Ayah 6:141وہو الذی انشا جنت معروشت وغیر معروشت . اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کئے جن کے کچھ پیڑوں کو ٹٹیوں پر چڑھایا جاتا ہے اور کچھ پیڑوں کو ٹٹیوں پر نہیں چڑھایا جاتا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی تشریح میں فرمایا معروشت : زمین پر پھیلنے والی بیلیں جن کو ٹٹیوں پر پھیلایا جاتا ہے جیسے کدو اور انگور اور خربوزہ کی بیلیں۔ اور غیر معروشات وہ پودے اور درخت جن کا تنہ اور ڈنڈی ہوتی ہے جس پر وہ کھڑے ہوتے ہیں جیسے کھجور کا درخت اور (جو گیہوں وغیرہ کی) کھیتی۔ ضحاک نے کہا معروشات : اور غیر معروشات دونوں سے مراد انگور کی بیلیں ہیں اول سے مراد وہ بیلیں ہیں جن کو لوگ بوتے اور ٹٹیوں پر پھیلاتے ہیں اور دوسرے سے مراد وہ بیلیں ہیں جو خود رو جنگلوں اور پہاڑوں میں ہوتی ہیں کوئی ان کے لئے ٹٹیاں نہیں باندھتا۔
والنخل والزرع مختلف اکلہ . اور کھجور کے درخت اور کھیتی جس کے پھل مختلف ہیں۔ اکل : پھل یعنی جس کے پھل رنگ بو اور مزہ میں جدا جدا ہیں۔ اکلہ : کی ضمیر الزرع : کی طرف راجع ہے یا النخل : کی طرف راجع ہے اور زرع نخل : کے حکم میں داخل ہے کیونکہ زرع : کا عطف نخل پر ہے یا دونوں کی طرف راجع ہے اس وقت اکلہ : کا معنی ہوگا اکل کل واحد منہما۔ مختلفا : حال مقدرہ ہے کیونکہ پیدا کرنے کے وقت تو پھل نہیں ہوتا (اور حال ذوالحال کا زمانہ ایک ہونا چاہئے)
والزیتون والرمان متشابہا وغیر متشابہ . اور زیتون اور انار (کچھ) آپس میں ہم شکل اور (کچھ) الگ الگ شکلوں والے۔
کلوا من ثمرہ اذا اثمر . ان سب کی پیداوار کھاؤ جب نکل آئے۔ یعنی ان میں سے ہر ایک کا پھل نمودار ہوتے ہی کھا سکتے ہو پکنے کی ضرورت نہیں۔ اذا اثمر : کی قید کا فائدہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مالک کے لئے۔ ادائے حق شرعی سے پہلے خود کھانے کی اجازت مستفاد ہو رہی ہے۔
واتوا حقہ یوم حصادہ . اور اس میں جو حق (شرع سے) واجب ہے۔ کاٹنے (یا توڑنے) کے دن مسکینوں کو دیا کرو۔ حصاد : اور حصاد : بالفتح اور بالکسر دونوں ہم معنی ہیں جیسے صرام : اور صرام جزار جزار : حق سے کیا مراد ہے۔ اس کے متعلق علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ ‘ طاؤس ‘ حسن ‘ جابر بن زید اور سعید بن مسیب کے نزدیک اس سے مراد فرض زکوٰۃ ہے یعنی عشر ( 10/1) یا نصف عشر (20/1) کیونکہ امر وجوب کے لئے ہے اور حق کا استعمال عام طور پر واجب ہی کے لئے ہوتا ہے پھر اجماع علماء بھی ہے کہ مال میں سوائے زکوٰۃ کے اور کوئی چیز واجب نہیں۔ صحیحین میں حضرت طلحہ بن عبداللہ کی روایت سے آیا ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام کے متعلق دریافت کرنے لگا۔ حضور نے پانچ نمازوں کا ماہ رمضان کے روزوں کا اور زکوٰۃ کا ذکر فرمایا اس شخص نے عرض کیا کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی کچھ (لازم) ہوگا فرمایا نہیں۔ ہاں اگر تو اپنی خوشی سے (کچھ اور کار خیر اور نفل عبادت وغیرہ) کرے تو خیر۔
اس قول کے بموجب یہ آیت مدنی قرار پائے گی اس صورت پر آیت میں امام ابوحنیفہ (رح) کے قول کی دلیل بھی مل جائے گی کہ انار جیسے پھلوں میں (بھی) زکوٰۃ واجب ہے۔ امام مالک اور امام شافعی کا قول اس کے خلاف ہے ان دونوں اماموں کے نزدیک زکوٰۃ کا وجوب صرف انہی چیزوں میں ہے جو روزی کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ سورة بقرہ کی آیت انفقوا من طیبت ما کسبتم ومما اخرجنا لکم من الارض : کی تفسیر کے ذیل میں کھیتی کی زکوٰۃ کے مسائل کی تفصیل گزر چکی ہے۔
امام زین العابدین ‘ عطا ‘ مجاہد اور حماد کا قول ہے کہ آیت میں جس حق کا ذکر ہے اس سے مراد زکوٰۃ کے علاوہ حق ہے جس کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ آیت مکی ہے اور زکوٰۃ کی فرضیت مدینہ میں ہوئی۔ ابراہیم نے کہا حق سے مراد ہے ایک گٹھا۔ ربیع نے کہا سبلا (گری پڑی بالیں) مراد ہے۔ نحاس نے کہا ناسخ میں اور ابن مردویہ نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کے ذیل میں فرمایا (حق سے مراد) گری پڑی بالیں ہیں مجاہد نے کہا کھجوریں کاٹنے کے وقت لوگ ایک گچھا لٹکا دیا کرتے تھے ادھر سے جو گزرتا تھا کھالیا کرتا تھا۔ یزید بن اصم کا بیان ہے کہ اہل مدینہ جب کھجوریں کاٹتے تھے تو ان کا ایک خوشہ لا کر مسجد کے ایک گوشہ میں لٹکا دیا کرتے تھے اور مسکین آکر لاٹھی مار کر اس میں سے کھجوریں گرا کرلے لیتا تھا۔ اس قول کی تائید حضرت فاطمہ ؓ بنت قیس کی روایت سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی (فقراء کا کچھ) حق ہے پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لیس البر ان تولوا وجوہکم قبل المشرق والمغرب : رواہ الترمذی وابن ماجۃ والدارمی اس آیت کی تفسیر سورة بقرہ میں گزرچکی ہے اور حق سے مراد عام ہے وجوبی ہو یا استحبابی۔ سعید بن جبیر نے فرمایا ابتداء اسلام میں یہ حق تھا جس کو ادا کرنے کا حکم دیا جاتا تھا پھر جب عشر واجب کردیا گیا تو یہ حکم منسوخ کردیا گیا۔ مقسم نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ قرآن میں جس نفقہ ( اللہ کی راہ میں خرچ کرنے) کا بھی حکم دیا گیا ہے زکوٰۃ نے اس (کے وجوب) کو منسوخ کردیا۔
ولا تسرفوا انہ لا یحب المسرفین . اور اسراف نہ کرو اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ اسراف میانہ روی کی ضد ہے کذا فی القاموس۔ صحاح میں ہے ہر کام میں حد سے آگے بڑھنے کو اسراف کہتے ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ اس جگہ اسراف سے مراد ہے کل مال دے دینا۔ بیضاوی نے کہا یہ آیت ویسی ہی جیسی آیت ولا تبسطہا کل البسط : (ہاتھ کو بالکل نہ کھول دو ) ہے۔ بروایت کلبی حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ حضرت ثابت بن قیس بن شماس نے پانچ سو درختوں کی کھجوریں توڑ کر ایک دن (غریبوں کو) کو تقسیم کردیں اور گھر والوں کے لئے کچھ نہ چھوڑا اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی کذا اخرج ابن جریر عن ابن جریج۔ بغوی نے سدی کا قول نقل کیا ہے کہ لا تسرفوا : سے مراد یہ ہے کہ اپنا تمام مال نہ دے دو ورنہ فقیر ہو کر بیٹھ رہو گے۔
میں کہتا ہوں سارا مال دینا اس وقت ممنوع اور اسراف قرار پائے گا جب اپنے متعلقین اور بال بچوں کی حق تلفی کی ہو اور حق داروں کے حقوق نہ دیئے ہوں مستحقین کے حقوق ادا کرنے کے بعد اگر بقیہ سارا مال اللہ کی راہ میں دے دے تو یہ اسراف نہیں بلکہ افضل ہے کذا قال الزجاج۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میرے پاس (کوہ) احد کے برابر سونا ہو تو مجھے اس سے خوشی ہوگی کہ تین رات بھی اس میں سے میرے پاس سوائے اتنی مقدار کے جس کو میں قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں اور کچھ باقی نہ رہے۔ رواہ البخاری۔
ایک بار حضرت ابوذر ؓ نے حضرت عثمان ؓ سے داخلہ کی اجازت چاہی حضرت عثمان ؓ نے اجازت دے دی حضرت ابوذر ؓ لاٹھی ہاتھ میں لئے اندر پہنچ گئے۔ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا عبدالرحمن ؓ بن عوف نے اپنے بعد کچھ مال ترکہ میں چھوڑا ہے کعب بتاؤ اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے حضرت کعب ؓ نے کہا اگر اس میں اللہ کا حق پہنچتا ہے تو کوئی ہرج نہیں۔ یہ سنتے ہی ابوذر ؓ نے لاٹھی اٹھا کر کعب ؓ کے ماری اور بولے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا آپ فرما رہے تھے اگر میرے پاس اس پہاڑ کے برابر سونا ہو اور میں اللہ کی راہ میں اس کو خرچ کر دوں اور اللہ قبول فرما لے تو مجھے پسند نہیں کہ اس میں سے چھ اوقیہ بھی اپنے بعد چھوڑ کر جاؤں عثمان ؓ میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے بھی رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے۔ حضرت ابوذر ؓ نے یہ سوال تین بار کیا۔ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا۔ ہاں۔ رواہ احمد۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت بلال ؓ کے پاس تشریف لے گئے بلال کے پاس اس وقت چھواروں کا ڈھیر لگا ہوا تھا حضور ﷺ نے پوچھا بلال ؓ یہ کیا ہے۔ بلال نے عرض کیا میں نے کل کے لئے رکھ چھوڑا ہے فرمایا کیا تم کو ڈر نہیں لگتا کہ اس (ذخیرہ) کی بھاپ (گھٹن) دوزخ کے اندر کل تم کو محسوس ہوگی۔ بلال ؓ خرچ کر اور عرش والے کی طرف سے کمی کرنے کا اندیشہ نہ کر۔ بیہقی فی شعب الایمان۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کون سا صدقہ (خیرا) سب سے اعلیٰ ہے فرمایا تنگدست کی محنت کی کمائی سے بقدر طاقت (خیرات کرنی سب سے) افضل ہے اور دینا شروع اپنے عیال سے کرو۔ رواہ ابو داؤد۔
سعید بن مسیب کے نزدیک لا تسرفوا : کا مطلب ہے صدقہ کو نہ روکو یعنی روکنے اور نہ دینے میں اتنی حد سے نہ بڑھو کہ واجب صدقہ کو بھی روکنے لگو۔
مقاتل نے کہا لا تسرفوا : سے یہ مراد ہے کہ کھیتی اور چوپایوں میں بتوں کو شریک نہ بناؤ۔ زہری نے کہا اسراف نہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ گناہ کے کام میں خرچ نہ کرو۔ مجاہد نے کہا اسراف سے مراد ہے اللہ کے حق میں کوتاہی کرنا اگر کوہ ابوقیس کے برابر کسی کے پاس سونا ہو اور وہ اللہ کی اطاعت میں سب خرچ کر دے تو مسرف نہ ہوگا لیکن اللہ کی نافرمانی میں ایک درہم یا ایک سیر بھی صرف کیا تو مسرف ہوجائے گا۔ ایاس بن معاویہ نے کہا اللہ کے حکم کی حد سے ہٹنا سرف اور اسراف ہے۔
ابن وہب نے ابو زید کا قول نقل کیا ہے کہ لا تسرفوا : کے مخاطب حکام ہیں اللہ نے حاکموں کو حکم دیا ہے کہ اپنے حق سے زائد نہ لینا اس قول پر آیت کا مطلب وہی ہوگا جو حدیث ایاکم و کرائم اموال الناس۔ : کا ہے۔ (لوگوں کا سب سے بڑھیا مال زکوٰۃ میں وصول کرنے سے اجتناب کرو)
Ayah 6:142ومن الانعام حمولۃ وفرشا کلوا مما رزقکم اللہ ولا تتبعوا خطوات الشیطن انہ لکم عدو مبین . اور مویشیوں میں اونچے قد کے اور چھوٹے قد کے جو کچھ اللہ نے تم کو دیا
ہے کھاؤ اور شیطان کے قدم بقدم نہ چلو بلاشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔
حمولۃ : سواری یا باربرداری کے جانور جیسے اونٹ بیل۔ فرشاً : وہ پست قد چھوٹے جانور جو سواری یا باربرداری کے کام میں نہیں آتے جیسے بھیڑ ‘ بکری اور اونٹ اور گائے کے بچے۔ کلوا : میں امر اباحت کے لئے ہے یعنی کھا سکتے ہو کھانے کی اجازت ہے مما : میں من : تبیعضیہ ہے کیونکہ اللہ نے جو رزق دیا ہے وہ سب تو نہیں کھایا جاسکتا۔ شیطان کی پیروی نہ کرو کا یہ مطلب ہے کہ شیطانی راستہ پر نہ چلو کہ حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دینے لگو۔ حمولۃ وفرشا : کا عطف جنتٍ : پر ہے یعنی اللہ نے یہ جانور بھی پیدا کئے۔
Ayah 6:143ثمنیۃ ازواج من الضان اثنین ومن المعز اثنین قلء الذکرین حرم ام الانثین اما اشتملت علیہ ارحام الانثیین نبونی بعلم ان کنتم صدقین : (اور یہ مواشی) آٹھ نر و مادہ (پیدا کئے) یعنی بھیڑ (اور دنبہ) میں دو قسم (نر و مادہ) اور بکری میں دو قسم (نر و مادہ) آپ ان سے کہئے کہ کیا اللہ نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں کو یا اس بچہ کو جس کو دونوں مادہ اپنے پیٹ میں لئے ہوئے ہوں تم مجھے کسی دلیل سے تو بتلاؤ اگر تم سچے ہو
Ayah 6:144ومن الابل اثنین ومن البقر اثنین قلء الذکرین حرم ام الانثیین اما اشتملت علیہ ارحام الانثیین اور اونٹ میں دو قسم اور گائے (بھینس) میں دو قسم آپ کہئے کہ اللہ نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مادہ کو یا اس مادہ کو جس کو دونوں مادہ اپنے پیٹ میں لئے ہوں ہوں۔ ثمانیۃ ازواج حمولۃ و فرشا : سے بدل ہے یا کلوا : کا مفعول ہے یا مَا : سے حال ہے اور ازواج : سے مراد ہیں مختلف یا متعدد۔ زوج وہ واحد (مذکر یا مؤنث) جس کا ہم جنس کوئی جوڑا ہو (مذکر ہو یا مؤنث) کبھی دو (ہم جنس) کے مجموعہ کو بھی زوج کہا جاتا ہے یہاں مراد اول معنی ہے۔ ضمان اسم جنس ہے (مذکر مونث) واحد جمع سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے) اس کی جمع ضئین : ہے یا ضان ضائن : کی جمع ہے جس کا مونث ضائنۃ : اور ضائنۃ : کی جمع ضوائن : ہے۔ اون والی بھیڑ کو ضان کہتے ہیں۔ اثنین : دو یعنی مذکر اور مونث۔ مذکر میڈھا مؤنث بھیڑ۔ معز بالوں والی بکری یا بکرا۔ معز ماعز : کی جمع ہے جیسے صحب صاحب : کی ‘ بغوی نے لکھا ہے کہ معز جمع ہے مگر اس کا واحد نہیں۔ ماعز کی جمع معزی اور ماعزۃ کی مواعز آتی ہے۔ اول الذکرین سے مینڈھا اور بکرا مراد ہیں اور اول انثیین : سے بھیڑ اور بکری اور ما اشتملت علیہ ارحام الانثیین : سے مراد ہیں بھیڑ بکری کے پیٹ کے اندر کے بچے خواہ نر ہوں یا مادہ۔ اسی طرح الابل : اور البقر : ہیں (دونوں کا اطلاق نر و مادہ پر ہوتا ہے) خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ کیا اللہ نے بھیڑ مینڈھا یا ان کے شکمی نر مادہ بچے حرام کئے ہیں یا بکری بکرا یا ان کے پیٹ کے بچے یا اونٹنی اونٹ گائے بیل اور ان کے شکمی۔ بچے اگر اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا کوئی حکم ہو جس سے تمہارے خود ساختہ حرام کی اللہ کی طرف سے حرمت ثابت ہو رہی ہو تو پیش کرو اگر تحریم کے دعوے میں سچے ہو تو اللہ کا حکم لاؤ۔ بات یہ تھی کہ مشرک کہتے تھے ہذہ ارحام وحرث حجر : (یہ چوپائے اور کھیتی ممنوع الاستعمال ہیں) ار یہ بھی کہتے تھے ما فی بطون ہذہ الانعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازواجنا : ان چوپایوں کے پیٹ سے جو بچے زندہ برآمد ہوں وہ صرف مردوں کے لئے حلال ہیں عورتوں کے لئے حرام ہیں اور اگر مردہ برآمد ہوں تو سب کے لئے حلال ہیں وہ بحیرۂ سائبہ وصیلہ اور حام میں سے بھی بعض کو عورتوں کے لئے اور بعض کو مردوں اور عورتوں سب کے لئے حرام قرار دیتے تھے احکام اسلامی کے نزول کے بعد ابوالاحوص مالک بن عوف جشمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا محمد ہم کو اطلاع ملی ہے کہ تم ہمارے باپ دادا کے بعض اعمال و افعال کو حرام قرار دیتے ہو حضور ﷺ نے فرمایا تم نے بعض قسم کے چوپایوں کو بےدلیل حرام بنا رکھا ہے اللہ نے یہ آٹھوں طرح کے جانور کھانے اور فائدہ حاصل کرنے کے لئے پیدا کئے ہیں یہ حرمت کس طرف سے آئی نر کی طرف سے یا مادہ کی طرف سے۔ مالک بن عوف متحیر ہو کر لاجواب ہوگیا نہ یہ کہتے بن پڑی کہ نر کی طرف سے حرمت آئی ورنہ سب نروں کو حرام کہنا پڑتا نہ یہ کہہ سکا کہ حرمت مادہ کی طرف سے آئی ورنہ ہر مادہ کی حرمت کا قائل ہونا پڑتا اور اگر پیٹ کے اندر (پیدا) ہونے کی وجہ سے حرمت کا قائل ہوتا تو نر مادہ سب کو حرام کہنا پڑتا پانچویں ساتویں حمل کی تخصیص کی وجہ نہیں نہ اس کی کوئی وجہ کہ عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام قرار دیا جائے روایت میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے مالک سے فرمایا مالک بولتے کیوں نہیں (بات کہو) مالک نے کہا آپ بولے جائیے میں آپ ی بات سن رہا ہوں۔
ام کنتم شہدآء اذ وصکم اللہ بہذا فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا لیضل الناس بغیر علم ان اللہ لا یہدی القوم الظلمین . کیا تم اس وقت حاضر تھے جس وقت اللہ نے تم کو اس
(تحلیل و تحریم) کا حکم دیا (اگر ایسا نہیں) تو اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر بلادلیل جھوٹی تہمت لگائے تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے بیشک اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔
ام : بمعنی بل : ہے کنتم : سے خطاب اہل مکہ کو ہے ہذا : سے اشارہ تحریم کی جانب ہے من افتری : سے مراد عمر بن لحی اور وہ لوگ ہیں جو بعد کو اس کے طریقہ پر چلے خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ اے اہل مکہ کیا تم اس وقت حاضر اور موجود تھے جب اللہ نے تم کو اس تحریم کا حکم دیا تھا تمہارا ایمان نہ تو کسی نبی پر ہے نہ اللہ کی کسی کتاب پر پھر جاننے کا طریقہ سوائے دیکھنے اور سننے کے اور کوئی نہیں (لامحالہ تم کو اس وقت موجود ہونا چاہئے اور موجود نہ تھے تو علم کس طرح ہوا) جو شخص تحریم و تحلیل کے سلسلہ میں اللہ پر جھوٹی افترا بندی کرے اس سے بڑھ کر ظالم (بیجا کوش) اور کوئی نہیں ہوسکتا اس کی افترا بندی کی غرض صرف یہ (ہو سکتی) ہے کہ راہ مستقیم سے وہ لوگوں کو بہکا دے ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں کرتا۔
روایت میں آیا ہے کہ اس کے بعد لوگوں نے دریافت کیا کہ حرام کیا کیا چیزیں ہیں تو مندرجۂ ذیل آیت کا نزول ہوا۔
Ayah 6:145قل لا اجد فی ما اوحی الی . آپ کہہ دیجئے میں نہیں پاتا ان ہدایات میں جو مجھے وحی کی گئی ہیں۔ اس جگہ وحی سے مراد صرف قرآن ہی نہیں بلکہ عام وحی مراد ہے۔ مشرکوں نے بحیرہ وغیرہ کی از خود تحریم کر رکھی تھی اللہ کے حکم کا ان کو علم نہ تھا ان کی تردید کے لئے اس آیت کا نزول ہوا اور تکمیل تردید اسی وقت ہوگی جب عام وحی مراد لی جائے کیونکہ کلام کی اصل غرض یہ ہے کہ تحریم تحلیل وغیرہ کا حکم وحی سے ہی معلوم ہوسکتا ہے اپنی طرف سے نہیں کیا جاسکتا۔
اجد : اس جگہ افعال قلوب میں سے ہے جو دو مفعول چاہتا ہے پہلا مفعول (طعاماً ) محذوف ہے اور دوسرا مفعول محرماً ہے یعنی میں کسی غذا کو حرام نہیں جانتا۔
محرما علی طاعم یطعمہ . کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے۔ اکثر اہل تفسیر نے محرماً سے پہلے طعاماً محذوف مانا ہے تاکہ آئندہ خنزیر کا اس سے استثناء متصل صحیح ہوجائے۔
الا ان یکون میتۃ . مگر یہ کہ وہ غذا مردار ہو۔ میتۃ وہ مردار جانور جو بغیر کسی انسان کے فعل کے خود (بغیر مارے) مرا ہو اس تعریف کے بموجب جب وہ جانور جو لاٹھی یا پتھر کی ضرب سے یا اوپر سے لڑھک کر یا آپس کی ٹکر سے مرا ہو یا کسی درندہ نے اس کو کھالیا تو میتۃ میں داخل نہ ہوگا۔ سورة مائدہ آیت حرمت علیکم المیتۃ : پر (مذکور اقسام کا) عطف اسی پر دلالت کر رہا ہے اس کے علاوہ یہ بات بھی اسی قول کی تائید کرتی ہے کہ کافروں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا محمد ﷺ تم کہتے ہو کہ تمہارا اور تمہارے ساتیھوں کا قتل کیا ہوا جانور تو حلال ہے اور جس کو کتے یا شکاری پرندے نے قتل کیا ہو وہ بھی حلال ہے اور جس کو اللہ نے (بغیر انسانی عمل اور شکاری جانور کے شکار کرنے کے) مار ڈالا ہو وہ حرام ہے۔ مذکورہ بالا جانوروں کی حرمت دوسری آیت سے ثابت ہوتی ہے (اس آیت سے ثابت نہیں ہوتی)
او دما مسفوحا . یا بہتا ہوا خون ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس سے مراد وہ سیال خون ہے جو زندہ جانور کی گردن کی رگوں سے ذبح کرتے وقت نکلتا ہے اس میں جگر اور طحال داخل نہیں ہے کیونکہ یہ دونوں جامد خون ہوتے ہیں۔ شریعت کی صراحت اور اجماع علماء نے دونوں کو حلال کہا ہے وہ خون بھی اس میں شامل نہیں ہے جو گوشت کے ساتھ مخلوط رہ جاتا ہے کیونکہ وہ سیال نہیں ہوتا۔
او لحم خنزیر فانہ رجس . یاخنزیر کا گوشت ہو پس بلاشبہ وہ گندگی ہے یعنی خنزیر ناپاک ہے۔ قرب کی وجہ سے ہٗ : کی ضمیر خنزیر کی طرف راجع ہے۔ اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ خنزیر عین نجاست ہے اسی لئے اس کے کسی جز کی بیع یا اس سے انتفاع درست نہیں۔
او فسقا اہل لغیر اللہ بہ . یا جو (جانور) فسق کا ذریعہ ہو کہ غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو۔
فسقاً : کا عطف لحم خنزیر پر ہے اور اہل لغیر اللہ بہ فسقاً : کی صفت ہے اور فانہ رجس : جملہ متعرضہ ہے بتوں کے نام پر بھینٹ کئے ہوئے جانور کو اللہ نے فسق اس لئے فرمایا کہ اس عمل کا فسق میں انتہائی توغل ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فسقا اہل بہ : کا مفعولہ لہٗ ہو۔ اور اہل : کا عطف یکون : پر ہو اور جو یکون : کا اسم ہے وہی اہل : کا نائب فاعل ہو اس وقت ترجمہ اس طرح ہوگا یا وہ غیر اللہ کے نام پر اللہ کے حکم کی مخالفت کر کے ذبح کیا گیا ہو۔
فمن اضطر . پھر جو بےتاب ہوجائے یعنی ضرورت اس کو مذکورۂ بالا اشیاء میں سے کسی چیز کو کھانے پر مجبور کر دے۔
غیر باغ .(بشرطیکہ) لذت اور خواہش کا طالب نہ ہو۔
ولا عاد . اور نہ (قدر ضرورت سے) تجاوز کرنے والا ہو۔
فان ربک غفور رحیم . تو بلاشبہ آپ کا رب بخشنے والا مہربان ہے۔ اس کا مواخذہ نہ کرے گا۔ سورة بقرہ میں بھی اسی مضمون کی آیت گزر چکی ہے اور ہم نے اس سے متعلقہ مباحث کا وہاں ذکر کردیا ہے۔
مسئلہ : بعض علماء کا قول ہے کہ اس آیت میں جن چیزوں کو کھانے کی ممانعت کردی گئی ہے صرف انہی کو کھانا نص قرآنی سے حرام ہے خبر احاد سے قرآن کے حکم کو منسوخ قرار دینا جائز نہیں۔ حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس ؓ کی طرف بھی اس قول کی نسبت بعض روایات میں کی گئی ہے اور امام مالک (رح) کا بھی یہی مسلک ہے حدیث میں جن جن چیزوں کی ممانعت آئی ہے امام مالک کے نزدیک اس ممانعت سے کراہت مراد ہے (یعنی ممانعت تحریمی نہیں ہے) ان علماء کے نزدیک گلا گھونٹے ہوئے جانور اور کسی ضرب سے کوٹے ہوئے جانور کا شمار بھی میتہ میں ہے بلکہ سورة مائدہ میں جن جانوروں کی ممانعت کی گئی ہے وہ سب ان کے نزدیک میتہ میں داخل ہیں۔ (1) [ علامہ جلال الدین سیوطی نے اتقان میں لکھا ہے کہ امام شافعی نے اس آیت کی تشریح میں حسب ذیل صراحت کی، کافروں نے جب اللہ کے حرام کردہ کو حلال اور حلال کردہ کو حرام قرار دیا تو اس کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی گویا اللہ نے اس طرح فرمایا کہ جن چوپایوں (بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، حاموغیرہ) کو تم نے حرام قرار دے رکھا ہے وہ تو حلال ہی ہیں اور جن چیزوں (مردار، بہتا ہوا خون، خنزیر کا گوشت وغیرہ) کو تم نے حلال سمجھ رکھا ہے وہ حرام ہی ہیں اگر کوئی کسی سے کہے آج تم مٹھائی نہ کھاؤ اور وہ جواب میں کہے میں تو آج مٹھائی ہی کھاؤں گا اور کچھ نہیں کھاؤں گا تو یہ حکم دینے والے کے حکم کی ضد کا اظہار ہوگا، یہ آیت بھی اسی ذیل میں داخل ہے۔ اس میں بھی کافروں کی خود ساختہ تحلیل و تحریم کی ضد کا اظہار مقصود ہے حقیقی (منطقی) نفی و اثبات مقصود نہیں ہے۔ امام الحرمین نے اس تاویل کو پسند کیا ہے اور لکھا ہے یہ بہت اچھا مطلب ہے ]
میں کہتا ہوں ان اقسام کا جن کا ذکر سورة مائدہ میں آیا ہے میتہ میں شمار نہیں کیا جاسکتا اس کی وجہ ہم نے اوپر ذکر کردی ہے (کہ ان اقسام کا عطف میتہ پر کیا گیا ہے اور معطوف کو معطوف علیہ سے مغائر ہونا چاہئے) امام ابوحنیفہ ‘ امام شافعی (رح) امام احمد اور اکثر علماء قائل ہیں کہ حکم تحریم انہی چیزوں میں محود نہیں ہے جن کا ذکر اس آیت میں آیا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے محکم ہے کیونکہ اس آیت سے تو اتنا ثابت ہوتا ہے کہ اس آیت کے وقت نزول تک کسی اور چیز کی حرمت وحی میں نہیں آئی اس سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ کسی اور چیز کی تحریم (کبھی) نہیں ہوئی لہٰذا خبر احاد سے آیت قرآنی کا منسوخ ہونا لازم نہیں آتا۔ میرے نزدیک بیضاوی کا یہ قول غلط ہے کیونکہ کوئی آیت ہو یا حدیث اگر اس کے اندر کوئی حکم دیا گیا ہو اور دوامی یا وقتی کی کوئی قید نہ لگائی گئی ہو تو بظاہر استصحاب (کسی حکم کو سابق حالت پر چھوڑدینا) پر نظر کرتے ہوئے وہ حکم دوامی ہوگا اور اللہ کے علم میں وہ ایک معین وقت کے لئے ہوگا اسی قسم کی نص قابل نسخ ہوتی ہے پس ناسخ حقیقت میں مدت حکم کا اظہار ہوتا ہے اسی لئے نسخ کو بیان تبدیل کہا جاتا ہے ورنہ لازم آئے گا کہ اللہ کو جدید حکم کی خوبی اب معلوم ہوئی پہلے سے معلوم نہ تھی اور یہ محال ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اس آیت سے اشیاء مذکورہ کے علاوہ ہر چیز کی حلت معلوم ہو رہی ہے اور حلت غیر مقید ہے نہ اس میں دوامی کی قید ہے نہ وقتی کی اسی لئے بحیرہ وغیرہ کی تحریم کی اس آیت سے تردید ہو رہی ہے اور بعض حلال چیزوں کی آئندہ تحریم کا احتمال باقی ہے لیکن تحریم بعض اشیاء کا یہ احتمال اس امر کے منافی اور مخالف نہیں کہ مذکورہ اقسام کے علاوہ تمام اشیاء کی حلت حکم شرعی ہے جو قرآن کی صراحت سے ثابت ہے۔ پس اس کے بعد حدیث میں جو بعض دوسری اشیاء کی حرمت کا حکم آیا ہے وہ یقیناً اس حلت کا ناسخ ہوگا اور نسخ کتاب حدیث سے لازم آجائے گا لہٰذا بہترین جواب یہ ہے کہ اس جگہ آیت عام ہے اور سورة مائدہ والی آیت میں جو منخقہ : اور موقوذہ وغیرہ کی حرمت کا ذکر آیا ہے اس سے اس کی عام حلت سے بعض اقسام کی حرمت کو خاص کرلیا گیا بلکہ تحریم شراب کو بھی اس سے خاص کرلیا گیا کیونکہ شراب بھی طعام ہی کی ایک قسم ہے اللہ نے شراب کے متعلق ہی فرمایا ہے لیس علی الذین امنوا وعملوا الصلحت جناح فیما طعموا : گویا یہ آیت اب عام مطلق نہیں بلکہ عام مخصوص البعض ہوگئی مگر یہ تخصیص دوسری آیت سے ہوئی ہے اس کے بعد اس عام مخصوص البعض کی مزید تخصیص خبر احاد سے ہوگئی اور یہ جائز ہے بلکہ عام مخصوص البعض کی مزید تخصیص تو قیاس سے بھی ہوسکتی ہے اگر دونوں تخصیصیں ایک وقت میں ہونے کی شرط لگائی جائے تو یہ شرط قابل تسلیم نہیں۔ تخیص میں اختلاف زمانہ جائز ہے کلام مستقل کے حکم سے جو جدید حکم بعض افراد کو خارج کر دے وہ مخصص ہے خواہ ایک زمانہ میں دونوں حکم ہوں یا آگے پیچھے مختلف اوقات میں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ تخصیص ہے (اول کتاب کی تخصیص کتاب کے ذریعہ سے پھر کتاب کے عام مخصوص البعض کی تخصیص حدیث کے ذریعہ سے) نسخ نہیں ہے ناسخ تو وہ ہوگا جو تمام افراد کے حکم کو سلب کر دے اور اگر دونوں تخصیصوں کے ہم زمانہ ہونے کی شرط مان بھی لی جائے تب بھی کہا جاسکتا ہے کہ میتہ اور دم وغیرہ کے علاوہ تمام حیوانات کی حلت جو اس آیت سے مستفاد ہو رہی ہے وہ تحریم خبائث والی آیت سے منسوخ ہے اللہ نے فرمایا ہے بامرہم بالمعروف دینہا ہم عن المنکر ویحل لہم الطیبت ویحرم علیہم الخبائث : مگر طیبت اور خبائث میں اجمال ہے جو بیان کا محتاج ہے اور اس کا بیان اس حدیث میں آگیا ہے جس میں درندوں اور خانگی گدھوں کے گوشت کی حرمت ظاہر کی گئی ہے (گویا حدیث نہ قرآن کی ناسخ ہے نہ مخصص بلکہ کتاب کے مجمل کا بیان ہے) یا ہم کہیں گے کہ یہ احادیث اگرچہ اخبار احاد میں سے ہیں مگر قرآن تمام امت نے ان کو قبول کیا ہے یہاں تک کہ امام مالک جو تحریم سباع کے قائل نہیں ہیں انہوں نے بھی ان کو صحیح مانا ہے کیونکہ انہی احادیث کی بنا پر آپ سباع وغیرہ کو مکروہ تحریمی کہتے ہیں لہٰذا ان احادیث کی صحت اجماع مسلمہ ہوگئی اور اس اجماعی تسلیم کی وجہ سے ان کو قطعیت کا درجہ حاصل ہوگا پس ان احادیث سے کتاب کے حکم کا منسوخ ہونا جائز ہوگیا۔
بجو ‘ لومڑی ‘ گھونس اور گوہ کے متعلق جو علماء کا اختلاف ہے وہ امام ابوحنیفہ (رح) کے خلاف نہیں جاتا کیونکہ امام صاحب بجو اور لومڑی کو درندوں میں اور گھونس اور گوہ کو حشرات میں شمار کرتے ہیں اور سباع و حشرات کی حرمت میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔ اختلاف تو صرف اس امر میں ہے کہ یہ جانور سباع و حشرات میں داخل ہیں یا نہیں۔ حلال و حرام جانوروں کے مسائل کی تفصیل ہم نے سورة مائدہ کی آیت الیوم احل لکم الطیبت : کی تفسیر کے ذیل میں کردی ہے۔
Ayah 6:146وعلی الذین ہادوا حرمنا کل ذی ظفر . اور یہودیوں پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے۔ یعنی جن جانوروں کی انگلیاں ہوتی ہیں جیسے اونٹ ‘ درندے اور پرندے۔ قتیبی نے کہا پرندوں میں سے ناخن والا وہ پرندہ ہے جس کا پنجہ ہوتا ہے اور چوپایوں میں سے ناخن والا وہ چوپایہ ہے جو ٹاپ والا ہوتا ہے قتیبی نے اس تشریح کی نسبت بعض اہل تفسیر کی طرف کی ہے۔ ٹاپ کو ناخن کہنا مجازاً ہے۔
شاید ظلم کی وجہ سے یہودیوں کے عموماً یہ تمام جانور حرام کردیئے گئے تھے ورنہ ان میں سے بعض جانوروں کی حرمت تو اسلام میں بھی ہے (اور یہ حرمت کسی جرم کی سزا کے طور پر نہیں ہے)
ومن البقر والغنم حرمنا علیہم شحومہما الا ما حملت ظہورہما او الحوایا او ما اختاط بعظم . اور گائے اور بکری (کے اجزاء میں) سے ان دونوں کی چربیاں ہم نے ان پر حرام
کر دی تھیں سوائے اس چربی کے جو ان جانوروں کی پشت پر ہو یا انتڑیوں میں لگی ہو یا جو ہڈی سے ملی ہو۔ ما حملت ظہورہما : سے مراد وہ چربی ہے جو ان جانوروں کی پشت یا پہلو پر ہو۔ الحوایا ‘ الحاوبہ : کی جمع ہے یا الحاویا کی۔ اس کا عطف ظہورہما : پر ہے یعنی جو چربی انتڑیوں سے چسپاں ہوں۔ ما اختلط العظم : سے مراد پٹھے اور سرین کی چربی ہے اس کا اتصال دم کی جڑ اور حرام مغز سے ہوتا ہے۔ استثناء کے بعد حرام چربی صرف پیٹ کی اور گردن کی رہ گئی۔
ذلک جزینہم ببعضہم وانا لصدقون . ہم نے (تحریم کی) یہ سزا ان کو شرارت کی وجہ سے دی تھی اور ہم سچے ہیں۔ انبیاء کا قتل راہ خدا سے روکنا ‘ سود لینا۔ بغیر کسی حق کے لوگوں کا مال کھانا یہ ان کی شرارتیں تھیں۔
ایک شبہ : مذکورہ جرائم کے ارتکاب کرنے والوں کو حکم تحریم کی پرواہ ہی نہیں تھی پھر اس حکم سے ان کو سزا کیا ملی۔
ازالہ : شاید آخرت کا عذاب بڑھانے کے لئے یہ حکم تحریم دیا گیا ہو۔ حضرت جابر ؓ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے سال جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں تھے میں نے خود سنا حضور ﷺ فرما رہے تھے اللہ نے شراب ‘ مردار ‘ خنزیر اور بتوں کی تجارت کو حرام کردیا ہے۔ عرض کیا گیا مردار کی چربی کا کیا حکم ہے اس سے تو کشتیوں پر پالش اور چمڑے پر روغن کیا جاتا ہے اور اس کو چراغ میں جلایا جاتا ہے ‘ فرمایا نہیں مردار کی چربی حرام ہے پھر فرمایا یہودیوں پر اللہ کی لعنت جب اللہ نے ان پر مردار کی چربی حرام کردی تو انہوں نے چربی کو پکا کر اور ٹھیک بنا کر فروخت کیا اور اس کی قیمت کھائی۔ رواہ البخاری وغیرہ ‘ واللہ اعلم۔
وانا لصددقون : کا یہ مطلب ہے کہ عذاب کی وعید ثواب کے وعدہ اور واقعات کی خبر دینے میں ہم بلاشبہ سچے ہیں۔
Ayah 6:147فان کذبوک فقل ربکم ذو رحمۃ واسعۃ . پس اگر وہ (یہودی) آپ کو جھوٹا کہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے۔ یعنی آپ کے پاس جو وحی کے ذریعہ سے ہدایات بھیجی گئی ہیں اگر یہودی ان کی تکذیب کریں تو ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ بڑی وسیع رحمت والا ہے کہ باوجود تمہاری تکذیب کے اس نے تم کو ڈھیل دے رکھی ہے لیکن اللہ کے ڈھیل دینے سے تم فریب نہ کھا جانا وہ ڈھیل دیتا ہے چھوڑ نہیں دے گا (گرفت آخر میں ضرور کرے گا)
ولا یرد باسہ عن القوم المجرمین . اور (جب وقت آجائے گا تو) اس کا عذاب مجرموں سے لوٹایا نہیں جائے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ مؤمنوں کے لئے وسیع رحمت والا اور تکذیب کرنے والوں کو سخت عذاب دینے والا ہے اس آخری فقرہ کی جگہ فرمایا اس کا عذاب مجرموں سے نہیں لوٹایا جائے گا۔
Ayah 6:148سقیول الذین اشرکوا لو شاء اللہ ما اشرکنا ولا ابآؤنا ولا حرمنا من شی عن قریب مشرک کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے نہ ہمارے باپ دادا نہ کسی (حلال) چیز کو حرام قرار دیتے۔ یہ مستقبل کے متعلق اطلاع ہے اور معجزہ ہے خبر کے مطابق آئندہ واقعہ یہی ہوا جب مشرک دلیل کا جواب دینے سے عاجز ہوگئے تو انہوں نے اپنے طریقہ کے مطابق مشیت اور پسندیدۂ خدا ہونے پر بصورت بالاستدلال کیا۔ اگر اللہ چاہتا یعنی اگر ہمارے طریقۂ عمل کے خلاف خدا چاہتا مطلب یہ کہ اللہ کو قدرت حاصل ہے کہ وہ ہم کو ہمارے معمولات سے روک دے اور ہم جو کچھ کر رہے ہیں اس کو نہ کر پائیں۔ اگر اس کو ہمارا یہ طریقہ اور عمل پسند نہ ہوتا اور اس کے خلاف ہم نے کرانا چاہتا تو ضرور ہم کو اس طریقہ سے روک دیتا۔ یہ استدلال مشرکوں کی جہالت پر مبنی ہے انہوں نے ارادے اور پسندیدگی میں فرق نہیں کیا اللہ کے ارادہ اور مشیت کا تعلق تو ہر خیر و شر سے ہے اللہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے نہیں چاہتا نہیں ہوتا لیکن پسندیدگی کا تعلق کفر سے نہیں اللہ بندوں کے کافر ہونے کو پسند نہیں کرتا۔ .
کذلک کذب الذین من قبلہم حتی ذا قرا باسنا . اسی طرح ان لوگوں نے (پیغمبروں کی) تکذیب کی تھی جو ان سے پہلے گزر گئے آخر انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا۔
یعنی اللہ نے شرک کی ممانعت فرمائی اس کو شرک پسند نہیں اور جن چیزوں کو مشرکوں نے از خود حرام بنا رکھا ہے اللہ نے ان کو حرما نہیں کیا مگر مشرکوں نے اس حکم کی تکذیب کی ‘ اسی طرح اللہ کے پیغمبروں کی تکذیب پہلے لوگ بھی کرچکے ہیں آخر اس تکذیب کے نتیجہ میں ان پر اللہ کا عذاب آگیا اور انہوں نے عذاب خداوندی کا مزہ چکھ لیا۔
قل ہل عندکم من علم فتخرجوہ لنا ان تتبعون الا الظن وان انتم الا تخرصون : آپ کہئے کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو اس کو ہمارے سامنے ظاہر کرو تم لوگ محض خیالی باتوں پر چلتے ہو اور اٹکل سے باتیں بناتے ہو۔
علم سے مراد ہے وہ علم جو (اللہ کی) کسی کتاب سے حاصل کیا گیا ہو۔ یا دلیل مراد ہے جو یہ ثابت کرے کہ اللہ شرک کو پسند کرتا ہے اور جن چیزوں کو انہوں نے حرام بنا رکھا ہے ان کی تحریم اللہ کی طرف سے یا علم سے مراد ہے معلوم (مصدر بمعنی اسم مفعول) یعنی کوئی ایسا امر معلوم جس کو دعوے کے ثبوت میں پیش کیا جاسکے ‘ فتخرجوہ : یعنی کیا تم ہمارے سامنے ظاہر کرو گے کہ یہ علم تم کو کہاں سے ہوا۔ لیکن ایسا نہیں ہے وہ قائل ہی نہیں ہیں کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں دلیل و علم سے کہتے ہیں۔ ظن سے مراد ہے وہ علم جو (بغیر کسی دلیل کے محض) باپ دادا کی تقلید سے حاصل ہو۔ تخرصون : (تم اٹکل چلاتے ہو) یعنی جھوٹ بات کہتے ہو۔
Ayah 6:149قل فللہ الحجۃ البالغۃ فلو شآء لہدکم اجمعین . آپ کہئے کہ پوری غالب دلیل تو اللہ ہی کی رہی پس اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت یاب کردیتا۔ یعنی اللہ نے اپنے اوامرو نواہی کی جو دلیل بیان کی وہ تو تمہارے خلاف کامل ہے اور تم نے جو اللہ کی مشیت کے مسئلہ کو استدلال میں پیش کیا ہے وہ استدلال ناقص ہے کیونکہ مشیت کے لئے رضامندی لازم نہیں اللہ جو چاہتا ہے اپنی حکمت کے مطابق کرتا ہے اور جیسا ارادہ کرتا ہے ویسا حکم دیتا ہے اس سے کسی بات کی بازپرس نہیں کی جاسکتی وہ سب بندوں سے باز پرس کرے گا اس سے سوال کون کرسکتا ہے۔
فرقۂ معتزلہ کہتا ہے کہ کفر اللہ کی مشیت اور ارادہ سے نہیں ہوتا بندہ کی مشیت سے ہوتا ہے معتزلہ نے اس آیت سے اپنے قول پر استدلال کیا ہے اگر واقع میں کفر اللہ کی مشیت سے ہوتا تو پھر کافروں کا قول لو شاء اللہ ما اشرکنا : صحیح تھا اس کو غلط کیوں قرار دیا اور کیوں اس کی تکذیب کی۔
ہماری تفسیر سے معتزلہ کی اس دلیل کی غلطی واضح ہو رہی ہے ہر چیز کا وجود مشیت خدا پر موقوف ہے اس کی تکذیب تو اللہ نے نہیں کی بلکہ آیت کا آخری جملہ فلو شاء لہداکم اجمعین : عموم مشیت کی تائید کر رہا ہے اللہ نے مشرکوں کی مذمت صرف اس بات پر کی کہ انہوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی اور اس تکذیب پر اللہ کے رضامند ہونے کا دعویٰ کیا اور جس چیز کو اللہ نے حرام نہیں کیا اس کو از خود حرام کرنے پر اللہ کو راضی قرار دیا اور یہ بات کہی کہ چونکہ سائبہ وغیرہ کی تحریم اللہ کی مشیت کے زیر اثر ہے اس لئے وہ ضرور اس پر راضی ہے (گویا اللہ نے مشرکوں کی تکذیب مشیت اور رضامندی میں فرق نہ کرنے پر کی کفر شرک اور تحریم ما لم یحرم کو مشیت کے زیر اثر قرار دینے پر نہیں کی)
Ayah 6:150قل ہلم شہداء کم الذین یشہدون ان اللہ حرم ہذا . آپ کہہ دیجئے کہ اپنے پیشواؤں کو لاؤ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام کردیا ہے ہلم : بلاؤ حاضر کرو۔ یہ اسم فعل ہے اور اس کی گردان اہل حجاز کے استعمال میں نہیں آتی واحد اور جمع سب کے لئے اسی کا استعمال ہوتا ہے شہداء کم : یعنی اس قول میں جو تمہارے پیشوا ہیں ان کو بلاؤ تاکہ سب پر اتمام حجت ہوجائے اور سب کی گمراہی ظاہر ہوجائے کیونکہ مقلدوں کی طرح پیشواؤں کے پاس بھی اس قول کی دلیل نہیں ہے۔ حرم ہذا : یعنی وہ شہادت دیں کہ جس چیز کو تم حرام کہتے ہو اللہ نے اس کو حرام قرار دیا ہے۔
فان شہدوا فلا تشہد معہم . پھر اگر وہ (جھوٹی) شہادت دے بھی دیں تب بھی آپ ان کے ساتھ شہادت نہ دینا یعنی ان کی تصدیق نہ کرنا بلکہ ان کی شہادت کی خرابی ظاہر کرتے رہنا۔
ولا تتبع اہواء الذین کذبوا بایتنا والذین لا یومنون بالاخرۃ وہم بربہم یعدلون . اور آپ ایسے لوگوں کے باطل خیالات کا اتباع نہ کرنا جو ہماری آیتوں کو جھوٹا کہتے ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ اپنے رب کے برابر دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔ اہواء الذین : اصل میں اہواء ہم : تھا (ہم): ضمیر کی جگہ اسم ظاہر (الذین کذبوا): کو ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ آیات الٰہیہ کو جھوٹا کہنے والے حقیقت میں اپنی نفسانی خواہشات کا اتباع کرنے والے ہیں۔
جب تحریم اشیاء کے سلسلہ میں مشرکوں کے قول کی غلطی ظاہر ہوگئی تو لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اللہ نے کیا کیا چیزیں حرام کی ہیں اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 6:151قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم الا تشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احسانا . آپ کہہ دیجئے آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے لئے تمہارے رب نے حرام کردی ہیں وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا کرو۔ قل : سے خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ تعالوا : تعالیٰ (باب تفاعل) سے امر حاضر جمع کا صیغہ ہے اس کی اصل وضع تو اس موقع کے لئے ہے جب کوئی شخص اوپر ہو اور نیچے والے آدمی سے کہے اوپر آجاؤ لیکن استعمال میں اس کے معنی عام ہوگئے۔ آؤ۔ ماحرم : میں ما : موصولہ ہے (وہ چیز جو) یا مصدریہ ہے (بمعنی تحریم) دونوں صورتوں میں اتل : کا مفعول ہے یا مَا استفہامیہ ہے اور حرم : کا مفعول ہے پھر پورا جملہ اتل : کا مفعول ہے۔ علیکم : کا تعلق حرم : سے ہے یا اتل : سے۔ یا یہ اسم فعل ہے جس کا استعمال کسی کام پر برانگیختہ کرنے کے لئے کیا جاتا ہے یعنی اپنے اوپر لازم کرلو۔ الا تشرکوا : میں ان : مصدریہ ہے جبکہ علیکم : کو اسم فعل بمعنی الزموا : کے کہا جائے ورنہ یہ فعل تلاوت کی تشریح ہے۔ میں یہ پڑھ کر سناتا ہوں کہ شریک نہ کرو الخ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الا تشرکوا : فعل محذوف کا مفعول ہو اوصیکم الا تشرکوا : میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ شرک نہ کرو۔ یا ان : مصدری ہو اور لا تشرکوا : میں لا : زائد ہو اللہ نے شرک کرنا تم پر حرام کردیا ہے۔ شیئا : (مفعول مطلق ہے مگر ہم نے ترجمہ مفعول بہ کا کیا ہے یعنی) کسی طرح کا شرک نہ کرو نہ جلی (کھلا ہوا) نہ خفی یا مفعول بہ یعنی کسی چیز کو (اسی کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے۔ مترجم) بالوالدین : کا تعلق محذف فعل سے ہے یعنی اچھا سلوک کرو والدین کے ساتھ۔ اصل میں باپ ماں کے ساتھ بدسلوکی کی ممانعت مقصود ہے لیکن اس طرف اشارہ کرنا بھی ہے کہ بدسلوکی کرنا کافی نہیں ہے والدین سے اچھا سلوک نہ کرنا بھی بجائے خود برا سلوک ہے اور گناہ ہے اس لئے کلام میں زور پیدا کرنے کے لئے فرمایا کہ اچھا سلوک کرو۔ اس مطلب پر بالوالدین : کا لا تشرکوا : پر عطف ہوگا لیکن اگر لا تشرکوا : میں لا کو زائد مانا جائے گا تو کلام کا مطلب اس طرح ہوگا اللہ نے تم پر شرک کرنے کو حرام کردیا ہے اور والدین کے ساتھ برا سلوک کرنے کو بھی اور والدین کے ساتھ خوب اچھا سلوک کرو۔
ولا تقتلوا اولادکم من املاق نحن نرزقکم وایاہم . اور ناداری (کے اندیشہ) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔ یعنی لڑکیوں کو زندہ دفن نہ کرو۔ ہم تم کو بھی کھانے کو دیں گے اور انحضرت معاذ ؓ کا بیان ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے دس باتوں کی نصیحت فرمائی فرمایا کسی کو اللہ کا ساجھی نہ بنانا خواہ تجھے قتل کردیا جائے یا تو جلا دیا جائے اور والدین کی نافرمانی نہ کرنا خواہ ماں باپ تجھے تیری بیوی اور تیرے مال سے تعلق منقطع کرلینے کا حکم دیں۔ الخ رواہ احمد۔
حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت ہے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے فرمایا یہ کہ تو کسی کو اللہ کا مثل قرار دے باوجودیکہ تجھے پیدا اللہ ہی نے کیا ہے۔ سائل نے عرض کیا اس کے بعد ‘ فرمایا اس اندیشہ کی وجہ سے اولاد کو قتل کردینا کہ وہ تیرے ساتھ تیرے کھانے میں شریک ہوجائے گی۔ الی آخر الحدیث (متفق علیہ)
ولا تقربوا الفواحش ما ظہر منہا وما بطن . اور بےحیائی کے کاموں کے قریب بھی نہ جاؤ خواہ وہ علانیہ ہوں (بیرونی) یا پوشیدہ (اندرونی)
الفواحش : سے مراد ہیں کبیرہ گناہ یا صرف زنا۔ ظاہر گناہوں سے مراد وہ گناہ ہیں جو بیرونی اعضاء جسم سے اعلانیہ کئے جاتے ہیں اور پوشیدہ گناہ وہ ہیں جو صرف بیرونی اعضاء جسمانی (ہاتھ پاؤں) آنکھ وغیرہ) سے کئے جاتے ہیں مگر چھپ کر نفاق (حسد کینہ) وغیرہ جن کا تعلق دل سے ہے یہ بھی باطنی فواحش میں داخل ہیں۔ (1) [ حضرت علی بن ابی طالب کی روایت ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو قبائل عرب کے پاس جانے اور ان کو تبلیغ کرنے کا حکم دیا تو آپ منی کو تشریف لائے میں اور حضرت ابوبکر ہمراہ تھے حضرت ابوبکر انساب عرب سے واقف تھے حضور والا منی میں قبائل کی فرودگاہوں اور ڈیروں پر جاکر ٹھہرے اور سلام کیا انہوں نے سلام کا جواب دیا ان لوگوں میں مفروق بن عمرو، ہانی بن قبیصہ مثنی بن حارثہ اور نعمان بن شریک موجود تھے۔ حضرت ابوبکر سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا مفروق تھا جو فصاحت اور لسانی میں سب سے غالب تھا اس نے رسول اللہ کی طرف التفات کیا اور پوچھا قریشی بھائی آپ ہم کو کس چیز کی دعوت دے رہے ہیں۔ حضور آگے بڑھے اور آپ کے سر پر حضرت ابوبکر نے اپنے کپڑے سے سایہ کرلیا، پھر حضور نے فرمایا میں تم کو دعوت دیتا ہوں کہ تم اس امر کی شہادت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ وحدہ لاشریک ہے اور میں اس کا رسول ہوں اور تم لوگ مجھے کوئی دکھ نہ دو ، نہ مارو، بلکہ میری حفاظت کرو کہ میں اللہ کی طرف سے اس پیام کو پہنچا دوں جس کا حکم اس نے مجھے دیا ہے کیونکہ قریش نے اللہ کے امر کے خلاف اجتماع کرلیا ہے اور اس کے رسول کو جھوٹا قرار دیا ہے اور حق کے خلاف باطل کی مدد کی ہے۔ واللہ ھو الغنی الحمید۔ مفروق نے کہا ہمارے لئیے تمہارا پیام دعوت اور کیا ہے، حضور نے جواب میں آیت قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم سے تتقون تک تلاوت فرمائی۔ مفروق نے کہا قریشی بھائی اور کس چیز کی طرف ہم کو بلاتے ہو خدا کی قسم یہ زمین والوں کا کلام نہیں ہے اگر اہل زمین کا کلام ہوتا تو ہم ضرور پہچان لیتے اس پر حضور نے تلاوت فرمایا ان اللہ یا مر بالعدل والاحسان الخ۔ المفروق نے کہا قریشی خدا کی قسم تم تو بزرگ اخلاق اور اچھے کاموں کی دعوت دے رہے ہو تمہاری قوم جھوٹی ہے جس نے تمہاری تکذیب کی اور تمہارے خلاف گٹھ جوڑ کیا ہانی بن قبیصہ کہنے لگا قریشی بھائی میں نے تمہاری بات سنی اور تمہارے قول کو پسند کیا اور جو کچھ تم نے کہا میرے دل نے اس کو اچھا سمجھا اس کے بعد رسول اللہ نے ان سے فرمایا تم لوگوں کو زیادہ مدت ٹھہرنا نہیں پڑے گا کہ اللہ تم کو ان کے ملک اور ان کی اولاد مرحمت فرما دے گا یعنی سرزمین فارس اور کسری کی نہریں عنایت کردے گا اور ان کی لڑکیوں کو تمہاری بستری خادمائیں بنا دے گا اور تم اللہ کی تسبیح و تقدیس بیانکرو گے۔ نعمان بن شریک نے کہا اللہ قریشی برادر تم کو یہ کہاں سے معلوم ہوا۔ حضور نے آیت انا ارسلنک شاھدا و مبشرا و نذیرا و داعیا الی اللہ باذنہ و سراجا منیرا۔ تلاوت فرمادی، پھر آپ حضرت ابوبکر کا ہاتھ پکڑے اٹھ کھڑے ہوئے۔ انتہی ]
ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق . اور جس شخص کے قتل کرنے کو اللہ نے حرام کردیا ہے اس کو قتل نہ کرو۔ خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم معاہد یعنی اگر کسی سے کوئی ایسا جرم ہوجائے جس کی وجہ سے اس کو قتل کرنا جائز ہوجاتا ہے مثلاً کوئی مسلمان مرتد ہوجائے یا کوئی عمداً قتل کر دے یا کوئی محصن زنا کرلے یا مسلمانوں سے کئے ہوئے معائدہ کو کوئی حربی توڑ دے یا اسلامی حکومت کے خلاف کوئی باغی ہوجائے یا کوئی رہزنی کرے تو ان صورتوں میں مجرم کو قتل کرنا مباح ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص شہادت دے رہا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ﷺ ہوں اس کا خون حلال نہیں مگر تین امور میں سے کسی ایک امر کی وجہ سے یا تو وہ شادی شدہ زانی ہو یا جان کے بدلے جان یا اپنے دین کو چھوڑ دینے والا اور (مسلمانوں کی) جماعت سے الگ ہوجانے والا ہو۔ رواہ البغوی۔ اللہ نے فرمایا ہے وان نکثوا ایمانہم من بعد عہدہم وطعنوا فی دینکم فقاتلوا ائمۃ الکفر : یعنی معاہدہ شک کافروں کو قتل کرو) دوسری آیت میں فرمایا فان لغت احدہما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی : (یعنی باغی مسلمانوں کو قتل کرنا جائز ہے) تیسری آیت میں آیا ہے انما جزاء الدین یحاربون اللہ : (یعنی قاتلوں ڈاکوؤں اور راہزنوں کا قتل درست ہے)
ذلکم وصکم بہ لعلکم تعلقون . اس کا اللہ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو یعنی اس کی نگہداشت کا تم کو حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھ لو اور رشد حاصل کرلو۔ تکمیل عقل رشد ہی ہے۔ رشد کی ضد کا نام سفاہت یعنی سبک سری ہے۔