4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو، حکم مانو تم اللہ کا اور حکم مانو اس کے رسول ﷺ کا1 اور ان لوگوں کا جو صاحب امر ہوں تم میں سے2، پھر اگر تمہارا اگر کسی بات پر آپس میں اختلاف ہوجائے تو تم اس کو لٹا دیا کرو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف، اگر تم ایمان (ویقین) رکھتے ہو اللہ پر، اور قیامت کے دن پر، یہ بہتر ہے (تمہارے لئے فی الحال) اور (حقیقت اور) انجام کے اعتبار سے بھی،

137 اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم : سو ارشاد فرمایا گیا اور اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اطاعت کرو اللہ کی کہ یہ اس کے بندوں پر حق بھی ہے اور اسی میں ان کی بہتری بھی ہے دنیا و آخرت میں۔ سو تم اللہ کی اطاعت کرو۔ قرآن حکیم کی طرف رجوع کر کے، جو کہ اللہ پاک کا کلام حق ترجمان ہے کہ اپنے خالق ومالک کی اطاعت و فرمانبرداری ہی میں تمہارا بھلا ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ سو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری مطلق ہے بغیر کسی قسم کی شرط و قید کے۔ کیونکہ یہ اس خالق ومالک کا اس کے بندوں پر حق بھی ہے اور اسی میں ان کا بھلا بھی ہے۔ اور اس کے حکم و ارشاد میں چونکہ کسی قسم کی خطا و قصور کا کوئی خدشہ اور امکان بھی نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اس کی اطاعت مطلقہ مامور و مطلوب ہے۔ اور اسی طرح اللہ کے رسول کی اطاعت بھی مطلق ہے کہ رسول کی اطاعت دراصل اللہ ہی کی اطاعت ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا { وَمَنْ یُّطِع الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰہ } (النسائ : 80) سو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھو۔ ۔ وباللہ التوفیق - 138 اللہ کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم اطاعت کرو اللہ کے رسول کی سنت مطہرہ کی طرف رجوع کے ذریعے کہ رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی یہی صورت ہوسکتی ہے۔ اور اطاعت رسول ہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کا شرف حاصل ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَمَنْ یُّطِع الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰہَ } الآیۃ (النسائ : 80) یعنی جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ سو اطاعت رسول ہی دراصل اطاعت خداوندی ہے۔ پس دارین کی سعادت و سرخروئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت مطلقہ سے وابستہ ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت مطلق اور بغیر کسی شرط و قید کے مطلوب ہے۔ کیونکہ وہ ہر قسم کی خطا سے مبرا و محفوظ ہے اور دوسرے اس لیے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں خود بندوں ہی کا بھلا اور انہی کا فائدہ ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی ۔ وباللہ التوفیق - 139 " اُوْلُوالْاَمْرِ " سے مقصود و مراد ؟ : اگرچہ اس کا معروف و متبادر مصداق امرا و حکام ہیں لیکن اس کا اصل اور حقیقی مصداق علماء و فقہائے کرام ہیں۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت حسن بصری (رح) وغیرہ سے مروی ہے۔ (ابن کثیر (رح) ، جامع البیان، وغیرہ) ۔ کیونکہ جن حضرات نے اس سے مراد امراء و حکام کو لیا ہے، انہوں نے بھی بالاجماع یہ شرط لگائی ہے کہ امراء و حکام کی اطاعت و فرمانبرداری بھی اسی صورت میں کی جائے گی جب کہ ان امراء و حکام کا حکم کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو ۔ " فَاِنَّہٗ لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃ الْخَالِق " ۔ یعنی یہ شرط و قید اس لئے ہے کہ حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی معصیت و نافرمانی میں مخلوق میں سے کسی کی بھی اطاعت و فرمانبرداری جائز نہیں۔ خواہ وہ کتنی ہی بڑی حیثیت کا مالک کیوں نہ ہو۔ اس لئے مآل یہی نکلتا ہے کہ اس کا اصل اور حقیقی مصداق علمائے ربانیین ہی ہیں کہ وہ کتاب و سنت سے صحیح احکام پیش کرتے ہیں اور حکام و امراء ان کی تنفیذ کرتے ہیں۔ اور شاید اسی لئے آیت کریمہ میں " الحکام " یا " الامراء " یا ایسا کوئی اور لفظ نہیں ارشاد فرمایا گیا۔ بلکہ { اولوا الامر } فرمایا گیا ہے ۔ وَ الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہ سبحانہ تعالیٰ ۔ بہرکیف اللہ اور رسول کی اطاعت تو مطلق اور بغیر کسی شرط و قید کے ہے، لیکن انکے سوا ہر کسی کی اطاعت اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے کسی حکم کیخلاف نہ ہو۔ اور اطاعت کا لفظ " طوع " کے مادہ سے مشتق ہے۔ جس کے معنیٰ کوئی کام خوشی سے کرنے کے ہیں۔ سو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری صدق دل اور خوشی سے کی جائے کہ اس میں خود بندے کا اپنا بھلا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - 140 کتاب و سنت کی طرف رجوع تقاضائے ایمان : یعنی تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کا یقین اور اس ہولناک دن کی باز پرس اور جوابدہی کا پاس ولحاظ ہے تو تمہیں اس ہدایت پر عمل کرنا چاہیئے اور اسی طریق کار کو اپنانا اور اختیار کرنا چاہیئے۔ پس معلوم ہوا کہ باہمی تنازعات اور اختلافات کی صورت میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ پھر کیا کہا جائے گا ان لوگوں کے بارے میں جو دعویٰ تو کرتے ہیں ایمان و اسلام کا۔ لیکن اپنے مسائل و تنازعات میں ان کے یہاں اس کا کوئی احساس و خیال ہی نہیں کہ کتاب و سنت کی طرف رجوع کیا جائے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ قصداً وعمداً اور بعض اوقات اعلاناً و جہاراً اس سے منہ موڑتے ہیں ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لیے علمائے حقانیین نے تصریح فرمائی ہے کہ جو لوگ باہمی تنازعات میں کتاب و سنت کی طرف رجوع نہیں کرتے ان کا اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں۔ (محاسن التاویل) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ ایک ظاہر اور معقول بات ہے اور یہ ایمان کا طبعی تقاضا ہے۔ 141 باہمی اختلافات میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کی تعلیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ باہمی اختلافات میں کتاب و سنت کی طرف رجوع بہرحال بہتر ہے : کہ یہ طریقہ تمہارے رب کا ارشاد فرمودہ اور تعلیم کردہ ہے جو کہ علیم وخبیر ہونے کے ساتھ ساتھ رحمن و رحیم بھی ہے۔ اور اتنا کہ وہ تم پر تمہاری اپنی جانوں سے بھی کہیں بڑھکر مہربان ہے۔ تو پھر اس سے بڑھکر تمہارے لئے بہتر بات اور کس کی ہوسکتی ہے ؟ اور اس وحدہ لاشریک کے حکم و ارشاد میں نہ کسی خطا و تقصیر کا کوئی خدشہ و امکان ہوسکتا ہے اور نہ کسی ظلم و زیادتی کا کوئی سوال پیدا ہوسکتا ہے۔ بلکہ وہ ہر لحاظ سے خیر ہی خیر ہے۔ اسی لئے باہمی اختلافات میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کے لئے طرح طرح تاکید و تلقین فرمائی گئی ہے۔ مثلاً سورة شوریٰ میں صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جس چیز کے بارے میں بھی تمہارے درمیان اختلاف پیدا ہوجائے اس کا حکم و فیصلہ اللہ ہی کی طرف ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے { وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْہ مِنْ شَیْئٍ فَحُکْمُہٗ اِلَی اللّٰہ } الآیۃَ (الشوریٰ : 10) پس ایمان کے دعوے کے ساتھ کتاب وسنت سے اعراض و روگردانی ممکن نہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 142 رجوع الی اللہ بہرحال بہتر ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ رجوع الی اللہ مآل و انجام کے لحاظ سے بھی بہتر ہے۔ سو آج تمہیں سمجھ آئے نہ آئے، اور تم اس امرکا ادِراک کرسکو یا نہ کرسکو، حقیقت بہرحال یہی ہے۔ اور یہ اپنی جگہ اٹل اور پختہ حقیقت ہے کہ فیصلہ کے لئے اللہ کی طرف رجوع کرنا ہی بہتری اور سلامتی کی راہ ہے اور اس کو چھوڑ کر نفس اور نفسانی خواہشات کے پیچھے چلنے کا انجام بہرحال بڑا ہولناک اور تباہ کن ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ ہر چیز کے نتیجہ و انجام کو جاننا اور پوری طرح جاننا اور اس کے مطابق صحیح ہدایت دینا اسی وحدہ لاشریک کی شان اور اسی کا اختیار ہے۔ اس کے سوا کسی کے بس میں نہیں کہ وہ کسی بھی چیز کو پوری طرح اس کے نتیجہ و انجام کے اعتبار سے اور اس کے مالہ وما علیہ کے لحاظ سے جان سکے۔ پس خیر اور بہتری بہرحال اسی کے حکم و ارشاد کو اپنانے میں ہے۔ سو رجوع الی اللہ حال ومآل سب کے اعتبار سے بہتر اور باعث خیر وبرکت ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 4:60

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:60 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں اس کتاب پر بھی جو اتاری گئی ہے آپ کی طرف، اور اس پر بھی جو اتاری گئی آپ سے پہلے، (مگر اس کے باوجود) وہ چاہتے ہیں کہ اپنا مقدمہ لے جائیں طاغوت کے پاس، حالانکہ ان کو حکم یہ دیا گیا تھا کہ یہ اس کیساتھ کفر کریں، اور شیطان چاہتا ہے کہ ان کو بھٹکا کر ڈال دے بہت دور کی گمراہی میں،

143 منافقوں کا تعجب انگیز حال : استفہام یہاں پر تعجیب و تقبیح کے لئے ہے کہ ان لوگوں کا حال بڑا عجیب اور عبرت انگیز ہے کہ دعویٰ تو کیا ہے اور عمل و کردار کیا ؟ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ایمان رکھتے ہیں اس کتاب کامل پر جو کہ آپ ﷺ پر اتاری گئی اے پیغمبر !۔ یعنی قرآن حکیم۔ اور یہ کہ وہ ایمان رکھتے ہیں ان کتابوں پر جو کہ اس سے پہلے اتاری گئیں یعنی تورات و انجیل وغیرہ پر۔ مگر فیصلہ کرانا چاہتے ہیں طاغوت سے ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ ایمان کا تقاضا یہ تھا کہ یہ لوگ صدق دل سے کتاب الہی اور سنت رسول کی طرف رجوع کرتے۔ کیونکہ جس اللہ پر ایمان کا یہ دعویٰ کرتے تھے اس کی طرف سے واضح ہدایت آچکی تھی۔ یعنی قرآن حکیم جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل فرمائی جانے والی آخری کامل، مکمل اور سب کتابوں کی جامع اور سب کی ناسخ کتاب ہے۔ اور اللہ کے رسول کی سنت اس کتاب حکیم کی شرح اور اس کی تفسیر ہے۔ سو اللہ کی کتاب پر ایمان کا دعویٰ کرنا اور دم بھرنا اور اس کے حکم و فیصلہ سے اعراض کرنا اور منہ موڑنا دونوں باتیں یکجا نہیں ہوسکتیں ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یُحِبُّ ویُرِیْدَ ۔ پس ایمان صادق کا تقاضا ہے کہ دین کی تعلیمات مقدسہ کو صدق دل سے اپنایا جائے ۔ وباللہ التوفیق - 144 ایمان کیلئے طاغوت کا انکار لازمی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو حکم دیا گیا ہے کہ پہلے تم طاغوت کے ساتھ کفر کرو پھر اللہ پر ایمان لاؤ تو تب ہی تمہارا ایمان معتبر ہوگا۔ چناچہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا { فَمَنْ یَّکْفُرْ بالطَّاغُوْت وَیُؤْمِنْ باللّہ فَقَد اسْتَمْسَکَ بالْعُرْوَۃ الْوُثْقٰی لَا انْفِصَامَ لَہَا } الٓایۃ (البقرۃ : 256) ۔ اسی لئے کلمہ طیبہ میں پہلے نفی کا ذکر ہے، پھر اثبات کا۔ یعنی پہلے غیر اللہ سے الوہیت کی نفی کا ذکر ہے کہ " اللہ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں " اور پھر اللہ پاک کی معبودیت اور الوہیت کا ذکر واثبات ہے کہ " معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے "۔ پس اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کا لازمی تقاضا ہے کہ طاغوت کا انکار کیا جائے۔ اس کے بغیر کسی کا ایمان معتبر نہیں ہوسکتا لیکن اس طرح کے لوگ دونوں کو جمع کرنا چاہتے ہیں حالانکہ شیطان یہ چاہتا ہے کہ اس طرح ان کو صراط مستقیم سے بھٹکا کر اتنا دور کر دے کہ پھر ان کے لئے اس کو پانے کا کوئی امکان باقی نہ رہ جائے اور اس کے نتیجے میں تم لوگ ہلاکت و تباہی کے ہولناک کھڈے میں جا گرو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 145 شیطان تم لوگوں کو دور کی گمراہی میں ڈالنا چاہتا ہے : پس تم لوگ اس سے محتاط رہو۔ سو اس ارشاد سے دور کی گمراہی سے بچنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ وہ ملعون ان کو ایسی دور کی گمراہی میں ڈالنا چاہتا ہے جہاں سے پھر انکو راہ حق کی طرف پھر لوٹنا نصیب ہی نہ ہو سکے۔ اور اسطرح یہ لوگ ضلالت و گمراہی کے عمیق اور ہولناک گڑھے میں گر کر ہمیشہ کیلئے ہلاکت اور تباہی کا شکار ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو تمہیں شیطان کے مکر و فریب سے ہمیشہ محتاط اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے خواہ وہ شیاطین انس میں سے ہو یا شیاطین جن میں سے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ مِنْ کُل شَیْطَانٍ وَشَرِہٖ وکَیْدِہٖ و مکْرِہٖ ۔ اور اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ تم لوگ اللہ والے بن جاؤ۔ اور اللہ کی پناہ میں آجاؤ۔ کہ ایسے لوگوں پر اس ملعون کا وار نہیں چل سکتا۔ اس کا زور تو انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس سے دوستی رکھتے ہیں اور وہ شرک کرتے ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا { انما سلطانہ علي الذین یتولونہ والذین ہم بہ مشرکون } (النحل 100) اور یہ ایک طبعی چیز ہے کہ مردار خور جانور اور بھڑیے درندے وہیں اکٹھے ہوتے ہیں جہاں مردار پڑا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 4:61–62

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ Open ayah 4:61 in the Quran reader

اور (ان کا حال یہ ہے کہ) جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تم اس کتاب کی طرف جس کو اتارا ہے اللہ نے، اور آؤ تم اس کے رسول ﷺ کی طرف، تو تم دیکھو گے منافقوں کو کہ وہ آپ سے رکتے (اور روکتے) ہیں کنی کترا کر

فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا Open ayah 4:62 in the Quran reader

پھر کیا حل ہوتا ہے ان کو (اس وقت) جب کہ آپہنچی ان پر کوئی مصیبت ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی بناء پر پھر یہ آتے ہیں آپ کے پاس قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی، کہ ہم نے تو محض بھلائی اور آپس میں میل کرانے ہی کا ارادہ کیا تھا1

146 صدّ کا معنیٰ و مطلب اور حق سے روکنے کا نتیجہ و انجام ؟ : یعنی " صَدَّ یَصُدُّ صَدًّا " لازمی بھی آتا ہے اور متعدی بھی۔ اس کا معنی " رکنا " بھی ہے اور " روکنا " بھی۔ اور ان لوگوں میں یہ دونوں باتیں پائی جاتی تھیں کہ یہ لوگ دین حق اور نور ہدایت سے خود بھی رکتے اور دور ہوتے تھے اور دوسروں کو بھی روکتے اور دور رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا { وَہُمْ یَنْہَوْنَ عَنْہُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْہٗ } الایۃ (الانعام : 26) روایات کے مطابق مدینہ منورہ میں ایک یہودی اور ایک منافق کا آپس میں تنازع ہوگیا، جسمیں یہودی نے کہا چلو چلتے ہیں محمد ﷺ کے پاس اور ان سے فیصلہ کراتے ہیں۔ کیونکہ اسے یقین تھا کہ حضور ﷺ کا فیصلہ حق کے مطابق ہوگا۔ اور اس معاملے میں حق پر میں ہی ہوں۔ اس لئے آپ ﷺ کی عدالت سے فیصلہ یقینا میرے ہی حق میں ہوگا، جبکہ منافق کا کہنا تھا کہ ہم فیصلہ کراتے ہیں کعب بن اشرف سے، جو کہ ایک یہودی سردار تھا۔ کیونکہ اس کو یقین تھا کہ وہاں دوسرے باطل ذرائع اختیار کرکے میں فیصلہ اپنے حق میں کراسکتا ہوں۔ جبکہ آنحضرت ﷺ کے ہاں ایسا کرنا ممکن نہیں۔ سو آخرکار جب معاملہ حضور ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ ﷺ نے پورا قصہ سننے کے بعد فیصلہ یہودی کے حق میں فرما دیا۔ اس کے بعد اس منافق نے یہودی سے کہا کہ چلو چلتے ہیں حضرت عمر ۔ ؓ ۔ کے پاس نظرثانی کے لئے۔ خیال یہ تھا کہ حضرت عمر کی غیرت ایمانی چونکہ ضرب المثل ہے، اور میں نام کا تو مسلمان ہی ہوں، اور یہ شخص یہودی ہے۔ اس لئے آپ ؓ میری چرب زبانی سے متاثر ہو کر اور اپنی غیرت ایمانی کے جوش میں میرے حق میں فیصلہ فرمادیں گے۔ جبکہ یہودی کو اپنی جگہ یہ یقین تھا کہ حضرت عمر کی غیرت ایمانی بیشک مسلم اور ضرب المثل ہی سہی، مگر آپ ؓ فیصلہ حق کے خلاف نہیں دیں گے۔ اسلئے وہ بھی اس کیلئے تیار ہوگیا۔ اور اس طرح یہ دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس جانے کیلئے تیار ہوگئے۔ اور جب یہ اپنا کیس لیکر حضرت عمر ؓ کے پاس پہنچے تو حضرت عمر ؓ کے فیصلہ فرمانے سے پہلے یہودی نے کہا کہ جناب والا واضح رہے کہ اس کیس میں اس سے پہلے آنحضرت ﷺ یہ فیصلہ اس طرح صادر فرما چکے ہیں۔ یہ سنتے ہی حضرت عمر ؓ اپنے مکان کے اندر تشریف لے گئے اور ان دونوں سے فرمایا کہ تم دونوں یہیں ٹھہرو میں ابھی واپس آ کر تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں۔ اور اندر سے آپ ؓ نے تلوار لا کر اس منافق کی گردن اڑا دی اور فرمایا کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتا اس کے بارے میں عمر کا فیصلہ یہی ہے۔ تو اس پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں۔ اور اسی بناء پر آنحضرت ﷺ نے آپ ؓ کو " فاروق " کے لقب سے نوازا۔ (الروح، القرطبی، الکشاف، الصفوۃ، المعارف للکاندھلوی (رح) وللدیوبندی (رح) ) ۔ سو راہ حق اور نور ہدایت سے رکنے اور روکنے کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَاِنْ یُہْلِکُوْنَ اِلَّا اَنْفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنْ } (الانعام : 26) یعنی راہ حق سے روک کر ایسے لوگ خود اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان کرتے ہیں لیکن ان کو اس کا شعور و احساس نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:63

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا Open ayah 4:63 in the Quran reader

اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، پس آپ ان سے درگزر ہی کریں اور انہیں نصیحت کرتے رہیں، اور ان سے ان کے بارے میں کہہ دیاکریں رسابات،

148 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ دلوں کے چھپے حالات کو بھی جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے۔ یعنی ان کے اس نفاق کو، جسے یہ دوسروں سے تو جھوٹی قسمیں کھا کر چھپالیتے ہیں، مگر دلوں کے بھید جاننے والے اس وحدہ لاشریک سے یہ کیسے چھپ اور چھپا سکیں گے۔ وہ تو بہرحال دلوں کے حالات کو بھی جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے بلکہ وہ تو انسانوں کے دلوں کے ان حالات کو بھی جانتا ہے جو ابھی تک ان کے دلوں میں آئے ہی نہیں بلکہ بعد میں آئیں گے کہ اس کی شان ہے { یَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰی } (طہٓ: 7) جسکی تفسیر میں حضرات علمائے کرام کا کہنا ہے کہ " سر " سے مراد وہ خیال ہے جو دل میں پوشیدہ ہو اور " اخفی " سے مراد وہ ہے جو اس سے بھی زیادہ مخفی اور پوشیدہ ہو۔ یعنی ابھی دل میں بھی نہ آیا ہو تو پھر اس سے کسی بات کو چھپانا کیونکر ممکن ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کو مخلوق پر قیاس کر کے اس کے لیے وسیلے اور واسطے گھڑنا نری گمراہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 149 منافقوں سے درگذر سے کام لینے کی تعلیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان لوگوں سے درگزر ہی سے کام لیں۔ کہ نہ ان کو کوئی سزا دیں، اور نہ کوئی زجر و توبیخ کریں۔ کہ ایسے منافقوں کے ساتھ بہتر یہی طریقہ ہے کہ عفو و درگزر ہی سے کام لیا جائے، یہ اپنے کئے کرائے کا بھگتان خود ہی بھگت لیں گے۔ بس آپ ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے کردیں۔ ان سے ظاہری طور پر عام مسلمانوں ہی کا سلوک کریں۔ اللہ ان سے خود ہی نپٹ لے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں سے اعراض اور رو گردانی ہی کرو کہ اسی میں بہتری اور بھلا تھا اہل حق کا ورنہ دشمن طرح طرح کے پروپیگنڈے کرتے۔ 150 قول بلیغ یعنی رسا بات کہنے کی ہدایت : سو اس سے منافقوں کو نصیحت کرنے اور ان سے قول بلیغ یعنی رسا بات کہنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ یعنی ایسی بات جو ایک طرف تو حق و صداقت کی عکاس و آئینہ دار ہو، اور دوسری طرف وہ ان کے دلوں تک پہنچنے کی صلاحیت و قوت رکھتی ہو۔ تاکہ اس طرح جس کے نصیب میں ہو وہ حق قبول کرلے اور راہ حق و صواب کی طرف لوٹ آئے۔ تاکہ اس کا دنیا و آخرت میں بھلا ہوسکے۔ سو ان سے حق بات ایسے انداز میں کہو کہ ان کے کان کھلیں اور یہ منافقت کی روش کو ترک کر کے صدق و اخلاص کو اپنا سکیں۔ اور ان کا بھلا ہو سکے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ سبحان اللہ ! کیا کہنے دین حق کی رحمتوں بھری تعلیمات کے کہ ان میں سب کے لئے بھلا اور خیر خواہی مطلوب ہے ۔ فالحمد للہ رب العالمین -
Ayah 4:64

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:64 in the Quran reader

اور ہم نے جو بھی کوئی رسول بھیجا اس لئے بھیجا کہ اس کی اطاعت (فرمانبرداری) کی جائے اللہ کی اذن سے، اور اگر یہ لوگ (جنہوں نے یہ حماقت کی تھی) جب ظلم کر بیٹھے تھے اپنی جانوں پر، تو سیدھے آجاتے آپ کے پاس، اور اللہ سے معافی مانگتے (اپنے جرم کی) اور رسول ﷺ بھی ان کیلئے (اپنے رب کے حضور) معافی کی درخواست کرتا، تو یقینا یہ لوگ اللہ کو پاتے بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا، انتہائی مہربان

151 رسول کی اطاعت ہی اصل مقصود ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے جو بھی کوئی رسول بھیجا ہے تو وہ اسی لیے بھیجا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔ اس کے سب اوامرو ارشادات میں، نہ یہ کہ احکام و معاملات میں۔ تو یہ لوگ چلیں اپنی خواہش ومرضی پر اور زبانی کلامی دعوے ہوں ایمان و محبت رسول کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لیکن افسوس کہ آج کے مسلمان کا حال بھی بالعموم یہی ہے کہ وہ عشق و محبت رسول کے بلند بانگ دعو وں کے باوجود پیغمبر کے طریق اور اس کی سنت کے اتباع سے منہ موڑے ہوئے ہے ۔ اِلّا مَا شائَ اللّٰہ ۔ فَاِنَّا لِلّٰہ واِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُوْنَ ۔ یہاں پر جو " باذن اللہ " کی قید لگی ہوئی ہے وہ بڑی معنیٰ خیز ہے کیونکہ حکم تو اللہ کا حکم ہے اور حاکم حقیقی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ لیکن وہ چونکہ اپنے رسول کو اس کا اذن دیتا اور اس منصب سے سرفراز فرماتا ہے کہ وہ لوگوں کو اس کے حکم و ارشاد اور امر و نہی سے آگہی بخشے۔ اور اسی لیے وہ پیغمبر کو ہر غلطی اور خطا سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس لیے رسول اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا مظہر ہوتا ہے اور اس لیے اس کی اطاعت ایمان کا لازمی تقاضا اور اللہ کی اطاعت کے ہم معنیٰ بن جاتی ہے۔ سو اصل حاکمیت اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اور رسول اس کی تشریعی اور قانونی حاکمیت کا مظہر ہوتا ہے۔ اس لئے رسول کی اطاعت اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہوتی ہے کہ وہ اسی کے اذن سے ہوتی ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے رسول کا صحیح مرتبہ و مقام واضح فرما دیا گیا کہ رسول کے بارے میں صرف اتنی بات کافی نہیں کہ ان کو مان لیا جائے اور بس۔ بلکہ رسول اس لئے بھیجا جاتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔ وہ صرف عقیدت ہی کا مرکز نہیں ہوتا اطاعت کا مرکز بھی ہوتا ہے۔ وہ صرف واعظ اور ناصح ہی نہیں ہوتا بلکہ واجب الاطاعت ہادی بھی ہوتا ہے۔ اس کو بھیجا ہی اس لئے جاتا ہے کہ لوگ اس کی اطاعت کے آئینے میں اپنی زندگی استوار کرسکیں۔ وہ اللہ کی برہان اور اس کی اطاعت کا نشان بھی ہوتا ہے۔ اس کی اطاعت کے بغیر راہ حق نصیب نہیں ہوسکتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 152 ظلم کا ارتکاب کرنے والوں کیلئے صحیح راستہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا اپنی جانوں پر سیدھے آپ کے پاس آجاتے۔ یعنی آپ ﷺ کی زندگی میں آپ کے پاس آتے (جامع البیان وغیرہ) ۔ اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کے چھوڑے ہوئے دین متین کی تعلیمات مقدسہ کی طرف رجوع کرتے۔ اس موقع پر ایک اعرابی (دیہاتی) کا جو قصہ بعض تفسیروں میں ذکر کیا گیا ہے وہ نہ تو معتبر سند کے ساتھ ثابت ہے اور نہ ہی اس طرح کے عام قصوں کو دینی احکام اور خاص کر عقائد کے بارے میں حجت اور سند قرار دیا جاسکتا ہے۔ جس طرح کہ اھل بدعت کا شیوہ ہے۔ بلکہ محققین نے تو اس قصہ کو موضوع اور من گھڑت قرار دیا ہے جیسا کہ شیخ محمد بن احمد بن عبدالہادی نے " الصارم --- " میں اس کی تصریح فرمائی اور تفصیل سے لکھا ہے۔ (الصارم : 2 12 ) ۔ اور یہ قصہ موضوع ہو یا نہ ہو، آیت کریمہ کی تفسیر بہرحال اس پر موقوف نہیں بلکہ اس میں توبہ و استغفار اور گناہوں کو معاف کرنے کیلئے ایک عام ضابطہ اور اصول بیان فرمایا گیا ہے، جو ہمیشہ کیلئے کام آنے والا اور عقل و نقل کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ کسی صاحب ایمان کے لئے اس بات کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہ رسول کی عدالت کو چھوڑ کر اپنا معاملہ طاغوت کی عدالت میں لے جائے۔ اور جو ایسا کرے گا وہ خود اپنی ہی جان پر ظلم ڈھائیگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس لئے کہ یہ چیز فی الحقیقت خداوند قدوس کی حاکمیت کا انکار اور بالواسطہ کفر و شرک کا ارتکاب ہے جو کہ سب سے بڑا ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف گناہوں کی معافی کا طریقہ توبہ واستغفار اور رجوع الی اللہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 153 گناہوں کو معاف کرانے کا صحیح طریقہ استغفار : سو اس سے واضح کردیا گیا کہ ان کے لئے صحیح اور سیدھا طریقہ یہ تھا کہ گناہ اور ظلم کے ارتکاب کے بعد یہ لوگ طاغوت کی طرف رجوع کرنے کی بجائے اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے کئے کی معافی مانگتے۔ اور رسول بھی اپنی معروف و مشہور رحمت وشفقت کی بنا پر ان کے لئے معافی اور بخشش کی دعاء فرماتے تو ان کے گناہ معاف ہوجاتے۔ اور گناہوں کی میل ان سے دھل جاتی۔ سو توبہ و استغفار کی عنایت قدرت کی ایک عظیم الشان عنایت ہے جس سے اس نے اپنے فضل و کرم سے اپنے بندوں کو نوازا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کے لئے اصلاح احوال اور عواقب بد سے نجات کی راہ صرف یہی تھی کہ وہ رسول کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی غلطی کا اعتراف کرتے اور اپنے خالق ومالک سے مغفرت و بخشش کی دعا و درخواست کرتے اور رسول بھی ان کے لئے دعاء مغفرت کرتے تو اللہ ان کی دعا و درخواست کو قبول کرتا اور ان پر رحم فرما دیتا۔ اس کے سوا ان کے لئے تلافی کی کوئی شکل نہیں۔ 154 اللہ تعالیٰ کی شان توابیت و رحمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا انتہائی مہربان ہے۔ اتنا بڑا کہ نہ اس کے توبہ قبول کرنے کی کوئی حد و انتہاء ہے اور نہ اس کی مہربانی اور رحمت و عنایت کی کوئی نہایت ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو وہ قبول توبہ کے ساتھ ساتھ ان کو اپنی رحمتوں سے بھی نوازتا ہے کہ وہ " توّاب " کے ساتھ ساتھ " رحیم " بھی ہے۔ سو یہ تھا ان کیلئے سیدھا راستہ اور صحیح طریقہ۔ مگر منافقت کے مارے ان بدبختوں نے اس کی بجائے الٹی راہ اپنائی اور اپنا ہی برا کیا۔ یہاں سے یہ بھی واضح اور ظاہر ہوگیا کہ ایمان و یقین کی دولت اور اس کے نور مبین سے انسان کو صحیح راستہ ملتا ہے، اور اس کو صحیح سمت میں قدم اٹھانے کی توفیق وسعادت نصیب ہوتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { یَہْدِیْہِمْ رَََبُّہُمْ بِاِیْمَانِہِِِمْ } جبکہ کفر و نفاق سے انسان اوندھا اور اندھا ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ اور کفر و انکار منبع شر و فساد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ نور ایمان و یقین سے محرومی کے بعد انسان طرح طرح کے اندھیروں ہی میں بھٹکتا رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:65

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 4:65 in the Quran reader

پس نہیں، قسم ہے آپ کے رب کی (اے پیغمبر ﷺ ! ) یہ لوگ مومن نہیں ہوسکتے، جب تک کہ یہ آپس کے جھگڑوں میں آپ کو (برضا ورغبت) اپنا منصف نہ مان لیں، پھر آپ کا جو بھی فیصلہ ہو اس سے یہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ محسوس کریں، اور اسے دل وجان سے تسلیم کرلیں،

155 معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ لوگوں نے سمجھ رکھا ہے : یعنی ایسا نہیں جیسا کہ ان لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ اپنے باہمی معاملات اور تنازعات تو یہ لوگ ارشادات نبوی ﷺ سے منہ موڑ کر اپنی خواہشات ومرضی کے مطابق طے کریں اور پیغمبر کی محبت و اطاعت کا محض زبانی کلامی دم بھریں اور بس۔ جیسا کہ پہلے بھی ہوتا تھا اور آج بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے ہو رہا ہے۔ سو کلمہ " لا " سے نفی اسی ذہنیت کی کی جا رہی ہے۔ اور " وَرَبِّک " کی قسم سے اس کے عکس کا اثبات کیا جا رہا ہے، جو کہ اس کے بعد مذکور ہے۔ پس جو حضرات اس " لا " کو زائد کہتے ہیں وہ صحیح نہیں کہتے، بلکہ ایسے موقع پر " لا " کا استعمال بڑا بلیغ پر معنیٰ اور مستقل ایک جملے کے قائم مقام ہوتا ہے۔ اور یہ عربی زبان اور محاورے کا ایک معروف اسلوب ہے جو عربوں کے یہاں آج بھی مروج و معروف ہے۔ چناچہ عرب اپنے عام محاورات میں کہتے ہیں " لَا وَاللّٰہ " اور " بَلَی وَاللّٰہ " وغیرہ۔ سو اسی مفہوم کو ہم نے اپنے ترجمہ کے اندر اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے کھولا ہے ۔ فالحمد للہ الذی لا تتم الصالحات الا بتوفیق منہ جل وعلا - 156 ایمان کیلئے ایک اہم کسوٹی : سو یہ ہے ایمان کی اصل کسوٹی، جو عبارت ہے تین شرطوں سے۔ اول یہ کہ اپنے تمام جھگڑوں اور تنازعوں میں حکم اور منصف پیغمبر ﷺ کی پیش فرمودہ سچی تعلیماتِ " قرآن و سنت " ہی کو قرار دیا جائے۔ اور پھر قرآن و سنت سے ملنے والے اس فیصلے پر اپنے دل میں کوئی حرج اور تنگی بھی محسوس نہ کی جائے۔ اور پھر تیسری بات یہ ہے کہ اسے دل و جان سے تسلیم کر کے اپنایا جائے۔ اب اس معیار و کسوٹی پر آپ خود اپنے آپ کو اور اپنے اردگرد کے سب مسلمانوں کو پرکھ کر دیکھ لیں کہ کون کتنے پانی میں ہے اور اپنے دعوائے ایمانی میں کون کس قدر حق بجانب ہے ؟ سو یہ ایمان و یقین کی دولت کو پرکھنے کے لیے ایک اہم اور بینادی کسوٹی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 4:66

