Ayah 6:40قل (اے محمد ان مشرکوں سے) آپ کہہ دیں۔
ارأیتکم بھلا بتاؤ تو۔ ہمزۂ استفہام اظہار تعجب کے لئے ہے اور کاف حرف خطاب ہے اس سے رأت کے فاعل کی تاکید ہو رہی ہے۔ کاف کا اعرابی محل کچھ نہیں ہے (یعنی یہ نہ فاعل ہے نہ مفعول) بلکہ رأت کے دونوں مفعول محذوف ہیں جن پر آنے والا کلام دلالت کر رہا ہے یعنی کیا تم نے دیکھا کہ جب تم اپنے معبودوں کو پکارتے ہو تو کیا تم کو وہ فائدہ پہنچاتے ہیں۔
فراء نے کہا عرب ارأیتک بولتے ہیں لیکن (اس استفہام سے) ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ہم کو بتاؤ۔
علامۂ تفتازانی نے کہا کہ ارأیت میں رویت علمی یا رویت چشمی کا سوال ہے مگر اس سے مقصود ہے طلب خبر کیونکہ آنکھوں سے دیکھنا علم کا ذریعہ ہے اور علم خبر دینے کا سبب ہے سبب کو مسبب کے قائم مقام رکھا گیا ہے۔
ان اتکم عذاب اللہ اگر (دنیا میں گزشتہ اقوام کی طرح) تم پر اللہ کا عذاب آجائے۔
او اتتکم الساعۃ یا قیامت (اپنی پوری ہولناکیوں کے ساتھ) تم پر آجائے۔
اغیر اللہ تدعون تو کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے۔ استفہام انکاری ہے جس سے مخاطبوں کو قائل کرنا مقصود ہے۔
ان کنتم صدقین۔ اگر تم سچے ہو کہ یہ بت دیوتا اور معبود ہیں تو کیا ان کو مصیبت دور کرنے کے لئے پکارو گے (نہیں)
Ayah 6:41بل ایاہ تدعون بلکہ تم اسی کو پکارو گے۔ تقدیم مفعول حصر کے لئے ہے۔
فیکشف ما تدعون الیہ انشآء سو وہی اگر چاہے گا تو اس مصیبت کو دور کر دے گا جس کے دور کرنے کے لئے تم اس کو پکارو گے۔ یعنی دنیا میں مصیبت دور کر دے گا اگر چاہے گا آخرت کا عذاب نہیں دور کرے گا۔
وتنسون ما تشرکون۔ اور (ایسے وقت میں) ان (دیوتاؤں) کو بھول جاؤ گے جن کو شریک قرار دیتے ہو۔ بھول جانے سے مراد ہے چھوڑ دینا۔ (بات یہ ہے کہ فطری طور پر) انسان کے دماغ میں یہ امر پیوست ہے کہ مصیبت کو دور کرنے پر قدرت صرف اللہ کو حاصل ہے (اس لئے مشرک بھی اٹل مصیبت کے وقت اللہ ہی کو پکارنے پر مجبور ہیں) ۔
Ayah 6:42ولقد ارسلنا الی امم من قبلک فاخذنہم بالباسآء والضرآء لعلہم یتضرعون۔ اور ہم نے آپ سے پہلے والی امتوں کے پاس بھی پیغمبر بھیجے (اور جب انہوں نے سرتابی کی) تو تنگدستی اور بیماری میں (مبتلا کر کے) ان کی پکڑ کی تاکہ وہ گڑگڑا کر (گناہوں سے) توبہ کرلیں۔ من قبلک میں من زائد ہے۔ باساء ‘ سختی اور ناداری۔ ضراء بیماری اور دوسرے جسمانی دکھ نضرع عاجزی سے سوال کرنا۔
Ayah 6:43فلولا اذ جآء ہم باسنا تضرعوا سو جب ان کو ہماری طرف سے سزا پہنچی انہوں نے عاجزی (کے ساتھ تو بہ) کیوں نہیں کی۔ مراد یہ کہ انہوں نے سزا دیکھنے کے بعد بھی توبہ نہیں کی۔ کلمۂ نفی کی جگہ لولا کا استعمال اس طرف اشارہ کر رہا ہے کہ تضرع کے ترک کا ان کے پاس کوئی عذر نہ تھا بلکہ تضرع کے دواعی موجود ہونے کے باوجود انہوں نے توبہ نہیں کی۔
ولکن قست قلوبہم لیکن ان کے دل سخت پڑگئے تھے۔
وزین لہم الشیطن ما کانوا یعملون۔ اور شیطان ان کے اعمال کو ان کی نظر میں پسندیدہ بنا کر دکھاتا رہا۔ یعنی مصائب میں مبتلا ہونے سے بھی ان کو تنبیہ نہ ہوئی اور انہوں نے اپنے اعمال کو ہی پسندیدہ نظروں سے دیکھا۔ یہ توبہ سے روکنے والے سبب کا بیان ہے اور اس بات کا اظہار ہے کہ دل کی سختی اور شیطانی اغواء نے ان کو توبہ سے روک دیا تھا شیطان کے اغواء سے وہ اپنے اعمال پر ہی ریجھے رہے۔
Ayah 6:44فلما نسوا ما ذکروا بہ سو جب انہوں نے ان چیزوں کو چھوڑے رکھا جن کی ان کو نصیحت کی گئی اور اختیار نہ کیا ان احکام کو جو ان کو دیئے گئے تھے اور تنگ دستی و بیماری میں مبتلا ہو کر بھی بیدار نہ ہوئے اور توبہ نہ کی۔
فتحنا علیہم ابواب کل شی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے یعنی ڈھیل دینے کے لئے ان کو ہر طرح کی نعمتیں عطا کردیں۔ حضرت عقبہ ؓ بن عامر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی بندہ گناہوں پر جما ہوا ہو اور دنیا میں ہر دل پسند چیز اس کو ملتی رہے تو (سمجھ لو کہ) یہ محض ڈھیل ہے پھر حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : (فلّما نسوا ما ذکروا بہ فتحنا علیہم ابواب کل شء) ۔
حتی اذا فرحوا بما اوتوا یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو ان کو ملی تھیں وہ اترا گئے۔
اخذنہم بغتۃ تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا۔
فاذا ہم مبلسون۔ سو وہ یکدم (حیرت زدہ ہو کر رہ گئے) ہر بھلائی سے ناامید ہوگئے۔
Ayah 6:45فقطع دابر القوم الذین ظلموا پھر ظالم لوگوں کی جڑ کٹ گئی۔ قاموس میں دابر کا معنی ہے تابع ہر چیز کا آخری حصہ جڑ۔ مطلب یہ ہے کہ سب کو ہلاک کردیا گیا ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہا۔ توالد کا سلسلہ ہی کاٹ دیا گیا۔ نسل منقطع ہوگئی۔ پس قطع دابر قطع اصول کی صورت میں ہوگیا یا قطع فروع کی شکل میں۔
بجائے دابرہم کہنے کے دابر القوم الذین۔۔ سے اس طرف اشارہ ہے کہ ان کی بربادی کی علت ان کا ظلم تھا (اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا ان کا خود ظلم موجب بربادی ہوا)
والحمدللہ رب العلمین۔ اور اللہ ہی کے لئے ہر ستائش ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ ظالموں کو ہلاک کرنا بھی قابل حمد و ستائش فعل ہے مؤمنوں کو ظالموں کے شر سے نجات ملتی ہے غلط افکار اور فاسد اعمال سے زمین پاک ہوتی ہے عقائد باطلہ اور اعمال فاسدہ نزول عذاب کا موجب ہوتے ہیں پس ظالموں کی تباہی سے اہل زمین عمومی تباہی سے محفوظ ہوجاتے ہیں اس جگہ وصف ربوبیت کا خصوصی ذکر اس لئے کیا کہ ظالموں کو تباہ کردینا ہمہ گیر ربوبیت کا تقاضا ہے (متعدی بیمار کی ہلاکت تعدیۂ مرض کی بندش و بیخ کنی کا سبب ہوتی ہے) اس جملہ میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ جو اللہ کی حمد نہ کرے اور اللہ اس کو ہلاک کر دے تو ایسے شخص کی ہلاکت پر اللہ کی حمد کرنی واجب ہے۔ اس سے آگے اپنی قدرت کی ہمہ گیری اور توحید کو بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہے
Ayah 6:46قل اے محمد ﷺ : آپ کہہ دیجئے۔
اریتہم ان اخذ اللہ سمعکم وابصارکم وختم علی قلوبکم من الہ غیر اللہ یاتیکم بہ : (اے مشرکو) بتاؤ تو اگر اللہ تمہاری شنوائی اور بینائی بالکل لے لے (تم کو اندھا بہرا کر دے) اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے ( ایسی غفلت مسلط کر دے کہ تمہاری عقلیں ناکارہ ہوجائیں) تو اللہ کے سوا کون ایسا معبود ہے جو یہ چیزیں تم کو پھر دے دے۔ یعنی اللہ کے سوا کوئی تم کو یہ چیزیں نہیں دے سکتا۔ استفہام تقریری ہے مطلب یہ کہ تم خود جانتے ہو کہ اگر اللہ تمہاری شنوائی بینائی اور دانائی لے لے تو اور کوئی معبود بھی واپس نہیں دے سکتا۔
انظر کیف نصرف الایت ثم ہم یصدفون۔ (اے محمد) آپ دیکھئے تو ہم کس طرح دلائل کو مختلف پہلوؤں سے پیش کر رہے ہیں پھر بھی یہ اعراض کرتے ہیں۔ قاموس میں ہے صرف آیات کا معنی ہے آیات کو کھول کر بیان کرنا بغوی نے یہی لکھا ہے یعنی ہم توحید کے دلائل کس طرح کھول کھول کر بیان کر رہے ہیں۔ بیضاوی نے نصرف الاٰیتکی تشریح اس طرح کی ہے ہم بار بار دلائل بیان کرتے ہیں کبھی عقلی دلائل پیش کرتے ہیں۔ کبھی ترغیب اور تخویف سے کام لیتے ہیں۔ کبھی گزشتہ اقوام کے احوال بیان کر کے عبرت اندوز ہونے کی نصیحت اور تنبیہ کرتے ہیں۔
ثُمَّ ہُمْ میں ثم (تراخی کے لئے نہیں ہے بلکہ) اظہار دوری کے لئے ہے یعنی کھلے دلائل کے بیان اور ظہور آیات کے بعد ان کا اعراض کرنا بہت بعید ہے۔
Ayah 6:47قل ارء یتکم ان اتکم عذاب اللہ بغتۃ اوجہرۃ ہل یہلک الا القوم الظلمون : (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ (مشرکو) بتلاؤ اگر اللہ کا عذاب تم پر آپڑے خواہ بیخبر ی میں یا خبرداری میں تو کیا بجز ظالم لوگوں کے اور بھی کوئی ہلاک کیا جائے گا۔
بغتۃً سے مراد ہے اچانک بغیر کسی نشانی اور علامت کے اور جہرۃً کا معنی ہے علی الاعلان جس کی نشانیاں پہلے سے نمودار ہوچکی ہوں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حسن ؓ نے فرمایا بغتۃً اوجہرۃً کا معنی ہے رات میں یا دن میں۔ ہل یہلک میں استفہام انکاری ہے یعنی سوائے ظالموں کے اور کوئی ہلاک نہ ہوگا چونکہ اس جگہ استفہام بمعنی نفی کا اسی لئے آگے استثناء کیا گیا۔ الظلمون سے مراد ہیں کافر جو کفر کی وجہ سے خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔
Ayah 6:48وما نرسل المرسلین الا مبشرین ومنذرین اور ہم پیغمبروں کو صرف اس لئے بھیجا کرتے ہیں کہ وہ (اہل ایمان کو جنت کی) بشارت دیں اور (کافروں کو دوزخ سے) ڈرائیں۔ یعنی کافروں کے مطلوبہ معجزات کو پیش کرنا اور جس کو اللہ ہدایت یاب نہ بنانا چاہے اس کو ہدایت یاب بنانا ان کی قدرت میں نہیں ہوتا نہ پیغمبر ان صفات کے حامل ہوتے ہیں جن سے متصف ہونا کافروں کے نزدیک ضروری ہے (مثلاً فرشتہ ہونا کھانے پینے کا ضرورتمند نہ ہونا کوئی عجیب مافوق الفطرت ہستی ہونا وغیرہ وغیرہ)
فمن امن واصلح فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون۔ پس جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے درستی کرلی (یعنی پیغمبروں کی پیش کردہ تعلیم کو سچا مان لیا اور جنت کی امید اور دوزخ کے خوف سے اپنے اعمال کی اصلاح کرلی) تو پھر ان کو (عذاب کا) ڈر ہوگا نہ (ثواب کے فوت ہونے کا) غم۔
Ayah 6:49والذین کذبوا بایتنا اور جن لوگوں نے ہماری (بشارت آفریں خوف آگیں) آیات کو جھوٹا قرار دیا۔
یمسہم العذاب بما کانوا یفسقون۔ تو (ایمان و اطاعت کے دائرہ سے) خارج ہونے کی وجہ سے ان کو عذاب لگے گا۔ چھونا اور لگنا تو زندگی کی علامت ہے گویا عذاب بھی ایک زندہ چیز ہوگا جو کافروں سے جس طرح چاہے گا آ لگے گا۔ مَا کانوا میں ما مصدری ہے۔
Ayah 6:50قل لا اقول لکم عندی خزآئن اللّٰہ آپ کہہ دیجئے میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں یعنی جن چیزوں پر اللہ کو خصوصی قدرت حاصل ہے وہ میرے قبضہ میں ہیں یا اس کے رزق کے خزانے میرے پاس ہیں۔
ولا اعلم الغیب اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب جانتا ہوں یعنی وہ (گزشتہ اور آئندہ) چیزیں جن کی وحی سے مجھے اطلاع نہیں دی گئی ان کو جاننے کا میں دعویٰ نہیں کرتا۔ لاَزائد ہے اس کا عطف عندی خزائن اللّٰہپر ہے۔
ولا اقول لکم انی ملک اور نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں کہ میرا کھانا پینا اور نکاح کرنا میرے دعوے کے خلاف ہو۔ مطلب یہ کہ میں تم سے کوئی ایسی بات نہیں کہتا جس کا عقلاً انکار ضروری ہو اور جو طلب دلائل کا محتاج ہو۔
ان اتبع الا ما یوحی الی میں تو (تعلیم و تبلیغ میں) بس اسی کا اتباع کرتا ہوں جس کی وحی میرے پاس آتی ہے۔ یعنی میں صرف نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں اور انہی امور کے درپے ہوں جن کے درپے دوسرے انبیاء تھے اور اس میں کوئی عقلی استحالہ نہیں یہ بات عقلاً درست ہے گزشتہ انبیاء کی خبریں اس سلسلہ میں متواتر پہنچ چکی ہیں۔ مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ کے دعوئے نبوت کو بعید از عقل سمجھا تھا اور حضور ﷺ کے دعوے کے ناممکن ہونے کا ان کو یقین تھا۔ اس آیت میں ان کے خیال کی تردید فرما دی۔
بغوی نے اس آیت کی تشریح میں کہا ہے کہ مشرکوں نے جب (اندھا دہند) معجزات کی طلب کی تو ان آیات کا نزول ہوا مطلب یہ ہے آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ اللہ کے خزانے میرے قبضہ میں ہیں یہاں تک کہ میں کوہ صفا کو سونے کا بنا دوں اور جو کچھ تم چاہتے ہو وہ تم کو ددے دوں نہ میں غیب دانی کا مدعی ہوں کہ گزشتہ آئندہ باتیں بغیر اللہ کی وحی کے تم کو بتادوں نہ خود فرشتہ ہونے کا میرا دعویٰ ہے کہ مجھے کھانے پینے اور نکاح کرنے کی ضرورت نہ ہو میں تو بس اسی پر چلتا ہوں جو وحی سے میرے پاس آجاتا ہے۔
قل ہل یستوی الاعمی والبصیر آپ کہئے کہ کیا اندھے اور انکھیارے برابر ہوسکتے ہیں اندھا (کافر) حق و باطل میں امتیاز نہیں کرتا ناممکن الانکار چیز کا انکار کردیتا ہے اور ناممکن التصدیق بات کی تصدیق کرتا ہے اور انکھیار (یعنی سچا مؤمن) حق و باطل کی تمیز رکھتا ہے مدعئ نبوت کے معجزات و آیات کی تصدیق کرتا ہے اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے اور بتوں کو دربار خداوندی میں اپنا سفارشی مانتے اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے اور سائبہ کو بغیر کسی دلیل کے حرام کہتے ہیں ان کی اس خرافات کی یہ انکھیارا آدمی تکذیب کرتا ہے (اور ان سب بیہودہ باتوں کو غلط کہتا ہے) ۔
افلا تتفکرون تو کیا تم غور نہیں کرتا کہ حق و باطل میں تمیز کرنے اور واجب التصدیق و واجب التکذیب امور میں فرق کرنے کا راستہ تم کو مل جائے۔
Ayah 6:51وانذر بہ الذین یخافون ان یحشروا الی ربہم اور اس سے ایسے لوگوں کو ڈراؤ جو اس بات سے اندیشہ رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے پاس جمع کئے جائیں گے۔
چونکہ الذینکے بعد یخافون ان یحشروا آیا ہے (جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ انہی لوگوں کو خوف دلانے کا حکم ہے جن کو اندیشہ حشربصورت یقین یا بطور تردد لگا ہوا ہے) اس لئے بیضاوی نے لکھا ہے کہ الذین سے مراد یا تو وہ مؤمن ہیں جن سے عمل میں کچھ کوتاہی ہو رہی ہے یا وہ لوگ مراد ہیں جن کو حشر کا اقرار ہو خواہ وہ مؤمن ہوں یا کافر کتابی یا حشر ہونے یا نہ ہونے میں تردد رکھنے والے ہوں غرض وہ لوگ مراد نہیں ہیں جن کو حشر کے نہ ہونے کا یقین ہو کیونکہ اس آخری گروہ کو ڈرانا بےسود ہے اور باقی اشخاص کو ڈرانا سود مند ہوسکتا ہے۔
بیضاوی (رح) کی یہ تشریح غلط ہے انذارکا حکم عمومی ہے اللہ نے اپنے پیغمبر کو یہ کہنے کا حکم دے دیا ہے کہ اوحی اِلَّی ہٰذا القُرآن لاَنَذِرُکَمْ بہٖ وَمَنْ بَلَغَعمل میں کوتاہی کرنے والے مؤمنوں کی انذار کے لئے کوئی خصوصیت نہیں۔ عمل کی انتہائی کوشش کرنے والے مؤمنوں کے لئے بھی انذار مفید ہے تاکہ انذار کے بعد وہ اجتہاد اور کوشش میں غفلت نہ کریں۔ دیکھو دور رسالت میں سب ہی سعی عمل میں منہمک تھے کوئی بھی کوتاہی کرنے والا نہ تھا لہٰذا الذین سے مراد سب لوگ ہیں ہر بندۂ عاجز کو اپنے خالق قوی سے ڈرنا ہی چاہئے یا یوں کہا جائے کہ آیت میں حشر سے ڈرنے والوں کا خصوصیت سے ذکر اس وجہ سے کیا کہ ڈرانے کا فائدہ انہی کو پہنچ سکتا ہے (جیسے ہدی للمتقین میں اہل تقویٰ کا خصوصی ذکر اس لئے ہے کہ وہی ہدایت قرآنی سے فائدہ اٹھانے والے ہیں اگرچہ قرآن کی ہدایت عمومی ہے) ۔
لیس لہم من دونہ ولی ولا شفیع کہ ان کے لئے اللہ کے سوا نہ کوئی مددگار ہوگا نہ سفارشی۔
یعنی حشر کی اس حالت سے ڈرتے ہیں کہ اللہ کے سوا نہ کوئی ان کا حامی ہوگا نہ سفارشی۔ اس صورت میں پورا جملہ یحشروا کی ضمیر سے حال ہوگا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس جملہ کا مضمون بہٖکی ضمیر سے بدل ہو اس وقت مطلب اس طرح ہوگا قرآن کے ذریعہ سے حشر کا اندیشہ کرنے والوں کو اس طرح ڈراؤ کہ اللہ کے سوا ان کا نہ کوئی حامی ہوگا نہ سفارشی لہٰذا اس کے سوا نہ کسی کی عبادت کریں نہ کسی اور کو مدد کے لئے پکاریں۔ اس آیت میں بظاہر شفاعت کی نفی ہے لیکن دوسری آیات میں باذن خداوندی شفاعت ہونے کا ثبوت موجود ہے (اسی طرح مؤمنوں کے لئے مؤمنوں کا حامی ہونا بھی مذکور ہے) اس لئے مثبتین شفاعت (یعنی اہل سنت) کی طرف سے کہا جائے گا کہ اللہ کے اذن کے بعد شفاعت ہونا بھی حقیقت میں اللہ ہی کی حمایت ہے اور آیت میں نفی ولایت و شفاعت سے بلا اذن الٰہی ولایت و شفاعت کی نفی مراد ہے) پس اولیاء کی طرف سے ولایت و شفاعت جو اذن خداوندی کے بعد ہوگی اس کی نفی آیت میں نہیں ہے۔
لعلہم یتقون اس امید پر کہ وہ ڈر جائیں۔ حضرت مفسر نے لعلکا ترجمہ تاکہ کیا ہے۔ امام احمد طبرانی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ قریش کے کچھ سردار رسول اللہ ﷺ : کی طرف سے گزرے اس وقت حضرت خباب ؓ حضرت صہیب ؓ حضرت بلال اور حضرت عمار ؓ : حضور ﷺ : کی خدمت میں موجود تھے سرداران قریش کہنے لگے محمد ﷺ : تم نے انہی لوگوں کا انتخاب کیا ہے کیا اللہ نے ہم لوگوں میں سے انہی کو اپنی نعمت سے سرفراز کیا ہے اگر تم کو ان کو اپنے پاس سے نکال دو گے تو ہم آپ کے ساتھی ہوجائیں گے اس پر وانذر بہ سے سبیل المجرمینتک آیات کا نزول ہوا۔
ابن حبان اور حاکم نے حضرت سعد ؓ بن وقاص کا بیان نقل کیا۔ حضرت سعد ؓ نے فرمایا۔ یہ آیت چھ آدمیوں کے حق میں نازل ہوئی میں اور عبداللہ بن مسعود ؓ اور چار دوسرے لوگ۔ کفار قریش نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا تھا ان لوگوں کو نکال دو تو ہم آپ کے پیرو ہوجائیں گے ہم کو ان کی طرح تمہارے پیرو ہونے میں شرم آتی ہے (یعنی ہم ان لوگوں کے ساتھ آپ کے پاس نہیں بیٹھ سکتے) حضور ﷺ کے دل میں بھی اس بات کا کچھ خیال آیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مسلم کی روایت بالفاظ ذیل ہے ہم چھ آدمی رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر تھے۔ ابن مسعود ؓ اور قبیلہ ہذیل کا ایک شخص اور بلال اور دو آدمی اور جن کے نام میں بھول گیا ہم کو حضور ﷺ : کی صحبت میں دیکھ کر مشرکوں نے کہا ان کو اپنے پاس سے ہٹا دو تاکہ ہمارے وقار میں فرق نہ آئے حضور ﷺ کے دل میں بھی اس سے کچھ خیال آیا اور آپ ﷺ نے کچھ سوچا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 6:52ولا تطرد الذین یدعون ربہم بالغدوۃ والعشی اور جو لوگ صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں ان کو اپنے پاس سے) نہ نکالو۔ پکارنے سے مراد ہے عبادت اور ذکر کرنا۔ کریم کی عبادت اور یاد سے اس کے انعام کا فیضان مزید ہوتا ہے۔ بعض علماء کے نزدیک پکارنے سے مراد ہے دعا کرنا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا صبح و شام پکارنے سے مراد ہے فجر اور عصر کی نماز۔
ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کی طرف اس قول کی بھی نسبت کی گئی ہے کہ پانچوں نمازیں مراد ہیں کیونکہ کچھ غریب مسلمان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اس پر کچھ بڑے لوگوں نے کہا جب ہم نماز میں شریک ہوں تو ان لوگوں کو آپ پیچھے کردیا کریں یہ ہمارے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھیں اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
یریدون وجہہ جو خاص اس کی رضامندی چاہتے ہیں۔
یعنی خلوص دل سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ تمام کاموں کا مدار اخلاص پر ہے اور جب خلوص کے ساتھ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو ایسے عبادت گزاروں کی عزت کی جائے سے نکالا نہ جائے۔ (1) [ علم البلاغۃ کا مسلمہ ضابطہ ہے جس کی صراحت امام عبدالقاہر نے اپنی کتابوں میں کی ہے اور صاحب مطول نے بھی اس کو نقل کیا ہے کہ اگر کسی حکم کو کسی وصف پر مرتب کیا جائے تو وہ وصف اس حکم کی علت ہوتا ہے جیسے اپنے سچے دوست زید سے اچھا سلوک کرو اچھا سلوک کرنے کی علت سچا دوست ہونا ہے اسی ضابطہ کی طرف حضرت مفسر نے اشارہ کیا ہے کہ اخراج کی ممانعت جن لوگوں سے متعلق کی گئی ہے ان کا خصوصی وصف بھی ذکر کردیا ہے کہ وہ خلوص کے ساتھ عبادت کرتے ہیں پس اخلاص کے ساتھ عبادت کرنی ممانعت اخراج کی علت ہوئی خلوص کے ساتھ عبادت کرنے کا تقاضا عزت ہے نہ کہ اخراج۔]
ما علیک من حسابہم من شی وما من حسابک علیہم من شی ان کا حساب ذرا بھی آپ کے متعلق نہیں اور نہ آپ کا حساب کچھ ان کے متعلق ہے۔ مِنْ شِئٍما کا اسم ہے اور علیک خبر اور من حسابک۔ علیک کی ضمیر سے حال ہے مقصد یہ ہے کہ اپنی مجلس سے نکالنا اور ہم نشینی ترک کرنا اس وقت جائز بلکہ ضروری ہوجاتا ہے اگر ہم نشینی سے دونوں میں سے کسی کا ضرر ہوتا ہو اگر آپس میں کسی کا نقصان نہ ہوتا ہو تو مجالست ترک کرنا واجب نہیں اور ان لوگوں کی ہم نشینی سے تو نہ آپ کا کوئی ضرر ہے نہ ان کا بلکہ دونوں کا فائدہ ہے آپ کی صحبت میں بیٹھ کر یہ نیکیاں کریں گے اور امت کی نیکیوں کا ثواب پیغمبر کو بھی ملنا یقینی ہے اور ان کو اپنی صحبت میں بٹھا کر آپ راہ راست بتاتے اور ہدایت کرتے رہیں گے اس سے ان کو فائدہ پہنچیں گے۔ اس مطلب پر یہ پورا جملہ منفیہ الذین سے حال ہوگا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حسابہم اور علیہم کی ضمیر مشرکوں کی طرف راجع ہو اس وقت مطلب اس طرح ہوگا مشرکوں کے اعمال کا آپ سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا نہ آپ کے اعمال کی ان سے حساب فہمی پھر ان کے مسلمان ہونے کے لالچ میں موجودہ مسلمانوں کو اپنے پاس سے نکالنا درست نہیں اور زیبا نہیں۔
فتطردہم کہ مسلمانوں کو آپ اپنے پاس سے نکالیں یہ نفی کا جواب ہے اسی لئے منصوب ہے۔
فتکون من الظلمین اور ظالموں میں سے ہوجائیں (یہ ترجمہ اس وقت ہوگا جب فتکونکا عطف تطرد پر قرار دیا جائے اور اگر یہ نہی کا جواب ہے (جیسا کہ حضرت مفسر نے صراحت کی ہے تو ترجمہ اس طرح ہوگا ان کو اپنے پاس سے نہ نکالو ورنہ ظالموں میں سے ہوجاؤ گے)
Ayah 6:53وکذلک فتنا بعضہم ببعض اور اسی طور پر ہم نے ایک کو دوسرے کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈال رکھا ہے کذلک میں کاف اسی طرح زائد ہے جس طرح لیس کمثلہ شی میں۔ ذلک سے اشارہ سرداران قریش کی گمراہی کی جانب ہے اور فتنا کا مفعول مطلق ہے۔ بعضہم سے مراد ہیں کفار قریش اور ببعض سے مراد ہیں فقراء اہل اسلام جن کی موجودگی اور حاضر باشی سرداران قریش کے اسلام نہ لانے کا سبب بنی۔ ببعض اصل میں ببعضہم تھا (یعنی تنوین مضاف الیہ کے قائم مقام ہے)
علامہ تفتازانی نے لکھا ہے کہ اس جگہ کَذَالِکَ فَتَنَّا (اور اسی طرح دوسرے مقامات پر لفظ کذٰلک) اگرچہ تشبیہی ہے لیکن تشبیہ مراد نہیں یا یوں کہا جائے کہ آیت کا معنی اس طرح ہے کہ وہ گمراہی جس میں ہم نے قریش کے سرداروں کو مبتلا کیا ویسی ہی تھی جیسے گزشتہ امتوں میں سے ہم نے بعض کو بعض کی گمراہی کا سبب بنا دیا تھا مثلاً قوم نوح نے کہا تھا : مَا نَرَاک الاَّ بَشَرًا مِّثَلَنَا وَمَا نَرَاکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا الَّذِیْنَ ہُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِاور حضرت نوح ( علیہ السلام) نے ان کے جواب میں فرمایا تھا : رَاَ امِا یطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (اس تفسیر پر بعضہم ببعض سے گزشتہ اقوام مراد ہیں اور سرداران قریش کی گمراہی کو گزشتہ اقوام کی گمراہی سے تشبیہ دی گئی ہے جو مطالبہ سرداران قریش نے کیا تھا وہی مطالبہ گزشتہ انبیاء کی بعض امتوں نے کیا تھا اور جس سبب سے سرداران قریش گمراہ ہوئے اسی سبب سے بعض اقوام پارینہ کے سردار گمراہ ہوئے) ۔
بیضاوی نے آیت کی جو تشریح کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ذلک سے اشارہ دنیوی آزمائش کی طرف ہے اور فتنا سے مراد ہے دینی ابتلا یعنی جیسے ہم نے دنیوی معاملات میں لوگوں کو مختلف کرکے آزمائش کی ہے کسی کو فقیر بنایا اور کسی کو امیر اسی آزمائش کی طرح ہم نے دینی امور میں بھی لوگوں کو امتحان میں ڈالا ہے اور بعض کو بعض کی آزمائش کا سبب بنایا ہے چناچہ کمزوروں کو سابق الایمان بنا کر سرداروں پر ان کو برتری عطا کی (اور یہ ہی عمل سرداروں کی گمراہی کا سبب بن گیا)
لیقولوا اہولاء من اللہ علیہم من نبینا تاکہ یہ لوگ کہا کریں کہ کیا یہی لوگ ہیں کہ ہم سب میں سے اللہ نے ان پر زیادہ فضل کیا ہے۔ یقولوا کا فاعل اغنیاۂ ہیں اور ہٰوٰلائ سے اشارہ فقراء مسلمین کی جانب ہے۔ انعام سے مراد ہے ہدایت اور توفیق ایمان اہؤلائ میں استفہام انکاری ہے یعنی اغنیاء نے اس امر کا انکار کیا کہ فقراء کو قبول حق کی توفیق مل جائے اور وہ خیر کی جانب اغنیاء سے آگے بڑھ جائیں حاصل مطلب یہ ہے کہ اگر اسلام حق ہوتا تو ہم اس کی طرف فقراء سے پیش قدمی کرتے اور وہ ہم سے آگے نہ بڑھ سکتے۔
الیس اللہ باعلم بالشکرین کیا اللہ شکر گزاروں سے بخوبی واقف نہیں ہے یعنی جن لوگوں کے اندر شکر گزارہونے کی استعداد ہے جس کی وجہ سے اللہ ان کو شکرگزاری کی توفیق عطا فرما دیتا ہے اور جن لوگوں کے اندر ایمان اور شکر گزاری کی صلاحیت نہیں ہے جس کی وجہ سے اللہ ان کو توفیق ایمان نہیں دیتا کیا ان دونوں گروہوں سے اللہ واقف نہیں ہے۔
یہ آیت (اس تفسیر کی روشنی میں) دلالت کر رہی ہے کہ (خیر و شر) کی استعداد وجود سے پہلے ہوتی ہے حضرت مجدد الف ثانی (رح) نے اسی لئے فرمایا تھا کہ تعینات اہل ایمان کے مبادی اللہ کے اسم ہادی کا پر تو ہیں اور تعینات کفار کے مبادی اللہ کے اسم مضل کا پر تو (یعنی توفیق ایمان ہو یا ضلالت آفرینی دونوں اللہ کی صفات کے پَر تو ہیں جس پر اللہ کے اسم کا پر تو پڑگیا وہ ہدایت یافتہ ہوگیا اور جس پر اللہ کے اسم مضل کا پر تو پڑگیا وہ گمراہ ہوگیا ‘ پس جس چیز سے اور جس غرض کے لئے جس کو پیدا کیا گیا ہے اس سے تجاوز ناممکن ہے۔
آیت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ رذیل فقیر اس قابل ہیں کہ ہم کو تو صحبت رسول حاصل نہ ہو اور صرف ان کو صحبت رسول ﷺ کی نعمت دے کر اللہ سربلند کرے (ایسا نہیں ہوسکتا) اس خیال کو رد کرنے کے لئے اللہ نے فرمایا کیا اللہ شکر گزاروں کو نہیں جانتا پس جو شکر گزار ہیں وہی رسول اللہ ﷺ : کی ہم نشینی کے مستحق ہیں اغنیاء شکر گزار نہیں ہیں اس لئے ان کو صحبت رسول ﷺ : کا استحقاق بھی نہیں ہے۔
بغوی کا بیان ہے کہ حضرت سلمان ؓ اور حضرت خباب بن الارت نے فرمایا اس آیت کا نزول ہمارے سلسلہ میں ہوا اقرع بن حابس تمیمی ‘ عیینہ بن حصن فزاری اور بعض دوسرے لوگ جو مؤلفۃ القلوب (مسلمانوں) میں سے تھے ‘ رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت حضور اقدس ﷺ کے پاس بلال ‘ صہیب ‘ عمار ‘ خباب اور کچھ اور کمزور مسلمان بیٹھے ہوئے تھے آنے والوں نے ان بیچاروں (غریبوں) کو دیکھ کر تحقیر کی نظر سے دیکھا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ صدر مقام پر تشریف فرما ہوں اور ان لوگوں کو اور ان کے لباس کی بدبو کو اپنے پاس سے ہٹا دیں تو ہم آپ کے پاس بیٹھیں گے اور آپ سے کچھ حاصل کریں گے ان غریب مسلمانوں کے پاس اونی چوغے تھے جن سے پسینہ کی وجہ سے بدبو پھیل رہی تھی۔ حضور ﷺ نے فرمایا میں اہل ایمان کو اپنے پاس سے نہیں نکال سکتا۔ کہنے لگے اچھا تو ہمارے لئے الگ جگہ مقرر کر دیجئے کہ (آنے والے) عرب ہماری بڑائی کو پہچان لیں کیونکہ آپ کے پاس عربوں کے وفد آتے رہتے ہیں ہمیں ان کے سامنے غلاموں کے ساتھ بیٹھتے شرم آتی ہے ہم جب آپ کے پاس آیا کریں تو آپ ان کو اٹھوا دیا کریں اور جب ہم فارغ کو ہر چلے جائیں تو آپ کو اختیار ہے آپ پھر ان کو اپنے پاس بٹھا لیا کریں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں (یہ ہوسکتا ہے) کہنے لگے اس کی ایک تحریر لکھ کر دیجئے حضور ﷺ نے کاغذ طلب فرمایا اور حضرت علی ؓ : کو بلوایا۔ راوی کا بیان ہے ہم ایک گوشہ میں بیٹھے ہوئے ہی تھے (اور تحریر لکھنے نہ پائے تھے) کہ جبرئیل ( علیہ السلام) آیت (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ ۔۔ بِالشّٰکِرِیْن) تک لے کر نازل ہوئی حضور ﷺ نے فوراً دست مبارک سے کاغذ پھینک دیا اور ہم کو طلب فرمایا ہم خدمت میں پہنچے تو آپ ﷺ پڑھ رہے تھے۔ (سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہٖ الرَّحْمَۃ) چناچہ ہم حضور ﷺ کے پاس برابر بیٹھتے رہے۔ جب حضور ﷺ اٹھنے کا ارادہ کرتے تو خود اٹھ جاتے اور ہم کو بیٹھا چھوڑ جاتے اس پر اللہ نے نازل فرمایا : (وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبِّہِمْ بالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ ) اس کے بعد (بڑے بڑے سرداروں کے آنے پر بھی) حضور ﷺ ہمارے پاس بیٹھے رہتے اور ہم اتنے قریب بیٹھتے کہ ہمارے زانو حضور ﷺ کے زانو سے چھونے لگتے پھر جب حضور ﷺ کے اٹھنے کا وقت آجاتا تو ہم خود اٹھ جاتے اور حضور ﷺ : کو بیٹھا چھوڑ دیتے آخر آپ بھی اٹھ جاتے اور حضور ﷺ نے ہم سے فرمایا تھا اللہ کا شکر ہے کہ مرنے سے پہلے اس نے مجھے حکم دے دیا کہ میں اپنی امت کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھا رہوں۔ تمہارے ہی ساتھ میرا مرنا جینا ہے۔ کلبی نے کہا اقرع اور عینیہ وغیرہ نے عرض کیا تھا۔ آپ ایک دن ہمارے لئے اور ایک دن ان کے لئے مقرر فرما دیجئے حضور ﷺ نے فرمایا میں ایسا نہیں کرسکتا کہنے لگے اچھا تو مجلس ایک ہی رکھئے مگر ہماری طرف کو منہ اور ان کی طرف کو پشت رکھئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
بغوی نے جو واقعہ حضرت خباب ؓ اور حضرت سلمان ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے وہی واقعہ ابن جریر اور ابن ابی حاتم وغیرہ نے (صرف) حضرت خباب ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے اس میں اتنا زائد ہے کہ پھر اللہ نے اقرع اور اس کے ساتھی کا تذکرہ فرمایا اور ارشاد فرمایا : (وَکَذٰلِکَ فَتَنَّابَعْضَہُمْ ببعض) شیخ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ یہ روایت غریب ہے کیونکہ یہ آیت تو مکی ہے اوراقرع و عینیہ ہجرت سے بہت مدت کے بعد مسلمان ہوئے تھے۔
بغوی نے اپنی سند سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابو سعید خدری نے فرمایا۔ میں مہاجروں کی ایک جماعت میں بیٹھا ہوا تھا۔ برہنگی کی وجہ سے بعض لوگ بعض کی آڑ پکڑے ہوئے تھے اور ایک قاری پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ تشریف لے آئے اور آکر کھڑے ہوگئے حضور ﷺ : کو کھڑا دیکھ کر قاری چپ ہوگیا آپ نے سلام کیا اور فرمایا تم کیا کر رہے تھے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ : ایک قاری قرآن مجید پڑھ رہا تھا ہم اللہ کا کلام سن رہے تھے فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں بعض لوگ ایسے بنا دیئے جن کے ساتھ مجھے اپنے آپ کو جمائے رکھنے کا حکم دیا اس کے بعد اظہار مساوات کے لئے آپ ہمارے وسط میں بیٹھ گئے پھر ہاتھ سے اشارہ فرمایا تو لوگوں نے گرداگرد حلقہ بنا لیا اور سب کے چہرے سامنے آگئے (کوئی آڑ میں نہیں رہا) میرا خیال ہے کہ میرے علاوہ حضور ﷺ نے کسی کو نہیں پہچانا ارشاد فرمایا اے نادار مہاجرو کے گروہ قیامت کے دن تم کو نور کامل حاصل ہونے کی بشارت ہو مالداروں سے آدھے دن بیشتر غریب لوگ جنت میں جائیں گے اور اس آدھے دن کی مقدار پانسو برس ہوگی۔
ابن جریر نے حضرت عکرمہ کا بیان نقل کیا ہے کہ عتبہ بن ربیعہ شیبہ بن ربیعہ مطعم بن عدی اور حارث بن نوفل عبد مناف کے کچھ کافر سرداروں کی معیت میں ابو طالب کے پاس گئے اور کہا اگر آپ کا بھتیجا ان غلاموں کو اپنے پاس سے نکال دے تو اس کی عظمت ہمارے دلوں میں بڑھ جائے گی اور ہماری نظر میں وہ زیادہ قابل اطاعت ہوجائے گا اور ہمارے لئے اس کا اتباع کرنا زیادہ مناسب ہوجائے گا۔ ابو طالب نے اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کی۔ حضرت عمر ؓ بن خطاب نے بھی مشورہ دیا کہ ایسا کر دیکھئے ہم بھی تو دیکھیں قریش کا اس سے مقصد کیا ہے اس پر اللہ نے آیت : (وانذر بہ الذین یخافون۔۔ اَلَیْسَ اللّٰہُ باعلم بالشاکرین) تک نازل فرمائی جن لوگوں کو رسول اللہ کے پاس سے قریش نے ہٹوانا چاہا تھا وہ بلال عمار بن یاسر ابو حذیفہ کا آزاد کردہ غلام سالم۔ اسید کا آزاد کردہ صبیح۔ عبداللہ بن مسعود۔ مقداد بن عبداللہ۔ وقد بن عبداللہ حنظلی اور انہی کی طرح کے اور لوگ تھے اس آیت کے نزول کے بعد حضرت عمر ؓ خدمت گرامی میں حاضر ہوئے اور اپنے سابق مشورہ کے عذر خواہ ہوئے اس وقت آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 6:54واذا جآءک الذین یومنون بایتنا فقل سلام علیکم اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو آپ ان سے کہیں تم پر سلامتی ہو۔
حضرت عکرمہ ؓ : کا قول ہے اس آیت کا نزول ان لوگوں کے حق میں ہوا جنہوں نے رسول اللہ ﷺ : کو غریب مسلمانوں کے اخراج سے منع کیا تھا چناچہ رسول اللہ ﷺ جب ان حضرات کو دیکھتے تھے تو سلام کا آغاز خود ہی کرتے تھے۔ عطاء کا بیان ہے اس آیت کا نزول مندرجۂ ذیل حضرات کے حق میں ہوا۔ ابوبکر ‘ عمر ‘ عثمان ‘ علی ‘ بلال ‘ سالم ‘ ابو عبیدہ ‘ مصعب بن عمیر ‘ حمزہ ‘ عثمان بن مظعون ‘ عمار بن یاسر ارقم بن ارقم ابو سلمہ بن عبدالاسد ؓ ۔
فریابی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ماہان کی روایت نقل کی ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ہم بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں حضور ﷺ نے کچھ جواب نہیں دیا اس پر آیت ذیل نازل ( وَاِذَا جَآءَ کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیتٰنِاَ فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ ) نازل ہوئی۔
کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ تمہارے رب نے اپنی ذات پر تمہارے لئے رحمت لازم کرلی ہے۔
اس آیت میں اللہ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ ان لوگوں سے سلام کرنے میں خود پیش قدمی کیا کریں یا ان کو اللہ کی طرف سے سلام پہنچا دیں (یعنی فقل سلام علیکم کے دونوں مطلب ہوسکتے ہیں) اور فقط سلامتی ہی کی بشارت نہیں بلکہ اس کے بعد یہ بات بھی ان کو پہنچا ادیں کہ اللہ نے اپنی مہربانی سے اپنے وعدہ کے مطابق ان پر رحمت فرمانے کو واجب و لازم قرار دے لیا ہے۔
انہ من عمل منکم سوء بجہالۃ ثم تاب من بعدہ واصلح فانہ غفور رحیم : کہ تم میں سے اگر کوئی شخص نادانی سے برا کام کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور اپنے آپ کو) درست کرلے تو اللہ کی یہ شان ہے کہ وہ بڑا غفور رحیم ہے (ضرور معاف کر دے گا) ۔
انہ میں ضمیر شان ہے (جس کو مرجع کی ضرورت نہیں) اور پورا جملہ الرحمۃ سے بدل ہے یاب محذوف ہے بجہالۃ عمل سے حال ہے اور مفعول محذوف ہے یعنی بداعمالی کے ضرر رساں تباہی آفریں نتیجہ کو نہ جاننے کی حالت میں جس نے کوئی برا کام کیا۔ یا بجہالۃ کا معنی ہے متجاہلا یعنی جس کسی نے کوئی برا کام جاہلانہ طور پر کرلیا مطلب یہ ہے کہ خواہشات نفس کے غلبہ کی وجہ سے اس کا طور طریق جاہلانہ ہوگیا اور پھر جاہلانہ طور پر اس نے کوئی برا عمل کرلیا اور کرنے کے بعد اس کو پشیمانی ہوگئی اور آئندہ نہ کرنے کا اس نے پختہ ارادہ کرلیا اور اپنے اعمال کو درست کرلیا تو اس کے لئے اللہ غفور ورحیم ہے۔ آیت دلالت کر رہی ہے کہ توبہ مغفرت گناہ کا سبب ہے۔
Ayah 6:55وکذلک نفصل الایت اور اسی طرح ہم آیات کو الگ الگ کر کے بیان کرتے رہتے ہیں۔
یعنی جس طرح ہم نے اس سورت میں آیات کی تفصیل کی اسی طرح ہم قرآن کی آیات الگ الگ کھول کر بیان کرتے ہیں یا آیات سے مراد ہیں دلائل حق جو منکرین حق کے سامنے بیان کی جاتی ہیں۔
ولتستبین سبیل المجرمین (تاکہ راہ مستقیم معلوم ہوجائے) اور مجرموں کی راہ نمایاں ہوجائے اس کا عطف محذوف جملہ پر ہے پورا کلام اس طرح تھا ہم آیات بیان کرتے ہیں تاکہ راہ مستقیم واضح ہوجائے اور مجرموں کا راستہ کھل کر سامنے آجائے۔
Ayah 6:56قل انی نہیت آپ کہہ دیجئے مجھے ممانعت کردی گئی ہے یعنی مجھے عقلی دلائل وبراہین اور قرآنی آیات و احکام کے ذریعہ سے بازداشت کردی گئی ہے پھیر دیا گیا ہے۔
ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ کہ ان کی پرستش کروں جن کو اللہ کے علاوہ تم معبود قرار دیتے اور ان کی عبادت کرتے اور ان کو الٰہ کہتے ہو۔
قل لا اتبع اہوائکم آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا۔ اس جملہ میں کافروں کی امید کو پُر زور طریقہ سے قطع کردیا گیا اور اس بات کو واضح کردیا گیا کہ جن خیالات پر تم چل رہے ہو ان کے لئے نہ کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی ثبوت۔ محض خواہش نفس کی پیروی ہے اس میں ترک اتباع کی علت کا بھی اظہار فرما دیا اور طلبگاران حق کو تنبیہ بھی کردی کہ دلیل وبرہان واجب الاتباع ہے اور (بےثبوت) تقلید ناجائز۔
قد ضللت اذا کیونکہ اس حالت میں تو میں بےراہ ہوجاؤں گا۔ یعنی اگر میں تمہاری خواہشات پرچلا تو میں گمراہ ہوجاؤں گا۔
وما انا من المہتدین اور ہدایت یافتہ گروہ میں سے نہ ہوں گا۔ اس میں درپردہ تنبیہ ہے کہ تم ہدایت یافتہ گروہ میں شامل نہیں ہو۔
Ayah 6:57قل انی علی بینۃ من ربی آپ کہہ دیجئے کہ میرے پاس تو ایک دلیل ہے میرے رب کی طرف سے۔
مِنْ بَیَّنَۃٍکی مِنْ رَبّیصفت ہے یعنی وہ دلیل جو میرے رب کی طرف سے مجھے ملی۔ یا من ربی بینۃ کا صلہ ہے یعنی اپنے رب کی معرفت اور اس بات کا علم کہ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے۔
سابق آیت میں اس (خواہش نفس) کا اظہار تھا جس کا اتباع ناجائز ہے اس آیت میں اس شے کا بیان ہے جس کا اتباع لازم ہے یعنی دلیل و بصیرت۔
وکذبتم بہ اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔ بہکی ضمیر بینۃ کی طرف راجع ہے کیونکہ (بینۃ کا لفظ اگرچہ مؤنث ہے لیکن) معنوی اعتبار سے یہ مذکر ہے یعنی برہان۔ یا رب کی طرف راجع ہے یعنی تم میرے رب کی تکذیب کرتے ہو دوسروں کو (عبادت میں) اس کا شریک بناتے ہو۔
ما عندی ما تستعجلون بہ جس چیز کے جلد آنے کی تم درخواست کر رہے ہو وہ میرے پاس نہیں۔
ماتستعجلون بہ سے مراد عذاب ہے کیونکہ کافر کہتے تھے ان کان ہذا ہوا الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء او ائتنا بعذاب الیمیا قیامت مراد ہے اللہ نے فرمایا ہے یستعجل بہا الذین لا یؤمنون بما۔
ان الحکم الا للہ (عذاب میں تعجیل یا تاخیر اور قیامت کو لانے کے متعلق حکم بس اللہ کے ہی اختیار میں ہے۔
ویقص الحق اللہ واقعی بات بتادیتا ہے۔ یقصکا معنی ہے وہ بیان کرتا ہے فرماتا ہے تفصیل کرتا ہے لیکن اگر اس لفظ کو قص اثرہ (اس کے نشان قدم پر چلا) سے ماخوذ قرار دیا جائے تو ترجمہ یہ ہوگا وہ حق کے ساتھ ہے حق کے پیچھے ہے۔
وہو خیر الفاضلین وہی سب سے اچھا حاکم (اور حکم کو) ظاہر کرنے والا ہے۔
Ayah 6:58قل لو ان عندی ما تستجعلون بہ اے محمد ﷺ ۔ آپ کہہ دیجئے کہ بالفرض اگر میری قدرت میں وہ عذاب اور قیامت کو لانا جس کی تم جلدی مچا رہے ہو ہوتا۔
لقضی الامر بینی وبینکم تو میرا اور تمہارا قصہ فیصل ہوچکا ہوتا۔
یعنی عذاب آ چکتا اور تم ہلاک ہو چکتے اور میرا تمہارا جھگڑا ہی نمٹ جاتا یا یہ مطلب ہے کہ آج ہی قیامت بپا ہوجاتی ‘ حق و باطل کا فیصلہ ہوجاتا اور میرے تمہارے درمیانی جھگڑے کا فیصلہ جو قیامت میں ہونے والا ہے وہ آج ہی طے ہوجاتا۔ اللہ نے فرمایا ہے (ثُمَّ اِلَیْہِ مَرْجِعْکُمْ ثُمَّ یَحْکُمْ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ ) ۔
اس آیت میں باہمی جھگڑا چکانے کا مبہم طور پر ذکر کردیا گیا ہے لیکن تعیین کے ساتھ یہ نہیں بتایا کہ عذاب میں مبتلا کون فریق ہوگا اس کی توضیح کے لئے آگے فرمایا۔
واللہ اعلم بالظلمین اور اللہ ظالموں (بےجا حرکات کرنے والے ناحق کو شوں یعنی کافروں) کو خوب جانتا ہے پس انہی کو اپنی حکمت کے زیر اقتضاء تباہ کرے گا۔
Ayah 6:59وعندہ مفاتح الغیب اور غیب کے خزانے (یا کنجیاں) اللہ ہی قبضہ میں ہیں۔ عَنَدَہٗکی تقدیم مفید حصر ہے (یعنی اسی کے قبضہ میں ہیں کسی دوسرے کے اختیار میں نہیں ہیں) مفاتح جمع ہے اس کا واحد مَفْتَح (بفتح میم) ہے جس کا معنی ہے خزانہ۔ یا مفتح (بکسر میم) واحد ہے جس کا معنی ہے بند چیز کو کھولنے کا آلہ یعنی کنجی۔ مفاتح الغیب سے مراد ہے علم خداوندی جو ہر معلوم چیز تک پہنچنے (اور اس کی حقیقت کو پانے) کا ذریعہ ہے اور قبضہ میں ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس کا علم ہر غیبی چیز کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے گویا وہ غیبی چیز اس کے پاس موجود ہے۔
غیب وہ چیز ہے جو ابھی تک عالم وجود میں نہیں آئی جیسے قیامت کے احوال ‘ بارش ہونا نہ ہونا اور کب ہونا۔ آدمی کا کل کو کیا کام کرنا ‘ کس جگہ (اور کب) مرنا۔ یہ سب امور اسی قسم کے غیب میں داخل ہیں۔ غیب وہ چیز بھی ہے جو موجود تو ہوگئی مگر اللہ نے کسی کو اس سے واقف نہیں بنایا جیسے شکم مادر میں کیا ہے (نر یا مادہ) آیت میں دونوں طرح کا غیب مراد ہے۔
بغوی (رح) نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مفاتح الغیبپانچ چیزیں ہیں جن کو سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا ‘ سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا کہ رحم مادر کے اندر کیا ہے ‘ سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کرے گا ‘ سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب ہوگی۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس سرزمین میں مرے گا اور سوائے اللہ کے کوئی واقف نہیں کہ قیامت کب بپا ہوگی۔ امام احمد (رح) اور بخاری کی روایت بھی اسی طرح ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حضرت جبرئیل کے سوال کے سلسلہ میں آیا ہے کہ حضور نے فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا یعنی قیامت (پانچ غیبی امور میں سے) اس کے بعد حضور نے تلاوت فرمائی : ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث۔
میں کہتا ہوں کہ خزائن غیب انہی پانچ چیزوں میں محدود نہیں ہیں بلکہ جو چیز اب تک موجود نہیں ہوئی یا موجود ہوگئی۔ مگر اللہ نے اس کا اظہار کسی پر نہیں کیا وہ خزائن غیب میں داخل ہے۔ ضحاک نے کہا مفاتح الغیب زمین کے خزانے ہیں اور نزول عذاب کا علم ہے۔ عطاء نے کہا مفاتح الغیبوہ ثواب و عذاب ہے جو تم سے پوشیدہ ہے۔ مفاتح الغیب کے متعلق بعض اقوال دوسرے پر بھی آئے ہیں جیسے زندگی کی مدت کب ختم ہوگی آدمی سعید ہے یا شقی آدمی کا خاتمہ کس حالت پر ہوگا (وغیرہ) ہم نے جو تصریح کردی اس کی بناء پر ان تمام اقوال میں کوئی تعارض نہیں ہے۔
لا یعلمہا الا ہو ان کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اوپر مفاتح الغیب کو اللہ کے لئے محدود کیا گیا تھا۔ مگر ابہاماً آیت میں اس حصر کی صراحت کردی گئی۔ ھَا کی ضمیر مغیبات کی طرف راجع ہے یعنی اللہ کے سوا ان غیبی امور کا علم کسی کو نہیں۔ وہی ان کے اوقات اور دیر میں یا جلدی آنے سے واقف ہے اور اس کی حکمت سے بھی وہی واقف ہے ہاں اگر اللہ خود ہی کسی کو ان چیزوں کا کچھ علم عطا فرما دے تو دوسرا جان سکتا ہے آیت دلالت کر رہی ہے کہ اللہ تمام چیزوں کو ان کے وجود سے پہلے ہی جانتا ہے۔
و یعلم ما فی البر والبحر اور جو کچھ خشکی اور سمندر میں ہے اللہ اس سے واقف ہے یعنی خشکی میں نباتات اور حیوانات وغیرہ اور سمندر میں حیوانات اور موتی مونگا وغیرہ جو کچھ ہے سب سے اللہ ہی واقف ہے۔
آیت بالا میں مغیبات کا ذکر تھا اس آیت میں موجود محسوسات کا بیان ہے مطلب یہ ہے کہ دونوں قسم کی مخلوق اللہ کے علمی احاطہ کے اندر ہے۔
وما تسقط من ورقب الا یعلمہا اور نہیں گرتی کوئی پتی مگر اللہ اس کو جانتا ہے۔
مَانفی کے لئے ہے اور مناستغراق کے لئے۔ اس آیت میں پُر زور طور پر بیان فرمایا کہ ہر جزئی کو اللہ کا علم محیط ہے مطلب یہ ہے کہ درختوں کی تمام پتیوں کی پوری تعداد اور نیچے گرنے سے پہلے اور بعد کے تمام احوال و کیفیات کو اللہ جانتا ہے۔
ولا حبۃ فی ظلمت الارض ولا رطب ولا یابس الا فی کتب مبین اور کوئی حصہ زمین کی اندھیریوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر و خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا رطب (سے مراد ہے) پانی ‘ اور یابس (سے مراد ہے) صحرا۔ عطاء نے کہا نامی اور جامد مراد ہے بعض کے نزدیک زندہ اور مردہ مراد ہے۔ ولاحبۃ اور ولا رطب ولا یابسکا عطف ورقۃ پر ہے اور یہ سب نفی علم کے تحت مندرج ہیں گویا یوں مطلب ہوا کہ ہر پتی کو ہر دانہ کو اور ہر تر و خشک کو اللہ جانتا ہے اور اس صورت میں کتاب مبین سے مراد ہوگا اللہ کا علم اور الا فی کتاب مبین استثناء اوّل سے بدل کل ہوگا اور اگر کتاب مبین سے لوح محفوظ مراد ہوگی تو الا فی کتاب مبینبدل بعض ہوجائے گا۔ یا یوں کہا جائے گا کہ حبۃ کا عطف ورقۃ پر اور الا فی کتاب مبینکا عطف الا یعطمہا پر ہے فعل ایک ہی ہے اور دو معمولوں کا دو معمولوں پر عطف ہے۔
Ayah 6:60وہو الذی یتوفکم باللیل ویعلم ما جرحتم بالنہار ثم یبعثکم فیہ اور وہی ہے جو رات میں تمہاری روحوں کو (ایک گونہ) قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس کو جانتا ہے پھر دن میں تم کو جگا اٹھاتا ہے۔ توفیکا اصل (لغوی) معنی ہے کسی چیز کو پورے طور سے قبض کرلینا یا توفی سے بطور استعارہ موت مراد ہوتی ہے یہاں مراد نیند ہے کیونکہ نیند بھی ایک قسم کی وفات (موت) ہے جرحٌ ہاتھ پاؤں اور دوسرے اعضاء سے کوئی کام کرنا۔ آیت میں کام کرنے کا وقت دن کو اور سونے کا وقت رات کو قرار دیا کیونکہ عموماً دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے اس سے تخصیص لازم نہیں آتی کہ آدمی رات کو کام نہ کرسکے اور دن کو نہ سو سکے۔ پوری آیات میں کچھ تقدیم و تاخیر ہے اصل کلام یوں ہے ہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفَّاکُمْ باللَّیْلِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ بالنَّہَارِ وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْچونکہ اعضاء سے کام کرنے کی اہمیت زائد تھی اس لئے بیدار کر کے اٹھانے سے پہلے اس کا ذکر کیا۔
لیقضی اجل مسمی تاکہ میعاد معین تمام کردی جائے۔ یعنی موت آنے کی میعاد معین۔ شکم مادر میں جب بچہ ہوتا ہے اسی وقت میعاد موت مقرر کردی جاتی ہے بلکہ ازل میں ہی اس کی تعیین کردی گئی ہے۔
ثم الیہ پھر اس کی طرف یعنی اس کے فیصلہ کی طرف۔
مرجعکم تم سب کی (مرنے کے بعد) واپسی ہے۔
ثم ینئبکم بما کنتم تعملون پھر (قیامت کے دن حساب کے وقت) تم کو ان اعمال پر آگاہ کرے گا جو تم کرتے تھے اور ان اعمال کا بدلہ دے گا۔ سابق آیت میں علم کی ہمہ گیری پر تنبیہ کی گئی تھی اور اس آیت میں کمال قدرت کو ظاہر کیا گیا ہے۔ نیند موت کی بہن ہے سونے کے بعد اٹھانے سے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل کی جانب اشارہ ہے۔