور اَلَّتِیْ وَالَّذِیْ کی صفت جب جملہ معرفہ ہو تو (اَلَّتِیْ کا موصوف بھی معرفہ ہونا چاہئے لہٰذا) عدن ‘ جنت کے اندر خاص شہر کا (یا مخصوص مقام کا) نام ہے (مصدری معنی مراد نہیں ہے) میں کہتا ہوں : اس کی تائید حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ ابن مبارک ‘ طبرانی اور ابو الشیخ نے حضرت عمران بن حصین اور حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ آیت وَمَسْکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جنّٰتِ عَدْنٍ کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : وہ موتی کا ایک محل ہوگا جس میں یاقوت سرخ کے ستر مکان ہوں گے ‘ ہر مکان میں سبززمرد کی ستر کوٹھریاں ہوگی ‘ ہر کوٹھری میں ایک تخت ہوگا ‘ ہر تخت پر رنگارنگ کے ستر بستر ہوں گے ‘ ہر بستر پر ایک فراخ چشم حور ہوگی جو جنتی کی بی بی ہوگی ‘ ہر گھر میں ستر خادم اور خادمائیں بھی مامور ہوں گی۔ مؤمن کے پاس روزانہ ہر صبح کے وقت کھانے پینے کی چیزیں آئیں گی جو ہر کوٹھری میں ملیں گی۔ ابو الشیخ نے کتاب العظمۃ میں حضرت ابن عمر کی روایت سے لکھا ہے کہ اللہ نے چار چیزوں کو اپنے دست خاص سے بنایا : عرش ‘ قلم ‘ آدم ‘ عدن۔ پھر فرمایا : ہوجا (ظاہر) وہ چیز ہوگئی (یعنی عالم ظہور میں آگئی) بزار ‘ ابن جریر ‘ ابن مردویہ اور المؤتلف و المختلف میں دارقطنی نے حضرت ابو درداء کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا فرمان نقل کیا ہے کہ عدن اللہ کا (قائم کیا ہوا) ایک ایسا مکان ہے جس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی انسان کے دل میں اس کا تصور گذرا۔ اس میں صرف تین (گروہوں کے) لوگ رہیں گے : انبیاء ‘ صدیق اور شہید۔ اللہ فرمائے گا : خوشی ہو اس کیلئے جو تیرے اندر داخل ہوا۔ صحیحین میں حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دو جنتیں چاندی کی ہیں جن کے برتن اور تمام چیزیں چاندی کی ہیں اور دو جنتیں سونے کی ہیں جن کے برتن اور تمام چیزیں سونے کی ہیں اور جنت عدن کے اندر اہل جنت اور ان کے رب کے درمیان کوئی حجاب نہ ہوگا ‘ صرف (ا اللہ کی) کبریائی کی چادر ہوگی جو اللہ کے چہرے پر پڑی ہوگی۔ امام احمد ‘ ابو داؤد طیالسی اور بیہقی نے یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ بیان کی ہے کہ فردوس کی جنتیں چار ہوں گی ‘ دو جنتیں سونے کی ہوں گی الخ۔ بیہقی نے کبریائی کی چادر کی تشریح میں کہا کہ اللہ کی کبریائی اور عظمت کی وجہ سے کوئی بھی اذن کے بغیر اس کو نہ دیکھ سکے گا تو گویا اللہ کی کبریائی اور عظمت اس کو (اہل جنت کی نظروں سے) پوشیدہ رکھنے کا ذریعہ ہوگی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : وہ یعنی عدن کے باغات جنت کے وسط میں ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص نے فرمایا : جنت کے اندر ایک محل ہے جس کو عدن کہا جاتا ہے ‘ اس کے گردا گرد برج اور سبزہ زار ہیں۔ اس کے پانچ ہزار دروازے ہیں جن میں سوائے نبی اور صدیق اور شہید کے کوئی اور داخل نہ ہوگا۔ حسن بصری نے فرمایا : وہ سونے کا قصر ہے جس کے اندر سوائے نبی یا صدیق یا شہید یا منصف حاکم کے اور کوئی داخل نہ ہوگا۔ عطاء بن سائب کا قول ہے : عدن جنت میں ایک نہر ہے جس کے دونوں کناروں پر باغ ہیں۔ مقاتل اور کلبی نے کہا : عدن جنت کے اندر ایک بہت اونچا درجہ ہے۔ اسی میں تسنیم کا چشمہ ہے۔ اس درجہ کے گرداگرد گھنے درخت ہیں جن سے ابتدائے آفرینش سے وہ گھرا ہوا اور ڈھانپا ہوا ہے اور اس وقت تک چھپا رہے گا کہ اس میں انبیاء ‘ صدیق ‘ شہید اور صالح الاعمال اور وہ لوگ داخل ہوں جن کا داخلہ اللہ کی مشیت میں ہے۔ عدن موتی ‘ یاقوت اور سونے کے محل ہیں۔ عرش کے نیچے سے ایک پاکیزہ خوشبودار ہوا چلے گی اور اہل عدن کے پاس ڈھیروں سفید مشک لے کر آئے گی (جیسے طوفانی ہوا کے جھکڑ ڈھیروں ریت ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ لا کر ڈال دیتے ہیں) ۔ قرطبی کا بیان ہے : لوگ کہتے ہیں کہ جنتیں سات ہیں : دارالخلد ‘ دارالجناں ‘ دارالسلام ‘ جنٰت عدن ‘ جنت الماویٰ ‘ جنت النعیم اور فردوس۔ بعض نے حضرت ابو موسیٰ کی روایت کردہ حدیث کی وجہ سے صرف چار جنتیں قرار دی ہیں : جنت الماویٰ ‘ خلد ‘ عدن ‘ دارالسلام۔ اس حدیث میں صرف چار کا ذکر آیا ہے۔ حکیم (ترمذی) نے اسی قول کو ترجیح دی ہے ‘ حکیم نے کہا کہ دو جنتیں مقربین کیلئے ہیں اور دو جنتیں اصحاب الیمین (دائیں سمت والوں) کیلئے اور ہر جنت میں بکثرت درجات ‘ طبقات اور دروازے ہیں۔ وَمَسْکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جنّٰتِ عَدْنٍ کا عطف جنّاتٍ تجری پر ہے۔ ہر شخص کا مسکن جدا ہوگا ‘ اسلئے مساکن متعدد ہوں گے۔ یا یوں کہا جائے کہ مجموعہ کے مساکن مجموعہ ہوں گے ‘ اس طرح ہر فرد کا مسکن ایک ہوگا اور مجموعہ کے مساکن مجموعہ ‘ یا یوں کہو کہ جنات کے تین اوصاف بیان فرمائے جو الگ الگ ہیں ‘ اوّل تو یہ فرمایا کہ جن (دنیوی) مساکن سے وہ واقف ہیں ‘ جنت کے مساکن ان سے اعلیٰ اور شاندار ہوں گے۔ مساکن کا لفظ سنتے ہی سننے والوں کی طبیعتوں کا جھکاؤ اور میلان اس طرف ہوجاتا ہے۔ پھر طیبۃً فرمایا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ جنت کے مساکن ہر طرح کی کدورت سے پاک صاف ہوں گے۔ ہر جاذب نظر صورت اور لذت بخش ‘ مرغوب طبع چیز ان میں موجود ہوگی۔ پھر عدن کا لفظ فرما کر یہ بتایا کہ وہاں قیام دوامی ہوگا ‘ کبھی کسی تغیر اور فناء کا گذر نہ ہوگا۔ پھر ذیل کے جملہ میں سب سے بڑی نعمت کا ذکر کیا اور فرمایا : ورضوان من اللہ اکبر اور اللہ کی خوشنودی بھی (ان کو ملے گی جو) سب نعمتوں سے بڑی ہوگی۔ صحیحین میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ اہل جنت سے فرمائے گا : اے جنت والو ! جنتی جواب دیں گے : اے ہمارے رب ! ہم حاضر ہیں اور خدمت کیلئے موجود ہیں۔ اللہ فرمائے گا : کیا تم خوش ہوگئے ؟ جنتی عرض کریں گے : راضی نہ ہونے کی کیا وجہ ‘ تو نے تو ہم کو وہ چیزیں عطا فرمائیں جو کسی کو نہیں دیں۔ 1 ؂ اللہ فرمائے گا : میں نے ان سب سے بڑھ کر ایک چیز اور تم کو دی ہے۔ جنتی عرض کریں گے : وہ کیا چیز ہے ؟ اللہ فرمائے گا : میں اپنی خوشنودی تم پر نازل کر رہا ہوں ‘ آئندہ کبھی تم سے ناراض نہ ہوں گا۔ طبرانی نے الاوسط میں صحیح سند کے ساتھ حضرت جابر کی روایت سے مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ جب اہل جنت ‘ جنت میں داخل ہوں چکیں گے تو اللہ فرمائے گا : کیا تم کو کسی اور چیز کی طلب ہے جو میں عطا کر دوں ؟ جنتی عرض کریں گے : اے ہمارے مالک ! جو کچھ تو نے ہم کو عطا فرما دیا ‘ اس سے بڑھ کر اور کیا چیز ہے ؟ اللہ فرمائے گا : اللہ کی (تھوڑی) رضامندی ان سب سے بڑھ کر ہے۔ ذلک ھو الفوز العظیم یہ ہی (یعنی اللہ کی رضامندی یا وہ نعمتیں جن کا ذکر سابق آیت میں کردیا گیا ہے) بڑی کامیابی ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہر کامیابی حقیر ہے۔
Ayah 9:73

