Ayah 6:61وہو القاہر فوق عبادہ اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے۔ فوقیت سے مراد ہے غلبہ اور برتری۔
قاہر اس غالب کو کہتے ہیں جس کا مقابلہ ممکن نہ ہو۔
ویرسل علیکم حفظۃ حتی اذا جآء احدکم الموت توفتہ رسلنا وہم لا یفرطون : اور وہی تم پر نگرانی کرنے والے بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آپہنچتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور (اپنے فرض کی ادائیگی میں) وہ کوتاہی نہیں کرتے۔ حفظہ سے مراد ہیں نام ہائے اعمال میں اعمال کا اندراج کرنے والے اور لکھنے والے تاکہ قیامت کے دن ان اعمال ناموں کو کھولا جائے اور نافرمان و فرماں بردار کا سب کے سامنے ظہور ہوجائے۔
حَتّٰیسے ارسال حفظہ کی غرض ظاہر کی گئی ہے یا غلبہ کا نتیجہ۔ ابن ابی حاتم اور ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ رسلنا سے مراد ہیں ملک الموت کے مددگار فرشتے۔ ابوالشیخ نے نخعی کی روایت سے بھی یہی نقل کیا ہے۔ سیوطی نے وہب بن منبہ کا قول نقل کیا ہے کہ جو فرشتے انسان کے قریب رہتے ہیں وہی اس کی اجل کو بھی لکھتے ہیں اور جب موت کا وقت آجاتا ہے تو وہی روح کو لے کر ملک الموت کے سپرد کردیتے ہیں (گویا اعمال نامے لکھنے والے ملک الموت کے ماتحت ہوتے ہیں) گویا ملک الموت اس تحصیلدار کی طرح ہے کہ اس کے ماتحت زکوٰۃ کی رقم وصول کر کے اس کے سپرد کردیتے ہیں۔
ابن حبان اور ابوالشیخ کا بیان ہے کہ ربیع بن انس ؓ سے دریافت کیا گیا کیا ملک الموت تنہا تمام روحوں کو قبض کرتا ہے۔ ربیع نے کہا روحوں کا ذمہ دار تو تنہا ملک الموت ہے مگر اس کے مددگار اور کارندے ہیں ‘ اور سب کا سردار ملک الموت ہے اور فرشتۂ موت کا ایک قدم مشرق سے مغرب تک کا ہوتا ہے۔ دریافت کیا گیا مؤمنوں کی روحیں کہاں رہتی ہیں۔ ربیع نے جواب دیا سدرۃ المنتہیٰ کے پاس قرطبی نے کہا ان تینوں آیات میں کوئی تعارض نہیں ہے ایک آیت ہے : (توفتہ رسلنا) دوسری آیت ہے (یَتَوَفّٰکُمْ مَلَکُ الْمَوْت الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ ) تیسری آیت ہے : (اَللّٰہُ یَتَوفیَّ الْاَنْفُسَ ) اوّل آیت میں قابض ارواح رسل کو قرار دیا ہے اور دوسری آیت میں ملک الموت کو اور تیسری آیت میں قبض ارواح کی نسبت خود اللہ نے اپنی طرف کی ہے کیونکہ قبض روح کرنے والے اور جان کھینچنے والے تو فرشتے ہیں جو ملک الموت کے مددگار ہیں اور روحوں پر قبضہ رکھنے والا ملک الموت ہے جان کھینچنے کا کام مددگار کرتے ہیں اور قبضہ ملک الموت کا ہوتا ہے اور حقیقی فاعل اللہ ہی ہے حقیقتاً قبض ارواح اسی کا کام ہے کیونکہ بندوں کے تمام افعال اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔
یہ بھی قرطبی کا بیان ہے حدیث میں آیا ہے کہ مرنے والے پر چار فرشتے اترتے ہیں ایک دائیں پاؤں سے دوسرا بائیں پاؤں سے تیسرا دائیں ہاتھ سے اور چوتھا بائیں ہاتھ سے جان کھینچتا ہے۔ ذکرہ ابو حامد۔
کلبی کا بیان ہے کہ ملک الموت روح کو قبض کر کے رحمت یا عذاب کے فرشتوں کے سپرد کردیتا ہے۔ جویبر نے اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ ملک الموت کا تسلط زمین کی تمام چیزوں پر اسی طرح ہے جس طرح اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چیز پر ہے تمام جانوں کو خود ہی قبض کرتا ہے مگر اس کے ساتھ رحمت اور عذاب کے فرشتے ہوتے ہیں پاک روح کو قبض کرنے کے بعد رحمت کے فرشتوں کو دے دیتا ہے اور ناپاک روح کو عذاب کے فرشتوں کے سپرد کردیتا ہے۔ ابن ابی الدنیا اور ابوالشیخ نے ابن المثنی حمصی کی روایت سے بھی ایسا ہی بیان کیا ہے۔ اس کی تائید حضرت براء بن عازب کی روایت کردہ اس طویل حدیث سے ہوتی ہے جس کو احمد ابو داؤد حاکم بن ابی شیبہ اور بیہقی وغیرہ نے صحیح اسنادوں کے ساتھ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مؤمن بندہ کا تعلق جب دنیا سے منقطع ہونے لگتا ہے اور آخرت سامنے سے آرہی ہوتی ہے تو سورج جیسے گورے چہروں والے ملائکہ اس کے پاس اتر کر آتے ہیں جنت کا کفن اور خوشبو ان کے ساتھ ہوتی ہے آکر درازی نگاہ کے فاصلہ پر بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آکر مرنے والے کے سرہانے بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے اے پاکیزہ روح اللہ کی مغفرت اور رضامندی کی طرف نکل کر چل ‘ روح فوراً اس طرح بہتی نکل آتی ہے جس طرح مشک کے اندر سے پانی کا قطرہ نکل آتا ہے موت کا فرشتہ اس کو لے کر فوراً (مندرجۂ بالا) ملائکہ کے سپرد کردیتا ہے پل بھر بھی اپنے ہاتھ میں نہیں روکتا ملائکہ اسی (بہشتی) کفن اور خوشبو میں روح کو لپیٹ دیتے ہیں الحدیث۔ اسی حدیث میں کافر کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا کہ سیاہ رو ملائکہ ٹاٹ لئے درازی نظر سے فاصلہ پر آکر بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتا ہے اور روح کو قبض کر کے فوراً (عذاب کے سیاہ رو) فرشتوں کے سپرد کردیتا ہے پل بھر بھی اپنے ہاتھ میں نہیں رکھتا۔
ابن ابی حاتم نے زہیر بن محمد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ ملک الموت تو ایک ہے اور مشرق مغرب اور ان دونوں کے درمیان دو لشکر لڑتے ہیں گرتے ہیں اور ہلاک ہوتے ہیں (ایک وقت میں ملک الموت کہاں کہاں جاتا اور کس کس کی جان قبض کرتا ہے) فرمایا ملک الموت کے لئے دنیا اس طرح گھیر دی گئی ہے جس طرح ایک طشت تمہارے سامنے ہوتا ہے دنیا کی کوئی چیز ملک الموت سے چھوٹ نہیں سکتی۔ ابن ابی الدنیا اور ابوالشیخ نے اشعث بن اسلم کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ملک الموت سے جس کا نام عزرائیل ہے اور جس کی دو آنکھیں آگے چہرہ میں اور دو آنکھیں پیچھے گدی میں ہیں دریافت کیا کہ جب ایک شخص مشرق میں اور دوسرا مغرب میں ہو اور وباء کسی زمین پر پھیلی ہوئی ہو (یا) دو لشکر باہم لڑیں تو آپ کیا کرتے ہیں عزرائیل نے کہا میں روحوں کو باذن اللہ پکارتا ہوں اور تمام روحیں میری اس چٹکی میں آجاتی ہیں۔ اشعث بن اسلم نے کہا ملک الموت کے سامنے زمین ہموار شکل میں طشت کی طرح کردی گئی ہے جس جگہ سے چاہتے ہیں وہ روح کو پکڑ لیتے ہیں۔
یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ حضرت یعقوب کے سوال کے جواب میں ملک الموت نے کہا کہ اللہ نے دنیا کو میرا تابع بنا دیا ہے جس طرح تمہارے سامنے طشت رکھا ہو اور تم اس میں سے جس کنارہ سے چاہو (پھل یا کھانا وغیرہ) لے سکتے ہو اسی طرح دنیا میرے لئے ہے۔
ابوالشیخ اور ابو نعیم نے مجاہد کے قول نقل کیا ہے اور الزھد میں بھی مجاہد کا یہ بیان آیا ہے کہ ملک الموت کے لئے زمین ایک طشت کی طرح کردی گئی ہے وہ جہاں سے چاہتا ہے روحوں کو لے لیتا ہے اللہ نے اس کے کچھ مددگار بنا دیئے ہیں جو روحوں کو قبض کرتے ہیں پھر ان میں سے ملک الموت وہ روحیں لے لیتا ہے۔
میں کہتا ہوں احادیث اور آثار صحابہ کی روشنی میں مسئلہ کی تحقیق یہ ہے کہ جس طرح محسوسات میں سورج کا تعلق (ایک وقت میں) ہر چیز سے برابر ہے اسی طرح ملک الموت کے لئے تمام زمین اور اطراف زمین ہے۔ (ایک ہی وقت اس کا تعلق ہر گوشۂ زمین سے ہے) ایک کام میں مشغولیت اس کو (اسی وقت میں) دوسرے کام میں مشغول ہونے سے نہیں روکتی (اگر ایک وقت میں مشرق کے کسی گوشہ میں وہ کسی روح کو قبض کرنے میں مشغول ہو تو اسی وقت اسی آن مغرب ‘ جنوب ‘ شمال اور ہر حصۂ زمین میں دوسری روحوں کو قبض کرلیتا ہے) اللہ نے بعض اولیاء کو بھی یہ قوت عطا فرمائی ہے کہ ایک آن میں وہ مختلف مقامات میں اپنے اختیار کردہ اجسام میں نمودار ہوسکتے ہیں۔ اللہ نے ملک الموت کے کچھ مددگار بھی بنا دیئے ہیں جو ملک الموت کے اعضاء کی طرح ہیں اور روحیں قبض کرتے ہیں۔ ہر مرنے والے کے پاس خواہ مؤمن ہو یا کافر فرشتوں کی ایک جماعت جنت یا دوزخ کا کفن لئے آتی ہے اور اس کی روح کو ملک الموت سے لے کر آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہے۔ پس اس آیت میں رسل سے مراد یا ملک الموت کے مددگار ہیں یا وہ ملائکہ مراد ہیں جو ملک الموت سے روحیں لے کر آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ رُسُل اگرچہ جمع کا صیغہ ہے مگر مراد تنہا ملک الموت ہے۔
ادائیگی فرض میں کوتاہی نہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ سستی اور تاخیر نہیں کرتے مائل کہ میں بغیر اذن الٰہی کے روحوں کو قبض کرنے کی قدرت نہیں ہے۔ طبرانی اور ابن مندہ اور ابو نعیم نے حضرت حارث بن خزرج کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بار ملک الموت کو ایک انصاری کے سر کے قریب دیکھا اور فرمایا اے ملک الموت میرے صحابی سے نرمی کرنا یہ مؤمن ہے ملک الموت نے جواب دیا آپ ﷺ دل کو خوش اور آنکھوں کو ٹھنڈی رکھئے اور سمجھ لیجئے کہ میں ہر مؤمن سے نرمی کرتا ہوں محمد ﷺ : آپ کو جان لینا چاہئے کہ میں جب کسی آدمی کی روح قبض کرتا ہوں اور اس کے گھر والوں میں سے کوئی چیختا چلاتا ہے تو میں میت کی روح لئے اس کے گھر میں کھڑا ہو کر کہتا ہوں اے چیخنے والے خدا کی قسم ہم نے اس پر ظلم نہیں کیا اور نہ اس کی اجل سے پہلے اس کو مارا ‘ نہ اس کی قضا طلب کرنے میں عجلت کی اس کو قبض کرنے میں ہماری کوئی خطا نہیں (یہ اللہ کا کیا ہوا ہے) اب اگر تم اللہ کے کئے ہوئے کام پر رضامند رہو گے تو اجر پاؤ گے ناراض ہو گے تو گناہگار ہو گے اور گناہ کا بار اٹھاؤ گے تو ہم تو تمہارے پاس لوٹ لوٹ کے بار بار آتے ہی رہیں گے تم کو خوف اور احتیاط رکھنی چاہئے کوئی ڈیرے خیمے میں رہنے والا ہو یا مستقل مکانوں کا باشندہ اہل شعر (بالوں والا) اہل مدر ‘ (مٹی کے ڈھیلوں والا) اوّل سے مراد خانہ بدوش بدوی جو کہیں مستقل طور پر نہیں رہتے اور دوسرے سے مراد وہ لوگ جو کہیں بستی نگری میں مکان بنا کر رہتے ہیں۔ عرب میں خیمے ڈیرے اونی بنائے جاتے تھے اس لئے اہل شعر سے مراد اہل خیام ہوگئے نیک ہو یا بد میدانی علاقہ کا باشندہ ہو یا پہاڑ کا سب کو شب و روز میں تلاش میں رکھتا ہوں یہاں تک کہ وہ خود اپنے کو اتنا نہیں پہچانتے جتنا میں ان کے چھوٹے بڑے کو پہچانتا ہوں خدا کی قسم میں اگر ایک مچھر کی جان بھی خود قبض کرنا چاہوں تو بغیر اللہ کے اذن نہیں کرسکتا وہی جان کو قبض کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ابن ابی الدنیا اور ابوالشیخ نے بھی حسن کی روایت سے اسی طرح بیان کیا ہے۔
جعفر بن محمد نے فرمایا مجھے اطلاع ملی ہے کہ ملک الموت نماز کے اوقات پر (مسجدوں میں) لوگوں کی تلاش رکھتا ہے پھر مرنے کے وقت آکر دیکھتا ہے کہ اگر مرنے والے پانچوں نمازوں کی پابندی رکھنے والوں میں سے ہوتا ہے تو ملک الموت اس کے قریب آکر شیطانوں کو بھگا دیتا ہے اور مرنے والے کو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی تلقین کرتا ہے۔
Ayah 6:62ثم ردوا الی اللہ مولہم الحق پھر سب اپنے مالک حقیقی کے پاس لائے جائیں گے۔
مولی مالکلفظ ثمدلالت کر رہا ہے کہ اللہ کی طرف لوٹائے جانے سے مراد ہے۔ قیامت کے دن حساب کے لئے پیشی ہونا یا یہ مراد ہے کہ مرنے کے بعد رحمت یا عذاب کے فرشتے ان کو اوپر چڑھا کرلے جاتے ہیں ایک طویل حدیث میں جس کے راوی حضرت براء بن عازب ہیں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس کو یعنی مؤمن کی روح کو فرشتے اوپر چڑھا کرلے جاتے ہیں اور فرشتوں کی جس جماعت کی طرف سے گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں یہ پاکیزہ روح کون سی ہے لے جانے والے فرشتے اس کا دنیوی سب سے اچھا نام لے کر کہتے ہیں یہ فلاں بن فلاں ہے یہاں تک کہ آسمان دنیا تک اس کو لے کر پہنچتے ہیں اور (دروازہ) کھلوانا چاہتے ہیں تو کھول دیا جاتا ہے اور ہر آسمان کے فرشتے اس کے ساتھ ہو لیتے ہیں اور متصل آسمان تک پہنچا دیتے ہیں اسی طرح ساتویں آسمان تک اس کو پہنچا دیا جاتا ہے یہاں اللہ فرماتا ہے میرے بندہ کا اعمالنامہ علیین میں درج کرلو اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو ۔
کافر کے بارے میں حضور نے فرمایا (ملائکہ) اس کو چڑھا کرلے جاتے ہیں اور ملائکہ کے جس گروہ کی طرف سے اس کو لے کر گزرتے ہیں تو وہ دریافت کرتے ہیں یہ گندی روح کون ہے لے جانے والے فرشتے اس کے دنیوی ناموں میں سے بدترین نام لے کر کہتے ہیں یہ فلاں بن فلاں ہے یہاں تک کہ اس کو آسمان دنیا تک لے جاتے ہیں اور (آسمان کا دروازہ) کھلوانا چاہتے ہیں مگر وہ نہیں کھولا جاتا۔ پھر حضور ﷺ نے پڑھا : لا تفتح لہم ابواب السماء الخ اللہ فرماتا ہے سب سے نچلی زمین کے اندر سجین میں اس کا اعمالنامہ درج کرلو نتیجہ میں اس کی روح کو دور پھینک دیا جاتا ہے پھر حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : (ومن یشرک باللّٰہ فکانّمَا خرمن السمآء فتخطفہ الطیر او تہوی بہ الریح فی مکان سحیق) ۔
الا لہ الحکم خوب سن لو کہ حکم بس اللہ ہی کا ہوگا یعنی کسی اور کا نہیں۔
وہو اسرع الحاسبین اور وہ بہت تیزی سے حساب لے لے گا (ایک وقت میں) ایک کا حساب اس کو دوسرے (کے) حساب سے مانع نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں آیا ہے۔ دنیا کے آدھے دن (کے برابر وقت) میں اللہ ساری مخلوق کا حساب لے لے گا۔
Ayah 6:63قل من ینجیکم من ظلمت البر والبحر آپ پوچھئے تم کو بحر و بر کی تاریکیوں سے کون بچاتا ہے چونکہ تاریکی اور مصیبت دونوں ہولناک ہوتی ہیں اس لئے بطور استعارہ آیت میں تاریکیوں سے مراد ہیں مصائب و مقامات ہلاکت۔ لوگ جب تری خشکی کا سفر کرتے اور دوران سفر میں راستہ سے بھٹک جاتے ہیں طوفانی موجیں اور بادل کی کڑک ہر طرف سے گھیر لیتی تو اس وقت خلوص کے ساتھ وہ اللہ کو پکارتے تھے کیونکہ اتنا وہ جانتے کہ پتھروں کے بت نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ ضرر۔
تدعونہ تضرعا و خفیۃ کہ تم اس سے گڑگڑا کر اور چپکے چپکے دعا کرتے ہو۔
تضرعزاری کرنا اور خوب گڑگڑا کر مانگنا۔ تضرعًا اور خفیۃً دونوں مصدر ہیں لیکن معنی اسم فاعل کے ہیں۔ چپکے چپکے دعا اور ذکر کرنا سنت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نہ کسی بہرے کو پکارتے ہو نہ غائب کو (یعنی اللہ نہ بہرا ہے نہ غائب کہ اس کو زور سے پکارا جائے بلکہ ہر وقت حاضر ہے اور پست ترین آواز کو بھی سنتا ہے) آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم عاجزی اور خلوص کے ساتھ دعا کرتے ہو (یعنی چپکے چپکے دعا کرنے سے مراد ہے خلوص کے ساتھ دعا کرنا) کیونکہ چپکے چپکے دعا کرنے میں ریاکاری کا شائبہ نہیں ہوتا محض خلوص ٹپکتا ہے۔
لئن انجنا من ہذہ (اور کہتے ہو) کہ اگر اس (شدت اور ظلمت) سے اس نے ہمیں بچا لیا۔
ہذہٖسے ظلمت و شدت کی طرف اشارہ ہے۔ لئن انجٰنا سے پہلے یا لفظ قول محذوف ہے (یعنی کہتے ہو) یا یہ تدعونہکا بیان ہے (دعا کرتے ہو کہ اگر اس نے ہمیں بچا لیا)
لنکونن من الشکرین تو ہم شکر گزاروں میں سے ہوں گے شکر کی حقیقت ہے منعم کی نعمت کا اقرار کرنا اور نعمت کا حق ادا کرنا یعنی منعم کی رضامندی میں اس کو صرف کرنا۔
Ayah 6:64قل اللہ ینجیکم منہا ومن کل کرب ثم انتم تشرکون آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی تم کو اس تاریکی اور ہر غم سے بچاتا ہے پھر بھی تم شرک کرنے لگتے ہو۔ یعنی شرک کی طرف لوٹ جاتے ہو۔ وعدہ پورا نہیں کرتے ‘ جانتے ہو کہ مصیبت سے اللہ ہی تم کو بچاتا ہے اور بت کسی کام نہیں آتے پھر بھی بتوں کو (عبادت میں) اللہ کا شریک بناتے ہو۔ بجائے لا تشکرونکے تشرکون فرمایا اس میں پوری سرزنش ہے اور اس بات پر تنبیہ ہے کہ جس نے اللہ کی عبادت میں دوسروں کو شریک کیا اس نے قطعاً اللہ کی عبادت ہی نہیں کی ثم انتم میں ثُمَّ ہے تراخی کے لئے نہیں ہے بلکہ انعام و شرک میں انتہائی بُعد ظاہر کرنے کے لئے۔
Ayah 6:65قل ہو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی اس بات پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تمہارے اوپر سے کوئی عذاب تم پر بھیج دے۔ جیسے قوم نوح قوم عاد اور قوم لوط اور اصحاب الفیل کے ساتھ کیا ہے۔
اومن تحت ارجلکم یا تمہارے پاؤں تلے سے (کوئی عذاب بھیج دے) جیسے قوم نوح کے ساتھ کیا کہ زمین کے اندر سے چشمہ جاری کر کے پانی کے طوفان سے سب کو ڈبو دیا یا فرعون کو غرق کردیا یا قارون کو زمین میں دھنسا دیا۔ حضرت ابن عباس ؓ و مجاہد (رح) : کا قول ہے کہ عذاب فوق سے ظالم بادشاہ اور تحت ارجلکم سے بد کردار غلام مراد ہیں ضحاک نے کہا فوق و تحت سے بڑے چھوٹے مراد ہیں بعض علماء نے کہا فوقکم سے بارش کو اور تحت ارجلکم سے روئیدگی کو روک لینا مراد ہے۔
او یلبسکم شیعا ویذیق بعضکم باس بعض یا کہ تم کو گروہ گروہ کر کے سب کو بھڑا دے اور ایک کو دوسرے کی جنگ کا مزہ چکھا دے۔
یَلْبِسْکا معنی ہے یَخِلطُ ۔ شیعًا کا معنی ہے مختلف گروہ جن کے خیالات و خواہشات الگ الگ ہوں۔ باس کا معنی عذاب اور جنگ کے شدائد۔ قاموس۔
مراد یہ ہے کہ تم میں سے بعض بعض کو قتل کرنے لگیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی روایت ہے کہ جب آیت مذکورہ کا پہلا حصہ (یعنی) قل ہو القادر علی ان یبعث علیکم عذابًا من فوقکمنازل ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے کہا : اَعُوْذُ بِوَجہِکَ الکریمجب (اس سے آگے دوسرا حصہ) او یلبسکم شیعا ویذیق بعضکم باس بعضنازل ہوا تو آپ نے فرمایا یہ (پہلے عذاب سے) آسان اور سہل ہے۔ رواہ البخاری وغیرہ۔
فائدہ آیت (کے آخری حصہ) کی تعبیر ہجرت سے 35 سال کے بعد نظروں کے سامنے آگئی جب جنگ جمل و صفین میں مسلمان باہم کشت و خون میں مبتلا ہوگئے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص کا بیان ہے ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب مسجد بنی معاویہ کی طرف سے گزرے ‘ آپ ﷺ نے مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت نماز ادا کی اور ہم نے بھی نماز پڑھی پھر آپ نے دیر تک دعا کی ‘ دعا کے بعد فرمایا میں نے اپنے رب سے تین باتوں کا سوال کیا تھا ‘ میں نے اس سے درخواست کی تھی کہ میری امت کو (عمومی) غرق (کے عذاب) سے ہلاک نہ کرے (جیسا کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کی امت کے ساتھ کیا) اللہ نے میری یہ دعا قبول کرلی۔ میں نے اپنے رب سے دعا کی کہ میری امت کو (عمومی) کال سے نہ ہلاک کرے۔ اس نے میری یہ دعا بھی قبول فرما لی۔ میں نے سوال کیا کہ میری امت کو باہم جنگ کے عذاب میں مبتلا نہ کرے اللہ نے میری یہ دعا نہ مانی۔ رواہ البغوی۔
عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مسجد میں تین دعائیں کیں۔ اللہ نے دو دعائیں تو قبول فرما لیں اور ایک دعا رد فرما دی حضور ﷺ نے اللہ سے دعا کی کہ میری امت پر کسی غیر دشمن کو مسلط نہ فرمائے کہ وہ سب پر چیرہ دستی کرے اللہ نے یہ دعا قبول فرما لی۔ حضور ﷺ نے دعا کی کہ سب امت کو (عمومی پیہم) قحط سالیوں سے ہلاک نہ کرے اللہ نے یہ دعا بھی قبول فرما لی۔ حضور ﷺ نے دعا کی کہ امت کو باہم خانہ جنگی میں مبتلا نہ کرے اللہ نے یہ دعا قبول نہیں فرمائی۔ رواہ البخاری۔
ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم کا بیان نقل کیا ہے کہ جب آیت : (قل ہو القادر علی ان یبعث علیکم عذاب من فوقکم) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے بعد لوٹ کر کافر نہ ہوجانا کہ باہم ایک دوسرے کی گردن تلوار سے مارنے لگو صحابہ ؓ نے عرض کیا ہم شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں ( کیا اس شہادت کے باوجود ہم ایسا کرسکتے ہیں) ایک شخص بولا ایسا کبھی نہیں ہوسکتا یعنی ہم سب مسلمان ہیں پھر ایک دوسرے کی گردن مارے ایسا نہیں ہوسکتا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
انظر کیف نصرف الایت لعلہم یفقھون آپ دیکھئے تو ہم کس طرح دلائل مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں شاید وہ سمجھ جائیں۔ یعنی وعدہ وعید کے مختلف پہلووں سے دلائل بیان کرتے ہیں۔
Ayah 6:66وکذب بہ قومک اور آپ کی قوم یعنی کفار قریش اس (عذاب یا قرآن) کی تکذیب کرتی ہے۔
وہو الحق حالانکہ وہ یقینی ہے یعنی واقعی حقیقت ہے یا سچ ہے۔
قل لست علیکم بوکیل آپ کہہ دیجئے کہ میں (اللہ کی طرف سے) تم پر تعینات نہیں کیا گیا۔
ہوں یعنی اس کا ذمہ دار نہیں بنایا گیا ہوں کہ تم پر اسلام کو چمٹا دوں یا اگر تم انکار کر دو تو سزا دے دوں۔
Ayah 6:67لکل نبا مستقر ہر خبر کے وقوع کا ایک وقت ہے۔ یعنی قرآن نے جو کافروں کے عذاب میں مبتلا ہونے کی خبریں دی ہیں ان میں سے ہر خبر کا وقوع مقرر ہے جس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی۔
وسوف تعلمون اور جلد ہی تم کو معلوم ہوجائے گا جب کہ دنیا میں یا آخرت میں اس خبر کا ظہور ہوجائے گا۔
Ayah 6:68واذا رایت الذین یحوضون فی ایتنا فاعرض عنہم اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیات میں عیب جوئی کر رہے ہوں تو ان سے کنارہ کش ہوجاؤ۔ یعنی ان کے پاس سے اٹھ جاؤ ان کے ساتھ نہ بیٹھو اس آیت کی غرض کفار کے دین اور ان کی ہم نشینی سے الگ رکھنا ہے ترک جہاد مقصود نہیں ہے کہ اس کو (آیت قتال سے) منسوخ قرار دینا پڑے (یعنی اگر اعراض اور تعلق نہ رکھنے کا مفہوم یہ مانا جائے کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو ان سے کچھ تعرض نہ کرو تو لامحالہ ترک قتال کا حکم اس سے مستفاد ہوگا اور پھر آیت قتال سے اس کو منسوخ ماننا پڑے گا)
حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ اس وقت تک وہ (آیات میں عیب جوئی کو چھوڑ کر) کسی اور بات میں لگ جائیں۔ غیرہ کی ضمیر معنی آیات کی طرف راجع ہے جو (مفرد مذکر ہے اور حقیقت میں) قرآن ہے قریش اپنی مجالس میں بیٹھ کر آیات قرآنی کی تکذیب کرتے ان میں نکتہ چینی کرتے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ (ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کی ممانعت اس آیت میں کی گئی۔ )
وما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین اور اگر (یہ حکم ممانعت) شیطان تم کو بھلا دے تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھو۔ بجائے ضمیر غائب کے الظلمینکا لفظ صراحت کے ساتھ لانا بتارہا ہے کہ یہ لوگ بڑی بےجا حرکت کرتے ہیں کہ بجائے تصدیق کے تکذیب اور استہزاء کرتے ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جب آیت مذکورہ نازل ہوئی تو مسلمانوں نے کہا ہم کعبہ میں کس طرح بیٹھیں اور کیونکر طواف کریں مشرک تو وہاں ہمیشہ ہی آیات میں عیب جوئی کرتے رہتے ہیں دوسری روایت میں آیا ہے کہ مسلمانوں نے کہا اگر ہم ان کو یوں ہی چھوڑ دیں تو اور عیب جوئی سے منع نہ کریں تو ہم کو گناہ کا اندیشہ ہے اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 6:69وما علی الذین یتقون من حسابہم من شی ولکن ذکری اور جو لوگ احتیاط رکھتے ہیں (یعنی رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ ان پر ان (مشرکوں) کی باز پرس کا کوئی اثر نہیں پہنچے گا ہاں ان (مسلمانوں) کے ذمہ نصیحت کردینا ہے۔ من حسابہم میں منتبعیض کے لئے ہے اور ضمیر کفار کی طرف راجع ہے۔ مِنْ شئٍ میں منزائد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کافروں سے ان کے گناہوں کا جو محاسبہ و مواخذہ ہوگا اس کا کوئی حصہ مسلمانوں کو نہیں چمٹ جائے گا۔ وَلٰکِنْ ذکرٰیکا یہ مطلب ہے کہ اگر مسلمانوں میں طاقت و استطاعت ہو تو بقدر استطاعت خوض فی الآیات اور دوسری برائیوں سے منع کرنے کی ذمہ داری مسلمانوں کی ہے۔
لعلہم یتقون شاید وہ بھی احتیاط کرنے لگیں۔ یعنی مسلمانوں کے نصیحت کرنے سے شاید کافر نصیحت پذیر ہوجائیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لعلہم کی ضمیر الذین یتقون کی طرف راجع ہو اس وقت مطلب اس طرح ہوگا تاکہ مسلمان تقویٰ پر جمے رہیں۔
Ayah 6:70وذر الذین اتخذوا دینہم لعبا ولہوا اور ایسے لوگوں سے بالکل کنارہ کش رہو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل کود بنا رکھا ہے۔
یعنی ایسا مذہب اختیار کیا ہے جو نہ دنیا میں ان کے لئے سود مند ہے نہ آخرت میں نفع بخش جیسے بت پرستی اور بحیرہ و سائبہ کو حرام بنا رکھنا۔ یا یہ مطلب ہے کہ جس دین کو قبول کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے اس کو ہنسی کھیل سمجھ رکھا ہے اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ نے ہر قوم کا ایک تہوار کا دن بنا دیا تھا پس ہر قوم نے سوائے مسلمانوں کے اپنے تہوار کو لہو و لعب بنا لیا مگر مسلمانوں نے اپنے تہوار کو عبادت کا دن قائم رکھا جیسے عید اور جمعہ کی نماز تکبیرات قربانی صدقۂ فطر خطبۂ نصیحت وغیرہ۔ وذرالذینکا مطلب یہ ہے کہ ان کے اقوال و افعال کی پروا نہ کرو یہ کیا کہتے ہیں کیا کرتے ہیں سب سے کنارہ کش رہو۔ یاذر سے مراد ہے دھمکی دینا اور ڈرانا جیسے دوسری آیت میں آیا ہے ذرنی ومن خلقت وحیداً ۔
بعض علماء کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ ان سے تعرض نہ کرو ان کے معاملہ میں دخل دینے سے باز رہو اس صورت میں آیت قتال سے اس آیت کا حکم منسوخ قرار دیا جائے گا۔
وغرتہم الحیوۃ الدنیا اور دنیوی زندگی نے ان کو فریب دے رکھا ہے یہاں تک کہ وہ حشر و نشر کے منکر ہوگئے۔
وذکربہ ان تبسل نفس بما کسبت لیس لہا من دون اللہ ولی ولا شفیع اور اس قرآن کے ذریعہ سے نصیحت کرتے رہو تاکہ کوئی شخص اپنے کردار کے سبب اس طرح نہ پھنس جائے کہ کوئی غیر اللہ نہ اس کا مددگار ہو نہ سفارشی۔ تُبْسَلَسے پہلے لا محذوف ہے یعنی لئلا تبسل (تا کہ پھنس نہ جائے) بسلکا معنی ہے بند کر رکھنا روک رکھنا۔ قاموس۔ ولی مددگار جو قوت سے عذاب کو دفع کرسکے۔ شفیع سفارش کر کے عذاب سے بچا لے۔
وان تعدل کل عدل لا یوخذ منہا اور (یہ کیفیت ہو کہ) اگر دنیا بھر کا بھی معاوضہ دے ڈالے تب بھی اس سے قبول نہ ہو۔ چونکہ اس آیت میں عدل مصدری معنی میں ہے اس لئے لا یوخذا کی ضمیر اس کی طرف راجع نہیں ہوسکتی ہاں آیت لا یوخذمنہا عدل میں چونکہ عدل بمعنی اسم مفعول ہے اس لئے لا یوخذ کی نسبت اس کی طرف صحیح ہے۔ عدل کا معنی ہے فدیہ معاوضہ عدل اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ مفدی (جس کا معاوضہ دیا جائے) کے برابر ہوتا ہے کُلَّ عَدْلمفعول مطلق ہے (یعنی عدل بمعنی معدول نہیں ہے)
اولئک الذین ابسلوا بما کسبوا لہم شراب من حمیم و عذاب الیم بما کانوا یکفرون یہ ایسے ہی ہیں کہ اپنے کردار کے سبب پھنس گئے ان کے لئے نہایت تیز پانی پینے کو ہوگا اور دردناک عذاب ہوگا اپنے کفر کے سبب۔ اولئک سے اشارہ ان ہی لوگوں کی طرف ہے جنہوں نے دین کو لہو و لعب بنا رکھا ہے۔ ابلوا یعنی حبس کردیئے گئے اور ان کو عذاب کے سپرد کردیا گیا حمیم انتہائی گرم پانی عذاب الیہم آگ وغیرہ کا عذاب۔ بما کانوا میں با سببیہ ہے یہ از سر نو جملہ ہے یا اولئک کی دوسری خبر ہے۔
Ayah 6:71قل ادعوا من دون اللہ ما لا ینفعنا ولا یضرنا ونرد علی اعقابنا بعد اذ ہدانا اللہ : آپ کہہ دیجئے کیا ہم اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پوجا کریں جو ہم کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتیں (اگر ہم ان کی پوجا کریں) اور نقصان نہیں پہنچا سکتیں (اگر ہم ان کی پوجا نہ کریں اور ان کو نہ مانیں) اور اپنی ایڑیوں کے بل (سڑک کی طرف کو) لوٹ جائیں (جس پر ہم پہلے تھے) بعد اس کے کہ اللہ نے ہم کو (وحی کے ذریعہ سے) ہدایت کردی اور شرک سے بچا لیا اور اسلام کی نعمت عطا فرما دی)
کالذی استہوتہ الشیطین فی الارض حیران لہ اصحب یدعونہ الی الہدی ائتنا : جیسے کوئی شخص ہو کہ اس کو شیطانوں نے کہیں بیابان میں بےراہ کردیا ہو اور وہ بھٹکتا پھرتا ہو اس کے کچھ ساتھی ٹھیک راستہ کی طرف اس کو بلا رہے ہوں کہ ہمارے پاس آ جا۔ استہوت (واحد مؤنث) باب استفعال۔ مجرد ہوی۔ ہویکا معنی ہے گیا۔ اِسْتَہوَتہُاس کو لے جانا چاہا ہو لے گئے ہوں۔ کالذی میں کاف محل نصب میں ہے خواہ اس کو مفعول مطلق قرار دیا جائے یا نرد کی ضمیر سے حال۔ اول صورت میں ترجمہ ہوگا کیا ہم شرک کی طرف لوٹ جائیں اس طرح جیسے وہ شخص لوٹ جاتا ہے جس کو شیطانوں نے بےراہ کردیا ہو دوسری صورت میں ترجمہ ہوگا کیا ہم شرک کی طرف لوٹ جائیں۔ اس شخص سے مشابہت رکھتے ہوئے جس کو۔
شیاطین سے مراد ہیں سرکش جنات۔ الارض سے مراد بیابان۔ یعنی راستہ سے بہکا کر مقامات ہلاکت کی طرف لے گئے ہوں۔ حیران استہوتہ کی مفعولی ضمیر سے حال ہے یعنی اس حال میں کہ وہ بھٹکتا ہوا متحیر پھر رہا ہو اس کی سمجھ میں نہ آتا ہو کہ کہاں جائے اور کیا کرے۔ الہدیمصدر ہے بمعنی اسم مفعول یعنی سیدھا راستہ۔ ائنا یدعونہ کی تشریح ہے یدعونکے اندر قول کے معنی ہیں یعنی اس کے ساتھی اس سے کہہ رہے ہوں کہ ہمارے پاس آجا۔ اور وہ قبول نہ کرے ان کے پاس نہ آئے۔
جو شخص راہ اسلام سے بھٹک گیا ہو اور مسلمان اس کو اسلام کی طرف بلا رہے ہوں مگر وہ دعوت کی طرف توجہ نہ کرے اللہ نے اس شخص کی تشبیہ اس آدمی سے دی جس کو جنگل میں شیطانوں نے بےراہ کردیا ہو ساتھی اس کو راستہ کی طرف بلا رہے ہوں مگر وہ نہ آتا ہو۔
اندھوا میں استفہام انکاری ہے یعنی ہم اب ایسا نہیں کریں گے اور پورا تشبیہی جملہ نرد کی ضمیر سے حال ہے۔
قل ان ہدی اللہ ہو الہدی آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کی ہدایت یعنی اسلام ہی حقیقت میں ہدایت ہے اس کے سوا ہر طریقہ گمراہی ہے۔
وامرنا لنسلم لرب العلمین : اور ہم کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم پروردگار عالم کے پورے مطیع ہوجائیں
Ayah 6:72وان اقیموا الصلوۃ واتقوہ اور یہ (بھی حکم ہوا ہے) کہ نماز کی پابندی کرو اور اس سے ڈرو۔ نسلم میں لام زائد ہے یا ب کے معنی میں اور انمقدر ہے اس لئے فعل بمعنی مصدر ہے یا لام تعلیلیہ ہے اور امرنا کا مفعول محذوف ہے مطلب اس طرح ہوگا ہم کو اتباع رسول کا حکم دیا گیا تاکہ ہم رب العالمین کے مطیع ہوجائیں اللہ تک پہنچنا اور اس کا مطیع ہونا اتباع رسول ﷺ پر موقوف ہے۔
Ayah 6:73وہو الذی الیہ تحشرون اور وہی ہے جس کے پاس تم سب جمع کئے جاؤ گے۔
وہو الذی خلق السموات والارض بالحق اور وہی ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو باقاعدہ پیدا کیا۔ بالحقکا معنی ہے حکمت کے ساتھ۔ یا حق بمعنی محق ہے یعنی برحق واقعی یا باء بمعنی لام ہے یعنی اظہارِ حق کے لئے پیدا کیا۔
ویوم یقول کن فیکون اور جس روز وہ (کسی چیز کو) فرمائے گا ہوجا وہ فورا ہوجائے گی یعنی جب (مردہ) مخلوق سے فرمائے گا اٹھ کھڑے ہو فوراً سب اٹھ کھڑے ہوں گے۔
قولہ الحق اس کا کہنا با اثر ہے۔ الحق سے مراد ہے سچا۔
ولہ الملک یوم ینفخ فی الصور اور ساری خالص حکومت اسی کی ہوگی جس روز صور میں پھونک ماری جائے گی۔ دوسری آیت میں بھی یہی مضمون آیا ہے فرمایا ہے (لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمِ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ والْقَہَّارُ ) صور ‘ نر سنگھا جس کو پھونکا جائے گا ایک اعرابی نے جب صور کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو آپ نے یہی فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کی روایت سے ابن مبارک نے الزہد میں اور بیہقی نے البعث میں اس کو بیان کیا ہے نسائی نے بھی اس کو نقل کیا ہے اور ابن حبان نے نقل کرنے کے بعد اس کو صحیح اور ابو داؤد نے حسن کہا ہے۔
ابوالشیخ ابن حبان نے کتاب العظمۃ میں وہب بن منبہ کی روایت سے لکھا ہے کہ اللہ نے صور کو بلور کی طرح جھلکتے ہوئے سفید موتی سے بنایا پھر عرش سے فرمایا صور کو پکڑ لے فوراً صور عرش سے لٹک گیا پھر اللہ نے فرمایا ہوجا فوراً اسرافیل پیدا ہوگیا اللہ نے اسرافیل کو صور لے لینے کا حکم دیا۔ اسرافیل نے صور کو پکڑ لیا صور میں ہر پیدا شدہ روح اور موجود کردہ جان کی گنتی کے برابر سوراخ ہیں دو روحیں ایک سوراخ سے نہیں نکلیں گی۔ صور کے وسط میں اتنا بڑا دہانہ ہے جیسے آسمان زمین کا گول چکر ‘ اسرافیل اس دہانہ پر اپنا منہ رکھے ہوئے ہے۔ پھر اللہ نے اسرافیل سے فرمایا میں نے صور پھونکنے اور چیخ مارنے کی ڈیوٹی تیری مقرر کردی ہے چناچہ اسرافیل نے عرش کے اگلے حصہ میں داخل ہو کر دایاں پاؤں عرش کے نیچے داخل کر کے بایاں قدم آگے بڑھا رکھا ہے اور پیدائش کے بعد سے کبھی پلک نہیں ماری حکم کا انتظار کر رہا ہے احمد اور طبرانی نے عمدہ سند کے ساتھ حضرت زید ؓ بن ارقم کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے کیسے چین ہو۔ صور والا تو سینگ منہ میں دبائے پیشانی جھکائے اور کان لگائے تیار ہے کہ کب اس کو حکم ملے۔ یہ سن کر صحابہ ؓ بہت متاثر ہوئے حضور ﷺ نے فرمایا کہو (حَسْبُنَا اللّٰہَ وَنِعْمَ الْوَکِیْلَ ) اسی طرح احمد نے اور مستدرک میں حاکم نے اور البعث میں بیہقی نے اور الاوسط میں طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بھی نقل کیا ہے اس روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہو حَسْبُنَا اللّٰہَ وَنِعْمَ الْوَکِیْلَ علَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَاترمذی اور حاکم اور بیہقی نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بھی حدیث اسی طرح نقل کی ہے۔ اور ابو نعیم نے حضرت جابر کی روایت سے بھی یہی لکھا ہے۔
بزار اور حاکم نے حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر صبح کو (یعنی روزانہ) دو فرشتے جن کی ڈیوٹی صور پر ہے منتظر ہیں کہ کب ان کو حکم ہو اور وہ صور میں پھونک ماریں۔ ابن ماجہ اور بزار کی یہی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا دونوں صور والوں کے ہاتھوں میں دو سینگ ہیں دونوں تک رہے ہیں کہ کب ان کو (صور پھونکنے کا) حکم ملتا ہے۔ حاکم نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دونوں (صور) پھونکنے والے دوسرے آسمان میں ہیں ایک کا سر مشرق میں اور پاؤں مغرب میں اور دوسرے کا سر مغرب میں پاؤں مشرق میں ہیں دونوں منتظر ہیں کہ کب ان کو صور پھونکنے کا حکم ہو اور وہ پھونکیں۔ ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صور پھونکنے والے دو فرشتے ہیں جن کے پاس دو نرسنگھے ہیں۔
طبرانی نے حسن سند کے ساتھ کعب احبار کی روایت سے ایک حدیث اس طرح نقل کی ہے صور کا فرشتہ ایک زانو ٹیکے دوسرا کھڑا کئے صور منہ میں دبائے پشت جھکائے تیار ہے۔ اس کو حکم دیا گیا ہے کہ جونہی اسرافیل کو وہ دونوں بازو سمیٹے دیکھے فوراً صور میں پھونک مار دے۔ یہی حدیث حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بھی آئی ہے اس روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے (یعنی حضرت عائشہ ؓ کی روایت مرفوع ہے) شیخ ابن حجر (رح) نے کہا یہ حدیث دلالت کر رہی ہے کہ صور پھونکنے والا اسرافیل کے علاوہ کوئی اور ہے اس لئے (متضاد روایات میں توافق پیدا کرنے کے لئے) کہا جائے گا کہ صاحب صور جب اسرافیل کو دونوں بازو سمیٹے دیکھے گا تو پہلا صور پھونکے گا پھر مردوں کو قبروں سے اٹھانے کے لئے دوبارہ اسرافیل صور پھونکے گا۔
ابوالشیخ ابن حبان نے کتاب العظمۃ میں ابوبکر ہذلی کا قول نقل کیا ہے کہ فرشتۂ صور جس کے متعلق صور کی ڈیوٹی ہے اس کا ایک قدم زمین میں ہے وہ ایک زانو ٹیکے آنکھیں اسرافیل کی طرف اٹھائے تک رہا ہے جب سے اللہ نے اس کو پیدا کیا ہے کبھی اس نے پلک نہیں ماری انتظار میں ہے کہ کب اس کو اشارہ ہو اور وہ صور پھونکے۔
عالم الغیب والشہادۃ وہ جاننے والا پوشیدہ چیزوں کا اور ظاہر چیزوں کا۔ غیب سے مراد غیر موجود (یعنی جو ابھی معدوم ہے) اور شہادت سے مراد موجود (یعنی جو پیدا ہوچکا ہے) کیونکہ ہر موجود اللہ کے سامنے ہے اس سے آسمان و زمین کا کوئی ذرہ چھپا ہوا نہیں۔
وہو الحکیم الخبیر وہ ہی حکمت والا اور خبر رکھنے والا ہے یعنی موجود و معدوم کرنے کی حکمت سے واقف ہے اور حساب سزا جزا اور مخلوق کے تمام احوال سے باخبر ہے۔
Ayah 6:74واذ قال ابراہیم لابیہ ازر اور جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا۔ آزر عجمی نام ہے علمیت اور عجمیت کی وجہ سے غیر منصرف ہے (اس پر کسرہ اور تنوین نہیں آتا) بعض نے اس کو عربی لفظ کہا ہے اور ازربمعنی قوت یا وزربمعنی ثقل سے مشتق قراردیا ہے اس وقت اس کے عدم انصراف کی وجہ یہ ہے کہ اس میں علمیت اور وزن فعل ہے۔
صحیح تحقیق یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا چچا تھا عرب چچا کو بھی باپ کہہ لیتے ہیں (اس لئے اس جگہ باپ کہا گیا) جیسے آیت میں آیا ہے : نَعْبُدْ اِلٰہَکَ وَاِلٰہَ اَبآءِ کَ اِبْرٰہِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ اِلٰہًا وَّاحِدًاآزر کا اصل نام ناخور تھا۔ ناخور پہلے اپنے آباؤ اجداد کے دین توحید پر تھا۔ لیکن نمرود کا وزیر ہونے کے بعد دین توحید چھوڑ کر دنیوی لالچ میں کافر ہوگیا۔ امام رازی نے بھی صراحت کی ہے کہ آزرؔ ابراہیم (علیہ السلام) کا چچا تھا باپ نہ تھا۔ امام رازی سے پہلے بھی سلف کی ایک جماعت کا یہی قول تھا۔ زرقانی نے شرح المواہب میں لکھا ہے کہ آزر کے عم ابراہیم ہونے کی دلیل یہ ہے کہ شہاب ہیثمی نے صراحت کی ہے کہ توریت وانجیل والوں نے نیز تمام اہل تاریخ نے اس کو ابراہیم کا چچا مانا ہے۔ سیوطی نے لکھا ہے کہ ہم کو سندوں کے ساتھ یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابن عباس ‘ مجاہد ‘ ابن جریر اور سدی قائل تھے کہ آزر ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ نہ تھا۔ ابراہیم کے باپ کا نام تو مارخ تھا۔ سیوطی نے یہ بھی لکھا ہے کہ ابن المنذر کی تفسیر میں مجھے ایک اثر (قول صحابی) ملا ہے کہ آزر ابراہیم کا چچا تھا۔
قاموس میں ہے آزر ابراہیم کا چچا تھا باپ تارخ یا تارح تھا یا دونوں نام ایک ہی شخص کے تھے۔ آزر کے باپ نہ ہونے کی تائید اس تشریح سے ہوتی ہے جو سورة بقرہ کی آیت ( : ولا تسئل عن اصحب الجحیم) کی تفسیر کے ذیل میں ہم نے کی ہے کہ صحیح روایت میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (بُعثِتَ مِن خَیْر قرون بنیٰ ادم قرنًا نقرنا حتی کُنْتُ من القرنِ الّذی کنت منہ۔ رواہ البخاری) ۔
(اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے تمام آباؤ اجداد موحد گزرے ہیں کوئی مشرک نہیں ہوا اور آزر مشرک تھا اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا چچا ہوسکتا ہے باپ نہیں ہوسکتا) سیوطی نے حضرت آدم ( علیہ السلام) تک رسول اللہ ﷺ کے آباؤ اجداد کو مسلم ثابت کرنے کے لئے چند رسائل لکھے ہیں۔ محمد بن اسحاق ‘ ضحاک اور کلبی کا بیان ہے کہ آزر ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کا نام تھا اس کا نام تارخ بھی تھا جیسے اسرائیل و یعقوب دونوں ایک ہی شخص کے نام تھے۔ مقاتل ابن حبان نے ابراہیم کے باپ کا لقب آزر اور نام تارخ قرار دیا ہے۔
بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملاقات اپنے باپ آزر سے ہوگی۔ آزر کا چہرہ غبار آلود اور دخان آگیں ہوگا (جو دوزخی ہونے کی علامت ہوگی) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فرمائیں گے کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ جواب دے گا آج میں تیرے حکم کے خلاف نہیں کروں گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دعا کریں گے اے میرے مالک تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جس روز لوگوں کو اٹھایا جائے گا اس روز تو مجھے رسوا نہ کرے گا مگر میرے باپ کی یہ حالت ہے اس سے زیادہ رسوائی اور کیا ہوگی اللہ فرمائے گا ‘ میں نے کافروں کیلئے جنت حرام کردی ہے پھر حکم ہوگا ابراہیم (علیہ السلام) اپنے قدموں کے نیچے دیکھو ابراہیم (علیہ السلام) حکم کی تعمیل کریں گے تو ایک نر بجو گوبر اور کیچڑ میں لتھڑا ہوا دکھائی دے گا پھر اس کی ٹانگیں پکڑ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا واللہ اعلم (اس روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ تھا) سلیمان تیمی نے کہا آزر کے معنی ہے ٹیڑھا۔ یہ ایک برا کلمہ ہے۔ بعض نے کہا فارسی میں اس کا معنی ہے پیر فرتوت۔ اس قول پر یہ لفظ فارسی قرار پائے گا اور چونکہ اس کے دوسرے ہم وزن (اسماء) غیر منصرف ہیں ان کی مشابہت وزنی کی وجہ سے اس کو بھی غیر منصرف پڑھا گیا اوّل قول (یعنی علم ہونا) زیادہ صحیح ہے۔ سعید بن مسیب اور مجاہد نے کہا آزر بت کا نام تھا چونکہ یہ شخص اس بت کا پرستار تھا اس لئے اس کو آزر کہا جانے لگا یا یوں کہا جائے کہ آزر اصل میں عبد آزر تھا لفظ عبد کو حذف کردیا۔ اگر آزر کو بت کا نام مانا جائے گا تو آزر کو نصب دینے والا ایک فعل مضمر ماننا ہوگا جس کی تفسیر آئندہ فعل مذکور کر رہا ہے۔
اتتخذ اصناما الہۃ (یعنی کیا تو آزر کی پوجا کرتا ہے) کیا اس کو معبود بناتا ہے اور چونکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ صرف آزر کی پوجا پر بس نہیں کرتا تھا بلکہ دوسرے بتوں کو بھی معبود بناتا تھا اس لئے تتخذ کے بعد اصناما الہۃ فرما دیا۔
انی ارک وقومک میں تجھ کو اور تیری قوم کو یعنی تیرے ہم مذہب لوگوں کو دیکھتا ہوں۔
فی ضلال مبین کھلی ہوئی گمراہی میں۔
Ayah 6:75وکذلک اور اسی طرح جس طرح اہل زمانہ کے خلاف ہم نے ابراہیم کو حق دکھا دیا تھا اسی طرح۔
نری ابراہیم ملکوت السموات والارض ہم ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین میں اپنی حکومت کا مشاہدہ کراتے تھے۔ نُرِی میں گزشتہ حال کی حکایت کی گئی ہے (اس لئے حال کا صیغہ استعمال کیا) قاموس میں ہے کہ ملکوت بروزن رہبوت و ترقوت غلبہ اوراقتدار۔ یہ لفظ ملک سے مشتق ہے واؤ اور تاء مبالغہ کی ہے اس لئے ملک سے زیادہ ملکوت کے معنی میں عظمت ہے (بڑی حکومت بڑا اقتدار) صحاح جوہری میں ہے کہ ملکوت صرف اللہ کی حکومت کو کہا جاتا ہے (کیونکہ اسی کی حکومت سب سے بڑی حکومت ہے) ملکوت کی اضافت السموات کی طرف اضافت الی المفعول ہے یعنی آسمان و زمین پر اللہ کا غلبہ و اقتدار مجاہد اور سعید بن جبیر نے کہا ملکوت السموت والارض سے مراد ہیں آسمان و زمین میں (اللہ کی قدرت و حکومت کی) نشانیاں۔ واقعہ اس طرح ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک پتھر پر کھڑآ کیا گیا اور وہاں پردے اٹھا دئیے گئے تمام آسمان و زمین یہاں تک کہ عرش بریں اور اسفل السافلین سب ہی کا مشاہدہ کرا دیا گیا انتہا یہ کہ آپ ( علیہ السلام) نے بہشت کے اندر اپنی جگہ بھی دیکھ لی یہ ہی مطلب ہے آیت (واتیناہ اجرہ فی الدنیا) کا۔ یعنی ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی بہشتی جگہ (دنیا میں ہی) دکھا دی۔
حضرت سلمان ؓ : کا بیان ہے اور بعض اہل روایت نے اس کی نسبت حضرت علی ؓ کی طرف بھی کی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب آسمان و زمین میں اللہ کی قدرت و حکومت دکھائی گئی تو دوران مشاہدہ میں آپ نے دیکھا ایک مرد ایک فاحشہ عورت پر سوار ہے آپ نے بددعا کی وہ فوراً ہلاک ہوگیا پھر دوسرے شخص کو بھی اسی حالت میں دیکھا اور بددعا کی وہ بھی ہلاک ہوگیا پھر تیسرے شخص کی بھی یہی حالت دیکھی (اور جونہی بددعا کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) تو مقبول الدعوات ہے میرے بندوں کے لئے بددعا نہ کر میرا تعلق اپنے (گناہگار) بندوں سے تین طرح کا ہے یا تو وہ (گناہ کے بعد) توبہ کرلیتا ہے تو میں اس کی توبہ قبول کرلیتا ہوں یا اس کی نسل سے کوئی ایسا شخص پیدا کرتا ہوں جو میری عبادت کرتا ہے یا (اسی گناہ گار ہونے کی حالت میں) اس کو میرے پاس لایا جاتا ہے اور میں اپنی مشیت کے مطابق اس کو معاف کردیتا ہوں یا سزا دیتا ہوں گناہگار بندوں سے میرے یہ ہی تین سلوک ہوتے ہیں۔ دوسری روایت میں آیا ہے اگر وہ منہ پھیرتا ہے تو اس کے پیچھے جہنم موجود ہے (جس میں اس کو داخل کردیا جائے گا)
قتادہ ؓ نے کہا ملکوت السموتچاند سورج اور ستارے ہیں اور ملکوت الارضپہاڑ درخت اور سمندر۔
ولیکون من الموقنین اور تاکہ وہ (عینی) یقین رکھنے والوں میں سے ہوجائے۔ اس جملہ کا عطف فعل محذوف پر ہے یعنی دیکھنے کے بعد وہ استدلال کرلے اور مشاہدہ کے بعد عینی یقین کرلے جیسا کہ اس کو اس سے پہلے بصیرت کی روشنی میں اللہ کی طرف سے یقین عطا فرمایا گیا تھا (اب بصر کی روشنی سے دیکھ کر صاحب یقین ہوجائیے)
یا یوں مطلب کہا جائے کہ ہم نے ایسا اس لئے کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) شہودی یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے۔