4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 4:108

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا Open ayah 4:108 in the Quran reader

جو چھپتے ہیں (اور شرماتے) ہیں لوگوں سے، مگر وہ نہیں چھپتے (اور شرماتے) اللہ سے، حالانکہ وہ اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب کہ وہ چھپ (چھپ) کر مشورے کر رہے ہوتے ہیں، ان باتوں کے جو اللہ کو پسند نہیں، اور اللہ پوری طرح احاطہ کئے ہوئے ہے ان تمام کاموں کا جو یہ لوگ کر رہے ہوتے ہیں۔2

284 ایمان و یقین سے محرومی کی ایک نقد سزا : کہ اس سے انسان کی مت مار کر رکھ دی جاتی ہے اور وہ صحیح اور غلط کی پہچان اور نفع و نقصان کی تمیز سے محروم ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایمان و یقین سے محرومی کا نتیجہ اور اس کی ایک نقد سزا یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ لوگوں سے ڈرتے ہیں اللہ سے نہیں ڈرتے۔ یعنی ان کا معاملہ الٹا ہے۔ حالانکہ اصل حق اللہ پاک ہی کا ہے کہ بندہ اس وحدہ لاشریک سے شرماتا اور اس کی معصیت اور نافرمانی سے ہمیشہ بچتا رہے۔ اور ایک اور مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ استخفاء کو یہاں پر لازم کی بجائے متعدی کے معنی میں لیا جائے یعنی وہ لوگ اپنے کرتوتوں کو لوگوں سے تو چھپاتے ہیں مگر اللہ سے تو نہیں چھپا سکیں گے۔ بھلا اس سے یہ لوگ ایسی باتوں کو کس طرح چھپا سکیں گے اور اس کی گرفت اور پکڑ سے کس طرح بچ سکیں گے ؟ کہ یہ چیز نہ تو ان کے بس اور اختیار میں ہے اور نہ ممکن ہوسکتی ہے۔ (واختارہ صاحب المعارف وغیرہ) ۔ بہرکیف ایمان و یقین کی دولت سے محرومی کا نتیجہ اور اس کی ایک نقد سزا یہ ہوتی ہے کہ ایسے لوگ اللہ سے ڈرنے کی بجائے لوگوں سے ڈرتے ہیں اور ان کو اس بات کا پاس و احساس نہیں کہ لوگوں سے اپنے کرتوتوں کو یہ اگرچہ چھپالیتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں چھپا سکتے۔ وہ اپنے علم اور اپنی قدرت کے اعتبار سے ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس سے کسی کا چھپنا کچھ چھپا لینا ممکن نہیں اور حساب اسی کے یہاں دینا ہے۔ سو عقل وخرد کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے خالق ومالک سے ڈرے ۔ وباللہ التوفیق - 285 ایمان و یقین سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ لوگوں سے تو چھپتے اور شرماتے ہیں مگر اللہ سے نہیں چھپتے اور شرماتے۔ حالانکہ وہ اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ یہ لوگ چھپ کر مشورہ کر رہے ہوتے ہیں۔ " بَیَّتَ یُبَیِّتُ " کے اصل معنیٰ آتے ہیں رات کو مشورہ کرنا۔ پھر اس کا اطلاق عام ہوگیا اور یہ ہر اس مشورے پر بولا جانے لگا جو چھپ کر کیا جائے۔ خواہ رات کو ہو یا دن کو۔ سو ان لوگوں کا حال بھی عجیب و غریب ہے کہ لوگوں سے تو یہ چھپتے اور ڈرتے ہیں لیکن اس اللہ سے چھپتے اور ڈرتے نہیں جو ہر حال میں ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور جس کے حضور حاضر ہو کر انہوں نے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا جواب دینا اور اس کا صلہ اور پھل پانا ہے۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے نور ایمان و یقین سے محرومی کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایمان و یقین سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی ہے ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یُحِبُّ وَ یُرِیْدُ وَہُوَ الہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ ہمیشہ صراط مستقیم پر رکھے۔ آمین۔ 286 اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم وقدرت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ان کے سب کاموں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ احاطہ اس کے علم اور قدرت کے اعتبار سے ہے۔ سو وہ اپنے علم اور اپنی قدرت کے اعتبار سے انکے سب کاموں کا احاطہ کیے ہوئے ہے، کہ نہ کوئی چیز اس کے علم سے باہر ہوسکتی ہے، اور نہ اس کی قدرت سے خارج۔ اس لئے یہ لوگ اپنے کئے پر اس کی سزا سے کسی طور بھی بچ نہیں سکیں گے۔ سو آج ان کو جو ڈھیل ملی ہوئی ہے اس سے ان کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے، کہ یہ بہرحال ایک ڈھیل ہے جس نے بالآخر ختم ہوجانا ہے اور آخر کار ہر کسی نے اپنے خالق ومالک کے حضور حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا جواب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ پس ہر کوئی دیکھ لے اور اپنا جائزہ خود لے لے اور دیکھ لے کہ میں کہاں کھڑا ہوں ؟ کیا کر رہا ہوں ؟ اور کیا کرنا چاہئے ؟ { و لتنظر نفس ما قدمت لغد واتقوا اللہ } ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یُحِبُّ وَیُرِیْدَ وَہُوَ الْہادِی اِلٰی سَواَء السَّبِیْل -
Ayah 4:109

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 4:109 in the Quran reader

ہاں تم لوگوں نے ان (مجرموں) کی طرف سے دنیاوی زندگی میں تو لڑ جھگڑ لیا، مگر کون ہے جو لڑ سکے ان سے قیامت کے روز ؟ یا وہ (کسی اور طرح سے) وہ ان کا کام بناسکے ؟

287 قیامت میں کوئی کسی کے کچھ بھی کام نہیں آسکے گا : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام انکاری کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ کون ہے جو ان کی طرف سے لڑسکے قیامت کے روز ؟ اور ظاہر ہے کہ ایسا کوئی بھی نہیں جو ان کی طرف سے قیامت کے روز لڑسکے، کہ ایسی ہمت وہاں کسی میں ہو ہی نہیں سکتی۔ تو پھر دنیا میں ان کی طرف سے لڑنے کا کیا فائدہ ؟ اصل فیصلہ تو وہیں ہونا ہے۔ سو یہاں پر ان دنیاوی حکام کے لئے بھی درس عبرت ہے جو صرف ظاہر پر فیصلہ کرتے ہیں۔ اور اسی کے وہ پابند بھی ہیں کہ وہ مجرموں کی حمایت اور ان کی پشت پناہی نہ کریں کہ ان کی حمایت اور پشت پناہی سے اگر ایسے خائن اور مجرم لوگ بچ بھی گئے تو آخر کب تک ؟ آخرت میں تو ان کو بہرحال اپنے کئے کا بھگتان بھگتنا ہے۔ پس اصل فکر یہاں کی نہیں، وہاں کی کرنے کی ضرورت ہے کہ وہاں کا فیصلہ اصل اور حقیقی فیصلہ ہوگا اور وہ فیصلہ دائمی و ابدی اور ہمیشہ کیلئے ہوگا اور کامیابی و ناکامی اصل میں وہیں کی کامیابی اور ناکامی ہے۔ جو وہاں ناکام ہوا ۔ والعیاذ باللہ ۔ ہمیشہ کا ناکام ہوگا اور جس کو وہاں کی کامیابی مل گئی وہی حقیقی کامیاب ہے ۔ اللہ اپنے فضل و کرم سے وہاں کی ناکامی اور رسوائی سے بچائے ۔ وباللّٰہ التوفیق فی کل حین واٰن -
Ayah 4:110

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:110 in the Quran reader

اور جو کوئی ارتکاب کرلے کسی برائی کا، یا ظلم کر بیٹھے اپنی جان پر، پھر وہ معافی مانگے اللہ سے تو وہ (یقینا) پائے گا اللہ کو بڑا ہی بخشنے والا، نہایت مہربان،3

288 سلامتی اور نجات کی راہ کی نشاندہی : یہ ہے صدق و صواب اور سلامتی و نجات کی سیدھی راہ کہ آدمی اپنا قصور تسلیم کر کے سچے دل سے توبہ و استغفار کرے۔ تو اللہ پاک اپنے فضل و کرم سے اسے معاف فرما دے گا کہ وہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے۔ لیکن جن کے دلوں پر بدنیتی اور کفر و نفاق کی چھاپ پڑی ہو ان کو یہ سیدھی راہ سوجھتی ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ چناچہ یہاں بھی ایسے ہی ہوا کہ طعمہ بن ابیرق سچی توبہ کی اس سیدھی راہ کو اپنانے کی بجائے مکہ میں جا کر مشرکین سے مل گیا۔ اور وہاں بھی اس نے چوری کی غرض سے ایک دیوار میں نقب لگائی تو وہ اس کے اوپر گرگئی۔ جس سے وہ وہیں مر کر فی النَّار والسقَّر ہوگیا۔ (ابو السعود، صفوۃ، وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ہم جیسے گنہگاروں کیلئے مغفرت و بخشش کا مژدہ سنانے والی یہ آیت کریمہ ایک عظیم امید اور ڈھارس ہے۔ اسی لئے حضرت ابن مسعود ؓ اس کو قرآن حکیم کی سب سے زیادہ پرامید آیت " اَرْجٰی اٰیاتٍ فی القرآن " قرار دیتے ہیں ۔ فَاغْفِرْلِیْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ یَارَبِّیْ مَغْفِرَۃً لاتُغَادِرُ ذَنْبًا مِمَّا اَذْنَبْتُہ عَمَدًا أَوْ خَطَأً ، سِرًّا أَوْ جَہْرًا، اِغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلاَ سَاتِذَتِیْ وَلَزِوْجَتِیْ وَاَوْلادِیْ وَََاَقَارِبِیْ وَاَحْبَابِیْ وَلِجَمِیْع الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَات ۔ اِنَّکَ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ مُّجِیْبُ الدَّعَوَات ۔ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ یَا مَنْ لَاحَدَّ لِجُوْدِہٖ وَکَرَمِہٖ واِحْسَانِہٖ ۔ بہرکیف توبہ و استغفار کی عنایت قدرت کی ایک عظیم الشان عنایت ہے جس سے اللہ پاک نے اپنے بندوں کو محض اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے، کہ گناہوں کی میل کے ازالے کے لئے سب سے بہتر بلکہ واحد ذریعہ توبہ و استغفار ہی ہے۔ ورنہ گناہوں کی میل جو کہ ظاہری میل سے کہیں بڑھ کر نقصان دہ ہے اس کی صفائی اور اس کے داغ دھبوں کے ازالے کی دوسری کوئی صورت ممکن ہی نہیں ۔ وباللہ التوفیق -
Ayahs 4:111–112

وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:111 in the Quran reader

اور جس نے کمایا گناہ تو سوائے اس کے نہیں کہ اس کی اس کمائی کا وبال خود اس کی اپنی ہی جان پر ہوگا، اور اللہ بڑا ہی علم والا، نہایت ہی حکمت والا ہے4

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:112 in the Quran reader

اور جس نے کمائی کی کسی خطایا گناہ کی، پھر اس کو اس نے تھوپ دیا کسی بےگناہ کے سر، تو یقینا اس نے لادلیا اپنے اوپر ایک بڑا بہتان، اور کھلم کھلا گناہ،

289 برائی کا وبال برائی کرنے والے ہی پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کسی نے بھی گناہ کیا تو اس کا وبال یقینا اسی کی جان پر ہوگا۔ یعنی کسی بھی گناہ کی کمائی کی۔ خواہ وہ صغیرہ ہو یا کبیرہ۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ تو اس کا وبال خود اسی پر پڑے گا اس دنیا میں بھی کہ اس سے اس کی فضیحت و رسوائی الگ ہوگی اور عدل و انصاف والی حکومت کے یہاں سے سزا الگ ملے گی۔ اور دوسری طرح طرح کی مشکلات اور مصیبتوں سے الگ واسطہ پڑے گا۔ اور آخرت کا عذاب الگ ہوگا۔ سو صحت و سلامتی والی راہ انسان کیلئے یہ ہے کہ وہ گناہ کی آلائشوں سے ہمیشہ بچے اور بچے رہنے کی فکر و کوشش کرے۔ اور پھر بھی اگر بشری تقاضوں سے کوئی گناہ و قصور ہوجائے تو سچے دل سے توبہ و استغفار کرے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اسی سے دوسری طرف یہ بھی واضح ہوگیا کہ اپنے تعلقداروں کی نصرت و حمایت کا صحیح طریقہ یہ نہیں کہ گناہ اور برائی میں ان کا ساتھ دیا جائے اور ان کی تائید کی جائے بلکہ اصل اور صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو ان کی پرانی اور غلط کاری پر تنبیہ کی جائے تاکہ وہ اپنی غلط کاری کی روش سے باز اور مجتنب رہیں۔ اور اگر کبھی کوئی غلطی و قصور سرزد ہوجائے تو اللہ پاک کی طرف رجوع کریں اور صدق دل سے اس کے حضور توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے دامن کو پاک اور صاف کرنے کی فکر و کوشش کریں ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یُحِبُّ و یُرِیْد ۔ سبحانہ وتعالی -
Ayah 4:113

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا Open ayah 4:113 in the Quran reader

اور اگر نہ ہوتی اللہ کی مہربانی، اور اس کی رحمت، آپ پر (اے پیغمبر ﷺ ! ) تو یقینا ٹھان لی تھی ان لوگوں میں سے ایک گروہ نے کہ وہ بھٹکا دیں آپ کو (راہ حق وصواب سے) حالانکہ وہ بھٹکاتے نہیں مگر خود اپنے ہی آپ کو، اور آپ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاسکتے،1 اور اتاری اللہ نے آپ پر کتاب اور (عطا فرمائی اس نے آپ کو) حکمت، اور سکھایا اس نے آپ کو وہ کچھ جو آپ نہیں جانتے تھے، اور اللہ کا فضل آپ پر بہت بڑا ہے،2

290 بدنیتی اور خبث باطن باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ خبث باطن اور بدنیتی انسان کی اپنی ہی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ایسے بدنیت لوگ اپنی ہی ہلاکت کا سامان کرتے ہیں اور آپ ﷺ تو قطعی طور پر راہ حق و صواب پر ہیں اور آپ کا محافظ اور حامی و ناصر اللہ ہے۔ پھر آپ کو کسی کا نقصان پہنچانے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ سو آپ ﷺ کا تو یہ لوگ کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے، البتہ اپنی بدباطنی اور بدنیتی کی بناء پر یہ اپنی ہلاکت و تباہی میں اضافے کا سامان ضرور کریں گے۔ سو بدنیتی انسان کی اپنی ہی ہلاکت کا باعث بنتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس میں پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا آپ پر خاص فضل و کرم تھا کہ آپ ان منافقین کے شر سے محفوظ رہے ورنہ ان کی ایک جماعت تو دن رات اس کوشش میں مصروف تھی کہ کسی طرح آپ کو راہ حق سے پھیر دے لیکن اللہ نے آپ کو ان کے شرور و فتن سے محفوظ رکھا۔ پس بھروسہ ہمیشہ اسی وحدہ لا شریک پر رکھا جائے اور اسی سے صبر و استقامت کی دعا مانگی جائے۔ 291 حفاظت اللہ ہی کی حفاظت ہے ۔ سبحانہ وتعالی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ خود اپنے آپ ہی کو بہکاتے بھٹکاتے ہیں۔ آپ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے کہ آپ تو قطعی طور سے حق پر اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت و عنایت میں ہیں۔ سو آپ ﷺ کو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے بچا لیا، مگر انہوں نے اپنی بدباطنی کی وجہ سے گناہ کا بوجھ بھی اٹھایا اور دائمی ذلت و رسوائی کا طوق بھی اپنے گلے میں ڈالا۔ سو منکروں کے لئے ذلت و رسوائی کا طوق ہے ۔ والعیاذ با للہ ۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے پیاروں کو دھوکہ دینا اور ان کو راہ حق سے بھٹکانے کی کوشش کرنا بڑا سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ عظمت و حفاظت اللہ کے فضل و کرم اور اسی کی رحمت و عنایت سے ممکن ہوسکتی ہے۔ اس کے بغیر انسان مہالک و مزالق سے نہیں بچ سکتا اور جب اللہ کے نبی اور نبیوں کے امام حضرت محمد ﷺ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے اس درجہ محتاج ہیں تو پھر اور کسی کیلئے کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ از خود ایسے مزالق و مہالک سے بچ سکے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس ہمیشہ اور ہر حال میں اسی وحدہ لاشریک کے فضل و کرم کا سوال کرنا چاہئے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 292 پیغمبر پر عنایات خداوندی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے کتاب و حکمت کی دولت بےمثال و لازوال سے نوازا۔ یعنی قرآن و سنت سے (جامع البیان، صفوۃ التفاسیر، محاسن التاویل وغیرہ) کہ یہی دونوں ماخذ دراصل منبع ومصدر ہیں تمام حکمتوں اور دانائیوں کے۔ اور ایسے عظیم الشان منبع ومصدر کہ دنیا ان سے ان کے نزول و ورود سے لیکر اب تک لگاتار مستفید ہورہی ہے۔ اور قیامت تک اسی طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتی رہے گی۔ سو کتاب و حکمت کی دولت وہ دولت بےمثال اور حکمت لازوال ہے جسکی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ ممکن ہے نہ ممکن ہوسکتی ہے ۔ فالحمدللہ رب العالمین ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آپ کو کتاب و حکمت کی دولت بےمثال کی روشنی سے نواز کر ان اشرار کے شرور و فتن سے بچا لیا ۔ فالحمد للہ جل و علا - 293 " عَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَم " کا مطلب ؟ : یعنی احکام شریعت اور عقائد وغیرہ سے تعلق رکھنے والے وہ تمام غیبی علوم و معارف جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی عطاء فرمائے ہیں۔ پس اس سے اہل بدعت کا اپنے شرکیہ عقیدہ علم غیب کیلئے استدلال کرنا باطل اور مردود ہے۔ کیونکہ اس سے مراد غیب کے وہی علوم و معارف ہیں جن کا تعلق ہدایت وارشاد کے آپ ﷺ کے اصل منصب سے ہے، نہ کہ جمیع ماکان ومایکون کا علم۔ جیسا کہ اہل بدعت کا دعوی ہے۔ اور " ما " کا یہی کلمہ مجموعی امت کیلئے بھی استعمال ہوا ہے { وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَََمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ } حالانکہ پوری امت کے عالم غیب ہونے کا دعویٰ خود اہل بدعت کو بھی نہیں۔ سو اس آیت کریمہ کے عموم سے علم غیب کے اہل بدعت کے شرکیہ عقیدہ کو کشید کرنا محض ان کی اپنی کور باطنی اور ہٹ دھرمی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ورنہ اس سے مراد وہی علوم و معارف ہیں جن کا تعلق منصب نبوت سے ہے اور بس۔ اور یہ علوم و معارف اسقدر عظیم الشان، جلیل القدر اور وسیع الاطراف ہیں کہ ان کی عظمتوں اور وسعتوں کا اندازہ کرنا بھی کسی انسان کے لئے ممکن نہیں۔ ہمارے حضور کی عظمت شان کا احاطہ و ادراک کسی بشر کے امکان میں نہیں ﷺ 294 اللہ تعالیٰ کے فضل عظیم کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ آپ ﷺ کو دوسری بیشمار نعمتوں کے علاوہ، نبوت و رسالت جیسی اس عظیم الشان نعمت سے بھی نوازا ہے جس جیسی دوسری کوئی نعمت ہو ہی نہیں ہوسکتی۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ آپ ﷺ کو تمام انبیاء و رسل کا امام و پیشوا اور خاتم بنایا گیا ﷺ سو اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے بڑے شکرگزار بن جائیں اور آپ کی امت بھی تمام امتوں سے بڑھ کر شکرگزار بن جائے کہ اس کو اس عظیم الشان اور بےمثال نعمت سے نوازا گیا اور اس کو خیرالامم کے شرف سے نوازا گیا ہے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اسی سے استدلال کر کے امام رازی (رح) نے کہا کہ یہ سب سے بڑی اور واضح دلیل ہے اس بات کی کہ فضائل و مناقب میں سب سے بڑا درجہ اور مرتبہ علم ہی کا درجہ و مرتبہ ہے۔ ( محاسن التاویل وغیرہ) ۔
Ayah 4:114

لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:114 in the Quran reader

کوئی خبر نہیں لوگوں کی اکثر سرگوشیوں میں، بجز اس کے کہ کوئی تلقین کرے صدقہ کرنے کی، یا نیک کام کی، یا لوگوں کے درمیان صلح (صفائی) کرانے کی، اور جو کوئی ایسا کرے گا اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے، تو (وہ بڑا ہی خوش نصیب ہے، کہ) عنقریب ہی ہم اس کو نوازیں گے بہت بڑے اجر سے،

295 لوگوں کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کوئی خیر نہیں لوگوں کی اکثر سرگوشیوں میں۔ کیونکہ اگر یہ کوئی خیر کا کام ہوتا تو اس کو چھپانے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ اس کو تو ایسے لوگ ظاہر کر کے کرتے جیسا کہ عام انسانوں کا وطیرہ اور فطرت ہے۔ البتہ بعض اوقات ریاء وغیرہ کے خدشے سے انسان کچھ نیک کام بھی چھپا کر کرتا ہے۔ اس لئے یہاں سب مشوروں اور سرگوشیوں کے بارے میں { لا خیر } کا حکم نہیں لگایا گیا۔ بلکہ { فِیْ کَثِیْرٍ } کی قید لگا کر اکثر مشوروں کے بارے میں یہ حکم بیان فرمایا گیا ہے۔ نیز آگے { اِلَا مَنْ اَمََرَبِصَدَقَۃٍ } سے تین بڑے نیک کاموں کا استثناء بھی فرما دیا گیا کہ ان کاموں میں سرگوشی ممنوع و محذور نہیں بلکہ محمود و مطوب ہے تاکہ ایسا ہر کام ریاء و نمود کے ہر شائبہ سے محفوظ رہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ نجویٰ یعنی سرگوشی اور رازداری بجائے خود کوئی بری چیز نہیں۔ اس لئے کہ بہت سے مواقع ایسے آتے ہیں جہاں سرگوشی اور راز داری کا طریقہ قرین مصلحت ہوتا ہے۔ اس میں بھلائی یا برائی بات کی نوعیت سے پیدا ہوتی ہے۔ بات اگر نیکی اور تقویٰ کی ہوگی تو ایسا نجویٰ نجوائے خیر بن جائیگا۔ اور اس کے برعکس اگر بات شر و فتنہ کی ہوگی تو یہ نجوی نجوائے شر بن جائیگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ قرآن حکیم نے دوسرے مقام پر اس کی ضروری تفصیل ذکر فرما دی ہے، جیسا کہ سورة مجادلہ میں موجود ہے۔ بہرکیف جو نجویٰ و سرگوشی خبر کیلیے ہو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ورنہ اس میں کوئی خیر نہیں۔ 296 نجوائے خیر پر اجر عظیم سے نوازنے کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس طرح کی نجوائے خیر کرنے والوں کو ہم عنقریب اجر عظیم سے نوازیں گے۔ یعنی آخرت میں کہ دارالجزاء دراصل آخرت ہی ہے۔ اور اعمال کا اصل اور پورا بدلہ آخرت ہی میں ملے گا۔ دنیا میں بھی اگرچہ اعمال کا کسی قدربدلہ ملتا ہے، لیکن وہ اصل اور حقیقی بدلہ نہیں ہوتا کہ اسکا موقع و مقام تو بہرحال آخرت کی دائمی زندگی ہی ہے کہ دنیاوی زندگی کی یہ مختصر و محدود فرصت تو عمل اور کمائی کیلئے ہے۔ یعنی آخرت کی کمائی کیلئے کہ اس میں کی گئی کمائی ہی پر آخرت کے فیصلے کا مدارو انحصار ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ سو یہ دنیا کمانے کی جگہ اور دارالعمل ہے۔ دارالجزاء اور بدلے کی جگہ نہیں۔ بدلے کی جگہ تو بہرحال آخرت ہی ہے۔ اور یوں دنیاوی زندگی کی اس فرصت میں اس کی گنجائش بھی نہیں کہ اس میں انسان کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ مل سکے۔ پورا بدلہ تو انسان کو آخرت کے اس جہاں ہی میں مل سکے گا جو کہ دارالجزاء ہے اور جسکی وسعت بھی لامحدود ہے۔ بہرکیف اس میں نجوائے خیر پر اجر عظیم سے نوازے جانے کی خوشخبری ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 4:115

وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠ Open ayah 4:115 in the Quran reader

اور (اس کے برعکس) جس نے مخالفت کی اللہ کے رسول ﷺ کی، اس کے بعد کہ کھل گئی اس کے لئے (حق و ہدایت کی) سیدھی راہ، اور اس نے پیروی کی اہل ایمان کے راستے کے سوا کسی اور (راستے) کے،3 تو ہم اس کو ادھر ہی پھیردیں گے جدھر وہ خود چلا، اور (آخر کار) ہم اسکو داخل کردیں گے جہنم میں، اور وہ بڑی ہی بری جگہ ہے لوٹنے کی،

297 اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کے حکموں کو توڑا اور جان کر ان کی خلاف ورزی کی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور رسول کی مخالفت اور نافرمانی کی سب سے بڑی صورت یہ ہے کہ انسان پیغمبر کے لائے ہوئے دین متین سے پھرجائے اور اس سے مرتد ہوجائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو اللہ ۔ جَلَّ جَلَاُلہٗ ۔ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی مخالفت ۔ والعیاذ باللہ ۔ ہلاکت و تباہی کی راہ ہے اور اس کا نتیجہ و انجام بہت ہی برا اور نہایت ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اللہ کے رسول اور اس کی ہدایت کی مخالفت کرتے ہیں اور وہ اہل ایمان کے راستے سے ہٹ کر الگ اپنی پگڈنڈی اختیار کرتے ہیں اللہ ان کو ان کی اپنی چاہت اور انتخاب کے مطابق ان کی اپنی پگڈنڈی پر چلنے کے لئے آزاد چھوڑ دیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ان کی اپنی اختیار کردہ یہ راہ ان کو سیدھی لے جا کر جہنم میں ڈالیگی جو کہ خساروں کا خسارہ اور سب سے بڑی ناکامی ہے۔ اور یہ ایسا خسارہ ہے جس کی پھر تلافی بھی ممکن نہو گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی عنایت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 298 اہل ایمان کے راستے کی خلاف ورزی کا نتیجہ نہایت برا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے اہل ایمان کے طریقے کو چھوڑ کر کسی اور طریقے کی پیروی کی۔ یعنی اس نے اہل ایمان کی راہ کو چھوڑ کر کسی ایسے راستے سے آپ کی پیروی کی جو کہ کتاب و سنت کی تعلیمات مقدسہ کے مقتضیٰ کے خلاف ہو کہ اہل ایمان کا راستہ وہی ہے جو ان تعلیمات کے مطابق ہو۔ اور وہ بھی وہ تعلیمات جو کہ صحیح فکر و فہم پر مبنی ہوں اور اسلاف امت یعنی صحابہ کرام اور ان کے تابعین اور اتباع تابعین کے توسط سے ہمارے پاس پہنچی ہوں۔ اور ان کو بھی انہی حضرات کی توضیح و تشریح کے مطابق مانا جائے۔ کیونکہ خیر القرون سے تعلق رکھنے والے یہ حضرات قرآن و سنت کے منشاء و مدعا اور اس کے صحیح مفہوم و مصداق کو بعد کے لوگوں سے بہرکیف زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتے تھے۔ اور اسی کی تائید و تصدیق پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) کے اس ارشاد عالی مقام سے ہوتی ہے " خَیْرُ الْقُرُوْن قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذینَ یَلُوْنَہُمْ " سو قرآن و سنت، اور سلف امت، حضرات صحابہ کرام اور ان کے بعد آنے والے وہ تمام اصحاب صدق و صفا جو " وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ " کے زمرے میں آتے ہیں، ان کی راہ حق و صدق کو چھوڑ کر کوئی اور راہ اپنانا قطعی طور پر گمراہی ہے، جس کا انجام ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی لئے اہل حق کو اہل السنت والجماعت کہا جاتا ہے کہ وہ سنت کو بھی مانتے ہیں اور ان صاحب سنت یعنی حضرت رسالت پناہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کے جملہ سچے پیروکاروں کو بھی۔ اس سے ہمارے یہاں کے بعض روسائے اہل بدعت نے جو مروجہ بدعات کے جواز و ثبوت پر دلیل کشید کرنے کی سعی مذموم کی کہ چونکہ یہ بدعات عام اور جاہل مسلمانوں میں رواج پذیر ہیں۔ اس لئے یہ درست ہیں۔ تو یہ استدلال سراسر باطل و مردود ہے۔ کیونکہ بات ان عامۃ المسلمین کی نہیں جو دینی تعلیمات سے نابلد و نا آشنا ہیں۔ بلکہ قرآن و سنت کی تعلیمات اور سلف امت کے فہم و ادراک کی ہے۔ اور ان میں سے کسی میں بھی ان بدعات میں سے کسی کا بھی نہ کوئی ثبوت ہے نہ وجود۔ نہ قرآن میں نہ حدیث میں۔ اور نہ ہی خیر القرون کے اصحاب خیرو برکت میں۔ بلکہ یہ تو صرف ہمارے برصغیر ہندو پاک کے اہل ھویٰ اور شکم پرست اہل بدعت کی ایجادیں ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اسی طرح ان لوگوں کا " مَا راہُ الْمُسْلِمُوْنَ حَسَنًا فَہُو عِنْدَ اللّٰہ حَسَنٌٌ " کے مشہور اثر سے استدلال کرنا بھی سراسر باطل و مردود ہے۔ کیونکہ اس اثر کا بشرط صحت سیدھا صاف اور صحیح مطلب یہ ہے کہ جس چیز کو اہل علم و فضل، اور ثقہ مسلمان اچھا دیکھیں وہ اچھی ہے۔ نہ کہ وہ عامۃ المسلمین جن کو دین کی تعلیمات حقہ کا پتہ ہی نہ ہو۔ ورنہ آج کے دور میں تو سینما بینی، فلم بینی، جوابازی اور سودخوری وغیرہ کون کونسی برائیاں ہیں جو مسلم معاشرے کے اندر موجود نہیں۔ تو کیا اپنی اس منطق سے تم لوگ ان سب کے جواز کا فتوی دے دو گے ؟ اور اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر تم لوگ یہاں پر یہ منطق کس طرح بگھارتے ہو ؟ 299 انسان اپنے انجام کا ذمہ دار خود : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بندہ جدھر کا رخ کرے گا اس کو ادھر ہی چلتا کردیا جائے گا : کیونکہ دین و ہدایت کی عظیم الشان اور بےبدل نعمت زبردستی اور اعراض و انکار کے رویے پر کبھی نہیں مل سکتی، بلکہ وہ سچی طلب اور حقیقی تڑپ پر ملتی ہے، جس کو دلوں کے راز جاننے والا وہ علام الغیوب پوری طرح جانتا ہے۔ پس دارومدار آدمی کے اپنے ارادہ و اختیار پر ہے کہ وہ کدھر جانا چاہتا ہے۔ جدھر جائے گا اس کو ادھر ہی چھوڑ دیا جائے گا کیونکہ یہاں سودا زور زبردستی کا ہے ہی نہیں، بلکہ { نُولِّہٖ مَا تَوَلّٰی } کا اصول کارفرما ہے کہ انسان اپنے ارادہ و اختیار سے جدھر جانا چاہے گا اور جو رخ اور راستہ اپنائے گا اس کو اسی کے حوالے کردیا جائے گا۔ کہ دنیا کے اس دارالامتحان میں اصل مدارو انحصار انسان کے اپنے ارادہ و اختیار پر ہے۔ سو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { فَلَمَّا زَاغُوْا اَزَاغ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ وَاللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ } (النصف : 5) یعنی جب ان لوگوں نے زیغ اور ٹیڑھے پن کو اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے نتیجے میں ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت کی دولت سے نہیں نوازتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:116

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:116 in the Quran reader

بیشک اللہ نہیں بخشے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور وہ بخش دے گا اس کے سوا جو بھی گناہ ہوگا، جس کے لئے چاہے گا، اور جس نے شرک کیا، تو وہ یقینا (راہ حق سے) بھٹک کر جاپڑا دور کی گمراہی میں،

300 شرک ناقابل معافی جرم ۔ والعیاذ باللہ : کیونکہ شرک کا جرم دراصل بغاوت کا جرم ہے، جو ناقابل معافی ہے۔ الا یہ کہ آدمی سچی توبہ کر کے اس سے باز آجائے اور شرک کی نجاست و گندگی سے اپنے آپ کو پاک کرلے۔ اہل بدعت کے بعض بڑے اور ان کے حواری ایسے موقع پر شرک کا ترجمہ کفر سے کرتے اور اس سے وہ کفر مرادلیتے ہیں۔ پتہ نہیں اس کی ان کو ضرورت کیا پڑی۔ اور شرک کی یہ طرف داری وہ کیوں کرتے ہیں حالانکہ یہاں پر { وَمَنْ یِّکْفُرْ } نہیں بلکہ { وَمَنْ یُّشرِکْ } فرمایا گیا ہے۔ اور لفظ کو اپنے ظاہر سے پھیرنے کیلئے کوئی خاص مقتضیٰ یا قرینہ صارفہ بھی یہاں موجود نہیں ہے۔ پھر ظاہر اور متبادر کا یہ ترک اور اس سے فرار آخر کیوں ؟ بہرکیف اس آیت کریمہ میں ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کی تاکید فرما دی گئی کہ شرک کا جرم ایسا ہولناک اور اس قدر سنگین جرم ہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے صاف اور صریح طور پر اس سے متعلق اعلان و ارشاد فرما دیا کہ اس کی بخشش کبھی بھی اور کسی بھی طرح نہیں ہوگی کہ یہ جرم ناقابل معافی جرم ہے۔ اس کے سوا جس جرم کو بھی وہ چاہیگا اپنی مشئیت سے اور اپنے علم و حکمت کے مطابق معاف فرما دے گا، مگر شرک کے اس ہولناک گناہ کو کبھی نہیں بخشے گا۔ مگر افسوس کہ اس کے باوجود دنیا کی واضح اکثریت شرک کے اس سنگین اور ہولناک جرم کی مرتکب ہے۔ کل بھی یہی تھا او آج بھی یہی ہے۔ اور مسلمان کہلانے والی اور توحید کی علمبردار امت کے ایک بڑے حصے کا یہی حال ہے۔ مصر کے مشہور مفسر شیخ احمد مصطفے المراغی مرحوم اپنی تفسیر میں اس بارے تحریر فرماتے ہیں کہ آج کل توحید کے دعویداروں میں کتنے ایسے ہیں جو قضاء حاجات اور تفریج کر بات کیلئے اللہ کے سوا اوروں کو پکارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ لوگ اللہ کے پیارے اور ہمارے وسیلے اور واسطے ہیں۔ سو ایسے لوگوں کے مشرک ہونے کیلئے ان کا یہی طریقہ و عمل کافی ہے کیونکہ غیر اللہ کو حاجت روائی و مشکل کشائی کیلئے پکارنا اس کی پوجا کرنا اور اس کو شریک ٹھہرانا ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ " دعاء عین عبادت ہے " اور " دعاء عبادت کا مغز ہے "۔ (تفسیر المراغی) ۔ سو اس سے ان قسما قسم کی ان شرکیات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جو برصغیر کے مختلف ملکوں میں جگہ جگہ اور طرح طرح سے پائی جاتی ہیں۔ کتنے ہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے مختلف فانی، عاجز، اور فوت شدہ ہستیوں کو حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر پوجتے پکارتے، انہی پر بھروسہ و اعتماد کرتے، قبروں آستانوں پر جھکتے، سجدے کرتے، ماتھے ٹیکٹے، ان کے گرد طواف کرتے، چکر لگاتے، پھیرے مانتے نذریں مانتے، نیازیں دینے اور دیگیں پکاتے، تقسیم کرتے ہیں وغیرہ۔ فَاِلَی اللّٰہ المُشُتَکی وہوَ الْمستعان ۔ اور ان کی کھوپڑیاں اتنی الٹی اور اس قدر اوندھی ہوگئی ہیں کہ ان لوگوں کو یہ بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ جو خود اپنے آپ کو بیماری اور پھر موت کے منہ سے نہیں بچا سکتے اور وہ مر کر قبر کے کئی فٹ گہرے گھڑے اور ڈھیروں مٹی کے نیچے چلے گئے آخر وہ کسی کے حاجت روا و مشکل کشا کیسے ہوسکتے ہیں ؟ 301 شرک بہت دور کی گمراہی ۔ والعیاذ باللہ : یعنی حق سے دور اور اتنی دور کہ اس سے سچی توبہ اور رجوع الی الحق کے بغیر اس کی واپسی ممکن نہیں۔ اور ایسے میں عفو و درگزر کی بھی کوئی صورت ایسے لوگوں کیلئے ممکن نہیں ہوسکتی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہ اس لیے کہ شرک گمراہی کی وہ قسم ہے جو کہ سب سے بڑی گمراہی ہے اور جو راہ حق و صواب اور صراط مستقیم سے بہت دور ہے۔ جس سے انسان کی روح فاسد اور اس کی عقل مسخ ہوجاتی ہے اور جس سے اس کا ہر عمل ناکارہ اور ناقابل قبول ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ مشرک کا عمل مختلف شرکاء سے متعلق ہوجاتا ہے۔ جبکہ اللہ پاک کی بارگہ اقدس و اعلیٰ میں وہی عمل رسائی حاصل کرسکتا ہے جو کہ خالص اسی کی رضاء و خوشنودی کیلئے کیا جائے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو مشرک اپنے شرک کے باعث خدا سے کٹ جاتا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ اپنی باگ نفس و شیطان کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ اور اس کے بعد وہ صراط مستقیم سے درجہ بدرجہ اور شدہ شدہ اتنا دور ہوجاتا ہے کہ اس کے لئے خدا کی طرف لوٹنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ تاآنکہ وہ سچی توبہ کرے۔ اس لئے خداوند قدوس کے یہاں شرک کی معافی نہیں اس کے برعکس توحید کے ساتھ اگر کسی سے گناہ ہو بھی جائیں تو اللہ جس کے لئے چاہیگا معاف فرما دے گا۔ سو شرک محرومیوں کی محرومی اور تمام شر و فساد کی جڑ بنیاد ہے اور توحید سعادت دارین سے سرفرازی کی اساس و بنیاد ہے ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
Ayah 4:117

اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا١ۚ وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًاۙ Open ayah 4:117 in the Quran reader

یہ (مشرک) لوگ اللہ کے سوا نہیں پکارتے مگر کچھ عورتوں (کے ناموں) کو، اور یہ نہیں پکارتے مگر اس بڑے سرکش شیطان کو،

302 مشرکین کا بےحقیقت مادہ ناموں کو پکارنا : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ فرمایا گیا کہ یہ لوگ اللہ کے سوا نہیں پکارتے مگر کچھ عورتوں کے ناموں کو۔ مثلًا لات، عزی، منات اور نائلہ وغیرہ، جو کہ سب کے سب مونث اور عورتوں کے نام ہیں۔ اور اسی طرح وہ لوگ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اسی طرح ہندو کالی دیوی، لکشمی دیوی، وغیرہ مختلف ناموں سے اپنے معبودوں کو پکارتے ہیں۔ بہرکیف اس طرح مشرکین اپنے ان خودساختہ بتوں کو پوجتے پکارتے اور کہتے تھے اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں (روح کبیر، قرطبی، ابن کثیر، اور محاسن التاویل وغیرہ) ۔ افسوس کہ اسی ذہنیت کے جراثیم بہت سے جاہل مسلمانوں میں بھی پائے جاتے ہیں اور وہ اپنے بزرگوں کیلئے " سہیلی سرکار "، " نویلی سرکار "، اور " سہاگن سرکار " وغیرہ جیسے مونث نام تجویز کرتے اور انہی سے ان کو پکارتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 303 شیطان مرید کی پوجا و پکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ نہیں پکارتے مگر اس بڑے سرکش شیطان کو کہ اسی کے اغواء اور تحریض سے یہ لوگ ایسا کرتے ہیں۔ اور اس طرح کفر و شرک میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس طرح بےچون و چرا اطاعت اس کی عبادت ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اَلَمْ اَعْہَدْ اِلَیْکُمْ یا بَنِیْ اٰدَمَ اَنْ لَّاتَعْبُدُوا الشَّیْطَانَ انَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ} (یسٰین : 60) یعنی " اے بنی آدم کیا میں نے تم سے یہ عہد نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی بندگی نہیں کرنا کہ وہ تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے "۔ نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { بَلْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الجِنَّ اَکْثَرُھُمْ بہمْ مَؤمِنُونَ } الآیۃ (سبا : 4 1) " نہیں بلکہ یہ لوگ جنوں کی پوجا کرتے تھے اور ان میں کے اکثر انہی پر ایمان پر ایمان رکھتے تھے "، سو شرک کے اس سارے کاروبار میں ان مشرکوں کا اصل لیڈر اور بڑا گرو چونکہ شیطان سرکش ہی تھا اور ہے جس نے خدا وند قدوس کے سامنے اس کے حکم و ارشاد کی اعلانیہ اور کھلم کھلا خلاف ورزی کی تھی اور آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا جس سے وہ مردود اور راندہ درگاہ اور ہمیشہ کے لئے مطرود و ملعون ہوگیا۔ اس لئے یہاں پر ان کے اسی بڑے گرو کا ذکر فرمایا گیا۔
Ayah 4:118

لَّعَنَهُ اللّٰهُ١ۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاۙ Open ayah 4:118 in the Quran reader

جس پر لعنت فرمادی اللہ نے، اور جس نے (اللہ سے اعلانیہ) کہہ دیا تھا کہ میں ضرور بالضرور لے کر رہونگا تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ،

304 شیطان کے چیلنج کا ذکر : سو شیطان کا چیلنج حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے سامنے تھا جو اس نے اپنے دھتکارے جانے کے بعد کیا تھا۔ یعنی ان میں سے ان لوگوں کو جو میری بات مانیں گے اور میرے پیچھے چلیں گے۔ وہ تیرے سوا اوروں کی بندگی کریں گے۔ دوسروں کے آگے جھکیں گے۔ ان کے آگے سجدے کریں گے۔ ان کے گرد طواف کریں گے۔ ان کے نام کی نذریں مانیں گے۔ نیازیں دیں گے چڑھاوے چڑھائیں گے اور طرح طرح سے کفر و شرک کا ارتکاب کریں گے۔ سو تیرے ان بندوں سے جن کے سبب تو نے مجھے گمراہ کیا میں ایک مقرر حصہ لیکر رہوں گا۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ چناچہ اس نے ایسا کر دکھایا جیسا کہ دوسری جگہ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے { وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلََیْہِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہٗ فَاتَّبَعُوْہٗ الَّا فَرِیْقاً مِنَ الْمُؤمِنِیْنَ } (سبا : 20) سو یہ تھا شیطان مرتد کا چیلنج جو اس نے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے سامنے کیا اور پھر اس نے اس کو پورا کردکھایا۔ انسانوں کی غفلت و لاپرواہی کی بناء پر اکثریت اس کے پیچھے لگ گئی سوائے سچے پکے ایمان والوں کے گروہ کے جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اپنے سچے پکے ایمان کے نتیجے میں شیطان مرید کے مکرو فریب سے محفوظ رہے۔
Ayah 4:119

وَّ لَاُضِلَّنَّهُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّهُمْ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 4:119 in the Quran reader

اور میں ضرو بالضرور گمراہ کر کے چھوڑونگا ان کو (راہ حق سے) اور میں ضرور بالضرور مبتلا کر کے رہونگا ان کو طرح طرح کی امیدوں میں، اور میں ضرور بالضرور پٹی پڑھاؤں گا ان کو، تاکہ یہ (غیر اللہ کے نام پر) کان کاٹیں اپنے جانوروں کے، اور میں ضرو بالضرور ان کو سکھاؤنگا (اور پڑھاؤنگا) تاکہ یہ بدل دیں اللہ کی بنائی ہوئی صورت کو،1 اور جس نے اپنا دوست بنا لیا شیطان کو اللہ کے سوا، تو وہ یقینا پڑگیا ایک بڑے ہی کھلے خسارے میں

305 جانوروں کے کان کٹوانے کا چیلنج : سو ابلیس نے کہا تھا کہ میں ضرور بالضرور ان کو پٹی پڑھاؤں گا تاکہ یہ اپنے جانوروں کے کان کاٹیں۔ بتوں وغیرہ معبودان باطلہ کے نام پر چھوڑنے کیلئے، جیسا کہ مشرکین عرب " بحیرہ " و " سائبہ " وغیرہ چھوڑتے تھے۔ اور ہندو اپنے بتوں کے نام اور اپنے مندروں وغیرہ میں چھوڑتے ہیں۔ اور کلمہ گو مشرک (نام نہاد مسلمان) مختلف قبروں اور آستانوں کے نام سے چھوڑتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ غیر اللہ کے نام کی نذر ونیاز حرام اور شرک ہے۔ خواہ وہ کسی بھی نام سے ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے واضح فرمایا گیا کہ شیطان مرید نے اپنے چیلنج میں کہا کہ میں اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لئے ان کو یہ پٹی پڑھاؤنگا کہ یہ جانوروں کے کان کاٹیں گے۔ سو مشرک قوموں کے درمیان یہ مشترک روایت رہی ہے کہ وہ خاص خاص جانوروں کے کان چیر کر ان کو اپنے فرضی معبودوں کے نام پر بطور نذر و نیاز چھوڑ دیتے رہے ہیں، تاکہ اس طرح ان سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرے۔ اور آج بہت سے جاہل مسلمان بھی ایسا ہی کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 306 اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو بگاڑنا شیطانی تحریک کا نتیجہ : سو ابلیس نے کہا کہ میں ان کو ضرور سکھاؤں گا پڑھاؤں گا تاکہ یہ اللہ کی بنائی ہوئی صورت کو بدل دیں۔ تاکہ اس طرح وہ بھی اس لعنت اور پھٹکار کے مستحق ہوجائیں جس کا طوق میرے گلے میں ڈالا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ کی پیدا کی ہوئی صورتوں کو بدلنا بگاڑنا اور اس کی قائم کردہ حدود کو مٹانا اس کی لعنت و پھٹکار کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ ان مردوں پر خدا کی لعنت جو عورتوں کے مشابہ بنتے ہیں، اور ان عورتوں پر بھی خدا کی لعنت جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔ اور اللہ کی پیدا کردہ صورتوں کو بدلنے بگاڑنے میں وہ سب ہی صورتیں داخل ہیں جو فطرت کے تقاضوں اور دین کی تعلیمات مقدسہ کے خلاف ہوں۔ جن میں سب سے بڑی صورت اس دین فطرت کو بدلنا ہے جس پر حضرت خالق نے بندوں کو پیدا فرمایا ہے۔ جو کہ عبارت ہے دین فطرت اور توحید خداوندی سے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { فَاَقِمْ وَجْہَکَ للدِّیْن حَنِیْفًا فِطَرَتَ اللّٰہ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا لاَ تَبْدِیْلَ لِخَلْق اللّٰہ ذَالِکَ الَدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاس لَا یَعْلَمُوْنَ } (الروم : 30) اور اس کے بعد اللہ کی مخلوق میں کی جانے والی ہر ایسی تبدیلی اس میں داخل ہے جو فطرت کے تقاضوں کے خلاف ہو۔ جیسے ڈاڑھی منڈانا، بتوں اور آستانوں کے نام کی سر پر چوٹی رکھنا، عورتوں کا اپنی کھالوں کو گدوانا، اور اپنے بالوں میں دوسرے بالوں کا وصل کرانا وغیرہ۔ (معارف للکاندھلوی (رح) ، بیان القرآن للتھانوی (رح) وغیرہ) ۔ اہل بدعت کے بعض بڑوں نے اس سے شیطان کیلئے علم غیب ثابت کیا ہے۔ چناچہ موصوف اس مقام پر لکھتے ہیں " معلوم ہوا کہ رب نے شیطان کو بھی علم غیب دیا ہے کہ اس نے جو خبر دی آج ویسا ہی دیکھا جا رہا ہے " ۔ والعیاذ باللہ ۔ شیطان اور علم غیب ؟ اگر کوئی اور ایسی بات کہہ دیتا تو اس پر پتہ نہیں کیا کیا فتوے جڑ دیئے جاتے، مگر خود موصوف ایسی بات اس صراحت سے لکھتے ہیں اور قرآن حکیم کے حواشی میں لکھتے ہیں تو کوئی پرواہ نہیں۔ اب موصوف سے کوئی پوچھے کہ اگر علم غیب بقول آپ کے شیطان مردود کو بھی حاصل ہے تو پھر آپ اس کو حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کیلئے ثابت کرنے پر کیوں زور لگاتے ہیں۔ حالانکہ آیت کریمہ میں بات شیطان مردود کے علم غیب کی نہیں، بلکہ اس کے اپنے ادعاء اور ظن و گمان کی ہے۔ اور اس کا اس طرح کہنا علم غیب نہیں بلکہ محض ظن وتخمین ہے۔ جیسا کہ سورة سبا کی مذکورہ بالا آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اور علم اور چیز ہے اور ظن و تخمن اور چیز۔ اور سورة سبا کی اس آیت کریمہ میں { صَدَّقَ عَلََیْہِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہ } فرمایا گیا ہے نہ کہ علمہ ۔ وَشَتَّان مَا بَیْنَ الْعِلْم وَ الظَّنّ ۔ بہرکیف اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو بدلنا بگاڑنا شیطان کی تحریک کا نتیجہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو شیطان مرید اپنے القاء شیطانی سے لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے اور جنوں اور انسانوں میں سے جو لوگ اس کے ایجنٹ بن جاتے ہیں وہ اس کے منصوبوں کی تعمیل و تنفیذ کا کام کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 307 شیطان کو دوست بنانا کھلا خسارہ ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے تصریح فرما دی گئی ہے کہ شیطان کو دوست بنانے والا کھلے خسارے میں ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اس سے وہ دنیا میں راہ حق و صواب سے محروم ہوگیا اور آخرت میں دوزخ کے دائمی عذاب میں مبتلا ہوگیا۔ اور اس طرح وہ دنیا و آخرت دونوں کے خسارے سے دوچار ہوگیا۔ اور پھر آخرت کا یہ خسارہ اتنا بڑا اور اس قدر شدید اور ہولناک خسارہ ہوگا کہ اس کے تدارک و تلافی کی بھی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی کہ اس کے لئے موقع و فرصت یہ دنیاوی زندگی ہی تھی جو کہ ہاتھ سے نکل چکی ہوگی۔ سو یہ خسارہ سب سے بڑا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور شیطان جب انسان کا دشمن بلکہ { عَدُ وٌّ مُبِیْن } اور " کھلا دشمن " ہے تو پھر اس کو دوست بنانے والوں کے خسارے اور نقصان کا ٹھکانا ہی کیا ہوسکتا ہے ؟ شیطان تو بہرحال یہی کوشش کریگا کہ ایسوں کو راہ حق و ہدایت سے ہٹا کر اور محروم کر کے ہلاکت اور تباہی کے راستے پر ڈال دے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 4:120–121

یَعِدُهُمْ وَ یُمَنِّیْهِمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 4:120 in the Quran reader

وہ ان سے (جھوٹے) وعدے کرتا، اور ان کو طرح طرح کی امیدیں دلاتا ہے اور شیطان ان سے وعدے نہیں کرتا مگر محض دھوکے (اور فریب) کے،

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١٘ وَ لَا یَجِدُوْنَ عَنْهَا مَحِیْصًا Open ayah 4:121 in the Quran reader

ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ پاسکیں گے اس سے چھٹکارے کی کوئی صورت

308 شیطان کا کام جھوٹے وعدے کرنا، اور بےبنیاد امیدیں دلانا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ شیطان ان سے جھوٹے وعدے کرتا اور ان کو طرح طرح کی امیدیں دلاتا ہے کہ بس جی یہ دنیا ہی سب کچھ ہے۔ اسی کے مزے جس نے لوٹ لئے اس نے سب کچھ پا لیا۔ اور آخرت واخرت کچھ نہیں۔ یہ ایسے ہی دلوں کو خوش کرنے والی باتیں اور بھلاوے و خام خیالیاں ہیں۔ جن میں پڑ کر دنیاوی عیش و عشرت اور یہاں کی لذتوں کا مزہ بھی کر کرا ہوجاتا ہے۔ اور اگر کوئی قیامت ویامت ہوئی بھی تو تم کسی کا لڑ پکڑ لو۔ اور فلاں فلاں سرکار میں سے کسی کے غلام بن جاؤ۔ بس وہ تمہارے سب کام خود کرا دے گی۔ اور یہ کہ ابھی بڑی لمبی عمر پڑی ہے۔ آخر میں جا کر توبہ کر کے سب کچھ بخشوا لینا اور نیک و صالح انسان بن جانا۔ ابھی سے ایسی نادیدہ اور ان دیکھی شئی کے خوف میں مبتلا ہو کر اپنی عیاشیوں اور عیش کوشیوں کو چھوڑ دینے کی کیا ضرورت ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہاں تک کہ اسی طرح کے شیطانی دھوکوں میں پڑ کر اور اس کی ان فریب کاریوں کے جال میں پھنس کر فرصت عمر تمام ہوجاتی ہے اور انسان خالی ہاتھ اپنی آخرت کو لوٹ کر وہاں کے دائمی اور ہولناک خسارے میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 309 شیطان کے وعدے محض دھوکہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ شیطان ان سے وعدے نہیں کرتا مگر محض دھوکے کے۔ جن کا ظاہر تو بڑا خوبصورت اور دلربا ہوتا ہے، مگر ان کا باطن سراسر مکر و فریب ہوتا ہے۔ مگر لوگ شیطان کی دھوکہ دہی اور ملمع سازی کی بناء پر ان میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اس طرح وہ ہولناک خسارے سے دوچار ہوجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لئے دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ طرح طرح سے اس سے متنبہ اور خبردار کرتی ہیں کہ کہیں تم لوگ تلبیس ابلیس کے اس دام ہمرنگ زمین میں پھنس کر اپنی دنیا و آخرت کو تباہ نہیں کردینا۔ اور لوگوں کو یہ دھوکہ ایک طرف تو دنیا کی چمک دمک اور اس کی مادی اور ظاہری چکا چوند سے لگتا ہے اور دوسری طرف تلبیس ابلیس اور القائ شیطانی کی باطنی تغریر لگتا ہے۔ اس لئے قرآن حکیم ان دونوں سے جابجا اور طرح طرح سے خبردار کرتا ہے۔ مثلاً سورة لقمان میں ارشاد فرمایا گیا { اِنَّ وَعْدَ اللّٰہ حَقٌّ فَلَا تَغُرََّنَّکُمُ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ باللّٰہ الْغَرُوْر } (اللقمان : 33)
Ayah 4:122

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِیْلًا Open ayah 4:122 in the Quran reader

اور (اس کے برعکس) جو لوگ ایمان لائے (صدق دل سے) اور انہوں نے عمل بھی نیک کئے، تو ان کو ہم عنقریب ہی داخل کریں گے ایسی عظیم الشان جنتوں میں جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں، جہاں ان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلیے رہنا نصیب ہوگا، وعدہ ہے اللہ کا سچا، اور اللہ سے بڑھ کر سچی بات کس کی ہوسکتی ہے۔2

310 عمل صالح سے مراد ؟ : اور عمل صالح وہی عمل ہوسکتا ہے جو کتاب و سنت کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق ہو۔ سو ان لوگوں نے محض ایمان و عشق کے دعوے ہی نہیں کئے ہوں گے بلکہ اپنے عمل و کردار سے اس کا ثبوت بھی دیا ہوگا۔ سو محض ایمان و عشق کے زبانی کلامی دعو وں سے کام نہیں چلے گا، بلکہ اس کے لئے عمل و کردار کا ثبوت بھی درکار ہوگا۔ کیونکہ ایمان و یقین اور عشق و محبت کا تعلق انسان کے باطن سے ہوتا ہے۔ اس کا ثبوت اپنے عمل و کردار سے ہی دیا جاسکتا ہے ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ شیطان کے وعدے اور اس کی آرزوئیں تو محض جھوٹ و فریب اور دھوکے کا سامان ہیں مگر اللہ کا وعدہ جو حق اور حقیقت کے عین مطابق ہے یہ ہے کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح کی راہ اختیار کریں گے ان کو وہ ایسی عظیم الشان جنتوں میں داخل فرمائیگا جس کے نیچے سے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ جہاں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا ۔ اللہ اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 311 جنت کی نہروں کی عظمت شان کا بیان : سو یہ نہریں ہونگی صاف ستھرے اور نہ بدلنے والے پانی کی۔ خراب نہ ہونے والے دودھ کی۔ عمدہ و مصفیٰ شہد کی۔ اور ایسے شراب طہور کی جو سراسر لذت ہوگا اور جس سے نہ کوئی بدمزگی پیدا ہوگی اور نہ اس کے پینے سے کوئی فتور آئے گا۔ پس جنت کی ان عظیم الشان نعمتوں کے مقابلے میں دنیائے دوں کی ان فانی لذتوں اور عارضی منفعتوں کی حقیقت اور حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے جو طرح طرح کی آلائشوں اور کدورتوں سے اٹی پڑی ہیں ۔ فَاِیَّاکَ نَسْألُ یَا رَبَّنَا اَنْ تُشَرِّفَنَا بِہَا بَمَحْض مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَیَا اَکْرَمَ الاَکْرَمِیْنَ - 312 خلود و دوام جنت کی ایک منفرد نعمت : سو اہل جنت کو وہاں ایسی ہمیشگی نصیب ہوگی کہ نہ وہاں موت ہوگی اور نہ کوئی زوال و انتقال۔ یہ ہے وہ اصل کامیابی اور فوز عظیم جس کے لئے انسان کو کوشش کرنی چاہیئے { لِمِثْل ہٰذَا فَلْیَعْمَل الْعَامِلُوْنَ } سو دوام و خلود جنت کی ایک ایسی خاص اور منفرد نعمت ہے جو اس دنیا میں کسی کیلئے ممکن ہی نہیں کہ یہ دنیا اور اس کی ہر چیز فانی ہے۔ نہ یہاں پر کسی نعمت کو دوام نصیب ہوسکتا ہے اور نہ کسی نعمت پانے والے انسان کو۔ سو یہ جنت کی خاص اور منفرد نعمت ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 313 اللہ سے بڑھ کر سچی بات اور کس کی ہوسکتی ہے ؟ : اور ظاہر ہے کہ ایسا کوئی بھی نہیں۔ اور جب اس اصدق القائلین نے اس کی خبر دے دی ہے اور وہ بھی اعادہ و تکرار کے ساتھ اور تاکید و توثیق کے مختلف ادوات اور اسالیب کے ساتھ دی ہے تو پھر اس میں کسی شک و شبہ کی کیا گنجائش ہوسکتی ہے ؟ سو جنت اور دوزخ کے بارے میں اس وحدہ لاشریک نے جو کچھ بتایا ہے وہ قطعی طور پر حق اور صدق ہے ۔ فَزِدْنَا اللّٰھُمَّ اِیْمَانًا وَّیَقِیْنًا بِوَعْدِکَ الْکَرِیْم، وارْزُقْنَا الصِّدْقَ وَاْلاخْلَاصَ فِی الْقَوْل والْعَمَلْ کمَا تُحِبُّ وَتَرْضیٰ ۔ بہرکیف جب اس انعام کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تو یہ پورا ہو کر رہے گا کہ اللہ کے کلام سے بڑھ کر سچا کلام اور کسی کا نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے اللہ کے رسول اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ " سب سے سچا کلام اللہ کا کلام ہے اور سب سے عمدہ اور بہتر راستہ اللہ کے رسول کا راستہ ہے اور سب سے برے کام وہ ہیں جو لوگوں نے از خود اپنے دین کے اندر داخل کئے ہوں، اور ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی دوزخ میں جائیگی " (مسلم : کتاب الجمعہ) ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم من کل زَیْغ وَّضَلَال ۔ سو عقل ونقل کا تقاضا ہے کہ انسان اس جنت سے سرفرازی ہی کو اپنے پیش نظر رکھے۔ اور ہمیشہ اسی کے لیے کوشش کرے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 4:123

لَیْسَ بِاَمَانِیِّكُمْ وَ لَاۤ اَمَانِیِّ اَهْلِ الْكِتٰبِ١ؕ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖ١ۙ وَ لَا یَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:123 in the Quran reader

مدار نہ تمہاری (آرزوں اور) امیدوں پر ہے، (اے مسلمانو ! ) اور نہ ہی اہل کتاب کی امیدوں پر، (بلکہ ضابطہ یہ ہے کہ) جو بھی کوئی برائی کرے گا، وہ اس کا بدلہ پائے گا اور ایسے لوگ نہیں پاسکیں گے اپنے لئے اللہ کے سوا، کوئی یار، اور نہ مدد گار،

314 محض امیدوں پر جینا ایک دھوکہ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مدار نہ تمہاری امیدوں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی امیدوں پر۔ بلکہ اصول اور ضابطہ یہ ہے کہ جو بھی کوئی برائی کرے گا وہ اس کا بدلہ پائے گا۔ پس محض امیدوں سے کچھ نہیں بنتا جب تک کہ صحیح عقیدہ و ایمان کی اساس و بنیاد قائم نہ ہو اور عمل و کردار کا سرمایہ موجود نہ ہو۔ اور جو لوگ محض امیدوں پر جیتے اور انہی پر تکیہ کرتے ہیں وہ ایسے بےبنیاد سہاروں پر عمل و کردار کی دولت سے لاپرواہ اور محروم ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ انہی بھول بھلیوں میں لگ کر اور ایسی بےحقیقت چیزوں میں کھوکر وہ حیات مستعار کی متاع گرانمایہ کو تمام کردیتے ہیں اور ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ سو ایسی فرضی اور بےبنیاد امیدوں پر جینا ایک دھوکہ اور ہولناک دھوکہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس لئے یہاں پر واضح فرما دیا گیا کہ جھوٹی آرزوؤں سے کچھ نہیں بنتا، خواہ وہ تمہاری ہوں اے مسلمانو ! (اشارہ منافقین کی طرف ہے) یا اھل کتاب کی بلکہ اصل چیز ایمان و عمل ہے۔ سو انسان کی نجات و فلاح کا دار و مدار اس کے اپنے عمل و کردار پر ہے۔ 315 مدار نجات ایمان مستقیم اور عمل صالح پر ہے : سو ہر کوئی اپنے کیے کرائے کا صلہ اور بدلہ پائے گا، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ گورا ہو یا کالا، مشرق کا رہنے والا ہو یا مغرب کا، کوئی سی زبان بولتا ہو، اور کسی بھی ملک و معاشرے سے تعلق رکھتا ہو، کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں صرف عقیدہ و ایمان اور عمل و کردارہی کی دولت درکار ہے اور بس۔ سو مدار نجات محض امیدوں اور آرزوؤں پر نہیں بلکہ ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار پر ہے اور یہی وہ اصول و ضابطہ کلیہ ہے جو عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ پس جو برائی کریگا وہ اس کا بھگتان بھگتیگا، خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو۔ کسی کے لئے بھی محض اس کے حسب و نسب کی بنا پر اس سے خلاصی اور چھٹکارے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ پس اہل کتاب کا یہ کہنا کہ ہمیں دوزخ کی آگ چھوئیگی بھی نہیں سوائے گنتی کے چند دنوں کے، محض ایک دھوکہ اور ان کا خود ساختہ مفروضہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 316 اللہ کے سوا نہ کوئی یار نہ کوئی مددگار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ اللہ کے سوا نہ کوئی یار پاسکیں گے نہ مددگار۔ جو اس کی واقعی کوئی مدد کرسکے یا محض زبانی کلامی ہی ہمدری و خیر خواہی کا اظہار کرسکے کہ وہاں دنیا کے یہ سب آسرے اور سہارے ختم ہوجائیں گے اور سب رشتے ٹوٹ جائیں گے { وَتَقَطَّعَتْ بِہِمُ الاَسْبَابُ } اور اس وقت لوگوں کے سامنے یہ حقیقت کھل جائے گی کہ ایسے خودساختہ اور فرضی سہارے جن پر ایسے لوگوں نے تکیہ کر رکھا تھا سب بےاصل اور بےبنیاد تھے۔ سو حامی و ناصر تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب کا خالق ومالک بھی ہے اور ان کا حامی بھی ناصر بھی۔ اس سے ایسے لوگوں نے تعلق رکھا ہی نہیں تھا اور جن بےحقیقت اور بےبنیاد چیزوں پر انہوں نے تکیہ و آسرا کر رکھا تھا وہ کسی کام آنے والی تھیں ہی نہیں کہ وہ سب بےبنیاد چیزیں تھیں، جو ھَبَائً مَّنْثُوْرًا ہوجائیں گی۔
Ayah 4:124

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا Open ayah 4:124 in the Quran reader

اور جو کوئی بھی نیک کام کرے گا خواہ وہ کوئی مرد ہو، یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ داخل ہونگے جنت میں (اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے) اور ان پر ذرہ برابر کوئی ظلم نہیں ہوگا1

317 ایمان قبولیت عنداللہ کیلئے شرط اول ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو بھی کوئی نیک عمل کرے گا خواہ وہ کوئی مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو۔ کیونکہ ایمان کے بغیر کیا جانے والا کوئی بھی عمل آخرت میں فائدہ نہیں دے سکے گا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کیلئے ایمان شرط اول ہے۔ اس کے بغیر کسی بھی عمل کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں کہ مدار قبولیت ونجات ایمان صحیح ہی پر ہے۔ بہرکیف عمل صالح کے بارے میں بھی یہ اصول اور ضابطہ کلی بیان فرمایا گیا کہ جو بھی کوئی نیک عمل کریگا خواہ وہ کوئی مرد ہو یا عورت اس کا عمل ضائع نہیں جائیگا بشرطیکہ وہ ایماندار ہو۔ سو اس کے نتیجے میں ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرہ برابر کوئی زیادتی نہیں کی جائیگی۔ 318 کسی سے ذرہ برابر کوئی ظلم نہیں ہوگا : اس طور پر کہ ان کی کسی نیکی کا ثواب ان کو نہ دیا جائے یا استحقاق سے کم دیا جائے۔ یا کوئی ناکردہ گناہ ان کے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔ سو ایسی کوئی بھی بات وہاں پر نہیں ہوگی کہ وہاں ظلم و زیادتی نہیں عدل و انصاف ہوگا۔ اور وہ بھی کامل درجے کا اور اعلی پیمانے پر۔ بلکہ وہاں تو عدل سے بھی بڑھ کر فضل و احسان کا معاملہ ہوگا۔ تو پھر وہاں کسی ظلم و زیادتی کا کیا سوال ؟ پس وہاں پر کسی کا بھی کوئی حق نہیں مارا جائے گا۔ ہر کسی کو اس کے کئے کرائے کا بھرپور صلہ اور بدلہ دیا جائے گا بلکہ اس کے استحقاق سے بھی زیادہ دیا جائے گا۔
Ayah 4:125

وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ اتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِیْمَ خَلِیْلًا Open ayah 4:125 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کو اچھا دین اور کس کا ہوسکتا ہے جس نے حوالے کردیا اپنے آپ کو اللہ کے، درآں حالیکہ وہ (مخلص اور) نیکوکار بھی ہے، اور اس نے پیروی کی ابراہیم کے دین کی،2 جو کہ ایک ہی طرف کا تھا، اور بنالیا اللہ نے ابراہیم کو اپنا گہرا دوست،

319 اخلاص نیت کی عظمت و اہمیت : یعنی نجات کیلئے اخلاص نیت اور عمل صالح کا پایا جانا بھی ضروری ہے۔ سو اسلام وجہ یعنی اپنے آپ کو اللہ پاک کے سپرد اور اس کے حوالے کردینے کے سلسلہ میں ایمان کے ساتھ دو اور چیزوں کا پایا جانا بھی ضروری ہے۔ ایک اخلاص کہ اس کی نیت خالص اللہ پاک کی رضا کیلئے ہو اور دوسرے اتباع یعنی یہ کہ اس کا عمل کتاب و سنت کی تعلیمات مقدسہ کے عین مطابق ہو۔ سو ایمان و یقین کے ساتھ ساتھ اخلاص اور اتباع دونوں کا پایا جانا بھی ضروری ہے۔ اس کے بغیر کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں شرف قبولیت نہیں پاسکتا۔ اور نہ ہی اس کے بغیر کسی عمل کی اس کے یہاں قدر و قیمت ہوسکتی ہے۔ 320 ملت ابراہیمی اور اس کی پیروی : سو ملت ابراہیمی کی پیروی اصل مطلوب ہے اور یہ در اصل عبارت ہے اس دین حنیف سے جو کہ دین فطرت ہے جو کہ اب عبارت ہے اسلام سے۔ کیونکہ اسلام دراصل ملت ابراہیمی ہی کی کامل اور محفوظ شکل ہے۔ سو ملت ابراہیمی یعنی دین اسلام کی اتباع و پیروی ہی اصل مطلوب ہے اور یہی مدار نجات اور وسیلہ فوز و فلاح ہے۔ سو اسلام کے سوا کوئی بھی دین اللہ تعالیٰ کے یہاں قابل قبول نہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی کہ جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے گا وہ اس سے کبھی قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں سخت خسارے والوں میں سے ہوگا چناچہ ارشاد ہوتا ہے { وَمَنْ یَّبْتَغ غَیْرَ الْاِسْلَام دِیْنَا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَ فِی الاخِرَۃ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ } (اٰل عمران : 10) ۔ 321 ابراہیم خلیل کی عظمت شان کا اظہار وبیان : اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا دوست بنا لیا ان کی کمال اطاعت و فرمانبرداری اور بےمثال للہیت اور قربانی کی بنا پر۔ کہ انہوں نے ماں باپ، کنبہ و قبیلہ، قوم و برادری، ملک و وطن، اور آل و اولاد سب پر اللہ کی رضا کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ اور جس وقت اور جس موقع پر بھی ان میں سے کسی کو بھی اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کیلئے ترک یا قربان کرنے کی نوبت آئی تو انہوں نے اس میں کسی بھی طرح کے پس و پیش سے کام نہیں لیا۔ اسی لیے ان کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے مقام حلت سے نوازا اور اس کو اس قدر صراحت سے بیان فرمایا۔ سو یہ ایک عظیم الشان شرف و اعزاز ہے جس سے حضرت ابراہیم خلیل کو نوازا گیا۔ سو جس نے صدق دل سے ملت ابراہیمی کی پیروی کی اور اس نے صدق و اخلاص سے اپنے رب کے احکام کی تعمیل کی وہی راہ راست پر ہیں اور یہی ملت ابراہیمی ہے۔ اور ابراہیم جو عظیم الشان اور جلیل القدر ہستی ہیں جن کو اللہ نے اپنا خلیل اور دوست بنایا ہے تو پھر ان کی ملت سے بڑھ کر اچھی ملت اور کس کی ہوسکتی ہے ؟ سو اب نجات اور فوز و فلاح ملت ابراہیمی کی پیروی ہی پر موقوف ہے۔