Ayah 6:76فلما جن علیہ الیل راکوکبا جب اسی پر رات کی (تاریکی) چھا گئی تو اس نے ایک ستارہ دیکھا یعنی زہرہ یا مشتری۔
قال ہذا ربی تو کہا یہ میرا رب ہے۔ کافر بتوں اور ستاروں کی پوجا اور تعظیم کرتے تھے اور عقیدہ رکھتے تھے کہ تمام کام انہی کے ہاتھ میں ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے چاہا کہ اس گمراہی پر ان کو متنبہ کریں اور دلیل وبرہان کے ساتھ راہ حق دکھائیں اس لئے فرمایا ہذا ربی فرمایا یعنی تمہارے خیال میں یہ میرا رب ہے یا ہذا سے پہلے ہمزہ استفہام محذوف ہے یعنی کیا یہ میرا رب ہے یا ازراہ فرض یہ جملہ فرمایا یعنی بفرض محال یہ میرا رب ہے اوّل مخالفوں کا مفروضہ بیان کیا تاکہ آگے ان کے قول کی تردید کی جائے۔ بعض علماء کے نزدیک جملہ کا ظاہری معنی ہی مراد ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں کیونکہ اس بات کو کہنے کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) طالب توحید اور خواستگار ہدایت تھے (ہدایت یافتہ اور پختہ کار نہ ہوئے تھے) استدلال کے موقع پر ایسا کلمہ زبان سے نکالنا کوئی جرم نہ تھا۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت ابراہیم اس وقت بچہ تھے مکلف نہ ہوئے تھے اس لئے یہ کلمۂ کفر نہ تھا۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ وہ زمانہ آپ کے عنفوان یا آغاز بلوغ کا تھا۔ شرح خلاصۃ السیر میں مولانا ابوبکر نے لکھا ہے کہ چاند ستاروں سے استدلال کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پندرہ مہینے کے تھے۔ لیکن (یہ تمام اقوال غلط ہیں) صحیح پہلا ہی قول ہے (کہ جملہ استفہامیہ یا فرضیہ ہے) کیونکہ ہر پیغمبر ہر وقت موحد ہوتا ہے کبھی کسی وقت مشرک نہیں ہوسکتا ایسا شرکیہ قول اس شخص سے کیسے سرزد ہوسکتا ہے جس کو اللہ نے معصوم و طاہر بنایا تھا اور سن رشد سے پہلے ہی اس کو رشد یافتہ کردیا تھا قاضی عیاض کی شفا میں ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے (وَلَقَدْ اَتَیْنا ابراہیم رشدہ من قبل) یعنی بچپن کے زمانہ میں ہی ہم نے ابراہیم کو ہدایت یافتہ بنا دیا تھا مجاہد وغیرہ نے یہی مطلب بیان کیا ہے۔ ابن عطا نے کہا پیدا کرنے سے پہلے ہی ان کو چن لیا تھا۔ بعض روایات میں آیا ہے۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) پیدا ہوئے تو اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ نے آکر کہا اللہ کو دل سے پہچانو اور زبان سے اس کی یاد کرو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تو میں نے کرلیا۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں ایسا کروں گا (یعنی مضارع کا صیغہ نہیں بولا ماضی کا صیغہ فرمایا) یہی وہ رشد تھا (جو اللہ نے پہلے سے ہی آپ کو عطا کردیا تھا) اس آیت میں فَلَمَّا جَنَّکا عطف قال پر ہے اورتعقیبیہ ہے اور کَذٰلِکَ نُرِیْ اِبْرَاہِیْمَ مَلَکُوْتُ السَّمٰوٰتِالخ جملہ معترضہ ہے۔ گویا انتخذ اصنامًا الہتہً انی اراک وقومک فی ضلال مبینفرمانے کے بعد ہی آپ نے چاند و ستاروں کے غروب سے اللہ کی ربوبیت پر استدلال کیا تھا اور اگر اس کلام کو بطریق استدلال قرار دیا جائے گا تو فاء تفصیل کے لئے ہوگی اور یہ کذلک نری ابراہیم الخ کی تشریح و تفسیر ہوجائے گی۔ اس صورت میں اس کلام کا وقت وہ ہوگا جب عقل و شعور کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد پہلی مرتبہ آپ نے ستارہ ددیکھا جو کبھی پہلے نہیں دیکھا تھا۔ اس تفسیر کی بنیاد کے طور پر اہل روایت ایک قصہ بیان کرتے ہیں جس کی تفصیل یہ ہے کہ نمرود بن کنعان (عراق کا بادشاہ تھا اسی) نے سب سے پہلے اپنے لئے تاج بنوایا اور لوگوں کو اپنی پوجا کرنے کا حکم دیا اس کے دربار میں کچھ جوگی اور نجومی بھی تھے ان جوگیوں اور نجومیوں نے ایک بار نمرود سے کہا اس سال آپ کے ملک میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو اس ملک کے رہنے والوں کا مذہب تبدیل کر دے گا اور آپ کی جان اور حکومت اس کے ہاتھوں سے تباہ ہوجائے گی۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ سابق انبیاء کی کتابوں میں انہوں نے ایسا لکھا پایا تھا۔ سدی کا بیان ہے کہ نمرود نے ایک خواب دیکھا تھا کہ ستارہ ایسا طلوع ہوا جس کی روشنی کے سامنے چاند سورج کی روشنی جاتی رہی۔ نمرود اس خواب سے گھبرا گیا جادوگروں اور جوگیوں کو طلب کر کے اس کی تعبیر پوچھی۔ تعبیر دینے والوں نے کہا اس سال آپ کی طرف ایک لڑکا پیدا ہوگا جو آپ کی اور آپ کے گھر والوں کی ہلاکت اور آپ کی سلطنت کے زوال کا باعث ہوگا۔ نمرود نے یہ سن کر حکم دے دیا کہ اس سال اس کے ملک میں جو لڑکا پیدا ہو اس کو قتل کردیا جائے اور آئندہ مرد عورتوں سے الگ رہیں اور ہر دس آدمیوں پر ایک نگران مقرر کردیا ایام ماہواری کے زمانہ میں مردوں کو عورتوں سے اختلاط کی اجازت تھی کیونکہ حیض کی حالت میں وہ لوگ قربت صنفی نہیں کرتے تھے اور جب عورتیں پاک ہوجاتیں تو مرد عورت کا اختلاط ممنوع ہوجاتا۔ ایک روز آزر جو اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس کو پاکی کی حالت میں پایا تو قربت کر بیٹھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حمل قرار پا گیا۔
محمد بن اسحاق نے لکھا ہے کہ نمرود نے ہر حاملہ عورت کے پاس ایک نگران مقرر کر رکھا تھا جو عورت کو اپنے پاس روکے رکھتا تھا۔ البتہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی والدہ چونکہ کم سن تھیں اور ان کے پیٹ کے اندر حمل کی علامت نمایاں نہ تھی اس لئے ان پر کوئی نگراں مسلط نہ تھا۔ سدی نے ذکر کیا ہے کہ مولود بچہ کی پیدائش کے ڈر سے نمرود تمام مردوں کو لشکرگاہ میں لے کر چلا گیا تھا اور اس طرح مردوں کو عورتوں سے الگ کردیا تھا کچھ مدت تک اسی حالت میں رہا پھر شہر میں آنے کی اس کو کوئی ضرورت پڑی اور سوائے آزر کے اس کو کوئی اور شخص نظر نہ آیا جس کو شہر میں (اپنی جگہ) بھیجنے پر اس کو اطمینان ہوتا مجبوراً آدمی بھیج کر آزر کو بلوایا آزر آگیا تو نمرود نے اس سے کہا میرا ایک کام ہے اور میں وہ کام تیرے سپرد کرنا چاہتا ہوں اور چونکہ مجھے تیرے اوپر اعتماد ہے اس لئے اس کام کے لئے تجھے بھیج رہا ہوں مگر تجھے قسم دیتا ہوں کہ اپنی بیوی کے پاس نہ جانا آزر نے کہا مجھے بیوی کے پاس جانے سے اپنا مذہب زیادہ پیارا ہے نمرود نے کام بتا کر آزر کو روانہ کردیا آزر نے شہر میں جا کر کام سرانجام دیا پھر دل میں کہا اگر میں گھر جا کر گھر والوں کو دیکھتا چلوں تو کیا ہرج ہے یہ سوچ کر گھر پہنچا اور ابراہیم ( علیہ السلام) کی ماں کو دیکھ کر اپنے کو قابو میں نہ رکھ سکا اور قربت کر بیٹھا نتیجہ میں وہ حاملہ ہوگئی اور ابراہیم (علیہ السلام) کا حمل قرار پا گیا۔
حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ماں حاملہ ہوگئی تو کاہنوں نے نمرود سے کہا جس لڑکے کی ہم نے آپ کو اطلاع دی تھی اس کی ماں آج رات حاملہ ہوگئی۔ نمرود نے فوراً لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دے دیا جب ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش کا وقت قریب آگیا اور ماں کو درد زہ ہونے لگا تو وہ بھاگ کر بستی سے باہر نکل گئی کہ کہیں کسی کو اطلاع ہوگئی تو بچہ کو قتل کردیا جائے گا اور (جنگل میں پہنچ کر) حلفاء گھاس میں اس کے بچہ پیدا ہوا اس نے آکر اپنے شوہر کو اطلاع دے دی کہ میرے بچہ پیدا ہوگیا اور فلاں جگہ موجود ہے باپ نے وہاں جا کر بچہ کو لے کر ایک سرنگ کھود کر اس کے اندر بچہ کو چھپا دیا اور درندوں کے خوف سے سرنگ کا دروازہ پتھر سے بند کر کے چلا آیا ماں وہاں آتی جاتی اور دودھ پلاتی رہی۔
محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی والدہ کو جب درد زہ ہوا تو وہ رات کو نکل کر قریب کے ایک غار میں چلی گئی غار کے اندر ابراہیم پیدا ہوئے نوزائیدہ بچہ کا جو کام ہوتا ہے ماں وہ سب کام ٹھیک کر کے غار کا دروازہ بند کر کے گھر کو لوٹ آئی پھر دیکھ بھال کرتی رہی جب وہاں جاتی تو ابراہیم (علیہ السلام) کو زندہ انگوٹھا چوستے پاتی۔ ابو روق کا بیان ہے ایک روز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ماں نے کہا آج میں اس کی انگلیاں دیکھوں گی چناچہ انگلیاں دیکھیں تو آپ کی ایک انگلی سے پانی دوسری سے شہد تیسری سے دودھ چوتھی سے چھوارہ اور پانچویں سے گھی چوس رہے تھے۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے آزر نے ابراہیم (علیہ السلام) کی ماں سے پوچھا حمل کا کیا ہوا ماں نے کہا لڑکا پیدا ہوا تھا مگر مرگیا آزر کو یقین آگیا اور خاموش ہو رہا ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ایک دن ایک ماہ کی طرح اور ایک مہینہ سال کی طرح (نمو کے اعتبار سے) ہوتا تھا غار کے اندر آپ صرف پندرہ مہینے رہے آخر ایک روز ماں سے کہا مجھے یہاں سے باہر نکال لو ماں عشاء کے وقت آپ کو باہر لائی آپ نے کائنات سماوی و ارضی کو دیکھا اور غور کیا اور فرمایا جس نے مجھے پیدا کیا اور کھلایا پلایا وہی میرا پروردگار ہے اس کے سوا میرا کوئی اور معبود نہیں پھر آسمان پر غور سے دیکھا تو ایک ستارہ نظر آیا بولے یہ میرا رب ہے اس کے بعد اس کے پیچھے نظر لگائے دیکھتے رہے آخر وہ غائب ہوگیا آپ نے کہا غائب ہونے والوں کو میں نہیں چاہتا پھر چاند کو دمکتا دیکھ کر بولے یہ میرا رب ہے اس کے پیچھے بھی نگاہ لگائے رکھی آخر وہ بھی ڈوب گیا پھر سورج نکلا اور مندرجۂ بالا صورت ہوئی پھر اپنے باپ آزر کے پاس لوٹ کر آئے تو رخ درست ہوچکا تھا رب کو پہچان چکے تھے اور اپنی قوم کے مذہب سے بیزار ہوگئے تھے مگر قوم پر یہ بات ظاہر نہیں کی اور باپ سے آکر کہا میں آپ کا بیٹا ہوں ماں نے بھی بتادیا کہ واقعی یہ تمہارا بیٹا ہے اور میں نے یہ کام کیا تھا آزر اس سے بہت ہی خوش ہوا ایک روایت میں آیا ہے سرنگ کے اندر آپ دس سال رہے دوسری روایت میں سات سال اور تیسری میں سترہ سال رہنے کا ذکر آیا ہے۔
میں کہتا ہوں اگر اس قصہ کو صحیح تسلیم بھی کرلیا جائے تب بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ماں باپ کا کافر ہونا اس سے ثابت نہیں ہوتا ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ اس میں حضرت ابراہیم کے باپ کا نام آزر بتایا گیا ہے اور آزر کے کافر ہونے کی صراحت قرآن مجید اور حدیث مبارک میں آچکی ہے لیکن اس قصہ میں لفظ آزر کا آنا بعض روایان قصہ کا وہم ہے (اصل بیان میں صرف ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کا ذکر ہے آزر کا نہیں) بلکہ اصل قصہ بعض راویوں نے اس طرح بیان کیا کہ جب سرنگ کے اندر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جوان ہوگئے تو انہوں نے اپنی ماں سے پوچھا میرا پروردگار کون ہے ماں نے کہا میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا تیرا پالنے والا کون ہے ماں نے کہا تیرا باپ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میرے باپ کا پالنے والا کون ہے۔ ماں نے کہا نمرود۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا نمرود کا رب کون ہے ماں نے کہا خاموش ہوجا۔ حضرت ابراہیم خاموش ہوگئے ماں نے واپس جا کر اپنے شوہر سے کہا دیکھو تو جس لڑکے کے متعلق ہم سے کہا جاتا تھا کہ وہ (اس) ملک والوں کے مذہب کو بگاڑ دے گا وہ آپ ہی کا بیٹا ہے پھر ابراہیم کا قول اس نے نقل کیا باپ فوراً ابراہیم کے پاس پہنچا آپ نے اس سے بھی پوچھا باپ مجھے پالنے والا کون ہے۔ باپ نے کہا تیری ماں۔ حضرت نے فرمایا میری ماں کو پالنے والا کون ہے باپ نے کہا میں ‘ آپ نے پوچھا ‘ آپ کو پالنے والا کون ہے۔ باپ نے کہا نمرود۔ ابراہیم نے فرمایا نمرود کا رب کون ہے ‘ باپ نے ایک طمانچہ مارا اور کہا چپ۔ پھر جب رات چھا گئی تو حضرت ابراہیم نے سرنگ کے دروازہ کے پاس آکر پتھر کی جھری سے باہر کو دیکھا تو ایک ستارہ نظر آیا۔ آپ نے کہا یہ میرا رب ہے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم نے اپنے والدین سے کہا مجھے یہاں سے باہر نکالو والدین نے سرنگ سے باہر نکالا اور غروب آفتاب کے بعد ساتھ لے چلے۔ حضرت ابراہیم نے کچھ اونٹ گھوڑے اور بکریاں دیکھیں اور باپ سے پوچھا یہ کیا ہے باپ نے کہا اونٹ ‘ گھوڑے اور بکریاں ہیں حضرت ابراہیم نے فرمایا ان کو پالنے اور پیدا کرنے والا ضرور کوئی ہوگا۔ پھر (آسمان کی طرف) نظر کی تو مشتری یا زہرہ دکھائی دیا مہینہ کی آخری رات تھی چاند کا طلوع آخر رات میں ہونے والا تھا چاند سے پہلے آپ نے ستارہ دیکھا آیت (فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْہِ الَّیْلُ رَاَکَوْکَبًا) میں اسی کا بیان ہے یہ بیان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والدین کے کافر ہونے پر ضرور دلالت کر رہا ہے مگر اس سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ کفر کی حالت ہی میں ان کی موت ہوئی۔ پھر بیان مختلف مضطرب ضعیف بھی ہے اور صحیح سند سے ثابت نہیں اس کے مقابلہ میں رسول اللہ ﷺ : کی صحیح حدیث ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) سے لے کر آپ ﷺ کے والدین تک حضور ﷺ کے تمام آباؤ اجداد مؤمن تھے پاک لوگوں کی پشت سے پاک عورتوں کے رحم کی طرف اور پاک عورتوں کے رحم سے پاک مردوں کی پشت کی طرف آپ کا انتقال ہوتا رہا (یہاں تک کہ پاک ماں باپ کے بطن و صلب سے آپ ﷺ پیدا ہوئے) آیت (وتقلبک فی الساجدین) کو اسی معنی پر محمول کیا گیا ہے۔ اور چچا کو باپ کہنا عمومی محاورہ ہے خصوصاً اس صورت میں جب چچا نے پرورش کی ہو اور یہ ممکن ہے کہ تارخ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ) ابراہیم (علیہ السلام) کو ماں کے پیٹ یا شیر خوارگی کی حالت میں چھوڑ کر مرگیا ہو اور چچا آزر نے آپ کی پرورش کی ہو۔ واللہ اعلم۔
فلما افل قال لا احب الافلین پھر جب ستارہ چھپ گیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا میں غائب ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا یعنی جس کے احوال میں تغیر ہوتا رہے اس کی پوجا کرنے کو پسند نہیں کرتا کیونکہ تغیر احوال حادث ہونے کی نشانی ہے جو قدیم ہو اس کے احوال حادث نہیں ہوسکتے اور حادث قابل عبادت نہیں۔
Ayah 6:77فلما القمر بازغا قال ہذا ربی پھر جب چاند کو (ابتداء طلوع کے وقت) چمکتا دیکھا تو اس نے کہا یہ میرا رب ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اندر قوت فکریہ کامل تھی اور ستارہ کے غروب سے (توحید پر) استدلال کامل ہوچکا تھا مزید دلیل کی ضرورت نہ تھی لیکن مشرکوں کو مزید شکست دینے کے لئے آپ نے اپنے استدلال کے دائرہ کو وسیع کیا اور چاند و سورج سے بھی استدلال کیا۔
فلما افل قال لئن لم یہدنی ربی لاکونن من القوم الضآلین پھر جب چاند بھی چھپ گیا تو ابراہیم نے کہا اگر میرا رب ہی مجھے سیدھی راہ نہ بتائے گا تو میں گمراہ لوگوں میں سے ہوجاؤں گا۔ اللہ کی طرف سے ہدایت ملنے کی نعمت کا شکر ادا کرنے کے لئے مذکورۂ بالا الفاظ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا اگر اللہ کی طرف سے توفیق نہ ہوتی تو ہم نہ ہدایت یاب ہوتے نہ صدقہ دیتے نہ نماز پڑھتے۔ مذکورہ بالا قول میں حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو راہ حق بتائی ہے اور تنبیہ کی ہے کہ چاند بھی قابل عبادت نہیں اس کے احوال بھی تغییر پذیر ہیں جو اس کے معبود قرار دے گا گمراہ ہوجائے گا طلوع اور غروب دونوں سے حالات کے تغیر کا پتہ لگتا ہے لیکن غروب زوال کی حالت ہے (اور طلوع عروج کی) اور زوال کی حالت سے ناقابل عبادت ہونے پر استدلال زیادہ واضح ہے اس لئے حضرت نے غروب قمر سے استدلال کیا طلوع سے نہیں کیا۔
Ayah 6:78فلما را الشمس بازغۃ قال ہذا ربی ہذا اکبر پھر جب سورج کو دمکتا دیکھا تو اس نے کہا یہ میرا رب ہے یہ سب سے بڑا ہے (یعنی تمام ستاروں سے بڑا ہے) شمس عربی زبان میں مؤنث ہے اور ہذا (اسم اشارہ مذکر) ہے اشارہ سورج کی طرف ہے کیونکہ ہذا کی خبر یعنی رب مذکر ہے (اور جو اسم اشارہ مشار الیہ اور خبر کے درمیان واقع ہوتا ہے اس میں مشار الیہ کی تذکیر تانیث قابل لحاظ نہیں ہوتی خبر کا مذکر مونث ہونا ملحوظ رہتا ہے) بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ ہذا سے اشارہ نکلنے والے (یعنی طالع) کی طرف سے یا معنی کی طرف ہے یعنی چمک اور نور۔
میں کہتا ہوں کہ لفظ شمس کی تانیث صرف سماعی ہے کیونکہ اس کی تصغیر شمیستہ آتی ہے (اور تصغیر میں اصلی حروف ظاہر کردیئے جاتے ہیں) اور حضرت ابراہیم کی زبان عربی نہیں تھی ان کی زبان میں سورج مذکر تھا اپنی زبان کے اعتبار سے انہوں نے اشارہ بصیغہ مذکر ذکر کیا ہوگا اور اللہ نے انہی کے زبان کے استعمال کا لحاظ کر کے اشارہ کو عربی زبان میں ذکر کردیا۔
حضرت ابراہیم نے ہذا اکبر استدلال کے اعتبار سے اور مشرکوں کے شبہ کو ظاہر کرنے کی غرض سے فرمایا (یعنی مشرکوں کو غیر اللہ کی ربوبیت کا شبہ سورج کو دیکھ کر زیادہ ہوسکتا ہے)
فلما افلت قال یقوم انی بری مما تشرکون پھر جب وہ ڈوب گیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم والو ! تم جن چیزوں کو (معبود برحق کا عبادت میں) شریک بناتے ہو میں ان سب سے بیزار ہوں۔ ستارے اور چاند سورج اجرام علوی ہیں بڑے بڑے ہیں روشن ہیں مگر الوہیت کے قابل نہیں۔ محل حوادث ہیں خود حادث ہیں ان کے احوال حادث ہیں پیدا کرنے والے کے محتاج ہیں اور ایسی ذات کے ضرورت مند ہیں جس نے ان کو یہ مخصوص احوال عطا فرمائے ہیں ان کے مقابلہ میں بت اور دوسرے سفلی اجسام بہت حقیر ہیں اور ناقابل عبادت ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی لئے اجرام علویہ کے حالات کو دیکھ کر تمام علوی اور سفلی اجرام کی الوہیت سے بیزاری کا اظہار کردیا جب علوی اجرام قابل الوہیت نہیں تو سفلی اجسام کیسے معبود ہوسکتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے استدلال کیا پھر قوم کو خطاب کر کے غیر اللہ کی الوہیت سے بیزاری کا اظہار کیا اس سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مسئلہ توحید کی تحقیق پہلے ہوچکی تھی یہ کلام بول کر فقط مشرکوں کو لاجواب بنانا مقصود تھا۔
باطل معبودوں سے اظہار براءت کرنے کے بعد آئندہ کلام میں آپ نے قوم کو الٰہ حق کی ہستی کی طرف رہنمائی کی جس کے وجود پر تمام ممکنات دلالت کر رہے ہیں چناچہ فرمایا۔
Ayah 6:79انی وجہت وجہی للذی فطر السموت والارض حنیفا وماانا من المشرکین : میں سب کو چھوڑ کر اپنا منہ اس کی طرف موڑتا ہوں جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور میں اس کے ساتھ کسی اور کو ساجھی قرار دینے والوں میں سے نہیں ہوں۔ یعنی آسمان اور اس کی ساری کائنات اور زمین اور اس کی تمام موجودات اپنے وجود میں ایسی واجب الوجود ہستی کی محتاج ہیں جو ان کو عدم سے وجود میں لانے والی ہیں میں نے اسی کی طرف اپنا رخ پھیرلیا اور تمام مذاہب کو چھوڑ کر اسی کی اطاعت اختیار کرلی۔
Ayah 6:80وحآجہ قومہ اور ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کی قوم نے حجت کرنی شروع کردی یعنی توحید اور نفئ شرک کے مسئلہ میں جھگڑنے لگے جب استدلال صحیح کے مقابلہ سے عاجز اور لاجواب ہوگئے تو جھگڑے پر اتر آئے کہنے لگے ہمارے معبودوں سے ڈر ‘ کہیں تجھے کسی دکھ میں مبتلا کردیں اور نمرود سے بھی ڈر تارہ کہیں تجھے قتل کر دے یا جلا دے۔
قال اتحاجونی فی اللہ وقد ہدین ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا (اللہ کی ہستی اور توحید پر قطعی استدلال کے بھی خواہ نخواہ) تم اللہ کے معاملہ میں مجھ سے جھگڑتے ہو حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت کردی یعنی باوجودیکہ میں کم عمر اور ان پڑھ ہوں مگر اس نے مجھے حق اور استدلال کا راستہ بتادیا۔
ولا اخاف ما تشرکون بہ اور جس چیز کو تم اس کا شریک قرار دیتے ہو میں اس سے نہیں ڈرتا یعنی ممکنات میں سے کوئی ہو خواہ علویات میں سے ہو جیسے چاند سورج ستارے یا عنصریات میں سے (آگ پانی ہوا مٹی اور ان کے مرکبات) پھر ذی عقل عنصری مرکب ہو جیسے نمرود یا جماد جیسے بت میں کسی سے نہیں ڈرتا یہ سب میری طرح عاجز ہیں بغیر اللہ کے خود نفع نقصان پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتے بلکہ بعض مجھ سے بھی زیادہ عاجز ہیں (جیسے جمادات نباتات) روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب سرنگ سے برآمد ہوئے اور مشرکوں کو ان سے کوئی امید نہ رہی اور آزر نے ان کو اپنا لیا تو خود مورتیاں بنا کر بیچنے کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو دیں آپ مورتیاں لے کر بازار گئے اور آواز لگائی مجھ سے کوئی ایسی چیز خریدتا ہے جو ضرر رساں ہے فائدہ بخش بالکل نہیں نتیجہ میں کسی نے نہیں خریدا شام کو آپ سب مورتیاں واپس لے آئے اور نہر پر لے جا کر ایک مورتی کو پکڑ کر اس کا منہ پانی کی طرف جھکا کر کافروں کا مذاق اڑانے کے لئے کہنے لگے پانی پی۔
الا ان یشآء ربی شیئا مگر یہ کہ میرے رب کی مشیت ہو۔ یعنی تمہارے معبود جن کو تم اللہ کا شریک قرار دیتے ہو مجھے کبھی کوئی دکھ نہیں پہنچا سکتے ہاں جس وقت میرا رب ہی دکھ پہنچانا چاہے (تو اس وقت کسی ذریعہ سے مجھے دکھ پہنچ سکتا ہے)
وسع ربی کل شی علماء میرے رب کا علم ہر چیز کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہے (ہر چیز کو محیط ہے) یہ فقرہ گویا استثناء کی علت ہے یعنی یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ کے علم میں یہ بات ہو کہ اس کی مشیت اور عطا اختیار کی وجہ سے بعض مخلوقات کی طرف سے مجھے دکھ پہنچ جائے (اور علم کے مطابق مجھے دکھ پہنچ جائے جو درحقیقت رب کا بھیجا ہوا ہوگا)
افلا تتذکرون کیا اب بھی تم نہیں سمجھتے کہ ایک ہستی مکمل بااقتدار اور قہار ہے (یعنی اللہ) اور کچھ مخلوق بالکل پورے طور پر عاجز جیسے بت اور کچھ ہستیاں اپنی ذات کے اعتبار سے تو عاجز و بےاختیار ہیں لیکن ان کو قدرت و اختیار دے سکتا ہے اور وہ (ظاہری مجازی) قادر ہوسکتی ہیں ان تینوں کے فرق کو کیا تم نہیں جانتے۔
Ayah 6:81وکیف اخاف ما اشرکتم اور جن کو تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے۔ میں ان سے کس طرح ڈر سکتا ہوں۔ ان میں سے تو کوئی اللہ کی مشیت کے بغیر مجھے دکھ نہیں پہنچا سکتی۔
ولا تخافون انکم اشرکتم باللہ ما لم ینزل بہ علیکم سلطنا حالانکہ (جو بات حقیقت میں ڈرنے کی ہے وہ یہ ہے کہ مختار کل قادر مطلق حقیقی فائدہ بخش نفع رساں ہستی کا کسی کو ساجھی قرار دیا جائے مگر) تم اس بات کا خوف نہیں کرتے کہ اللہ کے ساتھ تم ایسی ہستیوں کو شریک بناتے ہو جن کو شریک قرار دینے کی اللہ نے تمہارے لئے کوئی دلیل نہیں اتاری (نہ عقلی نہ نقلی)
فای الفریقین احق بالامن پس (دنیا و آخرت کے عذاب و شدائد سے) محفوظ رہنے کا زیادہ مستحق دونوں فریقوں میں سے کون سا فریق ہے اہل توحید کا گروہ جس کا عقیدہ عقل و نقل کے تقاضوں کے موافق ہے یا اہل شرک کا گروہ جن کے پاس اپنے شرکیہ عقیدہ کی کوئی دلیل نہیں۔ ای الفریقین فرمایا اَیُّنَا (ہم میں سے کون) نہیں فرمایا کیونکہ اَیُّنَاکہنے میں تزکیۂ خودی کا شائبہ تھا پھر اس بات کی طرف بھی اشارہ کرنا تھا کہ استحقاق امن کی خصوصیت صرف میری ذات کے ساتھ ہی نہیں بلکہ اہل توحید کا پورا گروہ اس کا مستحق ہے کوئی موحد ہو۔ درپردہ اس میں مشرکوں کو توحید کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے۔
ان کنتم تعلمون اگر تم جانتے ہو کہ کس سے خوف کیا جانا چاہئے تو صرف اللہ سے ڈرو اس کے سوا کسی سے نہ ڈرو۔ انکی جزا محذوف ہے جس پر کلام سابق دلالت کررہا ہے۔ یا (کنتم تعلمون بمعنی فعل نہیں بلکہ اسم فاعل کے معنی میں ہے اس صورت میں) یہ معنی ہوگا کہ اگر تم اہل بصیرت اور دانشمند ہو تو میرے سوال کا جواب انصاف کے ساتھ دو ۔
Ayah 6:82الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانہم بظلم اولئک لہم الامن وہم مہتدون جو لوگ (اللہ پر) ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم آمیز یعنی شرک آلود نہیں کیا انہی کے لئے عذاب سے حفاظت ہے اور وہی حق یا جنت کا راستہ پانے والے ہیں۔ حضرت عبداللہ ؓ بن مسعود کا بیان ہے کہ جب یہ آیت اتری تو مسلمانوں پر بڑی شاق گزری انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے کون (باوجود مؤمن ہونے کے) اپنے نفس پر ظلم نہیں کرتا (پھر ہمارے محفوظ رہنے کی کیا شکل ہے) حضور ﷺ نے فرمایا ظلم سے مراد) شرک ہے۔ کیا تم نے لقمان کا وہ قول نہیں سنا جو انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا : (یَا بُنَیَّ لاَ تُشْرِک باللّٰہِ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ) ۔ (رواہ البخاری و مسلم)
حضرت ابراہیم نے مشرکوں سے سوال کیا تھا کہ محفوظ رہنے کا مستحق کون ہے۔ مشرکوں کی طرف سے جب کوئی جواب نہیں ملا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خود فرمایا الذین امنوا۔۔ اس صورت میں یہ ابراہیم (علیہ السلام) کا کلام ہوگا جو اللہ نے نقل فرمایا ہے یا یہ اللہ نے اپنی طرف سے فیصلہ فرمایا اور یہ براہ راست اللہ کا قول ہے۔ ابن ابی حاتم نے بکر بن سوادہ کا بیان نقل کیا ہے کہ ایک دشمن نے مسلمانوں پر حملہ کر کے ایک مسلمان کو مار ڈالا پھر دوبارہ حملہ کر کے دوسرے مسلمان کو قتل کردیا۔ پھر تیسری مرتبہ حملہ کر کے ایک اور مسلمان کو قتل کردیا پھر (مسلمان ہونے کے ارادہ سے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور) عرض کیا اس حالت میں بھی مجھے اسلام سے فائدہ پہنچ سکتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا ہاں وہ شخص فوراً مسلمانوں میں شامل ہوگیا (یعنی مسلمان ہوگیا) پھر اپنے (گزشتہ) ساتھیوں پر حملہ کر کے ایک کو پھر دوسرے کو قتل کردیا پھر تیسرے کو مارا۔ لوگوں کا خیال ہے کہ آیت مذکورہ کا نزول اسی شخص کے حق میں ہوا۔
Ayah 6:83وتلک اور یہ تلک سے فلما جن علیہ الَّیل سے مہتدونتک جس مضمون کو بیان کیا ہے اس کی طرف اشارہ ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو ستارے اور چاند سورج کو رب قرار دیا اور ان کے زوال کو دیکھ کر ان کی ربوبیت سے گریز کیا یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے اطمینان کے لئے مقام تفکر نہ تھا نفوس قدسیہ کو ان فکری استدلالات کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ قوم کو غلطی پر متنبہ کرنے کے لئے تھا۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ تلک سے اس دلیل کی طرف اشارہ ہے جو حضرت ابراہیم نے نمرود کے مقابلہ میں پیش کی تھی جس کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے مگر یہ قول بعید از قرینہ ہے اوّل تفسیر ہی صحیح ہے۔
