6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 6:152

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق اور جب (کسی کی نسبت) کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو وہ (تمہارا) رشتہ دار ہی ہو اور خدا کے عہد کو پورا کرو ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم نصحیت کرو

ولا تقربوا مال الییتم الا بالتی ہی احسن حتی یبلغ اشدہ . اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے یہاں تک کہ وہ سن بلوغ کو پہنچ جائے۔ ولا تقربوا : یعنی یتیم کے مال کو کھانا اور تباہ کرنا تو درکنار اس کے مال کے پاس بھی نہ جاؤ۔ مگر اس طریقہ سے جس سے اس کے مال کی نگہداشت درستی اور ترقی ہوتی ہو مجاہد نے کہا التی ہی احسن : سے مراد تجارت ہے۔ اشد شد : کی جمع ہے جیسے افس فلس : کی جمع ہے یعنی بلوغ اور بلوغ کے بعد پوری سمجھ کے تمام اوصاف یتیم کو حاصل ہوجائیں۔ بعض کے نزدیک اشد : مفرد ہے جس کا معنی ہے (قوتوں کا) کمال۔ اشد : تک پہنچنے کی شرط احترازی نہیں عادی ہے اسلام سے پہلے یتیم کے مال میں اس کے بچپن کے زمانہ میں ہر طرح کا تصرف کرلیا کرتے تھے لیکن جب وہ طاقتور ہوجاتا اور اس کے قویٰ کی تکمیل ہوجاتی تو وہ خود دوسروں کو اپنے مال میں تصرف کرنے سے روک دیتا تھا اس پر اللہ نے فرمایا کہ یتیم کے بچپن کے زمانہ میں بھی اس کے مال کے پاس نہ جاؤ اور اس کے بعد تو وہ کود ہی تم کو روک دے گا تم تصرف کر ہی نہ سکو گے بغوی نے لکھا ہے (معنی کے لحاظ سے) اصل آیت اس طرح ہے کہ یتیم کے مال کے پاس کبھی بھی نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ سے جو مستحسن ہے یہاں تک کہ جب وہ قوت کو پہنچ جائے تو اس کا مال اس کو دے دو بشرطیکہ وہ سبک سر نہ ہو۔ میں کہتا ہوں ممکن ہے حتیٰ مستثنیٰ کی غایت ہو اور مطلب اس طرح ہو یتیم کے مال سے اچھا معاملہ کرلو۔ یہاں تک کہ وہ اپنے کمال بلوغ کو پہنچ جائے (تو اچھے تصرف سے بھی دست کش ہوجاؤ) وافوا الکیل والمیزان بالقسط . اور ناپ تول پوری پوری بغیر کمی بیشی کے کیا کرو۔ قسط عدل : کمی بیشی نہ کرنا۔ امر کو بجائے نہی کے لایا گیا ہے مطلب یہ ہے کہ تول ناپ میں کمی نہ کرو اس سے پورا پورا دینے کی اہمیت معلوم ہوگئی کیونکہ کسی چیز کی ممانعت سے التزاماً یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس چیز کی ضد کا حکم دیا گیا ہے۔ لا نکلف نفسا الا وسعہا . ہم کسی شخص کو اس کی سمائی (امکان) سے زیادہ مکلف نہیں کرتے۔ پورا پورا دینے کا حکم کے بعد اس جملہ سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ جس پر حق ہو وہ مقدارِ حق سے زیادہ اگر حقدار کو دے دے تو زیادہ بہتر ہے اور یہ زیادتی وہ خود اپنی طرف سے کر دے۔ ابن مردویہ نے ضعیف سند سے سعید بن مسیب کی مرسل روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اپنے ہاتھ پر ناپ تول پوری کی اور اس کے پوری کرنے کی نیت کو اللہ جانتا ہے اس کا مؤاخذہ نہ ہوگا (خواہ تول ناپ میں نادانستہ کمی بیشی ہوگئی ہو) اور وسعہا : سے یہی مراد ہے۔ احمد ‘ ابو داؤد ‘ ترمذی ‘ ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت سوید بن قیس ؓ کی روایت سے لکھا ہے اور حکم نے اس کو صحیح کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر ایک گھوڑے کی قیمت واجب تھی آپ نے اس کی ادائیگی کے سلسلہ میں فرمایا وزن کر کے (قیمت) دے دو اور جھکتی ہوئی دینا۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنے قرض کا تقاضا کرنے آیا اور کلام میں کچھ درشتی کی۔ بعض صحابیوں نے اس (کو مارنے) کا ارادہ کیا لیکن حضور ﷺ نے فرمایا حقدار کو کہنے کا حق ہے پھر فرمایا جس عمر کا اس کا (اونٹ) تھا اسی عمر کا اس کو دے دو ۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر ہم عمر نہ ملے بلکہ اس سے بہتر ملے فرمایا وہی دے دو کیونکہ تم میں سب سے اچھا وہ آدمی ہے جو ادائیگی قرض میں سب سے اچھا ہو۔ مسلم نے حضرت ابو رافع کی روایت سے اس کی ہم معنی حدیث بیان کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص سے رسول اللہ ﷺ نے آدھا وسق (تقریباً تین من) قرض کیا تھا وہ تقاضا کرنے آیا حضور ﷺ نے اس کو ایک وسق (تقریباً چھ من) دے دیا اور فرمایا آدھا وسق تیرا ہے اور آدھا وسق میری طرف سے ہے پھر ایک شخص ایک وسق کا تقاضا کرنے آیا آپ نے اس کو دو وسق دے دیا اور فرمایا ایک وسق تیرا ہے اور ایک وسق میری طرف سے ہے۔ رواہ الترمذی۔ اس حدیث کی سند میں کوئی سقم نہیں ہے۔ اسی لئے صاحب حق کے لئے افضل یہ ہے کہ اپنے حق سے کم واپس لے حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی رحمت ہو اس جوانمردی کرنے والے شخص پر جو بیچنے خریدنے اور (قرض کا) مطالبہ کرنے کے وقت جوانمردی کرتا ہے۔ رواہ البخاری۔ چونکہ صاحب حق کے حق سے زیادہ ادا کرنا اور اپنے حق سے کم لینا اور اس پر راضی ہوجانا لوگوں کی طبیعتوں پر گراں گزرتا ہے اس لئے اللہ نے نہ زیادہ دینا واجب کیا نہ کم لینا لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا : کا یہی مطلب ہے۔ ان تمام احادیث سے امام شافعی کے مسلک کی تائید ہوتی ہے امام شافعی کا قول ہے کہ اگر قرض دار قرض خواہ کو کوئی چیز ہدیہ میں دے دے یا اس کو سواری کے لئے (بلا کرایہ) کوئی جانور دے دے یا اپنے مکان میں (بلا کرایہ) رکھ لے تو جائز ہے بشرطیکہ یہ شرطیں پہلے سے قرض لینے کے وقت طے نہ کی گئی ہوں باقی تینوں اماموں کے نزدیک یہ تمام صورتیں مکروہ تحریمی ہیں کوئی بھی جائز نہیں۔ سورة بقرہ کی آیت مداینت کی تفسیر میں یہ مسئلہ گزر چکا ہے۔ واذا قلتم فاعدلوا ولو کان ذا قربی . اور جب تم بات کہو (خواہ پنچایت اور فیصلہ ہو یا شہادت) تو انصاف رکھا کرو اگرچہ وہ شخص (جو مدعی یا مدعی علیہ ہے تمہارا) قرابت دار ہو۔ اس جملہ سے مقصود بھی جنبہ داری اور جھوٹی شہادت دینے کی ممانعت تاکید کے ساتھ کرنی ہے یہاں تک کہ گمان اور راجح خیال کی بنیاد پر بھی شہادت دینی ناجائز ہے۔ بلکہ شہادت کے لئے پورا پورا یقین ہونا ضروری ہے لفظ شہادت (حضور اور معائنہ) بھی اسی پر دلالت کرتا ہے رسول اللہ ﷺ نے تین بار فرمایا تھا جھوٹی شہادت شرک کے مساوی ہے پھر حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور حنفاء للہ غیر مشرکین بہ : رواہ ابو داؤد و ابن ماجۃ عن حزیم بن فاتک۔ واحمد والترمذی عن احمد بن خریم۔ ابن ماجۃ نے رسول اللہ ﷺ کی قرأت کا ذکر نہیں کیا ہے۔ حضرت بریدہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قاضی تین (قسم کے) ہوں گے۔ ایک جنت میں جائے گا اور دو دوزخ میں جنت میں وہ قاضی جائے گا جس نے حق کو پہچانا اور حق کے مطابق ہی فیصلہ کیا۔ اور جس نے حق کو پہچان لیا مگر فیصلہ میں ظلم کیا وہ دوزخ میں جائے گا اور جس نے جہالت کے باوجود فیصلہ کیا وہ بھی دوزخ میں جائے گا۔ رواہ ابو داؤد۔ وبعہد اللہ اوفوا . اور اللہ سے کیا ہوا عہد پورا کرو۔ عہد اللہ : سے مراد یا نذر اور قسم ہے یا تمام اومر و نواہی کی پابندی احکام شرع کی ادائیگی اور عدل پر کاربند رہنے کا اقرار۔ اوفوا : امر کا صیغہ ہے جس سے مقصود ہے ضد سے پر زور بازداشت ‘ مقصد یہ ہے کہ اللہ سے کئے ہوئے مضبوط عہد کی خلاف ورزی نہ کرو اور پختہ قسموں کو نہ توڑو اوامرو نواہی کی مضبوط پابندی کا تقاضا ہے کہ آدمی ان چیزوں سے بھی پرہیز رکھے جن کی حرمت و حلت مشتبہ ہو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح اور حلال و حرام کے درمیان کچھ امور غیر واضح ہیں جن کو بہت آدمی نہیں جانتے پس جو شخص ان مشتبہ امور سے بچا رہا وہ اپنی آبرو اور دین کو بےداغ بچا لے گیا اور جو متشبہات میں پڑگیا وہ (آخرکار) حرام میں پڑجائے گا۔ جیسے کوئی چرواہا اگر محفوظ چراگاہ کے آس پاس چراتا ہے تو اغلب ہے کہ وہ چراگاہ کے اندر بھی جا پڑے۔ متفق علیہ من حدیث النعمان بن بشیر طبرانی نے صغیر میں صحیح سند سے حضرت عمر ؓ کی مرفوع روایت نقل کی ہے کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے جو چیز شک آفریں ہے اس کو چھوڑ دو اس چیز کو اختیار کرو جو شک آفریں نہ ہو۔ ذلکم وصکم بہ لعلکم تذکرون : ان سب کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو
Ayah 6:153

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

اور یہ کہ میرا سیدھا رستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور اور رستوں پر نہ چلنا کہ (ان پر چل کر) خدا کے رستے سے الگ ہو جاؤ گے ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو

وان ہذا صراط مستقیما فاتبعوہ . (اور عمل کرو) اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے سیدھا سو اس پر چلو۔ فراء نے کہا ان ہذا : (سے پہلے فعل محذوف ہے) اصل میں واتل علیکم ان ہذا : تھا اور میں تم کو سناتا ہوں کہ یہ میرا راستہ ہے۔ مستقیما صراطی : سے حال ہے۔ ہذا : سے اشارہ اس مجموعۂ مضامین کی طرف ہے جن کا ذکر اس سورت میں آیا ہے یعنی توحید ‘ نبوت ‘ انبیاء کا دین ‘ میرا راستہ اور میرا دین ہے۔ میں کہتا ہوں ان : سے پہلے حرف جر بھی محذوف ہوسکتا ہے اور اس وقت اس کا عطف بہ : پر ہوگا۔ بیضاوی نے لام کو محذوف قرار دیا ہے کیونکہ اس کے بعد فاتبعوہ : آیا ہے راستہ کا مستقیم ہونا اتباع کی علت ہے۔ بعض علماء کے نزدیک ہذا : سے اشارہ (صرف) اس مضمون کی طرف ہے جس کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے یہ آیات محکم ہیں کوئی آیت ان کی ناسخ نہیں تمام مذاہب میں یہ امور حرام ہیں یہ ہی اصول کتاب ہیں جو ان پر چلے گا جنت میں جائے گا جو ان کو ترک کرے گا دوزخی ہوگا۔ انتہیٰ کلامہ۔ ولا تتبعوا السبل فتفرق بکم عن سبیلہ ذلکم وصکم بہ لعلکم تتقون . اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دے گی اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم (اس کے خلاف کرنے سے) احتیاط رکھو۔ یعنی اپنی اپنی من مانی مختلف راہوں پر نہ چلو ورنہ یہ خواہش پرستی کی راہیں تم کو اتباع وحی کے راستہ سے پراگندہ کردیں گی اتباع کتاب و سنت شریعت کا تقاضا ہے عقل و دانش کی رسائی وہاں تک ہو سکے یا نہ ہو سکے اور خود تراشیدہ نظریات فاسدہ کا تقاضا ہے کہ کتاب و سنت اگر خواہش پرست طبقہ کے خیالات کے مطابق ہوں تو ان کو مان لیا جائے مخالف ہوں تو نہ مانا جائے اور جہاں تک ہو سکے کتاب و سنت کی صراحتوں کی توجیہ کی جائے فرقہ پرستی اور گروہ بندی کا یہی سنگ بنیاد ہے۔ رافضی ‘ خارجی ‘ مجسمہ ‘ جبریہ ‘ قدریہ اور مختلف فرقے اسی نظریہ کے زیر اثر وجود میں آئے میں نے سورة بقرہ کی آیت کلما اضاء لہم مشوا فیہ واذا اظلم علیہم قاموا : کی تفسیر کے ذیل میں یہ مسئلہ تفصیل سے لکھ دیا ہے۔ اللہ نے تم کو اتباع وحی کی نصیحت اس لئے کی ہے کہ تم گمراہی اور تفرق عن الحق سے بچ جاؤ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا یہ اللہ کا راستہ ہے پھر اس لکیر سے دائیں بائیں مختلف لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ مختلف رستے ہیں ان میں سے ہر ایک راستہ پر ایک شیطان بیٹھا ہوا ہے اور لوگوں کو اس راستہ کی طرف بلا رہا ہے پھر حضور ﷺ نے آیت ان ہذا صراطی مستقیما فاتبعوہ : تلاوت فرمائی۔ رواہ احمد والنسائی والدارمی۔ حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک مؤمن نہ ہوگا جب تک اس کا قلبی جھکاؤ اس (دین) کا تابع نہ بن جائے جو میں لے کر آیا ہوں۔ رواہ البغوی فی شرح السنۃ نووی نے اربعین میں لکھا ہے یہ حدیث صحیح ہے۔
Ayah 6:154

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

(ہاں) پھر (سن لو کہ) ہم نے موسیؑ کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ان لوگوں پر جو نیکوکار ہیں نعمت پوری کر دیں اور (اس میں) ہر چیز کا بیان (ہے) اور ہدایت (ہے) اور رحمت ہے تاکہ (ان کی امت کے) لوگ اپنے پروردگار کے رُوبرو حاضر ہونے کا یقین کریں

ثم اتینا موسیٰ الکتب . پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب (یعنی توریت) دی۔ ایک شبہ ثم : کلام عربی میں تراخی کے لئے آتا ہے یعنی ثم : کے بعد والے کلام کا وقوع ثم : سے پہلے والے کلام کے وقوع سے بعد کو ہوتا ہے لیکن اس جگہ ایسا نہیں۔ حضرت موسیٰ کی کتاب تو مذکورہ نصائح سے بہت پہلے نازل ہوچکی تھی۔ اس شبہ کا جواب بوجوہ ذیل دیا جاسکتا ہے۔ اتینا : کا عطف وصکم بہ : پر ہے اور ثم : صرف تاخیر بیان کے لئے استعمال ہوا ہے (واقعی تقدیم و تاخیر ملحوظ نہیں ہے) یعنی مذکورۂ بالا نصیحت کرنے کے بعد اب ہم تم کو بتاتے ہیں کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی۔ یا مرتبہ کے تفاوت کے لئے ہے (یعنی عموم سے خصوص کی طرف ترقی کی گئی ہے) مطلب یہ کہ مذکورہ نصائح تو اللہ نے پرانے اور نئے زمانوں میں یکساں کی ہیں پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ نے موسیٰ کو کتاب دی تھی یا اتینا : سے پہلے قل محذوف ہے اور اس کا عطف سابق قل : پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ بھی کہہ دیجئے کہ اللہ نے موسیٰ کو کتاب دی۔ یا یوں کہا جائے کہ اس جگہ ثم واؤ : کی طرح مطلق عطف کے لئے ہے (تراخی کے لئے نہیں ہے) جیسے آیت ثم اللہ شہید : میں۔ میں کہتا ہوں ممکن ہے کہ خطاب کا رخ تمام انسانوں کی طرف ہو حضرت آدم کے وقت سے اب تک کے تمام انسان مخاطب ہوں لیکن حاضرین کو غائبین پر تغلیب دے کر صیغہ خطاب کا استعمال کیا گیا۔ اس وقت ثم تراخی : حکم کے لئے ہوگا مطلب اس طرح ہوگا اے انسانو ! میں نے آغاز آفرینش سے تم کو شرائع پر کاربند رہنے کا تاکیدی حکم دے دیا تھا ہر زمانہ میں شریعتیں آتی رہیں اور ہر شریعت میں یہ نصائح و احکام بھی موجود رہے پھر آخر میں ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کتاب میں کچھ مزید احکام بھی بیان کئے۔ ثماما علی الذی احسن . جس سے اچھی طرح عمل کرنے والوں پر نعمت پوری ہو (مفسر نے مطلب اس طرح بیان کیا ہے) تاکہ تکمیل نعمت ہوجائے ان لوگوں پر جو سابق شریعتوں پر کاربند رہے ہوں لیکن جو شخص کہ اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان ہی نہ لایا ہو اور نہ گزشتہ شریعتوں کی پابندی کی ہو اس کو نہ توریت سے کچھ فائدہ ہوسکتا ہے نہ قرآن سے نہ اس پر نعمت کی تکمیل ہوئی۔ الذی احسن : سے حضرت موسیٰ مراد ہیں یعنی تاکہ توریت سے موسیٰ ( علیہ السلام) پر جنہوں نے گزشتہ شرائع کی بحسن و خوبی پابندی کی۔ نعمت کی تکمیل ہوجائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ الذی : کا اطلاق واحد اور جمع سب پر ہوتا اور اس سے مراد امت موسویہ کے وہ تمام افراد ہیں جنہوں نے (ایمان کے ساتھ) نیک عمل کئے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت الذین احسنوا : سے اس قول کی تائید ہوتی ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا الذی احسن : سے مراد انبیاء ہیں یعنی انبیاء پر موسیٰ ( علیہ السلام) کی فضیلت کامل کرنے کے لئے ہم نے موسیٰ کو کتاب دی مطلب یہ کہ موسیٰ کی فضیلت کتاب دے کر ہم نے ظاہر کردی۔ وتفصیلا لکل شی وہدی ورحمۃ . . اور تمام احکام کی تفصیل ہوجائے اور ہدایت ہو اور رحمت ہو۔ تفصیل مصدر بمعنی اسم مفعول ہے اور موصوف محذوف کی صفت ہے یعنی) ان امور کا مفصل بیان جن کی دین میں ضرورت پڑتی ہے۔ لعلہم بلقاء ربہم یومنون . تا کہ وہ لوگ یعنی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانہ کے لوگ (مراد بنی اسرائیل ہیں) اپنے رب سے ملنے پر یقین کرلیں۔ رب کی ملاقات سے مراد ہے حشر و نشر عذاب وثواب۔
Ayah 6:155

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور (اے کفر کرنے والوں) یہ کتاب بھی ہمیں نے اتاری ہے برکت والی تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے

وہذا کتب انزلنہ مبارک فاتبعوہ واتقوا لعلکم ترحمون . اور یا (قرآن) ایک کتاب ہے جس کو ہم نے بھیجا ہے بڑی خیر و برکت والی سو اس پر چلو اور (گناہوں سے) بچو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔ یعنی موسیٰ کے بعد اللہ نے قرآن نازل کیا جو خیر و برکت میں توریت سے بڑھ چڑھ کر ہے کیونکہ اس کے الفاظ مختصر ہیں اور مختصر عبارت میں علوم کا کثیر ذخیرہ موجود ہے گویا یہ محیط دائرہ کا مرکز ہے۔ پس توریت کی جگہ اس کے احکام کا اتباع کرو۔ اور مخالفت کی صورت میں اللہ کے عذاب سے ڈرو۔
Ayah 6:156

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

(اور اس لیے اتاری ہے) کہ (تم یوں نہ) کہو کہ ہم سے پہلے دو ہی گروہوں پر کتابیں اتری تھیں اور ہم ان کے پڑھنے سے (معذور اور) بےخبر تھے

ان تقولوا انما انزل الکتب علی طائفتین من قبلنا وان کنا عن دراستہم لغفلین . کہیں تم یوں کہنے لگتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے دونوں فرقوں پر اتری تھی اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے بالکل ناواقف تھے۔ طائفتین : سے مراد ہیں یہودی اور عیسائی اگرچہ صحیفے اور کتابیں توریت اور انجیل کے علاوہ بھی نازل ہوئیں ‘ لیکن توریت و انجیل کے علاوہ اس وقت کوئی مشہور نہیں اسی لئے صرف یہودیوں اور عیسائیوں کی کتاب کا ذکر کیا۔ وان کنا : میں ان مخففہ ہے اسی لئے خبر میں لام لایا گیا۔ مطلب یہ کہ ہم ان پڑھ امی تھے اور شریعتیں ہم سے پہلے والے دونوں گروہوں میں اتاری گئی تھیں اس حجت کو دور کرنے کیلئے محمد ﷺ کو بھیجا گیا اور قرآن اتارا گیا تاکہ اہل مکہ کو عذر کا موقع نہ مل سکے اور سارے جہان کیلئے نبوت و قرآن رحمت ہوجائے۔
Ayah 6:157

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

یا (یہ نہ) کہو کہ اگر ہم پر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان لوگوں کی نسبت کہیں سیدھے رستے پر ہوتے سو تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل اور ہدایت اور رحمت آ گئی ہے تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرے اور ان سے (لوگوں کو) پھیرے جو لوگ ہماری آیتوں سے پھیرتے ہیں اس پھیرنے کے سبب ہم ان کو برے عذاب کی سزا دیں گے

او تقولوا لو انا انزل علینا الکتب لکنا اہدی منہم فقد جآء کم بینۃ من ربکم وہدی ورحمۃ . یا یوں کہتے ہیں کہ اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے بھی زیادہ ہدایت یاب ہوتے سو اب تمہارے رب کی طرف سے تم پر ایک واضح کتاب اور ہدایت اور رحمت آچکی ہے۔ اس کا عطف سابق ان تقولوا : پر ہے یعنی یہ بات پسند نہ تھی کہ تم یہ کہنے لگتے کہ جس طرح ہم سے پہلے لوگوں کو کتاب دی گئی اسی طرح اگر ہم پر بھی اتاری جاتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوجاتے۔ بغوی نے لکھا ہے کافروں کی ایک جماعت نے کہا تھا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے بہتر ہوتے۔ بینۃ : واضح دلیل ایسی زبان میں جس کو تم جانتے ہو اور اس کے باوجود اس کی چھوٹی سورت کی طرح بھی پیش نہ کرسکے۔ ہدی : یعنی غور کرنے والے کے لئے واضح ہدایت۔ رحمۃ : جو اس پر عمل کرے اس کے لئے نعمت۔ جملہ فقد جاء کم : محذوف شرط کی جزاء ہے مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو تمہاری تمنا کے مطابق روشن دلیل اور قاطع برہان آگئی۔ فمن اظلم ممن کذب بایت اللہ وصدف عنہا سنجزی الذین یصدفون عن ایتنا سوء العذاب بما کانوا یصدفون . پس اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی ان آیتوں کو جھوٹا کہتا اور ان سے اعراض کرتا ہے۔ جو لوگ ہماری آیات سے اعراض کرتے ہیں ہم بھی ان کو ان کے اعراض کرنے کی سخت سزا دیں گے۔ استفہام انکاری ہے۔ صدف : خود رکنا ‘ اور دوسروں کو روکنا۔ سوء العذاب : شدت عذاب یعنی جب اللہ کی آیات نازل ہونے کی تمنا تھی اور آیات نازل ہوگئیں اور آیات کا اللہ کی طرف سے نازل ہونا بالکل واضح بھی ہوگیا اب اگر کوئی ان کو نہیں مانتا اور تکذب کرتا ہے یا دوسروں کو روکتا ہے تو اس سے بڑا ناحق کوش کوئی نہیں۔
Ayah 6:158

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

یہ اس کے سوا اور کس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود تمہارا پروردگار آئے یا تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آئیں (مگر) جس روز تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا یا اپنے ایمان (کی حالت) میں نیک عمل نہیں کئے ہوں گے (تو گناہوں سے توبہ کرنا مفید نہ ہوگا اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں

ہل ینظرون الا ان تاتیہم الملئکۃ او یاتی ربک او یاتی بعض ایت ربک . یہ لوگ صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا آپ کا رب آجائے یا آپ کے رب کی کوئی بڑی نشانی آجائے۔ ہل ینظرون : میں استفہام انکاری ہے یعنی اہل مکہ قرآن پر ایمان لانے کے لئے بس اس بات کے منتظر ہیں کہ الخ۔۔ الملائکہ : سے موت کے یا عذاب کے فرشتے مراد ہیں یا وہ ملائکہ مراد ہیں جو روبرو آکر رسول اللہ کی صداقت اور قرآن مجید کی حقانیت کی شہادت دیں۔ خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ جس چیز کی اہل مکہ آرزو مند تھے وہ آگئی لیکن وہ ایمان نہ لائے تو شاید ایمان لانے کے لئے وہ ملائکہ کے آنے کے منتظر ہیں حالانکہ فرشتوں کے آنے کے بعد کوئی ایمان مفید نہ ہوگا۔ بیضاوی نے اس آیت کی تشریح میں لکھا ہے کہ (حقیقت میں وہ لوگ منتظر نہیں تھے بلکہ) ان کی حالت منتظر کی ایسی حالت تھی اس لئے بطور تشبیہ ما ینظرون : فرمایا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ملائکہ کے آنے سے مراد ہو قیامت کے دن میدان حشر میں فرشتوں کا آسمان سے اترنا اس کی تائید او یاتی ربک : کے فقرہ سے ہو رہی ہے قیامت کے دن میدان حشر میں مخلوق کا فیصلہ کرنے کے لئے اللہ رونق افروز ہوگا۔ جس کی رونق افروزی ہر کیفیت سے ماورا ہوگی۔ اسی کی مثل سورة بقرہ میں آیت ہل ینظرون الا ان یاتیہم اللہ فی ظلل من الغمام والملائکۃ وقضی الامر : گزر چکی ہے اور اس کی تفسیر میں سلف خلف کا جو اختلاف تھا وہ وہاں ذکر کردیا گیا ہے۔ فمن شاء فلیرجع۔ ایت ربک : سے مراد ہیں خصوصی علامت قیامت۔ بغوی نے لکھا ہے اس سے مراد ہے آفتاب کا پچھم کی طرف سے نکلنا اکثر اہل تفسیر کا یہی قول ہے حضرت ابو سعید خدری کی مرفوع روایت بھی اسی طرح کی آئی ہے۔ (1) [ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ ایک بار حضرت عمر نے خبطہ میں فرمایا لوگو ! اس امت میں عنقریب کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو حکم رحم کا انکار کریں گے خروج دجال کی تکذیب کریں گے پچھم کی طرف سے آفتاب کے طلوع (کی اطلاع) کو جھوٹا قرار دیں گے، عذاب قبر کی بھی تکذیب کریں گے، وقوع شفاعت کے بھی قائل نہ ہوں گے اور اس بات کو بھی نہیں مانیں گے کہ دوزخ سے کچھ لوگوں کو جھلسنے کے بعد نکالا جائے گا ] فصل : علامات قیامت۔ حضرت حذیفہ ؓ بن اسید غفری کا بیان ہے کہ ہم قیامت کے متعلق باہم گفتگو میں مشغول تھے کہ رسول اللہ ﷺ برآمد ہوئے اور فرمایا جب تک قیامت سے پہلے تم دس نشانیاں نہیں دیکھ لو گے قیامت نہیں آئے گی۔ پھر آپ نے (مندرجۂ ذیل امور کا) ذکر فرمایا۔ دھواں ‘ دجال۔ دابۃ الارض۔ مغرب سے سورج کا طلوع۔ عیسیٰ بن مریم کا اترنا۔ یاجوج ماجوج کا خروج۔ تین مرتبہ زمین کا دھنسنا ایک بار مشرق میں ایک بار مغرب میں ایک بار جزیرۂ عرب میں۔ آخر میں یمن سے ایک آگ کا نکلنا جو لوگوں کو میدان حشر کی طرف کھدیڑ کرلے جائے گی۔ دوسری روایت میں ہے کہ قعر عدن سے ایک آگ برآمد ہوگی جو لوگوں کو میدان حشر کی طرف ہنکا کرلے جائے گی۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ دسویں چیز ایک ہوائی طوفان ہوگا جو لوگوں کو سمندر میں پھینک دے گا۔ رواہ مسلم۔ حضرت عبداللہ بن عمرو کا بیان ہے میں نے خود سنا رسول اللہ فرماتے رہے تھے سب سے پہلی نشانی مغرب سے طلوع آفتاب اور دن چڑھتے دابۃ الارض کا خروج ہوگا ان دونوں علامتوں میں سے جو بھی پہلے ہوجائے گی فوراً اس کے پیچھے دوسری علامت بھی آجائے گی۔ رواہ مسلم۔ حضرت نواس ؓ بن سمعان کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا اگر میری موجودگی میں وہ برآمد ہوگیا تو میں تمہاری طرف سے اس سے نمٹ لوں گا اور اگر میں نہ ہوا اور وہ نکلا تو اس وقت ہر شخص اپنا دفاع کرے ہر مسلمان کا میری بجائے (براہ راست) اللہ نگہبان ہے۔ دجال جوان زولیدہ ہوگا جس کی ایک آنکھ باہر کو ابھری ہوئی یعنی پھولے والی ہوگی گویا عبدالعزی بن قطن میں سے میں اس کو تشبیہ دے سکتا ہوں اگر تم میں سے کوئی اس کو پالے تو سورة کہف کی ابتدائی آیات اس پر پڑھے وہ آیات دجال کے فتنہ سے پڑھنے والے کے لئے بچاؤ ہوجائیں گی۔ دجال شام و عراق کے درمیان خلہ میں برآمد ہوگا۔ دائیں بائیں تباہی مچائے گا۔ اللہ کے بندو تم (ایمان پر) جمے رہنا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس کا قیام زمین پر کتنی مدت ہوگا فرمایا چالیس روز اس میں ایک دن یا ایک سال کے برابر ایک دن ایک ماہ کے برابر ایک دن ایک ہفتہ کے برابر اور باقی دن تمہارے انہی دنوں کی طرح ہوں گے ہم نے عرض کیا جو دن ایک سال کے برابر ہوگا کیا اس میں ایک دن کی نمازیں ہوں گی فرمایا نہیں اس کا اندازہ کرلینا۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ زمین میں کتنی تیز رفتار سے چلے گا فرمایا جیسے ہوا اپنے پیچھے بارش لاتی ہے بعض لوگوں کی طرف سے جب اس کا گزر ہوگا تو وہ اس پر ایمان لے آئیں گے اس پر آسمان اس کے حکم سے ان پر مینہ برسائے گا اور زمین سبزہ پیدا کر دے گی ان کے مویشی شام کو جنگل سے واپس آئیں گے تو ان کے تھن (دودھ سے) خوب بھرپور اور کو کیں پھولی ہوں گی (یعنی موٹے ہوجائیں گے) پھر کچھ اور لوگوں کی طرف سے گزرے گا اور ان کو دعوت دے مگر وہ دجال کی دعوت کو رد کردیں گے جب دجال ان کے پاس سے واپس ہوگا تو وہ سب کال میں مبتلا ہوچکے ہوں گے مال بالکل ختم ہوچکا ہوگا ان کے پاس کچھ نہ ہوگا۔ دجال ویرانے کی طرف سے گزرے گا وہ اپنے دفینے باہر نکال دے گا فوراً سارے خزانے اس کے پیچھے ہو لیں گے جیسے شہد کی مکھیاں یعسوب کے پیچھے ہوتی ہیں۔ پھر دجال ایک شخص کو بلائے گا جو جوانی سے بھرپور ہوگا تلوار اس کے دو ٹکڑے کر کے (ال الگ) بقدر نشانۂ تیر پھینک دے گا پھر اس کو بلائے گا تو وہ شگفتہ رو ہنستا ہوا سامنے سے آجائے گا۔ دجال اپنی اسی حالت میں ہوگا کہ اللہ مسیح ( علیہ السلام) بن مریم ( علیہ السلام) کو بھیج دے گا مسیح دمشق کے شرقی جانب سفید منارہ کے پاس دو فرشتوں کے بازو وں پر دونوں ہاتھوں کا سہارا دیئے اتریں گے سر جھکائیں گے تو چاندی کے موتیوں کی طرح (پسینہ کے) قطرے ٹپکیں گے اور سر اٹھائیں گے تب بھی موتیوں کی طرح (چہرہ سے) قطرہ بہیں گے جس کافر کو ان کی سانس کی ہوا پہنچے گی وہ مرجائے گا اور ان کے سانس کی رسائی وہاں تک ہوگی جہاں تک نظر کی پہنچ ہوگی۔ مسیح دجال کو ڈھونڈیں گے اور باب لد کے پاس اس کو پا کر قتل کردیں گے۔ پھر عیسیٰ ( علیہ السلام) کے پاس کچھ لوگ آئیں گے جن کو اللہ نے دجال سے محفوظ کر رکھا ہوگا۔ عیسیٰ ( علیہ السلام) ان کے چہروں سے غبار صاف کریں گے اور جنت میں (ملنے والے) ان کے مراتب بیان کریں گے۔ اس کے بعد اللہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجے گا کہ اب میں نے اپنے کچھ بندے ایسے پیدا کردیئے ہیں جن سے لڑنے کی کسی میں طاقت نہیں تم میرے ان بندوں کو سمیٹ کر طور کی طرف لے جاؤ اس کے بعد اللہ یاجوج ماجوج کو بھیج دے گا جو ہر ٹیلہ کے پیچھے سے پھیلتے جائیں گے (ان کی تعداد اتنی ہوگی کہ) ان کا اگلا گروہ جب بحیرۂ طبریہ پر گزرے گا تو سب پانی پی جائے گا اور آخری لوگ جب وہاں سے گزریں گے تو کہیں گے ہم نے زمین کے باشندوں کو تو قتل کردیا اب ہم آسمان والوں کو قتل کرنا چاہتے ہیں چناچہ وہ اپنے چھوٹے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے اور اللہ ان کے تیروں کو خون سے رنگین کر کے واپس کر دے گا (تو وہ بہت خوش ہوں گے) اللہ کا نبی اور اس کے ساتھی (اس پوری مدت میں کوہ طور پر) محصور رہیں گے یہاں تک کہ ایک بیل کی سری ان کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہوگی جتنے آج کل سو دینار تمہارے لئے۔ اس کے بعد اللہ کے نبی عیسیٰ اور ان کے ساتھ دعا کریں گے تو اللہ یاجوج ماجوج کی گردنوں میں گلٹیاں پیدا کر دے گا جن کی وجہ سے وہ سب کے سب ایک آدمی کی طرح صبح کو مرجائیں گے پھر عیسیٰ نبی اللہ اور ان کے ساتھی نیچے اتر کر آئیں گے لیکن زمین پر بالشت بھر جگہ ان کو ایسی نہیں ملے گی جو سڑاند اور تعفن سے بھری نہ ہو عیسیٰ نبی اللہ اور ان کے ساتھی اللہ سے دعا کریں گے تو اللہ کچھ پرندوں کو بھیج دے گا جو بختی اونٹوں کی گردنوں کی طرح (لمبے لمبے) ہوں گے یہ پرندے ان کو اٹھا کرلے جائیں گے اور جہاں اللہ کی مرضی ہوگی پھینک دیں گے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ اللہ ان کو نہبل میں پھینک دے گا۔ (1) [ صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ ترمذی میں حدیث دجال میں نہبل کا لفظ آیا ہے مگر یہ غلط ہے صحیح میم کے ساتھ ہے ] اور مسلمان یاجوج ماجوج کی کمانوں تیروں اور تیر دانوں کو سات برس تک ایندھن کے طور پر استعمال کریں گے پھر اللہ بارش کر دے گا جو ساری زمین کو دھو کر باغ کر طرح کر دے گا۔ کسی کچے مکان یا ڈیرے کی چھت محفوظ نہیں رہے گی اس کے بعد زمین کو حکم ہوگا اپنی سبزی اگا اور پیداوار کو لوٹا کر دے دے چناچہ اس زمانہ میں ایک انار ایک جماعت کے لئے کافی ہوگا اور انار کے چھلکے سے لوگ سائبان بنائیں گے دودھ میں برکت ہوجائے گی دودھ دینے والی ایک اونٹنی ایک بڑے گروہ کے لئے دودھ دینے والی ایک گائے ایک قبیلہ کے لئے اور دودھ دینے والی ایک بکری قبیلہ کے ایک خاندان کے لئے کافی ہوگی اسی حالت میں اللہ ایک خوشگوار ہوا بھیجے گا جو لوگوں کی بغلوں کے نیچے لگے گی اور ہر مومن و مسلم کی روح قبض ہوجائے گی صرف شریر لوگ باقی رہ جائیں گے جو فتنے فساد اور گڑ بڑ کریں گے جیسے گدھے آپس میں کرتے ہیں انہی پر قیامت بپا ہوگی۔ رواہ مسلم۔ مسلم کی روایت میں ثم یطرحہم بالنہبل : سے سبع سنین : تک نہیں ہے اور ترمذی کی روایت میں یہ بھی مذکور ہے۔ حضرت حذیفہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دجال خروج کرے گا اس کے ساتھ پانی بھی ہوگا اور آگ بھی۔ لوگ جس کو پانی خیال کریں گے وہ آتش سوزاں ہوگی اور جس کو آگ سمجھیں گے وہ ٹھنڈا میٹھا پانی ہوگا تم لوگوں میں جو شخص اس کو پائے تو جس کو آگ سمجھتا ہو اسی میں پڑجائے وہ حقیقت میں شیریں پاکیزہ پانی ہوگا۔ متفق علیہ۔ مسلم کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ دجال کی ایک آنکھ پٹ ہوگی ایک موٹا ناخونہ اس پر چڑھا ہوگا اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لفظ کافر لکھا ہوگا جس کو ہر مؤمن پڑھ لے گا لکھنے والا ہو یا لکھنے والا نہ ہو۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ دجال کے ساتھ جنت و دوزخ کی شبیہ (یعنی راحت و دکھ کی چیزیں) ہوگی جس کو وہ جنت کہے گا وہ دوزخ ہوگی۔ حضرت حذیفہ ؓ کی روایت سے مسلم نے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ مسلم نے حضرت ابو سعید ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ اس کو یعنی دجال کو جب مؤمن دیکھے گا تو کہے گا لوگو ! یہ وہی دجال ہے جس کا ذکر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا دجال کے حکم سے اس کو سر کی مانگ سے نیچے تک آرے سے چیر کر دونوں ٹانگیں الگ الگ کردیں جائیں گی ‘ پھر دجال دونوں ٹکڑوں کے درمیان جا کر کہے گا اٹھ جا مؤمن زندہ ہو کر سیدھا کھڑا ہوجائے۔ دجال اس سے کہے گا کیا (اب) تجھے میرا یقین ہوا مؤمن کہے گا تیرے اس فعل سے تو میری بصیرت اور بڑھ گئی (یقیناً تو دجال ہے) الحدیث۔ امام احمد ؓ نے حضرت اسماء بنت یزید کی روایت سے ذکر کیا ہے کہ دجال کے شدید ترین فتنوں میں سے ایک واقعہ یہ ہوگا کہ دجال کے ایک اعرابی سے جا کر کہے گا اگر میں تیرے اونٹ زندہ کر دوں تو کیا تو جب بھی مجھے اپنا رب نہ مانے گا اعرابی کہے گا ضرور مانوں گا۔ فوراً شیطان اس کے اونٹوں کے بھیس میں اس کے سامنے آجائے گا ان کے لمبے لمبے خوبصورت تھن اور اونچے اونچے کوہان ہوں گے ایک شخص کا بھائی اور باپ مرچکا ہوگا ‘ دجال اس سے کہے گا اگر میں تیرے باپ اور بھائی کو زندہ کر دوں تو کیا تو مجھے اپنا رب نہیں مانے گا۔ وہ شخص ا کہے گا بیشک مان لوں گا فوراً شیطان اس کے باپ اور بھائی کی شکل میں نمودار ہوجائے گا۔ الحدیث۔ فصل : (امام) مہدی کا ظہور مذکورۂ بالا نشانیوں سے پہلے ہوگا۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر دنیا کی عمر کا صرف ایک دن رہ جائے گا تب بھی اللہ اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ ایک شخص کو مبعوث فرما دے جو مجھ سے ہوگا یا فرمایا وہ میرے اہل بیت میں سے ہوگا اس کا نام میرے نام کے اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے موافق ہوگا (یعنی وہ بھی محمد بن عبداللہ ہوگا) جس طرح (اس زمانہ میں) زمین ظلم اور ناانصافی سے بھری ہوگی وہ اتنا ہی زمین کو انصاف اور عدل سے بھر دے گا۔ ترمذی کی روایت کے الفاظ میں یہ دنیا ختم نہ ہوگی جب تک عرب کا مالک ایک ایسا شخص نہ ہوجائے گا۔ جو میرے اہل بیت میں سے ہوگا اور اس کا نام میرا نام ہوگا۔ حضرت ام سلمہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک خلیفہ کے مرنے پر لوگوں میں اختلاف ہوجائے گا تو اہل مدینہ میں سے ایک شخص بھاگ کر مکہ کو چلا جائے گا وہاں مکہ والے اس کو (گھر کے اندر سے) نکال کر باہر لائیں گے وہ پسند نہ کرے گا مگر اس کی ناگواری کے باوجود رکن اور مقام ابراہیم ( علیہ السلام) کے درمیان اس کی بیعت کریں گے اس کے پاس ایک وفد شام سے بھیجا جائے گا مگر مکہ اور مدینہ کے درمیان بیداء میں اللہ اس کو زمین کے اندھا دھنسا دے گا لوگ جب یہ حالت دیکھیں گے تو پھر اس کے پاس شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں آئیں گی اور اس کی بیعت کریں گے یہ شخص نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرے گا اور اسلام اپنا سینہ زمین پر ٹکا دے گا (یعنی ساری زمین پر اسلام بپا ہوجائے گا) سات برس تک یہ شخص رہے گا پھر اس کی وفات ہوجائے گی اور مسلمان اس کی نماز پڑھیں گے۔ رواہ ابو داؤد۔ ابو داؤد کی روایت ہے کہ حضرت علی ؓ نے اپنے صاحبزادے (امام) حسن ؓ کی طرف دیکھ کر فرمایا میرا یہ بیٹا سید ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے سید (کے لفظ) کے ساتھ اس کو نام زد فرمایا تھا اس کی پشت سے ایک آدمی پیدا ہوگا جو تمہارے نبی ﷺ کا ہم نام ہوگا اور جو خصلت میں تمہارے نبی کے مشابہ ہوگا اگرچہ جسمانی بناوٹ میں آپ کے مشابہ نہ ہوگا وہ زمین کو انصاف سے بھر دے گا۔ حضرت ابو سعید ؓ خدری کا بیان مہدی کے قصہ کے سلسلہ میں آیا ہے پھر ایک شخص آکر مہدی سے کہے گا مہدی مجھے کچھ دیجئے مجھے کچھ عنایت کیجئے مہدی لپوں سے بھر کر (یعنی دونوں ہاتھوں سے بھر کر) اس کے کپڑے میں اتنا ڈال دیں گے جتنا وہ اٹھا سکتا ہوگا۔ رواہ الترمذی۔ حاکم نے مستدرک میں لکھا ہے آسمان کے رہنے والے اور زمین کے رہنے والے اس سے راضی ہوں گے آسمان سے خوب موسلا دھار بارشیں ہوں گی اور زمین اپنے اندر کی ہر سبزی برآمد کر دے گی یہاں تک کہ زندہ مردوں کی تمنا کریں گے (کہ کاش وہ بھی زندہ ہوتے اور یہ ارزانی اور فراونی دیکھتے) مہدی اس حالت میں سات یا آٹھ یا نو سال رہیں گے (پھر آپ کی وفات ہوجائے گی) یوم یاتی بعض ایت ربک لا ینفع نفسا ایمانہا لم تکن امنت من قبل او کسبت فی ایمانہا خیرا . جس روز آپ کے رب کی بڑی نشانی آپہنچے گی کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہ آئے گا جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو۔ مثلاً جو شخص مر رہا ہو اور یقینی موت نظر کے سامنے آگئی ہو تو اس حالت میں ایمان غیر مفید ہے کیونکہ ایمان بالغیب واجب ہے (مشاہدۂ موت اور معائنۂ ملائکۂ موت کی حالت میں ایمان بالغیب نہیں رہتا) لم تکن امنت نفسا : کی صفت ہے اور کسبت : کا عطف امنت : پر ہے (یعنی کسبت : بھی نفی کے تحت ہے) بعض علماء قائل ہیں کہ صرف ایمان جو عمل سے بالکل خالی ہو غیر مفید اور ناقابل اعتبار ہے کیونکہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جو شخص پہلے سے ایمان نہ لایا ہو ‘ مرنے کے وقت اس کا ایمان فائدہ بخش نہیں ‘ یا ایمان تو پہلے سے لایا ہو مگر اس نے ایمان کے مطابق کوئی عمل نہ کیا ہو ‘ اس کا ایمان بھی غیر مفید ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ آیت کا مفہوم یہ نہیں کہ ایمان کی حالت میں اور مومن ہونے کے بعد اگر کسی نے کوئی نیکی نہ کی تو اس کا ایمان بالکل غیر مفید ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ صرف اس روز اس کا وہ سابقہ ایمان جو عمل صالح سے خالی ہو کارآمد نہ ہوگا۔ یوں بھی جواب دیا جاسکتا ہے کہ اگر دو امور مذکور ہوں اور نکرہ ہوں اور ایک نفی کے دائرہ میں داخل ہو تو نفی کا ورود دوسرے پر بھی قرار دیا جاسکتا ہے جیسے ایت ولا تطع منہم اثما او کفوراً : میں اثم : اور کفو : (دونوں کی اطاعت کی ممانعت کی گئی ہے (اثما لا : کے تحت اور کفورا او : کے بعد آیا ہے مگر ممانعت اطاعت کا تعلق دونوں سے ہے) اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوگا کہ جو نفس ایمان نہ لایا ہو اس کو بھی موت کے وقت ایمان لانا مفید نہ ہوگا اور جس نے نیکی نہ کی ہو اس کو بھی مرنے کے وقت ایمان لانے سے فائدہ نہ ہوگا۔ بغوی نے لکھا ہے آیت کا معنی یہ ہے کہ ایسے وقت میں نہ کافر کا ایمان مقبول ہے نہ فاسق کی توبہ۔ اس قول پر فی ایمانہا : میں ایمان سے بطور عموم مجاز توبہ مراد ہوگی کیونکہ لفظ توبہ دونوں قسموں کو حاوی ہے کفر سے توبہ گناہوں سے توبہ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ نے مغرب میں توبہ کا ایک دراوزہ بنایا ہے جس کی چوڑائی ستر سال کے راستہ کے برابر ہے۔ جب تک سورج کا طلوع اس طرف سے نہ ہوگا وہ دروازہ بند نہیں کیا جائے گا یہ ہی مراد ہے اللہ کے اس فرمان کی یوم یاتی بعض ایت ربک لاینفع نفسا ایمانہا لم تکن امنت من قبل :) یعنی آیت میں بعض آیات سے مغرب سے آفتاب کا طلوع مراد ہے) رواہ الترمذی و ابن ماجۃ من حدیث صفوان بن عسال۔ مسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ (قبول توبہ کے لئے) رات میں اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گناہگار (رات کو) توبہ کرلے اور دن میں اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ (دن کو) توبہ کرلے یہ سلسلہ اس وقت تک رہے گا جب آفتاب پچھم کی طرف سے نکلے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے مسلم نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے مغرب کی طرف سے سورج نکلنے سے پہلے توبہ کرلی اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔ احمد دارمی اور ابو داؤد نے حضرت معاویہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہجرت منقطع نہ ہوگی جب تک توبہ بند نہ ہوجائے اور توبہ بند نہ ہوگی جب تک سورج مغرب کی طرف سے برآمد نہ ہوجائے۔ ان تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت لا ینفع نفسا ایمانہا : میں ایمان سے مراد توبہ ہے لیکن کچھ احادیث میں ایمان سے توبہ کے علاوہ دوسرا معنی بھی مراد لیا گیا ہے۔ بغوی نے اپنی سند سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت بپا نہ ہوگی جب تک سورج مغرب کی طرف سے برآمد نہ ہوجائے جب سورج (مغرب سے) نکل آئے گا اور لوگ اس کو دیکھ لیں گے تو سب کے سب ایمان لے آئیں گے لیکن جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہوگا یا ایمان کی حالت میں اس نے کوئی نیکی نہ کی ہوگی اس وقت اس کا ایمان لانا مفید نہ ہوگا۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین امور ہیں جب وہ ظاہر ہوجائیں گے تو جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہوگا یا ایمان کی حالت میں اس نے کوئی نیکی نہ کی ہوگی اس وقت اس کا ایمان مفید نہ ہوگا۔ دجال ‘ دابۃ الارض اور آفتاب کا مغرب سے طلوع۔ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت لا ینفع نفسا ایمانہا : میں ایمان سے مراد یہ ہے کہ جو شخص اس وقت سے پہلے مؤمن نہ ہوگیا ہو اس وقت اس کا ایمان لانا معتبر نہ ہوگا۔ فائدہ : اس آیت سے بظاہر صرف اتنا معلوم ہو رہا ہے کہ جو شخص بعض آیات کے ظہور سے پہلے کافر ہو ایمان نہ لایا ہو اور اس وقت ایمان لائے تو اس کا ایمان قبول نہ ہوگا لیکن جس شخص کی پیدائش ہی بعض آیات کے ظہور کے بعد ہوئی یا علامات کے نمودار ہونے کے بعد وہ عاقل بالغ ہو اور اس کے بعد ایمان لایا تو ظاہر ہے کہ اس کا ایمان معتبر ہوگا ‘ ابن جوزی نے کتاب الوفاء میں حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم ( علیہ السلام) زمین پر اتریں گے نکاح کریں گے ان کی اولاد ہوگی اور 45 برس (زندہ) رہیں گے پھر مرجائیں گے اور میرے ساتھ میری قبر میں دفن کئے جائیں گے میں اور عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم ایک قبر سے ابوبکر ؓ و عمر ؓ کے درمیان اٹھیں گے۔ قل انتظروا انا منتظرون . آپ ﷺ کہہ دیجئے (اے مکہ والو) تم انتظار رکھو ہم بھی بلا شبہ منتظر ہیں۔ یہ اہل مکہ کو عذاب کی دھمکی دی ہے یعنی اس وقت ہم کو کامیابی حاصل ہوگی اور تم عذاب میں مبتلا ہو گے۔
Ayah 6:159

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) رستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہو گئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا

ان الذین فرقوا دینہم . بلاشبہ جنہوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا۔ یعنی دین کے بعض حصوں پر ایمان لائے اور بعض کا انکار کردیا یا یہ مطلب کہ مختلف فرقے بن گئے۔ مجاہد ‘ قتادہ اور سدی نے کہا اس سے یہودی اور عیسائی مراد ہیں کچھ لوگ یہودی بن گئے اور کچھ عیسائی حالانکہ دین (سب کا) ایک ہی تھا۔ یہ قول غلط ہے کیونکہ یہودیت کی بناء حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی نبوت و شریعت پر ہے اور نصرانیت کی بناء حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی بعثت پر ہے دونوں کے دینی اصول ایک ہی تھے یعنی حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے دین کے اصول ہی دونوں کے اصول تھے پھر یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی نبوت کا چونکہ انکار کردیا اس لئے اور عیسائیوں نے حضور اکرم ﷺ کی رسالت کو نہیں مانا اس لئے وہ بھی کافر ہوگئے مگر آیت کا مطلب یہ نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ انہوں نے اصلی دین حق کے ساتھ اپنی من پسند چیزوں کو شامل کرلیا خواہ شیطانی اغواء سے یا اپنی نفسانی خواہشات کے دباؤ سے۔ بہرحال دین میں خلط ملط کر کے اپنے اپنے گروہ بنا لئے۔ اس مطلب پر تفریق دین کرنے والوں سے مراد صرف گزشتہ فرقے ہی نہ ہوں گے بلکہ سلف ہوں یا اسلام میں بدعتوں کو شامل کرنے والے سب ہی کو یہ لفظ شامل ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت پر بھی قدم بقدم وہی واقعات آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے یہاں تک کہ اگر بنی اسرائیل میں سے کسی نے اپنی ماں سے علی الاعلان زنا کیا ہے تو میری امت میں بھی کوئی ایسا ہوگا جو یہ فعل کرے گا بنی اسرئیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت کے پھٹ کر تہتر فرقے ہوجائیں گے جن میں سے سوائے ایک کے سب دوزخی ہوں گے صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ کون سا فرقہ ہوگا فرمایا (وہ فرقہ وہ ہوگا جو) اسی طریقہ پر ہوگا جس پر میں اور میرے ساتھی ہیں۔ رواہ الترمذی۔ احمد اور ابو داؤد نے حضرت معاویہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے بہتر (فرقے) دوزخ اور ایک جنت میں جائے گا اور وہ (جنتی فرقہ) جمہور کا ہوگا عنقریب میری امت میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوجائیں گے جن کے اندر نفسانی خواہشات اس طرح نفوذ کریں گی جس طرح کتا اپنے مالک کے ساتھ ہر کوچے اور موڑ میں گھستا پھرتا ہے۔ ابو داؤد ترمذی ابن ماجہ ابن حبان اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے اور ترمذی و حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ یہودیوں کے اکھتر فرقے ہوگئے جن میں سے ایک کے سوا سب گڑھے (دوز) میں جائیں گے۔ اور عیسائیوں کے بہتّر فرقے ہوگئے جن میں سے ایک کے سوا سب گڑھے (دوزخ) میں جائیں گے اور میری امت پھٹ کر تہتّر فرقوں میں بٹ جائے گی جن میں سے ایک کے سوا سب گڑھے (دوزخ) میں جائیں گے۔ بغوی نے حضرت عمر ؓ بن خطاب کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا عائشح ؓ جن لوگوں نے دین کو پارہ پارہ کیا اور گروہ گروہ بن گئے وہ اس امت میں بدعتی ہوا پرست ہیں (یعنی اس امت میں جو بدعتی اور اصحاب الہویٰ ہیں وہ اس آیت کے ذیل میں آتے ہیں) اخرجہ الطبرانی وغیرہ بسند جید۔ طبرانی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بھی عمدہ سند کے ساتھ ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ احمد ‘ ابو داؤد ‘ ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت عرباض بن ساریہ ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے ہم کو نماز پڑھائی نماز کے بعد ہماری طرف رخ کر کے ایسا بلیغ وعظ فرمایا جس کو سن کر دل ڈر گئے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ارشاد فرمایا تم کو اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت کرتا ہوں اور اس بات کی کہ (امیر کی) اطاعت کرنا خواہ وہ حبشی غلام ہی ہو۔ میرے بعد تم میں سے جو شخص زندہ رہے گا وہ (مسلمانوں میں) بڑا اختلاف دیکھے گا مگر تم میرے طریقہ اور ان خلفاء راشدین کے طریقہ پر جو ہدایت کار اور ہدایت یافتہ ہوں گے جمے رہنا اس پر مضبوط گرفت رکھنا اور اس کو دانتوں سے پکڑے رہنا اور نئی باتوں سے بچتے رہنا کیونکہ (دین کے اندر پیدا کی ہوئی) ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ ترمذی اور ابن ماجہ کی روایت میں نماز پڑھانے کا ذکر نہیں ہے باقی حدیث موجود ہے۔ صاحب مصابیح نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عظمت والے گروہ کی پیروی کرو جو (اس سے) بچھڑ بچھڑ کر دوزخ میں گیا۔ ابن ماجہ نے یہ حدیث حضرت انس کی روایت سے لکھی ہے۔ ترمذی نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت گمراہی پر جمع نہ ہوگی جمہور پر اللہ کا ہاتھ ہے جو (جمہور سے) بچھڑا وہ بچھڑ کر دوزخ میں گیا۔ حضرت معاذ بن جبل ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پگڈنڈیوں سے (یا مختلف گھاٹیوں سے) پرہیز رکھو اور جماعت و جمہور کو اختیار کرو۔ حضرت ابوذر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بالشت بھر جماعت سے علیحدہ ہوا اس نے اسلام کی رسی اپنے گلے سے نکال دی رواہ احمد و ابو داؤد جماعت سے مراد ہے صحابہ ؓ اور صحابہ ؓ کے پیچھے چلنے والوں کی جماعت۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی کتاب دے کر مبعوث فرمایا اور کتاب کے ساتھ کچھ اور علم بھی وحی کے ذریعہ سے عنایت کیا لیکن اس وحی کے الفاظ اللہ کے نہ تھے معانی کی تعلیم اللہ کی طرف سے تھی (اور الفاظ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) کے یا رسول اللہ ﷺ کے تھے۔ ایسی وحی کو غیر متلو یا غیر منطوق وحی کہتے تھے) کتاب کے اندر کچھ عبارت اور کلمات تو محکم تھے جن کی مراد (سمجھنے) میں کوئی شبہ نہ تھا کچھ خفی المراد عبارت بھی تھی کچھ مشکل یا مجمل یا متشابہ آیات تھیں مگر ان سب کے مقصد کی وضاحت اللہ نے اپنے پیغمبر کے لئے کردی خود ہی فرمایا ثم ان علینا بیانہ : پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ اور صحابہ ؓ نے اپنے شاگردوں کو اس کی تعلیم دی اور اس طرح یہ تعلیم و تعلم کا سلسلہ ہم تک پہنچا لہٰذا اللہ کی کتاب اس کے رسول کی سنت اور صحابہ ؓ وتابعین کے اجماعی اقوال کو ماننا اور ان پر چلنا ہمارے لئے لازم ہے اور جو آیات و احادیث ایسی ہیں جن کی مراد ظاہر نہیں ہے ان کی تشریحی مراد وہی قرار دینا ضروری ہے جو صحابہ ؓ نے اختیار کی ہو۔ جو لوگ پرستارانِ رائے ہیں وہ اپنی رائے اور خواہش کے پیچھے چلتے ہیں قرآن کا جو حصہ ان کی رائے کے مطابق ہوتا ہے اس کو لے لیتے ہیں اور مانتے ہیں اور جس حصہ کا ان کی دانش و رائے سے ٹکراؤ ہوتا ہے اس کا انکار کردیتے ہیں (یعنی اپنی رائے کے مطابق بنانے کے لئے اس کی تاویلیں کرتے اور رسول ﷺ و صحابہ ؓ کی تفسیر سے موڑ دیتے ہیں) چناچہ آخرت میں اللہ کے دیدار کا عذاب قبر کا ‘ وزن اعمال کا ‘ پل صراط اور حساب کا انکار کرتے ہیں اور اللہ کے کلام کو مخلوق کہتے ہیں حالانکہ یہ سب اقوال ایسے ہیں جن کے خلاف کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ ﷺ کی صراحتیں اور صحابہ ؓ کا اجماع موجود ہے انہوں نے دین کو چھوڑ دیا اللہ کی کتاب کو پارہ پارہ کردیا بعض حصہ کو مانا بعض کو نہ مانا ‘ فرقۂ معتزلہ اسی راستہ کا راہی ہے بہت سے معتزلی تو اس کے بھی قائل ہیں کہ اللہ پر وہی کام کرنا واجب ہے جو بندوں کے لئے مفید ہو ‘ یہ لوگ تقدیر کے بھی منکر ہیں اور گناہوں کی مغفرت کو بھی ناممکن کہتے ہیں یہ بھی ان کا قول ہے کہ بندہ اپنے افعال کا خود خالق ہے اللہ (اگرچہ بندہ کا خالق ہے مگر) بندہ کے افعال کا خالق نہیں ہے اسی لئے اس گروہ کو امت اسلامیہ کے مجوسی کہا گیا ہے (مجوسی خیر اور نور کا خالق یزداں کو اور شر و ظلمت کا خالق اہرمن کو قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک ساری کائنات اور تمام انسانوں کا خالق اگرچہ اللہ ہے مگر بندوں کے افعال کے خالق بندے خود ہیں) رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے قدریہ (یعنی معتزلہ جو بندہ کو اپنے تمام افعال کا قادر مطلق جانتے ہیں) اس امت کے مجوسی ہیں اگر یہ بیمار ہوجائیں تو ان کی بیمار پرسی نہ کرو مرجائیں تو جنازہ میں شرکت نہ کرو۔ رواہ احمد و ابو داؤد من حدیث ابن عمر ؓ ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کے دو قسم کے لوگوں (یعنی دو فرقوں) کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں مرجۂ اور قدریہ (مرجۂ فرقہ قائل ہے کہ صرف ایمان ہر قسم کے عذاب سے بچانے کے لئے کافی ہے عمل کی کوئی ضرورت نہیں ‘ ایمان کی موجودگی میں کوئی گناہ ضرر رساں نہیں) رواہ الترمذی۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چھ (طرح کے لوگ) ہیں جن پر میں نے بھی لعنت کی اور اللہ نے بھی اور ہر مقبول الدعا نبی نے بھی۔ اللہ کی کتاب میں بیشی کرنے والا۔ تقدیر خداوندی کا انکار کرنے والا۔ زبردستی لوگوں پر تسلط جمانے والا تاکہ جن لوگوں کو اللہ نے عزت دی ہے ان کو ذلیل کر دے اور جن کو اللہ نے ذلت دی ہے ان کو معزز بنا دے۔ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دینے والا میری عزت (اولاد نسل) کے ساتھ اس عمل کو حلال سمجھنے والا جس کو اللہ نے حرام کردیا ہے اور میرے طریقے کو چھوڑنے والا۔ یہ حدیث رزین نے اپنی کتاب میں اور بیہقی نے المدخل میں ذکر کی ہے۔ میں کہتا ہوں اللہ کی کتاب میں بیشی کرنے والے رافضی ہیں جن کا عقیدہ ہے کہ پورا قرآن اس موجودہ مصحف سے زائد تھا کچھ حصہ صحابہ ؓ نے اس میں سے نکال دیا ہے۔ آیت انا لحافظون : پر رافضیوں کا ایمان نہیں ہے۔ اور تقدیر خداوندی کے منکر قدریہ فرقہ والے ہیں ( جو انسان کو اپنے افعال کا قدر مطلق جانتے ہیں اور اللہ کو افعال عباد کا خالق نہیں مانتے) اور عترت رسول سے (ممنوعہ) سلوک کو حلال سمجھنے والے خارجی ہیں اور طریقۂ رسول کو چھوڑنے والے تمام بدعتی ہیں جو اپنی رائے پر چلتے ہیں اور قرآن کی آیات متشابہات کی خود ساختہ تاویلیں کرتے ہیں اور سلف صالحین نے ان آیات کی جو تفسیر کی ہے اس کو نہیں مانتے۔ یہ مشبہ اور مجسمہ (اللہ کے اندر مخلوق کی ایسی صفات ماننے والے اور اللہ کا جسم قرار دینے والے) فرقے ہیں اور انہی کی طرح جو دوسرے گروہ ہیں ان کا شمار بھی طریقۂ رسول کے ترک کرنے والوں میں ہے۔ رافضیوں نے تو دین کو ہی چھوڑ دیا ہے کیونکہ دین کا حصول قرآن ‘ حدیث اور اجماع سے ہی ہوتا ہے اور انہوں نے قرآن کو چھوڑ دیا اور جو کچھ بڑھانا چاہا بڑھا دیا۔ انہوں نے سنت رسول کو بھی ترک کردیا یہ سب صحابہ کو کافر اور مرتد کہتے ہیں اور ظاہر ہے آنے والوں کو حدیث کا علم صرف انہی لوگوں کے ذریعہ سے ہوسکتا ہے جنہوں نے خود سن کر نقل کیا ہو اور نقل کرنے والے صحابی ؓ ہی ہوسکتے ہیں اس لئے حدیث کا علم بغیر صحابہ ؓ کے ممکن نہیں اور جب صحابہ ؓ کو کافر مرتد قرار دے دیا تو حدیث کا انکار ہوگیا ‘ انہوں نے اجماع صحابہ ؓ کا بھی انکار کردیا اور خودساختہ احادیث و اقوال کی نسبت حضرت امام جعفر صادق اور حضرت امام محمد باقر اور ان کے اسلاف کرام کی طرف کردی اور چونکہ تواتر سے ثابت ہوگیا کہ ان سچے اماموں کے اقوال آثار صحابہ ؓ کے مطابق ہیں (اور اس مطابقت کی کوئی تاویل بن نہ پڑی) تو تقیہ کی فرضیت کا قول گڑھ لیا (اور کہہ دیا کہ ان سچے اماموں نے تقیہ کرلیا تھا) ان کا ظاہری کلام صحابہ ؓ کی روایات کے مطابق ہے درحقیقت میں انہوں نے تقیہ کیا تھا ہمارے اسلاف کو اماموں نے پوشیدہ طور پر اصل حقیقت سے واقف کردیا تھا اور ہدایت کردی تھی کہ ان اسرار کو ظاہر نہ کرنا ‘ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں احتیاط رکھنا۔ اور یہ بات ناقابل شک ہے کہ جو بات اخفاء اور اسرار کے طور پر کہی جائے اس کی روایت شہرت و تواتر کی حد تک نہیں ہوسکتی۔ اخبار احاد خواہ ان کے راوی کتنے ہی قابل بھروسہ اور ثقہ ہوں پھر بھی ظن کی حد سے آگے نہیں بڑھتیں اور یقین عطا نہیں کرتیں اور یہاں تو راویوں کے ثقہ ہونے کا کوئی احتمال ہی نہیں۔ مشہور دروغ گو شیطان ان اقوال کے راوی ہیں جن کی نسبت ائمہ کرام کی طرف کی گئی ہے جیسے عبداللہ بن سبا منافق یہودی ‘ ہشام بن سالم ‘ ہشام بن حکم ‘ زید بن جہیم الہلالی ‘ شیطان الطاق اور دیک الجن شاعر وغیرہ ہم نے ان کے اور دوسرے رافضی راویوں کے احوال السیف المسلول میں لکھ دیئے ہیں۔ شاید قرآن کا یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ اس نے رافضیوں کی طرف جو اپنے آپ کو شیعہ کہتے ہیں آیت ذیل میں اشارہ کردیا۔ وکانوا شیعا . اور ہوگئے وہ گروہ گروہ ‘ ہر گروہ اپنے خود ساختہ لیڈر کا شیعہ (پیرو متبع) بن گیا۔ حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرے اندر عیسیٰ کی (حالت کی) مشابہت ہے عیسیٰ سے یہودیوں نے اتنا بغض کیا کہ ان کی ماں پر بھی تہمت لگائی اور نصاریٰ نے ان سے اتنی محبت کی کہ ان کا اتنا (اونچا) مرتبہ قرار دیا جو ان کے لئے جائز نہ تھا (یعنی خدا کا بیٹا بنا دیا) حضرت علی ؓ نے فرمایا میرے سلسلہ میں دو (قسم کے) آدمی تباہ ہوگئے ایک تو حد سے بڑھ کر محبت کرنے والا جو میرے اندر ایسے (اعلیٰ ) اوصاف مانتا ہے جو میرے اندر نہیں ہیں دوسرا مجھ سے بغض رکھنے والا جس کو میری دشمنی اس امر پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ مجھ پر تہمت تراشی کرتا ہے۔ رواہ احمد۔ حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ ہوں گے جن کو رافضی کہا جائے گا وہ اسلام کو چھوڑ دیں گے۔ رواہ البیہقی۔ حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عن قریب میرے بعد کچھ لوگ ہوں گے جن کو رافضی کہا جائے گا اگر تم ان کو پالو تو قتل کردینا وہ یقیناً مشرک ہوں گے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ان کی شناخت کیا ہے فرمایا وہ حد سے بڑھ کر تمہارے ایسے اوصاف قرار دیں گے جو تمہارے اندر نہیں ہیں اور سلف پر نکتہ چینی کریں گے رواہ الدارقطنی۔ دارقطنی نے دوسرے طریق روایت سے بھی یہ حدیث بیان کی ہے اس روایت میں اتنا زائد ہے وہ ہماری یعنی ہمارے اہل بیت کی محبت کے مدعی ہوں گے مگر واقع میں وہ ایسے نہیں ہوں گے ان کی شناخت یہ ہوگی کہ وہ ابوبکر ؓ و عمر ؓ کو گالیاں دیں گے اس موضوع کی حدیثیں اور بھی ہیں جن کو السیف المسلول میں ہم نے ذکر کیا ہے۔ لست منہم فی شئی . آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ یعنی اے محمد ﷺ آپ کا ان سے اور ان کا آپ سے کوئی تعلق نہیں۔ لست منہم : کا یہ مطلب عربی محاورہ کے مطابق ہے۔ عرب محاورہ میں کہتے ہیں اگر تو نے ایسا کیا تو تو مجھ سے اور میں تجھ سے نہیں یعنی میرا تیرا کوئی تعلق نہیں۔ میں تجھ سے الگ اور تو مجھ سے الگ۔ انما امر ہم الی اللہ . ان (کی سزا اور بدلے) کا معاملہ اللہ ہی کے ذمہ ہے یعنی حق سے وہ جتنے دور ہوں گے اللہ اتنی ہی ان کو سزا دے گا۔ ثم ینبۂم بما کانوا یفعلون . پھر (قیامت کے دن) اللہ ان کو بتادے گا جو کچھ کرتے تھے یعنی پہلے ان کو دین میں پھوٹ ڈالنے اور بد اعتقاد ہونے کی سزا دی جائے گی پھر بداعمالی اور گناہ ہونے کی۔