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ Open ayah 4:66 in the Quran reader

اور اگر (کہیں بنی اسرائیل کی طرح) ہم ان پر بھی لکھ دیتے کہ قتل کرو تم لوگ اپنی جانوں کو (تب معافی ملے گی) یا نکل جاؤ اپنے گھروں سے، تو اس کو پورا نہ کرسکتے مگر ان میں کے تھوڑے سے لوگ، حالانکہ اگر وہ عمل کرتے اس نصیحت پر جو ان کو کی جاتی ہے، تو یہ بہتر ہوتا خود انہی کے حق میں، اور (یہ ان کے لئے) زیادہ ثابت قدمی کا باعث بنتا،

157 ایمان و یقین ہی باعث فلاح و نجاح : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پختہ ایمان و یقین ہی اصل بنیاد ہے فوز و فلاح کی۔ سو ایسی کسی ابتلاء و آزمائش کے تقاضے تھوڑے ہی لوگ پورے کرسکتے ہیں یعنی وہی جو اپنے ایمان و یقین میں انتہائی پکے ہوتے۔ پس ان لوگوں کو اسلام کے ان احکام پر دل و جان سے عمل کر کے اپنے لئے سعادت و فلاح کا انتظام کرنا چاہیئے، جو اس طرح کے سخت بھی نہیں کہ ان پر عمل کرنا ان کیلئے مشکل ہوتا۔ اور جو فطرت کے عین مطابق بھی ہیں، جن پر عمل پیرا ہونا فطرت کے تقاضوں کی تکمیل اور خود انسان کی سب سے اہم اور بنیادی ضرورت ہے۔ اور اس پر اللہ پاک کا شکر بجا لانا چاہیئے تاکہ دارین کی سعادت و سرخروئی نصیب ہو سکے۔ عقل و فطرت کے تقاضے پورے ہوسکیں اور حضرت خالق ومالک کی مرضیّات پر چلنا نصیب ہوسکے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ اپنے خاندان و قبیلہ اور گھر در کی وابستگیوں سے آزاد اور یکسو ہو کر کلیۃً مسلمانوں کے معاشرے میں شامل ہوجائیں تو یہ خود ان کے لئے بہتر ہے۔ اور راہ حق پر ان کے قدم جمانے کے لئے یہ چیز نہایت کارگر اور مفید ہوگی کہ یہ لوگ جب فاسد ماحول سے نکل کر پاکیزہ ماحول میں پہنچ جائیں گے تو ان کی کمزوریاں دور ہوں گی اور یہ بھی اسلام کے جان نثاروں کے ساتھ مل کر خدا کے وفا دار اور حق کے خدمتگار بن جائیں گے۔ اور اسی میں ان کا بھلا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 158 نصیحت حق پر عمل کرنا ہی باعث فوز و فلاح ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی ارشاد فرمودہ نصیحت پر عمل کرنے ہی میں بندے کیلیے خیر وبرکت اور فوز و فلاح کا سامان ہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے ارشاد فرمودہ نصیحت پر عمل کرنا خیر ہی خیر ہے۔ اس سے ان کو دنیا میں پاکیزہ زندگی " حیات طیبہ " نصیب ہوتی اور آخرت میں بھی یہ لوگ حقیقی اور دائمی فوز و فلاح سے سرفراز و سرشار ہوتے ہیں۔ سو حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی جانب سے ارشاد فرمودہ نصیحت پر عمل کرنے ہی میں بندے کیلئے خیر ہے کہ یہی وہ نصیحت ہے جس میں کسی خطاء و قصور کا کوئی امکان نہیں۔ اور وہ جو بھی کوئی حکم و ارشاد فرماتا ہے، وہ نہایت ہی علم و حکمت پر مبنی ہوتی ہے اور اس میں اس کے لئے کسی ذاتی فائدے اور غرض کا کوئی سوال ہی نہیں کہ وہ ایسے ہر شائبہ سے پاک اور بری ہے۔ وہ اپنے بندوں کو جو بھی حکم دیتا ہے اور نصیحت فرماتا ہے اس میں خود انہی کا بھلا مقصود ہوتا ہے۔ اور یہ شان اس وحدہ لاشریک کے احکام کے سوا اور کسی کی نہیں ہوسکتی۔ اس لئے اس کے کسی حکم و ارشاد کا کوئی متبادل ممکن ہی نہیں ۔ سبحان و تعالیٰ ۔ پس اس کی اطاعت و بندگی سراسر خیر و برکت ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - 159 اِخلاص اور اتباع باعث تقویت قلوب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ اس نصیحت پر عمل کرتے جو ان کو کی جاتی ہے تو یہ خود ان ہی کے حق میں بہتر ہوتا اور اس سے ان کو ثابت قدمی نصیب ہوتی کہ اخلاص اور اتباع حق سے قلب کو قوت ملتی ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { یُثَبِّتُ اللّٰہُ الََّذِیْنَ اٰمََنُوْا بالْقَوْل الثَّابِت فِی الْحَیَاۃ الدُّنْیَا وَفِی الاٰخِرَۃ } الایۃ (ابراہیم :27) سو ایمان و یقین کی قوت اور صدق و اخلاص کی دولت سے انسان کو ثبات وقرار ملتا ہے اس دنیا میں بھی، اور اس کے بعد آخرت میں بھی جبکہ کفر و نفاق محرومی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ایسے صدق شعاروں کی حوصلہ افزائی فرمائی گئی کہ اگر یہ لوگ ایسا کرتے تو یہ خود انہی کے لئے بہتر ہوتا اور ان کو راہ حق میں استقامت اور ثابت قدمی کی دولت نصیب ہوتی جو کہ بڑی عظیم الشان دولت ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 4:67

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:67 in the Quran reader

اور اس صورت میں ہم ان کو ضرور دیتے اپنی طرف سے بہت بڑا اجر بھی،

160 اجر عظیم کا اہم مصداق سے مقصود و مراد ؟ : سو اس سے یہاں پر جنت مراد ہے۔ (ابن کثیر (رح) محاسن التاویل وغیرہ ) ۔ جس کی نعمتوں کے بارے میں صحیح حدیث میں فرمایا گیا کہ وہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں، اور نہ کسی دل پر ان کا گزر ہی ہوا۔ " مََا لَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلا خَطَرَ عَلٰی قَلْب بَشَرٍ " سو جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی سب سے بڑا انعام اور حقیقی کامیابی ہے، جس سے اللہ پاک اپنے خاص بندوں کو اپنے فضل و کرم سے نوازتا اور سرفراز فرماتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی لئے قرآن حکیم میں اس کو حصر کے ساتھ " الفَوزُ الْعَظِیْم " اور " الَفَوزُ الْکَبِیْر " وغیرہ الفاظ سے ذکر فرمایا گیا ہے۔ یعنی سب سے بڑی کامیابی کہ اس کے سوا اور کوئی کامیابی حقیقی کامیابی ہے ہی نہیں۔ بہر کیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ ان باتوں کو اپناتے اور ان پر عمل پیرا ہوتے تو یہ خود انہی کے حق میں بہتر ہوتا کہ اس سے ان کو ایمان و یقین میں قوت و پختگی بھی ملتی۔ یہ ضعف و اضطراب سے بھی دور اور محفوظ ہوتے۔ ان کو راہ حق و ہدایت میں استقامت بھی نصیب ہوتی۔ یہاں پر احکام خداوندی کو مواعظ کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا کیونکہ ان میں وعد اور وعید کے دونوں پہلو پائے جاتے ہیں۔ (محاسن التاویل وغیرہ) اور ان پر عمل پیرا ہونے میں خود بندوں ہی کا بھلا ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی ۔ وباللہ التوفیق -
Ayahs 4:68–69

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا Open ayah 4:68 in the Quran reader

اور ہم ان کو ضرور ڈال دیتے سیدھی راہ پر بھی،

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ Open ayah 4:69 in the Quran reader

اور جو کوئی اطاعت کرے گا اللہ کی، اور اس کے رسول ﷺ کی، تو ایسے لوگ ان (خاصان خدا) کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء، اور صالحین، اور کیا ہی خوب ہوگی رفاقت (وسنگت) ان حضرات کی،1

161 صراط مستقیم کی عظمت شان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کو ہم ضرور ڈال دیتے سیدھی راہ پر۔ سو " صراط مستقیم " یعنی " سیدھی راہ " بڑی ہی عظیم الشان راہ ہے کہ یہ راہ سعادت دارین کی کفیل وضامن ہے۔ یعنی اس سیدھی راہ پر جو انہیں دارین کی سعادتوں کی طرف لے جاتی۔ سو اللہ پاک اور اس کے رسول اکرم ﷺ کے احکام و ارشادات کی اطاعت و فرمانبرداری، دارین کی سعادت و کامیابی کا ذریعہ ہے۔ اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور صراط مستقیم یعنی سیدھی راہ سے مراد وہی راہ ہے جو حضرات انبیائے کرام، صدیقین، شہدا اور صالحین کی راہ ہے۔ جیسا کہ اس سے متصل بعد والی آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ اور حق و ہدایت کی یہی راہ وہ راہ ہے جو انسان کیلئے دارین کی سعادت کی کفیل وضامن ہے۔ سو حق و ہدایت کی اس راہ یعنی صراط مستقیم پر چلنے والے تذبذب و تردد سے محفوظ ایمان و یقین اور سکون و اطمینان کی دولت سے سرفراز و سرشار ہوتے ہیں۔ جب کہ اس سے محروم لوگ سکون و اطمینان کی دولت سے محروم، تذبذب و تردد کا شکار منافقین کی راہ پر چل رہے ہیں جو کہ " مغضوبین " اور " ضالین " کی راہ ہے۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ الّذِیْ شَرَّفَنَا بِنِعْمَۃ الْاِیْمَان ۔ اَللّٰھُمَّ فِزِدْنَا مِنْہُ وَ ثَبِّتْنَا عَلَیْہ یَا ذَالْجَلَال والْاِکْرَام -
Ayah 4:70

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠ Open ayah 4:70 in the Quran reader

یہ مہربانی (اور عنایت) ہوگی اللہ کی طرف سے، اور کافی ہے اللہ جاننے والا،

166 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور کافی ہے اللہ جاننے والا۔ پس وہ خوب جانتا ہے کہ کس کی اطاعت کس درجے کی ہے۔ اور کون کس درجے کے لائق ہے۔ اس لیے ہمیشہ اس سے اپنا معاملہ صاف رکھنے کی ضرورت ہے کہ وہاں معاملہ صرف ظاہر پر نہیں چلتا کہ وہ انسان کے باطن اور اس کے سرائر سے بھی واقف و آگاہ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت ربیعہ بن کعب الاسلمی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ کے ساتھ رات گزاری اور آپ ﷺ کو وضو کا پانی وغیرہ لا کردیا۔ تو اس پر آنحضرت ۔ ﷺ : نے ارشاد فرمایا کہ مانگو کیا چاہتے ہو ؟ تو آپ ؓ نے عرض کیا جنت میں آپ ﷺ کا ساتھ چاہئے۔ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیا اس کے علاوہ کچھ اور بھی ؟ تو حضرت ربیعہ نے کہا کہ نہیں بس یہی چاہئے۔ تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کے لئے تم کثرت سجود کے ذریعے میری مدد کرو "۔ (مسلم کتاب الصلوٰۃ) ۔ سو آنحضرت ﷺ نے اس کے جواب میں ان سے یہ نہیں فرمایا کہ جاؤ میں نے تم کو یہ چیز دے دی یا تم نے جو مانگا وہ تم کو مل گیا۔ بلکہ یہ فرمایا کہ تم کثرت سجود کے ذریعے میری مدد کرو یعنی اس مقصد کے حصول کا طریقہ یہ ہے کہ تم زیادہ سے زیادہ نمازیں پڑھو۔ اللہ پاک کے حضور سجدے کرو۔ تاکہ وہ مالک الملک تمہیں اس شرف سے نواز دے۔ سو اس سے جن اہل بدعت نے غیر اللہ سے مانگنے اور استغاثہ و استعانت پر استدلال کی کوشش کی انہوں نے اپنی جہالت اور مت ماری کا ثبوت دیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا Open ayah 4:71 in the Quran reader

اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو، تم لے لیا کرو اپنے ہتھیار، پھر (جیسا موقع ہو اس کے مطابق) تم چلو مختلف دستوں کی شکل میں، یا سب اکٹھے ہو کر2

167 منظم اور گوریلہ دونوں قسم کی جنگوں کا حکم و ارشاد : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنے ہتھیار لے لیا کرو۔ پھر تم چلو مختلف دستوں کی شکل میں یا سب اکٹھے یعنی ضرورت اور موقع کے مطابق جیسا تم لوگ بہتر اور مناسب سمجھو ویسا ہی کرو۔ " ثَبات " ثُبَۃٌ کی جمع ہے جس کے معنی ٹکڑی، گروہ اور جماعت کے ہیں۔ سو یہ خطاب مسلمانوں سے من حیث الجماعت ہے اور ان کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ تم لڑو اللہ کی راہ میں اکھٹے مل کر بھی، جیسا کہ منظم فوج کشی میں ہوتا ہے۔ اور مختلف گروہوں اور ٹکڑیوں کی صورت میں بھی جیسا کہ گوریلہ جنگ میں ہوتا ہے اور مسلمانوں نے جنگ کے لئے دونوں طریقے اپنائے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے منظم فوج کشی بھی فرمائی اور مختلف سریے بھی بھیجے ہیں۔ جنہوں نے مختلف مقامات پر مختلف کاروائیاں کیں۔ بہرکیف اس سے باقاعدہ منظم اور گوریلا دونوں قسم کی جنگوں کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے۔
Ayah 4:72

وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا Open ayah 4:72 in the Quran reader

اور تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو جی چراتا ہے (جہاد و قتال سے) پھر اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچ جائے (شکست وغیرہ کی) تو وہ کہتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا، کہ میں ان لوگوں کیساتھ موجود نہ تھا3

168 منافقوں کے منافقانہ رویے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو جی چراتے اور [ جہاد و قتال سے ] پیچھے رہتے ہیں۔ پھر اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچ جائے تو ایسا شخص کہتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر بڑا فضل وکرم کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ موجود نہیں تھا۔ سو کار خیر میں پیچھے رہنا اور اس پر اپنی ہوشیاری ظاہر کرنا، اور اپنی چال پر خوشیاں منانا، جہاد فی سبیل اللہ اور معرکہ حق و باطل سے پیچھے رہنا اور اس محرومی پر افسوس کرنے کی بجائے اس پر خوش ہونا، اور اس کو اپنی ہوشیاری اور چالاکی سمجھنا منافقوں کا طریقہ و وطیرہ ہے نہ کہ اہل ایمان و یقین کا۔ اور کارخیر سے محرومی پر افسوس کرنے کی بجائے اس پر خوش ہونا منافقت کا ثبوت اور اس کی علامت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو جہاد کی سعادت میں آگے بڑھنے کی بجائے خود بھی پیچھے رہتے ہیں اور دوسروں کی بھی ہمت شکنی کر کے ان کو پیچھے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کو کسی مہم میں کوئی گزند پہنچ جائے تو یہ خوش ہوتے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل سے ہمیں اس مہم میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہونے سے بچا لیا ہے۔ اور اگر ان کو کوئی کامیابی نصیب ہوتی ہے تو یہ لوگ حاسدانہ اور حسرت بھرے انداز میں کہتے ہیں کہ کاش کہ ہم بھی اس میں شریک وشامل ہوتے تو ہم بھی خوب مال غنیمت کماتے۔ سو دولت ایمان و یقین سے محرومی کے بعد ان کے سامنے دنیائے فانی کے فوائد و منافع ہی ہیں اور بس ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:73

وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 4:73 in the Quran reader

اور اگر تمہیں نصیب ہوجائے اللہ کی طرف سے کوئی فضل (اور مہربانی) تو وہ زور دے دے کر یوں کہنے لگتا ہے، گویا کہ تمہارے اور اس کے درمیان کوئی تعلق ہی نہیں تھا، کہ اے کاش ! کہ میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو پالیتا بڑی کامیابی،

169 بےایمانوں کے لیے دنیا ہی سب کچھ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایمان و یقین سے محروم لوگوں کیلئے دنیا اور اس کا متاع فانی ہی سب کچھ ہے۔ سو ایسے لوگوں کا مطمح نظر دنیا اور اس کے مادی فوائد و منافع ہی ہیں اور بس۔ اسی کیلئے یہ لوگ جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں۔ اور یہ چیز کوتاہ نظر انسان کو مہالک میں ڈالنے والی اور اس کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے محروم کرنے والی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ایمان و یقین کی دولت سے محروم لوگوں کے نزدیک اصل چیز دنیا ہی دنیا ہے اور یہ نقطہ نظر محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایمان و یقین کی دولت اور حق و ہدایت کی روشنی سے محرومی کے نتیجے میں انسان ایسا اندھا اور اوندھا ہو کر رہ جاتا ہے کہ اس کی نظر بطن و فرج کے تقاضوں ہی تک محدود ہوجاتی ہے۔ وہ اس سے آگے سوچنے اور دیکھنے کیلیے تیار ہی نہیں ہوتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 4:74–75

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:74 in the Quran reader

پس چاہیے کہ لڑیں اللہ کی راہ میں وہ لوگ جنہوں نے بیچ دیا دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے میں، اور (اس میں نفع ہی نفع ہے کہ) جو کوئی لڑے گا اللہ کی راہ میں، پھر وہ مارا جائے یا غالب آجائے تو (بہر صورت) ہم اسے نوازیں گے بہت بڑے اجر سے،4

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:75 in the Quran reader

اور کیا ہوگا تمہیں (اے مسلمانو ! ) کہ تم لڑتے نہیں اللہ کی راہ میں ؟ اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر ؟ جو (رہ رہ کر) کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار نکال دے ہمیں اس بستی سے ظالم ہیں جس کے (باسی و) باشندے، اور پیدا فرمادیں ہمارے لئے اپنے یہاں سے کوئی حمایتی، اور مقرر فرمادیں ہمارے لئے اپنے یہاں سے کوئی مددگار،1

170 اصل چیز آخرت ہے : سو ارشاد فرمایا گیا پس چاہیے کہ لڑیں اللہ کی راہ میں وہ لوگ جنہوں نے بیچ دیا دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے میں۔ اور دنیا کی عارضی اور فانی لذتوں کو انہوں نے حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا کہ ان کے سامنے اصل مقصد اپنے رب کی رضا کا حصول، اور آخرت کی حقیقی اور دائمی فلاح سے سرفرازی ہے۔ اور یہی ہیں سچے ایماندار اور حقیقی فوز و فلاح سے سرفراز ہونے والے خوش نصیب لوگ ۔ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ وَکَثَََّرَ سَوَادَھُمْ ۔ سو اصل اور حقیقی چیز جسکو مقصد حیات بنانا چاہیئے وہ ہے آخرت۔ اور جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی جو کہ عمدہ بھی ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والی بھی { وَلَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی } بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ خدا کی راہ میں جہاد کے لئے وہ لوگ اٹھیں جو اپنی آخرت کے لئے اور اس کی خاطر اپنی دنیا کو تج چکے ہوں۔ کہ آخرت کی کامیابی کے لئے جہاد فی سبیل اللہ سب سے مختصر اور کامیاب راستہ ہے۔ 171 مجاہدوں کیلئے اجر عظیم کا وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کو ہم نوازیں گے بہت بڑے اجر سے اور ایسے عظیم الشان اجر سے جسکی عظمتوں کا احاطہ و ادراک اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی بھی نہیں کرسکتا کہ ایسے مومنین صادقین کا مقصد بہرکیف اعلیٰ وارفع اور ان کا نصب العین بڑا ہی پاکیزہ و مصفی ہے۔ یعنی اعلائ کلمۃ اللہ اور حصول رضائے الہٰی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس اعلیٰ وارفع نصب العین کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ایسے مجاہدوں کو دنیاوی عزت و عظمت اور فتح و نصرت کے علاوہ آخرت میں جنت کی نعیم مقیم سے سرفراز فرما دے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ دنیا کو تج کر صرف آخرت کی کامیابی کے لئے جہاد کریں گے وہ خواہ مارے جائیں یا فتح مند ہوں، دونوں ہی صورتوں میں ان کے لئے اجر عظیم ہے۔ سو مجاہد فی سبیل اللہ کیلیے کسی بھی صورت میں محرومی نہیں۔
Ayah 4:76

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ Open ayah 4:76 in the Quran reader

جو لوگ ایمان رکھتے ہیں، وہ تو (صدق دل سے) لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں، اور جو کافر ہیں وہ لڑتے ہیں شیطان کی راہ میں، پس تم لوگ لڑو (اے مسلمانو ! ) شیطان کے دوستوں سے بیشک شیطان کی چال بہت کمزور ہے،2

176 مومن کا جہاد اللہ کی رضا کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان والے لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں یعنی اس لیے کہ اللہ کا دین سربلند ہو، اور اس کی رضا ہمیں حاصل ہو، اس کے سوا قوم و ملک، اور رنگ و نسل وغیرہ کسی بھی امتیاز کیلئے وہ نہیں لڑتے۔ سو یہ جہاد اسلامی کا وہ طرہ امتیاز ہے جو اسے پاکیزہ بنا کر دنیا بھر کی تمام جنگوں سے ممتاز کردیتا ہے، کہ اس سے مقصود و مراد اعلائے کلمتہ اللہ اور رضائے خداوندی کا حصول ہوتا ہے۔ جس سے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوتا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اہل ایمان کی جنگ اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لئے ہوتی ہے۔ اس لئے ان کے سر پر اللہ ہوتا ہے۔ اور جس کے سر پر اللہ ہو اس کو کسی کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے ؟ اس کے لیے کوئی ناکامی نہیں۔ وہ بہرصورت اور ہر حال میں کامیاب اور فائز المرام ہوتا ہے۔ 177 کافروں کی جنگ شیطان کی راہ میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کافر لوگ لڑتے ہیں شیطان کی راہ میں۔ تاکہ دنیا میں ظلم اور سرکشی کا دور دورہ ہو اور ان کی شیطانی اہواء و اَغراض کی تکمیل کا سامان ہوتا رہے۔ اس لیے کافر لوگ حق کا راستہ روکنے کیلئے زور لگاتے اور جنگ کرتے ہیں۔ اس لیے اہل حق ایسے ابنائے کفر و باطل کیخلاف جنگ کرتے ہیں اور ان کو ان سے جنگ کرنا چاہیے تاکہ حق کا راستہ صاف ہو اور کلمہ حق کا بول بالا ہو۔ سو اس طرح یہ مقابلہ در اصل خدائے رحمن اور شیطان کے درمیان ہوتا ہے۔ تو پھر شیطان کی چالیں خدائے رحمن کی کیدمتین کے مقابلے میں کیسے کامیاب ہوسکتی ہیں ؟ 178 شیطان کی چال بہت کمزور ہے : اور جب وہ فی نفسہ اس قدر ضعیف و کمزور ہے تو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت مطلقہ کے سامنے اس کی حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ پس تم اللہ کی تائید وتقویت کے سہارے اس کے خلاف لڑو۔ انجام بہرحال تمہارا ہی ہوگا۔ البتہ اس بات کا خیال بہرحال رہے کہ اپنے خالق ومالک کے ساتھ تمہارا تعلق درست ہو۔ تاکہ اس کی نصرت و امداد تمہیں حاصل رہے کہ اس کے بعد کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اہل ایمان کو خدا وندقدوس کی نصرت و امداد پر مطمئن رہنا چاہئے۔ اگر انہوں نے خدائے پاک کی وفاداری میں کوئی کمزوری نہیں دکھائی تو کامیابی بہرحال انہی کی ہے ۔ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ اور شیطان کے ہر کام کی بنیاد چونکہ باطل پر ہوتی ہے اس لئے اس کے مضبوط و مستحکم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سو مومن کا اصل سرمایہ ایمان اور تقویٰ ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور بدرجہ تمام و کمال نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 4:77

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ؟ جن سے (ان کے مطالبہ جہاد کے جواب میں) کہا گیا تھا کہ (ابھی) تم روکے رکھو اپنے ہاتھوں کو، قائم رکھو نماز، اور ادا کرتے رہو زکوٰۃ، مگر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو (ان کا حال یہ ہے کہ) ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے ایسا ڈر نے لگا جیسا کہ خدا سے ڈرنا چاہیے، بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ، اور یوں کہنے لگے کہ خدایا، تو نے کیوں فرض کردیا ہم پر جہاد، اور ہمیں اور تھوڑی مدت تک مہلت کیوں نہ دی کہو کہ دنیا کا سامان تو ہے ہی تھوڑا3 اور آخرت ہی بہتر ہے، ہر اس شخص کے لئے جو ڈرتا ہو، (اپنے رب سے) اور تم پر ذرہ برابر بھی کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا،1

179 منافقوں کے ایک گروہ کے بارے میں دعوت غور و فکر : کہ ان کا معاملہ بھی کیسا عجیب ہے کہ پہلے تو یہ لوگ جہاد کا خود مطالبہ کر رہے تھے اور جب اس کا حکم آگیا تو یہ لوگ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔ اس سے مراد یا تو منافق ہیں یا کمزور مسلمان۔ (معارف القرآن از کاندھلوی (رح) و جامع البیان وغیرہ) ۔ سو اس طرح کے منافقانہ طرز عمل کی بجائے صدق و اخلاص والا طریقہ اپنانا چاہیئے۔ سو ایسے لوگ بڑے زور و شور سے جنگ وجدال اور جہاد و قتال کا مطالبہ کرتے تھے تو ان سے کہا جاتا کہ ابھی تم لوگ انتظار کرو اور نماز کے لئے اہتمام اور زکوٰۃ کی پابندی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق، اپنی تنظیم اور اپنے جذبہ انفاق کو ترقی دو لیکن جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا تو زبان کے ان غازیوں کا سارا جوش ٹھنڈا پڑگیا۔ 180 فرضیت جہاد کے بعد کے حال کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو ان کا حال اور ہوا۔ اور جہاد کی فرضیت کا حکم ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں پہنچنے کے بعد نازل ہوا جبکہ وہ اس کے قابل ہوگئے تھے، اور وہاں اسلامی حکومت قائم ہوگئی تھی تو ان لوگوں پر جہاد فرض کیا گیا تاکہ اسلام کا بول بولا ہو۔ بہرکیف جب وقت آنے پر جہاد فرض کردیا گیا تو ایسے لوگ جہاد کے لئے بصد شوق ورغبت آگے بڑھنے کی بجائے اس سے چھپنے اور جان بچانے کی کوشش کرنے لگے اور خشیت خداوندی کی بجائے لوگوں کا خوف اور ان کی دہشت ان کے دلوں پر چھا گئی۔ بلکہ یہ لوگ اللہ کے خوف و خشیت سے بھی کہیں بڑھ کر لوگوں سے ڈرنے لگے اور کہنے لگے اے ہمارے رب تو نے اتنی جلدی ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا۔ سو اس طرح ان کے سابقہ دعو وں کی سب قلعی کھل گئی اور یہ اپنی اصل صورت میں سامنے آگئے۔ 181 منافقوں کی ایک تمنا کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جہاد کی فرضیت کے بعد ان لوگوں میں کا ایک گروہ لوگوں سے ایسے ڈرنے لگا جیسا کہ خدا سے ڈرنا چاہیے بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ۔ اور یہ لوگ تمنا کرنے لگے کہ ہمیں تھوڑی سی مدت تک اور مہلت کیوں نہیں دی گئی موت تک۔ (صفوۃ التفاسیر، محاسن التاویل، جامع البیان) تاکہ اس طرح آرام سے زندگی گزار کر ہم خود ہی طبعی موت مرجاتے۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے منافقت کے روگ اور ضعف ایمانی کا کہ انسان موت سے ڈرتا اور بھاگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حالانکہ موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ نہ وہ اس وقت مقرر سے پہلے آئیگی اور نہ اس کے بعد ٹل سکے گی۔ تو پھر اس سے ڈرنے اور بھاگنے کا کیا فائدہ ؟ اس نے اپنے وقت پر بہرحال آ کر رہنا ہے۔ وہ کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْہُ فَانَّہٗ مُلَاقِیْکُمْ " الاٰیۃ، (الجمعۃ : 8) سو موت سے بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ 182 دنیا کا متاع بہت تھوڑا ہے : سو دنیا کے ان دلداروں کی اس تمنا کے جواب کے بارے میں ارشاد فرمایا یا کہ ان سے کہو کہ دنیا کا سامان تو ہے ہی بہت تھوڑا۔ سو ساری دنیا کا سامان بھی جب تھوڑا، اور اتنا تھوڑا ہے کہ صحیح حدیث کی رو سے اگر یہ ساری دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی، تو اللہ تعالیٰ کسی کا فرکو اس میں سے پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔ تو جب دنیا ساری کی حقیقت و حیثیت اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ہے، تو پھر اس تھوڑے سے حصہ کا کہنا ہی کیا جو اس پوری دنیا میں سے تم کو یا کسی کو بھی ملتا ہے ۔ سبحان اللہ ! کیسی عظمت شان ہے اس دین حنیف کی ؟ اور کیسی عظیم الشان تعلیمات سے یہ نوازتا ہے دنیا کو ؟ کہ جس دنیا کے کچھ ٹکوں کیلئے دنیا مرتی ہے اور اس کی پوجا تک کرتی، اور اس کیلئے طرح طرح کے پاپڑ بیلتی ہے، اس پوری دنیا کی حیثیت اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے ایک پر کے برابر بھی نہیں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس قدر محروم، بدنصیب اور کوتاہ نظر ہیں وہ لوگ جو آخرت کو بھول کر اور اس سے منہ موڑ کر صرف اسی دنیاوی زندگی کیلئے جیتے اور اسی کے لئے مرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ دنیا اور اس کا یہ چند روزہ سامان کچھ بھی نہیں۔ اصل چیز تو آخرت اور وہاں کی سدا بہار نعمتیں ہیں جن سے سرفرازی ان خوش نصیبوں کو نصیب ہوگی جو اپنے رب کے خوف و خشیت اور تقویٰ و طہارت کی دولت سے سرفراز و سرشار ہوں گے۔ 183 تقویٰ و پرہیزگاری وسیلہئ نجات : سو ارشاد فرمایا گیا اور آخرت بہرحال بہتر ہے ہر اس شخص کے لیے جو ڈرتا ہے۔ یعنی جو ڈرتا ہے اپنے رب کی ناراضگی اور اس کی پکڑ سے۔ اور اس کے اس ڈر کی بنا پر وہ کفر و شرک اور اس کی معصیت و نافرمانی سے بچ کر رہتا ہے، اور اس کے نتیجے میں وہ اس کی گرفت و پکڑ اور عذاب سے محفوظ رہتا ہے۔ سو تقوی و پرہیزگاری وسیلہ نجات اور ذریعہ فوز و فلاح ہے۔ اور یہی اصل و اساس ہے دارین کی سعادت و سرخروئی کی۔ اور خدا وند قدوس کی عبادت و بندگی کی۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا " اِتَّق الْمَحَارِمَ تَکُنْ اَعَبْد النَّاس " یعنی " تم حرام چیزوں سے بچو سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤ گے " ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَہُوَ الہادیْ اِلٰی سَوَائ السبیل ۔ بہرکیف تقویٰ و پرہیزگاری وسیلہ نجات و سرفرازی ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور بدرجہ تمام و کمال نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ 184 تم پر کسی طرح کا کوئی ظلم نہیں ہوگا : کہ تمہاری کسی واقعی نیکی کا انکار کردیا جائے، یا کوئی ناکردہ گناہ تمہارے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔ سو ایسی کوئی بات ہرگز نہ ہوگی بلکہ وہاں پر عدل و انصاف ہی کا معاملہ ہوگا۔ بلکہ عدل سے بھی بڑھ کر وہاں پر فضل و کرم کا معاملہ ہوگا کہ ایک ایک نیکی کا اجر و صلہ کئی کئی گنا بڑھا کردیا جائے گا کہ یہ انعام و اکرام اس اکرم الاکرمین کی طرف سے ہوگا جس کی رحمت و عنایت کی کوئی حد و انتہاء نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس آیت کریمہ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اسلامی جنگ اور جہاد و قتال کی روح اور نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی میں گہری مناسبت ہے۔ جو لوگ خدا کی راہ میں لڑنے کے لئے تیار ہو رہے ہوں، ان کے لئے اسلحہ کی ٹریننگ سے زیادہ اقامت صلوٰۃ اور ایتائ زکوٰۃ کی پابندی کی ضرورت ہے۔ جہاد میں جس صدق و اخلاص، للہیت و استقامت اور نظم وطاعت کی ضرورت ہوتی ہے اس کے لئے بہترین تربیت نماز سے ہوتی ہے اور اس راہ میں انفاق فی سبیل اللہ کا جو جذبہ درکار ہوتا ہے وہ ایتائ زکوٰۃ کی پابندی سے نشوو نما پاتا اور پروان چڑھتا ہے۔ اس کے بغیر جو جنگ لڑی جائے گی اس سے کوئی اصلاح وجود میں نہیں آسکتی۔ اور لڑنے والوں میں وہ قوت پیدا نہیں ہوگی جو جہاد اسلامی کا طرہ امتیاز ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -