6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 6:160

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

اور جو کوئی (خدا کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسے ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

من جآء بالحسنۃ فلہ عشر امثالہا . جو ایک نیکی لے کر آئے گا اس کو اس جیسی دس نیکیوں کا ثواب ملے گا۔ میرے خیال میں اس جگہ ایک شبہ ہوسکتا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ نیکی بدی کا بدلہ صرف خدا کا مقرر کردہ ہے رائے اور سمجھ کو اس میں کوئی دخل نہیں کیونکہ کسی عمل اور اس کے بدلہ میں کوئی مشابہت نہیں (نیکی یا گناہ ایک قول یا عمل ہے اور اس کا بدلہ جنت کی نعمت اور دوزخ کے عذاب کی شکل میں ہوگا اور عمل و قول کی نعمت و عذاب سے کوئی مشابہت نہیں) ایک مزدور کو کام کے عوض روپیہ دیا جاتا ہے کام روپیہ کا ہم شکل نہیں ہوتا صرف مزدور اور کام لینے والا کام کی اجرت روپیہ کو قرار دے لیتے ہیں جب اچھائی برائی کے بدلہ کی مقدار اللہ کی مقرر کردہ ہے تو پھر کسی نیکی کے بدلہ کا دس گنا ہونا ناقابل تصور بھی نہیں ہے اس کا تصور اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب کسی ایک شخص کو نیکی کا بدلہ کسی خاص مقدار میں دیا جائے اور دوسرے آدمی کو اس مقدار کا دس گنا دے دیا جائے مثلاً ایک کام کی اجرت ایک مزدور کو طے شدہ تجویز کے تحت ایک روپیہ دیا جائے اور دوسرے مزدور کو دس روپے دیئے جائیں لیکن اگر سب کو دس دس روپیہ دیئے جائیں تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مزدوری دس گنا دی گء دس کا اندازہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب ایک روپیہ طے شدہ ہو پس کسی نیکی کا دس گنا ثواب اسی وقت دیا جاسکتا ہے جب کسی ایک شخص کو اسی نیکی کا ایک ثواب دیا جائے لیکن جب از روئے آیت حکم میں عموم مانا جائے اور ہر شخص کو ایک نیکی کا دس گنا ثواب قرار دیا جائے تو چونکہ دس گنے کی مقدار کا تعین ہی نہیں کیا جاسکتا اس لئے آیت کا مطلب واضح نہیں ہوتا۔ اس شبہ کو دور کرنے کے لئے میرے نزدیک ظاہر یہ ہے کہ آیت کے حکم میں عموم نہیں بعض لوگوں کو نیکی کے ثواب کی ادنیٰ مقدار بھی دی جائے گی جو اللہ کے علم میں طے شدہ ہے پھر دوسرے لوگوں کا جتنا اخلاص نیت بڑھتا جائے گا اللہ کی مہربانی جس کسی کے حال پر زیادہ ہوتی جائے گی اتنا ہی اجر تفضلی بڑھتا جائے گا جس کو چاہے گا وہ دس گنا دے گا اور جس کو چاہے گا ستر گنا اور جس کو چاہے گا سات سو گنا یا چند دو چند ان گنت بےحساب۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کردہ حدیث اسی مفہوم پر دلالت کر رہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی اپنے اسلام کو خوب ٹھیک کرلے تو پھر ایک نیکی کرے گا تو اس کے لئے اس جیسی نیکیاں دس گنے سے لے کر سات سو گنا تک لکھی جائیں گی اور اگر کوئی بدی کرے گا تو اتنی ہی بدی لکھی جائے گی یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔ متفق علیہ۔ اس فرمان میں رسول اللہ ﷺ نے چند گنا کرنے کو حسن اسلام سے وابستہ کیا اور حسن اسلام صرف دل کی صفائی اور نفس کے بعد ہی عمل میں اخلاص پیدا ہوتا ہے۔ ایک جواب یہ بھی دیا جاسکتا ہے کہ گزشتہ امتوں کے لئے ایک نیکی کا جتنا ثواب مقرر کیا گیا تھا اس سے دس گنا ثواب اس نیکی کا امت محمدیہ کے لئے مقرر کیا گیا ہے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگوں کی میعاد گزشتہ امتوں کی میعاد کی نسبت سے ایسی ہے جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت اور یہود و نصاریٰ کی حالت کے مقابلہ میں تم لوگوں کی حالت ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کام کرنے کے لئے کچھ مزدور رکھے اور کہہ دیا کہ جو شخص دوپہر تک کام کرے گا اس کو ایک ایک قیراط ملے گا۔ یہودیوں نے اس قول کے مطابق ایک ایک قیراط مزدوری پر آدھے دن کام کیا پھر اس شخص نے کہا اب جو شخص دوپہر سے عصر کی نماز تک کام کرے گا اس کو ایک ایک قیراط ملے گا اس قول کے مطابق نصاریٰ نے دوپہر سے تک ایک ایک قیراط پر کام کیا پھر اس شخص نے کہا اب جو شخص عصر کی نماز سے سورج غروب ہونے تک کام کرے گا اس کو دو دو قیراط ملیں گے۔ سنو۔ تم ہی وہ لوگ ہو جو عصر سے مغرب تک کام کرو گے اور دوہرا اجر پاؤ گے۔ یہ فیصلہ سن کر یہودی اور عیسائی ناراض ہوگئے اور بولے کام تو ہمارا زیادہ اور اجرت سب سے کم۔ اللہ نے فرمایا تو کیا میں نے تمہاری کچھ حق تلفی کرلی انہوں نے جواب دیا یہ بات تو نہیں ہوئی اس پر اللہ نے فرمایا پھر یہ مہربانی ہے جس کو چاہتا ہوں دیتا ہے۔ رواہ البخاری۔ میں کہتا ہوں اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس امت کے نیک عمل کا گزشتہ امتوں کے نیک اعمال سے دو گنا ثواب ملے گا دس گنا ثواب ملنا اس سے ثابت نہیں ہوتا اس لئے اول الذکر جواب ہی زیادہ صحیح ہے۔ پس ایسا ہوسکتا ہے کہ اس امت کے ادنیٰ نیکوکار کو گزشتہ امتوں کے نیکو کاروں کے مقابلہ میں کم سے کم دوہرا ثواب دیا جائے پھر عمل میں جتنا خلوص بڑھتا جائے اور اللہ کی مہربانی میں جس قدر اضافہ ہو اتنی ہی مرتبہ میں ترقی ہوتی جائے۔ ومن جآء بالسیءۃ فلا یجزی الا مثلہا . اور جو بدی لے کر آئے گا اس کو اتنی ہی سزا دی جائے گی۔ کسی کی بدی (کی سزا) میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ وہم لا یظلمون . اور ان کی حق تلفی نہیں کی جائے گی (ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا) حضرت ابوذر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے ارشاد فرمایا ہے من جآء بالحسنۃ فلہ عشر امثالہا : اور میں اس پر زیادتی کرتا ہوں (کہ اللہ نے وحی غیر متلو میں یہ بھی فرمایا ہے) کہ جو شخص بدی لے کر آئے گا اس کی بدی کی سزا بقدر بدی ہوگی اور میں معاف بھی کر دوں گا (جس کو چاہوں گا) جو بالشت بھر میرے قریب آئے گا میں ایک ہاتھ اس کے قریب آجاؤں گا اور جو ایک ہاتھ میرے قریب آئے گا میں ایک گز اس کے قریب ہوجاؤں گا جو میرے پاس معمولی چال سے آئے گا میں اس کے پاس لپک کر آؤں گا اور جو مجھ سے زمین بھر گناہوں کے ساتھ ملے گا بشرطیکہ مشرک نہ ہو۔ میں اس سے اتنی ہی مغفرت کے ساتھ ملوں گا۔ رواہ البغوی۔ اس آخری جملہ کا معنی یہ ہے کہ اگر میں چاہوں گا تو اتنی ہی مغفرت کے ساتھ اس سے ملوں گا (یعنی گناہوں کو بخشنا لازم نہیں بلکہ میری مشیت پر موقوف ہے میں چاہوں گا تو سارے گناہ معاف کر دوں گا اور مغفرت کرنی نہ چاہوں گا تو گناہوں کی سزا دوں گا) کیونکہ جزاء سیءۃ بمثلہا : بھی اللہ کا قول ہے (کہ گناہ کے بقدر گناہ کی سزا ہوگی) بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا آیت میں صدقات کے علاوہ دوسری نیکیاں مراد ہیں کیونکہ صدقات کا ثواب تو سات سو گنا تک چند در چند ہوتا جائے گا۔ میں کہتا ہوں کہ حضرت ابن عمر ؓ کی اس تشریح کی علت یہ ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے مثل الذین ینفقون اموالہم فی سبیل اللہ کمثل حبۃ انبتت سبع سنابل فی کل سنبلۃ ماۃ حبۃ واللہ یصاعف لمن یشآء : اور حضرت ابن عمر ؓ کے نزدیک یہ حکم صرف صدقات کے ساتھ مخصوص ہے (یعنی اس آیت میں جو سات سو گنا ثواب ملنے کی صراحت فرمائی ہے وہ صرف مالی خیرات سے تعلق رکھتی ہے) حالانکہ مالی صدقات کے ساتھ اس حکم کی خصوصیت نہیں ہے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ہر تسبیح (ایک بار سبحان اللہ پڑھنا) صدقہ ہے ہر تحمید (ایک بار الحمد للہ) کہنا صدقہ ہے ہر تہلیل (ایک بار لا الہ الا اللہ کہنا) صدقہ ہے اور ہر تکبیر (ایک بار اللہ اکبر کہنا) صدقہ ہے۔ رواہ مسلم و ابو داؤد و ابن ماجۃ من حدیث ابی ذرہ ؓ بلکہ اللہ کے ذکر کا ثواب صدقات سے زائد ہے۔ حضرت ابو الدرداء کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو ایسی چیز بتاؤں جو تمہارے سارے اعمال سے بہتر اور تمہارے مالک کے نزدیک پاکیزہ تر اور تمہارے درجات کو سب اعمال سے زیادہ اونچا کرنے والی ہے اور سونا چاندی خیرات کرنے سے بھی اعلیٰ ہے اور دشمن کا مقابلہ کر کے ان کی گردنیں کاٹنے اور اپنے گلے کٹوانے سے بھی افضل ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا ضرور فرمائیے ارشاد فرمایا اللہ کی یاد۔ رواہ ابن ماجۃ والحاکم والترمذی و احمد۔ طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے ذکر سے افضل کوئی صدقہ نہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 6:161

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ١ۚ۬ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:161 in the Quran reader

کہہ دو کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے (یعنی دین صحیح) مذہب ابراہیم کا جو ایک (خدا) ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

قل اننی ہدنی ربی الی صراط مستقیم . آپ کہہ دیجئے کہ میرے رب نے مجھے ایک سیدھا راستہ بتادیا ہے یعنی فطری اور تخلیقی طور پر بھی معصوم بنایا ہے پھر وحی اور دلائل واضحہ کے ذریعہ سے بھی ہدایت فرما دی ہے۔ دینا قیما ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین . کہ وہ ایک دن ہے مستحکم جو طریقہ ہے ابراہیم کا ابراہیم میں کوئی کجی نہ تھی اور نہ وہ مشرکوں میں سے تھے قیما : مخفف ہے مصدر ہے بمعنی صفت۔ اصل میں قیما : تھا۔ چونکہ مادہ واوی ہے اس لئے قیما : کی اصل بھی قوما : تھی جیسا قیام کی اصل قوام تھی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مستقیم اور قیم ہم معنی ہیں۔ ملۃ ابراہیم : عطف بیان ہے اور حنیفا ابراہیم : سے حال ہے۔ یعنی ابراہیم مشرک نہ تھے۔ پس اے اہل مکہ تم اپنے باپ کے طریقہ کے خلاف شرک کیوں کرتے ہو تم تو ابراہیم کے طریقہ پر چلنے کے دعویدار ہو۔
Ayah 6:162

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:162 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خدائے رب العالمین ہی کے لیے ہے

قل ان صلاتی ونسکی و محیای ومماتی للہ رب العلمین . آپ کہہ دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میری جینا اور میرا مرنا سب اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ نسک : سے مراد ہے حج وعمرہ میں قربانی۔ مقاتل نے کہا حج مراد ہے بعض نے دین مراد لیا ہے بعض نے عبادت یہ سب معانی قاموس و صحاح میں مذکور ہیں محیا : اور ممات : مصدر ہیں یعنی موت ‘ وحیات۔ زندگی اور موت کا مالک اللہ ہے یعنی وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے بعض علماء نے کہا مطلب یہ ہے کہ ایمان وطاعت جس پر میں زندہ ہوں اور جس پر مروں گا سب اللہ ہی کے لئے ہے ‘ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ محیا : سے مراد ہیں زندگی کی طاعتیں جیسے نماز ‘ روزہ وغیرہ اور ممات سے مراد ہیں وہ طاعتیں جن کا تعلق مرنے سے ہے جیسے وصیت اور مرنے کے بعد غلاموں کی آزادی یعنی غلاموں کو مدبر بنانا۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا کہ زندگی میں میری ساری بندگیاں اللہ کے لئے ہیں اور مرنے کے بعد اللہ کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے۔ بعض نے اس طرح تفسیر کی ہے کہ عمل صالح کے ساتھ میری زندگی اور ایمان کے ساتھ میری موت اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔
Ayah 6:163

لَا شَرِیْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 6:163 in the Quran reader

جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی بات کا حکم ملا ہے اور میں سب سے اول فرمانبردار ہوں

لا شریک لہ . اس کا کوئی شریک نہیں ‘ یعنی اس کے ساتھ میں کسی کو شریک نہیں قرار دیتا۔ وبذلک امرت . اور اسی (اقرار و اخلاص) کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔ وانا اول المسلمین . اور میں سب ماننے والوں سے پہلا ہوں۔ یعنی اس امت میں سب سے پہلا مسلم ہوں اور جس بات کو تم سے پہلے میں حاصل کرچکا ہوں اسی کی تم کو دعوت دیتا ہوں اس سے تم کو سمجھ لینا چاہئے کہ میں تمہارا بہی خواہ ہوں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ کفار قریش رسول اللہ ﷺ سے درخواست کرتے تھے کہ آپ ہمارے مذہب کی طرف لوٹ آئیے اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا۔
Ayah 6:164

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا١ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 6:164 in the Quran reader

کہو کیا میں خدا کے سوا اور پروردگار تلاش کروں اور وہی تو ہر چیز کا مالک ہے اور جو کوئی (برا) کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی کو ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کا جانا ہے تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا

قل اغیر اللہ ابغی ربا وہو رب کل شی . آپ کہہ دیجئے کہ کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو رب بنانے کے لئے تلاش کروں حالانکہ وہ ہر چیز کا مالک ہے۔ استفہام نکاری ہے اور وہو رب کل شی : حال ہے مگر علت انکار کی جگہ اس کو ذکر کیا گیا ہے (گویا واؤ تعلیل کا ہے) مطلب یہ ہے کہ کیا اللہ کی عبادت میں میں کسی اور کو شریک کروں اور دوسرے کو رب بنانے کی خواہش کروں میں ایسا نہیں کرسکتا کیونکہ وہ ہر چیز کا رب ہے اور میری طرف کائنات کی ہر چیز اسی کی مربوب ہے معبود ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ سابق آیت میں حکم دیا تھا کہ آپ کہہ دیں میرا دین ابراہیم کا دین ہے اس سے وہم ہوسکتا تھا کہ شاید رسول اللہ ﷺ نے دین ابراہیم کو بطور تقلید اختیار کیا ہے اور جس طرح کفار آباء و اجداد کے دین کی تقلید کرتے تھے اسی طرح آپ بھی دین اسلاف کے پابند تھے اس وہم کو اغیر اللہ ابغی ربا وہو رب کل شئی : کہہ کر زائل فرما دیا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ ولید بن مغیرہ کہتا تھا میرے راستہ پر چلو تمہارا بار (گناہ) اپنے اوپر اٹھانے کا میں ذمہ دار ہوں اس کی تردید میں اللہ نے فرمان صادر فرمایا۔ ولا تکسب کل نفس الا علیہا . اور جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے وہ اسی پر رہتا ہے یعنی جو شخص کوئی جرم کرے گا اس کا گناہ اپنے اوپر اٹھائے گا اگر کوئی اللہ کے سوا کسی اور کو رب بنانے کا طلب گار ہوگا تو اس کا وبال خود کسی دوسرے کا ذمہ دار ہونا کچھ فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ ولا تزروازرۃ اخری . اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ (اپنے اوپر) نہیں اٹھائے گا وازرۃ : اور اخری : کا موصوف محذوف ہے یعنی نفس وازرۃ : اور نفس اخری : یعنی گناہگار نفس کے گناہوں کا بوجھ کو کوئی اپنے اوپر نہیں اٹھائے گا۔ ثم الی ربکم مرجعکم فینبئکم بما کنتم فیہ تختلفون . پھر تم سب کو اپنے رب کے پاس لوٹ کر جانا ہوگا پھر تم کو وہ جتلا دے گا جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے یعنی قیامت کے دن تم سب کو اپنے رب کے پاس لوٹ کر جانا ہے تمہارے اندر جو دینی اختلاف ہے اس میں کون حق پر ہے کون باطل پر اس کا فیصلہ اس روز اللہ کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل اور اعتقاد کے بموجب سزا جزا دے گا۔
Ayah 6:165

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖ٘ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 6:165 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تمہاری آزمائش ہے بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب دینے والا ہے اور بےشک وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے

وہو الذی جعلکم خلئف الارض . اور وہ ایسا ہے جس نے تم کو زمین پر (پہلی قوموں کی جگہ) بااختیار بنایا یعنی اے امت محمد ﷺ اللہ نے گزشتہ اقوام کی ہلاکت کے بعد تم کو اس زمین کا والی وارث بنا دیا۔ ورفع بعضکم فوق بعض درجت لیبلوکم فی اما اتکم . اور اس نے تم میں سے بعض سے بعض کے درجے اونچے کئے تاکہ اللہ نے جو کچھ تم کو عطا فرمایا ہے اس میں (ظاہراً ) تمہاری جانچ کرے یعنی جو جاہ و مال تم کو دیا ہے اس میں ظاہر ہوجائے کہ تم شرک کرتے ہو (یا شکر) ان ربک سریع العقاب و انہ لغفور رحیم . بالیقین آپ کا رب جلد سزا دینے والا ہے اور بلاشبہ وہ بڑی مغفرت اور مہربانی کرنے والا (بھی) ہے یعنی جب چاہے گا اپنے دشمنوں پر فوراً عذاب لے آئے گا موت کے بعد یا قیامت کے دن تک عذاب کو مؤخر کرنے سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ عذاب دور ہے کوئی آنے والی چیز دور نہیں ہوتی۔ اللہ نے آیت ان ربک : میں سرعت کی نسبت عذاب کی طرف کی (کیونکہ سریع العقاب : کا معنی ہے سریع عقابہ) براہ راست اپنی ذات کی طرف نہیں (کیونکہ سریع العقاب اللہ کی صفت ہے مگر صفت بحال متعلقہ) اور مغفرت و رحمت کی نسبت اپنی ذات کی طرف مبالغہ کے صیغہ اور لام تاکید کے ساتھ براہ راست کی اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اللہ بذات خود تو رحیم و غفور ہے لیکن صفت ربوبیت کا تقاضا ہے کہ مجموعہ کا نظم درست ہو اس لئے بالعرض سرکشوں کو عذاب دینے والا بھی ہے۔ اس کی رحمت کثیر ہے اور عذاب قلیل بیشتر درگزر فرماتا ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر سورة انعام پوری ایک ہی مرتبہ میں اتری اس کی مشایعت میں ستر ہزار فرشتے تھے۔ جن کی تسبیح وتحمید کا ایک غلغلہ تھا۔ رواہ الطبرای فی المعجم الصغیر وابو نعیم فی الحلیۃ و ابن مردویہ فی التفسیر۔ حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جب سورة الانعام نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے سبحان اللہ پڑھا ‘ پھر فرمایا اس سورت کے پیچھے اتنے فرشتے تھے کہ آسمان کے کنارے انہوں نے بند کردیئے تھے (یعنی پورے آسمان پر کناروں تک چھا گئے تھے) رواہ الحاکم فی المستدرک۔ یہ حدیث بھی دلالت کر رہی ہے کہ سورت انعام ایک دم پوری اتری تھی۔ مختلف آیات کے اسباب نزول جو الگ الگ بیان کئے گئے ہیں شاید اس کی صورت یہ ہوئی کہ مختلف واقعات قریب قریب اوقات میں ظاہر ہوئے اور چونکہ بعض آیات کا بعض اسباب سے اور دوسری بعض آیات کا دوسرے اسباب سے ربط اور تناسب تھا اس لئے اس آیت کے نزول کا سبب اس واقعہ کو قرار دے دیا گیا اور کہہ دیا گیا کہ یہ آیت فلاں واقعہ کے متعلق اور یہ آیت فلاں سبب کے تحت نازل ہوئی (ورنہ احادیث مذکورہ سے معلوم ہو رہا ہے کہ پوری سورت ایک ہی وقت میں نازل ہوئی) (1) [ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا سورة انعام قرآن مجید کی بزرگ ترین سورتوں میں سے ہے۔ بیہقی نے شعب الایمان میں مجہول سند سے حضرت علی کا قول موقوفا نقل کیا ہے کہ سورة الانعام جس بیمار پر پڑھی جائے گی اللہ اس کو شفامرحمت فرمائے گا ] 19 ربیع الثانی 1199 ھ ؁ کو اس جگہ تفسیر مظہری کی تالیف ختم ہوئی اور بعون اللہ تعالیٰ 28 جمادی الاول کو یہاں تک ترجمہ پورا ہوا۔