Ayah 4:141363 اہل دنیا کے نزدیک دنیا ہی سب کچھ ہے : اس لئے ابنائے دنیا کی سب دوستیاں اور تعلقداریاں دنیائے دوں کے عارضی اور مادی فائدوں ہی کیلئے ہوتی ہیں۔ سو ایسے لوگ فتح کے موقع پر کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے۔ ؟ یعنی ضرور تھے۔ پس ہمیں بھی تمہارے ساتھ حصہ ملنا چاہیئے مال غنیمت وغیرہ میں سے۔ اور یہی حال ہوتا ہے ابنائے دنیا کا کہ ان کی سب تعلقداریاں دنیائے دوں کے عارضی اور مادی فوائد و منافع ہی کے لیے ہوتی اور اس کے گرد گھومتی ہیں۔ وہ جہاں بھی اور جیسے بھی ملیں یہ ادھر ہی ہوجاتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ حلال و حرام اور جائز و ناجائز سے ان کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ بلکہ دنیا ہی ان کا معبود اور قبلہ مقصود ہوتی ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ منافق چونکہ اسلام اور مسلمانوں کے بدخواہ ہیں اس لئے یہ ہمیشہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کہیں مسلمانوں کو کوئی افتاد پیش آئے ان کو کوئی ٹھوکر لگے اور یہ شکست کھا جائیں وغیرہ۔ اور اگر کہیں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوجائے تو یہ کہنے لگتے ہیں کہ کیا ہم بھی تمہارے ساتھ نہیں تھے ؟ یعنی ضرور تھے۔ لہٰذا فتح کے فوائد و منافع میں ہمارا بھی حصہ ہونا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ سو ایمان سے محروم ابنائے دنیا کے نزدیک یہ دنیا ہی سب کچھ ہے۔ ان کی ساری تگ و دو اسی کے لیے ہوتی ہے۔ یہ اسی کیلیے جیتے اور اسی کیلیے مرتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کج فکری اور کج روی کی ہر شکل سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
364 منافقوں کی منافقت کا ایک اور مظہر : کہ یہ لوگ مسلمانوں کی شکست کی صورت میں کافروں سے کہتے ہیں کہ کیا ہم تم لوگوں پر غالب نہ آنے لگے تھے اور کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں سے نہیں بچایا۔ مسلمانوں کو دھوکہ دے کر، اور ان کی ہمتیں پست کر کے۔ پس تمہیں حاصل ہونے والے فوائد میں ہمارا بھی حصہ ہے۔ اس لئے ہمارا حصہ ہمیں دو ۔ سو اس طرح ایسے لوگ اگرچہ اپنے طور پر بڑے ہوشیار اور چالاک بنتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہی ان کی بڑی حماقت اور محرومی ہوتی ہے کہ اس سے ایک طرف تو یہ جہاد فی سبیل اللہ کے شرف سے محروم ہو کر دنیائے دوں کے گھٹیا مفادات کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور دوسری طرف یہ اس معنوی لذت اور حقیقی عزت سے بھی محروم ہوجاتے ہیں جو مومن صادق اور مجاہد فی سبیل اللہ کو ملتی ہے۔ نیز اس طرح یہ لوگ راہ حق و صواب سے اور بھی دور اور اس سے محروم تر ہوتے جاتے ہیں اور انجام کار دوزخ کے عذاب الیم میں مبتلاء ہو کر یہ دائمی خسارے میں پڑجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ نیز ایسے لوگوں کی اس منافقت کا پول بھی جلد ہی کھل جاتا ہے جس سے ان کا کہیں بھی کوئی وزن اور اعتبار باقی نہیں رہتا۔ سو منافقت میں خسارہ ہی خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ایمان و یقین کی سچی قوت انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ مند کرتی ہے ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ جبکہ منافق کیلیے دونوں جہانوں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
365 آخری اور عملی فیصلہ قیامت کے دن ہی ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی فیصلہ فرمائے گا تم لوگوں کے درمیان قیامت کے دن کہ آخری اور عملی فیصلے کا دن وہی ہے اور اللہ کا فیصلہ عین حق اور صواب ہوتا ہے : ایسا صحیح فیصلہ جو کہ ان کے جرم نفاق کے عین مطابق ہوگا اور اس وقت ان کا یہ منافقانہ دعویٰ ایمان انکے کچھ بھی کام نہ آسکے گا۔ سو اس وحدہ لاشریک کا فیصلہ عین حق اور صواب ہوگا۔ اور یہ صرف اسی کے فیصلے کی شان ہوسکتی ہے جس میں نہ کوئی لاگ لپٹ ہوگی اور نہ ہی کسی طرح کی کوئی تسویف اور امہال و تخفیف۔ اور نہ کسی حیل و حجت اور قیل و قال کا کوئی سوال پیدا ہوگا۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر کہیں دشمن کا پلہ بھاری ہوجائے تو یہ ان کے پاس پہنچتے ہیں اور ان کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ تو ہماری تدبیر تھی کہ ہم نے تم کو مسلمانوں سے محفوظ رکھا۔ ہم نے تمہیں مسلمانوں سے اس طرح بچائے رکھا کہ وہ تم پر کھل کر حملہ نہ کرسکیں اور ان کا پورا دباؤ تم پر نہ پڑ سکے۔ سو اس پر ارشاد فرمایا گیا کہ آج تو یہ لوگ اپنی اس طرح کی منافقانہ سخن سازیوں سے کام چلا رہے ہیں، لیکن ایک دن ایسا آئیگا کہ سارے حالات بےنقاب ہوجائیں گے۔ اس دن اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان آخری فیصلہ فرمائے گا۔ تب تمہیں سب کچھ خود معلوم ہوجائے گا۔ سو آج اگر لوگ نہیں مانتے تو پھر اسی یوم فصل کی انتظار کرو۔
366 کافروں کیلئے اہل ایمان کے مقابلے میں کوئی راہ نہیں ہوسکتی : نہ دلیل و حجت کے اعتبار سے کہ حق اور ایمان کے مقابلے میں کفر و باطل کی کوئی دلیل ہو ہی کیا سکتی ہے ؟ اور نہ ہی کسی ایسے غلبہ و زور کے اعتبار سے کہ وہ اہل حق کا استیصال کردیں۔ اور نہ آخرت میں حکم و فیصلہ کے اعتبار سے کہ وہاں فیصلہ حق اور حقیقت کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ محض ظاہر داری اور زبانی کلامی دعو وں پر۔ اور حق و ہدایت کے نور سے یہ لوگ محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو پھر ان کیلئے ایمان والوں کے مقابلے میں کوئی راہ ممکن ہی کیسے ہوسکتی ہے ؟ جبکہ ایمان والے خوش نصیب دولت ایمان سے سرفراز اور نور ایمان سے منور ہیں۔ یہاں پر حجت اور سند کو سبیل سے تعبیر فرمایا گیا ہے کیونکہ حجت اور دلیل صحیح راہ اور غلبہ سے سرفراز کرنے والی شیء ہے۔ (محاسن وغیرہ) ۔ اور دین و ایمان سے محروم انسان صحیح راستے سے بھی محروم ہے اور دلیل و سند کی حجت و قوت سے بھی۔
Ayah 4:142367 منافقوں کی دھوکہ دہی کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک منافق لوگ دھوکہ دیتے ہیں اللہ کو۔ سو یہ لوگ دھوکہ دیتے ہیں اپنے ایمان کا زبانی دعویٰ کر کے کہ اس طرح وہ مسلمانوں کے زمرے میں شامل ہو کر اپنی جان و مال کو بچا لیتے ہیں۔ اور اس طرح یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کفر و نفاق کا کسی کو پتہ نہیں چلتا۔ سو اس طرح یہ لوگ اپنی منافقت کی دلدل میں اور پھنستے اور دھنستے چلے جاتے ہیں اور اپنی محرومی میں اور پکے ہوتے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ منافق لوگ اپنے باطن کے کفر کو چھپا کر اور زبانی کلامی اپنے ایمان کا اظہار کر کے اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں جو کہ خود ان کی اپنی حماقت و سفاہت اور خردباختگی کی دلیل ہے۔ بھلا جو ذات اقدس و اعلیٰ دلوں کے اندر چھپے ہوئے رازوں تک کو جانتی ہو، اس کو دھوکہ دینا کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
368 منافق لوگ خود دھوکے میں ہوتے ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ دھوکہ دیتے ہیں اللہ کو، حالانکہ دھوکہ اس کی طرف سے خود ان کو لگ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ پنی رحمت بےپایاں اور کرم لامتناہی سے ان کو ڈھیل دے رہا ہے تاکہ یہ لوگ اس موقع کو غنیمت جان کر سنبھل جائیں، اور اپنی اصلاح کرلیں۔ یا پھر ان کا ناسور پوری طرح پک کر آخری آپریشن کے قابل ہوجائے۔ مگر یہ منافق لوگ اس کی اس ڈھیل کو اپنی روش کے درست ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں۔ اور اس طرح یہ حق سے اور دور ہوتے چلے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں آخر کار یہ دوزخ کے سب سے نچلے گڑھے میں جا گریں گے۔ بلاغت کے مشہور قاعدے صنعت مشاکلت یعنی باہم ہم شکل ہونے کی بناء پر اس معاملہ کو خداع (دھوکہ) سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ ورنہ درحقیقت نہ یہ دھوکہ ہے، اور نہ اللہ تعالیٰ کی شان ہی دھوکہ دینا ہے۔ اس کی شان اقدس و اعلیٰ ایسے تمام تصورات سے بری و پاک اور کہیں اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو منافق لوگ اپنی منافقت اور دھوکہ دہی سے خود اپنا ہی نقصان کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا دستور یہی ہے کہ جو لوگ اس طرح کی منافقانہ چال چلتے ہیں ان کو وہ دنیا میں رسوائی سے ہمکنار کرتا ہے اور آخرت میں وہاں عذاب میں ڈالے گا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو سعادت و سرفرازی سچے پکے ایمان میں ہے ورنہ محرومی ہی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
369 منافقوں کی منافقانہ نماز ان پر ایک بوجھ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب یہ لوگ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو کسمساتے ہوتے ہیں۔ کہ نہ تو انکو ثواب کی امید ہوتی ہے اور نہ اخروی عتاب کا خوف۔ تو پھر اس کا شوق اور حقیقی رغبت انہیں آئے تو کیسے اور کہاں سے ؟ اور اس طرح ان کے یہ ظاہری عمل جو یہ لوگوں کو دکھلانے اور دھوکہ دینے کیلئے کرتے ہیں وہ ان کیلئے خواہ مخواہ کی ایک " فٹیک " بن کر رہ جاتے ہیں۔ سو یہ ان کے نفاق کی ایک نقد سزا ہے جو ایسے لوگ برابر بھگت رہے ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو منافقوں کی یہ منافقانہ نماز ان پر ایک ایسا بوجھ اور ثقل ثقیل ہوتا ہے جو ان کو اپنی منافقت کی بناء پر خواہ مخواہ اٹھانا پڑتا ہے جبکہ مومن صادق اپنے ایمان و یقین کی برکت سے اور اس کی بناء پر اپنی نماز پورے شوق و ذوق سے اور رحمت و رضائے خداوندی کے حصول اور اس سے سرفرازی کی نیت و ارادہ سے پڑھتا ہے۔ جس سے ایک طرف تو وہ اپنے لئے ذخیرہ آخرت جمع کرتا اور اس میں اضافہ کرتا جاتا ہے جو کہ اصل مقصد ہے کہ یہ رضائے خداوندی کے حصول اور اس سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور دوسری طرف اس کو اس سے سکون و اطمینان قلب کی دولت ملتی ہے۔ سو یہ ایک نقد صلہ و انعام ہے جو مومن صادق کو اپنی پنجگانہ نماز سے ملتا ہے۔ سو ایمان و یقین کی دولت انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی دولت ہے جب کہ کفر و نفاق کی نحوست دارین کی محرومی اور ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
370 منافقوں کی نماز محض دکھلاوے کیلئے : پس جہاں دکھلاوے کا موقع ہوا، وہاں کرلیا۔ اور جہاں نہ ہوا نہ کیا۔ بخلاف مومن صادق کے، کہ وہ ہمیشہ اللہ پاک کے ذکر سے رطب اللسان رہتا ہے کہ اللہ پاک کا ذکر اور اس کی یاد دلشاد ان کیلئے روحانی غذا اور ان کے دلوں کیلئے تسکین کا سامان ہوتی ہے۔ بخلاف مومن کے کہ وہ لذت ایمانی سے محرومی کے باعث محض دکھلاوے کی نماز پڑھتا ہے۔ اس لیے وہ وہی نماز پڑھے گا جس میں اس کے لیے دکھلاوے کا موقع ہو اور جہاں ایسے نہیں ہوگا وہاں وہ نماز نہیں پڑھے گا۔ اسی لیے صحیحین وغیرہ کی حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ منافقوں کیلئے سب سے زیادہ ثقیل اور بھاری نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے۔ سو منافقوں کی نماز ان کی دھوکہ بازی کا ایک نمونہ اور مثال ہے۔ وہ نماز کے لئے اٹھتے ہیں تو طبیعت پر جبر کر کے کسمساتے ہوئے محض دکھلاوے کے لئے اٹھتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:143371 منافقوں کو ان کے نفاق کی ایک نقد سزا : کہ یہ لوگ تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔ نہ ادھر کے نہ ادھر کے۔ بلکہ ٹوٹے ہوئے پتوں کی طرح ہوتے ہیں کہ کبھی ہوا کے جھونکوں نے یہاں مارا، کبھی وہاں پٹکا۔ سکون و اطمینان اور امن وقرار کی دولت سے یہ لوگ محروم اور بےقرار ہی رہتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَزِیْز الْغَفَّارِ ۔ سو یہ نفاق کی ایک فوری اور نقد سزا ہے جو منافق کو اس کے اپنے ہی اختیار کردہ نفاق کی بناء پر یہاں ملتی رہتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایمان سے محرومی امان و سکون سمیت ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ایمان و یقین کی دولت سے بہرہ مندی و سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے۔ " ذَبْذَبَ " کے معنیٰ کسی چیز کو حرکت پر حرکت دینے کے ہوتے ہیں۔ " ذَبْذَبَ الشَیْئَ " اس وقت بولتے ہیں جب کہ فضاء میں ٹنگی ہوئی کسی چیز کو حرکت دی جاتی ہے۔ ایسی چیز چونکہ لگاتار ہلتی اور حرکت کرتی رہتی ہے اس لئے اس کو اس لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ سو یہی حال ہوتا ہے منافق کا۔ وہ ہر وقت ڈانوا ڈول رہتا ہے۔ اس کو کسی بھی طرف قرار نہیں ہوتا اور " مذبذب " اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کو ہر طرف سے دھتکارا جائے۔ جس سے وہ نہ ادھر کا رہتا ہے نہ ادھر کا۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سو اس طرح منافقوں کو ان کے نفاق کی یہ ایک نقد سزا برابر ملتی رہتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
372 منافقوں کو ایک اور نقد سزا، بےاعتباری : کہ نہ ادھر ان کا کوئی اعتبار نہ ادھر۔ نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔ دو رخی کی جس پالیسی کو یہ لوگ اپنی چالاکی سمجھتے ہیں وہ الٹا ان کو اس درجہ ذلیل و بےقدر کر کے کہیں کا بھی نہیں رہنے دیتی۔ اس طرح یہ ان کے نفاق کی ایک اور سزا ہے جو ان کو یہیں ملتی رہتی ہے کہ نہ ان کا کوئی وزن ہوتا ہے نہ اعتبار کہ مومن تو یہ ہوتے نہیں لیکن ایمان کے زبانی کلامی دعوے کی بناء پر یہ کافروں کا اعتماد بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ سو منافقت کی جس روش کو یہ لوگ اپنی چالاکی اور ہوشیاری سمجھتے ہیں حقیقت میں وہ ان کی حماقت کا کھلا ثبوت ہوتی ہے، مگر منافقت کی وجہ سے ان کی مت ایسی مار دی جاتی ہے کہ ان کو یہ حقیقت سمجھ نہیں آتی اور یہ برابر اسی ڈگر پر چلتے رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
373 جس کو اللہ گمراہ کردے اس کیلئے تم کوئی راہ نہیں پاس کو گے : جس سے اس کی بگڑی بن سکے، اور یہ راہ حق و صواب کی طرف رجوع کرسکے کہ یہ طلب صادق کی دولت سے ہی محروم و بےبہرہ ہے۔ اور مزید یہ کہ اپنے سوئ اختیار کی بناء پر انہوں نے اپنے باطن کو مزید سیاہ کردیا ہے۔ تو پھر ایسوں کو راہ حق و ہدایت ملے تو کس طرح اور کیونکر ؟ سو ایسے بدبختوں کیلئے تم کوئی راہ نہیں پاس کو گے اور یہ ہمیشہ کفر و باطل کے اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسوں کی محرومی ان کی اپنی بدنیتی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ منافق کی مثال اس حیران و پریشان بکری کی سی ہے جو بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان ماری ماری پھرتی ہے۔ کبھی اس طرف جاتی ہے کبھی اس طرف۔ (مسلم : کتاب صفات المنافق) ۔ سو منافق لوگ اپنے پاؤں پر کلہاڑا خود مارتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:144374 ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بنانے کی ممانعت : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ کہیں تم لوگ کافروں کو اپنا دوست نہیں بنانا ایمان والوں کو چھوڑ کر۔ کہ تمہارے ایمان کا تقاضا یہی ہے۔ پس کہیں ایسا نہ ہو کہ اس طرح کفر کے جراثیم تمہارے اندر بھی سرایت کر جائیں اور اس کے نتیجے میں تم کفر کی راہ پر چل کر ہمیشہ کے خسارے میں پڑجاؤ ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس تم لوگ کفر اور کفار کے ایسے خطرات سے ہمیشہ محتاط رہنا { مِنْ دُوْن المؤمِنیْن } کی قید سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ کفار کو دوست اور حلیف بنانا اسی صورت میں منع ہے جب کہ یہ اہل ایمان کو چھوڑ کر اور ان کے بالمقابل ہو اور اگر یہ صورت نہ ہو تو اس میں کوئی قباحت نہیں، جیسا کہ ظاہر اور اس قید کا تقاضا ہے۔
375 کفار سے دوستی اپنے اوپر اللہ کیلئے حجت قائم کرنا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ یہ جانتے ہو کہ اس طرح کر کے تم اپنے اوپر اللہ کے لیے کھلی حجت قائم کرلو ؟ کہ دعویٰ تو کرو تم ایمان کا اور دوستی کا دم بھرو کفار سے۔ اور اس طرح اللہ کے حکم کی خلاف ورزی و نافرمانی کر کے تم اس کے عذاب کو دعوت دو ؟ استفہام انکار اور تنبیہ و تذکیر کیلئے ہے۔ یعنی تم لوگ کہیں ایسا نہیں کرلینا کہ اس کا نتیجہ تمہارے لیے بہت ہولناک ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ اگر تم نے مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کو دوست بنانے کے اس جرم کا ارتکاب کرلیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو یاد رکھو کہ یہ جرم کوئی معمولی جرم نہیں بلکہ اس کے ارتکاب کا مطلب یہ ہوگا کہ تم نے اپنے خلاف اللہ تعالیٰ کو ایک ایسی کھلی اور قطعی حجت دے دی جس کے بعد تمہارے لئے کسی عذر معذرت اور حیل و حجت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جائیگی۔ کہ اس صورت میں تمہارا کفر بالکل قطعی اور تمہارا دوزخ کا مستحق ہوجانا بالکل ظاہر اور مبرہن ہوجائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:145376 منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے گڑھے میں ہوں گے۔ جس کا عذاب سب سے زیادہ سخت ہوگا، اور یہ اس لئے کہ منافق کا پوشیدہ کفر کھلے کافر کے کفر سے زیادہ سنگین اور خطرناک ہے کہ یہ لوگ مار آستین ہیں۔ اور انہوں نے کفر کے ساتھ کذب و استہزاء کو بھی جمع کیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کا انجام سب سے برا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ " دَرک " کے معنیٰ کسی چیز کے سب سے نچلے حصے اور طبقے کے ہوتے ہیں " اَقْصٰی قعرالشیٔ " دوزخ کے سات طبقے ہوں گے۔ سب سے نچلا طبقہ منافقوں کے لئے ہوگا جس کا عذاب سب سے زیادہ سخت ہوگا (معارف وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
377 منافقوں کیلئے کوئی مددگار نہیں ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان کے لیے ہرگز کوئی [ یار و ] مددگار نہیں پا سکو گے جو ان کو عذاب سے بچا سکے یا کم از کم اس درک اسفل سے ہی نکال سکے۔ سو ان کیلئے نہ کوئی یار ہوگا نہ مددگار جو ان کے کچھ کام آسکے۔ اور ان کو ہمیشہ کیلئے عذاب بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ منافقین کے لئے سب سے آخری تنبیہ ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ کفر صریح کے مقابلے میں ان کا یہ تذبذب ایمانی بھی بہرحال کچھ قدر و قیمت رکھتا ہے۔ سو فرمایا گیا کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہوگی۔ یہ منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:146378 منافقوں کیلئے سلامتی کی راہ کی نشاندہی : سو اس ارشاد سے ان لوگوں کے لیے صحت و سلامتی کی صحیح راہ کی نشاندہی فرما دی گئی ہے کہ یہ لوگ کفار کی دوستی کو چھوڑ کر اور تذبذب و تردد ( کی دلدل) سے نکل کر۔ اللہ کے ارشادات پر صدق دل سے ایمان و یقین رکھیں۔ سو یہ ہے صحت و سلامتی کی وہ راہ جسکو اپنا کر منافق لوگ اپنا بھلا کرسکتے ہیں۔ جس میں بنیادی چیز ہے توبہ و استغفار۔ اس کے سوا کوئی بھی چیز ان کو اس ہولناک انجام سے نہیں بچا سکتی۔ اور اس توبہ کے لئے اصلاح احوال اعتصام باللہ اور اخلاص نیت و عمل اس کے بنیادی شرائط میں سے ہے۔ پس ایسے لوگوں کو چاہئے کہ اپنی منافقانہ روش کو ترک کر کے حق و ہدایت کی اس راہ کو اپنائیں۔
379 اِخلاص کو اپنانے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے خالص کرلیا اپنے دین اور فرمانبرداری کو اللہ کے لیے کہ دین کا جو بھی حکم بجا لائیں، اس میں ریا و نمود اور دکھلاوا وغیرہ چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی ہی کو پیش نظر رکھیں۔ سو صدق و اخلاص کی راہ سلامتی اور نجات کی راہ ہے۔ پس یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پورے صدق و اخلاص سے کریں۔ اپنے سابقہ رویئے کی اصلاح کریں۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مخلصانہ اطاعت کریں۔ تب یہ مسلمانوں کے ساتھ اور ان کو ملنے والے اجر وثواب میں شریک ہوسکتے ہیں۔ ورنہ ان کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
380 اہل ایمان کیلئے اجر عظیم کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب ہی اللہ نوازے گا ایمان والوں کو اجر عظیم سے کہ ان کو دنیا میں حیات طیبہ کے نقد انعام کے علاوہ آخرت کے اس ابدی جہاں میں جنت کی ان سدا بہار نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا، جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی دل پر ان کا گزر ہی ہوا { فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃ اَعْیُنٍ جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } (السجدۃ : 17) ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ اَہْلِہَا بِمَحْض مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَیَا اَکْرَمَ الاَکْرَمِیْنَ ۔ سو ایمان و یقین دارین کی سعادت و سرخروئی کا ضامن و کفیل ہے اور اس سے محرومی دارین کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس منافق لوگ اگر اپنے منافقانہ رویئے سے تائب ہو کر اپنی اصلاح کرلیں اور صدق و اخلاص کی راہ کو اپنا لیں تو وہ بھی اہل ایمان کو ملنے والے اس اجر عظیم میں شریک ہوسکتے ہیں کہ اللہ پاک کی رحمت و عنایت سب کیلیے یکساں اور ایک برابر ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ مگر اس کا کیا جائے کہ ایسے لوگ اس سے منہ موڑ کر اپنی محرومی کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:147381 ایمان صادق کی دعوت ایک نہایت بلیغ انداز میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تم لوگوں کو عذاب دے کر کیا کرے گا۔ آخر اس سے اس کی کیا غرض وابستہ ہوسکتی ہے ؟ اور اس کا اس میں کیا فائدہ ہوسکتا ہے ؟ استفہام انکاری ہے کہ کچھ بھی نہیں۔ نہ اس سے اس کی کوئی غرض وابستہ ہے اور نہ کوئی فائدہ مقصود ہے کیونکہ نہ تو اس کو تم سے کوئی نفع حاصل کرنا ہے، نہ کسی نقصان کا اس کو تم سے کوئی خطرہ ہوسکتا ہے، اور نہ اس نے تم سے کوئی بدلہ لینا ہے کہ وہ ایسے تمام تصورات سے اعلی وبالا اور ان سب چیزوں سے پاک ہے۔ تو پھر وہ تم کو عذاب دے گا کیوں ؟ اور عذاب دے کر کرے گا کیا ؟ پس اس کا کام عذاب دینا نہیں، رحمت کرنا اور بخشش فرمانا ہے۔ یہ عذاب جو تم کو ملے گا وہ تو محض تمہارے اپنے کفر ونفاق اور معصیت و نافرمانی کا طبعی تقاضا اور لازمی نتیجہ ہوگا۔ اور اگر تم ایمان اور شکر گزاری کی راہ پر قائم رہے تو اس عذاب سے اس کے کرم کے طفیل خود تم محفوظ رہو گے۔ وہ بہرحال غفور و رحیم اور ستار و کریم ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد سے گزشتہ وعدہ کریمہ کو پکا فرما دیا گیا، یعنی اگر تم لوگ صدق و اخلاص سے کام لو گے، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے سچے قدر دان اور شکر گزار بنو گے اور صدق دل سے اس پر ایمان لے آؤ گے تو وہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا وہ تو بڑا ہی مہربان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
382 اللہ بڑا ہی قدردان ہے : کہ اتنا بڑا مہربان و قدردان کہ اس کی مہربانی اور اس کی عنایت و قدردانی کی کوئی حد و انتہا ہی نہیں اور یہ اسی کی شان قدردانی ہے کہ وہ تھوڑے کئے پر بڑے اجر سے نوازتا ہے۔ محض نیکی کرنے کے ارادے پر ہی نیکی کے اجر وثواب سے سرفراز فرما دیتا ہے اور نیکی کرلینے پر ایک کا اجر دس گنا، سو گنا، سات سو گنا، اور اس سے بھی کہیں زیادہ اجر وثواب عطا فرماتا ہے۔ اور زندگی بھر کے گناہوں کی سیاہی کو وہ سچی توبہ کرنے پر ایک ہی بار دھو دیتا ہے۔ سبحان اللہ ! اس سے بڑھ کر کرم اور قدر دانی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ پھر یہ بھی تو دیکھو کہ زندگی کی اس محدود فرصت میں کئے گئے محدود و مختصر عمل کے بدلے میں وہ جنت کی ان سدا بہار نعمتوں سے نوازتا ہے جن کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہاء ۔ فَیَا لَہ مِنْ کَرَمٍ وَ یَا لَہٗ مِنْ عَطَائٍ واِحْسَانٍ فَلَہُ الْحََمْدُ وَلَہُ الشُّّّکْر۔ لیکن وہ چونکہ شاکر اور قدردان ہونے کے ساتھ ساتھ علیم وخبیر بھی ہے۔ اس لیے وہ پوری طرح جانتا ہے کہ کس کا عمل اور اس کی شکرگزاری کس درجے پر کس اجر کے لائق ہے ؟ اور کس کا باطن کیسا ہے اور اسی کے مطابق وہ نوازتا اور عنایت فرماتا ہے۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ اس شاکر وعلیم خداوند قدوس کے ساتھ اپنے ظاہر و باطن دونوں کا معاملہ صحیح اور درست رکھا جائے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو ایمان صادق اور شکر نعم وہ دو اہم خصلتیں ہیں جو انسان کو خداوند قدوس کی خصوصی عنایات کا مورد و مستحق بنادیتی ہیں کہ ان سے انسان کا باطن منور ہوتا ہے اور اس کی عقل کو جلا ملتی ہے۔ اور وہ راہ حق و ہدایت کے تقاضوں کو صحیح طور پر سمجھتا اور پورا کرتا ہے ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ جَلَّ وعَلَا شَانُہٗ-
383 اللہ سب کچھ جانتا ہے : پس اس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کس نے کیا عمل کیا ؟ کس جذبہ و نیت سے کیا ؟ کن احوال و ظروف میں کیا ؟ اور کس عمل کے اثرات کیا کچھ اور کب تک ہیں۔ ان سب امور کے پیش نظر وہ اس کی پوری اور حقیقی جزا اور بدلہ سے نوازے گا۔ اور یہ سب کچھ صرف اسی کی شان ہے۔ اس لئے کسی عمل کا صحیح اور پورا بدلہ اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کہیں سے مل ہی نہیں سکتا۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اپنے اس خالق ومالک سے اپنا معاملہ صحیح رکھے اور اس بات کو اپنا نصب العین بنائے کہ وہ علیم وخبیر خداوند قدوس مجھ سے ناراض نہ ہوجائے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جب وہ انتہائی قدر دان بھی ہے اور ہر چیز کا علم بھی رکھتا ہے تو پھر تمہیں فکر و اندیشہ کا ہے کا۔ پس جو کوئی اس کا شکر گزار اور فرمانبردار ہوگا اس کو وہ اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے نوازیگا۔ ایسے ملک کسی عذاب و سزا کا کیا سوال ؟ عذاب اور سزا تو اس کے یہاں سے صرف انہی محروم القسمت لوگوں کو ملے گی جو اس کے باغی و طاغی اور متمرد و سرکش ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس دارین کی خیر اور فوز و فلاح اسی میں ہے کہ بندہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اس کا بندہ بن کر رہے ۔ وباللّٰہ التوفیق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
Ayah 4:148384 اللہ بری بات کے ظاہر کرنے کو پسند نہیں فرماتا : کہ اس سے کئی طرح کے مفاسد جنم لیتے ہیں، بغض وعناد اور حسد و کینہ کے جذبات ابھرتے ہیں۔ برائی کے چرچے سے اس کی نشرو اشاعت ہوتی ہے اور اس کا استخفاف ظہور میں آتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ واضح رہے کہ یہاں جہر سے مراد اعلان نہیں بلکہ مطلق اظہار وبیان ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ برائی کے اظہار وبیان کو پسند نہیں فرماتا اور یہاں پر برائی کے اظہار وبیان کا ذکر اس لیے فرمایا گیا کہ یہاں کفار و منافقین کے مفاسد کا ذکر چل رہا ہے۔ اس لیے اس سیاق وسباق کی مناسبت سے برائی کے اظہار کو بطور خاص ذکر فرمایا گیا ہے ورنہ اللہ پاک برائی کے اظہار کی طرح اس کے اخفاء و اسرار کو بھی پسند نہیں فرماتا۔ چناچہ دوسرے مقام پر اس نے گناہ، زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی سے صاف اور صریح طور پر منع فرمایا ہے۔ (تفسیر المراغی) ۔ سو وہ برائی کے نہ اظہار کو پسند فرماتا ہے نہ اس کے اخفاء و اسرار کو ۔ سبحانہ تعالیٰ -
385 مظلوم کو بری بات کے اظہار کی اجازت : کہ اس کو ظلم کا اظہار کرنے کی اور اس کے خلاف آواز اٹھانے کی اجازت ہے کہ اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ مگر اس کے لئے بھی صرف اجازت ہے نہ کہ لزوم۔ پس اگر وہ صبر و برداشت سے کام لے سکے تو اس کے لئے بھی بہتر یہی ہے کہ وہ برائی کا خواہ مخواہ اظہار نہ کرے۔ اور یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا { وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ فَاِنَّ ذَالِکَ مِنْ عَزْمِ الاُمُوْرِ } (الشوریٰ : 43) ۔ نیز اس کیلئے یہ اجازت اسی صورت میں ہے کہ جبکہ اس کا اظہار وہ کسی ایسے شخص کے سامنے کرے جو اس سے اس کے ظلم کو رفع کرسکتا ہو یا اس کی کوئی نصرت و امداد کرسکتا ہو، ورنہ نہیں۔ کیونکہ اس کے بغیر یہ عبث کام ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔
386 اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے : پس وہ جانتا ہے کہ کس نے کتنی زیادتی کی اور اس کے خلاف مظلوم نے کتنی اور کس طرح آواز اٹھائی وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے اہل بدعت کے اس خود ساختہ اور من گھڑت فلسفے کی جڑ کٹ جاتی ہے جو وہ اللہ پاک کو مخلوق پر قیاس کرتے ہوئے اس طرح بگھارتے رہتے ہیں، کہ دیکھو ناں جی، جو ہم کسی ڈی سی، ایس پی وغیرہ کے پاس بھی براہ راست خود نہیں جاسکتے، اور اگر چلے بھی جائیں تو ہماری وہاں کوئی شنوائی نہیں ہوتی، جب تک کہ کسی کو وسیلہ نہ پکڑیں، اور وہ جا کر ہماری عرضی پیش نہ کرے، تو پھر ہم اللہ تعالیٰ کے یہاں براہ راست خود کیسے پہنچ سکتے ہیں ؟ ۔ وَتَعَالٰی عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا ۔ تم اس اللہ کو جو کہ سمیع وبصیر اور علیم وخبیر ہے اور جو بندے کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے، اس کو تم لوگ ڈی سی، ایس پی یا اس طرح کی کسی اور عاجزو درماندہ مخلوق پر قیاس کرتے ہو۔ اور جس پیغمبر نے اللہ کی طرف سے ہمیں یہ دین حق لا کردیا، اس پر ایمان اور اس کے اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی کتاب و سنت کی مقدس تعلیمات پر عمل کا یہ عظیم الشان واسطہ و وسیلہ کیا کافی نہیں ؟ کہ ہم ازخود اوروں کے واسطے اور وسیلے ڈھونڈیں ؟ سو اللہ پاک کو مخلوق پر قیاس کرکے اس کیلئے خود ساختہ واسطے اور وسیلے ڈھونڈنا گمراہیوں کی گمراہی ہے کہ اس سے آگے شرک کے دروازے کھلتے ہیں۔ اسی لیے قرآن حکیم میں صاف اور صریح طور پر اللہ تعالیٰ کیلئے ازخود مثالیں بیان کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ ، ارشاد ہوتا ہے { فلا تضربوا للہ الأمثال ان اللہ یعلم و انتم لا تعلمون الآیۃ (النحل :74) ۔
Ayah 4:149387 جو بھی اچھائی تم کرو گے وہ خود تمہارے لیے ہی بہتر ہوگی : کہ اس کا فائدہ خود تم ہی لوگوں کو پہنچے گا اور یہ سب کچھ خود تمہارے ہی حق میں بہتر ہوگا۔ دنیا میں بھی، اور آخرت میں بھی۔ اور اس ضمن میں تمہیں اپنے رب مہربان کی صفات عفو و کرم کو اپنے سامنے رکھنا چاہیئے کہ جب وہ پوری قدرت رکھنے کے باوجود عفو و درگزر سے کام لیتا ہے تو تمہیں تو بطریق اولیٰ اس خلق کریم کو اپنانا چاہیئے اور اس طرح جو بھی کچھ تم کرو گے اس کا صلہ اور بدلہ پاؤ گے۔ پس جو بھی کوئی نیکی تم لوگ کروگے خواہ اس کو ظاہر کر کے کرو یا چھپا کر وہ ضائع نہیں جائے گی اور اس کا صلہ وثمرہ تم لوگوں کو بہرحال ملے گا کہ وہ رب غفور و رحیم بڑا ہی قدر دان اور شکور و کریم ہے ۔ سبحانہ وتعالی -
Ayah 4:150388 رسول کا انکار اللہ کے ساتھ کفر ہے : سو جو لوگ چاہتے ہیں کہ وہ تفریق کریں اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان اور اس طرح وہ اس کے رسولوں پر ایمان نہیں لاتے، خواہ سب پر، خواہ بعض پر۔ تو وہ یقینا کفر پر ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ رسول کا انکار اور اس کے ساتھ کفر خدا کے ساتھ کفر ہے ۔ والعیاذ با اللہ ۔ پس اللہ تعالیٰ پر ایمان کا دعویٰ جب ہی صحیح اور معتبر ہوسکتا ہے جبکہ اس کے سب رسولوں پر ایمان لایا جائے۔ پس جو لوگ اللہ کے رسولوں پر ایمان نہیں رکھتے انکے ایمان کا کوئی اعتبار نہیں خواہ سب پر ایمان نہ لائیں، جیسا کہ دور حاضر کے بہت سے ملحدین کا کہنا اور ماننا ہے کہ ان لوگوں کے نزدیک رسول جو کچھ کہتے ہیں وہ اللہ کی طرف سے نہیں بلکہ ان کی طرف سے ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یا رسولوں میں سے بعض کو ماننا اور بعض کو نہ ماننا جیسا کہ یہود حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ کو نہیں مانتے اور نصاریٰ حضرت محمد ﷺ کو نہیں مانتے۔ سو ایسوں کا ایمان باللہ بھی معتبر اور قابل قبول نہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ ایمان باللہ وہی معتبر ہے جو اللہ کے سب رسولوں پر ایمان کے ساتھ ہو۔
389 کفر و اسلام کے بیچ کا راستہ بھی کفر ہی کا راستہ ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ایسے لوگ چاہتے ہیں کہ اپنی مرضی کے مطابق جس کو چاہا مان لیا اور جس کو چاہا نہ مانا، تو بات حق کی نہ ہوئی بلکہ ان کی اپنی مرضی اور خواہش کی ہوئی، اور یہ اتباع ھدیٰ نہیں اتباع ھویٰ ہے، جو حضرت حق جل مجدہ کے یہاں قابل قبول نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو رسولوں میں سے کسی کو ماننا اور کسی کو نہ ماننا کفر ہے کہ پیغمبر سب ہی اللہ کے فرستادہ ہوتے ہیں، اور ان سب ہی پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے اور ان میں سے کسی ایک کا انکار سب کا انکار اور یہ اللہ کا بھی انکار ہے۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سو جو لوگ رسول کا انکار کرنے کے باوجود اللہ پر ایمان کا دعوی کرتے ہیں وہ سراسر دھوکے میں ہیں۔ پس کفر واسلام کے بیچ کی راہ اپنانے والے بھی کفر پر ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:151390 کسی بھی رسول کا انکار کفر ہے : سو رسولوں کا انکار کرنے والے ایسے لوگ پکے کافر ہیں۔ اور جس ایمان کے یہ دعویدار ہیں وہ معتبر نہیں۔ کیونکہ وہ شرعی ایمان نہیں کہ شرعی ایمان کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے سب ہی رسولوں پر سچا پکا ایمان لایا جائے۔ سو کسی بھی رسول کا انکار کفر ہے۔ اور ایسے لوگ جو اپنے زعم اور گھمنڈ کے مطابق بعض رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے آپ کو جو چاہیں سمجھیں مگر وہ پکے کافر ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
391 کافروں کیلئے رسواء کن عذاب : تاکہ پیغمبروں کے ساتھ کفر کر کے انہوں نے توہینِ حق کے جس سنگین جرم کا ارتکاب کیا تھا اس کا ان کو پورا بدلہ مل سکے ۔ فَاِنَّ الْجَزَائَ مِنْ جِنْسِ الْعَمَلِ ۔ کافروں کیلئے عذاب مہین کی اس تصریح سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ایسا عذاب صرف کافروں کیلئے ہے، جبکہ مومنوں کو ملنے والے اس عذاب کی نوعیت اہانت و تذلیل کی نہیں بلکہ تزکیہ و تطہیر کی ہوگی ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 4:152392 سچے ایمانداروں کی نشاندہی : پس جن لوگوں نے سب رسولوں پر ایمان لایا اور انہوں نے ایسا نہیں کیا کہ کسی رسول پر ایمان لایا اور کسی پر نہ لایا ہو، بلکہ انہوں نے بلا تفریق و استثناء سب کو مانا اور وہ ان سب پر ایمان لائے، اور یہی شان ہے امت محمدیہ کے ایمانداروں کی، کہ وہ سب ہی انبیائے کرام پر ایمان رکھتے ہیں۔ سو یہی خوش نصیب اصل مصداق ہیں اس آیت کریمہ کے۔ اور یہی مستحق ہیں اس آیت کریمہ میں وارد اس بشارت عظیمہ کے۔ اور یہی ہیں سچے پکے ایماندار اور مخلص مومن جنہوں نے اتباع ھوی کی بجائے اتباع ھدی کی راہ کو اپنایا جو کہ عقل و نقل اور فطرت سلیمہ کے تقاضوں کے عین مطابق حق و ہدایت کی راہ ہے۔ انہی کو اللہ تعالیٰ ان کے ان عظیم الشان اجر وثواب سے نوازے گا جس کے یہ اپنے ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی بنا پر مستحق ہوں گے ۔ والحمد للہ رب العالمین -
393 سچے ایمانداروں کیلئے ان کے اجر کا وعدہ : سو ایسوں کو اللہ تعالیٰ ان کے ان اجور سے نوازے گا جن کے وہ اللہ پاک کے فضل و کرم سے، اپنے سچے عقیدہ و ایمان اور عمل و کردار کی بناء پر اہل اور مستحق ہوں گے اور جن کے درجات و مراتب کو اللہ ہی جانتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اسی کے مطابق وہ انکو نوازے گا ان کے صدق و اخلاص کی بناء پر۔ یہاں پر ارشاد ربانی کا یہ فرق بھی ملاحظہ ہو کہ ان کافروں کے بارے میں فرمایا گیا، ایسے لوگ پکے کافر ہیں لیکن ان مومنوں کے بارے میں ایسا ارشاد نہیں فرمایا گیا تاکہ کوئی اس دھوکے میں نہ پڑجائے کہ صرف ماننا ہی کافی ہے اور اس طرح عمل سے عاری ہوکروہ کہیں خسارے میں نہ پڑجائے۔ سو کمال ایمان جب ہی مستحق ہوسکتا ہے جبکہ ایمان کے ساتھ عمل صالح بھی پایا جائے۔ جیسا کہ سورة انفال کے شروع میں آیت نمبر 4 میں " انما " کے کلمہ حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا ہے۔ چناچہ وہاں ایمان کے بعد اعمال صالحہ کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اس کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا۔ (المراغی) کہ ایسے ہی لوگ ہیں پکے اور سچے مومن۔
394 اللہ بڑا ہی بخشنہار انتہائی مہربان ہے : پس بشری تقاضوں کے سبب سرزد ہونے والی ان کی چھوٹی موٹی خطاؤں اور تقصیرات کو وہ اپنی رحمت و عنایت سے معاف فرما دے گا، کہ اس کی بخشش اور مہربانی کی وسعتیں ناپیدا کنار ہیں ۔ تبارک و تعالیٰ ۔ پس جن کا ایمان سچا ہو اور وہ اپنے عمل و کردار میں مخلص ہوں اور انہوں نے اپنے ایمان و یقین کو شرک اور شر کے شوائب سے محفوظ رکھا ہو ان کے چھوٹے موٹے گناہوں کو وہ اپنی رحمت و عنایت سے معاف فرما دے گا کہ وہ بڑا ہی بخشنہار اور انتہائی مہربان ہے۔ اور ایسے لوگوں کا رویہ باغیانہ اور سرکشانہ نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 4:153395 اہل کتاب کا ایک بیہودہ مطالبہ : جیسا کہ یہود کے ایک گروہ نے آنحضرت ﷺ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر آپ سچے ہیں تو یہ کر کے دکھائیں کہ ہمارے نام آسمان سے مکتوب آجائیں جس میں یہ اور یہ باتیں لکھی ہوں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو فرمایا گیا کہ ان بدبختوں کی طرف سے یہ کوئی نئی بات نہیں، بلکہ اس سے پہلے یہ لوگ حضرت موسیٰ سے اس سے بھی کہیں بڑا مطالبہ کرچکے ہیں، کیونکہ کتاب کا اس طرح آسمان سے اترنا فی حد ذاتہ ممکن تو ہے، لیکن اللہ پاک کا عیاناً و جہراً بلا کسی حجاب کے اس دنیا میں دیکھنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ (معارف ازکاندھلوی) تو جنہوں نے اپنے پیغمبر سے اس طرح کا ناممکن سوال کردیا ان کا آپ سے اس طرح کا سوال کردینا اے پیغمبر نہ کوئی اچھنبے کی بات ہے اور نہ اس سے غمگین و افسردہ ہونے کی ضرورت ہے۔
396 یہود کی ان کے بیہودہ مطالبے پر سزا : جس سے اپنے کئے کی پاداش میں وہ سب کے سب مرگئے۔ پھر اللہ پاک نے حضرت موسیٰ کی دعاء سے ان کو دوبارہ زندگی بخش دی۔ بہرکیف ان کو ان کی اس گستاخی پر بجلی کے کڑکے نے فوراً آپکڑا کہ انہوں نے حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کو مخلوق پر قیاس کرکے اس کو ان ناسوتی آنکھوں اور قاصر نگاہوں سے دیکھنے کا مطالبہ کیا، مگر ان لوگوں کی آنکھیں پھر نہیں کھلیں اور بچھڑے کی پوجا کے جس ظلم کا ارتکاب انہوں نے کیا وہ اس سے کہیں بڑھ کر تھا۔ سو انسان پر جب بدبختی غالب آجاتی ہے اور اس کی مت مار دی جات ہے تو اس کا حال ایسا ہی ہوجاتا ہے اور وہ اسی طرح ذلت و خواری کے ہولناک گڑھے میں جا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
397 اہل کتاب کی ایک اور بڑی گمراہی : کہ انہوں نے خود ساختہ اور مصنوعی بچھڑے کو معبود بنا ڈالا جو کہ سب سے بڑھ کر جرم و گناہ ہے کیونکہ روئیت باری عز اسمہ کے سوال سے اول تو کوئی شرک لازم نہیں آتا، اور دوسرے یہ کہ دنیا میں یہ اگرچہ ناممکن ہے، مگر آخرت میں تو یہ بات ممکن ہوگی۔ اور اہل جنت کو وہاں کی سب سے بڑی نعمت کے طور پر اس سے نوازا جائے گا ۔ نَسْأَلُکَ اَللّٰہُمَّ اَنْ تُشَرِّفَنَا بِہَا ۔ مگر بچھڑے کی پوجا تو شرک ہے جو بہرحال حرام اور ممنوع ہے۔ اور پھر پوجا بھی جانور کی، اور وہ بھی بچھڑے جیسے جانور کی، جو کہ حماقت اور بلادت میں ضرب المثل ہے۔ اور پھر بچھڑا بھی وہ جو کہ حقیقی نہیں، ان کا اپنا بنایا ہوا اور خود ساختہ و بےحقیقت بچھڑا تھا۔ سو یہ انسان کی کس قدر تذلیل اور توہین و تحقیر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر اس کے باوجود بنی اسرائیل نے اس ظلم کا ارتکاب کیا اور انسان اور نبیوں کی اولاد ہونے کے باوجود ان لوگوں نے اس مصنوعی بچھڑے کی پوجا کے ظلم کا ارتکاب کیا، جو کہ ظلم عظیم اور ہلاکت دارین کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ -
398 بنی اسرائیل کے جرم سنگین کا ایک اور پہلو : کہ انہوں نے اس کا ارتکاب اس کے بعد کیا جبکہ ان کے پاس کھلی نشانیاں آچکی تھیں یعنی حق و صداقت کو واضح کرنے والی نشانیاں، جس کے بعد کوئی اشتباہ باقی نہیں رہ جاتا۔ سو اس کے باوجود بچھڑے کی پوجا و پرستش کا یہ جرم اور بھی زیادہ سنگین ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر بنی اسرائیل نے اس کے باوجود شرک کے اس سنگین اور ہولناک جرم کا ارتکاب کیا جس سے انکے اس جرم کی سنگینی اور بھی کہیں زیادہ ہوجاتی ہے کیونکہ اس کی بعد اس جرم کا ارتکاب ایسے ہوجاتا ہے جیسے کوئی آنکھیں رکھنے کے باوجود اندھا بن جائے اور روز روشن کی کھلی روشنی میں گہرے کھڈ میں جا گرے ۔ والعیاذ باللہ -
399 موسیٰ کو کھلے غلبہ سے نوازنے کا ذکر : ان دلائل قاہرہ سے نواز کر جن کے سامنے فرعون بھی عاجز آگیا، اس میں آنحضرت ﷺ کی مدد و نصرت کی طرف بھی اشارہ ہے، کہ جس طرح ہم نے موسیٰ کو اپنی مدد سے نوازا، اسی طرح آپ کو بھی نوازیں گے۔ پس آپ اپنی قوم کے سرکشوں کی اس سرکشی سے دل برداشتہ نہ ہوں، جس سے آج آپ کو سابقہ پیش آ رہا ہے کہ غلبہ آپ ہی کو ملے گا کہ راہ حق پر بہرحال آپ ہی ہیں اور غلبہ بہرحال حق ہی کا ہوتا ہے۔
Ayah 4:154400 بنی اسرائیل پر رفع طور کا ذکر : جب انہوں نے احکام تورات پر عمل کرنے سے انکار کردیا، تو کوہ طور کو ان کے سروں پر اٹھا کر ان سے اس طرح عہد لیا گیا (معارف وغیرہ) ۔ سو یہ دین میں داخل ہونے کیلئے جبر نہیں تھا بلکہ یہ دین کے احکام پر عمل پیرا ہونے کیلئے تھا۔ اور آپ کے ساتھ آپکے رب کی رحمت و عنایت اور تائید وتقویت شامل حال ہے۔
401 بنی اسرائیل سے عہد اور اس کی نوعیت : یعنی یہ عہد لینے کیلئے کہ تم نے جو تورات پر اپنے ارادہ و اختیار سے ایمان لایا تھا، اس کے مطابق اس کے احکام پر عمل کرو جو کہ تمہارے دین کا تقاضا ہے۔ پس کوہ طور کا ان پر اٹھایا جانا دین میں داخل کرنے کے لئے جبر نہ تھا کہ { لا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنَ } " دین میں کوئی جبر نہیں " بلکہ یہ اپنی رضا ورغبت سے قبول کردہ دین کے احکام پر عمل درآمد کا معاملہ تھا اور اس کے لئے اجبا رو اکراہ نہ صرف جائز بلکہ عقل و نقل کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ سو دین حق میں داخل ہونے کیلئے تو یقینا کسی پر کوئی جبر واکراہ نہیں، لیکن اپنے ارادہ و اختیار سے دین میں داخل ہونے کے بعد اس پر عمل کرنا ایک طبعی اور فطری تقاضا ہے، جسکے لئے جبرو اکراہ بہرحال درست ہے۔
402 سجداً سے مراد : یعنی سجداً کا لفظ یہاں پر اپنے مشہور و معروف معنی میں نہیں، کہ اس حال میں تو دروازے میں داخلہ متحقق ہونا ہی متعذر ہے، بلکہ اس سے مراد عاجزی و تواضع کے ساتھ داخل ہونا ہے جو کہ تقاضا ہے شان عبدیت اور اظہار تشکر کا (المراغی، المحاسن، الصفوۃ، وغیرہ) ۔ البتہ دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ حال مقدرہ ہو یعنی تمہارے لیے یہ مقدر کردیا گیا کہ تم اس شہر میں داخل ہونے کے بعد اپنے خالق ومالک کے حضور سجدہ ریز ہوجاؤ۔ مقصود بہرحال اظہار تشکر اور امتنان ہے، اس خالق ومالک کیلیے جس نے ان نعمتوں سے نوازا ہے۔ سبحانہ وتعالی۔
403 بنی اسرائیل کی عبادت کے دن میں حد سے تجاوز کرنے کی ممانعت : یعنی ہفتے کے دن مچھلیوں کا شکار کرنے کے بارے میں کہ اس دن کو تم لوگوں نے خود اپنے ارادہ و اختیار سے عبادت کیلئے مقرر کیا۔ اس لیے اس کے تقدس کی خلاف ورزی کا ارتکاب نہیں کرنا۔ اور اس کے تقدس کا لحاظ کرنا اور حدود کی پامالی سے بچنا خود تمہارے دین و ایمان عہد و پیمان اور قول وقرار کا تقاضا ہے۔
Ayahs 4:155–156404 قتل انبیاء سراسر ظلم اور ناحق فعل : یعنی سراسر ظلم کے ساتھ، اور ناحق طور پر۔ عام طور پر مترجمین حضرات یہاں ترجمہ " ناحق " یا اسی قبیل کے دوسرے الفاظ سے کرتے ہیں۔ حالانکہ " ناحق " ترجمہ ہے " بِغَیْرِ الْحََقِّ " کا نہ کہ " بِغَیْرِ حََقّ " کا۔ اور عربیت کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ اور جو زور " بِغَیْرِ حََقٍّ " میں ہے وہ " بِغَیْرِ الْحََقِّ " میں نہیں ہے۔ ہم نے اپنے ترجمہ میں اسی زور کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔ وَالْحَمْدُ للّٰہِ رَبِّ الْعَلٰمِیْنَ ۔ بہرکیف حضرات انبیائے کرام کو قتل کرنا سراسر ظلم اور بڑا ہی ناروا و ناحق فعل ہے۔ اس لیے کہ یہ پاکیزہ ہستیاں اللہ تعالیٰ کی نمائندہ اور ہدایت و نور کے مینار کی حیثیت رکھنے والی بڑی ہی مبارک ہستیاں ہوتی ہیں۔ اور ان کے وجود با جود سے خلق خدا کو حق و ہدایت کی وہ روشنی ملتی ہے جس سے دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہیں روشن ہوتی ہیں ۔ علیہم افضل الصلوات واتم التسلیمات ۔
405 " غلف " کا معنی و مطلب ؟ : سو ان لوگوں کا کہنا ہے ہمارے دل پردے میں ہیں لہذا آپ کی بات (اے محمد ! ) ان میں اثر نہیں کرسکتی، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا { وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْ اَکِنَّۃٍ مِّمَا تَدْعُوْنَآ اِلَیْہِ وَفِیْ اٰذانِنَا وَقَرٌ } الاٰیۃ (حمٓ السّجدۃ۔ 5) یہ مطلب اس وقت ہوگا جبکہ " غلف " کو اغلف کی جمع مانا جائے، جیسے " حمر " جمع ہے احمر کی وغیرہ۔ اور اگر اسے غلاف کی جمع قرار دیا جائے جیسے کتاب کی جمع کتب ہے، تو اس وقت معنیٰ ہوں گے کہ ہمارے دل علم و حکمت سے لبریز اور اس کے برتن و خزانہ ہیں۔ اس لئے ہمیں آپ کی بات کی کوئی ضرورت نہیں، جو علامت ہے ان کے عجب و استکبار کی۔ اور جن لوگوں کے دماغوں میں عجب اور استکبار کی ہوا اس قدر بھری ہو، ان سے قبول حق و ہدایت کی کوئی امید کس طرح کی جاسکتی ہے ؟ سو کبر و غرور محرومی کا ایک بڑا اور بنیادی سبب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔
406 ایمان قلیل سے مراد : پس یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے مگر بہت تھوڑا جو کہ معتبر اور قابل قبول نہیں کہ ایمان تجزیہ و تقسیم کے لائق نہیں کہ کچھ امور کو مانا اور تسلیم کیا جائے اور کچھ کا انکار کیا جائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان میں سے تھوڑے سے لوگ ایمان لائیں گے اکثریت اس سے محروم ہی رہے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہاں سے بھی اسی حقیقت کی تاکید ہو رہی ہے جو مختلف مقامات پر ذکر وبیان ہوچکی ہے کہ اکثریت ہمیشہ بےایمانوں اور غلط کاروں ہی کی رہی ہے۔ لہذا عوام کی اکثریت کی تائید کو حق کی علامت و نشانی نہیں قرار دیا جاسکتا۔
Ayah 4:157407 حضرت مریم پر بہتان بازی کا جرم عظیم : کہ ان بدبختوں نے ان پر بدکاری کا الزام لگایا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ظاہر ہے کہ حضرت مریم صدیقہ پر تہمت لگانے سے بڑھ کر جرم عظیم اور کیا ہوسکتا ہے ؟ اسی لیے یہاں پر یہود بےبہبود کے اس جرم کو علیحدہ کرکے مستقل جرم کے طور پر ذکر فرمایا گیا ہے، حالانکہ کفر کے ضمن میں اس کا بیان بھی ضمنی طور پر ہوگیا تھا۔ سو اس سے اس جرم عظیم کی شدت اور زیادہ ہوجاتی ہے اور نبی اکرم ۔ ﷺ ۔ نے پاکدامن ایماندار خواتین کو بدکاری کی تہمت " سبع موبقات " میں سے قرار دیا۔ یعنی ان سات بڑے گناہوں میں سے جو ہلاکت اور تباہی میں ڈالنے والے ہیں اور جب عام مومن عورت پر تہمت اتنا بڑاجرم ہے تو پھر حضرت مریم جیسی عظیم المرتبہ عورت پر تہمت کس قدر بڑا جرم ہوگا ؟
408 یہود کی قساوت قلبی کا ایک اور نمونہ و مظہر : سو یہ بات ان لوگوں کی غایت درجہ قساوت قلب اور ڈھٹائی پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ کو اللہ کا رسول بھی کہتے ہیں اور انکے قتل کا اقرارو اعلان کرکے اس پر فخر بھی جتلاتے ہیں۔ اور یہی حال ہوتا ہے ان لوگوں کا جن کی مت ان کی حق اور اہل حق سے عداوت کے سبب مار دی جاتی ہے، جیسا کہ ہمیشہ رہا اور آج ہمارے اس دور کے باطل پرست اور اہل زیغ و ضلال فرقوں میں بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ ایسے لوگ اہل حق کی ایذاء رسانی پر اظہار افسوس اور ندامت و شرمندگی کی بجائے الٹا اس پر فخر جتلاتے ہیں۔ سو یہ ان کی قساوت قلبی اور محرومی و بدبختی کا ایک ثبوت و مظہر ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
409 یہود بےبہبود کو شبے میں ڈالنے کا بیان : کہ جس منافق نے حضرت عیسیٰ کے بارے میں مخبری کی تھی، اسی پر قدرت کی طرف سے عیسیٰ کی شباہت ڈال دی گئی، اور اس کو آپ کا ہم شکل بنادیا گیا۔ جس کو انہوں نے عیسیٰ سمجھ کر قتل کردیا مگر بعد میں اس کی وجہ سے یہ لوگ خود اس اختلاف اور چکر میں پڑگئے کہ اگر مقتول عیسیٰ تھا تو ہمارا ساتھی کہاں گیا ؟ اور اگر مقتول ہمارا ساتھی تھا تو عیسیٰ کہاں گئے ؟ (ابن کثیر، صفوۃ التفا سیر، محاسن التاویل، معارف القرآن وغیرہ) ۔ سو اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ بندوں سے عداوت اور اس سے دشمنی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کی مت مار دی جاتی ہے اور وہ اندھے ہوجاتے ہیں۔ اور اس طرح ان کو اپنے کیے کی ایک نقد سزا یونہی مل جاتی ہے اور ملتی رہے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:158410 رفع عیسیٰ کا بیان : سو ان کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا یعنی روح اور جسم دونوں کیساتھ، نہ کہ صرف روحانی طور پر، جس طرح کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے۔ کیونکہ { رفعہ } کی ضمیر منصوب کا مرجع حضرت عیسیٰ کی ذات اقدس ہے جو کہ نام ہے روح اور جسم دونوں کے مجموعے کا۔ نہ کہ صرف روح کا۔ سو آنجناب کا رفع صرف روحانی نہیں تھا بلکہ روح اور جسم دونوں کے ساتھ تھا۔ یعنی آپ کو زندہ سلامت جسمانی طور پر اوپر اٹھا لیا گیا جہاں آپ اب تک زندہ سلامت موجود ہیں اور قیامت سے پہلے جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا آپ دوبارہ دنیا میں نزول اجلال فرمائیں گے اور شریعت محمدیہ کے مطابق نظام چلائیں گے اور دنیا سے کفر و شرک کے اندھیروں کو مٹا کر زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
411 اللہ بڑا ہی زبردست نہایت ہی حکمت والا ہے : سو وہ جو چاہے کرسکتا ہے کوئی اسے روک نہیں سکتا کہ وہ عزیز اور نہایت ہی زبردست ہے، مگر وہ جو کرتا ہے نہایت حکمت سے کرتا ہے، کہ وہ عزیز اور نہایت زبردست ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی حکمتوں والا اور حکیم بھی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ِاس لیے اس کا کوئی بھی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ وتعالی -