6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 6:19

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

ان سے پوچھو کہ سب سے بڑھ کر (قرین انصاف) کس کی شہادت ہے کہہ دو کہ خدا ہی مجھ میں اور تم میں گواہ ہے اور یہ قرآن مجھ پر اس لیے اتارا گیا ہے کہ اس کے ذریعے سے تم کو اور جس شخص تک وہ پہنچ سکے آگاہ کردوں کیا تم لوگ اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ اور بھی معبود ہیں (اے محمدﷺ!) کہہ دو کہ میں تو (ایسی) شہادت نہیں دیتا کہہ دو کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور جن کو تم لوگ شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں

قل ای شی اکبر شہادۃ آپ کہئے کہ سب سے بڑھ کر چیز گواہی دینے کے لئے کون ہے۔ ہر موجود کو شئ کہتے ہیں پوری تشریح سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ یہاں شئ سے مراد ہے شاہد (گواہ) اکبر سے مراد ہے عظمت والا۔ مطلب یہ کہ اللہ کی شہادت سے بڑی کس شاہد کی شہادت ہے۔ اب اگر وہ جواب دیں تو خیر ورنہ قل اللہ آپ خود ہی کہہ دیں کہ سب سے بڑا شاہد اللہ ہے۔ اللہ مبتدا ہے اور قرینہ کی وجہ سے خبر کو حذف کردیا گیا ہے۔ شہید بینی وبینکم وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے شہیدٌ خبر ہے ہُوَ مبتدا محذوف ہے۔ یا اللہ مبتدا ہے اور شہیدخبر اور پورا جملہ قلکا مفعول کیونکہ اللہ جب گواہ ہے تو وہی سب سے بڑا شاہد ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شئٌسے مراد مشہود ہو یعنی جس چیز کی گواہی دی جائے اور شہادت سے مراد ہو گواہی دیا جانا (یعنی مشہودیت۔ مصدر مبنی للجہول) آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ میری رسالت یا عدم رسالت سے بڑھ کر کس مسئلہ کی گواہی ہوسکتی ہے اور میری رسالت کا شاہد اللہ ہے اور جس چیز کا گواہ اللہ ہو اس سے بڑھ کر مشہود کون ہوسکتا ہے پس میری رسالت سب سے بڑھ کر مشہود ہے اس تفسیر پر کسی تکلف کی ضرورت نہیں۔ اللہ کی شہادت وہ معجزات ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے اللہ نے عطا فرمائے اور چونکہ تمام معجزات سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے اس لئے فرمایا واوحی الی ہذا القرآن اور قرآن خود معجزہ ہے جو اللہ کی گزشتہ کتابوں کے مطابق مبدء اور معاد کے احوال بیان کرتا ہے۔ لانذرکم بہ ومن بلغ تاکہ اس کے ذریعہ سے میں تم کو اور ان تمام لوگوں کو جن کو قرآن پہنچ جائے ڈراؤں۔ یعنی اگر تم ایمان نہ لاؤ تو اس قرآن کے ذریعہ سے اللہ کے عذاب سے ڈراؤں۔ کم کا خطاب اہل مکہ کو ہے اور من بلغکا عطف کُمْ پر ہے اور اس سے مراد وہ سب جن و انس ہیں جو نزول قرآن کے وقت موجود تھے یا آئندہ قیامت تک آنے والے ہیں (پیغمبر کا فرض ہے فرماں برداروں کو خوشخبری دینا اور نافرمانوں کو عذاب سے ڈرانا لیکن) یہاں صرف ڈرانے کا ذکر کیا (بشارت کا ذکر نہیں کیا) کیونکہ حال و مقال کا قرینہ بشارت پر دلالت نہیں کر رہا ہے اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ انذار کی اہمیت (تبلیغ کے موقع پر) زیادہ ہے (اگر انذار مفید نہ ہوگا تو بشارت بدرجۂ اولی غیر مفید ہوگی کیونکہ) حصول منفعت سے دفع مضرت کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری جانب سے (لوگوں تک) پہنچا دو خواہ ایک ہی آیت ہو۔ اور بنی اسرائیل کے (بیان کردہ اقوال) بیان کردیا کرو اس میں کوئی (تم پر) تنگی نہیں (بشرطیکہ احادیث کے خلاف نہ ہوں) اور جس نے قصداً مجھ پر دروغ بندی کی اس کو اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لینا چاہئے۔ متفق علیہ۔ اس حدیث میں بنی اسرائیل سے مراد وہ بنی اسرائیل ہیں جو سچے دل سے مسلمان ہوگئے تھے ورنہ جھوٹے کافروں کی روایت کا کوئی اعتبار نہیں۔ حضرت سمرہ بن جندب ؓ اور حضرت مغیرہ ؓ بن شعبہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے میری جانب سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کی کہ وہ جھوٹ ہے (میرا کلام نہیں ہے) تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ہے۔ ( رواہ مسلم) حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ اس بندے کو سرسبز کرے جو میری بات سن کر یاد رکھے اور سمجھے اور پھر (دوسروں تک) پہنچا دے کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کسی سمجھ کی بات ایسے لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں جو پہنچانے والے سے زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں۔ تین باتوں میں مسلمان کا دل کھوٹ (یا بخل) نہیں کرتا۔ خلوص کے ساتھ اللہ کے لئے عمل کرنا ‘ مسلمانوں کی خیرخواہی کرنا اور اہل اسلام کی جماعت کے ساتھ وابستہ رہنا کوئی شبہ نہیں کہ ان کی دعوت پیچھے والوں کو محیط ہوگی۔ رواہ الشافعی والبیہقی فی المدخل۔ احمد ‘ ترمذی ‘ ابو داؤد و ابن ماجہ اور دارمی نے یہ حدیث حضرت زید ؓ بن ثابت کی روایت سے بیان کی ہے مگر ترمذی اور ابو داؤد کی روایت میں تین باتوں کا ذکر نہیں ہے۔ محمد بن کعب قرظی کا قول ہے جس کو قرآن پہنچ گیا۔ اس نے گویا رسول اللہ ﷺ : کی زیارت کرلی اور آپ سے قرآن سن لیا۔ ائنکم لتشہدون ان مع اللہ الہۃ اخری (اے اہل مکہ) کیا تم اس بات کے قائل ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہیں (جو اللہ کے ساتھ اس کی خصوصی صفات میں شریک ہیں) یہ استفہام اظہار تعجب اور تقریر مع الانکار کے لئے ہے یعنی تعجب ہے اور بعید از عقل ہے کہ تم شرک کے قائل ہو باوجودیکہ تمام عقلی و نقلی دلائل توحید کو ثابت کر رہے ہیں۔ یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ اہل مکہ نے توحید پر شہادت طلب کی تھی اس صورت میں آیت کا مطلب اس طرح ہوگا کہ اللہ توحید کا شاہد ہے اور توحید کی شہادت یہ ہے کہ اس نے دلائل قائم کیں اور قرآن نازل فرمایا جو سراسر معجزہ ہے اور اللہ کی یہ شہادت سب سے بڑی شہادت ہے اب تعجب ہے کہ تم شرک کے قائل ہو۔ میں کہتا ہوں شاید انہوں نے توحید و رسالت دونوں کی شہادت طلب کی ہو مگر کلبی نے شان نزول کے بیان میں صرف شہادت رسالت کی طلب کا تذکرہ کیا کیونکہ شہادت رسالت کے لئے شہادت توحید لازم ہے اور شہادت توحید کے لئے شہادت رسالت لازم نہیں۔ قل لا اشہد آپ کہہ دیجئے کہ (جس بات کے تم قائل ہو) میں اس کی شہادت نہیں دیتا۔ قل انما ہو الہ واحد آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی معبود یکتا ہے۔ یعنی معبودیت اور وجوب وجود ‘ خلاقیت ‘ رزاقیت اور تمام صفات کمالیہ میں اکیلا ہے اس کی کسی خصوصیت میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ ہر طرح کی (جسمانی یا حقیقی) ترکیب و تعدد جسمانیت مکان اور ترکیب و تعدد کے دوسرے لوازم سے پاک ہے۔ ہماری اس تشریح کے بعد یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ الہ واحد کا اللہ کے لئے ثبوت افادیت سے خالی ہے اللہ تو خود ہی جزئی حقیقی ہے اور جزئی حقیقی میں کثرت کا احتمال ہوتا ہی نہیں ہے پھر اس کو الہ واحد کہنے سے کیا فائدہ۔ اس شبہ کا ازالہ ہماری تشریح سے ہوگیا کہ الٰہ بمعنی معبود ہے (اور احتمال ہوسکتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا بھی معبود ہو اس لئے واحد کہہ کر اس احتمال کو دور کردیا پس اللہ جزئی حقیقی ہے اس کی ذات و شخصیت میں کوئی اس کا شریک نہیں نہ اس کے خصوصی اوصاف میں کسی کی شرکت ہے) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اِنَّمَا (کلمۂ حصر نہ ہو بلکہ اس) میں ما موصولہ ہو اور ہُوَضمیر اسی موصول کی طرف راجع ہو اور ہُوَ الٰہٌپورا جملہ صلہ ہو اور واحدما موصولہ کی خبر ہو مطلب اس طرح ہوگا کہ وہ جو معبود ہے وہ واحد ہے کیونکہ وہ واجب الوجود اور حامل صفات کمالیہ ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ خلاصہ یہ کہ جس شرک کے تم قائل ہو میں اس کا قائل نہیں بلکہ میں توحید کی شہادت دیتا ہوں۔ واننی بری مما تشرکون اور میں تمہارے شرک سے قطعاً بیزار ہوں (مِمَّا میں اگر مَا موصولہ ہو تو) ما سے مراد ہوں گے بت یعنی جن بتوں کو استحقاق معبودیت میں تم اللہ کا شریک قرار دیتے ہو۔ میں ان سے بیزار ہوں یا (اگر ما کو مصدریہ قرار دیا جائے تو) ماتشرکون سے مراد ہوگا شرک یعنی میں تمہارے شرک کرنے سے بیزار ہوں۔
Ayah 6:20

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ ان (ہمارے پیغمبرﷺ) کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں جنہوں نے اپنے تئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے

الذین اتینہم الکتب جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے یعنی توریت و انجیل۔ یعرفونہ وہ محمد ﷺ : کو پہچانتے ہیں کہ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ رسول کا جو حلیہ اور اوصاف و اخلاق ان کی کتابوں میں بیان کئے گئے ہیں وہ بعینہٖ محمد ﷺ کے ہیں۔ کما یعرفون ابنآء ہم جس طرح (دوسرے بچوں میں سے) اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ الذین خسروا انفسہم فہم لا یومنون جن لوگوں نے (رسول اللہ ﷺ کے صفات مندرجۂ توریت و انجیل چھپانے کی وجہ سے) اپنے کو ضائع کرلیا ہے (یعنی اللہ نے اپنے علم قدیم میں ان کی نامرادی کا اندازہ کرلیا ہے) وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ یعنی دلوں سے یقین کرنے کے باوجود محض عناد ظلم اور غرور و انانیت کی وجہ سے محمد ﷺ : کی نبوت کو نہیں مانیں گے۔ مکہ والوں نے کہا تھا کہ تمہاری نبوت کا کون شاہد ہے ہم نے تو یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی پوچھا تھا انہوں نے جواب دیا کہ تمہارا ذکر ان کی کتابوں میں نہیں ہے اس قول کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے محمد ﷺ : کی رسالت کی تکذیب کی۔ انہوں نے اپنے کو ضائع کردیا کہ بصورت ایمان جو مقامات مراتب ان کے لئے جنت کے اندر مقرر تھے ان کو کھو دیا اور دوزخ کے ٹھکانوں کو پسند کرلیا۔ ابن ماجہ اور بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک کے دو مقام ہیں ایک جنت میں ایک دوزخ میں۔ پس جو شخص مر کر دوزخ میں چلا جاتا ہے اس کے جنت والے مکان کے وارث اہل جنت ہوجاتے ہیں یہی مطلب ہے آیت : (اولءِکَ ہم الوارثون) کا۔ بغوی نے لکھا ہے قیامت کا دن ہوگا تو اللہ مؤمنوں کو دوزخیوں کے جنت والے مکان اور دوزخیوں کو مومنوں کے دوزخ والے مکان دے دے گا اور یہی نامرادی ہے۔ میں کہتا ہوں رفتار کلام اس طرح ہونی چاہئے تھی کہ جو لوگ ایمان نہیں لائیں گے وہ اپنے کو ضائع کریں گے مگر کلام میں قوت پیدا کرنے کے لئے طرز بیان کو الٹ دیا۔
Ayah 6:21

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے خدا پر جھوٹ افتراء کیا یا اس کی آیتوں کو جھٹلایا۔ کچھ شک نہیں کہ ظالم لوگ نجات نہیں پائیں گے

ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اور جس نے اللہ پر دروغ بافی کی اس سے زیادہ بےانصاف کون ہوگا۔ یعنی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور باوجودیکہ اس کے پاس اللہ نے وحی نہیں بھیجی مگر وہ وحی کا مدعی بن بیٹھا۔ او کذب بایتہ یا اللہ کی آیات کی اس نے تکذیب کی۔ یعنی قرآن میں اللہ نے جو آیات نازل فرمائی ہیں اور معجزات جو توحید پر دلالت کرتے ہیں اور رسول کی صداقت ان سے ثابت ہوتی ہے ان کو نہیں مانا۔ استفہام انکاری ہے یعنی ایسے شخص سے بڑھ کر کوئی ناانصاف نہیں (ظالم کا ترجمہ بےجا حرکت کرنے والا بھی ہے اس لئے ” اظلم “ کا ترجمہ سب سے بڑا بےجا حرکت کرنے والا بھی ہوسکتا ہے۔ مترجم) ۔ اس تشریح کی بناء پر آیت میں رسول اللہ ﷺ کے جھوٹ سے پاک ہونے اور کافروں کے ظالم ترین ہونے پر تنبیہ ہوگی) لیکن آیت کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کافروں سے بڑھ کر کون بےانصاف ہوگا جو اللہ پر دروغ بندی کرتے ہیں اور اللہ کی شان میں ایسی باتیں کہتے ہیں جو اس کے لئے نازیبا ہیں کوئی اس کا ساجھی قرار دیتا ہے اور کوئی اس کو باپ کہتا ہے اور کوئی پتھروں کو بارگاہ خداوندی میں اپنا سفارشی قرار دیتا ہے یا اللہ کی آیات کو جھوٹ جانتا ہے۔ اس صورت میں بجائے او کے واؤ عاطفہ ہونا چاہئے تھا کیونکہ مکہ والے ان تمام افکار و اقوال شنیعہ کا مجموعہ تھے لیکن او لانے سے اس امر پر تنبیہ ہوجائے گی کہ ان دونوں اقوال میں سے ہر ایک کامل طور پر ” اظلم “ بنانے کے لئے کافی ہے پھر ان کے اندر تو دونوں چیزیں ہیں افتراء بندی بھی اور تکذیب آیات بھی اس لئے ان کا اظلمہونا تو بدرجۂ اولیٰ یقینی ہے۔ اِوَذکر کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ افتراء بندی اور تکذیب آیات دو جرم ایسے ہیں جو باہم ضد ہیں اور دونوں کو یکجا جمع نہ ہونا چاہئے مگر ان کافروں کی حماقت اس درجہ تک پہنچ چکی ہے کہ دونوں (متضاد) خرابیاں ان کے اندر موجود ہیں۔ اللہ پر افتراء بندی اور اس امر کا دعویٰ کرنا کہ اللہ نے فلاں کام کو حلال اور فلاں کام کو حرام بنایا ہے اور اس کی بیوی بھی ہے اور اولاد بھی اور وہ بتوں کی شفاعت قبول کرے گا۔ اس قسم کی خرافات کا تقاضا ہے کہ وہ رسالت کے قائل ہیں اور ان باتوں کو رسالت کے ذریعہ سے آیا ہوا مانتے ہیں لیکن اسی کے ساتھ وہ آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آدمی کو کس طرح پیغمبر بنایا جاسکتا ہے پیغمبر تو فرشتہ ہونا چاہئے اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ کسی انسان کی رسالت کے قائل نہیں۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے خلاف ہیں مگر احمق کافر دونوں کے قائل ہیں۔ انہ لا یفلح الظلمون ظالم قطعاً فلاح یاب نہیں ہوں گے اور جو سب سے بڑا ظالم ہو اس کا تو ٹھکانا ہی کیا۔ اِنَّہ ٗمیں ضمیر شان ہے۔ (1) [ شعر : وائے برقومے کہ بت را سجدہ بےحجت کنند۔۔ بارسل گویند ائتونا بسلطان مبین ]
Ayah 6:22

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

اور جس دن ہم سب لوگوں کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے پوچھیں گے کہ (آج) وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تمہیں دعویٰ تھا

و یوم نحشرہم جمیعا اور جس روز ہم ان سب کو جمع کریں گے۔ یعنی کافروں کو اور ان کے معبودوں کو (بتوں وغیرہ کو) یوممفعول فیہ ہے اس کا فعل محذوف ہے یعنی یاد کرو اس دن کو جب ایسا ایسا ہوگا۔ یا یوں کہا جائے کہ کوئی معین فعل ذکر نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ روز قیامت کے تمام خطرات اور شدائد و مصائب کی طرف ذہن کا انتقال ہوجائے (اور ہر قسم کی ہیبت ناکیاں نظر کے سامنے آجائیں اگر کوئی معین فعل ذکر کیا جاتا تو صرف اسی فعل کا تصور ہوتا اور دوسرے شدائد کی طرف ذہن کا انتقال نہ ہوتا) گویا یوں فرمایا کہ جس روز ہم سب کو جمع کریں گے اس روز سب پر ایسی دہشت طاری ہوجائے گی کہ ناقابل بیان ہے الفاظ کی حدود کے اندر نہیں آسکتی سورج قریب آجائے گا۔ پسینہ کی لگام لگ جائے گی یعنی منہ تک لوگ پسینہ میں غرق ہوں گے پسینہ بہ کر ستر ہاتھ زمین میں گھس جائے گا وغیرہ وغیرہ جیسا کہ صحیح احادیث میں آیا ہے۔ ثم نقول للذین اشرکوا پھر (سرزنش کرنے کے لئے) ہم مشرکوں سے کہیں گے۔ نقول کا عطف نحشر پر ہے۔ ثمکا لفظ بتارہا ہے کہ حشر کے بعد مدت تک لوگ سوال کے منتظر رہیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم کو اللہ پچاس ہزار برس تک جمع کر رکھے گا جیسے تیر دان کے اندر تیر اکٹھے کئے جاتے ہیں (اس مدت میں) تمہاری طرف نظر بھی نہیں کرے گا۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور بیہقی نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا قیامت کے دن تاریکی میں ہزار برس تک تم کو روک رکھا جائے گا کہ بات بھی نہ کرسکو گے۔ رواہ البیہقی عن ابن عمر ؓ ۔ این شرکآؤ کم الذین کنتم تزعمون تمہارے وہ شرکاء جن کے معبود ہونے کا تم دعویٰ کرتے تھے کہاں گئے۔ شرکاء سے مراد ہیں وہ معبود جن کو مشرک ‘ اللہ کے ساتھ عبادت میں شریک قرار دیتے تھے۔ تزعمونکا مطلب یہ ہے کہ تم استحقاق معبودیت میں شریک قرار دیتے تھے یا ان کو بارگاہ خداوندی میں اپنا سفارشی سمجھتے تھے۔
Ayah 6:23

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

تو ان سے کچھ عذر نہ بن پڑے گا (اور) بجز اس کے (کچھ چارہ نہ ہوگا) کہ کہیں خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے

ثم لم تکن فتنتہم پھر ان کے شرک کا انجام اور کچھ نہ ہوگا۔ لفظ ثمبتا رہا ہے کہ مدت تک تامل کرنے کے بعد وہ جواب دیں گے۔ فتنہ سے مراد کفر ہے یعنی انجام کفر یہ ہوگا کہ طویل تامل و ندامت کے بعد وہ کہیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ ؓ نے فتنہ کا ترجمہ عذر کیا ہے ان کا عذر ان کے لئے فتنہ ہوگا کیونکہ وہ معذرت کو رہائی اور بچاؤ کا ذریعہ سمجھ رہے ہوں گے حالانکہ اس جواب سے ان کو رہائی نہ ہو سکے گی۔ فتنت الذہب میں نے سونے کو میل کچیل سے الگ کردیا۔ عربی کا محاورہ ہے۔ یا فتنۃ سے مراد ہے جواب۔ جواب چونکہ جھوٹا ہوگا اس لئے اس کو فتنہ فرمایا۔ بعض علماء نے فتنہ کا ترجمہ تجربہ کیا ہے چونکہ سوال ان کے اندرونی خیال کو ظاہر کرانے کا ایک تجربہ ہوگا اس لئے جواب کو تجربہ فرمایا۔ زجاج نے کہا یہ لفظ اس جگہ ایک لطیف معنی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ بعض محب محبوب پر شیفتہ فریفتہ ہوتے ہیں۔ لیکن جب اس شیفتگی اور عشق میں ان پر مصائب آتے ہیں تو وہ محبوب سے بیزار ہوجاتے ہیں۔ اس وقت ان سے کہا جاتا ہے تمہارا عشق بس یہ ہوا (کہ دکھ پڑا تو عشق کو بھول گئے) قیامت کے دن بتوں کی محبت سے بھی کافر اسی طرح بیزار ہوجائیں گے۔ میں کہتا ہوں بتوں کی محبت ہی کیا اسلاف کی تقلید سے بھی اظہار نفرت کریں گے۔ الا ان قالوا واللّٰہ ربنا ما کنا مشرکین سوائے اس کے کہ وہ کہیں گے اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے ہم تو مشرک نہیں تھے۔ ایک آیت میں آیا ہے ولا یکتمون اللّٰہ حدیثًااللّٰہسے وہ کوئی بات نہیں چھپائیں گے اور اس آیت میں ہے واللّٰہ ربنا ما کنا مشرکین دونوں آیات کا مضمون باہم مخالف ہے۔ حسب روایت بخاری حضرت ابن عباس ؓ نے (اس تضاد کو دور کرنے کے لئے) فرمایا قیامت کے دن جب کفار دیکھیں گے کہ اللہ مسلمانوں کے گناہ تو معاف فرما رہا ہے اور شرک کو معاف نہیں فرماتا تو وہ مشرک ہونے سے انکار کردیں گے اور کہیں گے واللہ ہم مشرک نہیں تھے اس وقت اللہ ان کے منہ پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے اعمال کی شہادت دیں گے ایسی حالت میں ان کو تمنا ہوگی کاش ہم زمین کا پیوند ہوجاتے خاک کے ساتھ خاک بن جاتے اس وقت وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں گے (حضرت ابن عباس ؓ کی توضیح کا خلاصہ یہ ہے کہ ابتدائی حالت میں وہ شرک کا انکار کریں گے اور جب دست و پاکی شہادت کے بعد حقیقت کھل جائے گی تو پھر کوئی بات چھپا نہ سکیں گے)
Ayah 6:24

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

دیکھو انہوں نے اپنے اوپر کیسا جھوٹ بولا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہا

انظر کیف کذبوا علی انفسہم (اے مخاطب) ذرا دیکھ تو انہوں نے اپنے اوپر کیسا جھوٹ بولا۔ کذبوا کی ضمیر فاعل سے کیفحال ہے۔ چونکہ استفہام صدارت کو چاہتا ہے اس لئے کیف کو پہلے ذکر کیا۔ وضل عنہم ما کانوا یفترون اور جو کچھ دروغ بندیاں کرتے تھے وہ ان سے غائب ہوگئیں دروغ بندی سے مراد ہے بعض احکام کو خود حرام حلال بنانا اور اللہ کی طرف سے ان کی حرمت و حلت کی نسبت کرنا اور بتوں کو اپنا سفارشی قرار دینا۔ کلبی نے بیان کیا ایک بار ابو سفیان بن حرب ‘ ابوجہل بن ہشام ‘ ولید بن مغیرہ ‘ نضر بن حارث ‘ عتبہ بن ربیعہ ‘ شیبہ بن ربیعہ ‘ امیہ بن خلف ‘ ابی بن خلف اور حارث بن عامر جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ سے قرآن سننے لگے۔ ساتھیوں نے نضر سے کہا ابو قتیلہ محمد کیا کہہ رہا ہے۔ نضر نے کہا مجھے تو معلوم نہیں کیا کہہ رہا ہے۔ زبان ہلا رہا ہے اور پرانے لوگوں کی کچھ داستانیں اسی طرح کہہ رہا ہے جس طرح گزشتہ اقوام کے قصے میں تم سے بیان کرتا ہوں۔ نضر اقوام پارینہ کے قصے اور افسانے بہت زیادہ بیان کیا کرتا تھا۔ ابو سفیان بولا میرے خیال میں تو بعض باتیں سچ کہتا ہے ابوجہل بولا ہرگز نہیں ‘ تم ایسا اقرار نہ کرو بعض روایات میں آیا ہے کہ ابو جہل نے کہا اس سے تو ہمارے لئے موت آسان ہے اس لئے اللہ نے آیات ذیل نازل فرمائیں۔
Ayah 6:25

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری (باتوں کی) طرف کان رکھتے ہیں۔ اور ہم نے ان کے دلوں پر تو پردے ڈال دیئے ہیں کہ ان کو سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے (کہ سن نہ سکیں) اور اگر یہ تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں۔ یہاں تک کہ جب تمہارے پاس تم سے بحث کرنے کو آتے ہیں تو جو کافر ہیں کہتے ہیں یہ (قرآن) اور کچھ بھی نہیں صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

ومنہم من یستمع الیک اور ان میں سے بعض لوگ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں ‘ یعنی جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو کان لگا کر سنتے ہیں۔ وجعلنا علی قلوبہم اکنۃ ان یفقہوہ اور ہم نے ان کے دلوں پر اس کو سمجھنے سے حجاب ڈال رکھے ہیں۔ اَکِنَّۃٌکنان کی جمع ہے اور کنان کا معنی ہے پردہ۔ یعنی ان کے دلوں پر حجاب ڈال دیئے ہیں تاکہ قرآن کو نہ سمجھیں۔ وفی اذانہم وقرا اور ان کے کانوں میں ڈاٹ دے رکھی ہے۔ وقرکا معنی گرانی گوش اور ٹھوس پن۔ وان یروا کل ایۃ لا یومنوا بہا اور اگر وہ تمام دلائل کو دیکھ لیں۔ تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں۔ دلائل سے مراد ہیں معجزات اللہ نے ان کی آنکھوں پر پردے اور دلوں پر حجاب ڈال دیئے ہیں انہی حجابات کی وجہ سے وہ رسول اللہ ﷺ سے دشمنی اور تقلید اسلاف پر کمر بستہ ہوگئے ہیں نتیجہ یہ کہ نہ اچھے کو اچھا جانتے ہیں نہ برے کو برا۔ حتی اذا جآءوک یجادلونک یہاں تک کہ یہ لوگ جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے (خواہ نخواہ) جھگڑتے ہیں۔ یقول الذین کفروا ان ہذا الا اساطیر الاولین یہ کافر کہتے ہیں کہ یہ قرآن تو سوائے پہلوں کی بےسند داستانوں کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ حَتّٰیعاطفہ ہے جو جملہ پر داخل ہوتا ہے اور لا یومنون پر اس کا عطف ہے اور اذا ظرفیہ ہے جس کے اندر شرط کا معنی ہے اور شرط کی جزا یجادلونک ہے اور یقول یجادلونک کی تفسیر ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ جاء وا کے فاعل سے یجادلونک حال ہے اور شرط کی جزاء یقول ہے مطلب یہ ہے کہ ان کی بےایمانی اور تکذیب حق جھگڑے کی حد تک پہنچ چکی ہے اور یہ نوبت آگئی ہے کہ قرآن کو پہلوں کی خرافات کہنے لگے اور صرف جھگڑے کے لئے آنے لگے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حتیٰ حرف جر ہو اور اذا محل جر میں لا یومنون سے متعلق۔ کیونکہ جمہور اہل نحو کے خلاف سیبویہ کے نزدیک اذا کا شرطیہ ہونا درست ہے۔ اس صورت میں یجادلونک حال ہوگا اور یقول اس کی تشریح وہ آپ سے جھگڑتے ہیں یعنی کافر کہتے ہیں۔ قاموس میں ہے سطر کا معنی ہے ایک لائن قطار ‘ درختوں کی ہو یا تحریر کی یا کتاب کی یا کسی اور چیز کی۔ اس کی جمع سطور اسطر اور اسطار ہے اور جمع الجمع اساطیر ہے اور اساطیر الاحادیث وہ باتیں ہیں جو بےتکی ہوں ان کے اندر ایک نظم نہ ہو۔ بیضاوی نے اساطیر کا ترجمہ اباطیل کیا ہے (بےہودہ بےحقیقت باتیں) میں کہتا ہوں اساطیر کے حقیقی معنی کے لئے باطل اور خرافات ہونا لازم ہے اسلاف کے متعلق قصوں کی کتابوں میں بیشتر خرافات ہی درج ہیں واقعات سابقہ کی صحیح اطلاع نہیں نہ نقل میں احتیاط سے کام لیا گیا ہے اور روایات کے اختلاف کی وجہ سے قصوں کا ایک نظم بھی نہیں ہے لیکن لفظ اساطیرکا استعمال باطل جھوٹی اور بےہودہ باتوں کے لئے اتنا کثیر ہوگیا کہ گویا اساطیرکا حقیقی معنی ہی اباطیل کاذبہ ہوگیا۔
Ayah 6:26

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

وہ اس سے (اوروں کو بھی) روکتے ہیں اور خود بھی پرے رہتے ہیں مگر (ان باتوں سے) اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور (اس سے) بےخبر ہیں

وہم ینہون عنہ وینون عنہ اور یہ لوگ قرآن سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی دوررہتے ہیں۔ یہ ترجمہ محمد بن حنفیہ اور قتادہ کے قول کے مطابق کیا گیا ہے دونوں بزرگوں کے نزدیک اس آیت کا نزول مکہ کے ان کافروں کے حق میں ہوا تھا جو رسول اللہ ﷺ کے اتباع اور قرآن سے دوسروں کو روکتے تھے اور خود بھی دور رہتے تھے لیکن حضرت ابن عباس ؓ کے قول پر آیت کا نزول ابو طالب ؓ کے حق میں ہوا جو مشرکوں کو رسول اللہ ﷺ : کو تکلیف دینے سے روکتے تھے لیکن رسول اللہ ﷺ جو دین و قرآن لے کر آئے تھے اس کو نہیں مانتے تھے خود اس سے دور رہتے تھے۔ کذا اخرج الحاکم وغیرہ اس صورت میں جمع کی ضمیر ابو طالب ؓ اور ان کے رفقاء کی طرف راجع ہوگی۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن ابی ہلال کی روایت سے بیان کیا ہے کہ آیت کا نزول رسول اللہ ﷺ کے چچیروں کے حق میں ہوا جن کی تعداد دس تھی علی الاعلان تو وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھی تھے لیکن اندرونی طور پر رسول اللہ ﷺ کے سخت مخالف تھے رسول اللہ ﷺ : کو ایذا دینے سے لوگوں کو تو روکتے تھے لیکن اتباع رسول ﷺ سے خود دور رہتے تھے بغوی نے لکھا ہے مشرکوں کے کچھ مڈ ابو طالب کے پاس جمع ہوئے اور درخواست کی کہ محمد ﷺ : کو ہمارے سپرد کر دیجئے اور اس کے عوض ہمارے کسی حسین ترین جوان کو لے لیجئے۔ ابو طالب ؓ نے جواب دیا تم نے یہ انصاف کی بات نہیں کہی میں تو اپنا بچہ تم کو دے دوں کہ تم اس کو قتل کر دو اور تمہارے بچہ کی میں پرورش کروں۔ روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو طالب ؓ : کو اسلام کی دعوت دی ابو طالب ؓ نے کہا اگر قریش کے عار دلانے کا مجھے اندیشہ نہ ہوتا تو میں (مسلمان ہو کر) تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کردیتا۔ پھر بھی جب تک زندہ ہوں دشمنوں کو تمہاری طرف سے دفع کرتا رہوں گا۔ ابو طالب نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے دعوت کے سلسلے میں یہ شعر کہے ہیں۔ میرے قبر میں دفن ہونے تک یہ لوگ اپنے جتھوں کے ساتھ بھی آپ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ آپ علی الاعلان اپنا کام کریں آپ کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہوسکتی اور اپنے کام سے آپ خوش اور خنک چشم رہیں آپ نے مجھے دعوت دی ہے اور میں جانتا ہوں کہ آپ میرے خیر خواہ سچے اور امین ہیں اور ایسا دین پیش کر رہے ہیں جو سب لوگوں کے مذاہب سے اچھا ہے مگر مجھے ملامت کا اندیشہ ہے اگر لوگوں کے ملامت کرنے اور عار دلانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو آپ مجھے علی الاعلان بسہولت قبول کرنے والا پاتے۔ وان یہلکون الا انفسہم وما یشعرون اور وہ محض اپنے آپ کو تباہ کر رہے ہیں اور (اس بات کو) نہیں سمجھتے کہ اس فعل سے خود انہی کو نقصان پہنچے گا۔ رسول اللہ ﷺ : کا کچھ ضرر نہ ہوگا۔
Ayah 6:27

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ اے کاش ہم پھر (دنیا میں) لوٹا دیئے جائیں تاکہ اپنے پروردگار کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور مومن ہوجائیں

ولو تری اذ وقفوا علی النار اور اگر آپ (کافروں کی) وہ حالت دیکھیں جب ان کو دوزخ پر روکا جائے گا تو عجیب دہشت ناک حالت دیکھیں گے یعنی جب دوزخ کے معاینہ یا اس میں داخل کرنے کے لئے کافروں کو روکا جائے گا تو وہ منظر عجیب ہولناک ہوگا۔ فقالوا یلیتنا نردو ولا نکذب بایت ربنا ولکون من المومنین اور وہ کہیں گے کاش ہم کو (دنیا کی طرف جو دارالعمل ہے) لوٹا دیا جائے اس صورت میں ہم اپنے رب کی آیات کی تکذیب نہ کریں گے اور مؤمنوں میں سے ہوجائیں گے۔
Ayah 6:28

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

ہاں یہ جو کچھ پہلے چھپایا کرتے تھے (آج) ان پر ظاہر ہوگیا ہے اور اگر یہ (دنیا میں) لوٹائے بھی جائیں تو جن (کاموں) سے ان کو منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگیں۔کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

بل بدالہم ما کانوا یخفون من قبل بلکہ (وجہ یہ ہے کہ) جس چیز کو پہلے چھپایا کرتے تھے وہ ان کے سامنے آگئی (ہو گی) ۔ تمنا سے سمجھا جاتا تھا کہ عذاب دیکھنے کے وقت کافروں کے دلوں میں ایمان کا پختہ ارادہ پیدا ہوجائے گا لفظ بل سے اس کی نفی فرما دی اور بطور اعتراض فرمایا کہ یہ بات نہیں بلکہ (پچھلا کیا دھرا اور سینوں میں چھپایا ہوا) ان کے سامنے آگیا ہوگا اس سے تنگ آکر ایسا کلمہ زبان سے نکال دیں گے۔ من قبل سے مراد ہے دنیا میں اور ماکانوا یخفون سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ کے وہ خصوصی اوصاف جو اہل کتاب جانتے تھے اور ان صفات کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ : کو اس قدر یقین کے ساتھ پہچانتے تھے جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے تھے مگر حضور ﷺ کے اوصاف کو چھپاتے تھے۔ یا من قبل سے مراد ہے آخرت کا گزرا ہوا وقت جس میں کافر اپنے مشرک ہونے کو چھپائیں گے اور کہیں گے واللّٰہ ربنا ما کنا مشرکین نضر بن شمیل نے کہا بدالہمکا معنی ہے بداعنہم یعنی وہ بات جس کو وہ چھپاتے تھے خود ان سے ظاہر ہوجائے گی۔ مبرد نے ما کانوا یخفونکو مبتدا شرطی اور بدالہمکو خبر جزائی قرار دیا ہے۔ ولو ردوا لعادوا لما نہوا عنہ اور (عذاب جہنم کے معائنہ کے بعد بالفرض) اگر (دوبارہ) ان کو بھیج دیا جائے تب بھی وہی (کفر و معصیت) دوبارہ کریں گے جس سے ان کو منع کیا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ کے اسم وصفی مضلٌ (گمراہ کرنے والا) کا پر تو ان کافروں کا مبدء تعین ہے اب اگر کافروں کو ایمان کی حقانیت اور کفر کے بطلان کا کتنا ہی یقین ہو مگر (اپنے مبدء تعین کے خلاف نہیں جاسکتے اور) ایمان نہیں لاسکتے جیسے یہودی رسول اللہ ﷺ : کو اپنی اولاد کی طرح بلاشبہ پہچاننے کے باوجود نہیں مانتے تھے اور آپ سے بغض رکھتے تھے اور مجرمانہ عناد کی وجہ سے یقینی قلبی رکھنے کے باوجود آپ کا انکار کرتے تھے۔ وانہم لکذبون اور بلاشک و شبہ وہ جھوٹے ہوں گے یعنی تکذیب نہ کرنے اور ایمان لانے کا جو وعدہ کریں گے وہ جھوٹا ہوگا۔ یا یہ مطلب ہے کہ جھوٹ بولنے کے وہ عادی ہیں (اس وقت بھی حسب عادت جھوٹ بولیں گے) طبرانی نے الاوسط میں لکھا ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا میں نے سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے (کافروں کو دوزخ میں بھیجنے کے) تین عذر قیامت کے دن اللہ آدم کے سامنے بیان فرمائے گا۔ ارشاد فرمائے گا آدم میں کافروں کو رحمت سے دور کرچکا ہوں اور اس کا وعدہ کرچکا ہوں اور جھوٹ بولنے اور وعدہ خلافی کرنے سے مجھے نفرت ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو آج تیری تمام اولاد پر میں رحمت کردیتا (کسی کو دوزخ میں نہ بھیجتا) مگر میری یہ بات پوری ہو کر رہے گی کہ اگر میرے پیغمبروں کی تکذیب کی گئی اور میری نافرمانی کی گئی تو جہنم کو جنات اور انسانوں سے سب سے بھر دوں گا۔ اے آدم میں کسی کو دوزخ میں داخل نہیں کروں گا۔ نہ کسی کو عذاب دوں گا سوائے ان لوگوں کے جن کے متعلق مجھے اپنے علم سے معلوم ہے کہ اگر ان کو دنیا میں دوبارہ بھیج دیا گیا تب بھی یہ اسی شر کی طرف رجوع کریں گے جو ان کے اندر ہے شر سے نہیں لوٹیں گے اے آدم میں اپنے اور تیری اولاد کے درمیان تجھے ہی فیصلہ کن (پنچ) بناتا ہوں اعمال کی وزن کشی کے وقت میزان کے پاس جا کر تو خود کھڑا ہوجا جس کا خیر کا پلڑا شر کے پلڑے سے ذرہ برابر بھی جھکتا ہوا ہو اس کے لئے جنت ہے (میں نے یہ باتیں تجھ سے اس لئے کہیں ہیں) تاکہ تجھے معلوم ہوجائے کہ میں صرف ظالم کو دوزخ میں داخل کروں گا۔
Ayah 6:29

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کئے جائیں گے

وقالوا ان ہی الا حیوتنا الدنیا وما نحن بمبعوثین اور وہ کہتے ہیں کہ جینا اور کہیں نہیں یہی فی الحال کا جینا ہے اور ہم زندہ نہ کئے جائیں گے ہِیَضمیر حیات کی طرف راجع ہے۔ دنیا ادنیٰ کا مؤنث ہے اس کا مادہ دنو ہے اور دنو کا معنی ہے قرب۔ قالوا کا عطف لعادوا پر ہے یعنی اگر بالفرض ان کو دنیا میں لوٹا کر بھیج دیا جائے تو ممنوعات کا ارتکاب کریں گے اور یہ بات کہیں گے۔ یا لکاذبون پر عطف ہے یعنی یہ کاذب ہیں اور انہوں نے دنیا میں یہ بات کہیں تھی۔ یا نَہُوْا پر عطف ہے یعنی اگر دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ انہی امور کا ارتکاب کریں گے جن کی ممانعت کردی گئی اور اسی بات کی طرف لوٹیں گے۔ یا نیا جملہ ہے (واو استینافیہ ہے) اور دنیا میں کافروں کا جو قول ہے اللہ نے اس کا ذکر کیا ہے یعنی یہ لوگ کہتے ہیں کہ بس یہی دنیوی زندگی ہے اس کے علاوہ دوسری زندگی نہ ہوگی (ہم نے ترجمہ اسی مطلب کے مطابق کیا ہے) ۔
Ayah 6:30

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کےسامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ فرمائےگا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب (کے مزے) چکھو

ولو تری اذ وقفوا علی ربہم اور اگر (اے محمد ﷺ آپ دیکھیں اس حالت کو جب ان کو ان کے مالک کے سامنے۔ سوال اور سرزنش کے لئے روکا جائے گا (تو آپ کے سامنے عجیب منظر آئے گا) رب کے سامنے کھڑے کئے جانے سے مراد مجازی معنی ہے یعنی سوال اور سرزنش کے لئے روکا جائے گا۔ علی ربہمکا معنی فیصلۂ رب اور جزاء رب بھی کہا گیا ہے یا یہ مطلب ہے کہ اس وقت کامل طور پر وہ خدا کو پہچان لیں گے۔ قال وہ یعنی اللہ کہے گا یا باجازت الٰہی دوزخ کے کارندے کہیں گے گویا ایک محذوف سوال کا یہ جواب ہے کلام مذکورسن کر کوئی شخص پوچھ سکتا تھا کہ مذکورہ بالا کلام کا ان کو جواب کیا ملے گا تو جواب دیا گیا اللہ فرمائے گا۔ الیس ہذا بالحق کیا یہ یعنی قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنا اور اس کے ثواب و عذاب حساب و کتاب حق نہیں ہیں (کیا اب بھی اس میں کچھ شبہ ہے) یہ سوال محض سرزنش کرنے اور تکذیب پر عار دلانے کے لئے ہوگا (طلب فہم اور دریافت خیر کے لئے نہ ہوگا) ۔ قالوا بلی وربنا وہ کہیں گے بیشک و شبہ (حق ہے) اپنے مالک کی قسم چونکہ واقعات بالکل سامنے ہوں گے اور شرک و تکذیب سے وہ براءت ظاہر کرنی چاہیں گے اس لئے اپنے اقرار کو قسم سے مؤکد کریں گے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا یہ گفتگو قیامت کے ایک موقف پر ہوگی اور قیامت کے مختلف موقف ہوں گے کسی موقف پر کافر انکار کریں گے اور کسی پر اقرار۔ قالوا فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون (اللہ یا فرشتہ) کہے گا تو اپنے گزشتہ کفر کے (سبب یا کفر کے) عوض اب عذاب کا مزہ چکھو۔ بما میں با سبیبہ ہے یا عوض کے لئے۔
Ayah 6:31

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے

قد خسر الذین کذبوا بلقآء اللّٰہ بیشک خسارے میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی پیشی کو جھوٹ مانا۔ لقاء اللّٰہسے مراد ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جانا کیونکہ دوسری زندگی ہی دیدار الٰہی تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کافر نامراد رہیں گے کیونکہ وہ قیامت اور جنت دوزخ کا انکار کرتے ہیں جس کی وجہ سے لازوال راحت سے محروم ہونا اور دوامی دردناک عذاب میں مبتلا ہونا یقینی ہے۔ معتزلہ بھی چونکہ اللہ کے دیدار اور مغفرت و شفاعت کے منکر ہیں اس لئے ان کو دیدارو مغفرت اور شفاعت سے محرومی ہوگی اس لئے وہ بھی نامراد رہیں گے۔ اللہ نے فرمایا ہے (حدیث قدسی ہے) میرے متعلق میرا بندہ جیسا گمان رکھتا ہے میں اسی کے گمان کے پاس (یعنی اس کے مطابق) ہوں گا۔ متفق علیہ۔ طبرانی اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ واثلہ کی روایت سے ابراہیم صائغ کا قول نقل کیا ہے ابراہیم نے کہا دیدارِ الٰہی کے عوض اگر مجھے آدھی جنت مل جائے تو مجھے پسند نہیں پھر ابراہیم نے آیات ذیل تلاوت کیں ( کلا انہم عن ربہم یومئذٍ لحجربون ثم انہم لصالوا الجحیم ثم یقال ہذا الّذی کنتم بہ تکذبون) پھر فرمایا (ہذا سے اشارہ دیدار کی طرف ہے) بہٖ او بالرویہ۔ حتی اذا جآء تہم الساعۃ یہاں تک کہ جب وہ مقرر گھڑی ان پر آپہنچے گی۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ حَتّٰیکا تعلق کذبوا سے ہے (یعنی جن لوگوں نے آخری گھڑی تک تکذیب کی وہ نامراد رہے) خسروا سے نہیں ہے کیونکہ کافروں کے نامراد رہنے کی تو کوئی انتہا نہیں ہے اس پر شبہ کیا جاسکتا ہے کہ تکذیب تو موت پر ختم ہوجاتی ہے قیامت تک قائم نہیں رہتی (اور ساعت سے مراد ہے قیامت) اس شبہ کو دور کرنے کے لئے ہم کہتے ہیں کہ ساعت سے مراد موت کی گھڑی ہے کیونکہ مرنے والے کی موت اس کی قیامت ہے جو مرا اس کی قیامت بپا ہوگئی۔ صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ کچھ دیہاتی رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہو کر ساعت کے متعلق دریافت کیا کرتے تھے ( کہ ساعت موعودہ یا قیامت کب ہوگی) آپ ان کی جماعت کے سب سے کم عمر شخص کی طرف دیکھ کر فرماتے تھے اگر یہ زندہ رہا تو اس کا بڑھاپا آنے سے پہلے تم پر تمہاری قیامت آپہنچے گی۔ اور (بالفرض) اگر آیت میں الساعۃ سے مراد قیامت ہی ہو تب بھی کوئی ہرج نہیں کیونکہ موت قیامت کا پیش خیمہ ہے موت آجانا گویا قیامت آجانا ہے یا یوں کہا جائے کہ مرنے کے بعد چونکہ قیامت بہت جلد آجائے گی اس لئے موت کے وقت کو قیامت قرار دیا۔ اگر الساعۃ سے موت مراد ہو تو حتی کا تعلق خُسِرُوْاسے بھی ہوسکتا ہے کیونکہ خسرانکا معنی ہے اصل پونجی کا ضائع ہوجانا اور مرنے کے وقت کافروں کا اصل سرمایہ یعنی زندگی ختم ہوجاتی ہے اس کے بعد تو ناداری کا زمانہ آجاتا ہے۔ بغتۃ اچانک۔ یہ حال ہے یا مفعول مطلق کیونکہ اچانک آنا بھی آنے ہی کی ایک نوع ہے (اس لئے مفعول مطلق بیان نوع کے لئے ہوگا) قالوا یحسرتنا علی ما فرطنا فیہا . تو کہیں گے ہائے افسوس ہم سے اس (کے بارہ) میں بڑی کوتاہی ہوئی۔ فیہاکی ضمیر حیات دنیا کی طرف راجع ہے اور کمی کرنے سے مراد ہے نیک کام میں کمی کرنا چونکہ مرجع معلوم تھا اس لئے بغیر سابق ذکر کے حیات دنیا کی طرف ضمیر راجع کردی گئی۔ یا الساعۃ کی طرف ضمیر راجع ہے یعنی ہم نے قیامت کے بارے میں بڑی کمی کی اس پر ایمان نہ لائے۔ وہم یحملون اوزارہم علی ظہورہم اور (قبروں سے نکلتے وقت) وہ اپنی بداعمالی کے بوجھ اپنی کمر پر لادے ہوں گے۔ ابن ابی حاتم نے عمرہ بن قیس ملائی کا بیان نقل کیا ہے کہ مؤمن جب قبر سے برآمد ہوگا تو اس کا نیک عمل حسین ترین شکل اور پاکیزہ ترین خوشبو کے ساتھ اس کے سامنے آئے گا اور کہے گا کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں مؤمن کہے گا نہیں بس اتنا جانتا ہوں کہ اللہ نے تیری صورت حسین اور تیری خوشبو پاکیزہ بنائی ہے نیک عمل کہے گا میں دنیا میں بھی ایسا ہی تھا میں آپ کا نیک عمل ہوں۔ میں مدت دراز تک دنیا میں تیرے اوپر سوار رہا آج تو مجھ پر سوار ہوجا پھر (راوی نے) یہ آیت تلاوت کی (یوم نحسر للمتقین الی الرحمٰن وفدا) اور کافر کا عمل مکروہ ترین شکل اور بدترین بو کے ساتھ اس کے سامنے آئے گا اور کہے گا کیا تو مجھے نہیں پہچانتا کافر جواب دے گا نہیں مگر اتنی بات جانتا ہوں کہ اللہ نے تیری شکل بہت مکروہ اور تیری بہت گندی بنائی ہے عمل کہے گا میں دنیا میں بھی ایسا ہی تھا میں تیرا برا عمل ہوں دنیا میں مدت دراز تک تو مجھ پر سوار رہا آج میں تجھ پر سوار ہوں گا پھر (راوی نے) یہ آیت تلاوت کی : (وہم یحملون اوزارہم علی ظہورہم) ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (خطبہ دینے) کھڑے ہوئے اور مال غنیمت میں چوری کرنے کو بڑا جرم بتایا پھر (مویشی اور سونے چاندی کی زکوٰۃ نہ دینے والوں کو ڈرانے کے لئے) فرمایا خوب سن لو میں ایسی حالت میں (تم کو) نہ پاؤں کہ تم میں سے بعض لوگ بلبلاتے اونٹ کو اپنی گردن پر اٹھائے میرے سامنے آئیں اور کہیں یا رسول اللہ ﷺ دہائی ہے اور میں جواب دوں آج اللہ کے سامنے میرا کچھ قابو نہیں میں تجھے (دنیا میں) پیام پہنچا چکا۔ یہ ایک طویل حدیث ہے جس کے اندر حضور ﷺ نے ہنہناتے گھوڑے اور منمناتی بکری اور سونے چاندی کے گردن پر سوار ہونے کا بھی ذکر فرمایا تھا۔ متفق علیہ۔ ابویعلی اور بزار نے بھی اسی طرح کی حدیث حضرت عمر بن خطاب ؓ کی روایت سے نقل کی ہے۔ طبرانی نے حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ جس نے اپنی ضرورت سے زائد کوئی مکان بنایا (یعنی جائیداد بنائی) قیامت کے دن اس کو مجبور کیا جائے گا کہ اس مکان کو اپنے کندھے پر اٹھائے۔ صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ کی مرفوع روایت ہے جس نے بالشت بھر زمین بغیر حق کے لی قیامت کے دن اللہ اس کو سات زمینوں کا طوق پہنائے گا۔ اس مبحث کی احادیث طبرانی نے حضرت حکم بن حارث اور حضرت انس ؓ کی روایت سے بھی بیان کی ہیں اور طبرانی نیز امام احمد نے حضرت یعلی ؓ بن مرہ اور حضرت ابو مالک ؓ اشعری کی روایت سے اس باب کی احادیث نقل کی ہیں۔ الاسآء ما یزرون خوب سن لو کہ برا ہوگا وہ بوجھ جس کو وہ اٹھائے ہوں گے۔
Ayah 6:32

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور مشغولہ ہے۔ اور بہت اچھا گھر تو آخرت کا گھر ہے (یعنی) ان کے لئے جو (خدا سے) ڈرتے ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں

وما الحیوۃ الدنیا الا لعب ولہو اور دنیوی زندگی تو کچھ بھی نہیں ہے۔ صرف کھیل اور بہلاوا ہے۔ لعب غیر مفید کام جس کا کوئی صحیح مقصد نہ ہو لہو مفید کام سے روکنے والا امر یعنی جن اعمال کی غرض صرف دنیوی عیش پسندی اور لذت اندوزی ہو اور رضاء مولی کی طلب نہ ہو ان سے کوئی خاص اعتبار نفع حاصل نہیں ہوسکتا جو دنیوی فائدہ ہوگا وہ عارضی اور زوال پذیر اور لازوال زندگی کے فوائد کے حصول سے روکنے والا ہوگا۔ واللدار الاخرۃ خیر للذین یتقون اور پچھلا گھر یقیناً پرہیزگاروں کے لئے بہترین ہوگا۔ ابن عامر کی قراءت میں ولدار الاخرۃ بھی آیا ہے اور اس صورت میں الاخرۃ کا موصوف الساعۃ محذوف ہوگا۔ جیسے صلٰوۃ الوسطٰی اور مسجد الجامع میں (الساعۃ اور الوقت محذوف ہے) پرہیزگاروں سے مراد ہیں شرک اور گناہوں سے بچنے والے۔ دار آخرت لازوال ہے اس کی لذتیں اور فوائد کدورت سے پاک ہیں اس لئے دنیوی فوائد ولذائذ سے بہتر ہیں۔ دار آخرت کی بھلائی صرف اہل تقویٰ کے لئے مخصوص ہے مشرکوں کے لئے تو آخرت دنیا سے بہت ہی زیادہ بری ہے۔ چونکہ آیت میں متقین کے اعمال کو اعمال دنیا کے مقابل بیان کیا ہے اور اعمال دنیا کو لہو و لعب فرمایا ہے اس لئے اشارۃً معلوم ہوا کہ جو اہل تقویٰ کا عمل نہ ہو وہ لہو و لعب ہے۔ افلا تعقلون کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے کہ کون سے اعمال بہتر ہیں دنیا کے یا آخرت کے۔ بہتر وہی عمل ہوگا جس کا فائدہ زیادہ خالص اور لازوال ہو اور جس کا فائدہ عارضی کدورت آمیز اور کمزور ہو وہ عمل بہتر نہیں ہوسکتا۔ ترمذی اور حاکم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت سے لکھا ہے کہ ابوجہل نے رسول اللہ ﷺ سے کہا ہم آپ کو جھوٹا نہیں کہتے بلکہ جو چیز آپ نے پیش کی ہے اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 6:33

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں

قد نعلم انہ لیحزنک الذی یقولون فانہم لا یکذبونک ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون۔ ہم کو خوب معلوم ہے کہ آپ کو ان کے اقوال مغموم کرتے ہیں سو یہ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ (اس جگہ) لفظ قدفعل کی زیادتی اور کثرت کو ظاہر کرنے کیلئے آیا ہے جیسے ولکنہ قد یملک المال نائلہ میں آیا ہے اور اَنَّہٗمیں ضمیر شان ہے (جس کو مرجع کی ضرورت نہیں ہوتی) سدی کا بیان ہے کہ اخنس بن شریق نے ابوجہل بن ہشام سے ملاقات کی اور کہا ابوالحکم محمد ﷺ بن عبداللہ کے متعلق مجھے بتاؤ وہ سچے ہیں یا جھوٹے۔ اس وقت یہاں میرے سوا آپ کی بات سننے والا اور کوئی نہیں ہے۔ ابوجہل نے کہا خدا کی قسم محمد بلاشبہ سچے ہیں لیکن جب قصی کی اولاد کے پاس جھنڈا ‘ حاجیوں کو پانی پلانا ‘ کعبہ کی تولیت ‘ پنچات اور نبوت (دہرا امتیاز) پہنچ گیا تو باقی قریشیوں کے لئے کیا بچا (میں اس لئے محمد کی نبوت کی مخالفت کرتا ہوں) اس پر آیت فانہم لا یکذبونک نازل ہوئی۔ ناجیہ بن کعب کا بیان ہے کہ ابوجہل نے رسول اللہ ﷺ سے کہا ہم آپ ﷺ پر (جھوٹے ہونے کا) شبہ نہیں کرتے اور نہ آپ کو جھوٹا کہتے ہیں بلکہ جو چیز آپ نے پیش کی اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ بجائے ضمیر غائب کے الظلمینکا لفظ صراحت کے ساتھ ذکر کرنا۔ دلالت کر رہا ہے کہ انکار کرنے کی وجہ سے وہ لوگ ظالم ہوگئے تھے یا یوں کہا جائے کہ ناحق کوشی چونکہ ان کی عادت تھی اس لئے انہوں نے انکار کردیا تھا اور چونکہ حجود (انکار) کے اندر تکذیب کا مفہوم داخل ہے (اور تکذیب کے بعدب آتی ہے) اس لئے آیات سے پہلے ب کو ذکر کیا۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کی تکذیب حقیقت میں خدا کی تکذیب ہے کیونکہ آپ کی تکذیب وہ نبوت کے اعتبار سے کرتے ہیں (ویسے وہ دوسری باتوں میں آپ کو جھوٹا نہیں جانتے) اور حقیقت میں یہ نبوت دے کر بھیجنے والے کی تکذیب ہے۔
Ayah 6:34

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور تم سے پہلے کبھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)

ولقد کذبت رسل من قبلک اور آپ سے پہلے بہت پیغمبروں کو (نبوت کے دعوے میں) جھوٹا کہا گیا یعنی جس طرح آپ کی قوم نے آپ کی تکذیب کی اسی طرح سابق پیغمبروں کی قوموں نے ان کی تکذیب کی اس میں رسول اللہ ﷺ : کو تسلی دی گئی ہے (کہ آپ قوم کی مخالفت سے تنگدل نہ ہوں پیغمبروں میں مخالفت قدیم دستور ہے کوئی نئی بات نہیں) ولقد کذبتکا لفظ بتارہا ہے کہ لا یکذبونککا حقیقی مفہوم مراد نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ رسول ﷺ کی تکذیب حقیقت میں خدا کی تکذیب ہے (تو یہ حقیقت میں خدا کی تکذیب ہوئی) رسول اللہ ﷺ نے (اسی لئے) ارشاد فرمایا تھا جس نے مجھے ایذا دی ‘ اس نے حقیقت میں اللہ کو ایذا دی۔ فصبروا علی ما کذبوا واوذوا حتی انہم نصرنا سو انہوں نے اپنی تکذیب اور دکھ رسیدہ ہونے پر صبر کیا آخر ہماری مدد ان کو پہنچ گئی۔ صبر کا نتیجہ نصرت نکلا پس جس طرح انہوں نے صبر کیا آپ بھی صبر کریں آخرکار آپ کو بھی اللہ کی طرف سے نصرت پہنچ جائے گی۔ ولا مبدل لکلمت اللّٰہ اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ کلمت اللّٰہسے مراد ہیں نصرت انبیاء کے خداوندی وعدے۔ اللہ نے فرمایا ہے : (ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین انہم لہم المنصورون) دوسری آیت ہے : (انا لننصررسلنا) تیسری آیت میں آیا ہے : (وان جندنا لہم الغلبون) (اپنے پیغمبر بندوں کے لئے ہمارا وعدہ پہلے ہی ہوچکا ہے کہ انہی کی مدد کی جائے گی۔ ہم ہی اپنے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں۔ ہمارا لشکر ہی غلبہ پانے والا ہے) یا کلٰمت اللّٰہسے مراد ہے اللہ کا تکوینی فیصلہ اور قضاء مقدر۔ یعنی اضطراب سے کوئی فائدہ نہیں۔ صبر رکھنا لازم ہے جب وقت آجائے گا تو اللہ کی طرف سے نصرت آجائے گی پھر اس کو کوئی پلٹ نہیں سکتا۔ ولقد جآءک من نبا المرسلمین اور آپ کے پاس پیغمبروں کے بعض قصے پہنچ چکے ہیں اخفش نحوی کے نزدیک من زائد ہے۔ سیبویہ کلام مثبت میں من کی زیادتی جائز نہیں قرار دیتا۔ اس لئے سیبویہ کے نزدیک اس جگہ مِنْ تبعیضیہ ہے یعنی پیغمبروں کی بعض خبریں آپ کے پاس پہنچ چکی ہیں جو آپ کی تسلی کے لئے کافی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ : کو قوم کے مسلمان ہونے کی رغبت حرص کی حد تک پہنچ چکی تھی۔ ایمان سے ان کی روگردانی آپ کو بہت کھلتی تھی اسی کا نتیجہ تھا کہ جب وہ آپ سے کوئی معجزہ طلب کرتے تو آپ تہ دل سے خواستگار ہوتے کہ اللہ یہ معجزہ آپ کے ہاتھ سے نمودار کرے تاکہ لوگ ایمان لے آئیں اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 6:35

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور اگر ان کی روگردانی تم پر شاق گزرتی ہے تو اگر طاقت ہو تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈ نکالو یا آسمان میں سیڑھی (تلاش کرو) پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لاؤ۔ اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا

وان کان کبر علیک اعراضہم فان استطعت ان تبتبغی نفقا فی الارض او سلما فی السمآء . اور اگر آپ کو ان کا اعراض کرنا گراں گزرتا ہے تو اگر آپ کو یہ قدرت ہے کہ زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان پر پہنچنے کی کوئی سیڑھی تلاش کرلیں روگردانی سے مراد ہے نبوت و قرآن پر ایمان لانے سے روگردانی کرنا نفقاً کا معنی ہے سرنگ۔ فی الارض اس کی صفت ہے یعنی اگر تم زمین کے اندر گھسنے کے لئے کوئی سرنگ بنا سکتے ہو اور سرنگ کے ذریعہ سے زمین کے اندر گھس کر ان کے لئے کوئی معجزہ نمودار کرسکتے ہو سُلَّماً زینہ چڑھنے کا راستہ فی السمائ سے مراد ہے آسمان کی چھت یعنی اگر تم آسمان کی طرف چڑھنے کا کوئی زینہ بنا سکتے ہو کہ اس پر چڑھ کر آسمان پر پہنچ جاؤ اور فتاتیہم بایۃ . وہاں سے لا کر کوئی معجزہ ان کے سامنے ظاہر کر دو تو ایسا کرو۔ خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ خود کوئی معجزہ پیش نہیں کرسکتے اس لئے خواہ نخواہ اپنے کو بےچین نہ کرو خواہ ان کا اعتراض تم کو کتنا ہی کھلے تم صبر رکھو۔ ولو شاء اللہ اور اگر اللہ ان سب کو ہدایت کرنا چاہتا۔ لجمعہم علی الہدی تو سب کو ہدایت پر متفق کردیتا۔ کیونکہ بندوں کے ارادہ کا خالق بھی خدا ہی ہے بندوں کی مشیت اللہ کی مشیت کے تابع ہے مگر اللہ ہی اپنی مصلحت کے پیش نظر ان کی ہدایت نہیں چاہتا اور اس کی مصلحت سے کوئی دوسرا واقف نہیں تم ان کو ہدایت یافتہ بنانے کا قابو نہیں رکھتے اس لئے صبر کرو بےچین نہ ہو۔ فلا تکونن من الجاہلین اور نادانوں میں سے نہ بنو۔ غیر مفید کام کے لئے ایسے مقام پر مضطرب ہونا جہاں صبر مفید ہونادانوں کی خصوصیت ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ آپ ان نادانوں میں نہ ہوں جو اتنا بھی نہیں جانتے کہ لوگوں کا ہدایت یاب ہونا اللہ کی مشیت پر موقوف ہے کسی اور کی مشیت کو اس میں دخل نہیں ہے۔
Ayah 6:36

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ (حق کو) قبول وہی کرتے ہیں جو سنتے بھی ہیں اور مردوں کو تو خدا (قیامت ہی کو) اٹھائے گا۔ پھر اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے

انما یستجیب الذین یسمعون۔ (آپ کی دعوت کو تو) وہی لوگ قبول کریں گے جو (حق و قبول کے کانوں سے) سنتے ہیں یعنی سنی ہوئی بات کی حقانیت کا علم جن کے ‘ دلوں کے اندر اللہ نے پیدا کردیا ہو۔ سننے سے مراد ہے سن کر جاننا کیونکہ سننے کے بعد علم کی تخلیق اللہ کا دستور ہے۔ والموتی اور مردے یعنی کافر (کیا سنیں گے۔ کافروں کے دلوں پر اللہ نے قفل ڈال دیا ہے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور آنکھوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اسی لئے وہ حق کو حق اور باطل کو باطل نہیں جانتے گویا مردے ہیں۔ یبعثہم اللہ ان کو (تو بس قیامت کے دن) اللہ اٹھائے گا (تو اٹھیں گے) ثم الیہ یرجعون۔ پھر اللہ ہی کی طرف سب کو لوٹایا جائے گا۔ وہی ان کو کفر کی سزا دے گا۔ اس سے پہلے نہ وہ حق بات سنیں گے نہ تصویر حق دیکھیں گے۔ یا الموتیٰسے عام مردے مراد ہیں کافر ہوں یا مؤمن سب کو اللہ زندہ کر کے اٹھائے گا اور سب کی واپسی اللہ ہی کی طرف ہوگی وہی سزا جزا دے گا۔ جیسے اعمال ہوں گے ویسا بدلہ ملے گا۔
Ayah 6:37

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگارکے پاس کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ خدا نشانی اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

وقالوا لو لا نزل علیہ ایۃ من ربہ اور (قریش کے سرداروں نے) کہا کہ اس پر اس کے رب کی کی طرف سے کوئی معجزہ کیوں نازل نہیں کیا گیا یعنی ہمارا مطلوبہ معجزہ یا موجودہ معجزات کے علاوہ کوئی اور غیر معمولی معجزہ۔ نازل شدہ معجزات کو تو وہ محض عناد کی وجہ سے درخور اعتناء نہیں سمجھتے تھے۔ قل ان اللہ قادر علی ان ینزل ایۃ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ (ہر) معجزہ اتارنے پر قادر ہے۔ اَیۃً سے مراد یا تو مطلوبہ معجزہ ہے یا ایسا معجزہ جس کو ماننے پر وہ مجبور ہوجائیں جیسے پہاڑ کو جڑ سے اکھاڑ کر سروں پر معلق کردینا۔ یا ایسا معجزہ جس کے بعد انکار کرنے والوں کی ہلاکت ضروری ہوجائے۔ ولکن اکثر ہم لا یعلمون لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے کہ اللہ ہر نشانی اتارنے پر قادر ہے یا مطلوبہ معجزہ اتار کر انکار کرنے والوں کو بیخ و بن سے برباد کرنے پر قادر ہے۔
Ayah 6:38

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا دو پروں سے اڑنے والا جانور ہے ان کی بھی تم لوگوں کی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کسی چیز (کے لکھنے) میں کوتاہی نہیں کی پھر سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائیں گے

وما من دآبۃ فی الارض اور نہیں ہے زمین پر کوئی چلنے والا جاندار۔ ولا طئر یطیر بجناحیہ اور نہ کوئی پرندہ جو اپنے دونوں پنکھوں سے ہوا میں اڑتا ہو۔ ہر پرندہ دو بازو وں سے ہی اڑتا ہے لیکن رفتار کی تیزی کے لئے بھی مجازاً کبھی اڑنے کا لفظ استعمال کرلیا جاتا ہے اس خیال کو دور کرنے کے لئے طائر کے بعد یطیر بجناحیہ فرمایا یا یطیر بجناحیہ کہنے سے محض معنوی تاکید مقصود ہے۔ الا امم امثالکم مگر سب تمہاری طرح گروہ گروہ ہیں یعنی پیدا ہونے میں مرنے میں پھر جی اٹھنے میں ژدا کی ضرورت اور رزق کی طلب میں عافیت و مصیبت کے توارد میں (غرض تمام حیوانی لوازم و خصوصیات میں) تمہاری طرح ہیں تم کو محض معرفتِ الٰہی کی وجہ سے ان پر برتری حاصل ہے ورنہ اور کوئی وجہ فضیلت نہیں۔ ما فرطنا فی الکتب من شئی ہم نے کتاب کے اندر کسی قسم کی کمی نہیں چھوڑی۔ من شئی میں منزائد ہے اور شئی مفعول بہ نہیں ہے مفعول مطلق ہے کیونکہ فَرَّطَکے بعد مفعول بہ بغیر ب کے نہیں آتا۔ الکتاب سے مراد ہے لوح محفوظ یعنی اللہ کا علم ہمہ گیر ہے ظاہر ہو یا پوشیدہ کوئی چیز علم خدا سے باہر نہیں اور کوئی حیوان و غیر حیوان ایسا نہیں کہ اس کا اندراج لوح محفوظ میں نہ ہو۔ یا الکتاب سے مراد ہے قرآن مجید اور من شئی سے مراد ہیں دینی امور یعنی قرآن میں تمام دینی امور تفصیل یا اجمال کے ساتھ موجود ہیں۔ ثم الی ربہم یحشرون پھر ان سب کو ان کے مالک کے پاس جمع کیا جائے گا۔ ہم کی ضمیر مجموعہ کی طرف راجع ہے یعنی اُمَمٌاور کم دونوں کا مجموعہ ضمیر کا مرجع ہے اسی لئے یحشرونجمع مذکر غائب کا صیغہ استعمال کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک نے فرمایا ان کی موت ہی ان کا حشر ہے (یعنی حشر سے مراد موت ہے مطلب یہ کہ ان سب پر موت آتی ہے اور یہ سب اللہ کی طرف چلے جاتے ہیں) ۔ لیکن ابن ابی حاتم اور ابن جریر اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوق اٹھائی جائے گی چوپائے کیڑے مکوڑے اور پرندے سب ہی کا حشر ہوگا اور اللہ کا انصاف اس حد تک پہنچ جائے گا کہ اللہ سینگوں والی سے منڈی کا بدلہ دلوائے گا پھر فرمائے گا خاک ہوجاؤ (اداء حقوق کے بعد سب جاندار خاک ہوجائیں گے اس وقت کافر کہے گا کاش میں بھی خاک ہوجاتا (کہ دوامی عذاب سے نجات ہوجاتی) بغوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اہل حقوق کو ان کے حقوق دلوائے جائیں گے یہاں تک کہ سینگوں والی بکری سے منڈی بکری کا بدلہ دلوایا جائے گا طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلا مقدمہ جس کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا دو بکریوں کا ہوگا۔ ایک سینگوں والی ہوگی دوسری منڈی۔ اسی طرح کی ایک حدیث حضرت ابوذر ؓ کی روایت سے احمد اور بزار اور طبرانی نے بھی نقل کی ہے اور حاکم نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث بیان کی ہے۔ تخلیقِ کائنات اور آثار قدرت جو اللہ کی عظمت اور اس کے علم وقدرت کی ہمہ گیری کے نشان ہیں اور ان سے حشر و جزاء پر استدلال کیا جاتا ہے جب ان کا ذکر ہوچکا تو آگے فرماتا ہے۔
Ayah 6:39

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں (اس کے علاوہ) اندھیرے میں (پڑے ہوئے) جس کو خدا چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھے رستے پر چلا دے

والذین کذبوا بایتنا صم وبکم اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں وہ بہرے ہیں (واضح نشاناتِ حق کی آواز نہیں سنتے) گونگے ہیں کلمۂ حق ان کی زبانوں پر نہیں آتا۔ فی الظلمت تاریکیوں میں اندھے ہوئے ہیں یعنی کفر جہالت عناد اور اسلاف پرستی کے اندھیروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ آیات قدرت سے کسی کا ہدایت یاب ہونا یا نہ ہونا اللہ کی مشیت پر موقوف ہے وہی جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے اس بات پر تنبیہ کرنے کے لئے آگے فرمایا۔ من یشآء اللہ یضللہ ومن یشا یجعلہ علی صراط مستقیم اللہ جس کی گمراہی چاہتا ہے اس کو گمراہ کردیتا ہے اور جس کو ہدایت یاب کرنا چاہتا ہے اس کو سیدھے راستہ پر دیتا ہے اور یہ راستہ اس کو حق تک پہنچا دیتا ہے۔