6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 6:121

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے

ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ . اور جس پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس میں سے نہ کھاؤ۔ اس آیت کے عموم سے امام احمد نے استدلال کیا ہے کہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا بھول گیا ہو یا قصداً نہ لیا ہو دونوں صورتوں میں ایسے ذبیحہ کا کھانا حرام ہے۔ داؤد ‘ ابو ثور ‘ شعبی اور محمد بن سیرین کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک کے نزدیک آیت کے عموم میں وہ ذبیحہ داخل نہیں جس کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا بھول کر رہ گیا ہو اس کا ثبوت حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ہوتا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر ہم میں سے کوئی ذبح کرے اور اللہ کا نام لینا بھول جائے تو کیا حکم ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ کا نام ہر مسلمان کے منہ میں ہے (تلفظ کرے یا نہ کرے) رواہ الدارقطنی۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان اگر ذبح کرنے کے وقت بسم اللہ کہنی بھول جائے تو بعد کو بسم اللہ کہہ لے اور پھر کھالے۔ رواہ الدارقطنی۔ یہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ایک راوی مردان بن سالم ہے جس کے متعلق امام احمد نے کہا ہے کہ یہ ثقہ نہیں ہے اور نسائی و دارقطنی نے اس کو متروک کہا ہے رہی حضرت ابن عباس ؓ کی روایت تو اس میں معقل مجہول راوی ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول بھی امام مالک کی رائے کے موافق ہے لیکن آپ کے ضابطہ پر اخبار احاد کے ذریعہ سے نص قرآنی کے عموم کی تخصیص درست نہیں (اس لئے حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کردہ حدیثوں کی وجہ سے آیت مذکورہ کے عموم کو مخصوص البعض نہیں قرار دیا جاسکتا) صاحب ہدایہ نے حنفیہ کے قول کی تائید میں لکھا ہے کہ اگر آیت کے حکم کو عام قرار دیا جائے گا تو بھول کر بسم اللہ ترک کرنے والے کے لئے بھی غیر معمولی دشواری ہوجائے گی اور دشواری بہرحال قابل ازالہ ہے انسان کثیر النسیان ہے بھول ہی جاتا ہے اگر آیت کا وہی معنی ہو جو ظاہر کلام سے سمجھا جا رہا ہے تو جھگڑا پڑجائے گا اور اختلاف رونما ہوجائے گا بلکہ قرن اول میں سب ہی اس حکم کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے ‘ کوئی اختلاف ہی نہ ہوتا (کہ اب اختلاف کی نوبت آتی) صاحب ہدایہ کی یہ دلیل نہایت کمزور ہے۔ امام شافعی کے نزدیک مالم یذکر اسم اللہ علیہ : سے مراد ہے مردار اور وہ ذبیحہ جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو کیونکہ آگے آیا ہے۔ وانہ لفسق . اور بلاشبہ یہ امر بےحکمی ہے اور فسق اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کے نام ذکر کرنے میں ہوتا ہے۔ اسی سورت کے آخر میں آیا ہے او فسقا اہل لغیر اللہ بہ۔ اگر قصداً ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو تب بھی امام شافعی کے نزدیک ذبیحہ حلال ہے حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے شرک کا زمانہ ابھی گزرا ہے (حال ہی میں مسلمان ہوئے ہیں) وہ لوگ ہمارے سامنے کچھ گوشت لاتے ہیں معلوم نہیں ذبح کے وقت اللہ کا نام لیتے ہیں یا نہیں لیتے (ہم وہ گوشت کھائیں یا نہ کھائیں) حضور ﷺ نے فرمایا تم اللہ کا نام لے لیا کرو اور کھالیا کرو۔ رواہ البخاری۔ بغوی نے اس دلیل کی تشریح میں بیان کیا ہے کہ اگر ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا اباحت کے لئے ضرورت ہوتا تو بسم اللہ کہنے میں شک پیدا ہونا ہی کھانے کی ممانعت کے لئے کافی ہوتا جس طرح اگر ذبح کے متعلق شک ہو (کہ معلوم نہیں یہ ذبیحہ ہے یا نہیں) تو کھانا ممنوع ہے (اور سوال کرنے والوں نے اپنے شک کا اظہار کیا تھا اور عرض کیا تھا معلوم نہیں ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں۔ اس صورت میں یقیناً ممانعت ہونی چاہئے تھی لیکن حضور ﷺ نے ممانعت نہیں فرمائی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ زبان سے اللہ کا نام لینا اباحت کی شرط نہیں ہے) اس کے علاوہ صلت کی مرسل حدیث ہے جس کو ابو داؤد نے مراسیل میں ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان کا ذبیحہ حلال ہے اللہ کا نام لیا گیا ہو یا نہ لیا گیا ہو۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ صلت کی حدیث میں اللہ کا نام نہ لئے جانے سے مراد بھول جانا اور حضرت عائشہ ؓ والی حدیث ہمارے خلاف نہیں جاتی بلکہ ہماری تائید کرتی ہے کیونکہ سوال کرنے والے تو یہ جانتے تھے کہ ذبح کرنے والا مسلمان ہے شک ان کو اس بات میں تھا کہ اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ صحابہ ؓ کے نزدیک ذبیحہ کے حلال ہونے کی یہ شرط تھی کہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو اب رسول اللہ ﷺ نے جو کھانے کے جواز کا حکم دیا تو اس کی بنا مسلمانوں کی ظاہری حالت پر ہے ظاہر یہی تھا کہ مسلمان قصداً اللہ کا نام لینا ترک نہیں کرتا۔ جیسے کہ مسلمانوں کے بازار سے اگر گوشت خریدا گیا ہو تو اس کو کھانا حلال ہے ظاہر یہی ہے کہ مسلمان کا ذبیحہ ہوگا اگرچہ اس کا بھی احتمال ہے کہ مجوسی کا ذبح کیا ہوا ہو۔ رہا شافعی کا یہ قول کہ ما لم اسم اللہ علیہ : سے مراد مردار اور وہ ذبیحہ ہے جو دوسرے کے نام پر ذبح کیا گیا ہو یہ الفاظ کے عموم کے خلاف ہے اور اعتبار الفاظ کے عموم ہی کا ہوتا ہے۔ ذبح اور شکار کی بحث میں ہر قرآنی نص اور حدیث میں اللہ کے نام کا ذکر ضرور آیا ہے سورة مائدہ کی تفسیر میں اس مبحث اور دوسرے مسائل ذبح کی تفصیل گزر چکی ہے۔ شرح المقدمۃ المالکیہ میں آیا ہے کہ بروایت ابوالقاسم امام مالک (رح) کے نزدیک وہ ذبیحہ کھانا درست ہے جس کے ذبح کے وقت قصداً اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو لیکن امام مالک (رح) کی مدونہ فقہ میں اس کی اجازت نہیں ہے اور امام مالک کا مشہور قول بھی یہی ہے کہ ترک قسمیہ اگر قصداً ہو تو ذبیحہ نہ کھایا جائے۔ ابن الحارث اور ابن البشیر نے کہا تارک التسمیہ کے ذبیحہ میں یہ اختلاف اس وقت ہے جب تارک التسمیہ متہاون (اللہ کے نام لینے کی پروا نہ کرنے والا) نہ ہو متہاون کا ذبیحہ تو باتفاق آراء حرام ہے متہاون وہ شخص ہے جو بار بار ترک تسمیہ کرتا ہو۔ واللہ اعلم۔ طبرانی وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ جب آیت ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ : نازل ہوئی تو فارس والوں نے قریش کے پاس پیام بھیجا محمد ﷺ سے مناظرہ کرو اور پوچھو کہ (تمہارے نزدیک) جو چھری سے ذبح کیا گیا ہو تو وہ حلال ہے اور جو خود مرا ہو حرام ہے ‘ ابو داؤد اور حاکم نے بھی یہ روایت نقل کی ہے مگر اس میں یہ قول فارس والوں کا نہیں بلکہ کافروں کا قرار دیا ہے اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔ وان الشیطین لیوحون الی اولیۂم لیجادلوکم وان اطعتموہم انکم لمشرکون . اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کو تعلیم کر رہے ہیں کہ وہ تم سے (بےکار) جدال کریں اور اگر (عقائد و اعمال میں) تم ان کی اطاعت کرنے لگو تو بلاشبہ تم مشرک ہوجاؤ۔ شیاطین : سے مراد ہیں ملک فارس کے شیطان آدمی یا شیاطین جن۔ وحی کرنے سے مراد ہے ‘ دل میں ڈالنا یا وسوسہ پیدا کرنا۔ اولیاء سے مراد ہیں کفار قریش یا عام کافر۔ اطاعت سے مراد ہے حرام کو حلال سمجھنا۔ مشرک ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جو اللہ کی طاعت ترک کر دے اور دینی اسعد میں دوسروں کے کہنے پر چلے اور ان کا اتباع کرے تو یقیناوہ مشرک ہوجائے گا (کیونکہ اللہ کو چھوڑ کر دینی مطاع اس نے دوسروں کو مانا ) زجاج نے کہا اس آیت میں اس امر کی دلیل ہے کہ جس نے اللہ کے حرام کو حلال یا اللہ کے حلال کو حرام قرار دیا وہ مشرک ہے۔ میں کہتا ہوں اس کی شرط یہ ہے کہ اس کی حلت اور حرمت قطعی دلیل (یعنی عبارت قرآنی) سے ثابت ہو۔
Ayah 6:122

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کر دی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی نہ سکے اسی طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انہیں اچھے معلوم ہوتے ہیں

او من کان میتا فاحیینہ وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس کمن مثلہ فی الظلمت لیس بخارج منہا . ایسا شخص جو کہ پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ بنا دیا اور ہم نے اس کو روشنی عطا کردی جس کو لئے ہوئے وہ آدمیوں میں چلتا پھرتا ہے کیا اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کی حالت یہ ہو کہ وہ تاریکیوں میں (پھنسا ہوا) ہو ان سے نکلنے ہی نہیں پاتا۔ یہ استعارہ تمثیلیہ ہے مردہ سے مراد ہے کافر جس کا دل حق سے غافل ہوتا ہے اور مردہ کی طرح اس کو فائدہ بخش اور ضرر رساں چیزوں میں امتیاز نہیں ہوتا۔ زندہ کرنے سے مراد ہے نور ایمان سے دل کو زندہ کردینا۔ نور سے مراد ہے مومن کی وہ فطری دانائی جس کی وجہ سے اس کو حق و باطل کی شناخت ہوجاتی ہے یعنی نور فطرت کے ساتھ وہ اس راستہ پر چلتا ہے جو عقل سلیم طبع درست اور شریعت الٰہیہ کے تقاضوں کے موافق ہوتا ہے۔ مثل : سے مراد ہے حالت مطلب کا خلاصہ یہ ہے کہ مؤمن کافر کی طرح نہیں ہوسکتا (ایک روشنی کا حامل ہے دوسرا اندھیریوں میں پھنسا ہوا۔ ایک کی راہ زندگی عقل و شرع کی بتائی ہوئی ہے دوسرے کی راہ غیر عقلی اور غیر شرعی۔ ایک کا دل زندہ ہے دوسرے کا مردہ) ابوالشیخ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت عمر بن الخطاب ؓ اور ابوجہل کے حق میں ہوا۔ ابن جریر نے ضحاک کی روایت سے بھی ایسا ہی نقل کیا ہے۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ آیت میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب اور ابوجہل مراد ہیں۔ واقعہ یہ ہوا تھا کہ ابوجہل نے رسول اللہ ﷺ کے اوپر (اونٹ کا) اوجھ ڈال دیا تھا۔ حضرت حمزہ ؓ شکار سے لوٹ رہے تھے کہ ابوجہل کی اس حرکت کی اطلاع آپ کو ملی آپ کے ہاتھ میں اس وقت کمان تھی۔ یہ قصہ حضرت حمزہ کے مسلمان ہونے سے پہلے کا ہے آپ غصہ میں بھرے ہوئے کمان لے کر ابوجہل کے پاس پہنچے ابوجہل عاجزی کے ساتھ کہنے لگے ابو یعلی دیکھئے تو محمد ﷺ کیا پیش کر رہے ہیں یہ تو ہماری عقلوں کو بیوقوف بناتے ہمارے معبودوں کو گالیاں دیتے اور ہمارے اسلاف کی مخالفت کرتے ہیں۔ حضرت حمزہ نے فرمایا تم سے زیادہ احمق اور کون ہوگا اللہ کو چھوڑ کر پتھروں کی پوجا کرتے ہو ‘ میں اقرار کرتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور پیغام رساں ہیں۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ عکرمہ اور کلبی نے مورد نزول حضرت عمار ؓ بن یاسر اور ابوجہل کو قرار دیا ہے۔ (1) [ زید بن اسلم کی روایت ہے کہ آیت کا نزول حضرت عمر بن خطاب اور ابو جہل کے حق میں ہوا، حسن بصری اور ابو سنان کی روایات بھی اسی طرح ہیں ] ان تینوں روایات کا اس امر پر اتفاق ہے کہ مثلہ فی الظلمت : سے مراد ابوجہل ہے اور اس کے مقابل من احییناہ : سے مراد باختلاف روایت تینوں حضرات میں سے کوئی ایک ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ ان تینوں حضرات کے مسلمان ہونے کا زمانہ کچھ زیادہ فصل سے نہ تھا قریب ہی وقت میں ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا مسلمان ہوا تھا اسی زمانہ میں اس آیت کا نزول ہوا اور الفاظ میں عموم ہے اس لئے ہر ایک کو مورد نزول قرار دیا جاسکتا ہے۔ آیت میں ابوجہل کے اس خیال کی تردید ہے کہ مسلمان چونکہ اپنے (سابق) معبودوں کو گالیاں دیتے اور اپنے باپ دادا کی مخالفت کرتے اس لئے میں ان سے افضل ہوں۔ رفتار بیان کا تقاضا ہے کہ کافروں کے افضل ہونے کی نفی کی جاتی لیکن آیت میں مومن و کافر کی مساوات کی نفی کی گئی اس سے کافروں کی افضلیت کی پُر زور طور پر نفی ہوگئی اور دونوں کے برابر ہونے کی طرف گمان بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آیت میں مساوات کی نفی اس طور پر کی جس سے مومن کا افضل ہونا ثابت ہو رہا ہے بلکہ مومن کے کمالات کی خصوصیت اور کافروں کے اندر اس خصوصیت کا فقدان بدلالت مطابقی اشارہ النص ہے اور افضلیت کفار کی نفی بدلالت التزامی عبارت النص ہے۔ کذلک زین للکافرین ما کانوا یعملون .(جس طرح ابوجہل کے لئے اس کی بداعمالی دل پسند بنا دی گئی کہ وہ اپنے کو مسلمانوں سے افضل جاننے لگا) اسی طرح کافروں کے لئے ہم نے ان کی تمام بداعمالیاں دل پسند بنا دیں۔
Ayah 6:123

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کئے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہیں کو ہے اور (اس سے) بےخبر ہیں

وکذلک جعلنا فی کل قریۃ اکابر مجرمیہا لیمکروا فیہا . اور (جس طرح ہم نے مکہ میں بڑے لوگوں کو مجرم بنا دیا) اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے رئیسوں کو ہی جرائم کا مرتکب بنایا تاکہ وہ لوگ وہاں شرارتیں کیا کریں۔ جعلنا : کا ترجمہ اگر بنا دیا کیا جائے تو اس کے دو مفعول ہوں گے ایک فی قریۃ : اور دوسرا اکابر اور مجرمیہا : اکابر سے بدل ہوگا۔ یا اکابر مفعول دویم اور مجرمیہا مفعول اول ہوگا یا اکابر مجرمیہا بصورت اضافت ایک مفعول ہوگا اور فی قریۃ : دوسرا مفعول۔ اور اگر جعلنا : کا ترجمہ کیا جائے ہم نے جما دیا ہم نے طاقت عطا کی تو اکابر مجرمیہا : بصورت اضافت اس کا مفعول ہوگا۔ اگر صیغۂ اسم تفضیل مضاف ہو اور مضاف الیہ جمع ہو تو مضاف کو واحد لانا بھی درست ہے اور جمع لانا بھی (آیت میں) اکابر بصیغۂ جمع ہی آیا ہے) بڑے لوگوں کے پیچھے چونکہ چھوٹے لوگ لگ جاتے ہیں اور بڑے لوگ چھوٹے لوگوں کو اپنا تابع بنانے کی طاقت رکھتے ہیں اس لئے اکابر کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا۔ اللہ کا ضابطہ ہی یہ ہے کہ شروع پیغمبروں کا اتباع چھوٹے لوگ کرتے اور بڑے لوگ سرکشی کرتے ہیں۔ مکر : کا معنی ہے دھوکہ فریب (قاموس) صحاح میں ہے کہ مکر کا معنی ہے تدبیر کے ساتھ کسی کو اس کے مقصد سے پھیر دینا (یا پھیر دینے کی کوشش کرنا) قریش کے مکر کی صورت یہ تھی کہ انہوں نے مکہ کے چہار طرف کے راستوں پر ایک ایک آدمی بٹھا رکھا تھا کہ جو لوگ مسلمان ہونے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آنا چاہیں ان کو راستے ہی سے لوٹا دے۔ خدمت گرامی میں پہنچنے نہ دے اور یہ کہے کہ یہ شخص تو کاہن اور جھوٹا جادوگر ہے۔ وما یمکرون الا بانفسہم . اور وہ صرف اپنے ہی ساتھ شرارت کرتے تھے کیونکہ اس فریب کا نتیجۂ بد انہی پر پڑتا تھا۔ وما یشعرون . اور ان کو ذرا خبر نہ تھی۔ بغوی نے قتادہ کا بیان نقل کیا ہے کہ ابوجہل نے کہا عبدمناف کی اولاد نے شرف میں ہم سے مقابلہ کیا یہاں تک کہ جب ریس کے دو گھوڑوں کی طرح (مقابلہ پر) دوڑنے لگے تو انہوں نے (اپنی برتری ظاہر کرنے کے لئے) کہا کہ ہم میں ایک نبی ہے جس کے پاس وحی آتی ہے۔ خدا کی قسم ہم تو اس کو نہیں مانیں گے اور نہ کبھی اس کے تابع بن کر رہیں گے ہاں اگر ہمارے پاس بھی اسی طرح وحی آجائے جس طرح اس کے پاس آتی ہے تو خیر (مان لیں گے) ایک روایت میں آیا ہے کہ ولید بن مغیرہ نے کہا اگر نبوت واقعی کوئی ضروری چیز ہے تو میں تجھ سے نبوت کا زیادہ حق دار ہوں عمر میں بھی زیادہ ہوں اور مال میں بھی۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 6:124

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذابِ شدید ہوگا اس لیے کہ مکّاریاں کرتے تھے

واذا جآء تہم ایۃ قالوا لن نومن حتی نوتی مثل ما اوتی رسل اللہ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ . اور جب ان کو کوئی آیت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز یقین نہیں کریں گے جب تک ہم کو بھی ایسی ہی چیزنہ دی جائے۔ جیسی اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے جہاں اللہ اپنی پیغمبری رکھتا ہے اس کو وہی خوب جانتا ہے ‘ اللہ اعلم کے جملہ سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ نسب یا مال یا عمر کی وجہ سے نبوت کا استحقاق نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ کا فضل ہے وہی خوب جانتا ہے کہ کون نبوت کا اہل ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی نے لکھا ہے کہ تعین نبوت کا مبداء محض صفت الٰہی ہے جس میں پَر تو (اور ظللیت) کی کوئی آمیزش ہی نہیں ہے باقی انسانوں کے (مؤمن کافر اور نیک بد ہونے کے) مبادی اللہ کے اسماء وصفات کے پَر تو ہیں (یعنی نبوت کا سرچشمہ براہ راست اور بالذات صفات خداوندی ہیں اور دوسری مخلوق کا مبدء تعین اور سرچشمہ براہ راست صفات نہیں بلکہ صفات کے پر تو اور ظلال ہیں) (1) [ حضرت ابن مسعود نے فرمایا کہ اللہ نے بندوں کے دلوں کو دیکھا اور محمد کے دل کو سب سے برتر پایا تو آپ کو اپنے لیے چن لیا اور اپنا پیغمبر بنا کر مبعوث فرمایا، پھر آپ کے بعد اور لوگوں کے دلوں پر نظر کی تو آپ کے صحابہ کے دلوں کو دوسروں کے دلوں سے بہتر پایاتو ان کو اپنے پیغمبر کے وزیر (مددگار) بنا دیا جو اللہ کے دین کے لیے جہاد کرتے ہیں۔ پس جس بات کو مومن اچھا جانتے ہیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے اور جس بات کو مومن برا جانتے ہیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے ] اللہ کی صفات اگرچہ واجب ہیں لیکن (ان کا وجوب بذات خود نہیں بلکہ) وہ واجب بالغیر ہے یعنی ذات الٰہی کے لئے ان کا وجوب ہے (اور ذات الٰہی واجب ہے لہٰذا اس کی صفات بھی واجب ہیں) پس وہ چونکہ ذات کی محتاج ہیں اسی اعتبار سے وہ ملائکہ اور انبیاء کے تعین کا مبدء ہیں اور یہی وجہ ہے کہ معصوم صرف انبیاء اور ملائکہ ہیں صفات اگرچہ ملائکہ اور انبیاء دونوں کے تعین کا مبدء ہیں لیکن مبدئیت کی دو حیثیتیں ہیں ایک بطونی دوسری ظہوری بطونی اعتبار سے ان صفات کا قیام اللہ کی ذات سے ہے اور اسی اعتبار سے وہ تعین ملائکہ کی مبدء ہیں اور ظہوری اعتبار سے وہ عالم کا سرچشمہ اور مصدر ہیں اس لحاظ سے وہ تعیین انبیاء کا مبدء ہیں اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ ملائکہ کی ولایت انبیاء کی ولایت سے زیادہ اونچی اوراقرب الی اللہ ہے مگر ملائکہ پر انبیاء کی فضیلت نبوت کی وجہ سے کیونکہ نبوت انسان کی خصوصیت ہے اور نبوت نام ہے خالص ذاتی جلوہ اندازی کے نتیجہ کا۔ خلاصۂ کلام یہ کہ نبوت اور رسالت کا استحقاق نسب مال یا عمر سے نہیں ہوسکتا اس کا مبدء تعین (اور موجب) تو صفات الٰہیہ ہیں۔ سیصیب الذین اجرموا صغار عند اللہ و عذاب شدید بما کانوا یمکرون . عنقریب ان لوگوں نے جنہوں نے یہ جرم کیا ہے اللہ کے پاس پہنچ کر ذلت پہنچی گی اور سخت سزا ان کی شرارتوں کے بدلے میں ملے گی۔ صغار : ذلت اور حقارت۔ عند اللہ : یعنی قیامت کے دن۔ بعض علماء کے نزدیک عند اللہ : اصل میں من عند اللہ : تھا (اللہ کی طرف سے) یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ عذاب شدید : دنیا میں قتل اور قید ہونا۔ جیسے بدر کی لڑائی کے دن ہوا۔ اور آخرت میں دوزخ میں جانا۔ بما کانوا : میں باء سببیہ ہے یعنی شرارتوں کی وجہ سے یا مقابلہ کی ہے یعنی شرارتوں کے بدلے میں۔
Ayah 6:125

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے اس طرح خدا ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے

فمن یرد اللہ ان یہدیہ یشرح صدرہ للاسلام . پس جس شخص کو اللہ راہ حق کی ہدایت کرنی چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے جب یہ آیت اتری تو رسول اللہ ﷺ سے شرح صدر کی تشریح دریافت کی گئی فرمایا مؤمن کے دل کے اندر اللہ ایک نور ڈال دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کا دل کشادہ اور وسیع ہوجاتا ہے میں کہتا ہوں مراد یہ ہے کہ معرفت حق کے لئے کھل جاتا ہے اور ایمان لے آتا ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا کیا اس کی کوئی علامت ہوتی ہے فرمایا ہاں غیر فانی گھر (آخرت) کی طرف میلان قلب ‘ اس فریب خانہ (دنیا) سے طبیعت کی دوری اور موت آنے سے پہلے موت کی تیاری یہ حدیث حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے حاکم نے مستدرک میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں لکھی ہے اور ابوجعفر کی روایت سے مرسلاً فریابی اور ابن جریر اور عبد بن حمید نے بھی ذکر کی ہے۔ صوفیہ کے نزدیک شرح صدر اس وقت ہوتا ہے جب نفس کو فنا کردیا جائے نفسانیت کا کوئی نشان بھی باقی نہ رہے اور ایسا اسی وقت ہوتا ہے جب ولایت کبری یعنی ولایت انبیاء میں تجلی صفات نمودار ہو اس وقت حقیقی ایمان حاصل ہوجاتا ہے۔ ومن یرد ان یضلہ یجعل صدرہ ضیقا حرجا کانما یصعد فی السمآء . اور جس کو وہ بےراہ رکھنا چاہتا ہے اس کے سینہ کو تنگ کردیتا ہے (اس کو ایسی دشواری معلوم ہوتی ہے) جیسے اس کو آسمان پر چڑھنا پڑ رہا ہو۔ سیبویہ نے کہا کہ حرج : بفتہ راء مصدر ہے بمعنی فاعلی اور صیغۂ صفت بھی اس کا معنی ہے بہت ہی تنگ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اس کے سینہ کو ایسا کردیتا ہے کہ اس کے اندر ایمان داخل ہی نہیں ہوسکتا حق کو قبول کرنا اس کیلئے سخت دشوار ہوتا ہے وہ حق کو ناممکن سمجھنے لگتا ہے۔ خیر کے داخل ہونے کا اس میں کوئی راستہ ہی نہیں ہوتا (کلبی) حضرت ابن عباس نے فرمایا اللہ کا ذکر سن کر اس میں انقباض ہوجاتا ہے اور بتوں کی پوجا کا تذکرہ سن لیتا ہے تو کھل جاتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے یہ آیت تلاوت فرما کر بنی کنانہ کے ایک اعرابی سے دریافت کیا حرجۃ : کا کیا معنی ہے اعرابی نے کہا ہماری بولی میں حرجۃ : اس درخت کو کہتے ہیں جو درختوں کے اتنا اندر ہو کہ وہاں تک نہ کوئی چرنے والا مویشی پہنچتا ہو نہ جنگلی چوپایہ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا منافق کا دل بھی ایسا ہی ہوتا ہے کوئی بھلائی اس تک نہیں پہنچ سکتی۔ آسمان پر چڑھنا یعنی ایسا کام کرنا جو طاقت سے باہر ہو انتہائی تنگدل ہونے کی تشبیہ اس شخص کی حالت سے دی ہے جو خارج از قدرت کام کر رہا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح آسمان پر چڑھنا عام طور پر ناممکن ہے اسی طرح ایمان کا اس کے دل میں داخل ہونا ناممکن ہوتا ہے بعض علماء نے اس تشبیہ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ وہ ایمان سے اتنی دور بھاگتا ہے جیسے کوئی شخص بھاگ کر آسمان پر چڑھ جائے (وجہ شبہ دور ہے) کذلک یجعل اللہ الرجس علی الذین لا یومنون .(جس طرح بےایمان کا سینہ تنگ اور دل ایمان سے دور ہوتا ہے) اسی طرح ایمان نہ لانے والوں پر اللہ پھٹکار ڈالتا ہے۔ رجس : سے مراد عذاب (عطاء) دنیا میں پھٹکار اور آخرت میں عذاب (زجاج) گناہ (کلبی) ایسی چیز جس میں کوئی بھلائی نہیں (مجاہد) شیطان (حضرت ابن عباس) یعنی شیطان کو مسلط کردیتا ہے علیہم : کی جگہ علی الذین لا یومنون : کہنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ ان کا ایمان نہ لانا پھٹکار کا سبب ہے۔ اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ معتزلہ کا قول غلط ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ معصیت کا ارادہ نہیں کرتا (کیونکہ گناہ شر ہے اور اللہ شر کا خالق نہیں)
Ayah 6:126

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا رستہ ہے جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں

وہذا صراط ربک مستقیما . اور یہ ہی (یعنی جس کو اللہ ہدایت کرنا چاہے اس کا سینہ ایمان کے لئے کھول دینا اور جس کو گمراہ رکھنا چاہے اس کے سینہ کو بہت تنگ کردینا) تیرے رب کا سیدھا راستہ ہے۔ رب کے راستہ سے مراد ہے وہ راستہ جو تقاضائے حکمت اور اللہ کے مقررہ ضابطہ کے مطابق ہے۔ بعض نے کہا یہ راستہ جس پر اے محمد ﷺ آپ چل رہے ہیں اور قرآن نے جس کو پیش کیا ہے یعنی اسلام آپ کے رب تک پہنچانے والا راستہ ہے ومستقیما : حال ہے اول الذکر تفسیر پر اس کا معنی ہوگا۔ معتدل ہموار اور مؤثر الذکر تفسیر پر اس کا معنی ہوگا سیدھا جس میں کوئی کجی نہ ہو۔ قد فصلنا الایت لقوم یذکرون . نصیحت پذیر لوگوں کے لئے ہم نے آیات صاف صاف بیان کردیں۔ قوم سے مراد اہل السنت والجماعت ہیں کیونکہ آیات قرآنیہ سے یہی جماعت نفع اندوز ہے جو عقیدہ رکھتی ہے کہ اللہ ہی قادر ہے کسی اور میں (حقیقی) قدرت نہیں عالم میں جو کچھ اچھا برا ہوتا ہے وہ اللہ کے ازلی فیصلہ کے مطابق اور اسی کے زیر تخلیق ہوتا ہے وہ بندوں کے احوال سے بخوبی واقف ہے اس کا ہر فعل پُر حکمت ہے وہ عادل ہے کسی کو مجال نہیں کہ اس پر اعتراض کرسکے۔
Ayah 6:127

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

ان کے لیے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا دوستدار ہے

لہم دارالسلام عند ربہم . ان (نصیحت پذیر) لوگوں کے لئے ان کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے۔ کیونکہ جنت تمام نامرغوب چیزوں سے محفوظ ہے یا دارالسلام ہے وہ گھر مراد ہے جہاں ان کا استقبال اور باہم ملاپ) سلام علیکم : سے ہوگا۔ یا سلام : اللہ کا نام ہے اللہ کا گھر ان کے لئے ہوگا۔ ظاہر ہے کہ جس گھر کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے وہ کیسا عظیم الشان ہوگا۔ عندربہم : سے مراد ہے اللہ کی ذمہ داری میں اللہ کے پاس موجود جس کی حقیقت سے اللہ کے سوا کوئی واقف نہیں۔ وہو ولیہم بما کانوا یعملون . اور ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ ان سے محبت رکھتا ہے۔ ولی سے مراد (یا محبت کرنے والا ہے جیسا کہ ترجمہ کیا گیا یا اس سے مراد) ہے تمام امور کا ذمہ دار کارساز دنیا میں توفیق ایمان و صلاح دے کر قبر میں منکر نکیر کے سوال کے وقت توحید پر قائم رکھ کر اور آخرت میں کامل ثواب اور مراتب قرب مرحمت فرما کر۔
Ayah 6:128

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور جس دن وہ سب (جنّ وانس) کو جمع کرے گا (اور فرمائے گا کہ) اے گروہ جنّات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے تو جو انسانوں میں ان کے دوستدار ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے

ویوم یحشرہم جمیعا یمعشر الجن قد استکثرتم من الانس . اور جس روز اللہ سب مخلوق کو جمع کرے گا (اور) فرمائے گا اے گروہ جنات تم نے انسانوں (کے گمراہ کرنے) میں بڑا حصہ لیا یہ مطلب ہے کہ تم نے بہت آدمیوں کو گمراہ کیا گمراہی میں اپنا تابع بنایا۔ وقال اولیۂم من الناس ربنا استمتع بعضنا ببعض وبلغنا اجلنا الذی اجلت لنا . اور جو انسان گمراہ کرنے والے جنات سے تعلق رکھنے والے تھے وہ (اقراراً ) کہیں گے اے ہماے رب ہم میں سے ایک نے دوسرے سے فائدہ حاصل کیا تھا اور ہم اپنی اس معین میعاد تک آپہنچے جو تو نے ہمارے لئے مقرر کی تھی۔ بعض نے بعض سے فائدہ اٹھایا کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں نے جنات سے کچھ افسوں جادو اور کہانت کی تعلیم حاصل کی اور جن جن امور و مقاصد کی تکمیل کی ان کو ضرورت تھی جنات نے ان کی خواہشات پوری کرنے اور مقصد تک پہنچانے میں ان کی اطاعت کی اور اپنی مرغوبات کو ان کے لئے دل پسند بنایا اور جب کہیں بیابان میں سنسان رات میں تنہا مسافر نے آواز دے کر کہا اعوذ بسید ہذا الوادی من سفہاء قومہ : میں قوم جنات کے شریروں سے اس وادی کے سردار کی پناہ کا خواستگار ہوں تو اس نے رات امن چین سے گزاری (یہ تو ہوا انسان کا جنات سے نفع اندوز ہونا) اور جنات کے انسانوں سے بہرہ اندوز ہونے کی صورت یہ ہوئی کہ انسانوں نے جنات کی پرستش کی گناہ اور گمراہی میں جنات کا اتباع کیا۔ اجلنا : سے مراد ہے روز قیامت۔ یہ قول اظہار ندامت و حسرت اور اعتراف گناہ پر دلالت کر رہا۔ قال النار مثواکم خلدین فیہا الا ما شآء اللہ . اللہ فرمائے گا تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہو گے مگر یہ کہ خدا ہی کو (کچھ اور) منطور ہو تو خیر الا ماشاء اللہ کا مطلب چند طرح سے بیان کیا گیا ہے۔ (1) مگر اتنی مہلت جو اللہ نے تم کو اپنی مشیت کے مطابق (دوزخ میں داخل ہونے اور قبروں سے اٹھنے کے بعد) دے دی اتنی مدت میں دوزخ تمہاری قیام گاہ نہیں ہوئی (2) مگر ان اوقات میں دوزخ تمہارا ٹھکانا نہ ہوگی جن اوقات میں آگ سے برفستان (زمہریر) کی طرف تم کو منتقل کیا جائے گا) (3) الا : بمعنی سویٰ کے ہے یعنی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے سوائے ان چند درچند عذابوں کے جو اللہ ان کے لئے چاہے گا۔ (4) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا آیت میں وہ قوم مستثنیٰ کی گئی ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ پہلے سے جانتا ہے کہ وہ مسلمان ہوجائیں گے اور دوزخ سے ان کو نکال دیا جائے گا اس مطلب پر ما شاء میں مَا بمعنی مَن : ہوگا۔ (1) [ شاید حضرت ابن عباس کی رماد یہ ہے کہ جن لوگوں کو پیغمبروں کی دعوت نہیں پہنچی لیکن اللہ جانتا تھا کہ اگر ان کو دعوت پہنچتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے تو ایسے لوگوں کو دوزخ سے (کبھی) نکال لیا جائے گا لیکن اگر اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ دعوت پہنچنے کے بعد بھی یہ لوگ ایمان نہ لائے تو ایسے لوگوں کو ہمیشہ دوزخ میں رکھا جائے گا ] ان ربک حکیم علیم . کوئی شک نہیں کہ آپ کا رب حکیم ہے جو کچھ اپنے دوستوں اور دشمنوں کے ساتھ کرتا ہے حکمت کے ساتھ کرتا ہے اور سب کے دلوں کی حالت سے واقف ہے وہ دلوں کے اندر کے ایمان و نفاق کو جانتا ہے اور تمام جن و انس کے احوال سے واقف ہے۔
Ayah 6:129

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں

وکذلک نولی بعض الظلمین بعضا بما کانوا یکسبون . اور (جس طرح ہم نے کفار جن و انس کو بےمدد چھوڑ دیا اور ایک کو دوسرے سے فائدہ اندوز ہونے کا موقع دیا) اسی طرح ہم بعض کافروں کو بعض کے قریب رکھیں گے ان کے اعمال کے سبب سے۔ نولی : کا ترجمہ علماء نے مختلف طور پر کیا ہے ہم بعض کو بعض کا دوست بنا دیتے ہیں مؤمن کا دوست مؤمن کو خیر پر ابھارتا اور نیکی میں اس کی مدد کرتا ہے اور کافر کا دوست کافر کو شر پر اکساتا اور شر میں اس کی مدد کرتا ہے (قتادہ) معمر کی روایت سے قتادہ کا قول اس طرح آیا ہے کہ ہم دوزخ کے اندر ایک کے پیچھے دوسرے کو (قطار در قطار) بھیجیں گے۔ نولی : کا لفظ موالات سے ماخوذ ہے اور موالات کا معنی ہے پے در پے چلنا (یا موالات کا معنی ہے ایک کا دوسرے سے متصل اور قریب ہونا اس وقت وہ ترجمہ ہوگا جو آیت کے بعد ہم نے ذکر کیا ہے اور یہی ترجمہ مولانا تھانوی رحمۃ اللہ نے بھی اختیار کیا ہے۔ مترجم) بعض نے کہا تولیت کا معنی ہے سپرد کرنا یعنی ہم بعض کافر انسانوں کو کافر جنات کے اور کافر جنات کو کافر انسانوں کے سپرد کردیتے ہیں۔ کلبی نے بروایت ابو صالح حضرت ابن عباس ؓ کا قول اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں اس طرح نقل کیا ہے کہ جب اللہ کسی قوم کی بھلائی چاہتا ہے تو نیک لوگوں کو ان کے امور کا حاکم بنا دیتا ہے اور اگر کسی قوم کی برائی چاہتا ہے تو بدوں کو ان کا حاکم بنا دیتا ہے اس قول کی روشنی میں آیت کا ترجمہ اس طرح ہوگا ہم بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کردیتے ہیں اور ظالم کے ذریعہ سے ظالم کی گرفت کرتے ہیں جیسے (بعض روایات میں) آیا ہے جو ظالم کی مدد کرتا ہے اللہ اس پر ظالم کو مسلط کردیتا ہے۔ کلبی کی اس تشریح کی تائید حضرت علی ؓ کے اس قول سے ہوتی ہے جو حاکم نے صعصہ بن صوحان کی روایت سے نقل کیا ہے کہ جب ابن ملجم کی ضرب سے حضرت علی ؓ کی شہادت کا وقت آیا اور لوگوں نے درخواست کی امیر المؤمنین کسی کو اپنی جگہ ہم پر خلیفہ بنا دیجئے تو آپ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ تمہارے اندر خیر دیکھے گا تو تمہارا حاکم نیکوں کو کر دے گا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا اللہ نے ہمارے اندر خیر دیکھی تھی تو ابوبکر ؓ کو حاکم بنا دیا تھا روایت میں آیا ہے کہ ظالم زمین پر اللہ کا قہر ہے ظالم کے ذریعہ سے اللہ لوگوں کو سزا دیتا ہے پھر اس ظالم کو سزا دیتا ہے۔
Ayah 6:130

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے جنّوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ان لوگوں کو دنیاکی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے

یمعشر الجن والانس الم یاتکم رسل منکم . اے گروہ جن و بشر کیا تمہارے پاس میرے پیغام رساں نہیں پہنچے جو تم میں سے ہی تھے۔ یہ مسئلہ اختلافی ہے کہ کیا جنات بھی پیغمبر ہوئے یا نہیں۔ ضحاک سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا ضرور ہوئے تھے دیکھو اللہ نے فرمایا ہے یمعشر الجن والانس الم یاتکم رسل منکم : یعنی انسانوں میں سے (انسان) اور جنات میں سے (جن) پیغمبر بنا کر کیا نہیں بھیجے گئے۔ کلبی کا قول ہے رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے جن و انس سب کی طرف پیغمبر بھیجے جاتے تھے یعنی مختلف پیغمبر مختلف اقوام و اطراف کے لئے تمام جن و انس کی طرف تو صرف رسول اللہ ﷺ کو بھیجا گیا (آپ سے پہلے کسی پیغمبر کی بعثت نہ تمام انسانوں کے لئے ہوئی نہ تمام جنات کے لئے) مجاہد نے کہا انسانوں میں تو پیغمبر ہوئے اور جنات میں صرف ڈرانے والے اللہ نے فرمایا ہے ولو الی قومہم منذرین : ڈرانے والوں سے مراد ہیں پیغمبروں کے قاصد کچھ جنات پیغمبروں کا کلام سن کر اپنی قوم والوں کو جا کر سناتے تھے پیغمبروں کے قاصد ہوتے تھے جنات پیغمبر نہیں ہوئے۔ اس قول پر منکم : کا خطاب صرف انسانوں کو ہوگا جیسے آیت یخرج منہا اللولو والمرجان : میں ہما : تثنیہ کی ضمیر ہے مگر مراد واحد ہے یعنی نمکین سمندر سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ دوسری آیت ہے وجعل القمر فیہن : اس میں ہن : کی ضمیر جمع ہے اور مراد ایک آسمان ہے کیونکہ چاند ایک ہی آسمان میں ہے۔ میں کہتا ہوں آیت سے یہ بات یقیناً معلوم ہو رہی ہے کہ جن ہوں یا انسان ہر فریق کی ہدایت کے لئے پیغمبروں کو بھیجا گیا۔ پیغمبر صرف انسان کو بنایا گیا یا جنات میں سے بھی بعض کو رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے ان کی قوم کی ہدایت کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا یہ دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں دیکھو اللہ نے فرمایا ہے لو کان فی الارض ملائکۃ یمشون مطمئنین لنزلنا علیہم من السمآء ملکا رسولا : یعنی اگر زمین پر فرشتوں کی بستی ہوتی تو آسمان سے ان کے لئے فرشتہ کو پیغمبر بنا کر بھیجا جاتا۔ اس آیت کے مفہوم کا تقاضا ہے کہ جنات کی ہدایت کے لئے جنات کو ہی پیغمبر بنا کر بھیجا گیا کیونکہ مرسل اور مرسل الیہ کے درمیان کامل مناسبت اور ربط طبعی ہونا چاہئے (اور یہ صرف اتحاد نوعی کی صورت میں ہوسکتا ہے) پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جنات اہل فہم و عقل ہیں آدم ( علیہ السلام) سے پہلے ان کی تخلیق ہوئی تھی اور ذی عقل ہونے کی وجہ سے ہی یہ اوامرو نواہی کے مکلف تھے اسی لئے فرمایا ہے لا ملئن جہنم من الجنۃ والناس : اب اگر ان میں سے کسی کو پیغمبر نہ بنایا گیا ہوتا تو ان کو عذاب بھی نہ دیا جاتا کیونکہ اللہ نے خود فرمایا ہے وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا : پس اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) سے پہلے جنات میں سے کچھ افراد اپنی قوم کے لئے پیغمبر تھے۔ ہندوستان کے ہندو جن کو اوتار کہتے ہیں اور تاریخ میں لاکھوں کروڑوں سال پہلے کی ہستیاں قرار دیتے ہیں شاید وہ بھی یہی جنات ہوں جن کو پر ماتما کی طرف سے جنات کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہو اور ممکن ہے کہ ایشور کی طرف سے جنات کے لئے کوئی دین دھرم اتارا گیا ہو اور پھر انسانوں نے بھی اس سے استفادہ کیا ہو کیونکہ ان انسانوں کی پیدائش کسی پری کے بطن سے ہوئی ہو۔ اس کے بعد اس مذہب کو منسوخ کردیا گیا ہو کیونکہ اصل دین کو شیطان نے اپنی بدعات و اختراعات کے ساتھ مخلوط کردیا ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل ہند کے اصول دین اکثر تو قرآن و سنت کے مطابق ہیں اور جہاں اختلاف ہے وہ شیطان کی کارستانی کا نتیجہ ہے۔ یقصون علیکم ایتی وینذورنکم لقآء یومکم ہذا . جو میری آیات یعنی کتابیں تم کو پڑھ کر سناتے تھے اور آج کے دن کی پیشی سے تم کو ڈراتے تھے یعنی قیامت کے دن کی پیشی سے۔ قالوا شہدنا علی انفسنا . وہ کہیں گے ہم اپنے خلاف شہادت دیتے ہیں۔ یعنی ہم شہادت دیتے ہیں کہ پیغمبروں نے ہم کو تیرا پیام پہنچا دیا تھا اور ہم نے ماننے سے انکار کیا تھا ‘ مقاتل کا قول ہے کہ کافر یہ شہادت اس وقت دیں گے جب ان کے ہاتھ پاؤں ان کے شرک و کفر کی شہادت دے چکے ہوں گے (اور سوائے اقرار کرنے کے ان کے لئے کوئی صورت نہ ہوگی) وغرتہم الحیوۃ الدنیا وشہدوا علی انفسہم انہم کانوا کافرین . اور ان کو دنیوی زندگانی نے فریب دے رکھا تھا اور ان کو اپنے خلاف (خود) شہادت دینی پڑی کہ وہ کافر تھے۔ اس آیت میں کافروں کی اس بات پر مذمت کی گئی ہے کہ دنیا میں انہوں نے (حق و باطل میں سے) اپنے لئے بری چیز کا انتخاب کیا اور بالآخر ایسی بات کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے جس نے ان کو دوزخ کا مستحق بنا دیا۔
Ayah 6:131

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

(اے محمدﷺ!) یہ (جو پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں تو) اس لیے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے رہنے والوں کو (کچھ بھی) خبر نہ ہو

ذلک ان لم یکن ربک مہلک القری بظلم واہلہا غفلون . اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ ظلم کے ساتھ بستیوں کو ایسی حالت میں تباہ نہیں کیا کرتا کہ ان کے رہنے والے بیخبر ہوں ذلک : سے بعثت انبیاء کی طرف اشارہ ہے اور اس سے حکم کی علت بیان کی گئی ہے۔ ان : مصدریہ ہے یعنی انبیاء کی بعثت کی علت اللہ کا مہلک بالظلم نہ ہونا ہے یا ان : مخففہ ہے اور اس کا اسم ضمیر شان محذوف ہے۔ مہلک القری : بستیوں کو یعنی بستیوں کے رہنے والوں کو ہلاک کرنے والا۔ غافلون : کا یہ مطلب ہے کہ کسی پیغمبر کو بھیج کر ان کو متنبہ نہ کیا گیا ہو۔ بظلم : یا حال ہے یعنی ظلم کے ساتھ اللہ بستیوں کو تباہ کرتا یا یہ مطلب ہے کہ بستی والوں کے ظلم کرنے کی وجہ سے اللہ بغیر پیغمبر بھیجے اور بغیر تنبیہ کئے ان کو ہلاک نہیں کرتا۔
Ayah 6:132

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور سب لوگوں کے بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بے خبر نہیں

ولکل درجت مما عملوا . ہر ایک کے لئے درجے ہیں ان کے اعمال کے سبب۔ یعنی اللہ کے قرب و بعد کے اعتبار سے ہر مکلف کا مرتبہ جدا جدا ہے۔ مما عملوا : اپنے اپنے اعمال کی وجہ سے کسی کو بہت بڑا ثواب اور مرتبۂ قرب نصیب ہوگا اور کوئی رحمت سے دور سخت ترین عذاب میں پڑا ہوگا۔ وما ربک بغافل عما یعملون . اور آپ کا رب ان کے اعمال سے لا علم نہیں ہے اس لئے ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ دے گا۔
Ayah 6:133

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بےپروا (اور) صاحب رحمت ہے اگر چاہے (تو اے بندوں) تمہیں نابود کر دے اور تمہارے بعد جن لوگوں کو چاہے تمہارا جانشین بنا دے جیسا تم کو بھی دوسرے لوگوں کی نسل سے پیدا کیا ہے

وربک الغنی . اور آپ کا رب بےنیاز ہے۔ بندوں کی عبادت سے ‘ بندوں کو اوامرو نواہی کا مکلف بنانے میں اس کی کوئی غرض نہیں بلکہ۔ ذوالرحمۃ . وہ (اپنی مخلوق پر) رحمت کرنے والا ہے مہربان ہے۔ بندوں کے منافع کی تکمیل کے لئے ہی اس نے پیغمبر بھیجے اور لوگوں کو اوامرو نواہی کا مکلف کیا۔ یہ بھی اسی کی رحمت ہے کہ گناہوں کے باوجود گناہگاروں کو ڈھیل دیتا رہتا ہے اور فوری گرفت نہیں کرتا لیکن ان یشایذہبکم (اے اہل مکہ) اگر وہ چاہے تو (تمہارے گناہوں کی پاداش میں) تم کو فنا کر دے تمہارے فنا ہونے سے اس کی کوئی غرض فوت نہیں ہوجائے گی۔ ویستخلف من بعدکم مایشآء . اور تمہارے بعد تمہاری جگہ جس کو چاہے پیدا کر دے جو تم سے زیادہ اس کا فرماں بردار ہو۔ کما انشاکم من ذریۃ قوم اخرین . جس طرح تم کو دوسری قوم کی نسل سے اس نے پیدا کیا۔ یعنی قرن در قرن لیکن اپنی مہربانی سے اس نے تم کو مہلت دی اور باقی رکھا۔
Ayah 6:134

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ (وقوع میں) آنے والا ہے اور تم (خدا کو) مغلوب نہیں کر سکتے

ان ما تو عدون لات . جس چیز کو تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ یقیناً آنے والی چیز ہے۔ یعنی حشر ونشر حساب وثواب عذاب ضرور ہوگا اس میں کوئی شک نہیں۔ وما انتم بمعجزین . اور تم عاجز نہیں کرسکتے۔ یعنی پکڑنے والے کو عاجز نہیں کرسکتے۔ تم جہاں بھی ہو گے وہ تم کو ضرور پکڑ لے گا۔
Ayah 6:135

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

کہہ دو کہ لوگو تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کئے جاتا ہوں عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا کہ آخرت میں (بہشت) کس کا گھر ہوگا کچھ شک نہیں کہ مشرک نجات نہیں پانے کے

قل یقوم اعملوا علی مکانتکم انی عامل فسوس تعلمون۔ من تکون لہ عاقبۃ الدار . آپ کہہ دیجئے اے میری قوم تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو میں بھی عمل کر رہا ہوں آئندہ جلد ہی تم کو معلوم ہوجائے گا کہ اس عالم کا انجام کار کس کے لئے نافع ہوگا۔ مکانۃ : یا مصدر ہے مکن مکانۃ : وہ جم گیا کسی چیز پر مسلط ہوگیا یعنی جتنی انتہائی طاقت رکھتے ہو اور جتنا ہو سکے کئے جاؤ۔ یا اسم ظرف ہے مجازاً حالت مراد ہے اگر کسی شخص کو حکم دیا جائے کہ وہ اپنی حالت پر قائم رہے تو کہا جاتا ہے علی مکانتک : (اپنی جگہ پر۔ اپنی حالت پر رہو) یعنی جس حالت پر تم ہو اسی پر رہتے ہوئے عمل کرو۔ دونوں صورتوں میں کلام کا مقصود تہدید و وعید ہے مراد یہ ہے کہ کفر و دشمنی کی حالت میں جمے رہو۔ انی عامل : سے یہ مراد ہے کہ میں اپنی حالت اسلام پر قائم اور اپنے رب کے حکم پر ثابت قدم رہ کر عمل کر رہا ہوں۔ انجام کار سے مراد ہے دوسرے عالم میں اچھا انجام اور من : موصولہ ہے یا استفہامیہ۔ یہ کلام مبنی بر انصاف ہے مگر تخویف آگیں اور اس میں درپردہ اس طرف اشارہ ہے کہ متقیوں کا انجام یقیناً اچھا ہوگا۔ انہ لا یفلح الظلمون . اس میں شبہ نہیں کہ ظالم (یعنی جو معبودیت کے قابل نہیں ان کی عبادت کرنے والے) فلاح یاب نہیں ہوں گے۔ بغوی نے لکھا ہے مشرکوں کا دستور تھا کہ اپنی کھیتیوں باغوں کے پھلوں مویشیوں کے بچوں اور تمام مالوں میں ایک حصہ اللہ کا اور ایک حصہ بتوں کا مقرر کرتے تھے خدا کا حصہ تو مہمانوں اور مسکینوں پر صرف کرتے تھے اور بتوں کا حصہ نوکروں چاکروں اور خدمت گاروں کے صرف میں لاتے تھے اور خدا کے حصہ میں سے اگر کچھ بتوں کے حصہ میں شامل ہوجاتا تو پروا نہیں کرتے تھے اور کہے تھے خدا محتاج نہیں اس کو اس کی کوئی ضرورت نہیں لیکن اگر بتوں کے حصہ میں سے کچھ خدا کے حصہ میں شامل ہوجاتا تو فوراً نکال کر بتوں کے حصہ میں ملا دیتے اور کہہ دیتے یہ حاجت مند ہیں پھر خدا کے حصہ کی اگر کوئی چیز تلف یا کم ہوجاتی تو ان کو پروا نہ بھی نہ ہوتی اور بتوں کے حصہ کی کوئی چیز تلف یا کم ہوجاتی تو فوراً اس کے عوض پوری کردیتے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 6:136

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا تو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جا سکتا اور جو حصہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جا سکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے

وجعلوا اللہ مما ذرا من الحرث والانعام نصیبا . اور اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور چوپایوں میں انہوں نے کچھ حصہ اللہ کا مقرر کیا اور کچھ حصہ اپنے (مفروضہ) معبودوں کا۔ چونکہ تقابل کی وجہ سے یہ آخری فقرہ ظاہر تھا اس لئے ذکر نہیں فرمایا۔ فقالوا ہذا للہ بزعمہم . اور بزعم خود کہتے ہیں یہ حصہ تو اللہ کا ہے یعنی اللہ نے ان کو حکم نہیں دیا اور نہ یہ تقسیم شریعت خداوندی میں آئی بلکہ محض ان کی خود ساختہ ہے۔ وہذا لشرکآئنا . اور یہ ہمارے شریکوں کا ہے (یعنی اللہ کی عبادت میں ہم جن کو شریک کرتے ہیں یہ ان کا حصہ ہے) فما کان لشرکآۂم فلا یصل الی اللہ وما کان للہ فہو یصل الی شرکآۂم . پھر جو چیز ان کے معبودوں (کے نام) کی ہوتی ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتی اور جو چیز اللہ (کے نام) کی ہوتی ہے وہ ان کے معبودوں کی طرف پہنچ جاتی ہے کیونکہ اللہ کے نام کی چیزوں میں سے معبودوں کے حصہ کو یہ پورا کردیتے ہیں اور معبودوں کے نام کی چیزوں میں سے اللہ کے نام کا حصہ پورا نہیں کرتے۔ قتادہ نے فرمایا جب کال پڑتا تھا تو مشرکین کچھ حصہ اللہ کا مقرر کر کے اس کو کھالیتے تھے اور جو حصہ بتوں کا مقرر کرتے تھے اس میں کچھ نہیں کھاتے تھے۔ سآء ما یحکمون . برا ہے ان کا یہ فیصلہ اور عاجز جمادات کو ان کا شریک قرار دینا جو تمام کھیتوں کا چوپایوں کا اور ساری مخلوق کا خالق ہے اور خالق عالم پر بےبس جماد کو ترجیح دینا۔
Ayah 6:137

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچوں کو جان سے مار ڈالنا اچھا کر دکھایا ہے تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کر دیں اور اگر خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ

وکذلک زین لکثیر من المشرکین قتل اولادہم شرکآۂم لیردوہم ولیبلبسو علیہم دینہم . اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے خیال میں ان کے معبودوں نے اپنی اولاد کے قتل کرنے کو مستحسن بنا رکھا ہے تاکہ وہ ان کو برباد کردیں اور ان کے مذہبی طریقہ کو مشتبہ کردیں۔ وکذلک : یہ مفعول محذوف کی صفت ہے یعنی جس طرح کھیتی اور چوپایوں کی تقسیم کو ان کے معبودوں نے ان کی نظر میں مستحسن بنا دیا ہے اسی طرح قتل اولاد کو بھی پسندیدہ فعل بنا دیا ہے۔ قتل اولاد سے مراد ہے لڑکیوں کو زندہ دفن کردینا اور دیوتاؤں کے نام پر بھینٹ چڑھانا۔ شرکاۂم : سے مجاہد کے نزدیک شیاطین مراد ہیں جنہوں نے مشرکوں کے لئے اس بات کو پسندیدہ فعل بنا دیا تھا کہ ناداری کے اندیشہ سے لڑکوں کو زندہ دفن کردیا۔ شیاطین کو شرکاء : اس لئے کہا کہ (اللہ کی طرح) انہوں نے اللہ کے حکم کے علاوہ شیطانوں کا حکم مانا۔ شرکاۂم : کہنے کی وجہ یہ ہے کہ بغیر کسی دلیل کے انہوں نے شیطانوں کو معبود مطاع بنا رکھا تھا۔ کلبی کے نزدیک شرکاء : سے مراد ہیں بتوں کے مجاور جو قتل اولاد کی ترغیب دیتے تھے اور انہی کی ترغیب سے لوگ منت مان لیتے تھے کہ اگر میرے اتنے لڑکے پیدا ہوگئے تو میں ان کو بھینٹ چڑھا دوں گا۔ شرکاء کی جانب تزئین قتل کی نسبت اس لئے کی کہ داعی اور سبب تزیین وہی تھے اگرچہ خود انہوں نے کچھ نہیں کیا تھا۔ لیردوہم : یعنی بہکا کر تباہ کردیں۔ ولیلبسوا علیہم دینہم : کا مطلب یہ ہے کہ اصل دین اسماعیل کو جس پر یہ پہلے تھے گڑبڑ اور مخلوط بنا دینا اس اغوا کا نتیجہ ہے گویا دینہم : سے مراد ہے دین اسماعیل۔ حضرت ابن عباس ؓ کا یہی قول ہے۔ یا دین سے مراد ہے وہ دین جس پر مشرکوں کو ہونا چاہئے تھا یعنی دین توحید۔ لیزدوا : اور لیلبسوا : میں لام علت کا ہے اور اگر شیاطین کو ان کا فاعل قرار دیا جائے اور اگر مجادروں کی طرف ضمیر راجع کی جائے تو لام عاقبت (نتیجۂ فعل) ہوگا۔ ولو شآء اللہ ما فعلوہ . اور اگر اللہ چاہتا کہ وہ اغواء اور دین میں خلط ملط یا قتل اولاد یا بتوں کی منت بھینٹ نہ کریں تو وہ ایسا نہ کرتے۔ فذرہم وما یفترون . اب آپ ان کو اور جو کچھ یہ باتیں غلط بنا رہے ہیں یونہی رہنے دیجئے۔ ما یفترون : میں ما موصولہ ہے یعنی افترا کردہ باتیں یا مصدریہ ہے یعنی افتراء کرنا۔
Ayah 6:138

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چارپائے اور کھیتی منع ہے اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چارپائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹ پر چڑھنا منع کر دیا گیا ہے اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے سب خدا پر جھوٹ ہے وہ عنقریب ان کو ان کے جھوٹ کا بدلہ دے گا

وقالوا ہذہ . اور یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ یعنی جو کھیتی اور چوپائے اللہ کے نام اور بتوں کے نام کے وہ کر رکھتے ہیں وہ انعام و حرث حجر . ممنوع چوپائے اور ممنوع کھیت ہیں یعنی حرام ہیں۔ حجر : مصدر ہے اس کا اطلاق واحد جمع اور مذکر مونث سب پر یکساں ہوتا ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ انعام سے مراد ہیں بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام۔ لا یطعمہا الا من نشآء بزعمہم . جن کو ان کے گمان کے مطابق سوائے اس کے جس کو وہ چاہیں اور کوئی نہیں کھا سکتا۔ یعنی عورتیں نہیں کھا سکتیں صرف مرد اور بتوں کے مجاور کھا سکتے ہیں۔ بزعمہم : سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے خیال سے بغیر کسی دلیل کے حرمت حلت بناتے ہیں۔ وانعام حرمت ظہورہا . اور مخصوص چوپائے ہیں جن پر سواری اور باربرداری حرام کردی گئی ہے ان چوپایوں سے مراد ہیں بحیرہ سائبہ اور حامی۔ وانعام لا یذکرون اسم اللہ علیہا . اور کچھ مخصوص مواشی ہیں جن پر وہ اللہ کا نام نہیں لیتے یعنی ذبح کے وقت اللہ کا نام نہیں لیتے بلکہ بتوں کے نام لے کر ذبح کرتے ہیں۔ ابو وائل نے کہا اللہ کا نام ذکر کرنے سے مراد نیک عمل ہے کیونکہ عام دستور تھا کہ ہر نیک عمل اللہ کا نام لے کر شروع کیا جاتا تھا۔ اس صورت میں آیات کا مطلب اس طرح ہوگا وہ ان چوپایوں پر سوار ہو کر حج کے لئے نہیں جائیں گے اور نہ کوئی نیک عمل کرنے کے لئے ان پر سوار ہوں گے۔ افترآء علیہ .(ایسا) محض اللہ پر افتراء باندھنے کے طور پر کہتے ہیں افتراء : مفعول مطلق ہے یا حال اور علیہ : کا تعلق قالوا : سے ہے یا فعل محذوف سے یعنی یہ بات انہوں نے اللہ پر بطور افترا باندھی یا اللہ پر افتراء : کرتے ہوئے کہی۔ یا افتراء : مفعول لہ ہے یعنی علت قول ہے۔ سیجزیہم بما کانوا یفترون . عن قریب اللہ ان کو ان کی افترا بندی کی سزا دے گا۔ یعنی افتراء کے سبب سے (باء سببیہ) یا افتراء کے عوض (باء بدلیت کے لئے دونوں صورتوں میں مَا مصدری ہوگا)
Ayah 6:139

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے اور اگر وہ بچہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکوسلوں کی سزا دے گا بےشک وہ حکمت والا خبردار ہے

وقالوا ما فی بطون ہذہ الانعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازواجنا وان یکن میتۃ فہم فیہ شرکآء ہ . اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچے ان چوپایوں کے پیٹ کے اندر سے نکلتے ہیں وہ (اگر زندہ نکلیں تو) ہمارے مردوں کے لئے خالص ہیں اور عورتوں کے لئے حرام اور اگر مردہ نکلیں تو سب مرد عورتیں اس میں شریک ہیں (سب کے لئے حلال ہیں) یعنی بحیرہ اور سائبہ کے پیٹ کے اندر کے بچے اگر زندہ برآمد ہوں تو صرف مردوں کے لئے حلال ہیں عورتوں کے لئے حرام اور اگر مردہ برآمد ہوں تو مرد عورتیں سب اس کو کھا سکتے ہیں۔ ہذہ الانعام : سے مراد ہیں بحیرہ اور سائبہ۔ خالصۃً : بمعنی خالص جس میں کوئی آمیزش نہ ہو اس لفظ میں آخری تاء تاکید یا مبالغہ کی ہے (بالکل خالص) کسائی نے کہا خالص اور خالصۃ : کا ایک ہی معنی ہے (تاء نہ تاکید کی ہے نہ مبالغہ کی) جیسے وعظ اور موعظۃ : ہم معنی ہیں۔ فراء نے کہا تاء تانیث کی ہے کیونکہ انعام مونث ہیں ان کے لحاظ سے پیٹ کے اندر کے بچوں کو بھی مؤنث قرار دیا۔ بعض نے کہا ما فی بطونہا : کے معنی کا لحاظ کرتے ہوئے خالصۃً کو مونث ذکر کیا کیونکہ ما فی بطونہا : سے مراد ہیں اجنۃ : (جنین کی جمع) بہرحال خالصہ سے مراد ہے خالص حلال۔ ازواجنا : سے مراد ہیں عورتیں (خواہ زوجہ ہوں یا نہ ہوں یا لڑکیاں ہوں) فہم : سے مراد ہیں سب مرد عورتیں فیہ : کی واحد مذکر کی ضمیر میتۃ : کی طرف راجع ہے کیونکہ میتۃ : کا لفظ مذکر مؤنث دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ سیجزیہم وصفہم انہ حکیم علیم . ابھی اللہ ان کی غلط بیانی کی سزا دے دیتا ہے۔ بلاشبہ وہ بڑی حکمت والا اور بڑے علم والا ہے وصہم : یعنی بوصفہم : مطلب یہ کہ حلت حرمت کے مذکورہ احکام کی جو نسبت یہ اللہ کی طرف کرتے ہیں اس کی سزا اللہ ان کو دے گا اور اللہ کی یہ سزا دہی مبنی بر حکمت ہے۔ جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 6:140

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بیوقوفی سے بے سمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کر کے اس کی عطا فرمائی کی ہوئی روزی کو حرام ٹہرایا وہ گھاٹے میں پڑ گئے وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں

قد خسر الذین قتلوا اولادہم سفہا بغیر علم . بیشک گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت کی وجہ سے بغیر جانے قتل کردیا یعنی بغیر اس بات کے جاننے کہ اللہ ان کی اولاد کا بھی رازق ہے اولاد کو قتل کردیا۔ بغوی نے لکھا ہے اس آیت کا نزول قبائل ربیعہ اور مضر اور بعض دوسرے عربوں کے حق میں ہوا جو مفلسی کے ڈر سے لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے قبیلۂ بنی کنانہ ایسا نہیں کرتا تھا۔ وحرموا ما رزقہم اللہ افترآء علی اللہ . اور اللہ پر افتراء بندی کرتے ہوئے انہوں نے ان (جانوروں) کو حرام قرار دے لیا ہے جو اللہ نے ان کو عنایت فرمائے تھے یعنی بحیرہ سائبہ وصیلہ اور حام کو انہوں نے حرام بنا لیا ہے اور اس حکم کی نسبت غلط طور پر اللہ کی طرف کی ہے۔ افتراء : مفعول لہٗ ہے یا حال یا مفعول مطلق۔ قد ضلوا وما کانوا مہتدین . واقعی وہ راہ سے بھٹک گئے اور کبھی (حق و صواب کے) راستہ پر چلنے والے نہ ہوئے۔