6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 6:108

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور تم گالی مت دینا (اے مسلمانو ! ) ان کو جن کو (پوجتے) پکارتے ہیں یہ (مشرک) لوگ، کہ کہیں اس کے جواب میں یہ گالیاں نہ بکنے لگیں اللہ (پاک) کو (ظلم و) زیادتی کی بنا،4 پر بغیر کسی علم کے اسی طرح خوشنما بنادیا ہے ہم نے ہر گروہ کے لئے اس کے لئے اس کے عمل کو، اخر کار ان سب کو لوٹ کر بہر حال اپنے رب ہی کے حضور پہنچنا ہے تب وہ بتا دیگا ان کو وہ سب کچھ جو یہ لوگ کرتے رہے تھے (زندگی بھر)

206 مسلمانوں کو مشرکین کے معبودوں کو برا بھلا کہنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ گالی مت دو ان کو جن کو یہ مشرک لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا کہ کہیں اس کے نتیجے میں یہ لوگ اللہ کو گالی نہ بکنے لگیں۔ لیکن ظلم و زیادتی کی بنا پر بغیر کسی علم کے۔ سو اس ارشاد سے حضر تِ حق ۔ جل مجدہ ۔ کی عظمت شان سے متعلق ایک ادب منیع کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی کہ تم مشرکوں کے معبودوں کو برا بھلا مت کہو کہ اس کے نتیجے میں وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں برا بھلا کہنے پر اتر آئیں بغیر کسی علم کے۔ اللہ پاک کی عظمت شان اور قدوسیت کے بارے میں جیسا کہ مشرکین نے کہا تھا کہ اگر تم ہمارے معبودوں کو برا کہنے سے باز نہ آئے تو ہم تمہاے خدا کو گالی دیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ (روح، ابن کثیر، جامع البیان وغیرہ) ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ بعض اوقات دینی مصلحت کی بناء پر کسی جائز اور مباح کام کو چھوڑ دینا بھی ضروری ہوجاتا ہے جب کہ اس پر کسی بڑے فتنہ و فساد کے مرتب ہوجانے کا اندیشہ ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ علم کی روشنی سے محرومی انسان کو طرح طرح کی ہولناک ہلاکتوں سے دوچار کردیتی ہے۔ اسی لیے یہاں بغیر علم کی تصریح فرمائی گئی ہے کہ حضرت حق ۔ جَلَّ مَجْدُہٗ ۔ کی ذات اقدس و اعلیٰ کے بارے میں ایسی کافرانہ اور باغیانہ جسارت ایسے ہی بدبخت کرسکتے ہیں جو نور علم کی دولت سے محروم ہوں مگر علم سے مراد حق اور حقیقت سے آگہی بخشنے والا وہی علم ہے جو کہ حقیقت میں علم ہے نہ کہ وہ رسمی، رواجی اور ظاہری علم جو مادیات اور محسوسات ہی تک محدود ہے کہ وہ علم درحقیقت { لَایُسْمِنُ وَلَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ } کے درجے میں ہے اور بس۔ اس لئے حق اور حقیقت کے علم کے مقابلے میں وہ علم علم کہلانے کا مستحق ہی نہیں، جیسا کہ ابنائے دنیا نے سمجھ رکھا ہے۔ 207 ہر گروہ کے لئے اس کے عمل کو خوشنما بنادیا گیا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح ہم نے خوشنما بنادیا ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو جس کی بنا پر وہ اپنے عمل ہی کو اچھا سمجھتا ہے۔ سو اس سے ایک عظیم الشان سنت کونیہ کو بیان فرمایا گیا ہے کہ ہر گروہ کیلئے اس کے عمل کو خوشنما بنادیا جاتا ہے۔ چناچہ اہل حق کو ایمان و اطاعت کا طریقہ اچھا لگتا ہے جو کہ اصل میں اور حق و حقیقت کے اعتبار سے ہے ہی اچھا۔ اور ایسا اچھا کہ دارین کی سعادت و سرخروئی کا ضامن و کفیل ہے۔ اور اہل کفر و باطل کو وہی راستہ و طریقہ اچھا لگتا ہے جس کو انہوں نے اپنایا۔ اسی طرح اہل معصیت کو معصیت کا طریقہ اچھا لگتا ہے۔ پھر کفر و باطل، فسق و فجور اور معصیت و نافرمانی کی شکلیں اور صورتیں آگے مختلف ہیں۔ اور جو کوئی ان میں سے جس پر کاربندو عمل پیرا ہے وہ اسی کو اچھا سمجھتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُوْن } ۔ (الروم : 32) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اصل اساس و بنیاد انسان کا اپنا اختیار اور اس کی نیت و ارادہ ہے۔ سارا دارومدار اسی کی صحت و بگاڑ پر ہے۔ جسیے کسی کی نیت ہوگی ایسے ہی اس کو اس کا صلہ اور بدلہ ملے گا۔ اور جو راستہ کوئی اپنی مرضی اور شوق سے اپنائے گا اس کو ادھر ہی پھیر دیا جائے گا۔ سو اس ارشاد ربانی میں قدرت کی اس سنت کونیہ کا ذکر وبیان ہے کہ ہر گروہ کیلئے اس کے عمل کو خوشنما بنادیا گیا ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ وضلال - 208 رب تعالیٰ کے یہاں جواب دہی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار ان سب کو لوٹ کر بہرحال اپنے رب کے حضور ہی پہنچنا ہے تب وہ ان کو وہ سب کچھ بتادے گا جو یہ لوگ کرتے رہے تھے اپنی دنیاوی زندگی میں۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ہر کسی کو اس کے رب کے یہاں زندگی بھر کا کیا کرایا سب کچھ بتادیا جائے گا۔ اور ہر کسی کو یہ بتانا کوئی رپورٹ پیش کرنے کے طور پر نہیں ہوگا کہ ان کو بتادیا جائے گا کہ تم نے زندگی میں یہ اور یہ کام کئے تھے اور بس۔ نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انکو اپنی زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا کہ یہ ہے تمہارا زندگی بھر کا وہ کیا کرایا جس کا اب تمہیں بھرپور بدلہ دیا جائے گا۔ اچھے کا اچھا اور برے کا برا۔ سو اچھی اور نیک زندگی گزارنے والا خوش ہوگا اور وہ اپنے رب کا شکر ادا کرے گا کہ اس کی زندگی بھر کی محنت ٹھکانے لگی۔ اور اس کو بھرپور بدلہ اور جزاء سے نواز دیا گیا۔ اور اس کو اب دائمی راحت اور کامیابی کی سعادت حاصل ہوگئی ۔ اللہ ہم سب کو ایسا ہی نصیب فرمائے ۔ آمین۔ جبکہ اس کے برعکس باغیانہ اور سرکشانہ زندگی گزارنے والا اپنے آپ ہی کو ملامت کرے گا کہ یہ سب کچھ اس کے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی ہوگی اور وہ رہ رہ کر افسوس کرے گا اور حسرت بھرے انداز میں کہے گا کہ کاش کہ مجھے میرا نامہ اعمال نہ ملتا اور مجھے دوبارہ نہ اٹھایا جاتا۔ مگر اس سے اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سو قرآن حکیم کا دنیا پر کس قدر احسان عظیم ہے کہ اس نے عالم غیب کے ان عظیم الشان اور جلیل القدر حقائق کو اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا اور اس قدر پیشگی اور حیات دنیا کی اس فرصت مستعار میں تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے ۔ وباللہ التوفیق ۔ فہل من مد کر ؟-
Ayah 6:109

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ کے نام کی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آجائے ان کے پاس کوئی نشانی (ان کی طلب و فرمائش کے مطابق) تو یہ ضرور بالضرور ایمان لے آئیں گے اس پر تو کہو کہ نشانیاں تو سب اللہ ہی کے اختیار میں ہیں اور تمہیں کیا پتہ (اے مسلمانو ! کہ اگر وہ نشانی آ بھی جائے تو بھی انہوں نے ایمان نہیں لانا

209 معجزہ پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہوتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ نشانیاں تو سب اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں نہ کہ میرے اختیار میں۔ اور وہ وحدہ لاشریک جب چاہے اور جیسے چاہے اور جو چاہے معجزہ ظاہر فرمائے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ معجزہ پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ { اِنَّمَا } کے کلمہ حصر سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اور جب معجزہ پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہوتا تو کرامت ولی اور بزرگ کے اختیار میں کیسے ہوسکتی ہے ؟ نیز یہاں سے اہل بدعت کے مختار کل کے شرکیہ عقیدے کی بھی جڑ کٹ جاتی ہے ۔ والحمد اللہ ۔ روایات کے مطابق کفار و مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے مختلف فرمائشیں کیں کہ ہم پر فلاں فلاں نشانیاں اور معجزات اتار دو ۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ اور اس میں صاف کردیا گیا کہ معجزہ پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اللہ ہی کے اختیار میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے صاف اور صریح طور پر اور حصر و قصر کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا " اور کسی رسول کے بس میں نہیں کہ وہ اپنے طور پر کوئی معجزہ اتارے دے مگر اللہ کے اذن سے "۔ (الرعد : 38) سو معاملہ سارے کا سارا اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں اور اسی کے اذن و حکم پر موقوف ہے۔ جو اور جیسا اس کو منظور ہوگا وہی ہوگا ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 210 عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ نشانی آجانے اور معجزہ دیکھ لینے کے باوجود ایمان نہیں لائیں گے اور ان لوگوں کا معجزہ و نشانی کے آجانے پر بھی ایمان نہ لانا ان کی اپنی اس ضد عناد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر جو کہ رچ بس چکی ہے ان کے دل و دماغ میں۔ تو ایسے میں ان کی فرمائشوں کے پورا کرنے سے کیا فائدہ ؟ یہ بات تم نہیں جانتے مگر ہم جانتے ہیں۔ (معارف وغیرہ) ۔ مزید یہ کہ اگر اس کے بعد بھی انہوں نے نہ مانا تو ان سب کو ہلاک کردیا جائے گا کہ دستور خداوندی یہی ہے کہ فرمائشی معجزہ آجانے کے بعد بھی جو قوم نہیں مانتی وہ ہلاک کردی جاتی ہے۔ سو اس طرح ان کی فرمائش کی عدم تکمیل خود ان کے حق میں بہتر ہے کہ یہ ایسی ہلاکت اور تباہی سے بچے ہوئے ہیں۔ بہرکیف عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور فساد و بگاڑ کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اصل بات معجزہ اور نشانی کی نہیں، بلکہ انسان کے اندر کی طلب اور صدق نیت کی ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ-
Ayah 6:110

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

اور ہم پھیر دیں گے ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو (حق کے سمجھنے اور دیکھنے سے) جس طرح کہ یہ ایمان نہیں لائے اس (قرآن عظیم) پر پہلی مرتبہ اور انھیں چھوڑ دیں گے کہ یہ اپنی سرکشی میں پڑے بھٹکتے رہیں

211 خبث باطن کا نتیجہ محرومی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ دستور خداوندی یہی ہے کہ طلب صادق سے محروم انسان نور حق سے محروم رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم پھیر دیں گے ان لوگوں کے دلوں اور ان کی نگاہوں کو یعنی ہمارا قانون اور دستور یہی ہے کہ جو شخص طلب صادق سے محروم ہوتا ہے وہ قبول حق کی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس معلوم ہوا کہ ایمان و یقین کی دولت محض عطا و بخشش خدا وندی سے ملتی ہے جو کہ مترتب ہوتی ہے دل کی سچی تڑپ اور طلب صادق پر۔ جس کو اللہ پاک خوب خوب جانتا ہے۔ کیونکہ طلب اور عدم طلب کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔ اور دلوں کی جملہ کیفیات کو وہی وحدہ لاشریک جان سکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد ربّانی میں اہل ایمان کو بتایا جا رہا ہے کہ اس غیبی حقیقت کو تم لوگ نہیں جان سکتے کہ ان لوگوں نے ایسی نشانیاں دکھانے کے باوجود ایمان نہیں لانا۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہی مطلب ہے اس ارشاد ربانی کا کہ " ہم پھیر دیں گے ان کے دلوں کو اور پلٹ دیں گے ان کی نگاہوں کو "۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا دستور جو اس کی اس کائنات میں کارفرما ہے یہی ہے کہ ایسے ہٹ دھرم لوگوں کو ان کے عناد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر نور حق و ہدایت سے اسی طرح محروم کردیا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 212 کفر و انکار کی ایک نقد سزا کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کفر و انکار اور بےایمانی کی ایک نقد سزا سرکشی میں بھٹکتے رہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جو ایسے لوگوں کو اس دنیا ہی میں ملتی رہتی ہے اور اس نقد سزا میں ایسے لوگ اس دنیا میں ہی میں برابر مبتلا رہتے ہیں جبکہ اصل عذاب ایسے بدبختوں کو آخرت کے اس ابدی جہاں میں ملے گا جس کی نہ کوئی حد ہے اور نہ انتہاء ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و سرکشی میں پڑے بھٹکتے رہناکفر و بےایمانی کی پہلی اور فوری سزا ہے جو ایسے لوگوں کو نقد ملتی ہے۔ پھر تردد و پریشانی اور حیرانی و سرگردانی کی جس دلدل میں یہ لوگ پھنسے ہوتے ہیں اور کفر و بےایمانی کی جن اندھیریوں اور تاریکیوں میں یہ لوگ ڈوبے ہوتے ہیں، اس کی بناء پر یہ اپنی آخرت اور اپنے انجام محتوم سے غافل و بےفکر ہو کر اپنی فرصت عمر اور متاع حیات کو یونہی ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔ اور یہ خسارہ وہ خسارہ ہے جس کی پھر تلافی ممکن نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ نیزطغیان کے لفظ سے ایسے لوگوں کی محرومی کے باعث اور سبب کو بھی آشکارا کردیا کہ ان کی وہ طغیانی اور سرکشی وہ ہے جس میں ایسے لوگ اپنی دنیاوی نعمتوں کی بنا پر مبتلا ہوجاتے ہیں کہ یہ لوگ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی عطاء و بخشش سمجھنے کی بجائے ان کو اپنی قوتوں اور قابلیتوں کا نتیجہ سمجھنے لگتے ہیں۔ جس پر یہ شکر گزاری کی بجائے سرکشی اور کفران نعمت میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اس طرح ایسے لوگ اللہ کی بخشی ہوئی نعمت کو نقمت اور وسیلہ خیر کو ذریعہ شر بنا لیتے ہیں جو کہ خسارے پر خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 6:111–112

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اور (ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کا عالم یہ ہے کہ) اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیں، اور مردے بھی ان سے باتیں کرنے لگیں، اور ہم ہر چیز کو ان کے سامنے لا کر پیش کردیں، تو انہوں نے پھر بھی ایمان نہیں لانا (اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر) مگر یہ کہ اللہ ہی چاہے (اور وہ ان کی کایا پلٹ کر دے) لیکن ان میں سے اکثر جہالت برت رہے ہیں،1

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے بنا دیئے ہر نبی کے بہت سے (اور مختلف قسم کے) دشمن، شیاطین صفت انسان بھی اور جن بھی، جو چپکے سے (اور خفیہ طور پر) سکھلاتے ہیں، ایک دوسرے کو ملمع کی ہوئی باتیں، دھوکہ دینے (اور گمراہ کرنے) کے لئے، اور اگر تمہارا رب (ان کو جبرا راہ راست پر لانا) چاہتا تو یہ ایسا کبھی نہ کرسکتے، پس تم چھوڑ دو ان کو اور ان کی ان افتراء پردازیوں کو جو یہ لوگ کرتے ہیں،2