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے لڑو۔ اور ان پر سختی کرو۔ اور ان کا ٹھکانہ دورخ ہے اور وہ بری جگہ ہے

یایھا النبی جاھد الکفار اے نبی ! کافروں سے جہاد کرو ‘ یعنی تلوار سے۔ والمنفقین اور منافقوں سے (بھی) جہاد کرو۔ حضرت ابن عباس اور ضحاک نے فرمایا : یعنی زبان سے منافقوں سے جہاد کرو۔ ان سے کلام میں نرمی نہ کرو ‘ درشتی کرو۔ حسن اور قتادہ نے کہا : یعنی ان پر شرعی حدود قائم کرو۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : اگر ہاتھ سے ہو سکے تو ہاتھ سے جہاد کرے۔ ہاتھ سے ممکن نہ ہو تو زبان سے جہاد کرے۔ یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل سے جہاد کرے۔ حضرت ابن مسعود نے یہ بھی فرمایا کہ منافق سے ملاقات ترش روئی کے ساتھ کی جائے (یعنی خوش اخلاقی کا سلوک اس سے نہ کیا جائے) ۔ واغلظ علیھم وما وٰھم جھنم وبئس المصیر۔ اور ان پر سختی کیجئے (دنیا میں تو یہ اس کے مستحق ہیں اور آخرت میں) ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے۔ عطاء نے کہا : اس آیت نے عفو اور درگذر کے ہر حکم کو منسوخ کردیا (گویا عطاء کے نزدیک منافقوں سے سلوک کے متعلق یہ آیت آخری آیت ہے) ۔ ابن جریر نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک درخت کے سایہ میں تشریف فرما تھے ‘ بیٹھے بیٹھے فرمایا : ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ یہ کہتے ہی نیلی آنکھوں والا ایک شخص سامنے سے نمودار ہوگیا۔ حضور ﷺ نے اس کو بلایا اور فرمایا : تو اور تیرے ساتھی مجھے کیوں برا کہتے ہیں ؟ یہ کلام سن کر وہ شخص چلا گیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر حاضر ہوا اور سب نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ ہم نے (آپ کے متعلق کوئی بری بات) نہیں کہی۔ اس قول و قسم کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں سے درگذر فرمائی۔ اس پر آیت ذیل کا نزول ہوا۔
Ayah 9:74

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور ایسی بات کا قصد کرچکے ہیں جس پر قدرت نہیں پاسکے۔ اور انہوں نے (مسلمانوں میں) عیب ہی کون سا دیکھا ہے سوا اس کے کہ خدا نے اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر نے (اپنی مہربانی سے) ان کو دولت مند کر دیا ہے۔ تو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا۔ اور اگر منہ پھیر لیں تو ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب دے گا اور زمین میں ان کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا

یحلفون باللہ ما قولوا وہ لوگ قسمیں کھا جاتے ہیں کہ ہم نے فلانی بات نہیں کہی، ابن ا بی حاتم نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ جلاس بن سوید بن صامت ان لوگوں میں سے تھا جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ تبوک کو نہیں گئے تھے۔ جلاس نے کہا تھا کہ اگر یہ شخص سچا ہے تو ہم گدھوں سے بدتر ہیں (کہ اس کی سچائی بھی نہیں سمجھتے ‘ یا یہ مطلب کہ ہم گدھوں سے بھی زیادہ ذلیل ہیں) حضرت عمیر بن سعد نے یہ اطلاع رسول اللہ ﷺ کو جا کر دے دی۔ حلاس قسم کھا گیا کہ میں نے تو یہ بات نہیں کی۔ اس پر یہ آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ لوگوں کا خیال ہے کہ آیت کے نزول کے بعد حلاس نے سچے دل سے توبہ کرلی تھی اور اس کی توبہ اچھی ثابت ہوئی۔ ابن ابی حاتم نے حضرت کعب بن مالک کی روایت سے بھی یہی بیان کیا ہے۔ ابن اسحاق نے بھی حضرت کعب کا بیان یونہی نقل کیا ہے اور ابن سعد نے طبقات میں عروہ کی روایت سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ بغوی نے کلبی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس آیت کا نزول حلاس بن سوید کے بارے میں ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز تبوک میں خطبہ دیا تھا جس میں منافقوں کا ذکر کیا تھا ‘ ان کو برا کہا تھا اور گندگی قرار دیا تھا (یعنی فرمایا تھا کہ منافق رجس ہیں) جلاس (کو اس قول کی اطلاع پہنچی تو اس) نے کہا : اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو ہم گدھوں سے بدتر ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ تبوک سے مدینے کو واپس تشریف لائے تو حضرت عامر بن قیس نے حاضر ہو کر حلاس کے قول کی اطلاع آپ کو دے دی۔ حلاس نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ مجھ پر دروغ بندی کر رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے دونوں کو منبر کے پاس جا کر قسم کھانے کا حکم دیا۔ حلاس نے عصر کے بعد منبر کے پاس جا کر قسم کھائی اور کہا : قسم ہے اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! میں نے یہ بات نہیں کہی اور اس نے مجھ پر جھوٹ باندھا ہے۔ پھر حضرت عامر کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا : قسم ہے اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! اس نے یہ بات کہی اور میں نے اس پر دروغ بندی نہیں کی ___ پھر حضرت عامر نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا کی : اے اللہ ! اپنے سچے نبی پر سچی بات نازل فرما دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مؤمن امین ہوتا ہے۔ اس کے بعد دونوں الگ الگ نہ ہونے پائے تھے کہ حضرت جبرئیل یہ آیت حَتَّی یَتُوْبُوْا یَکُ خَیْرًا لَّھُمْ تک لے کر نازل ہوئے۔ حلاس آیت سن کر فوراً کھڑا ہوگیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں سن رہا ہوں کہ اللہ نے توبہ کی پیشکش فرمائی ہے۔ عامر بن قیس اپنے قول میں سچے ہیں ‘ میں نے یہ بات کہی تھی۔ اب میں اللہ سے معافی چاہتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے حلاس کی توبہ قبول فرما لی۔ حلاس نے توبہ کرلی اور ان کی توبہ صحیح ثابت ہوئی۔ ابن ابی حاتم نے حضرت انس بن مالک کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ (ایک روز) خطبہ دے رہے تھے۔ ایک منافق کہنے لگا : اگر یہ شخص سچا ہے تو ہم گدھوں سے بھی بدتر ہیں۔ حضرت زید بن ارقم نے یہ بات سن لی اور رسول اللہ ﷺ تک پہنچا دی مگر وہ شخص منکر ہوگیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن جریر نے لکھا ہے کہ قتادہ نے بیان کیا : ہم سے ذکر کیا گیا تھا کہ دو آدمیوں کا جھگڑا ہوگیا ‘ ایک جہینہ کا تھا اور دوسرا غفار کا۔ قبیلۂ جہینہ انصار کا حلیف تھا۔ غفاری شخص جہینی پر غالب آگیا۔ عبد اللہ بن اوس بولا : اپنے بھائی کی مدد کرو۔ ہماری اور محمد ﷺ کی حالت تو ایسی ہے جیسے کہاوت ہے کہ اپنے کتے کو (کھلا کھلا کر) موٹا کر ‘ وہ تجھے ہی کھائے گا۔ جب ہم مدینہ کو لوٹ کر جائیں گے تو عزت والے (ان) ذلیلوں کو نکال باہر کردیں گے۔ ایک مسلمان نے اس قول کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو پہنچا دی۔ حضور ﷺ نے آدمی بھیج کر عبد اللہ بن اوس کو بلوایا اور اس سے جواب طلب کیا۔ وہ اللہ کی قسمیں کھانے لگا کہ میں نے یہ بات نہیں کہی۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی (عبدا اللہ بن اوس کا) یہ واقعہ غزوۂ بنی المصطلق کا تھا جس کا ذکر ہم نے سورة المنافقون میں کردیا ہے۔ ولقد قالوا کلمۃ الکفر حالانکہ یقیناً انہوں نے کفر کی بات کہی تھی۔ بعض نے کہا کہ کلمۂ کفر سے مراد ہے رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دینا۔ بعض کا قول ہے کہ جلاس کی بات مراد ہے ‘ اس نے کہا تھا کہ محمد ﷺ اگر سچے ہیں تو ہم گدھوں سے بھی بدتر ہیں۔ بعض کے نزدیک عبد اللہ بن اوس کا یہ قول ہے کہ مدینہ پہنچ کر عزت والے ان ذلیلوں کو نکال باہر کردیں گے۔ وکفروا بعد اسلامھم یعنی اسلام (کو ظاہر کرنے) کے بعد انہوں نے کفر (ظاہر) کیا۔ وھموا بما لم ینالوا اور انہوں نے ایسی بات کا ارادہ کیا تھا جو ان کے ہاتھ نہ لگی۔ روایت میں آیا ہے کہ تبوک کے راستہ میں بارہ منافق آکر ایک گھاٹی میں کھڑے ہوگئے تاکہ اچانک رسول اللہ ﷺ کو قتل کردیں۔ حضرت جبرئیل نے آکر رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دے دی اور (ا اللہ کی طرف سے) حکم دیا کہ کسی آدمی کو بھیج دو تاکہ ان کی اونٹنیوں (کے منہ پر مار کر ان) کے رخ پلٹ دے۔ حضور ﷺ نے حضرت حذیفہ کو بھیج دیا۔ یہ قصہ پہلے گذر چکا ہے ‘ آیت میں یہی واقعہ مراد ہے۔ طبرانی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ ایک شخص نے جس کو اسود کہا جاتا تھا ‘ رسول اللہ ﷺ کو قتل کردینے کا ارادہ کیا تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مجاہد نے کہا : منافقوں نے اس مسلمان کو قتل کردینے کا ارادہ کیا تھا جس نے ان کا قول لخن شر من الحمیر سن پایا تھا ‘ وہ اس شخص کو قتل کر کے راز کو افشا ہونے سے روکنا چاہتے تھے۔ بعض نے کہا : غزوۂ بنی المصطلق کے موقع پر رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو مدینہ سے نکال دینے کا ارادہ منافقوں نے کرلیا تھا۔ سدی نے کہا : منافقوں نے کہا تھا کہ مدینہ پہنچ کر ہم عبد اللہ بن ابی کے سر پر سرداری کا تاج رکھ دیں گے ‘ لیکن ان کی یہ مراد پوری نہیں ہوئی۔ وما نقموآ الآ ان اغنھم اللہ ورسولہ من فضلہ اور یہ انہوں نے صرف اس بات کا بدلہ دیا کہ ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے اللہ کے فضل (رزق) سے مالدار کردیا۔ یعنی ان کو کوئی امر ناگوار نہ ہوا اور نہ ان کیلئے کوئی بات موجب انتقام ہوئی سوائے اس کے کہ اللہ اور اللہ کے رسول نے ان کے ساتھ بھلائی کی تھی اور کسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا دل میں محبت اور کردار میں اطاعت پیدا کرنے کا سبب ہے ‘ دشمنی اور جذبۂ انتقام کو برانگیختہ کرنے کا باعث نہیں (مگر انہوں نے احسان کا بدلہ عداوت اور انتقام سے دیا) اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ یہ لوگ انتہائی شریر اور خبیث ہیں ‘ بھلائی کا بدلہ برائی سے دے رہے ہیں۔ ابن جریر اور ابو الشیخ نے عکرمہ کی روایت سے بیان کیا کہ ابن عدی بن کعب کے غلام نے کسی انصاری کو قتل کردیا تھا۔ حضور ﷺ نے اس کے خوں بہا میں بارہ ہزار (درہم) ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ جلاس کا غلام مارا گیا تھا ‘ حضور ﷺ نے اس کی دیت میں بارہ ہزار درہم جلاس کو دلوائے جس سے وہ مالدار ہوگیا۔ اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ کلبی نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے مدینہ میں رونق افروز ہونے سے پہلے اہل مدینہ بڑے تنگ حال تھے ‘ حضور ﷺ کی تشریف آوری کے بعد اموال غنیمت کی وجہ سے خوشحال ہوگئے۔ فان یتوبوا یک خیرًا لھم اب اگر (کفر و نفاق سے) توبہ کرلیں گے تو ان کیلئے بہتر ہوگا۔ سطور بالا میں ہم لکھ چکے ہیں کہ اسی آیت نے حلاس کو توبہ کرنے پر مجبور کیا۔ وان یتولوا یعذبھم اللہ عذابًا الیمًا فی الدنیا والاخرۃ اور اگر (اخلاص و توبہ سے) انہوں نے منہ پھیرا تو اللہ ان کو دنیا میں (رسوائی اور قتل کا) اور آخرت میں (دوزخ کا) دردناک عذاب دے گا۔ وما لھم فی الارض من ولی ولا نصیر۔ اور ان کا دنیا میں نہ کوئی یار ہے نہ مددگارجو انہیں قتل و رسوائی سے بچا سکے۔ بغوی ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور طبرانی نے نیز بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابو امامہ باہلی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! دعا کر دیجئے کہ اللہ مجھے مال (کثیر) عطا فرما دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا اللہ کے رسول کا طریقہ تمہارے لئے لائق پیروی نہیں ہے ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر میں چاہتا کہ سونے کے پہاڑ میرے ساتھ چلیں (جہاں میں جاؤں میرے ساتھ جائیں) تو وہ ضرور چلتے (ثعلبہ خاموش ہوگیا) پھر کچھ مدت کے بعد حاضر خدمت ہو کر اس نے درخواست کی : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ سے دعا فرما دیجئے کہ وہ مجھے مال نصیب کر دے۔ قسم ہے اس کی جس نے آپ کو برحق نبی بنا کر بھیجا ہے ! اگر اللہ نے مجھے مال نصیب کردیا تو میں ہر حقدار کا حق ضرور ضرور ادا کروں گا۔ حضور ﷺ نے دعا فرمائی : اے اللہ ! ثعلبہ کو مال عطا فرما دے۔ راوی کا بیان ہے کہ اس دعا کے بعد ثعلبہ نے کچھ بکریاں پالیں اور ان میں اتنی بڑھوتری ہوئی کہ مدینہ میں ان کے رہنے کی گنجائش نہیں رہی ‘ مجبوراً ثعلبہ بکریاں لے کر مدینہ کی کسی وادی میں جا بسا اور بکریوں میں کیڑوں کی طرح بڑھوتری ہوتی رہی (اب یہ نوبت آگئی کہ) ثعلبہ ظہر اور عصر کی نمازیں تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھتا تھا ‘ باقی نمازیں اپنی بکریوں کے مسکن میں پڑھتا تھا۔ اس کے بعد بھی بکریوں میں اضافہ اور کثرت ہوتی رہی اور اتنی تعداد بڑھی کہ مدینہ سے دور ان کو لے کر رہنا پڑا ‘ صرف جمعہ کی نماز کیلئے مدینہ میں آنے کا موقعہ ملتا (باقی نمازیں بکریوں کی قیام گاہ پر پڑھتا تھا) اور ترقی ہوئی تو مدینہ سے اور دور اس کو بکریاں لے کر رہنا پڑا ‘ اب جمعہ اور جماعت سے کامل طور پر غیرحاضری ہوگئی۔ جمعہ کے دن صرف اتنا کرتا تھا کہ (راستہ میں جا کر کھڑا ہوجاتا اور) لوگوں سے ملاقات کر کے خبریں دریافت کرلیتا۔ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ثعلبہ کا کیا ہوا ؟ صحابہ نے عرض کیا : اس نے بکریاں پال لی ہیں اور بکریاں اتنی ہیں کہ ایک وادی (ہی) میں سماتی ہیں (اسلئے جماعت سے غیرحاضر رہتا ہے) حضور ﷺ نے فرمایا : ثعلبہ ہلاک ہوگیا۔ یہ لفظ حضور ﷺ نے تین بار فرمایا۔ اس کے بعد جب وصولی زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے وصول صدقات کیلئے دو آدمی مقرر کئے : ایک بنی سلیم کا اور ایک جہینہ کا ‘ دونوں کو ایک تحریر دے دی جس میں (قابل زکوٰۃ جانوروں کی) عمریں لکھوا دیں اور یہ بھی ہدایت کردی کہ کس طرح وصول کریں اور زبانی حکم دے دیا کہ ثعلبہ بن حاطب اور بنی سلیم کے فلاں شخص کے پاس جا کر ان سے زکوٰۃ (کے جانور) وصول کرنا۔ حسب الحکم دونوں (پہلے) ثعلبہ کے پاس گئے ‘ رسول اللہ ﷺ کی تحریر پڑھوا کر سنائی اور زکوٰۃ کے جانور طلب کئے۔ ثعلبہ بولا : یہ کیسے ٹیکس ہیں ‘ یہ تو (کافروں پر لگائے گئے) ٹیکسوں کی طرح ہیں۔ اب تو تم کو جہاں جانا ہے جاؤ ‘ جب اور جگہ سے فارغ ہوجاؤ تو لوٹ کر میرے پاس آنا۔ دونوں حضرات چلے گئے۔ بنی سلیم والے شخص نے جب ان بزرگوں کی آمد کی خبر سنی تو اپنے جانوروں میں سے بہترین عمر والے جانور چھانٹ کر زکوٰۃ میں پیش کئے۔ ان محصلوں نے کہا : ایسے (بہترین) جانور دینا تو تم پر لازم نہیں ہیں۔ سلمی نے کہا : لے لیجئے ‘ میں اپنی خوشی سے دے رہا ہوں۔ ان حضرات نے لے لئے ‘ پھر دوسرے مالداروں کے پاس گئے اور ان سے زکوٰۃ وصول کی۔ آخر میں ثعلبہ کے پاس لوٹ کر آئے ‘ ثعلبہ نے کہا : ذرا مجھے اپنی تحریر تو دکھاؤ۔ تحریر پڑھنے کے بعد بولا : یہ کیا ٹیکس لگائے ہیں ‘ یہ تو (غیر مسلموں کے) ٹیکسوں کے بھائی ہیں۔ تم دونوں (اب تو) چلے جاؤ ‘ میں سوچ لوں ‘ رائے قائم کرلوں۔ دونوں حضرات چلے گئے۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت گرامی میں حاضر ہوئے تو کچھ کہنے نہ پائے تھے کہ حضور ﷺ نے تین بار فرمایا : ثعلبہ ہلاک ہوگیا۔ پھر سلمی شخص کیلئے دعائے خیر فرمائی۔ ثعلبہ نے جو جواب دیا تھا ‘ ان حضرات نے وہ بعد کو بتایا۔ اس پر آیت ذیل ثعلبہ کے حق میں نازل ہوئی۔
Ayah 9:75

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیک کاروں میں ہو جائیں گے

ومنھم من عھد اللہ لئن اتٰنا من فضلہ لنصدقن ولنکونن من الصلحین۔ اور ان میں سے بعض آدمی ایسا بھی ہے جس نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر اللہ ہم کو اپنے فضل سے عطا فرما دے گا تو ہم ضرور صدقہ دیں گے اور یقیناً صالحین (نیکوکار لوگوں) میں سے ہوں گے۔ ابن جریر اور ابن مردویہ نے عوفی کی سند سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ منافقوں میں سے کچھ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے وعدہ کیا کہ اگر اللہ ہم کو دے گا تو ہم زکوٰۃ دیں گے اور اہل صلاح کے سے کام کریں گے۔ مراد یہ ہے کہ صلۃ الرحم (کنبہ پروری) کریں گے ‘ زکوٰۃ ادا کریں گے اور ان کی راہ میں جو خرچ کرنا واجب یا مستحب ہوگا ‘ وہ کریں گے۔
Ayah 9:76

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

لیکن جب خدا نے ان کو اپنے فضل سے (مال) دیا تو اس میں بخل کرنے لگے اور (اپنے عہد سے) روگردانی کرکے پھر بیٹھے

فلما اٰتٰھُم من فضلہ بخلوا بہ وتولوا وھم معرضون۔ سو جب اللہ نے ان کو اپنے فضل سے بہت سا مال دے دیا تو وہ اس میں بخل کرنے لگے (زکوٰۃ نہ دی) اور اطاعت سے روگردانی کرنے لگے اور وہ تو (اطاعت سے) منہ موڑنے کے پہلے سے عادی ہیں۔ یعنی مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں ‘ حق اللہ ادا نہیں کرتے ‘ اللہ اور اس کے رسول کی طاعت سے منہ موڑ لیتے ہیں اور طاعت سے کترا جانا ان کی عادت ہی ہے۔
Ayah 9:77

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لیے جس میں وہ خدا کے روبرو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لیے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے

فاعقبھم نفاقًا فی قلوبھم الی یوم یلقونہ سو اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا میں ان کے دلوں کے اندر نفاق قائم کردیا جو اللہ کے پاس جانے کے دن تک رہے گا۔ یعنی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے یا بخل نے ان کے دلوں میں بداعتقادی پیدا کردی۔ انہوں نے اللہ کے ادائے زکوٰۃ کے حکم کی تعمیل واجب نہ سمجھی اور وجوب زکوٰۃ کا انکار کردیا اور اس کو جزیہ کی طرح قرار دیا اور یہ بداعتقادی ان کے دلوں میں مرتے دم تک رہے گی ‘ یا قیامت کے دن تک رہے گی جبکہ کرتوت کی سزا ان کے سامنے آئے گی ‘ یا قبر میں (عذاب سامنے) آنے تک رہے گی۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ نے توبہ سے ان کو محروم کردیا ‘ ان کی موت نفاق پر ہوگی۔ بما اخلفوا اللہ ما وعدوہ وبما کانوا یکذبون۔ کیونکہ انہوں نے اللہ سے جو (زکوٰۃ ادا کرنے اور نیک ہونے کا) وعدہ کیا تھا ‘ اس کی خلاف ورزی کی اور اسلئے بھی کہ وہ جھوٹے تھے۔ وعدہ خلافی جھوٹ پر مشتمل ہوتی ہے (ایک تو وعدہ کے خلاف کرنا بجائے خود برا ہے ‘ دوسرے وعدہ خلافی کے اندر جو جھوٹ ہوتا ہے ‘ وہ بھی قبیح ہوتا ہے اسلئے) وعدہ خلافی میں دوہری برائی ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (عملی) منافق کی تین نشانیاں ہیں : بات کرے تو جھوٹ بولے ‘ وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے ‘ اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ متفق علیہ من حدیث ابی ہریرۃ مسلم کی روایت میں حدیث کے الفاظ اتنے زائد ہیں : خواہ وہ روزے رکھتا اور نماز پڑھتا ہو اور مسلمان ہونے کا دعویدار ہو۔ بغوی اور ابن جریر نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے جو مذکورۂ بالا حدیث بیان کی ہے ‘ اس میں یہ بھی ہے کہ جب آیت مذکورہ نازل ہوئی تو اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس ثعلبہ کا کوئی رشتہ دار موجود تھا ‘ وہ آیت سن کر فوراً ثعلبہ کے پاس پہنچا اور کہا : ارے ثعلبہ ! تیرے بارے میں اللہ نے ایسا ایسا نازل فرمایا ہے۔ ثعلبہ سنتے ہی خدمت گرامی میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ میرا مال زکوٰۃ قبول فرما لیا جائے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ نے مجھے تیری زکوٰۃ قبول کرنے سے منع فرما دیا ہے۔ ثعلبہ اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : یہ تیرا کرتوت ہے۔ میں نے تجھے حکم دیا تھا مگر تو نے نہیں مانا۔ غرض رسول اللہ ﷺ نے جب ثعلبہ کی زکوٰۃ قبول کرنے سے انکار کردیا تو وہ اپنے گھر لوٹ گیا۔ پھر حضور ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر کی خدمت میں حاضر ہو کر مال زکوٰۃ قبول کرنے کی استدعا کی۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے قبول نہیں فرمائی اور میں قبول کرلوں (ایسا نہیں ہوسکتا) حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد حضرت عمر والی بنائے گئے تو ثعلبہ نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مال زکوٰۃ کو قبول کرنے کی درخواست کی۔ آپ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے اور ابوبکر نے تیری زکوٰۃ قبول نہیں کی اور میں قبول کرلوں (ایسا نہیں ہوسکتا) چناچہ آپ نے بھی قبول کرنے سے انکار کردیا۔ پھر جب حضرت عثمان خلیفہ ہوئے تو ثعلبہ ان کے پاس بھی آیا مگر آپ نے بھی اس کی زکوٰۃ قبول نہیں کی۔ آپ ہی کی خلافت میں ثعلبہ کا انتقال ہوگیا۔ حضرت ابن عباس ‘ حضرت سعید بن جبیر اور قتادہ کا بیان ہے کہ ثعلبہ انصار کی ایک مجلس میں آیا اور ان کو گواہ کر کے کہا کہ اگر اللہ مجھے اپنے فضل سے نوازے گا تو میں اس میں سے ہر حقدار کا حق ادا کروں گا ‘ خیرات دوں گا اوراقرباء پروری کروں گا (اتفاقاً ) اس کے چچا کے بیٹے کا انتقال ہوگیا اور ثعلبہ اس کے مال کا وارث ہوا مگر اس نے اپنا قول پورا نہیں کیا۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حسن بصری اور مجاہد کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول ثعلبہ بن حاطب اور معتب بن قشیر کے حق میں ہوا ‘ یہ دونوں بنی عمرو بن عوف کے خاندان میں سے تھے۔ قبیلہ کے سرداروں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی ‘ یہ دونوں ادھر سے گذرے اور ان کے سامنے کہا : خدا کی قسم ! اللہ اگر ہم کو اپنے فضل سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم (فرض و مستحب) خیرات کریں گے۔ لیکن جب اللہ نے ان کو عطا فرمایا تو یہ کنجوس ہوگئے (اور زکوٰۃ بھی نہیں دی) ۔
Ayah 9:78

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا ان کو معلوم نہیں کہ خدا ان کے بھیدوں اور مشوروں تک سے واقف ہے اور یہ کہ وہ غیب کی باتیں جاننے والا ہے

الم یعلموا ان اللہ یعلم سرھم ونجوٰھم وان اللہ علام الغیوب۔ کیا یہ (منافق یا وہ لوگ جنہوں نے زبان سے اللہ سے اپنی پوشیدہ نیتوں کے خلاف وعدہ کیا تھا) نہیں جانتے کہ اللہ ان کے چھپے (ارادوں اور نفاق) سے اور سرگوشیوں سے (جن میں اصول اسلام پر طعن کرتے اور زکوٰۃ کو ٹیکس قرار دیتے ہیں) واقف ہے اور اللہ چھپی باتوں کو خوب جانتا ہے ‘ اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں آیا ہے کہ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : آیت صدقہ نازل ہوئی تو اس زمانہ میں ہم اپنی پشت پر (مزدوری کا) بوجھ اٹھایا کرتے تھے (یعنی بار برداری کی مزدوری کرتے تھے ‘ مگر آیت صدقہ نازل ہونے کا یہ اثر پڑا کہ) فوراً بعض آدمیوں نے بہت سا مال لا کر خیرات کیا اور بعض نے صرف ایک صاع دیا۔ اس پر منافق زیادہ خیرات کرنے والے کے متعلق کہنے لگے : اس نے دکھاوٹ کیلئے دیا ہے۔ اور ایک صاع دینے والے کے متعلق کہا : اس کے دینے کی اللہ کو ضرورت نہیں (اس حقیر مال کا کیا ثواب) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 9:79

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

جو (ذی استطاعت) مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور جو (بےچارے غریب صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے (اور تھوڑی سی کمائی میں سے خرچ بھی کرتے) ہیں ان پر جو (منافق) طعن کرتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ خدا ان پر ہنستا ہے اور ان کے لیے تکلیف دینے والا عذاب (تیار) ہے

الذین یلمزون المطوعین من المؤمنین فی الصدقٰت والذین لا یجدون الا جھدھم فیسخرون منھم سخر اللہ منھم ولھم عذاب الیم۔ یہ (منافق) ایسے ہیں کہ نفل صدقہ دینے والے مسلمانوں پر صدقات کے بارے میں طعن کرتے ہیں اور (خصوصاً ) ان لوگوں پر (اور زیادہ) جن کو بجز محنت مزدوری کے اور کچھ میسر نہیں ہوتا ‘ یعنی ان سے تمسخر کرتے ہیں۔ اللہ ان کو اس تمسخر کا خاص بدلہ تو دے گا اور ان کو (آخرت میں) دردناک سزا ملے گی۔ المطوعین (بخوشی دینے والے) اپنی دلی رغبت سے دینے والے۔ فی الصّدقات سے مراد خیرات زیادہ دینا ‘ یعنی اپنی خوشی سے خیرات میں زیادہ مال دینے والے۔ جھد کا معنی ہے طاقت ‘ یعنی اپنے قابو اور استطاعت کے مطابق تھوڑا سا مال دیتے ہیں (زیادہ مال ان کے پاس نہیں ہوتا) ۔ بغوی نے لکھا ہے : اہل تفسیر کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو خیرات کرنے کی ترغیب دی۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے چار ہزار درہم لا کر پیش کئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میرے پاس آٹھ ہزار درہم تھے ‘ چار ہزار خدمت گرامی میں لا کر حاضر کر دئیے ‘ آپ ان کو اللہ کی راہ میں خرچ کر دیجئے۔ چار ہزار اپنے اہل و عیال کیلئے چھوڑ آیا ہوں۔ فرمایا : جو کچھ تم نے دیا اور جو کچھ روک لیا ‘ اللہ (سب میں) تم کو برکت دے۔ اس دعا کا اثر تھا کہ اللہ نے حضرت عبدالرحمن کے مال میں اتنی برکت دی کہ وفات کے وقت آپ کی دو بیبیاں تھیں جن کا میراثی حصہ حضرت عبدالرحمن کے کل ترکہ کا آٹھواں حصہ تھا ‘ اس آٹھویں حصہ میں دو بیبیوں کو ایک لاکھ ساٹھ ہزار درہم ملے۔ دوسری روایت میں آیا کہ ایک بی بی کا حصہ (تقسیم اور حساب سے پہلے دوسرے وارثوں نے) اسی ہزار درہم میں لے لیا اور واقع میں اس کا میراثی حصہ اسی ہزار سے زائد تھا۔ ایک روز حضرت عاصم بن عدی عجلانی نے سو وسق چھوارے دئیے (ایک وسق ساٹھ صاع ‘ ایک صاع چار سیر) ابو عقیل انصاری نے جن کا نام صحاب تھا ‘ اس روز ایک صاع چھوارے پیش کئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! رات بھر پانی کھینچ کر میں نے دو صاع کی مزدوری کی تھی ‘ ایک صاع گھر والوں کیلئے چھوڑ آیا اور ایک صاع حاضر خدمت کر دئیے۔ رسول اللہ ﷺ نے وہ چھوارے تمام مال صدقات (کے ڈھیر) پر بکھیر دینے کا حکم دیا۔ اس پر منافقوں نے طنز کیا ‘ کہنے لگے : عبدالرحمن اور عاصم نے جو کچھ دیا ‘ وہ دکھاوٹ کیلئے دیا اور ابو عقیل کا ایک صاع ناقابل قدر ہے ‘ اس کی اللہ اور اس کے رسول کو کوئی ضرورت نہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس کی مفلسی کا تذکرہ آجائے اور مال خیرات میں سے اس کو کچھ مل جائے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ المطوعین سے مراد حضرت عبدالرحمن اور حضرت عاصم ہیں اور الذین لا یجدون الخ سے مراد حضرت ابو عقیل۔ میں کہتا ہوں : یہ قصہ حضرت ابن عباس کی روایت سے امام احمد ‘ ابن جریر اور ابن مردویہ نے اور حضرت عبدالرحمن کی ایک بیوی (جس کا نام تماضر تھا) کا اسی ہزار درہم لے کر اپنے حصہ سے دست بردار ہوجانے کا قصہ حضرت ابو عقیل کی روایت سے طبرانی نے بیان کیا ہے اور بعینہ یہی قصہ حضرت ابوہریرہ ‘ حضرت ابو سعید خدری ‘ حضرت ابو عقیل ‘ حضرت عمیرہ بنت سہل بن رافع کی روایات سے بھی منقول ہے جس کو مفصل ابن مردویہ نے نقل کیا ہے۔ ا اللہ کے مذاق کرنے سے مراد ہے : مذاق اڑانے کی سزا دینی۔ بیہقی نے حسن کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگوں سے استہزاء کرنے والوں کیلئے جنت کا دروازہ کھولا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا : آجاؤ۔ وہ اپنی بےچینی اور غم کے ساتھ آئیں گے اور داخل ہونے والے ہی ہوں گے کہ دروازہ بند کرلیا جائے گا۔ یہ مذاق ان سے اس حد تک ہوتا رہے گا کہ آخرکار جب ان کیلئے جنت کا کوئی دروازہ کھولا جائے گا اور ان سے داخل ہونے کو کہا جائے گا تو ناامید ہوجانے کی وجہ سے کوئی آگے نہیں بڑھے گا۔ بیضاوی نے لکھا کہ عبد اللہ بن ابی منافق تھا لیکن اس کا بیٹا عبد اللہ پکا مؤمن تھا۔ جب عبد اللہ بن ابی مرض موت میں مبتلا تھا تو مؤمن بیٹے نے اپنے باپ کیلئے دعائے مغفرت کرنے کی رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی ‘ حضور ﷺ نے دعا کردی۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 9:80

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

تم ان کے لیے بخشش مانگو یا نہ مانگو۔ (بات ایک ہے) ۔ اگر ان کے لیے ستّر دفعہ بھی بخشش مانگو گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول سے کفر کیا۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

استغفر لھم ولا تستغفر لھم ان تستغفر لھم سبعین مرۃً فلن یغفر اللہ لھم ان (منافقوں) کیلئے آپ دعائے مغفرت کریں یا نہ کریں ‘ دونوں برابر ہیں۔ اگر ان کیلئے ستر بار آپ دعائے مغفرت کریں گے ‘ تب بھی اللہ ان کی مغفرت نہیں کرے گا۔ استغفر امر کا صیغہ ہے لیکن مراد (مفہوم امر نہیں بلکہ) استغفار اور عدم استغفار ‘ دونوں صورتوں میں برابری کی خبر دینا ہے یعنی دونوں صورتیں ان کیلئے برابر ہیں ‘ کوئی بھی ان کے واسطے مفید نہیں۔ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں ان کیلئے ستر مرتبہ سے زیادہ دعائے مغفرت کروں گا۔ اس کے بعد آیت سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ اسْتَغْفَرْتَ لَھُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ نازل ہوئی۔ بخاری و مسلم نے حضرت ابن عمر کی روایت سے اسی معنی کی حدیث نقل کی ہے اور ابن المنذر نے عروہ ‘ مجاہد اور قتادہ کی روایت سے۔ ابن المنذر نے عوفی کی سند سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں سن رہا ہوں کہ میرے رب نے منافقوں کے بارے میں (ستر بار سے زائد استغفار کرنے کی) مجھے اجازت دی ہے۔ خدا کی قسم ! میں ستر بار سے زیادہ (ان کیلئے) دعائے مغفرت کروں گا ‘ شاید اللہ ان کو معاف فرما دے۔ اس پر آیت اسْتَغْفَرْتَ لَھُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ نازل ہوئی۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ لفظ سبعین سے رسول اللہ ﷺ نے ستر کا معین عدد سمجھ لیا ‘ اسی لئے خیال کیا کہ ستر بار سے زیادہ استغفار کرنے کا حکم ستر بار استغفار کرنے سے الگ ہوگا (ستر بار استغفار کرنے سے مغفرت نہ ہوگی ‘ ستر بار سے زیادہ دعا کی جائے تو مغفرت ہوسکتی ہے۔ حقیقت میں یہ رسول اللہ ﷺ کی شفقت اور رحمت تھی ‘ آپ دل سے خواستگار تھے کہ کسی صورت سے منافقوں کی مغفرت ہوجائے۔ چونکہ اللہ کے کلام میں لفظی اعتبار سے گنجائش تھی کہ ستر سے محدود عدد مراد لے لیا جائے ‘ اس لئے ستر بار سے زیادہ استغفار کرنے کا جواز نکال لیا) لیکن آپ کو بتادیا گیا کہ سبعین سے محدود عدد مراد نہیں بلکہ کثرت مراد ہے۔ سات ‘ ستر اور سات سو کا لفظ عربی زبان میں کثیر عدد کیلئے عام طور پر مستعمل ہوتا ہے۔ سات کا لفظ دونوں قسم کے عددوں کو مشتمل ہے۔ تین سے کم کو قلیل اور کم سے کم تین کو کثیر کہا جاتا ہے ‘ زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ اس کے علاوہ عدد دو طرح کا ہوتا ہے : طاق اور جفت۔ دو پہلا جفت ہے اور تین پہلا طاق۔ ایک عدد ہی نہیں ہے۔ سات جفت و طاق کا پہلا کثیر مجموعہ ہے ‘ اس کے اندر تین طاق ہیں (3- 5 - 7) اور تین جفت (2- 4- 6) اور دس پر حساب ختم ہوجاتا ہے ‘ دس سے اوپر کی گنتی اسی کے ساتھ اکائیوں یا دہائیوں کو جوڑ کر بنتی ہے۔ 12 یعنی دس اور دو ‘ 13 یعنی دس اور تین ‘ 20 یعنی دو دس ‘ 30 یعنی تین دس ‘ سو یعنی دس دہائی۔ ستر کے اندر دو لفظ داخل ہیں : سات ‘ دس۔ دس ‘ سات تو کثرت اور جفت و طاق کا سب سے پہلا مجموعہ ہے اور دس پر حساب ختم ہوجاتا ہے ‘ لہٰذا ستر ہر جہت سے کثیر اعداد کا کم سے کم مجموعہ ہے اور کثرت عدد غیر متناہی ہے۔ پس گویا ستر کہنے سے پورے جفت و طاق اور کثیر اعداد مراد لینا صحیح ہے۔ ذلک بانھم کفروا باللہ ورسولہ یہ (مغفرت سے مایوسی کا فیصلہ) اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا۔ یعنی مغفرت سے مایوسی کا فیصلہ اسلئے نہیں کہ اللہ نے کچھ بخل کیا یا آپ کے اندر کوئی کوتاہی ہے بلکہ اس کی وجہ صرف منافقوں کی عدم قابلیت ہے ‘ کفر نے ان کو مغفرت کے قابل ہی نہیں رکھا۔ وا اللہ لا یھدی القوم الفٰسقین۔ اور اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں کیا کرتا۔ یعنی جو لوگ کفر پر آجائیں اور کفر میں سرکش بن جائیں ‘ اللہ ان کو ہدایت نہیں کرتا۔ یہ کلام گویا گزشتہ کلام کی دلیل ہے۔ کافر کی مغفرت کا صرف ایک راستہ ہے ‘ وہ یہ کہ کفر سے اس کو روک دیا جائے ‘ اس کے کفر کی جڑ اکھاڑ دی جائے اور حق کا راستہ دکھا دیاجائے۔ لیکن جو شخص کفر میں منہمک ہو ‘ جس کی سرشت کفر ہوجائے ‘ وہ کفر سے باز نہیں آسکتا اور راہ حق پر نہیں چل سکتا۔
Ayah 9:81

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

جو لوگ (غزوہٴ تبوک میں) پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا (کی مرضی) کے خلاف بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا۔ (ان سے) کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ (اس بات) کو سمجھتے

فرح المخلفون بمقعدھم خلف رسول اللہ (غزوۂ تبوک سے) رسول اللہ کے پیچھے بیٹھ رہنے والے اپنے اس بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے (یعنی جو لوگ ساتھ لے جانے سے چھوڑ دئیے گئے ‘ وہ خوش ہوئے) ۔ ابو عبیدہ نے کہا : خلاف کا معنی ہے پیچھے ‘ یعنی بعد رسول اللہ ﷺ کے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ خلافکا معنی (اس جگہ) مخالفت ہے ‘ اس صورت میں یہ خوش ہونے کی علت کا اظہار ہوگا یعنی جن لوگوں کو ساتھ لے جانے سے چھوڑ دیا گیا ‘ وہ اسلئے خوش ہوئے کہ وہ رسول ﷺ کے مخالف تھے۔ وکرھوآ ان یجاھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ اور ان کو مال و جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ناگوار تھا۔ اس جملہ میں مسلمانوں کی درپردہ تعریف ہے جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال کی قربانی دی اور رضائے مولیٰ کو حاصل کیا۔ وقالوا الا تنفروا فی الحر اور انہوں نے (آپس میں بھی اور مسلمانوں کو جہاد سے روکنے کیلئے بھی) کہا کہ گرمی میں جہاد کیلئے نہ نکلو۔ ابن جریر نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو اپنے ہمراہ اٹھ کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ یہ زمانہ گرمی کا تھا۔ اس پر ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! سخت گرمی ہے ‘ آپ کیلئے باہر نکلنا ناقابل برداشت ہے۔ اس گرمی میں جہاد کیلئے نہ نکلئے ‘ اس پر نازل ہوا۔ قل نار جھنم اشد حرًا آپ کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ بہت زیادہ گرم ہے اور تم نے حکم جہاد کی مخالفت کر کے جہنم کی آگ کو اختیار کرلیا ‘ یعنی تم بڑے جاہل ہو۔ جو شخص ایک ساعت کی مشقت کو برداشت نہ کرے اور اس کی وجہ سے سخت ترین دوامی تکلیف میں پڑجائے ‘ وہ بڑا جاہل ہے۔ لو کانوا یفقھون۔ کیا خوب ہوتا اگر وہ سمجھتے۔ یعنی اگر ان کو معلوم ہوجاتا کہ جہنم کی آگ کیسی ہے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا تو پھر طاعت پر آرام کو ترجیح دے کر جہنم کی آگ کو نہ اختیار کرتے۔ محمد بن یوسف صالحی کا بیان ہے کہ جد نے جبار بن منحر اور اپنے ان ساتھیوں سے جو بنی سلمہ کے تھے ‘ کہا : اس گرمی میں جہاد کو نہ نکلو۔ جد کو جہاد کی رغبت نہ تھی ‘ جہاد کی حقانیت میں اس کو شک تھا اور رسول اللہ ﷺ کے متعلق وہ بدگمانی پھیلا نا چاہتا تھا (اسلئے گرمی کے بہانے سے اس نے لوگوں کو جہاد سے روکا) اس پر اللہ نے آیت قُلْ نَارُ جَھَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّاط نازل فرمائی۔ ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سخت گرمی میں تبوک کی طرف (بغرض جہاد) تشریف لے گئے۔ اس پر بنی سلمہ کے ایک شخص نے کہا : گرمی میں جہاد کو نہ جاؤ۔ اس کے رد میں اللہ نے نازل فرمایا : قُلْ نَارُ جَھَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّاط لَوْ کَانُوْا یَفْقَھُوْنَ ۔ بیہقی نے دلائل میں دو طریقوں سے لکھا ہے کہ ایک منافق نے کہا تھا : گرمی میں نہ نکلو ‘ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
Ayah 9:82

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

یہ (دنیا میں) تھوڑا سا ہنس لیں اور (آخرت میں) ان کو ان اعمال کے بدلے جو کرتے رہے ہیں بہت سا رونا ہوگا

فلیضحکوا قلیلاً ولیبکوا کثیرًا پس یہ ہنسیں گے کم اور روئیں گے بہت۔ یعنی جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہ جانے کی وجہ سے یہ خوش ہوئے تو دنیا میں کچھ یا تھوڑی مدت کیلئے ہنس لیں گے اور آخرت میں بہت روئیں گے۔ فَلْیَضْحَکُوْا اور وَلْیَبْکُوْا اگرچہ امر کے صیغے ہیں لیکن مآل کار ان کو جن حالات سے دنیا اور آخرت میں دوچار ہونا تھا ‘ ان کی خبر دی گئی ہے ‘ یعنی امر بمعنی خبر ہے۔ خبر کو انشا کا جامہ پہنا کر پیش کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ ایسا واقع ہونا یقینی اور قطعی ہے۔ ہنسنے اور رونے سے مراد یا تو حقیقی معنی ہیں یا بطور خوشی اور غم۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہنسنے اور رونے کا تعلق صرف آخرت سے ہو یعنی وہ آخرت میں کم ہنسیں گے ‘ زیادہ روئیں گے (لیکن منافقوں کو تو آخرت میں کم ہنسنا بھی نصیب نہ ہوگا ‘ اسلئے) کم سے مراد ہوگا بالکل عدم (قلت بمعنی عدم عربی میں آتا ہے) ۔ جزآء بما کانوا یکسبون وہ دنیا میں جو کچھ کماتے تھے ‘ اس کی پاداش میں مذکورۂ بالا سزا دی جائے گی۔ ابن ابی حاتم نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس نے فَلْیَضْحَکُوْا قَلِیْلاً کی تفسیر میں فرمایا : دنیا قلیل ہے ‘ وہ یہاں جتنا چاہیں ہنس لیں ‘ جب دنیا ختم ہوجائے گی اور اللہ کے پاس پہنچیں گے تو ایسا رونا پڑے گا جو کبھی ختم نہ ہوگا ‘ دوامی ہوگا۔ ابن ماجہ ‘ ابو یعلی ‘ بیہقی اور ہناد نے حضرت انس کا قول نقل کیا۔ حضرت انس نے بیان کیا : میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ دوزخیوں کیلئے رونے کا ایک سیلاب چھوڑ دیا جائے گا۔ اتنا روئیں گے کہ آنسو ختم ہوجائیں گے ‘ پھر خون کا گریہ ہوگا ‘ پھر چہروں پر لمبے شگافوں اور خندقوں کی طرح (زخموں کے) نشان پڑجائیں گے (اتنے بڑے کہ) اگر ان میں کشتیاں چھوڑ دی جائیں تو بہنے لگیں۔ حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن قیس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دوزخی اتنا روئیں گے کہ اگر ان کے آنسوؤں میں کشتیاں چلائی جائیں تو چل جائیں ‘ پھر وہ خون کے آنسو بہائیں گے۔ ابن ابی الدنیا اور ضیاء نے حضرت زید بن رفیع کی مرفوع روایت سے دوزخ کی حالت اس طرح بیان کی کہ دوزخی جب دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو مدت تک آنسوؤں سے روتے رہیں گے ‘ پھر مدت تک لہو کے آنسوؤں سے روئیں گے۔ دوزخ کے فرشتے ان سے کہیں گے : اے بدنصیب گروہ ! تم نے دنیا میں (گناہ سے) رونا چھوڑ دیا۔ آج تمہارا فریاد رس کون ہے ؟ دوزخی چیخیں گے : ہمارے باپ اور ماؤ ! اور بیٹیو اور بیٹو ! ہم قبروں سے پیاسے نکلے اور جب تک وہاں رہے ‘ پیاسے رہے اور اب بھی پیاسے ہیں ‘ کچھ پانی ہماری طرف بھی بہا دو اور جو نعمت اللہ نے تم کو عنایت فرمائی ہے ‘ اس میں سے کچھ ہم کو بھی دے دو ۔ چالیس برس یونہی چلاتے رہیں گے اور کوئی جواب دینے والا نہ ہوگا ‘ پھر جواب ملے گا تو یہ ملے گا کہ تم کو یہیں رہنا ہے۔ آخر وہ ہر بھلائی سے ناامید ہوجائیں گے۔ میں کہتا ہوں : آیت کا تفسیری مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سب لوگوں کو دنیا میں کم ہنسنا چاہئے۔ یہ امر استحبابی ہے۔ زیادہ ہنسنا مکروہ ہے ‘ ہنسنے کی زیادتی دل کو مردہ کردیتی ہے اور دنیا میں ہی اللہ کے خوف سے خوب روئیں تاکہ جو گناہ ہوگیا ہو ‘ اس کی تلافی کی جائے ‘ رونے سے گناہ ساقط ہوجائیں۔ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے۔ رواہ احمد والشیخان فی الصحیحین والترمذی والنسائی وابن ماجہ۔ بخاری نے یہ حدیث حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بھی بیان کی ہے۔ حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوذر کی روایت سے اس کو بیان کیا ہے ‘ اس میں اتنا زائد بھی ہے : اور تم کو کھانا گوارا ہوتا نہ پینا۔ طبرانی ‘ حاکم اور بیہقی نے حضرت ابو درداء کی روایت سے حسب ذیل الفاظ کے ساتھ حدیث مذکور نقل کی ہے : جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو بہت روتے ‘ کم ہنستے اور میدانوں میں نکل کر اللہ کے سامنے گڑگڑاتے۔ تم کو واقفیت نہ ہوتی کہ تمہاری نجات ہوگی یا نہ ہوگی۔ حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو زیادہ روتے ‘ کم ہنستے۔ نفاق ظاہر ہوجائے گا ‘ امانت اٹھ جائے گی ‘ رحمت سمیٹ لی جائے گی۔ امانت دار پر (خیانت کی) تہمت لگائی جائے گی ‘ جو امانت دار نہ ہوگا اس کو امین قرار دے لیا جائے گا۔ کالی رات کی طرح بڑے تاریک فتنے تم پر آپڑیں گے۔ بغوی نے اپنی سند سے لکھا ہے کہ حضرت انس نے بیان کیا : میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : لوگو ! گریہ کرو ‘ اگر رونا نہ آئے تو روتی شکل اختیار کرلو کیونکہ دوزخی دوزخ میں اتنا روئیں گے کہ ان کے چہروں پر آنسو چھوٹی نہروں کی طرح بہیں گے ‘ آخر آنسو ختم ہوجائیں گے تو خون بہے گا (یعنی خون کے آنسو بہنے لگیں گے) اور چشمے پھوٹ نکلیں گے یہاں تک کہ اگر ان میں کشتیاں چلائی جائیں تو چل جائیں۔ امام احمد اور ترمذی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو ہنسے کم ‘ روتے زیادہ اور بستروں پر عورتوں سے لذت اندوز نہ ہوتے اور میدانوں میں نکل کر اللہ سے زاری کرتے۔ ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو مؤمن بندہ اللہ کے خوف سے اپنی آنکھوں سے آنسو نکالتا ہے ‘ خواہ وہ آنسو مکھی کے سر کے برابر ہوں ‘ پھر آنسو نکلنے سے اس کو دکھ پہنچتا ہے تو اللہ اس کو دوزخ پر حرام کردیتا ہے۔
Ayah 9:83

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

پھر اگر خدا تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لے جائے اور وہ تم سے نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہیں نکلو گے اور نہ میرے ساتھ (مددگار ہوکر) دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے تو اب بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو

فان رجعک اللہ الی طآئفۃٍ منھم فاستاذنوک للخروج فقل لن تخرجوا معی ابداً ولن تقاتلو معی عدوًا اب جب اللہ آپ کو (مدینہ میں) لوٹا کر ان (منافقوں) کے کسی گروہ تک پہنچا دے اور وہ آپ سے (آئندہ کسی اور جہاد میں نکلنے کی اجازت طلب کریں تو آپ ان سے کہہ دیں کہ تم لوگ کبھی میرے ساتھ نہیں نکلو گے نہ میرے ساتھ مل کر کسی دشمن سے لڑو گے۔ لَنْ تَخْرُجُوْا اور لَنْ تُقَاتِلُوْا خبری جملے ہیں لیکن نہی کے معنی میں ہیں ‘ کلام میں زور پیدا کرنے کیلئے نہی کو بصورت خبر ذکر کیا ہے۔ انکم رضیتم بالعقود اول مرۃٍ فاقعدوا مع الخالفین۔ تم نے پہلی بار (یعنی تبوک کے موقع پر) بیٹھ رہنے کو پسند کیا (اور شریک نہ ہوئے) پس اب بھی پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ پیچھے رہ جانے والوں سے مراد ہیں بیمار ‘ اپاہج ‘ بچے ‘ عورتیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن میں جہاد کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی (اسلئے جہاد کو نہیں جاتے) حضرت ابن عباس نے فرمایا : الخالفین سے مراد وہ لوگ ہیں جو بغیر عذر کے اپنے گھروں میں بیٹھے رہے (جہاد کو نہیں نکلے) یا مخالفین مراد ہیں۔ فراء نے خالفکا معنی مخالف کہا ہے۔ شیخین نے صحیحین میں حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت سے لکھا ہے کہ عبد اللہ بن ابی کا جب انتقال ہوگیا تو اس کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ بن ابی نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر باپ کے کفن کیلئے ایک کرتہ عطا فرمانے کی رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی ‘ حضور ﷺ نے عطا فرما دیا۔ پھر حضور ﷺ سے نماز جنازہ پڑھا دینے کی خواہش کی ‘ آپ نماز پڑھانے کیلئے کھڑے ہوئے۔ حضرت عمر نے حضور ﷺ کا کپڑا پکڑ لیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ نے منافقوں کی نماز پڑھانے سے تو آپ کو منع فرما دیا ہے۔ فرمایا : اللہ نے مجھے اختیار دے دیا ہے اور فرمایا ہے : اِن تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ اَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ سَبْعِیینَ مَرَّۃً الخ اور میں ستر بار سے زیادہ اس کیلئے دعائے مغفرت کروں گا۔ حضرت عمر نے عرض کیا : یہ تو منافق تھا۔ مگر حضور ﷺ نے جنازہ کی نماز پڑھا دی ‘ اس پر اللہ نے آیت ذیل نازل فرمائی :