Ayah 4:3898 ریاکاری باعث ہلاکت و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پسند نہیں فرماتا ان دکھلاوا کرنے والوں کو جو اپنے مال خرچ کرتے ہیں لوگوں کو دکھلانے کے لیے اور وہ ایمان نہیں رکھتے اللہ پر اور قیامت کے دن پر۔ سو وہ دکھلاوا کرتے ہیں کہ تاکہ دیکھ کر لوگ ان کی تعریف و توصیف کریں، اور ان کی خوب واہ واہ ہو۔ پس ایسوں کو اللہ تعالیٰ کے یہاں کچھ بھی نہیں ملے گا، کہ انہوں نے اس کی رضاء کیلئے کچھ کیا ہی نہیں تھا۔ اور جس کے لئے کیا تھا وہ انہیں اس دنیا میں دے دیا گیا اور بس۔ سو ریاکاری کی اس بری خصلت کی بناء پر یہ لوگ اس ہولناک محرومی کا شکار ہوگئے۔ بس ریاکاری اعمال کو تباہ کردینے والی آفت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس طرح کے لوگ اگرچہ خدا اور آخرت پر ایمان کے مدعی ہوتے ہیں لیکن ان کا ایمان نہ اللہ پر ہوتا ہے نہ آخرت پر۔ اس لئے ان کے خرچ کا اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی وزن نہیں۔ کہ ان کا خرچ حقیقت میں اللہ کے لئے ہوتا ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 4:39–4099 ایمان صادق کیلئے ترغیب وتحریض : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہوجاتا ان کو کہ اگر یہ لوگ ایمان لے آئے اللہ پر اور قیامت کے دن پر۔ سو یہ ان کے لئے زجر و توبیخ بھی ہے، اور تحریض و ترغیب بھی۔ کہ یہ منافقت چھوڑ کر سچے دل سے ایمان لے آئیں تاکہ ایمان صادق کے ثمرات اور اس کی برکات سے دارین میں مستفید و متمتع ہو سکیں۔ سو منافقت میں خود انہی لوگوں کا نقصان ہے اور صدق ایمان و یقین کی دولت میں خود انہی کا بھلا اور فائدہ ہے، کہ صدق ایمان و یقین کے بعد کئے جانے والے ہر عمل کا اللہ تعالیٰ کے یہاں وزن اور اس کی کوئی قدر و قیمت ہوسکتی ہے۔ جبکہ منافقت والے عمل کی اس کے یہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِجل وعلا -
100 اِنفاق فی سبیل اللہ کے لیے تحریض و ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہوجاتا ان لوگوں کو اگر یہ [ اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لیے ] خرچ کرتے اس مال میں سے جو کہ اللہ ہی نے ان کو دیا بخشا ہے [ اپنے فضل و کرم سے ] ۔ اس میں بھی ترغیبی پہلو واضح ہے کہ اول تو جو کچھ ان کے پاس ہے وہ اس اللہ ہی کا عطا کردہ، اور عنایت فرمودہ ہے، جس کے نام اقدس پر خرچ کرنے کیلئے ان سے کہا جا رہا ہے۔ اور پھر یہ مطالبہ بھی اللہ کے دیئے ہوئے اس سب مال کا نہیں، بلکہ اس میں سے کچھ ہی کا ہے۔ پھر بھی ان لوگوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر موت کیوں آجاتی ہے ؟ جبکہ اس میں خود ان ہی لوگوں کا بھلا اور فائدہ ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اس کا اجر و صلہ ان کو ایک کا دس گناہ، سو گنا، سات سو گنا اور اس سے بھی کہیں زیادہ بڑھا کردیا جائے گا۔ سو انصاف فی سبیل اللہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی و بہرہ مندی کا ایک اہم ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یُحِبُّ ویْرِیْدُ وَعَلٰی مَا یُحِبُّ وْ یَرِیْدُ وہوالہادی الی سواء السبیل ۔ پس عقل و نقل کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے مال کو صدق و اخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لئے خرچ کر کے آخرت کی اپنی اصل حقیقی اور ابدی زندگی کے لئے جمع کر دے اور اس کو اپنے لئے آخرت کا ابدی سرمایہ بنا دے ۔ اللہ توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
101 اللہ تعالیٰ کے علم و آگہی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب کو۔ پس دنیا والوں سے تو اپنے نفاق کو یہ لوگ چھپاتے ہیں، مگر اس وحدہ لاشریک سے کیسے چھپائینگے، جو ان کے ظاہر اور باطن سب کو پوری طرح اور ایک برابر جانتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس سے ظاہر و باطن کی کسی بھی حالت اور کیفیت کو چھپانا ممکن نہیں۔ پس جو لوگ اس طرح کرتے ہیں وہ بڑی ہی ہولناک غلط فہمی میں مبتلا ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کوشش ہمیشہ اسی بات کی ہونی چاہئے اور پورے صدق و اخلاص سے ہونی چاہئے کہ اس خالق ومالک کے ساتھ اپنا رشتہ وتعلق صحیح رہے۔ اور یہی وہ اولین اساس اور اصل بنیاد ہے جس پر جملہ امور کی صحت و استواری کا مدارو انحصار ہے۔ جو کوئی اپنے خالق ومالک سے اپنا تعلق صحیح رکھے گا وہ دوسروں کے ساتھ بھی اپنے تعلقات صحیح لائنوں پر استوار کرسکے گا۔ اور جس کا تعلق اپنے خالق ومالک کے ساتھ صحیح نہیں ہوگا، اس کا تعلق دوسروں کے ساتھ بھی صحیح نہیں ہوسکتا۔ سو تعلق مع اللہ کی صحت واستواری شاہ کلید ہے دوسرے تمام امور کی اصلاح کے ۔ اللہ فہذہ نواصینا بین یدیک فخذنا بہا الی ما تحب وترضی بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ ۔ یا ذا الجلال والاکرام یا من بیدہ ملکوت کل شیء وہو یجیر و لا یجار علیہ -
Ayah 4:41102 روز قیامت کی شہادت و گواہی کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے روز ہر امت سے ایک گواہ لایا جائیگا۔ یعنی اس امت کے نبی کو، جو گواہی دے گا کہ میں نے زندگی بھر ان لوگوں کو حق کا پیغام پہنچایا، لیکن انہوں نے اس کے مقابلے میں یہ اور یہ کرتوت کئے۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول خود قرآن حکیم میں مذکور ہے { وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ } الاٰیۃ ۔ کہ " میں جب تک زندہ رہا ان کی نگرانی کرتا رہا، لیکن اے مالک جب تو نے مجھے اپنی طرف اٹھا لیا تو (اس کے بعد مجھے کچھ پتہ نہیں کہ یہ لوگ کیا کرتے رہے بلکہ) پھر تو ہی ان پر نگہبان و نگران تھا (اے میرے مالک ! ) " (المائدۃ : 1 17) سو حضرات انبیائے کرام علیھم الصلوۃ والسلام کی یہ گواہی جن لوگوں کے حق میں جائے گی وہی کامیاب اور فائز المرام ہوں گے اور جن کے خلاف جائے گی وہ خائب و خاسر ہوں گے۔ (المراغی، المحاسن، المعارف وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ آج تو یہ لوگ اپنے کفر و نفاق کو چھپاتے ہیں لیکن حساب کے اس ہولناک دن میں یہ اس کو کس طرح چھپا سکیں گے جب کہ میدان حشر میں اللہ تعالیٰ سب امتوں اور ان کے پیغمبروں کو جمع کرکے پیغمبروں سے گواہی دلائے گا کہ انہوں نے لوگوں کو دین حق پہنچا دیا تھا۔ سو عقل و نقل کا تقاضا یہی ہے کہ ایسے لوگ عمر رواں کی اس فرصت محدود کے ختم ہوجانے سے پہلے پہلے آج اپنی روش کی اصلاح کرلیں ورنہ ہمیشہ کا پچھتاوا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو عقل ونقل کا تقاضا ہے کہ انسان اس یوم عظیم اور اس کے تقاضوں کو ہمیشہ یاد رکھے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
103 حضرت امام الانبیاء کی گواہی سب پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم آپ کو گواہ بنا کر لائیں گے [ اے پیغمبر ] ان سب پر۔ یعنی ان سب امتوں پر، یا ان کا فرین و منافقین پر۔ (جامع البیان، صفوۃ التفاسیر، وغیرہ) ۔ تو اس وقت ان کا کیا بنے گا، اور ان کا کیا حال ہوگا کہ اس موقع پر نجات کا ذریعہ تو صرف ایمان ہوگا، کہ ایمان والوں کو تو اس دن کی وہ بڑی گھبراہٹ بھی پریشان نہ کرسکے گی جس سے دوسرے لوگوں کے ہوش اڑ چکے ہوں گے۔ چناچہ دوسرے مقام پر ایمان والوں کو اس عظیم الشان خوشخبری سے اس طرح صاف اور صریح طور پر نوازا گیا ہے { لَا یَحْزُنُہُمْ الْفَزَعُ الاَکْبَرُ } الایۃ (الانبیائ۔ 103) اور ایمان کی اس عظیم الشان دولت سے یہ لوگ چونکہ محروم ہیں۔ اس لئے ان کیلئے ایسی کسی خوشخبری کا کوئی سوال ہی نہیں۔ تو پھر ان کا کیا بنے گا اور ان کا کیا حال ہوگا ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف امت مسلمہ دوسری تمام قوموں اور امتوں پر گواہ ہوگی اور اس کے رسول ان سب پر گواہ ہوں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی۔ و اس یوم حساب اور اس کے تقاضوں کو ہمیشہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 4:42104 قیامت کے روز کفار کی انتہائی یاس و حسرت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز کافر و نافرمان لوگ یہ تمنا کریں گے کہ ان کے ساتھ برابر کردیا جائے زمین کو۔ کہ زمین پھٹ کر ان کو نگل لے، اور پھر اوپر سے جڑ کر برابر ہوجائے، تاکہ اس طرح یہ لوگ اس ہولناک انجام سے بچ سکیں۔ مگر ایسے کہاں اور کیونکر ؟ یا یہ مطلب ہے کہ یہ لوگ اس روز یہ تمنا کریں گے کہ یہ مٹی ہوجائیں تاکہ مٹی میں مل کر نیست و نابود ہوجائیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ نتیجہ و مآل ان دونوں مطلبوں کا ایک ہی نکلتا ہے یعنی اس طرح وہ لوگ اپنی نہایت ہی یاس و حسرت کا اظہار کریں گے مگر اس کا ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا، سوائے یاس و حسرت کی اس باطنی آگ میں جلنے کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس میں کفر و انکار کرنے والوں کی اس انتہائی یاس و حسرت کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے جس میں یہ لوگ اس روز مبتلا ہوں گے جبکہ ایسے لوگ رہ رہ کر یہ تمنا اور آرزو کریں گے کہ کاش وہ زمین میں دھنس جائیں اور زمین کو ان کے سمیت برابر کردیا جائے۔
105 اللہ سے کوئی بات چھپانا ممکن نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز یہ لوگ اللہ سے کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے اور جب انکے پیغمبروں کے علاوہ خود ان کے اپنے ہاتھ پاؤں بھی ان کے خلاف گواہی دے دیں گے، تو پھر کوئی بات چھپانے کا کیا سوال باقی رہ سکتا ہے۔ سو اس روز ان کیلئے ممکن نہیں ہوگا کہ وہ اللہ سے اپنی کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے اور ان کے تمام جرائم پوری طرح ثابت ہوچکے ہوں گے۔ سو قرآن حکیم نے یہ سب کچھ پیشگی بتادیا اور اس صراحت و وضاحت کے ساتھ بتادیا تاکہ جس نے برے انجام سے بچنا ہو بچ جائے، قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود اس کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس کو ہمیشہ کیلئے کف افسوس ملنا پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو وہ لوگ بڑے خسارے میں ہیں جو اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ اپنے کرتوتوں کو اللہ پاک سے چھپا سکتے ہیں اور ان کے ہاتھ پاؤں کی اس گواہی کی تصریح دوسرے مقام پر اس طرح فرمائی گئی ہے { یَوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَاَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلِہِمْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُوْنَ } (النور۔ 24) ۔ نیز دوسرے مقام پر ان کی آنکھوں، کانوں اور ان کی کھالوں کی گواہی کی بھی تصریح فرمائی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے { حَتّٰی اِذَا مَا جَائُ وْھَا شَہِدَ عَلَیْہِمْ سَمْعُہُمْ وَاَبْصَارُھُمْ وَجُلُوْدُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } (ح م السجدہ۔ 2) تو پھر چھپنے چھپانے کا کیا امکان ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو قیامت کے روز کسی کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپانا ممکن نہ ہوگا۔
Ayah 4:43106 حرمت شراب کے حکم کے دوسرے مرحلے کا ذکر وبیان : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ نماز کے قریب بھی نہ جایا کرو جبکہ تم نشے کی حالت میں ہوا کرو۔ یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ سو یہ اس وقت کا حکم ہے جبکہ شراب ابھی حرام نہیں ہوئی تھی۔ بعد میں حرمت شراب کے بعد یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا۔ سنن ترمذی (رح) وغیرہ میں حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ حرمت شراب کے حکم سے پہلے ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ نے ایک دعوت میں ہمیں مدعو کیا، اور پھر کھانے کے بعد شراب پلائی، جو ہم میں سے بعض کے سروں پر چڑھ گئی۔ اس دوران نماز کا وقت آگیا، تو امامت کیلئے ان سب نے مجھے آگے کیا، اور میں نے سورة کافرون اس طرح پڑھ دی " ۔ قُلْ یَٓا اَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ لَا اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ وَنَحْنُ نَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ ۔ " تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (ترمذی، کتاب التفسیر، سورة النسائ) جس سے شراب نوشی کے بارے میں یہ نئی پابندی عائد کردی گئی۔ تو اس طرح شراب نوشی پر ایک اور پابندی اور قدغن لگا دی گئی (ابن کثیر، قرطبی، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان، وغیرہ) ۔
107 غسل جنابت کی فرضیت کا بیان : سو اہل ایمان کو مزید ہدایات دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اور نہ ہی تم ناپاکی کی حالت میں نماز کی قریب جاؤ مگر راستہ گزرتے ہوئے۔ " یہاں تک کہ تم لوگ غسل کرلو " یعنی غسل جنابت۔ کہ غسل جنابت کے بغیر نماز درست نہیں ہوسکتی کہ طہارت اس کے لئے اولین شرط ہے۔ سو غسل جنابت فرض ہے۔ غسل کے بغیر انسان پاک نہیں ہوسکتا۔ اور جب تک وہ پاک نہ ہو اس کیلئے نماز کا کوئی سوال نہیں۔ یہاں پر نشہ اور جنابت دونوں کو ایک ساتھ ذکر فرمایا گیا ہے کہ مفسد نماز ہونے کے اعتبار سے یہ دونوں ہی نجاستیں ایک برابر ہیں۔ بس اتنا فرق ہے کہ جنابت جسم کی نجاست ہے اور نشہ عقل کی۔ اور شراب خانہ خراب کو قرآن حکیم میں جو " رجس " فرمایا گیا ہے تو اس سے اس کی بھی وضاحت ہوجاتی ہے کہ نشہ کی یہ نجاست ظاہری اور حسی نجاست سے بھی کہیں بڑھ کر مضر اور نقصان دہ ہے مگر اس کے باوجود کتنے ہی مسلمان اس ام الخبائث کی لت میں مبتلا ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر برائی سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین
108 مسافر کیلئے تیمم کی اجازت : یعنی سفر شرعی کی صورت میں جس کی تحدید اور متعلقہ احکام کی تفصیلات حدیث و فقہ کی کتابوں میں مذکور و موجود ہیں۔ بہرحال مسافر کیلئے بھی تیمم کی اجازت ہے۔ آگے کچھ حضرات نے تو محض سفر ہی کو جواز تیمم کیلئے کافی قرار دیا ہے، خواہ وضو کیلئے پانی موجود ہو یا نہ ہو کہ ظاہر آیت کا مفہوم یہی ہے۔ لیکن ائمہ اربعہ سمیت جمہور اہل علم کے نزدیک اس کیلئے فقدان ماء شرط ہے۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف یہاں پر تیمم کے تین مواقع ذکر فرمائے گئے ہیں۔ مرض، سفر اور پانی کی نایابی۔ سو اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ مرض اور سفر میں پانی کے موجود ہوتے ہوئے بھی آدمی تیمم کرسکتا ہے۔ مرض میں وضو یا غسل سے ضرر کا اندیشہ ہوتا ہے اس لئے یہ رعایت دی گئی۔ اسی طرح سفر میں بھی ایسی مختلف صورتیں پیش آسکتی ہیں کہ آدمی کو تیمم ہی پر قناعت کرنا پڑتی ہے۔ مثلاً یہ کہ پانی نایاب تو نہ ہو لیکن کمیاب ہو، جس سے اندیشہ ہو کہ اگر پانی غسل وغیرہ کے کام میں لگایا گیا تو پینے کے لئے تھڑ جائے گا۔ یا یہ کہ اگر نہانے کے اہتمام میں لگ گئے تو قافلے کے ساتھیوں سے بچھڑ جائیں گے۔ یا یہ کہ ریل یا جہاز کا ایسا سفر ہو کہ غسل کرنا شدید زحمت کا باعث ہو وغیرہ۔ بہرکیف مذکورہ بالا ان تین صورتوں میں تیمم کی اجازت ہے۔ اور یہ دین حنیف کے لطف و یسر کا ایک مظہر و نمونہ ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا -
109 حسن ادب کی تعلیم لطیف کا ایک نمونہ : یہاں پر قضاء حاجت کیلئے صریح لفظ کی جگہ کنایہ استعمال فرمایا گیا ہے، جس میں حسن ادب کی تعلیم لطیف ہے کہ ایسے موقع پر صریح لفظ کا استعمال ذوق سلیم پر گراں گزرتا ہے۔ سو غائط کا لفظ اصل میں نشیبی زمین کے لئے بولا جاتا ہے اور دیہات کی سادہ زندگی میں لوگ چونکہ قضائے حاجت کے لئے نشیبی زمین اور جھاڑیوں وغیرہ ہی کی طرف جاتے ہیں اس لئے قضائے حاجت کو یہاں پر " غائط " کے کتابی لفظ سے تعبیر فرمایا گیا۔ اور خود قضائے حاجت کے لفظ میں بھی اسی حسن ادب کی تعلیم و تلقین پائی جاتی ہے ۔ اللّٰھُمْ اھْدِنَا لاَحْسَن الْاَخْلَاقِ ۔ ولا یہدی لاحسنہا الا انت ۔ سو حسن ادب اور مکارم اخلاق ایک اہم مطلوب ہے۔ اور یہ مون صادق کے لیے زینت اور اس کی امتیازی شان کا تقاضا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
110 { لاَمَسْتُم النسائ } سے مقصود و مراد ؟ : یعنی " ملامست " سے مراد یہاں پر مباشرت و ہم بستری ہے۔ نہ کہ صرف چھونا اور ہاتھ لگانا۔ یہی مروی ہے حضرت علی ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے۔ جبکہ دوسرا قول اس میں بعض اہل علم کا یہ ہے کہ اس سے مراد مس ہے۔ یعنی محض چھونا، مگر راحج پہلا قول ہے۔ (محاسن التاویل، مدارک التنزیل، معارف القرآن للکاندھلوی وغیرہ) ۔ بہرکیف " لامستم النسائ " صحبت اور مباشرت سے کنایہ ہے اور اس طرح یہاں پر حدث اصغر اور حدث اکبر دونوں کے بارے میں بتادیا گیا کہ تیمم ان دونوں کیلئے کفایت کرتا ہے۔ اگر اس کا ذکر نہ ہوتا تو اس کا خدشہ تھا کہ یہ غلط فہمی پیدا ہوجائے کہ تیمم کی کفایت صرف حدث اصغر کیلئے ہے۔ جبکہ حقیقت میں ایسے نہیں ہے۔ بلکہ تیمم کی اجازت ضرورت کے ہر موقع پر ہے۔
1 1 1 اللہ تعالیٰ کی بخشش و رحمت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بےشگ اللہ بڑا معاف فرمانے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ اسی لئے وہ اپنے احکام میں طرح طرح سے نرمی برتتا، اور ان میں اس طرح تخفیف فرماتا ہے۔ اور اپنے بندوں کو ایسی ایسی رخصتوں اور عنایتوں سے نوازتا ہے۔ جس کا ایک عظیم الشان مظہر یہ ہے کہ اس نے تمہاری سہولت اور آسانی کیلئے مٹی کو پانی کے قائم مقام قرار دے دیا جو ہر جگہ میسر ہے۔ جو تمہارے پاؤں کے نیچے پڑی تمہیں درس عبرت و بصیرت اور خاکساری کی تعلیم دے رہی ہے۔ جو تمہارا مبداء و منتہاء اور آغاز و انتہاء ہے۔ اسی سے تم پیدا ہوئے ہو اور اسی میں تم نے مرنے کے بعد جانا ہے۔ یہی تم کو زندگی میں بھی سنبھالتی ہے اور موت کے بعد بھی۔ اور یہ تمہارے قدموں کے نیچے پڑی ہر وقت اپنی زبان حال سے تمہیں فیض رسانی اور عجز و انکسار کا درس دے رہی ہے کہ بندے کو ہمیشہ خاکساری اور تواضع وانکساری اور نفع بخشی اور فیض رسانی کی خوبو اپنانی چاہیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل وبیدہ ازمۃ الصلاح والتوفیق -
Ayah 4:44112 اہل کتاب کے تعجب خیز و عبرتناک حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب کا ایک حصہ دیا گیا وہ گمراہی کو اپناتے ہیں بدلے میں ہدایت کے اور وہ چاہتے ہیں کہ تم لوگ بھی بھٹک جاؤ سیدھی راہ سے۔ یعنی کیا تم نے ان کے حال پر غور نہیں کیا کہ کیسا عجیب و غریب اور حیرت و عبرت انگیز ہے حال ہے ان کا ؟ کہ کہنے کو تو یہ اہل کتاب ہیں، اور کتاب حکیم کے علم کا بھی انہیں ایک بڑا حصہ ملا ہے، مگر اس کے باوجودیہ لوگ خریدتے ہیں گمراہی کو بدلے میں ہدایت کے۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ یہ تم کو بھی راہ حق و ہدایت سے بھٹکانا چاہتے ہیں، تاکہ اس طرح یہ ضلال کے ساتھ اضلال کے جرم کے بھی مرتکب بنیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں پر یہ بھی واضح ہے کہ بعض دوسرے مقامات کی طرح یہاں بھی کتاب سے مراد قرآن مجید ہے اور { نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتَاب } سے مراد دوسری آسمانی کتب اور صحیفے ہیں۔ کیونکہ وہ اصل میں اس کتاب مبین کے اجزاء و حصص ہی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سو اس کا تقاضا یہ تھا کہ قرآن حکیم کی اس کامل کتاب کو نازل ہونے پر ایسے لوگ آگے بڑھ کر اور صدق دل سے اس پر ایمان لے آتے لیکن ان لوگوں کا حال عجیب ہے کہ یہ اس پر ایمان لانے کی بجائے الٹے اس کے دشمن بن گئے۔ اور انہوں نے ہدایت کی بجائے گمراہی کو اپنایا اور اللہ کے غضب کے مستحق بنے { فباؤا بغضب من اللہ } سو پیاسا اگر شدّت ضرورت اور سخت پیاس کے باوجود آب زلال کے چشمہئ صافی سے محروم لوٹے تو اس سے بڑھکر بدبخت اور محروم اور کون ہوسکتا ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:45113 اللہ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو۔ اور تم لوگوں سے بھی کہیں زیادہ اور اچھی طرح جانتا ہے۔ پس تم لوگ ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک کے بتانے پر اعتماد و یقین رکھو۔ اور اسی کی ہدایات وتعلیمات پر صدق دل سے عمل کرو۔ اور تمہارے جن دشمنوں کی اس نے اپنی رحمت و عنایت سے تمہارے لیے نشاندہی فرما دی ہے ان کو تم اپنا دشمن ہی سمجھو اور ان کی عداوت و دشمنی سے بچنے کی فکر و کوشش میں رہو۔ سو اس جملے میں مسلمانوں کے لئے تسلیہ و تسکین کا سامان ہے کہ اللہ تمہارے دشمنوں اور ان کی چالوں سے بیخبر نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس تم اسی سے اپنا معاملہ صحیح رکھو ۔ وباللہ التوفیق -
114 حاجت روا و کارساز سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کافی ہے سب کی کارسازی اور حاجت روائی کیلئے ہر اس شخص کیلئے جو اس کی طرف جھکے اور اس سے مدد چاہے۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ آج کا جاہل مسلمان اس قادر مطلق کو پکارنے کی بجائے اس کی عاجز مخلوق کو پکارتا ہے۔ کہیں وہ کہتا ہے " یا علی مدد " کہیں " یا غوث دستگیر " اور کہیں " یا حسین " کے نعرے لگاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور وہ اگر نہیں کہتا تو " یا اللہ مدد " ہی نہیں کہتا ۔ اِلَّاما شَائَ اللّٰہٗ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ بہرکیف جو صدق دل سے اس کی طرف رجوع کرے گا اس کو وہ اپنی نصرت سے نوازے گا۔ اور جس کو اس کی نصرت و حمایت کی سعادت نصیب ہوجائے اس کو کسی کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے۔ سب کچھ تو اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ بس تم لوگ اے مسلمانو ! اسی وحدہ لا شریک کی کارسازی کے بھروسہ و اعتماد پر راہ حق میں آگے بڑھتے چلو۔ اور کسی اور کی کوئی پرواہ مت کرو۔ اللہ تم کو کافی ہے ۔ سبحانہ وتعالی -
Ayah 4:46115 یہود کی ایک خصلت بد کا ذکر : سو اس سے یہود کی اس خصلت بد کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ یعنی یہ ایسے بدبخت لوگ ہیں کہا آنحضرت ﷺ سے بات سن کر کہتے ہیں کہ ہم نے آپ کی بات سن لی لیکن مانیں گے نہیں۔ یعنی کانوں سے تو سن لیا لیکن دل سے مانا نہیں۔ (معارف، مدارک اور محاسن وغیرہ) ۔ سو اس سے ان لوگوں کی شقاوت و بدبختی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے لفظ بولنا جن کے ظاہری معنیٰ تو صحیح اور درست ہوں مگر تحریف کے ذریعے ان کو برے اور غلط معنوں میں استعمال کیا جائے تو یہ ایک یہودیانہ طریقہ اور بگڑی ہوئی ذہنیت کا نمونہ ہے، جس کے نمونے آج بھی یہاں اور وہاں طرح طرح سے ملتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس طرح کے لوگ دراصل اپنی شقاوت اور بدبختی کے داغ کو مزید پکا اور گہرا کرتے جاتے ہیں اور اس طرح یہ محروم سے محروم تر ہوتے جاتے ہیں مگر ان کو اس کا احساس و شعور نہیں ہوتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ لوگ پیغمبر کی بارگہ اقدس میں ایسے ذو معنی الفاظ استعمال کرتے جن کا ظاہر کچھ ہوتا اور باطن کچھ اور دھوکہ دہی کی غرض سے یہ لوگ ان الفاظ کے ظاہری معنی بتاتے لیکن اندر سے ان کی مراد دوسری ہوتی۔ سو اسی طرح یہ لوگ کہتے ۔ { اسمع غیر مسمع } ۔ جس کا معنی ہے سنو نہ سنائے جاؤ۔
116 یہود کے ڈبل معنی ٰ والے اور شرانگیز کلام کا ایک نمونہ : یعنی کوئی مکروہ اور ناپسند بات نہ سنائے جاؤ، سو اس طرح یہ لفظ تعریف اور خوبی کا آئینہ دار ہوگیا۔ اور یہی معنیٰ وہ ظاہر کرتے تھے۔ اور دوسرا مطلب اس کا ہے کہ تم سنو نہ سنائے جاؤ۔ یعنی تم بہرے ہوجاؤ اور کچھ نہ سن سکو۔ یا یہ کہ تمہاری بات کوئی نہ سنے، اور ایسے خبیث معنی ہی وہ لوگ اس لفظ سے اپنے دل میں مراد لیتے تھے، اپنے خبث باطنی کی بناء پر ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے یہودیوں کی اس خبیث ذہنیت کا بھی پتہ چلتا ہے اور ان کی حرمان نصیبی کے اصل باعث اور سبب کا بھی۔ تو پھر ایسے لوگ حق و ہدایت کی دولت سے آخر کیسے اور کیونکر سرفراز ہوسکتے ہیں ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
117 یہود کی شر انگیزی کی ایک اور مثال : کہ یہ لوگ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ سے " رَاعِنا " کے لفظ سے خطاب کرتے ہیں اور " رَاعِنا " کے اس لفظ کے متبادر اور ظاہری معنی ہیں " ہماری رعایت کیجئے "، " ہمارا خیال رکھئیے " وغیرہ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ اس کے صحیح معنی ہیں، مگر وہ بدبخت اپنے خبث باطن کی بناء پر اس کا دوسرا معنیٰ مراد لیتے تھے، یعنی " ا حمق " اور " بیوقوف "۔ کیونکہ ان کی لغت میں اس لفظ کے یہی معنی آتے تھے۔ یا کبھی وہ اس لفظ کو دبا کر " رَاعِیْنَا " بنا دیتے، جس کا معنی ہے " اے ہمارے چرواہے اور گڈریئے "۔ سو اس سے ان لوگوں کے خبث باطنی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ قَاتَلَہُمُ اللّٰہُ وَخَذَلَہُمْ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ ۔ نیز اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کے باطن میں بغض و حسد کی آگ کا کیسا الاؤ جل رہا تھا، اور اس طرح اپنے باطن کی اس ٹھنڈی آگ کا عذاب وہ نقدا نقد بھگت رہے تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
118 یہود پر پھٹکار، ان کے اپنے اختیار کردہ کفر کی بناء پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان پر لعنت اور پھٹکار پڑگئی ان کے اپنے اختیار کردہ کفر کی بنا پر۔ جس کے باعث یہ لوگ صحیح بات سمجھ ہی نہیں پاتے۔ سو اپنی ہلاکت اور تباہی کے ذمہ دار یہ لوگ خود ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حق سے منہ موڑنے اور اعراض برتنے والے خود اپنا ہی نقصان کرتے اور اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے ہیں { وَمَاظَلَمُوْنَا وَلکِنْ کَانُوْا اَنْفُسَہُمْ یَظُلِمُوْنَ } (البقرۃ : 57) بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ان لوگوں کے اپنے اختیار کردہ کفر کے انکار کے باعث ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت اور پھٹکار کردی گئی جس کے نتیجے میں یہ نور ایمان کی دولت سے محروم ہوگئے جو سب سے بڑی محرومی اور دارین کی ہلاکت اور فساد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
119 ایمان قلیل کا معنیٰ و مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑا۔ یعنی تھوڑا سا ایمان، جو کچھ ایمانیات کے بارے میں وہ رکھتے تھے لیکن وہ معتبر نہیں، کہ ایمان میں تجزّی اور تقسیم قبول نہیں کہ کچھ کو مانا جائے اور کچھ کو نہ مانا جائے۔ بلکہ سب ہی ایمانیات کو ماننا اور قبول کرنا ضروری ہے۔ اور دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان میں سے ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑے سے لوگ، جیسے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی کہ وہی ان کی خباثتوں اور شرارتوں سے محفوظ رہے۔ اور وہی لعنت سے محفوظ رہے۔ اور وہی نور ایمان و یقین سے مشرف و سرفراز ہوئے۔ (المراغی الکشاف، المعارف، المدارک اور فتح القدیر وغیرہ) ۔ بہرکیف جب ایسے لوگوں نے نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر کفر و انکار کی راہ کو اختیار کیا تو ان پر لعنت اور پھٹکار کردی گئی اور ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے باب رحمت سے دھتکار دیا تو یہ ایمان و یقین کی اس دولت سے محروم ہوگئے جو سب سے بڑی محرومی ہے۔ اور اس طرح یہ لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز اور بہرہ مند کرنے والی اس بےمثال دولت سے محروم ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:47120 قرآن حکیم کی تصدیق تورات و انجیل کیلئے تین طرح سے : قرآن حکیم سے تورات و انجیل کی یہ تصدیق تین طرح سے ہوتی ہے۔ ایک تو اس طرح کہ تورات و انجیل میں آخری پیغمبر اور ان پر نازل ہونے والی اس وحی کی خبر دی گئی تھی۔ تو اس طرح اس کتاب کا محض نزول ہی تورات و انجیل کی تصدیق ہے۔ کیونکہ اگر بالفرض یہ کتاب حکیم نازل نہ ہوتی تو اس سے متعلق تورات و انجیل کی ایسی تمام پیشینگوئیاں جھوٹی پڑجاتیں۔ اور دوسرے اس طرح کہ اس کتاب حکیم میں بھی انہی بنیادی حقائق و عقائد کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے جو کہ ان کتابوں میں مذکور تھے، اور اس میں یہ تعلیم بطریق احسن اور بدرجہ کمال فرمائی گئی ہے۔ اور تیسرے اس طرح کہ اس کتاب میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے کہ وہ سابقہ کتابیں بھی آسمانی اور الہامی کتابیں تھیں۔ اور وہ بھی اپنے اپنے وقتوں میں مینارہ نور اور سرچشمہئ رشد و ہدایت تھیں۔ سو اس سب کا مقتضیٰ یہ تھا کہ اہل کتاب آگے بڑھ کر اس کو قبول کرلیتے۔ صدق دل سے اس پر ایمان لاتے۔ اس کی دعوت پر لبیک کہتے اور اس کی تعلیمات مقدسہ کو دل و جان سے اپناتے۔ مگر یہ لوگ ہیں کہ الٹا اس کے مقابلے میں اور اس کا راستہ روکنے کے لئے کھڑے ہوں گے۔ سو یہ کتنی بڑی بےانصافی اور کس قدر محرومی اور بدبختی ہے۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے اتباع ہویٰ اور ہٹ دھرمی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
121 چہروں کو مٹانے اور الٹنے سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ایمان لے آؤ اس کتاب پر جو تصدیق کرنے والی ہے اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے قبل اس سے کہ ہم مٹا ڈالیں کچھ چہروں کو پھر ان کو ہم الٹ دیں ان کی پیٹھوں کی طرف۔ یعنی حقیقتًا جیسا کہ منکروں کے ساتھ قیامت سے پہلے، اور قیامت کے بعد ہوگا۔ یا حکماً اور مجازاً کہ راہ حق سے ان کے چہرے پھیر کر ان کو کفر و ضلال کے اندھیروں میں پھینک دیا جائے۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ اور یہ اس لیے کہ کانوں آنکھوں وغیرہ کی یہ نعمتیں تم لوگوں کو اسی لیے دی گئی تھیں کہ ان سے صحیح کام لیکر تم لوگ حق و ہدایت کی اس راہ کو اپناؤ جو دارین کی سعادتوں سے ہمکنار و بہرہ ور کرنے والی راہ ہے۔ لیکن جب تم ان سے ان کا یہ کام لینے کی بجائے الٹا ان کو حق اور اہل حق کیخلاف استعمال کرنے لگے اور تم نے ان کو ہدایت و روشنی کے میناروں کی بجائے ہلاکت کے گڑھے بنادیا تو اب یہ اسی قابل ہیں کہ ان کو مٹا دیا جائے اور تم لوگ اندھے بہرے بن کر ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھوں میں گر کر اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ جاؤ۔ اسی لیے دوسرے مقام پر ایسے لوگوں کو بہرے گونگے اور اندھے { صُمٌّ، بُکْمٌ، عُمْیٌ} فرمایا گیا ہے۔ سو حق سے اعراض و روگردانی کا نتیجہ بڑا ہی ہولناک ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
122 اللہ کا حکم ہو کر ہی رہتا ہے : اس کو روکنے کا کسی میں یارا نہیں ہوسکتا، کہ اس کی قدرت سب سے اعلیٰ وبالا اور اس کی قوت سب سے بڑی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جس عذاب کے واقع ہونے کی خبر اس کی طرف سے دی جارہی ہے، اس نے بھی اپنے وقت پر بہرحال ہو کر رہنا ہے۔ اس لیے اس سے بچنے کی فکر کرو۔ سو کوئی اگر اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ ایسے لوگوں کے چہروں کو مٹا دینا یا ان کو ان کی گدیوں کی طرف پھیر دینا یا ان کو مسخ کر کے بندروں کی شکلوں میں ڈھال دینا خدا کے لئے کوئی بڑا یا انہونا کام ہے تو وہ ایسی غلط فہمی کو کھرچ کر اپنے دل و دماغ سے نکال دے۔ کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ایسا کوئی بھی کام کچھ بھی مشکل نہیں، بلکہ محض اس کے حکم واشارہ کی دیر ہے۔ اس کا حکم بہرحال ہو کر رہتا ہے۔ اس کے حکم و ارشاد اور اس کے وقوع میں کوئی فاصلہ اور دوری نہیں۔ سو وہ اگر اپنے حلم و کرم کی بناء پر جو مہلت دیتا ہے تو اس سے دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے۔
Ayahs 4:48–49123 شرک کا جرم ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ : کہ شرک کا یہ جرم دراصل بغاوت کا اور سب سے بڑا اور سنگین جرم ہے۔ اس لئے یہ ناقابل معافی ہے۔ اور یہی سزا کفر کی ہے کہ وہ بھی بغاوت ہے۔ قرآن حکیم میں ان دونوں جرموں کا یہی انجام بیان فرمایا گیا ہے، لیکن ذکر کہیں صرف شرک کا فرمایا گیا، جیسا کہ اس آیت کریمہ میں ہے اور کہیں صرف کفر کا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَظَلَمُوْا لََمْ یَکُن اللّٰہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلا لِیَھْدِیَہُمْ طَرِیْقًا، اِلَّا طَرِیْقَ جَہَنَّمَ خَالِدِیْنَ فِیْْہَا اَبَدًا وَکَانَ ذَالِکَ عَلَی اللّٰہ یَسِیْراً } (النسائ : 167 ۔ 168) اور کہیں ان دونوں کو یکجا بیان فرمایا گیا ہے جیسے { اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْل الْکِتَاب والْمُشْرِکِیْنَ فِیْ نَار جَہَنَّمَ } الآیۃ (البینہ : 6) سو اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ جو سرے سے خدا تعالیٰ کا منکر ہوگا وہ بدرجہ اولیٰ اس سزا و انجام کا مستحق ہوگا، کہ اس کا جرم تو کفر و شرک سے بھی بڑھ کر ہے سو کفر و شرک اور الحاد وبے دینی کے جرائم بڑے ہولناک اور ناقابل معافی جرم ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم جَلَّ وَعَلاَ ۔ اللہ پاک ہمیشہ اور ہر موقع پر اپنی عنایت و پناہ میں رکھے ۔ آمین
Ayah 4:50125 اللہ پر جھوٹ باندھنے کے جرم کی شدت و ہولناکی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کافی ہے [ ان لوگوں کی ہلاکت و تباہی کے لیے ] یہ کھلم کھلا گناہ۔ یعنی اللہ پر جھوٹ گھڑنا اتنا بڑا شدید اور سنگین جرم ہے، کہ ایسے جرم کے مرتکب کی تباہی و بربادی کیلئے کسی اور جرم کی ضرورت ہی نہیں۔ یہی گناہ ایسے لوگوں کی ہلاکت اور بربادی کیلئے کافی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی ذات اقدس و اعلیٰ پر افتراء میں صحت کا کوئی شائبہ بھی ممکن نہیں ہوسکتا کہ وہ ایسے ہر شائبہ سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو اپنی صاحبزادگی اور بڑائی کا دعویٰ کرنا، اور اپنی پاکیزگی کا گھمنڈ رکھنا جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے کیا اللہ پاک پر افتراء کرنا اور اس پر جھوٹ گھڑنا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ اس نے محض حسب و نسب کی بناء پر کسی کو بڑائی اور بندگی کی کوئی سند نہیں دی۔ اور کسی کا اپنے لئے اس طرح کا دعویٰ کرنا دراصل اپنے آپ کو بندگی کے دائرہ سے نکال کر الوہیت کے دائرے میں داخل کرنا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے عزت و عظمت اور بزرگی و بڑائی کا مدارو انحصار ایمان و عمل اور تقویٰ و پرہیزگاری پر رکھا ہے { ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم } سو تقوی و پرہیزگاری کے اسی وصف مطلوب کو اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 4:51126 یہود کی بدبختی کا ایک نمونہ : کہ ان لوگوں کو کتاب کا ایک حصہ دیا گیا مگر یہ ہیں کہ اس کے باوجود یہ بتوں اور شیطانوں پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ ایمان والوں کی مقابلے میں کافروں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ زیادہ راست رو ہیں۔ جیسا کہ یہود کے سردار کعب بن اشرف نے مشرکین قریش کے سوال کے جواب میں کہا تھا، یہاں تک کہ اس نے مشرکین کی خاطر ان کے بت کے سامنے سجدہ بھی کرلیا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حالانکہ یہ لوگ اہل کتاب ہونے اور عقیدہ توحید کے علمبردار ہونے کے مدعی تھے۔ (ابن کثیر اور معارف وغیرہ) ۔ سو اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت اور دشمنی میں یہود اسقدر اندھے اور اوندھے ہوگئے تھے کہ کھلم کھلا مشرکین مکہ کو مسلمانوں پر ترجیح دیتے تھے اور اپنی اس مخالفت کے جواز کے لئے وہ اسلام کی تعلیمات مقدسہ پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اس دین کے مقابلے میں مشرکین کا دین و مذہب اچھا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ضد اور حسد نے ان کو اس قدر اندھا اور اوندھا کردیا تھا جس کے باعث یہ بدبخت اہل ایمان کے مقابلے میں اہل کفر کو ہدایت یافتہ قرار دے رہے تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ حق اور ہدایت کی اتباع نصیب فرمائے اور حسد وعناد کے رذائل سے محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 4:52127 یہود پر اللہ کی طرف سے لعنت و پھٹکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہیں وہ لوگ جن پر لعنت و پھٹکار پڑگئی اللہ کی۔ ان کے اپنے اختیار کردہ کفر اور ان کے خبث باطنی کی بنا پر ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ انہوں نے حق کے علم و معرفت کے باوجود شرک کو توحید پر ترجیح دی، اور کفار و مشرکین کو مسلمانوں کے مقابلے میں راہ راست پر اور زیادہ ہدایت یافتہ قرار دیا۔ سو اس طرح حسد کی نحوست نے ان لوگوں کو اہل کتاب ہونے کے منصہ شرف و اعزاز سے محروم کرکے لعنت خداوندی اور اس کی پھٹکار کی مذلت کے اس ہولناک گڑھے میں ڈال دیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جن پر اللہ لعنت کر دے ان کو کوئی نہیں بچا سکتا اور ان کا کوئی یارو مددگار انکے کچھ کام نہیں آسکتا کیونکہ جس پر خدائے پاک کی لعنت ہوجائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو اس کی خدا تعالیٰ کے یہاں سے جڑ کٹ جاتی ہے اور جس درخت کی جڑ کٹ جائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس کو کوئی لاکھ پانی دے اس کا برا ہونا کبھی ممکن نہیں ہوسکتا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم منْ غَضَبِہ وَ عَقَابہ -
Ayah 4:53128 یہود کے ضرب المثل بخل کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان کے لیے کوئی حصہ ہے بادشاہی میں سے ؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگ اس میں سے لوگوں کو تل بھر بھی کچھ نہ دیتے۔ جیسا کہ ان کے ضرب المثل بخل کا تقاضا تھا اور ہے۔ مگر اللہ پاک کا یہ کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو ان کی ضروریات میں دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا، بلکہ ضروریات کی ایسی تمام چیزوں کو اس وحدہ لاشریک نے اپنے ہی قبضہ قدرت و اختیار میں رکھا ہے، ورنہ مخلوق میں سے اگر کسی کو اس پر اختیار مل جاتا اور خاص کر یہودیوں جیسی کسی حاسدانہ اور بخیلانہ ذہنیت رکھنے والے شخص کو تو وہ دنیا کو ترسا ترسا کر مار دیتا ۔ فللہ الحمد رب العالمین ۔ سو جب ان کا خدا وند قدوس کی اس حکومت و بادشاہی میں کوئی حصہ نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش پر اس طرح جلتے کیوں ہیں ؟ اور اس طرح کے اعتراضات کیوں کرتے ہیں ؟ انکو اس کا کیا حق ہوسکتا ہے ؟
Ayah 4:54129 حسد یہودیوں کی ایک عمومی اور قومی خصلت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ دوسروں پر حسد کرتے ہیں ان نعمتوں کی بنا پر جن سے اللہ نے ان کو اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے ؟۔ معلوم ہوا کہ اللہ پاک کی بخشی ہوئی نعمت کی بناء پر کسی سے حسد اور جلن رکھنا دراصل یہودی شیوہ ہے، جس سے مسلمان کو بہرصورت پرہیز کرنا چاہیئے۔ اور استفہام تقبیح اور انکار کیلئے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر حسد اور اعتراض کرنے کا حق کسی کو نہیں ہوسکتا۔ ایک تو اس لیے کہ وہ خالق کل اور مالک مطلق ہے۔ جو چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ اور دوسرے اس لیے کہ وہ علیم وخبیر اور حکیم مطلق ہے۔ اس لیے وہ جو بھی کچھ کرتا ہے وہ سراسر حق و صدق اور علم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے کسی بھی حکم و ارشاد کا نہ کوئی متبادل ممکن ہوسکتا ہے اور نہ ہی کسی کو اس پر اعتراض کا کوئی حق ہوسکتا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد کے ذریعے یہود کی عداوت کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ ان لوگوں کی جلن اور ان کے غصے کا اصل سبب ان کا یہ حسد ہے کہ نبوت ان کے خاندان سے نکل کر دوسروں کو یعنی بنو اسماعیل کو کیوں منتقل ہوگئی ہے۔ حالانکہ نبوت و رسالت اور شریعت اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور انعام و احسان ہے اور وہ اپنے فضل و کرم سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے ۔ سبحانہ وتعالی ۔ کسی کو اس پر اعتراض کرنے کا کوئی حق کس طرح ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
130 آل ابراہیم پر قدرت کی نوازشوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم نواز چکے ہیں آل ابراہیم کو کتاب و حکمت کی دولت سے اور ان کو سرفراز کرچکے ہیں بہت بڑی بادشاہی سے۔ سو آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور حکومت و بادشاہی دونوں سے نوازا گیا۔ جیسے حضرت یوسف علیہ السلام۔ داؤد اور سلیمان ۔ (علیہما السلام) ۔ کہ ان کو نبوت و رسالت کے شرف کے ساتھ ساتھ دنیاوی حکمرانی اور بادشاہی کے شرف سے بھی نوازا گیا۔ تو اب اگر خاندان ابراہیمی ہی کی دوسری شاخ یعنی بنو اسماعیل میں سے حضرت محمد ﷺ کو نبوت کے اس شرف عظیم سے نوازا گیا تو اس پر آخر یہ حسد اور اس قدر جلن کیوں ؟ نیز اس میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ کتاب و حکمت سے سرفرازی حکومت و بادشاہی سے سرفرازی کا بھی ذریعہ و وسیلہ ہے اور یہود بےبہود کو اصل فکر اسی کی تھی کہ اس مادہ پرست قوم کے نزدیک اصل اہمیت اسی دنیا اور مادی فوائد و منافع کی ہے۔ سو اس سے اشارہ فرما دیا گیا کہ اگر تم لوگ صدق دل سے اس کتاب حکیم پر ایمان لاؤ گے تو دنیاوی عظمت سے بھی سرفراز ہوؤ گے اور اخروی فوز و فلاح سے بھی۔
Ayah 4:55131 اعجاز قرآنی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ درد و الم کا تعلق صرف ظاہری جسم اور کھال سے ہوتا ہے سو یہ قرآن حکیم کے اعجاز کا ایک اور نمونہ و مظہر ہے کہ اس سے معلوم ہوا کہ درد والم کے احساس کا اصل تعلق جلد اور کھال ہی سے ہے۔ اسی لئے ان لوگوں کی کھالیں بدلی جاتی رہینگی، تاکہ یہ عذاب کا مزہ برابر چکھتے ہی رہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس بات کا علم سائنسی ایجاد و تحقیق کو اب کہیں جا کر ہوا ہے، کہ درد و الم اور احساس کا تعلق ظاہری جسم اور کھال سے ہی ہوتا ہے، لیکن قرآن حکیم نے پندرہ سو سال قبل اس کی خبر کردی تھی ۔ سُبْحَان اللّٰہ وَ بِحَمْدِہٖ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ایک طرف تو اس حقیقت کو آشکارا فرما دیا گیا کہ کافروں اور منکروں کو ایک بڑی ہی ہولناک اور دہکتی بھڑکتی آگ میں داخل کیا جائے گا اور دوسرے نمبر پر اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ جب بھی ان کی کھالیں جل کر ختم ہوجائیں گی ان کو نئی کھالیں پہنا دی جائیں گی تاکہ یہ بدبخت عذاب کا مزہ برابر اور لگاتار چکھتے رہیں۔ پھر کھالوں کی یہ تبدیلی حقیقت پر بھی محمول ہوسکتی ہے کہ حقیقتاً ان کی کھالوں کو نئی کھالوں سے بدل دیا جائے گا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی صفت کو تبدیل کردیا جائے۔ (محاسن التاویل) ۔ بہرکیف اہل کفر و باطل وہاں پر ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا رہیں گے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 4:56132 جنت کی بیویوں کی عظمت شان کا ایک پہلو : کہ ان کو ہر قسم کے نقص و عیب سے پاک کردیا گیا ہوگا۔ سو " طاہرہ " اور " مطہرہ " میں فرق ہے اور یہاں پر " طاہرہ " نہیں " مطہرہ " فرمایا گیا ہے، جو کہ اسم مفعول ہے تطہیر سے۔ جس کے معنیٰ پاک کرنے کے آتے ہیں۔ یعنی جنت کی ان عورتوں کو ظاہری اور باطنی ہر طرح کے نقص و عیب سے پاک و صاف کردیا گیا ہوگا، جیسا کہ دوسری نصوص میں اس کی تفصیل و تصریح مذکور و موجود ہے۔ پس عام طور پر اس کا جو ترجمہ پاکیزہ بیویوں جیسے الفاظ سے کیا جاتا ہے وہ اس لفظ کا پورا ترجمہ نہیں لگتا اس لئے ہم نے ترجمہ ان الفاظ سے کیا ہے۔ دونوں کا فرق واضح ہے ۔ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ جَلَّ وَعَلَا ۔ بہرکیف اہل جنت کی ان پاکیزہ اور بےمثال عورتوں کو حیض و نفاس، بول و براز اور دوسرے تمام ظاہری اور باطنی عیوب و نقائص سے پاک کردیا گیا ہوگا۔ (ابن جریر، ابن کثیر، محاسن التاویل اور مدارک التنزیل وغیرہ) ۔ کہ وہاں پر ان کو ایک نئی زندگی اور نئی اٹھان ملی ہوگی۔
133 اہل جنت کے لیے گھنے سایوں کی رحمت و عنایت : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل جنت گھنے سایوں کے اندر ہوں گے۔ جس میں نہ دھوپ کی کوئی تپش ہوگی اور نہ سردی کی ٹھر۔ بلکہ ایسا پرسکون سماں ہوگا جس میں گھنے سائے کی طرح آرام ملے گا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ سو ان کو صراحت کے ساتھ اس خوشخبری سے نوازا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا { وَنُدْخِلُہُم ظلاًّ ظَلِیْلاً } (النسائ : 57) نیز فرمایا گیا { اُکُلُہَا دَائِمٌ وَّظِلُّہَا } یعنی " وہاں کے پھل بھی دائمی ہوں گے اور وہاں کا سایہ بھی ہمیشہ ہوگا " (الرعد : 35) ۔ سو وہاں کی ہر چیز بےمثال ہوگی جسے وہاں دودھ اور شہد وغیرہ دنیا کے معروف طریقوں کیخلاف نہروں کی صورت میں ہوں گے۔ ایسے ہی وہاں سردی گرمی دھوپ سایہ وغیرہ بھی مختلف نوعیت کے ہوں گے، جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ایک ایسا درخت ہوگا جس کے سائے میں ایک سوار ایک سو سال تک چلتا رہے گا۔ (ابن کثیر، ابن جریر، قرطبی، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ بہرکیف اہل کفر کے انجام اور ان کے عذاب کے ذکر کے بعد اب یہ اہل ایمان کے انعامات کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جن سے ان کو نوازا جائے گا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ یا ذا الجلال والاکرام -
Ayah 4:57132 جنت کی بیویوں کی عظمت شان کا ایک پہلو : کہ ان کو ہر قسم کے نقص و عیب سے پاک کردیا گیا ہوگا۔ سو " طاہرہ " اور " مطہرہ " میں فرق ہے اور یہاں پر " طاہرہ " نہیں " مطہرہ " فرمایا گیا ہے، جو کہ اسم مفعول ہے تطہیر سے۔ جس کے معنیٰ پاک کرنے کے آتے ہیں۔ یعنی جنت کی ان عورتوں کو ظاہری اور باطنی ہر طرح کے نقص و عیب سے پاک و صاف کردیا گیا ہوگا، جیسا کہ دوسری نصوص میں اس کی تفصیل و تصریح مذکور و موجود ہے۔ پس عام طور پر اس کا جو ترجمہ پاکیزہ بیویوں جیسے الفاظ سے کیا جاتا ہے وہ اس لفظ کا پورا ترجمہ نہیں لگتا اس لئے ہم نے ترجمہ ان الفاظ سے کیا ہے۔ دونوں کا فرق واضح ہے ۔ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ جَلَّ وَعَلَا ۔ بہرکیف اہل جنت کی ان پاکیزہ اور بےمثال عورتوں کو حیض و نفاس، بول و براز اور دوسرے تمام ظاہری اور باطنی عیوب و نقائص سے پاک کردیا گیا ہوگا۔ (ابن جریر، ابن کثیر، محاسن التاویل اور مدارک التنزیل وغیرہ) ۔ کہ وہاں پر ان کو ایک نئی زندگی اور نئی اٹھان ملی ہوگی۔
133 اہل جنت کے لیے گھنے سایوں کی رحمت و عنایت : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل جنت گھنے سایوں کے اندر ہوں گے۔ جس میں نہ دھوپ کی کوئی تپش ہوگی اور نہ سردی کی ٹھر۔ بلکہ ایسا پرسکون سماں ہوگا جس میں گھنے سائے کی طرح آرام ملے گا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ سو ان کو صراحت کے ساتھ اس خوشخبری سے نوازا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا { وَنُدْخِلُہُم ظلاًّ ظَلِیْلاً } (النسائ : 57) نیز فرمایا گیا { اُکُلُہَا دَائِمٌ وَّظِلُّہَا } یعنی " وہاں کے پھل بھی دائمی ہوں گے اور وہاں کا سایہ بھی ہمیشہ ہوگا " (الرعد : 35) ۔ سو وہاں کی ہر چیز بےمثال ہوگی جسے وہاں دودھ اور شہد وغیرہ دنیا کے معروف طریقوں کیخلاف نہروں کی صورت میں ہوں گے۔ ایسے ہی وہاں سردی گرمی دھوپ سایہ وغیرہ بھی مختلف نوعیت کے ہوں گے، جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ایک ایسا درخت ہوگا جس کے سائے میں ایک سوار ایک سو سال تک چلتا رہے گا۔ (ابن کثیر، ابن جریر، قرطبی، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ بہرکیف اہل کفر کے انجام اور ان کے عذاب کے ذکر کے بعد اب یہ اہل ایمان کے انعامات کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جن سے ان کو نوازا جائے گا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ یا ذا الجلال والاکرام -
Ayah 4:58134 امانات سے مراد اور امانت کے مفہوم کی وسعت ؟ : سو امانات سے مراد عام ہے۔ یعنی وہ سب حقوق جو تمہارے ذمے واجب ہوں۔ خواہ ان کا تعلق حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے۔ سو ان سب کے اداء کرنے کا مطالبہ ہے۔ (جامع البیان، ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، وغیرہ) ۔ سو ہر وہ چیز جو کسی کے ذمے اور اس کے اعتماد پر چھوڑی گئی ہو وہ امانت کہلاتی ہے۔ اور امانات کا یہ لفظ یہاں پر بڑے وسیع مفہوم میں استعمال فرمایا گیا ہے جو تمام حقوق و فرائض کو عام اور حامل ہے۔ خواہ ان کا تعلق حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے۔ وہ انفرادی نوعیت کے ہوں یا اجتماعی نوعیت کے۔ اپنوں سے متعلق ہوں یا بیگانوں سے۔ مالی معاملات کی قسم سے ہوں یا سیاسی معاہدات کی قسم سے۔ غرض جو بھی اور جیسے بھی حقوق و فرائض ہوں، وہ سب ہی امانت کے مفہوم میں داخل ہیں اور اس لفظ کے عموم میں سب ہی شامل ہیں۔ اور ان سب کو ہی ادا کرنا مامور و مطلوب ہے۔ اور اہل ایمان کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ سب امانتوں کو ادا کریں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
135 عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا اور یہ کہ تم لوگ فیصلہ کرو عدل وانصاف کے ساتھ۔ کسی جانبداری اور لگی لپٹی کے بغیر تاکہ ہر صاحب ِحق کو اس کا پورا حق مل سکے اور کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ اور جب حق کے علمبردار تم ہی ہو تو تم سے ہر حال میں عدل و انصاف مطلوب ہے۔ اپنے عمل و کردار میں بھی اور اپنے قول وقرار میں بھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلْوُا وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی } الاٰیۃ (الانعام : 153) یعنی تم بات کرو تو عدل و انصاف ہی کی بات کرو، اگرچہ وہ شخص تمہارا قریبی ہو۔ سو اس ارشاد سے امانت کے سب سے اہم پہلو کی نشاندہی بھی فرما دی گئی اور اقتدار کے ساتھ جو ذمہ داری وابستہ ہے اس کی وضاحت بھی ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یُحِبُّ وَیُرِیْد ۔ بہرکیف عدل وانصاف دین کے اہم اور بنیادی مطالب میں سے ہے۔
136 اللہ پاک کی نصیحت سب سے عمدہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ تم لوگوں کو بڑی ہی عمدہ بات کی نصیحت فرماتا ہے۔ کیونکہ وہ " علیم وخبیر " بھی ہے، " رحمان و رحیم " بھی اور " لطیف و کریم " بھی۔ پھر اس سے بڑھ کر بہتر بات اور کس کی ہوسکتی ہے ؟ لہٰذا اس رب رحمان و رحیم کی ہدایت کو تم لوگ دل و جان سے اپناؤ اور اس کو ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے پیش نظر رکھو۔ نہ اس میں کسی طرح کی کوئی پس و پیش کرو نہ کسی قسم کی عصبیت، جانب داری یا سہل انگاری کو اس میں آڑے آنے دو اور نہ کسی طرح کے اثر و نفوذ یا خوف و طمع کو اس میں دخل انداز ہونے دو ۔ بلکہ ٹھیک حق و ہدایت کو اپنے پیش نظر رکھو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -