Ayah 4:78185 موت سے ڈرنا بےسود و لا حاصل : سو جب کوئی مضبوط اور محفوظ قلعوں کے اندر بھی موت سے نہیں بچ سکتا تو پھر موت سے ڈرنا بےسود اور لا حاصل ہے کہ وہ اپنے وقت پر بہرحال آکر رہے گی۔ اگرچہ کوئی مضبوط قلعوں کے اندر ہی بند کیوں نہ ہو۔ پس اپنے مقررہ وقت پر تو وہ بند قلعوں اور محفوظ سے محفوظ مقامات پر بھی آ کر رہے گی، اور وقت سے پہلے وہ تم پر کبھی آئیگی نہیں، اگرچہ تم تیروں اور گولوں و میزائلوں کی بارش ہی میں کیوں نہ ہوؤ۔ تو پھر اس سے ڈرنے اور خوف کھانے کی کیا ضرورت ؟ سبحان اللہ ! کیسا مضبوط کردیتی ہے انسان کے دل کو یہ ایمان کی دولت کہ اس کے بعد انسان کو نہ کوئی خوف رہتا ہے نہ خطرہ۔ اور وہ ہر حال میں مطمئن رہتا ہے کہ زندگی اور موت اللہ وحدہ لاشریک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سو موت سے ڈرنا بےسود و لاحاصل اور حماقت کی بات ہے کہ اس سے کسی کے لئے کوئی مفر ممکن نہیں۔ جس کی موت جس گڑھی جس جگہ اور جس شکل میں لکھی ہے وہ اسی کے مطابق بہرحال آ کر رہے گی اگرچہ کوئی شخص مضبوط سے مضبوط قلعوں کے اندر ہی بند کیوں نہ ہو۔ پس صحیح طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے خالق ومالک کی طرف سے عائد حکم و فرض کو پوری طرح ادا کرے اور موت کے معاملے کو اپنے خدا پر چھوڑ دے۔ وہ بہرحال اپنے مقرر وقت ہی پر آئے گی۔ اس سے پہلے نہیں آسکتی۔
186 یہود کے زعم اور گھمنڈ کا ایک نمونہ اور مظہر : سو یہود اور منافقین کو اگر کوئی اچھائی ملتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے نہ کہ تمہاری وجہ سے ہے۔ اور نہ اس میں تمہارا کوئی عمل دخل ہے۔ اور نہ تمہارے پیش کردہ دین کی خیر وبرکت کا کوئی سوال۔ جیسا کہ اردو محاورے میں بھی ایسے موقع پر کہا جاتا ہے یہ کام تو اللہ کی طرف سے ہوا ہے۔ یعنی محض ایک اتفاقی امر ہے۔ یا ہمیں خاص طور پر نوازا گیا کہ اللہ کے نزدیک ہم ہی اس کے اہل ہیں کہ ہم بڑی شان اور اونچے درجے کے لوگ ہیں۔ یہ قول یہود بےبہود کا تھا کہ ان کو جب کوئی خوشحالی وغیرہ مل جاتی تو اس طرح کہتے۔ (المراغی، المحاسن، وغیرہ) ۔ اور ان کے اسی تکبر و گھمنڈ اور زعم باطل نے ان کو نور حق و ہدایت سے محروم کردیا سو کبرو غرور محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
187 منافقین کی سیاہ بختی کا ایک اور نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان کو کوئی تکلیف پہنچ جائے جیسے کوئی شکست، بیماری وغیرہ ان کی نحوست اور بدبختی کی بناء پر۔ تو یہ اس کو اپنی نحوست اور بدعملی کا نتیجہ قرار دینے کی بجائے پیغمبر سے کہتے کہ یہ تمہاری وجہ سے ہوا اور اس طرح یہ سیاہ بختی کی سیاہی کو اور پکا کرتے۔ بہرکیف اس سے منافقین کی، جن کا زیادہ تر تعلق یہود ہی سے تھا، ایک اور حماقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اور یہ ان کی ایسی حماقت تھی جس کو ان کی بزدلی کی پرورش میں بڑا عمل دخل تھا۔ وہ یہ کہ حق و باطل کی اس کشمکش کے دوران جو نرم و گرم حالات پیش آتے تھے ان کو یہ لوگ خدا کی طرف سے سمجھنے کی بجائے کامیابیوں اور اچھے حالات کو تو خدا کی طرف سے سمجھتے یعنی ان کو بخت و اتفاق کا نتیجہ قرار دیتے لیکن جب کوئی مشکل یا آزمائش پیش آتی تو اس کو یہ لوگ اللہ کے رسول کی طرف سے سمجھتے اور اس کو آپ کی بےتدبیری پر محمول کرتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
188 منافقین و منکرین کی الٹی کھوپڑی اور غلط منطق کا ایک نمونہ : کہ جب ان کو کوئی اچھی حالت مل جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ یعنی یونہی اتفاقی طور پر مل گئی ہے۔ اور اگر ان کو کوئی تکلیف پہنچے تو کہتے ہیں کہ یہ تمہاری طرف سے ہے۔ یعنی ایسا تمہاری نحوست کی وجہ سے ہے، جیسا کہ موسیٰ کی قوم کے بارے میں ہے کہ ان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی تو اسے وہ حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے { یََََطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰی وَمَنْ مّعَہ }، الآیۃ (الاعراف۔ 13 1) اور یہی بات قوم صالح نے حضرت صالح سے کہی کہ ہم آپ کو اور آپ کی قوم کو منحوس پاتے ہیں { قَالُوْا اطََّیََََََّرْنَا بِکَ وَبِمَنْ مَّعَکَ } الآیۃ (النمل : 47) سو یہ ہوتا ہے نتیجہ و انجام کفر و نفاق کی ظلمت و تاریکی کا کہ اس کے نتیجے میں ایسے لوگوں کے باطن حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم السلام والصلوۃ۔ کے بارے میں اس حد تک بگڑ جاتے ہیں، اور ان قدسی صفت حضرات کے بارے میں ایسے بدباطن اور بدبخت لوگوں کے ریمارکس اس حد تک گستاخانہ اور ظالمانہ ہوجاتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم مِنْ کُل سُوْئٍ وَََّشَرٍّ فِی الْفِکْر وَالْعَمَلِ ۔ سو ایمان و یقین ہر خوبی اور خیر کی اصل اور اساس ہے، اور کفر و انکار ہر شر و فساد کا منبع ومصدر ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سورة آل عمران میں غزوہ احد کی شکست کے سلسلے میں یہ بات گزر چکی ہے کہ منافیق نے احد کی شکست کی ساری ذمہ داری آنحصرت ﷺ پر ڈالنے کی کوشش کی۔ اور صاف طور پر کہا کہ اگر ہماری بات مان لی جاتی تو ہم کبھی یہاں قتل نہ ہوتے۔ (آل عمران : 154) یعنی یہ سب کچھ آپ کی بےتدبیری سے ہوا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حالانکہ حائنات میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتا ہے اور پیغمبر جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی کے حکم وارشاد سے کرتے ہیں ۔ (علیہ السلام) -
Ayah 4:79189 ہر بھلائی اللہ ہی کی طرف سے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو بھی کوئی بھلائی تم کو پہنچتی ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے پہنچتی ہے۔ کہ وہی ہے بخشنے والا اور عطاء فرمانے والا۔ اور وہی ہے سب کا خالق ومالک۔ اور اس کی کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے اسی کی مشیئت ومنظوری سے ہوتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جو بھی کوئی چیز انسان کو ملتی ہے وہ اسی کی طرف سے اور بغیر کسی سبب کے محض اس کی عنایت اور مہربانی سے ملتی ہے۔ خود ہمارے وجود اور ان کے اندر پائی جانے والی قدرت کی بیشمار اور عظیم الشان نشانیاں اور نعمتیں محض اس کی عطاء و بخشش ہی کا نتیجہ وثمرہ ہیں۔ ہم نے ان میں سے کسی کیلئے کوئی جدوجہد تو درکنار، کوئی مطالبہ بھی نہیں کیا تھا۔ اور مطالبہ کیا معنی، ہمیں تو اس کا کوئی احساس و ادراک بھی نہیں تھا۔ سو یہ سب کچھ اسی کی عطاء و بخشش ہے جو اس نے محض اپنے فضل و کرم سے فرمائی ہے۔ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور سب کچھ اسی وہاب کریم کا دیا بخشا ہے۔ بہرکیف اصل حقیقت یہی ہے کہ اس کائنات میں خیر اور شر کی صورت میں جو بھی کچھ وقوع پذیر ہوتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتا ہے کہ اپنی پیدا کردہ اس کائنات میں حاکم و متصرف وہی وحدہ لاشریک ہے اور اس میں جو بھی ہوتا ہے وہ سب اسی کی مشیت اور اسی کے اذن سے ہوتا ہے کہ اس سب کائنات میں اسی کا حکم اور اسی کی مشیت کارفرما ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
190 بری حالت کا سبب اور باعث انسان خود ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو بھی کوئی برائی اور بدحالی تجھے ہے اے انسان وہ تیری اپنی ہی طرف سے ہوتی ہے کہ اس کا سبب تیری اپنی ہی کوئی کوتاہی اور بدعملی ہوتی ہے اے انسان۔ ورنہ اس وحدہ لاشریک کی طرف سے تو اپنے بندوں کیلئے رحمت ہی رحمت، عنایت ہی عنایت اور عطاء ہی عطاء ہے، کہ اس نے اپنی ذات پر اپنے کرم سے رحمت کو لازم قرار دے رکھا ہے۔ چناچہ اس کا اپنا فرمان حق ترجمان ہے " کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہ الرَّحْمَۃَ " الآیۃ (الانعام : 54) ۔ پس ہر حمد و ثنا کا حقدار وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز اس کا فرمان و ارشاد ہے کہ عذاب تو میں جس کو چاہتا ہوں دیتا ہوں یعنی جب کہ وہ اپنے اعمال اور کرتوتوں سے اپنے آپ کو اس کا مستحق بنا دیتا ہے، لیکن میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے { قَالَ عَذَابِیْ اُصِیْبُ بِہ مَنْ اَشَائُ وَرَحْمِنیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیِئٍ } الآیہ (الاعراف : 156) سو خیر و شر میں سے جو بھی کچھ اس کائنات میں ہوتا ہے وہ سب اسی کی مشیت اور اسی کے اذن سے ہوتا ہے، لیکن اس میں فرق یہ ہے کہ خیر اس کی رحمت کے اقتضاء سے ظہور پذیر ہوتی ہے جبکہ شرکا ترتب اس کے اذن سے ہوتا ہے
اور شر کا ترتب انسان کے اپنے اعمال پر ہوتا ہے۔ سو اس اعتبار سے شر کا تعلق انسان کے اپنے نفس سے ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہر قسم کے شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
191 پیغمبر کے لیے سامان تسلیہ و تسکین : سو ارشاد فرمایا گیا اور کافی ہے اللہ گواہی دینے والا۔ اور جب اس کی گواہی آپ کی رسالت کے لئے موجود ہے اور اس نے اپنے معجزات کے ذریعے آپ کی صداقت و حقانیت کی گواہی دے دی، تو پھر کوئی اور اس کی گواہی دے یا نہ دے اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ سو اب سعادت و سرخروئی آپ ﷺ کی اطاعت و اتباع میں ہے اور اس سے اعراض و انکار بہرحال ہلاکت و تباہی کا سامان ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہاں پر منافقین کو خطاب کرنے کے بعد پیغمبر کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ منافقین تمہاری رسالت کے بارے میں تردد میں ہیں اور تمہارے ہر قول و فعل کو خدا کی طرف سے نہیں سمجھتے تو آپ اس کی پرواہ نہ کرو کہ آپ کی رسالت ان کی گواہی کی محتاج ہیں۔ خدا کی گواہی آپ کی نبوت و رسالت کی تصدیق کے لئے کافی ہے۔ سو اس میں پیغمبر کے لیے بڑا سامان تسلیہ و تسکین ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 4:80192 رسول کی اطاعت، اللہ کی اطاعت : کہ رسول کا ارشاد دراصل اللہ ہی کا ارشاد ہوتا ہے۔ وہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَمَا یَنْطِقُ عَن الْہَویٰ ، اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُُّوْحٰی } (النجم :3- 4) ۔ سو پیغمبر کی اطاعت و اتباع ہی میں انسان کیلئے دنیا و آخرت کی سعادت و سرخروئی ہے ورنہ خسارہ ہی خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ مانیں یا نہ مانیں یہ بہرحال اپنی جگہ ایک قطعی حقیقت ہے کہ اب اللہ کی اطاعت کی واحد راہ یہی ہے کہ لوگ آپ ﷺ کی اطاعت کریں کہ خدا کی اطاعت رسول کی اطاعت کے ذریعے ہی ممکن ہوسکتی ہے۔ اس کے بغیر اس کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ جو لوگ اس حقیت کو تسلیم نہیں کرتے وہ خود اپنی محرومی اور ہلاکت و تباہی کا سامان کرتے ہیں جس کا بھگتان ان کو بہرحال بھگتنا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
193 پیغمبر کے ذمے صرف تبلیغ حق ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم نے آپ کو [ اے پیغمبر ] ان پر کوئی نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ پس آپ ﷺ ذمہ دار و نگہبان نہیں کہ لوگوں کو راہ حق پر لاکر چھوڑیں، کہ یہ نہ آپ ﷺ کے ذمے ہے اور نہ ہی آپ ﷺ کے بس میں۔ آپ کا کام تو محض حق کو پہنچا دینا ہے اور بس۔ اور وہ آپ کرچکے { فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلاغُ وَعَلَیْنَا الْحِسَابُ } (الرعد : 40) ۔ سو پیغمبر اور ہر داعی حق کی اصل ذمہ داری حق کی تبلیغ و تلقین اور اس کی دعوت ہی ہوتی ہے اور بس۔ سو اگر یہ لوگ اس کے باوجود آپ ﷺ سے اے پیغمبر اعراض ہی کرتے اور منہ موڑتے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو ۔ آپ پر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری خود ان پر ہے۔
Ayahs 4:81–82194 منافقوں کے طاعت کے زبانی کلامی دعوے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے حکم مانا۔ معلوم ہوا کہ طاعت و فرمانبرداری کے محض زبانی کلامی اور بلند بانگ دعوے کرنا کافی نہیں۔ اور یہ اہل ایمان کا طریقہ نہیں بلکہ یہ منافق لوگوں کا شیوہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ مخلص اہل ایمان محض زبانی کلامی دعو وں کی بجائے اپنے عمل و کردار سے اپنے صدق و اخلاص کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ اور یہی اصل مقصود ہے یہاں پر۔ " طاعَۃ “ ٌ خبر ہے مبتداء محذوف کی۔ اور عربی کے اس اسلوب کے مطابق جب مبتداء کو حذف کیا جاتا ہے تو اس سے مقصود سارا زور خبر پر دینا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ لوگ پیغمبر کی مجلس میں ہوتے ہیں تو طاعت و فرمانبرداری کے زبانی کلامی دعوے کرتے ہوئے کہتے ہیں " سر تسلیم خم ہے "، " ہم اطاعت و فرمانبرداری کے لئے حاضر ہیں " وغیرہ وغیرہ۔ مگر جب وہاں سے نکلتے ہیں تو اس کے خلاف منصوبے گانٹھنے لگتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
195 اہل باطل کی اہل حق کیخلاف منصوبہ سازی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب یہ لوگ آپ کے پاس سے نکلتے ہیں تو انہی میں سے ایک گروہ اپنے کہے کے خلاف منصوبے گانٹھنے لگ جاتا ہے۔ حق اور اہل حق کیخلاف۔ ان کا راستہ روکنے کیلئے، اور اس طرح رات کے اندھیروں میں کئے جانے والے اپنے ان منصوبوں کے بارے میں یہ احمق تو سمجھتے ہیں کہ ان کی حرکتوں کا کسی کو علم نہیں، مگر انہیں معلوم نہیں کہ ان کی ایسی کوئی حرکت ہم سے مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ سکتی اور یہ کہ ان کی ایسی تمام حرکتوں کا پورا ریکارڈ تیار ہو رہا ہے۔ سو اہل باطل اپنے عزائم اور منصوبوں کو خفیہ رکھنے کی خواہ کتنی ہی کوشش کریں، اللہ وحدہ لاشریک سے ان کو چھپانا ان کیلئے کسی بھی طرح ممکن نہیں۔ " بَیَّتَ " کے اصل معنیٰ رات کو کام کرنے کے آتے ہیں۔ لیکن پھر اس میں توسع پیدا کر کے اس کو خفیہ مشوروں اور چھپ کر کام کرنے کے لئے استعمال کیا جانے لگا۔ یہاں پر یہی مراد ہے۔
196 کارسازی اللہ ہی کی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ کافی ہے کارسازی کیلئے : سو وہ کارسازِمطلق آپ کو بھی ان کے شر سے محفوظ رکھے گا اور ان کو بھی اس انجام تک پہنچا دے گا جس کے یہ لائق ہیں۔ سو اس سے یہ اہم اور بنیادی درس ملتا ہے کہ اہل ایمان کو دشمنوں کے مقابلے میں اور ان کی شر انگیزیوں سے بچنے کیلئے اعتماد و بھروسہ ہمیشہ اسی کارساز مطلق وحدہ لا شریک پر رکھنا چاہئیے ۔ جل و علا شانہ ۔ کہ سب کچھ اسی وحدہ لا شریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وہ جو چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ اس کیلئے نہ کوئی مشکل ہوسکتی ہے اور نہ کسی طرح کی کوئی رکاوٹ۔ پس آپ ان سے اعراض کر کے بھروسہ ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک پر رکھیں جو سب کا کار ساز ہے۔ اور بڑا ہی عمدہ کارساز ہے { فنعم المولی و نعم النصیر } سو کار ساز سب کا اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے اور اس کی کارسازی سب کے لیے بس ہے۔
Ayahs 4:83–84199 اَفواہ طرازی کی قباحت و شناعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان لوگوں کے پاس امن یا خوف کی کوئی چیز پہنچتی ہے تو یہ اس کو فورا پھیلا دیتے ہیں جس سے کئی طرح کے مفاسدجنم لیتے اور خرابیاں فروغ پاتی ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ افواہ طرازی ایک مذموم شئی اور فتنہ پردازی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ اس طرح افواہ طرازی سے ایک طرف جھوٹ کو فروغ ملتا ہے، کیونکہ اکثر افواہیں جھوٹی اور بےبنیاد ہوتی ہیں اور دوسری طرف اس میں معاشرے میں افراتفری، خوف و ہراس اور بےاطمینانی پھیلتی ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے منافقین کے منافقانہ طرز عمل کو واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ چونکہ ملت کے خیر خواہ نہیں تھے اس لئے یہ لوگ افواہیں پھیلانے میں بڑے چابکدست تھے۔ ان کے پاس امن یا خطرے کی جو بھی بات پہنچتی اس کو یہ آگے اس طور پر چلتا کردیتے کہ وہ آن کی آن میں جنگل کی آگ کی طرح لوگوں میں پھیل جاتی جس سے آگے کئی طرح کے فتنے اور فساد جنم لیتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
200 نئی بات کو ذمہ دار لوگوں تک پہنچانے کی ہدایت : سو اس ارشاد سے اس بارے صحیح طرز عمل کی تعلیم دی گئی ہے کہ افواہ کو آگے پھیلانے کی بجائے ذمہ دار لوگوں تک پہنچادیا جائے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ سنی سنائی بات کو آگے پھیلانے کی بجائے اسے ذمہ دار حضرات تک پہنچایا جانا چاہیئے۔ صحیح مسلم (رح) وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آدمی کے جھوٹا قرار پانے کیلئے یہی بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے پھیلا دے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس بارے ارشاد فرمایا گیا کہ اس ضمن میں ان لوگوں کے لئے صحیح طریقہ یہ تھا کہ اس طرح کی جو بات ان کے علم میں آتی اس کو یہ لوگ پھیلانے کی بجائے اللہ کے رسول اور امت کے ارباب حل و عقد کے سامنے پیش کرتے، تاکہ ان کے اندر جو لوگ معاملات کی گہری سوچ اور صحیح سمجھ بوجھ رکھنے والے ہوتے وہ ایسی ہر بات کی اصل حقیقت معلوم کرتے اور اس کا موقع و محل متعین کر کے صحیح پالیسی اختیار کرتے اور اس طرح بگاڑ کی بجائے اصلاح احوال کی صورت پیدا ہوتی۔
201 بات کی تہہ تک پہنچنے والے کچھ ہی لوگ ہوتے ہیں : سو اس سے معلوم ہوا کہ بات کی تہہ تک پہنچنا کچھ ہی لوگوں، یعنی اصحاب فکر و بصیرت کا کام ہوتا ہے۔ یہ ہر کسی کے بس کا روگ نہیں ہوتا۔ اس لئے غور طلب امور کو ایسے ہی حضرات کے سامنے پیش کرنا چاہیئے جو اس کے اہل ہوں تاکہ وہ صحیح رہنمائی کرسکیں۔ اور اس طرح معاشرہ افواہ طرازیوں کے مفاسد سے بچ سکے۔ (معارف وغیرہ) ۔ استنباط کا اصل مفہوم کنواں کھود کر اس سے پانی نکالنا اور کسی پوشیدہ چیز کو ظاہر کرنا ہے۔ اپنے اسی مفہوم سے ترقی کر کے یہ لفظ کسی بات کی تہ تک پہنچنے اور اس کی حقیقت کو پانے کے مفہوم میں استعمال ہونے لگا اور یہاں پر اس سے یہی مفہوم مراد ہے۔ یعنی ان لوگوں کو چاہئے تھا کہ ایسی کسی بھی بات کو یہ لوگ ان ارباب عقل تک پہنچاتے جو بات کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاکہ وہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرتے اور صحیح پالیسی اختیار کرتے۔ سو اس سے افواد طرازی کی ممانعت فرمائی گئی ہے۔
202 اللہ پاک کی رحمت و عنایت کا ثمرہ و نتیجہ : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں پر اللہ کی رحمت نہ ہوتی تو تم مشکلات میں پڑجاتے یعنی وہ رحمت جو اس نے تمہارے اندر اپنا رسول بھیج کر، اور اپنی کامل و بےمثال کتاب نازل کرکے تم پر فرمائی۔ اور اس طرح تمہیں حق و ہدایت کی اس عظیم الشان شاہراہ پر ڈال دیا، جو دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے۔ سو اگر وہ تم پر یہ رحمت و عنایت اور مہربانی نہ فرماتا تو تم لوگ طرح طرح کی جہالتوں میں ڈبکیاں کھاتے ہوئے پتہ نہیں کہاں سے کہاں پہنچ جاتے۔ سو اللہ پاک کی اس عظیم الشان نعمت کی دل و جان سے قدر کرتے ہوئے اس کا شکر ادا کرو ۔ والحمد للہ رب العالمین ۔ نیز { وَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰہ عَلَیْکُمْ } الاٰیۃ سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اب بھی ان کے لئے سنبھل جانے کا موقع ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو شیطان کے پیچھے بگ ٹٹ چلنے کے لئے نہیں چھوڑ دیا، ورنہ یہ سخت خسارے میں پڑجاتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
203 اسلام میں سیاسی نظام کی عظمت و اہمیت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں پر اللہ کی رحمت نہ ہوتی تو تم ضرور بالضرور شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کے بغیر انسان شیطان کے پیچھے لگ جاتا ہے اپنی اھواء و اَغراض کی تکمیل میں۔ اور اس سے تم کفر و شرک جیسے مہالک میں مبتلا ہوجاتے اور اس طرح تم لوگ بڑے ہی ہولناک خسارے میں مبتلا ہوجاتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس آیت کریمہ سے اسلام میں سیاسی نظام کی اہمیت و عظمت واضح ہوتی ہے کہ عوام کو اجتماعی نفع و ضرر کے معاملات میں مرجع و معتمد اپنے اولوا الامرہی کو بنانا چاہئے۔ بطور خود ایسی چیزوں کو عوام میں پھیلانا درست نہیں۔ اسی طرح اس آیت کریمہ سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام میں اولوالامر کے لئے ضروری ہے کہ وہ دین اور دنیا دونوں کے بارے میں ایسی سمجھ بوجھ رکھنے والے ہوں کہ پیش آنے والے حالات و معاملات میں صحیح فیصلہ کرسکیں اور شریعت و مصلحت کے تقاضوں کے مطابق صحیح قدم اٹھا سکیں۔
204 صحیح فکر و فہم والے لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں : سو الا قلیلا کے استثناء سے واضح فرما دیا گیا کہ صحیح فکر و فہم رکھنے والے لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں جو خداوند تعالیٰ کے فضل و کرم کی بنا پر، اپنی عقل سلیم اور اصابت رائے کے سبب اس سے بچ جاتے۔ یہاں سے پھر یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اکثریت ہمیشہ غلط کار لوگوں ہی کی ہوتی ہے۔ اچھے اور صحیح لوگ بہرحال تھوڑے ہوتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ لہٰذا عوام کالا نعام کی اکثریت کا کسی کے حق میں یا اس کے خلاف ہونا حق و باطل اور صحیح و غلط کی تمیز اور ان دونوں کے درمیان فرق کیلئے معیار نہیں ہوسکتا۔ جس طرح کہ مغربی جمہوریت کے نئے بت کے پجاریوں کا کہنا ماننا ہے۔ اور جس طرح کہ ہمارے یہاں کے اہل بدعت کا کہنا ہے کہ فلاں بات چونکہ عوام میں رائج ہے اس لئے وہ درست ہے۔ سو ایسے نہیں بلکہ حق وہ ہے جو قرآن و سنت کی تعلیمات مقدسہ کی روشنی میں حق قرار پائے۔ اور باطل وہ ہے جو ان کی روشنی میں باطل ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف { اِلَّا قَلِیْلاً } کے اس استثناء سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ شیطان کی اتباع سے بچنے والے لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین
Ayah 4:85207 اچھی سفارش اور اس کا اچھا پھل : یعنی کوئی ایسی سفارش جس سے کسی دوسرے صاحب حق کی جائز حدود کے اندر بھلائی مقصود ہو، اور وہ اس نے کسی دنیاوی غرض و لالچ کے بغیر محض رضائے الہٰی کے لئے کی ہو۔ سو ایسی شفاعت حسنہ (اچھی سفارش) کا اجر وثواب اس کو ملے گا اور اس نیکی میں وہ شریک وسہیم ہوگا۔ شفع کے اصل معنی ایک چیز کو دوسری چیز سے جوڑنے اور نتھی کردینے کے ہوتے ہیں۔ اسی مفہوم سے ترقی کر کے یہ لفظ کسی کی بات کی تائید و حمایت یا اس کے حق میں سفارش کرنے کے معنیٰ میں استعمال ہوا۔ پھر آگے یہ سفارش اگر کسی مقصد حق کی تائید وتقویت کے لئے ہوگی تو " شفاعت حسنہ " یعنی اچھی سفارش کہلائیگی اور اگر اس سے مقصود کسی برے مقصد کی تائید وتقویت ہو تو یہ " شفاعت سیئہ " یعنی بری شفارش ہوگی۔ اسی لئے یہاں پر ان دونوں قسم کی سفارشوں اور ان کے نتیجہ وثمرہ کو بیان فرمایا گیا ہے۔ کہ جس نے کوئی اچھی سفارش کی تو وہ اس کے لئے اجر کا باعث بنے گی جبکہ بری سفارش اس کے لئے بوجھ ہوگی۔
208 بری سفارش اور اس کا بوجھ : یعنی برابر کا۔ کیونکہ " کفل " دراصل مساوی اور برابر کے بوجھ ہی کیلئے استعمال ہوتا ہے بخلاف نصیب کے۔ کہ وہ زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس لئے یہاں پر اچھی سفارش " شفاعت حسنہ " کے بارے میں تو نصیب کا لفظ استعمال فرمایا گیا اور بری سفارش " شفاعت سیئہ " کے بارے میں " کفل " کا لفظ استعمال فرمایا گیا کہ برائی کا بدلہ اس کے مثل اور برابر ہی ملتا ہے، جبکہ نیکی کا صلہ و بدلہ اس سے کئی گنا زیادہ ملتا ہے، جیسا کہ دوسری مختلف نصوص کریمہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ فَسُبْحَانہٗ مِنْ الٰہٍ عَظِیْمٍ وَرَبٍّ غَفُوْرٍ کَرِیْمٍ مِنْ جَلَا لَۃ شَانِہٖ وَدِقَّۃ وَعَظْمَۃ کلَامِہٖ ۔ جَلَّ وَعَلَا شانَہٗ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و صواب پر رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف اچھی سفارش یعنی " شفاعت حسنہ " چونکہ نیک مقصد کے لئے اور دوسرے کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے ہوتی ہے اس لئے ایسے شخص کو اس کا اچھا بدلہ ملے گا اور وہ نیکی میں شریک ہوگا جبکہ بری سفارش برے مقصد کے لئے اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کی غرض سے ہوتی ہے اس لئے ایسے شخص کو اس کا برا بدلہ ملے گا اور وہ اس برائی میں شریک و شامل ہوگا۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
209 " مقیت " کا معنیٰ و مطلب ؟ : " مقیت " اقاتہ سے ماخوذ ہے جسکے معنیٰ قدرت رکھنے کے ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ لفظ اصل میں قوت سے ماخوذ ہے جس کے معنی قوت و طاقت کے ہیں۔ چناچہ کہا جاتا ہے " اَقََاتَ عَلٰی اَمْرٍ ۔ اَیْ : اقْتَدَر عَلَیْہ " یعنی وہ اس کام پر قادر ہوگیا، اور اس نے اس پر قابو پالیا وغیرہ۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ نیز اس کے معنیٰ محافظ و نگہبان کے بھی آتے ہیں۔ سو وہ قادر مطلق دیکھتا ہے کہ کون کیا کرتا ہے اور کن حالات میں اور کس نیت و ارادہ سے کرتا ہے۔ اسی کے مطابق وہ ہر کسی کو اس کے اس اجر وثواب سے نوازتا ہے جس کا وہ مستحق ہوتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ﷺ پر ذمہ داری صرف اپنی جان کی ہے۔ آپ جنگ کے لئے خود اٹھیں اور اہل ایمان کو اس کے لئے ابھاریں۔ جس کو توفیق ہوگی وہ اٹھے گا۔ اور جو نہیں اٹھیگا اس کی ذمہ داری آپ پر نہیں۔ اللہ کے کام دوسروں پر منحصر نہیں ہوتے۔ وہ خود بڑی قوت وقدرت والا ہے۔ وہ مخالفوں کو عبرتناک سزا دینے پر بھی پوری قدرت رکھتا ہے۔ اور آپ کے ان مخلص ساتھیوں کے اندر ہی ایسی قوت پیدا کر دیگا کہ اس سے کفر کا زور ٹوٹ جائے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس بھروسہ و اعتماد ہمیشہ اسی وحدہ لا شریک پر رکھنا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق۔
Ayah 4:86210 تَحِیَّۃً کا معنی و مطلب ؟ : " تَحِیَّۃً "، " حیات " سے مشتق و ماخوذ ہے جسکے معنی زندگی کے ہیں۔ سو یہ لفظ اصل میں زندگی اور درازی عمر کی دعاء کے معنی میں آتا ہے۔ عرب پہلے بھی کہتے تھے اور آج بھی کہتے ہیں " حَیَّاک اللّٰہُ "، " خدا تمہیں زندہ رکھے، لمبی عمر دے " لیکن بعد میں یہ لفظ مطلق سلام کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اسی لیے دین حنیف نے اس موقع پر " حیاک اللہ " کی بجائے " السلام علیکم " کی دعاء تعلیم و تلقین فرمائی جو کہ اس قدیم دعاء سے کہیں بڑھ کر اعلیٰ وارفع دعا ہے۔ کیونکہ " حیاک اللہ " میں صرف زندگی کی دعا ہے خواہ وہ زندگی کیسی ہی کیوں نہ ہو، جبکہ " السلام علیکم " میں اس سے بڑھ کر سلامتی کی دعاء ہے جو کہ زندگی اور اس کے جملہ متعلقات کو عام اور شامل ہے۔ یعنی تمہیں ہر طرح کی سلامتی نصیب ہو۔ جان کی سلامتی، ایمان کی سلامتی، مال و متاع کی سلامتی اور عزت و آبرو کی سلامتی وغیرہ وغیرہ۔ سو دین اسلام کے کسی بھی حکم و ارشاد کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا ۔ فالحمدللہ ۔ سو " السَّلام علیکم " کے کلمہ تحیہ کو اسلام کے ایک خاص شعار کی حیثیت حاصل ہوگی اور یہ کلمہ گو یا مومن اور کافر کے درمیان ایک علامت فارقہ بن گیا۔ جب کہ ایک شخص نے دوسرے کو " السلام علیکم " کہہ دیا اور اس نے " وعلیکم السلام " سے اس کا جواب دے دیا تو ان دونوں کے درمیان من و تو کا فرق مٹ گیا اور وہ دونوں گویا یک قلب اور دو قالب کا مصداق بن گئے۔ اور اگر اس نے جواب نہ دیا تو اس کا معنیٰ صرف یہی نہیں کہ اس نے اس کا اسلام قبول نہیں کیا بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ اس نے اس کے اسلام کو بھی تسلیم نہیں کیا۔ اس طرح وہ دونوں آپس میں الگ اور ایک دوسرے سے دور ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
211 سلام کا بہتر جواب دینے کی تعلیم و تلقین : یعنی تم دوسرے کے سلام کا جواب بہتر لفظوں سے دیا کرو۔ مثلاً اس نے کہا " السلام علیکم " تو آپ اس کے جواب میں " وَرَحْمَۃُ اللّٰہ " کا اضافہ کردیں۔ اور اگر اس نے " ورحمتہ اللہ " بھی کہہ دیا تو آپ اس کے جواب میں " وبرکاتہ " کا اضافہ کریں۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں اس کی تصریح وارد ہے۔ مثلاً حدیث عمران بن حصین ؓ فی مسند امام احمد ج 4 ص 439، سنن ابوداؤد، کتاب الادب، باب کیف السلام، سنن ترمذی، کتاب الاستئذان و الآداب، باب ماذکر فی فضل السلام وغیرہ (محاسن التاویل، معارف القرآن وغیرہ) ۔ راقم آثم نے عرصہ قبل اس موضوع پر " اسلام اور سلام " کے نام سے ایک مستقل رسالہ ترتیب دیا تھا، جبکہ راقم آثم دارالعلوم تعلیم القرآن پلندری آزاد کشمیر میں مدرس تھا، لیکن افسوس کہ وہ اب تک طبع ہو کر منظر عام پر نہیں آسکا ۔ فَاللّٰہُ نَسْأَلُ التَّوْفِیْقَ وَالسِّدَادَ وَالْقُبُوْلَ ۔ بہرکیف اہل ایمان سے مطلوب ہے کہ وہ دوسروں کے سلام کا جواب بہتر لفظوں سے دیں کہ یہی تقاضا ہے مکارم اخلاق اور محاسن آداب کا ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اسلام کے کلمہ تحیہ کی چونکہ دین حنیف کے اندر ایک خاص اہمیت اور عظمت شان ہے اسی بناء پر مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی گئی کہ جب تمہیں کوئی شخص تحیہ وسلام سے مخاطب کرے تو اس کا اسلامی اور معاشرتی حق یہ ہے کہ تم اس کو اس کے سلام و تحیہ کا بہتر جواب دو ۔ نہیں تو کم از کم اسی کے الفاظ کو اس کی طرف لوٹا دو ۔
212 اللہ تعالیٰ کے محاسبے کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہر چیز کا پورا حساب رکھنے والا ہے : تاکہ روز جزا تم کو تمہارے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ دے۔ اس لئے تم ہمیشہ یہ دیکھو اور اسی کو پیش نظر رکھو کہ تم نے وہاں کیلئے کیا جمع کیا ہے۔ اور سلام کا جواب بہتر انداز میں دیا کرو تاکہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کما سکو اور اس کا اجر پا سکو اور ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا کرو کہ ہمارا معاملہ اپنے اس رب ذوالجلال کے ساتھ صحیح اور درست رہے، جسکے حضور حاضر ہو کر ہم نے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا جواب دینا اور پھل پانا ہے۔ اس کی رضا و خوشنودی نصیب ہوجائے تو سب کام بن گیا ۔ وباللہ التوفیق ۔ الغرض یہ سلام اور اس کا جواب کوئی رسمی نوعیت کی چیز نہیں بلکہ یہ اسلامی معاشرے میں فصل و وصل کی ایک اہم بنیاد ہے۔ اسی لئے قرآن حکیم نے اس کو یہاں پر اس اہمیت کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور یہ تنبیہ بھی فرما دی کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب کرنے والا ہے اور قیامت کے روز ہر کسی نے اس کے حضور پہنچ کر اپنے کئے کرائے کی جواب دہی کرنی ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کے یہاں کسی کا بھی کوئی عمل ضائع نہیں جائے گا ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یُحِبُّ وَیُرِیْد -
Ayah 4:87213 قیامت کی قطعیت کا ذکر وبیان : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ قیامت کے بارے میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ نہ اس قیامت کے قیام و وقوع میں، اور نہ اس میں برپا ہونے والے اس حشر و اجتماع میں۔ سو اس میں کسی بھی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ عقل سلیم اور نقل صحیح دونوں اسکے امکان اور وقوع پر متفق ہیں۔ پس جو کوئی اس میں شک کرتا ہے، یا اس کا انکار کرتا ہے، تو وہ اس کے اپنے دماغ کی خرابی اور قسمت کی مار ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور قیامت کا دن ایسا دن ہے کہ اس کے بغیر عدل و انصاف کے تقاضوں کا پورا ہونا ممکن ہی نہیں۔ اس لیے اس دن کا آنا ایک طبعی اور لازمی امر ہے۔ سو فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے اس دن تم سب کو جمع کر کے لائے گا۔ تاکہ تم اپنے کئے کرائے کا بدلہ پا سکو۔ اس لئے اس دن کو ہمیشہ یاد رکھو اور اس کے لیے تیاری کرو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
214 اللہ سے بڑھ کر سچی بات اور کسی کی نہیں ہوسکتی : سو استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی اللہ سے بڑھ کر سچی بات اور کسی کی بھی نہیں ہوسکتی۔ کہ وہ بہرطور سچا اور ہر سچ اور سچے کا خالق ومالک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس جب اس نے قیام قیامت کی خبر دے دی تو پھر اس میں کسی شک و شبہ کی کیا گنجائش باقی رہ سکتی ہے ؟ سو قیامت نے بہرحال واقع ہو کر رہنا ہے تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا اور تاکیدی کلمات کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت نے بہرحال اور قطعی طور پر آ کر رہنا ہے تاکہ ہر کسی کو اس کی سعی اور کوشش کا بھر پور بدلہ مل سکے۔ ارشاد ہوتا ہے { اِنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ اَکَادُ اُخفِیْہَا لِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعٰی } (طہ : 15) تو پھر اس کے بارے میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش کس طرح باقی رہ سکتی ہے۔ پس اس یوم عظیم کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھو ۔ وباللہ التوفیق -
Ayahs 4:88–89215 منافقوں کے ایک گروہ کے کفر و نفاق کا اعلان و اظہار : سو مسلمانوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو کیا ہوگیا کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو جن کا کفر و نفاق دلائل و قرائن سے ثابت اور واضح ہوگیا ہے۔ اور جو ایمان لانے کی بجائے الٹا یہ چاہتے ہیں کہ تم کو بھی نور ایمان و یقین سے محروم کرکے راہ حق و ہدایت سے پھیر دیں۔ اور اس طرح تم بھی ہلاکت و تباہی کی اسی راہ پر چلو جس پر یہ چل رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ استفہام یہاں پر تنبیہ و توبیخ کے لئے ہے۔ یعنی تم کو اے ایمان والو کیا ہوگیا ہے کہ تم ان منافقوں کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ رہے ہو۔ ایک ان کی حمایت اور ان کا دفاع کرتا ہے اور دوسرا ان کا دشمن ہے (محاسن التاویل وغیرہ) ۔
216 منافقوں کے ایک گروہ سے متعلق اختلاف کا ذکر : سو اس سے منافقوں کے ایگ گروہ کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف رائے کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ ایک گروہ ان کی حمایت کرتا اور انہیں مسلمانوں کی طرح سمجھتا ہے، اور دوسرا اس کے برعکس ہے، جیسا کہ مختلف روایات میں منافقین کے مختلف گروہوں کے بارے میں وارد ہے، چناچہ بعض حضرات نے کہا کہ اس ارشاد کا تعلق عبداللہ بن ابی اور اس کے گروپ سے ہے جو کہ غزؤہ احد کے موقع پر دھوکہ دے کر راستے سے واپس آگئے تھے۔ اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ گئے تھے اور کہا تھا کہ ہم ہجرت کرکے آئے ہیں، لیکن کچھ دنوں کے بعد انہوں نے آب و ہوا کی ناموافقت کا بہانہ بناکر واپسی کی اجازت مانگی اور مکہ واپس پہنچ کر وہ لوگ مشرکوں سے مل گئے۔ اور حضور ﷺ کو خط لکھا کہ ہم آپ ﷺ کے دین پر اور آپ کے ساتھ ہیں۔ تو ان کے بارے میں اہل ایمان میں اختلاف پیدا ہوگیا۔ اور بعض نے اس کا مصداق ان لوگوں کو قرار دیا جو بغیر کسی معقول عذر کے محض اپنے رشتوں اور قرابتوں کی بناء پر مدینہ کی طرف ہجرت سے گریزاں تھے۔ سو ایسے منافقین کے بارے میں اختلاف میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ یہ لوگ بہرحال منافق ہیں ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
217 بدکرداری کی ایک نقد سزا، حق سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کو اوندھا کردیا گیا ان کے اپنے کرتوتوں کے باعث جس کے نتیجے میں یہ لوگ راہ ِحق و صواب سے بھٹک گئے اور ایمان و یقین کی فرحت بخش اور حیات آفریں لذت و حلاوت سے محروم ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انسان کو اس کی بدعملیوں خاص کر اس کے خبث باطن کی ایک سزا یہ ملتی ہے کہ اس کی مت مار دی جاتی ہے اور وہ نور حق سے محروم ہو کر اوندھا ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ” ِرکس " کے معنی الٹنے اور پلٹ دینے کے ہیں " اَرْکَسَہ " کے معنیٰ ہوتے ہیں اس کو اوندھا اور الٹا کردیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے جب اسلام کی طرف قدم بڑھانے کے بعد اپنا قدم پیچھے ہٹا لیا تو اس کے نتیجے میں ان کو اس کفر میں دھکیل دیا گیا جس سے یہ نکلے تھے۔ سو ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کی لعنت کی زد میں آچکے ہوں ان کو راہ راست پر لانا کسی کے بس اور اختیار میں نہیں۔ اب یہ لوگ راہ راست پر نہیں آسکتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
218 جس کو اللہ گمراہ کردے اس کو کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ ان کو راہ راست پر لانا چاہتے ہو جن کو اللہ نے گمراہ کردیا ؟ ان کی اپنی بدباطنی کی بنا پر۔ استفہام انکاری ہے، یعنی ایسے نہیں ہوسکتا کہ جس کو اللہ گمراہی میں ڈال دے تم اس کو راہ راست پر لا سکو۔ سو جس کو اللہ گمراہی کے گڑھے میں ڈال دے اس کو راہ راست پر لانا کسی کے بس میں نہیں ہوسکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے لوگوں کے بارے فرمایا گیا کہ ایسوں کو راہ راست نہیں مل سکتی۔ کوئی لاکھ چاہے ایسوں کو راہ راست ملنا ممکن نہیں۔ اور ہدایت پر آنا تو کجا ان لوگوں کا تو حال یہ ہے کہ یہ تم لوگوں کو بھی اسی کفر میں لے جانا چاہتے ہیں جس کے اندر شروع میں یہ خود ڈوبے ہوئے ہیں۔ پس جب تک یہ لوگ ہجرت نہ کریں اس وقت تک تم ان سے کوئی تعلق نہ رکھو۔ یہ ہجرت ہی ان کے ایمان کے لئے کسوٹی ہے۔ اگر یہ اس سے گریز کرتے ہیں پھر تم ان کو دشمن اور دشمنوں کا ساتھی سمجھو اور ان کو جہاں پاؤ گرفتار اور قتل کرو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
219 ہدایت و ضلالت کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے : پس جس کو اللہ گمراہ کردے اس کیلئے کوئی راستہ ممکن نہیں سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو اللہ گمراہ کر دے اس کے اپنے سوء اختیار اور خبث باطن کی بنا پر تو تم اس کے لیے کوئی راستہ نہ پا سکو گے۔ کوئی ایسا راستہ جو اسے حق اور ہدایت کی طرف لے جاسکے، کہ ہدایت تو بہرحال اللہ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اور اس کی طرف سے ان لوگوں کو محروم کردیا گیا۔ ان کے اپنے سوئ اختیار اور بدنیتی کی بنا پر۔ سو ایسے لوگوں کو مومن سمجھنا اور مومن کہنا درست نہیں۔ اور نہ ہی ان کے بارے میں حسن ظن کی گنجائش ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی اس سنت کی زد میں آئے ہوئے ہوتے ہیں جس کے مطابق ایسوں کے لئے حق و ہدایت کی کوئی راہ ممکن نہیں رہتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے یہ امر پھر واضح ہوجاتا ہے کہ ہدایت وغوایت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ وہ جس کو چاہے ہدایت سے نوازے اور جس کو چاہے گمراہی میں ڈال دے۔ کیونکہ ہدایت وغوایت کا اصل تعلق انسان کے اپنے قلب و باطن سے ہے کہ اس کا دار و مدار انسان کی طلب صادق پر ہے اور اس کو اللہ ہی جانتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 4:90224 معاہدہ کی پابندی کی تعلیم و تلقین : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جن سے کوئی معاہدہ ہو، ان کیخلاف کوئی عہد شکنی جائز نہیں۔ پس جن لوگوں سے عہد و پیمان ہو ان کو نہ قتل کرنا جائز ہے، نہ قید کرنا، کیونکہ یہ تمہارے ہم عہدوں کی پناہ میں آگئے۔ اور حلیف کا حلیف بھی ایک درجے میں حلیف ہی ہوتا ہے۔ سو اس طرح یہ بھی بالواسطہ طور پر تمہارے عہد میں آگئے۔ پس اس صورت میں ان کا قتل بھی عہد شکنی کے زمرے میں آئیگا، جو کہ تمہارے دین میں ممنوع اور تمہاری شان کیخلاف ہے۔ پس تم عہد شکنی کی ہر ایسی صورت سے بچو، (معارف و محاسن وغیرہ) ۔ بہرکیف یہاں سے ان لوگوں کو بیان فرمایا گیا ہے جو اخذ و قتل کے مذکورہ حکم سے مستثنی ہیں اور یہ دو قسم کے لوگ ہیں جیسا کہ واضح ہے۔ پس ایسے لوگوں کے درپئے آزار ہونا جائز نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
225 غیر جانبدار رہنے والوں کا قتل جائز نہیں : سو اس سے یہ امر بھی واضح فرما دیا گیا کہ ایسے غیر جانبدار لوگوں کا قتل بھی جائز نہیں جو نہ تو اپنی قوم کے ساتھ ہو کر تم سے لڑیں، اور نہ تمہارے ساتھ ہو کر اپنی قوم سے لڑیں، بلکہ بالکل غیر جانبدار رہیں۔ تو ایسوں کا قتل کرنا بھی جائز نہیں۔ کیونکہ ان سے تمہیں کسی نقصان کا اندیشہ نہیں (المعارف) ۔ فَہُمْ لَیْسُوْا مَعَکُمْ وَلا عَلَیْکُمْ ۔ (صفوۃ التفاسیر) یعنی " وہ نہ تمہارے حمایتی ہیں اور نہ تمہارے خلاف " تو پھر تمہارے لیے ان سے لڑنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے کہ انہوں نے نہ تمہارے خلاف کسی طرح کے ظلم وتعدی کا ارتکاب کیا اور نہ ہی کسی طرح کی کسی عہد شکنی کا۔ سو یہ دین حنیف کا ارشاد اور تعلیم فرمودہ ایک مستقل ضابطہ و اصول ہے کہ نہ تم کسی پر کوئی ظلم و زیادتی کرو اور نہ تم پر کوئی ظلم و زیادتی کرے { لاَ تَظْلِمُوْنَ وَلَاتُظْلَمُوْن } یعنی نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ کوئی تم پر ظلم کرے ۔ فَنَعُوْذُ باللّٰہ مِنْ اَنْ نَظْلِمَ اَوْ نُظْلَمَ وَ اَنْ نَجْہَلَ اَوْ یُجْہَلَ عَلَیْنَا ۔ ولا جول ولا قوۃ الا باللہ -
226 اللہ کے ایک احسان کی یاددہانی اور اس کی قدردانی کی تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ چاہتا تو ان لوگوں کو تم پر مسلط کردیتا اور وہ تم سے ضرور لڑتے۔ اور اس طرح یہ تمہارے لئے اور مشکلات پیدا کردیتے۔ پس جب ایسے نہیں ہوا تو تم لوگ اس کو اپنے اوپر اللہ پاک کا احسان اور کرم سمجھو کہ اس نے قوت وطاقت کے باوجود ان لوگوں کے دل تمہارے ساتھ لڑنے سے تنگ کردیئے، اور تمہاری ہیبت ان کے دلوں میں ڈال دی۔ پس تم ان سے کوئی تعرض نہ کرنا (روح، بحر، معارف، صفوۃ، وغیرہ) ۔ سو ایسے لوگ جب اپنی کمزوری اور پست ہمتی کی بناء پر مسلمانوں کے پاس اپنی غیر جانبداری کی درخواست لے کر آئیں تو ان کی غیر جانبداری کے اس رویئے کو بھی غنیمت سمجھا جائے اور ان سے کوئی تعرض نہ کیا جائے۔ ورنہ اللہ اگر ان کو جرات اور ہمت دے دیتا اور یہ کھلم کھلا دشمن بن کر تمہارے ساتھ لڑنے کے لئے تیار ہوجاتے تو تم کیا کرتے۔ تو ایسے میں اللہ تعالیٰ کے اس احسان کی قدر کرتے ہوئے تم ان کے خلاف کوئی اقدام نہ کرو جب تک کہ یہ اپنے اس صلح جویانہ رویئے پر قائم رہیں۔ اور یہی تقاضا ہے اس دین حنیف کا جو کہ امن و سلامتی کا دین ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
227 صلح پسند لوگوں سے صلح صفائی ہی کا معاملہ کرنے کی ہدایت : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ لڑنا اور جنگ کرنا تمہارے لیے جائز نہیں۔ پس نہ تمہارے لئے ان سے لڑنا جائز، اور نہ ہی قتل اور قید کرنا جائز، جب تک کہ یہ اپنی اس صلح صفائی کی روش پر قائم رہیں۔ کیونکہ انہوں نے نہ تمہارے خلاف جنگ کی اور نہ ہی کسی طرح کی عہد شکنی کا ارتکاب کیا۔ تو ان کے خلاف کسی بھی طرح کا کوئی تعرض کیسے روا ہوسکتا ہے۔ پس صلح پسند لوگوں سے تم کو بھی صلح صفائی ہی کا معاملہ کرنا چاہیئے ۔ سبحان اللہ ! کیسی عمدہ اور پاکیزہ تعلیمات ہیں اس کتاب حکیم کی، جو عقل و فطرت اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق اور امن و سلامتی کی امین و پاسدار، اور دارین کی سعادت و سرخروئی کی ضامن و کفیل ہیں ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ پس جب تک ایسے لوگ تم سے تعرض کرنے سے باز رہیں، تم بھی ان کے خلاف کسی قسم کے اقدام سے باز رہو۔ سو کتنے ظالم ہیں وہ لوگ جو اس دین کے حاملین کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں ؟
Ayah 4:91228 ذوالوجہین منافقوں کے ایک گروہ کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم کچھ اور ایسے لوگوں کو پاؤ گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہین اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں۔ اس لئے ایسے لوگ جب تمہارے پاس آتے ہیں تو اپنے ایمان کا دعوی کرتے ہیں، اور اہل کفر سے ملتے ہیں تو ان کے سامنے اپنے کفر کا اظہار کرتے ہیں، جیسا کہ بنو اسد اور بنو غطفان کا طریقہ تھا کہ وہ مدینہ منورہ جاتے تو مسلمان بن کر وہاں کے مسلمانوں سے معاہدے کرلیتے، تاکہ ان سے ا من میں رہیں، اور واپس مکہ مکرمہ آتے تو وہاں کے مشرکین سے مل جاتے۔ اور وہ سب عہود و مواثیق توڑ ڈالتے جو انہوں نے اہل مدینہ سے کئے تھے۔ (ابن کثیر، صفوہ التفاسیر، وغیرہ) ۔ اور اس طرح کے ذوالوجہین منافقین کی جنس ہمیشہ رہی ہے، اور آج ہمارے اس دور میں بھی ایسے ابن الوقت، مفاد پرستوں کی کمی نہیں، جو دنیاوی مفادات کے لئے اپنے ایمان و ضمیر کا سودا جا بجا کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
229 منافقوں کے ایک شرانگیز گروہ کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کو جب کسی فتنہ انگیزی کا موقع ملتا ہے تو یہ اس میں اوندھے ہو کر جا گرتے ہیں جس سے یہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے لوگ جونہی کفار و مشرکین کی طرف سے کسی فتنہ و شرانگیزی کی شہ پاتے ہیں ان کے تیور بدل جاتے ہیں۔ یہ کچھ کے کچھ ہوجاتے ہیں اور مسلمانوں کی ضرر رسانی کے درپے ہوجاتے ہیں۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہ انہی جھوٹے غیر جانبداروں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے جو اپنے ایسے جھوٹے دعو وں سے اپنے آپ کو مسلمانوں کے خطرے سے بھی محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور اپنی قوم کے اندر شامل رہ کر ان سے بھی مامون رہنا چاہتے ہیں۔ اور مفاد پرستوں اور ابن الوقتوں کا حال ہمیشہ یہی رہا ہے۔ ان کی تمام وابستگیوں اور لا تعلقیوں کا مدارو انحصار ان کے اپنے مادی فوائد و منافع کے تابع ہوتا ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے جس کے نمونے جگہ جگہ پائے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
230 دشمن اور اس کی موقع پرستی سے بچنے کی فکر و کوشش : سو ایسے موقع پرست دشمن جونہی موقع پاتے ہیں اپنی دشمنی میں اندھے ہوجاتے ہیں اور اپنے دین و ایمان کے سب دعوے یہ لوگ یکدم پھینک دیتے ہیں۔ پس یہ بدترین لوگ ہیں۔ ان کے شرور و فتن سے بچ کر رہنا اے مسلمانو ! مجاہد کہتے ہیں کہ یہ ان منافقوں اور دشمنوں کا ایک ایسا گروہ تھا جو رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے تو ریاکاری سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے۔ اور جب قریش کے پاس واپس ہوتے تو اوندھے ہو کر بتوں کی پوجا میں لگ جاتے۔ اور اس طرح یہ لوگ ادھر ادھر دونوں طرف امن وامان سے رہتے۔ سو ان کے بارے میں حکم دیا گیا کہ اگر یہ لوگ باز نہیں آتے اور اپنی اصلاح نہیں کرتے تو انکو جہاں پاؤ پکڑو اور قتل کرو۔ (المراغی، ابن کثیر وغیرہ) ۔
231 عہد شکن دشمنوں کو جہاں پاؤ قتل کرو : حل میں یا حرم میں۔ اپنے علاقے میں یا ان کے علاقے میں۔ (محاسن التاویل) کہ یہ بدترین لوگ ہیں۔ ان کا کفر و نفاق کھل کر سامنے آگیا ہے، اور ان کی اسلام اور مسلمان دشمنی بھی آشکار ہوگئی ہے۔ اور تجربہ نے یہ ثابت کردیا کہ ان کا اور کوئی علاج نہیں سوائے اس کے کہ انکو قتل کرکے زمین کو ان کے شر و فساد سے پاک کیا جائے۔ البتہ اگر یہ لوگ اپنی اس روش کفر و بغاوت سے باز آجائیں۔ مسلمانوں کو چھیڑنے سے باز آجائیں۔ ان سے اپنے ہاتھ روک لیں اور ان کے ساتھ امن و آشتی اور صلح و صفائی کریں تو پھر ان سے لڑنا جائز نہیں، جیسا کہ اس ارشاد ربانی میں وارد شدہ ہدایت و ارشاد کا تقاضا ہے اور جیسا کہ امام رازی (رح) وغیرہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ (کبیر و مراغی وغیرہ) ۔
232 زیادتی کرنے والے کافروں کیخلاف کاروائی کیلئے کھلی سند : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کے خلاف [ کاروائی کے لیے ] ہم نے تمہیں کھلی سند دے دی ہے۔ ان کے اپنے کفر و نفاق اور بددیانتی و عہد شکنی کی بناء پر۔ لیکن اگر یہ اپنی اس باغیانہ روش سے باز آجائیں اور اصلاح کرلیں تو پھر ان کیخلاف کاروائی کرنا جائز نہیں، جیسا کہ اوپر والے حاشیے میں گزرا اور جیسا کہ دین حنیف کا عام ضابطہ و اصول ہے کہ عدوان و زیادتی ظالموں ہی پر ہوسکتی ہے { فَاِن انْتَہَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَی الظَالِمِیْن } (البقرہ : 93) لیکن اگر یہ لوگ اپنی روش سے باز نہ آئیں۔ اپنے طور طریقوں کی اصلاح نہ کریں اور اپنے ہاتھ تم سے نہ روکیں تو تم ان کو جہاں پاؤ قید اور قتل کرو۔ ان کو قید اور قتل کرنے کے لئے اللہ نے تم کو ان کے خلاف کھلی سند دے دی ہے۔ سو اب یہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -