6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 6:59

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی، نہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ خشکی اور تری میں ہے اور نہیں کرتا کوئی پتہ مگر وہ اس کو جانتا ہے اور نہ ہی پڑتا ہے کوئی دانہ زمین (کی تاریکیوں) میں، اور نہ کوئی تر اور خشک چیز ہے مگر یہ سب کچھ (مسطور و مندرج ہے ایک روشن کتاب میں،3

101 تمام خزانے اور ان کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کے پاس ہیں سب کنجیاں اور سب خزانے جن کو اس وحدہ لا شریک کے سوا کوئی جانتا ہی نہیں۔ سو اس سے یہ امر قطعی طور پر صاف اور واضح ہوجاتا ہے کہ زمین و آسمان کے سب خزانے اور ان کی سب کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں۔ یہ معنیٰ اس صورت میں ہوں گے جب کہ " مفاتیح " جمع ہو " مِفتح " کی۔ میم کے کسرے کے ساتھ۔ جو " مفتاح " کے معنیٰ میں آتا ہے یعنی کنجی۔ اور اگر اسے جمع قرار دیا جائے " مَفتح " کی۔ یعنی میم کے فتحہ کے ساتھ، تو اس وقت اس کے معنیٰ " خزانہ " کے ہوں گے۔ یعنی اسی کے پاس ہیں غیب کے خزانے۔ مآل دونوں کا بہرحال ایک ہی ہے کہ غیب کا علم اسی کے ساتھ خاص ہے۔ اس کے سوا عالم غیب اور کوئی نہیں۔ سب خزانوں کا مالک بھی وہی ہے اور سب کنجیاں بھی اس کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ اور جمہور علماء و مفسرین کے نزدیک غیب کی کنجیوں سے مراد وہ پانچ امور ہیں جن کا ذکر سورة لُقمٰن کی آخری آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے یعنی ۔ { اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہ عِلْمُ السَّاعَۃ } ۔ الخ۔ پس ان پانچ چیزوں کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے پاس نہیں ہے۔ اور جمہور اہل علم، مفسرین و محدثین کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ غیب کی ان پانچ چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ نمونے کے طور پر چند ایک حوالے ملاحظہ ہوں : ابن جریر : ج 21 ص 88، ابن کثیر : ج 3 ص 455، روح المعانی : ج 21 ص 99، 100، السراج المنیر : ج 3 ص 200، در منثور : ج 5 ص 170، صفوۃ التفاسیر : ج 1 ص 395 وغیرہ وغیرہ۔ اور صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر۔ ؓ عنھما ۔ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا " مَفَاتِیْحُ الْغَیْبِ خَمْسٌ لا یَعْلَمُہَا اِلَّا اللّٰہُ " کہ " غیب کی کنجیاں یہ پانچ چیزیں ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا "۔ پھر آپ ﷺ نے انہی پانچ چیزوں کا ذکر فرمایا۔ یعنی یہ کہ رحم مادر میں کیا ہے ؟ کل کیا ہونے والا ہے ؟ کس نے کل کیا کرنا ہے ؟ کس کی موت کہاں آئے گی ؟ اور بارش کب ہوگی ؟ اور ایک روایت میں ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہوگی۔ یہ حدیث الفاظ کی کچھ کمی بیشی کے ساتھ بخاری شریف میں مختلف مقامات پر وارد ہوئی ہے۔ مثلاً کتاب الاستسقاء، باب لا یدری متی یاتی المطر الا اللہ۔ کتاب التفسیر، تفسیر سورة الانعام، باب ۔ { وَعِنْدَہ مََفَاتِیحُ الْغَیْبِ لایَعْلَمُہَا اِلّا اللّٰہ } ۔ تفسیر سورة ُ الرّعد باب ۔ { اِنَّ اللّٰہَ یَعْلُمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ اُنْثٰی } وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے حضرات اہل علم نے اس کی تصریح فرمائی ہے کہ جو کوئی کہے کہ ان پانچ باتوں کو اللہ کے سوا اور کوئی جانتا ہے وہ کافر ہوجائیگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ چناچہ اس بارے ملاحظہ ہو تفسیر خازن : ج 5 ص 183، عمدۃ القاری : ج 7 ص 61، اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ۔ ؓ ۔ فرماتی ہیں کہ " جو شخص یہ کہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کل کا علم رکھتے تھے تو بیشک اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا " (صحیح بخاری : ج 2 ص 720 و مسلم : ج 1 ص 98، مسند ابو عوانہ : ج 1 ص 154، ص 155 وغیرہ ) ۔ سو غیب کے سب خزانے بھی اس وحدہ لاشریک کے پاس ہیں اور خزانوں کی کنجیاں بھی اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ وہ ان میں سے جس کو چاہے جتنا چاہے اور جب چاہے عطا فرمائے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور بعض جزئی قسم کے جو واقعات بعض روایات میں اس ضمن میں ملتے ہیں، اول تو وہ شواذ ہیں، جو ان قواعد کلیہ میں حارج اور ان کی قطعیت میں قادح نہیں ہوسکتے۔ دوسرے یہ کہ وہ قطعیت اور یقین کے حامل نہیں، بلکہ محض ظن و گمان کے درجے میں ہوتے ہیں۔ اور تیسرے یہ کہ وہ دعا کے قبیل سے ہوتے ہیں نہ کہ جزم و قطع کے قبیل سے۔ پس اہل بدعت کا ان کی بنا پر مفاتیح الغیب کا علم اللہ کے بندوں کے لئے ثابت کرنا باطل و مردود ہے کہ ایسا کہنا اور ماننا نصوص کتاب و سنت سے معارض اور دین متین کی واضح بنیادی تعلیمات کیخلاف اور ان سے متصادم ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ مِنْ کُلِّ زَیْغٍ وَّضَلَال ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق پر ثابت قدم رکھے اور ہر حال میں اپنی رحمت و عنایت کے سائے میں رکھے ۔ آمین۔ 102 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کا ایک خاص مظہر : کہ وہ بحر و بر کی ہر چیز کو جانتا ہے اور پوری طرح اور ایک برابر جانتا ہے۔ سو وہ جانتا ہے کہ وہ پتہ کب اور کہاں گرا اور اب کہاں ہے ؟ یہ سب کچھ اس وحدہ لاشریک کے علم میں ہے۔ سو جس ذات اقدس و اعلیٰ کی شان یہ ہو اس کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کرکے اس کے لئے خود ساختہ واسطے اور وسیلے ڈھونڈنا اور ثابت کرنا کس قدر ظلم اور کتنی بڑی ناانصافی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ تعالیٰ کی شان بہت بڑی اور بےمثال ہے۔ پس اس کیلئے اپنی طرف سے مثالیں بیان کرنے کی بجائے اس کو ویسا ہی مانا جائے جیسا کہ اس نے اپنی کتاب حکیم میں خود ارشاد فرمایا ہے۔ یا اس کے رسول برحق نے اپنے ارشادات سے واضح فرمایا ہے۔ اس کے بغیر اس وحدہ لاشریک کی صحیح معرفت ممکن نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو بحر و بر اور رطب و یا بس کے الفاظ اس کے علم کے عموم وشمول اور احاطہ و وسعت کو ظاہر کرنے کے لئے ہیں۔ یعنی اس وحدہٗ لاشریک کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے علم کی اس وسعت کا اعتقاد ہی ہے جو اہل ایمان کے اندر کامل تفویض، کامل اعتماد اور کامل رضا بالقضاء کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ اس میں معمولی سی غلط فہمی بھی شرک کی راہیں کھول دیتی ہے۔ اور یہی چیز آخرت کے سچے پکے ایمان و یقین کی اساس و بنیاد ہے اور اسی کے صحیح تصور و تذکر اور اس کے استحضار سے انسان کے اندر وہ خشیت پیدا ہوتی ہے جو اس کو زندگی میں صحیح روش اختیار کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ اور قرآن حکیم کے اس بیان سے ان لوگوں کی بھی پوری پوری تردید ہوجاتی ہے جو خدا تعالیٰ کو صرف کلیات کا عالم مانتے ہیں۔ سو خداوند قدوس صرف کلیات ہی کا نہیں جزئیات کا بھی عالم ہے۔ سو درخت سے جو پتہ گرتا ہے اور زمین کی تہوں میں جو دانہ ڈالا جاتا ہے وہ سب اس کے علم میں ہوتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ - 103 کتاب مبین سے مراد ؟ : سو اس کے کمال علم کے بیان کے سلسلے میں فرمایا گیا کہ یہ سب کچھ مسطور و مندرج ہے ایک عظیم الشان اور روشن کتاب میں۔ یعنی لوح محفوظ میں۔ جو کہ درحقیقت کنایہ ہے علم الہٰی اور اس کی محفوظیت سے کہ جس طرح لکھی ہوئی چیز بھول اور نسیان وغیرہ سے محفوظ رہتی ہے، اسی طرح علم خدا وندی بھی ہر شائبہ نقص و نسیان سے محفوظ ہے ۔ کما قال الامام الرازی وغیرہ من الائمہ ۔ باقی علم خدا وندی کی کنہ و حقیقت کا احاطہ و ادراک اس ذات وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کے لئے ممکن نہیں۔ پس اہل بدعت کے بعض بڑوں اور تحریف پسندوں کا اس موقع پر یہ کہنا باطل و مردود ہے کہ یہ لکھنا خاص مقرب بندوں کو بتانے کے لئے ہے جن کی نظر لوح محفوظ پر ہے۔ شرک و بدعت کے مارے ان فریفتگان تحریف و تخریف اور علمبرداران زیغ و انحراف سے کوئی پوچھے کہ اگر لوح محفوظ کا یہ لکھا جانا ان کے اپنے ہی قراردادہ مقرب بندوں کو بتانے کیلئے ہوتا ہے تو پھر وہ محفوظ ہی کیسے ہوا ؟ بہرکیف کتاب مبین سے مراد لوح محفوظ ہے جو کہ درحقیقت کنایہ ہے خداوند قدوس کے علم لامتناہی سے۔ (المراغی، المحاسن، المدارک، الفتح اور الصفوۃ وغیرہ) ۔ اسی لئے حضرات اہل علم اس کی تشریح و تفسیر اس طرح کے الفاظ سے کرتے ہیں ۔ " اَیْ مکتوبٌ ومحفوظٌ فِی الْعِلم الالٰہی، وَھُوَا المتبادِرُ مِنْ اطلاقہ اینما ورد " ۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ بہرکیف یہ اللہ تعالیٰ کے محیط کل علم کی تعبیر ہے۔ سو اس خدائے پاک کو مخلوق پر قیاس کر کے اس کے لئے اپنے طور پر اور من گھڑت وسیلے اور واسطے گھڑنا کس قدر ظلم و زیادتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو وہ وحدہ لا شریک انسان کے تصور و خیال سے کہیں اعلیٰ اور بلند وبالا ہے کہ اس کو ویسے ہی جانا اور مانا جائے جیسا کہ وہ اپنے بارے میں خود بتائے یا اس کا رسول بتائے۔ سو خداوند قدوس کی معرفت قرآن وسنت کے نور مبین کے بغیر ممکن نہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 6:60

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہ (مالک) وہی تو ہے، جو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے رات کو، اور وہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ تم لوگ کرتے ہو دن میں، پھر وہ (اپنے کرم سے زندہ) اٹھاتا ہے تمہیں دن میں تاکہ پوری ہوجائے مقررہ مدت تمہاری زندگی کی) آخر کار تم سب کو بہر حال اسی طرف لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں بتادے گا وہ سب کچھ جو تم لوگ کرتے رہے تھے (اپنی زندگی میں)

104 نیند انسان کے لیے ایک عظیم الشان ریہرسل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ تمہاری روحیں قبض کرتا ہے رات کو جب کہ تم سوتے ہو کہ اس موقع پر تمہارے ہوش و حواس اسی طرح معطل ہوجاتے ہیں جس طرح مردے کے ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ بظاہر یہ دونوں ایک ہی جیسے معلوم ہوتے ہیں۔ اور اس طرح روزانہ تمہارے لئے آخرت کی تذکیر و یاددہانی اور اس کی ریہرسل کا سامان ہوتا رہتا ہے تاکہ تم لوگ اپنی اس آخری منزل اور دائمی دارالاقامہ کو یاد رکھو اور اس کے لئے تیاری کرسکو قبل اس سے کہ عمر رواں کی وہ فرصت تمہارے ہاتھ سے نکل جائے جو بہرحال ایک محدود اور معدود فرصت ہے۔ اور اسی کی تعلیم و تلقین نبی اکرم ۔ ﷺ ۔ نے امت کو اپنی ان مقدس اور پاکیزہ دعاؤں میں فرمائی ہے جو آپ ﷺ نے سوتے اور جاگتے وقت پڑھنے کے لئے اپنی امت کو ارشاد فرمائی ہیں ۔ صَلَواَتُ اللہ وَسَلاَ مُہٗ عَلَیْہِ ۔ سو نیند قدرت کی ایسی عظیم الشان نعمت ہے جو انسان کیلئے مکمل آرام و راحت اور سکون و اطمینان کا ذریعہ ہونے کے علاوہ موت اور آخرت کی تذکیر و یاددہانی اور ریہرسل بھی ہے۔ تاکہ انسان اپنی آخرت کیلئے تیاری کرسکے قبل اس سے کہ فرصت حیات اس کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس کو ہمیشہ کیلئے پچھتانا اور افسوس کرنا پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا کوئی بعید از قیاس چیز نہیں بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا نمونہ تم لوگ دن رات دیکھتے ہو اور روزانہ رات کی نیند اور صبح کی بیداری کی شکل میں تمہیں اس کی ریہرسل کرائی جاتی ہے مگر تم لوگ اپنی غفلت و لاپرواہی کی بنا پر اس سے کوئی سبق نہیں لیتے اور محرومی کا شکار ہوتے ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ غفلت کے غوائل سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 105 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سب کو بہرحال اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم سب لوگوں کا رجوع بہرحال اللہ ہی کی طرف ہے اور دوبارہ اٹھ کر تم لوگوں نے اس کے حضور حاضر ہونا ہے۔ خواہ تم چاہو یا نہ چاہو ایسا بہرحال اپنے وقت پر ہو کر رہیگا تاکہ وہاں پہنچ کر تم سب اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ پاس کو۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں ۔ { کَلّا لا وَزَرَ اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرّ } ۔ (القیامۃ :11-12) ۔ سو نیک و بد، مومن و کافر سب ہی کو بالآخر لوٹ کر اپنے خالق ومالک کے پاس جانا ہے اور وہاں پہنچ کر اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا صلہ و بدلہ پانا ہے۔ اس لیے ہر کسی کو یہ حقیقت ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے پیش نظر رکھنی چاہیئے کہ وہاں میرا معاملہ کیسا رہے گا اور وہاں کیلئے میں کیا کر رہا ہوں ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ بہرکیف اپنی آخرت اور اپنے انجام کو یاد رکھنا عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے۔ 106 یوم حساب کی پیشی کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے یوم حساب کی پیشی کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ تم لوگوں کو وہ سب کچھ بتادے گا جو تم اپنی فرصت حیات کے دوران دنیا میں کرتے رہے تھے۔ اور یہ بتانا کوئی رپورٹ پیش کرنے کے طور پر نہیں ہوگا بلکہ اس کے مطابق تمہیں اپنے کیے کرائے کا بدلہ پانا ہوگا۔ خیر کا خیر اور شر کا شر۔ بہرکیف وہاں پر ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا ریکارڈ بتادیا جائے گا۔ جو کچھ اس نے کیا ہوگا وہ سب اس کے سامنے موجود ہوگا۔ پس عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس دن کی پیشی کے اس دن کے اس ہولناک دن کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق ۔ اور خداوند قدوس نے اس دنیا کو بنایا ہی اس طور پر ہے کہ یہ اپنی رات دن کی گردشوں سے برابر اور لگاتار ان حقائق کا درس دے رہی ہے جن کی دعوت یہ دین حق دنیا کو دے رہا ہے۔ بشرطیکہ تمہارے پاس دیکھنے والی آنکھیں اور سمجھنے والے دل ہوں۔ اور جو اپنے ان قوائے علم و ادراک کو ماؤف و معطل کر کے محض حیوانوں کا جینا جی رہے ہوں وہ اس سے کوئی درس نہیں لے سکتے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:61

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہ قاہر (و غالب) ہے اپنے بندوں پر، اور وہ بھیجتا ہے تم پر نگرانی کرنے والے (فرشتے) یہاں تک کہ جب آپہنچا ہے تم میں سے کسی کی موت کا وقت، تو قبض کرلیتے ہیں ہمارے فرشتے اس (کی جان) کو، اور وہ اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے،

107 اللہ اپنے بندوں پر قاہر و غالب ہے : پس کوئی اس کی قدرت و مشیت اور اس کی گرفت و پکڑ سے باہر نہیں ہوسکتا۔ اور وہ زمان و مکان کی حدود سے پاک اور رفعت شان اور بلندی مقام کے اعتبار سے سب سے اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس نے اپنی قدرت و عنایت سے ان پر ایسے فرشتے مقرر فرما رکھے ہیں جو ان کی نگرانی کرتے اور ان کے کیے کرائے کا پورا ریکارڈ تیار کرتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر ارشاد فرمایا گیا۔ اور ان کا تیار کردہ یہ ریکارڈ کل آخرت کے اس یوم حساب میں سب کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَیَخْرَجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَِامَۃِ کِتَابًا یَُّلْقَاہُ مَنْشُوْرًا } ۔ (بنی اسرآئیل : 13) ۔ سو وہ اپنی مخلوق کے کسی فرد سے غافل و بیخبر نہیں بلکہ سب پوری طرح اسی کے کنٹرول میں ہیں۔ سو غفلت و لاپرواہی بڑے ہی خسارے کا سودا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 108 نگران فرشتوں کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تم پر نگرانی کرنے والے فرشتے مقرر ہیں جو تمہاری جان کی حفاظت کرتے اور تمہارے اعمال کو لکھتے اور ضبط کرتے رہتے ہیں۔ تاکہ تمہیں اپنے کیے کرائے کا پورا بدلہ مل سکے۔ جیسا کہ اوپر حاشیہ 107 میں بھی گزرا۔ اس لیے تمہیں غفلت اور لاپرواہی کا شکار نہیں ہونا چاہیئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو وہ مالک مطلق تم لوگوں پر برابر اپنے نگران فرشتے مقرر فرماتا اور بھیجتا رہتا ہے جو پل بھر کے لئے بھی تمہاری نگرانی سے غافل نہیں ہوتے۔ اور تمہارے کئے کرائے کا ریکارڈ تیار کرتے جاتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِنَّ عَلَیْکُمْ لَحَافِظِیْنَ کِرَامًا کَاتِبِیْنَ یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ } ۔ (الانفطار : 10- 11) ۔ اور اسی ریکارڈ کے مطابق تم لوگ روز جزا میں اپنے کیے کرائے کا بدلہ پاؤ گے۔ 109 فرشتوں کی دیانتداری اور فرض شناسی کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ وہ نگران فرشتے اپنے فرض کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے بلکہ اپنی ذمہ داری کو وہ بحسن و خوبی انجام دیتے ہیں { رُسُلْنَا } کے جمع کے لفظ سے معلوم ہوا کہ جان قبض کرنے والا فرشتہ ایک نہیں کئی ہوتے ہیں۔ پس اس سے اہل بدعت کا حاضر و ناظر کے اپنے شرکیہ عقیدے پر استدلال کرنا باطل ہے۔ جیسا کہ حضرت انس، قتادہ اور مجاہد وغیرہ سے مروی ہے کہ جان قبض کرنے والے فرشتے بہت ہوتے ہیں اور ملک الموت ان کا سربراہ ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ ایک نہیں بہت سے فرشتے ہوتے ہیں۔ (قرطبی، مراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں وہ ذرہ برابر کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ سو جب کسی کی موت کا وقت آتا ہے تو مجال نہیں کہ کوئی ان کے قابو سے نکل جائے یا وہ کسی کو بھول جائیں یا کسی کی موت اس کے وقت مقرر سے لمحہ بھر کے لئے آگے یا پیچھے ہوجائے۔ پھر قبض روح کے بعد وہ اس کو اس کے اس اصل اور صحیح ٹھکانے میں پہنچاتے ہیں جس کے لئے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملتا ہے۔ سو نیکوں کی روحوں کو وہ " علیین " میں پہنچاتے ہیں اور بروں کی روحوں کو " سجین " میں۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا اور خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 6:62

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر لوٹا دیا جاتا ہے اس سب کو اللہ کی طرف جو کہ مالک حقیقی ہے ان سب کا،1 آگاہ رہو کہ حکم اللہ ہی کا ہے اور وہ بہت ہی جلد حساب چکانے والا ہے،

110 حساب خداوندی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بہت ہی جلد حساب چکانے والا ہے۔ سو وہ پل بھر میں بلکہ اس سے بھی کہیں جلد سب کا حساب چکا دے گا۔ جس طرح اس دنیا میں وہ ایک ہی وقت میں اپنی گوناگوں اور بیشمار مخلوق میں سے ہر ایک کو اس کی طبیعت و ضرورت کے مطابق روزی پہنچا تا ہے اور لگاتار پہنچا رہا ہے۔ اسی طرح اس کے لئے وہاں ایک لحظہ میں سب کا حساب چکا دینا کچھ مشکل نہیں ہوگا کہ وہ حساب کتاب کے ان آلات اور ذرائع و وسائل کا محتاج نہیں جن کی ضرورت انسانوں کو ہوتی ہے۔ وہ ان سب حاجتوں اور ضرورتوں سے پاک اور وراء الوراء ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کی شان " کُنْ فَیَکُون " کی ہے۔ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے ۔ جل و علا شانہ ۔ بہرکیف مرنے کے بعد ان سب کو بہرحال اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے جو کہ ان سب کا مولائے حقیقی ہے اور ان تمام شرکاء و شفعاء میں سے کوئی بھی ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکے گا جو انہوں نے مختلف ناموں سے از خود گھڑ رکھے ہیں کہ یہ سب کچھ فرضی و خیالی پلندے اور دھوکے کا سامان ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:63

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

(اور ان سے ذرا یہ تو) پوچھو کہ کون ہے وہ جو تمہیں نجات دیتا ہے خشکی اور تری کی تاریکیوں میں تم پکارتے ہو اس کو گڑ گڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، کہ اگر وہ ہمیں بچالے اس (مصیبت و بلا) سے، تو ہم ضرور اس کے شکر گزار بن کر رہیں گے2

111 توحید خداوندی کی ایک فطری دلیل کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ذرا ان سے یہ تو پوچھو کہ بھلا وہ کون ہے جو تم لوگوں کو نجات دیتا ہے خشکی اور تری کے اندھیروں میں۔ تم لوگ اسی کو پکارتے ہو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے کہ اگر وہ ہمیں بچا لے اس مصیبت و بلا سے تو ہم ضرور بالضرور اس کے شکر گزار بن کر رہیں گے۔ سو یہ تم لوگوں کے نفوس کے اندر پیوست توحید خداوندی کی ایک فطری دلیل موجود ہے کہ مشکل اور مصیبت کے موقع پر تم لوگ اسی کو پکارتے ہو۔ سو مشکل اور پریشانی کے ایسے نازک وقت میں جب تم اور کسی کو نہیں پکارتے بلکہ سب کو بھول کر اسی وحدہ لا شریک کو پکارتے ہو تو پھر دوسرے وقتوں میں تم اپنے ان خود ساختہ معبودوں کو آخر کیوں پوجتے پکارتے ہو جن کی نہ کوئی اصل ہے نہ حقیقت ؟ (القرطبی وغیرہ) ۔ سو یہ توحید خداوندی کی ایک فطری دلیل ہے جو انسان کے اندر پیوست ہے۔ جو جنگ اور مشکل کے ایسے وقت میں ظاہر ہوجاتی ہے کہ ایسے وقت میں انسان اپنے خودساختہ تمام شرکاء کو بھول کو اپنے اسی خالق ومالک کو پکارتا ہے جو سب کا حاجت روا و مشکل کشا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ الا یہ کہ کسی کی فطرت ایسی مسخ ہوجائے کہ وہ ایسے مشکل وقت میں بھی اس وحدہ لاشریک کے سوا کسی اور کو پکارے۔ جیسا کہ دور حاضر کے بعض مشرک اور کلمہ گو مشرک کرتے ہیں تو وہ الگ بات ہے کہ یہ ایسے لوگوں کے مسخ فطرت کی دلیل ہوتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ فکری اور عملی ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 6:64

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

کہو وہ اللہ ہی ہے جو تمہیں بچا نکالتا ہے اس مصیبت سے بھی، اور (اس کے علاوہ دوسری) ہر سختی سے بھی، پھر بھی تم لوگ شرک کرتے ہو ؟

112 حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ وہ اللہ ہی ہے جو تمہیں ایسے مصائب سے بچاتا ہے کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ پھر کتنے بےانصاف اور غلط کار ہیں وہ لوگ جو اس کے سوا دوسروں کو حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارتے ہیں۔ کوئی کسی بےجان بت کو پکارتا ہے۔ کوئی کسی زندہ یا مردہ انسان کو۔ کوئی کہتا ہے " یا علی مدد " اور " یا حسین " وغیرہ۔ اور کوئی کہتا ہے " یا غوث " اور " یا پیر دستگیر " وغیرہ۔ حالانکہ ایسی نیک ہستیاں اپنی زندگیوں میں خود اللہ وحدہ لاشریک ہی کو پکارتی رہیں۔ اور دوسروں کو بھی اسی کا درس دیتی رہیں۔ اور پھر یہ ایک ظاہر اور واضح حقیقت ہے کہ جو خود موت کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار کر قبر میں چلا جائے وہ کسی کا حاجت روا و مشکل کشا آخر کیسے ہوسکتا ہے ؟ مگر جن کی مت مار دی جاتی ہے ان کو یہ بات سمجھ نہیں آتی ۔ والعیاذ باللہ ۔ 113 اللہ کے سوا کسی کو حاجت روا و مشکل کشا ماننا عقل و نقل کیخلاف ہے : سو مشرکوں کے قلب و ضمیر پر دستک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ پھر بھی تم لوگ شرک کرتے ہو ؟ یعنی تم لوگ یہ سب کچھ جاننے اور ماننے کے باوجود شرک کرتے ہو۔ سو یہ عقل و انصاف سے بعید اور بڑے ظلم و زیادتی کی بات ہے کہ تم لوگ اس سب کے باوجود اس کارساز حقیقی کے ساتھ اوروں کو شریک ٹھہراؤ۔ سو اللہ وحدہ لاشریک کے سوا اوروں کو حاجت روا و مشکل کشا ماننا عقل کے بھی خلاف ہے اور نقل کے بھی۔ اور یہ اس شرک کے زمرے میں آتا ہے جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے اور ان کے دل و دماغ پر دستک دیتے ہوئے ان سے خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب مشکلات و مصائب کے ایسے ہر موقع پر وہی وحدہٗ لاشریک اپنی قدرت و عنایت اور رحمت و شفقت بےپایاں کی بنا پر تم لوگوں کو بچاتا اور تمہاری مشکل کشائی کرتا ہے اور بغیر کسی کی شفاعت و سفارش اور بدوں کسی اور کی امداد و اعانت کے تمہیں بچاتا ہے تو پھر بھی تم لوگ شرک کرتے ہو ؟ { ثُمَّ } یہاں پر استبعادیہ ہے۔ یعنی ایسا کرنا عقل و نقل کے تقاضوں کے خلاف اور بہت بعید ہے مگر تم لوگ ہو کہ اپنے خالق ومالک کی مشکل کشائی پر اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتے ہو۔ سو یہ کتنی بڑی بےانصافی اور کس قدر ظلم عظیم ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔
Ayah 6:65

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

کہو کہ وہ اس پر بھی قادر ہے کہ بھیج دے تم پر کوئی ہولناک عذاب تمہارے اوپر سے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے، یا وہ ٹکرا دے تم لوگوں کو آپس میں مختلف گروہ بنا کر، اور چکھا دے تم کو آپس میں ایک دوسرے کی لڑائی کا مزہ، ذرا دیکھو تو کہ ہم کسی طرح پھیر پھیر کر (اور طرح طرح سے) بیان کرتے ہیں اپنی آیتوں کو، تاکہ یہ لوگ سمجھ سکیں،3

114 اللہ کا عذاب اوپر سے بھی آسکتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ وہ خالق ومالک اس پر قادر ہے کہ تم لوگوں پر کوئی ہولناک عذاب بھیج دے تمہارے اوپر سے تباہ کن بجلیوں یا طوفانی بارشوں کی شکل میں یا یخ بستہ اور بھاری بھرکم اولوں کی صورت میں۔ جیسا کہ ابھی کچھ دن پہلے کی خبر ہے جسے دنیا کے تمام ذرائعِ ابلاغ نے پھیلایا اور نشر کیا کہ یورپ کے ملک سپین میں چار چار کلو کے اولے پڑے۔ جس پر سائنس دان اپنی لیبارٹریوں میں بحث و تحقیق کر رہے ہیں کہ یہ کیا چیز ہے ؟ یا آگ برساتی آتش فشانی کے طور پر یا اور کسی ایسے ہولناک عذاب کی شکل میں جو تمہارے تصور میں بھی نہ ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پاک کے ایسے کسی عذاب سے نڈر اور بےخوف نہیں ہوجانا چاہیے کہ وہ کبھی بھی اور کسی بھی شکل میں آسکتا ہے ۔ اللہ ہر قسم کے عذاب سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ۔ اللہ کن لنا ولا تکن علینا - 115 اللہ کا عذاب تمہارے پاؤں کے نیچے سے بھی آسکتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اس پر قادر ہے کہ تم لوگوں پر کوئی عذاب بھیج دے تمہارے قدموں کے نیچے سے زمین میں دھنسا کر یا زلزلوں اور سیلابوں وغیرہ کی شکل میں۔ جیسا کہ پہلے بھی ہوتا آیا ہے اور آج بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے آئے دن ہوتا رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ گزشتہ سال بحرہند سے اٹھنے والے ہولناک طوفان نے ہندوستان کی ساحلی ریاست اڑیسہ کو تہس نہس اور ملیامیٹ کرکے رکھ دیا۔ اور اب جبکہ راقم آثم ان سطور کی پروف ریڈنگ کر رہا ہے ایک ہولناک زلزلے نے ہندوستانی ریاست گجرات کو صرف ڈیڑھ دو منٹ کے اندر ملیامیٹ کرکے ملبے کا ڈھیر بنادیا۔ اسی طرح کا حال امریکی ریاست فلوریڈا، میکسیکو سٹی، چلی اور پیرو وغیرہ کا ہوچکا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ تعالیٰ کا عذاب اس طرح کی کسی بھی شکل میں، کہیں بھی اور کبھی بھی آسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے بےفکر اور نڈر نہیں ہوجانا چاہیے۔ بلکہ اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے کہ وہ اپنے فضل و کرم اور اپنی رحمت و عنایت سے اس طرح کے ہر عذاب سے ہمیشہ محفوظ رکھے کہ اس سے نڈر اور بےفکر ہوجانا بڑے خسارے کا سودا ہے ۔ { فَلَا یَأمَنُ مَکْرَ اللّٰہِ اِلَّا الْقُوْمُ الْخَاسِرُوْن } ۔ اللہ ہر خسارے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ۔ اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔ 116 اللہ کا عذاب آپس کے ٹکراؤ کی شکل میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یا وہ تم لوگوں کو آپس میں ٹکرا دے مختلف گروہ بنا کر اور تم لوگوں کو ایک دوسرے کی لڑائی کا مزہ چکھا دے۔ اور اسطرح تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹنے لگو اور ان کے گھر بار اجاڑنے میں لگ جاؤ۔ جیسا کہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور آج بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے ہو رہا ہے۔ جیسے پاکستان، افغانستان، ہندوستان، لبنان، سری لنکا اور کو لمبیا وغیرہ وغیرہ کے مختلف ملکوں اور ان کے مختلف شہروں میں آج ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے کہ قتل وخون ریزی کا بازارگرم ہے۔ گردنیں کٹ رہی ہیں۔ عزتیں لٹ رہی ہیں۔ سلب و نہب کی کاروائیاں جاری ہیں اور ہر طرف آگ اور دھویں کے خوفناک مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ تعالیٰ کا عذاب ۔ والعیاذ باللہ ۔ کبھی بھی اور کسی بھی صورت میں آسکتا ہے۔ اس سے کبھی بھی نڈر اور بےخوف نہیں ہونا چاہیئے بلکہ ہمیشہ اللہ سے ڈرتے اور اس کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ اس سے نڈر اور بےخوف ہونا بڑے ہی خسارے کا سودا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بندہ بہرحال عاجز اور بےبس اور اللہ تعالیٰ کی عنایت کا محتاج ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 117 فہمِ حق اصل اور اہم مطلب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ذرا دیکھو تو کہ ہم کس طرح پھیر پھیر کر اور انداز بدل بدل کر بیان کرتے ہیں اپنی آیتوں کو تاکہ یہ لوگ سمجھ سکیں۔ یعنی سمجھ سکیں حق اور حقیقت کو۔ کیونکہ فہمِ حق اصل اور اہم مطلب ہے کہ اسی کے نتیجے میں حق و ہدایت کی دولت حاصل ہوتی ہے جو کہ اصل اور حقیقی دولت ہے۔ اور یہ اس لیے کہ نور حق و ہدایت سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ یعنی تاکہ یہ لوگ سمجھ سکیں حق اور حقیقت کو اور ان کو حق کی طرف رجوع نصیب ہو سکے۔ اور اس طرح یہ لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور و سرفراز ہو سکیں ۔ وبا اللہ التوفیق ۔ کیونکہ حق کا فہم و ادراک اور نور حق و ہدایت سے سرفرازی و بہرہ مندی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور اس نور مبین سے محرومی دارین کا خسارہ و محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اپنی آیتوں اپنی قدرت کی نشانیوں اور اپنے اختیار و تصرف کی دلیلوں کو طرح طرح سے اور انداز و اسلوب بدل بدل کر ان لوگوں کو سناتے ہیں تاکہ یہ حق اور حقیقت کو سمجھیں اور اپنے کفر وعناد سے باز آئیں۔ لیکن یہ لوگ ہیں کہ اپنی بدبختی کی بنا پر تمردو سرکشی کی راہ میں ہی آ گے بڑھے جا رہے ہیں اور عذاب سے بچنے کی فکر و کوشش کی بجائے اسے لانے اور دکھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے عناد اور ہٹ دھرمی کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ نور حق و ہدایت سے سرفراز و مالامال رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 6:66

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

مگر (اس سب کے باجود) جھٹلا دیا تمہاری قوم نے اس (پیغام صدق و صفا) کو حالانکہ یہ سراسر حق ہے، (ان سے) کہو کہ میں تمہارا کوئی ذمہ دار نہیں ہوں

118 پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ میں کوئی تم پر نگران اور تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں " کہ تم سے حق کو منوا کر چھوڑوں اور نہ ماننے والوں پر عذاب اتار کر رہوں۔ سو ایسا نہ ہے اور نہ ہی میں نے کبھی اس طرح کا کوئی دعویٰ ہی کیا ہے کہ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ میرا کام تو صرف حق کا پہنچا دینا ہے اور بس۔ اور وہ میں نے الحمد للہ پورا کردیا اور باحسن وجوہ پورا کردیا۔ قرآن پاک کی تصریحات تو یہ ہیں لیکن پھر بھی آج کا کلمہ گو مشرک کہتا ہے کہ پیغمبر مختار کل ہوتا ہے۔ جو چاہے کرے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف پیغمبر نہ مختار ِکل ہوتا ہے اور نہ ہی یہ اس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ لوگوں سے حق کو منوا کر چھوڑے۔ بلکہ اس کی اصل ذمہ داری تبلیغِ حق ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے اور بس۔ اس لئے یہاں پر آنحضرت ﷺ سے صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ " ان سے کہو کہ میں تم لوگوں پر کوئی داروغہ نہیں کہ تم سے منوا کر چھوڑوں "۔ یعنی یہ نہ میرا کام ہے اور نہ میرے بس میں۔ بلکہ اصل معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے اور اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 6:67–68

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب تم لوگ خود ہی جان لو گے،4

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور جب تم دیکھو (اے مخاطب) ان لوگوں کو جو نکتہ چینیاں کرتے ہیں ہماری آیتوں میں، تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ وہ (اس گفتگو کو چھوڑ کر) لگ جائیں کسی اور بات میں، اور اگر کبھی بھلاوے میں ڈال دے تم کو (تمہارا ازلی دشمن) شیطان تو یاد آجانے کے بعد تم مت بیٹھو ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ1

119 ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے : پس اپنے وقت میں وہ ضرور ہو کر رہے گی۔ لہٰذا تم اس کی جلدی نہ مچاؤ بلکہ آنے والے اس عذاب سے بچنے کی فکر کرو۔ قبل اس سے کہ حیات مستعار کی یہ فرصت محدود تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تم لوگ ہمیشہ کے لیے اس عذاب میں مبتلا ہو کر رہو جس کا حقدار و مستحق تم نے اپنے آپ کو اپنے عمل و کردار سے بنادیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہ حقیقت ہمیشہ تمہارے پیش نظر رہنی چاہئے کہ ہر بات کے ظہور کے لئے اللہ تعالیٰ کی تقویم میں ایک وقت مقرر ہے۔ اس وقت وہ بہرحال ظاہر ہو کر رہے گی۔ کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکے گی اور اس وقت تم اس کو خود یکھ لو گے ۔ { وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَائَ ہ بَعْدَ حِیْنٍ } ۔ پس عذاب مانگنے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر کرنی چاہیے۔ 120 منکرین و غافلین کو تنبیہ و تذکیر : سو منکرین و غافلین کو تنبیہ و تذکیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب تم لوگ خود ہی جان لو گے جس وقت وہ عالم مشاہدہ برپا ہوجائے گا اور غیبی حقائق کھل کر تمہارے سامنے آجائیں گے تو اس وقت تمہیں سب کچھ خود بخود اور پوری طرح معلوم ہوجائے گا۔ مگر اس وقت تمہارے لئے حسرت و افسوس کے سوا کوئی اور چارہ نہ ہوگا۔ سو دین حق اپنی رحمت بھری تعلیمات کے ذریعے تمہیں اس ہولناک انجام سے بچانا چاہتا ہے اور تم لوگ ہو کہ اس سے بچنے کی فکر کرنے کی بجائے اس کو جلد لانے کا مطالبہ کر رہے ہو۔ آخر تمہاری مت کیوں مار دی گئی ؟ اور تم لوگ اس قدر اندھے اور اوندھے کیوں ہوگئے ؟ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے ایمان و یقین کی دولت سے محرومی اور عناد اور ہٹ دھرمی کا کہ اس سے انسان اندھا اور اوندھا ہوجاتا ہے اور اس کی مت ایسے مار کر رکھ دی جاتی ہے کہ اس کو اپنے نفع و نقصان کی بھی تمیز نہیں رہتی اور وہ عذاب و نقصان سے بچنے کی فکر کی بجائے اس کا مطالبہ کرنے لگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:69

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب میں سے کسی چیز کی کوئی ذمہ داری نہیں، البتہ (بقدر استطاعت) نصیحت کرنا ان کا فرض ہے، شاید کہ وہ لوگ باز آجائیں،

122 نصیحت و خیر خواہی بہرحال مطلوب ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب میں سے کسی چیز کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ البتہ بقدر استطاعت نصیحت کرنا ان کا فرض ہے تاکہ یہ لوگ باز آجائیں اپنے کفر و باطل اور بےراہ روی سے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ مومن صادق کے لئے اہل کفر و نفاق اور اصحاب زیغ و ضلال سے علیحدگی اور کنارہ کشی ضروری ہے تاکہ ان کے اختلاط اور ان کی ہم نشینی سے ان کی سیاہ بختی کے اثرات سے حفاظت ہوسکے۔ لیکن نصیحت و خیرخواہی اس کے باوجود جاری رکھی جانی چاہیئے تاکہ ان کا بھلا ہوسکے کہ دین نام ہی بھلائی اور خیرخواہی کا ہے کہ شاید اس طرح یہ لوگ باز آجائیں اپنی بری روش سے۔ اور اس کے نتیجے میں یہ بچ جائیں ہولناک انجام سے۔
Ayah 6:70

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور چھوڑ دو ان لوگوں کو جنہوں نے ٹھہرا رکھا ہے اپنے دین کو کھیل تماشے کا سامان، اور دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان کو دنیا کی زندگی (کی چکا چوند) نے2 اور نصیحت (و یاددہانی) کرتے رہو اس (قرآن) کے ذریعے کہ کہیں کوئی پکڑا جائے اپنے کئے کی پاداش میں، اس طور پر کہ اس کے لئے اللہ کے سوا نہ کوئی حمایتی ہو نہ سفارشی، اور اگر وہ اپنے بدلے میں (دنیا بھر کا) ہر معاوضہ بھی دے تو بھی وہ اس سے نہ لیا جائے، یہی ہیں وہ لوگ جو پکڑے گئے اپنے کئے (کرائے) کی پاداش میں، ان کے پینے کے لئے کھولتا پانی ہوگا، اور ان کے لئے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہوگا اس کفر کی پاداش میں جو کہ یہ بات کرتے رہے تھے،3

123 دنیاوی زندگی کے دھوکے سے بچنے کی ضرورت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کو چھوڑ دو جن کو دنیاوی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔ جس کی بنا پر انہوں نے اسی کو اپنا قبلہ مقصود بنا رکھا ہے اور اسی کے لئے یہ جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں۔ اور اس طرح اپنے انجام اور اپنی آخرت کو بھلا کر یہ لوگ دائمی ہلاکت و خسران کی راہ پر چلے جا رہے ہیں۔ اور یہ ایسا ہولناک خسارہ ہے کہ پھر اس کی تلافی اور تدارک کی کوئی صورت ممکن نہ ہو سکے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دنیاوی زندگی کے دھوکے سے بچنے کی اور اس کی چمک دمک اور چکا چوند سے ہمیشہ ہوشیار و چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفیق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ پس جو لوگ اس حقیقت سے غافل و بیخبر ہیں وہ دنیا کے جال میں پھنس کر بڑے ہی ہولناک خسارے میں مبتلا ہو رہے ہیں اور ان کو اس کا شعور و احساس ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 124 تذکیر بالقرآن کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تذکیر و یاددہانی کراتے رہو اس قرآن کے ذریعے اور آخرت کی حقیقی اور دائمی زندگی کا بھولا ہوا سبق لوگوں کو یاد دلاتے رہو شاید یہ لوگ سمجھ جائیں اور اپنے برے انجام سے بچ جائیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ تذکیر و یاددہانی قرآن حکیم کے اس نور مُبِیْن کے ذریعے ہی ہونی چاہیے کہ دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہیں اسی سے روشن اور واضح ہوسکتی ہیں۔ ورنہ دنیا میں اندھیرے ہی اندھیرے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی لیے اس کے ذریعے تذکیر و یاددہانی کی تلقین فرمائی گئی۔ جیسا کہ اس کے علاوہ دوسرے مقام پر اس طرح فرمایا گیا ۔ { فَذَکِّرْ بالْقُرْآنِ مَنْ یَخَافُ وَعِیْد } ۔ (ق : 45) ۔ سو اس سے تذکیر بالقرآن کی اہمیت اور اس کی عظمت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جو لوگ اپنے دین کو مذاق بنائے ہوئے ہیں نہ تو زیادہ ان کے درپے ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ان کے نت نئے مطالبات کے لئے فکرمند ہونے کی۔ بلکہ اس قرآن کے ذریعے انذار و تذکیر کا جو فریضہ تم پر عائد ہوتا ہے اس کو ادا کرتے رہو کہ کوئی جان اپنے عمل کی پاداش میں گرفتار عذاب نہ ہوجائے۔ آگے ہر کسی کو اپنے عمل ہی سے واسطہ پڑنا ہے اور اس کا ذمہ دار وہ خود ہے۔ نہ کہ کوئی دوسرا ۔ والعیاذ باللہ - 125 حیات دنیا کی قدر و قیمت کا ایک اہم پہلو : سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیاوی زندگی کی یہ فرصت جو آج ہمیں میسر ہے کس قدر قیمتی اور کتنی عظیم نعمت و دولت ہے کہ یہاں ایمان و اخلاص کے ساتھ کی جانے والی معمولی سے معمولی نیکی بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے قبول فرماتا ہے۔ جبکہ وہاں روئے زمین کی سب دولت بھی کسی کے بدلے میں قبول نہیں کی جائے گی ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس حیات مستعار کے ایک ایک لمحے سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین۔ سو قرآن حکیم کی روشنی میں آنے والے اس ہولناک خطرے اور خسارے سے آگاہ کردینا ضروری ہے تاکہ کوئی بیخبر ی کے عالم میں اپنے کئے کرائے کی زد میں نہ آجائے اور اس آگہی کے بعد اگر کوئی اپنی شامت اعمال میں گرفتار ہونا چاہتا ہے تو اس کی ذمہ داری خود اسی پر ہے۔ تم بہرحال اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو۔ کہ تمہاری ذمہ داری تبلیغ ہے اور بس۔
Ayah 6:71

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ کیا ہم اللہ کے سوا ایسوں کو پکاریں جو نہ ہمیں کچھ نفع دے سکیں، نہ نقصان پہنچا سکیں، اور کیا ہم الٹے پاؤں پھرجائیں اس کے بعد کہ اللہ نے نواز دیا ہمیں ہدایت کی دولت سے، اس شخص کی طرح جس کو بےراہ کردیا ہو شیطانوں نے صحرا میں حیران (وسرگرداں) کر کے، جب کہ اس کے ساتھی اس کو پکار رہے ہوں سیدھی راہ کی طرف، کہ چلے آؤ تم ہمارے پاس، کہو کہ بیشک اللہ کی (بتلائی ہوئی) راہ ہی سیدھی راہ ہے، اور ہمیں اسی کا حکم ملا ہے کہ ہم گردن ڈال دیں، پروردگار عالم کے حضور1

126 غیر اللہ کو پکارنے کی ممانعت و حرمت کا بیان : سو غافلوں اور منکروں کے دلوں کو جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ کیا ہم اللہ کے سوا ایسوں کو پکاریں جو نہ ہمیں کوئی نفع دے سکیں نہ نقصان پہنچا سکیں ؟ یعنی ایسوں کو پکارنا نری حماقت ہے۔ پس اللہ کے سوا کسی کو اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیلئے غائبانہ پکارنا پرلے درجے کی حماقت ہے۔ اور استفہام انکاری ہے یعنی ایسے نہیں ہوسکتا کہ یہ بڑی حماقت و جہالت کی بات ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا وہی وحدہ لاشریک ہے جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان مشرکوں سے صاف صاف کہہ دو کہ کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ ہم اللہ کے سوا ایسی چیزوں کو پکاریں جو نہ ہمیں کوئی نفع دے سکیں اور نہ نقصان پہنچا سکیں اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں اس سے نجات بخشی اور ہم الٹے پاؤں پھر کر پھر اسی گمراہی میں جا پڑیں جس میں پہلے مبتلا تھے ؟ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر ثابت قدم رکھے اور نفس و شیطان کے ہر شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 127 مشرک کی مثال اس کی محرومی اور بےراہ روی میں : سو مشرک اس شخص کی طرح ہے جس کو شیطانوں نے حیران کردیا ہو صحرا میں۔ اس کی محرومی اور بےراہ روی میں۔ وہ نہیں جانتا کہ میرا راستہ کدھر ہے اور مجھے کدھر جانا چاہیے۔ سو یہی مثال ہے سفر آخرت کے اس راہی کی جو نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر کفر و باطل کے اندھیرے میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ اس کے مخلص اور باخبر ساتھی اس کو سیدھی راہ کی طرف بلاتے ہیں مگر اس کو جنوں اور بھوتوں نے ایسا مخبوط الحواس کردیا کہ اس کو کچھ سنتا سوجھتا ہی نہیں۔ سو آخرت کی سیدھی راہ توحید اور اسلام کی راہ ہے۔ اس سے منہ موڑنے والا کافر و مشرک راہ حق و ہدایت سے منہ موڑ کر مخبوط الحواس ہوگیا۔ اور اللہ کی اس راہ کی طرف بلانے والے اللہ کے رسول اور آپ ﷺ کے سچے پیروکار ہیں جن کی رفاقت میں اور ان کی بات ماننے سے آخرت کا یہ عظیم الشان سفر آسانی اور سہولت سے طے ہوسکتا ہے۔ پس جس نے ان کی آواز پر کان دھرا اور ان کی دعوت کو قبول کیا وہ سیدھی راہ سے سرفراز ہوگیا اور منزل مقصود تک پہنچ گیا۔ اور جس نے ان کی آواز حق و صداقت سے منہ موڑ کر شیاطین الانس والجن کی آواز پر کان دھرا اور ان کی راہ کو اپنایا وہ راہ حق و ہدایت سے محروم ہو کر صحرائے ضلالت اور بیابان حسرت میں بھٹکتا رہ گیا اور منزل مقصود سے محروم ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس تمثیل سے واضح فرما دیا گیا کہ نور حق و ہدایت سے اعراض و روگردانی کرنے والے اور اس سے محروم لوگوں کی مثال صحرا میں بھٹکتے پھرنے والے مسافر کی ہے۔ شیطانوں اور ان کے گمراہ لیڈروں نے ان کی مت ایسی مار کر رکھ دی ہے کہ ان کو کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ ان کے راہ یاب ساتھی یعنی ایمان والے ان کو راہ حق و ہدایت کی طرف بلاتے ہیں لیکن یہ بدنصیب ان کی آواز کو سن ہی نہیں سکتے۔ اور تہ درتہ اندھیروں کے اندر بدنصیبی کے دھکے کھاتے پھر رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ 128 کامیابی کا راستہ اسلام اور توحید کا راستہ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس بھٹکے ہوئے شخص کو اس کے ساتھی سیدھی راہ کی طرف بلا رہے ہیں جس کو اپنا کر وہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح مسافر آخرت کے لئے سیدھا راستہ اسلام اور توحید کا راستہ ہے جو کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ اور آپ ﷺ کے متبعین کی رفاقت میں ہی طے کیا جاسکتا ہے۔ جو شخص اس راہ پر چلا اور اس بہترین رفاقت کو اس نے اپنایا وہ منزل مقصود تک پہنچ گیا اور کامیابی سے ہمکنار ہوگیا۔ اور جس نے اس کی بجائے شیاطین انس و جن کی آواز کی طرف کان لگایا اور ان کی راہ کو اپنایا وہ صحرائے ضلالت اور بیابان حیرت میں بھٹکتا ہوا دائمی ہلاکت و خسران سے دو چار ہوا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اہل حق اور دین حق کے سوا ہر راستہ ہلاکت و تباہی کا راستہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ مادہ پرست دنیا اپنے آپ کو خواہ کچھ بھی سمجھتی رہے اور کیسے بلند بانگ دعوے کرتی رہے، حقیقت نفس الامری بہرحال یہی ہے کہ دین حق سے محروم دنیا سراسر خسارے میں اور ہلاکت کی راہ پر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 129 سیدھی راہ اللہ کی بتائی ہوئی راہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ سیدھی راہ بہرحال وہی ہے جو اللہ نے بتائی ہے اور ہمیں اسی بات کا حکم ملا ہے کہ ہم اپنی گردن پروردگار عالم کے حضور ڈال دیں۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سیدھی راہ وہی اور صرف وہی ہے جو اللہ کی بتائی ہوئی ہے۔ اور باقی سب محض اندازے اور ظن وتخمین اور ڈھکوسلے ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے، تسلیم کرے یا نہ کرے، حقیقت نفس الامری اور امر واقعی بہرحال یہی اور صرف یہی ہے۔ سو جو اس دین حق سے محروم ہیں وہ بہرحال نور حق و ہدایت سے محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اللہ کی ہدایت اب صرف قرآن و سنت ہی سے مل سکتی ہے اور بس۔ اس کے سوا اس کے لئے دوسرا کوئی ماحذ نہ ہے نہ ہوسکتا ہے۔ پس جو لوگ قرآن حکیم کے اس نور عظیم سے سرفراز و سرشار ہیں وہی راہ حق و ہدایت سے بہرہ ور اور مالا مال ہیں۔ اور جو اس نور عظیم سے بےبہرہ و محروم ہیں وہ حق و ہدایت کی دولت سے قطعی طور پر محروم ہیں، خواہ وہ اپنے بارے میں کچھ بھی کہتے اور اپنے آپ کو کچھ بھی سمجھتے ہوں۔ وہ نہ اپنے مقصد حیات سے آگاہ ہیں اور نہ اپنے انجام سے۔ اور نور حق و ہدایت سے محرومی کے نتیجے میں وہ حیوان محض بلکہ بدترین مخلوق [ شر البریۃ ] بن کر رہ گئے اور یہ خسارہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:72

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

اور یہ کہ تم قائم کرو نماز اور ڈرتے رہو اسی (وحدہ لاشریک) سے، اور وہ وہی ہے جس کے حضور تم سب کو بہر حال حاضر ہونا ہے اکٹھے ہو کر،2

130 اقامت صلاۃ اور تقویٰ و پرہیزگاری کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ نماز ادا کرو اور اللہ ہی سے ڈرتے رہا کرو۔ یعنی ہر حال میں اور ہر مقام پر۔ تاکہ اس طرح تم بچ سکو اس کی گرفت و پکڑ سے کہ وہ اپنے علم اور اپنی قدرت کے اعتبار سے ہر جگہ اور ہر حال میں تمہارے ساتھ ہے۔ اور تمہارے احوال و اَعمال پر مطلع و شاہد ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا ۔ { وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ } ۔ (الحدید : 4) ۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری کا سب سے بڑا مقصد رضائے الہی کا حصول اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی ہے۔ اور یہی اس مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اور اس سے محرومی دارین کی فوز و فلاح سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس بندئہ مومن کو ہمیشہ اسی بات کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ میرا معاملہ میرے خالق ومالک کے ساتھ کیسا ہے اور وہ ہر اس کام سے بچنے کی فکر و کوشش کرے جو اس کی ناراضگی اور گرفت و پکڑ کا باعث ہو۔ اور اس کی رضا و خوشنودی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ۔ وباللہ التوفیق - 131 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ سب کو بہرحال اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے اور وہاں حاضر ہو کر تم لوگوں نے زندگی بھر کے اپنے کیے کرائے کا بھرپور بدلہ پانا ہے تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں۔ کھرے کھوٹے میں تمیز ہو سکے۔ نیکوکاروں کو جنت کی ابدی اور سدا بہار عظیم الشان نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہو اور بدکاروں کو ان کی زندگی بھر کی بدکاریوں کی سزا مل سکے۔ اور اس طرح اس کارخانہ ہست و بود کے مقصد تخلیق کی تکمیل ہو سکے۔ پس ہر کوئی ہمیشہ اسی بات کو پیش نظر رکھے کہ وہاں میرا معاملہ کیسا رہے گا اور اس یوم عظیم میں کیا چیز کام آسکتی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 6:73

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

اور وہ وہی ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ، اور جس دن وہ فرمائے گا (ہر فنا شدہ چیز سے) کہ ہوجا تو وہ ہوجائے گی اس کی بات بہر حال سچی ہے، اور اسی کی باشاہی ہوگی (حقیقت میں بھی اور ظاہر میں بھی اس روز) جس روز کہ پھونک ماردی جائے گی صور میں، وہی ہے جاننے والا چھپی کو بھی، اور ظاہر کو بھی، اور وہی ہے نہایت حکمت والا، پورا باخبر،

132 کائنات کی تخلیق حق کے ساتھ : اور آسمانوں اور زمین کی اس کائنات کی تخلیق کے بالحق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تخلیق نہایت مستحکم و مضبوط بھی ہے اور نہایت پر حکمت اور بامقصد بھی۔ نہ ان کی ساخت و تخلیق میں کوئی خلل و قصور ہے اور نہ ان کا وجود میں لانا عبث و بےکار ہوسکتا ہے۔ نہیں اور ہرگز نہیں۔ پس تم لوگ ایک طرف تو کائنات کی اس کھلی کتاب میں غور و فکر سے کام لیکر اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرو اور دوسری طرف حکمتوں اور نعمتوں بھری اس کائنات سے فائدہ اٹھا کر دل و جان سے اپنے اس خالق ومالک کا شکر ادا کرو اور اس طرح اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کرو ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور یہیں سے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جب زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی اس ساری کائنات کی تخلیق بالحق اور بامقصد ہے تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ اس کا مخدوم ومطاع یہ انسان اور اس کی تخلیق بیکار اور بےمقصد ہو ؟ اس کو یونہی عبث اور بیکار پیدا کردیا جس سے کوئی حساب نہ ہو اور یہ یونہی مر کھپ کر ختم ہوجائے۔ سو ایسے ہرگز نہیں بلکہ اس انسان نے اپنے وقت پر دوبارہ اٹھ کر اپنے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے اور اسی یوم حساب کو یوم القیامۃ کہا جاتا ہے۔ 133 قیامت کے روز بادشاہی اللہ ہی کی ہوگی : اور اس کے سوا اور کسی عارضی اور ظاہری بادشاہی کا بھی کوئی وجود اس روز باقی نہیں رہے گا کہ دنیا کی یہ ظاہری اور عارضی حکومتیں اور بادشاہتیں بھی اس روز سب کی سب ختم ہوچکی ہوں گی جو کہ آج جگہ جگہ اور طرح طرح کے ناموں سے پائی جاتی ہیں۔ اور جن پر ابنائے دنیا پھولے نہیں سماتے۔ سو سدا اور حقیقی بادشاہی اللہ پاک ہی کی ہے اور بادشاہ حقیقی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ دنیا میں بھی اور اخرت میں بھی۔ مگر اتنا فرق ہے کہ دنیا کے اس دارالامتحان میں عارضی، فانی اور ظاہری حکومتیں اور بادشاہیاں اور بھی پائی جاتی تھیں اور پائی جاتی ہیں۔ پہلے بھی تھیں اور آج بھی ہیں۔ لیکن قیامت کے اس یوم حساب میں ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گی۔ سب نیست ونابود ہوچکی ہونگی۔ اس روز اسی حاکم حقیقی کی بادشاہی ہوگی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس روز سارا زور و اختیار اللہ وحدہٗ لاشریک ہی کے لئے ہوگا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَالْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِلّٰہِ } ۔ (الانفطار : 19) ۔ پس اس روز نہ کسی کا زور چلے گا اور نہ کسی کا کوئی اختیار ہوگا اور نہ کسی کی کوئی سعی و سفارش اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو کچھ نفع پہنچا سکے گی۔ سب اللہ وحدہٗ لاشریک کے حضور سرافگندہ ہوں گے اور صرف اسی کا حکم و ارشاد نافذ و ناطق ہوگا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور دنیا میں ایسے لوگوں کے دماغوں میں جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ اور اقتدار کے خمار ہوا کرتے تھے اس روز وہ سب ہرن ہوجائیں گے اور ان کو اپنی اصل حقیقت خود نظر آجائے گی۔ اور اپنا حدود اربعہ ان کے سامنے پوری طرح واضح ہوجائے گا۔ 134 عالم غیب صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی جاننے والا ہے ظاہر اور پوشیدہ کا اور اللہ ہی عالم غیب ہے۔ پس اس کے سوا کسی کو عالم الغیب ماننا جائز نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ظاہر و پوشیدہ کی یہ تقسیم بھی مخلوق کے اعتبار سے ہے ورنہ اس وحدہ لاشریک کے یہاں یہ سب ایک برابر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور یہ اسی وحدہ لاشریک کی شان ہے کہ وہ ظاہر اور پوشیدہ کو ایک برابر جانتا ہے۔ پس معبود برحق بھی وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف یہاں حصر کے اسلوب کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ وہی ہے جو نہاں وعیاں کو ایک برابر جاننے والا ہے۔ اس لئے نہ کسی کی کوئی ظاہر یا پوشیدہ بات اس سے مخفی رہ سکتی ہے اور نہ وہ کسی سے پوچھنے اور معلوم کرنے کا محتاج ہوسکتا ہے۔ نہ کوئی اس کے علم میں کسی طرح کا اضافہ کرسکتا ہے اور نہ کوئی کسی طرح کے غلط عذر اور بہانے کے ذریعے وہاں کام چلا سکے گا۔ اور وہی ہے جو حکیم بھی ہے اور خبیر بھی۔ اس لئے اس کا ہر حکم علم و حکمت پر ہی مبنی ہوتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -