Ayah 4:2250 باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح کرنے کی حرمت کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمہارے باپ دادا نکاح کرچکے ہوں۔ اگرچہ وہ تمہاری حقیقی مائیں نہ ہوں، کہ تمہارے باپ دادا میں سے کسی کے نکاح میں آجانے اور اس کی منکوحہ بن جانے کے بعد ان کیلئے وہی احترام ہے جو تمہاری اپنی حقیقی ماؤں کا ہوتا ہے، زمانہ جاہلیت میں باپ کی منکوحات سے نکاح کرلینے کا رواج عام تھا (ابن کثیر، محاسن التاویل، جامع البیان وغیرہ) ۔ سو دین حق کے نور مبین کے طلوع کرنے کے بعد اس سے منع فرما دیا گیا۔ اور اس کے بعد یہ ہمیشہ حرام قرار دے دیا گیا۔ اور ایسا کہ اگر اسلام کے بعد کوئی ایسا کرے گا تو وہ مرتد اور واجب القتل ہوگا، جیسا کہ حضرت نبی اکرم ﷺ سے ایسا ثابت و وارد ہے۔ جیسا کہ اگلے حاشیے میں آرہا ہے۔ بہرکیف یہ ایک ممقوت و مبغوض اور نفرت انگیز فعل ہونے کے باوجود زمانہ جاہلیت میں رائج تھا اور اس کو زواج المقت کہا جاتا تھا۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام کی روشنی سے پہلے کا وہ معاشرہ کیسے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا اور وہ قعر مذلت کے کس قدر ہولناک گڑھے میں گر چکا تھا۔ دین حنیف نے ان کو ان مہالک سے بچایا ۔ فالحمد للہ جل وعلا -
51 نزول حکم سے پہلے کا گناہ معاف ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مگر جو ہوچکا کہ وہ بہرحال ہوچکا۔ سو جو گزرا وہ گزرا۔ اس پر پکڑ نہ ہوگی۔ کہ نزول حکم سے پہلے کا گناہ معاف ہے مگر اب اس کی اجازت نہیں کہ یہ بہت برا فعل ہے۔ اسی لئے اس کو " مقت " کہا جاتا تھا، اور ایسا نکاح کرنے والے کو " مقتی " (محاسن التاویل، معارف القرآن وغیرہ) ۔ بہرکیف باپ کی منکوحہ سے نکاح کرنا بہت برا فعل ہے۔ سو اسی لیے یہاں اس کیلئے تین الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں۔ ایک " فاحشہ " یعنی یہ بہت بےحیائی کا کام ہے جو اس کے عقلی طور پر قبیح اور برا ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسرا " مقتًا " کہ یہ شرعی طور پر بہت برا ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب اور غصے کا باعث ہے۔ اور تیسرا " ساء سبیلاً " کہ یہ عرفی اور معاشرتی طور پر بہت برا ہے۔ (معارف وغیرہ) سو جو فعل عقلی، شرعی اور عرفی ہر اعتبار سے برا ہو اس کی شناعت و قباحت میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن اس قدر قباحت اور شناعت کے باوجود دور جاہلیت کے اس سیاہ دور میں اس کا عام رواج تھا، یہاں تک کہ دین حق نے آ کر اس کا قلع قمع کیا۔ سو دین حنیف کے انسانیت پر کیا کیا احسان ہیں ۔ فالحمد للہ ۔ مگر ناشکری اور بےقدری دنیا ہے کہ اس کی ایک واضح اکثریت نے پھر بھی اس سے منہ موڑ رکھا ہے۔
52 نکاح مقت بڑی ہی بےحیائی اور نفرت کی بات ہے : کہ اس سے باپ کی عزت و حرمت خراب ہوتی ہے، اور یہ خدا تعالیٰ کے غضب اور اس کی ناراضگی کا باعث بنتا ہے۔ سو اب ایسے نکاح کو حلال سمجھنے والا کافر ہوجائیگا۔ چناچہ حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ میری ملاقات میرے اپنے چچا سے ہوئی جن کے ہاتھ میں ایک جھنڈا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے شخص کی گردن اتار دینے کے لئے بھیجا ہے جس نے اس حکم کے بعد اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے۔ (ابن ماجہ، بحوالہ حاشیہ جامع البیان، ابن کثیر، محاسن التاویل اور معارف القرآن وغیرہ) ۔ کیونکہ دین حنیف کے کسی صریح حکم کی خلاف ورزی کرنا، اور حرام کردہ کسی امر کو حلال سمجھنا کفر و ارتداد ہے اور کفر و ارتداد کی سزا قتل ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ مِنْ کُلّ زَیْغٍٍ وَّضَلَالٍ وسُوْئٍ وَانْحِرَاف۔
Ayahs 4:23–2453 حرمت رضاعت کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم پر حرام کردیا گیا تمہاری ان ماؤں کو جنہوں نے تم کو دودھ پلایا۔ اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، مگر ہو زمانہ رضاعت کے دوران، نہ کہ اس کے بعد کا۔ چناچہ صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا یعنی رضاعت وہی معتبر ہوتی ہے جو بھوک مٹائے۔ یعنی یہ زمانہ رضاعت کے دوران ہو جبکہ بچے کی بھوک مٹانے کا ذریعہ رضاعت ہی ہوتی ہے، اس کے علاوہ وہ کسی اور خوراک سے بھوک نہ مٹاتا ہو۔ پس رضاعت وہی معتبر ہوتی ہے جو زمانہ رضاعت میں اور قبل الفطام یعنی دودھ چھڑانے سے پہلے ہو۔ یعنی دو سال کی مدت کے اندر ہو، جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ رضاعت وہی معتبر ہے جو کہ دو سال کے اندر ہو، (محاسن التاویل للقاسمی (رح) ) ۔ بہرکیف محرمات نسبیہ کے بعد یہ محرمات رضاعیہ کا بیان فرمایا گیا ہے کہ رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو کہ نسب سے حرام ہوتے ہیں، جیسا کہ مشہور حدیث میں ارشاد فرمایا گیا۔ (معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف یہ ایک اہم حقیقت ہے کہ رضاعت کے رشتے کی مادرانہ رشتے کے ساتھ بڑی گہری مناسبت ہے۔ جو بچہ جس ماں کی آغوش میں رہتا اور اس کی چھاتیوں سے دودھ پیتا، اور پلتا بڑھتا ہے وہ اس کی پوری نہیں تو آدھی ماں تو ضرور بن جاتی ہے۔ پھر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ جس کا دودھ اس کے رگ و پے میں سرایت کر جائے اس سے اس کے جذبات متاثر ہوں۔ اگر متاثر نہ ہوں تو یہ فطرت کا بناؤ نہیں بگاڑ ہے اور اسلام دین فطرت ہے اس لئے ضروری تھا کہ وہ اس بگاڑ کو درست کرتا۔ سو اس نے اس کی اصلاح فرمائی اور بدرجہ تمام و کمال فرمائی۔
Ayah 4:2559 غیر مستطیع شخص کیلئے باندی سے نکاح کی اجازت : یعنی جو شخص وہ آزاد عورتوں کا مہر اداء کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو ‘ اور ان کی خوراک و پوشاک کے مصارف برداشت کرنے کا تحمل نہ کرسکتا ہو تو وہ اپنی اس مجبوری کی بناء پر کسی ایماندار باندی سے نکاح کرلے۔ (معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف اس میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی کسی آزاد شریف زادی سے نکاح کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو وہ کسی مسلمان لونڈی سے نکاح کرلے۔ اور یہ امر واضح رہنا چاہئے کہ عزت و شرافت کی اصل بنیاد ایمان و یقین ہے۔ اور ایمان کا حال اللہ وحدہ لاشریک ہی کو معلوم ہے ورنہ جنس و نوع اور نسل و نسب کے اعتبار سے تم سب لوگ آپس میں ایک ہی ہو، کہ سب آدم کی اولاد میں سے ہیں اور ایک جسم کے اعضاء وجوارح کی طرح ہیں۔
60 انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے ایمان و یقین ہی سے ہے : پس تم لوگ باطن کی کھود کرید کی بجائے صرف ظاہری ایمان پر اکتفاء کرو، اور ان سے نکاح کرنے میں کوئی عار اور تردد محسوس نہ کرو، اور بواطن امور کا معاملہ اللہ پاک ہی کے سپرد کردو، کہ باطن کا حال اللہ ہی جانتا ہے۔ اور اسی کو معلوم ہے کہ کس کا صدق و اخلاص اور ایمان و یقین کس درجے کا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کا ایمان و یقین آزاد مرد و عورت سے بڑھ کر ہو۔ بہرکیف یہاں سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے ایمان و یقین ہی سے ہے، ورنہ نسل و نسب کے اعتبار سے سب لوگ باہم ایک ہی برابر ہیں کہ سب ہی آدم اور حوا کی اولاد ہیں۔ پس لونڈی سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں البتہ یہ شرط ہے کہ یہ نکاح ان کے مالکوں کی اجازت سے ہو، اور ان لونڈیوں کو دستور کے مطابق ان کے مہر دیئے جائیں اور کسی کی حق تلفی نہ کی جائے۔
61 مستی نکالنے اور خفیہ آشنائیاں کرنے کی ممانعت : کہ بدکاری خواہ ظاہر و علانیہ ہو، خواہ چوری چھپے، بہرصورت حرام ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ پہلی صورت کو تو حرام سمجھتے تھے مگر دوسری کو جائز۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ اور اس مرض کے جراثیم دور حاضر کی مادہ پرست تہذیب میں آج بھی موجود ہیں اور یہاں اور وہاں جگہ جگہ پائے جاتے ہیں، بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر، کہ زنا ان لوگوں کے یہاں سرے سے کوئی جرم ہی نہیں، جبکہ وہ باہمی رضامندی سے ہو۔ ہاں جب جبر واکراہ سے کام لیا جائے تو یہ قابل مواخذۃ جرم ہے۔ سو ان لوگوں کے یہاں زنا جرم و گناہ نہیں بلکہ صرف جبرو اکراہ جرم و گناہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ چناچہ یورپ و امریکہ وغیرہ کے مادہ پرست معاشروں کا حال یہ ہے کہ اگر وہاں کی پولیس برسرراہ کسی جوڑے کو اس جرم کے ارتکاب میں مصروف دیکھتی ہے تو کہتی ہے OK یعنی تم دونوں باہمی رضامندی سے ایسا کر رہے ہو یا کسی جبر واکراہ سے ؟ اگر وہ کہیں OK یعنی ہم باہمی رضامندی سے ایسا کرتے ہیں تو پولیس کہتی ہے ٹھیک ہے کوئی پرواہ نہیں۔ ہاں اگر جبر واکراہ ہو تو پھر پولیس ہاتھ ڈالے گی کہ ان معاشروں میں اصل جرم زنا و بدکاری نہیں بلکہ جبر واکراہ ہے۔ سو دیکھیئے جاہلیت قدیمہ کس طرح آج بھی جوں کی توں موجود ہے، بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ بےحیائی اور ڈھیٹ پنے کے ساتھ اور شخصی آزادی جیسے خوشنما الفاظ کے پردے میں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف دین حنیف نے ہر قسم کی بےحیائی کو ممنوع قرار دیا ہے خواہ وہ ظاہر یا مخفی۔
62 لفظ عنت کا معنیٰ و مفہوم ؟ : عَنَتَ کے لغوی معنی آتے ہیں ہڈی کا جڑنے کے بعد ٹوٹ جانا۔ اور پھر اس کا اطلاق ہر مشقت کے مفہوم پر ہونے لگا (جامع الیبان وغیرہ) ۔ سو اس سے یہ ایماء بھی نکلتا ہے کہ گناہ اور بدکاری سے اگرچہ انسان وقتی طور پر اپنی ہوائے نفس کی تسکین کا سامان کرتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اپنے لئے تباہی اور ہلاکت کا سامان کرتا ہے، مگر اس وقت اس کو اس حقیقت کا احساس و ادراک نہیں ہوتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جس کسی کو گناہ کی مشقت میں پڑنے کا اندیشہ ہو اس کے لیے باندی سے نکاح کی یہ اجازت دی گئی ہے۔ سو اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جو اس سے بچ سکے اس کیلئے یہ بہتر ہے کہ یہ بہرحال ایک رخصت اور اجازت ہے نہ کہ اصل اور عزیمت۔ اور باندی سے نکاح میں کئی طرح کے مخاطر ومفاسد بھی ہیں جیسا کہ اگلے حاشیے میں آرہا ہے۔ پس جو لوگ اپنے آپ کو قابو میں رکھ سکتے ہوں۔ اور ان کو گناہ میں پڑنے کا اندیشہ نہ ہو ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ صبر کریں۔ کہ اپنے آپ کو خواہ مخواہ خطرات میں ڈالنا عقلمندی کا تقاضا نہیں۔ سو جہاں تک ہو سکے انسان صبر و ضبط ہی سے کام لے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
63 نکاح امہ سے صبر کرنا ہی بہتر ہے : کہ باندی کے ساتھ نکاح کرنے میں وہ مصالح اور منافع حاصل نہیں ہوتے، جو آزاد عورت کے ساتھ نکاح کرنے سے حاصل ہوتے ہیں۔ نیز اس میں اولاد کو " رق " کیلئے پیش کرنا ہوتا ہے، جیسا کہ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس کسی آزاد شخص نے باندی سے نکاح کیا اس نے اپنے آدھے حصے کو غلام بنادیا۔ " اَیَّمَا حُرٍّ تَزَوَّجَ بِاَمَۃٍ فَقَدْ اَرَقّ نِصْفَہٗ " (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اسی لئے سنن ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے طاہر و مطہر ملنا چاہے، وہ آزاد عورتوں سے نکاح کرے۔ (جامع البیان، ابن کثیر، وغیرہ) ۔ نیز باندی کا مالک جب چاہے اس سے خدمت لے سکتا ہے۔ سفر میں اور حضر میں بھی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ چیز مومن کی عزت نفس کے خلاف ہے جو کہ مومن صادق کیلئے اصل اور سب سے اہم شئی ہے۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ نیز باندی کو ملنے والا مہر اس کے مالک کو جائے گا نہ وہ خود اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے اور نہ اپنے خاوند کو ہبہ کرسکتی ہے۔ سو ایسے امور کی بنا پر باندھی کے نکاح سے اس کے گھر کا نظام مختل ہوجائے گا۔ اس لئے باندیوں کے نکاح سے صبر کرنا ہی بہتر ہے۔ اس کی اجازت محض درجہ ضرورت و اضطرار کی بناء پر ہے۔ ورنہ اصل اور بہتر یہی ہے کہ انسان حتی المقدور اس سے احتراز کرے -
Ayah 4:2664 اللہ کے احکام بندوں کے بھلے کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ اپنے احکام کھول کر بیان فرماتا ہے خود تمہارے بھلے کیلئے اے لوگو۔ تاکہ تم لوگ ان پر عمل کر کے سعادت دارین سے سرفراز ہو سکو۔ اور تمہیں حق و باطل، جائز و ناجائز، اور حلال و حرام، کے درمیان فرق و امتیاز میں دقت و دشواری پیش نہ آئے۔ پس یہ اس کا تم پر عظیم الشان کرم و احسان ہے۔ اس لئے تم لوگوں پر لازم ہے کہ تم اس کرم و احسان کی قدر پہچانو، اور اطاعت و تسلیم کی گردن اپنے اس خالق ومالک مہربان کے آگے ڈال دو ، اور سرتسلیم خم کرکے ان احکام و ہدایات پر عمل پیرا ہوجاؤ، اس ایمان و یقین سے سرشار ہو کر کہ اسی میں تمہارا بھلا اور فائدہ ہے، دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی، اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی ۔ وباللّٰہ التوفیق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْد، وعلیٰ مَا یُحِبُّ ویُرِیْدُ ۔ کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت کے بغیر بندہ ازخود کچھ بھی نہیں کرسکتا ۔ فالامر بیدہ سبحانہ وتعالی -
65 گزشتہ انبیاء و رسل اور صالحین کے راستوں پر چلنے کا مقصد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ چاہتا ہے کہ تم لوگوں کو ان لوگوں کے طریقوں پر ڈال دے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ یعنی گزشتہ انبیاء و رسل اور صالحین کے طریقوں پر، جن پر چل کر تم بھی خداوند قدوس کی ان رحمتوں اور عنایتوں سے بہرہ ور ہو سکو، جن سے وہ حضرات سرفراز ہوچکے ہیں۔ اور ان کے یہ طریقے جاننے کا ذریعہ سوائے قرآن حکیم کے دوسرا کوئی نہیں۔ کیونکہ باقی سب آسمانی کتابوں کو تبدیل کردیا گیا ہے، اور تحریف کرکے ان کو کچھ کا کچھ بنادیا گیا ہے۔ سو انبیاء و رسل کے طریقوں سے آگہی اور ان پر چلنے کی سعادت و سرفرازی، دارین کی فوز و فلاح سے ہمکنار و سرفراز کرنے والی راہ ہے۔ اور یہ چیز دین حنیف اسلام اور کتاب حکیم قرآن مجید کے سوا اور کہیں سے ملنا ممکن نہیں۔ پس تمہارے رب نے تم کو اس دین حنیف سے مشرف فرما کر اور اس کتاب مبین کو نازل فرما کر تم کو جس عظیم الشان اور بےمثل انعام و احسان سے نوازا ہے اس جیسا دوسرا کوئی انعام و احسان ممکن ہی نہیں۔ پس عقل و نقل اور عدل و انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ تم لوگ اس عظیم الشان اور بےمثال نصیحت کی دل و جان سے قدر کرو اور اس کو صحیح طور پر اپناؤ کہ یہی عقل ونقل کا تقاضا اور فطرت کی پکار ہے ۔ وباللہ التوفیق -
66 اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ بڑا ہی علم والا نہایت ہی حکمت والا ہے : اس لئے وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں اور ضرورتوں کو بھی پوری طرح جانتا ہے، اور ان کے لئے جو کچھ بھی مقرر فرماتا ہے وہ کمال حکمت ہی سے مقرر فرماتا ہے۔ پس اس کے کسی حکم و ارشاد کا کوئی بدیل ممکن نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ لہٰذا اس کے احکام و فرامین کو دل و جان سے ماننا اور صدق دل سے انکو بجا لانا خود اس انسان کے اپنے لئے مفید اور سعادت دارین سے مشرف و بہرہ ورہونے کا ذریعہ ہے۔ اور ان سے اعراض و روگردانی دنیا و آخرت کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو وہ رب علیم و حکیم اس بات کو گوارا نہیں کرسکتا تھا کہ اپنی پیدا کی ہوئی مخلوق کو یوں ہی گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکتا چھوڑ دے اور اس کی ہدایت کا کوئی انتظام نہ فرمائے۔ اس لئے اس نے اپنے بندوں کو دین حق کی اس عظیم الشان نعمت سے نوازا ہے تاکہ وہ اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آئیں۔
Ayah 4:2767 اتباع ہوی باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ خواہشات نفس کی پرستش و پیروی، ہلاکت و تباہی کی راہ ہے ۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ : ۔ سو ایسے لوگ جانتے ہیں کہ خواہشات کی پیروی میں تم لوگ حیوانیت سافرہ اور بہیمیت مطلقہ کی اس راہ پرچلو جو تم لوگوں کو شرف انسانیت سے محروم کردے۔ اور اس طرح تم لوگ دائمی ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں جاگرو۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ خواہشات نفس کی پیروی انسان کو راہ حق و صواب سے دور اور اتنا دور لے جاتی ہے کہ اس کے لئے راہ حق و صواب کی طرف واپسی بہت مشکل، بلکہ بعض حالات میں ناممکن ہوجاتی ہے۔ اور اس طرح وہ دائمی ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں جا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو پھر کیا خیال ہے آپ کا چہار سو پھیلے ان مادہ پرست معاشروں کے بارے میں کہ جن کی زندگی کی اساس وبنیادہی خواہش پرستی پر قائم ہے ؟ اور خواہش نفس ہی کو انہوں نے اپنا معبود بنا رکھا ہے ؟ اور ان کی ساری تگ و دو خواہشات نفس کی پوجا و پرستش کے محور کے گرد گھومتی ہو اور وہ علم کے باوجود ضلالت و گمراہی کے ہولناک گڑھوں میں جا گرے ہوں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں اس بارے میں دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اَ فَرَأَیْتَ مَن اتَّخَذَ اِلٰہَہ ہَواہُ وَاَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ } الاٰیۃ (الجاثیہ : 23) سو ایسوں کو حق و ہدایت کی دولت نصیب نہیں ہوسکتی کہ اتباع ہوا کی بناء پر ایسوں کے کانوں اور ان کے دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں، دلوں پر مہر لگ جاتی ہے اور ان کی آنکھوں پر پٹی بندھ جاتی ہے۔ سو جن کے دل و دماغ ماؤف و معطل اور ان کی آنکھیں اور کان بند ہوجائیں ان کو ہدایت کیسے مل سکتی ہے اور کون دے سکتا ہے ؟ { وَخَتَم عَلٰی سَمْعِہٖ وَقَلْبِہٖ وَجَعَلَ عَلٰی بَصرِہٖ غِشَاوَۃً فَمَنْ یَّہْدِیْہ مِنْ بَعْد اللّٰہ ؟ } جبکہ ہدایت سے سرفرازی کے لئے اولین اساس اور بنیادی شرط طلب صادق اور رجوع الی اللہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayahs 4:28–2968 انسان کے جبلی اور طبعی ضعف کا ذکر : سو اس سے انسان کے طبعی ضعف اور خواہشات نفس کے مقابلے میں اس کی فطری کمزوری کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ انسان کو کمزوری سے پیدا کیا گیا ہے۔ یعنی انسان کمزور ہے خواہشات نفس کے مقابلے میں۔ کہ ان کو پوری طرح سے دبانا اور کچلنا اس انسان ضعیف البنیان کے بس میں نہیں رہتا ۔ الا ماشاء اللہ ۔ اسی لئے اس انسان کے لئے احکام میں نرمی اور رعایت برتی گئی۔ (محاسن، روح، صفوۃ، وغیرہ) ۔ اور حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ سے بڑھ کر کون اس انسان ضعیف البنیان کی نفسیات سے واقف اور آگاہ ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس نے انسان کو جن احکام اور تعلیمات سے نوازا ہے وہ عین اس کی فطرت و طبیعت کے مطابق اور سراسر اس کے لئے خیر و برکت کا ذریعہ ہیں۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہٗ ۔ نے اپنے ان احکام و فرامین کے ذریعے ایک طرف تو اپنے بندوں کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی راہیں کھولیں اور دوسری طرف ان سے یہود و نصاریٰ کی خود ساختہ شریعتوں اور خانہ ساز رسموں رواجوں کے بوجھ اتار دیئے جو ان کی گردنوں پر لدے ہوئے تھے کہ یہ سب کچھ اس انسان ضعیف البنیان پر ظلم تھا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم والحمد للّٰہ جل و علاَ ۔ سو دین فطرت نے اس سے ان غیر فطری بوجھوں کو اتار دیا ۔ فالحمد للہ جل وعلا -
Ayah 4:3072 آتش دوزخ کی ہولناکی سے تحذیر۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی ایسا کرے گا زیادتی وظلم کے ساتھ تو ہم اس کو جھونک دیں گے ایک بڑی ہی ہولناک آگ میں۔ یعنی تنوین تعظیم و تہویل کیلئے ہے " اَ یْ ہَائِلَۃ شَدِیْدُ الْعَذَاب " (محاسن التاویل) ۔ اور ظاہر ہے کہ دوزخ کی اس سے بڑھ کر ہولناک اور خوفناک آگ اور کون سی ہوسکتی ہے ؟ جو دنیا کی ہماری اس آگ سے ستر گنا زیادہ سخت ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ کی طرف سے منع فرمودہ اور حرام کردہ امور کے ارتکاب کا نتیجہ و انجام بہت برا ہے۔ " ذالک " کا مشارٌالیہ جیسا کہ ظاہر اور متبادر ہے، وہی امور ہیں جن کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔ یعنی خودکشی کا ارتکاب اور دوسروں کا مال ناحق طور پر مار کھانا ۔ والعیاذ باللہ ۔ لیکن اس میں دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ اس کا مشارٌالیہ وہ تمام اوامرو ارشادات ہوں جن کا ذکر اس سورة کریمہ کے شروع سے لیکر یہاں تک فرمایا گیا ہے۔ (معارف القرآن وغیرہ) ۔ " عدوان " سے مراد حدود سے تجاوز کرنا ہے۔ اور " ظلم " سے مراد کسی پر ناحق دست درازی کرنا ہے۔ (معارف وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو ایسا کرے گا اس کو ہم ایک بڑی ہی ہولناک آگ میں جھونک دیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ اپنی عنایت وپناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 73 اللہ تعالیٰ کی شان عدل و انصاف کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا کرنا اس رب ذوالجلال کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں کہ یہ اس کے عدل وانصاف کا تقاضا ہے کہ وہ قادر مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ رحمن و رحیم ہونے کے ساتھ ساتھ " قہّار و جبّار " اور " عزیز و ذو انتقام " بھی ہے۔ اور اس کی ان صفات علیا اور اسمائ حسنیٰ کا تقاضا یہی ہے کہ وہ کفر و شرک کے علمبرداروں اور اپنے باغیوں اور سرکشوں کو ان کے کئے کی پوری سزا دے۔ تاکہ عدل وا نصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور ہر کوئی اپنے کئے کرائے کا پورا پورا پھل پا سکے۔ نیک اپنی نیکی کا، اور برا اپنی برائی کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس لیے کسی کو اس دھوکے اور شبہ میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ وہ رحمن و رحیم اپنے بندوں کو کس طرح عذاب میں ڈالے گا، کہ وہ رحمن و رحیم کے ساتھ ساتھ عزیز وقہار بھی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 4:3174 گناہوں کی معافی کیلئے ایک عظیم الشان ضابطہ و اصول : کہ کبیرہ گناہوں سے تم بچتے رہو صغیرہ ہم معاف کردیں گے۔ اور یہ اس لیے کہ نیکیاں صغیرہ گناہوں کو مٹا دیتی ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اِنَّ الْحَسَنَات یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ } الآیۃ (ھود : 1 14) اور حدیث شریف میں وارد ہے کہ " ایک نماز دوسری نماز تک، ایک جمعہ دوسرے جمعے تک، اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک، درمیانی مدت کیلئے کفارہ ہیں، جبکہ انسان صغیرہ گناہوں سے بچتا رہے "۔ سو اس آیت کریمہ سے اس صحیح اور عظیم الشان طریقے کی نشاندہی فرمائی گئی ہے، جو عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، کہ کبیرہ گناہوں سے تم بچتے رہو، صغیرہ گناہ اللہ پاک اپنی رحمت و عنایت سے خود معاف فرما دے گا کہ وہ غفور اور رحیم بھی ہے، اور ستار و کریم بھی۔ مگر الٹی کھوپڑی کے لوگوں نے اس کے برعکس یہ طریقہ اپنا رکھا ہے کہ صغائر کے ارتکاب پر تو گویا آسمان سر پر اٹھا لیں گے مگر کبائر پر بولیں گے بھی نہیں۔ مثلا جو فرض نمازوں کا تارک ہوگا اس کو تو کچھ نہیں کہیں گے، مگر جو نفل نہ پڑھے گا اس کو کہتے ہیں کہ یہ ایسا اور ویسا ہے۔ گویا کہ ایسے لوگ مشہور مثل کے مطابق مچھر چھانتے ہیں اور ہاتھی نگل جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اصولی تعلیم بہرحال یہی ہے کہ کبیرہ گناہوں سے تم بچتے رہو، صغیرہ اللہ پاک کی رحمت و عنایت سے خود معاف ہوتے جائیں گے ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرح کے گناہ سے محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی رحمت و عنایت کے سائے میں رکھے اور نفس و شیطان کے ہر حملے سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 4:3275 غیر اختیاری امور میں رشک و رقابت سے ممانعت : کہ غیر اختیاری امور محض اللہ تعالیٰ کی عطاء و بخشش ہوتے ہیں۔ ان پر حسد یہ اللہ پاک کی تقسیم پر اعتراض ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ایسی تمنا و ہوس سے حسد کے جراثیم جنم لیتے ہیں، جس سے آگے طرح طرح کے مفاسد جنم لیتے اور مضار ابھرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس ہر کسی کو دوسرے کے خداداد فضل و کمال اور مال و منال کی طرف دیکھنے اور ان پر رشک و حسد کرنے کی بجائے اپنی قسمت پر راضی رہنا چاہیئے۔ (معارف، مراغی وغیرہ) ۔ جیسا کہ حضرت نبی معصوم ﷺ نے فرمایا یعنی " جو کچھ اللہ نے تمہیں نصیب فرمایا ہے اس پر راضی ہوجاؤ سب سے بڑے غنی بن جاؤ گے " " وَارْض بِمَا قَسَمَ اللّٰہُ لَکَ فَتَکُنْ اَغْنَی النَّاس " سوخلقی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو بعض صفات کے ساتھ متصف فرمایا ہے مثلاً کسی کو خوبصورت بنایا ہے کسی کو بد صورت۔ کسی کو کالا کسی کو گورا۔ کسی کو سلیم الاعضاء بنایا ہے کسی کو ناقص الاعضاء۔ کسی کو امیر گھرانے میں پیدا فرمایا ہے کسی کو غریب گھرانے میں۔ سو اس طرح کے خلقی امور میں مقابلے اور تنافس کی کوئی گنجائش نہیں، بلکہ تنافس اور مقابلے کا میدان وہ اکتسابی امور ہیں جو انسان کے ارادہ و اختیار اور اس کے بس میں ہیں۔ غیر فطری اور غیر اختیاری امور میں رشک و رقابت لا حاصل بھی ہے اور نری حماقت بھی۔ اس لئے اس سے صاف اور صریح طور پر ممانعت فرما دی گئی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ اس سے ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
76 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے۔ سو وہ خوب جانتا ہے کہ کس کو کیا دے ؟ اور کب اور کیسے دے ؟ پس ہمیشہ اس کی قضا و قدر پر راضی رہا کرو، اور ہمیشہ اسی سے مانگا کرو کہ سب خزانوں کا مالک وہی ہے۔ اور وہی جانتا ہے کہ تمہارے لیے بہتر کیا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو تمہیں مقابلے اور تنافس اور رشک و رقابت کے لئے وہ میدان اختیار کرنا چاہئے جو تمہارے بس اور اختیار میں ہے۔ اور وہ میدان ایمان اور عمل صالح کا میدان ہے۔ سو اس میدان میں آگے نکلنے کے لئے تمہیں تقویٰ و طہارت، عبادت و ریاضت اور توبہ وانابت کے میدانوں میں آگے بڑھنے اور گوئے سبقت لے جانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ میدان سب کے لئے کھلا ہے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ آزاد ہو یا غلام۔ بانو ہو یا باندی۔ شریف ہو یا وضیع۔ اعمیٰ ہو یا بصیر۔ یہ میدان سب کے لئے کھلا ہے۔ سو غیر اختیاری اور فطری امور میں دخل دینے کی بجائے طالب فضیلت و سبقت لوگوں کو اس میں آگے بڑھنا چاہئے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 4:3377 میراث میں سے ہر صاحب حق کو اس کا حق دینے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ہر شخص کے وارث مقرر کردیے ہیں اس مال میں سے جس کو چھوڑ کر مریں ماں باپ اور قریبی رشتہ دار۔ پس تم لوگ ان کی میراث انہی وارثوں میں بقدر حصص تقسیم کرو، اور اللہ کے مقرر فرمودہ ان حصوں میں اپنی طرف سے کوئی کمی بیشی مت کرو۔ اور اللہ کی تقسیم چونکہ نہایت علم و حکمت پر مبنی ہوتی ہے اس لیے اس میں کمی بیشی کا حق کسی کو نہیں ہوسکتا۔ لفظ " موالی " جمع ہے مولیٰ کی۔ اور " مولیٰ " کا لفظ عربی زبان میں بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کے ان مختلف معانی میں سے ہر معنیٰ کی تعیین موقع و محل اور قرینے کی بناء پر ہوتی ہے۔ یہاں پر سیاق وسباق اور موقع و محل اور قرینے کی دلیل سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہاں پر ایک مراد پر مورث کے وارث ہیں۔ سو ارشاد عالی کا مطلب یہ ہوا کہ ہر مورث کے مال کے وارث مقرر کردیئے گئے ہیں۔ لہٰذا اس کے مطابق جس کا جو حق بنتا ہے وہ اس کو دے دیا جائے۔ اس میں اپنی طرف سے کوئی کمی بیشی نہ کی جائے۔
78 حلیفوں کو ان حصہ دینے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں سے تم نے عہد و پیمان کر رکھے ہوں ان کو ان کا حصہ دو ۔ یہ حکم شروع میں تھا جو کہ بعد میں { وَاُولُوا الاَرْحَام بَعْضُہُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتَاب اللّٰہ } کی آیت سے منسوخ ہوگیا (جامع البیان، معارف القرآن وغیرہ) ۔ سو شروع میں حلیف کو میت کے مال کا چھٹا حصہ ملتا تھا جو بعد میں مذکورہ بالا آیت کریمہ سے منسوخ ہوگیا، جس کی رو سے میراث رشتہ و قرابت ہی کی بناء پر مل سکے گی۔ سو بطور میراث ایسے لوگوں کو تو اب کچھ نہیں دیا جاسکے گا، لیکن بطور وصیت اور اعانت و احسان ان کو اب بھی دیا جاسکتا ہے۔ (معارف للکاندھلوی وغیرہ) ۔ احسان کے طور پر ان کے لئے یہ حصہ چونکہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے چھوڑا گیا ہے اس لئے اس کو یہاں پر { نَصِیْبَہُمْ } کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ سبحان اللہ ! کیا کیا باریکیاں ہیں اس کتاب حکیم کی۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اب میراث رشتہ و قرابت کی بنیاد ہی پر تقسیم ہوگی۔
79 اللہ تعالیٰ کی آگاہی و نگہبانی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ اس لئے ہمیشہ اس کی بازپرس سے بچتے اور ڈرتے رہو، کہ یہ بات سب سے اہم اور سب سے مقدم ہے۔ اور اس وحدہ لاشریک سے تمہاری کوئی حالت اور کیفیت چھپی نہیں رہ سکتی۔ اس لئے اس کی رضا کو ہمیشہ اور ہر حال میں پیش نظر رکھو۔ مگر افسوس کہ آج کے غافل انسان کا معاملہ اس سے یکسر مختلف اور اس کے بالکل برعکس ہے کہ وہ مختلف انسانوں کی رضا اور ناراضگی کا تو پورا پورا خیال رکھے گا مگر اپنے خالق ومالک اور اس رب علیم وخبیر کے حقوق اور اس کی رضا اور ناراضگی کی اس کو کوئی پرواہ نہیں ہوگی ۔ الا ماشاء اللہ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:3480 مردوں کی عورتوں پر فضیلت و فوقیت کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مرد حاکم [ و سرپرست ] ہیں عورتوں پر [ ایک تو ] اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت اور فضیلت دے رکھی ہے اور [ دوسرے ] اس لیے کہ مرد خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں میں سے۔ کہ دونوں میں سے ہر ایک کے وظیفہ حیات کا تقاضا یہی ہے۔ سو یہ فطری اور جبلی فضیلت، وہبی اور غیر اختیاری ہے۔ جس کو بدلنا کسی کے بس میں نہیں۔ جبکہ انفاق کی دوسری خصلت کسبی اور اختیاری ہے۔ سو ان دونوں خصلتوں کی بناء پر مردوں کو عورتوں پر فضیلت اور فوقیت بخشی گئی ہے۔ سو اسی بناء پر نبوت و رسالت، امامت صغریٰ اور امامت کبریٰ ، جہاد، اذان، خطبہ، شہادۃ، ولایت نکاح و طلاق، اور رجعت وغیرہ جملہ امور مرد کے اختصاص میں سے ہیں۔ (معارف وغیرہ) ۔ آج کل ہمارے ملک (پاکستان) پر عورت کی حکمرانی کا جو عذاب مسلط ہے، اس کے جواز کیلئے جو لوگ قرآن و سنت سے دلائل کشید کرنے کی سعی مذموم کرتے ہیں، وہ گویا نصوص کتاب و سنت سے معارضہ کرنے کی جسارت کر رہے ہیں، جو کہ جرم بالائے جرم کا مصداق ہے، جس کا نتیجہ و انجام اور بھی برا اور بھیانک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف فطری تقاضوں کے مطابق مرد بہرحال عورت پر فوقیت و فضیلت رکھتا ہے۔
81 حفاظت، اللہ ہی کی عنایت سے ہوسکتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نیک بخت عورتیں حفاظت کرتی ہیں [ اپنی عزت وناموس کی اور اپنے شوہر کے مال و متاع کی ان کی ] غیر حاضری میں اللہ کی حفاظت کی بنا پر۔ یعنی یہاں پر با سببیہ ہے کہ محفوظ وہی رہ سکتا ہے جس کی حفاظت اللہ فرمائے " فَالْمَحْفُوْظُ مَنْ حَفِظَہُ اللّٰہُ " (المحاسن، الجامع، وغیرہ) ۔ ورنہ ازخود کسی کا نفس و شیطان کے مکر و شرور سے بچنا ممکن نہیں، جب تک کہ توفیق ایزدی اور عنایت خداوندی شامل حال نہ ہو۔ نیز اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ غیب کے لفظ کو یہاں پھر راز کے معنی میں لیا جائے کیونکہ یہ لفظ اس معنی میں بھی معروف ہے۔ تو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے خاوندوں کے رازوں کی حفاظت کرتی ہیں کیونکہ زوجین میں سے ہر ایک دوسرے کا امین اور راز دار ہوتا ہے اور خاص کر عورت تو اپنے مرد کے محاسن و معائب اس کے گھر در اس کے اموال و املاک اور اس کی عزت و ناموس وغیرہ ہر چیز کی سب سے بڑی راز داں ہوتی ہے۔ اسی لئے قرآن حکیم نے یہاں پر ان کی اس صفت کو بطور خاص ذکر فرمایا ہے۔
82 اپنے ماتحتوں سے انتقام کیلئے حیلہ جوئی کی ممانعت : سو اس سے یہ اصولی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اپنے ماتحتوں سے انتقام کے لیے خواہ مخواہ کوئی حیلہ و بہانہ مت ڈھونڈو : ان سے انتقام لینے کیلئے، کہ آخر تم نے بھی تو اپنے خالق ومالک کے یہاں جواب دینا ہے ۔ سبحان اللہ !۔ خاندانی اور معاشرتی اصلاح کیلئے کیسی عمدہ اور کس قدر حکیمانہ تعلیم ہے جو یہ کتاب حکیم دنیا کو دے رہی ہے۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ دنیا اور خود مسلمان اس سے غافل و بےبہرہ ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اپنی عورتوں پر ناحق الزام رکھ کر اور حیلے بہانے ڈھونڈ کر ان کے درپے آزار ہونا جائز نہیں۔ (معارف وغیرہ) ۔ سو اس ارشاد ربّانی سے یہ ہدایت فرمائی گئی کہ اگر عورت خاوند کی طرف سے اٹھائے گئے تادیبی اقدامات کے نتیجے میں اپنی سرکشی اور بغاوت سے باز آجائے تو بہتر۔ اور اس کے نتیجے میں اس کی پچھلی تمام کدورتوں اور کوتاہیوں کو بھلا دیا جائے۔ گزشتہ باتوں کی بنا پر اس سے انتقام لینے کے لئے بہانے نہ ڈھونڈے جائیں۔ اگر کوئی مرد اپنی قوامیت کے زعم میں ایسے کرے گا تو وہ اس کا بھگتان بھگتے گا کہ اللہ سب سے بلند اور سب سے بڑا ہے۔ اور اس بندے کو یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ میں نے بھی آگے جواب دینا ہے۔ اپنے خالق ومالک کے حضور زندگی بھر کے کیے کرائے کے بارے میں .
Ayah 4:3583 زوجین کے درمیان اصلاح کا حکم وارشاد : سو اس سے میاں بیوی کے درمیان ناچاقی کی اصلاح کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے اور اس کا طریق کار بتایا گیا ہے اور میاں بیوی کے درمیان ناچاقی کی اصلاح سے متعلق یہ حکم تمام ہی ذمہ دار مسلمانوں سے ہے۔ خواہ وہ حکام اور ولاۃ امور ہوں، یا سربراہان قبائل۔ کہ ایسے سب ہی ذمہ دار اس حکم و ارشاد کے مخاطب ہیں۔ اور ان کو اس ارشاد ربانی کے ذریعے اصلاح احوال کیلئے یہ طریقہ کار تعلیم و تلقین فرمایا جارہا ہے جو آگے آرہا ہے۔ تاکہ اس کے ذریعے اصلاح احوال اور نباہ کی کوشش کی جائے یعنی باہمی تعلقات کے اس قدر فساد اور بگاڑ کے باوجود شریعت مطہرہ نے طلاق کی اجازت نہیں دی، کہ اس طرح ایسا شخص اپنی بیوی سے پیچھا چھڑالے۔ کیونکہ اسلام کی مقدس تعلیمات کی رو سے معاشرے کی اصلاح اور اس کے استحکام کی اصل اور اہم بنیاد میاں بیوی کے رشتہ ازدواجیت کا استحکام ہے۔ اسی لئے طلاق کو " اَبْغَضُ المباحات " قرار دیا گیا ہے۔ یعنی سب سے برا مباح ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
84 حَکَم کے اہل خاندان میں سے ہونے کی حکمت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں کے درمیان ناچاقی کی صورت میں اصلاح احوال کے لیے ایک حکم و منصف مرد کے خاندان سے مقرر کرو اور ایک عورت کے خاندان سے۔ کیونکہ خاندان کا آدمی ہونے کی بناء پر ایک تو وہ ان کے حالات اور تقاضوں سے بھی اچھی طرح واقف و آگاہ ہوگا اور دوسری طرف وہ ان کیلئے خیر خواہی کا جذبہ بھی اپنے اندر رکھتا ہوگا۔ اور یہ دونوں باتیں اصلاح احوال کے ضمن میں بطور خاص ممد و معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اس لیے یہاں پر اصلاح احوال سے متعلق اس بات کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے کہ زوجین کے درمیان پیدا ہونے والی ناچاقی کو ختم کرنے کیلئے ایک حکم مرد کے خاندان سے لیا جائے اور ایک عورت کے خاندان سے اور وہ دونوں ہمدردی اور خیرخواہی کے جذبے سے کام لیں گے تو ایسے میں اصلاح کی کوششیں موثر اور کارگر ثابت ہونگی ۔ وباللّٰہ التوفیق لِمَا یُحِبُّ و یُرِید -
85 حسن نیت اور اس کا اثر و نتیجہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان دونوں کے درمیان موافقت اور سازگاری کی کوئی صورت پیدا فرما دے گا۔ یعنی مدارو انحصار ان دونوں حکموں کی نیت و ارادہ پر ہے۔ اگر وہ دونوں صدق دل اور سچی نیت سے چاہیں گے کہ میاں بیوی کی ناچاقی ختم ہوجائے اور ان دونوں کے درمیان صلح صفائی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان اصلاح کی صورت پیدا فرما دے گا۔ سبحان اللہ ! نیت اور ارادہ کی صحت اور درستگی کتنی اہم چیز ہے کہ اسی پر اصلاح و توفیق کا مدارو انحصار ہے۔ اسی لئے عام لوگ بھی کہتے رہتے ہیں " نیت بر مراد " یعنی جیسی نیت ہوگی ویسی ہی مراد پاؤ گے۔ سو ہر کام سے پہلے اپنے باطن اور اپنی نیت و ارادے کا معاملہ درست رکھو ۔ وباللہ التوفیق ۔ اَللّٰہُمَّ اَصْلِحْ نِیَّاتِنَا وَسَرَائِرَ اُمُوْرِنَا ۔ سو نیتوں کی صحت و فساد کو احوال کی اصلاح اور بگاڑ میں بنیادی حیثیت حاصل ہے اور آج معاشرتی خرابیوں کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ فساد نیت ہی ہے کہ لوگ بہتری کی بجائے خرابی اور بگاڑ چاہتے ہیں ۔ الا ما شاء اللہ ۔ کچھ اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کی بنا پر اور کچھ دوسرے سے حسد اور بغض وعناد وغیرہ کی وجہ سے۔ تو پھر اصلاح ہو تو کس طرح اور کیونکر ؟
86 اللہ تعالیٰ کے علم وآگہی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ سب کچھ جانتا بڑا ہی باخبر ہے۔ وہ اپنے بندوں کے احوال و ظروف کو بھی خوب جانتا ہے، اور ان کی نیتوں اور ارادوں سے بھی وہ پوری طرح واقف و آگاہ اور باخبر ہے۔ پس تم لوگ ہمیشہ اپنا معاملہ اس کے ساتھ صحیح رکھنے کی فکرو کوشش میں رہا کرو۔ اور یہ یقین رکھو کہ اس علیم وخبیر کے کسی حکم و ارشاد اور کسی ضابطہ و قانون کا کوئی متبادل ممکن نہیں۔ پس بندے کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح اسی میں ہے کہ وہ اس کے اوامرو ارشادات کو صدق دل سے اپنائے، اور اس سے اپنے ظاہر و باطن کا معاملہ صاف اور صحیح رکھے ۔ وباللّٰہ التوفیق لِمَا یُحِبُّ وَ یُرِیْدُ وَھُوَالہَادی الی سَوَاء السَّبِیْلِ ۔ بہرکیف اللہ سب کچھ جانتا اور بڑا ہی باخبر ہے۔ اس سے اس کی مخلوق کی کوئی بھی حالت و کیفیت مخفی و مستور نہیں رہ سکتی۔ سو کتنے بہکے بھٹکے اور گمراہ ہیں وہ لوگ جو اس وحدہ لا شریک کو دنیاوی حکام و امراء اور بادشاہوں پر قیاس کر کے اس کے لیے طرح طرح کی شرکیات کے دروازے کھولتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ کیا دنیا کے کسی حاکم و بادشاہ کی یہ صفت اور شان ہوسکتی ہے کہ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز سے باخبر ہو ؟ ۔ فتعالی اللہ عما یقولون علوا کبیرا ۔ پس اللہ تعالیٰ کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کرنا فساد کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس کو ویسے مانا جائے جیسا کہ وہ اپنے بارے میں خود بتائے یا اس کا رسول بتائے۔
Ayah 4:3687 عبادت و بندگی صرف اللہ کی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ عبادت و بندگی صرف اللہ وحدہ لاشریک کی کرو کہ وہی تمہارا خالق ومالک بھی ہے، اور رازق و نگہبان بھی۔ اس لئے سب سے پہلا اور سب سے مقدم حق اسی کا ہے ۔ جَلَّ جَلَالُہٗ وَعَمَّ نوالُہ ۔ اور اس کا حق اس کی عبادت و بندگی ہے۔ پس تم لوگ عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک کیلئے بجا لاؤ، اور اس میں کسی کو بھی، اور کسی بھی درجے میں اسکا بھی شریک مت قرار دو کہ ایسا کرنا ظلم ہے اور ظلم کا انجام بہت برا ہے کہ یہ باعث ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
88 شرک سے تحذیر و ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ۔ نہ کسی بت کو، نہ کسی حجر و شجر کو، نہ کسی نبی ولی کو، اور نہ اور کسی زندہ یا مردہ انسان کو۔ کہ وہ ہر طرح کے شرک اور اس کے ہر شائبے سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ " شیباً " کی تنکیر اور تعمیم شرک کی ان سب ہی صورتوں کو عام اور شامل ہے۔ اور اس کے حق توحید کی ادائیگی کی نشانی اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس کے ہر حکم کو صدق دل سے بجا لایا جائے اور اس کی معصیت و نافرمانی سے ہمیشہ بچنے کی فکر و کوشش کی جائے۔ اور اسی کی رضاء و خوشنودی کو سب سے مقدم رکھا جائے ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یُحِبُّ و یُرِیْدُ-
89 حقوق والدین کی عظمت شان : سو توحید و وحدانیت خداوندی کی تعلیم و ہدایت کے حکم وارشاد کے متصل بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کے بعد مخلوق میں سب سے زیادہ حق تم پر اپنے ماں باپ ہی کا ہے، کہ اس دنیا میں تمہارے وجود اور بروز کا ظاہری سبب اور ذریعہ وہی ہیں۔ قرآن حکیم میں یہاں بھی اور اس کے علاوہ کئی دوسرے مقامات پر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے حق عبادت و بندگی کے بعد والدین کے حق کو بیان فرمایا ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرمائی ہے۔ سو اس سے حقوق والدین کی اہمیت و عظمت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ مگر آج کا مسلمان اس سے غافل و بیخبر ہے ۔ اِلَّا ماشَاء اللہ جَلَّ وَ عَلَا -
90 دوہرے حق والے پڑوسی کا بیان : یعنی رشتہ دار پڑوسی کہ اس کا حق دوہرا ہے، رشتے کا بھی، اور پڑوس کا بھی ۔ کَمَا وَرَدَ ذالک فی الحدیث الصحیح عن الصّادق المَصْدوق عَلَیْہ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلامُ ۔ چناچہ حضرت سلمان بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسکین پر صدقہ کرنے سے صرف صدقے کا ثواب ملتا ہے، جبکہ رشتہ دار پر صدقہ کرنے سے صدقہ اور صلہ رحمی دونوں کا اجر ملتا ہے۔ (رواہ احمد (رح) ، والترمذی (رح) ) ۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ " ذی القربی " میں وارد لفظِ " قربیٰ " سے قرب بھی مراد ہوسکتا ہے اور قرابت بھی۔ یعنی رشتہ داری، یعنی وہ پڑوسی جس کو پڑوس کے علاوہ قرب و اتصال بھی حاصل ہو۔ خواہ یہ قرب و اتصال رشتہ و نسب کے اعتبار سے ہو یا دین و عقیدہ کے اعتبار سے۔ (محاسن التاویل، للعلامہ القاسمی (رح) ) ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی کیسی باریکیوں کا خیال رکھا گیا ہے اس دین حنیف میں۔
91 دور کے پڑوسی سے مقصود و مراد : یعنی جس کے ساتھ کوئی رشتہ داری نہ ہو۔ اور دوسرا معنی اس کا ہوسکتا ہے " دور کا پڑوسی " یعنی جو جوار اور پڑوس کے لحاظ سے دور ہو۔ الفاظ کا عموم ان دونوں ہی کو شامل ہے اور ان دونوں ہی کے ساتھ ان کے درجہ و مرتبہ کے مطابق حسن سلوک مطلوب و محمود ہے۔ اور حضرت حسن بصری (رح) اور امام زہری (رح) جیسے حضرات سے مروی و منقول ہے کہ پڑوس کی حد چالیس گھر ہے۔ یعنی ہر شخص کے گھر سے چاروں طرف چالیس چالیس گھر تک اس کا پڑوس ہے۔ (تفسیر المراغی، معارف للکاندھلوی (رح) وغیرہ) ۔ سو دور کے پڑوسی سے مراد اجنبی پڑوسی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
92 پہلو کے ساتھی سے مقصود و مراد : یعنی جو کسی بھی جائز مقصد میں آپ کا ساتھی ہو۔ مثلًا کسی سفر میں، کسی مجلس میں، اور پڑھنے پڑھانے میں، وغیرہ وغیرہ۔ اور اسی میں بیوی بھی داخل ہے (الصفوہ، الجامع وغیرہ) ۔ سو جو بھی کسی نیک مقصد اور جائز کام میں آپ کے ساتھ ہو اس کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرو۔ (تفسیر المراغی و معارف للکاندھلوی (رح) وغیرہ) ۔ سو اس آیت کریمہ میں سب سے پہلے اللہ پاک کا حق بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ سب سے بڑا سب سے اہم اور سب سے مقدم حق ہے، کہ وہ سب کا خالق بھی ہے اور مالک بھی اور حاکم و متصرف بھی۔ اور اسی کا حق ہے اطاعت مطلقہ اور عبادت خالصہ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اسی کے حق کی ادائیگی پر دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کا مدارو انحصار ہے۔ جو لوگ خدا کا حق ادا نہیں کرتے وہ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کی توفیق سے بھی سرفراز نہیں ہوسکتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
93 { مَامَلَکَتْ } کا عموم و شمول : اس میں غلام، باندیاں، اور تمہاری ملکیت کے جانور وغیرہ سب ہی آگئے، کہ ان سب ہی کے ساتھ حسن سلوک مطلوب و مامور ہے۔ سو غلام اور باندیوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا جائے جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ کی حدیث میں فرمایا گیا کہ یہ تمہارے بھائی اور تمہارے خادم ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت رکھا ہے۔ پس جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو تو وہ اس کو اسی میں سے کھلائے جو خود کھاتا ہے اور اس کو وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے، اور ان کو ان کی طاقت سے بڑھ کر کسی کام کی تکلیف نہ دو ۔ اور اگر کبھی ایسا ہوجائے تو ان کی اس میں مدد کرو۔ (بخاری کتاب الایمان، باب المعاصی من امرالجاہلیہ، مسلم کتاب الایمان) اور جانوروں کے ساتھ حسن سلوک یہ ہے کہ ان کو بھوکا پیاسا نہ رکھے۔ اور ان سے ان کی طاقت سے زیادہ کام نہ لے۔ (المراغی، المعارف وغیرہ) ۔ جیسا کہ مختلف احادیث نبویہ میں اس کی وضاحت فرمائی گئی ہے ۔ سبحان اللہ ! دین حنیف نے جانوروں تک کے حقوق کے بارے میں بھی ایسی جامع اور پاکیزہ تعلیمات سے دنیا کو آگہی بخشی ہے، جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال اور کہیں بھی نہ ممکن ہے، نہ ہوسکتی ہے۔ یہ دین اسلام ہی کی کمال جامعیت کا نمونہ و مظہر ہے جو کہ دین فطرت اور اللہ تعالیٰ کا آخری اور کامل دین ہے۔ اور جو اس پوری کائنات کا دین ہے۔ سو اس میں ہر کسی کے حقوق کی رعایت رکھی گئی ہے اور اس کا لحاظ فرمایا گیا ہے ۔ فالحمد للہ جل و علا -
94 " مختال " اور " فخور " سے مقصود و مراد : سو " مختال " وہ ہے جو اپنے حسب و نسب کی بنا پر اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتا ہو۔ اور دوسروں کو اپنے سے کمتر اور گھٹیا جانتا ہو۔ اور " فخور " وہ ہے جو اپنی خوبیاں بیان کرکے اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہو اور دوسروں کو گھٹیا۔ اور ان دونوں خصلتوں کو یہاں اس لیے بیان فرمایا گیا کہ مختال اور متکبر انسان جب دوسروں کو اپنے سے گھٹیا سمجھے گا تو وہ دوسرے کسی کیلئے کسی حق کی ادائیگی کیلئے آمادہ اور تیار نہیں ہوگا۔ اور جو " فخور " ہوگا وہ اگر کچھ کرے گا بھی تو دکھلاوے اور فخر جتانے کیلئے کرے گا، جس سے اس کا اجر ضائع ہوجائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ بہرکیف " مختال " اور " فخور " کی ان دونوں صفتوں سے اسی ذہنیت کو واضح فرما دیا گیا جو کہ ادائیگی حقوق کی منافی ذہنیت ہوتی ہے جس کی بناء پر بگڑا ہوا انسان اپنے اسباب و وسائل کو اللہ تعالیٰ کا انعام و احسان سمجھنے کی بجائے اپنی قوت و قابلیت کا نتیجہ اور اپنی تدبیر و حکمت کا کرشمہ سمجھنے لگتا ہے، جس سے اس کے اندر تواضع اور شکر گزاری کی بجائے تکبر و گھمنڈ اور فخر و غرور پیدا ہوتا ہے اور وہ لوگوں پر احسان کرنے کی بجائے ان پر دھونس اور رعب جمانے لگتا ہے۔ سو ایسے تنگ ظرف لوگ اللہ تعالیٰ کی محبت کی بجائے اس کی نفرت کے مستحق بنتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس طرح اس کا مال خیر کی بجائے شر کا باعث بن جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:3795 بخیل کی ایک خاص خصلت کا بیان : سو یہ بخیل کی ایک خاص خصلت ہے کہ وہ دوسروں کو بھی بخل کی تعلیم دیتا ہے کہ مال خرچ کرکے تم خود محتاج ہوجاؤ گے۔ مستقبل میں کیا کرو گے۔ بچے کیا کھائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اور بخیل شخص ایسا اس لیے کرتا ہے کہ اس طرح اس کے بخل پر پردہ پڑا رہے۔ افسوس کہ یہود بےبہبود کی یہ خصلت آج بہت سے مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اور بھرپور طریقے سے پائی جاتی ہے۔ اور ایسے لوگ دوسروں کو طرح طرح سے بخل اور کنجوسی کی تعلیم و تلقین کرتے ہیں اور اس کیلئے وہ طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف بخیل شخص کی یہ ایک عام نفسیات ہے کہ وہ دوسروں کو بھی بخل کی تعلم دیتا ہے کہ دوسروں کی فیاضی سے خود اس کی بخالت کا پردہ فاش ہوتا ہے۔ اس لئے وہ اپنے عیب پر پردہ ڈالنے کے لئے دوسروں کو اس طرح کے مشورے دیتا ہے، تاکہ اس طرح کسی کی ناک باقی نہ رہے اور اس کو نکّونہ بننا پڑے۔ اس کے بخل پر پردہ پڑا رہے۔ اس طرح وہ دوروں کو بھی محروم کرنا چاہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
96 اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو چھپانا ایک مذموم خصلت ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے منع فرما دیا گیا کہ اللہ کے بخشے ہوئے فضل و کرم کو چھپانا نہیں چاہیئے کہ یہ ایک مذموم اور بری خصلت ہے۔ مگر ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے بخشے ہوئے اس فضل کو چھپاتے ہیں، تاکہ کوئی ان سے مانگ نہ لے۔ حالانکہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے کو کوئی نعمت عطاء فرماتا ہے تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا اثر اس پر ظاہر ہو۔ سو یہ کنجوس لوگوں کی ایک اور نفسیات کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی نعمتوں کو چھپاتے ہیں اور اپنے لمبے چوڑے اخراجات بیان کرتے ہیں تاکہ اس طرح ان کی کنجوسی پر پردہ بھی پڑا رہے اور دوسری طرف ہر شخص پر ان کی دھونس جمی رہے اور ادائیگی حقوق کے سلسلہ میں ان پر کسی طرف سے کوئی ملامت نہ ہو۔ سو اس طرح بخیل خود محروم سے محروم تر ہوتا جاتا ہے لیکن اس کو اس کا شعور و احساس بھی نہیں ہوتا اور وہ اپنے مال و زر پر ناگ بن کر بیٹھ جاتا ہے کہ اس سے وہ نہ خود مستفید ہو اور نہ دوسروں کو فائدہ اٹھانے دے بہرکیف اس سے واضح فرمایا گیا کہ یہ کنجوس لوگوں کی نفیات کا حصہ ہے کہ وہ اللہ کے فضل کو چھپاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
97 کافروں کیلئے ایک بڑا ہی رسوا کن عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے کافروں کے لیے ایک بڑا ہی رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور ایسا اور اس قدر رسوا کن جو ان کے تکبر اور گھمنڈ کا صحیح علاج ہوگا کیونکہ جزاء جنس عمل سے ہوتی ہے۔ سو تکبر ایسے لوگوں کو نور حق سے محروم کرکے اس ہو لناک انجام اور عقاب و عذاب الیم سے دو چار کردیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ان لوگوں کو کفر کے وصف کے ساتھ ذکر کرنے میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ایسی صفات کافروں ہی کے لائق ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و انکار اور ناشکری تمام مفاسد کی جڑ بنیاد اور سب محرومیوں اور ہلاکتوں کا سبب اور باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -