Ayah 4:159412 اہل کتاب کے ہر شخص کے حضرت عیسیٰ پر ایمان لانے کا ذکر وبیان : یعنی حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے، جب کہ وہ قرب قیامت کے موقع پر دوبارہ تشریف لائیں گے اور سب دینوں کو ختم کرکے ایک ہی دین یعنی اسلام پر دنیا کو جمع کردیں گے۔ صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے وغیرہ۔ جیسا کہ روایات میں مفصلاً مذکور ہے۔ اور خود قرآن پاک میں دوسری جگہ فرمایا گیا { وَاِنَّہ، لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلًا تَمْتَرُنَّ بِہَا } الآیۃ (الزخرف : 61) سو اس صورت میں اہل کتاب سے مراد وہ اہل کتاب ہوں گے جو اس وقت موجود ہوں گے۔ امام ابن جریرطبری جیسے محققین نے اسی احتمال کو اختیار کیا ہے اور دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ موتہ کی ضمیر مجرور کا مرجع خود وہ کتابی ہو، جس کے ایمان کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ ہر کتابی مرنے سے پہلے اپنی موت کے وقت حضرت عیسیٰ پر سچا ایمان لے آئے گا جب کہ اصل حقیقت اس کے سامنے منکشف ہوجائے گی۔ مگر اس وقت کا وہ ایمان معتبر نہیں ہوگا کہ وہ ایمان ایمان یاس اور ایمان بالمشاہدہ ہوگا، نہ کہ ایمان بالغیب، جو کہ اصل مطلوب ہے۔ (معارف للکاندھلوی، صفوۃ البیان صفوۃ التفاسیر للصابونی، محاسن التا ویل للقاسمی جامع البیان وغیرہ) ۔ اس کے علاوہ اس میں اور بھی احتمال ہیں جو کہ ہم اپنی مفصل تفسیر میں ذکر کریں گے ۔ انشاء اللہ العزیز وباللہ التوفیق ۔ یہاں اسی پر اکتفا کرتے ہیں، اختصار کے تقاضے کی بنا پر۔
413 عیسیٰ کی گواہی قیامت کے روز : سو اس روز آپ ان سب پر گواہی دیں گے کہ میں نے تو ان کو پیغام حق بلاکم وکاست پہنچا دیا تھا مگر انہوں نے نہ مانا۔ یہود نے تو اس کی تکذیب کردی، اور نصاریٰ نے میری تعلیمات کے خلاف بعد میں مجھے ہی خدا اور خدا کا بیٹا قرار دے دیا، اور توحید کے اس عقیدہ صافیہ کے خلاف شرک کو اپنایا، جس کی تعلیم و تلقین میں ان کو زندگی بھر کرتا رہا۔ سو اس طرح نصاریٰ کی اپنے پیغمبر سے غلط محبت ان کو لے ڈوبی، اور لے ڈوبے گی۔ یعنی ان کی یہ تباہی اور ہلاکت اس وقت پوری طرح عیاں ہوجائے گی جبکہ ان کے اپنے پیغمبر ان کیخلاف اس طرح صاف وصریح طور پر گواہی دیں گے۔ اسی لئے امت محمدیہ کو اس طرح کے غلو سے طرح طرح سے روکا اور خبردار کیا گیا ہے، کہ کہیں تم لوگ اپنے پیغمبر کے بارے میں اس طرح کے غلو اور افراط میں مبتلا نہیں ہوجانا جس طرح کہ اہل کتاب نے اپنے پیغمبروں کے بارے میں کیا۔ جیسا کہ اس بارے کسی نے کہا اور خوب کہا " لَسْنَا بِمُحِبِّیْنَ غُلُوّاً کَنَصَارٰی "۔ ملت وسطیٰ ہیں ہم۔ یہ مذہب ہے ہمارا۔ سو راہ حق و صواب توسط و اعتدال کی وہی راہ ہے جس پر امت محمدیہ قائم ہے اس کے سوا ہر راستہ زیغ و ضلال میں مبتلا کرنے والا اور ہلاکت و تباہی کا راستہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:160414 یہودیوں کے ظلم عظیم کا بیان : یعنی ظلمٍ کی تنوین تعظیم و تفخیم کے لئے ہے (محاسن التاویل، وغیرہ) ۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ پاک کے دین سے خود محروم ہونے، دوسروں کو بھی محروم کرنے، اللہ کے حکموں کو توڑنے، اور ان میں تحریف و تبدیل کرنے، اور اس کے دین حق کے حاملین کی توہین و تحقیر کا ارتکاب کرنے، اور حق اور اہل حق سے عداوت و دشمنی رکھنے، اور نور حق و ہدایت سے خود محروم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اس سے محروم کرنے کے لئے طرح طرح کے حیلوں حوالوں، اور منصوبوں سے کام لینے، جیسے امور سے بڑھ کر ظلم اور کیا ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہودیوں کے ایسے مظالم کی اس تذکیر و یاد دہانی سے جہاں ایک طرف یہود کیلئے یہ دعوت فکر اور تنبیہ و تذکیر ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرلیں اور ایسی ہلاکت خیزیوں سے باز آجائیں، قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وہیں دوسری طرف اسمیں اہل ایمان کیلئے یہ درس عبرت ہے کہ وہ اس طرح کی ہلاکت خیزیوں سے ہمیشہ بچ کر رہیں جن میں یہود مبتلاء ہو کر لعنت کے مورد و مستحق بنے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
415 تحریم طیبات، یہود کیلئے ایک نقد سزا : تاکہ اس طرح ان کا دائرئہ رزق تنگ ہو، اور ان کے دماغ سیدھے ہوں، اور یہ اپنی باغیانہ روش سے باز آئیں جیسا کہ دوسری جگہ اس بارے ارشاد فرمایا گیا { وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ } الٓایۃ (الانعام : 146) بہرکیف یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ظلم کا ارتکاب، اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے احکام و فرامین کی خلاف ورزی، اور ان سے سرکشی و بغاوت کی سزا اس دنیا میں بھی ملتی ہے، جب کہ اس کی اصل اور پوری سزا آخرت میں ہی ملے گی جو کہ دار الجزاء ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔
416 حق سے روکنا اور ایک یہودی خصلت : کہ یہ لوگ حق سے خود بھی رکتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں، اور قول و فعل سے جو بھی طریقہ ہو سکے اس کے ذریعے یہ حق سے روکتے ہیں۔ اور اس طرح یہ لوگ حق سے محروم ہونے اور محروم کرنے کے دوہرے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں، اور نہیں سمجھتے کہ اس سے یہ سراسر اپنا ہی نقصان کرتے ہیں، جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا { وَہُمْ یَنْھَوْنَ عَنْہُ وَیَنْئَوْنَ عَنْہُ وَاِنْ یُّہْلِکُوْنَ اِلَّا اَنُفُسَہُمْ وَمَا یَشْعَرُوْنَ } (الانعام : 26) سو دین حق سے دوری اور اس سے دوسروں کو روکنے کا جرم دوہرا اور ڈبل جرم ہے اور یہ ایسا ہولناک جرم ہے کہ آگے اس کی کو کھ سے طرح طرح کے کئی دوسرے ہولناک اور تباہ کن جرائم جنم لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:161417 یہود کی سود خوری کا بیان : سو یہ لوگ سود کھاتے ہیں حالانکہ اس سے ان کو منع کیا گیا تھا ان کے انبیاء کے ذریعے۔ اور ان کی تورات میں، جسے اب انہوں نے اپنی خواہشات کے مطابق بدل کر کچھ کا کچھ کردیا۔ اور یہ لوگ نور حق و صداقت سے محروم ہو کر ہویٰ و ہوس کے بندے بن کر رہ گئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی کتاب کی تحریف کرکے اس میں یہ تک درج کردیا کہ یہودی کیلئے غیر یہودی سے سود لینا کوئی جرم ہی نہیں۔ ہاں اگر کوئی یہودی دوسرے یہودی سے سود لے گا تو یہ جرم ہوگا جیسا کہ کتب تفسیر میں اس کی تفصیلات موجود و مذکور ہیں۔ (المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ کیونکہ ان کے نزدیک امیوں یعنی غیر اہل کتاب کا مال مار کھانے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ قرآن حکیم میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے، یعنی امیوں کا مال کھانے میں ہم پر کوئی الزام نہیں۔
418 یہود کی رشوت ستانی اور حرام خوری کا بیان : یعنی یہ لوگ دوسروں کا مال مار کھاتے ہیں رشوت وغیرہ مختلف باطل اور ناجائز طریقوں سے، کہ الباطل کا عموم ان سب ہی صورتوں کو عام اور شامل ہے۔ افسوس کہ یہی حال آج امت مسلمہ کے ایک بڑے حصے کا ہے، جو ان صریح اور کھلے حرام طریقوں کے علاوہ، گیا رہویوں، بارہویوں، اور سوغاتوں، ڈالیوں وغیرہ کے نت نئے ناموں اور مختلف طریقوں سے سادہ لوح لوگوں کو اینٹھتے اور ان کے مال بٹورتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃ اِلَّا بَاللّٰہِ الْعَظِیْمِ ۔ سو ناجائز طریقوں سے دوسروں کے مالوں کو سیمٹنا یہود بےبہبود کا طریقہ اور ان کی جبلت و عادت ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ان کی اس صفت و خصلت کو { اکالون للسحت } کے صیغہ مبالغہ کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
419 کافروں کیلئے بڑا ہی دردناک عذاب ہے : سو ایسے لوگ اپنے طور پر بیشک بڑے اور پاکباز بنتے رہیں اور اپنی " صاحبزادگی " کا دم بھرتے رہیں، اور اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتے اور کہتے رہیں، لیکن نور حق و ہدایت سے محرومی، اور حاملین حق و ہدایت، سے عداوت و دشمنی کے سبب ان کے لئے ایسا ہولناک اور درد ناک عذاب بہرحال تیار ہے، جو انہوں نے اپنے وقت پر بہرحال بھگتنا ہے کہ وہ طبعی اثر اور لازمی نتیجہ ہوگا ان کے اس کفر و انکار کا جس کو انہوں نے زندگی بھر اپنائے رکھا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 4:162420 نور علم کی عظمت شان : سو نور علم دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کیلئے شہ کلید ہے اور نور علم سے ان کے سینے معمور ومنور ہیں۔ پس نہ تو وہ ظن وتخمین کے پیچھے چلتے ہیں، اور نہ حق کے مقابلے میں مال و منال اور دنیاوی مناصب و جاہ کا کوئی ثمن قلیل (گھٹیا مول) قبول کرتے ہیں، بلکہ وہ نور علم و عرفان کی روشنی میں راہ حق و صواب پر مستقیم و جادہ پیما رہتے ہیں۔ سو ایسے خوش نصیب لوگ اس طرح کے ہولناک انجام سے محفوظ اور رب تعالیٰ کی نعمتوں اور عنایتوں سے سرفراز اور مالا مال ہوں گے۔ سو حق اور حقیقت کے علم سے سرفرازی و بہرہ مندی اور اس میں پختگی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کیلئے شہ کلید ہے۔ پس جو لوگ اس نور سے محروم ہیں وہ سراسر اندھیروں میں ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
421 سچا اور پکا ایمان ہی باعث نجات ہے : یعنی جو محض رسمی اور رواجی نہیں، بلکہ سچا پکا ایمان رکھتے ہیں (المراغی) ۔ اور جس سے ایک طرف تو وہ ایمان و یقین کی اس حلاوت سے سرشار و شاد کام ہوتے ہیں، جس کے بعد زندگی کی تلخیاں بھی تلخیاں نہیں رہتیں، اور دوسری طرف وہ حق و صداقت کی اس شاہراہ پر گامزن ہوجاتے ہیں، جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے ہم کنار و سرفراز کرتی ہے۔ اور تیسری طرف اس سے ان کا باطن ایسا منور اور اس قدر روشن ہوجاتا ہے کہ ان کو ہر موقع پر صحیح قدم اٹھانے اور صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق ملتی ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔
422 آسمانی کتابیں سب کی سب ایک ہی مصدر فیض سے : کہ یہ سب ایک ہی مصدر فیض سے صادر ہیں، اور ان سب کی بنیادی تعلیمات ایک ہی ہیں، اور وہ پہلی کتابیں بھی اپنے اپنے دور میں ہدایت و نور کا منبع و سرچشمہ تھیں، مگر ان کے ماننے والوں کی ان میں تحریفات کے علاوہ چونکہ وہ کتابیں ابدی اور دائمی تھیں ہی نہیں، بلکہ خاص خاص ادوار و اقوام کے لئے تھیں، اس لئے قرآن حکیم کی کتاب کامل کے نزول کے بعد وہ سب منسوخ ہوگئیں۔ اب صرف قرآن حکیم ہی قیامت تک کے لئے مصدر نور و ہدایت کے طور پر باقی رہے گا، کیونکہ یہی وہ کتاب کامل ہے جو کہ سابقہ تمام آسمانی کتابوں کی اصولی تعلیمات کی جامع اور ان کی محافظ و نگہبان ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری حضرت حق ۔ جل جلالہ ۔ نے خود اپنے ذمے لی ہے، ارشاد ہوتا ہے { اِنّا نحْنُ نَزّلْنَا الّذِکْرَ وَاِنَّا لَہ لَحَا فِظُوْنَ } (الحجر : 9) ۔ سو اب راہ نجات اسی کتاب حکیم قرآن مجید سے وابستگی میں اور اسی کی تعلیمات مقدسہ کی اتباع و پیروی میں منحصر ہے۔ جو لوگ اس کی روشنی سے محروم ہیں وہ سراسر اندھیروں میں ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
423 نماز کی خصوصی اہمیت : یعنی المقیمین کی نصبی حالت مخصوص با لمدح کے قبیل سے ہے (صفوۃ جامع، ابن کثیر، وغیرہ) سو نماز ایک ایسی عظیم الشان اور جامع عبادت ہے جو تمام عبادات میں ایک منفرد اور مرکزی مقام رکھتی ہے، اور انقلاب آفریں تاثیر کی حامل ہے۔ اس لئے اس کا ذکر یہاں پر بطور خاص فرمایا گیا ہے۔ اور یہ وہ عبادت مقدسہ ہے جس میں انسان اپنے ظاہر و باطن، قلب و قالب اور اعضاء وجوارح سمیت ہر اعتبار سے مصروف عبادت ہوتا ہے۔ اور یہی وہ عبادت مقدسہ ہے جس کو ایمان و کفر کے درمیان فارق قرار دیا گیا ہے اسی لیے یہاں پر اس کا ذکر خصوصی طور پر فرمایا گیا ہے۔ سو نماز کی پابندی انسان کو طرح طرح کی خیرات و برکات سے نوازتی ہے ۔ وباللہ التوفیق -
424 زکوٰۃ مالی عبادات میں سب سے اہم عبادت : سو زکوٰۃ مالی عبادات میں سب سے اہم اور افضل عبادت ہے کہ یہ وہ عبادت مقدسہ ہے جس سے ایک طرف تو مال میں بڑھوتری نصیب ہوتی ہے اور اس سے مصائب ٹلتے اور ان سے حفاظت نصیب ہوتی ہے اور دوسری طرف مومن کا دل اور اس کا باطن حب دنیا اور اس سے متعلقہ زوائل سے پاک و صاف ہوتا ہے۔ اور اس طرح اس کا مال و دولت اس کیلئے رضائے خداوندی سے مشرف ہونے کا ذریعہ وسیلہ بنتا ہے۔ اور تیسری طرف اس سے معاشرے کی حاجتوں کی تکمیل اور اس کی اصلاح ہوتی ہے۔ اور اس طرح یہ مال صاحب مال کیلئے غریبوں محتاجوں کی دعاؤں کا ذریعہ اور اس کے لیے سچی عزت کا وسیلہ بنتا ہے، جیسا کہ بدنی عبادات میں نماز سب سے اہم اور افضل ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں اسید بن سعید اور ثعلبہ بن سعید کے بارے میں نازل ہوئی جب کہ وہ یہودیت کو ترک کر کے اسلام میں داخل ہوئے (تفسیر المراغی، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو اس کا اولین مصداق اگرچہ یہ حضرات ہوں لیکن یہ ایسے ہر شخص کو عام اور شامل ہے جس کے اندر یہ صفات موجود ہوں ۔ وباللہ التوفیق -
425 اللہ اور قیامت پر ایمان کی خاص عظمت و اہمیت : یہاں پر اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان کو دوبارہ اور الگ کر کے ذکر فرمانا ان کی عظمت و اہمیت پر دلالت کرتا ہے، کہ عقائد و ایمانیات میں اسی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، اور حقیقت امر بھی یہی ہے کہ جب ان دونوں پر پکا اور پختہ ایمان نصیب ہوجائے تو انسان کی زندگی میں انقلاب برپا ہوجاتا ہے اور وہ کچھ کا کچھ بن جاتا ہے اور کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے اور اس کی زندگی نہایت پاکیزہ اور نمونے کی بن جاتی ہے یہاں تک کہ اس کا وجود سراسر خیر و برکت بن جاتا ہے اور حاملین عرش فرشتے بھی اس کے لئے دعائیں کرنے میں لگ جاتے ہیں جیسا کہ سورة مومن کی شروع کی آیات کریمات میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ وباللہ التوفیق -
426 مومنین صادقین کیلئے اجر عظیم کی بشارت : جو اتنا بڑا ہوگا کہ اس کی عظمت اور کنہہ کا ادراک بھی حضرت علام الغیوب کے سوا اور کسی کے لئے ممکن ہی نہیں، اور یہ انہی لوگوں کو نصیب ہوگا جو اپنے ایمان و یقین میں پکے اور سچے ہوں گے اور جنہوں نے اپنے اندر ان صفات و خصال کو پیدا کیا ہوگا اور اپنے آپ کو ان سے مزین کیا ہوگا اور ان کا ظاہر و باطن نور ایمان و یقین سے منور ہوجائے گا ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 4:163427 وحی محمدی کوئی انوکھی چیز نہیں : سو وحی کا یہ سلسلہ کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں، تو پھر آپ پر ان اصحاب زیغ و ضلال کا اعتراض کیوں ؟ آپ کوئی نئے اور انوکھے نبی تھوڑے ہی ہیں ؟ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا { قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ } الایۃ (الاحقاف : 9) " ان سے کہو کہ میں کوئی انوکھا رسول تو نہیں ہوں " نیز جب ان حضرات انبیائے کرام کی طرف آنے والی وحی بھی بتدریج ہی آئی، اور ان میں سے کسی کو بھی کامل کتاب یکبارگی نہیں دی گئی، تو پھر آپ ہی سے یہ مطالبہ کیوں کہ آسمان سے ہم پر پوری کتاب اتار دو تو تب مانیں گے (تفسیر المراغی، وغیرہ) ۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہنا چاہیئے کہ حضرت موسیٰ کے بارے میں اگرچہ عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ ان پر تورات یکبارگی کامل شکل میں نازل ہوئی لیکن اس کا کوئی قطعی وجود و ثبوت کہیں نہیں۔ اس لئے محققین نے اس عمومی روایت اور تاثر کا انکار کیا ہے ۔ والتفصیل فی المطولات ۔
428 زبور کا معنیٰ و مطلب اور اس سے مراد ؟ : " زبور "، " زبر " سے مشتق و ماخوذ ہے جسکے معنی کتابت کے ہیں اور زبور بمعنی مفعول یعنی مکتوب کے ہے۔ اور اس طرح یہ لفظ اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے ہر کتاب کو شامل ہے لیکن یہاں پر اس سے مراد وہ کتاب ہے جو حضرت داؤد پر اتاری گئی۔ (قرطبی، مراغی، فتح القدیر اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو اس کو بھی اسی طرح تدریج کے ساتھ ہی اتارا گیا نہ کہ کامل طور پر یکبارگی۔ (معارف للکاندھلوی) ۔ اور زبور کا علیحدہ ذکر اس کی اس خصوصی شان کی بناء پر کیا گیا جو کہ اہل کتاب کے یہاں اس کے لئے پائی جاتی تھی (المراغی وغیرہ) ۔
Ayah 4:164429 جلیل القدر حضرات انبیاء کا ذکر : مکی سورتوں میں (جامع، محاسن، وغیرہ) جیسا کہ سورة الانعام کی آیت نمبر 85 تا 87 میں کئی جلیل القدر حضرات انبیائے کرام کا ذکر فرمایا گیا ہے، جہاں ان حضرات کے اسماء گرامی کا ذکر فرمایا گیا ہے اور سورة ھود اور شعراء وغیرہ میں ان کے تفصیلی ناموں کو ذکر اور بیان فرمایا گیا ہے۔ اور ان سب حضرات کا ذکر اس لیے نہیں فرمایا گیا کہ عبرت و تذکیر وغیرہ کے جن اہم مقاصد کیلئے ان قصوں کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ انہی حضرات کے ذکر سے پورے ہوجاتے ہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اس لیے سب انبیاء و رسل کے تذکرے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ مقصود محض قصہ گوئی یا تاریخ کا بیان کرنا نہیں بلکہ درس عبرت و بصیرت دینا تھا جسکے لیے مذکورہ حضرات کا ذکر ہی کافی تھا۔
430 سب رسولوں کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے نہیں فرمایا گیا : کہ سب کی تفصیل بیان کرنا اور ان کے حالات و تاریخ کا ذکر کرنا ضروری ہی نہیں تھا، کیونکہ ان قصوں کے ذکر کرنے سے اصل مقصود ہے راہ حق و ہدایت کو واضح کرنا۔ اس ضمن میں ان کے قصوں سے مواد عبرت و بصیرت مہیا کرنا، پیغمبر کے لئے اور آپ ﷺ کے توسط سے قیامت تک آنے والے سب اہل حق کے لئے تثبیت قلب اور ثابت قدمی کے لئے سامان کرنا تھا۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا { وَکُلاً نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ أنْبَائِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُوَادَکَ } الایۃ (ھود : 120) " اور ان پیغمبروں کے احوال میں سے جو بھی کچھ ہم آپ کو سناتے ہیں (اے پیغمبر ! ) اس سے آپ کے دل کو مضبوط کرتے ہیں " اور یہ سب کچھ انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کے ان قصوں میں بدرجہ کمال و تمام موجود ہے، جو قرآن پاک میں ذکر فرما دئے گئے ہیں۔ اور اس حد تک کہ اس میں مزید کسی اضافہ کی نہ ضرورت ہے نہ گنجائش۔ ورنہ یوں تو ہر امت و جماعت کو کسی نہ کسی پیغمبر کی تعلیمات سے نوازا گیا ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا { وََاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلا فِیْہَا نَذِیْرٌ } (فاطر : 24) " ہر امت میں کوئی نہ کوئی نذیر ہو گزرا ہے " اور ہر امت میں کوئی نہ کوئی رسول ضرور آیا ہے ارشاد ربانی ہے { وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلاً اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ } الآیۃ (النحل : 36) " اور بلاشبہ ہم نے ہر امت میں ایک نہ ایک رسول یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ (لوگو ! ) بندگی اللہ ہی کی کرو، اور شیطان (اور اس کی ذریت) سے بچ کر رہنا " کم و بیش سوا لاکھ انبیائے کرام کی اس عظیم الشان تعداد کے حالات تو در کنار، ان میں سے اکثریت کے بارے میں یہ بھی پتہ نہیں کہ ان کے نام کیا تھے، اور ان کی بعثت کب، کہاں اور کن کن امتوں کی طرف ہوئی تھی، اور ان کی امتوں نے ان سے کیا سلوک کیا، ان کی موت کب، کہاں، اور کس حال میں ہوئی، ان کی تجہیز و تکفین کہاں اور کس طرح ہوئی وغیرہ وغیرہ۔ پس اس آیت کریمہ سے اہل بدعت کے علم غیب کلی وغیرہ کے خود ساختہ عقیدوں کی جڑ نکل جاتی ہے کہ اس آیت کریمہ کی تصریح اور واقعاتی شہادت کے مطابق ان تمام حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ میں سے اکثر کے حالات زندگی کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔ یہاں تک کہ ان کی قبروں کے نشان بھی کہیں موجود نہیں ہیں، اور جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا ہے کہ اس سب حضرات سے متعلق یہ سب کچھ کو بیان کرنے کی کوئی ضرورت بھی نہ تھی۔ اہل بدعت کے بعض بڑے تحریف پسندوں نے اپنے شرکیہ عقیدے کو حق و صواب کی اس ضرب کاری سے بچانے کے لئے اپنی عادت مالوفہ کے مطابق اس موقع پر جن رکیک تاویلات سے کام لیا ہے، وہ سب واہی اور ان کے عجزو درماندگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے اہل بدعت کے علم غیب کے شرکیہ عقیدے کی جڑ نکل جاتی ہے ۔ فالحمدللہ ۔ پس علم غیب کلی اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص اور اسی کی صفت و شان ہے۔
Ayah 4:165431 پیغمبروں کا کام انذار وتبشیر : یعنی ان کا کام اور منصب ماننے والوں کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور جنت کی سدا بہار نعمتوں کی خوشخبری سنانا اور نہ ماننے والوں کو ان کے برے انجام سے خبردار کرنا تھا اور بس۔ اس سے بڑھ کر پیغام حق کو منوا لینا نہ تو ان حضرات کے بس میں تھا اور نہ ہی نہ ماننے والوں کو سزا دینا ان کے اختیار میں تھا اور نہ ہی اس ضمن میں ان لوگوں کے فرمائشی معجزوں کو پورا کرنا ان کے ذمے تھا۔ سو جن خوش نصیبوں نے پیغمبروں کے اس انذاز وتبشیر پر کان دھرے اور ان کی دعوت کو قبول کیا وہ راہ حق و صواب سے سرفراز ہو کر دارین کی سعادتوں سے بہر ور ہوگئے اور جن بدبختوں نے اس سے اعراض و انکار کیا وہ محروم رہ گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے جس طرح اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے، بلکہ اختیار کلی بھی اللہ تعالیٰ ہی کی صفت اور اسی کی شان ہے۔ سبحانہ وتعالی۔
432 رسولوں کی بعثت قطع حجت کیلئے : یعنی اس عذر کو قطع کرنے کیلیے کہ ہمارے پاس کوئی رسول نہیں آیا تھا، ورنہ اگر ہمارے پاس کوئی رسول آجاتا تو ہم ضرور اسے مان کر راہ حق و ہدایت پر آجاتے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَلَوْ اَنَّا اَہْلَکْنَاہُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِہ لَقَالُوْا لَوْلآ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلاً فَنَتَّبِعَ اٰیَاتِکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَذِلَّ وَنْخْزٰی } (طہٰ : آیت نمبر : 134) اور حجت تو اللہ پاک پر اس کے بندوں کی طرف سے کوئی ہو ہی نہیں سکتی کہ وہ خالق اور مالک و مختار ہے۔ جو چاہے کرے۔ مگر یہ اس کا انتہائی کرم و احسان ہے کہ اس نے بندوں کے اس عذر کو بھی حجت سے تعبیر فرمایا کہ اپنے بندوں پر اس کی جو رحمت اور عنایت ہے اس کی بناء پر ان کا یہ عذر بھی بمنزلہ حجت کے ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو رسولوں کی بعثت کے بعد لوگوں کیلیے ایسا کوئی عذر بھی باقی نہیں رہے گا کہ اب انکے پاس اللہ کا رسول آگیا اور کھلے اور روشن دلائل کے ساتھ آگیا۔ اور یہی قرآن ان کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
Ayah 4:166433 اللہ کی گواہی وحی کی حقانیت و صداقت پر : سو اللہ اپنی وحی اور اپنے رسولوں کی صداقت و حقانیت کی گواہی دیتا ہے، اپنے قول و کلام سے کہ وہ اس میں جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس حقیقت کو واضح اور آشکار کرتا ہے کہ یہ کلام کلام الہٰی ہے۔ اس میں نہ کسی وسوسہئِ انسانی کا کوئی عمل دخل ہوسکتا ہے، نہ کسی دغدغہئِ شیطانی کا۔ بلکہ یہ خالص تنزیل ربانی ہے۔ اس طرح یہ قرآن خود شاہد بھی قرار پاتا ہے اور مشہود علیہ بھی (الجواھر، وغیرہ) ۔ سو اس کو پیش کرنے والے رسول بہرحال سچے ہیں۔
434 وحی خداوندی کا نزول علم خداوندی کے ساتھ : اور جب اس وحدہ لاشریک کا علم کامل و شامل، اور محیط و بےمثال ہے تو اس کا یہ کلام معجز نظام بھی اسی عظمت و شان کا حامل و علمبردار ہے۔ اس کے علوم و معارف، اور معانی و مطالب بےمثال و لاجواب، اور اس کا اسلوب بیان ایسا بلیغ و معجز کہ اس کے مقابلے سے دنیا ساری عاجز ہے۔ اور ایسے علوم و معارف کے ساتھ اس کو اتارا گیا ہے جن کا نہ کوئی کنارہ ہے اور نہ کوئی بدل کہ اس کی شان ہے " لَا تْنقَضِیْ عَجَائبُہَ " اور ایسے فیض ہدایت و معرفت کے ساتھ کہ جس کی نہ کوئی نظیر ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے، کہ ہدایت تو بس اسی کی ہدایت ہے۔ نیز اپنے اس علم کے ساتھ کہ اس قرآن کے حامل آپ کے رسول ہی ہوسکتے ہیں اور آپ ﷺ ہی کا سینہ ہے جو اس کے علوم و معارف کو سنبھال سکے { اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ } یعنی وہ وحدہ لا شریک جانتا اور پوری طرح جانتا ہے کہ رسالت و پیغمبری کے شرف سے کس کو مشرف فرمایا جائے۔
435 اللہ گواہی دینے کیلئے کافی ہے : اور اتنا کافی کہ اس وحدہ لاشریک کی گواہی کے بعد کسی اور گواہی کی کوئی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی ۔ سبحانہ تعالیٰ ۔ سو اللہ تعالیٰ نے جب آپ کی صداقت و حقانیت کی گواہی دے دی تو پھر کوئی اگر نہ مانے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے سوائے اس کے کہ انکار کرنے والا خود محروم ہو کر شقاوت اور ہلاکت کے ہولناک گڑھے میں جاگرے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 4:167–168436 ضلال واضلال کے مرتکب دور کی گمراہی میں ہیں : کہ انہوں نے ضلال اور اضلال یعنی گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کے ڈبل جرم کا ارتکاب کیا ہے اور وہ نور حق و ہدایت سے خود بھی محروم ہوئے اور دوسروں کو بھی محروم کیا۔ اور پھر اپنے کئے پر نہ وہ نادم ہوئے اور نہ انکو توبہ اور رجوع الی الحق کی توفیق وسعادت نصیب ہوئی۔ سو ایسے لوگ شیطان کی راہ پر چل کر ایسے سیاہ باطن اور راہ حق و ہدایت سے اتنے دور ہوگئے کہ راہ ِحق کی طرف رجوع کی توفیق ہی ان سے سلب ہوگئی اور قدرت کا دستور اور قانون یہی ہے کہ جو گمراہ اپنے آپ کو گمراہ سمجھنے کی بجائے حق پر سمجھے وہ گمراہی کی دلدل سے کبھی نہیں نکل سکتا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:169438 دوزخیوں کو دوزخ میں ڈالنا بھی عدل و انصاف کا تقاضا ہے : کہ باغیوں اور سرکشوں کو سزا دینا اس کے عدل و انصاف کا تقاضا ہے اور اس کے لئے اس نے اپنی مخلوق کو پوری طرح خبردار بھی کردیا، تاکہ کل کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے پتہ نہیں تھا۔ سو انذار و تبلیغِ حق سے اعراض و انکار کرنے والوں کو دوزخ میں ڈالنا بھی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے عدل و انصاف کا تقاضا ہے تاکہ ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا پورا صلہ اور بدلہ ملے۔
Ayah 4:170439 ایمان لانے میں خود ایمان والوں کا بھلا : کہ اس سے تمہیں ظاہر و باطن کی طہارت و پاکیزگی نصیب ہوگی، اور دنیا میں تم حیا تِ طیبہ سے ہم کنار و بہرہ ور ہوؤ گے، اور آخرت میں اس سے تمہیں جنت کی عظیم و سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہوگی۔ سو ایمان لانے میں خود ایمان لانے والوں کا اپنا ہی بھلا اور فائدہ ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی ۔ وباللہ التوفیق -
440 آسمانوں اور زمین میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے : کہ اس سب کا خالق بھی وہی ہے، مالک بھی وہی، اور اس پر حکم و تصرف بھی اسی کا چلتا ہے، تو پھر تمہارے کسی عمل سے اس کے کسی نفع و نقصان کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ وہ تو تمہیں ایمان کی یہ دعوت محض اپنی رحمت کی بناء پر، خود تمہارے ہی بھلے اور فائدے کے لئے دے رہا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کہ وہ رحمان و رحیم بھی ہے اور ستار و کریم بھی ۔ جل و علا شانہ ۔ سو یہاں سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت آشکارا وعیاں ہوجاتی ہے کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اس مخلوق اور اس کی اس کائنات کے ازخود اور اپنے طور پر حصے بخرے کرکے ان کو مختلف فرضی اور خودساختہ ہستیوں اور سرکاروں کے ناموں پر تقسیم کر رکھا ہے کہ یہ فلاں کی نگری اور یہ فلاں کی نگری اور یہ فلاں کا ایریا ہے وغیرہ وغیرہ۔ تو وہ سب جھوٹ و فریب اور غلط اور بےبنیاد ہے اور اس سے آگے طرح طرح کی شرکیات کے راستے اور دروازے کھلتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ نیز اس ارشاد ربانی سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جب اس ساری کائنات کا خالق ومالک وہی وحدہ لاشریک ہے تو ہر طرح کی عبادت و بندگی بھی اسی کا حق ہے۔ اس کے سوا اور کسی کیلئے عبادت و بندگی کی کوئی بھی قسم کسی بھی شکل میں بجا لانا ظلم عظیم ہے۔ نیز اس سے یہ حقیقت بھی عیاں ہوجاتی ہے کہ جب اس ساری کائنات کا خالق ومالک وہی وحدہ لاشریک ہے تو اس پر حکم و قانون بھی اسی کا چلے گا ۔ سبحانہ وتعالی -
Ayah 4:171441 دین میں غلو سے ممانعت : کہ خدا کے بندوں کو خدا بنا بیٹھو، جیسا کہ تم نے عزیر اور عیسیٰ کے بارے میں کیا اور کہا کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ غلو یعنی حد سے بڑھنا تمام فساد کی جڑ اور خرابی کی اصل بنیاد ہے کہ اس کے باعث انسان گمراہی میں کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔ اس لئے قرآن حکیم نے اس پر کاری ضرب لگائی ہے، لیکن افسوس کہ اس کے باوجود امت مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ آج اسی مرض میں مبتلا ہے، اور بری طرح مبتلا ہے، اس نے خدا کے بندوں میں سے کتنوں ہی کو حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھا ہے، اور محراب و منبر سے قرآن و حدیث کا نام لے کر اسطرح کے غلو کو حق بجانب ثابت کرنے کی علانیہ کوشش کی جا رہی ہے، اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ہمارے ملک کا ایک مشہور بدعتی ملاں جو ابھی چند ہی سال قبل فوت ہوگیا ہے عام جلسوں میں کہتا تھا کہ او وہابیا، تیری گولی قبض کشا ہے تو علی مشکل کشا کیوں نہیں، مگر سننے والوں میں کوئی نہیں ہوتا تھا جو اس یاوہ گوئی پر اس کا منہ بند کرتا، اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ تعزئے کے گھوڑے کو جو کہ تانگہ کھینچنے والا ایک جانور ہے، اس کو بھی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے منصب پر بیٹھا دیا گیا اور عورتوں کو بچے دلوانے اور دوسری حاجتیں پوری کروانے کے لئے اس کے نیچے سے گزارا جاتا ہے۔ غلو اور گمراہی کی ان حدوں کو تو اہل کتاب کے غلو پسندوں نے بھی کبھی نہیں چھوا ہوگا۔ یہاں تک کہ بعض غالیوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ۔ وہی جو مستویئِ عرش تھا خدا ہو کر۔ اتر پڑا وہ مدینہ میں مصطفیٰ ہو کر ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ خود اپنی امت کو تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ خبردار میرے بارے میں تم اس طرح غلو پسندی اور مبالغہ آمیزی سے کام نہ لینا جس طرح کہ نصاریٰ نے عیسیٰ بیٹے مریم کے بارے میں کیا۔ سوائے اس کے نہیں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پس مجھے تم لوگ اس کا بندہ اور رسول ہی کہو (بخاری : کتاب الانبیائ) کہاں کتاب و سنت کی یہ واضح تعلیمات اور کہاں مسلمان کہلانے والے ان جہلاء کی یہ شرکیات ؟ سو اس ارشاد سے دین میں غلو پسندی سے منع فرما دیا گیا کہ اسی سے آگے فتنہ و فساد کے طرح طرح کے دروازے کھلتے ہیں اور طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کیا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔
442 اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو : کہ وہ وحدہ لاشریک ہے۔ نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔ اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر و شریک ہے۔ وہی حاجت روا و مشکل کشا ہے۔ سب اس کے محتاج اور وہ سب سے غنی و بےنیاز۔ ہر طرح کی عبادت اسی کا حق ہے۔ جو کچھ مانگنا ہو اسی سے مانگو ۔ ولنعم ماقیل ۔ جو خود محتاج ہو دوسروں کا اس سے مدد کا مانگنا کیا ؟ بس اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہی کہو اور ویسا ہی عقیدہ رکھو جیسا کہ نقل صحیح، دلیل صریح اور برہان قاطع سے ثابت ہو اور ان حدود کے اندر ہو جو کہ اس خالق ومالک نے مقرر فرمائی ہیں۔ ان سے باہر نہ نکلو۔ یہی ہے سلامتی کی راہ۔ سو اس ارشاد سے غلو پسندی کا دروازہ بند فرما دیا گیا کیونکہ غلو در حقیقت جنم ہی اس بات سے لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی بات کو منسوب کیا جائے جو اس نے فرمائی نہ ہو۔ سو اگر اس کی طرف وہی بات منسوب کی جائے جو اس نے فرمائی ہو تو اس سے کسی فتنے یا غلو کے پیدا ہونے اور جنم لینے کا کوئی سوال نہیں۔ فتنے کا دروازہ اسی وقت کھلتا ہے جب کہ اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کی جائے۔ جو اس نے فرمائی نہ ہو۔ یہی چیز بدعت ہے اور اسی سے شیطان کو دین میں گھسنے اور اس میں فساد برپا کرنے کا راستہ ملتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔
443 عیسیٰ مریم کے بیٹے ہیں : پس وہ اللہ کے بیٹے نہیں مریم کے بیٹے ہیں۔ نیز وہ بغیر باپ کے محض اللہ پاک کی قدرت سے پیدا ہوئے۔ اس لئے ان کی نسبت باپ کی بجائے ان کی والدہ ماجدہ کی طرف کی جاتی ہے جب کہ عام آدمی کی نسبت اس کے باپ کی طرف ہوتی ہے نہ کہ ماں کی طرف۔ کیونکہ وہ باپ کے معروف و مشہور اور ظاہری سبب کے بغیر اور عام معمول کے خلاف محض اللہ تعالیٰ کے حکم و فرمان اور کلمہ " کن " سے پیدا ہوئے تھے ۔ عَلٰی نَبِیّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلوۃ والسّلام ۔ اور یہی ہے حضرت عیسیٰ کی اصل حقیقت۔ اس کے خلاف ان کے بارے میں جو بھی کچھ کہا گیا یا مانا گیا وہ سب بےحقیقت اور افراط وتفریط پر مبنی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے حضرت عیسیٰ کے بارے میں وہ صحیح بات بتلا دی گئی جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کے بارے میں فرمائی کہ وہ مخلوق اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ ان کی پیدائش توالد و تناسل کے عام اور معروف طریقے کے برعکس اللہ تعالیٰ کے کلمہ " کن " سے ہوئی جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کی طرف القاء فرمایا تھا۔ اور ان کو روح بھی خدا ہی کی طرف سے عطاء ہوئی تھی۔ سو ان کی خارق عادت ولادت کوئی ایسی چیز نہیں جس کی بنا پر ان کو خدا مانا جائے اور خداوند قدوس کی خدائی میں شریک جانا جائے ۔ والعیاذ باللہ ۔
444 عیسیٰ اللہ کے رسول ہیں : سبحان اللہ ! قرآن پاک کا اعجاز ملاحظہ ہو کہ اس ایک ہی لفظ " رَسُوْلُ اللّٰہِ " سے یہود کی بھی تردید ہوگئی جو کہ آپ ﷺ کے نسب شریف میں طعن کرتے تھے کہ معاذ اللہ اگر عیسیٰ ایسے ہوتے جیسا کہ تم کہتے ہو اے یہود بےبہبود، تو ان کو کبھی منصب رسالت سے سرفراز نہ فرمایا جاتا، کہ ایسا شخص کبھی اللہ کا رسول نہیں ہوسکتا۔ اور اسی لفظ سے نصاری کی بھی تردید ہوگئی کہ آنجناب نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے بلکہ اس کے رسول اور پیغمبر تھے اور بس (علیہ الصلوۃ والسلام) لہذا ان کو خدا یا خدا کا بیٹا ماننا بھی غلط اور کفر ہے کہ آپ خدا یا خدا کے بیٹے نہیں تھے بلکہ اس کے پاکیزہ بندے اور رسول تھے۔ سو رسول اللہ کے ایک ہی لفظ سے یہود اور نصاری دونوں کے کفر و شرک کی جڑ کٹ گئی ۔ والحمد للہ ۔ سو حضرت عیسیٰ کی ولادت خرق عادت کے طور پر اسی طرح خداوند قدوس کے کلمہ کن سے ہوئی جس طرح کہ حضرت آدم کی پیدائش اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن سے ہوئی تھی۔ سو اگر خرق عادت ولادت کی بنا پر حضرت آدم خدا نہیں بن سکے تو پھر حضرت عیسیٰ کیسے ہوسکتے ہیں جبکہ حضرت آدم کا معاملہ اس سلسلے میں حضرت عیسیٰ سے بھی کہیں بڑھ کر ہے کہ وہ ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے تھے۔ جبکہ حضرت عیسیٰ کی ولادت باپ کے بغیر صرف ماں سے ہوئی تھی۔
445 عیسیٰ کو " کلمۃ اللہ " کہنے کی وجہ ؟ : کہ آپ (علیہ السلام) عام طریقے کے خلاف بغیر باپ کے محض اپنی والدہ ماجدہ سے براہ راست اللہ پاک کے حکم اور کلمہ کن سے پیدا ہوئے تھے۔ اسی لئے آپ (علیہ السلام) " کلمۃ اللہ "، یعنی " فرمان الہی " کہلاتے ہیں۔ پس یہود بےبہبود کا آپ کے نسب طاہر میں طعن کرنا، اور آپ کو ولدالزنا قرار دینا ۔ والعیاذ باللہ ۔ کفر اور ظلم ہے۔ اور نصاریٰ کا آپ (علیہ السلام) کو آپ (علیہ السلام) کی اس معجزانہ ولادت کی بناء پر خدا اور خدا کا بیٹا قرار دینا بھی کفر و شرک اور صریح ظلم ہے کہ ماں کے پیٹ سے جنم لینے والا نہ خدا ہوسکتا ہے نہ خدائی میں شریک۔ پس اصل حقیقت حضرت عیسیٰ کی یہی تھی کہ آپ اللہ کے برگزیدہ بندے اور سچے رسول اور فرمان خداوندی تھے اور بس۔ اس کے سوا حضرت عیسیٰ کے بارے میں افراط وتفریط پر مبنی ہر قول باطل اور غلط ہے۔
446 عیسیٰ کے " روح اللہ " ہونے کا مطلب ؟ : جو باپ کے توسط کے بغیر محض جبریل امین کے نفخہ روحانیہ کے اثر سے مریم صدیقہ کے بطن طاہر میں منتقل ہوئی۔ سو آپ اپنی اس معجزانہ ولادت کی بنا پر اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی قدرت اور اس کی وحدانیت کا ایک منفرد اور یکتا نمونہ ہیں۔ اسی لئے آپ (علیہ السلام) کی اس معجزانہ ولادت کا ذکر قرآن حکیم میں فرمایا گیا ہے۔ ورنہ عام معمول کے مطابق ہونے والی کسی بھی ولادت کا اس میں کہیں بھی اس طرح ذکر نہیں فرمایا گیا۔ سو حضرت عیسیٰ اللہ تعالیٰ کی وہ پاکیزہ روح تھے جو والد کے توسط کے بغیر محض قدرت خداوندی سے معجزانہ طور پر دنیا میں آئی تھی۔
447 مت کہو کہ خدا تین ہیں : اللہ، مریم، اور عیسیٰ یا باپ، بیٹا اور روح القدس۔ جیسا کہ تم کہتے ہو۔ اور ان کو اقانیم ثلثہ قرار دیتے ہو اور پھر " تین ایک میں " اور " ایک تین میں " کا وہ نامعقول اور ناقابل فہم فلسفہ بگھارتے ہو جو نہ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔ بھلا جھوٹ کے پاؤں تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ سو تثلیث فی التوحید، اور توحید فی الثلیث کے اس مشرکانہ اور کافرانہ گورکھ دھندے سے نکل کر تم لوگ توحید کے عقیدئہ صافیہ کو اپنا لو تاکہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہم کنار کرنے والی شاہراہ پر آ سکو، قبل اس سے کہ عمررواں کی فرصت محدود تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تم ہلاکت و تباہی کے دائمی گڑھے میں گر جاؤ ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ شرک کا جرم و گناہ سب سے بڑا جرم اور ناقابل معافی گناہ ہے کہ یہ ظلم اور بغاوت کا گناہ ہے جو اس وقت تک معاف نہیں ہوسکتا جب تک انسان سچے دل سے توبہ کرکے اس سے باز نہ آجائے ۔ والعیاذ باللہ ۔
448 کفر و باطل سے باز آنے میں خود تمہارا ہی بھلا ہے : کہ اس سے تم شرک کے وبال و انجام سے بچ جاؤ گے، اور توحید کے عقیدئہ صدق و صفا کو اپنانے سے تمہیں دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے سرفرازی نصیب ہو سکے گی۔ پس تم لوگ کفر و شرک کی ان باتوں سے باز آکر حق و ہدایت اور توحید و اخلاص کی وہی بات کہو جو سب انبیاء و رسل نے کہی کہ معبود برحق صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اس کا کوئی بھی شریک نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس تم لوگ " تین ایک میں اور ایک تین میں " کے اس نامعقول چکر اور خلاف عقل و نقل گورکھ دھندے سے باہر نکلو، اور حق و ہدایت کی شاہراہ کو اپناؤ ورنہ تمہاری شامت آ جائیگی۔ اللہ ہی الٰہ اور معبود برحق ہے۔ اس کی الوہیت میں کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
449 معبود برحق اللہ ہی ہے : اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے، نہ کسی کو عبادت کا کوئی حق پہنچ سکتا ہے۔ پس سجدہ، رکوع، قیام کرنا، طواف کرنا، اور پھیرے لگانا، نذریں ماننا، نیازیں دینا، حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے مافوق الاسباب طریقے سے غائبانہ پکارنا وغیرہ امور میں سے کوئی بھی بات اس وحدہ لا شریک کے سوا اور کسی کے لئے جائز نہیں، کہ یہ سب ہی مختلف شکلیں ہیں عبادت و بندگی کی، اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کے لئے مخصوص و مختص ہے، سبحانہ و تعالیٰ اس کے سوا کسی اور کیلئے اس کو بجا لانا شرک ہوگا، والعیاذ باللہ
450 اللہ کی کوئی اولاد نہیں : کہ اولاد کا ہونا مستلزم ہے حدوث و تجزی وغیرہ نقائص و حوائج کو، اور وہ ایسے تمام تصورات و علائق سے پاک ہے، سبحانہ و تعالی، سب اس کے محتاج اور وہ سب سے اور ہر طرح اور ہر اعتبار سے غنی و بےنیاز ہے، نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی کی اولاد، اور اس کی صفت و شان ہے { لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہٗ کُفُوًا اَحَدٌ } نیز اولاد کیلئے بیوی کا ہونا ضروری ہے اور اس وحدہ لاشریک کی نہ کوئی بیوی ہے نہ ہوسکتی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اَ نّی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَکُنْ لَہٗ صَاحِبَۃٌ } الاٰیۃ کہ " اس کے لئے کوئی اولاد کس طرح ممکن ہوسکتی ہے جب کہ اس کے لئے کوئی بیوی ہی نہیں ؟ " سو یہ بات اس کی صفات الوہیت کے منافی ہے کہ اس کی کوئی اولاد مانی جائے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
451 زمین و آسمان میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے اور وہی کارساز ہے سب کا : اور جس کی یہ شان ہے کہ وہ تنہا سب کی کارسازی فرماتا ہے، اس کو کسی اولاد وغیرہ کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے ؟ پس اس کی معرفت کا ایک اور صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ اس کو اسی طرح مانا جائے جیسا کہ اس نے اپنی کتاب حکیم میں خود بتایا ہے، اور جس طرح کہ اس کے رسول اکرم ﷺ نے سکھایا بتلایا ہے۔ اس کے بغیر اس کی معرفت سے سرفرازی کا کوئی اور طریقہ ممکن نہیں اور دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ اور ہدایات عالیہ کے مطابق یہ پوری کائنات اور اس کی ہر چیز اس خالق ومالک مطلق کی مخلوق اور اس کی مملوک ہے اور اس پوری کائنات میں کوئی بھی چیز یا ہستی ایسی نہیں جو اس کی خدائی میں کسی بھی طرح اور کسی بھی درجے میں شریک وسہیم ہوسکے۔ وہ ایسے تمام شوائب اور اس طرح کے جملہ تصورات سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 4:172452 حضرت مسیح کو اللہ کا بندہ ہونے سے عار نہیں تھی : اور جب وہ تھے ہی اللہ کے بندے اور اس کے رسول تو پھر ان کو اس سے کوئی عار کس طرح ہوسکتی تھی ؟ روایات کے مطابق نصاریٰ کے ایک وفد نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ آپ ہمارے ساتھی یعنی حضرت عیسیٰ کو عیب کیوں لگاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ کیسے ؟ کہا کہ آپ ان کو " عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہٗ "، " اللہ کا بندہ اور اس کا رسول " کہتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ نہ تو کوئی عیب ہے، اور نہ حضرت عیسیٰ کو اس سے کوئی عار ہوسکتی ہے، تو اس پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں (اسباب النزول للواحدی وغیرہ) سو یہ وہی بیماری ہے جس میں آج ہمارے بہت سے اہل بدعت وغیرہ مبتلا ہیں کہ یہ بھی اللہ کے رسول کو بندہ اور بشر کہنا آپ ﷺ کی توہین سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے پنجاب وغیرہ کے بعض علاقوں میں { اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ } جیسی آیات کریمہ کی تلاوت اور نماز میں ان کو پڑھنا بھی توہین سمجھا جاتا ہے، اور اس پر قتل و خونریزی تک کی نوبت بھی آئی ہے۔ تو دیکھا آپ نے کہ ایسے لوگ کس طرح { تَشَابَہَتْ قُلُوْبُہُمْ } کا مصداق بن رہے ہیں ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ اسلام کی مقدس تعلیمات میں " عَبْدُہ وَرَسُوْلُہ " کے اقرار کو ایمان کے ثبوت و وجود میں اساسی اور بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
Ayahs 4:173–174453 اہل ایمان کیلئے بھرپور اجر کا وعدہ و خوشخبری : جس سے وہ ان کو اپنے کرم سے نوازے گا، کہ نوازنا اور کرم فرمانا اس کی شان ہے ۔ جَلّ جَلَالُہ وَعَمَّ نَوَالُہ ۔ سو وہ اپنے ایمان و یقین کی پختگی اور اعمال صالحہ کی پونجی کی بناء پر جس قدر اجر وثواب کے مستحق ہوں گے وہ ان کو ان کے ان اجور سے بغیر کسی کمی کے نوازے گا، اور کمی کی بجائے وہ انکو اپنے فضل و کرم سے مزید اجر وثواب سے نوازے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ایمان و یقین اور عمل صالح کی راہ ہی نجات اور سلامتی کی راہ ہے۔ جن لوگوں نے اس راہ کو اپنایا ہوگا ان کو اللہ تعالیٰ ان کے اس اجر وثواب سے نوازیگا جس کے وہ مستحق ہوں گے اور ان کو وہ مزید فضل بھی عطا فرمائیگا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی عبادت و بندگی کو عار سمجھا اور اپنے غرور و استکبار کی بنا پر اس سے منہ موڑا ہوگا ان کو وہ درد ناک عذاب دے گا جس کے وہ اپنے کفر و انکار کی بنا پر مستحق ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔
454 حق سے محروم لوگوں کیلئے نہ کوئی یار ہوگا نہ مددگار : جو ان کو اس کے عذاب سے چھڑا سکے، یا کم از کم زبانی کلامی ہی ان کے لئے کسی طرح کی ہمدردی کا اظہار کرسکے۔ سو اپنی بڑائی کے گھمنڈ کی بناء پر حق سے محروم ہونے والے بڑے خسارے میں ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جن دیویوں دیوتاؤں کی حاجت روائی و مشکل کشائی پر انہوں نے بھروسہ کر رکھا ہے اور جن مختلف خود ساختہ اور من گھڑت سہاروں اور آسروں پر انہوں نے تکیہ اور آسرا کر رکھا ہے ان میں سے کوئی بھی چیز ان کے کام نہ آسکے گی۔ اور ان میں سے کسی میں ایسا کوئی بل بوتا نہیں ہوگا کہ جو ان کے کچھ کام آسکے اور ان کو حضرت حق ۔ جل مجدہٗ ۔ کی گرفت و پکڑ سے چھڑا سکے اور کسی بھی درجے میں ان کی کوئی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرسکے۔
Ayah 4:175458 سیدھی راہ سے سرفرازی کی صورت : سو ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ڈال دیگا سیدھی راہ پر جو کہ عبارت ہے اسلام سے جو کہ دنیا میں بھی ہر موقعے پر سیدھی راہ کی نشاندہی کرتا ہے اور آخرت میں بھی جنت کی سدا بہار نعمتوں اور رضائے خدا وندی کی سب سے بڑی دولت سے سرفرازی کا ذریعہ بنے گا ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ اَہْلِہَا بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو اس دین حنیف سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی ہے۔ اور اس سے محرومی دارین کی سعادت و سروخروئی سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو صدق دل سے ایمان لانے والوں کو اللہ تعالیٰ حق و ہدایت کی اس راہ راست سے سرفراز فرمائیگا جو ایسے خوش نصیبوں کو دنیا میں بھی سعادت و سرخروئی اور حیات طیبہ (پاکیزہ زندگی) کی نعمت سے بہرہ مند کریگی اور آخرت میں ان کو نعمتوں بھری جنتوں سے سرفراز کریگی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ یَہْدِیْہِمْ رَبُّھُمْ بِاِیْمَانِہِمْ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہُمُ الاَنْہارُ فِی جَنَّات النَّعِیْمِ } (یونس : 9) ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ اٰمین ثم آمین یا رب العالمین۔