6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 6:74

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرو کہ) جب ابراہیم نے کہا اپنے باپ آزر سے، کہ کیا آپ نے (من گھڑت) بتوں کو معبود قرار دے رکھا ہے، بیشک میں دیکھ رہا ہوں آپ کو بھی اور آپ کی قوم کو بھی (ڈوبا ہوا) کھلی گمراہی میں،

135 حضرت ابراہیم سے نسبت کا تقاضا ؟ : سو یہاں پر حضرت ابراہیم کے قصے کی تذکیر و یاددہانی کے حکم وارشاد سے دراصل یہ درس دیا گیا ہے کہ تم لوگ ان کی اتباع اور پیروی کرو کہ وہ وہی ابراہیم ہیں جنکی نسبت پر سب فخر کرتے ہیں اور ابراہیمی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور جن کی اقتدا و پیشوائی کا دم یہ یہود و نصاریٰ سب بھرتے ہیں۔ اور مشرکین عرب کا تو اوڑھنا بچھونا ہی یہ دعویٰ تھا کہ وہ ابراہیم کی اولاد اور ان کے جانشین اور ملت ابراہیمی کے وارث اور پیروکار ہیں۔ حالانکہ یہ سب اسی شرک میں مبتلا ہیں جس کیخلاف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسطرح علم جہاد بلند کیا تھا۔ یہ بعینہ وہی صورت حال ہے جس میں آج کے اہل بدعت مبتلا ہیں کہ نام تو لیتے ہیں حضرت شیخ جیلانی اور دوسرے بزرگان کرام کا اور ان ہی کے نام پر گیا رہویاں کھاتے، نذرانے بٹورتے اور طرح طرح کے کاروبار چلاتے ہیں۔ مگر عمل و کردار کے میدان میں یہ لوگ ان کی تعلیمات کے بالکل برعکس چلتے ہیں۔ یہاں تک کہ انہی کے نام پر شرک کو رواج دیتے ہیں اور ان کے بڑے انہی مشرکانہ رسوم و رواج کو حق بجانب ثابت کرنے کیلئے کتاب و سنت کی نصوص صحیحہ و صریحہ میں بھی تحریف و تاویل سے کام لیتے ہیں۔ سو بڑوں سے نسبت اور ان کے ساتھ رشتہ وتعلق کا تقاضا یہ ہے، اور یہی ہونا چاہیئے کہ ان کی ان تعلیمات کو اپنایا جائے جو انہوں نے دنیا کے سامنے پیش فرمائیں۔ نہ یہ کہ نام ان کا لیا جائے اور عمل ان کے خلاف ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہاں پر حضرت ابراہیم کی پاکیزہ اور قربانی و جہد مسلسل سے بھرپور و لبریز اور سبق آموز زندگی کا تذکرہ فرما کر اور اس کی یاد دہانی کرا کر ان کی پیروی کے دعویداروں کے سامنے آئینہ رکھ دیا گیا ہے کہ دیکھو ابراہیم کیسے اور کیا تھے اور تم لوگ کیسے اور کیا ہو ؟ ان کی زندگی کے طور طریقے کیا تھے اور تم لوگ کس ڈگر پر چل رہے ہو ؟ سو محض زبانی کلامی دعو وں سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس کے لیے اتباع اور پیروی کی اور ان کی نمونہ عمل اور اسوؤ حسنہ کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ 136 آزر سے مراد ؟ اور ایک مغالطے کا جواب : قرآن پاک کے الفاظ ۔ { لِاَبِیْہِ اٰزَرَ } ۔ سے ظاہر و متبادر یہی ہے کہ یہ حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کے والد کا نام تھا جو کہ کافرو مشرک اور بت پرست ہی نہیں، بت گر اور بت فروش بھی تھا۔ اور جن روایات میں ان کا نام تارخ بتایا گیا ہے اول تو وہ دراصل اسرائیلی روایات ہیں نہ کہ قرآن وسنت کی نصوص۔ پھر ہمیں کیا پڑی ہے کہ ان کی بنا پر قرآن حکیم کے اس ظاہر و متبادر مفہوم میں خواہ مخواہ تاویل سے کام لیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اس شخص کے یہ دونوں نام ہوئے ہوں۔ جیسا کہ تمام ثقہ علماء و مفسرین کرام کا کہنا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ (جامع البیان، صفوۃ البیان، روح المعانی، المراغی اور المحاسن وغیرہ) ۔ علامہ ابن جریر اور ضحاک نے جزم و یقین کے ساتھ کہا ہے کہ آزر حضرت ابراہیم کے باپ کا نام تھا ( تفسیر المراغی وغیرہ ) ۔ اور صاحب صفوۃ التفاسیر اس موقع پر لکھتے ہیں کہ صحیح یہی ہے اور محققین نے تصریح کی ہے کہ یہ ابراہیم کے باپ کا نام تھا۔ اور نصوص کتاب و سنت اس شخص کے کفر پر صریح طور پر دلالت کرتی ہیں۔ اور اصل یہی ہے کہ لفظ کو اپنے ظاہر پر رکھا جائے اور جب تک کوئی قرینہ صارفہ موجود نہ ہو اس کو اس کے ظاہر سے نہ پھیرا جائے۔ پس اہل بدعت کے بعض بڑوں کا اس طرح کی اسرائیلی روایات کے سہارے یہ کہنا کہ حضرت ابراہیم کے باپ کا نام تارخ تھا اور وہ مومن اور موحد تھے، سراسر باطل اور مردود ہے۔ یہ دراصل شیعوں کا عقیدہ و نظریہ ہے، جن کا کہنا اور ماننا یہ ہے کہ نبی اور امام کے باپ دادا میں سے کوئی کافر و مشرک نہیں ہوسکتا۔ اور اسی شیعی عقیدے اور نظرئے کے جراثیم اپنوں کی سادگی، اہل بدعت کی غلو پسندی اور غیروں کی چالاکی و ملمع سازی وغیرہ مختلف عوامل و اَسباب کے باعث اہل حق کی کتابوں میں بھی سرایت کر گئے۔ چناچہ علامہ شام شیخ محمد جمال الدین القاسمی مرحوم و مغفور اس موقع پر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس ارشاد ربّانی میں شیعوں پر قطعی رد ہے جن کا دعویٰ ہے کہ کسی بھی نبی کے باپ دادا میں سے کوئی کافر نہیں ہوسکتا۔ اور اسی بنا پر انہوں نے کہا کہ آزر حضرت ابراہیم کا باپ نہیں چچا تھا۔ (تفسیر القاسمی : ج 6 ص 584 طبع دارالفکر بیروت) ۔ اور امام رازی نے اس پر بڑی بسط و تفصیل سے کام کیا ہے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کے باپ کے کافر اور دوزخی ہونے کی تصریح تو حضرت رسالت مآب (علیہ الصلوۃ والسلام) نے اپنے قول حق و صدق ترجمان میں فرمائی ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیثوں میں وارد ہے۔ چناچہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضرت ابوہریرہ ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز حضرت ابراہیم اپنے باپ آزر سے ملیں گے اس حال میں کہ اس کے چہرے پر[ کفر کی ] تاریکی چھائی ہوئی ہوگی۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس سے کہیں گے کہ کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ میری نافرمانی اور خلاف ورزی نہیں کرو۔ تو وہ کہے گا " فَالْیَوْمَ لا اُعْصِیْکَ " کہ " اب میں آپ کی نافرمانی کبھی نہیں کروں گا "۔ تب حضرت ابراہیم اپنے رب کے حضور عرض کریں گے کہ میرے مالک ! آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ میں تم کو قیامت کے روز رسوا نہیں کروں گا، تو اس سے بڑھ کر رسوائی اور کیا ہوگی کہ میرا یہ بدنصیب باپ آج دوزخ میں جا رہا ہے۔ تو اللہ پاک اس کے جواب میں فرمائے گا کہ میں نے جنت کو کافروں پر حرام قرار دے رکھا ہے۔ [ اس لئے تمہارا یہ کافر باپ اب کسی بھی طور پر جنت میں نہیں جاس کے گا ] پھر اللہ پاک حضرت ابراہیم سے فرمائیں گے کہ اپنے پاؤں کے نیچے دیکھو تو وہ دیکھیں گے کہ ان کا باپ آزر ایک گھنے بالوں والے بجو کی شکل میں پڑا ہوگا۔ تو اس کو اس کے پاؤں سے پکڑ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ (صحیح بخاری : کتاب الانبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ ۔ { وَاتَّخَذَ اللّٰہُ اِبْرَاہِیْمَ خَلِیْلاً } -) اب دیکھئے قرآن و سنت کی نصوص و تصریحات کیا کہتی ہیں اور اہل بدعت کے یہ صاحب کیا کہتے اور کس طرح کی گوہرا فشانی فرما رہے ہیں۔ یہ نصوص صاف وصریح طور پر کہتی اور بتلاتی ہیں کہ حضرت ابراہم (علیہ الصلوۃ والسلام) کا باپ آزر کافر و مشرک تھا۔ اور اس کو حضرت ابراہیم کی اس عاجزانہ اپیل و درخواست کے باوجود دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ مگر اہل بدعت کے ایسے تحریف پسندوں کا یہ کہنا ہے کہ نہیں وہ مومن و موحد تھا۔ سو یہ ہے مبلغ علم و دین اور یہ ہیں بلندبانگ دعوے ۔ فَاِلَی اللہ الْمُشْتَکٰی ۔ واضح رہے کہ اس سے ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی شان میں کوئی فرق نہیں آتا۔ جیسا کہ حضرات اہل علم نے اس کی تصریح فرمائی ہے ۔ " وَلا یَقْدَحُ ذٰلِکَ فِیْ مَقَامِ اِبْرَاہِیْمِ (علیہ السلام) " ۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس سے آنجناب کی شان عالی اور مقام رفیع میں اور نکھار پیدا ہوتا ہے کہ ایسے کٹر کافر، پکے مشرک، بت پرست، بت گر اور بت فروش باپ کے گھر میں جنم لینے اور کفر و شرک کے اندھیروں میں ڈوبے ایسے ماحول میں آنکھ کھولنے کے باوجود آپ (علیہ السلام) ایمان و یقین اور اخلاص و توحید کے ایسے مقام پر فائز ہوئے کہ ابو الانبیاء اور امام الموحدین کے شرف وامتیاز سے مشرف وممتاز ہوئے جو کہ قدرت خدا وندی کا ایک معجزہ اور کرشمہ ہے ۔ علیہ وعلی نبینا افضل الصلوات واَتَمُّ التَّسلیمات، ما تبقی ہذہ الاحرف والکلمات، علی ہذہ ال اوراق والصَّفَحات ۔ (25 / 12 / 1996 ئ) ۔ بہرکیف یہاں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس عبرتوں بھرے قصے کی تذکیر و یاددہانی سے یہود و نصاریٰ مشرکوں اور خاص کر مشرکین مکہ پر حجت قائم کی جارہی ہے کہ ایسی عظیم الشان ہستی سے انتساب کا دعویٰ کرنے کے باوجود تم لوگ کس شرک میں پڑے ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 137 کفر و شرک کی نحوست اور مت ماری کا ہولناک انجام ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ آپ نے من گھڑت اور بےجان بتوں کو معبود قرار دے رکھا ہے۔ بیشک میں آپ کو بھی اور آپ کی قوم کو بھی کھلی گمراہی میں پڑا دیکھ رہا ہوں۔ سو ایسا شخص شرک و بت پرستی کے ضلال مبین میں مبتلا اور اوہام و خرافات کے جال میں الجھ اور پھنس کر رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یعنی ایسی کھلی گمراہی میں جس کی ضلالت و گمراہی محتاج بیان نہیں۔ بھلا اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے بےجان پتھروں اور من گھڑت بتوں کی خدائی کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ سو انسان کا اپنی ہی جیسی کسی مخلوق کی پوجا کرنا ایک کھلم کھلا گمراہی ہے۔ پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ کوئی انسان اپنے سے بھی کسی گھٹیا اور فروتر مخلوق کی پوجا کرے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ کسی ایسی بےحقیقت اور عاجز مخلوق کی پوجا کرے جو من گھڑت اور خود اس کے ہاتھوں کی تراشیدہ ہو۔ تو پھر اس کی گمراہی میں کسی شک و شبہ کی کیا گنجائش ہوسکتی ہے ؟ اور اس سے بھی بڑھ کر ضلال مبین اور کھلی گمراہی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ سو ایسی کھلی گمراہی کا ارتکاب وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کی مت مار دی جاتی ہے اور ان کو سیاہ وسفید تک کی تمیز نہیں رہتی۔ سو ایسے لوگ ایسی کھلی گمراہی میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو ان کو حق و ہدایت کے نور سے بہت دور لے جاکر ہلاکت و تباہی کے ایسے ہولناک گڑھے میں ڈال دیتی ہے جہاں سے پھر واپسی کی کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہیں رہتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت ابراہیم نے اپنے باپ کے ضمیر و وجدان کو جھنجھوڑتے ہوئے اس سے کہا ۔ { اَ تَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِہَۃً } ۔ " کیا آپ نے خود اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے بتوں کو معبود بنا ڈالا ہے ؟ " یہ تو ایک کھلی ہوئی گمراہی ہے جس میں آپ بھی مبتلا ہیں اور آپ کی قوم بھی۔ اور دوسری جگہ اس کو اس طرح بیان فرمایا گیا ۔ { َا تعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ } ۔ " کیا تم لوگ ان چیزوں کی پوجا کرتے ہو جن کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو ؟ " (الصَّافَّاتْ : 90) یعنی تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا جو تم اس طرح کی حماقتوں کا ارتکاب کرتے ہو ؟ اور تمہاری مت آخر کہاں اور کیسے مار دی گئی کہ تم لوگ خود اپنے ہاتھوں کی گھڑی ہوئی ان بےجان اور بےحس و حرکت مورتیوں کو اپنا خدا مان کر ان کے آگے جھکتے اور اپنی تحقیر و تذلیل اور ہلاکت و تباہی کا سامان خود اپنے ہاتھوں کرتے ہو ؟ سو کفر و شرک اور بدعت وبت پرستی کی نحوست سے جب کسی کی مت مار دی جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو وہ ایسی ہی بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر ایسی حرکات کا ارتکاب کرتا ہے جس کو زبان پر لانا بھی شریف انسان کے لیے ایک بار گراں ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 6:75–77

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور اسی طرح دکھاتے رہے ہم ابراہیم کو بادشاہی آسمانوں اور زمین کی (حقیقت کے عین مطابق، تاکہ وہ اس سے حق پر استدلال کرسکیں) اور تاکہ وہ ہوجائے کامل یقین والوں میں سے3

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

پھر جب چھا گئی اس پر رات کی تاریکی تو ابراہیم نے ایک ستارے کو دیکھ کر کہا کہ یہ میرا رب ہے، مگر جب وہ ڈوب گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں محبت نہیں کرسکتا ڈوب جانے والوں سے

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے دیکھا چاند کو چمکتا ہوا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے، مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو فرمایا کہ اگر میرے رب نے مجھے ہدایت (کی دولت) سے نہ نوازا ہوتا، تو یقیناً میں شامل ہوگیا ہوتا گمراہ لوگوں میں،1

138 کائنات کو دیکھنے کا صحیح اور درست طریقہ : سو کائنات کو دیکھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کو دیکھ کر اس کے خالق ومالک اور اس کی معرفت تک رسائی حاصل کی جائے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم اسی طرح ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی یہ بادشاہی دکھاتے رہے " تاکہ اس طرح آپ حکمتوں بھری اس کائنات سے اس کے خالق ومالک کی وحدانیت ویکتائی اور اس کی عظمت شان پر استدلال کرسکیں۔ اور اہل شرک و باطل پر حجت قائم کرسکیں۔ نہ کہ ظاہر پرست دنیا داروں کی طرح کہ ان کی نگاہیں اس دنیا کی ظاہری چمک دمک ہی میں رک اور اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ وہ اس کی گوناگوں نعمتوں سے طرح طرح سے فائدہ تو اٹھاتے ہیں، مگر وہ اپنے خالق ومالک کی معرفت کے نور سے منور نہیں ہوسکتے۔ اور اس کی عبادت و بندگی کے شرف سے محروم رہتے ہیں۔ اور اس محرومی کے نتیجے میں ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ یا تو وہ اس سے بالکل غافل اور بےفکر ہو کر محض حیوانوں کی زندگی گزارتے ہیں یا پھر اسی کائنات کے مختلف مظاہر میں الجھ کر طرح طرح کے شرک میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور اس طرح ایسے لوگ اپنی تذلیل و تحقیر کا سامان خود کرتے ہیں۔ سو کوئی چاند سورج اور گنگا جمنا کی پوجا کرتا ہے اور کوئی گائے بیل جیسے کسی بےعقل جانور کی۔ کوئی لکڑی پتھر کے کسی بےجان بت اور من گھڑت مورتی کی۔ اور کوئی کسی ننگ دھڑنگ ملنگ کی۔ اور کوئی اَندام نہانی تک کی پوجا کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور کوئی مٹی گارے کی بنی کسی قبر یا کسی خود ساختہ آستانے کے آگے جھکتا اور سجدہ ریز ہوتا ہے۔ اس کے گرد پھیرے لگاتا، چکر کاٹتا اور اس کے لئے نذرانے پیش کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے اس سب کے برعکس کائنات کے انہی مختلف مظاہر اور نفع بخش اشیاء سے معبود حقیقی اور ان اشیاء کے خالق ومالک کی قدرت اور وحدانیت پر استدلال کیا۔ اور اہل شرک و باطل پر حجت قائم کردی۔ سو یہ ہے اللہ پاک کی وہ اراءت و توفیقِ حق جس سے حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کو اس واہب مطلق کی طرف سے بطور خاص نوازا گیا تھا۔ پس اہل شرک و بدعت کا اس آیت کریمہ سے اپنے شرکیہ عقائد پر استدلال کرنا سراسر باطل اور بےبنیاد ہے اور اس پر اسرائیلی روایات کا ردہ لگا کر اور ان کے سہارے دوسری خرافات کی راہ ہموار کرنا اور بھی برا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت ابراہیم نے جب آسمان و زمین کے نظام میں صحیح طریقے سے غور کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق و عنایت سے آپ پر معرفت و حکمت کے وہ اسرار و رموز کھولے جن سے انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے خلاف حجت قائم کی اور عقیدئہ توحید کو ان کے سامنے پوری طرح نکھار کر رکھ دیا اور اس طور پر کہ ان لوگوں کے لیے گریز و فرار کی کوئی راہ ممکن نہیں تھی سوائے عناد و ہٹ دھرمی کے۔ سو کائنات کو صحیح زاویے سے دیکھنا بڑا اہم اور بنیادی مطلب ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ-
Ayah 6:78

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب دیکھا اس نے سورج کو چمکتا ہوا (نہایت آبو تاب سے) تو کہا یہ ہے میرا رب، کہ یہ سب سے بڑا ہے، مگر جب وہ بھی ڈوب گیا، تو آپ پکار اٹھے کہ اے میری قوم ! میں قطعی طور پر بری (اور بیزار) ہوں ان سب سے جن کو تم لوگ شریک ٹھہراتے ہو،

140 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سورج کے پجاریوں پر حجت : سو اس موقع پر حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ یہ ہے میرا رب یعنی تمہارے قول کے مطابق اے میری قوم کے لوگو ! ورنہ حضرت ابراہیم کے سورج چاند وغیرہ کو خود رب ماننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور یہ تو اللہ پاک کی طرف سے تلقین فرمودہ وہ حجت تھی جو کہ حضرت ابراہیم کو عطا فرمائی گئی تھی۔ جیسا کہ آگے آیت نمبر 84 میں ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { وَتِلْکَ حُجَّتُنَا اٰتَیْنَاہَآ اِبْرَاہِیْمَ } ۔ پھر اس میں سورج چاند جیسی مخلوق کو لمحہ بھر کے لئے بھی رب ماننے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے۔ بلکہ یہ دراصل حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو خطاب کرکے ان کو سمجھانے اور شرک سے باز رکھنے کے لئے فرمایا تھا جو کہ بلاغت کا ایک اہم اسلوب اور انداز ہے کہ تمہارے قول کے مطابق یوں ہے۔ جیسا کہ ابوالمسعود اور زمخشری وغیرہ مفسرین کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ کیونکہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصَّلوۃُ والسّلام ۔ تو معصوم اور شرک کے ہر شائبہ سے پاک ہوتے ہیں۔ پھر ابو الانبیاء اور امام الموحدین حضرت ابراہیم خلیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کے تو کہنے ہی کیا ؟ کہ وہ تو اس میدان میں ایک اور ہی امتیازی شان کے مالک تھے۔ ان سے اس طرح کے کسی شرک کا صدور و ارتکاب کس طرح ہوسکتا تھا۔ پس قادیانی دجال وغیرہ نے اس قصے کی بنا پر اپنی مطلب برآری کے لئے جو کچھ حضرت ابراہیم خلیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے وہ باطل و مردود ہے۔ اور یہاں پر سورج کے لئے جو " ھٰذا " اسم اشارئہ مذکر استعمال کیا گیا ہے تو یہ جیسا کہ محاسن التاویل وغیرہ میں ہے " ہذا الطالع " کی تاویل میں ہے۔ اور یا یہ اصول نحو کے اس مشہور قاعدے کے مطابق ہے کہ جب ضمیر اور اسی طرح اسم اشارہ مرجع اور خبر کے درمیان دائر ہو تو رعایت خبر اولیٰ کی ہوتی ہے۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ یہ ضروری نہیں کہ حضرت ابراہیم نے اس سے پہلے کبھی سورج چاند وغیرہ ان کواکب کو کبھی دیکھا ہی نہ ہو۔ جیسا کہ عام طور پر اسرائیلی روایات کی بنا پر ایسا لکھا اور کہا جاتا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے پہلے کبھی اس طرف آپ کا خیال نہ گیا ہو۔ اور الہام والقائے خداوندی سے اس طرف اب توجہ ہوئی ہو۔ جیسا کہ ہم زندگی میں بارہا اس کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ نیوٹن نے جب زمین پر سیب کو گرتے دیکھا تو اس سے اس کا ذہن کشش ثقل کی دریافت کی طرف منتقل ہوگیا تو اس کا یہ مطلب تھوڑا ہی ہوسکتا ہے کہ اس نے اس سے قبل کبھی سیب کو زمین پر گرتے نہیں دیکھا تھا، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اس سے پہلے اس کا ذہن کبھی اس طرف متوجہ اور منتقل نہیں ہوا تھا۔ سو اسی طرح حضرت واہب مطلق ۔ جل جلالہ ۔ جب کسی سے کوئی کام لینا چاہتا ہے تو اس کا ذہن اپنے القاء والہام سے ادھر متوجہ کردیتا ہے۔ سو اسی اصول کے مطابق یہاں بھی سمجھا جائے ۔ والعلم عند اللہ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف اس طرح حضرت ابراہیم نے سورج کے پجاریوں پر حجت قائم کردی کہ یہ بھی ڈوبنے والا ہے۔ اور ڈوب جانے والا کسی کا خدا اور معبود نہیں ہوسکتا بلکہ وہ خود مسخر اور کسی کے حکم کا پابند ہے۔ اور جس کے حکم کے یہ پابند ہیں وہی ہے خالق ومالک اور معبود حقیقی ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 6:79–80

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

بیشک میں نے موڑ دیا اپنا رخ اس (معبود حقیقی) کی طرف جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین (کی اس حکمتوں بھری کائنات) کو، یکسو ہو کر اور میرا کوئی لگاؤ نہیں مشرکوں سے،2

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور جھگڑے نے لگی ان سے ان کی قسم تو آپ نے فرمایا کیا تم لوگ مجھ سے جھگڑے (اور حجت بازی کرتے) ہو اللہ کے بارے میں ؟ جب کہ اس نے مجھے نواز دیا نور ہدایت سے، اور میں نہیں ڈرتا ان چیزوں سے جن کو تم لوگوں نے خدا کا شریک ٹھہراتے ہو اس (وحدہ لاشریک) کا مگر یہ کہ میرا رب ہی کوئی بات چاہے، میرے رب کا علم ہر چیز پر (پوری طرح) حاوی ہے تو کیا تم لوگ ہوش میں نہیں آتے ؟3

141 اس کائنات کا خالق ہی معبود برحق ہے : سو حضرت ابراہیم نے اعلان فرمایا کہ بیشک میں نے اپنا رخ موڑ دیا اس معبود برحق کی طرف جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کی اس حکمتوں بھری کائنات کو۔ اور جب اس کی حکمتوں بھری اس کائنات کی پیدائش میں اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کیسے ہوسکتا ہے ؟ پس معبود برحق وہی ہے جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ بہرکیف اس موقع پر پہنچ کر حضرت ابراہیم نے صاف اور صریح طور پر اپنی قوم سے براءت اور بیزاری کا اعلان کردیا کہ میں ان تمام معبودان باطلہ سے قطعی طور پر بری و بیزار اور لاتعلق ہوں جن کی پوجا پاٹ تم لوگ کرتے ہو۔ اور میں نے ان سے کٹ کر اور قطعی طور پر ان سے الگ ہو کر اپنے آپ کو اپنے اس رب کے حوالے کردیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو پیدا فرمایا اور اس کو وجود بخشا ہے کہ وہی ہے معبود برحق جو ہر قسم کی عبادت و بندگی کا حقدار ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayahs 6:81–82

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

اور (آخر) میں ان چیزوں سے کیوں ڈروں جن کو تم لوگوں نے خدا کا شریک ٹہہرا رکھا ہے، جب کہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو ایسی چیزوں کو جن کے لئے اللہ نے تم پر کوئی سند نہیں اتاری ؟ تو (تم ہی بتاؤ کہ ایمان و کفر کے) ان دونوں گروہوں میں سے کون زیادہ حق دار ہے امن کا اگر تم جانتے ہو ؟

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے آلودہ نہیں کیا اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ، انہی کے لیے ہے امن، اور وہی ہیں سیدھی راہ پر

146 غیر اللہ سے ڈرنا محض توہم پرستی ہے : سو حضرت ابراہیم نے ان لوگوں سے فرمایا کہ میں ان بےحقیقت چیزوں سے کیسے ڈروں جن کو تم نے اس خدا کا شریک ٹھہرا دیا ہے جو کہ خالق ومالک، معبود برحق، قادر مطلق اور وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کا کوئی شریک ہے نہ ہوسکتا ہے۔ تو ایسے میں تمہارے ان خودساختہ شریکوں سے ڈرنا محض توہم پرستی ہے جن کی کوئی حقیقت اور بنیاد سرے سے ہے ہی نہیں۔ بلکہ ڈرنا صرف اس اللہ سے چاہیے جو کہ سب کا خالق ومالک ہے اور جس کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہر چیز کی باگ ڈور اور ہر قسم کا نفع و نقصان ہے۔ پس ہمارا بھروسہ اسی پر ہے اور ہر مومن کا بھروسہ اسی پر ہونا چاہیے کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لا شریک ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی۔ اور نفع و نقصان کے تمام اختیارات بھی اسی وحدہ لا شریک کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ اسی لیے عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ ہر قسم کے نفع کی امید بھی اسی سے رکھی جائے اور نقصان کا خوف بھی اسی سے رکھا جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - 147 شرک کیلئے کوئی سند ہوسکتی ہی نہیں : سو حضرت ابراہیم نے ان سے فرمایا کہ تم لوگوں نے ایسی چیزوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے کوئی سند نہیں اتاری۔ کسی بھی طرح کی کوئی سند۔ نہ عقل کی نہ نقل کی۔ بھلا شرک اور مشرک کے لیے کوئی سند اور دلیل ہو ہی کیا سکتی ہے جبکہ معبود برحق صرف اللہ وحدہٗ لاشریک ہے ؟ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہاً اٰخر لَا بُرْھَانَ لَہ بہٖ } ۔ (المومنون : 117) ۔ بھلا جس چیز کی سرے سے کوئی اساس و بنیاد ہی نہ ہو اس کی کوئی سند اور دلیل ہو ہی کس طرح سکتی ہے ؟ سو مشرک لوگ جن چیزوں کا سہارا لیتے ہیں وہ محض اوہام و ظنون کا پلندہ ہوتا ہے اور بس ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس کے برعکس عقیدئہ توحید عقل سلیم اور فطرت مستقیم کے تقاضوں کے عین مطابق اور حق و حقیقت کے ٹھوس اصولوں پر مبنی ہے جس سے انسان کو داخلی استحکام اور سکون و اطمینان کی دولت سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے اور وہ حق و حقیقت کی اس راہ پر گامزن ہوجاتا ہے۔ اور وہ راہ حق و ہدایت سے سرفراز کرنے والی واحد راہ ہے۔ 148 امن وامان کا حقدار کون ؟ : سو حضرت ابراہیم نے ان لوگوں کے ضمیروں پر دستک دیتے ہوئے ان سے فرمایا کہ بتاؤ ایمان وکفر کے ان دونوں گروہوں میں سے کون زیادہ حق دار ہے امن کا ؟ ہم جو کہ ایک اللہ کو مانتے اور اسی کی بندگی کرتے ہیں یا تم جو کہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو ؟ یعنی ایک فریق تو اہل توحید کا ہے جو اللہ وحدہ لاشریک ہی کی بندگی کرتے ہیں جو کہ معبود برحق ہے اور دوسرا فریق اہل کفر و شرک کا ہے جنہوں نے طرح طرح کے خودساختہ معبود بنا رکھے ہیں۔ اب تم ہی لوگ بتاؤ کہ ازراہ عدل و انصاف ان دونوں میں سے کونسا فریق امن کا زیادہ حقدار ہے اور کونسا نہیں ؟ سو عقل و نقل کی روشنی کے مطابق امن وامان کے حقدار وہی لوگ ہیں اور وہی ہوسکتے ہیں جو توحید پر قائم اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayahs 6:83–87

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

اور یہ تھی ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیم کو عطا کی تھی ان کی قوم کے مقابلے میں ہم جس کے چاہیں درجے بلند کردیتے ہیں، بلاشبہ تمہارا رب بڑا ہی حکمت والا، سب کچھ جانتا ہے،1

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور ہم ہی نے عطا کیا تھا ابراہیم کو اسحاق (جیسا بیٹا) اور یعقوب (جیسا پوتا) ان میں سے ہر ایک کو ہم نے سرفراز کیا تھا ہدایت سے اور نوح کو بھی ہم نے اس سے پہلے ہدایت بخشی تھی، اور ان (یعنی ابراہیم) کی اولاد میں سے داؤد، سلیمٰن، ایوب یوسف اور موسیٰ و ہارون کو بھی اور ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو2

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا، یحیٰی، عیسیٰ اور الیاس کو بھی (ہم نے ہدایت و نبوت کے نور سے سرفراز کیا تھا) یہ سب (ہمارے قریب خاص کے) سزاواروں میں سے تھے،

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور اسماعیل، یسع و یونس اور لوط کو بھی اور ان سب کو ہم نے (اپنے اپنے دور میں) فضیلت بخشی تھی سب جہانوں پر،

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور ان کے باپ دادوں، ان کی اولادوں، اور ان کے بھائیوں میں سے بھی بعض کو، (ہم نے اس دولت سے نوازا تھا) ان سب (مذکورین) کو ہم نے چنا اور ان کو سیدھی راہ کی ہدایت بخشی،

151 عطا و بخشش اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور ہوسکتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم جس کے چاہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ پس بزرگی و کمال دراصل ہماری عطا و بخشش ہی پر موقوف ہے نہ کہ انسان کے اپنے کسب و اختیار پر۔ اور سب سے بڑا درجہ و مرتبہ جو کسی انسان کے لئے ممکن ہوسکتا ہے وہ ہے نبوت و رسالت کا مرتبہ و مقام۔ جو کہ محض اللہ پاک کا عطیہ و احسان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لئے وہی بہتر جانتا ہے کہ اس شرف و مرتبہ سے کس کو مشرف و سرفراز فرمائے ۔ { اَللّٰہُ اَعْلُمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ } ۔ اور انبیاء و رسل اس سب سے بڑے درجہ و مرتبہ سے سرفراز ہونے کے باوجود اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے ہوتے بہرحال بشر ہی ہیں۔ اور نفس بشریت میں وہ دوسروں کے مثل و مساوی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہمارے حضور کو حصر و تاکید کے ساتھ اس حقیقت کے اظہار وبیان کا حکم و ارشاد اللہ پاک کی طرف سے قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ { قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِِّثْلُکُمْ یُوْحٰیٓ اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ } ۔ " کہو سوائے اس کے نہیں کہ میں تو ایک بشر ہوں تم ہی جیسا، میری طرف یہ وحی کی جاتی کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے "۔ اور وحی کے اس شرف و امتیاز کی وجہ سے میرا درجہ و مرتبہ تو تم سب سے بڑھ کر ہے لیکن اصل بشریت میں بہرحال میں تم ہی جیسا ایک بشر ہوں۔ پس اس کے برعکس اہل بدعت کے بعض بڑوں کا اس موقع پر اپنے حواشی تفسیریہ[ بلکہ تحریفیہ ] میں یہ کہنا کہ کوئی نبی کی مثل نہیں ہوتا۔ اگر وہ ہماری مثل ہوں تو اس آیت کے خلاف ہوگا، سراسر باطل و مردود ہے۔ اور ایسا کہنا اس آیت کے خلاف ہونے کا سوال ہی نہیں۔ البتہ موصوف کی اس خانہ ساز منطق اور ذہنی اپج سے سورة کہف کی مذکورہ بالا آیت کریمہ اور اس طرح کی دوسری آیات کریمہ کی صریح اور کھلم کھلا مخالفت اور خلاف ورزی ضرور لازم آتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہماری وہ حجت ہے جو ہم نے حضرت ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا فرمائی تھی اور ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کردیتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ نہایت علم اور حکمت پر مبنی ہوتا ہے کہ تمہارا رب بڑا ہی حکیم اور علیم ہے۔ وہ جو کچھ کرتا ہے علم وحکمت کے تقاضوں کے عین مطابق ہی کرتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 6:88

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ (جس کا ذکر ہوا) اللہ کی ہدایت ہے جس کے ذریعے وہ راہنمائی فرماتا ہے جس کی چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور اگر (بالفرض) یہ حضرات بھی شرک کرتے تو یقیناً اکارت چلے جاتے ان کے وہ سب عمل جو یہ کرتے رہے تھے3

154 طلب صادق وسیلہ سرفرازی : سو ہدایت سے سرفرازی کیلئے بنیادی شرط طلب صادق ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ذریعے وہ راہنمائی فرماتا ہے جس کی چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے۔ کہ نور حق و ہدایت سے سرفرازی کیلئے اولین اساس اور بنیادی شرط طلب صادق ہے۔ اللہ پاک اسی پر نوازتا ہے کہ وہ ہر ایک کی نیت و ارادے سے بھی واقف ہے اور ان کی اہلیتوں اور صلاحیتوں کو بھی پوری طرح جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہی اللہ کی ہدایت ہے جو ان تمام انبیائے کرام کو اور ان کی پیروی کرنے والوں کو نصیب ہوئی۔ یہی اللہ کی ہدایت ہے جو انسان کو حق و ہدایت کی سیدھی راہ سے سرفراز کرتی ہے۔ اس کے سوا باقی جتنی بھی راہیں ہیں وہ سب ہی شیطان کی نکالی ہوئی اور ٹیڑھی راہیں ہیں جو انسان کو منزل مقصود تک پہنچانے اور اس کو حقیقی فوز و فلاح سے سرفراز کرنے کی بجائے اس کو اور دور اور محروم کرتی ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں ایسا شخص دارین کے خسارے میں مبتلا ہو کر { خَسِرَ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃَ } کا مصداق بن جاتا ہے جو کہ بڑا ہی ہولناک خسارہ اور خسران مبین ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 155 شرک کی سنگینی اور خطورت کا ایک خاص پہلو : سو اس سے شرک کی سنگینی اور اس کی خطورت کا یہ خاص پہلو سامنے آتا ہے کہ اس سے تمام اعمال اکارت چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ حضرات انبیائے کرام کی قدسی صفت ہستیاں بھی اگر بالفرض شرک کے اس جرم عظیم کا ارتکاب کرتیں تو ان کے اعمال بھی اکارت چلے جاتے۔ ان کی اس قدر علو مرتبت اور بلندی شان کے باوجود۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شرک کس قدر سنگین جرم اور کتنا بڑا گناہ ہے۔ کیونکہ تزکیہ نفوس اور قبولیت عنداللہ کا تمام دارومدار توحید پر ہے۔ اور شرک اس عقیدے کی ضد اور انسان کے قلب و باطن کو بگاڑ دینے والی اور اس کی فطرت کو تباہ کرنے والی چیز ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر بالفرض یہ لوگ بھی کبھی شرک کا ارتکاب کرلیتے تو ان کی اس تمامتر بلندی درجات کے باوجود ان کے سب عمل اکارت چلے جاتے اور محض اس بنا پر ان کو کوئی چھوٹ نہ ملتی کہ یہ حضرت نوح یا ابراہیم کی اولاد ہیں۔ سو اس سے شرک کے جرم عظیم کی سنگینی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ شرک کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 6:89

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہ ہیں وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی تھی، اور جن کو ہم نے نوازا تھا حکم اور نبوت سے بھری پس اگر (اس سب بیان اور توضیح کے باوجود) یہ لوگ (اہل مکہ) آپ کی نبوت کا انکار ہی کرتے ہیں، تو (آپ اس کی کوئی پرواہ نہ کریں کہ) ہم نے اس کے لئے ایسے لوگ مقرر کردیئے ہیں جو اس کے منکر نہیں،4

156 " کتاب " اور " حکم " سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب بھی دی تھی اور ان کو حکم نبوت سے بھی نوازا تھا۔ سو " الکتاب " سے یہاں پر مراد جنس کتاب ہے جو ہر آسمانی کتاب کو عام اور شامل ہے۔ (جامع البیان، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سو حضرات انبیائے کرام کو تورات، انجیل، زبور اور صحف ابراہیم اور صحف موسیٰ وغیرہ مختلف کتابوں سے اپنے اپنے دور میں نوازا گیا تاکہ وہ دنیا کو پیغام حق و ہدایت سے سرفراز کرسکیں۔ اور " حکم " سے مراد علم اور دین کی فقہ و سمجھ ہے۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ تاکہ وہ اس کی روشنی میں دنیا کو مستفید و سیراب کرسکیں اور ان کے فساد و بگاڑ کی اصلاح کرسکیں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب حکم اور نبوت کی نعمتوں سے نوازا اور انہوں نے ان نعمتوں کی قدر کی۔ سو کتاب اور حکم کی عنایت و نوازش قدرت کا ایک عظیم الشان انعام و احسان ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے نوازتا ہے۔ اس لیے یہاں پر حضرات انبیاء و رسل کے انعامات میں سے ان کا بطور خاص ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو اس کا تقاضا ہے کہ ان نعمتوں کی صدق دل سے قدر کی جائے اور زندگی کے تمام معاملات میں ان کو حکم اور منصف مانا جائے۔ 157 کافروں کے کفر کا وبال خود انہی پر : سو پیغمبر کو تسلی دی گئی کہ یہ لوگ اگر حق قبول نہیں کرتے تو اس سے دین حق کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا بلکہ یہ اپنا ہی نقصان کریں گے۔ پس آپ کو اس کی کوئی فکر و پروا نہیں ہونی چاہیئے۔ پس آپ ان کے کفر و انکار پر صبر و برداشت ہی سے کام لیتے رہیں۔ یہ اپنے کفر و انکار کا بھگتان خود ہی بھگتیں گے اور اپنے اس کفر و انکار سے ایسے لوگ خود اپنی ہی ہلاکت و بربادی کا سامان کریں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَا یزیْدُ الْکٰفِرِیْنَ کُفْرُھُمْ اِلَّا خَسَارًا } ۔ (فاطر : 39) ۔ یعنی کافروں کے کفر سے ان کے خسارے میں اضافہ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس عظیم الشان نعمت سے سرفرازی کا تقاضا یہ تھا کہ یہ لوگ دل و جان سے اس کی قدر کرتے مگر انہوں نے اس کے برعکس ناشکری اور کفران نعمت سے کام لے کر خود اپنے لئے نقصان اور خسارے کا سامان کیا۔ پس آپ ان کا غم نہ کریں۔ ان سے ہم خود ہی نمٹ لیں گے۔ انہوں نے لوٹ کر بہرحال ہمارے ہی پاس آنا ہے ۔ { وَمَنْ کَفَرَ فلَا یَحْزُنْکَ کُفْرُہُ ، اِلَیْنَا مَرْجِعُہَُمْ فَنَنُبِّأُہُمْ بِّمَا عَمِلُوْا } ۔ (لقمان : 23) ۔ اللہ کفر و کفران نعمت کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 158 دین کسی کا محتاج نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ انکار ہی کرتے گئے تو دین حق کا کچھ نہیں بگاڑیں گے بلکہ خود اپنا ہی نقصان کریں گے کہ ہم نے اس دین کی خدمت کے لئے ایسے لوگ مقرر کردیئے ہیں جو اس کے منکر نہیں، بلکہ وہ اس دین حق کے سچے خادم اور قدر دان ہوں گے۔ یعنی انصار و مہاجرین اور دوسرے تمام اہل حق جو ان کے بعد ان کے نقش قدم پر چلتے رہے کہ ارشاد ربّانی کا عموم ان سب ہی کو شامل ہے۔ سو ان کلمات کریمہ کے عموم کے ساتھ اس حقیقت کو آشکارا فرمایا گیا کہ دین حق کسی کا محتاج نہیں بلکہ دنیا اس کی محتاج ہے۔ جو لوگ صدق و اخلاص سے اس کی خدمت وسعادت سے مشرف و بہرہ ور ہوں گے وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور ہوں گے۔ اور جو اس سے منہ موڑے رہیں گے وہ خود ہی اپنی ہلاکت و محرومی کا سامان کریں گے۔ اور تاریخ کے ہر دور میں اس کے شواہد مختلف صورتوں میں نظر آتے ہیں۔ شاعر مشرق نے کیا خوب کہا ہے ۔ ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے ۔ پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے ۔ سو اس ارشاد سے جہاں ایک طرف حضرات صحابہ کرام کے صدق و اخلاص اور ان کی استقامت کا پتہ چلتا ہے وہیں دوسری طرف اس میں مستقبل میں امت کی کثرت کی پیشینگوئی بھی ہے۔ سو اس پہلو سے یہ آنحضرت ﷺ کے لئے ایک عظیم الشان بشارت ہے جس سے آپ کو اس دور میں نوازا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کے لیے دوسرے اعوان و انصار مقرر فرما دے گا ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 6:90

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

ان حضرات کو (جن کا ذکر ہوا) اللہ نے (براہ راست) اپنی ہدایت سے نوازا تھا پس تم انہی کی ہدایت کی، پیروی کرو، (ان سے) کہو کہ میں (تبلیغ حق کے) اس کام پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا یہ تو محض ایک عظیم الشان نصیحت ہے سب جہانوں کے لئے1

159 سلامتی و نجات کی راہ اہل حق کی پیروی و اتباع : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم انہی حضرات کی ہدایت کی پییروی کرو کہ سلامتی کی راہ یہی ہے کہ اہل حق کی پیروی کی جائے۔ پس تم اس راہ حق و صواب پر پکے رہو اور انہی کی طرح صبر و ثبات اور استقلال اور استقامت سے کام لو کہ کامیابی کی راہ بہرحال یہی ہے کہ اہل حق اور اصحاب صدق و صفا کی پیروی و اتباع کی جائے۔ جن میں سرفہرست حضرات انبیائے کرام کی وہ قدسی صفت ہستیاں ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے کہ وہ براہ راست حق تعالیٰ کی حفاظت میں اور ہر خطا و قصور سے معصوم ہوتے ہیں۔ پھر وہ تمام حضرات جو ان کی سچی پیروی اور اتباع کرتے ہیں۔ اور وہ خواہشات نفس کی پیروی کی بجائے ہدایت وحق کی پیروی کرتے ہیں۔ سو سلامتی و نجات کی راہ حق اور اہل حق کی اتباع ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 160 قرآن حکیم ایک عظیم الشان نصیحت : اور ایسی عظیم الشان نصیحت کہ جو انسان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے۔ پس جو اس کو قبول کرے گا اس کا اپنا بھلا اور جس نے اس سے منہ موڑا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ میرا یا میری طرف سے پیش کردہ اس عظیم الشان نصیحت کا تو بہرحال کوئی نقصان نہیں۔ یہ بہرحال ایک ایسی عظیم الشان اور بےمثال نعمت ہے جسکو دنیا جہاں کے سب لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کیلئے نازل فرمایا گیا ہے جسکی روشنی و راہنمائی سے محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ قرآن حکیم کے لئے { ذکریٰ } کے اس لفظ کے استعمال سے دو اہم اور بنیادی حقیقتوں کی طرف اشارہ فرما دیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ یہ کتاب حکیم جو کچھ کہہ اور بتارہی ہے وہ کوئی انوکھی اور اوپری چیز نہیں۔ بلکہ یہ در اصل انہی حقائق کی تذکیر و یاد دہانی ہے جو انسان کی فطرت کے اندر ودیعت ہیں۔ لیکن لوگوں نے ان کو اپنی خواہشات اور طرح طرح کی بدعات کے نیچے دبا دیا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ یہ کتاب حکیم در اصل اسی ہدایتِ الٰہی کی تذکیر و یاد دہانی کرا رہی ہے جس کو حضرت نوح، ابراہیم اور دوسرے تمام انبیائے کرام لے کر آئے ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ نسبت کے دعویداروں نے اس کی ہدایت کی جگہ مختلف ضلالتیں اور گمراہیاں ایجاد کرلیں۔ نیز اسی کے ذیل میں یہ بات بھی آتی ہے کہ یہ کتاب حکیم ان لوگوں کو بھی ان کے ہولناک انجام سے خبردار کرتی ہے جو اس کی متعین کردہ راہ حق و ہدایت سے منہ موڑ کر اہواء و اَغراض کے پیچھے چلتے ہیں۔ ان کو اس کا بھگتان نہایت ہی ہولناک صورت میں بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 6:91

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور قدر نہیں کی ان لوگوں نے اللہ (پاک) کی، جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا، جب کہ انہوں نے کہا کہ اللہ نے کسی بھی انسان پر کچھ بھی نہیں اتاراف 2 پوچھو کہ کس نے اتاری وہ کتاب جس کو موسیٰ سے لے آئے تھے ؟ ، ایک عظیم الشان روشنی اور سراسر ہدایت کے طور پر (اپنے زمانے کے) سب لوگوں کیلئے، جس کو تم لوگوں نے اب ورقے ورقے کر رکھا ہے، کچھ کو تم ظاہر کرتے ہو، اور بہت کچھ تم چھپا جاتے ہو، حالانکہ (اس کے ذریعے) تمہیں وہ کچھ سکھایا گیا جو نہ تم جانتے تھے نہ تمہارے باپ دادا، کہو اللہ ہی ہے (اتارنے والا پھر انھیں چھوڑ دو ، کہ یہ اپنی بیہودگی میں پڑے کھیلتے رہیں،3

161 عناد اور ہٹ دھرمی کے اندھے پن کا ایک مظہر و نمونہ : کہ ان لوگوں نے ا اہل کتاب ہونے کے باوجود للہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔ ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر۔ اور نبوت و رسالت کا انکار کرتے ہوئے۔ سو یہ ضد اور ہٹ دھرمی کا ایک شاخسانہ ہے کہ اس کی بنا پر انسان بعض اوقات بلکہ بسا اوقات اپنے اس اصل دین و ایمان کا بھی منکر ہوجاتا ہے جسکے ماننے کا وہ دعویدار ہوتا ہے۔ چناچہ یہاں بھی اسکا یہ نمونہ سامنے آتا ہے کہ یہود جو اپنے دین اور اپنی کتاب پر ایمان کے دعویدار تھے وہ جب اس دین حنیف اور قرآن مجید کے انکار پر اتر آئے، اس کے بعد کہ حق پوری طرح ان کے لئے واضح ہوچکا تھا، تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ اور وہ کہنا یہ چاہتے تھے کہ محمد ۔ ﷺ ۔ پر کوئی کلام وغیرہ نہیں اتارا گیا کہ دین کے اصل ٹھیکیدار تو ہم ہیں۔ یعنی بنی اسرائیل۔ جن کے اندر اس سے پہلے کے تمام انبیائے کرام مبعوث ہوئے۔ لیکن چونکہ اس طرح صاف طور پر یہ بات کہنا ان کیلئے مشکل تھا کیونکہ اس طرح کرنے سے عربوں کی رگ عصبیت پھڑک سکتی تھی کہ یہ یہود محض نسلی تعصب کی بنا پر ہمارے پیغمبر کا انکار کرتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے یوں کہا کہ ۔ { مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنْ شَیْئٍ } ۔ یعنی اللہ نے کسی بھی انسان پر کچھ بھی نہیں اتارا۔ اور اس طرح ان لوگوں نے اپنی اس کتاب اور وحی کا بھی انکار کردیا جس پر ایمان کا وہ لوگ دعویٰ اور گھمنڈ رکھتے تھے۔ اسی پر ان لوگوں کی اس ارشاد ربّانی میں گرفت فرمائی گئی۔ اور یہ حقیقت واضح فرما دی گئی کہ عناد و ہٹ دھرمی سے انسان کس قدر اندھا اور اوندھا ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس بارے ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے اہل کتاب ہونے کے باوجود ایسی بات کہہ کر اللہ کی ناقدری کی اور انہوں نے اس کی قدردانی کا وہ ثبوت نہیں دیا جو کہ ان کو اس وحدہ لا شریک کے حق میں دینا چاہئے تھا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ عناد اور ہٹ دھرمی کے اندھے پن کا ایک نمونہ و مظہر ہے ۔ والعیاذ باللہ - 162 یہود کے قول باطل کی تردید کے لیے ان سے سوال : یعنی تم لوگ جو کہتے ہو کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نہیں اتاری تو پھر تم بتاؤ کہ اس کتاب کو کس نے اتارا تھا جس کو حضرت موسیٰ لے کر آئے تھے ؟ یعنی تورات کو۔ جس کو تم لوگ بھی مانتے ہو اور اس پر ایمان کے تم لوگ مدعی اور دعویدار ہو۔ اور جو اپنے دور میں حق و ہدایت کا پیغام اور نور کا سامان تھی۔ اور ظاہر ہے کہ جب اس کو اللہ تعالیٰ ہی نے اتارا تو پھر تم لوگ اس قدر اندھے اور اوندھے کیوں ہوگئے کہ تم نے یہاں تک کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بھی بشر پر کوئی بھی چیز نہیں اتاری ؟ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نہیں اتاری تو ان سے پوچھو کہ اس کتاب کو کس نے اتارا تھا جس کو موسیٰ لے کر آئے تھے اور جو اس دور کے لئے نور اور ہدایت کا پیغام تھی ؟ اور جس کے ماننے کا دعویٰ تم بھی کرتے ہو۔ ظاہر ہے کہ اس کا ان لوگوں کے پاس کوئی جواب نہیں تھا سوائے خاموشی شرمندگی اور رسوائی کے۔ سو اس طرح ان کے اس قول باطل کی تردید بھی ہوگئی اور ان کی تخجیل و رسوائی بھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 163 یہود کے تورات سے سلوک کا ایک نمونہ : سو ان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اپنی اس کتاب ہدایت کو تم لوگوں نے ورقے ورقے کر رکھا ہے۔ جو تمہاری خواہش اور مرضی کے مطابق ہوتے ہیں ان کو تم مانتے اور اپناتے ہو کہ تمہارا تو اصل دین ہی خواہشات کی پیروی کرنا ہے اور بس۔ اور جو تمہاری خواہش ومرضی کے خلاف ہوتے ہیں ان کا تم انکار کرتے اور انکو پس پشت ڈال دیتے ہو۔ سو کتاب کے کچھ حصوں کو ماننا اور کچھ کو نہ ماننا یہود کا ایک اجتماعی مرض اور قومی روگ تھا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَفَتُوْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَ تَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ } ۔ (البقرۃ : 85) ۔ یعنی " کیا تم لوگ کتاب کے کچھ حصوں کو مانتے ہو اور کچھ کا انکار کرتے ہو "۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے خواہشات نفس کی پیروی کا۔ افسوس کہ اس یہودی مرض کے مظاہر اور نمونے امت مسلمہ کے اندر بھی جابجا اور طرح طرح سے نظر آتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ دین حنیف اور کتاب حکیم کے کتنے ہی احکام و ارشادات ہیں جو صریح اور واضح ہیں مگر ان کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور عملی مخالفت سے آگے بڑھ کر ان کے بارے میں طرح طرح سے تاویلات اور تحریفات کا ارتکاب کیا جا رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہود بےبہبود کی اس تحریف وتلبیس کے ذکر وبیان میں ایسے مسلمانوں کے لئے بڑا سامان عبرت ہے کہ وہ اس یہودی مرض اور اس کے جراثیم سے بچیں۔ اور اس سے کنارہ کشی اختیار کریں۔ ورنہ اس انجام کے لئے تیار ہوجائیں جو ان کو بھگتنا پڑے گا کہ اللہ کا قانون بےلاگ اور سب کے لئے یکساں ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ مِنْ کُلِّ زَیْغٍ وَّ ضَلَال وَّ سُوْء وَّاِنْحِرَاف۔ 164 قرآن حکیم اور تورات میں ایک اہم فرق : کہ تورات کو ان لوگوں نے ورقے ورقے کر رکھا تھا۔ سو ان سے فرمایا گیا کہ تم لوگ اے گروہ یہود اپنی کتاب کے ان بہت سے حصوں کو چھپاتے ہو جو تمہاری خواہش ومرضی کے خلاف ہوتے ہیں۔ جیسا کہ رجم کا حکم اور آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کی نعوت وصفات وغیرہ۔ اور اس طرح تم لوگ کتمانِ حق اور اخفائے حق کے جرم کا ارتکاب کرتے ہو۔ واضح رہے کہ تورات اس طرح یکجا طور پر موجود نہیں تھی جس طرح کہ قرآن حکیم یکجا طور پر موجود ہے۔ بلکہ یہودیوں نے تورات کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کر رکھا تھا جن میں سے اپنی منشا اور خواہش کے مطابق وہ لوگ جسکو چاہتے ظاہر کردیتے اور جسکو چاہتے چھپا دیتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بخلاف اس کے کہ قرآن حکیم اول سے آخر تک پورے کا پورا یکجا طور پر کتابی شکل میں موجود ہے۔ اس کے کسی حصے کو چھپانا ممکن نہیں۔ اس لئے یہ جیسے نازل ہوا تھا ویسے ہی آج تک محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا ۔ انشاء اللہ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جبکہ تورات کو یہود بےبہبود نے ورقے ورقے کر رکھا تھا۔ جس کے کچھ حصے کو وہ لوگ ظاہر کرتے تھے اور زیادہ کو چھپالیا کرتے تھے۔ اور اس طرح وہ اپنی محرومی کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی حق و ہدایت کی روشنی سے محروم کرنے کے سنگین جرم کا ارتکاب کرتے تھے۔ اور ضلال کے ساتھ اضلال کے بھی مرتکب ہوتے تھے اور ہدایت کی روشنی کو گل کرنا تو بذات خود ایک سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 165 یہودیوں کی احسان فراموشی کا ایک اور نمونہ : سو یہود کو خطاب کر کے ان سے فرمایا گیا کہ اس کتاب کے ذریعے تم لوگوں کو وہ عظیم الشان علوم سکھائے گئے جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ سو اس طرح وہ کتاب تمہاری عظیم محسن قرار پاتی ہے۔ مگر تمہاری محسن کشی اور احسان فراموشی کی قدیم عادت کا یہ شاخسانہ ہے کہ تم نے اس کے بھی اس طرح حصے بخرے کر دئے۔ سو تورات تمہارے پاس روشنی کا ایک ایسا ذریعہ بن کر آئی تھی کہ تم اس کو صحیح جگہ رکھ کر اپنے گھر کیلئے روشنی کا سامان کرتے مگر تم نے اس کے نور کو چھپا کر اندھیروں کو اپنایا۔ اور اپنی بدبختی اور حرمان نصیبی کی سیاہی کو اور پکا کیا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:92

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

اور (اسی طرح) یہ ایک عظیم الشان برکتوں بھری کتاب ہے، جسے ہم نے (اب) اتارا ہے، جو تصدیق کرنے والی ہے ان کتابوں کی جو کہ اس سے پہلے آچکی ہیں (تاکہ دنیا اس کی برکتوں سے مالا مال ہو) اور تاکہ آپ (اس کے ذریعے) خبراد کریں بستیوں کے مرکز (مکہ مکرمہ کے باشندوں) کو، اور ان سب کو جو اس کے گرد ہیں اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور وہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں4

166 قرآن حکیم ایک انتہائی مبارک کتاب : سو قرآن حکیم ایک ایسی عظیم الشان اور مبارک کتاب ہے جس کی برکتوں کا کوئی کنارہ نہیں۔ یعنی " کتاب " سے یہاں پر مراد قرآن حکیم ہے جس کی رحمتوں اور برکتوں کا کوئی کنارہ نہیں۔ جس کی سچی اور مبارک و مقدس تعلیمات انسان کو اس دنیا میں حیات طیبہ اور پاکیزہ زندگی سے نوازتی ہیں اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں بھی نعیم مقیم سے سرفراز کرتی ہیں۔ سو یہ ایسی برکتوں بھری کتاب ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے نوازتی اور سرفراز کرتی ہے۔ اور اس سے اعراض اور محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہی وہ کتاب عظیم ہے جس کی بشارت و پیشینگوئی اس سے پہلے حضرت موسیٰ اور عیسیٰ سب ہی پیغمبروں نے دی۔ سو یہ انہی بشارتوں اور پیشینگوئیوں کا ظہور اور ان کی تصدیق ہے۔ پس اس پر ایمان لانا عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے۔ 167 قرآن حکیم گزشتہ آسمانی کتابوں کی تصدیق : اور قرآن حکیم کی تصدیق سابقہ آسمانی کتابوں کیلئے ایک تو اس طرح ہے کہ پہلی کتابوں میں اس کے بارے میں پیشینگوئی کی گئی تھی کہ نبی آخر الزمان آئیں گے اور ایسی نئی کتاب اور نئی شریعت لائینگے جو انسان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہوگی۔ تو اس طرح اس کتاب حکیم کا نفس نزول ہی ان کتابوں کی تصدیق ہے۔ اور دوسرے اس طرح کہ اس کتاب حکیم میں بھی انہی اصول و مبادی کی تعلیم دی گئی ہے جن کی ان کتابوں میں دی گئی تھی۔ اور تیسرے اس طرح کہ یہ کتاب اس کی تصریح کرتی ہے کہ وہ سابقہ کتب بھی اللہ کی طرف سے اتاری جانے والی کتابیں تھیں اور ان میں بھی ہدایت و نور تھا۔ اور اپنے اپنے دور میں ہدایت و نور کا سرچشمہ وہی کتابیں تھیں۔ سو اب یہ کتاب حکیم اس عالمگیر خیر و برکت کا منبع و سرچشمہ بن کر آئی ہے جس نے قیامت تک باقی رہنا ہے اور اس کے نزول کے بعد ہدایت و نور سے سرفرازی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ سابقہ آسمانی کتابوں کی ہدایت اب سرے سے باقی رہی ہی نہیں۔ 168 قرآن حکیم کی روشنی سب دنیا جہاں کیلئے : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا کیا کہ قرآن حکیم کی روشنی سب دنیا جہاں کے لیے ہے کہ ۔ { وَمَنْ حَوْلَہَا } ۔ کا عموم ان سب کو شامل ہے۔ سو قرآن حکیم کی روشنی سب دنیا جہاں کیلئے ہے۔ اور اس روشنی سے فیضیاب ایمان والے ہی ہوتے ہیں کہ پورے کرئہ ارضی میں وہی ہیں جو آخرت کی باز پرس سے ڈرتے ہیں۔ اور اس بناء پر وہ صدق دل سے حق کی جانب رجوع کرتے ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں وہ ایمان و یقین کے اس نور سے بہرہ ور و سرفراز ہوتے ہیں جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار کرتا ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو قرآن حکیم کی اس کتاب مبارک کو ایک تو اس لئے اتارا گیا کہ یہ اس عالمگیر رحمت و برکت کی بشارت ہو جس کی پیشینگوئی پہلے کے آسمانی صحیفوں میں موجود ہے۔ اور دوسرے اس لئے کہ اس کے ذریعے امُّ القریٰ اور اس کے ارد گرد کے تمام لوگوں کے لیے انذار کا سامان ہو اور ان پر اتمام حجت ہوجائے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ-