6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 6:25–26

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں، مگر (ان کی بدنیتی اور ان کے حبث باطن کے سبب) ہم نے پردے ڈال دیئے ان کے دلوں پر، اس سے کہ وہ اسے سمجھ سکیں، اور ڈاٹ لگا دیئے انکے کانوں پر، (اس سے کہ یہ اسے سن سکیں صحیح طور پر4) اور (ان لوگوں کی ہٹ دھرمی کا حال یہ ہے کہ) اگر یہ ہر نشانی بھی دیکھ لیں تو بھی اس پر ایمان نہیں لائیں گے،5 یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے جھگڑتے ہیں، اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ نہیں ہے، یہ (قرآن) مگر (قصے) کہانیاں پہلے لوگوں کی

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

اور یہ (لوگ اوروں کو بھی) روکتے ہیں اس (پیغام حق) سے، اور خود بھی اس سے (رکتے اور) بھاگتے ہیں اور اس طرح یہ ہلاک نہیں کرتے مگر اپنے ہی آپ کو مگر یہ سمجھتے نہیں

36 بدنیتی کا سننا مفید نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کان لگا کر اور پوری طرح غور کے ساتھ آپ کی بات سنتے ہیں۔ مگر ان کا وہ سننا چونکہ حق کو ماننے اور قبول کرنے کی نیت سے نہیں ہوتا بلکہ کچھ اور ہی ارادوں سے ہوتا ہے کہ تاکہ اس سے اعتراض اور خوردہ گیری کا کوئی بہانہ ہاتھ آسکے۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ بدنیتی کا سننا مفید نہیں بلکہ الٹا محرومی کا باعث ہے۔ سننا وہی مفید اور معتبر ہے جو کہ صدق نیت اور صحیح ارادے سے ہو۔ جس کے ذریعے حق کو سننا سمجھنا اور اپنانا اور قبول کرنا مقصود ہو ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ نیز اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کے بناؤ بگاڑ اور اس کی صحت و فساد کا تعلق اصل میں اس کے اپنے قلب وباطن سے ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ حسن نیت، حسن اختیار اور صحت باطن کی دولت سے سرفراز و مالامال رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 37 بدنیت انسان قانون فطرت کی زد میں : کہ ایسوں کے قوائے فہم و ادراک ماؤف ہوجاتے ہیں کہ ہمارا قانون و دستور یہی ہے کہ انسان اپنی نیت کا پھل پاتا ہے۔ پس بدنیت انسان ہمارے اسی قانون فطرت کی زد میں آکر اپنے قوائے عقل و ادراک کھو بیٹھتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جن لوگوں کے قلب و باطن کی دنیا درست نہیں ہوتی اور ان کا سننا نیک نیتی اور صدق دل سے نہیں بلکہ بدنیتی اور خبث باطن کی بنا پر ہوتا ہے وہ سننا الٹا ان پر وبال اور ان کی محرومی میں اضافے کا باعث ہوتا ہے۔ اور ایسے لوگ نور حق سے مستفید و فیضیاب ہونے کی بجائے الٹا ان سے دور اور نفور ہوتے جاتے ہیں۔ اور اسی کو یہاں پر دلوں کے پردوں اور کانوں کے ڈاٹ سے تعبیر فرمایا گیا ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ- 38 کفار و مشرکین کی مت ماری کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کافر لوگ کہتے ہیں کہ یہ قرآن نہیں ہے مگر قصے کہانیاں پہلے لوگوں کی۔ سو یہ ان کی مت ماری کا نتیجہ اور اس کا ثبوت ہے کہ یہ لوگ قرآن حکیم کی اس کتاب مقدس کو محض قصوں، کہانیوں اور افسانوں کا مجموعہ قرار دیتے ہیں۔ جس طرح ہم رستم اور اسفندیار وغیرہ کے قصے پڑھتے ہیں اسی طرح اس [ قرآن ] میں عاد وثمود وغیرہ کے قصے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے کفر و ضلال کی ہلاکت خیزیوں کا کہ اس سے انسان کی مت مار دی جاتی ہے۔ جسکے نتیجے میں وہ صاف اور سیدھی بات کو بھی الٹا سمجھنے اور دیکھنے لگتا ہے۔ اور اسی کا یہ ایک نمونہ ہے کہ ان کفار اشرارکو اس قرآن حکیم کے عبرت و حکمت سے لبریز ان قصوں میں اور رستم و اسفندیار کی ان داستان سرائیوں میں کوئی فرق ہی نظر نہیں آتا۔ اور اس طرح ان لوگوں کی محرومی اور بدبختی اور پکی اور گہری ہوتی جاتی ہے۔ اور ان کے اندھیرے اور دبیز ہوتے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 6:27–28

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

اور اگر تم دیکھ سکو حالت اس وقت کی جب کہ کھڑا کیا گیا ہوگا ان لوگوں کو دوزخ کے کنارے پر اور یہ (مارے حیرت و حسرت کے اس طرح) کہہ رہے ہوں گے کہ اے کاش ہمیں کسی طرح واپس بھیج دیا جائے (دنیا میں) تو ہم کبھی نہ جھٹلائیں گے اپنے رب کی آیتوں کو اور ہم ہوجائیں گے ایمانداروں میں سے

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

(مگر یہ کوئی اطاعت کی نیت سے نہیں) بلکہ (اس لئے کہیں گے کہ) ظاہر ہوجائے گا ان کے سامنے وہ کچھ جسے یہ اس سے پہلے (زندگی بھر) چھپاتے رہے تھے، اور اگر (بالفرض) ان کو واپس بھیج بھی دیا جائے تو بھی انہوں نے یقیناً پھر وہی کچھ کرنا ہے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور یہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں،1

39 اہل دوزخ کی ایک حسرت بھری پکارکا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان کو دوزخ کے کنارے پر کھڑا کیا جائے گا تو یہ مارے حسرت کے کہیں گے کہ اے کاش ہمیں کسی طرح واپس بھیج دیا جائے دنیا میں تو ہم کبھی نہیں جھٹلائیں گے اپنے رب کی آیتوں کو اور ہم ہوجائیں گے ایمانداروں میں سے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس روز لوگ اس طرح کہیں گے کہ کاش کہ ہمیں کسی طرح واپس لوٹا دیا جائے۔ یعنی اس دنیا میں جس کو ہم چھوڑ آئے ہیں اور جس کی زندگی اور اس میں ملنے والی اس بیش بہا فرصت کی ہم نے اس وقت کوئی قدر نہ پہچانی۔ مگر اب اس کا کوئی موقع کہاں ؟ سو اہل دوزخ اس طرح حسرت بھرے انداز میں وہاں چیخ و پکار تو کریں گے مگر اس کا ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا سوائے ان کی یاس و حسرت میں اضافے کے۔ اس لیے کہ دوزخ اور اس کی آگ کو دیکھنے اور اس کے معائنے کے بعد دنیا میں واپس آنے کی کوئی صورت پھر ممکن ہی نہیں ہوگی۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیاوی زندگی کی یہ فرصت جو آج ہمیں حاصل و میسر ہے کس قدر عظیم الشان اور بےمثال نعمت ہے کہ جو کمائی آج اس میں کی جاسکتی ہے وہ اس کے بعد پھر کبھی اور کسی طرح ممکن ہی نہیں ۔ { اَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مّکَانٍ بَعِیْدٍ } ۔ سو عقل و نقل کا تقاضا یہ ہے کہ حیات دنیا کی اس متاع بےبہا کو غنیمت جان کر اس کے ایک ایک لمحے سے استفادہ کیا جائے اور اس کو اس کے صحیح مصرف میں لگا کر آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کے لئے کمائی کی جائے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ وَہُوَ الْہَادِیْ اِلٰی سَوَائِ السَّبِیْل -
Ayah 6:29

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور بس ہم نے دوبارہ نہیں اٹھنا

40 منکرین و مشرکین پرلے درجے کے جھوٹے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر بالفرض ان کو واپس دنیا میں بھیج دیا جائے تو بھی انہوں نے وہی کچھ کرنا ہے جو اس سے پہلے کرتے رہے تھے اور جس سے ان کو روکا اور منع کیا گیا تھا اور یہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں کہ زندگی بھر کفر و تکذیب اور بدی و بدتمیزی اور شر انگیزی و فتنہ سامانی کی خباثت و نجاست ان لوگوں کے رگ وریشہ میں سرایت کرچکی ہے۔ اور یہاں آ کر انہوں نے پھر وہی کچھ کرنا ہے جو یہ پہلے کرتے رہے تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو لوگوں کو خیر کی راہ پر ڈالنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق حق و ہدایت کو اپنانے کا عادی بنایا جائے۔ جس طرح خالی الذہن چھوٹے بچوں کو سکھایا پڑھایا جاتا ہے یا جس طرح نوجوانوں کو حرب و ضرب کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ نہیں کہ بچپن اور جوانی میں ان کو خواہشات نفس کی پیروی کیلئے کھلا چھوڑ دیا جائے کہ یہ ان کی آزادی کا معاملہ ہے کہ ایسے میں تعلیم و تربیت کی بات ان میں اثر کر ہی نہیں سکے گی۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ نور حق و ہدایت سے محروم کفر و باطل کے ان پجاریوں کو جب دوزخ کے کنارے پر کھڑا کیا جائیگا تو یہ مارے یاس و حسرت کے چیخ چیخ کر کہہ رہے ہوں گے کہ کاش کہ ہمیں پھر دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے تو ہم قرآن کی تصدیق کریں۔ اپنے رب کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور اہل ایمان میں سے ہوجائیں۔ لیکن ایسا اس وقت کہاں اور کیسے ہو سکے گا۔ اور اگر بالفرض ان کو دنیا کی طرف لوٹا بھی دیا جائے تو انہوں نے پھر بھی اسی کفر و باطل کا ارتکاب کرنا ہے جس کا ارتکاب وہ اس سے پہلے کرتے رہے تھے کہ یہ لوگ یقینا پکے اور پرلے درجے کے جھوٹے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 41 منکرین آخرت کے لئے یہ دنیا ہی سب کچھ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو بس یہ دنیاوی زندگی ہی ہے اور بس۔ اور ہم نے دوبارہ کبھی نہیں اٹھنا۔ اس لیے ایسے محروم اور بدبخت لوگ صاف اور صریح طور پر کہتے ہیں کہ زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے۔ اور ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھنا۔ سو جس نے اس میں نشے کرلئے، کرلئے۔ اور جس نے یہاں مزے لوٹ لئے، لوٹ لئے اور بس۔ اور یہی نظریہ ہے آج کے مادہ پرست انسان کا۔ خواہ وہ مشرق کا ہو یا مغرب کا۔ دنیا کی اس عارضی چکا چوند پر ریجھ جانے کے سوا نہ اس کا کوئی مقصد حیات ہے نہ مطمح نظر۔ اس لئے ایسے مادہ پرست انسان نے حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تمام حدود کو پھلانگ لیا اور وہ ایک جانور کی زندگی گزارنے پر قانع ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو عقیدئہ آخرت سے محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی اور سب سے بڑا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:30

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور اگر تم دیکھ سکو (حال اس وقت کا) جب کہ ان لوگوں کو کھڑا کردیا گیا ہوگا ان کے رب کے حضور (تو تم بڑا ہی عجیب اور عبرتناک منظر دیکھو) وہ ان سے پوچھے گا کیا یہ حق نہیں ہے ؟ تو یہ کہیں گے ہاں کیوں نہیں، قسم ہے ہمارے رب کی تب وہ فرمائے گا کہ اچھا تو اب چکھو تم لوگ مزہ اس عذاب کا اپنے اس کفر (وانکار) کے بدلے میں جو تم زندگی بھر) کرتے رہے تھے

42 کفار و مشرکین کی تحقیر و تذلیل کا ایک اور منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان لوگوں کو ان کے رب کے حضور کھڑا کیا جائے گا اور وہ ان سے پوچھے گا کہ کیا یہ حق نہیں ہے ؟ تو یہ کہیں گے کہ ہاں کیوں نہیں۔ قسم ہے ہمارے رب کی تب وہ ان سے فرمائے گا کہ اب تم لوگ چکھو اور چکھتے رہو مزہ اس عذاب کا اپنے اس کفر وانکار کے بدلے میں جو تم کرتے رہے تھے دنیا میں۔ سو ان سے کہا جائیگا کہ اب چکھو تم لوگ مزہ اس عذاب کا کہ یہ سب کچھ تمہارا اپنا ہی کیا کرایا ہے جس کا بھگتان اب تم کو بہرحال بھگتنا ہوگا۔ اور چونکہ دنیاوی زندگی کی اپنی پوری فرصت کو تم لوگوں نے کفر و انکار کے اندھیروں میں گزارا، اس لئے اب تم ہمیشہ کیلئے اسی عذاب الیم و مقیم میں رہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ کفار و مشرکین کی تذلیل و تحقیر کا ایک مظہر اور منظر ہے جس کو یہاں بیان فرمایا گیا ہے اور جس سے ان لوگوں کو کشف حقائق اور فیصلہ کے اس یوم عظیم میں سابقہ پیش آئے گا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ مِنْ کُلِّ نَوْعٍ مِّنْ اَنْوَاعِ الْعَذَابِ وَمِنْ کُلِّ شَائِبَۃٍ مِّنْ شَوَائِبِ الْکُفْرِ وَالشِّرْکِ-
Ayah 6:31

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

قطعی طور پر خسارے میں ہیں وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی ملاقات (اور پیشی) کو یہاں تک کہ جب ان پر اچانک آپہنچے گی (قیامت کی) وہ گھڑی، تو (اس وقت ایسے لوگ بصد حسرت) کہیں گے کہ ہائے افسوس ہماری اس کوتاہی (اور کم بختی) پر جو ہم نے اس کے بارے میں (زندگی بھر) روارکھی اور یہ اٹھائے ہوں گے اپنے (گناہوں کے) بوچھ اپنی پیٹھوں پر، آگاہ رہو کہ بڑا ہی برا ہے وہ بوجھ جس کو یہ لوگ اٹھائے ہوں گے اپنے (گناہوں کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر

43 اہل باطل کا قیامت کے روز اظہار حسرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان پر آپہنچے گی قیامت کی وہ گھڑی تو اس وقت یہ لوگ بصد حسرت و افسوس کہیں گے کہ ہائے افسوس ہماری اس کوتاہی اور کم بختی پر جو ہم نے اس کے بارے میں زندگی بھر روا رکھی۔ سو اس طرح اہل باطل حق سے اپنی محرومی پر حسرت کا اظہار کریں گے کہ ہم آج کے اس ہولناک دن اور اس کے تقاضوں سے غافل و بےفکر رہ کر گناہوں کی زندگی بسر کرتے رہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر بےوقت کے اس افسوس سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ ان کی یاس و حسرت کی آگ میں اور اضافہ ہوتا جائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد میں ایک طرف تو منکرین و مکذبین کے لئے تنبیہ و تذکیر ہے کہ وہ بچ جائیں اور باز آجائیں اپنے اس کفر و شرک سے ورنہ اس ہولناک انجام کے لئے تیار ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور دوسری طرف اس میں اہل ایمان کے لئے تسکین و تسلی کا سامان ہے کہ کامیابی اور فوز و فلاح انہی کے لئے ہے جو آخرت کو مانتے اور اس کے لئے تیاری کرتے ہیں۔ جبکہ منکرین سخت خسارے میں ہیں اور ان کو ایسے ہولناک انجام سے دو چار ہونا پڑیگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس طور پر کہ اس کے ازالہ وتدارک کی کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 44 گناہوں کے بوجھ گنہگاروں کی پیٹھوں پر ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز یہ لوگ اٹھائے ہوں گے اپنے گناہوں کے بوجھ اپنی پیٹھوں پر۔ آگاہ رہو کہ بڑا ہی برا ہوگا وہ بوجھ جس کو یہ لوگ اٹھائے ہوں گے اپنی پیٹھوں پر۔ سو گنہگاروں کے گناہوں کے بوجھ اس روز ان کی پیٹھوں پر لدے ہونگے۔ سو ان کے گناہ اس روز بدترین شکل میں متمثل ہو کر ان کی پشتوں پر سوار ہوجائیں گے اور ان کو دوزخ کی طرف ہانک کرلے جا رہے ہوں گے ۔ کما فی سنن ابی داؤد وغیرہ ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمُ ۔ سو ان لوگوں کا معاملہ اس روز بس یاس و حسرت ہی تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس سے بڑھ کر ان کو اپنے گناہوں کے یہ ہولناک بوجھ بھی اٹھانے ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور نفسانفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کے کچھ کام نہ آسکے گا۔ اور ان کے اعوان و اَنصار اور شرکاء و شُفَعَاء میں سے کوئی بھی ایسا نہ ہوگا جو ان سے ان کے ان بھاری بھرکم اور ہولناک بوجھوں میں سے کچھ بھی ہلکا کرسکے۔ حالانکہ دنیا میں ان کو اپنے ان اعوان و اَنصار اور شرکاء و شفعاء کا بڑا زعم اور گھمنڈ ہوا کرتا تھا۔ کہ یہ ہمارے کرتا دھرتا اور ہمارے پشت پناہ ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس وقت ان کے سامنے واضح ہوجائے گا کہ یہ سب کچھ نرا دھوکہ اور سراب تھا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:32

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور کچھ نہیں دنیا کی یہ زندگی مگر اک کھیل اور تماشہ، اور آخرت کا گھر تو یقیناً اس سے کہیں بہتر ان لوگوں کیلئے جو (ڈرتے اور) بچتے ہیں (اپنے رب کی نافرمانی و ناراضگی سے) تو کیا تم لوگ (پھر بھی) نہیں سمجھتے ؟3

45 دنیا کی زندگی محض ایک کھیل اور تماشا : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ دنیاوی زندگی ایک کھیل اور تماشے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ کہ جس طرح کھیل تماشے میں لگ کر ایک بچہ اپنے اصل مقصد کو بھول جاتا ہے، اسی طرح ابنائے دنیا دنیا کی چمک دمک اور اس کی ظاہری چکا چوند میں کھو کر اور اس کے مفادات سمیٹنے میں لگ کر آخرت کی اپنی اصل اور حقیقی منزل کو بھول گئے۔ اور اس دنیائے دوں کی عارضی اور فانی لذتوں میں منہمک ہو کر انہوں نے اپنے پورے سرمایہ حیات کو اسی میں تج دیا۔ اور اسی کے کمانے بنانے اور جوڑنے بڑھانے کو انہوں نے اصل مقصد حیات اور نصب العین بنا لیا جو کہ سب سے بڑا نقصان اور ناقابل تلافی خسارہ ہے۔ جبکہ اصل، حقیقی اور ابدی زندگی تو آخرت کی زندگی ہی ہے۔ سو اس سے منہ موڑ کر دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی کو اصل مقصد بنا لینا خساروں کا خسارہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر ابنائے دنیا ہیں کہ اس سب کے باوجود اندھے اور بہرے بن کر اور آخرت کی اصل اور حقیقی زندگی کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر اسی دنیا کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور وہ اسی کو سب کچھ سمجھے بیٹھے ہیں ۔ الا ماشاء اللہ ۔ سو اس سے مومن صادق کی عظمت شان کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جس دنیا کو ابنائے دنیا سب کچھ سمجھتے اور اس کو انہوں نے اپنا قبلہ اور مقصود حیات بنا رکھا ہے اور وہ دن رات اسی کے بنانے سنوارنے اور جوڑنے جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں وہ مومن صادق کے نزدیک قرآن وسنت کی نصوص صریحہ کے مطابق ایک کھیل اور تماشہ کے سوا کچھ نہیں ۔ فَیَا لعَظْمَۃ الایْمَانِ وَالْیَقِیْنِ ۔ اَللّٰہُمَّ فَزِدْنَا مِنْہُ وَثَبِّتْنَا عَلَیْہِ بِمَحْضِ مَنِّکَ وَ کَرَمِکَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالِْاکْرَامِ - 46 عقل سے کام لینے کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا اور تحریض و ترغیب کے لیے بطور سوال و استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟ " کہ لہو و لعب کی اس عارضی اور فانی زندگی کو آخرت کی اس ابدی حقیقی اور دائمی زندگی پر ترجیح دیتے ہو جو کہ سراسر خسارے کا سودا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ انسان آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی کو اصل مقصد اور نصب العین بنائے اور دنیا کی اس عارضی فرصت کو اسی کے بنانے میں صرف کرے کہ یہ دنیا آخرت کی کھیتی اور اس کی کمائی کیلئے قدرت کی بخشی ہوئی ایک فرصت ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ ۔ اور آخرت اس دنیا سے کہیں بڑھ کر بہتر بھی ہے اور ابدی و دائمی بھی۔ تو پھر ان لوگوں کی عقلوں کو آخر کیا ہوگیا جو آخرت کی اس ابدی اور حقیقی زندگی کو بھول کر اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر اسی دنیائے فانی پر ریجھ گئے اور وہ اسی کے لئے جینے اور مرنے لگے۔ پھر یہاں پر آخرت سے سرفرازی کا طریقہ بھی بتادیا گیا کہ وہ ہے تقویٰ و پرہیزگاری اور خوف خداوندی۔ پس ہمیشہ اسی کو اپنانے کی فکر و کوشش ہونی چاہیے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق -
Ayah 6:33

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

بلاشبہ ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کے لئے (اے پیغمبر) غم کا باعث بن رہی ہیں ان لوگوں کی وہ باتیں جو یہ لوگ بناتے ہیں مگر (آپ پرواہ نہ کریں کہ) یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیتوں کا انکار کر رہے ہیں

47 پیغمبر کے لئے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کے لیے [ اے پیغمبر ] غم کا باعث بن رہی ہیں ان لوگوں کی وہ باتین جو یہ بناتے ہیں۔ سو ان کی وہ دکھ دہ اور دلآزار باتیں ہم سے مخفی نہیں جو یہ لوگ آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ کے ذریعے آنے والے اس دین حق کی توہین و تکذیب کے لئے کرتے ہیں کہ کبھی یہ آپ ﷺ کو شاعر کہتے ہیں کبھی ساحر اور کبھی مجنوں وغیرہ۔ (ابن کثیر، قرطبی، صفوہ، معارف وغیرہ) ۔ اور اس طرح یہ بدبخت آپ کی اور آپ کے عُشَّاق و پروانوں کی دلآزاری کا سامان کرتے ہیں اور اپنی بدبختی کی سیاہی کو اور پکا کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو یہ سب کچھ ہمارے علم میں ہے۔ ہم جو ان کی اس پر فوری گرفت و پکڑ نہیں کرتے تو یہ حکمت کے تقاضوں کی بنا پر ہے۔ یہ لوگ اپنے انجام کو بہرحال پہنچ کر رہیں گے اور اپنے کئے کرائے کا بھگتان ان کو بہرحال بھگتنا ہوگا۔ لہٰذا آپ اس بارے کوئی فکر اور پروا ہرگز نہ کریں۔ سو اس ارشاد میں پیغمبر کے لئے اور پیغمبر کے توسط سے ہر داعی حق کے لئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے۔ کہ حق اور اہل حق کے خلاف دشمنان دین کی ایسی باتیں کوئی نئی چیز نہیں اور یہ لوگ اور ان کی ایسی دلآویز کاروائیاں اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں۔ ان کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ فالی اللہ المشتکی وہو المستعان ۔ فالحمد للّٰہ رب العالمین - 48 ظالموں کی اصل دشمنی حق کے ساتھ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ظالم لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ بدبخت اصل میں اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔ پس ان بدبختوں کی جنگ دراصل آپ سے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ سے ہے۔ سو ان سے وہ خود ہی نمٹ لے گا۔ اور نہایت اچھی طرح سے نمٹے گا۔ اس لئے آپ ان کی فکر نہ کریں۔ سو اس طرح اس میں تسلی ہے آنحضرت ﷺ کے لئے اور آپ ﷺ کے توسط سے آئندہ قیامت تک آنے والے ہر داعی حق کے لئے کہ وہ دشمنان دین کی ایسی تکلیف دِہ اور دلآزار باتوں کی پروا کیے بغیر جادئہ حق پر مستقیم و گامزن رہیں ۔ وبِاللّٰہِ التوفیق ۔ اس ارشاد میں ان مکَذِّبِیْن کے لئے " ظالمین " کا لفظ استعمال فرما کر یہ امر واضح فرما دیا گیا کہ حق اور اہل حق کی تکذیب و دلآزاری کا ارتکاب کر کے یہ لوگ در اصل اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اس کا خمیازہ ان کو بہرحال بھگتنا ہوگا۔ کبھی بچ نہیں سکیں گے۔ سو یہ جملہ اہل حق کی تسلیہ و تسکین کے لئے نہایت دلنواز جملہ ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ ۔ اور ظالموں کے لیے اس میں بڑی تنبیہ وتحذیر ہے کہ وہ باز آجائیں اپنی اس روش سے ورنہ ان کو سخت بھگتان بھگتنا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 6:34

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ سے پہلے بھی جٹلایا جاچکا ہے بہت سے رسولوں کو، مگر انہوں نے صبر (برداشت) ہی سے کام لیا اس تکذیب اور ایذا رسانی پر جس سے ان کو پالا پڑا، یہاں تک کہ آپہنچی ان کو ہماری مدد اور کوئی نہیں بدل سکتا اللہ کی باتوں کو، اور بلاشبہ پہنچ گئے آپ کے پاس کچھ حالات پہلے گزرے ہوئے رسولوں کے1

49 حضرات انبیاء و رسل کی تکذیب اہل کفر و باطل کا قدیم وطیرہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ آپ سے پہلے بھی جھٹلایا جا چکا ہے بہت سے رسولوں کو مگر انہوں نے صبر ہی سے کام لیا۔ پس تکذیب و استہزاء کے جس معاملے سے آج آپ کو سابقہ پڑ رہا ہے، کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں۔ بلکہ راہ حق میں ایسے اس سے پہلے بھی ہوتا آیا ہے۔ پس آپ بھی صبر ہی سے کام لیتے رہیں جیسا کہ ان حضرات نے لیا ۔ { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ } ۔ (الاحقاف : 35) ۔ سو حضرات انبیاء و رسل کی تکذیب اہل کفر و باطل کا قدیم وطیرہ اور پرانا طریقہ رہا ہے جو جب سے اب تک موجود ہے۔ اور یہ ایک طبعی امر بھی ہے۔ کیونکہ ان قدسی صفت حضرات کی دعوت ایسے لوگوں کی نفسانی خواہشات کیخلاف ہوتی ہے۔ اور خواہشات کے بندوں کو اپنی خواہشات کو ترک کرکے حق کے آگے سرنگوں ہوجانا بہت گراں ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے لوگوں نے ہمیشہ دعاۃِ حق کا مذاق اڑایا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ الا ما شاء اللہ ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور آج تو ظالم لوگ اس کے لیے نت نیے طریقوں سے کام لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ - 50 صبر و استقامت ذریعہ نصرت و امداد خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو جھٹلایا جا چکا ہے مگر انہوں نے صبر و برداشت ہی سے کام لیا اس تکذیب و ایذارسانی پر جس سے ان کو سابقہ پیش آیا۔ یہاں تک کہ آپہنچی ان کو ہمار مدد۔ پس صبر و استقامت ذریعہ نصرت اور وسیلہ ظفر ہے۔ اور آزمائش میں صبر و استقامت سے کام لینے پر اللہ پاک ضرور اپنی نصرت و امداد سے نوازتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لئے آپ ﷺ بھی اس کی نصرت و امداد کی امید رکھیں اور اس بارے اس کے وعدوں پر مطمئن رہیں کہ غلبہ اور آخری انجام بہرحال حق اور اہل حق ہی کا ہے ۔ وَالْعَاقِبَۃُ لِلَّتَّقْویٰ ۔ سو صبر و استقامت ذریعہ نصرت و امداد خداوندی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین۔ 51 اللہ تعالیٰ کا ہر وعدہ قطعی اور اٹل ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کوئی نہیں بدل سکتا اللہ کی باتوں کو۔ سو اس کا ہر وعدہ اپنے وقت پر پورا ہو کر رہے گا۔ سو کسی کی یہ جان نہیں کہ وہ اللہ کے کلمات کو بدل سکے۔ یعنی اس کے وعدوں اور حکموں کو (جامع البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو اس کا ہر وعدہ اور ہر حکم اپنے وقت پر بہرحال پورا ہو کر رہے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس وحدہ لاشریک نے اپنے رسولوں کی نصرت و امداد کا قطعی اور صریح وعدہ فرما رکھا ہے۔ چناچہ اس کا ارشاد ہے ۔ { وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ ، اِنَّھُمْ لَہُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ ، وَاِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغَالِبُوْنَ } ۔ (الصافات : 171-173) ۔ پس اس کا یہ وعدہ ضرور پورا ہو کر رہے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر اس کے لئے ان کو ابتلاء و آزمائش کی اس سنت کے مطابق جو کہ قدرت نے ان کے لئے مقرر فرما رکھی ہے اور جس کا ذکر ابھی اوپر ہوا ہے اس کے مطابق ان کو ابتلاء و آزمائش کے مرحلے سے بہرحال گزرنا پڑتا ہے۔ اس دوران ان کی قوموں کی طرف سے ان کی تکذیب ہوتی رہتی ہے اور ان کے مخالفین و منکرین کے اندر جو خبث بھرا ہوتا ہے وہ ابھر کر باہر آجاتا ہے اور حضرات انبیاء و رسل اور ان کے ساتھیوں کے اندر کے جواہر بھی نکھر کر سامنے آجاتے ہیں۔ اور یہی نتیجہ اور مقتضیٰ ہوتا ہے ابتلاء و آزمائش کا۔ 52 حضرات انبیائے کرام کے کچھ حالات کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ آگئے آپ کے پاس کچھ حالات پہلے رسولوں کے۔ نہ کہ ان کے سب حالات کا۔ کہ ان کو نہ بیان فرمایا گیا اور نہ ان کے بیان کرنے کی ضرورت ہی تھی۔ پس یہ { مِنْ } تَبْعِیضیّہ ہے۔ (جامع البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ یعنی ان حضرات کے صرف وہ حالات جن کا تعلق کلمہ حق کی تبلیغ، اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات اور ان کے مقابلے میں صبر و استقامت سے کام لینے اور جھٹلانے والی ان قوموں کے عبرتناک انجام وغیرہ جیسے اہم امور سے تھا، ان کو بیان فرمایا گیا۔ پس اس سے اہل بدعت کے [ مَاکَانَ وَمَایَکُوْنُ ] کے علم غیب کے شرکیہ عقیدے کی جڑ کٹ جاتی ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ نیز یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ جس طرح اللہ پاک نے اپنی نصرت و امداد کا وعدہ اپنے انبیاء و رسل سے فرما رکھا ہے، اسی طرح اس نے اپنا یہ وعدہ اپنے ایماندار بندوں سے بھی فرمایا ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا ۔ { اِنََّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمَ الْاَشْہَادُ } ۔ (المومن : 51) ۔ نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ " ایمان والوں کی مدد کرنا ہمارے ذمے حق ہے "۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ { وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ المُوْمِنِیْنَ } ۔ (الروم : 47) مگر اس کے باوجود آج مسلمان جس ذلت و رسوائی سے دوچار ہے اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ مسلمان دراصل مسلمان نہیں۔ نہ وہ ایمان و یقین کے تقاضوں کو جانتا ہے اور نہ ہی وہ اللہ تعالیٰ کی ان سنن اور قوانین سے واقف و آگاہ ہے جو اس خالق کل اور مالک مطلق کی اس کائنات میں کارفرما ہیں۔ ورنہ غالب و سربلند بہرحال مومن صادق ہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { وَلاَ تَہِنُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الأَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّوْمِنِیْنَ } ۔ (آل عمران :139) " اور نہ تم ہمت ہارو اور نہ غمگین ہوؤ کہ غالب و سربلند بہرحال تم ہی لوگ ہو اگر تم حقیقت میں اور واقعی ایماندار ہو " ۔ سبحان اللہ ۔ کتنا واضح اور کس قدر صاف وصریح اعلان و اظہار ہے کہ غلبہ و سربلندی اہل ایمان ہی کے لیے ہے بشرطیکہ وہ سچے پکے مسلمان ہوں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 6:35

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور اگر گراں گزرے آپ پر ان لوگوں کا (حق سے) منہ موڑنا (جس سے آپ ان کے فرمائشی معجزات ہی چاہنے لگیں) تو اگر آپ سے ہو سکے تو ڈھونڈ لو کوئی سرنگ زمین میں (اترنے کو) یا کوئی سیڑھی آسمان میں (چڑھنے کو) پھر لاسکو ان لوگوں کے پاس کوئی نشانی (تو بیشک لے آؤ) اور اگر اللہ کو (خواہ مخواہ ان لوگوں کو ایمان پر لانا ہی) منظور ہوتا تو وہ یقیناً ان سب کو یونہی ہدایت پر جمع کردیتا، پس تم مت بنو نادانوں میں سے2

53 پیغمبر کی رحمت و شفقت کا ایک نمونہ و مظہر : کہ آپ چاہتے تھے کہ لوگ کسی نہ کسی طرح ایمان لے آئیں تاکہ دوزخ کے عذاب سے بچ جائیں جس پر اللہ تعالیٰ آپ کو اس مقام پر اس طرح ارشاد فرماتے ہیں۔ یعنی اگر آپ کو ان لوگوں کا اعراض اور راہ حق سے روگردانی گراں گزرے، اپنی حد درجہ کی اس رحمت وشفقت کی بنا پر، جو کہ آپ ﷺ کے وجود باجود کے اندر موجود وموجزن ہے۔ اور اسی بنا پر آپ ان لوگوں کے فرمائشی معجزات کی تعمیل کرنا چاہیں تو اس کیلئے جو کچھ آپ کرسکتے ہیں کر دیکھیں۔ سو اس ارشاد ربانی سے ایک طرف تو پیغمبر کی اس بےپایاں رحمت و شفقت کا پتہ چلتا ہے جو آپ ﷺ کے وجود باجود کے اندر لوگوں کی اصلاح و ہدایت سے متعلق پائی جاتی تھی اور دوسری طرف اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتا کہ جو چاہے کرے۔ جیسا کہ اہل بدعت وغیرہ مختلف اہل زیغ و ضلال کا کہنا ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ مِنْ کُلّ سُوئٍ و اِنْحِرَافٍ ۔ انحراف بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آپ ﷺ اس قدر ان کے در پے نہ ہوں اور اس بنا پر اپنے آپ کو تکلیف میں نہ ڈالیں ۔ { فلَا تَذْھَبْ نَفْسُکَ عَلَیْہِمْ حَسَراتٍ } ۔ کہ آپ کا کام صرف انذار اور تبلیغ ہے اور بس۔ 54 جبری ایمان مطلوب نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو خواہ مخواہ ان لوگوں کو ایمان پر لانا ہی مطلوب ہوتا تو اللہ ان سب کو یونہی ہدایت پر لے آتا۔ کہ یہ اس کے لئے کوئی مشکل کام نہ تھا بلکہ اس کا ارادئہ و ارشاد ہی اس کے لئے کافی تھا کہ وہ بہرحال قادر مطلق ہے۔ مگر ایسا خواہی نخواہی اور زبردستی کا ایمان تو اسے نہ منظور ہے نہ مطلوب کہ ایسے جبری ایمان سے امتحان اور ابتلا و آزمائش کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ ورنہ وہ اگر چاہتا تو روئے زمین کے تمام لوگ بلا کسی پس و پیش کے یونہی ایمان لے آتے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پرارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَوْشَائَ رَبُّکَ لَآمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّہُمْ جَمِیْعًا } ۔ (یونس : 99) ۔ مگر اس کے یہاں جو ایمان مطلوب ہے وہ وہ ہے جو اپنے ارادئہ و اختیار سے ہو۔ اسی پر اجر وثواب ملتا ہے اور یہی تقاضا ہے ابتلاء و آزمائش کا۔ 55 ہٹ دھرموں کے پیچھے پڑنا جہالت و نادانی : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم جاہلوں یعنی نادانوں میں سے نہ ہو جاؤو۔ سو اس سے پیغمبر کی رحمت و شفقت کا ایک اور نمونہ سامنے آتا ہے۔ بہرکیف آپ سے فرمایا گیا کہ آپ نادان نہ بنیں کہ ایسے بدبختوں اور نامرادوں کے ایمان کی فکر اس طرح کرنے لگیں اور اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال دیں ۔ { فَلا تَذْہَبَ نَفْسُکَ عَلَیْہِمْ حَسَرَاتٍ } ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پیغمبر اپنی امت پر کس قدر شفیق ہوتے ہیں اور ان کے ایمان کی وہ کس قدر حرص رکھتے ہیں تاکہ اس طرح یہ لوگ دوزخ کی ہولناک آگ سے بچ کر جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہوسکیں۔ سو ایسے میں پیغمبر کی دعوت سے منہ موڑنا اور اس کی بےقدری و ناشکری کرنا کس قدر بےانصافی اور کتنا بڑا ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ واضح رہے کہ لفظ " جہل " جس طرح " علم " کے مقابلے میں آتا ہے اسی طرح یہ " حلم " کے مقابلے میں بھی آتا ہے۔ اسی بنا پر اس کے معنیٰ ہوتے ہیں جذبات سے مغلوب ہوجانا۔ یہاں پر یہ لفظ اسی معنیٰ میں آیا ہے اور ہم نے اپنے ترجمے کے اندر اسی کا لحاظ رکھا ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 6:36

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

(ہدایت تو) وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں، رہے مردے تو انھیں بس اللہ ہی زندہ کر کے اٹھائے گا، پھر وہ سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے3

56 صدق و اخلاص باعث سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہدایت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں کھلے دل، صاف نیت اور صحیح ارادے سے۔ اور حق و ہدایت کو اپنانے اور قبول کرنے کی غرض سے۔ اور جو اس کے بغیر سنتے ہیں وہ محروم رہتے ہیں۔ سو صدق و اخلاص باعث سرفرازی ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ ۔ سو جو صحیح نیت سے سنتے ہیں وہ سمجھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کو قبول حق کی توفیق وسعادت نصیب ہوتی ہے۔ اور جو صحیح نیت و ارادے سے نہیں سنتے، ان کو سمجھنے کی توفیق نہیں ملتی۔ اور ایسوں کا سننا نہ سننا برابر ہوتا ہے اور وہ محروم کے محروم ہی رہتے ہیں کہ ایسے لوگ دراصل صم، بکم، عمی کے مصداق ہوتے ہیں۔ اور یہ کان، آنکھ اور دل رکھنے کے باوجود اندھے، بہرے اور گونگے ہوتے ہیں۔ سو انسان کی محرومی اور سرفرازی کا تعلق دراصل اس کے اپنے اندر اور اپنے قلب و باطن سے ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 57 نور حق و ہدایت سے محروم لوگ حقیقت میں مردہ ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حق کو وہی لوگ قبول کرتے ہیں [ جو زندہ ہیں اور ] صحیح معنوں میں سنتے ہیں۔ رہے مردہ تو ان کو اللہ ہی زندہ کر کے اٹھائے گا۔ پھر ان سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹایا جائے کا۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جو لوگ حق کو سنتے مانتے ہیں وہ زندہ نہیں، مردہ ہیں۔ دل کے مردے جو ایمان و یقین کی دولت سے محروم ہیں۔ اس سے مراد کافر ومنکر لوگ ہیں کہ وہ اگرچہ بظاہر زندہ انسانوں کی طرح دو ٹانگوں پر چلتے پھرتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ مردہ ہیں۔ اور ان کے یہ جسم دراصل ان کی چلتی پھرتی قبریں ہیں۔ اس لیے یہ لوگ حق بات کو سننے سمجھنے اور اس کو اپنانے، اختیار کرنے سے قاصر ہیں۔ سو یہ اگرچہ بظاہر زندہ ہیں، بلکہ دنیاوی معاملات میں تو یہ بہت تیز ہیں، لیکن حقیقت میں یہ لوگ مردہ ہیں کہ ان کے دل نور ایمان و یقین سے محروم ہیں۔ اور یہ عقل و دل کے مردہ ہیں۔ اور اس تشبیہ سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ مردے سنتے نہیں۔ کیونکہ یہ تشبیہ اسی صورت میں صحیح ہوسکتی ہے۔ مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اگر کسی موقع پر کسی کو کچھ سنوا دے تو وہ اور بات ہے کہ وہ اس پر قادر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جیسے قلیب بدر کے موقع پر ہوا یا جیسے خفق نعلین والی حدیث سے ثابت ہوتا ہے وغیرہ۔ بہرکیف حق سے بےبہرہ و محروم یہ کفار واشرار مردہ ہیں۔ (طبری، قرطبی، مراغی، ابن کثیر، محاسن التاویل وغیرہ ) ۔ سو دلوں کی زندگی ایمان و یقین کے نور ہی سے ہے ورنہ موت ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:37

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتاری گئی اس (پیغمبر) پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرح سے (ہماری فرمائش کے مطابق، ) کہو کہ بیشک اللہ قادر ہے اس پر کہ اتار دے ایسی کوئی نشانی لیکن ان میں سے اکثر جانتے نہیں

58 اکثر لوگ نور علم سے محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں حق اور حقیقت کو۔ اور اس بات کو کہ ایسے کسی فرمائشی معجزے کا پورا نہ ہونا خود انہی کے لئے بہتر ہے کہ قانون قدرت یہ ہے کہ ایسی فرمائش کی تکمیل کے بعد جو لوگ مانتے نہیں وہ ہمیشہ کے لئے تباہ کردیے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اگر یہ بات نہ ہوتی تو اللہ پاک کیلئے ان لوگوں کی ایسی فرمائشوں کو پورا کرنا کوئی مشکل امر نہیں تھا کہ وہ قادر مطلق ہے۔ جو چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ مگر اس نے اپنی حکمت بےپایاں کے تقاضوں کے مطابق ایسا نہیں کیا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد سے ایک طرف تو یہ بات نکلتی ہے کہ یہ ناداں اور مغرور لوگ اس طرح کی نشانی کے ظہور کے نتائج سے آگاہ نہیں۔ ورنہ یہ اس کے لئے اس طرح کے مطالبے نہ کرتے۔ کیونکہ ایسی نشانی کے ظہور کے بعد انکار کرنے والوں کی کمر توڑ کر رکھ دی جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ نیز اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کی حکمت سے واقف و آگاہ نہیں۔ ورنہ یہ اس طرح کے مطالبے کبھی نہ کرتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا دستور یہ نہیں کہ وہ اپنے رسولوں کے منکرین و مکذبین کو فوراً پکڑ لے۔ بلکہ وہ ان کو ایک خاص مدت تک مہلت دیتا ہے جس میں ان پر خدا کی حجت تمام کردی جاتی ہے۔ اور جب ان پر حجت پوری ہوجاتی ہے تو وہ ان کو پکڑتا ہے۔ اور جب وہ ایسوں کو پکڑتا ہے تو پھر کوئی ان کو اس کی پکڑ سے چھڑا نہیں سکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس طرح یہ لوگ اس رحمت سے بھی واقف و آگاہ نہیں جو اللہ کی طرف سے دی گئی اس مہلت کے اندر ان کے لیے مخفی و مضمر ہوتی ہے بشرطیکہ ایسے لوگ اس کی قدر کریں اور اس سے فائدہ اٹھائیں ۔ وباللہ التوفیق ۔ مگر اس سے ان بدبختوں کی بدبختی ہی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 6:38

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور نہیں ہے کوئی جانور جو چلتا ہو اس زمین میں، اور نہ کوئی پرندہ جو اڑتا ہو اپنے پروں کے ساتھ (ان فضاؤں میں) مگر یہ سب مختلف جماعتیں ہیں تم ہی جیسی ہم نے کوئی کسر نہیں چھوری نوشتہء تقدیر میں، پھر ان سب کو بہر حال اپنے رب ہی کے حضور آنا ہے اکٹھا ہو کر،

59 پرندوں اور چرندوں کی مختلف انواع بھی انسانوں کی طرح ہیں : مخلوق ہونے میں۔ خدا تعالیٰ کی محتاج و مرزوق ہونے میں۔ اور دوسری بہت سی صفات اور خصوصیات میں۔ جیسے ان کا پیدا ہونا، پلنا بڑھنا، چلنا پھرنا، کھانا پینا، سونا جاگنا، پھلنا پھولنا اور توالد و تناسل وغیرہ وغیرہ۔ (التحریر لابن عاشور وغیرہ) ۔ سو اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں کا یہ کہنا کہ " اس سے معلوم ہوا کہ ہم حضور کو اپنی مثل نہیں کہہ سکتے، کیونکہ رب نے جانوروں کو یہاں ہماری مثل فرمایا ہے، مگر پھر بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جانور ہماری طرح ہیں، تو ہم حضور کی طرح کیسے ہوگئے "۔ سو ایسا کہنا محض موصوف کی ایک ذہنی اپج، خانہ ساز منطق اور مغالطہ آمیزی یا تجاہل عارفانہ ہے۔ ورنہ جیسا کہ حضرات اہل علم اور مفسرین کرام کا کہنا ہے، یہ تشبیہ و تمثیل بھی عام تشبیہات کی طرح مِنْ کُلِّ الْوُجُوْہِ نہیں بلکہ من بعض الوجوہ ہے۔ جیسا کہ " زَیْدٌ کَالْاَسَدِ " میں تشبیہ صرف اس کی بہادری اور دلیری کی بنا پر ہے۔ اس لئے اس میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ " زید شیر ہے " حالانکہ شیر تو ایک درندہ ہے جبکہ زید میں درندگی کی کوئی خصلت نہیں پائی جاتی۔ اور جب مِنْ بَعْضِ الْوُجْوُہ مماثلت پائے جانے کے باعث رب تعالیٰ نے { اَمْثَالُکُمْ } فرمایا ہے تو اس کے تسلیم کرنے میں کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے ؟ یا اس میں کیا اشکال پیدا ہوسکتا ہے ؟ دراصل انسان جب ایک بےبنیاد بات گھڑ لیتا اور ایک غلط عقیدہ اپنا لیتا ہے تو اس کو ایسے ہی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے نشانیاں مانگنے والوں کو آفاق کی ان مختلف نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تم ایک نشانی مانگتے ہو، حالانکہ تم لوگ اگر ذرا غور وفکر سے کام لو تو تمہیں نظر آئیگا کہ خداوند قدوس کی یہ پوری کائنات طرح طرح کی ان نشانیوں سے بھری پڑی ہے جو طرح طرح سے اس کی وحدانیت ویکتائی کا درس دے رہی ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 60 " الکتاب " سے مراد ؟ اور ایک مغالطے کا جواب : سو یہاں پر " الکتاب " سے مراد بھی واضح ہے اور اہل بدعت کی ایک مغالطہ انگیزی اور تحریف پسندی کا جواب بھی۔ سو " کتاب " سے یہاں پر مراد جیسا کہ ہم نے اپنے ترجمے میں بھی واضح کیا ہے لو حِ محفوظ ہے۔ امام طبری، زمخشری اور صاحب جلالین وغیرہ حضرات نے اسی کو اختیار فرمایا ہے۔ (الطبری، محاسن التاویل، مدارک التنزیل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ ) ۔ اور علامہ ابن کثیر نے اس کو قو لِ واحد کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔ اس کے سوا دوسرے کسی قول کا انہوں نے ذکر ہی نہیں فرمایا۔ یعنی ان کے نزدیک اس کا مفہوم و مصداق صرف یہی ہے۔ اور یہی ظاہر بھی ہے کہ دوسری مختلف آیات و نصوص کریمہ سے بھی اسی کی تائید و تصدیق ہوتی ہے۔ جیسے سورة ہود کی آیت نمبر 6 میں فرمایا گیا ۔ { کُلٌّ فِیْ کِتَابٍ مُّبِیْنٍ } ۔ جبکہ دوسرا قول کچھ حضرات اہل علم کا اس بارے میں یہ ہے کہ یہاں پر کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔ اور ابوحیان وغیرہ کچھ حضرات نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ اور اس صورت میں یہ حضرات اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ اس کتاب حکیم میں دین مبین سے متعلق ہر ضرورت کو پورا فرما دیا گیا ہے۔ جیسا کہ اس کی مزید تفصیل آگے آرہی ہے۔ سو اگر اس سے مراد لوح محفوظ ہو۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور امام ابن جریر طبری وغیرہ حضرات نے اسی کو ترجیح دی ہے تو اس صورت میں اس سے مراد یہ ہوگی کہ لوح محفوظ میں تمام مقادیر اور ماکان ومایکون سب کچھ ثبت و موجود ہے کہ وہ کنایہ ہے علم الہٰی سے۔ اور ظاہر ہے کہ اس کے احاطہ اور عموم وشمول سے کوئی بھی چیز باہر نہیں ہوسکتی۔ (محاسن وغیرہ) ۔ اور بعض حضرات کے نزدیک اس سے مراد اللہ پاک کا علم کامل و محیط ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کو جو کتاب کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے تو یہ دراصل کنایہ ہے اس کے محفوظ ہونے سے کہ جس طرح لکھا ہوا محفوظ رہتا ہے بھولتا نہیں اسی طرح اللہ پاک کا علم ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوتا ہے، کبھی مٹتا یا محو نہیں ہوتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ اور اگر اس سے مراد قرآن مجیدہو، جیسا کہ امام رازی وغیرہ نے اختیار فرمایا ہے، تو اس وقت اس سے مراد وہی امور ہوں گے جن کا تعلق دین اور ہدایت سے ہے۔ کیونکہ قرآن حکیم کا اصل موضوع یہی ہے۔ اسی لئے جملہ مفسرین کرام ایسے موقع پر اس کی تصریح فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ضروریات دین اور متعلقات شرع متین ہیں، جس کو یہ حضرات اس طرح کے الفاظ سے بیان کرتے ہیں " مِنْ اُمُوْرِ الدُّنْیَا مِمَّا یُحْتَاجُ اِلَیْہِ فِی الشَّرْعِ اَیْ لِمَا یُحْتَاجُ اِلَیْہِ فِی الشَّرِیْعَۃِ وغیر ذالک۔ نمونے کے لئے اس بارے چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں : جلالین : ص 141، ص 224، ص 231، معالم التنزیل : ج 2 ص 28، ج 2 ص 170، ج 2 ص 212، جامع البیان : ج 1 ص 232، بیضاوی : ج 1 ص 450، ابن کثیر : ج 2 ص 191، ج 2 ص 246، البدایہ والنھایۃ لابن کثیر : ج ا ص 285 تفسیر کبیر ج 20 ص 99، خازن ج 4 ص 90، المراغی : ج 7 ص 119 وغیرہ وغیرہ۔ سو جمہور اہل علم اور ائمہ تفسیر کی یہ تصریحات دیکھئے اور پھر دیکھئے کہ اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں کی اس خانہ ساز منطق کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ " اس سے حضور کا علم غیب کلی ثابت ہوا۔ کیونکہ سارے علوم ان کتابوں میں اور یہ کتابیں حضور کے علم میں ہیں "۔ موصوف اور ان کے دیگر حواریوں کو اپنی اس خانہ ساز منطق کے دوران ایسے مواقع پر یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ یہ سورة کریمہ تو مکی ہے۔ اور اگر بقول تمہارے اس طرح کی آیات کریمہ سے آنحضرت ﷺ کا علم غیب کلی ثابت ہوگیا اور آپ ﷺ کو ماکانَ وْمَا یَکُوْن کے سب علوم عطا فرما دئے گئے تو پھر مدنی دور میں اترنے والے قرآن حکیم کے بارے میں کیا کہو گے کہ وہ کس لئے نازل ہوا ؟ حالانکہ وہ قرآن پاک کا ایک بڑا حصہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ وضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 61 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ان سب کو ان کے رب ہی کی طرف اکٹھا کر کے لایا جائے گا اور وہاں پہنچ کر انہوں نے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا صلہ اور بدلہ پانا ہے تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے اپنی کامل اور آخری شکل میں پورے ہوسکیں۔ سو انسانوں اور حیوانوں سب ہی کو اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے البتہ سزا و جزا صرف انسانوں ہی کو ہوگی کہ مکلف مخلوق یہی ہے۔ اور عقل و شعور کے امتیاز سے اسی کو نوازا گیا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ بہائم کے حشر سے مراد ان کی موت ہے۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہے کہ " جو مرگیا اس کی قیامت قائم ہوگئی "۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جہاں تک نشانیوں اور دلائل وبراہین کا تعلق ہے ان سے یہ صحیفہ کائنات بھی مملو و معمور ہے اور صحیفہ قرآن بھی۔ اس بارے کوئی کسر اور کمی باقی نہیں رہ گئی۔ لیکن جو لوگ کسی بات کو سمجھنا اور ماننا ہی نہ چاہیں ان کا کیا علاج ہوسکتا ہے۔ ان کو تو آخر کار ان کے رب کے حضور ہی اکٹھا کر کے لایا جائیگا، جہاں ان کو ان کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ اور بدلہ ملے گا۔ تب ان کی آنکھیں کھلیں گی اور ان کی یاس و حسرت کی کوئی انتہاء نہ رہے گی ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:39

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو وہ بہرے اور گونگے ہیں، طرح طرح کی تاریکیوں میں (ڈوبے پڑے) ہیں، اللہ جسے چاہے گمراہ کر دے اور جسے چاہے ڈال دے سیدھے راستے پر،

62 اللہ کی آیتوں کی تکذیب کا انجام بڑا ہی ہولناک۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو وہ بہرے اور گونگے ہیں طرح طرح کی تاریکیوں میں پڑے ہیں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اللہ پاک کی آیتوں کو جھٹلانا انسان کو کس ھاویے میں گرا دیتا ہے اور اس کو کس قدر مہیب انجام سے دو چار کردیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ظاہر ہے کہ اس کے بعد انسان کو نہ اپنی منزل کا پتہ نہ منزل تک پہنچنے والی راہ سے آگاہی۔ نہ اس کو اپنے مقصد حیات کے بارے میں کوئی علم و آگاہی۔ محض بطن و فرج کی شہوات کی تعمیل کیلئے جینے لگتا ہے اور اس طرح ایک حیوان محض بن کر رہ جاتا ہے۔ بلکہ اس سے بھی کہیں نیچے گر کر اسفل السافلین تک جا پہنچتا ہے۔ اور اس طرح وہ ہولناک اور دبیز اندھیروں میں ڈوب کر رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں ان کی مثال ایسے گونگے اور بہرے لوگوں کی ہے جو طرح طرح کے اندھیروں کے اندر ڈوبے پڑے ہوں کہ ایسے لوگ نہ کسی کی سن سکتے ہیں اور نہ کسی کو پکار سکتے ہیں۔ نہ کسی پکارنے والے کی بات کا جواب دے سکتے ہیں نہ کسی کے کسی اشارے کو دیکھ اور سمجھ سکتے ہیں اور نہ کسی نشانی سے راہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ تو پھر ایسے اندھے بہرے لوگوں کا آخر کیا علاج ہوسکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو قوائے علم و ادراک کی عظیم الشان سے نعمتوں سے نوازا تھا مگر انہوں نے اپنے عناد و ہٹ دھرمی سے خود ان کو ضائع کردیا اور اندھے بہرے بن گئے اور نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر ہولناک تباہی میں گرگئے ۔ والعیاذ باللہ - 63 اللہ کے گمراہ کردینے کا مطلب ؟ : سو اللہ جس کو چاہے کو گمراہ کر دے۔ یعنی ایسا شخص اپنی بدنیتی، بدباطنی اور بد اطواری کی بنا پر خود گمراہی کے گڑھے میں جا گرتا ہے کہ اللہ پاک کا قانون و ضابطہ یہی ہے جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی } ۔ " وہ اپنے ارادے سے جدھر پھرتا ہے ہم اس کو ادھر ہی پھیر دیتے ہیں " ورنہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی ہدایت چاہتا ہو اور اللہ تعالیٰ اس کے برعکس اس کو از خود یونہی ہدایت سے محروم کرکے گمراہی کے گڑھے میں ڈال دے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بلکہ اس نے تو اپنے بندوں کو نور ہدایت سے نوازنے کے لئے طرح طرح سے انتظام فرمایا ہے۔ سو ایک طرف تو اس نے اس کائنات میں قسما قسم کی ایسی نشانیاں پھیلا دیں جو ہدایت کے لئے راہنمائی کرتی ہیں۔ انسان کو فطرت وو جدان کی ہدایت کے بعد عقل و شعور کے جوہر سے نوازا اور پھر اپنے انبیاء و رسل بھیجے اور اپنی کتابیں نازل فرمائیں ۔ جَلَّ جَلالُہٗ وَعَمَّ نَوَالُہٗ ۔ سو وہ واہب مطلق گمراہ نہیں کرتا بلکہ نور حق و ہدایت سے نوازتا ہے۔ مگر جب کوئی اس سے منہ موڑ کر گمراہی کو اپناتا ہے تو وہ اس کو ادھر ہی چلتا کردیتا ہے جس سے وہ دولت حق و ہدایت سے محروم ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انسان کے بناؤ بگاڑ کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب وباطن سے ہے۔ 64 صراط مستقیم سے سرفرازی اور اس کے نتائج وثمرات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ جس کو چاہتا ہے ڈال دیتا ہے سیدھی راہ پر۔ یعنی ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اس سیدھی راہ سے نوازتا ہے جس پر چل کر وہ دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوتا ہے۔ سو صراط مستقیم اور سیدھی راہ سے سرفرازی اللہ پاک کی عظیم الشان نعمت و عنایت ہے جس سے وہ انسان کو اس کی طلب صادق اور نیک نیتی کی بنا پر نوازتا ہے۔ اور یہ راستہ حضرات انبیائے کرام، صلحائے عظام اور ان کے سچے پیروکاروں کا راستہ ہے۔ اور ایسے حضرات کی دو بنیادی صفات ہوتی ہیں۔ ایمان اور تقویٰ ۔ جو ایمان وتقویٰ کی دولت سے سرفراز ہوتا ہے وہی اللہ تعالیٰ کا ولی اور دوست کہلاتا ہے۔ سو قرآن حکیم کے ارشادات کی روشنی میں ولی ہر وہ شخص ہوتا ہے جو ایمان اور تقویٰ کی دولت اپنے پاس رکھتا ہو، خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو۔ ارشاد ربانی ہے ۔ { اَلَّذِیْنَ اٰمَنُواْ وَکَانُواْ یَتَّقُوْنَ } ۔ (یونس : 63) " اللہ کے ولی وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایمان رکھتے ہوں اور تقویٰ سے مشرف ہوں "۔ نیز فرمایا ۔ { اِنْ اَوْلِیَائُہُ اِلّا الْمُتََّقُوْنَ } ۔ (الانفال : 34) " اس کے ولی تو صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو متقی ہوں "۔ نیز فرمایا ۔ { اَللّٰہُ وَلِیّْ الَّذِیْنَ امَنُوْا } ۔ (البقرۃ : 257) " اللہ دوست ہے ان لوگوں کا جو ایمان رکھتے ہیں "۔ سو ایمان اساس و بنیاد ہے ولایت کی۔ اور پھر تقویٰ و پرہیزگاری۔ ان میں جتنا بھی کوئی ترقی کرتا جائے گا اتنا ہی وہ ولایت و بزرگی میں آگے بڑھتا جائے گا۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو ۔ وبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جو لوگ راہ حق و صواب کے طالب اور متلاشی ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو اس سے سرفراز فرما دیتا ہے۔ کہ اس کی شان ہی نوازنا اور سرفراز فرمانا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 6:40

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر آجائے تم لوگوں پر اللہ کا عذاب، یا آپہنچے تم کو (قیامت کی) وہ گھڑی، تو کیا اس وقت تم لوگ اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے اگر تم سچے ہو ؟1

65 مشرکوں سے ایک فیصلہ کن سوال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ کیا مصیبت کے ایسے موقع پر تم لوگ اللہ کے سوا اور کسی کو پکارتے ہو ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو ؟۔ یعنی اگر تم سچے ہو اپنی اس بات میں کہ تمہارے یہ خود ساختہ معبود تمہارے حاجت روا و مشکل کشا ہیں۔ اور جب سختی کے ایسے مواقع میں تم ان کو نہیں پکارتے اور یہ تمہارے کچھ کام نہیں آسکتے تو پھر تم نے ان کو آخر معبود قرار کیوں دے رکھا ہے ؟ اور تم ان کو پوجتے پکارتے کیوں ہو ؟ افسوس کا مقام ہے آج کا کلمہ گو مشرک ایسے وقت میں بھی غیر اللہ ہی کو پکارتا ہے اور کہتا ہے " بہاء الحق بیڑا دھک "، " خواجہ اجمیری پار لگا دے کشتی میری "، " یا پیر دستگیر " وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف مشرکین سے اس فیصلہ کن سوال کے ذریعے ان کی بولتی بند کردی گئی کہ جب تمہارے یہ خودساختہ معبود اور شرکاء ایسے کسی موقع پر تمہارے کام نہیں آسکتے تو پھر تم نے ان کو اپنا معبود اور شریک آخر بنا کیوں رکھا ہے ؟ اور ان کو تم لوگ اپنا حاجت روا و مشکل کشا آخر مانتے کیوں ہو ؟ سو اس ارشاد کے ذریعے انسانی فطرت کے ایک خاص پہلو سے توحید خداوندی کی ایک ناقابل تردید انفسی دلیل کو پیش فرما دیا گیا کہ فرض کرو اگر تم پر وہی عذاب اللہ کی طرف سے آجائے جس کا تم اس سے مطالبہ کرتے ہو یا قیامت کی وہی گھڑی اچانک تم پر آدھمکے جس سے تم لوگوں کو خبردار کیا جا رہا ہے تو کون ہے جو تمہاری کوئی مدد کرسکے یا جس کو تم لوگ اپنی مدد کے لئے پکار سکو ؟ اور ظاہر ہے کہ ایسا کوئی بھی نہیں تو پھر تم لوگ آخر شرک کیوں کرتے ہو ؟۔
Ayah 6:41

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ ایسے موقع پر تو تم اللہ ہی کو پکارتے ہو، پھر وہ دور فرما دیتا ہے تم سے وہ عذاب جس کے لئے تم اس کو پکارتے ہو اگر وہ چاہے، اور (اس موقع پر) تم بھول جاتے ہو، ان سب کو جن کو تم لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہو،

66 حاجت روا و مشکل کشا سب کا ایک ہی ہے یعنی اللہ وحدہ لاشریک : سو وہی اپنی قدرت اور اپنی رحمت و عنایت سے تمہاری اس مصیبت اور تکلیف کو دور فرما دیتا ہے جس کے لیے تم اس کو پکارتے ہو ایسے مشکل موقع پر اپنی اس فطری توحید کی بنا پر جو اس قادرمطلق نے تمہاری فطرت وجبلت میں ودیعت فرما رکھی ہے۔ پھر اپنی فطرت میں پیوست اس جوہر کو دباکر تم لوگ شرک کی گندگی و نجاست کو آخر کیوں گلے لگاتے ہو ؟ اور اس امر واقع اور حقیقت صادقہ کو آخر تم لوگ مانتے اور تسلیم کیوں نہیں کرتے کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا ایک ہی ہے۔ یعنی وہ اللہ وحدہ لاشریک جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس سے توحید کی اس انفسی دلیل کی طرف اشارہ فرما دیا گیا ہے جو انسان کی فطرت میں پیوست ہے اور جس کا ذکر قرآن حکیم میں دوسرے مختلف مقامات پر فرمایا گیا ہے۔ اور اس دلیل کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ انسان کی اصل فطرت میں چونکہ ایک ہی خدا کی شہادت موجود ہے دوسرے تمام معبودان باطلہ جن کو وہ مانتا اور ان کی خدائی کا دم بھرتا ہے، ان کی کوئی شہادت اس کی فطرت کے کسی زاویے میں موجود نہیں۔ بلکہ وہ سب محض خیالی اور خود ساختہ ہوتے ہیں۔ اس لئے زندگی میں پیش آنے والے ایسے ہر آزمائشی موقع پر وہ ایسے تمام فرضی سہاروں کو بھول جاتا ہے اور صرف اسی خدائے واحد کو پکارتا ہے جو کہ معبود برحق اور سب کا حاجت روا و مشکل کشا ہے اور جس کی شہادت وہ اپنی فطرت میں پاتا ہے۔ قرآن حکیم نے اس حقیقت کو طرح طرح سے واضح فرمایا ہے کہ یہ انسان کے اپنے وجود کے اندر کی شہادت و دلیل ہے۔
Ayah 6:42

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سی امتوں کی طرف اپنے رسول بھیجے، پھر (ان کے نہ ماننے پر) ہم نے ان کو پکڑا تنگی اور تکلیف میں، تاکہ وہ لوگ عاجزی کرتے ہوئے جھک جائیں (اپنے رب کے حضور)

67 ابتلاء و مصائب سے ایک اہم مقصود کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مصائب سے مقصود لوگوں کے اندر عجز و انکسار پیدا کرنا ہے تاکہ اس طرح وہ عبدیت و بندگی کی اس راہ حق وصواب کو اپنائیں جو ان کی طبیعت و فطرت کے لائق اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی واحد راہ ہے تاکہ اس طرح خود ان کا بھلا ہو۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ وہ جھک جائیں۔ یعنی تاکہ وہ جھک جائیں اللہ پاک کے حضور عاجزی کرتے ہوئے اور ان کی اکڑی ہوئی گردنوں میں خم آجائے۔ اور وہ حق کی طرف رجوع کرسکیں۔ معلوم ہوا کہ اس اعتبار سے مصائب و آلام بھی رحمت کا باعث ہوتے ہیں کہ ان سے بندے کو رجوع الی اللہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔ مگر ہم چونکہ عاجز اور کمزور مخلوق ہیں اس لئے ہمیں اس وحدہ لاشریک سے ہمیشہ عافیت ہی مانگنی چاہیئے۔ لیکن جب مصیبت آجائے تو اس پر صبر و برداشت سے کام لینا چاہیئے اور فکر و کوشش ہمیشہ رجوع الی اللہ کی کرنی چاہیئے کہ اسی میں دارین کی خیر ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہر مصیبت سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ۔ وَالْحَمْدُ اللہ عَلٰی کُلِّ حَالٍ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کی ایک اور سنت کو واضح فرما دیا گیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف اپنے رسول بھیجے۔ اور ان لوگوں کو ہم نے مختلف قسم کی جسمانی اور مالی مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ ان کے دلوں میں خدا کا خوف پیدا ہو اور وہ سوچیں کہ اگر انہوں نے خدا کے پیغمبر کی بات نہ مانی تو وہ بالآخر خدا تعالیٰ کی فیصلہ کن پکڑ میں آ کر رہیں گے اور ان کو تباہ کردیا جائے گا۔ مگر ان لوگوں نے ایسے نہ کیا۔ جس کے نتیجے میں وہ اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 6:43

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

پھر ایسے کیوں نہ ہوا کہ وہ جھک جاتے (اپنے رب کے حضور، اور عاجزی کرتے) جب کہ آپہنچا تھا ان کے پاس ہمارا عذاب مگر سخت ہوگئے ان کے دل، اور خوشنما بنادیئے شیطان نے ان کے لئے ان کے وہی کام جو وہ کرتے آ رہے تھے2

68 قسوت قلب بیماریوں کی بیماری ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ سخت ہوگئے ان کے دل۔ سو قسوت قلب [ دل کی سختی ] ہی ان کا وہ اصل روگ تھا جس نے ان کا بیڑا غرق کردیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ اس سے حق و ہدایت اور وعظ و نصیحت کی بات ایسوں کے دلوں میں اثر ہی نہیں کرتی اور ایسے لوگوں کے دل پتھر بن جاتے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر سخت ہوجاتے ہیں۔ سو قسوت قلوب یعنی دلوں کی سختی بیماریوں کی بیماری اور محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ایسے لوگوں نے جب ان خدائی تنبیہات کی پروا نہ کی اور ان کے دل ان سے نرم پڑنے کی بجائے اور سخت ہوگئے اور جن بد اعمالیوں میں وہ لوگ لگے ہوئے تھے انہی میں مست و مگن رہے اور شیطان نے ان کے ان برے کاموں کو ان کی نگاہوں میں کھبا دیا تو بالآخر وہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ قسوت قلب کے ہر شائبے سے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