6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 6:142

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور چوپایوں میں سے کچھ کو اس نے پیدا فرمایا بوجھ اٹھانے کو، اور کچھ کو زمین میں لگا ہوا،2 کھاؤ پیو تم لوگ ان چیزوں میں سے جو بخشی ہیں تم کو اللہ نے، اور مت پیروی کرو تم شیطان کے نقش قدم کی، کہ وہ قطعی طور پر تمہارا دشمن ہے کھلم کھلا،

281 " حمولہ " سے مقصود و مراد ؟ : یعنی ایسے جانور جو بوجھ اٹھانے والے ہوتے ہیں۔ جیسے اونٹ، گھوڑے اور خچر وغیرہ۔ " حمولہ " " حمل " سے مشتق و ماخوذ ہے جسکے معنیٰ ہیں کہ جو بوجھ اٹھانے کے لائق ہو۔ جیسے " رکوبہ " اس جانور کو کہا جاتا ہے جو سواری کے قابل ہو۔ اور " حلوبہ " اسکو جو دودھ دینے کے لائق ہو۔ سو ربِّ رحمن و رحیم اور علیم و قدیر کی قدرت و عنایت کی شان ملاحظہ ہو کہ اس نے اونٹ گھوڑے اور خچر وغیرہ کچھ جانوروں کو اس طرح کا بنایا کہ وہ تمہاری باربرداری کے کام آتے ہیں۔ اور تمہارے سامان اور خود تم کو اٹھا کر کہیں سے کہیں پہنچا دیتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَتَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ اِلٰی بَلَدٍ لَّمْ تَکُوْنُوْا بَالِغِیْہِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ ، اِنَّ رَبَّکُمْ لَرَؤُفٌ رَّحِیْمٌ } ۔ (النحل : 7) ۔ یعنی " اللہ تعالیٰ کے پیدا فرمودہ تمہارے وہ باربردار جانور تمہارے بھاری بھرکم بوجھ اٹھا کر اسے دور دراز علاقوں تک پہنچاتے ہیں، جہاں تم لوگ کمرتوڑ مشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے، بلاشبہ تمہارا رب بڑا ہی شفقت والا نہایت ہی مہربان ہے "۔ سو انسان اگر غور کرے تو اس کو اس میں اس کی رحمت و عنایت کے بڑے عظیم الشان دلائل اور مظہر نظر آئیں گے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر غفلت کا مارا انسان سوچتا ہی نہیں ۔ الا ما شاء اللہ ۔ بہرکیف ان باربردار جانوروں میں بھی عظیم الشان دلائل ہیں غور کرنے والوں کے لیے۔ 282 " فرشاً " سے مقصود و مراد ؟ : یعنی چھوٹے قد کے وہ جانور جو زمین سے لگے رہتے ہیں جیسے بھیڑ، بکری وغیرہ، جن سے تم گوشت وغیرہ کے دوسرے طرح طرح کے فائدے اٹھاتے اور منافع حاصل کرتے ہو۔ سو ذرا سوچو کہ اس خالق کل اور مالک مطلق نے تم پر کیسے کیسے کرم فرمائے اور تمہاری ضرورتوں کی تکمیل کیلئے کیسے کیسے سامان پیدا فرمائے۔ اور اس نے کس طرح جانوروں میں سے کچھ کو تمہاری باربرداری کیلئے پیدا فرمایا اور کچھ کو تمہاری دوسری ضرورتوں کیلئے۔ اور ہر ایک کو اسی کے مطابق جسم دیا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے ان قسما قسم کے جانوروں کو تمہاری طرح طرح کی ضرورتوں کے لئے ایسا مسخر کردیا اور ان کو اس طرح پیدا کیا اور تمہارے کام میں لگا دیا گیا کہ یہ سب بلا کسی چون و چرا کے تمہاری ایسی مختلف خدمات انجام دیئے چلے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود اپنے اس خالق ومالک سے منہ موڑنا کس قدر بےانصافی اور کتنی بڑی نمک حرامی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ مختلف نعمتیں انسان کو اللہ کے آگے جھکنے کا درس دیتی ہیں۔ 283 شیطان کے نقش قدم کی پیروی کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ پیروی نہیں کرنا شیطان کے نقش قدم کی کہ اس کے کہنے پر تم لوگ اللہ پاک کی پیدا کردہ ان پاکیزہ چیزوں کو از خود اپنی طرف سے حرام کرنے لگو۔ یا انہیں غیر اللہ کے نام پر نامزد کر کے شرک کرنے لگو۔ جیسے غیر اللہ کے نام نذرو نیاز کی مختلف شکلیں اور تعزئیے کے گھوڑے پر سواری نہ کرنے کی شرکیہ رسم وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے تنبیہ و تذکیر فرما دی گئی کہ تم لوگ شیطان کی پیروی میں لگ کر اور اس کی باتوں میں آ کر تم لوگ اس طرح کی کسی شرکیہ حرکت کا ارتکاب کر کے اپنا نقصان نہ کرنا کہ یقینا وہ تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔ سو وہ تمہاری دشمنی اور ضرر رسانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 6:143

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

اور اس خالق حقیقی اور مالک مطلق نے پیدا فرمائے تمہارے لئے) آٹھ قسم کے جانور یعنی بھیڑ میں سے دو ، اور بکری میں سے دو (نر اور مادہ، اب) پوچھو ان سے اے پیغمبر ! ) کہ کیا اللہ نے دونوں نر حرام کئے ہیں ؟ یا دونوں مادہ ؟ یا وہ بچے جو ان دونوں قسم کے ماداؤں کے پیٹوں میں ہوتے ہیں ؟ مجھے بتاؤ علم اور سند کے ساتھ، اگر تم لوگ سچے ہو (اپنے قول وقرار میں)3

284 تخلیق و انشاء، اللہ پاک ہی کی شان ہے : یعنی " ثَمَانِیَۃ " کا عامل محذوف ہے جو " خَلَقَ " یا " اَوْجَدَ " یا " اَنْشَأَ " وغیرہ کے کسی مناسب فعل کی صورت میں مقدر مانا جاسکتا ہے۔ (صفوۃ، جامع، محاسن وغیرہ) ۔ سو تخلیق و انشاء اور تکوین و ایجاد اسی خالق کل اور مالک مطلق کی شان اور اسی کا کام ہے۔ اور جب اس کی اس صفت میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں ہے تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کیسے ہوسکتا ہے۔ اور جب پیدا ان سب چیزوں کو اسی نے کیا ہے تو پھر تحلیل و تحریم کا اختیار اس کے سوا اور کسی کو کیسے ہوسکتا ہے ؟ پس کسی کے لئے یہ امر جائز نہیں کہ وہ اللہ کی پیدا کردہ چیزوں میں سے کسی کو از خود حرام قرار دے یا اس کی حرام کردہ چیزوں میں سے کسی کو حلال بنائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بلکہ انسان کی عبدیت و بندگی کا تقاضا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی مقرر فرمودہ حدود کی پابندی کرے۔ 285 " زوج " سے مقصود و مراد ؟ : یعنی " زوج " سے مراد یہاں پر فرد ہے۔ کیونکہ عرب ہر اس فرد کو " زوج " کہتے ہیں جو دوسرے کا محتاج ہوتا ہے۔ اسی لئے بیوی خاوند میں سے ہر ایک کو " زوج " کہا جاتا ہے۔ کیونکہ ان میں ہر ایک اپنی زندگی اور اپنی بود و باش میں دوسرے کا محتاج ہوتا ہے۔ (قرطبی، محاسن، خازن وغیرہ) ۔ پالتو چوپایوں میں جو دودھ گوشت وغیرہ فوائدو منافع کے لئے عربوں کے یہاں گھروں میں پالے جاتے تھے وہ چار ہی مشہور تھے۔ چھوٹوں میں بھیڑ بکری اور بڑوں میں اونٹ گائے۔ " اَنعام " کا لفظ انہی کے لئے بولا جاتا ہے اور جب اس کی طرف لفظ بہیمہ کی نسبت کی جاتی ہے جیسا کہ سورة مائدہ کے شروع میں گزرا تو اس وقت وہ وحشی چوپائے بھی اس میں شامل ہوجاتے ہیں جو اگرچہ پالتو نہیں ہوتے، لیکن وہ شامل " اَنعام " ہی کی جنس میں ہیں۔ جیسے ہرن، جنگلی بکرے اور نیل گاؤ وغیرہ۔ یہاں پر زیر بحث چونکہ پالتو چوپایوں ہی کی حلت و حرمت کا مسئلہ ہے کیونکہ اہل عرب نے اپنے مشرکانہ توہمات کی بناء پر انہی میں سے بعض کو اپنے طور پر از خود حرام اور حلال قرار دے رکھا تھا۔ اس لئے پیغمبر کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ ان میں سے ایک ایک کو فرداً فرداً لے کر اس سے متعلق ان سے پوچھو کہ ان میں کس چیز کو اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے ؟ تاکہ اس طرح ان لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں اور یہ طرح طرح کی ان شرکیات سے باز آجائیں۔ 286 تحلیل و تحریم اللہ ہی کا حق اور اسی کا اختیار ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ کیا اللہ نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ ؟ یا وہ جو ان دونوں قسم کی ماداؤں کے پیٹ میں ہوتے ہیں ؟ سو اس سے اس اہم بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ تحلیل و تحریم اللہ تعالیٰ ہی کا حق اور اسی کا اختصاص و اختیار ہے۔ پس اللہ پاک کی پیدا کردہ حلال چیزوں کو حرام قرار دینا کسی کیلئے روا نہیں ہوسکتا۔ اور جب تحریم کی ان میں سے کوئی بھی صورت موجود نہیں، جیسا کہ ظاہر ہے اور تم خود بھی اسے تسلیم کرتے ہو تو پھر تم لوگ ازخود اپنی طرف سے کچھ کو حرام اور کچھ کو حلال کیسے قرار دیتے ہو ؟ اور جب خالق ومالک نے اپنی رحمت و عنایت اور اپنی مہربانی سے ان سب چیزوں کو تمہارے بھلے اور فائدے کیلئے پیدا فرمایا تو تم لوگ کس طرح انکو حرام قرار دیتے ہو ؟ بہرکیف یہ معروف چوپائے جیسا کہ اوپر کے حاشیے میں گزرا چارہی تھے۔ اور ان کے نر اور مادہ کو الگ الگ شمار کیا جائے تو یہ کل آٹھ بنتے ہیں۔ تو فرمایا گیا کہ ان میں سے ایک ایک کے بارے میں ان سے پوچھو کہ اس کو کس نے حرام ٹھہرایا ہے ؟ اور جب اللہ نے ان میں سے کسی کو بھی حرام نہیں ٹھہرایا تو پھر تم کیسے ان کو حرام ٹھہراتے ہو ؟ 287 دعوے پر دلیل کا مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ بتاؤ مجھے علم کے ساتھ اگر تم سچے ہو اپنے ان دعو وں میں جو تم لوگ کرتے ہو۔ اور اپنی ان بےسروپا باتوں میں جو تم لوگوں نے از خود گھڑ رکھی ہیں۔ یعنی محض من گھڑت ڈھکوسلوں اور ظن وتخمین سے کام نہیں چل سکتا۔ بلکہ دلیل کی قوت چاہیئے اور وہ تمہارے پاس ہے نہیں۔ کیونکہ باطل کے لئے دلیل ہو ہی کیا سکتی ہے۔ اور اس کے پاؤں ہوتے ہی کہاں ہیں جن پر وہ کھڑا ہوسکے۔ پس یہ امر تعجیز اور توبیخ کے لئے ہے۔ افسوس کہ قرآن حکیم کے اس قدر صاف وصریح اور واضح ارشادات کے باوجود آج بہت سے جاہل مسلمانوں میں بھی طرح طرح کے رسم و رواج اور عادات و تقالید ایسی پائی جاتی ہیں جن کی نہ کوئی اصل و اساس ہے اور نہ کوئی دلیل و سند۔ سو دعوے پر دلیل پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف دعویٰ کافی نہیں ہوسکتا۔ بہرکیف جب " حمولہ " اور " فرش " کی ان آٹھوں قسموں میں سے نہ کوئی نر حرام ہے نہ مادہ اور نہ وہ کچھ جو ان کے پیٹوں میں ہے تو پھر تم لوگ ان میں سے بعض کو حرام آخر کس طرح قرار دیتے ہو ؟ حالانکہ عقل و فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ جب کوئی درخت حلال اور پاکیزہ ہوگا تو اس کے سب پھل بھی حلال اور پاکیزہ ہوں گے۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ اس کی کسی شاخ کے پھل حلال ہوں اور کسی کے حرام یا کچھ پھل حلال ہوں اور کچھ حرام۔ تو پھر تم لوگوں کو آخر کیا ہوگیا ہے جو تم ایسی باتیں کرتے ہو ۔ { مََا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ ؟ } ۔ سو اس طرح ان لوگوں کے تمام مزعومات اور ڈھکوسلوں کی بیخ کنی فرما دی گئی ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 6:144

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور اسی طرح اس نے اونٹ اور گائے سے بھی دو دو قسمیں پیدا کیں (نر اور مادہ تو ان سے) پوچھو کہ کیا اللہ نے دونوں نر حرام کئے ؟ یا دونوں مادہ ؟ یا وہ بچے جو دونوں قسم کی مادہ کے رحموں کے اندر ہوتے ہیں، (کہو) کیا تم لوگ خود اس وقت موجود تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا یہ حکم تم کو دیا تھا ؟ پھر اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو خود جھوٹ گھڑ کر اللہ کے ذمے لگا دے تاکہ وہ گمراہ کرے لوگوں کو بغیر کسی علم وسند کے ؟ بیشک اللہ ہدایت سے سرفراز نہیں فرماتا ایسے ظالم لوگوں کو، ف

288 پالتو جانوروں کی قسمیں : عربوں کے یہاں جیسا کہ اوپر گزرا، پالتو جانوروں کی دو قسمیں تھیں۔ اور آج بھی ایسے ہی ہے۔ ایک وہ جن کو گوشت وغیرہ کیلئے رکھا اور پالا جاتا ہے جیسے بھیڑ بکری اور دنبہ بکرا وغیرہ اور دوسرے وہ جن کو باربرداری کیلئے رکھا جاتا ہے جیسے گائے، بیل اور اونٹ اونٹنی وغیرہ۔ انہی کو انعام (چوپائے) کہا جاتا ہے۔ سو ان میں سے کوئی بھی چیز حرام نہیں بلکہ قدرت نے انکو انسان کے بھلے اور فائدے کیلئے پیدا فرمایا۔ تو پھر تم لوگ ان میں سے بعض چیزوں کو حلال اور بعض کو حرام آخر کس طرح اور کس بنیاد پر قرار دیتے ہو ؟ اور تم لوگوں کو اس کا حق اور اختیار آخر کس نے دیا ؟ اور اگر تمہارے پاس کوئی سند اور دلیل ہے یا ہوسکتی ہے تو اس کی بناء پر مجھے بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں نروں کو حرام کیا یا دونوں ماداؤں کو ؟ یا ان چیزوں کو جو ان دونوں قسم کی ماداؤں کے پیٹ میں ہیں ؟ اور ظاہر ہے کہ ان میں کوئی بھی صورت موجود نہیں۔ تو پھر تم لوگ اس طرح کی بےبنیاد باتیں آخر کیوں کرتے ہو ؟ اور تم لوگ ایسے کفران نعمت کے مرتکب کیوں ہوتے ہو ؟ 289 مشرکوں سے ایک چبھتا ہوا سوال : سو ان سے فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ اس وقت موجود تھے جب اللہ نے تم کو اس کا حکم دیا ؟۔ اور ظاہر ہے کہ نہیں اور ہرگز نہیں۔ تو پھر تم لوگ کیسے اتنی بڑی بات کہتے ہو ؟ سو جب تمہارے پاس نہ عقل کی کوئی دلیل ہے اور نہ نقل کی تو پھر تم لوگ ایسی بات کیسے کہتے ہو جو کہ افتراء علی اللہ کے زمرے میں آتی ہے جو کہ بہت بڑا ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد سے اتمام حجت کے آخری درجہ کو بھی پورا فرما دیا گیا۔ مطلب یہ کہ جہاں تک عقل اور نقل کے دلائل کا تعلق ہے، ان میں سے کوئی بھی چیز تمہارے پاس نہیں ہے۔ تو پھر تم لوگ آخر کس بنا پر اللہ پر یہ بہتان باندھتے ہو کہ اس نے فلاں فلاں چیزوں کو حرام ٹھہرا دیا ؟ کیا جب اللہ نے ان چیزوں کی ہدایت فرمائی تھی تو تم لوگ وہاں موجود تھے ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں، تو پھر تم ہی لوگ بتاؤ کہ اس سے بڑھ کر ظالم اور بدبخت اور کون ہوسکتا ہے جو بغیر کسی سند اور دلیل کے اللہ پر بہتان باندھ کر خلق خدا کی گمراہی اور محرومی کا سامان کرے ؟ اور سوچو کہ ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 290 اللہ پر جھوٹ باندھنا سب سے بڑا ظلم ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے ؟ تاکہ اس طرح وہ لوگوں کو گمراہ کرے بغیر کسی علم وسند کے۔ استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی اس سے بڑھ کر ظالم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ سو اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پر جھوٹ گھڑنا اور بہتان باندھنا سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑا جرم اور گناہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگ اس ظلم کے ارتکاب سے اپنی اور دوسروں کی محرومی کا باعث بنتے ہیں اور دوہرے نقصان کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس بغیر کسی سند اور دلیل کے کوئی بات اللہ پاک کی طرف منسوب کرنے سے ہمیشہ بچنا چاہئے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور افترا کرنے کا ارتکاب لازم آئے گا جو کہ سب سے بڑا ظلم اور انتہائی ہولناک اور سنگیں جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر شائبہ کذب و زور سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 291 ظلم باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت سے نہیں نوازتا۔ یعنی ظالموں کو انکے اپنے ظلم کے باعث اس کی ہدایت کے اس نور عظیم سے سرفراز و فیضیاب ہونے کی توفیق نہیں ملتی۔ سو ظلم محرومی کا باعث ہے اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی تعلیمات سے منہ موڑ کر من مانی کرنا ظلم ہے جو کہ خرابی و فساد اور محرومی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے ایک بات تو یہ واضح ہوجاتی ہے کہ ایسے لوگ حق و ہدایت کی دولت سے بہرہ ور نہیں ہوں گے۔ اور دوسری یہ کہ ایسے لوگ حق کے خلاف اپنی مہم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ کہ یہ لوگ ظالم ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ظلم کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 6:145

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

1 (ان سے) کہہ دو کہ میں بہر حال کسی بھی چیز کو حرام نہیں پاتا اس وحی میں جو بھیجی گئی ہے میری طرف (میرے رب کی جانب سے) کسی بھی کھانے والے پر، جو اسے کھاتا ہو، مگر یہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون، یا سور کا گوشت کہ یہ نری نجاست ہے، یا وہ چیز جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو،2 پھر بھی جو شخص مجبور ہوجائے (اور وہ کوئی چیز ان میں سے کھالے) بشرطیکہ نہ تو وہ لذت کا متلاشی ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا، تو (اسے معاف ہے کہ) بیشک تمہارا رب بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے،

292 محرمات الہیہ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ میں کسی بھی چیز کو حرام نہیں پاتا اس وحی میں جو میری طرف کی گئی ہے میرے رب کی جانب سے سوائے ان چند چیزوں کے جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ یعنی چوپایہ جانوروں میں سے۔ یعنی یہ حصر حقیقی نہیں اضافی ہے۔ یعنی ان جانوروں کے اعتبار سے ہے جن کا گوشت وغیرہ بالعموم کھایا جاتا ہے اور جن کا ذکر وبیان اس سیاق وسباق میں کیا جارہا ہے۔ سو سیاق وسباق کے اس قرینے کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے بہت سے مفسرین کرام کو اس حصر کے بارے میں بہت الجھن پیش آئی کہ اشیائے محرمہ جب ان چند چیزوں کے علاوہ اور بھی بہت سی ہیں تو پھر اس حصر کا کیا مطلب ؟ تو اس کے جواب میں ان کو ایسی لمبی چوڑی بحثیں کرنا پڑیں جن کی یہاں ضرورت ہی نہیں۔ اور بات صرف اتنی ہے کہ یہ حصر حقیقی نہیں اضافی ہے۔ یعنی یہ حصر وبیان " بحیرہ "، " سائبہ " اور " وصیلہ " وغیرہ ان محرمات کے اعتبار سے ہے جن کو مشرکوں نے ازخود بغیر کسی شرعی دلیل اور سند کے یونہی حرام قرار دے رکھا تھا کہ ان میں سے کسی بھی چیز کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے حرام نہیں فرمایا گیا بلکہ اس کی طرف سے ان اور ان چیزوں کو حرام فرمایا گیا ہے جن کا ذکر اس کے بعد آتا ہے۔ رہ گئیں اس کے علاوہ دوسری محرمات تو ان کا ثبوت دوسری بہت سی نصوص کتاب و سنت سے ہے۔ سو حصر سے یہاں پر مراد حصر اضافی ہے نہ کہ حقیقی۔ 293 مردار کی حرمت کا بیان : سو حرام جانوروں کے بیان کے سلسلے میں سب سے پہلے " میتہ " یعنی مردار کی حرمت کو بیان فرمایا گیا ہے۔ یعنی جو شرعی ذبح کے بغیر ازخود مرجائے جس سے اس کا خون اس کے اندر ہی رہ گیا ہو اور وہ باہر نکلنے کی بجائے اس کے گوشت میں تحلیل ہوگیا ہو۔ سو ایسا مرا ہوا جانور مردار اور حرام ہے کہ ایسے کا گوشت کھانا انسان کیلئے دین و دنیا دونوں اعتبار سے مضر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف مشرکین نے جن چیزوں کو اپنے مشرکانہ توہمات کی بناء پر حرام کر رکھا تھا اور ان کو " بحیرہ "، " سائبہ " اور " وصیلہ " وغیرہ کے مختلف اختراع کردہ ناموں سے موسوم کر رکھا تھا، ان کی تردید کے لئے یہاں پر پیغمبر کی زبان سے اعلان کروایا جا رہا ہے کہ ملت ابراہیمی میں، جس کا مشرکین مکہ دعویٰ کرتے اور دم بھرتے تھے، اس میں انعام یعنی چوپایوں میں سے کون کون سے جانور حرام تھے۔ سو ان کے سوا مشرکین نے جن جن چیزوں کو حرام قرار دے رکھا تھا وہ سب ان لوگوں کے من گھڑت مفروضے تھے۔ جنکی نہ کوئی اصل تھی نہ اساس ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 294 " دم مسفوح " کی حرمت کا بیان : سو دم مسفوح یعنی " بہتا ہوا خون " بھی حرام ہے، جس سے طبائعِ سلیمہ کو گھن آتی ہے۔ اور جو طرح طرح کی معنوی نفرتوں، خباثتوں، ہلاکتوں اور بیماریوں وغیرہ کا سبب اور باعث بنتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر اس سے مراد وہ خون ہے جو بہتا ہو، جسکو " دمِ سائل " اور " دم مسفوح " کہا جاتا ہے۔ سو جو خون جما ہوا ہو وہ حرام نہیں حلال ہے۔ جیسے " کبد " اور " طحال "۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں اس کی تصریح وارد ہوئی ہے۔ سو " اَنْعام " یعنی چوپایوں سے متعلق ان چند چیزوں کے سوا اور کوئی بھی چیز کسی بھی کھانے والے کے لئے حرام نہیں ۔ والحمد للہ جل وعلا ۔ 295 غیر اللہ کیلئے نامزد کردہ چیزوں کی حرمت کا بیان : یعنی جس پر اللہ کے سوا اور کسی کا نام پکارا گیا ہو۔ خواہ وہ کسی بت کا ہو یا کسی زندہ یا مردہ انسان کا۔ عین ذبح کے وقت ہو یا اس سے پہلے اس کو غیر اللہ کے نام پر نامزد کردیا گیا ہو۔ کیونکہ { اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ } کے الفاظ عام ہیں۔ اور " اِہلال " کے معنیٰ لغت میں آواز بلند کرنے کے آتے ہیں۔ پس اہل بدعت کے بڑوں کا اس کے ترجمہ میں ذبح کے وقت کی قید لگانا ان کی اپنی ایجاد و اختراع اور لفظ کے مفہوم میں خود ساختہ اور من گھڑت اضافہ ہے جس کے پیچھے ان کی خاص اغراض و اہوا کارفرما ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ذبح کرتے وقت اگر غیر اللہ کا نام لے گا تو وہ یقیناً حرام قطعی ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں۔ لیکن جس کو اس سے پہلے بھی غیر اللہ کے لئے نامزد کیا گیا ہو وہ بھی اسی طرح حرام ہے۔ کیونکہ " اِہلال " کا لفظ عام ہے جو غیر اللہ کے نام منسوب کرنے اور اس کے تقرب کے لئے نامزد کرنے کی ہر شکل و صورت کو محیط اور شامل ہے۔ اور غیر اللہ کی اس نامزدگی کی وجہ سے اس کے اندر ایسی خباثت آگئی کہ یہ نرا گناہ بن گیا۔ اسی لئے یہاں پر اس کو " فسق " کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ حضرات اہل علم اس کی توضیح میں کہتے ہیں " لِتَوَغُّلِہٖ فِیْ بَابِ الْفسقِ "۔ (المحاسن، المراغی وغیرہ) ۔ 296 اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ بڑا ہی غفور و رحیم ہے۔ اس لیے وہ بخشش کے ساتھ رحمت بھی فرماتا ہے کہ وہ غفور کے ساتھ ساتھ رحیم بھی ہے۔ اور اس کی بخشش و رحمت کا کوئی کنارہ نہیں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس بندے کا کام یہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ اپنا تعلق صحیح رکھے، اس کی معصیت و نافرمانی سے ہمیشہ ڈرتا اور بچتا بھی رہے۔ اس سے مغفرت اور بخشش کی دعاء و درخواست بھی کرتا رہے اور اس سے اس کی بخشش و رحمت کی امید بھی رکھے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو جس نے اضطرار اور مجبوری کی بناء پر ان حرام چیزوں میں سے بقدر ضرورت کچھ کھا پی لیا تو اس پر کوئی مواخذہ اور گرفت و پکڑ نہیں جبکہ نہ تو وہ لذت کا طالب ہو اور نہ ہی حدِّ ضرورت سے تجاوز کرنے والا ہو کہ یقینا اللہ بڑا ہی بخشنہار اور انتہائی مہربان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 6:146

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور ان لوگوں پر جو یہودی بن گئے، ہم نے حرام کردیا ہر ناخن والے جانور کو اور گائے اور بکری کی چربی کو بھی ان پر حرام کردیا تھا، سوائے اس کے جو چڑھی ہو ان کی پیٹھوں یا انتڑیوں پر یا لگی ہوئی ہو کسی ہڈی کے ساتھ، یہ ہم نے ان کو بدلہ دیا ان کی بغاوت کا اور بیشک ہم قطعی طور پر ( اور ہر لحاظ سے) سچے ہیں،3

297 یہودی بن جانے والوں کیلئے مزید تنگی : یعنی یہاں پر " یہود " نہیں { الَّذِیْنَ ھَادُوْا } فرمایا گیا۔ یعنی وہ لوگ جو از خود یہودی بن گئے اور انہوں نے اسلام کی بجائے یہودیت کے نام سے ازخود ایک دین گھڑ لیا۔ جبکہ اللہ پاک کے یہاں دین صرف اسلام ہے { اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الاِسْلام } اسی لئے ہم نے یہاں پر ترجمہ " یہودی بن گئے " کے الفاظ سے کیا۔ تاکہ یہ مفہوم واضح ہوجائے۔ اس لئے { اَلَّذِیْنَ ہَادُوْا } کا ترجمہ صرف " یہود " یا " یہودیوں " جیسے الفاظ سے کرنا، جیسا کہ عام اردو تراجم میں بالعموم پایا جاتا ہے اس لفظ کا اصل ترجمہ نہیں۔ اور اس سے آیت کریمہ میں وارد الفاظ کریمہ کی پوری اور واضح ترجمانی و عکاسی نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہاں " الیہود " نہیں فرمایا گیا بلکہ { اَلَّذِیْنَ ہَادُوْا } کے الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں جو کہ لفظ مفرد نہیں پورا جملہ ہے۔ اور جب آیت کریمہ میں " الیہود " کے مفرد اور مختصر لفظ کو چھوڑ کر اس جملے کو اختیار فرمایا گیا ہے تو اس کا بدیہی تقاضا ہے کہ اس میں یہ معنوی فرق ملحوظ رکھا جائے۔ ہم نے اپنے ترجمے میں اسی کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔ والحمد للہ ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے واضح فرما دیا گیا ہے کہ جو لوگ مسلمان ہونے کی بجائے یہودی بن گئے اور انہوں نے اسلام کی شاہراہ اعظم کو چھوڑ کر یہودیت کے نام سے نئی پگڈنڈی کو اپنا لیا، ان پر بطور خاص اور بھی کئی چیزوں کو حرام کردیا گیا اور ان کیلئے دائرہ حلت کو اور تنگ کردیا گیا، جو کہ سزا و جزا تھی ان کی سرکشی کی۔ جیسا کہ فرمایا گیا { ذَالِکَ جَزیْنَاھُمْ بِبَغْیِِہِمْ وَاِنَّا لَصَادقُوْنَ } یعنی ایسی تحریمات سے ہم نے دراصل ان کو ان کی سرکشی اور بغاوت کی سزا دی تھی ورنہ نفس الامر میں یہ چیزیں حرام نہیں تھیں۔ سو ان اشیاء کی حرمت عارضی، وقتی اور خاص لوگوں کے لیے تھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 298 یہودیوں کی سرکشی کی بنا پر ان پر بعض چیزوں کی تحریم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے یہودیوں پر ان اور ان خاص چیزوں کو حرام قرار دیا تھا جو کہ اپنی اصل کے اعتبار سے حلال اور مباح تھیں۔ سو یہودیوں پر ایک تو ہر ناخن والے جانور کو حرام قرار دے دیا گیا تھا جیسے اونٹ، شترمرغ، مرغابی اور بطخ وغیرہ۔ (معارف القرآن وغیرہ) ۔ اور دوسرے ان پر گائے اور بکری کی چربیوں کو بھی حرام کردیا گیا تھا۔ البتہ جو چربی ان کی آنتوں پر چڑھی ہوتی یا ہڈیوں کے ساتھ لگی ہوتی اس کو ان پر حرام نہیں کیا گیا تھا، سو یہ ان لوگوں کی سرکشی کی سزا تھی، ورنہ وہ چیزیں فی نفسہ حرام یا خبیث نہیں تھیں اور ان میں سے کوئی بھی چیز عہد ابراہیمی یا ملت ابراہیمی میں حرام نہیں تھی۔ اور ان لوگوں کا ایسا کہنا جھوٹ ہے۔ (المعارف، المراغی اور الصفوۃ وغیرہ) ۔ سو بنی اسرائیل پر ناخن والے جانوروں اور چربی وغیرہ کو جو حرام کیا گیا تھا تو اس بناء پر نہیں کہ ان چیزوں کے اندر فی الواقع حرمت کی کوئی علت پائی جاتی تھی۔ نہیں بلکہ ان کی حرمت میں اصل دخل ان لوگوں کے فساد مزاج کو تھا۔ اور یہ ان کی سرکشی اور بد مزاجی کی سزا تھی۔ سو اللہ تعالیٰ نے ان کی مباح چیزوں کو ان پر حرام ٹھہرا دیا تھا۔ اور آخر میں { وَاِنَّا لَصَادِقُوْنَ } کے مختصر اور تاکیدی جملے سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ " ہم بہرحال اور قطعی طور پر سچے ہیں " اور جو کچھ ہم نے ان سے متعلق بتایا وہی حق اور سچ ہے۔ اور جو کچھ یہود اور قریش کے اشرار کہہ اور کر رہے ہیں وہ اس میں قطعی طور پر جھوٹے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

پھر بھی اگر یہ لوگ جھٹلاتے ہی جائیں آپ کو (کہ ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا) تو کہو کہ تمہارا رب بڑی ہی وسیع رحمت والا ہے اور وہ سخت عذاب دینے والا بھی ہے اور) ٹالا نہیں جاسکتا اس کا عذاب مجرم لوگوں سے،4

299 اَعمال کا کسی قدر بدلہ اس دنیا میں بھی ملتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہم نے ان لوگوں کو بدلہ دیا تھا ان کی بغاوت و سرکشی کا اور بلاشبہ ہم قطعی طور پر سچے ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ برائیوں کی کچھ نہ کچھ سزا انسان کو دنیا میں بھی ملتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اگرچہ پوری سزا آخرت ہی میں ملے گی۔ جیسا کہ نیکیوں کا پوراصلہ و بدلہ تو اگرچہ آخرت ہی میں ملے گا، مگر ان کا کچھ نہ کچھ صلہ وبدلہ انسان کو مختلف نعمتوں کی شکلوں میں اس دنیا میں بھی ملتا ہے۔ حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی ۔ (رح) ۔ نے " جزاء الاعمال " کے نام سے اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ اردو میں تالیف فرمایا ہے جس میں اس طرح کی بہت سی نصوص کریمہ اور آیات قرآنیہ کو بڑی عمدگی سے جمع فرما دیا ہے ۔ فَجَزَاہ اللہ خیرا ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہر برائی سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور جو اس سے پہلے ہوگئیں ان کو معاف فرما دے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ اللہم فخدنا بنواصینا الی ما فیہ حبک والرضا - 300 حق تعالیٰ کی وسعت و رحمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے رب کی رحمت بڑی ہی وسیع ہے۔ اور یہ اس کی رحمت ہی کا ایک مظہر ہے کہ وہ تمہاری ان تمامتر خرمستیوں اور سرکشیوں کے باوجود تمہیں فوراً نہیں پکڑتا بلکہ تمہیں ڈھیل پر ڈھیل دیئے جا رہا ہے۔ مگر تم لوگ اس کی ڈھیل سے کبھی دھوکہ نہیں کھانا کہ مجرم اس کی گرفت و پکڑ سے کبھی بچ نہیں سکیں گے۔ اور اس کی گرفت و پکڑ بڑی ہی سخت اور ہولناک ہے ۔ { اِنَّ اَخْذَہٗ اَلِیْمٌ شَدِْید } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس بندے کو چاہیئے کہ نہ تو وہ کبھی اس ربِّ حلیم و کریم کے حلم و کرم اور اس کی رحمت و عنایت سے مایوس ہو اور نہ ہی کبھی اسکی گرفت و پکڑ سے نڈر و بےخوف۔ بلکہ اسکی معصیت و نافرمانی سے ہمیشہ بچتا اور ڈرتا بھی رہے اور اسکے لطف و کرم اور رحمت و عنایت کی پوری توقع اور امید بھی رکھے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ اللہ تعالیٰ فکر وعمل کے ہر دائرے میں ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 6:148–149

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

اب یہ مشرک لوگ یوں کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم نہ شرک کرتے اور نہ ہی ہمارے باپ داد، اور نہ ہی ہم از خود کسی چیز کو حرام ٹھہراتے اور جس طرح آج یہ لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں اسی طرح ان لوگوں نے جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے، یہاں تک کہ انہوں نے مزہ چکھا ہمارے عذاب کو (ان سے یہ تو) پوچھو کہ کیا ہے تمہارے پاس کوئی علم، جسے تم پیش کرسکو ہمارے سامنے ؟ تم لوگ تو محض خیالی باتوں کے پیچھے چلتے ہو، اور تمہارا تو کام ہی بس یونہی اٹکلیں لڑانا ہے،1

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

کہو، اللہ کے لئے ہے کامل حجت، پس اگر وہ (زبردستی تم سب کو راہ راست پر لانا) چاہتا تو یقیناً وہ تم سب کو (یونہی) ہدایت دے دیتا،2

301 اہل باطل کا تقدیر و مشیت خداوندی سے بہانہ ڈھونڈنا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اب یہ مشرک لوگ یوں کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا۔ اور نہ ہی ہم از خود کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ یعنی اپنی کٹ حجتی کے لئے ایسے لوگ تقدیر کا سہارا لیتے ہیں جس طرح کہ مجرموں کا ہمیشہ یہی وطیرہ رہا ہے۔ حالانکہ مشیت اور چیز ہے اور رضا اور چیز۔ اور یہ لوگ مکلف بہرحال اسی کے ہیں کہ اچھائیاں کریں اور برائیوں سے رکیں اور بچیں۔ ورنہ مشیت کا یہ بہانہ ہر مجرم اور ہر خطاکار پیش کرسکتا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے مشرکین کے آخری معارضہ کو نقل کر کے اس کا رد فرمایا گیا ہے کہ ِان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے شرک کا ارتکاب کر کے اور خدا کی مرضی کے خلاف کسی چیز کو حرام قرار دے کر خدا کی نافرمانی کی ہے تو خدا نے ہمیں روکا کیوں نہیں اور ہمیں اس کا موقع کیوں دیا ؟ سو ان لوگوں کا یہ معارضہ ایک بالکل احمقانہ معارضہ ہے۔ انسانوں کو کسی قول یا فعل کی آزادی ملنا اس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں صحیح ہے ورنہ ہر مجرم اس بہانے کا سہارا لے سکتا ہے۔ انسان کو اس دنیا میں آزادی اختیار سے نوازا گیا ہے اور اسی میں اس کا امتحان ہے۔ اور ہی حکمت کا تقاضا ہے۔ 302 داعیِ حق کیلئے تسلی کا سامان : یعنی یہ کہ تکذیب حق کا یہ جرم کوئی نیا جرم نہیں۔ بلکہ حق کو ان لوگوں نے بھی جھٹلایا ہے جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں۔ پس آج کے ان منکروں کا یہ رویہ کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں بلکہ ایسا پہلے سے ہی ہوتا چلا آیا ہے۔ سو اس میں حضور ﷺ کے لئے اور آپ ﷺ کے توسط سے ہر داعی حق کے لئے تسلی کا سامان ہے کہ اہل باطل کی اس طرح کی بہانہ بازیوں سے افسردہ اور دلگیر ہونے کی ضرورت نہیں کہ یہ کوئی نئی بات اور انوکھی چیز نہیں۔ بلکہ پہلے سے ایسے ہی ہوتا چلا آیا ہے۔ لہٰذا آپ بھی اسی طرح صبر سے کام لیں جس طرح کہ اس سے پہلے کے لوگوں نے لیا ہے اور ان لوگوں کیلئے کسی طرح کی جلد بازی اور بےصبری کا اظہار نہ کریں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ } الآیۃ (الاحقاف : 35) ۔ نیز اس میں منکرین و مکذبین کے لئے تنبیہ و تذکیر بھی ہے کہ اگر تم لوگ باز نہ آئے تو تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو اس سے پہلے کے منکروں کا ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون ایک اور سب کے لئے یکساں ہے۔ سو منکرین حق اپنے ہولناک انجام سے بچ نہیں سکیں گے ۔ والعیاذ باللہ - 303 اہل باطل کو درس عبرت لینے کی ترغیب : یعنی ماضی کے ان مکذبین نے بھی حق کو جھٹلایا۔ یہاں تک کہ انہوں نے مزہ چکھا ہمارے عذاب کا۔ سو جب ان لوگوں کو ہمارے عذاب کا مزہ چکھنا پڑا تو وہی حشر ان لوگوں کا بھی ہوسکتا ہے جو آج حق کا انکار کرنے اور اسکی عداوت و دشمنی پر کمربستہ ہیں کہ اللہ کا قانون و دستور سب کیلئے یکساں اور بےلاگ ہے۔ پس ان کو اپنے برے انجام سے بچنا اور ڈرتے رہنا چاہیے۔ اور ایسے لوگوں کو اس طرح کے ہولناک انجام سے ہمیشہ ڈرتے اور بچتے رہنا چاہیئے کہ اس کا عذاب آنے کے بعد ٹل نہیں سکتا اور مجرم لوگ اس کی گرفت و پکڑ سے چھوٹ نہیں سکتے ۔ { وَلَا یُرَدُّ بِأُسُہٗ عَنِ الْقَوْمِ المُجْرِمِیْنَ } ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 304 اہل باطل کا سہارا ظن وتخمین : سو ایسے لوگوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ تو محض ظن و گمان کے پیچھے چلتے ہو اور تمہارا کام تو محض اٹکلیں لڑانا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ظن وتخمین حق کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہیں آسکتے ۔ { اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا } ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اہل باطل کے پاس دلیل وبرہان کی کوئی سند اور قوت نہیں ہوتی کہ باطل کیلئے دلیل وبرہان کی کوئی قوت ہوسکتی ہی نہیں، بلکہ ان کا سارا مدارو انحصار ظن و گمان اور تخمین و قیاس آرائی پر ہوتا ہے اور بس۔ بہرکیف ان لوگوں سے کہا گیا کہ خداوند قدوس کی پسند یا ناپسند جاننے کا ذریعہ تمہاری اپنی زندگی اور تمہارے خود کے اعمال نہیں۔ یہ کہ جو کچھ تم کرلو وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں پسندیدہ اور تمہارے لئے اجر وثواب بن جائے۔ بلکہ اس کے لئے علمی سند اور ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ تم لوگ محض اٹکل کے تیر تکے چلاتے ہو اور قیاس و گمان کے گھوڑے دوڑاتے ہو۔ حالانکہ وہم و گمان راہ حق میں کچھ بھی کام نہیں آسکتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 6:150

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ لاؤ تم لوگ اپنے ان گواہوں کو جو گواہی دیں اس بات کی کہ اللہ نے حرام کیا ہے ان (مذکورہ بالا) اشیاء کو پھر اگر وہ کبھی ڈھٹائی اور بےحیائی پر اتر کر) ایسی گواہی دے بھی دیں تو تم ان کیساتھ کبھی بھی گواہی نہ دینا، اور پیروی نہیں کرنی ان لوگوں کی خواہشات کی جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، اور جو ایمان نہیں رکھتے آخرت پر اور وہ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں (دوسروں کو)3

305 اللہ ہی کیلئے ہے کامل حجت : یعنی ایسے کامل حجت جو احقاقِ حق اور ابطال باطل میں درجہ کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔ اور زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس پر وہ حاوی نہ ہو۔ اور جو قرآن و سنت کی صورت میں آج بھی دنیا میں جوں کی توں موجود ہے اور قیامت تک اسی طرح موجود رہے گی۔ سو حق وہی ہے جس کا حق ہونا اس حجت بالغہ اور دلیل کامل سے ثابت ہو۔ اور باطل وہ ہے جو اس کی رو سے باطل قرار پائے کہ حجت بالغہ بہرحال اللہ ہی کیلئے ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اللہ تعالیٰ اسی حجت بالغہ کے مطابق کام کرتا ہے اور اس نے اپنے بندوں کو اختیار کی آزادی دی ہے کہ انسان اپنی مرضی اور آزادی کے ساتھ راہ حق و ہدایت کو اختیار کرے ورنہ اگر وہ جبری ہدایت چاہتا تو تم سب لوگوں کو راہ حق و ہدایت پر ڈال دیتا۔ اور اس طور پر کہ کسی کے لیے چوں چرا اور حیل وحجت کی کوئی گنجائش ہی نہ رہتی۔ سو تم لوگوں کے پاس تو محض ظن و گمان ہے مگر اللہ کے پاس حجت بالغہ۔ اور عقل و نقل کا تقاضا یہی ہے کہ ظن و گمان کی بجائے حق اور ہدایت ہی کی پیروی کی جائے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق - 306 دلیل نقلی کا مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ لاؤ تم لوگ اپنے ان گواہوں کو جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے۔ یعنی { ہَلُمَّ } اسم فعل متعدی ہے۔ اور یہ لازمی معنیٰ میں بھی آتا ہے۔ یعنی یہ لفظ لازم و متعدی دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ مگر یہاں اس سے اس کا متعدی معنیٰ ہی مراد ہے ۔ کَمَا ہُوَ الظَّاہِرُ ۔ یعنی اگر تمہارے پاس ایسے کوئی گواہ موجود ہوں جو اس بات کی گواہی دے سکیں کہ اللہ نے ان کے سامنے ان چیزوں کو حرام ٹھہرایا تھا تو تم اپنے ان گواہوں کو سامنے لاؤ اور ظاہر ہے کہ اس کا نہ کوئی وجود ہے نہ امکان۔ اس لیے اس سے ان لوگوں کا عجز اور ان کی بےبسی پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔ سو اس طرح ان لوگوں کے ضمیروں کو دستک دی گئی کہ وہ حق کے آگے جھک جائیں اور اس طرح خود اپنے بھلے کا سامان کریں۔ سو تمہارے پاس اگر اس طرح کے کوئی گواہ نہیں اور یقینا نہیں تو تم لوگ اللہ تعالیٰ کی اس حجت بالغہ کے آگے جھک جاؤ اور اس کو قبول کر کے اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرو جو قرآن حکیم تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے۔ ورنہ تم اپنے ابدی اور ہولناک خسارے کے لئے تیار ہوجاؤ ۔ والعیاذ باللہ ۔ 307 دوسروں کو رب کے برابر ٹھہرانے کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ دوسروں کو اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں اور ان کی پوجا پاٹ وغیرہ کرتے ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے سوا کسی بھی ہستی میں حاجت روائی اور مشکل کشائی وغیرہ کی کوئی بھی خدائی صفت ماننا اور اس کی پوجا پاٹ کرنا دراصل اس کو خدا کے برابر اور مساوی قرار دینا ہے۔ کیونکہ مشرکین عرب بھی اس کائنات کا خالق ومالک، روزی دینے والا، آسمان سے بارش برسانے والا، زندگی و موت کا مالک و مختار اللہ تعالیٰ ہی کو جانتے اور مانتے تھے۔ جیسا کہ قرآن پاک کی متعدد نصوص اور آیات کریمہ اس بارے میں صریح اور واضح طور پر موجود ہیں۔ مگر اس کے باوجود ان کے بارے میں فرمایا جارہا ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کی پیروی نہیں کرنی جن کے اندر یہ تین صفتیں پائی جاتی ہوں کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کی تکذیب کرتے ہوں۔ وہ آخرت پر ایمان نہ رکھتے ہوں اور وہ دوسروں کو اپنے رب کے ہمسر ٹھہراتے ہوں ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 6:151

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں جو کچھ حرام کیا ہے تم پر تمہارے رب نے یہ کہ اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرانا کسی چیز کو، اور اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، اور یہ کہ قتل نہیں کرنا اپنی اولاد کو تنگدستی کے ڈر سے کہ روزی ہم ہی دیتے ہیں تمہیں بھی اور انہیں بھی، اور (یہ کہ) قریب نہیں جانا (بےشرمی اور) بےحیائی کے کاموں کے، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے، اور یہ کہ تم لوگ قتل نہیں کرنا کسی ایسی جان کو جس کو حرام ٹھہرایا ہو اللہ نے مگر حق کے ساتھ، یہ وہ باتیں ہیں جن کی تاکید فرمائی ہے اس نے تم کو تاکہ تم لوگ عقل سے کام لو،1

308 اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ آؤ میں تم لوگوں کو وہ کچھ پڑھ کر سناؤں جس کو تمہارے رب نے تم پر حرام کردیا ہے تاکہ تم لوگ اس سے بچ سکو کہ حرام وہی ہے جس کو رب حرام فرمائے نہ کہ وہ جس کو تم از خود اپنی طرف سے حرام قرار دو ۔ اور یہی ہے اصل ملت ابراہیمی جسکے تم لوگ دعویدار تو بنتے ہو مگر تمہارا عمل و کردار اس کے بالکل خلاف ہے۔ لہٰذا اب اس آئینے میں تم لوگ اپنا چہرہ خود دیکھ لو کہ ملت ابراہیمی کیا تھی اور اسکے تقاضے کیا تھے۔ اور تم لوگ کہاں کھڑے ہو ؟ اور اسکے نتیجے میں تم لوگ جان سکو کہ تم کو کیا کرنا چاہیئے تھا اور تم کرتے کیا ہو ؟ اور تمہیں اجتناب اور پرہیز کس سے کرنا چاہیئے ؟ اور تمہارا طریقہ اور طرز عمل کیا ہے ؟ تم لوگوں نے تو اپنے ظن وتخمین سے کام لیتے ہوئے ملت ابراہیمی کی بعض پاکیزہ چیزوں کو اپنے مشرکانہ توہمات کی بنا پر حرام ٹھہرا کر اپنے طور پر اس کو ملت ابراہیمی قرار دے رکھا ہے حالانکہ ملت ابراہیمی میں تمہارے زعم اور گھمنڈ کے برعکس خدا اور اس کے بندوں کے حقوق سے متعلق بہت سی چیزیں حرام ہیں، مگر تم لوگوں نے ان کو گلے لگا رکھا ہے۔ سو آؤ میں تم کو سناتا ہوں کہ خدا نے تم پر کیا کیا چیزیں حرام ٹھہرائی ہیں ۔ پس ان کو سنو کہ یہی ہے ملت ابراہیمی کا اصل خلاصہ۔ 309 والدین کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت : پس ان سے بدسلوکی ممنوع و حرام ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ ان سے حسن سلوک بھی مطلوب ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر بھی فرمایا گیا ۔ { وبِالْوَالِدَیِنْ اِحْسَاناً } ۔ (بنی اسرائیل : 23) ۔ سو اس سے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی عظمت و اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم میں اس آیت کریمہ کے علاوہ دوسرے کئی مقامات پر بھی اللہ تعالیٰ کے حق کے متصل بعد ماں باپ کے حق کو بیان فرمایا گیا ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو ملت ابراہیمی میں سب سے پہلی چیز جو تم پر حرام فرمائی گئی ہے وہ ہے شرک۔ لیکن تم لوگوں نے شرک کو اپنا دین بنا رکھا ہے اور اس کے بعد جو سب سے بڑا حق انسان پر عائد ہوتا ہے وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا حق ہے۔ مگر اس کی تم لوگوں کو پروا نہیں مگر دعویٰ کرتے ہو ملت ابراہیمی کا۔ تم کیسے اوندھے لوگ ہو۔ 310 روزی رساں سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ روزی ہم ہی دیتے ہیں تم لوگوں کو اور ان کو بھی۔ کہ روزی رساں تو سب کے بہرحال ہم اور صرف ہم ہی ہیں ۔ { اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذو الْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ } ۔ (الذاریات : 58) ۔ سو جب روزی رساں سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے تو پھر فقر و فاقہ اور افلاس و محتاجی کی بناء پر کسی کو قتل کرنا کیسے روا ہوسکتا ہے ؟ اور وہ بھی اپنی اولاد کو ؟ لیکن افسوس کہ قتل اولاد کے جاہلیت اولیٰ کے اس ہولناک مرض کے جراثیم آج بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے موجود ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ " اِملاق " کے معنیٰ فقر و فاقہ اور تنگ دستی کے ہیں۔ عربوں کے یہاں اولاد کو قتل کرنے کے اس سنگین اور ہولناک جرم کا ارتکاب کئی وجوہ کی بنا پر ہوتا تھا، جیسا کہ اس سے پہلے بھی گزر چکا ہے اور ان وجوہ میں سے ایک وجہ فقروفاقہ اور غربت و محتاجی کا اندیشہ تھا۔ جیسا کہ آج بھی کئی ایسے غریب ملکوں میں ہوتا ہے جہاں غربت حد سے بڑھ جاتی ہے اور اس ظلم کا اصل باعث اور بنیادی سبب انسان کی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنا اور اپنی اولاد اور متعلقین کا روزی رساں سمجھ بیٹھتا ہے۔ حالانکہ اس کا وجود بھی اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور اس کا رزق اور روزی بھی اللہ ہی کی طرف سے۔ اس لئے یہاں پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ فقرو فاقہ کے اندیشے سے قتل اولاد کے اس سنگین جرم اور ہولناک فعل کا ارتکاب نہ کرنا کہ روزی ہم ہی دیتے ہیں تم کو بھی اور ان کو بھی۔ 311 قتل ناحق کی حرمت کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم قتل نہیں کرنا کسی ایسی جان کو اللہ نے حرام ٹھہرایا ہو مگر حق کے ساتھ۔ کہ یا تو اس نے کسی کو قتل کیا ہو تو اس کے بدلے میں اس کو قتل کیا جائے یا اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو اور وہ " محصن " یعنی شادی شدہ ہو یا وہ دین سے پھر گیا ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو ان تین صورتوں میں سے کوئی صورت بھی اگر پائی جائے تو ایسے میں اس کو قتل کرنا جائز ہوگا اور یہی مطلب ہے { بالْحَّقِ } " حق کے ساتھ قتل کرنے " کا۔ ان میں سے کسی وجہ کے بغیر کسی بھی شخص کو قتل کرنا جائز نہیں۔ اور یہ کبیرہ گناہ بلکہ " سبع موبقات " یعنی ان سات بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ایک گناہ ہے جو انسان کو ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں ڈالنے والی ہیں۔ سو انسانی جان بجائے خود محترم ہے۔ اس کو چھیڑنا یا اس پر ہاتھ ڈالنا جائز نہیں۔ اس لئے اس کی صفت یہاں پر { اَلَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ } وارد ہوئی ہے۔ یعنی " جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہو "۔ اس سے مستثنٰی وہی جان ہے جو کسی حقِّ شرعی اور قانون کے مطابق مباح الدم قرار پائے جس کی تین صورتیں ابھی اوپر ذکر کی گئی ہیں۔ ان کے بغیر کسی بھی جان کا قتل کرنا جائز نہیں۔ 312 عقل و فکر سے کام لینے کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے تم لوگوں کو ان باتوں کی تاکید فرمائی ہے تاکہ تم لوگ سوچو اپنے نفع و نقصان اور خیر و شر کے درمیان فرق وتمیز کے بارے میں۔ اور یہ جان اور سمجھ لو کہ ملت ابراہیمی اور اسکے تقاضے کیا تھے۔ اور تم لوگ کہاں بھٹک رہے ہو۔ سو اس میں غور و فکر اور عقل سے کام لینے کی دعوت و تحریک ہے اور یہ ایماء بھی کہ اگر یہ لوگ عقل سے کام لیتے اور صحیح طور پر سوچتے تو شرک وغیرہ کے ان اندھیروں میں نہ رہتے جن میں یہ اب پڑے ہیں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا " یہ ہیں وہ باتیں جن کی تعلیم و تلقین تم لوگوں کو اللہ نے فرمائی ہے۔ اور یہی ہے اصل ملت ابراہیمی۔ مگر تم لوگ ہو کہ تم نے کام کی ان باتوں کو چھوڑ کر چند اچھے بھلے جانوروں کو اپنے مشرکانہ توہمات کی بناء پر از خود حرام قرار دے کر ملت ابراہیمی کے دعویدار بن بیٹھے ہو۔ سو اب میں تمہیں وحی خداوندی کے مطابق یہ احکام اس لئے سنا رہا ہوں کہ تم سوچو سمجھو اور عقل و فکر سے کام لو کہ تم کہاں سے کہاں نکل گئے ہو۔ تمہارا دعویٰ کیا ہے اور عمل کیا ؟ اور یہ کہ تم راہ راست سے بھٹک کر ہلاکت و تباہی کے کس ہولناک گڑھے میں جا گرے ہو ؟ سو اب راہ حق کو اپنا لو۔
Ayah 6:152

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

اور (چھٹے یہ کہ) قریب نہ جانا تم یتیم کے مال کے، مگر اس طریقے کے ساتھ جو کہ سب سے اچھا ہو، یہاں تک کہ وہ پہنچ جائے اپنی بھرپور قوتوں کو، اور یہ کہ پورا کرو تم ناپ اور تول کو (عدل و) انصاف کے ساتھ، ہم تکلیف نہیں دیتے کسی بھی جان کو مگر اس کی طاقت کے مطابق، اور جب تم بات کرو تو انصاف کی کرو، اگرچہ وہ شخص رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، اور اللہ کے عہد کو پورا کرو، یہ ہیں وہ (اہم) باتیں جن کی تاکید فرمائی اس نے تم کو، تاکہ تم لوگ نصیحت حاصل کرو،

313 حقِّ یتیم کی پاسداری کا حکم وارشاد : سو اس میں یتیم کے بارے میں سب سے بہتر طریقے کو اپنانے کی ہدایت فرمائی گئی۔ یعنی یتیم کے مال کے بارے میں وہی طریقہ اپنایا جائے جو سب سے بہتر ہو یتیم کے حق میں۔ اس کی بہتری اور اس کے مال کی حفاظت و صیانت کے اعتبار سے۔ یعنی یتیم کے بارے میں ہر وہ طریقہ اپناؤ جس سے اس کے مال کی حفاظت ہو اور اس میں اضافہ اور بڑھوتری ہو۔ اور یہ کہ یہ مال یتیم کی تعلیم و تربیت اور اس کی بہتری اور اصلاح میں خرچ ہو۔ یہ سب صورتیں " احسن " یعنی " سب سے اچھے طریقے " میں داخل ہیں۔ سو کسی بری نیت و ارادہ سے یتیم کے مال کے قریب بھی نہیں پھٹکنا چاہئے۔ جو بھی اس کے پاس جائے صرف اچھی ہی نیت اور ارادہ سے جائے۔ اور وہی طریقہ اپنائے جو یتیم کے حق میں سب سے بہتر ہو۔ اور معاملہ اللہ کے ساتھ درست رکھو جو کہ دلوں کے حال کو جاننے والا ہے۔ 314{ اَشُدَّہ } کا معنیٰ اور اس سے مراد ؟ : سو یتیم کے مال کی پوری حفاظت اور نگرانی کی جائے یہاں تک کہ وہ اپنی بھر پور قوتوں کو پہنچ جائے۔ یعنی جوانی کو۔ " اَشُدُّ " جمع ہے " شِدّہٌ " کی جیسے " اَنْعَم " جمع کی " نِعْمَۃٌ " کی۔ یا یہ جمع ہے " شَدّ " کی جیسے " اَکُلُب " جمع ہے " کلب " کی۔ یا یہ جمع ہے " شِدّ " کی جیسے " اَصُرّ " جمع ہے " صِرّ " کی۔ (محاسن التاویل) ۔ اور یہ کنایہ ہے اس کی جوانی اور بلوغ سے۔ کیونکہ جوانی کی عمر ہی وہ عمر ہوتی ہے جس میں انسان کی جسمانی اور عقلی و فطری قوتیں پوری اور کامل ہوجاتی ہیں اور وہ اپنے نفع و نقصان کو سمجھنے لگتا ہے۔ سو جب تک یتیم اپنی اس عمر کو نہیں پہنچتا اس وقت تک، اس کے مال و دولت کی بھرپور حفاظت اور نگرانی کی جائے۔ اس کے بعد اس کا مال اس کے حوالی کردیا جائے۔ 315 اللہ کسی کو بھی اسکی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا : پس جو احکام ہم نے تمہیں دئے ہیں وہ تمہاری ہمت و بساط کے عین مطابق ہیں کہ ہم سے زیادہ تمہاری قوت و استعداد کو جاننے والا اور کوئی نہیں ہوسکتا ۔ { اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ } ۔ (الملک : 14) ۔ اس لیے وہ ربِّ غفور و رحیم جو کہ علیم وخبیر اور حاکم و حکیم بھی ہے، انسان کو وہی حکم دیتا ہے جو اس کی طاقت کے مطابق ہو۔ بہرکیف اس ارشاد سے دو باتوں کو واضح فرما دیا گیا۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی احکام دیئے ہیں وہ سب انسان کی فطرت اور اس کی صلاحیتوں کو ناپ تول کردیئے ہیں۔ ان میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہوسکتی جو اس کے تحمل و برداشت سے باہر ہو۔ اور دوسری بات یہ کہ جو کچھ انسان سے مطلوب ہے وہ صرف یہ ہے کہ انسان اپنی پوری دیانت و امانت اور صداقت شعاری سے ان احکام کی تعمیل و تکمیل کی کوشش کرے اور ان کو بجالانے میں اپنے بس کی حد تک کوتاہی نہ کرے۔ اس کے بعد اگر کوئی کوتاہی ہوگئی تو اس پر گرفت نہیں ہوگی۔ کہ وہ بڑا ہی غفور و رحیم ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 316 بات میں انصاف کو اپنانے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب تم لوگ بات کرو تو انصاف کی کرو۔ سو حق و انصاف سے کسی بھی طور سے اعراض و تجاوز نہیں کرنا ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی مختصر، سیدھی و صاف اور عظیم و جامع تعلیم ہے۔ جو ان چھوٹے چھوٹے اور میٹھے پیارے جملوں میں ارشاد فرمائی گئی ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ بہرکیف ہر بات میں عدل و انصاف کو اپنانے اور اس کو ملحوظ خاطر رکھنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ الفاظ و کلمات کے عموم کے اعتبار سے اگرچہ یہ ارشاد ہر بات کو شامل ہے کہ تمہارے منہ سے جو بات بھی نکلے وہ عدل و انصاف والی اور حق و صداقت کی کسوٹی پر پوری اترنے والی ہونی چاہئے لیکن موقعہ کلام دلیل ہے کہ تمہاری ہر شہادت اور تمہارا ہر فیصلہ عدل و انصاف اور حق و صداقت کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ اور اس سلسلے میں اپنے کسی عزیز و قریب کے ساتھ بھی کوئی رو رعایت نہیں ہونی چاہئے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - ٔ 317 اللہ کے عہد کو پورا کرنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پورا کروا تم لوگ اللہ کے عہد کو جو شامل ہے اس عہد اَلَسْت کو بھی جو کہ تمہاری فطرتوں میں پیوست ہے اور اس عہد کو بھی جو اس نے اپنے انبیاء ور سل کے ذریعے تم سے لیا ہے۔ اور ان سب عہود و مواثیق کو بھی جو کہ اس کے نام پر تم باہم ایک دوسرے سے لیتے اور کرتے ہو۔ (تفسیر المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی عمدہ پاکیزہ اور جامع تعلیم ہے اخلاق فاضلہ اور خصال حمیدہ کی جو اس کتاب حکیم اور فرقان حمید میں دی گئی ہے ؟ کیا پائی جاسکتی ہے اس کی کوئی نظیر و مثال کسی بھی دوسرے دین و مذہب میں ؟ اسی لئے حضرت عبد اللہ بن مسعود ۔ ؓ ۔ فرماتے ہیں کہ جو کوئی اللہ کے رسول (علیہ الصلوۃ والسلام) کی ایسی وصیت دیکھنا چاہے جس پر آنحضرت ﷺ کی مہر لگی ہوئی ہو تو وہ ان آیات کریمہ کو پڑھ لے۔ یعنی { قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ } (ترمذی کتاب التفسیر، سورة الانعام) ۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج مسلمان خود ان تعلیمات مقدسہ اور ارشادات عالیہ سے غافل و بیخبر ہیں تو وہ دوسروں کو کیا بتائیں گے۔ اور اس طرح وہ خود بھی محروم ہوتے ہیں اور دوسروں کی محرومی کے بھی ذمہ دار قرار پاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے نام پر کیا گیا ہر عہد اللہ کا عہد ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ حدود کے اندر ہے۔ اس کی عند اللہ ذمہ داری ہے اور اس کو پورا کرنا ضروری ہے۔ اور اس کے بارے میں پوچھ ہوگی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَاَوْفُوْا بالْْعَہْدِ ، اِنَّ الْعَہْدَ کاَنَ مسْئُوْلَا } (بنی اسرائیل : 34) ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 6:153

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

اور کہو کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ پس تم اسی پر چلو،2 اس کے سوا دوسرے راستوں پر نہیں چلنا، کہ وہ تم کو ہٹا دیں اس کی راہ (حق وصواب) سے، اسی کی تاکید فرمائی ہے اس نے تم کو تاکہ تم لوگ بچ سکو،

318 صراط رسول سے مراد اور اس کے تقاضے ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ یہ ہے میرا راستہ سیدھا۔ پس تم سب اسی کی پیروی کرو یعنی میرا وہ سیدھا راستہ جو میں تم لوگوں کے سامنے پیش کر رہا ہوں اور یہی ہے ابراہیم کا وہ راستہ جس پر چلنے کی وصیت انہوں نے اپنی اولاد کو فرمائی تھی۔ اور یہی ہے ملت ابراہیمی جس کو اپنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی دین اسلام جس کے یہ اہم احکام و ہدایات ہیں۔ اس پر چل کر تم سیدھے اپنی منزل مقصود تک پہنچو گے۔ اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی کے شرف سے مشرف و بہرہ ور ہو گے اور تمہیں دارین کی سعادت و سرفرازی نصیب ہوگی جبکہ ِاس سے محرومی دراصل ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہی راستہ اللہ کا راستہ ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا { صِرَاط اللّٰہِ الَّذِیْ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ } ۔ (الشوری : 53 ۔ 52) ۔ یعنی اس اللہ کا راستہ جس کے لیے وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین کی اس ساری کائنات میں ہے۔ اور اللہ کا یہ سیدھا راستہ چونکہ دنیا کو پیغمبر کے واسطے اور ان کی دعوت ہی سے ملا اور آپ کو اسی صراط مستقیم کی دعوت کیلئے مبعوث فرمایا گیا تھا۔ اسی لیے اس کو پیغمبر کی طرف منسوب و مضاف کر کے ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ } ۔ یعنی " یہی میرا وہ سیدھا راستہ ہے جو میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں پس تم سب اسی کی پیروی کرو "۔ سو صراط رسول سے مراد وہی صراط مستقیم ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والا واحد راستہ ہے اور اس کا تقاضا صدق دل سے اس کو اپنانا اور اس پر چلنا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 319 صراط مستقیم سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی : پس تم لوگ اسی کی پیروی کرنا اور اس کے سوا دوسرے راستوں پر نہیں چلنا کہ وہ تم کو ہٹا دیں گے سیدھے راستے سے۔ اور اگر ایسے ہوگیا تو پھر تم قطعی طور پر محروم ہوگئے دارین کی سعادت اور حقیقی فوز و فلاح سے کہ منزل مراد تک پہنچانے والی سیدھی راہ سے ہی جب کوئی پھرجائے اور اس سے بھٹک جائے تو پھر اس کی کامیابی اور فائز المرامی کا سوال ہی کیا پیدا سکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو صراط مستقیم سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی ہے۔ اور اس سے محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ سیدھی راہ وہی ہے جو میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ یہی خدا کی بتائی ہوئی راہ ہے جو عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے اور اسی کی تعلیم و تلقین حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کو فرمائی تھی۔ پس تم سب لوگ اسی کی پیروی کرو۔ کہ یہی ملت ابراہیمی ہے اور اسی کی اتباع و پیروی کا حکم حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے اس کے رسول کو اور اس کے تمام بندوں کو دیا گیا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 320 تقویٰ و پرہیزگاری ذریعہ نجات و سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کی تاکید اس نے تم لوگوں کو فرمائی تاکہ تم بچ سکو اپنے خالق ومالک کی نافرمانی و ناراضگی سے۔ اور اس کے نتیجے میں تم بچ سکو اس کے عذاب اور اس کی گرفت و پکڑ سے۔ کیونکہ اس وحدہ لاشریک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی نافرمانی و ناراضگی درحقیقت وہ چیز ہے جو کل وہاں عالم آخرت میں جو کہ درحقیقت کشف حقائق کا جہان ہوگا دوزخ کے طرح طرح کے عذابوں کی شکل اختیار کرلے گی ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس جس نے دنیا کی یہ عارضی وفانی اور محدود و مختصر زندگی خدائے رحمن سے ڈرتے ہوئے اور اس کی نافرمانی و سرکشی سے بچتے ہوئے گزاری ہوگی وہ وہاں کے ان انواع و اَقسام کے ہولناک عذابوں سے محفوظ رہے گا اور اس کی چھوٹی موٹی خطائیں اور گناہ و قصور معاف کر دئے جائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی { اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ بالْغَیْبِ لَہُمْ مَغْفِرَۃٌ وَّ اَجْرٌ کَبِیْرٌ} ۔ (الملک : 12) ۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری ذریعہ نجات اور وسیلہ سرفرازی ہے۔ اور اس سے محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ تقویٰ و پرہیزگاری کو اپنائے رکھنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین۔