Ayah 6:4469 تمردو سرکشی کا نتیجہ وانجام ہولناک تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تمردو سرکشی کا نتیجہ وانجام ہولناک تباہی ہے۔ اور یہ کہ معاصی وذنوب پر دنیاوی نعمتوں کا ملنا ہولناک عذاب کا پیش خیمہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ایسے بدبختوں نے نصیحتِ حق کو بھلا کر پس پشت ڈال دیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے۔ یعنی ہر قسم کی نعمت کے دروازے تاکہ ان کا جرم اور سخت ہوجائے۔ اور ان کا پھوڑا پوری طرح پک کر آخری آپریشن کے قابل ہوجائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو معلوم ہوا کہ معاصی وذنوب پر دنیا اور اس کی نعمتوں کا ملنا خیر کی علامت نہیں، بلکہ خطرے کی گھنٹی ہے، کہ یہ درحقیقت استدراج ہوتا ہے جو انسان کو دائمی تباہی کی طرف لے جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ چناچہ مسند امام احمد وغیرہ میں حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کے گناہوں کے باوجود دنیا دے رہا ہے تو سمجھو کہ یہ محض استدراج ہے۔ پھر آپ ﷺ نے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔ (مسند امام احمد : ج 4 ص 145 طبع الحلبی) ۔ اور ایسے ہی حضرت حسن بصری وغیرہ علمائے کرام نے فرمایا ہے۔ (محاسن، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو جب معاصی وذنوب کے ارتکاب کے باوجود دنیا ملنے لگے تو اس سے خوش ہونے کی بجائے فوراً توبہ و استغفار اور رجوع الی اللہ کی فکر کرنی چاہیئے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدٗ ۔ اللہ نفس و شیطان کے ہر شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 6:4570 ظالموں کی ہلاکت پر اللہ کا شکر ادا کرنا واجب : کہ اس نے اپنی رحمت و عنایت سے ایسے ظالم اور خبیث لوگوں کے خبیث وجود سے اپنی دھرتی کو پاک کیا اور اہل زمین کو ان کے اعمال خبیثہ کے منحوس آثار و نتائج سے نجات دلائی۔ علامہ زمخشری کہتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ ظالموں کی ہلاکت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا واجب ہے کہ یہ اس کی عظیم الشان نعمتوں میں سے ہے۔ اور اس آیت کریمہ میں خبر بمعنی امر کے ہے۔ (محاسن التاویل للقاسمی وغیرہ) ۔ فالحمدللہ رب العالمین ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ مُکَذِّبِیْنِ جب اپنی خرمستی کی اس انتہا کو پہنچ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔ سو اس ارشاد میں اس بات کی طرف بھی نہایت لطیف اشارہ ہے کہ اس سے پہلے اس طرح کے مجرموں پر ابتلا کے جو جھونکے آتے ہیں ان سے ان لوگوں کے شجر ہستی کے صرف برگ و بار متاثر ہوتے ہیں اور وہ بھی وقتی طور پر۔ ان کی جڑ بہرحال محفوظ رہتی ہے۔ لیکن جب ان پر ایسا آخری وقت آجاتا ہے تو خداوند قدوس ان پر ایسا آخری عذاب بھیج دیتا ہے جو ان کے قومی وجود کو جڑ سے کاٹ پھینکتا ہے۔ کیونکہ ایسے لوگ اس موقع پر ایسے زہریلے درخت بن کر رہ جاتے ہیں جو زہریلے پھل ہی دیتے ہیں اور ان کے برگ و بار سے زہریلی ہوا ہی پھیلتی ہے۔ سو ایسے میں ان لوگوں کا وجود ناقابل برداشت بن جاتا ہے۔ اور جس خالق ومالک نے اس کائنات کو بالحق پیدا فرمایا ہے وہ ایسے زہریلے درختوں کو باقی نہیں رہنے دیتا جن کے زہریلے برگ و بار اور ان کی مسموم ہوائیں پورے چمن کو برباد کر کے رکھدیں۔ سو سزاوار حمد و شکر ہے وہ پروردگار عالم جو ایسی بیکار بلکہ ضرر رساں قوموں کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ-
Ayah 6:4671 اللہ کی سلب کردہ کسی نعمت کو کوئی واپس نہیں دلا سکتا : سو ایسے لوگوں کے قلب و باطن پر دستک دیتے ہوئے اور ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے سوال کیا گیا کہ بتاؤ کہ اگر اللہ تم لوگوں سے اپنی دی بخشی ان نعمتوں کو چھین لے تو پھر کون ایسا ہوسکتا ہے جو تم لوگوں کو یہ نعمتیں واپس دلا دے ؟۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا کوئی بھی نہیں جو یہ قدرت رکھتا ہو۔ پس ثابت ہوا کہ اللہ وحدہ لاشریک کے سوا دوسرا کوئی معبود سرے سے ہے ہی نہیں۔ پھر تم ایسوں کو حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر آخر کیوں پکارتے ہو ؟ اور اس حقیقت کو دل و جان سے کیوں تسلیم نہیں کرتے کہ معبود برحق اور سب کا حاجت روا و مشکل کشا وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے قبضئہ قدرت و اختیار میں ہے۔ وہ جو چاہے کرے۔ کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ اور جس نعمت کو وہ سلب کرلے کوئی اس کو واپس نہیں دلا سکتا۔ سو تمہارے سننے دیکھنے اور سمجھنے سوچنے کی جو قوتیں تمہارے پاس موجود ہیں ان سے صحیح کام لو۔ تاکہ تم لوگ صحیح نتیجے پر پہنچ سکو ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 6:4772 ظلم کا انجام ہلاکت و تباہی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں سے کہو کہ کیا تم نے کبھی یہ بھی دیکھا اور سوچا کہ اگر آجائے تم پر اللہ کا عذاب اچانک یا علانیہ طور پر۔ اور جب یہ ظاہر اور واضح ہے کہ ظالم لوگ ہی ہلاکت کا شکار ہوں گے دوسرا کوئی نہیں۔ تو پھر عقل و دانش کا تقاضا یہی ہے کہ تم ظلم اور اس کی ہر شکل سے بچنے کی فکر کرو۔ تاکہ اس کے نتیجے اور انجام بد سے محفوظ رہ سکو اور گرفتار بلا ہونے سے قبل ملنے والی اس فرصت کو غنیمت سمجھ کر اس سے کام لو۔ قبل اس سے کہ یہ فرصت نایاب تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور پھر تمہیں ہمیشہ کیلئے کف افسوس ملنا پڑے مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہو سوائے آتش حسرت میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ظالموں کو جتنی بھی مہلت اور ڈھیل ملے وہ بہرحال عارضی اور فانی ہے جس نے بہرحال ختم ہوجانا ہے اور ظالموں نے اپنے انجام کو پہنچ کر رہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:4873 پیغمبروں کا کام انذار وتبشیر اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ صرف اسی لیے بھیجتے ہیں کہ وہ لوگوں کو خوشخبری دیں اور ان کو خبردار کریں۔ یعنی ان کا کام تو صرف اتنا ہے کہ حق قبول کرنے والوں کو حقیقی سعادت اور دائمی کامیابی کی خوشخبری سنا دیں۔ اور اس سے منہ موڑنے والوں کو اس کے برے انجام سے ڈرائیں اور خبردار کریں۔ باقی اس سے آگے نافرمانوں پر عذاب لے آنا یا ان کی نت نئی فرمائشوں کو پورا کرنا نہ تو ان کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی ان کے بس اور اختیار میں۔ پس جو لوگ حضرات انبیائے کرام سے ایسے سوالات کرتے یا اس طرح کی توقعات رکھتے ہیں وہ ان کی اپنی قلب و نظر کی خرابی اور مت ماری کا نتیجہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے رسولوں کی بعثت کے اصل مقصد کو واضح فرما دیا گیا اور بتادیا گیا کہ ان کا کام عذاب کی نشانیاں دکھانا یا عذاب کو لے آنا یا خوارق و عجائب کی نمائش کرنا نہیں ہوتا۔ جس طرح کہ ان کے منکرین اور مخالفین نے سمجھ رکھا ہے۔ بلکہ ان کو خداوند قدوس کی بےپایاں رحمت و عنایت کی خوشخبری دینے والا اور جھٹلانے والوں کے لئے عذاب سے خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا جاتا ہے۔ سو ان کا کام انداز وتبشیر ہوتا ہے اور بس۔
74 ایمان والوں کے لیے ایک عظیم الشان انعام کی خوشخبری : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان صادق رکھنے والوں کیلئے ایک عظیم الشان انعام کی خوشخبری ہے کہ ان کو نہ کوئی خوف ہوگا نہ غم۔ یعنی نہ اس کو اپنے ماضی پر کوئی غم ہوگا اور نہ مستقبل کا کوئی خوف۔ امن و سکون کی اس انمول دولت کا کامل تحقق اگرچہ آخرت کی اس حقیقی، دائمی اور ابدی زندگی میں ہوگا، لیکن اللہ والے یہ خوش نصیب لوگ سکون و اطمینان کی اس متاع گرانمایہ سے اس دنیا میں بھی بڑی حد تک شادکام و سرفراز ہوتے ہیں۔ سو ایمان صادق اور یقین کامل رکھنے والوں کیلئے یہ ایک عظیم الشان انعام ہے جس سے ان کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے نوازا جائے گا۔ سو اس سے حضرات انبیاء و رسل کی شان تبشیر کو واضح فرما دیا گیا کہ ان کا کام ایسے خوش نصیبوں کو خوشخبری دینا ہوتا ہے جو ایمان و یقین اور صلاح و اصلاح کی دولت سے سرشار ومالا مال ہوتے ہیں کہ ان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے کہ دنیا میں ان کو حیات طیبہ[ پاکیزہ زندگی ] کی سعادت نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں ان کے لئے جنت کی سدا بہار نعمتیں اور وہاں کی نعیم مقیم سے سرفرازی ہوگی ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ لِمَا یُحِبُّ وِیُرِیْدُ -
Ayah 6:4975 مکذبین کے لیے ہولناک عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ تکذیب آیات کے مجرموں کو وہ ہولناک عذاب پہنچ کر رہے گا جس کو یہ جھٹلا رہے ہیں اور جو ان کے کرتوتوں کی بنا پر ان کے لئے مقدر ہوچکا ہے۔ لیکن کب اور کس شکل میں ؟ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں۔ بہرکیف ایسے لوگوں کو ان کے اس جرم کی سزا اس دنیا میں بھی ملے گی لیکن اس کی اصل اور پوری سزا ان کو آخرت میں ملے گی جہاں کی سزا اصل اور حقیقی سزا ہوگی اور جہاں انسان کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ اور جہاں کا عذاب بڑا ہی سخت ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اللہ پاک کی آیتوں کی تکذیب کا جرم بڑا ہی سنگین جرم ہے اور اس کی سزا بہت سخت ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ایسے لوگوں کو یہ عذاب ان کے اس فسق و فجور اور بدکاری کی بنا پر ہوگا جس کا ارتکاب ایسے لوگ اپنی زندگی میں کرتے رہے تھے، جیسا کہ ۔ { بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْن } ۔ سے اس کی تصریح فرما دی گئی۔ سو اس سے ایک طرف تو اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر خدا و ند قدوس کی رحمت کا مظہر ہوتے ہیں۔ عذاب ان کی بعثت کے مقاصد سے نہیں ہوتا بلکہ یہ لوگوں کی تکذیب کے لوازم اور نتائج میں سے ہوتا ہے۔ اور دوسری بات اس سے یہ واضح فرما دی گئی کہ لوگوں کو پیغمبروں سے اسی چیز کا مطالبہ کرنا چاہئے جس کے لئے ان کو مبعوث کیا گیا ہوتا ہے۔ یعنی ایمان و عمل صالح کی ہدایت و راہنمائی۔ نہ کہ عذاب کو لانے اور معجزات و خوارق کو پیش کرنے سے متعلق کہ یہ چیز نہ تو رسولوں کے خصائص میں سے ہوتی ہے اور نہ ہی اس کا تعلق ان کی تعلیم و تلقین اور دعوت و ارشاد سے ہوتا ہے۔ ایسے خوارق کا ظہور اگر ہوتا ہے تو محض اتمام حجت کے طور پر ہوتا ہے۔ نیز اس ارشاد میں رسول کے لئے بھی یہ پیغام تسلیہ و تسکین ہے کہ وہ اپنا تعلق اپنے مقاصد بعثت سے رکھے۔ یعنی انداز وتبشیر سے۔ اور جو باتیں ان کے فرائض اور ان کے مقاصد بعثت سے غیر متعلق ہیں ان کو خدا پر چھوڑ دے۔ ان کے لئے بلا وجہ پریشان نہ ہو۔ اور ایسے ہٹ دھرم لوگوں سے منہ موڑے ۔ { فَاَعْرِضْ عَمَّنْ تَوَلّٰی عَنْ ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ الاَّ الْحَیَاۃَ الدَّنُیَا } ۔ (النجم : 29) ۔
Ayah 6:5076 پیغمبر کا اعلان کہ میرے پاس اللہ کے خزانے نہیں ہیں : سو پیغمبر کو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان لوگوں سے کہو کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں کہ میں تمہاری خواہشیں اور فرمائشیں پوری کرسکوں۔ بلکہ یہ تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہ جس کو چاہے اور جب اور جتنا چاہے عطا فرمائے۔ میں نے اس طرح کا کوئی دعویٰ کیا ہی کب ہے کہ تم لوگ خدائی اختیار سے تعلق رکھنے والے اس طرح کے امورکا مجھ سے مطالبہ کرو۔ میرا کہنا تو صرف یہ ہے کہ میں اس کا ایک بندہ ہوں جسے اس نے اپنی پیغام رسانی کے لئے چنا ہے اور مجھ پر وحی نازل فرمائی ہے۔ اور میرا کام اسی وحی کی پیروی کرنا ہے اور بس ۔ { اِنْ اَتَّبِعُ الاَّ مَا یُوحٰیٓ اِلَیَّ } ۔ سو پیغمبر نے اس حقیقت کا صاف اور صریح طور پر اعلان فرما دیا کہ اللہ کے خزانے میرے پاس نہیں اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں۔ اور اللہ پاک نے ۔ { قُلْ } ۔ " کہو " کے حکم و ارشاد سے آپ کو اس طرح یہ اعلان کرنے کی ہدایت فرمائی۔ جس سے یہ حقیقت پوری طرح واضح اور آشکارا ہوجاتی ہے کہ اللہ کے خزانے اسی کے پاس ہیں۔ وہی سب کو دیتا اور تقسیم فرماتا ہے اور اپنی حکمت اور مشیت کے مطابق جسکوجتنا اور جب چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ آسمان و زمین کی ہر چیز اور تمام مخلوق اسی کی محتاج اور اسی کے در کی سوالی ہے۔ اور وہی وحدہ لاشریک سب کو سب کچھ دیتا اور ہر سوالی اور محتاج کی حاجت روائی فرماتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر اس کو طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے۔ سو کتنے بہکے بھٹکے اور گمراہ ہیں وہ لوگ جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر جو کہ سب خزانوں کا مالک و مختار ہے طرح طرح کی عاجز اور بےبس مخلوق سے مانگتے اور ان کے آگے دست سوال دراز کرتے ہیں۔ اور اس طرح اپنی تذلیل کا سامان خود کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے پیغمبر کی زبانی اس باب میں آخری اور فیصلہ کن اعلان کروا دیا گیا ہے کہ تم لوگوں کو اگر مجھ سے بحث کرنی ہے تو اس چیز کے بارے میں کرو جو میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ جو میرا منصب و مقام اور میری ذمہ داری ہے۔ اور جس کا میں داعی اور مبلغ ہوں۔ اس کو چھوڑ کر تم لوگ آخر ان چیزوں کے بارے میں مجھ سے کیوں جھگڑتے اور الجھتے ہو جن کے بارے میں میں نے کبھی کوئی دعویٰ سرے سے کیا ہی نہیں اگر میرے پاس کوئی خزانے ہیں تو آخر میں نے تم لوگوں سے کب کہا تھا کہ میرے پاس خزانے ہیں۔ جو تم لوگ مجھ سے اس طرح لایعنی سوالات کرو ؟ میرا کام تو صرف انذار اور تبشیر ہے کہ اگر تم لوگ صدق دل سے ایمان لاؤ گے تو تمہارے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی خوشخبری ہے۔ اور اگر تم انکار و اعراض سے کام لو گے تو تمہیں بڑا ہی ہولناک انجام پیش آئے گا اور تم کو بڑا ہی سخت خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
77 پیغمبر عالم غیب نہیں ہوتے : سو صاف اور صریح طور پر پیغمبر سے اس حقیقت کا اعلان کروایا گیا کہ " میں غیب نہیں جانتا " ۔ { لاَ اَعْلَمُ الْغَیْبَ } ۔ کہ تم لوگ مجھ سے غیب کے بارے میں سوال کرو۔ علم غیب تو خاصہ خدا وندی ہے۔ جیسا کہ ارشاد ربّانی ہے ۔ { قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰاتِ وَالاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ } ۔ (النمل : 65) " کہو کہ زمین و آسمان کی اس پوری کائنات میں کوئی بھی نہیں جو غیب جانتا ہو سوائے ایک اللہ تعالیٰ کے "۔ اہل بدعت علم غیب کے اپنے شرکیہ عقیدے کو ایسی صاف وصریح آیات کریمہ اور نصوص مطہرہ کی زد سے بچانے کے لئے ان میں طرح طرح کی تحریفات اور تلبیسات سے کام لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ لوگ ایسی آیات کریمہ کے ترجمے میں بھی اپنے اس طرز عمل سے نہیں چوکتے۔ چناچہ ان کے بعض بڑوں نے اس آیت کریمہ میں وارد اس ارشاد ربّانی ۔ { لاَ اَعْلَمُ الْغَیْبَ } ۔ کا ترجمہ اس طرح کیا ہے " اور نہ یہ کہوں کہ میں آپ غیب جان لیتا ہوں " حالانکہ عربی کا ایک عام طالب علم بھی جانتا ہے کہ " لا اَعْلَمُ " واحد متکلم مضارع منفی کا صیغہ ہے جس کا سیدھا سادا اور صاف معنیٰ ومطلب اور ترجمہ یہ ہے کہ " میں نہیں جانتا " اور " نہیں جان سکتا "۔ اور اس میں ذاتی وغیر ذاتی کی کوئی تمیز و تفریق نہیں۔ اور جب کسی انسان کا وجود ہی ذاتی نہیں تو پھر اس سے کسی ذاتی صفت کے نفی کرنے کا آخر سوال ہی کیا پیدا ہوتا ہے ؟ جو بھی صفت منفی ہوگی وہ عطائی ہی ہوگی۔ اور جب آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کا تو وجود مبارک ہی بذات خود عطا و بخشش خدا وندی ہے تو پھر اس میں کسی ذاتی صفت اور اس کی نفی کا سوال ہی کیا پیدا ہوتا ہے ؟ کیا کبھی آپ ﷺ نے اپنے وجود مبارک کی بھی اس معنیٰ کے اعتبار سے نفی فرمائی ہے جو کہ اہل بدعت اپنی تحریفانہ ذہنیت سے لیتے ہیں۔ نہیں اور ہرگز نہیں۔ تو پھر عقیدئہ علم غیب کی نفی میں اس تاویل کی آخر کیا گنجائش ہوسکتی ہے ؟ نیز جس طرح اہل بدعت ۔ { لَا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰاتِ وَالاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ } ۔ جیسی صاف اور صریح آیات کا یہ مطلب لیتے اور اس طرح کی تاویل و تحریف کرتے ہیں اگر اسی طرح کی منطق کوئی شخص کلمہ توحید " لَا اِلٰہَ اِلَّا اللَّہُ " میں چلانے لگے، اور وہ انہی کی اس زبان و منطق میں یوں کہنے لگے کہ کلمہ طیبہ میں تو دراصل ذاتی الوہیت کی نفی ہے نہ کہ عطائی کی۔ اور اس بنا پر وہ عطائی الوہیت کا دعویٰ کرنے لگے کہ " لا " اور " اِلَّا " کے جو کلمات نفی و حصر کے مذکورہ بالا آیت کریمہ کے اندر موجود ہیں، بعینھا وہی کلمہ طیبہ میں بھی ہیں۔ تو اس منطق کے موجد یہ اہل بدعت ایسے شخص کی اس کفریہ منطق کا آخر کیا جواب دیں گے ؟ اور پھر وجود اور علم ہی پر کیا موقوف ہے، آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کی تو دراصل ہر چیز ہی عطائی تھی۔ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت، وحی و کلام، فضل و کمال، سب کچھ عطا ہی عطا تھا۔ مگر ان میں سے کسی کی بھی کبھی آپ ﷺ نے نفی نہیں فرمائی۔ پس معلوم ہوا کہ علم غیب کی نفی ذاتی ہونے کے اعتبار سے نہیں بلکہ مطلقاً ہے۔ اور اہل بدعت کی یہ منطق بےکار سخن سازی اور مغالطہ آمیزی کے سوا کچھ نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی طرح اس موقع پر ان کے ایک اور صاحب کا اپنے تفسیری [ بلکہ تحریفی ] حواشی میں یہ کہنا کہ اس میں علم غیب کی نفی نہیں بلکہ دعوائے علم غیب کی نفی ہے بھی محض ایک مغالطہ آمیزی ہے کہ اول تو یہاں دعوے کا کوئی لفظ سرے سے ہے ہی نہیں۔ بلکہ سیدھے، سادے اور صاف وصریح لفظوں میں فرمایا گیا ہے ۔ { لَا اَعْلَمُ الْغَیْبَ } ۔ کہ " میں غیب نہیں جانتا "۔ دوسرے یہ بات سرے سے پیغمبر کی شان اقدس کے لائق ہی نہیں کہ حقیقت کچھ اور ہو اور پیغمبر بتائے کچھ اور۔ بلکہ اس کا تو کام ہی پیروی کرنا ہوتا ہے اس وحی کی جو ان کے پاس ان کے رب کی جانب سے آتی ہے اور بس۔ جیسا کہ ِ ارشاد قرآنی ہے ۔ { اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰیٓ اِلَیَّ } ۔ " میرا کام تو صرف اتباع اور پیروی کرنا ہے اس وحی کی جو میری طرف بھیجی جاتی ہے "۔ اور پیغمبر جو کچھ فرماتا ہے وہ محض وحی ہوتی ہے۔ اس میں اپنی خواہش نفس کی کوئی بات ہوتی ہی نہیں۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی، اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی } ۔ سو پیغمبر جو کچھ فرماتا ہے وہ امر واقع اور حقیقت نفس الامری کے اعتبار سے ہی ہوتا ہے نہ کہ محض کسر نفسی اور ظاہر کے اعتبار سے۔ یا دعویٰ اور ادعاء کرنے کے طور پر۔ جیسا کہ اہل بدعت کے تحریف پسندوں کا کہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہر زیغ و ضلال سے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
78 پیغمبر کوئی فرشتہ یا نوری مخلوق نہیں ہوتا : سو صاف اور صریح طور پر پیغمبر کی زبان سے اعلان کروایا گیا کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میں کوئی فرشتہ ہوں ۔ { وَلَا اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَک } ۔ جو تم مجھ پر یہ اعتراض کرو کہ یہ کیسا پیغمبر ہے جو کھاتا پیتا اور بال بچوں والا ہے وغیرہ۔ میں نے آخر ایسی کسی ملکیت اور اپنے نوری ہونے کا ایسا کوئی دعویٰ کیا ہی کب ہے جو تم مجھے اس طرح کا الزام دے سکو ؟ یا مجھ پر ایسے اعتراضات کرسکو ؟ سو اس سے اہل بدعت کے عقیدئہ نور کی جڑ بھی کٹ جاتی ہے ۔ والحمد للہ ۔ سو پیغمبر کو الوہیت اور ملکیت دونوں کے ادعاء سے براءت کے اعلان کا حکم فرمایا گیا کہ نہ میں نے کبھی الوہیت کے کسی شائبے تک کا اپنے لیے کوئی دعویٰ کیا اور نہ کسی ملکیت کا۔ بلکہ میں تو صرف انسان ہوں جس کو اللہ تعالیٰ نے شرف رسالت سے مشرف فرمایا ہے۔ (محاسن التاویل اور مراغی وغیرہ) ۔ میرا کام اور میری شان تو صرف تبلیغِ حق ہے اور اس وحی کی پیروی کرنا جو میرے رب نے میری طرف بھیجی ہے اور بس۔ کوئی خدائی صفت نہ میرے اندر پائے جانے کا کوئی سوال ہے اور نہ ہی میں نے اس طرح کا کبھی کوئی دعویٰ کیا۔ اور بشر کی ہدایت کے لیے بشر ہی کا رسول ہونا تقاضائے عقل ونقل ہے۔
79 پیغمبر کا اصل کام وحی خداوندی کی اتباع ہوتا ہے : سو صاف وصریح طور پر اور حصر و قصر کے کلمات کے ساتھ پیغمبر سے اس حقیقت کا اظہار واعلان کرایا گیا کہ میرا کام تو صرف اتباع اور پیروی کرنا ہے اس وحی کی جو میری طرف بھیجی جاتی ہے ۔ { اِنْ اَتَّبِعُ الا مَا یُوْحٰی اِلَیَّ } ۔ یعنی اس وحی کی پیروی جو میری طرف بھیجی جاتی ہے میرے رب کی طرف سے۔ پس نہ میں اپنی طرف سے کچھ کہتا ہوں اور نہ ہی مجھے اس بات کا کوئی اختیار ہے کہ اپنی طرف سے کچھ کہوں۔ بلکہ میرا کام تو صرف اتباع اور پیروی کرنا ہے اس پیغام حق کی جو کہ میرے رب کی جانب سے بذریعہ وحی مجھے ملتا ہے اور بس۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کبھی تواضع اور انکساری کی بنا پر بھی ایسی کوئی بات نہیں کہتا جو کہ حق اور حقیقت کے خلاف ہو۔ پس اہل بدعت کا یہ کہنا کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے ۔ { اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ } ۔ جیسے ارشادات محض بطور تواضع فرمائے تھے وغیرہ محض ان لوگوں کی اپنی خانہ ساز منطق ہے جس کی نہ کوئی اصل ہے نہ اساس ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
80 نور حق و ہدایت سے محروم انسان اندھا ہوتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا باہم برابر ہوسکتے ہیں اندھا اور آنکھوں والا ؟۔ سو جس نے نور حق و ہدایت سے اپنی آنکھوں کو بند کر رکھا ہو وہ اندھا ہے اگرچہ دنیاوی اعتبار سے اس کی نگاہ کتنی ہی تیزکیوں نہ ہو۔ اس کے نتیجے میں وہ توحید و شرک، حق و باطل اور صفات خالق و مخلوق کے درمیان فرق نہیں کرسکتا۔ اور اس طرح وہ اندھیروں میں ڈوبا رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جس طرح ظاہری اور حسی راستہ دیکھنے کے لئے دو روشنیوں کی ضرورت ہوتی ہے، یعنی ایک آنکھوں کی روشنی جو انسان کے اپنے وجود کے اندر ہوتی ہے اور ایک باہر کی روشنی جیسے سورج چاند اور بجلی وغیرہ کی روشنی۔ اگر ان دونوں میں سے ایک بھی مفقود ہو تو انسان ظاہری اور حسی راستہ نہیں دیکھ سکتا۔ اور اس کے نشیب و فراز سے واقف و آگاہ نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح حق و ہدایت کا معنوی راستہ دیکھنے کے لئے بھی اس کو دو روشنیوں کی ضرورت ہے۔ ایک عقل و خرد کی وہ معنوی روشنی جو انسان کے اپنے وجود کے اندر ہوتی ہے اور دوسری وحی کی وہ عظیم الشان روشنی جو اس کو حضرات انبیاء و رسل کے ذریعے ملتی ہے۔ سو جو لوگ نور وحی سے محروم ہوتے ہیں اور وہ اس سے منہ موڑتے ہیں وہ اندھے اور اندھیروں میں بھٹکنے والے لوگ ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
81 منکرین کے قلب و ضمیر پر ایک دستک : سو منکرین کے قلب و ضمیر پر دستک کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ اتنا بھی نہیں سمجھتے ؟۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نور حق و ہدایت کی دولت سے بہرہ ور انسان ہی آنکھوں والا ہوتا ہے۔ جو اس فرق و امتیاز کو جانتا مانتا ہے۔ یعنی جس طرح اندھا اور دیکھنے والا آپس میں برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح حق و باطل کے یہ دونوں علمبردار بھی آپس میں کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ نہ حال کے اعتبار سے اور نہ انجام و مآل کے اعتبار سے۔ کہ نور حق و ہدایت کی دولت سے بہرہ مند انسان آنکھوں والا اور صحیح فکر و بصیرت رکھنے والا سلیم الفطرت انسان ہوتا ہے۔ جبکہ اس سے محروم انسان اندھا، بہرہ اور اوندھا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ کیا اندھے اور بینا باہم برابر ہوسکتے ہیں ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر مومن و کافر اور موَحّد و مشرک باہم برابر کس طرح ہوسکتے ہیں ؟ سو مومن و موحد آنکھیں کھول کر راہ حق و صواب پر چلتا ہے، جبکہ کافر و مشرک نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر اندھا اور اوندھا بن کر اپنے منہ کے بل چلتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { اَفَمَنْ یََّمْشِیْ مُکِبًّا عَلٰی وَجِہِہٖ اَھْدیٰ اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ } ۔ (الملک :22) ۔
Ayah 6:5182 منکرین کے لیے قیامت کے روز نہ کوئی حمایتی ہوگا نہ سفارشی : سو قیامت کے روز منکرین کے لیے اللہ کے اذن کے بغیر نہ کوئی حمایتی ہوگا نہ سفارشی۔ جو بغیر اس کے اذن کے ان کے حق میں کوئی سفارش کرسکے۔ اور ان کو ان کے برے انجام سے بچا سکے۔ سو آخرت کے حساب اور وہاں کے اس یوم عظیم کی بازپرس کا احساس و یقین ہی انسان کی اصلاح کیلئے اصل اساس و بنیاد ہے کہ اس کے بغیر انسان لا ابالی اور لاپروا بن کر رہ جاتا ہے۔ اور وہ حق و ہدایت کے پیغام پر کان دھرنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔ یا کچھ جھوٹے سہاروں اور اپنے ساختہ پرداختہ بےبنیاد مفروضوں کی بنا پر لاپروا اور بےفکر ہوجاتا ہے۔ اس لیے قرآن حکیم جا بجا اور طرح طرح سے سمجھاتا اور بتاتا ہے کہ اس دن کوئی کسی کے کچھ کام نہیں آسکے گا اور معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہوگا۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { یَوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًا، وَالْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰہِ } ۔ (الانفظار : 19) ۔
83 تقویٰ و پرہیزگاری ذریعہ فوز و فلاح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ لوگوں کو خبردار کرتے رہو اس کتاب حق کے ذریعے تاکہ وہ بچ سکین یعنی تاکہ وہ بچ سکیں اپنے ہولناک انجام اور دوزخ کی دہکتی بھڑکتی اس خوفناک آگ سے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تقویٰ و پرہیزگاری ذریعہ فوز و فلاح اور خوف خداوندی دارین کی سعادت و سرخروئی کا کفیل وضامن ہے۔ پس جو بچیں گے کفر و بغاوت کی راہ اور ظلم و معصیت کی روش سے وہ اس کے نتیجہ و انجام میں بچ سکیں گے۔ دوزخ کی اس ہولناک آگ اور خوفناک عذاب سے، جو باغی و سرکش اور ظالم لوگوں کو بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی ناراضگی سے بچنے کی فکر ایسا اہم اور بنیادی مقصد ہے جو دارین کی سعادت و سرخروئی کا کفیل وضامن ہے۔ پس جو بھی تقویٰ و طہارت اور خوف و خشیت خداوندی کی اس راہ کو اپنائے گا وہ اس یوم عظیم کی گرفت و پکڑ اور اس کے عذاب الیم سے بچ سکے گا۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو۔ اور جو تقویٰ و پرہیزگاری کی اس راہ و روش سے دور و نفور اور محروم ہوگا وہ بہرحال محروم اور خائب وخاسر ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس کو اس کے مزعومہ شرکاء و شفعاء میں سے کوئی بھی اس روز کی گرفت و پکڑ سے نہیں بچا سکے گا۔ اور ان کے سب مفروضے " ہَبْائً ا مَنْثُوْرًا " ہوجائیں گے۔
Ayahs 6:52–5384 اصل چیز ایمان و اخلاص ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قدر و قیمت ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی ہے۔ اس لیے پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا۔ پس آپ ایسے بندگان صدق و صفا کو اپنی مجلس سے دور نہیں کرنا جیسا کہ پیشوایان کفر و باطل کا مطالبہ ہے کہ چونکہ ان فقراء و مساکین کے ساتھ مل بیٹھنا ہماری توہین ہے، لہذا ہمارے آنے پر ان کو اپنی مجلس سے ہٹا دیا کرو۔ تاکہ ہم آپ کے پاس بیٹھ کر وہ پیغام سن سکیں جو آپ ہمیں سنانا چاہتے ہیں۔ سو آپ ﷺ اے پیغمبر ! کہیں اپنی بےمثل رحمت و شفقت کی بنا پر ان لوگوں کی ہمدردی میں ان کی یہ بات ماننے کے لئے آمادہ نہ ہوجانا۔ اور آپ ایسے ہرگز نہیں کرنا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قدر و قیمت اس صدق و اخلاص کی ہے جس سے یہ فقراء و صعالیک مالامال ہیں۔ نہ کہ اس دنیا و دولت کی جس کا گھمنڈان سرداران قریش اور متکبر لوگوں کو ہے۔ سو اس آیت کریمہ سے جہاں دنیا دار کھڑپینچوں کی متکبرانہ ذہنیت کا پتہ چلتا ہے، وہیں یہ حقیقت بھی آشکارا ہوجاتی ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا ہے۔ بلکہ وہ ان حدود وقیود کا پوری طرح پابند ہوتا ہے جو خدا وند تعالیٰ کی طرف سے اس کے لئے مقرر کی جاتی ہیں۔ سو اس سے اہل بدعت کے اختیار کلی کے شرکیہ عقیدے کی جڑ کٹ جاتی ہے ۔ والحمد للہ تعالیٰ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے پیغمبر کو ہدایت فرمائی گئی کہ کہیں آپ ان صنا دید کفر و باطل کے کہنے میں آ کر ان صعالیک صحابہ کو اپنے سے دور نہ کرلینا جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ اور وہ اسی کی رضا کے طالب ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں جس صدق و اخلاص کی قدر و قیمت ہے وہ انہی بندگان صدق و صفا کے پاس ہے۔ جبکہ صنادید قریش اپنے کبر و غرور کے باعث ہر خیر سے محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کبرو و غرور باعث ہلاکت و محرومی اور ایمان یقین اور صدق اخلاص وسیلہ نجات اور ذریعہ فوز و فلاح ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
85 اہل کفر و باطل کی تحقیر و تذلیل کا ایک خاص اسلوب : سو یہاں پر خطاب اگرچہ بظاہر آنحضرت ۔ ﷺ ۔ سے ہے کہ وحی خداوندی کے اولین مخاطب بہرحال آپ ﷺ ہی ہیں۔ لیکن روئے سخن دراصل ان متکبر کفار و مشرکین کی طرف ہے جو آنحضرت ۔ ﷺ ۔ سے اس طرح کے ظالمانہ اور بےانصاف مطالبات کر رہے تھے۔ اور اس انداز تخاطب میں بلا غت کا یہ اہم اور بلیغ اسلوب کارفرما ہے کہ یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ ان سے براہ راست کلام کیا جائے۔ سو اس سے اہل کفر و باطل کی تحقیر و تذلیل آشکارا ہوجاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ لوگ اپنے طور پر اور اپنے زعم اور گھمنڈ میں اگرچہ بہت کچھ بنے ہوئے ہیں اور اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتے ہیں لیکن اپنے کفر و باطل کی بنا پر یہ اس قابل بھی نہیں کہ ان سے براہ راست بات کی جائے۔ کہ یہ کفر و شرک کی غلاظت کے بورے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:5488 دولت ایمان و یقین کی عظمت شان کا ایک خاص نمونہ و مظہر : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ جب آئیں آپ کے پاس وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں ہمارے آیتوں پر تو آپ [ دلجوئی اور طیب خاطر کے لیے ] ان سے یوں کہیں کہ سلام ہو تم پر۔ سبحان اللہ ۔ کیسی عظیم الشان نعمت ہے یہ ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی نعمت، جس کی بنا پر اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اپنے پیغمبر کو ان بندگان صدق و صفا کے ساتھ ملاطفت کی اس طرح تعلیم فرما رہا ہے ۔ اَللّٰہُمَّ زِدْنَا مِنْہُ وَثَبِّتْنَا عَلَیَہ ۔ سو ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی دولت دنیا جہاں کی دوسری تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ اور اس کے مقابلے میں دنیا کی دوسری تمام دولتیں اور نعمتیں ہیچ ہیں۔ بہرکیف مشرکین مکہ اور کفار قریش کے اس متکبرانہ مطالبے کے جواب میں اور اس کے علی الرغم پیغمبر کو ان فقراء مؤمنین کے ساتھ لطف و عنایت اور رحمت و شفقت کا رویہ اپنانے کے لئے ہدایت فرمائی گئی۔ کہ جب یہ لوگ آپ کے پاس آئیں اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تو آپ ان کے ساتھ لطف و کرم اور اکرام و عنایت کا برتاؤ کریں۔ اور سلامتی و رحمت کی دعا کے ساتھ ان کا خیر مقدم کریں۔ اور ان کو یہ خوشخبری سنائیں کہ اللہ تعالیٰ تم کو اپنی رحمت سے ضرور نوازیگا ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
89 ایمان و یقین کے بعد ہر حالت خیر ہی خیر بن جاتی ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت فرمانا اپنے اوپر لکھ رکھا ہے ان کے ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی بنا پر۔ چناچہ روایات میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ ایسے حضرات کو پہلے سلام کرتے اور فرماتے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے میری امت میں ایسے لوگ رکھے ہیں جن کو سلام میں پہل کرنے کا اس نے مجھے حکم دیا۔ (القرطبی وغیرہ) ۔ سو ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کے ساتھ مل کر فقر و افلاس ایک اور عظیم الشان نعمت بن جاتی ہے جس کے قرآن و سنت کی تعلیمات مقدسہ میں مختلف قسم کے اور عظیم الشان فوائد و فضائل بیان فرمائے گئے ہیں۔ جن میں سے ایک عظیم الشان فائدہ یہ ہے کہ ایسے ایماندار فقراء دوسرے مال دار اہل ایمان سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ۔ ؓ ۔ کی حدیث میں اس کی تصریح موجود ہے۔ (ترمذی، کتاب الزھد) ۔ سو ایمان و یقین ایسی عظیم الشان دولت اور بےمثال نعمت ہے کہ اس کے بعد ہر حالت خیر ہی خیر بن جاتی ہے کہ اس کے بعد دنیا ملے گی تو بھی خیر اور اگر نہیں ملے گی تو بھی خیر۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وعلی ما یحب ویرید ۔ وہو الہادی الی سواء السبیل -
90 توبہ و استغفار کا دروازہ ایک عظیم الشان دروازہ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے برائی کے ارتکاب کے بعد توبہ کرلی اور اصلاح کرلی اس فساد و بگاڑ کی جس کا ارتکاب اس نے اپنی جہالت و بد عملی کی وجہ سے کرلیا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ اس طرح کہ اس برائی کے بعداس نے ایسے نیک اعمال کئے کہ اس کا داغ دھل گیا۔ جیسا کہ نبی اکرم ۔ ﷺ ۔ نے فرمایا ۔ " اَتْبِعِ السَّیِّئَۃَ الْحَسَنَۃَ تَمْحُہُا " ۔ یعنی " برائی ہوجائے تو اس کے بعد اچھائی کرلیا کرو تاکہ وہ اس برائی کے اثر و نشان کو مٹا دے " جسکی سب سے بڑی اور اہم صورت توبہ و استغفار ہے کہ اس سے برائی کے داغ دھبے دھل جاتے ہیں۔ اور ایسے کہ سچی توبہ سے اس برائی کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے۔ سو توبہ و استغفار کا دروازہ ایک عظیم الشان دروازہ ہے جو قدرت نے اپنی رحمت و عنایت سے اپنے بندوں کیلئے کھولا ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۔ اللہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
91 اللہ تعالیٰ کی صفت بخشش و رحمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ بڑا ہی غفور و رحیم ہے۔ اتنا بڑا کہ نہ اس کی مغفرت و بخشش کا کوئی کنارہ ہے اور نہ اس کی رحمت و عنایت کی کوئی انتہاء ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس بندے کیلئے صحت و سلامتی کی راہ یہ ہے کہ وہ اپنے اس خدائے غفور و رحیم سے اپنا تعلق درست رکھے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جس نے کسی برائی کا ارتکاب کرلینے کے بعد سچی توبہ کرلی اور اپنے فساد و بگاڑ کی اصلاح کر کے اپنا معاملہ درست کرلیا اس کا کام بن گیا۔ اور اس کا معاملہ صحیح اور درست ہوگیا۔ یہاں پر یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ ایسے لوگوں کے لئے جو بشارت دی گئی ہے وہ صرف رحمت و مغفرت کی بشارت ہے۔ اس کے ساتھ کسی دنیاوی مال و جاہ کا کوئی لوث نہیں۔ سو اس سے ان بندگان صدق و صفا کے باطن کی کیفیت بھی آشکار ہوجاتی ہے کہ یہ لوگ دنیاوی سر و سامان سے محروم ہونے کے باوجود دنیا کا کوئی ارمان نہیں رکھتے تھے۔ ان کے اندر اگر طلب اور لگن تھی تو اس بات کی تھی کہ اپنے رب کی رضا و خوشنودی حاصل ہوجائے ۔ عَلِیْھِمُ الرَّحْمَۃُ وَالرِّضْوَانُ ۔ اللہ ایسے بندگان صدق و صفا کی اتباع و پیروی نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 6:5592 مجرموں کے راستے کی وضاحت کی ضرورت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح تفصیل سے بیان کرتے ہیں ہم اپنی آیتوں کو تاکہ حق کھل کر سامنے آجائے اور تاکہ واضح ہوجائے راستہ مجرم لوگوں کا۔ تاکہ جو اس سے بچنا چاہیں بچ سکیں اور اس کے نتیجے میں وہ اس برے انجام سے بچ سکیں جو کہ مجرموں کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح ہم نے دلائل کے ساتھ حق کو کھول کر بیان کردیا تاکہ حق پوری طرح واضح ہوجائے اور مجرموں کے راستے کی بھی وضاحت ہوجائے۔ کیونکہ ایک ضد کے ذکر وبیان سے دوسری ضد پہچانی جاتی ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔ وَبِضِدِّھَا تَتَبَیَّنُ الْاَشْیَائُ ۔ (المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف اس سے آیات کو کھول کر اور تفصیل سے بیان کرنے کا صلہ وثمرہ اور اس کا مآل و انجام بیان فرما دیا گیا کہ تاکہ اس طرح اہل ایمان کا راستہ بھی واضح ہوجائے اور مجرموں کا راستہ بھی۔ اس کے بعد جس کی جو مرضی۔ جونسا راستہ وہ چاہے اختیار کرلے۔ کہ یہی تقاضا ہے ابتلاء و آزمائش اور حریت اخذ و اختیار کا ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ وَھُوَ الہَادِیْ اِلٰی سَوَائِ السَّبِیْلَ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اپنی آیتوں کی اسی طرح تفصیل بیان کرتے ہیں تاکہ مجرموں کا راستہ واضح ہوجائے ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 6:5693 " غیراللّٰہ " کی پوجا کی ممانعت کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو کہ مجھے تو بہرحال روکا گیا ہے اس بات سے کہ میں ان کی بندگی کروں جن کو تم لوگ پوجتے پکارتے ہو اللہ کے سوا۔ خواہ وہ لکڑ پتھر وغیرہ کے بےجان بت ہوں یا اور کسی زندہ یا مردہ انسان کی شکل میں دوسری کوئی ایسی ہستی ہو جس سے خدائی صفات وابستہ کردی گئی ہوں کہ ۔ { مِنْ دُوْنِ اللہ } ۔ کا کلمہ عام ہے۔ جو ان سب ہی کو شامل ہے۔ اور اہل بدعت جو اس کو صرف بتوں کے ساتھ مختص قرار دے کر اپنے لئے شرک کے دروازے کھلے رکھنا چاہتے ہیں تو ان سے پوچھا جائے کہ اس تخصیص کی آخر ان کے پاس دلیل کیا ہے ؟ اور اس کی ضرورت کیا ہے ؟ اور اگر اس سے یہی مراد ہے جیسا کہ ان لوگوں کا کہنا ہے تو پھر اس کو ۔ { مِنْ دُوْنِ اللہ } ۔ کی بجائے " اَوثان " یا " اَصنام " جیسے خاص لفظوں ہی سے تعبیر کیوں نہیں فرما دیا گیا ؟ اور پھر یہ بھی واضح رہے کہ مشرکین بھی عام پتھروں کی پوجا نہیں کرتے تھے بلکہ وہ ان خاص پتھروں کی پوجا کیا کرتے تھے جن کو وہ اپنے خیال کے مطابق خاص ہستیوں کے نام پر تراشتے خراشتے تھے۔ اور پھر کہتے تھے کہ اب ان پتھروں کے اندر ان ہستیوں کی روحیں عود کر آئی ہیں جن کے نام پر یہ تراشے گئے ہیں۔ اور ان ہستیوں نے ان کے اندر حلول کرلیا ہے۔ اور اب یہ پتھر وہی کام کریں گے جو وہ ہستیاں اپنی زندگیوں میں کیا کرتی تھیں۔ لہذا ہماری ان کے آگے اور ان کی ان کے آ گے۔ تو ان کے نزدیک بھی اصل میں حاجت روا اور مشکل کشا یہ بت نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ ہستیاں ہوتی تھیں جن کا یہ لوگ ان بتوں کو مظہر اور اوتار مانتے تھے۔ سو اس وقت کے ان مشرکین کا فلسفہ بھی یہی تھا اور آج کے مشرکوں کا فلسفہ بھی یہی ہے۔ بہرکیف اس سے غیر اللہ کی پوجا و بندگی کی ممانعت صاف وصریح طور پر فرما دی گئی ہے کہ معبود برحق بہرحال ایک اور صرف ایک ہے۔ یعنی اللہ وحدہٗ لاشریک۔ اور عبادت کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ اس کے سوا کسی کے لیے بھی عبادت و بندگی کی کوئی بھی قسم کسی بھی شکل میں بجا لانا شرک ہے جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ شرک کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
94 دین کے نام سے خواہشات نفس کی پیروی کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ میں کبھی تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرسکتا۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اسلام کے سوا باقی تمام دین دراصل خواہشات نفس کی پیروی کا سامان ہیں اور بس ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ دین حق ایک اور صرف ایک ہے۔ یعنی اسلام۔ معلوم ہوا کہ دین حق اسلام کے سوا باقی جو بھی دین لوگوں نے اپنا رکھے ہیں وہ سب دراصل نفسانی خواہشات کی تکمیل کے سامان ہیں جو ان لوگوں نے طرح طرح کے ناموں سے از خود گھڑگھڑ کر اپنا رکھے ہیں اور بس۔ نہ حق و ہدایت کی وہاں کوئی رمق و روشنی ہے اور نہ ہی ان کے حامیوں اور علمبرداروں کے یہاں اس کی کوئی ضرورت اور طلب و تلاش ہے۔ عیاشیوں اور عیش پرستیوں کے مختلف سازوسامان اور طور طریقے ہیں جو نور حق و ہدایت سے محروم لوگوں اور بطون و فروج کے بندوں نے اپنا رکھے ہیں۔ اور اس کی واقعاتی شہادت کے طور پر اگر دیکھنا ہو تو وہ کچھ دیکھ لیا جائے جو کہ گرجوں، مندروں اور آستانوں وغیرہ میں ہوتا ہے کہ ھویٰ و ہوس کی تسکین اور کام و دہن کی لذتوں اور طرح طرح کی عیاشیوں اور عیش کوشیوں کے نت نئے اور قسما قسم کے سامان وہاں پر موجود ہوتے ہیں۔ اسی لئے قرآن حکیم نے دوسرے کئی مقامات کی طرح یہاں بھی ان لوگوں کی ان خرافات کو دین کی بجائے { اَہْوَاء } کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے کہ یہ دین نہیں بلکہ تمہاری اھواء و اَغراض اور خواہشات ہیں جن کی پیروی اور پوجا تم لوگ دین کے نام سے کرتے ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اپنی اس خواہش پرستی کو تم لوگوں نے دین کے نام سے اور اس کے لبادے میں اپنا رکھا ہے مگر تابہ کے ؟ آخر تم لوگوں کو اس کا پورا پورا حساب دینا اور اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا اور ایسا کہ تمہارے لیے کوئی راہ فرار ممکن نہیں ہوگی ۔ والعیاذ باللہ -
95 اتباع ہوی کا نتیجہ محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اتباع ہوی یعنی خواہشات نفس کی پیروی کا نتیجہ و انجام محرومی ہی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسی صورت میں یعنی جب کہ میں پیروی کرنے لگ جاؤں تمہاری خواہشات کی تو میں یقینا بھٹک جاؤں گاراہِ حق و ہدایت سے۔ کیونکہ تمہاری یہ رسوم وطقوم دین نہیں بلکہ دین کے نام پر خواہش پرستی کے طور طریقے اور راہ حق و صواب سے انحراف ہے۔ اور یہ احکام خداوندی کے بھی خلاف ہے اور نقل صحیح اور عقل سلیم کے بھی۔ سو اس میں ان لوگوں پر یہ تلمیح و تعریض بھی ہے کہ تم لوگ نور حق و ہدایت سے محروم اور ضلالت و گمراہی کی وادیوں میں پڑے بھٹک رہے ہو۔ سو نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر خواہشات نفس کے پیچھے لگنا محرومی ہی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لئے یہاں پر واضح طور پر اعلان کروا دیا گیا کہ ایسے نہیں ہوسکتا کہ میں تمہاری ان خواہشات کی پیروی میں لگ جاؤں۔ کیونکہ ایسی صورت میں یقینی طور پر میں راہ حق و صواب سے بھٹک جاؤنگا اور پھر کبھی راہ راست نہیں پا سکوں گا۔ اور صراط مستقیم سے انحراف اور اس سے محرومی سب سے بڑا اور نہایت ہولناک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس تمہاری ان خواہشات کی پیروی کرنا میرے لیے ممکن نہیں جن کو تم لوگ دین کے نام سے اپنائے ہوئے ہو کہ ہلاکت اور تباہی کا راستہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 6:5796 دین حق کا ہر حکم روشن دلیل پر قائم ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو کہ میں تو بہرحال ایک روشن دلیل پر قائم ہوں اپنے رب کی طرف سے۔ یعنی اس دین حق اور شریعت مقدسہ پر جس سے میرے رب نے مجھے بذریعہ وحی نوازا ہے اور جس کا ہر امر و ارشاد واضح دلیل وبرہان پر مبنی اور عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ (صفوہ، محاسن، مراغی، روح وغیرہ) ۔ اور اس سے اعراض و انحراف نور حق و ہدایت سے اعراض و انحراف اور ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس " بینہ " یعنی روشن دلیل کا سب سے بڑا مظہر و مصداق قرآن حکیم ہے جو کہ حضرت حق ۔ جل مجدہٗ ۔ کی طرف سے بذریعہ وحی عطا فرمایا گیا ہے۔ اور جس کا ہر حکم و ارشاد مبنی برحق و صداقت اور عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ پس جو لوگ اس نور حق و ہدایت سے محروم ہیں وہ راہ حق و صواب سے محروم تہ در تہ اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ خواہ وہ دنیاوی اعتبار سے کتنے ہی ہوشیار و چالاک کیوں نہ ہوں۔ اور روشن خیالی کے کتنے ہی بلند بانگ دعوے کیوں نہ کرتے ہوں۔ سو دین حق سے منہ موڑنا اپنے آپ کو اندھیروں کے حوالے کرنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
97 پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ میرے پاس اور میرے بس اور اختیار میں نہیں ہے وہ کچھ جس کے لیے تم لوگ جلدی مچاتے ہو ۔ { مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہ } ۔ یعنی وہ عذاب جس کا کہ تم لوگ مطالبہ کرتے ہو۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ان لوگوں کا یہ قول اس طرح نقل فرمایا گیا ہے ۔ { وَاِذْ قَالُوا اللّٰہُمَّ اِنْ کَانَ ہٰذَا ہُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَائِ اَوِئتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ } ۔ (الانفال : 32) سو یہ تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ تم کو کب تک مہلت ملے گی اور کب اور کس شکل میں وہ تم کو عذاب میں پکڑے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سے اہل بدعت کے مختار کل کے شرکیہ عقیدے کی صاف وصریح طور پر نفی ہوتی ہے اور یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتا کہ وہ جو چاہے کرے اور جب اور جیسا چاہے کرے۔ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی صفت و شان ہے۔ چناچہ صاف وصریح طور پر فرماتے ہیں اور اللہ کے حکم و ارشاد سے فرماتے ہیں کہ وہ عذاب جس کیلئے تم لوگ جلدی کر رہے ہو وہ میرے اختیار میں نہیں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ میں تو اپنے رب کی طرف سے ملنے والی قطعی حجت، واضح برہان اور روشن دلیل پر قائم ہوں اور اسی کو تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ اور یہ ایسی واضح بین اور قطعی شہادت ہے جس کی تکذیب کی کوئی گنجائش نہیں۔ مگر تم لوگ ہو کہ پھر بھی اس کی تکذیب کرتے ہو اور اس کو سمجھنے، ماننے اور صدق دل سے اپنانے کی بجائے مجھ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہو۔ سو یہ عذاب جس کا تم لوگ مطالبہ کرتے ہو میرے پاس نہیں بلکہ اللہ ہی کے پاس ہے۔ وہی جب چاہے گا اور جیسے چاہے گا تم لوگوں پر برپا کر دے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کے بعد تمہارے لیے سدھرنے اور بچنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ سو بڑے بدبخت ہیں وہ لوگ جو عذاب سے بچنے کی فکر کی بجائے اس کے لیے جلدی مچاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
98 حکم تو بہرحال اللہ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب میں و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ حکم تو بہرحال اللہ ہی کا ہے۔ پس وہ جب چاہے اور جو چاہے حکم دے۔ اور وہی جانتا ہے کہ تمہارے بارے میں کب اور کیا حکم صادر ہو ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو حکم اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے اور حاکم مطلق وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کا ہر حکم حکمت پر مبنی اور حق و صداقت کے عین مطابق ہوتا ہے۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کتنی مہلت دی جائے اور کس پر کب عذاب واقع کیا جائے۔ سو اس معاملے کا فیصلہ بھی اسی کے اختیار میں ہے۔ میں جو کچھ کہہ سکتا ہوں وہ صرف یہ ہے کہ اس نے ایسا فیصلہ کرنا ہے اور ضرور کرنا ہے۔ تاکہ حق و باطل کے درمیان نزاع کا فیصلہ آخری اور عملی طور پر ہوجائے اور عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور بھرپور طریقے سے پورے ہوں۔ لیکن اس کے یہاں ہر چیز کے لئے ایک وقت مقرر ہے ۔ { وَکُلُّ شَیْئٍ عِنَدَہٗ بِمِقْدَارٍ } ۔ پس تمہارے لیے خیر اسی میں ہے کہ تم کو قبول کر کے اس کے آگے جھک جاؤ۔
99 سب سے اچھا فیصلہ اللہ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی ہے سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا کہ وہ حکیم بھی ہے اور حاکم بھی۔ اور لطیف بھی اور خبیر بھی۔ اور اس کا فیصلہ بےلاگ اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہوتا ہے ۔ سبحا نہ و تعالیٰ ۔ اور اس کا علم ظاہر و باطن، حال و مآل اور ماضی و مستقبل سب پر حاوی و محیط ہے۔ اور یہ شان اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کی ممکن ہی نہیں۔ اس لیے اس جیسا صحیح صاف عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق اور بےلاگ و کھرا فیصلہ اور کسی کا ہوسکتا ہی نہیں۔ اس لیے ہم اپنا معاملہ اسی کے حوالے کرتے ہیں ۔ سو عذاب کے لئے جلدی مچانے والوں کے ساتھ وہ خود نمٹ لیگا اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق نمٹے گا اور وقت آنے پر اس کا عذاب نہ گھڑی بھر آگے ہو سکے گا نہ پیچھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ، فَاِذَا جَآئَ اَجَلُہُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقدِمُوْنَ } ۔ (الاعراف : 33) ۔ نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بالْعَذَابِ وَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ ، وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِمَّا تَعُدُّوْنَ } ۔ (الحج : 47) ۔ سو تم لوگ اس کے فیصلوں کو اپنے محدود پیمانوں کے مطابق مت دیکھو اور سوچو۔ اور اس کے لیے جلدی مت مچاؤ بلکہ اس سے بچنے کی فکر کرو کہ اس نے اپنے وقت پر بہرحال آ کر رہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 6:58100 آخری فیصلہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے : نہ کہ میرے اختیار میں۔ ورنہ اگر میرے اختیار میں ہوتا وہ کچھ جس کا تم لوگ اس قدر شدت و تکرار اور بےفکری و لاپرواہی کے ساتھ اور مذاق واستہزا کے طور پر مطالبہ کرتے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کبھی کا کردیا گیا ہوتا اور کام چکا دیا جاتا۔ کہ میں تمہارے مطالبے پر وہ عذاب فوری ہی تم پر ڈال کر تم سے چھٹکارا حاصل کرلیتا تاکہ تمہارے وجود سے اللہ کی دھرتی پاک ہوجاتی۔ اور راہ حق میں تمہاری طرف سے اٹکائے جانے والے روڑے دور ہوجاتے۔ اور میں تم کو ایک گھڑی بھی مہلت نہ دیتا ۔ کما قال ابن عباس ؓ ۔ (صفوہ، جامع، ابن کثیر، زاد المسیر وغیرہ) ۔ لیکن معاملہ میرے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ وحدہ لاشریک ہی کے اختیار میں ہے۔ وہ جب چاہے اور جیسے چاہے حکم اور فیصلہ فرمائے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ہم سب کو اسی کے حکم و فیصلہ کا انتظار کرنا چاہیئے کہ اس کے بےلاگ فیصلے سے معاملہ پوری طرح صاف ہوجائے گا۔ اور ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا نتیجہ وثمرہ مل کر رہے گا جس کا وہ مستحق ہے۔ اور وہ ظالموں کو پوری طرح جانتا ہے۔ ان کا معاملہ اور ان کے معاملے کا کوئی بھی پہلو اس سے مخفی ومستور نہیں۔ وہ ان سے وہی کرے گا جس کے یہ لوگ اپنے ظلم کی بنا پر مستحق ہیں۔ اور یہ ان ظالموں کی بدبختی کا ایک مظہر و نمونہ ہے کہ خدائے رحمٰن و رحیم تو اپنی رحمت بےپایاں کی بنا پر ان کو ڈھیل دیتا ہے اور ان کو اپنی رحمت سے نوازنا چاہتا ہے مگر یہ ہیں کہ اس کی رحمت سے فیضیاب ہونے کی بجائے اس کے عذاب کا مطالبہ کرتے اور اس کے لئے جلدی مچاتے ہیں۔ سو یہ ان کی ٹیڑھی سوچ اور الٹی کھوپڑی کا نتیجہ ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ العظیمِ-