213 جبری ایمان نہ مفید ہے نہ مطلوب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ اللہ چاہے تو وہ اور بات ہے کہ وہ قادر مطلق تو سب کچھ کرسکتا ہے۔ مگر اس کا اپنا ارشاد و فرمان یہ ہے کہ وہ ایسا کوئی کام نہیں کرے گا جو اس کی حکمت اور عدل کے خلاف ہو۔ کیونکہ وہ حکیم مطلق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لیے اس کی مشیت اس کی حکمت مطلقہ کے تابع ہے۔ اس لیے وہ جبری ایمان چاہتا ہی نہیں بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ انسان اپنی مرضی اور اپنے ارادہ و اختیار سے ایمان لائے تاکہ وہ اس کی رحمتوں اور عنایتوں سے محظوظ ومالا مال ہوسکے۔ ورنہ وہ اگر چاہتا تو روئے زمین کے تمام انسان ایک لمحہ اور لحظہ کے اندر سب کے سب ایمان لے آتے جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر اس کو طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے۔ مثلا سورة یونس میں ارشاد ہوتا ہے { وَلَوْ شَائَ رَبُّکَ لَآمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلّہُمْ جَمِیْعًا } الآیۃ (یونس : 99) ۔ لیکن اللہ کا کوئی چاہنا بھی اس کی اپنی ٹھہرائی ہوئی سنت اور پسند فرمودہ حکمت کے خلاف نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ حق و ہدایت کی نعمت سے انہی کو نوازتا ہے جو اس کے طالب اور قدر دان ہوتے ہیں اور وہ اس کے لئے اس کی بخشی ہوئی صلاحیتوں کو صحیح طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ ۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ کے یہاں ایمان وہی معتبر اور مقبول ہے جو انسان اپنی مرضی اور اختیار سی لائے نہ کہ مجبوری اور اضطرار کے طور پر، کہ وہ نہ معتبر ہے نہ مفید۔
Ayah 6:113

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

اور یہ (ایسا اس لئے کرتے ہیں کہ تاکہ اس طرح یہ پھسلا دیں ایمان والوں کو اور) تاکہ مائل ہوجائیں اس کی طرف دل ان لوگوں کے جو ایمان نہیں رکھتے آخرت پر، اور تاکہ وہ انھیں پسند کریں تاکہ یہ کما لیں جو کچھ کہ انہوں نے کمانا ہے،

217 اِفترا پردازوں کی فکر نہ کرنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ چھوڑ دو ان کو اور ان کی ان افتراپردازیوں کو جو یہ لوگ کرتے ہیں کہ یہ اپنے کئے کا بھگتان خود بھگتیں گے۔ سو آپ ان کی فکر نہ کیجئے۔ اللہ تعالیٰ حق اور اہل حق کی مدد فرمائے گا۔ سو اس میں حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے واسطے سے ہر داعی حق کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی حکمت نے یہی پسند فرمایا کہ وہ اس معاملہ میں جبر کی بجائے اختیار اور آزادی سے نواز کر لوگوں کا امتحان کرے کہ کون اپنی مرضی اور ارادہ سے خدا کی راہ اختیار کرتا ہے اور کون شیطان کی۔ یہی ابتلاء و آزمائش کا تقاضا ہے اور اسی پر ثواب و عقاب کا دارومدار ہے اور اسی پر آگے فیصلہ ہونا ہے جس کے مطابق ہر کوئی اپنے کیے کرائے کے انجام کو پہنچ کر رہے گا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 218 اِیمان و یقین کی قوت امن و سلامتی کی ضامن وکفیل : یعنی وہ ان کی طرف مائل ہوجائیں اور وہ ان کے دھوکے میں آجائیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ شیاطینِ جن وانس کا داؤ انہی لوگوں پر چلتا ہے جو کہ ایمان کی دولت سے محروم ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ دوسرے کئی مقامات پر بھی اس حقیقت کو واضح فرمایا گیا ہے مثلا سورة اعراف میں ارشاد ہوتا ہے ۔ { اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیَاطِیْنَ اَوْلِیَائَ لِلَّذِیْنَ لَا یُوْمِنُوْنَ } ۔ (الاعراف :27) جبکہ ایمان والے اس سے محفوظ رہتے ہیں ۔ { فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدَانَا لِہٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْ لآ اَنْ ہَدَا نَا اللّٰہُ } ۔ سو ایمان و یقین کی قوت امن و سلامتی کی ضامن و کفیل ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد میں فرمایا گیا کہ ہم نے شیطان جن و انس کو انبیاء و صالحین کی مخالفت اور بدعات و خرافات کے القاء کی یہ مہلت جو اس دنیا میں دی ہے یہ اس لئے دی ہے کہ ایک طرف تو اس سے حق پرستوں کی حق پرستی کا امتحان ہوتا ہے اور دوسری طرف باطل پرستوں کو ڈھیل ملتی ہے اور وہ شیاطین و اشرار کے ہاتھوں اپنا من بھاتا کھاجا پا کر اس کی طرف راغب ہوتے ہیں اور اس کو پسند کرتے ہیں۔ اور اس دنیا میں جو کمائی ان کو کرنا ہوتی ہے وہ کرلیتے ہیں۔ اور یہ ڈھیل اس اختیار کا لازمی نتیجہ ہے جو انسان کو بخشا گیا ہے۔ اس لئے یہ سنت الٰہی کے تحت ہے۔ 219 اور تاکہ یہ کما لیں جو کچھ کہ انہوں نے کمانا ہے : ۔ تاکہ اسطرح یہ اپنے ارمان پورے کرلیں اور اپنے پیمانہ ہائے جرم کو لبریز کرکے اپنے خالق ومالک کے حضور پہنچیں۔ اور اسطرح یہ لوگ وہاں پر اپنے کئے کرائے کا بھرپور صلہ و بدلہ پاس کیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ آخرت کی باز پرس اور وہاں کی جوابدہی کا احساس و اعتقاد ہی انسان کو برائی سے روکتا ہے۔ سو جو کوئی اس کی حمایت سے محروم ہوجائے اس کو پھر کوئی چیز روکنے والی نہیں رہتی، جس سے وہ برائیوں کے کمانے اور جمع کرنے میں آگے بڑھتا چلا جاتا ہے، اور اللہ پاک اپنے حلم بےپایاں اور کرم بےنہایت کے تقاضوں کے مطابق اس کی رسی دراز کرتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے آخری نتیجے اور انتہائی برے انجام کو پہنچ کر رہتا ہے۔ سو ایمان بالآخرۃ سے محرومی کا نتیجہ و اَنجام انتہائی اور نہایت ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسے لوگوں کو ڈھیل ملی ہوئی ہے تاکہ یہ اپنے ارمان پورے کرلیں اور یہ ڈھیل اس اختیار کا لازمی نتیجہ ہے جو انسان کو اس دنیا میں بخشا گیا ہے۔ سو اس اعتبار سے یہ سب کچھ سنت الٰہی کے تحت ہے اور { الَّذِیْنَ لَا یُؤَمِنُوْنَ بالْآخِرَۃِ } کی صفت و قید سے واضح فرما دیا گیا کہ شیاطین و اَشرار کی یہ دعوت انہی لوگوں کو اپیل کرتی ہے جو آخرت کے اعتقاد سے خالی اور محروم ہوتے ہیں اور ان کا منتہائے مقصود یہ دنیا اور اس کا عیش ہی ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایمان و یقین کی دولت وسیلہ حفاظت و سرفرازی ہے۔
Ayahs 6:114–115

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور منصف تلاش کروں، حالانکہ وہی ہے جس نے اتار دی تمہاری طرف یہ کتاب مفصل کر کے،3 اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی (یعنی یہود ونصاری) وہ یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ یہ (قرآن) ٹھیک تمہارے رب ہی کی طرف سے نازل ہوا، پس تم کبھی شک کرنے والوں میں شامل نہ ہونا

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

اور پوری ہوگئی بات تمہارے رب کی سچائی میں بھی، اور عدل کے اعتبار سے بھی، کوئی بدلنے والا نہیں اس کے فرمان (صدق ترجمان) کو، اور وہی ہے ہر کسی کی سنتا، سب کچھ جانتا ہے،1

220 اللہ کے سوا اور کسی کو اپنا حکم اور منصف بنانا ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو استفہام انکاری کے طور پر اللہ کے رسول کی زبان سے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور حکم اور منصف تلاش کروں۔ جبکہ اس نے یہ کتاب مفصل اتار دی جس میں حق و باطل، نیک و بد، صحیح و غلط اور اسباب سعادت و شقاوت کو اس طرح کھول کر بیان کردیا گیا کہ کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ۔ فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ سو استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا کہ میں اس کتاب مفصل کے اتارے جانے کے بعد اور اس کے ہوتے ہوئے اللہ کے سوا اور کسی کو اپنا حکم اور منصف تلاش کروں کہ ایسا کرنا ظلم ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد سے مشرکین کے مجادلے کا پیغمبر کی طرف سے جواب دے دیا گیا۔ اور ان لوگوں کی حجت بازی کو قطع فرما دیا گیا کہ میرے لئے آخر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کو حکم اور منصف تلاش کروں جبکہ اس نے تمہاری طرف اس کتاب کو مفصل کر کے اتار دیا ہے جس میں ہر چیز کا تفصیل کے ساتھ فیصلہ فرما دیا گیا ہے ؟ اب تم ہی لوگ سوچو کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتاری ہوئی یہ کتاب مفصل ہے اور دوسری طرف تم لوگوں کی بےسند باتیں ہیں۔ لہٰذا اب تم ہی لوگ بتاؤ کہ ان میں سے کس کی بات مانی جانے کے لائق ہے ؟ 221 پس تم کبھی شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا : کہ اس درجہ کی اس کامل شہادت اور مکمل کتاب کے بعد اور کسی کی شہادت کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔ خطاب اگرچہ بظاہر آنحضرت ﷺ سے ہے مگر سنانا دراصل دوسروں کو ہے۔ اور یہ بلاغت کا ایک اہم اور معروف انداز و اسلوب ہے جس سے معنی مقصود کی ادائیگی و تعبیر میں جو قوت اور تاکید پیدا ہوتی ہے وہ اس کے بغیر نہیں پیدا ہوسکتی۔ پس اہل بدعت کے جن لوگوں نے اس کے ترجمے میں " اے سننے والے " کے الفاظ کا اضافہ کرلینے سے یہ سمجھا کہ ہم نے کوئی بڑا تیر مار دیا ہے، جیسا کہ ان کے حواریوں کا کہنا ہے، وہ محض ان لوگوں کی ایک خوش فہمی ہے کہ اول تو اس سے وہ زور کلام باقی نہیں رہتا جو کہ ایسی تعبیر اور اس اسلوب بیان سے اصل میں مقصود ہوتا ہے۔ اور دوسرے اس لئے کہ اس طرح کے ترجمہ سے وہ مطلب پھر بھی حاصل نہیں ہوسکتا جو کہ اہل بدعت اس سے حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وحی خداو ندی کے اصل مخاطب اور سب سے پہلے سننے والے تو بہرحال آنحضرت ۔ ﷺ ۔ ہی ہیں۔ تو پھر بھی بات وہیں کی وہیں رہی۔ پھر اس تکلف کا فائدہ اور ضرورت ہی کیا ؟ اس لئے صحیح طریقہ وہی ہے جو ہم نے ابھی عرض کیا ہے کہ خطاب اگرچہ بظاہر آنحضرت ﷺ سے ہے مگر سنانا دراصل دوسروں کو ہے۔ اور یہی بات تمام ثقہ مفسرین کرام کہتے ہیں۔ یعنی " الخطاب للنبی ﷺ والمرادُ بہ غیْرہْ " (ابن کثیر، خازن، جامع، صفوۃ البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ایسے ہی ہے جیسا کہ سورة یونس کی یہ آیت کریمہ ہے { فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ مِّمَّا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ فَاسْاَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَؤُوْنَ الْکِتَاب مِنْ قَبْلِکَ } الاٰیۃ (یونس :94) ۔ اسی لئے روایت میں وارد ہے کہ اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا " لَا اَشُکُّ وَلَا أَسْاَلُ " یعنی " نہ مجھے اس طرح کا کوئی شک ہے اور نہ میں اس بارے میں کسی سے پوچھتا ہوں "۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد عالی سے واضح فرما دیا گیا کہ ِاس کا کلام حق سچائی میں بھی کامل ہوگا اور عدل میں بھی کامل ہوگیا ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 6:116

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور اگر تم ان لوگوں کی اکثریت کی بات ماننے لگے جو زمین میں رہتے ہیں تو وہ تمہیں بھٹکا دیں گے اللہ کی راہ سے، یہ لوگ پیروی نہیں کرتے مگر ظن کی اور یہ محض اٹکلیں دوڑاتے ہیں اور بس،2

224 محض عوام کی اکثریت کی بات ماننا باعث گمراہی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا کہ اگر تم نے زمین میں رہتے بستے لوگوں کی اکثریت کی بات مانی اور ان کو معیار ٹھہرایا تو یہ لوگ تم کو بھٹکا دیں گے اللہ کی راہ سے کہ یہ خود بھٹکے ہوئے اور بےراہ ہیں۔ معلوم ہوا کہ عوام کی اکثریت کا کسی بات کا ساتھ دینا اس کے حق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا، جیسا کہ دور حاضر میں جمہوریت کے نوسا ختہ بت کے پجاریوں نے سمجھ رکھا ہے اور جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا ماننا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو عوام کی تائید یا تردید کو کسی امر کے حق یا باطل ہونے کیلئے معیار نہیں قرار دیا جاسکتا کہ ان کی اکثریت غلط کار گمراہ اور خواہشات کی پیروکار رہی ہے۔ پہلے بھی یہی تھا اور اب بھی یہی ہے۔ پس حق اور سچ وہ ہے جسکو اللہ اور اس کا رسول حق بتائے خواہ دنیا ساری ہی اس کے خلاف کیوں نہ ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس کے مقابلے میں باطل اور جھوٹ وہ ہے جو اللہ اور اسکے رسول کی تعلیمات کی روشنی میں جھوٹ اور باطل قرار پائے خواہ دنیا ساری ہی اس کی تائید و حمایت کیوں نہ کرتی ہو۔ سو اسی لئے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم زمین میں رہنے بسنے والی اکثریت کی بات ماننے لگے تو یہ تم کو اللہ کی راہ سے بہکا اور بھٹکا دے گی۔ پس اطاعت و فرمانبرداری اکثریت کی نہیں بلکہ اس حق اور ہدایت کی کرنی ہے جو تم کو اپنے خالق ومالک کی طرف سے ملے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ ویُرِیْدُ ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ عوام کی اکثریت کی پیروی باعث ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ - 225 عوام کی اکثریت ظن و گمان کی پیروکار ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ پیروی نہیں کرتے مگر ظن و گمان کی۔ اور یہ لوگ محض اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔ اور ظن وتخمین راہ حق و صدق میں کچھ کام نہیں آسکتے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیئًا } ۔ (النجم : 28) ۔ سو بڑے خسارے اور سخت دھوکے میں ہیں وہ لوگ جنہوں نے ظن وتخمین اور اٹکل پچو قسم کی چیزوں ہی کو اپنے دین و مذہب کی اساس و بنیاد قرار دے رکھا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے خدا اور معبود اور ان کی عبادات و پوجا پاٹ کے طور طریقوں تک سب ہی کچھ اسی ظن وتخمین پر مبنی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور کتنے ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی دلیل وبرہان کے بغیر یوں کہہ دیتے ہیں " میرا خیال یہ ہے "، " میں یوں سمجھتا ہوں " " I Think So " وغیرہ وغیرہ ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ جَلَّ وَ عَلَا -
Ayah 6:117

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے ان کو بھی جو (بہکتے ہیں) بھٹکتے ہیں اس کی راہ سے، اور وہ خوب جانتا ہے ان لوگوں کو بھی جو سیدھی راہ پر ہیں،

226 اللہ کے علم وآگہی کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے ان کو جو بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں اس کی راہ سے اور وہ ان کو بھی خوب جانتا ہے جو سیدھی راہ پر ہیں۔ سو اللہ ہر کسی کو پوری طرح جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لئے دنیا والوں کو اپنی دینداری کے مظاہر دکھانے کی بجائے اس وحدہٗ لاشریک کے حضور اپنی جواب دہی اور فائز المرامی و صفائی کی فکر کرو۔ اور اس سے اپنا معاملہ صاف اور صحیح رکھو اس سے قبل کہ عمر رواں کی یہ فرصت محدود تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تمہیں ہمیشہ کیلئے افسوس اور پچھتاوے سے دو چار ہونا پڑے۔ اور اس علیم بذات الصدور کے یہاں ظاہرداری نہیں چل سکتی کہ وہ انسانوں کے دلوں کے حالات اور ان کے سربستہ رازوں سے بھی پوری طرح واقف و آگاہ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اَللّٰھُمَّ فَخْذُنَا بِنَوَاصِیْنَا اِلٰی مَا فِیْہِ حُبُّکَ وَرِضَاکَ بِکُلِّ حَالٍ مِّنَ الْاَحْوَالِ وَفِیْ کُلِّ مَوْطِنٍ مِّنَ الْمَوَاطِنِ فِی الْحَیَاۃِ یَا ذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ-
Ayah 6:118

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

پس کھاؤ تم لوگ ان چیزوں میں سے جن پر اللہ کا نام لیا گیا، اگر تم واقعی ایمان رکھنے والے ہو اس کی آیتوں پر،

227 مشرکین کی تحریمات کو تسلیم کرنا ایمان کے منافی ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پس کھاؤ پیو تم لوگ ان چیزوں میں سے جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اگر تم لوگ واقعی ایمان رکھنے والے ہو اس کی آیتوں پر۔ اس لیے کہ ایمانداری کا تقاضا یہی ہے کہ اپنی خود ساختہ رسوم و طقوم اور فرضی تحریمات کی بجائے تم لوگ اسی کے حکم و ارشاد کے آگے سر تسلیم خم کرو، جس پر تم ایمان لائے ہو۔ کیونکہ مشرکین کی تحریمات اور ان کی خرافات کی بناء پر اللہ تعالیٰ کی حلال فرمودہ پاکیزہ چیزوں کو حرام سمجھنا مشرکین اور شرک کی باتوں کو تسلیم کرنا ہے جو کہ ایمان کے منافی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو تحریم و تحلیل کا حق اور اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو کہ خالق کل اور مالک مطلق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اگر یہ حق اس کے سوا اور کسی کے لئے تسلیم کرلیا جائے تو یہ اس کے حقوق اور اختیارات میں دوسروں کو شریک بنانا ہوگا جو کہ شرک اور ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس مشرکانہ توہمات کی بناء پر حرام ٹھہرائی گئی چیزوں کی تحریمات کو توڑنا ایمان کا تقاضا ہے۔ اسی لئے اس کو { اِنْ کُنْتُمْ بَآیَاتِہٖ مُؤْمِنِیْنَ } کی شرط و قید کے ساتھ مشروط و مقید کر کے ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیا گیا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 6:119

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور تمہارے لئے کیا عذر ہوسکتا ہے کہ تم نہ کھاؤ ان چیزوں میں سے جن پر نام لیا گیا ہے اللہ کا، جب کہ اس نے تفصیل سے بیان کردیا ہے، تمہارے لئے وہ سب کچھ جو کہ اس نے حرام فرمایا ہے تم پر (خود تمہارے بھلے کے لئے) مگر جس کے لئے تم مجبور ہوجاؤ، اور بیشک بہت سے لوگ ایسے ہیں جو گمراہ کرتے ہیں (دوسروں کو) اپنی خواہشات کی بناء پر، بغیر کسی علم کے، بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے حد سے بڑھنے والوں کو

228 محرمات الہیہ کی تفصیل کردینے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے جو کچھ تم پر حرام کیا ہے اس کی تفصیل اس نے خود بیان فرما دی ہے تاکہ تم حرام سے بچ کر حلال کو اپنا سکو۔ چناچہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { قُلْ لّا اَجِدُ فِیْمَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا } ۔ (الانعام : 146) (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اور تمہاری یہ تحریمات ان محرمات میں سے نہیں ہیں تو پھر تمہارے لیے ایسی چیزوں کے کھانے میں آخر کوئی عذر کیسے ہوسکتا ہے جن کے ذبح کرنے میں اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، جبکہ ایسی پاکیزہ چیزوں کے کھانے میں اصل بنیاد یہی ہے کہ انکو اللہ تعالیٰ کے پاک نام سے ذبح کیا جائے۔ استفہام یہاں انکاری ہے۔ یعنی ایسے میں تمہارے لیے ان چیزوں کے نہ کھانے میں کوئی عذر نہیں ہوسکتا۔ پس تم لوگ ان سے کھاؤ اور کھا کر واہب مطلق اور اپنے خالق ومالک کا دل و جان سے شکر بجا لاؤ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کی تفصیل خود بتادی جو اس نے تم پر حرام فرمائی ہیں تو پھر تمہارے لئے اس بارے کسی تذبذب کی کوئی گنجائش آخر کس طرح باقی رہ سکتی ہے ؟۔ سو توحید اور شرک کا معاملہ دین حنیف میں اس قدر اہم اور اتنا نازک ہے کہ شریعت مطہرہ اس بارے کسی ادنیٰ التباس کی بھی روا دار نہیں۔ اللہ شرک کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 229 مجبور و لاچار کیلئے رعایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مگر جس کے لیے تم مجبور ہوجاؤ۔ پس اگر تم مجبور ہوجاؤ اور اس بناء پر ان میں سے بقدر ضرورت کچھ کھالو تو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں مگر ضرورت سے زیادہ نہیں کھانا کہ شرعی قاعدہ یہی ہے کہ ضرورت کو ضرورت کی حد تک ہی رکھا جائے۔ " الضَّرُوْرَۃُ تُقَدَّرُ بِقَدْرِہَا " اور یہ شریعت مقدسہ کے اس عظیم الشان اصول اور جامع قاعدہ پر مبنی ہے کہ " الضُّرُوْرَاتُ تُبِیْحُ الْمَحْذُوْرَاتِ " یعنی " ضرورت کی بناء پر محظور اور ممنوع چیزوں میں بھی اباحت اور جواز پیدا ہوجاتا ہے "۔ بہرکیف اس استثناء سے واضح فرما دیا گیا کہ اضطرار اور مجبوری کی صورت میں انسان کے لئے حرام چیزیں بھی مباح اور جائز ہوجاتی ہیں جو کہ اس مالک کی رحمت و عنایت کا ایک اور مظہر ہے۔ سبحانہ وتعالی ولہ الحمد جل وعلا - 230 اِتباع ہویٰ فتنہ و فساد کی جڑ بنیاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک بہت سے لوگ ایسے ہیں جو گمراہ کرتے ہیں [ دوسروں کو ] بغیر کسی علم [ وسند ] کے۔ کہ خواہشات کی پیروی کے سوا ان لوگوں کے پاس نہ کوئی دلیل ہوتی ہے نہ برہان و سند۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ خواہشات نفس کی پیروی تمام فتنہ و فساد کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ غیرمسلموں کی تو بات ہی الگ ہے کہ وہ تو جیتے مرتے ہی اس دنیائے دوں کے لئے ہیں اور بس۔ لیکن خود مسلمان کہلانے والوں میں بھی کتنے ہی اصحاب زیغ و ضلال اور بندگان ہوا و ہوس ایسے ہیں جو کہ اپنی خواہشات نفس کی تکمیل کے لئے اسلام کے واضح احکام کی کھلی خلاف ورزی کرتے اور اس غرض کے لئے نصوص کتاب و سنت تک کو تاویل و تحریف کے خراد پر چڑھانے سے گزیر نہیں کرتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور بدعات کی ایجاد تو اصل میں خواہشات نفس ہی کی بناء پر ہوتی ہے۔ اور اسی وجہ سے ایسے لوگ خواہشات نفس کے پیچھے لگ کر کہیں سے کہیں پہنچ جاتے ہیں اور راہ حق و ہدایت سے محروم ہو کر دارین کے خسارے میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو کہ خسران مبین ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:120

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

اور چھوڑ دو تم لوگ ظاہر گناہ کو بھی، اور پوشیدہ کو بھی،3 بیشک جو لوگ گناہ کما رہے ہیں، وہ یقینی طور پر بدلہ پا کر رہیں گے، اپنے ان گناہوں کا جو وہ کماتے رہیں تھے،

231 ہر قسم کے گناہ کو چھوڑنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا اور چھوڑ دو تم لوگ ظاہری گناہ کو۔ یعنی وہ تمام برائیاں جو ظاہر میں نظر آتی ہیں، اور اعضا وجوارح وغیرہ سے صادر ہونے والے برے اعمال و اَفعال اور اسی طرح وہ گناہ جو اعلانیہ طور پر اور برسرعام کئے جائیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ گناہ بہرحال گناہ اور بری چیز ہے۔ اور وہ بہرطور خسارے اور نقصان کا باعث ہے۔ خواہ اس خسارے اور نقصان کا تعلق فرد سے ہو یا جماعت سے۔ انسان کے ظاہر سے ہو یا اس کے باطن سے۔ جلد ہو یا بدیر۔ اسی لئے کتاب حکیم قرآن مجید میں دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ رب تعالیٰ نے ہر قسم کی بیحیائی اور برائی کو حرام قرار دیا ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہو یا مخفی اور پوشیدہ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا { قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ } الآیۃ (الاعراف : 33) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہر قسم کے گناہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 232 گناہ بہرحال بری چیز ہے ۔ والعیاذ باللہ : اس لیے فرمایا گیا کہ چھوڑ دو تم لوگ ظاہری گناہ کو بھی اور چھوڑ دو تم لوگ پوشیدہ گناہ کو بھی۔ یعنی جو چھپ کر کیا جائے۔ نیز وہ برے عقیدے، گندے خیالات اور ناپاک ارادے جو دل میں چھپا رکھے ہوں کہ یہ سب ممنوع و حرام ہیں۔ سو یہ اسلام کی عظمت اور اس کی حقانیت کی ایک اہم دلیل ہے کہ اس کی نگاہ میں ہر گناہ حرام ہے خواہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو ؟ بخلاف دوسرے مذاہب کے کہ ان کا معاملہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ یہاں تک کہ یورپ کے وہ خنزیرخور جو آسمانی مذہب کے قائل اور اس کے ماننے کے دعویدار ہیں اور وہ عیسائیت کا دم بھرتے ہیں۔ ان کے یہاں تو زنا جیسی بےحیائی بھی روا ہے اگر وہ باہمی رضا مندی سے ہو کہ ان کے یہاں جرم صرف زنابالجبر ہے نہ کہ نفس زنا۔ اس لئے یورپ، امریکہ وغیرہ کے ان مادہ پرست ملکوں میں جہاں کہ خواہش پرستی ہی کا دور دورہ ہے وہاں کا حال یہ ہے کہ اگر برسرعام کوئی جوڑا بدکاری کر رہا ہو اور پولیس کے کسی شخص کا ادھر سے گزر ہوجائے تو وہ ان سے کہے گا اوکے ؟ (OK) یعنی کیا تم یہ کام باہمی رضا مندی سے کر رہے ہو یا کسی زور زبردستی سے ؟ اس کے جواب میں اگر وہ کہیں گے " او کے " یعنی ہاں ہم یہ کام باہمی رضا مندی اور خوشی سے کر رہے ہیں تو وہ کہے گا " او کے " یعنی " ٹھیک ہے کرتے رہو "۔ ہاں اگر زور زبردستی سے ہو تو پولیس مداخلت کریگی۔ اسلئے کہ ان کے یہاں اصل جرم زنا نہیں بلکہ جرم اصل میں جبرواِکراہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ دین حق کے نزدیک اصل جرم زنا ہے خواہ کسی بھی طور پر اور کسی بھی شکل میں ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 233 گناہ کمانے والوں کو اپنے کیے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا : پورا بدلہ تو اگرچہ آخرت میں ہی ملے گا مگر اس دنیا میں بھی کچھ نہ کچھ مزہ وہ چکھتے ہی رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر یہاں پر ۔ { یَکْسِبُوْنَ } ۔ فرمایا گیا ہے جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ نتیجہ و انجام ان گناہوں کا ہے جو انسان اپنے کسب و ارادہ سے اور کمائی کے طور پر کرتا ہے کہ ایسا کرنے سے ایسے لوگوں کی فطرت بگڑ جاتی ہے اور ان کی طبیعت مسخ ہو کر رہ جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس لیے ایسے لوگوں کو اپنے کیے کرائے کا انجام بہرحال بھگتنا ہوگا۔ رہ گئے وہ لوگ جو جہالت اور بشری کمزوری کی بناء پر گناہ کا ارتکاب کرلیتے ہیں ان کے گناہ ان کی نیکیوں اور توبہ کے آب زلال سے صاف ہوتے رہتے ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ایک قاعدہ کلیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّئَآتِ } ۔ (ھود : 115) ۔ سبحان اللہ ۔ کتنی عظمتوں اور رحمتوں والا ہے یہ دین حنیف، دین اسلام جو کہ اللہ پاک نے اپنی رحمت بےپایاں سے اپنے بندوں کو عنایت فرمایا ہے کہ اس کی تعلیمات مقدسہ پر عمل کرنے والوں کے گناہ خود بخود معاف ہوتے جاتے ہیں اور ان کی سیاہی آپ سے آپ دھلتی اور مٹتی جاتی ہے۔ اور وہ پاکیزہ سے پاکیزہ تر انسان بنتے چلے جاتے ہیں۔ جبکہ دین حنیف سے محروم دنیا طرح طرح کی تاریکیوں میں ڈوبی اور طرح طرح کے معاصی وذنوب سے لتھڑی پڑی ہے۔ نہ اس کو یہ پتہ کہ گناہ کی میل کیا ہوتی ہے، اور نہ ہی اس کو اس کی کوئی خبر کہ اس کی صفائی کا طریقہ کیا ہوسکتا ہے یہاں تک کہ وہ ان کو لے جا کر دوزخ کی ہولناک آگ میں دھکیلے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 6:121

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور مت کھاؤ تم لوگ ان چیزوں میں سے جن پر نام نہیں لیا گیا اللہ کا، اور بیشک قطعی طور پر گناہ ہے اور شیطان تو رہ رہ کر اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں (طرح طرح کی حجت بازیاں) تاکہ وہ تم لوگوں سے جھگڑا کریں اور اگر تم نے ان کی بات مان لی تو یقیناً تم بھی مشرک ہوجاؤ گے،1

234 شیطان اور اسکے چیلوں کی وسوسہ اندازیوں سے آگاہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اس طرح کی وسوسہ اندازیاں کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑیں اور اس طرح حق سے وہ خود بھی محروم رہیں اور دوسروں کو بھی اس سے محروم کردیں۔ جیسا کہ مشرکین مکہ مسلمانوں کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ لوگ اللہ کے مارے ہوئے یعنی مردار کو تو حرام کہتے ہیں مگر خود اپنے مارے ہوئے یعنی ذبیحہ کو حلال۔ سو یہ شیطان کی سکھائی ہوئی پٹی اور اس کی تلقین کردہ وہ حجت بازی تھی جس سے ایسے لوگ کام لیتے تھے۔ اور یہی شیوہ ہے اہل بدعت اور دوسرے اہل باطل کا کہ یہ لوگ بھی سادہ لوح عوام کو اپنے جال میں پھانسنے کے لئے اسی طرح کے مغالطوں سے کام لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اہل بدعت کے کچھ گمراہ اور گمراہ کن قسم کے ملاں عوام سے کہتے ہیں کہ " محمد رسول اللہ " کا ترجمہ ہے " محمد اللہ کے رسول ہیں "۔ پس آپ ﷺ کا حاضر و ناظر ہونا ثابت ہوگیا وغیرذالک ۔ والعیاذ باللہ مِنْ کُلِّ زیْغٍ وَّضَلال ۔ بہرکیف شیطانوں کی اس طرح کی وسوسہ اندازیوں سے آگاہ فرما دیا گیا تاکہ اہل حق ان سے محتاط اور ہوشیار رہیں ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق ۔ مگر غفلت میں ڈوبی ہوئی دنیا ہے کہ اس کو کوئی پروا تک نہیں ۔ الا ما شاء اللہ ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 235 مشرکوں کی اطاعت و فرمانبرداری شرک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں نے ان کی اطاعت و فرمانبرداری کی تو یقینا تم لوگ قطعی طور پر مشرک ہوؤ گے۔ کہ دین حق کے خلاف کسی اور کی پیروی کرنا شرک ہے (کشاف، صفوۃ وغیرہ) ۔ کہ حاکم اور حاکم مطلق اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اس کے حق حکم میں کسی اور کو شریک جاننا یا اس کے حکم کیخلاف کسی اور کا حکم ماننا اس کے حق حکومت و حاکمیت میں دوسروں کو شریک قرار دینا ہے۔ اور یہی شرک ہے۔ سو مشرکوں کی اطاعت و فرمانبرداری بھی شرک ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ۔ { وَاِنْ اَطَعْتُمُوْھُمْ اِنَّکُمْ لَمِشْرِکُوْنَ } ۔ کے اس ارشاد سے اہل ایمان کو تنبیہ فرما دی گئی ہے کہ ِان لوگوں کی بات کبھی نہ ماننا۔ اور اگر کہیں تم نے ان کے شور و غوغا سے متاثر ہو کر ان کی بات مان لی تو یقینا اس صورت میں تم مشرک ہوجاؤ گے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:122

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اسے زندگی بخشی، اور اسکو نواز دیا ایک ایسی عظیم الشان روشنی سے جس کے اجالے میں وہ چلتا ہے لوگوں کے درمیان کیا وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو پڑا ہوا ہے اندھیروں میں ؟ کہ وہ ان سے نکلنے ہی نہ پاتا ہو،2 اسی طرح خوش نما بنا دیئے گئے کافروں کے لئے ان کے وہ کام جو وہ کرتے رہے ہیں،

236 کفر و شرک موت ہے اور کافر و مشرک مردہ : سو ارشاد فرمایا گیا بھلا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی بخش دی۔ یعنی وہ کفر و باطل کی موت میں پڑا تھا اور طرح طرح کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ سو کفر و شرک موت ہے اور کافر و مشرک انسان مردہ اگرچہ دنیا ان کو زندہ کہتی ہو اور وہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتے ہوں۔ سو اس آیت کریمہ میں موت سے مراد کفر کی زندگی ہے اور حیات سے مراد ایمان کی زندگی۔ اور نور سے مراد ایمان و یقین کا نور ہے۔ سو کوئی مانے یا نہ مانے، تسلیم کرے یا نہ کرے، حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ کفر موت ہے اور ایمان زندگی۔ کفر اندھیرا ہے اور ایمان روشنی اور کافر مردہ ہے اور مومن زندہ ۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان ۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ یا ذا الجلال والاکرام - 237 ایمان و یقین زندگی ہے اور مومن زندہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا وہ شخص جو مردہ تھا پھر جس کے بعد وہ اس روشنی کے ساتھ لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہے اس کو ہم نے زندہ کردیا ہو نور ایمان عطا کر کے۔ سو معلوم ہوا کہ کافر و مشرک مردہ ہے اگرچہ وہ دنیا میں کتنا ہی بڑا دانا کیوں نہ بنا ہوا ہو۔ اور مومن زندہ ہے بلکہ وہ ایک حیات آفرین زندگی سے بہرہ ور ہوتا ہے اگرچہ وہ نان جویں تک کا محتاج ہی کیوں نہ ہو کہ زندگی اصل میں دل ہی کی زندگی ہے۔ اور وہ بنتی اور حاصل ہوتی ہے ایمان و یقین کی قوت اور اس کے نور سے۔ بہرکیف اس ارشاد سے اہل ایمان اور اہل کفر و شرک کی زندگیوں کے فرق کو تمثیل کے ذریعے واضح فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ نے ایمان و یقین کے نور سے مشرف فرما کر زندگی بخش دی ہے اور وہ موت کے بعد زندگی سے سرفراز و بہرہ ور ہوگئے ہیں جبکہ اہل کفر و باطل اپنے اختیار کردہ کفر و باطل کے اندھیروں ہی میں غلطاں و پیچاں ہیں، جس کے باعث ان کو نہ سیدھی راہ سے متعلق کوئی بات سوجھتی ہے اور نہ ہی وہ اپنے نفع و نقصان کو پہچان سکتے ہیں۔ جبکہ اہل ایمان اپنے ایمان و یقین کی روشنی سے سرفراز ہو کر حق و ہدایت کی سیدھی راہ پر چل رہے ہیں اور وہ اپنے نفع و نقصان سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ اور ان کے دل ایمان و یقین کے نور سے منور ہیں ۔ والحمد للہ جل وعلا - 238 کفر و باطل اندھیرا ہی اندھیرا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو ہم نے ایک عظیم الشان روشنی کے ساتھ نوازا ہو جس کے ساتھ اور اس کے اجالے میں وہ چلتا ہو لوگوں کے درمیان۔ کیا وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو [ تہ در تہ ] اندھیروں میں پڑا ہو اور اس طور پر کہ وہ ان سے نکلنے ہی نہ پاتا ہو ؟ اور استفہام یہاں پر ظاہر ہے انکار کے لیے ہے۔ یعنی یہ ایک کھلی اور واضح حقیقت ہے کہ ایسے دونوں شخصوں کے باہم برابر ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں ہوسکتا کہ ایک اجالا در اجالا کے اندر ہے اور دوسرا تہ در تہ اندھیروں کے اندر۔ سو نور ایمان سے محروم لوگ کفر و باطل کے ان مہیب اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں پڑے ہیں جو ان ظاہری اور حسی اندھیروں سے کہیں بڑھ کرمہیب اور خطرناک ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ یہ ظاہری اور حسی اندھیرے کسی کیلئے نار جہنم کا باعث نہیں بنتے جبکہ کفر و باطن کے یہ معنوی اور باطل اندھیرے انسان کو دوزخ کے ہولناک گڑھے میں اتار کر چھوڑتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہ جو فرمایا گیا کہ مومن اپنے اس نور ایمان کے ساتھ لوگوں کے درمیان چلتا ہے تو اس میں اس بارے ترغیب وتحریض کا پہلو بھی ہے کہ مومن کو لوگوں کے درمیان رہنا چاہیئے تاکہ جن کے اندر صلاحیت ہو وہ اس کے نور سے استفادہ کرسکیں اور اس طرح ان کا بھلا ہوسکے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ کفر و باطل اندھیرا ہی اندھیرا ہے اور ایمان و یقین نور ہی نور جس سے ایمان والے مستفید و فیضیاب ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی راہ دکھاتے ہیں۔ تو کیا یہ دونوں گروہ باہم ایک برابر ہوسکتے ہیں ؟ سو ان دونوں کو اگر باہم ایک برابر مانا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ روشنی اور اندھیرا دونوں ایک برابر ہوگئے جو کہ عقل و فطرت کے خلاف اور بداہت کے منافی ہے۔ سو کفر و باطل اور ایمان و یقین کبھی باہم برابر نہیں ہوسکتے۔ ایمان و یقین کی راہ دائمی اور سدا بہار کامیابی کی راہ ہے اور کفر و انکار ہمیشہ کی محرومی کی ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 239 کفر و باطل کی ایک نقد سزا کہ ان لوگوں کے لیے ان کے برے اعمال کو خوشنما بنادیا جاتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح خوشنما بنادیا جاتا ہے کافروں کے لیے ان کے ان اعمال کو جو وہ کرتے رہے ہیں۔ جس کے باعث وہ حق و ہدایت کے نور مبین کے مقابلے میں کفر و باطل کے ان سیاہ اندھیروں میں ڈوبے اپنے انجام سے غافل و بےفکر دائمی عذاب اور ہولناک تباہی کی طرف بڑھے چلے جا رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد عالی میں خداوند قدوس کی ایک سنت اور اس کے دستور کو بیان فرمایا گیا ہے جو اس کائنات میں جاری وساری ہے کہ جو کوئی جس رویئے کو اپناتا ہے اس کو اسی کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ اور اسی کو اس کی نگاہوں میں خوشنما بنادیا جاتا ہے۔ جس سے وہ اسی کو اچھا سمجھنے لگتا ہے اور اس کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ اور اس طرح وہ اپنی اختیار کردہ غلط روش پر اور پکا اور راہ حق سے اور دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ سو یہ اہل کفر وباطل کے لیے ایک نقد سزا ہوتی ہے جو ان لوگوں کو ان کے اعمال کی پاداش میں دی جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 6:123–124

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اسی طرح (جس طرح کہ مکہ کے یہ جرائم پیشہ سردار ہیں) ہم نے مقرر کردیئے ہر بستی میں وہاں کے بڑے مجرم، تاکہ وہ اس میں اپنے مکر و فریب کی کاروائیاں کرتے رہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ مکر و فریب وہ اپنی ہی جانوں سے کرتے ہیں، مگر وہ شعور نہیں رکھتے

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب آپہنچتی ہے ان کے پاس کوئی نشانی، تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ مانیں گے یہاں تک کہ ہمیں بھی وہی کچھ نہ دیا جائے جو کہ دیا گیا اللہ کے رسولوں کو، اللہ خوب جانتا ہے کہ کس سے کام لے اپنی رسال (وپیغمبری) کا، عنقریب ہی پہنچ کر رہے گی مجرموں کو اللہ کے یہاں ایک بڑی ذلت، اور بڑا سخت عذاب ان کی ان مکاریوں کی پاداش میں جن سے وہ کام لیتے رہے،

240 ایک اور سنت کونیہ اور دستور خداوندی کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح ہم نے مقرر کردیے ہر بستی میں وہاں کے بڑے مجرم تاکہ وہ وہاں پر اپنے مکر و فریب کی کارروائیاں کریں۔ یعنی ان کو اس کی چھوٹ دی گئی۔ سو ہر بستی میں بڑے مجرموں کا پایا جانا قدرت کا ایک اور دستور اور سنت کونیہ ہے۔ پس ہر بستی میں بڑے مجرموں کا پایا جانا قدرت کا ایک قدیم دستور اور اس کی سنت ہے جو اس کائنات میں کارفرما ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان مجرموں کو ہم نے ڈھیل دئیے رکھی تاکہ اس سے ایک طرف تو ان کا پیمانہ جرم لبریز ہوتا رہے اور دوسری طرف اہل حق کی ابتلاء و آزمائش کے تقاضے بھی تکمیل پذیر ہوں۔ ان کے درجات بلند ہوں اور ان کے جواہر فطرت مزید از مزید نکھر کر سامنے آسکیں۔ سو ہماری مشیت اسی طرح کی حکمتوں کے باعث بہرحال یہی رہی۔ اور ہمارا یہی قانون و نظام اور دستور اس عالم ہست و بود میں سائد و رائج رہا کہ ہر بستی اور ہر قوم کے مجرم لوگوں کو ایسے ہی ڈھیل ملتی رہے۔ سو یہی مطلب ہے { جَعَلْنَا } کا۔ یعنی " ہماری سنت اور ہمارا دستور ہمیشہ یہی رہا "۔ سو شیاطینِ جن و انس آج جو اس دعوت حق اور اہل حق کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں تو یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں۔ بلکہ ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ جس بستی میں بھی دعوت حق بلند ہوئی تو وہاں کے اہل باطل کے گرو اور وہاں کے بڑے مجرم جن کے مفادات باطل سے وابستہ تھے وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ اور وہ اپنے طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے کام لینے لگے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت و دستور کے مطابق ان کو ایک خاص وقت تک ڈھیل دی تاکہ جو کمائی وہ کرنا چاہتے ہیں کرلیں۔ اور آخرکار وہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔ سو اس سنت کونیہ کے ذکر وبیان میں جہاں ایک طرف اہل حق کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ اہل باطل کے ساتھ تصادم وٹکراؤ کا یہ سلسلہ کوئی نئی چیز نہیں بلکہ ایسا ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے اور دوسری طرف اس میں اہل کفر و باطل کے لیے تنبیہ وتحذیر ہے کہ اگر وہ باز نہ آئے تو ان کا انجام بڑا ہی ہولناک ہے۔ جیسا کہ یہودیوں کا ہوچکا کہ اللہ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے یکساں ہے اور ان کو جو ڈھیل ملی ہوئی ہے وہ بہرحال ڈھیل ہے جس نے بہرحال ختم ہوجانا ہے ۔ والعیاذ باللہ - 241 مجرموں کا مکر و فریب خود انہی کیخلاف : کہ اس کا وبال انہی پر پڑے گا اور اس کا بھگتان خود انہی کو بھگتنا ہوگا۔ ورنہ حق کا اس سے بہرحال کچھ بھی نہیں بگڑے گا۔ کیونکہ حق تعالیٰ کا قانون اور دستور جو اس کی اس کائنات میں سائد و رائج اور کارفرما ہے وہ یہی ہے کہ بری چالیں چلنے والوں کے مکر و فریب کا اثر خود انہی پر پڑے گا اور اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی جو اس دنیا کے بعد آئے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَلَا یَحِیْقُ الْمَکَرُ السَّیُّٔ اِلَّا بِاَھْلِہٖ } الآیۃ (فاطر : 42) ۔ مگر اللہ پاک چونکہ فوراً پکڑتا نہیں بلکہ ڈھیل پر ڈھیل دیتا جاتا ہے کہ ابتلاء و آزمائش کا تقاضا یہی ہے۔ اس لیے ایسے لوگ اس سے دھوکے میں پڑجاتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ اس طرح وہ اپنے ہی خسارے اور اس میں اضافے کا سامان کرتے ہیں اور اس احساس زیان کا فقدان ایک اور بڑا خسارہ ہے جس سے یہ لوگ دوچار ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -