Ayah 6:125245 ہدایت کی دولت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو اللہ ہدایت سے نوازنا چاہتا ہے اس کا سینہ کھول دیتا ہے اسلام کے لیے۔ سو وہی جس کو چاہتا ہے حق و ہدایت کی دولت سے نوازتا ہے۔ اس کی سلامتی فطرت اور طلب صادق کی بناء پر۔ سو ہدایت کی دولت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے اور اسی کی عطاء وبخشش سے مل سکتی ہے۔ کیونکہ اس کا تعلق ان کے باطن اور اس کی طلب صادق سے ہے جسکو اللہ ہی جان سکتا ہے۔ پر نور حق و ہدایت سے سرفرازی کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے باطن کی دنیا کو درست اور اپنے خالق ومالک کے ساتھ اپنا تعلق صحیح رکھے ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیقِ لِمَا یُحِبُّ و یُرِیْدُ وعلی ما یحب ویرید وَ ہُوَ الْہَادِیْ اِلَی سَوَائِ السَّبِیْل -
246 شرح صدر کی دولت اور اسکے آثار وثمرات : سو ارشاد فرمایا گیا جس کو اللہ ہدایت سے نوازنا چاہتا ہے اس کا سینہ کھول دیتا ہے اسلام کے لیے۔ سو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے جس سے اس کو دین حق کے قبول کرنے کی توفیق وسعادت نصیب ہوتی ہے اور اس کے دل کو سکون و اطمینان کی دولت ملتی ہے۔ حضور ﷺ سے جب اس کی علامت و نشانی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ " دارالخلود " یعنی آخرت کی طرف انابت و رجوع اور " دارالغرور " " دھوکے کے گھر " یعنی دنیا سے دوری وبے رغبتی اور موت کے لئے تیاری اس کے آنے سے پہلے " اَلْاِنَابَۃُ اِلٰی دَارِ الْخُلُوْدِ وَالتَّجَافِیْ عَنْ دَارِ الْغُرُوْرِ وَالاِسْتعْدَادُ لِلْمَوْتِ قَبْلَ نُزُوْلِہِ " (روح، طبری، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو دین حق کیلئے شرح صدر کی دولت قدرت کی ایک عظیم الشان نعمت ہے، جس سے اس کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کے دورازے کھل جاتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔
247 اللہ تعالیٰ کے کسی کو گمراہ کردینے کا معنی و مطلب ؟: ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو اللہ گمراہی میں ڈالنا چاہتا ہے تو اس کا سینہ تنگ اور بہت تنگ کردیتا ہے۔ سو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے بد باطن شخص کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے اس کی اپنی بدنیتی اور بدباطنی کی بناء پر۔ ، ورنہ اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کسی کو گمراہ نہیں کرتا کہ اس کی شان اور اس کا کام گمراہ کرنا نہیں بلکہ حق و ہدایت کے نور اور اس کی دولت سے نوازنا ہے۔ اسی لئے اس کے اسمائے حسنیٰ میں " اَلْہَادِی " تو ہے لیکن " المُضِلّ " کوئی نام نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کے گمراہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی بدبختی اور بدباطنی کی بناء پر حق و ہدایت کی دولت چاہتے ہی نہیں ان کو اس سے محروم کردیا جاتا ہے کہ یہ اس کا قانون و دستور ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ہدایت کی دولت جو سب سے بڑی دولت ہے وہ ملتی اس واہب مطلق کی طرف سے بالکل مفت ہے لیکن ملتی انہی کو ہے جو اپنے اندر اس کے لئے طلب و تڑپ رکھتے ہیں کہ یہ سودا جبر واکراہ کا نہیں بلکہ طلب و اختیار کا ہے۔ سو جو نہیں جائیں گے ان کو زبردستی ان پر مڑھ نہیں دیا جاتا بلکہ ایسوں کو اس سے محروم کردیا جاتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اَ نُلْزِمُکُمُوْھَا وَاَنْتُمْ لَہَا کَارِھُوْنَ } (ہود : 28) ۔ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا کہ تم لوگ ہدایت نہ چاہو اور ہم اس کو تم لوگوں سے چپکا دین۔
248 نورِ حق سے محرومی کا نتیجہ ضیق صدر [ سینے کی گھٹن ] : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ ایسے بدباطن شخص کا سینہ تنگ اور تنگ کردیتا ہے۔ جس سے اس کے دل و دماغ کے منافذ حق و ہدایت کے نور مبین سے بند اور اس کو قبول کرنے کے شرف سے محروم ہوجاتے ہیں، جو کہ سب سے بڑا نقصان اور خسران مبین ہے۔ اور یہ سب کچھ ان کے اپنے خبث باطن اور سوئِ اختیار کی بناء پر ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ " حَرَج " اصل میں جھاڑیوں سے بھری ہوئی تنگ جگہ کو کہا جاتا ہے۔ یہاں پر یہ لفظ ضیق کی تاکید مزید کے طور پر آیا ہے اور تصعد و تکلف اور مشقت کے ساتھ کسی بلندی پر چڑھنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اور " سماء " کا لفظ جس طرح آسمان اور بادلوں کے لئے آتا ہے، اسی طرح یہ فضا اور اس کی بلندی کے لئے بھی آتا ہے۔ سو اس سے ایسے لوگوں کی ایمان سے محرومی کی تصویر پیش فرما دی گئی کہ اپنی بدنیتی اور خبث باطن کی بناء پر ایسے لوگوں کے لئے ایمان لانا ایسا اور اتنا مشکل ہوجاتا ہے اور یہ ایمان کی توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں۔ سو انسان کے صلاح و فساد کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب وباطن سے ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
249 بےایمانی جڑ بنیاد ہے تمام شر و فساد کی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح پھٹکار ڈال دیتا ہے ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ دولت ایمان و یقین سے محرومی جڑ بنیاد ہے تمام شر و فساد کی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ایمان و یقین اصل و اساس ہے ہر خوبی و کمال کی ۔ اَللّٰہُمَّ زِدْنَا مِنْہ بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو نور ایمان و یقین سے محروم انسان کو حق و ہدایت کی دعوت کو قبول کرنا ایسے ہی مشکل لگتا اور اس پر یہ امر ایسا شاق گزرتا ہے جیسے اس کو آسمان پر چڑھنا پڑرہا ہو۔ اور اہواء واغراض کی دلدل میں پھنسے اور کفر و باطل کے اندھیروں میں الجھے اور ڈوبے انسان کا ایسا ہونا ایک طبعی اور بدیہی امر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ نیز اس تمثیل سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ایمان و یقین کے نور سے سرفرازی کی دعوت دراصل عزت و عظمت کے آسمان تک پہنچنے کی دعوت ہے اور اس سے اعراض و روگردانی محرومی کے اندھیروں میں ڈوبنے اور زمین کی پستیوں میں گرنے کے مترادف ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جو لوگ اپنی بدنیتی اور خبث باطن کی بناء پر ایمان لانا چاہتے ہی نہیں وہ قبول حق کی توفیق سے اسی طرح محروم ہوجاتے ہیں اور ان کے لئے ایمان لانا ایسا ہی مشکل اور اتنا ہی شاق ہوجاتا ہے اور ان کے دلوں پر کفر و شرک اور باطل پرستی کی نجاست کے ردے پر ردے لگ جاتے ہیں۔ سو انسان کے بناؤ بگاڑ اور اس کے صلاح و فساد کا مدارو انحصار دراصل اس کے اپنے قلب و باطن اور نیت و اراد پر ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 6:126250 دین حق اسلام رب تک پہنچنے کا سیدھا اور صحیح راستہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہے تمہارے رب تک پہنچنے کا سیدھا راستہ جو انسان کو مشرف کرتا ہے دارین کی سعادتوں اور حقیقی فوز و فلاح سے۔ جبکہ اس کے سوا ہر راستہ ہلاکت و تباہی کے ابدی اور ہولناک گڑھے میں ڈالنے والا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لیے اسلام کے سوا دوسرا کوئی دین اس وحدہ لاشریک کے یہاں شرف قبولیت نہیں پاسکتا۔ اور ایسے تمام لوگ جو اسلام کے سوا دوسرا کوئی بھی دین اپنائے ہوئے ہیں وہ سراسر خسارے میں ہیں۔ آج ایسے لوگوں کو یہ حقیقت سمجھ نہیں آرہی لیکن کل قیامت میں جب سب پردے چھٹ جائیں گے اور حقیقت حال پوری طرح آشکارا وعیاں ہوجائے گی تو ان کو خود معلوم ہوجائے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وہو فی الاخرۃ من الخسرین } ۔ ( آل عمران : 5 ۔ ) یعنی " جس نے اسلام کے سوا کسی اور دین کو اپنایا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص یقینا آخرت میں سخت خسارے والے لوگوں میں سے ہوگا۔ بہرکیف آپ کے رب تک پہنچنے کا راستہ یہی ہے یعنی دین اسلام جو عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے اور ان میں کوئی کجی اور ٹیڑھ نہیں۔ اور یہی صحت و سلامتی کا راستہ ہے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayahs 6:127–128251 ایمان والوں کے لیے دار السلام سے سرفرازی کی خوشخبری : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کو ماننے اور اپنانے والوں کیلئے دارالسلام کی خوشخبری ہے۔ یعنی سلامتی کے اس گھر سے سرفرازی کی جہاں ہر طرح کی اور ہر طرف سلامتی ہی سلامتی کا دور دورہ ہوگا۔ جہاں ۔ { اِلَّا قِیْلاً سَلامًا سَلامًا } ۔ کی صدائیں ہوں گی جہاں ۔ { سَلامٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ } ۔ کا شرف عظیم اور اعزاز بےمثل نصیب ہوگا۔ جہاں فرشتوں کی نوری مخلوق کی طرف سے ۔ { سَلاَمٌ عَلَیْکُم بِمَا صَبَرُتُمْ } ۔ کے کلمات کریمہ سے استقبال کیا جائے گا ۔ مالک الملک اپنے کرم سے اس گھر میں داخل ہونا نصیب فرما دے اس بندہ ناچیز کو بھی، اس کے والدین مرحومین کو بھی، اس کی بیوی بچوں، بہنوں، بھائیوں اور دوسرے تمام رشتہ داروں اور تعلق داروں کو بھی ۔ آمین ثم آمین ۔ یَا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ فَمَغْفِرَتُکَ اَوْسَعُ مِِنْ ذُنُوْبِنَا وَرَحْمَتُکَ اَرْجٰی عِنْدَنَا مِنْ اَعْمَالِنَا یَا ذَا الْجَلالِ وَالاِکْرَامِ ۔ سو نصیحت کو ماننے اور حق کو قبول کرنے والوں کیلئے ایسی عظیم الشان بشارت اور دارالسلام (سلامتی والے گھر) سے مشرف ہونے کے اس مژدئہ جانفزا کا انعام ہے۔ پس قول حق و ہدایت کو سننا اور ماننا دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی اصل اور اساس ہے۔ اور اس سے اعراض و انکار محرومیوں کی محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان خوش نصیبوں کا صلہ و بدلہ بیان فرما دیا گیا جن کے سینے اللہ تعالیٰ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے اور وہ صدق دل اور سچی نیت سے اس کو اپناتے ہیں۔ سو فرمایا گیا کہ ان کے لئے سلامتی کا وہ گھر ہوگا جس میں ان کو ہر طرح کا سکھ اور چین نصیب ہوگا اور ان کا ساتھی اللہ ہوگا، جبکہ معاندین و منکرین کے لئے ذلت کا گھر ہوگا اور ان کے ساتھی وہ شیاطین انس و جن ہوں گے جن کے القائے شیطانی کی بناء پر یہ گمراہ ہوئے تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 6:129254 دفع ظلم کے لیے قانون و دستور خداوندی کا ذکر : سو اس سے ظالموں کے ظالموں پر مسلط کرنے کے قانون و دستور خداوندی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اسی طرح مسلط کردیتے ہیں بعض ظالموں کو بعض پر۔ تاکہ ان کو ان کے مظالم کا کسی حد تک مزہ چکھایا جاسکے اور دنیا کو ان کے مظالم سے رہائی مل سکے۔ اور کافر کا دوست کافر اور مومن کا دوست مومن کہ جنس اپنی جنس ہی کی طرف مائل ہوتی ہے۔ اسی لئے کافر کافر کا دوست ہوتا ہے اور مومن مومن کا، وہ جہاں کہیں بھی ہو۔ اسی طرح ظالم ایک دوسرے کے ساتھ لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ سب جاکر دوزخ میں گریں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ جیسے تم خود ہوؤ گے اسی طرح کے تم پر والی اور حکمران بھی مسلط کر دئے جائیں گے " کَمَا تَکُوْنُوْنَ یُوَلّٰیْ عَلَیْکُمْ " (تفسیر القاسمی وغیرہ) ۔ سو جب لوگ برے ہوتے ہیں تو ان پر حاکم بھی برے مسلط کردیئے جاتے ہیں۔ چناچہ ابواللیث سمرقندی اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں " نُسَلِّطُ بَعْضَ الظّالِمِیْنَ بَعْضًا فیُہْلکُِہُ اَوْ یُذِلُّہ " یعنی " ہم بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کردیتے ہیں پھر وہ اس کو یا ہلاک کردیتا ہے یا ذلت کے گڑھے میں ڈال دیتا ہے " ۔ والعیاذ باللہ ۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم سے ناراض ہوتا ہے تو برے اور ظالم لوگوں کو ان پر مسلط کردیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جب وہ ان سے راضی ہوتا ہے تو ان کے معاملات اچھے اور نیک لوگوں کے حوالے کردیتا ہے۔ اور حضرت مالک بن دینار کہتے ہیں " میں نے حکمت کی بعض کتابوں میں پڑھا کہ اللہ پاک ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ فرماتا ہے کہ " میں بادشاہوں کا بادشاہ ہوں۔ تمام بادشاہوں کے دل میرے ہاتھ میں ہیں۔ پس جن لوگوں نے میری اطاعت و فرمانبرداری کی ان پر میں ان کے بادشاہوں کو رحمت کا ذریعہ بنا دیتا ہوں۔ اور جنہوں نے میری نافرمانی کی ان پر میں ان کو عذاب کا کوڑا بنا دیتا ہوں " ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لئے امام قرطبی اس آیت کریمہ کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ اس میں ظالموں کیلئے بڑی تنبیہ اور تہدید ہے کہ اگر وہ باز نہ آئے تو ان پر ایسے ہی دوسروں کو مسلط کردیا جائے گا جو ان سے ان کے ظلم کا حساب لیں گے۔ (القرطبی، الروح، ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان اور خازن وغیرہ) ۔ اور ظالم پر دوسروں کو مسلط کرنے کی یہ سنت الہٰی اس کارخانہ ہست و بود میں ہمیشہ کارفرما رہی اور آج تک کار فرما ہے، مگر غفلت کی ماری دنیا ہے کہ پھر بھی آنکھ نہیں کھولتی اور اس سے سبق نہیں لیتی۔ خود ہمارے ملک کی تاریخ میں اس کی کتنی ہی مثالیں گزری ہیں اور اس وقت بھی جبکہ راقم آثم ان سطور کی پروف ریڈنگ کررہا ہے اس کی ایک تازہ مثال سب کے سامنے موجود ہے۔ ہمارے ملک کے ایک حکمران انتخاب (اور اس میں کی گئی دھاندلی) کے ذریعے کرسی اقتدار پر براجمان ہوئے تو فرعون بن گئے۔ ان کا کہنا اور بار بار کہنا تھا کہ میں سب کو مات دیکر بھاری مینڈیٹ کے ذریعے منتخب ہوا ہوں اور اپنی اسی فرعونی ذہینت کی بناء پر انہوں نے اپنے صرف تین سالہ دور حکومت میں وہ وہ ظلم ڈھائے کہ سابقہ ظالموں کے تمام ریکارڈ بیٹ کردیئے۔ دینی مدارس اور انکے طلبہ و اساتذہ اور دیگر علمائے حقانیین کو انہوں نے طرح طرح سے ستایا اور اذیتیں پہنچائیں۔ کتنوں کو داخل زنداں اور پابند سلاسل کیا اور کتنوں کو ظلم وعدوان کے ساتھ شہید کیا گیا اور اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں تو اس ٹولے نے بعض شیطانی سپر طاقتوں کے اشاروں پر اس طرح کھلم کھلا ناچنا شروع کردیا تھا اور اہل حق کیخلاف وہ اس طرح ہرزہ سرائی پر اتر آئے تھے کہ اصحاب فکرو بصیرت کو حیرانگی ہو رہی تھی کہ یہ صاحب آخر اس حد تک کیوں اور کیسے گرگئے ؟ سو قدرت کی طرف سے ان پر عذاب کا ایک ایسا کوڑا برسا کہ یکایک اور بالکل خلاف توقع ایک ایسا انقلاب آیا کہ کسی کی نکسیر تک نہیں پھوٹی اور وہ فرعون صفت حکمران اپنے حواریوں سمیت آج جیل کی کالی کوٹھڑی میں بند اور عدالت کے کٹہرے میں اپنے مظالم کی جوابدہی کیلئے کھڑے ہیں اور اپنے مستقبل سے متعلق فیصلے کے انتظار میں ہیں۔ اور ایسے موڑ پر ہیں کہ جہاں زندگی اور موت کا مرحلہ درپیش ہے۔ اور اب اس کے بعد جبکہ راقم آثم ان سطور کی نئی پروف ریڈنگ کر رہا ہے ان صاحب کو عدالت نے سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے اور تقریباً کوئی دو سال کا عرصہ جیل کی کال کوٹھڑی میں موت وحیات کی کشمکش اور انتظار میں گزارنے کے بعد بعض بیرونی ملکوں کی مداخلت اور طرح طرح کی ذلت و رسوائی اٹھانے کے بعد موصوف کو پورے خاندان سمیت ملک بدر کردیا گیا۔ اور اب وہ اپنے ملک سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور جس ملک میں وہ دندنایا کرتے تھے اور بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے وہ اس میں رہنے کے حق سے بھی محروم ہوگئے۔ اور ان کے اس بھاری مینڈیٹ کی طرف سے کوئی آواز بھی ان کے حق میں نہیں اٹھی جس کا ان کو بڑا دعویٰ اور گھمنڈ تھا ۔ { اِنَّ فِیْ ذَالِکَ لَعِبْرَۃ } ۔ " بلاشبہ اس میں بڑا سامان عبرت ہے " ۔ { اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ } ۔ " بیشک تمہارے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے " ۔ { اِنَّ اَخْذَہُ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ} ۔ " بیشک اس کی پکڑ بہت دردناک اور بڑی ہی سخت ہے " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ہر ظالم کو چاہئے کہ وہ دوسرے ظالموں کے انجام سے درس عبرت لے ورنہ اس ہولناک انجام کے لئے تیار ہوجائے جو دوسرے ظالم اس سے پہلے بھگت چکے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ العظیم من کل سوء و انحراف و زیغ وضلال -
Ayah 6:130255 قیامت کے روز حضرات انبیاء و رسل کے بارے میں سوال : ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز جنوں اور انسانوں کے دونوں گروہوں سے سوال ہوگا کہ " کیا تمہارے پاس رسول نہیں آئے تھے ؟ " یعنی جن وانس کے تمہارے اس مجموعے میں سے۔ کیونکہ انبیاء و رسل انسانوں ہی میں سے آئے ہیں اور جن انہی کے تابع رہے ہیں ۔ کما قال بہ جمہور العلماء من السَّلف والْخَلَف۔ و لہذا تشہد النصوص من الکتاب والسنۃ۔ (قرطبی، مراغی، ابن کثیر اور معارف وغیرہ) ۔ جب کہ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ انسانوں کی طرح جنوں کے اندر بھی انہی میں سے رسولوں کو مبعوث فرمایا گیا ہے کہ حضرات انبیاء و رسل کی بعثت سے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت بھی یہی رہی ہے۔ اور یہاں پر { رُسُلٌ مِّنْکُمْ } کی تصریح سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ بہرکیف حشر میں جنوں اور انسانوں کے مجموعے سے حضرات انبیاء و رسل کی دعوت و تبلیغ کے بارے میں اس طرح سوال ہوگا جس سے ان پر حجت قائم ہوگی اور اس کے نتیجے میں ان لوگوں کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حضرات انبیائے کرام کی دعوت پر لبیک کہنا اور اس کو اپنانا دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ اور اس سے اعراض و روگردانی دارین کی فوز و فلاح سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان لوگوں سے بطور قطع عذر اور اتمام حجت کہا جائے گا کہ " کیا تمہارے پاس ایسے رسول نہیں آئے تھے جو خود تم ہی میں سے تھے ؟ اور وہ تم لوگوں کو میری آیتیں پڑھ کر سناتے تھے اور تم کو اپنے اس دن کی پیشی سے خبردار کرتے تھے ؟ " مگر تم نے ان کی آواز پر کان نہ دھرا۔ سو اب تمہارے لئے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہیں کہ تم نے سب کچھ سن اور سمجھ لینے کے باوجود اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں کو بند رکھا۔ پس اب تم اپنے کئے کرائے کا بھگتنان بھگتو اور ہمیشہ کے لئے بھگتتے رہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
256 گروہ جن و انس کا اقرار و اعتراف جرم و قصور : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے اور صاف اور دوٹوک گواہی دیں گے کہ وہ قطعی طور پر کافر تھے کہ عالم آخرت اصل میں کشف حقائق اور مشاہدہ کا عالم ہوگا۔ اور جب وہاں پر خود ان کے اعضاء وجوارح تک بھی ان کے خلاف گواہی دے چکے ہونگے، ان کے لئے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے گی۔ اس لیے وہ اپنے جرم و قصور کا اس طرح اقرار و اعتراف کریں گے۔ مگر اس وقت کے اس اقرار و اعتراف کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سوائے اپنی حسرت و یاس میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم کا دنیا پر کس قدر عظیم الشان اور جلیل القدر احسان ہے کہ ُ ان غیبی حقائق سے اس صراحت و وضاحت سے باخبر کردیا، جن کے جاننے کا کوئی اور ذریعہ ممکن ہی نہیں۔ اور اس قدر پیشگی حیات دنیا کی اس فرصت عمل میں بتادیا تاکہ جس نے سنبھلنا ہو سنبھل جائے قبل اس سے کہ فرصت عمل اسکے ہاتھ سے نکل جائے۔ اور اس کو ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس روز منکر لوگ صاف اور صریح طور پر اپنے جرم و قصور کا اقرار و اعتراف کرلیں گے اور خود اپنے خلاف گواہی دیں گے اور کہیں گے کہ وہ قطعی طور پر کافر تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ان کے اس اعتراف و اقرار کا ذکر اس طرح فرمایا گیا ہے { فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْبِہِمْ فَسُحْقًا لِّاَصْحَاب السََّعِیْرِ } (الملک : 11) ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و زلل سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 6:131257 اَنبیاء و رسل کی بعثت عدل و انصاف خداوندی کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اس لیے کہ تمہارا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو یونہی ہلاک کر دے ان کے ظلم کی بنا پر جبکہ ان کے باشندے بیخبر ہوں۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تمہارا رب ایسا نہیں کہ لوگوں کو خبردار کئے بغیر یونہی سزا دے دے کہ ایسا کرنا اس کے عدل کامل اور رحمت بےغایت کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اس نے حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کو مبعوث فرمایا۔ ان پر اپنی کتابیں نازل فرمائیں اور ان کے ذریعے اپنا پیغام دنیا کو پہنچا دیا۔ تاکہ حق پوری طرح واضح ہوجائے اور حجت پوری ہوجائے۔ تاکہ کل کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں پتہ نہیں تھا۔ اور تاکہ لوگوں کیلئے اللہ پر کوئی حجت باقی نہ رہ سکے { لِئَلَّا یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَۃٌ بَعْدَ الرُّسُلِ } الآیۃ (النسائ : 160) ۔ یعنی " اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو خبردار کرنے والا اور خوشخبری دینے والے بنا کر بھیجا تاکہ لوگوں کے لئے اللہ کے ذمے کوئی حجت باقی نہ رہ جائے اس کے ان رسولوں کے بعد "۔ سو اسی ضابطہ واصول سے متعلق یہاں پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو خبردار کرنے کے لئے ہر قوم کے اندر اپنے رسول بھیجے کیونکہ تمہارا رب ایسا نہیں کہ وہ کسی قوم کو اس کے کفر و شرک پر اس کے نتائج و عوا قب سے خبردار کئے بغیر یونہی ہلاک کر دے کہ یہ اس کی شان رحمت و ربوبیت کے تقاضوں کے خلاف ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 6:132258 درجات و مراتب کا انحصار انسان کے اپنے عمل و کردار پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہر کسی کے لیے درجے ہیں ان کے اپنے عمل و کردار کی بنا پر۔ اور تمہارا رب بیخبر نہیں ان کاموں سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ہر کسی کے درجات و مراتب کا مدار اسکے عمل و کردار پر ہوگا۔ جیسا کسی کا عمل ہوگا، ویسا ہی وہ اس کا صلہ اور بدلہ پائے گا۔ مدار بہرحال اپنے عقیدہ و عمل اور اخلاق و کردار پر ہوگا نہ کہ رنگ و نسل وغیرہ کے ان مصنوعی فوارق و امتیازات پر جو کہ اہل دنیا نے از خود گھڑ رکھے ہیں اور آخرت میں ان درجات و مراتب کا تفاضل تو دنیا سے کہیں بڑھ کر ہوگا { وَلَلْاٰخِرَۃُ اَکْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَکْبَرُ تَفْضِیْلاً } ۔ (بنی اسرائیل : 21) ۔ کوئی دوزخ کے نچلے گڑھے میں ہوگا اور کوئی اس کے کنارے پر ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی طرح کوئی جنت کے وسط میں ہوگا اور کوئی اس کے کنارے پر۔ (المراغی و المعارف وغیرہ) ۔ مدار بہرکیف ہر کسی کے اپنے عمل و کردار پر ہوگا اور اللہ پاک ان لوگوں کے ان تمام اعمال سے پوری طرح باخبر ہے جو یہ لوگ کرتے رہے اور کر رہے ہیں۔ اس لئے اس کے یہاں اس بناء پر اور اس سلسلے میں درجہ بندی سے متعلق کوئی دقت و دشواری یا کسی طرح کی کوئی مشکل پیش نہیں آئیگی۔ سو اس راہ میں فلاں ابن فلاں کوئی چیز نہیں۔ دارومدار بہرحال عمل و کردار پر ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ ویُرِیْدُ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 6:133259 رب کی بےنیازی اور اس کی رحمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارا رب بڑا ہی بےنیاز، نہایت ہی رحمت والا ہے۔ سو وہ ہر کسی سے اور ہر طرح سے بےنیاز ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس کو نہ کسی کے عمل کی کوئی ضرورت ہے نہ پرواہ۔ وہ جو تم لوگوں سے اعمال صالحہ کا مطالبہ کرتا ہے تو محض اسلئے تاکہ تم کو اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے نوازے کہ وہ بڑا مہربان نہایت ہی رحمتوں والا ہے اور اس کی شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے۔ اور تمہارے ان اعمال کو وہ اپنے کرم سے تمہارے لئے محفوظ فرماتا ہے تاکہ وہ تمہیں ان کے صلے اور بدلے سے نوازے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ، وبحمدِہٖ ۔ جَلّ وَعَلا ۔ تَتِمُّ الصّالِحاتُ ۔ پس ہر کسی کو ہمیشہ اور ہر حال میں اس بےنیاز و غنی ربِّ غفور و رحیم کی یاد دلشاد اور اسکی اطاعت و بندگی میں منہمک رہنا چاہیئے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور یہ اسی وحدہ لا شریک کی شان ہے کہ وہ غنی مطلق ہونے کے باوجود اپنے بندوں کو اپنی طرف رـجوع کی اس قدر رحمت و عنایت سے بلاتا اور دعوت دیتا ہے ۔ تبارک وتعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
260 اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی شان بےنیازی کے ایک مظہر کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ اگر چاہے تو تمہاری جگہ دوسروں کو لاکر بسا سکتا ہے جیسا کہ اس نے خود تم لوگوں کو دوسری قوم سے پیدا فرمایا ہے۔ یعنی جس طرح اس نے پہلی قوموں کو ختم کرکے تمہیں ان کی جانشینی بخشی۔ اور یہ ِاس بات کی بین دلیل اور کھلی شہادت ہے کہ وہ قادر مطلق تمہاری جگہ دوسروں کو لا بسانے کی بھی پوری قدرت رکھتا ہے۔ پس تمہیں اگر آج عمل و کمائی کا موقع ملا ہوا ہے تو اس کو غنیمت سمجھو کہ یہ کبھی بھی چھن سکتا ہے۔ نیز تمہیں اگر دین کی خدمت کا کوئی موقع ملتا ہے تو اسکو اپنی خوش نصیبی جانو ورنہ نہ وہ تمہارا محتاج ہے نہ اس کا دین۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ وہ قادر مطلق اگر تمہاری سرکشیوں کے باوجود تمہیں مہلت دیتا ہے اور تمہاری گرفت و پکڑ نہیں فرماتا تو محض اپنی رحمت کی بناء پر۔ ورنہ وہ اگر چاہے تو تم سب کو مٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لا بسائے، جیسا کہ وہ اس سے پہلے بارہا ایسا کرچکا ہے۔ آخر تم کو جو دوسروں کا وارث بنایا تو اسی نے بنایا ہے۔ سو تمہاری اپنی تاریخ ہی خود تم پر حجت ہے۔ بہرکیف اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور اس کی شان استغناء و بےنیازی کا ایک نمونہ و مظہر پیش فرما دیا گیا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 6:134–135261 اللہ کا وعدہ بہرحال پورا ہو کر رہے گا : پس روز جزاء کا واقع ہونا اور تمہارا اپنے اعمال کا بدلہ اور جزاء پانا کہ کوئی مانے یا نہ مانے، ایسے بہرحال ہو کر رہے گا۔ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں۔ اور ہر کسی کو اسکی زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ اور بدلہ مل سکے۔ اور اس کائنات کے سروجود اور مقصد تخلیق کی تکمیل ہوسکے۔ سو رسولوں کی تکذیب اور حق و ہدایت کے انکار پر اس خالق ومالک نے عذاب کا جو وعدہ تم لوگوں سے فرما رکھا ہے وہ بہرحال شدنی ہے، خواہ وہ دنیا کے عذاب عاجل کی شکل میں آئے یا یوم الحساب کے عذاب اخروی کی صورت میں۔ اس کو روکنے یا ٹالنے کا بل بوتہ کسی میں نہیں۔ پس عقل و نقل کا تقاضا یہ ہے کہ منکر لوگ اس کے لئے جلدی کرنے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر و کوشش کریں کہ جب وہ آگیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو پھر اس سے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ فکر وعمل کی ہر کجی اور ہر قسم کی بےراہ روی سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 6:136263 مشرکوں کی مت ماری کے ایک نمونہ و مظہر کا ذکر وبیان : سو اس سے مشرک انسان کی مت ماری اور اس کے ایک اہم سبب کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے اللہ کے لیے ایک حصہ مقرر کیا ہے اس کھیتی اور ان مویشیوں میں سے جن کو اللہ ہی نے پیدا فرمایا ہے۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ کفر و شرک سے انسان کی مت مار دی جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے اللہ کے لئے اس کھیتی کا ایک حصہ مقرر کیا حالانکہ اس کو سیدھا اللہ ہی نے کیا اپنی قدرت و عنائت سے۔ سو ان لوگوں کی مت کیسی مار دی گئی کہ سب کچھ پیدا کرنے والا اور سب کو عطا فرمانے والا تو اللہ وحدہ لاشریک مگر یہ اس میں شریک ٹھہراتے ہیں دوسروں کو۔ اور ایک حصہ رکھتے ہیں اللہ کے لئے ۔ { تَعَالَی اللّٰہُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًًا } ۔ افسوس کہ آج بہت سے کلمہ گو مشرکوں کا حال بھی اس سے بہت کچھ ملتا جلتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ کفر و شرک سے انسان کی مت مار دی جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں وہ ایسا اندھا اور اوندھا بن کر رہ جاتا ہے کہ ُ اس کو واضح اور جلی حقائق بھی سمجھ اور نظر نہیں آتے۔ اور وہ ایسی باتیں کرنے لگتا ہے جن پر عام آدمی بھی اس کو احمق کہے بغیر نہیں رہ سکتا مگر مت کے ماروں کو اس سے بھی کوئی سبق نہیں ملتا ۔ والعیاذ باللہ ۔
264 مشرکوں کی مت ماری کا ایک اور نمونہ اور مظہر : کہ ان کے خود ساختہ اور من گھڑت شریکوں کا حصہ اللہ کی طرف نہیں جاسکتا۔ اور یہ اسلئے کہ ان لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ اللہ تو بےنیاز ہے۔ اس کو کوئی پرواہ نہیں۔ اور ان کے یہ فرضی اور بناوٹی معبود بت محتاج ہیں۔ اس لئے ان کا حصہ واپس کردیا جائے۔ اور اندر کی اصل بات یہ تھی کہ اپنے ان فرضی اور بناوٹی معبودوں سے وہ زیادہ ڈرتے تھے کہ ان کو وہ اپنے سامنے دیکھتے تھے۔ اور ان میں ان لوگوں نے از خود نفع و نقصان کے اختیارات مان رکھے تھے جبکہ اللہ پاک ۔ سبحانہ وتعالی ۔ جو کہ خالق ومالک حقیقی اور کارفرما و کارساز مطلق ہے، وہ پر دئہ غیب میں ہے۔ وہ ان لوگوں کو نظر آ نہیں سکتا۔ اسلئے اس کی انکو کوئی پرواہ نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ افسوس کہ اس مرض کے مظاہر بھی آج کے کلمہ گو مشرکوں میں یہاں اور وہاں جگہ جگہ اور طرح طرح سے دیکھنے میں آ تے ہیں۔ چناچہ ایسے لوگ جب کسی مسجد میں جائیں گے تو جوتے ساتھ لے جائیں گے، خواہ وہ کوئی سی بھی مسجد ہو۔ یہاں تک کہ مسجد حرام اور مسجد نبوی ﷺ میں بھی۔ مگر کسی قبر یا آستانے پر جائیں گے تو جوتے دور اتار لیں گے۔ بلکہ بعض جگہ تو ایسے لوگ عقیدتاً دور دور سے ننگے پاؤں چل کر آئیں گے۔ اور بدعتی پیر و ملاں اپنے پیٹ کی خاطر ایسے جاہلوں کی اور پیٹھ ٹھونکیں گے کہ ہاں صاحب بزرگوں کی تعظیم و تکریم کا تقاضا یہی ہے۔ نیز ایسے لوگ جب کسی مسجد کے پاس سے گز ریں گے تو گاتے بجاتے اور شور مچاتے گزریں گے۔ لیکن جب کسی قبر یا آستانے کے پاس سے گزریں گے تو ان کی کیفیت یکسر مختلف ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہونا چاہیئے تھا۔ سو یہ اسی مرض کا نتیجہ اور اسی کے جراثیم ہیں جو ان کھلے مشرکوں کے اندر پایا جاتا تھا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:137265 مشرکین کا اپنی اولاد کو قتل کرنے کی حماقت کا ارتکاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح مزین و خوشنما بنادیا ہے بہت سے مشرکوں کے لیے قتل کردینا ان کا خود اپنی اولاد کو ان کے خود ساختہ اور من گھڑت شریکوں نے۔ سو اپنے شریکوں کی تزیین کی بنا پر یہ لوگ اپنی اولاد کو قتل کرتے ہیں، تاکہ اس طرح یہ لوگ اپنے ایسے خود ساختہ شریکوں اور فرضی و بناوٹی معبودوں کو خوش کرسکیں۔ اور آج تک جگہ جگہ ایسے ہو رہا ہے، جیسا کہ اس کے بارے میں مختلف مظاہر کی خبریں وقتا ً فوقتاً چھپتی رہتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور مشرکین عرب اس مشرکانہ اور سفیہانہ حرکت کا ارتکاب کئی وجوہ سے کرتے تھے۔ کبھی فقر و افلاس کی وجہ سے، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَکُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ ، نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَاِیَّاھُمْ } ۔ (الانعام : 153) ۔ اور کبھی وہ لوگ یہ قتل محض فقر و افلاس کے خوف و خدشہ سے کرتے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَا تَقْتُلُوا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ ، نَحْنُ نَرْزُقُھُمْ وَاِیَّاکُمْ } ۔ (بنی اسرائیل : 31) ۔ اور کبھی وہ قتل اولاد کے اس جرم کا ارتکاب عار سے بچنے کیلئے کرتے، جیسا کہ ان کے یہاں بچیوں کو زندہ درگور کرنے کا رواج تھا۔ اور کبھی وہ لوگ اپنے کسی بچے کو کسی بت کے نام پر اور اس کی خوشنودی کیلئے مار دیتے، جیسا کہ عبدالمطلب نے اپنے بیٹے کی قربانی کی نذر مانی تھی جس کا قصہ مشہور و معروف ہے۔ اور اسی بناء پر حضور ﷺ نے فرمایا " اَنَا ابن الذبیحین " (المراغی وغیرہ) ۔ سو ان مختلف وجوہ کی بنا پر مشرکین اپنی اولاد کو قتل کرنے کی حماقت کا ارتکاب کرتے تھے اور ان کے لئے ان کے شرکاء نے ان کی اپنی اولادوں کے قتل کرنے کے اس سنگین جرم کو خوشنما بنا رکھا تھا۔ سو اللہ اگر چاہتا تو وہ ایسا کبھی نہ کرتے لہذا آپ ان کی پروا مت کرو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
266 آزادیٔ ارادئہ و اختیار ذریعہ امتحان و اختیار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ ایسا کبھی نہ کرتے کہ وہ تکوینی طور پر ان سے اس کی قدرت و طاقت ہی چھین لیتا، لیکن ایسا جبری ایمان نہ تو اس کے یہاں مطلوب ہے اور نہ ہی مفید۔ اسلئے مطالبہ اور تقاضا اس طرح کے جبری اور قہری ایمان کا نہیں بلکہ اس ایمان کا ہے جو کہ اپنے ارادہ و اختیار اور رضا ورغبت سے ہو۔ اسی لیے ہر کسی کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی گئی کہ یہی ذریعہ امتحان و اختیار ہے۔ سو اس میں آنحضرت ﷺ کے لئے اور آپ ﷺ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کے لئے تسلیہ و تسکین کا سامان ہے کہ ایسے ہٹ دھرم لوگ اگر اپنی ایسی سنگدلانہ حرکتوں اور کھلی ہوئی حماقتوں پر اڑے ہوئے ہیں اور حق و ہدایت کی بات سننے اور ماننے کو تیار نہیں ہوتے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو ۔ یہاں تک کہ یہ اپنے اس ہولناک انجام کو پہنچ کر رہیں جس کا مستحق انہوں نے اپنے آپ کو بنا لیا ہے کہ کسی کو باندھ کر اور مجبور کر کے راہ حق پر لانا نہ تمہارے بس میں ہے اور نہ ہی یہ تمہاری ذمہ داری ہے۔ بلکہ آپ کے ذمے صرف تبلیغ حق کی ذمہ داری ہے۔
267 ہٹ دھرم بدبختوں کی فکر وپروا نہ کرنے کی ہدایت : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ پس چھوڑ دو تم ان کو اور ان کی ان تمام افترا پردازیوں کو جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ بدبختوں کی بدبختی پر اور مشرکین اور ان کے شرک پر غم کرنے کی ضرورت نہیں کہ یہ لوگ اللہ کی سنت کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ پس ان کی فکر میں نہ پڑو کہ یہ اپنے کئے کرائے کا بھگتان خود بھگت لیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جو ڈھیل ان کو مل رہی ہے وہ بھی حقیقت میں ان کیلئے عذاب میں اضافے کا باعث ہے تاکہ اس طرح یہ لوگ اپنے جرم و گناہ میں بڑھتے جائیں اور اس کے نتیجے میں اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہیں اور رسوا کن عذاب سے دوچار ہو کر رہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ لِیَزْدَادُوْا اِثْمًا وَََّلَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْن } ۔ " سوائے اس کے نہیں کہ ہم ان کو ڈھیل دے رہے ہیں تاکہ اس نتیجے میں یہ اپنے گناہوں اور جرم و قصور میں بڑھتے اور ترقی کرتے جائیں، اور ان کے لیے ایک بڑا رسوا کن عذاب ہے " (اٰلِ عمران : 178) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ بدبخت لوگ اگر حق بات کو سننے ماننے کے لیے تیار نہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو کہ یہ لوگ اپنے انجام کو خود پہنچ کر رہیں گے اور اپنا بھگتان خود بھگت کر رہیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 6:138268 منکرین و مفترین کو ان کی ہولناک انجام کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے منکرین و مفترین کو ان کے ہولناک انجام کی تذکیر و یاددہانی فرما دی گئی کہ ان کو اِ فترا علی اللہ کی سزا بہرحال بھگتنا ہوگی۔ یعنی اپنی ان باتوں کی سزا جن کو یہ از خود اپنے طور پر اللہ کے ذمے لگاتے تھے بغیر کسی سند و دلیل کے۔ سو یہ لوگ اپنے کئے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتیں گے اور خاص کر اس بات کا کہ انہوں نے اللہ پاک کی طرف ایسی باتوں کو منسوب کیا تھا جو کہ اس نے نہیں فرمائی تھیں۔ اور جو اس کی شان اقدس و اَعلیٰ کے لا ئق نہیں تھیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنا ایک سنگین جرم ہے اور کسی کو کسی بھی طرح اس بات کا حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ پاک کے ذمے ایسی بات لگائے جو اس نے نہیں فرمائی۔ اس لئے افتراء علی اللہ کو سب سے بڑا ظلم قرار دیا گیا۔ چناچہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا { وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا } (الانعام : 21) ۔ یعنی اللہ پر افتراء باندھنے والے سے بڑھ کر اور کوئی ظالم نہیں ہوسکتا۔ سو ایسے لوگ اس کی پکڑ سے نہیں بچ سکیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بات صرف وقت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 6:139269 مشرکین مکہ کی ایک اور خودساختہ تحریم کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان جانوروں کے پیٹوں میں جو کچھ ہے وہ مردوں کے لئے حلال ہے اور عورتوں کے لئے حرام۔ یعنی " بحیرہ "، " سائبہ " وغیرہ کے پیٹوں میں۔ (محاسن، خازن وغیرہ) ۔ اور مشرکین مکہ وغیرہ کے اس قدیم مرض کے جراثیم آج بھی یہاں اور وہاں جگہ جگہ اور طرح طرح سے ملیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف مشرکین مکہ نے محض اپنی افتراء پردازی سے اس طرح کے جانوروں کو ازخود بغیر کسی سند و دلیل کے حرام قرار دے رکھا تھا۔ حالانکہ تحلیل و تحریم اللہ وحدہٗ لاشریک ہی کا حق ہے جو کہ سب کا خالق ومالک اور مختار کل ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کا اپنے خانہ ساز فتو وں، من گھڑت منطق، مفروضوں اور بےبنیاد اوہام و خرافات کی بنا پر یہ کہنا تھا کہ " ان جانوروں کے پیٹوں کے اندر جو کچھ ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور عورتوں پر وہ حرام ہے، ہاں اگر وہ مردہ ہوا تو پھر اس میں سب شریک ہیں "۔ سو یہ سب ان لوگوں کی اپنی من گھڑت اور خود ساختہ باتیں تھیں اور بس۔
270 مشرکوں کو بدلہ و جزا کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب ہی اللہ ان کو بدلہ دے گا ان کی ان تمام من گھڑت باتوں کا۔ یعنی قیامت کے دن۔ جو کہ بدلے اور جزاء کا دن ہے۔ جو ان کی نظروں میں اگرچہ دور ہو مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور حقیقت نفس الامری کے اعتبار سے وہ قریب اور بہت قریب ہے ۔ { اِنَّھُمْ یَرَوْنَہ بَعیْدًا وَّنَرَاہُ قَرِیْبًا } ۔ (المعارج : 6-7) ۔ اور ہر شخص کی قیامت تو اس کی اپنی موت سے ہی شروع ہوجاتی ہے اور ہر ایک کی موت بہرحال قریب ہے اور کسی کو پتہ نہیں کہ اس کی موت کب آئے گی اور اس کی فرصت عمل کب ختم ہوجائے گی۔ سو آج ان لوگوں کو چھوٹ اور ڈھیل ملی ہوئی ہے۔ اس سے یہ دھوکے میں نہ پڑیں کہ یہ بہرحال ایک ڈھیل اور چھوٹ ہے، جس نے اپنے وقت مقرر پر بہرحال ختم ہوجانا ہے۔
271 اللہ تعالیٰ کی صفات حکمت و علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ بڑا ہی حکیم وعلیم ہے۔ پس وہ اگر فوراً نہ پکڑے تو اس سے دھوکے میں مت پڑنا کہ یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے اور اس سے تمہاری کوئی حرکت مخفی نہیں کہ وہ سب کچھ جانتا ہے اور اسکے علم کامل اور اسکی حکمت مطلقہ کا تقاضا ہے کہ وہ ہر کسی کو اسکے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ دے۔ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور یہ لوگ جو تحلیل و تحریم کے اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لئے طرح طرح کے خود ساختہ اور من گھڑت فتوے داغ رہے ہیں یہ اس کی گرفت و پکڑ سے بچ نہیں سکیں گے۔ ان سے نمٹنے میں جو دیر ہو رہی ہے وہ اس کے علم و حکمت کے تقاضوں اور اس کے حلم وکرم کی بنا پر ہے اور اس کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 6:140272 اپنی اولاد کو خود قتل کرنا انتہائی ہولناک خسارہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یقینی طور پر سخت خسارے میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے قتل کیا اپنی اولاد کو حماقت کی بنا پر بغیر کسی علم اور [ سند ] کے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنی اولاد کو قتل کرنے والے انتہائی خسارے میں پڑگئے کہ یہ نہایت سنگ دلی اور بےرحمی بھی ہے اور قتل بیگناہ کا عظیم جرم بھی۔ اور اولادجیسی نعمت سے محرومی بھی۔ سو اس کا ارتکاب بڑے احمق اور بدبخت کے سوا اور کون کرسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ واضح رہے کہ اولاد کو بےدین بنانا بھی انکے قتل کردینے کے معنی میں ہے۔ بلکہ یہ اس سے بھی بڑھ کر خطرناک ہے کہ اس کا نتیجہ و اَنجام دوزخ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہ ان کی حماقت و بدبختی کی کھلی دلیل ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو اولاد کی نعمت سے خود محروم کیا۔ اللہ کے بخشے ہوئے رزق کو اپنے اوپر حرام ٹھہرایا اور اللہ کے پیغمبر کے ذریعے ملنے والی راہ حق و ہدایت سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو ہلاکت و گمراہی کی راہ پر ڈالا اور اس طرح انہوں نے خسارے پہ خسارے کو اپنایا اور وہ ہلاکت پر ہلاکت کے مرتکب ہوئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
273 اِفترا علی اللہ خرابیوں کی خرابی اور محرومیوں کی جڑ بنیاد ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حرام ٹھہرایا ان چیزوں کو جو ان کو اللہ نے بخشی تھیں، بہتان باندھ کر اللہ پر۔ یقینا بھٹک گئے ایسے لوگ اور وہ سیدھی راہ پر نہ آسکے۔ اور اس طرح یہ لوگ نقصان پر نقصان اور خسارہ پر خسارہ کے مرتکب ہوئے، کہ ایک طرف تو اللہ پاک پر جھوٹ اور افتراء باندھا جو کہ سب سے بڑا جرم و گناہ ہے۔ اور دوسری طرف انہوں نے ان پاکیزہ چیزوں سے اپنے آپ کو خود محروم کردیا جو کہ قدرت نے اپنی رحمت و عنایت سے ان ہی کے لئے پیدا فرمائی تھیں۔ اور تیسری طرف انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی ہدایت و راہنمائی سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو دائمی ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں ڈالا۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے شرک اور بےدینی کا کہ ِاس سے آدمی کی مت مار دی جاتی ہے اور اس کی عقل ماؤف ہوجاتی ہے جس سے ایسے لوگ اپنے نفع و نقصان کی تمیز بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ بہرکیف اللہ پاک پر افتراء و بہتان بازی سب خرابیوں کی خرابی اور تمام محرومیوں کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:141274 " معروشات " سے مقصود و مراد ؟ : سو " معروشات " سے مراد وہ درخت ہیں جن کی بیلیں ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں۔ یعنی بیلدار درخت جیسے انگور، توری اور لوکی وغیرہ کی بیلیں۔ ان کو ذرا دیکھو تو سہی کہ وہ کس طرح چھتوں، ٹٹیوں اور درختوں وغیرہ پر چڑھتی اور تمہارے لیے قسما قسم کے عمدہ پھل اور طرح طرح کی غذاؤں کے سامان مہیا کرتی ہیں۔ مگر تم لوگ ہو کہ دن رات ان سے مستفید ہوتے رہنے کے باوجود کبھی اس بارے غور بھی نہیں کرتے کہ یہ سب کچھ اس نے بخشا اور اس کا ہم پر کیا حق ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو اگر انسان صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے تو وہ انہی درختوں سے جو اس کے سامنے پیدا ہوئے، پروان چڑھتے پھولتے پھلتے اور انسان کے لئے طرح طرح کا سامانہائے زیست مہیا کر کے مٹ جاتے ہیں۔ سو انسان اگر انہی پودوں اور درختوں میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے تو وہ اپنے خالق ومالک کی قدرت و حکمت، رحمت و عنایت اور اس کی وحدانیت ویکتائی اور قیامت و آخرت سے متعلق عظیم الشان دلائل اور نشانہائے عبرت و بصیرت پائے گا۔ مگر مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہ ہے کہ انسان اس بارے سوچتا ہی نہیں ۔ الا ما شاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
275 " غیر معروشات " سے مقصود و مراد ؟ : یعنی وہ درخت جو کسی بیرونی سہارے کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے تنوں پر خود کھڑے ہوتے ہیں۔ نیز وہ بیلیں جو زمین پر پڑی پھلتی پھولتی ہیں جیسے خربوزے، تربوزے اور کھیرے ککڑیاں وغیرہ۔ جس میں تمہارے لیے نفع اور فائدہ کے طرح طرح کے سامان پائے جاتے ہیں۔ سو ذرا تم لوگ سوچو تو سہی کہ کیسا قادر مطلق اور جواد و کریم ہے تمہارا وہ ربِّ مہربان جو تمہارے لیے ان طرح طرح کی چیزوں کو اس پر حکمت طریقے کے ساتھ اور اس قدر کثرت وبہتات سے پیدا فرماتا ہے۔ اور تمہاری طرف سے بغیر کسی اپیل و درخواست کے پیدا فرماتا ہے۔ اور ایسا کہ لگاتار تمہیں یہ سب کچھ برابر مل رہا ہے اور اس کے نتیجے اور تقاضے میں تمہیں ہمیشہ اور ہر حال میں اس ربِّ مہربان کے حضور جھکے رہنا چاہیے۔ نیز اس سے تم لوگ یہ بھی سوچو کہ جب ان نعمتوں کی عطاء و بخشش میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اسکی عبادت و بندگی کے حق میں کوئی اس کا شریک وسہیم کیسے ہوسکتا ہے ؟ نیز اسی سے تم یہ بھی سوچو کہ ان عظیم الشان نعمتوں کے بارے میں پرشش اور پوچھ بھی ہوگی، اور ضرور ہونی چاہیئے، تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔ سو غور و فکر کرنے والوں کیلئے ان نعمتوں میں بڑے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ و یُرِیْدُ ۔ وَھُوَ الْہَادِیْ اِلٰی سَوَائِ السَّبِیْلَ-
276 " متشابہاً " سے مقصود و مراد ؟ : جو آپس میں ملتے جلتے ہیں یعنی بعض اعتبارات سے، جیسے رنگ و شکل اور مزہ وغیرہ کے اعتبار سے۔ سو دیکھو مٹی اور زمین ایک، ہوا و پانی ایک، سورج و چاند کی شعاعیں یکجا، تو اس کے باوجود اشیاء میں اس قدر تنوع اور ایسی بوقلمونی قدرت کی کتنی بڑی عنایت اور کس قدر زبردست حکمت ہے۔ سو اس سب کا طبعی تقاضا اور فطری مطالبہ یہ ہے کہ انسان ان گوناگوں نعمتوں سے اپنی زندگی میں طرح طرح سے فائدے اٹھائے اور اپنے خالق ومالک کے حضور سراپا شکر وسپاس بن جائے اور اپنے خالق ومالک کے لیے شکر وسپاس کا جذبہ ہی وہ چیز ہے جو انسان کو سیدھا رکھتی اور اس کو صراط مستقیم پر گامزن کرتی ہے اور حق شناسی کا صحیح احساس و اعتراف ہی دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کی اصل اساس و بنیاد ہے ۔ وبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَ یُرِیْدُ وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
277 " غیر متشابہ " سے مقصود و مراد : یعنی جو آپس میں مختلف اور دگرگوں ہیں دوسرے بعض اعتبارات سے۔ سو یہ سب کچھ اپنے اندر غور و فکر کے کئی پہلو رکھتا ہے کہ ایک طرف تو یہ چیزیں اس قادر مطلق کی عظیم الشان قدرت اور بےنہایت رحمت و عنایت کی مظہر ہیں اور دوسری طرف یہ اس منعم حقیقی کی طرف سے ملنے والی وہ بےمثال نعمتیں ہیں جن کے بارے میں ایک نہ ایک دن پوچھ ہونی ہے۔ اور وہ دن قیامت کا دن ہے جو کہ عدل و انصاف اور جزا و سزا کا دن ہے۔ اور جب ان گوناگوں اشیاء میں ایسی عظیم الشان اور حیرت انگیزہم آہنگی پائی جاتی ہے کہ یہ سب کی سب انسان کیلئے طرح طرح کے فوائد و منافع کا ذریعہ ہیں تو اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ان کا خالق ومالک یکتا اور وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو یہ اشیاء اللہ تعالیٰ کے وجود باجود، اس کی حکمت و عنایت، کرم و رحمت، وحدانیت ویکتائی، عظمت شان و جلالت قدر اور امکان بعث اور ضرورت قیامت وغیرہ سب امور کی دلیل اور شاہد عدل ہیں۔ اور پھر جب ان چیزوں کے پیدا کرنے اور ان نعمتوں کے عطا فرمانے میں اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی کس طرح اس کا شریک وسہیم ہوسکتا ہے ؟ پس معبود برحق وہی خالق ومالک ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا حق ہے۔ اور وہ اسی کے ساتھ مختص ہے ۔ سحانہ و تعالیٰ -
278 تقاضائے نعمت کا ذکر وبیان : سو تقاضائے نعمت کی تذکیر و یاددہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کھاؤ تم لوگ اس کے پھلوں میں سے جب کہ وہ پھل دے۔ اور کھا کر عطا فرمانے والے اس واحد مطلق کا شکر بجا لاؤ۔ اور اس کی نعمت کا حق ادا کرو۔ اور اس طرح یہ نعمتیں تمہارے لیے نعمت بالائے نعمت کا ذریعہ اور سبب بن جائیں گی کہ اس طرح ایک طرف تو تمہیں واجب شکر کی ادائیگی کی سعادت نصیب ہوگی اور دوسری طرف اس سے نعمتوں میں برکت ملے گی۔ سو یہ نعمتیں اپنی زبان حال سے تم کو یہ دعوت دے رہی ہیں۔ اور یہی تعلیم و تلقین اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے تم لوگوں کو فرمائی گئی ہے اور یہی ان نعمتوں کا وہ حق بھی ہے جس کی گواہی ہماری اپنی فطرت دے رہی ہے بشرطیکہ وہ مسخ نہ ہوگئی ہو۔ کہ تم ان پھلوں سے کھاؤ اور اپنے خالق ومالک کا شکر ادا کرو۔
279 حقِّ نعمت ادا کرنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اس کا حق ادا کرو جس دن اس کو کاٹو۔ سو اس کا حق ادا کرو کہ عشر اور نصف عشر حسب ضابطہ جو واجب ہے وہ بھی ادا کرو۔ اور اس کے علاوہ ایسے موقع پر جمع ہو جانیوالے فقراء و مساکین کو بھی اس میں سے کچھ نہ کچھ دے دیا کرو۔ سو یہ نعمتیں اپنی زبان حال سے پکار پکار کر تم لوگوں کو شکر نعمت اور حقِّ نعمت کی ادائیگی کی دعوت دے رہی ہیں۔ اور یہی دعوت حضرات انبیاء و رسل نے اپنی زبان قال سے دی کہ تم لوگ اللہ کی بخشی ہوئی ان کھیتیوں اور ان باغوں سے خود بھی فائدہ اٹھاؤ اور جب ان فصلوں کے کاٹنے اور پھلوں کو توڑنے کا وقت آئے تو ان کا حق بھی ادا کرو { حَقَّہ } میں ضمیر کا مرجع خدا بھی ہوسکتا ہے اور ثمر بھی۔ لیکن ان دونوں صورتوں میں معنیٰ اور مفہوم کے اعتبار سے کوئی خاص فرق واقع نہیں ہوگا۔
280 اسراف کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ حد سے نہیں بڑھنا کہ بیشک اللہ پسند نہیں فرماتا حد سے بڑھنے والوں کو۔ پس تم لوگ ان نعمتوں کو ممنوع اور ناجائز کاموں میں خرچ کرکے کہ اس واہب مطلق ۔ جل و علا ۔ کی مقرر فرمودہ حدود سے نکلنا اسراف ہے۔ اور اسراف کرنا اور حد سے بڑھنا بہرحال ممنوع و محذور ہے۔ اور اس درجہ کہ اسراف اور تبذیر شیطانی کام ہے۔ اور ایسے لوگ شیطان کے بھائی ہیں۔ اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْراً ، اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوا اِخْوَان الشَّیاطِیْن، وَکَان الشَّیْطَانُ لِرَبَّہٖ کَفُوْرًا } ۔ (بنی اسرائیل :26-27) ۔ شیطان اربابِ اَموال پر سب سے زیادہ حملہ اسی راہ سے کرتا ہے۔ اور ایسے لوگ شیطان کی اس پٹی پر چڑھ کر اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ ان کے مال میں اللہ کے دوسروں بندوں کے بھی حقوق ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کے کتے، باز اور شکرے تو عیش کرتے ہیں مگر ان کا پڑوسی بھوکا سوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ -