Ayahs 6:154–156321 نعمتوں کی اصل تکمیل کتاب ہدایت ہی سے ہوتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ہم نے موسیٰ کو بھی وہ کتاب دی تمام کرنے کے لیے اپنی نعمت کو۔ یعنی { تماماً } یہاں پر مفعول لہ ہے کہ اپنی نعمت کی تکمیل کے لئے ہم نے ان پر وہ کتاب یعنی تورات نازل کی تھی۔ معلوم ہوا کہ علم اور ہدایت کی نعمت سب نعمتوں سے بڑھ کر نعمت ہے۔ اور دوسرا احتمال اسمیں یہ بھی ہے کہ " تماما " صفت ہو کتاب کی ۔ " اَی کَتَابًا تَامًّا کَامِلاً " ۔ یعنی ان کو ایسی کامل کتاب عطا فرمائی جو اس وقت کے لحاظ سے تمام ضروری احکام و مسائل پر حاوی و مشتمل تھی جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَکَتَبْنَا لَہ فِی الاَلْوَاحِ مِنْ کُلِّ شَیٍٔ مَّوْعِظَۃَ وَّتَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شیْیًٔ } ۔ (الاعراف : 145) (المراغی، المعارف وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ نعمت کی تکمیل کتاب ہدایت سے سرفرازی کے ذریعے ہی ہوسکتی ہے ورنہ سب کچھ بےحقیقت اور خام خیالی ہے۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ ۔ { اَلَّذِیْ اَحْسَنَ } ۔ کے کلمات کریمہ سے حضرت موسیٰ کا اس نعمت کے لئے سزا وار ہونا ظاہر فرما دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس نعمت سے اس لئے نوازا اور ان کو اس کا سزا وار اس لئے گردانا کہ وہ خوب کار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ظاہر و باطن میں جو کچھ بخشا اس کا حق انہوں نے پہچانا اور ہر نعمت کا حق حسن و خوبی سے ادا کیا۔ اور ایسے ہی بندے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے سزاوار بنتے ہیں۔ اور حضرت موسیٰ کے لئے یہاں پر ۔ { الَّذِیْ اَحْسَنَ } ۔ کی اس صفت کا استعمال و اظہار ایسے ہی ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم کے بارے میں سورة نجم میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِبْرَاہِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی } ۔ " اور ابراہیم کو جس نے وفا کا حق ادا کردیا "۔ اور اس میں یہود پر تعریض بھی ہے کہ حضرت موسیٰ کیسے تھے اور یہ لوگ کیسے ہیں ؟ ان حضرات نے حسن وفا کا کیا نمونہ پیش کیا تھا اور یہ لوگ کہاں کھڑے ہیں ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
322 { تَفْصِیْلًا لِکُلِّ شَیْئٍ } کا معنیٰ و مطلب ؟ : یعنی ان تمام چیزوں کی تفصیل جن کی تفصیل کی ان لوگوں یعنی بنی اسرائیل کو اس وقت دین و ہدایت کے سلسلے میں ضرورت تھی۔ جیسا کہ قرآن حکیم کے بارے میں بھی فرمایا گیا ۔ { وَتَفْصِیْلَ کُلِّ شَیْئٍ } ۔ (یوسف : 111) کیونکہ قاعدئہ کلیہ یہ ہے کہ ہر چیز کا عموم وہی معتبر ہوتا ہے جو اس کے لائق ہو " عُمُوْمُ کُلِّ شَیْئٍ مَاَ یَلِیْقُ بِہٖ " جیسا کہ جمہور علماء و مفسرین کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ بطور نمونہ و مثال ملاحظہ ہو (روح، معالم، مدارک، خازن، محاسن، جامع اور قرطبی وغیرہ) ۔ پس اہل بدعت کا لفظ " کل " سے اپنے شرکیہ عقائد پر استدلال کرنا عقل و نقل اور لغت وبیان سب کے خلاف اور مردود ہے۔ سو اس تفصیل سے مراد ان احکام و مسائل کی تفصیل ہے جو دین کے دائرے میں آتے ہیں۔ دین کے اصول اور بنیادی مسائل تو وہی ہیں جو ملت ابراہیمی سے متعلق بیان ہوئے ہیں لیکن ان میں سے ہر چیز کے تحت مختلف جزئیات اور تفصیلات ہیں۔ سو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو جو کتاب عطا فرمائی تھی اس میں ضروریات دین سے متعلق ایسی تمام تفصیلات کو بیان فرما دیا گیا تھا جس سے یہ کتاب ہدایت اور رحمت کا ایک عظیم الشان مجموعہ بن گئی تھی۔ سو یہ ہے ۔ { تفصلا لکل شیء } ۔ کا معنی و مطلب۔ والحمد للہ جل وعلا -
323 کتاب الہی سراسر ہدایت اور عین رحمت : یہ آغاز و انجام اور ابتدء و انتہاء دونوں کے اعتبار سے ہے کہ جو اس کو اپنائے گا اس کے لئے یہ کتاب ہدایت و رہنمائی کا ذریعہ ہوگی۔ اور اس کے ثمرئہ و نتیجہ کے طور پر اس کو دارین کی سعادتوں اور رحمتوں سے نوازا جائے گا اور اس قدر کہ اسکا کوئی کنارہ نہیں ۔ فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ الْعَالمِیْن ۔ سو ہدایت اور رحمت کے یہ دونوں لفظ نہایت حکیمانہ ترتیب کے ساتھ اس مقصد کو ظاہر کرتے ہیں جس کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کتاب نازل فرماتا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کتاب اس لئے نازل فرماتا ہے کہ وہ اس کے ذریعے اپنے بندوں کو دنیا میں زندگی بسر کرنے کا وہ طریقہ بتائے جو ان کو دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اہل اور سزا وار بنائے کہ اس سے ان کو دنیا میں حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی نصیب ہوتی ہے۔ اور اسی سے ان کو آخرت کی ابدی زندگی میں رحمت لا متناہی سے سرفرازی نصیب ہوئی ہے۔ سو اس اعتبار سے کتاب اپنے مقصد کے لحاظ سے ہدایت اور اپنے ثمرئہ و انجام کے اعتبار سے رحمت ہوتی ہے ۔ فالحمد للّٰہ جلَّ وعلا -
324 فکر آخرت فلاح و نجات کی اصل اور اساس ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں۔ معلوم ہوا کہ رب سے ملاقات اور اس کے حضور پیش ہونے کا عقیدہ و ایمان دیگر تمام عقائد و ایمانیات کیلئے اصل و بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر انسان لا ابالی، لاپرواہ اور غیرذمہ دار ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس ایمان و یقین سے سرفرازی وفائز المرامی کے بعد ہی اس کے اندر احساس ذمہ داری پیدا ہوتا ہے۔ سو فکر آخرت دارین کی فوز و فلاح اور نجات و اصلاح کی اصل اساس ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو حیات دنیا کی اصل غرض وغایت آخرت ہے۔ یہ دنیاوی زندگی تو عارضی اور فانی زندگی ہے اور اس کی اصل قدر و قیمت یہی ہے کہ اس میں اپنی آخرت ہی کو نصب العین بنایا جائے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 6:157329 بہانے بازوں کے ایک دعوے کی تردید و تغلیط : یعنی اگر یہ کتاب حکیم نازل نہ ہوئی ہوتی تو تم یوں کہنے لگتے کہ اگر ہم پر بھی کوئی ایسی کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم ضرور بالضرور ان لوگوں سے کہیں بڑھ کر ہدایت یافتہ ہوتے کہ ان کی کتابیں نہ ہمارے لئے تھیں اور نہ ہی ہماری لغت و زبان میں تھیں کہ ان سے ہم راہ حق و صواب معلوم کرسکتے۔ لہذا اگر ہم پر کوئی کتاب براہ راست نازل کی جاتی تو ہم ضرور بالضرور ان اہل کتاب سے کہیں بڑھ کر راہ حق و ہدایت کو اپناتے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ان کے اس دعوے کو اس طور پر بیان فرمایا گیا ہے ۔ { وَاَقْسَمُوْا باللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ لَئِنْ جَائَ ہُمْ نَذِیْرٌ لَّیَکُوْنُنَّ اَھْدَی مِنْ اِحْدَی الْاُمَمِ ، فَلَمَّا جَائَ ہُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَہُمْ الاَّ نُفُوْرًا } ۔ (فاطر : 42) ۔ یعنی " ان لوگوں نے اللہ کے نام کی کڑی قسمیں کھاکر کہا کہ اگر انکے پاس کوئی نذیر (خبردار کرنے والا) آجائے تو یہ ہر امت سے بڑھ کر ہدایت والے ہوں گے۔ لیکن جب ان کے پاس ایسا نذیر (خبردار کرنے والا) آگیا تو انہوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کی آمد سے ان کی نفرت میں ہی اضافہ ہوا "۔ جیسا کہ سورة فاطر کی اسی مذکورہ بالا آیت کے آخر میں ارشاد ہوا۔ سو سورة اَنعام کی آیت کریمہ میں واضح طور پر فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم نازل فرما کر ایسے بہانے باز لوگوں پر حجت قائم کردی گئی اور انکے عذر و معذرت اور بہانہ بازی کے راستے بند کردیئے گئے کہ اب یہ لوگ اس طرح کا کوئی عذر پیش نہیں کرسکیں گے کہ اب یہ کتاب حکیم ان کے پاس آگئی ہے۔
330 قرآن حکیم " بَیِّنَۃ " یعنی ایک عظیم الشان روشن دلیل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا آچکی تمہارے پاس اے لوگو ایک عظیم الشان دلیل روشن یعنی قرآن حکیم جو صرف کتاب ہی نہیں بلکہ " بَیِّنَۃ " اور روشن دلیل بھی ہے اپنی حقانیت پر اور اپنے مضمون و مدعا پر۔ جس میں ہر اس چیز کا کافی و شافی بیان ہے جس کی راہ حق و ہدایت میں تمہیں ضرورت ہے۔ اس طرح تمہاری اس حجت بازی کی بھی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی جس سے تم لوگ اس کتاب حکیم کے نازل نہ ہونے کی صورت میں کام لے سکتے تھے۔ سو اس کتاب مبین کے ذریعے تمہارے ایسے تمام اعذار کو بھی ختم کردیا گیا اور تم کو خیر و برکت کے ایک بحر بیکراں سے بھی سرفراز فرما دیا گیا۔ اب یہ تمہاری مرضی کہ اس کے دامن رحمت میں پناہ لے کر تم لوگ ابدی سعادتوں کے حقدار بنتے ہو یا اس سے منہ موڑ کر دائمی خسران میں مبتلا ہوتے ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہ قرآن حکیم کی ایک امتیازی شان ہے کہ اس میں تورات وغیرہ کی طرح صرف احکام کو بیان نہیں فرمایا گیا بلکہ اس میں ہر حکم کے ساتھ اس کی دلیل کو بھی بیان فرمایا گیا اور دلیل بھی ایسی جو عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہوتی ہے۔ اور اس طرح کہ اس کا ہر حکم روز روشن کی طرح واضح ہوگیا۔ اسی لیے اس کو " بینۃ " فرمایا گیا ہے۔ یعنی ایسی واضح اور روشن دلیل جو حق و ہدایت کی راہ صدق و صواب اور اس کے تقاضوں کو بھی پوری طرح واضح کردیتی ہے اور اس کو عقل و فطرت کے روشن دلائل سے اس طور پر مبرہن کردیتی ہے جو کہ آفتاب آمد دلیل آفتاب کا مصداق ہے جس کے بعد کسی کے لیے کسی عذر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ والحمد للہ جل وعلا -
331 اللہ کی آیتوں کو جھٹلانا سب سے بڑا ظلم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو جھٹلائے اللہ کی آیتوں کو ؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی اس سے بڑھ کر ظالم، بدبخت اور ناشکرا اور کوئی نہیں ہوسکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ کی آیتوں کو جھٹلانا اور ان سے دوسروں کو روکنا سب سے بڑا ظلم اور انتہائی بےانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ " صَدَفَ " کا فعل لازمی بھی آتا ہے اور متعدی بھی۔ یعنی اس کا معنیٰ اعراض و روگردانی یعنی منہ موڑنا بھی آتا ہے اور کسی کو اس سے پھیرنا اور موڑنا بھی۔ یہاں پر اس کے یہ دونوں ہی معنیٰ بن سکتے ہیں۔ اور حضرات اہل علم میں سے کسی نے اس کو پہلے معنی میں لیا اور کسی نے دوسرے معنیٰ میں۔ لیکن دوسرے معنیٰ یعنی متعدی کے مفہوم میں لینا زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس سے پہلے ۔ { کَذَّبَ بَآیَات اللّٰہِ } ۔ آچکا ہے جو کہ ظاہر ہے کہ متعدی ہے اور دوسرے اس لیے کہ متعدی یعنی روکنے کے معنی کے اندر لازمی یعنی اعراض اور روگردانی کا معنی خود بخود آجاتا ہے۔ لہذا اس اعتبار سے موزوں یہی لگتا ہے کہ اس لفظ کو یہاں پر متعدی معنی میں لیا جائے۔ یعنی جو اللہ کی آیتوں سے روکتے ہیں اور اس طرح وہ ڈبل جرم کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
332 اللہ کی آیتوں سے روکنے والوں کے لیے بڑا برا عذاب : سو اللہ کی آیتوں سے روکنا ایک ایسا سنگین جرم ہے کہ اس کے مرتکبوں کے لیے بڑا برا عذاب ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب ہی بڑا برا عذاب دیں گے ان لوگوں کو جو روگردانی کرتے ہیں ہماری آیتوں سے۔ ان کی اس روگردانی کی پاداش میں جس کا ارتکاب وہ کرتے رہے تھے۔ سو اس طرح یہ کتاب رحمت و برکت ان کے حق میں حجت بننے کی بجائے ان کے خلاف حجت بن جائے گی۔ جیسا کہ حضرت صادق ومصدوق (علیہ الصلوۃ والسلام) نے فرمایا کہ یہ قرآن حجت قرار پائے گا تیرے حق میں یا تیرے خلاف " اَلْقُراٰنُ حُجَّۃٌ لَّکَ اَوْ عَلَیْکَ " ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الَّذِیْ بِیَدِہ أزِمَّہُ التَّوْفِیْقِ وَالْہِدَایَۃِ ۔ واضح رہے کہ " صدف " کے معنیٰ جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں بھی گزرا، رکنے کے بھی آتے ہیں، اور روکنے کے بھی۔ یہاں پر اس کے دوسرے یعنی متعدی معنیٰ مراد لینا ہی زیادہ قوی لگتا ہے۔ جیسا کہ ابھی گزرا۔ سو اللہ کی آیتوں سے روکنا ایک سنگین جرم ہے کہ اس میں ضلال اور اضلال کے دونوں جرم پائے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس لئے ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کو ہم بڑے ہی برے عذاب کی سزا دیں گے ان کے اس جرم کی پاداش میں کہ یہ لوگ دوسروں کو راہ حق و ہدایت سے روکا کرتے تھے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:158333 فرشتوں کے آنے سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اب یہ لوگ بس اسی کے منتظر ہیں کہ آپہنچیں ان کے پاس فرشتے۔ یعنی ان کے پاس فرشتے آجائیں ان کی روحیں قبض کرنے اور ان کو ان کے آخری انجام تک پہنچانے کے لئے جبکہ ان کے لئے توبہ کا بھی کوئی موقع نہیں رہے گا اور نہ کسی عذر و معذرت کا سوائے ان کی تذلیل اور تخجیل کے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { وَلَوْ تَرٰی اِذْ یَتَوَفَّی الَّذِیْنَ کَفَرُوا الْمَلَئِکِۃُ یَضْرِبُونَ وَجُوْھَہُمْ وَاَدْبَارَھُمْ } ۔ (الانفال : 50) ۔ یعنی ان لوگوں کے تمام عذرات ختم ہوگئے اور ان پر ہر پہلو سے حجت قائم کردی گئی۔ لیکن یہ لوگ حجتوں اور دلیلوں سے ماننے والے نہیں۔ یہ تو بس اس کے منتظر ہیں کہ ان پر فرشتے اتر آئیں یا خداوند قدوس خود ان کے لئے نمودار ہو یا عذاب کی نشانیوں میں سے کوئی آخری اور فیصلہ کن نشانی ظاہر ہوجائے۔ سو یہ لوگ اب اپنے آخری انجام ہی کے منتظر ہیں جیسا کہ سورة بقرہ آیت نمبر 21 اور سورة اَنعام آیت نمبر 111 میں بھی گزر چکا ہے۔
334 آپ کے رب کے آنے کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یا آجائے تمہارا رب یعنی قیامت کے روز ان کے آخری فیصلہ کے لئے۔ جیسا کہ اس کی شان اقدس و اَعلیٰ کے لائق ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَجَائَ رَبُّکَ وَالْمَلَکَ صََفًّا صَفًّا } ۔ (الفجر : 22) ۔ یا رب کے آنے سے مراد اس کے عذاب کا آنا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا اَنْ تَاتِیَہُمُ الْمَلئِکَۃُ اَوْ یَاْتِیْ اَمْرُ رَبِّکَ } ۔ (النحل : 33) اور مطلب اس ارشاد ربانی کا یہ ہے کہ اب حق ان لوگوں کے سامنے پوری طرح واضح ہوچکا ہے اور اب ان کیلئے کوئی عذر باقی نہیں رہ گیا۔ سوائے اس کے کہ آخری انجام انکے سامنے آجائے۔ اور آخری انجام تو بہرحال آئیگا اور یقینا اور قطعی طور پر آئیگا مگر اس کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور اس کے آجا نے کے بعد ایسے لوگوں کے لئے سنبھلنے کا کوئی موقع ممکن نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔
335 رب کی بعض نشانیوں سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یا نمودار ہوجائیں تمہارے رب کی بعض نشانیاں۔ یعنی ایسی خاص نشانیاں جو قیامت سے پہلے اس کی علامت کے طور پر ظاہر ہونگی جیسے سورج کا مغرب سے طلوع کرنا۔ (قرطبی، جامع البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ یعنی ان لوگوں کے حال سے اب یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ جیسے یہ انہی میں سے کسی چیز کے منتظر ہوں ورنہ ان کے لئے راہ حق کو اپنانے میں اب کوئی خفاء یا مانع باقی نہیں رہ گیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین نشانیاں ایسی ہیں کہ ان کے ظاہر ہونے کے بعد کسی بھی ایسے شخص کو ایمان لانے سے فائدہ نہیں ہوگا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا۔ یعنی سورج کا مغرب سے طلوع کرنا۔ دجال اور دابۃ الارض۔ (محاسن التاویل، المراغی وغیرہ) ۔ اور یہ ایک ظاہر اور واضح امر ہے کہ اس کے بعد ایمان بالغیب کا کوئی موقع رہے گا ہی نہیں۔ وہ تو ایمان بالمشاہدہ ہوجائے گا جبکہ اصل مطلوب ایمان بالغیب ہی ہے۔
336 ان خاص نشانیوں کے بعد ایمان معتبر نہیں ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس دن نمودار ہوجائیں گی تمہارے رب کی وہ بعض خاص نشانیاں تو اس دن کام نہیں آسکے گا کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان جو اس سے پہلے ایمان نہیں لا ہوگا۔ کہ وہ مشاہدہ کے بعد اور یاس و اضطرار کا ایمان ہوگا۔ جبکہ مطلوب و معتبر وہ ایمان ہے جو بالغیب ہو اور اپنے ارادہ و اختیار سے ہو۔ اور وہ وہی ایمان ہے جو ایسی نشانیوں کے ظہور سے پہلے انسان کے اپنے ارادہ و اختیار سے ہو۔ چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ کرے۔ پھر جب وہ مغرب سے طلوع کرلے گا اور سب لوگ اس کو دیکھ لیں گے تو اس وقت روئے زمین پر جو بھی کوئی موجود ہوگا وہ اس پر ایمان لے آئے گا۔ لیکن یہ وہ وقت ہوگا جبکہ کسی کو بھی اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا۔ (بخاری کتاب التفسیر سورة الانعام مسلم کتاب الایمان) ۔ کہ اس کے بعد کا ایمان ایمان بالمشاہدہ ہوگا جو کہ نہ معتبر ہے اور نہ مفید و مطلوب۔
337 منکرین اور معاندین کیلئے آخری جواب : سو ہٹ دھرم اور معاند لوگوں کے لیے آخری جواب یہی ہے کہ تم لوگ بھی انتظار کرو اور ہم بھی انتظار میں لگے ہیں کہ اپنا آخری اور حقیقی انجام تم لوگ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔ اور اس روز اپنی ناکامی و نامرادی اور محرومی و بدنصیبی پر تم رہ رہ کر پچھتاؤ گے اور مارے حسرت و افسوس کے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھاؤ گے، مگر بےوقت کے اس پچھتاوے سے نہ تمہیں کچھ حاصل ہوگا اور نہ کوئی فائدہ ہوگا سوائے حسرت و یاس میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ منکرین و معاندین کیلئے آخری جواب ہے کہ اگر تم لوگ نہیں مانتے اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر ہی اڑے ہو تو انتظار کرو۔ نتیجہ خود تمہارے سامنے آجائے گا۔ اس وقت تم لوگوں کو سب کچھ معلوم ہوجائے گا اور اس سے پہلے تم ماننے والے نہیں۔
Ayahs 6:159–161338 آپس میں مختلف گروہ بننے سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اپنے دین کو اور وہ مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔ یعنی دین کے اصول و مبادی میں اختلاف کر کے۔ پس حضرات صحابہ اور ائمہ کرام کا اختلاف اس میں داخل نہیں کہ وہ اختلاف اصولی اور بنیادی نہیں بلکہ فروعی ہے۔ اور اس تفرقہ و اختلاف میں یہود و نصاریٰ اور اسلام کے نام لیوا و دعویدار وہ سب فرقے داخل و شامل ہیں۔ جو اہل حق سے بنیادی اختلافات رکھتے ہیں۔ جیسے خوارج و روافض وغیرہ اہل بدعت ۔ کما اختارہ الحافظ ابن کثیر فی تفسیرہ وغیرہ من کبار العلماء و المفسرین ۔ (ابن کثیر، قرطبی اور معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف اس بارے پیغمبر کو ہدایت فرمائی گئی کہ جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور وہ مختلف فرقوں میں بٹ گئے ان سے آپ کو کوئی سروکار نہیں کہ ہٹ دھرمی اور ہٹ دھرموں کا کوئی علاج نہیں۔ آپ کا کام تو تبلیغِ حق ہے اور بس۔ اور وہ آپ کرچکے۔ اب ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور ان کا معاملہ خدا کے حوالے کردو۔ وہی ان سے نمٹے گا اور سب سے اچھے طریقے اور حق و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق نمٹے گا۔ سو ایسے ہٹ دھرموں سے منہ موڑ لو ۔ { فَاَعْرِضْ عَن مَّنْ تَوَلّٰی } -
339 نبوت کا رسالت کا شرف سب سے بڑا شرف : اہل بدعت کے بعض بڑے یہاں اور اس طرح کے دوسرے مواقع پر اپنے ترجمہ میں لکھتے ہیں " اے محبوب " اور وہ بھی کسی فصل وتمیز کے بغیر۔ اور پھر سمجھتے ہیں اور ان کے اتباع و اَذناب کہتے ہیں کہ موصوف نے اس طرح کر کے گویا کوئی بڑا تیر مار دیا ہے۔ حالانکہ قرآن حکیم میں کسی ایک مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو اس لفظ یعنی " محبوب " سے خطاب نہیں فرمایا۔ حالانکہ یہ لفظ بھی عربی زبان کا ہے۔ تو اگر اس کی ایسی کوئی اہمیت ہوتی تو کم از کم کہیں ایک مرتبہ تو پورے قرآن پاک میں اس سے آپ ﷺ کو خطاب فرمایا گیا ہوتا۔ اس کے مقابلے میں آپ ﷺ کو نبی اور رسول کے وصف سے قرآن حکیم میں جابجا خطاب فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ یہی وہ سب سے بڑا اہم اور مقدس اعزاز ہے جس سے اللہ پاک اپنے کسی خاص بندے کو مشرف فرماتا ہے۔ اس لئے ہم نے اپنے ترجمے میں ایسے موقع خطاب میں عام طور پر اسی لفظ (اے پیغمبر ! ) کو اختیار کیا ہے۔ نیز یہ کہ اس کو ہم قوسین کے اندر ذکر کرتے ہیں کیونکہ یہ ترجمہ نہیں بلکہ تفسیر و تشریح کے ذیل میں آتا ہے، جبکہ ان کے یہ بڑے صاحب اس کی بھی کوئی پرواہ نہیں کرتے جس سے ان پر بجا طور پر یہ سوال وارد ہوتا ہے کہ آخر یہ متن قرآنی کے کس لفظ کا ترجمہ ہے ؟ جس کا ظاہر ہے ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ کیونکہ متن قرآنی میں ایسا کوئی لفظ ہے ہی نہیں جس کا ترجمہ اس لفظ " اے محبوب " سے کیا جائے۔ اور جب ایسا کوئی لفظ متن قرآنی میں سرے سے موجود ہی نہیں تو کیا ترجمہ کے اندر ایسے زائد لفظ کا اضافہ کرنا اور وہ بھی بلاکسی اشارہ و فصل کے، کیا یہ قول علی اللہ کے ذیل میں نہیں آتا ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے پیغمبر کو ایسے ہٹ دھرم لوگوں سے کوئی سروکار نہ رکھنے کی ہدایت فرمائی گئی۔ اور اسی سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ اب پیغمبر کے لئے ان لوگوں سے اعلان براءت کا وقت بھی بہت قریب آ رہا ہے، جیسا کہ اس سے کچھ ہی عرصہ بعد نازل ہونے والی سورة براءت سے بالفعل ہوا۔
340 پیغمبر کا اصل کام تبلیغِ حق : سو اس میں پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں سے آپ کو اے پیغمبر کوئی واسطہ اور سروکار نہیں۔ نہ ان کی اس گمراہی کے ضمن میں اور نہ ان کو راہ راست پر لانے کے سلسلے میں کہ آپ ﷺ کا کام صرف تبلیغ ہے اور بس۔ اور اس کا حق آپ نے بہرحال ادا کردیا۔ پس ان کی کوئی ذمہ داری آپ ﷺ پر نہیں۔ آپ ﷺ ان کی اس کجروی سے قطعی طور پر بری ہیں اور نہ ہی ان کی سزا و جزا اور عقاب و عذاب کے بارے میں کہ یہ سب اللہ کا کام ہے۔ وہ جو چاہے اور جب اور جیسے چاہے ان کو عذاب دے۔ سو پیغمبر کا اصل کام پیغام حق پہنچا دینا ہوتا ہے اور بس۔ آگے لوگوں کو راہ حق پر ڈال دینا یا نہ ماننے والوں پر عذاب لے آنا نہ پیغمبر کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی یہ آپ کے بس میں ہے۔ سو پیغمبر کا اصل کام انذا روتبشیر، پیغام حق کی تعلیم و تبلیغ اور راہ حق و ہدایت کی راہنمائی ہوتا ہے اور بس۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { فَذَکِّرْ اِنَّمَا اَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمَصَیْطِرٍ } ۔ (الغاشیۃ : 21-22)
341 یوم حساب کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے منکروں اور معاندوں کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے ہے وہ ان کو خود خبر کر دے گا ان تمام کاموں کی جو یہ لوگ زندگی بھر کرتے رہے تھے۔ سو قیامت کے روز ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے سے آگاہ کردیا جائے گا۔ اور یہ بتانا اور خبر کردینا کوئی رپورٹ پیش کرنا نہیں ہوگا بلکہ اس سے مقصود یہ ہے کہ ان لوگوں کو اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا بھگتان بھگتنا ہوگا اور اس طور پر کہ زندگی بھر کے کئے کرائے کا سب حساب کتاب چکا دیا جائے گا۔ اچھے کا اچھا اور برے کا برا ۔ فَرَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَیْہِ الْتّکْلَانَ ۔ پس جو لوگ آخرت کے اس ہولناک دن کی جوابدہی سے غافل و لاپرواہ ہو کر باغیانہ اور لاپرواہی کی زندگی گزار رہے ہیں وہ بڑے ہی خسارے میں ہیں ۔ والعیاذ باللہ العزیز الرحمن ۔ بہرکیف اس سے قیامت کے اس یوم حساب کی تذکیر و یاددہانی فرما دی گئی کہ اس روز ہر کسی کو اپنے کئے کرائے کا بھگتان بھگتنا اور اس کا صلہ و بدلہ پانا ہوگا۔ سو اس میں ایک طرف تو منکرین و مکذبین کے لئے تنبیہ و تذکیر ہے کہ غفلت سے چونکیں اور اس دن کی باز پرس کو یاد رکھیں۔ اور دوسری طرف اس میں پیغمبر کے لئے تسلیہ کا سامان ہے کہ آپ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کردیں۔ وہ ان سے خود نمٹ لے گا ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 6:162345 ہر قسم کی عبادت اللہ ہی کا حق ہے : جس میں قربانی بھی آگئی۔ اس لئے یہ مفہوم و معنیٰ زیادہ جامع ہے جبکہ بعض علمائے کرام نے اس لفظ سے خاص طور پر قربانی ہی مراد لی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح اس آیت کریمہ میں نماز اور قربانی دونوں کا ذکر یکجا طور پر ہوجائے گا۔ جیسا کہ ۔ { فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انَحَرْ } ۔ میں ہے۔ (الکبیر، الجامع، الطبری، المحاسن، الصفوۃ وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد عالی سے فرما دیا گیا کہ ہر قسم کی عبادت اور اس کی ہر شکل و قسم اللہ وحدہ لاشریک ہی کا حق ہے کہ معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سو اس ارشاد سے ملت ابراہیمی اور ملت اسلامیہ کی اصل روح کو واضح فرمایا گیا ہے کہ مومن صادق کی زندگی کا نمونہ اور اس کا اسوئہ یہی ہونا چاہئے کہ اس کی نماز و قربانی سمیت ہر عبادت اللہ وحدہ لا شریک ہی کے لئے ہو اور اس کی زندگی و موت اور اس کا جینا و مرنا سب کچھ اللہ وحدہٗ لاشریک ہی کے لئے ہو۔ اور اس کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی سے سرفرازی کی کوشش کرنا ہی ہو ۔ وَباللّٰہِ التَّوْفِیْقِ وَہُوَالْہَادِیْ اِلٰی سَوَائِ السَّبِیْلِ-
Ayahs 6:163–164346 پیغمبر سب سے پہلا فرمانبردار ہوتا ہے : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر سب سے پہلا فرمانبردار ہوتا ہے۔ یعنی اس کی امت کے اعتبار سے۔ کیونکہ ہر نبی اپنی امت کا مقتدا و پیشوا ہوتا ہے۔ اس لئے اس کا اسلام اپنی امت کے اسلام سے مقدم اور اس کے لئے نمونہ ہوتا ہے۔ سو کوئی مانے یا نہ مانے، تسلیم کرے یا نہ کرے۔ اصل حقیقت بہرحال یہی اور صرف یہی ہے کہ معبود برحق بہرحال اللہ اور صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اس کا نہ کوئی شریک وسہیم ہے اور نہ ہی کسی کو کسی بھی طرح کی عبادت کا کوئی حق پہنچتا ہے۔ بہرکیف پیغمبر اپنی امت کے اعتبار سے پہلا فرمانبردار اور ان کیلئے نمونہ اور پیشوا ہوتا ہے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، مدارک التزیل اور فتح القدیر وغیرہ) ۔ اور ہمارے حضور ﷺ چونکہ صرف نبی و رسول ہی نہیں بلکہ سب نبیوں اور رسولوں کے امام و پیشوا اور سب سے مقدم ہیں۔ اس لیے اس اعتبار سے آپ سب دنیا جہاں میں اللہ کے سب سے پہلے فرمانبردار ہیں۔ بہرکیف حضرت امام الانبیائ۔ علیہ وعلیہم الصَّلٰوۃ والسّلام ۔ کی زبان مبارک سے اعلان کروایا گیا کہ مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان اور اپنے رب کا فرمانبردار ہوں۔ یہی میری فطرت ہے اور اسی کی مجھے میرے رب کی طرف سے ہدایت فرمائی گئی ہے۔ اس لئے میں نے سب سے آگے بڑھ کر اس کی اطاعت و بندگی کا قلادہ اپنی گردن میں ڈال دیا ہے۔ اب جس کی مرضی اس راہ پر چلے اور میری پیروی کرے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 6:165349{ خلائف الارض } کا معنیٰ و مفہوم اور اس کی عظمت شان ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے تم لوگوں کو اس زمین میں خلیفہ بنایا کہ تم اللہ کے خلیفہ کے طور پر اس کی پیدا کردہ اس زمین پر عمل و تصرف کرتے ہو۔ نیز اس نے تم کو خلیفہ و جانشین بنایا ان قوموں کا جو تم سے پہلے اس دنیا میں گزر چکی ہیں۔ نیز تم خلیفہ و جانشین ہو اپنے باپ دادا اور اپنے بڑوں کے۔ اور جس طرح ان کے ترکہ و میراث کے وارث آج تم بنے ہوئے ہو، اسی طرح وقت آنے پر یہ سب کچھ تم سے دوسروں کو منتقل ہوجائے گا۔ سو آج جب کہ یہ سب کچھ تمہارے پاس ہے اس کو راہ حق میں اور مرضی حق کے مطابق صرف و خرچ کر کے اپنی آخرت بنا لو قبل اس سے کہ یہ تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تم کو خالی ہاتھ کوچ کرنا پڑے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَاَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ } الایۃ (الحدید : 7) ۔ سو انسان اس دنیا میں نہ مختار کل ہے کہ اپنی آزادانہ روش اور اپنی مرضی سے جو چاہے کرے بلکہ وہ خاص حدود وقیود کا پابند ہے اور انہی کے اندر رہ کر وہ اپنی آزادی برت سکتا ہے۔ اور نہ ہی وہ انسان مطلق العنان اور یہاں پر ہمیشہ رہنے والا ہے بلکہ وہ حدود کا پابند ہے اور ایک مختصر و محدود اور گنی چنی مدت تک یہاں رہنے والا ہے۔ اور اس کے بعد اس کو خود ہی یہاں سے کوچ کرنا ہوگا اور یوم حساب میں اپنے رب کے یہاں حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا جواب دینا اور اس کا پھل پانا ہوگا۔ سو { جَعَلَکُمَْ خَلَائِفَ الْاَرْض } کے اس مختصر اور چھوٹے سے جملے میں یہ سب ہی عظیم الشان اور جلیل القدر معانی و مطالب پنہاں ہیں۔ آج کا غفلت کا مارا اور مادی فوائد و منافع کی ریل پیل اور چکاچوند میں پھنسا جکڑا انسان اگر اسی ایک جملے میں سنجیدگی سے غور کرلے تو اس کی بگڑی بن سکتی ہے۔ اس کی روش بدل سکتی ہے۔ اور اس کی اصلاح ہوسکتی ہے اور وہ خود سری اور بےراہ روی سے بچ کر حق و ہدایت کی اس شاہراہ پر آسکتا ہے جو اس کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز اور بہرہ ور کرنے والی واحد راہ ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَ یُرِیْدُ-
350 فرق مراتب ذریعہ ابتلاء و آزمائش : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے تم میں سے بعض کو بعض پر بلند درجات عطا فرمائے تاکہ وہ تم لوگوں کی آزمائش فرمائے ان چیزوں میں جو اس نے تم کو دی ہیں تاکہ اس طرح یہ امر واضح ہوجائے کہ کون ان کو اس کی بخشش وعطاء سمجھ کر ان کا حق ادا کرتا ہے اور کون ان کی بنا پر مست ہو کر تکبر و انحراف سے کام لیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انسانوں کے درمیان درجات و مراتب کا فرق ایک طبعی اور فطری امر ہے جو حضرت خالق نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے ان کے درمیان رکھا ہے۔ جس کے ساتھ مخلوق کے طرح طرح کے فوائد و منافع وابستہ ہیں۔ اور اسی فرق مراتب اور تفاوت درجات سے انکے باہمی کام چلتے اور وہ اپنی دنیاوی زندگی میں ایک دوسرے سے کام لیتے اور فائدہ اٹھاتے ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا { وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَتَّخِدَ بَعْضُہُمْ بَّعْضًا سُخْرِیًّا } الآیۃ (الزخرف : 32) ۔ یعنی " ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر درجات کے لحاظ سے فوقیت اور بڑائی بخشی تاکہ یہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں "۔
351 عقاب خداوندی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ تمہارا رب سزا دینے میں بڑا ہی تیز ہے نافرمانوں اور ہٹ دھرموں کو۔ تاکہ وہ اپنے کئے کا پورا پورا بدلہ پائیں اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ اور اس کو حساب لینے کیلئے آلات حساب و کتاب کی ضرورت نہیں۔ وہ ایسے تمام تصورات اور اس طرح کی سب ضروریات و حاجات سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کوئی اس یوم حساب کو کہیں دور نہ سمجھے۔ وہ بڑا ہی قریب ہے کہ انسان کی موت کے بعد ہی وہ جہاں اور اس کے تقاضے شروع ہوجاتے ہیں اور کسی کو پتہ نہیں کہ اس کی موت کب، کہاں اور کس طرح آئیگی۔ اس لئے ہر انسان کو اس کو ہمیشہ قریب ہی سمجھ کر اس کے لئے تیاری کرتے رہنا چاہئے کیونکہ ہر انسان کے حق میں اس کی قیامت اس کی موت ہی ہے جیسا کہ فرمایا گیا " مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہٗ " یعنی " جو مرگیا اس کی قیامت قائم ہوگئی " ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وعلی ما یحب ویرید -
352 اللہ تعالیٰ کی بخشش اور مہربانی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ تمہارا رب بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان بھی ہے۔ فرمانبرداروں اور اطاعت گزاروں کے لئے۔ پس نہ تو اس کی گرفت و پکڑ سے لاپرواہی برتی جائے اور نہ ہی اسکی رحمت و بخشش سے مایوسی۔ بلکہ خوف ورجاء دونوں کا ہونا ضروری ہے۔ سو وہ ایسا غفور و بخشنہار ہے کہ اس کی مغفرت و بخشش کا کوئی کنارہ نہیں۔ سچی توبہ پر وہ گناہگاروں کے تمام گناہوں کو ایک لحظہ میں معاف فرما دیتا ہے۔ اور وہ رحیم اور مہربان بھی ایسا ہے کہ اس کی رحمت و مہربانی کا بھی کوئی کنارہ نہیں ہے۔ پس بندے کا کام یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اور ہر حال میں اس کی مغفرت و بخشش کی بھی امید رکھے اور اس کی رحمت و مہربانی کی بھی لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ اس کے عذاب اور اس کی گرفت و پکڑ سے ہمیشہ لرزاں وترساں بھی رہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ فَاغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ یا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ ۔ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ-
وانا عبدک العاصی، ولرحمتک الراجی، محمد اسحاق خان عفا اللہ عنہ وعافاہ ۔ تَمّ تحریرہ فی 41 ربیع الاول 1410، مطابق 21 اکتوبر 1989 ء یوم السبت والساعۃ العاشرۃ والنصف صبا جا بمنزلی الکاین فی منطقۃ ام ہریرہ بدبی، الامارات العربیۃ المتحدۃٗ نظر ثانی 16 شعبان 1417، مطابق 6 جنوری 1997، بروز اتوار بوقت اڑھائی بجے بعد از دوپہر، بمکان خود سطوہ دبی، متحدہ عرب امارات والحمد للہ رب العالمین۔