حجتنا ہماری (تعلیم کردہ) دلیل تھی۔ یہ اسم اشارہ کی خبر یا صفت یا بدل ہے۔
اتینہا ابراہیم علی قومہ جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے مقابلہ میں عطا کی تھی۔ عطا کرنے سے مراد ہے بتادینا اور قوم سے مراد ہیں نمرود اور اس کے ہم مذہب۔ اگر حجتناکو خبر یا صفت قرار دیا جائے گا تو علی قومہکا تعلق حجتنا سے ہوگا اور اگر حجتناکو اسم اشارہ سے بدل کہا جائے گا تو علی قومہکا تعلق فعل محذوف سے ہوگا۔
نرفع درجت من نشآء ہم جس کو چاہتے ہیں کتنے ہی درجے اونچا کردیتے ہیں یعنی علم و حکمت کے درجات (دے کر) عالی مرتبہ کردیتے ہیں درجٰتٍیا تمییز ہے یا مفعول مطلق۔
ان ربک حکیم بیشک آپ کا رب (کسی کو اونچا نیچا کرنے میں) حکمت والا ہے۔
علیم (جس کو اونچا کرتا ہے اس کی حالت اور قابلیت کو) خوب جانتا ہے۔
Ayah 6:84ووہبنا لہ اسحاق و یعقوب اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بخشا (ایک بیٹا) اسحاق ( علیہ السلام) اور (ایک پوتا) یعقوب۔
کلا ہدینا اور (دونوں میں سے) ہر ایک کو ہدایت دی (یعنی کلاً کی تنوین مضاف الیہ کے عوض ہے)
ونوحا ہدینا من قبل اور ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے نوح کو ہدایت عنایت کی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سلسلہ اجداد میں تھے اس لئے حضرت نوح ( علیہ السلام) کے ہدایت یافتہ ہونے کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے نعمت قرار دیا اس سے معلوم ہوا کہ والد کا شرف اولاد کی طرف اور اولاد کا شرف والد کی طرف منتقل ہوتا ہے۔
میں کہتا ہوں اس صورت میں ممکن نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے آبا و اجداد میں سے کوئی کافر ہوا ہو آپ تو اللہ کے محبوب تھے (اور محبت کا تقاضا ہے کہ شرف کامل عطا کیا جائے)
ومن ذریتہ داود وسلیمن وایوب ویوسف وموسی و ہارون اور اس کی (یعنی نوح یا ابراہیم کی) نسل میں سے ہم نے ہدایت کی داؤد ( علیہ السلام) (بن الیشا) کو اور سلیمان ( علیہ السلام) (بن داؤد) کو اور ایوب ( علیہ السلام) (بن اموص بن رازخ بن روم بن عیص بن اسحاق بن ابراہیم ( علیہ السلام) کو اور یوسف ( علیہ السلام) (بن یعقوب بن اسحاق ( علیہ السلام) کو اور موسیٰ (بن عمران بن یصمر بن قاہت بن لاوی بن یعقوب کو) اور (موسیٰ کے بھائی) ہارون کو (جو موسیٰ ( علیہ السلام) سے سال بھر بڑے تھے) من ذریتہ کی ضمیر ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف لوٹ رہی ہے کیونکہ کلام آپ ہی کے متعلق ہے بعض کے نزدیک حضرت نوح ( علیہ السلام) کی طرف راجع ہے نوح ( علیہ السلام) کا لفظ قریب مذکور ہے اس کے علاوہ یونس اور لوط حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے نہیں تھے حضرت نوح کی نسل میں سے تھے۔ یہی زیادہ ظاہر ہے لیکن اگر ابراہیم کی طرف ضمیر راجع قرار دی جائے تو اس آیت اور اس کی بعد والی آیت میں جن انبیاء کے نام آئے ہیں صرف انہی کے ساتھ من ذریتہ کی خصوصیت ہوگی اور جن انبیاء کا ذکر تیسری آیت میں آیا ہے ان کا عطف نوحاً پر ہوگا (وہ من ذریتہ کے ذیل میں نہیں آئیں گے)
وکذلک اور اسی طرح یعنی جس طرح ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے حسن کردار و رفتار کا بدلہ دیا اور ان کے درجات اونچے کئے اور اولاد کے مرتبے بلند کئے اسی طرح
نجزی المحسنین ہم اہل احسان کو بدلہ دیتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ کی مرفوع روایت ہے کہ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) کے سوال کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تم اپنے رب کی عبادت (اتنے استغراق کے ساتھ) کرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو کیونکہ اگر تم اس کو نہیں دیکھ پاتے تو یقیناً وہ تم کو دیکھتا ہی ہے۔ متفق علیہ۔
Ayah 6:85و زکریا ویحیی و عیسیٰ والیاس اور زکریا (ابن اذن) کو اور یحییٰ (بن زکریا) کو اور عیسیٰ (بن مریم بنت عمران) کو اور الیاس (بن متی بن فخاص بن عیزار بن ہارون ( علیہ السلام) کو۔ حضرت عبداللہ ؓ بن مسعود نے فرمایا ‘ ادریس ؓ ہی الیاس تھے دونوں نام ایک ہی شخص کے تھے جیسے یعقوب اور بنی اسرائیل۔ لیکن آیت کی رفتار اس کے خلاف ہے۔ ادریس نوح ( علیہ السلام) کی نسل میں سے نہیں تھے بلکہ پدر نوح کے دادا تھے نوح کے باپ لامک ‘ لامک کے باپ متوشلخ۔ متوشلخ کے باپ خنوخ اور خنوخ کے باپ حضرت ادریس تھے اولاد آدم ( علیہ السلام) میں آپ سب سے پہلے نبی تھے اور آپ نے قلمی تحریر ایجاد کی۔
کل من الصلحین (مذکورہ بالا اشخاص میں سے) ہر ایک نیکوکاروں میں سے تھا یعنی یہ حضرات ان لوگوں میں سے تھے جو تمام کبائر و صغائر سے معصوم تھے کیونکہ جو شخص کسی امر ممنوع کا مرتکب یا ماموربہ کا تارک ہو وہ صالح نہ ہوگا فاسد ہوگا خواہ اس کے اعمال کتنے ہی کم ہوں (مگر ہوگا فاسد) غیر معصوم پر جو کبھی صالح کا اطلاق ہوجاتا ہے وہ حقیقی نہیں ہوتا اضافی ہوتا ہے (یعنی مرتکب کبائر کے مقابلہ میں ہم بعض صغائر کے مرتکب کو صالح کہہ سکتے ہیں اگرچہ وہ بالکل صالح نہیں ہوتا) ہاں گناہ کرنے کے بعد جو سچی توبہ کرلے وہ صالح ہوجاتا ہے کیونکہ گناہ سے توبہ کرنے والا بےگناہ کی طرح ہوجاتا ہے لیکن جو کامل الصلاح ہوتا ہے وہ معصوم ہوتا ہے۔
Ayah 6:86واسمعیل والیسع ویونس ولوطا اور اسماعیل ( علیہ السلام) (بن ابراہیم (علیہ السلام) کو جو ( رسول اللہ ﷺ کے جد اعلیٰ تھے)
اور الیسع (بن اخطوب بن عجور) کو اور یونس (بن متی) کو اور لوط (بن ہاران) کو (جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے) یسع عجمی نام ہے اس پر الف لام داخل کرلیا گیا ہے جیسے یزید پر الف لام داخل کر کے الیزید کہا جاتا ہے ایک شاعر کا قول ہے
رأیت الولید بن الیزید مبارکاً شدیداً باعباء الخلافۃ کاہلہ
میں نے ولید بن یزید کو بابرکت پایا اس کے کاندھے خلافت کا بار اٹھانے میں مضبوط ہیں۔
وکلا فضلنا علی العلمین اور ان میں سے ہر ایک کو ان کے زمانہ والوں پر ہم نے برتری عطا کی تھی۔ یہ آیت بتارہی ہے کہ ان انبیاء کو ان کے تمام اہل زمانہ پر فضیلت حاصل تھی اہل زمانہ خواہ انسان ہوں یا جنات یا ملائکہ۔
Ayah 6:87ومن ابآۂم وذریتہم واخوانہم واجتبینہم وہدینہم الی صراط مستقیم اور ان کے باپ دادا اور نسل اور بھائیوں میں سے بعض کو (ہم نے ہدایت کی یا بزرگی عطا کی) اور ان کو برگزیدہ بنایا اور سیدھا راستہ دکھایا۔ ومن ابآۂم کا عطف کلاًّپر ہے یعنی ہم نے بزرگی عطا کی یا نوحا پر عطف ہے یعنی ہم نے ہدایت کی اور منتبعیضیہ ہے یعنی ان کی اصل نسل اور بھائیوں میں سے بعض کو برتری دی یا ہدایت کی کیونکہ سب کے سب پیغمبر نہ ہوئے نہ ہدایت یافتہ۔
Ayah 6:88ذلک ہدی اللہ یہدی بہ من یشآء من عبادہ یہی (دین توحید) اللہ کا بتایا ہوا ہے اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کی ہدایت کرتا ہے۔
ولو اشرکوا لحبط عنہم ما کانوا یعملون اور اگر وہ (پیغمبر بھی بالفرض) شرک کرتے تو جو کچھ (اچھے) اعمال وہ کرتے تھے سب اکارت چلے جاتے۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا ہے (پیغمبروں کی جلالت و عظمت بھی شرک کے بعد کسی عمل کو بربادی سے نہیں روکتی)
Ayah 6:89اولئک الذین ایتنہم الکتاب یہ سب ایسے تھے کہ ہم نے ان کو کتاب دی۔ الکتاباسم جنس ہے یعنی نازل کردہ خدائی کتابیں۔ دینے سے مراد ہے اتارنا ‘ یا نازل شدہ کتاب کی تبلیغ کا حکم دینا۔
والحکم والنبوۃ اور حکمت و نبوت۔ حکم سے مراد یا حکومت ہے یعنی ہم نے ان کو حاکم بنایا تھا کہ لوگ ان کی اطاعت کریں یا حکمت و دانش مراد ہے یا تقاضائے حق کے مطابق مقدمات کا فیصلہ کرنا مراد ہے۔
فان یکفربہا ہولاء فقد وکلنابہا قوما لیسو بہا بکفرین اب اگر یہ (کفار مکہ) ان (تینوں چیزوں) کا انکار کردیں تو (کوئی نقصان ہمارا نہیں) ہم نے اس کے لئے ایسے بہت لوگ مقرر کردیئے ہیں جو اس کا انکار نہیں کرتے یعنی انصار اور اہل مدینہ اس کے لئے مقرر کرنے سے مراد یہ ہے ایمان لانا اور ان پر عمل کرنا۔ قومًاسے مراد انصار اور اہل مدینہ کی تخصیص حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کے نزدیک ہے بظاہر آیت کا مصداق عام ہے تمام صحابہ ؓ اور صحابہ ؓ کے بعد آنے والے اہل فارس اور دوسرے ممالک کے مؤمنوں کو آیت شامل ہے۔ ابو رجاء عطاردی نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا اگر زمین کے رہنے والے اس کا انکار کردیں تو ہم نے آسمان کے فرشتوں کو مقرر کردیا ہے وہ منکر نہیں ہیں۔
Ayah 6:90اولئک الذین ہدی اللہ یہ ایسے لوگ تھے جن کو اللہ نے ہدایت کی تھی یعنی توحید ‘ اصول دین اور مامورات و منہیات کی پابندی کی ہدایت کردی تھی۔
فبھداہم اقتدہ پس انہی کے طریقہ پر آپ چلیں۔ یعنی دوسروں کے طریقہ پر نہ چلیں۔ اس میں مشرکوں پر تعریض ہے کہ وہ (پیغمبروں کے راستہ پر چلنے کی بجائے) اپنے گمراہ آباء و اجداد کی پیروی کرتے ہیں۔ طریقۂ انبیاء کی پیروی سے مراد ہے طریقۂ انبیاء کو اختیار کرنا ‘ تقلید مراد نہیں ہے اس امت کے کسی مجتہد کے لئے تقلید زیبا نہیں انبیاء خصوصاً سید الانبیاء کا تو ذکر ہی کیا ہے آپ کے لئے تو تقلید جائز ہی نہیں۔
مطلب یہ ہے کہ دوسرے انبیاء کی طرح آپ بھی ہدایت کے راستہ پر چلیں اور اس شریعت الٰہی کا اتباع کریں جو تقاضاء عقل کے مطابق ہے اس سے یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کا جو طریقہ حق تھا اور عقل نقل کے تقاضوں کے مطابق تھا۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ ہُدَاہُمْسے مراد عقیدۂ توحید اور دین کے وہ اصول ہیں جو تمام انبیاء کی تعلیم میں مشترک ہیں فروعی مسائل مراد نہیں فروعی مسائل میں تو انبیاء میں تفریق ہے اور ہداہم میں ہدی کی اضافت کل انبیاء کی طرف کی گئی ہے لہٰذا ایسا راستہ ہونا ضروری ہے جو سب کے درمیان مشترک ہو فروعی مسائل میں سب انبیاء کی پیروی ممکن نہیں (کیونکہ فروعی احکام میں انبیاء میں اختلاف ہے) اب یہ کہنا غلط ہے کہ اس آیت میں گزشتہ انبیاء کی شریعتوں پر چلنے کا حکم رسول اللہ ﷺ : کو دیا گیا ہے اور آپ گزشتہ شرائع کے مکلف تھے۔
میں کہتا ہوں تمام انبیاء امر خداوندی کے مکلف تھے اگر سابق فروعی مسائل کو اللہ کی طرف سے منسوخ نہیں کیا گیا تو ان فروعی احکام کی تعمیل بھی سب کے لئے ضروری تھی اور اگر متلو یا غیر متلو وحی کے ذریعہ سے گزشتہ احکام جزئیہ کو منسوخ کر کے جدید احکام نازل کردیئے گئے تو جدید احکام کی تعمیل لازم ہے حاصل یہ کہ تمام انبیاء گزشتہ فروعی احکام کے بھی پابند تھے۔ بشرطیکہ جدید شریعت میں ان کو منسوخ نہ کردیا گیا ہو۔ پس گزشتہ شریعتوں کے فروعی احکام کی تعمیل بھی ہم پر واجب ہے اگر ہماری شریعت میں اللہ نے ان کو منسوخ نہ کردیا ہو۔ اِقْتَدِہمیں ھاء سکتہ ہے (ضمیر نہیں ہے)
قل لا اسلئکم علیہ اجرا آپ کہہ دیجئے میں اس تبلیغ یا قرآن کا کسی قسم کا معاوضہ تم سے نہیں مانگتا جس طرح مجھ سے پہلے انبیاء اپنی امتوں سے اجر تبلیغ کے طلب گار نہ تھے جن امور میں اقتداء انبیاء کا حکم دیا گیا تھا ان میں سے یہ اجر کا طلب گار نہ ہونا بھی ہے۔ یہ جملہ بتارہا ہے کہ قرآن حدیث اور فقہ کی تعلیم کا معاوضہ (طلب کر کے) لینا جائز نہیں۔
ان ہو الا ذکری للعالمین یہ تبلیغ یا قرآن تو جن و انس کے لئے محض ایک یادداشت اور نصیحت ہے۔
ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کی مرسل روایت نقل کی ہے کہ ایک یہودی جس کا نام مالک بن الضیف تھا ‘ مناظرہ کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جھگڑے بازی کرنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا میں تجھے اس خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے موسیٰ پر توریت نازل فرمائی تھی کیا توریت میں یہ بات تم لکھی ہوئی پاتے ہو کہ موٹے عالم کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔ مالک موٹا تھا یہ سن کر غضبناک ہوگیا اور بولا خدا کی قسم اللہ نے کسی انسان پر کوئی حکم نہیں اتارا اس کے ساتھیوں نے جو یہ بات سنی تو بولے ارے (ارے) کیا موسیٰ پر بھی اللہ نے کچھ نہیں اتارا۔ اس پر مندرجۂ ذیل آیت نازل ہوئی۔
Ayah 6:91وما قدروا اللہ حق قدرہ اذ قالوا ما انزل اللہ علی بشر من شی اور انہوں نے اللہ (کی ذات وصفات) کا ایسا اندازہ نہیں کیا جیسا کرنا چاہئے تھا۔ حق قدرہمفعول مطلق ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اسی قول کی وجہ سے یہودیوں نے مالک کو اجتہاد کے عہدہ سے معزول کر کے اس کی جگہ ابن اشرف کو مقرر کردیا۔ سدی کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول فخاص بن عازوراء کے حق میں اور فخاص نے ہی یہ بات کہی تھی۔ سورة نساء میں یہ حدیث گزر چکی ہے۔ ابن جریر نے بطریق ابو طلحہ ؓ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ یہودیوں نے کہا محمد ﷺ : کیا اللہ نے آپ پر کوئی کتاب نازل کی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ‘ ہاں ! بولے خدا کی قسم اللہ نے آسمان سے کوئی کتاب نہیں اتاری اس پر اللہ نے نازل فرمایا (وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ ) یعنی اللہ نے بندوں پر جو نعمت و رحمت مبذول فرمائی ہے اس کو انہوں نے نہیں جانا اور اس لحاظ سے اللہ کو جیسا پہچاننا چاہئے ویسا نہیں پہچانا جب کہ انہوں نے کہا کہ اللہ نے کسی آدمی پر کچھ نازل نہیں فرمایا یعنی پیغمبروں کی بعثت کا انکار کردیا حالانکہ نبوت اللہ کی سب سے بڑی رحمت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں پر کی ہے۔
قل من انزل الکتب الذین جآء بہ موسیٰ نورا وہدی للناس تجعلونہ قراطیس تبدونہا و تخفون کثیرا (اے محمد ﷺ آپ کہئے کہ جو کتاب (توریت) موسیٰ لائے تھے وہ کس نے اتاری تھی جو (سراسر) نور اور لوگوں کے لئے ہدایت ہے جس کو تم نے متفرق اوراق میں رکھ چھوڑا ہے کہ ان میں سے بعض حصوں کو تو ظاہر کرتے ہو اور بہت حصے کو چھپائے رکھتے ہو نوراً الکتابیا کتاب کی ضمیر بہ سے حال ہے۔ متفرق اوراق میں کرنے سے یہ مراد ہے کہ کاغذ کے مختلف ٹکڑوں پر لکھتے ہو اور ان کی جدا جدا کا پیاں بناتے ہو بعض حصوں کو ظاہر کرنے کا یہ معنی ہے کہ جس حصہ کو اور توریت کی جن باتوں کو ظاہر کرنا چاہتے ہو ظاہر کرتے ہو۔ زیادہ باتوں کے چھپانے کا یہ مطلب ہے کہ حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ : کی تعریف اور آیت رجم وغیرہ کو چھپاتے ہو حالانکہ یہ چیزیں توریت میں موجود ہیں اس فقرہ میں یہودیوں کو سرزنش کی گئی ہے کہ تم نے توریت کے معاملہ میں اپنی خواہشات کا اتباع کیا (اللہ کی کتاب کو اپنی نفسانی خواہشات کے سانچہ میں ڈھالنے کی کوشش کی)
وعلمتم ما لم تعلموا انتم ولا ابآء کم اور تم کو بہت سی ایسی باتیں تعلیم کی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے نہ تمہارے باپ دادا۔ اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ اس آیت میں مخاطب یہود ہیں یعنی یہودیو تم کو توریت کے ذریعہ سے جو علم عطا کیا گیا تھا اس سے زیادہ علم محمد رسول اللہ ﷺ : کی زبانی تم کو دیا گیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ توریت کی عبارت میں جس چیز کا سمجھنا تمہارے اور تمہارے آباء و اجداد کے لئے غیر واضح تھا اس کو رسول اللہ ﷺ کی زبانی کھول دیا گیا۔ دوسری آیت میں اسی طرح کا مفہوم ادا کیا گیا ہے فرمایا ہے ( ان ہذا القران یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ہم فیہ یختلفون) جس نے (علمتمکا) یہ مطلب بیان کیا کہ یہودیوں کو رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے قرآن کا علم دیا گیا تھا مگر انہوں نے اس کو کھو دیا (قبول نہیں کیا) مجاہد کے نزدیک اس آیت کے مخاطب مسلمان ہیں مسلمان پہلے (یعنی اسلام سے پہلے) بےعلم تھے اللہ نے ان کو رسول اللہ ﷺ : کی بعثت کے بعد علم عطا فرمایا اور اسی نعمت کی اس آیت میں یاددہانی کی۔
قل اللہ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ نے (موسیٰ ( علیہ السلام) پر کتاب اتاری تھی) اس جملہ کا تعلق قل من انزل الکتب سے ہے جب یہودی لاجواب ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ : کو حکم دیا گیا کہ آپ خود کہہ دیجئے کہ اللہ ہی نے توریت نازل کی تھی۔ اس جملہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سابق سوال کا جواب متعین ہے جس کے خلاف ممکن نہیں۔
ثم ذرہم فی خوضہم یلعبون پھر ان کو ان کے مشغلہ میں بےہودگی کے ساتھ لگا رہنے دیجئے۔ فی خوضہم کا تعلق ذَرْہَمْسے ہے اور یلعبونضمیر مفعول یعنی ہم سے یا حوضہم کی ضمیر سے حال ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فی خوضہمکا تعلق یعلبون سے ہو۔ خوض سے مراد ہیں یہودیوں کے باطل افکار۔
Ayah 6:92وہذا کتاب انزلنہ مبارک مصدق الذی بین یدیہ اور یہ بھی ایک عظیم الشان کتاب ہے جس کو ہم نے اتارا بڑی برکت والی ہے اپنے سے پہلی کتاب کو سچا بتانے والی ہے۔
یعنی یہ قرآن کثیر المنافع ہے۔ اس سے پہلے جو توریت (اللہ کی کتاب نازل ہوچکی) تھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ مبارک سے مراد کثیر الفوائد اور الذی بین یدیہ سے مراد توریت ہے۔
ولتنذر ام القری ومن حولہا (تاکہ تم اس سے نفع اٹھاؤ) اور مکہ والوں کو اور مکہ کے ہر سمت والوں کو ڈراؤ۔
وَلِتُنْزِرَکا عطف فعل محذوف پر ہے جس کے مفہوم کو لفظ مبارک بتارہا ہے یعنی تاکہ تم اس سے نفع اٹھاؤ اور تمام انسانوں کو ڈراؤ۔ ام القریٰمکہ۔ من حولہا سے مراد پورب پچھم اور جنوب و شمال غرض سارے اطراف کے رہنے والے۔ ام القری سے پہلے مضاف محذوف ہے یعنی ام القریٰ کے رہنے والے۔ مکہ کو ام القریٰ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اسی جگہ سے ساری زمین پھیلائی گئی۔ یا یہ وجہ ہے کہ دنیا کی تمام بستیوں کے باشندوں کا یہ قبلہ اور مقام حج ہے اوّل وجہ تسمیہ کی بنیاد پر ام بمعنی اصل ہوگا (اور دوسری وجہ تسمیہ کی صورت میں ام کے معنی مامو یعنی مقصود ہوگا)
والذین یومنون بالآخرۃ یومنون بہ وہم علی صلاتہم یحافظون اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس (پیغمبر یا قرآن) پر ایمان رکھتے ہیں اور وہی نماز کی پابندی کرتے ہیں۔ کیونکہ آخرت (کو یقنی چیز سمجھنے والا اور اس) پر ایمان رکھنے والا انجام سے ڈرتا رہتا ہے اور یہ ڈر ہی اس کو غور و فکر میں منہمک رکھتا ہے نتیجہ میں وہ پیغمبر پر ایمان رکھتا ہے اور قرآن پر بھی اور تمام طاعتوں کی بھی پابندی کرتا ہے تمام طاعات میں سے صرف نماز کا خصوصیت سے ذکر اس وجہ سے کیا کہ نماز دین کا ستون ہے۔ آیت میں درپردہ یہ بات بتانا ہے کہ یہودی جو قرآن اور محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں رکھتے حقیقت میں یہ نہ آخرت کو مانتے ہیں نہ حضرت موسیٰ کی لائی ہوئی کتاب کو ورنہ قرآن اور محمد ﷺ پر ان کا ایمان ضرور ہوتا کیونکہ قرآن توریت اور قیامت میں سے ہر ایک پر ایمان دوسرے پر ایمان رکھنے کو مستلزم ہے تینوں میں باہم تلازم ہے (ایک پر ایمان ہو دوسرے پر نہ ہو ایسا ہو نہیں سکتا)
Ayah 6:93ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اور اس شخص سے بڑھ کر بےجا حرکت کرنے والا کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ تہمت تراشی کرتا ہے جیسے مالک بن الضیف جو کہتا تھا کہ اللہ نے کسی آدمی پر کچھ نازل نہیں کیا۔ یا جیسے عمرو بن لحی اور اس کے پیرو جو کہتے تھے کہ اللہ نے سائبہ اور حام کو حرام کردیا ہے اور بعض قسم کے اونٹوں پر سوار ہونا اللہ کی طرف سے ناجائز کردیا گیا ہے اور ان جانوروں کے پیٹ کے بچے اگر زندہ برآمد ہوں تو مردوں کے لئے حلال ہیں عورتوں کے لئے حرام اور اگر مردہ برآمد ہوں تو سب کے لئے حلال ہیں۔
او قال اوحی الی ولم یوحر الیہ شی یا کہتا ہے کہ میرے پاس وحی آئی ہے حالانکہ اس کے پاس بالکل وہی نہیں آئی۔
بغوی نے لکھا ہے کہ برقول قتادہ اس آیت کا نزول مسیلمہ کذاب کے حق میں ہوا۔ یہ شخص کاہن تھا اور کاہنوں کی طرح کچھ مسجع فقرے بولتا تھا اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور کہتا تھا کہ میرے پاس وحی آتی ہے۔ ابن جریر نے عکرمہ کا بھی یہی بیان نقل کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس نے دو قاصد بھیجے تھے۔ حضور ﷺ نے قاصدوں سے دریافت کیا۔ کیا تم مسیلمہ کو نبی مانتے ہو قاصدوں نے کہا جی ہاں حضور ﷺ نے فرمایا اگر قاصدوں کو قتل نہ کرنے کا دستورنہ ہوتا تو میں تم دونوں کی گردن اڑا دیتا۔
بغوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں سو رہا تھا سونے کی حالت میں مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دے دی گئیں اور سونے کے دو کنگن میرے دونوں ہاتھوں میں ڈال دیئے گئے مجھے اس سے بڑی ناگواری اور رنج ہوا تو مجھے وحی کی گئی کہ ان دونوں پر پھونک مارو میں نے پھونک ماری کنگن فوراً غائب ہوگئے میں نے اس کی تعبیر دی کہ دونوں کنگنوں سے مراد دو کذاب ہیں ایک صنعا (یمن) والا دوسرا یمامہ والا۔ صنعاء والے سے حضور کی مراد اسود عنسی اور صاحب یمامہ سے مراد مسیلمہ کذاب تھا (ان دونوں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا)
ومن قال سا نزل مثل ما انزل اللہ اور وہ جو کہتا ہے کہ جیسا کلام اللہ نے نازل کیا ہے ایسا میں بھی لاتا ہوں۔ برقول بغوی اس آیت کا نزول عبداللہ بن ابی سرح کے حق میں ہوا ہے عبداللہ مسلمان ہوگیا تھا اور رسول اللہ ﷺ کا کاتب تھا لیکن (قرآن میں جس جگہ) حضور ﷺ سمیعاً بصیراً لکھواتے وہ علیماً حکیماً لکھتا اور جہاں علیماً حکیماً لکھواتے وہاں وہ غفوراً رحیماً لکھتا تھا جب آیت (ولقد خلقلنا الانسان من سلالۃ من طین) نازل ہوئی اور حضور ﷺ نے یہ آیت لکھوائی تو عبداللہ کو تخلیق انسانی کی یہ تفصیل بہت پسند آئی اور وہ فوراً بول اٹھا : (فتبارک اللّٰہ احسن الخالقین) حضور ﷺ نے فرمایا (آگے) یہ بھی لکھ دو یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ عبداللہ کے دل میں شک پیدا ہوگیا اگر محمد ﷺ (وحی کے دعوے میں) سچے ہیں تو جس طرح ان کے پاس وحی آتی ہے میرے پاس بھی آگئی (میں بھی نبی ہوگیا) اور اگر جھوٹے ہیں تو پھر جس طرح وہ کہتے ہیں۔ میں نے بھی کہہ دیا (نہ خدا کا کلام ان کا نہ میرا) اس کے بعد وہ مرتد ہوگیا اور مشرکوں سے جا ملا۔ ابن جریر ؓ نے عکرمہ اور سدی کی روایت سے بھی آیت : (تبارک اللہ احسن الخالقین) کے سلسلہ میں یہی قصہ بیان کیا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے جب رسول اللہ ﷺ مرالظہران میں فروکش تھے عبداللہ دوبارہ اسلام لے آیا تھا حافظ فتح الدین ابن سید الناس نے سیرت میں لکھا ہے کہ ابن ابی سرح نے حضرت عثمان ؓ بن عفان کی سفارش کرائی تھی رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کی سفارش کو قبول فرما لیا اس کے بعد عبداللہ ؓ : کا اسلامی کیرکٹر اچھا رہا کسی نے اس کے اسلام پر کوئی خوردہ گیری نہیں کی آخر سجدہ کی حالت میں عبداللہ کا انتقال ہوا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے آیت : (سَاُنْزِلَ مِثْلَ مَا اَنْزَل اللّٰہ) کے متعلق فرمایا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے کلام کو ٹھٹول (تختہ مشق ‘ 12) بناتے تھے اور لو نشاء لقلنا مثل ہذا کا یہ جواب ہے۔
میں کہتا ہوں اس سے مراد نضر بن حارث ہے جو سورة والنازعات غرقاً کے مقابلہ میں (بطور استہزاء) والطاحنات طحناً والعاجنات عجنا والخابزات خبزاً کہتا تھا (قسم ہے آٹا پیسنے اور گوندھنے اور روٹی پکانے والیوں کی)
ولو تری اذا الظلمون فی غمرات الموت اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جبکہ یہ ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوں گے۔ تریکا خطاب رسول اللہ ﷺ : کو ہے اور الظلمین مفعول محذوف ہے۔ الظلمون میں الف لام یا عہدی ہے اور مراد ہے یہودی اور نبوت کے جھوٹ دعویدار اور کلام اللہ سے استہزاء کرنے والے۔ یا الف لام جنسی ہے ان سب کو بھی شامل ہے اور دوسرے ظالموں (کافروں کو بھی لو حرف شرط ہے تریاس کی شرط ہے اور جزا محذوف ہے یعنی اگر آپ ظالمون کی حالت دیکھیں گے تو آپ کو ہیبت ناک منظر دکھائی دے گا۔ غَمَراتکا معنی ہے شدائد۔ یہ غمرۃ کی جمع ہے قاموس میں ہے غمرۃ الشئ کسی چیز کی شدت۔ وضعی معنی ہے ڈھانکنا غمرہ المائ اور اغْتَمَرُہ الْمَاءُاس کو پانی نے ڈھانک لیا ‘ اس کے بعد شدائد اور مصائب کے لئے اس لفظ کا استعمال کیا جانے لگا (کیونکہ شدائد بھی انسان کو محیط ہوجاتی ہیں اور ہر طرف سے چھا جاتی ہیں) صحاح میں ہے غمرکا اصل وضعی معنی ہے کسی چیز کے اثر کو زائل کردینا آب کثیر کو غمر اسی مناسبت کی وجہ سے کہتے ہیں۔ صاحب صحاح کی تحقیق کے بموجب آیت میں موت کی جانب غمرات کی اضافت بیانیہ ہوگی شدت موت کو غمرہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ موت زندگی کا اثر مٹا دیتی ہے۔
والملائکۃ باطسوا ایدیہم اخرجوا انفسکم اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے (اور کہہ رہے ہوں گے کہ) اپنی جانیں نکالو۔ یہ جملہ حالیہ ہے اور ضمیر کا مرجع محذوف ہے یعنی سختی کے ساتھ تقاضا کرنے والے قرض خواہ کی طرح جھڑک کر اور درشتی کے ساتھ روحوں کو قبض کرنے یا عذاب دینے کے لئے فرشتے ان سے کہیں گے کہ اپنی جانوں کو جسموں کے اندر سے نکالو یا عذاب سے بچاؤ۔
الیوم آج مرنے کے وقت سے غیر متناہی مدت تک۔
تجزون عذاب الہون تم کو عذاب ذلت کی سزا دی جائے گی ‘ یعنی وہ عذاب دیا جائے گا جس میں ذلت اور شدت ہوگی۔
بما کنتم تقولون علی اللہ غیر الحق کیونکہ تم اللہ پر جھوٹی افترا بندی کیا کرتے تھے۔
اس کو صاحب اولاد کہتے تھے۔ مخلوق کو اس کا شریک قرار دیتے تھے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتے تھے اور باوجود وحی نہ آنے کے کہتے تھے کہ ہماری پاس وحی آئی ہے۔
وکنتم عن ایتہ تستکبرون اور تم اللہ کی آیات یعنی قرآنی آیات یا دلائل توحید سے تکبر کرتے تھے۔
نہ ان پر غور کرتے تھے نہ ان کو مانتے تھے۔ ابن جریر وغیرہ نے عکرمہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ نضر بن حارث نے کہا تھا لات اور عزی اللہ کے سامنے ہمارے سفارش کریں گے اس پر مندرجۂ ذیل آیت نازل ہوئی۔