Ayah 4:92233 قتل مومن کسی مومن کا کام نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کسی مومن کی یہ شان نہیں ہوسکتی کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے کہ ایمان کے باعث اس کا جان و مال محفوظ ہوگیا۔ اور اس قدر محفوظ کہ اس پر دست درازی کرنا ایک نہایت سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ بہت سی صحیح احادیث میں وارد ہے۔ چناچہ صحیحین وغیرہ کی روایت میں ہے کہ کسی مسلمان کا خون جائز نہیں، مگر تین میں سے کسی ایک وجہ سے۔ کہ یا اس نے کسی کو قتل کیا ہو تو اس کے بدلے میں اس کو مارا جائے۔ یا اس نے احصان کے بعد زنا کا ارتکاب کیا ہو۔ یا وہ اسلام سے پھر گیا ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ایک دوسری حدیث میں فرمایا گیا کہ زمین و آسمان کی ساری کائنات کا ختم ہوجانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مسلمان کے خون سے زیادہ ہلکا ہے " لَزَوال الدُّنیا اَھْوَنُ عِنْدَ اللّٰہ مِنْ قَتْل رَجُلٍ مُسْلِمٍ " (ترمذی، کتاب الدیات) ۔ اور ایک اور حدیث میں فرمایا گیا کہ زمین و آسمان کے سب لوگ بھی اگر ایک مسلمان کے قتل میں شریک ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دے گا۔ (ترمذی، کتاب الدیات) ۔ اللہ اللہ ! کہاں یہ وعیدیں اور خون مومن کی یہ عظمت و حرمت اور رفعت شان ؟ اور کہاں اس کی یہ ارزانی جسکے مظاہر آج ہم یہاں اور وہاں ادھر اور ادھر جگہ جگہ اور طرح طرح سے اپنی انکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور جسکو دیکھ دیکھ اور سن سن کر اپنے دل درد مند سے گویا خون رسنے لگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف خون مسلم کی دین حنیف میں بہت بڑی عظمت و حرمت ہے۔ یہاں تک کہ دین حنیف نے ناحق طور پر ایک جان کے قتل کو سب لوگوں کے قتل کے برابر قرار دیا ہے۔ اور اس کے برعکس ایک شخص کی جان کی حفاظت اور اس کے بچاؤ کو تمام لوگوں کی جان بخشی اور ان کی حفاظت کے برابر قرار دیا گیا۔ ارشاد ہوتا ہے { مِنْ اَجْل ذَالِکَ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بغَیْر نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْض فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَمَنْ اَحْیاَھَا فَکَانَّمَا اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا } الاٰیۃ (المائدۃ : 32) سو قتل مسلم کا جرم بہت سنگین اور نہایت ہولناک جرم ہے۔ کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں ہوسکتا کہ وہ قتل مسلم کے اس انتہائی سنگین اور نہایت ہولناک جرم کا ارتکاب کرے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
234 قتل خطاء کے حکم کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مومن کی یہ شان اور اس کا یہ کام نہیں ہوسکتا کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے مگر یہ کہ غلطی سے ایسا ہوجائے۔ سو اس پر اللہ تعالیٰ کے یہاں پکڑ نہیں ہوگی کہ اس میں قاتل کا قصد و ارادہ شامل نہیں۔ اور اسی پر ہر معاملے کا مدارو انحصار ہے۔ یعنی کسی فعل کا جرم ہونا قصد و ارادہ ہی پر موقوف ہے، البتہ قتل خطاء میں چونکہ فی الجملہ تقصیر و کوتاہی پائی جاتی ہے اس لیے اس پر کفارہ واجب فرمایا گیا ہے تاکہ خون مسلم کی حرمت برقرار رہ سکے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ کسی مسلمان کے لئے یہ بات جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو قتل کرے۔ ہاں اگر غلطی سے ایسا ہوجائے تو یہ دوسری بات ہے لیکن غلطی کی صورت میں بھی یہ بات لازم ہے کہ جس سے یہ فعل سرزد ہو وہ ایک مومن غلام آزاد کرے۔ اور مقتول کے وارثوں کو " خون بہا " ادا کرے۔ الا یہ کہ مقتول کے وارث اس خونبہا کو اپنی خوشی سے معاف کردیں۔
235 کفارہ قتل میں رقبہ مومنہ کی قید کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کسی مومن کا قتل اگر خطا اور غلطی سے ہوجائے تو مقاتل کے ذمے آزاد کرنا ہے ایک ایمان دار گردن کا۔ پس کافر غلام باندی کا آزاد کرنا کافی نہ ہوگا۔ اور یہ اس کے اس گناہ کا کفارہ ہے کہ اس نے حق اللہ میں دست درازی کی، اگرچہ وہ بطریق خطاء ہی تھی۔ (ابن کثیر، وغیرہ) ۔ کیونکہ مومن کی جان بہرحال بہت عظمت والی ہے اور اس کی خونریزی ایک بڑی ہی سنگین بات ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لہٰذا یہ کفارہ مقتول کے وارثوں کے معاف کرنے سے بھی معاف نہیں ہوگا۔ البتہ دیت چونکہ وارثوں کا حق ہے اس لئے وہ ان کے معاف کرنے سے معاف ہوجائے گی۔ بہرکیف کفارہ خطاء میں آزاد کیے جانے والے غلام یا باندی کا مومن ہونا ضروری ہے۔ جیسا کہ یہاں { رَقَبَۃٍ مُؤْمِنَۃٍ } سے اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ اور صحیح احادیث و روایات میں طرح طرح سے اس کی تاکید و تلقین فرمائی گئی ہے۔ پس کفارہ قتل میں آزاد کیے جانے والے غلام کا مومن ہونا ضروری ہے۔
236 دیت مقتول کے وارثوں کے حوالے کرنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسی صورت میں دیت بھی دینا ہوگی جس کو مقتول کے وارثوں کے حوالے کیا جائے گا۔ جسے وہ آپس میں میراث کے قاعدے کے مطابق تقسیم کریں گے اور اگر وارثوں میں سے کوئی موجود نہ ہو تو اس کو بیت المال میں داخل کیا جائے گا۔ (معارف للکاندھلوی (رح) وغیرہ) ۔ بہرکیف یہ دیت یعنی خون بہا عوض ہوگا اس خون مقتول کا جس کو گرایا گیا ہوگا اور اس دیت کی تحدید و تعیین سنت مطہرہ میں فرما دی گئی ہے۔ جیسا کہ سنن نسائی وغیرہ میں ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم عَنْ ابیْہ عَنْ جَدِّہٖ کی سَنَد سے مروی ہے۔ (نسائی : کتاب القسامۃ) اور سنن ابو داؤد میں حضرت جابر ؓ سے مروی ہے (ابوداؤد : کتاب الدیات، باب الدیۃ کم ہی ؟ ) سو " مَسَلَّمَۃٌ " کے ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ دیت میت کے وارثوں کے حوالے کرنا ہوگی۔
237 خون بہا معاف کرنے کی ترغیب : سو ادائیگی دیت کے حکم میں استثناء کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ الا یہ کہ مقتول کے وارث اس کو اپنی خوشی سے معاف کردیں۔ تو اس صورت میں یہ معاف ہوجائے گی، کہ یہ انہی کا حق ہے جس کے معاف کرنے کا ان کو اختیار ہے۔ اور اس معافی کو صدقہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے، جس میں اس کیلئے ترغیب ہے کہ اس کو معاف کردینا چاہیئے کہ یہ بھی ایک طرح کا صدقہ ہے جس کا صدقہ کرنے والے کو اجر وثواب ملے گا۔ اور حسن معاملات کے فوائد و منافع حاصل ہوں گے۔ بہرکیف دیت یعنی خون بہا چونکہ مقتول کے وارثوں کا حق ہے اس لئے ان کو اس کے معاف کرنے کا حق ہے۔ خواہ کل کا کل معاف کردیں یا اس میں سے کچھ اور بعض کو۔ اور جب وہ اس کو معاف کردیں گے تو بہرحال اس سے اس کی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا (معارف وغیرہ) ۔ کیونکہ صاحب حق نے اس سے اپنے حق کو معاف کردیا۔
238 کافر قوم کو دیت نہیں دی جائے گی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اگر وہ مقتول کسی ایسی قوم سے ہو جو کہ تمہاری دشمن ہے مگر یہ شخص مسلمان ہو تو ایسی صورت میں صرف ایک مسلمان گردن کو آزاد کرنا ہوگا۔ مسلمان اور کافر کے درمیان میراث نہیں چلتی۔ یعنی اس صورت میں اس کے وارثوں کو دیت نہیں دی جائے گی کہ مسلمان اور کافر کے درمیان میراث نہیں چلتی۔ (ابن کثیر، (رح) جامع البیان وغیرہ) ۔ اور جب وہ کفار اور اسلام کے دشمن ہیں تو ان کو مال دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ اسلام کے دشمنوں کی مالی امداد کی جائے جس سے وہ مسلمانوں کیخلاف جنگ لڑیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لئے ایسی صورت میں صرف غلام آزاد کرنا ہی کافی ہوگا۔ خون بہا دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ سو اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز سے اسلام کے دشمنوں کو فائدہ پہنچتا ہو اگرچہ وہ بالواسطہ ہی ہو وہ جائز نہیں۔
239 معاہد قوم کو خون بہا دیا جائے گا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر وہ کسی ایسی قوم سے ہو جس سے تمہارا کوئی معاہدہ ہو تو پھر ایسی صورت میں خونبہا بھی دینا ہوگا جو کہ اس کے وارثوں کے حوالے کیا جائے گا جو اصل میں بدلہ ہوگا ان کے اس حق کا کہ ان کا آدمی قتل کیا گیا ہے۔ اور جب عہد و میثاق کی بناء پر وہ تم سے لڑتے نہیں تو ایسی صورت میں تمہارے اس مال دیت کے تمہارے خلاف استعمال ہونے کا کوئی خدشہ و اندیشہ نہیں۔ اس لئے خون بہا دینے میں کوئی قباحت و حرج نہیں۔ اس لیے ایسی صورت میں مقتول کی دیت اس قوم کے حوالے کردی جائے۔ سو ایسی صورت میں خون بہا بھی دینا ہوگا جو کہ ان غیر مسلم معاہدوں کو ادا کیا جائے گا کیونکہ وہ عہد کی بنا پر مسلمانوں کی طرح حقوق رکھتے ہیں۔
240 قتل معاہد پر غلام آزاد کرنے کا حکم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس صورت میں ایک ایماندار [ غلام یا لونڈی ] کو بھی آزاد کرنا ہوگا۔ اللہ کے حق کے بدلے میں۔ کہ اس کی حرمت کو توڑا گیا ہے۔ پس اس صورت کا حکم بعینہ وہی ہے جو پہلی صورت، یعنی قتل مومن، میں بیان ہوا۔ سو معاہد کے قتل میں بھی قتل مومن کی طرح دیت بھی واجب ہے جو کہ مقتول کے وارثوں تک پہنچائی جائے گی، ان کے حق کے عوض میں اور اس میں ایماندار گردن کو بھی آزاد کرنا ہوگا۔ اللہ کے اس حق کے عوض میں کہ اس نے معاہد کو قتل کیا ہے کہ اللہ نے معاہد کو قتل کرنا بھی اسی طرح حرام کیا ہے جس طرح کہ مومن کو قتل کرنا حرام کیا ہے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو اسلامی حکومت میں ذمیوں کے وہی حقوق ہیں جو کہ مسلمانوں کے ہیں " ہُمْ کَالْمُسْلِمِیْنَ فی الحقوق " (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ یہاں پر یہ فرق بھی ملحوظ رہے کہ اوپر { تحریر رقبۃ } یعنی غلام کو آزاد کرنے کا ذکر پہلے فرمایا گیا اور دیت یعنی خون بہا کا بعد میں۔ جبکہ یہاں پر { تحریر رقبہ } یعنی غلام کی آزادی کا بعد میں اور دیت یعنی خون بہا کی ادائیگی کا پہلے۔ سو اس میں اس بات کا اشارہ پایا جاتا ہے کہ دیت یعنی خونبہا کی ادائیگی میں جلدی سے کام لیا جائے تاکہ نقض عہد کا خدشہ پیدا نہ ہو۔ (محاسن للقاسمی) ۔ بہرکیف قتل معاہد پر خونبہا بھی دینا ہوگا اور ایمان دار گردن کو آزاد کرنا بھی۔
241 غلام باندی نہ ملنے کی صورت میں حکم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر جس کو میسر نہ ہو یا اس بناء پر کہ غلام باندی ہی موجود نہ ہوں، جیسا کہ دور حاضر میں ہے، یا اس بناء پر کہ اس کے پاس اتنی رقم نہ ہو جس سے وہ کسی غلام یا باندی کو خرید سکے، یا کسی اور وجہ سے وہ غلام باندی نہ خرید سکے۔ تو اس کے ذمے لگاتار اور پے در پے دو ماہ کے روزے رکھنے ضروری ہیں۔ یہاں پر " تجد " فعل کا مفعول بہ ذکر نہیں فرمایا گیا تاکہ اس طرح یہ ارشاد عدم وجود کی ان دونوں صورتوں کو عام اور شامل رہے۔ یعنی یہ کہ غلام باندی اس بناء پر دستیاب نہ ہوں کہ ان کا سلسلہ ہی ختم ہوجائے جو کہ اسلام کا اس بارے اصل مقصد ہے۔ اور دوسری صورت یہ کہ ایسے شخص کے پاس اس قدر مال نہ ہو جس سے کسی غلام باندی کو خریدا جاسکے۔ (المنار، المحاسن۔ المراغی وغیرہ) ۔
242 کفارہ قتل کے روزوں میں تتابع شرط ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے شخص کے ذمے روزے ہیں لگاتار دو ماہ کے۔ یہاں تک کہ اگر اس نے انسٹھ روزے رکھنے کے بعد ایک روزہ توڑ دیا تو بھی اس کو ازسر نو پورے روزے رکھنے پڑیں گے۔ (محاسن التاویل، للقاسمی (رح) ) ۔ اگر بیماری کی وجہ سے بھی کوئی روزہ چھوٹ گیا تو یہ روزے دوبارہ رکھنے پڑینگے۔ البتہ عورت کے حیض کی بناء پر اگر یہ تسلسل قائم نہ رہ سکا تو یہ روزے دوبارہ نہیں رکھنے پڑیں گے۔ (معارف از دیوبندی (رح) ) ۔ اور یہ اس لئے کہ قتل خطا کے اس گناہ کی بنا پر اس شخص کو جو میل لگ گئی اس کی صفائی اور ازالے کے لئے اتنی مدت لگاتار روزے رکھنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ مقصد پورا نہ ہوگا۔ (المحاسن وغیرہ) ۔
243 اللہ تعالیٰ کے یہاں توبہ کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں توبہ کے طور پر۔ یعنی یہ احکام تمہارے لیے اس لیے مقرر کیے گئے ہیں کہ تاکہ تمہارے لیے توبہ کا سامان ہوسکے، اور تاکہ اس طرح اس سے ایک طرف تو تمہارے گناہ کی معافی ہو سکے، اور دوسری طرف معاشرے کو امن و سکون کی دولت نصیب ہو سکے۔ اور اللہ پاک کی رحمت و عنایت تمہیں نصیب ہوسکے، اور تمہارے دلوں سے معصیت کی کدورت دور ہوسکے۔ سو اللہ پاک چاہتا ہے کہ تمہارے لئے توبہ کا دروازہ مقرر فرما دے تاکہ اس کے ذریعے تم لوگ توبہ و استغفار کو اپنا کر اس کی طرف رجوع کرسکو اور اس طرح تمہاری تطہیر اور پاکیزگی کا سامان ہو سکے۔ (المنار وغیرہ) ۔ وباللہ التوفیق -
244 اللہ تعالیٰ کی صفت علم و حکمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑا ہی علم والا نہایت ہی حکمت والا ہے۔ پس اس کا ہر حکم وا رشاد کمال علم و حکمت پر مبنی ہے۔ اور اسی میں تمہاری دنیاوی سعادت بھی مضمر ہے، اور اخروی فوز و فلاح بھی۔ کہ اس کا علم بھی کامل ہے اور حکمت بھی اعلیٰ وارفع۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی لیے اس کے کسی حکم و ارشاد کی کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں۔ اس لیے اس کے ہر حکم و ارشاد کو دل و جان سے اپناؤ۔ اور یہ شان صرف اسی وحدہٗ لاشریک کے اوامرو ارشادات کی ہوسکتی ہے۔ اس کے سوا اور کسی کے لئے یہ شان ممکن ہی نہیں۔ اس لئے اس کے کسی بھی حکم و ارشاد سے اعراض و روگردانی ۔ والعیاذ باللہ ۔ دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس کے احکام کو اپنانا سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔
Ayah 4:93245 قاتل متعمد کی سزا ہمیشہ کا جہنم ۔ والعیاذ باللہ : ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اس کی سزا جہنم ہے جس میں اس کو ہمیشہ کے لیے رہنا ہوگا۔ سو یہ اس کے اس فعل شنیع اور سنگین جرم کی اصل سزا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ یہ اس جرم کی اصل سزا ہے۔ اگر اللہ اس کو یہ سزا دے " ھٰذَا جَزَائُ ہ اِنْ جاَزَاہُ- (ابن کثیر، معارف وغیرہ) ۔ یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو یہ سزا ضرور دے گا (المراغی وغیرہ) ۔ بلکہ سچی توبہ پر بغیر سزا بھگتنے کے، دوسرے کبیرہ گناہوں کی طرح وہ اپنے فضل و کرم سے اس کے اس گناہ کو بھی معاف فرما دے گا۔ جیسا کہ دوسری بہت سی نصوص کریمہ سے ثابت ہے کہ مومن ہمیشہ کیلئے دوزخ میں نہیں رہے گا۔ اس لئے جمہور علماء کا کہنا ہے کہ اس آیت کریمہ میں یا تو اصل سزا کا ذکر ہے۔ جیسا کہ ابھی ذکر ہوا۔ یا اس سے مراد مکث طویل ہے نہ کہ خلود و دوام۔ اور یا یہ محمول ہے مستحل قتل پر۔ یعنی یہ سزا اس شخص کیلئے ہے جس نے قتل مسلم کو حلال سمجھ کر کیا ہو کہ اس سے وہ کافر ہوجائے گا اور کافر کے لئے بہرکیف خلودفی النار ہی ہے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، جامع البیان، صفوۃ البیان، مراغی، خازن، اور معارف وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قتل مسلم کا جرم کس قدر ہولناک اور کتنا سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:94246 تحقیق حال کی ضرورت اور اس کا حکم : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ جب تم لوگ اللہ کی راہ میں کسی سفر پر نکلو تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو۔ تاکہ مسلمان اور غیر مسلم کے بارے میں حقیقت حال تمہارے سامنے واضح اور ظاہر ہوجایا کرے۔ اور تم کسی امرمحظور میں پڑنے سے محفوظ رہا کرو۔ سو جب تک تحقیق حال سے اصل صورتحال پوری طرح واضح نہ ہوجایا کرے، اس وقت تک تم لوگ کوئی اقدام مت کرو۔ بہرکیف اس ارشاد سے مسلمانوں کے تحفظ کے پہلو سے یہ خصوصی ہدایت فرمائی گئی کہ جب تم لوگ کسی علاقے پر حملہ کرنے کے لئے نکلا کرو تو اس علاقے کے اندر رہنے والے مسلمانوں کے بارے میں پوری تحقیق کرلیا کرو کہ مسلمان کہاں کہاں اور کس حال میں ہیں تاکہ وہ تمہارے حملے سے محفوظ رہیں۔ اور ان کو خواہ مخواہ تمہاری طرف سے کوئی گزند نہ پہنچنے پائے۔ سو اس سے مسلمانوں کے بارے میں تحقیق حال کی ضرورت اور اس کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ پس بلا تحقیق کوئی قدم اٹھانا درست نہیں ۔ والعیاذ باللہ -
247 کسی سلام کرنے والے کو خواہ مخواہ غیر مسلم نہ سمجھو : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی تم کو سلام کرے تو اس کو مت کہو کہ تو مسلمان نہیں۔ بلکہ توُ تو محض جان و مال بچانے کیلئے اپنے ایمان کا اظہار کر رہا ہے، جیسا کہ صحابہ ٔ کرام کے ایک گروہ سے ایک ایسی فروگزاشت ہوگئی تھی، کہ وہ سفر جہاد میں جا رہے تھے کہ راستے میں بکریوں کے ایک چرواہے نے ان پر اپنا اسلام ظاہر کیا، اور انہیں سلام کیا۔ تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ یہ شخص محض اپنی جان بچانے کیلئے ایسے کر رہا ہے اسے قتل کردیا، اور اس کی بکریوں کو بھی غنیمت قرار دے کرلے آئے۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جیسا کہ کتب احادیث و تفسیر میں مذکور ہے۔ تو اس بارے یہ ہدایت فرمائی گئی کہ اگر کوئی مسلمان اپنے ایمان کی شہادت کے لئے تمہیں سلام کرے، تو تم لوگ مال غنیمت کی طمع میں اس کے ایمان کا انکار نہ کیا کرو، بلکہ اس کو مسلمان ہی سمجھا کرو اور اس کے سلام اور ظاہر حال ہی پر اکتفا کیا کرو کہ تم ظاہر ہی کے مکلف ہو۔
248 مال غنیمت کے طالبوں کے لئے ایک ہدایت : سو ایسے لوگوں کو خطاب کر کے تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ دنیاوی زندگی کا سامان چاہتے ہو۔ سو اللہ تعالیٰ کے پاس بہت غنیمتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے پاس بہت غنیمتیں ہیں اور وہ تمہیں آخرت کے حقیقی اور عظیم اجر کے ساتھ ساتھ دنیا کی بھی بیشمار غنیمتوں سے بھی نوازے گا تو پھر تمہیں چند بکریوں کی اس معمولی اور حقیر غنیمت کی ضرورت ہی کیا ؟ اور اللہ پاک کی ان غنیمتوں کو اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی جان بھی نہیں سکتا۔ اس لیے ہمیشہ اسی پر بھروسہ رکھو اور اسی سے مانگو، سو مال غنیمت کے طالبوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس غنیمتوں کے بڑے ذخیرے ہیں۔ ہمیشہ ان ہی کو پیش نظر رکھا کرو ۔ وباللہ التوفیق -
249 اپنے دور ضعیفی کو یاد کرنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ یاد کرو اس سے پہلے تم خود بھی اسی طرح تھے۔ اپنے ابتدائی دور میں مکہ مکرمہ میں، جہاں تم کمزور و ضعیف اور کفار و مشرکین کے مقابلے میں مجبور و لاچار تھے۔ پس اپنے اس دور ضعیفی کو یاد کرکے تم بھی دوسروں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرو اور ان کے ساتھ سختی مت برتو۔ اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں اس دور ضعیفی سے نکال کر اس قوت و عظمت سے نوازا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اللہ تعالیٰ نے جو تم لوگوں کو دار الاسلام کی آزاد فضاؤں سے نوازا ہے تو اس سے تمہیں کسی احساس برتری میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے خالق ومالک کا شکر گزار رہنا چاہئے۔
250 اللہ کے احسان کی یاددہانی اور اس کی قدردانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ خود بھی پہلے اسی طرح تھے پھر اللہ نے تم پر احسان فرمایا جس کے نتیجے میں تم لوگ قوت، عزت اور کثرت سے سرفراز ہو گیے۔ اور اس نے تمہیں قوت بخشی اور دشمن کے مقابلے میں تمہیں غلبہ اور زور عطا فرمایا۔ پس اس کے اس احسان کو یاد کرکے تم ہمیشہ اس کے شکر گزار بن کر اور اس کے حضور جھکنے والے بن کر رہا کرو، کہ یہ اس خالق ومالک کا تم پر حق بھی ہے اور اس میں خود تمہارا بھلا بھی ہے کہ شکر نعت سے نعمت بڑھتی ہے اور اس میں برکت آتی ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو یہ اس قادر مطلق ہی کا فضل و کرم ہے۔ اور حکم دیا گیا کہ تم لوگوں کو اچھی طرح تحقیق حال کر کے اقدام کرنا چاہئے اور اس ضمن میں کسی لاپرواہی اور سہل انگاری سے کام نہ لو۔ اور اس حقیقت کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھو کہ اللہ تعالیٰ پوری طرح باخبر ہے تمہارے ان تمام کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو۔ اس سے تمہارا کوئی قول و فعل اور تمہاری کوئی حالت اور کیفیت مخفی نہیں رہ سکتی۔ اس لئے ہمیشہ فکرو کوشش اسی کی ہونی چاہئے کہ اس خالق ومالک سے ہمارے ظاہرو باطن کا ہر معاملہ درست رہے ۔ وباللہ التوفیق لما یُحِبُّ ویُرید، وعلٰی ما یُحِبُّ ویُرِیْد وہوالہادی الٰی سَواء السبیل -
251 تحقیق حال کا حکم مکرّر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ تحقیق کرلیا کرو بیشک پوری طرح باخبر ہے تمہارے ان تمام کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو۔ پس تم لوگ تحقیق کرلیا کرو تاکہ ناحق کسی پر دست درازی نہ کر بیٹھو۔ اسی ایک آیت کریمہ میں دو مرتبہ تحقیق کرلینے کا حکم و ارشاد فرمایا گیا تاکہ کسی پر زیادتی نہ ہوجائے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام میں تحقیق حال اور رعایت عدل و انصاف کی اہمیت کس قدر ہے تاکہ کسی پر دست درازی اور زیادتی نہ ہوجائے کہ دین حنیف کسی پر کسی زیادتی کا روادار نہیں ہوسکتا۔ کہ یہ دین فطرت اور دین حق و انصاف ہے۔
Ayahs 4:95–97252 مجاہدین کی فضیلت وشان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت دے رکھی ہے۔ ایک عظیم الشان درجے کے اعتبار سے جو اتنا عظیم الشان ہے کہ اس کی حقیقت اور کنہہ کو پوری طرح جاننا بھی کسی کیلئے ممکن نہیں۔ بلکہ اللہ وحدہ لا شریک ہی اس کی کنہہ اور حقیقت کو جان سکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ (المراغی وغیرہ) ۔ پس یہ تنوین تعظیم کیلئے ہے اور اسی عظیم الشان درجہ میں وہ عزت و اکرام، سچی ناموری، فتح و ظفر، اور مال غنیمت وغیرہ بھی شامل ہے جو مجاہدین کو اس دنیا میں نصیب ہوتا ہے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو اس سے جہاد فی سبیل اللہ کی عظمت شان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کیسی کیسی عظمتوں اور عنایتوں سے نوازنا چاہتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس عدم استواء کی وضاحت فرما دی گئی جو کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں اور بلا عذر جہاد سے بیٹھ رہنے والوں کے درمیان پایا جاتا ہے کہ یہ دونوں گروہ آپس میں کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔
253 ایمان صادق ذریعہ نجات و سرفرازی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ صدق و اخلاص والے مجاہدین اور اصحاب اعذار قاعدین میں سے ہر ایک کیلئے اللہ تعالیٰ نے اچھائی کا وعدہ فرما رکھا ہے۔ یعنی مجاہدین اور ان قاعدین دونوں کیلئے، جو کہ عذر کی بناء پر جہاد میں شریک نہیں ہوسکتے، کہ ایمان و اخلاص، اور صدق نیت میں دونوں فریق برابر ہیں، جیسا کہ غزوہ تبوک کے موقع پر حضور ﷺ ۔ نے اپنے ساتھی مجاہدین سے فرمایا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ہیں تو مدینہ منورہ میں، مگر وہ تمہارے ساتھ اس سفر کے تمام اجر وثواب میں برابر کے شریک ہیں۔ کیونکہ وہ عذر کی بنا پر تمہارے ساتھ شریک نہیں ہوسکے۔ " حَبَسُہُمُ الْعُذْرُ " (بخاری : کتاب التفسیر، سورة النسائ) ۔ نیز جب جہاد میں نکلنا فرض عین نہیں، تو بیٹھ رہنے والے گناہگار بھی نہیں ہوں گے (بیان القرآن) ۔ بہرکیف صدق نیت ایسی عظیم الشان چیز ہے کہ اس کے ساتھ انسان کیلئے کسی بھی صورت میں کوئی محرومی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر حال میں اور ہر کام سے متعلق صدق نیت کی دولت سے نوازے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔ سو ایمان صادق ذریعہ نجات و سرفرازی ہے ۔ والحمد للہ رب العالمین -
254 بلاعذر جہاد سے تخلف باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ بغیر کسی عذر کے بیٹھ رہنے والوں پر مجاہدین کی بڑی فضیلت و فوقیت ہے۔ اس سے مراد وہ بیٹھ رہنے والے ہیں، جو بغیر عذر کے بیٹھ رہے تھے، کہ ان کے مقابلے میں مجاہدین کا اجرو ثواب بہت بڑا ہے۔ ورنہ جو لوگ اعذار مبیحہ میں سے کسی عذر کی بناء پر شرکت جہاد سے محروم رہے ہوں گے، وہ اپنے صدق و اخلاص کی بناء پر مجاہدین کے ساتھ اجرو ثواب میں برابر کے شریک ہوں گے۔ جیسا کہ آیت کریمہ میں { غیْرُ اُولِی الضَّرَرِ } کی قید احترازی سے واضح ہے۔ (ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سو مجاہدین کی شان بہرحال بہت بڑی شان ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کا درجہ و مقام بہت بلند ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ وہ لوگ جو بغیر کسی معقول عذر کے جہاد میں شامل اور شریک نہیں ہوتے وہ ان لوگوں کے کسی بھی طرح برابر نہیں ہوسکتے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال دونوں سے جہاد کرتے ہیں۔
Ayah 4:98260 ضعیفوں اور کمزوروں کی رعایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بجز ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی جو کوئی تدبیر نہیں کرسکتے۔ یعنی ایسے جو کمزور اور بےبس تھے کہ وہ کوئی تدبیر نہیں کرسکتے تھے کفار اور دارالکفر سے نکل بھاگنے کی، اپنی بیماری یا معذوری کی وجہ سے۔ یا اسباب و وسائل کے فقدان کے باعث۔ سو ایسے کمزوروں اور ضعیفوں کا معاملہ مختلف ہے۔ اس لیے ان کا انجام وہ نہیں ہوگا جو دوسروں کا ہوگا۔ سو جن لوگوں کے پاس کوئی مجبوری بھی نہ ہو اور دار الاسلام کی طرف جانے کا راستہ بھی کھلا ہو، پھر بھی وہ دارالکفر سے ہجرت نہ کریں تو ان کے ایمان کا کوئی اعتبار نہیں جیسا کہ ابھی اوپر ایک ہی حاشیہ قبل تفسیر محاسن التاویل کے حوالے سے گزرا۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
261 صحیح راستے کے فقدان کے عذر کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور نہ ہی وہ کوئی راہ پاسکتے ہیں۔ یعنی ایسی راہ جو انہیں دارالامن والسلام تک پہنچا سکے، کہ انہیں نہ تو ایسی کوئی پناہ گاہ میسر ہے اور نہ وہ اس کے صحیح راستے سے واقف ہیں، جس کے بغیر نکلنے کے معنیٰ اپنے آپ کو تباہی میں ڈالنے کے ہیں۔ جیسا کہ عربوں کی قدیم مثل ہے " قَتَلَت الاَرْضُ جَاہِلَہَا " کہ زمین نے اپنے (راستوں کے) ناواقف کو ہلاک کردیا۔ سو اس سے صحیح راستے اور اس کی معرفت کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسی کے ذریعے انسان منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے یہاں راستہ نہ جاننے کو ان کیلئے عذر قرار دیا گیا ہے۔ سو جو کوئی اتنا بےبس اور اس قدر معذور ہو کہ نہ اس سے خود کوئی تدبیر بن آرہی ہو اور نہ ہی اس کے لئے نکلنے بھاگنے کی کوئی راہ کھل رہی ہو تو اس پر اپنے دین و ایمان کی حفاظت تو اگرچہ پھر بھی لازم اور واجب ہے لیکن اس پر ہجرت فرض و لازم نہیں کہ وہ اس کے بس میں نہیں۔ اور جو چیز کسی کے بس میں نہ ہو وہ شرعی طور پر اس کا مکلف نہیں ہوسکتا کہ ضابطہ عام اور قاعدہ کلیۃ بہرحال یہی ہے کہ { لا یکلّفُ اللّٰہ نَفْساً اِلَّاوُسْعَہا } یعنی کسی کو اس کی قدرت وطاقت سے زیادہ مکلف نہیں بنایا جائے گا۔
Ayahs 4:99–100262 مجبوروں اور معذوروں کیلئے معافی کی امید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کے بارے میں امید ہے کہ اللہ ان کو معاف فرما دے ان کی مجبوری، بےبسی اور لاچاری کی بنا پر۔ ورنہ کافروں کے ملک میں اور کافروں کے درمیان اس طرح دب کر رہنا کہ ایک مسلمان اپنے دین پر عمل نہ کرسکے جائز نہیں۔ اور ایسی صورت میں اس پر فرض ہے کہ وہ وہاں سے ہجرت کر جائے۔ اور اس ملک کو چھوڑ دے جہاں وہ اپنے دین کی تعلیمات حقہ پر عمل نہ کرسکتا ہو۔ (معارف للکاندھلوی (رح) ) ۔ سو دین و ایمان کی عظمت و اہمیت سب سے بڑھ کر اہم اور سب پر مقدم ہے کہ دین و ایمان ہی سے انسان کی قدر و قیمت ہے اور اسی سے اس کی دنیا بھی ہے اور آخرت بھی۔ اور اس کے بغیر انسان کی نہ دنیا ہے نہ آخرت۔ اور اس طرح انسان دارین کے ہولناک خسارے میں واقع ہو کر رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
263 اللہ تعالیٰ کی شان عفو و درگزر کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑا ہی معاف کرنے والا، انتہائی درگزر فرمانے والا ہے۔ اور یہ اسی کی شان عفو و درگزر ہے کہ فرض ہجرت کو ترک کرنے کی اس عظیم کوتاہی کو بھی وہ معاف فرما دے۔ ورنہ یہ گناہ فی نفسہ ہے بہت بڑا ہے کیونکہ شریعت مطہرہ اس کی اجازت نہیں دے سکتی کہ مسلمان کافروں کے اندر رہ کر اپنے دین و ایمان کی تباہی و بربادی کو برداشت کرے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس رب غفور و رحیم کی مغفرت اور اس کی رحمت و عنایت کا کوئی کنارہ نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کفر و کفار کے ملک میں اس طرح پڑے رہنا کہ اپنے دین پر آزادی سے عمل بھی نہ کرسکے جائز نہیں (الکشاف، المعارف وغیرہ) ۔ انسان اپنے بس کی حد تک کوتاہی نہ کرے۔ آگے وہ غفور و رحیم معاف کرنے والا ہے۔
Ayah 4:101267 سفر شرعی کیلئے خاص رعایتوں کا اعلان وبیان : جو شرعی اعتبار سے سفر کی تعریف میں داخل ہو، جیسا کہ کتب حدیث و فقہ میں مذکور ہے کہ احکام سفر کا ترتب ایسے ہی خاص سفر پر ہوتا ہے جو کہ شرعی سفر کی تعریف میں آتا ہو۔ اور عربی کلام و محاورے کے مطابق " ضرب فی الارض " کا اطلاق و استعمال ہوتا ہی اس سفر کے لیے ہے جو جہاد فی سبیل اللہ اور تجارت وغیرہ جیسے نیک مقاصد کیلئے ہوتا ہے جبکہ " ضرب فی الارض " کا معنیٰ و مطلب ہوتا ہے کہ اس نے قضائے حاجت کیلئے سفر کیا۔ (فتح القدیر للشوکانی (رح) ) ۔ بہرکیف سفر شرعی کیلئے خاص سہولتیں اور رعایتیں ہیں کہ مومن کا سفر ہوتا ہی نیک مقاصد کیلئے ہے۔ اور انہی اہم رعایتوں میں سے جو کہ سفر شرعی پر دی گئی ہیں ایک سہولت و رعایت ہے نماز رباعی میں قصر کی اجازت۔ جس کا یہاں بیان فرمایا گیا ہے۔ یہاں پر ارشاد فرمودہ { لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ } کے الفاظ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ سفر کی حالت میں نماز کے قصر کی یہ اجازت ایک رخصت اور عایت ہے۔ سو اس اعتبار سے اس کو پورا پڑھنا افضل و بہتر ہے
268 سفر میں قصر صلوٰۃ کی اجازت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے میں " تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنی نمازوں میں کمی کرو " اور ان رباعی نمازوں میں چار کی جگہ دو رکعت پڑھو۔ اور سنتیں سفر میں نفل کے حکم میں ہو جائینگی۔ اگر فرصت و موقع ہو تو پڑھ لو ورنہ کوئی حرج نہیں۔ یہ قول جمہور مفسرین کا ہے کہ اس آیت کریمہ میں قصر صلوۃ سے مراد فرض نمازوں میں قصر رکعات ہے، جبکہ بعض حضرات کے نزدیک اس کا تعلق صلوٰۃ خوف سے ہے ۔ وَالْتّفْصِیْلُ فِی الْمُطَوَّلَات ۔ البتہ اتنی بات یہاں پر واضح رہنی چاہئے کہ اس میں قید نہیں کہ یہ آیت نازل تو بلا شبہ سفر جہاد سے متعلق ہی ہوئی ہے جیسا کہ سباق و سیاق سے ظاہر ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حکم صرف سفر جہاد ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ اور سفر خواہ کوئی بھی ہو اس میں فی الجملہ تعب و تکلیف آیا ہی کرتی ہے اور فکر سامان وغیرہ دامن گیر رہتی ہی ہے۔ اس لئے سفر بحییثت سفر تخفیف اور رعایت کا متقاضی ہے۔
269 خوف کی قید واقعی ہے نہ کہ احترازی : سو کافروں کے ستانے کے خدشے کی یہ قید احترازی اور شرط نہیں، بلکہ یہ بیان واقع کے طور پر ہے، کہ اس زمانے میں بالعموم سفر ایسے ہی ہوتے تھے۔ اس لئے امن کی حالت میں قصر کے جواز پر جمہور علماء و مفسرین اور ائمہ کرام کا اجماع ہے اور سنت صحیحہ میں اس کی تصریح موجود ہے، جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت عمر ؓ اور حضرت انس ؓ وغیرہ صحابہ کرام سے مروی و منقول ہے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، معارف وغیرہ) ۔ چناچہ حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اب ہم قصر کیوں کرتے ہیں جبکہ ہم امن وامان سے ہیں ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک صدقہ ہے جو اللہ نے تم پر فرمایا ہے۔ پس تم اس کو قبول کرو، (ابن کثیر، محاسن التاویل وغیرہ) کہ کافر تمہارے ایسے کھلے دشمن ہیں کہ تمہارے خلاف کھلم کھلا جنگ کرتے اور ہر طرح سے تمہارے نقصان کے در پے ہیں۔ اس بناء پر وہ موقع کی تاک میں ہوتے ہیں۔ سو اس ارشاد سے ایک طرف تو نماز کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے کہ عین جنگ کی حالت میں بھی وہ معاف نہیں اور دوسری طرف دشمنوں سے محتاط اور چوکنا رہے کہ تعلیم بھی ہے۔ تاکہ وہ کسی موقع پر اپنے مذموم مقاصد کیلئے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
270 کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں : یہاں تک کہ اپنی اسی پکی اور کھلی دشمنی کی بنا پر ان کے یہاں نماز جیسی مقدس عبادت کا بھی کوئی پاس و احترام نہیں اور اس حالت میں بھی وہ اپنی ایذا رسانی اور شرانگیزی سے چوکنے والے نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس لیے تم لوگوں کو اے مسلمانو ! ایسے دشمنوں سے ہوشیار اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ اور اسی بناء پر تم کو خاص احکام و ہدایات سے نوازا گیا ہے کہ کافر تمہارے ایسے کھلے دشمن ہیں کہ تمہارے خلاف کھلم کھلا جنگ کرنے اور تمہیں پوشیدہ طور پر نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ اس لئے وہ تمہیں نقصان پہنچانے کیلئے ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ پس تمہیں ہر وقت ان سے محتاط رہنے اور ان کے ساتھ مقابلہ کے لئے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ سو اس ارشاد سے ایک طرف تو فریضہ نماز کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے کہ وہ عین حالت جنگ میں بھی معاف نہیں اور دوسری طرف دشمنوں سے ہمیشہ محتاط اور چوکنا رہنے کی ضرورت و اہمیت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ وہ ہر وقت تاک میں رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:102271 " اذا کنت فیہم " کا مطلب ؟ : یعنی آپ اے پیغمبر بذات خود ان کے اندر موجود ہیں۔ اسی سے امام ابو یوسف (رح) وغیرہ بعض ائمہ کرام نے کہا ہے کہ یہ نماز آنحضرت ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔ آپ ﷺ کے بعد یہ کسی کیلئے بھی روا نہیں کیونکہ جو مرتبہ و مقام آپ ﷺ کا ہے، ظاہر ہے کہ وہ اور کسی کا نہیں ہوسکتا۔ (فتح القدیر وغیرہ) ۔ اس لئے یہ نماز آپ ہی کے ساتھ خاص ہے۔ مگر جمہور کے نزدیک یہ نماز آپ ﷺ کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ آپ کے بعد ہر مقتدا و پیشوا کا یہی حکم ہے۔ بہرکیف اس سے اہل بدعت کے حاضر و ناظر کے اس شرکیہ عقیدے کی جڑ بھی کٹ جاتی ہے جو انہوں نے عقل و نقل کے خلاف ازخود گھڑ رکھا ہے۔ اور سلف و خلف کے تمام ثقہ علمائے حق کا اس خانہ ساز شرکیہ عقیدے کے بطلان پر اتفاق ہے۔ یہ صرف برصغیر کے اہل بدعت کی اور وہ بھی بنیادی طور پر غلامی اور استعمار کے دور کی ایجاد و اختراع ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ ابن عیاش الزرقی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عسفان کے مقام پر تھے تو ہمارا سامنا مشرکین کے ایک گروہ سے ہوگیا، جو کہ حضرت خالد بن ولید کی قیادت میں ہمارے اور ہمارے قبیلے کے درمیان حائل و موجود تھا۔ تو حضور ﷺ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی۔ تو مشرکین نے کہا کہ یہ بڑا اچھا موقع تھا کہ ہم اس حالت میں ان پر ٹوٹ پڑتے۔ پھر انہوں نے کہا کہ ابھی ان کی ایک اور ایسی نماز آرہی ہے جو ان کو اپنی اولادوں اور اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ یعنی نماز عصر۔ تو اس موقع پر ہم اپنا داؤ چلائیں گے۔ تو اس پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں اور مسلمانوں کو نماز خوف کی اجازت دی گئی، جس سے مشرکین کو اور بھی زیادہ ذلت اٹھانا پڑی۔ (احمد (رح) ، بیہقی (رح) ، حاکم (رح) ) ۔ سو اس سے ایک طرف تو نماز کی اہمیت و عظمت کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ فریضہ نماز ایسے سخت حالات میں بھی معاف نہیں اور دوسری طرف یہ بھی کہ احکام شریعت میں مسلمانوں کے احوال و ظروف کی کس طرح رعایت رکھی گئی ہے ۔ فالحمدللہ ۔ بہرکیف خوف کی ایسی خاص حالت میں تمہارے لئے اس طریقہ نماز کو مشروع کیا گیا تاکہ اس طرح نماز با جماعت کے قیام نبی ﷺ کی اقتداء اور دشمن کے دفاع کے تینوں تقاضے پورے ہو سکیں اور تم سرفراز و سرخرو ہو سکو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
272 نماز خوف کی اجازت : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ چونکہ دشمن کی طرف سے یہ خوف و خدشہ موجود ہے اس لئے تم لوگوں کو اپنے ان دشمنوں سے بہرحال ہوشیار اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اور اسی بناء پر تمہارے لئے صلوٰۃ خوف کو مشروع کیا گیا تاکہ ان کو تمہارے خلاف ایسی کسی شرانگیزی کا موقع نہ مل سکے۔ اور اس نماز میں تمہاری آمدروفت وغیرہ حرکات وغیرہ سے بھی کوئی اثر نہیں پڑتا، تاکہ اس طرح تم فریضہ نماز کی ادائیگی سے بھی سرفراز ہوسکو۔ اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد سے بھی بہرہ ور ہوسکو اور دشمن کی شرانگیزی سے بھی محفوظ رہ سکو۔ رہ گئی یہ بات کہ اس صورت میں مقتدیوں اور امام کی نماز کی رکعتوں کی تعداد کیا ہوگی ؟ تو اس کی پوری تفصیل اس آیت کریمہ سے واضح نہیں ہوتی۔ حضرات فقہائے کرام کی اس بارے مختلف آراء جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں مسطور و مذکور ہے یہاں اس کی گنجائش نہیں۔ اس بارے تفصیلات کو جاننے کیلئے کتب فقہ کی طرف رجوع کیا جائے۔
273 بھاری اسلحہ سے سبکدوشی کی اجازت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم پر کوئی حرج اور گناہ نہیں اس بات میں کہ تم [ ضرورت سے زائد ] اپنا اسلحہ اتار کر رکھ دو اگر تم کو کوئی تکلیف ہو بارش [ وغیرہ ] کی وجہ سے یا تم بیمار ہوؤ۔ اور بھاری اسلحہ اٹھانا تمہیں مشکل ہوجائے تو ایسی صورت میں تمہارے لئے یہ رخصت ہے کہ تم ہتھیار نہ اٹھاؤ۔ تاکہ اس طرح بھاری بوجھ سے تم سبکدوش ہوسکو اور تمہیں خواہ مخواہ کی مشقت اور مشکل سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ { اَنْ تَضَعُوْا اَسْلِحتَکُمْ } کا یہ ارشاد حضرت عبدالرحمن بن عوف کے بارے میں نازل ہوا جو کہ زخمی تھے۔ (صحیح بخاری، کتاب التفسیر سورة النساء) بہرکیف یہ حکم ہر صاحب عذر کے لئے عام ہے۔ وہ جو بھی کوئی ہو اور جہاں بھی کہیں ہو۔
274 بچاؤ کا سامان بہرحال اپنائے رکھنے کی ضرورت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ضرورت کے مطابق حفاظت اور بچاؤ کا سامان۔ پھر بھی لیے رہا کرو تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ تمہارے کام آسکے کہ دشمن کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس لیے ایسے مشکل وقت میں تمہیں زائد از ضرورت اور بھاری اسلحہ رکھ دینے کی تو اجازت ہے لیکن ضرورت کا سامان اور ہلکا اسلحہ پھر بھی رکھا کرو تاکہ دشمن ایسی کسی حالت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تم پر اچانک نہ ٹوٹ پڑے۔ سو بچاؤ اور ضرورت کے مطابق ہلکا اسلحہ ہر وقت اور ہر حال میں تمہارے پاس رہنا چاہئے کہ حزم و احتیاط کا تقاضا یہی ہے۔ پس تمہیں اپنے معاملے میں سستی اور لاپرواہی کبھی نہیں برتنی چاہئے ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یُحِب وَیُرِیْد ۔ وہُوا الہادی الی سواء السبیل ۔ سو مومن صادق کا دل کا بھروسہ تو اگرچہ ہمیشہ اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی پر ہوتا ہے لیکن حسب ضرورت و موقع دفاع اور اپنے بچاؤ کیلیے ضروری ہتھیار ساتھ ہونے چاہئیں کہ یہ دنیا ہے ہی دار الاسباب ہے جس میں ہر چیز اسباب ہی سے وابستہ و مربوط ہے۔
275 کافروں کیلئے رسوا کن عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کافروں کے لیے بڑا ہی رسوا کن عذاب ہے۔ جو دنیا میں بھی ان کو قتل و قید، اور مسلمانوں کے غلبہ وا ستیلاء کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے، اور آخرت میں بھی ان کو دوزخ کے دائمی عذاب کی صورت میں ہمیشہ کیلئے بھگتنا پڑے گا، چونکہ ان لوگوں نے استکبار یعنی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں حق سے منہ موڑا تھا، اس لئے اس کے بدلے میں ان کو اس عذاب مہین یعنی رسوا کن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا کہ جزا جنس عمل میں سے ہوتی ہے۔ جیسا کوئی کرے گا ویسا ہی بھریگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جب تم لوگ اپنے ایمان و یقین میں پختہ اور اپنے عمل و کردار میں سچے ہوؤ گے، تو اللہ تعالیٰ کی تائید و عنایت اور اس کی نصرت و حمایت تمہارے ساتھ ہوگی اور جب اس کی تائید و نصرت تمہیں حاصل ہوگی تو وہ تمہیں ان پر غلبہ و تسلط عطاء فرمائے گا اور ان کو ذلیل و رسوا کریگا۔ اس لیے اس کا اہتمام ہمیشہ اور ہر حال میں رکھنا چاہئے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 4:103276 ہر حال میں ذکر الہٰی کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کیا کرو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے۔ یعنی ہر حال میں ذکر الہی اور یاد خداوندی سے سرشار رہنا چاہیئے کہ اللہ پاک کا ذکر اور اس کی یاد دلشاد دلوں کی قوت اور عزم و ہمت کی مضبوطی کا باعث ہے۔ اس لئے عین معرکہ میں بھی اس کا حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ سورة انفال میں فرمایا گیا { اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلََّکُمْ تُفْلِحُوْنَ } (الانفال : 45) اب دیکھئے جہاد کے موقع پر قرآنی تعلیمات کیا ہیں، اور آج کے مسلمان کا عمل کیا ہے۔ وہ جب اس موقع پر بھی غیر اللہ کو پکارتا، عاجز مخلوق سے مدد مانگتا، طرح طرح کے شرکیہ نعرے لگاتا اور فاحشہ عورتوں کے رزمیہ گانے سن کر قوت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اللہ کی مدد آئے تو کیسے آئے ؟ سو اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت و عنایت سے سرفرازی کے لئے اللہ پاک کا ذکر اور اس کی یاد دلشاد اصل بنیاد ہے۔
277 نماز کی فرضیت مقررہ اوقات میں : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک نماز ایمان والوں پر فرض ہے مقررہ وقتوں میں۔ پس نماز کے اس مقدس فریضہ کو تم لوگ اس کے مقررہ وقتوں ہی میں ادا کرنے کی پابندی اور اس کا التزام کرو۔ تاکہ اس طرح تم لوگ اس وحدہ لاشریک کی رحمتوں، برکتوں، اور عنایتوں سے ہر حال میں مستفید و فیضیاب ہوتے رہو کہ ذکر الہٰی دارین کی سعادت و سرخروئی کیلئے شہ کلید ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ پس ان مقررہ وقتوں سے اس کی تقدیم و تاخیر جائز نہیں۔ اور امر واقع جو تجربہ سے ثابت ہے یہی ہے کہ نماز کو اس کے مقرر وقتوں میں ادا کرنے سے اوقات میں خاص برکت نصیب ہوتی ہے۔ اور اس میں لاپراوہی برتنے سے وقت کی دولت کا بڑا حصہ ضیاع کا شکار ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جس طرح ہر کام کو اس کے اصل اور صحیح وقت میں ہی ادا کرنے سے اس کے صحیح فوائد و منافع حاصل ہوسکتے ہیں اسی طرح نماز کی خیرات و برکات سے صحیح طریقے سے اور پورے طور پر مستفید و فیضاب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ان کو پورے التزام اور پابندی کے ساتھ ان کے انہی مقررہ اوقات ہی میں ادا کیا جائے جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے ان کے لئے مقرر فرمائے گئے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یُحِبُّ وَیُرِید وعلیٰ مَا یُحِبُّ وَیُرِیدُ وَہُوَ الْہادِیْ الیٰ سَوائ السبیل -
Ayah 4:104278 دنیا میں تکلیف سب ہی کو پہنچتی ہے : مومن کو بھی اور کافر کو بھی۔ سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو کیا ہو وہ بھی تو تکلیف اٹھاتے ہیں جیسے تم اٹھاتے ہو کہ قتل ہوتے ہیں، زخمی ہوتے ہیں، طرح طرح کی مشقتیں اٹھاتے ہیں، حالانکہ نہ انہیں کوئی اجر، نہ ثواب، کہ وہ کفر و باطل پر ہیں۔ سو کافر کی تکلیفیں رائیگاں، بےمقصد اور بیکار جاتی ہیں۔ نہ اس کو ان کا کوئی اجر نہ ثواب، نہ صلہ نہ نتیجہ سوائے محرومی اور نقصان و خسران کے۔ جبکہ مومن کو اس کی ہر تکلیف اور مصیبت پر اجر وثواب ملتا ہے۔ اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور ایسی ہر تکلیف اس کیلئے مغفرت سیئات اور رفع درجات کا ذریعہ بنتی ہے۔ سو مومن کیلئے کسی بھی صورت میں ناکامی ہی نہیں جبکہ کافر کیلئے ناکامی ہی ناکامی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و انکار دارین کی محرومی کا باعث اور ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ فَزِدْنَا اَللّٰھُمَّ اِیْمَانًا وَّیَقِیِْناً -
279 اہل ایمان کی امتیازی شان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تکلیف تو تم لوگوں کو بھی پہنچتی ہے اور ان کو بھی مگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کے یہاں سے ان چیزوں کی امید اور توقع رکھتے ہو جن کی وہ نہیں رکھتے۔ سو ایمان والوں کی شان بڑی عظیم ہے۔ کہ ان کی ہر حالت خیر ہی خیر ہے اور یہ شان اہل ایمان کے سوا اور کسی کی نہیں ہوسکتی۔ سو تم امید رکھتے ہو کہ دنیا میں فتح و نصرت، سچی عزت و ناموری، اور دین حق کی عظمت و سربلندی نصیب ہوگی اور آخرت میں جنت کی ان سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی، جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل پر ان کا گزر ہی ہوا۔ پس تمہیں تو ان لوگوں سے کہیں بڑھ کر صابر اور ثابت قدم ہونا چاہیئے، کہ تمہاری کوئی تکلیف بھی کسی طرح سے رائیگاں نہیں جاتی بلکہ تمہارے لیے اجر وثواب کا ذریعہ بنتی ہے۔ اور اس طرح تمہاری تکلیفیں تمہارے لیے کمائی کسب خیرات و برکات کا ذریعہ و وسیلہ بنتی ہیں۔ اور اس طرح مومن کی زندگی ایک پرامید اور باغ و بہار زندگی بن جاتی ہے اور یہ ایک نقد انعام ہوتا ہے جو مومن صادق کو اسی دنیا میں نصیب ہوتا ہے ۔ فالحمد للہ جل وعلا -
Ayah 4:105280 اللہ کی دکھلائے کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فیصل اللہ کے دکھلائے کے مطابق ہی کرو : سو آپ فیصلہ اسی کے مطابق کرو جو اللہ آپ کو دکھلائے صراحتا یا اشارہ و کنایہ کے انداز میں۔ بہرکیف وہ جس طرح بھی آپ کو دکھائے اسی کے مطابق آپ لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں، تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ سو اس کتاب حکیم کے اتارنے کی اصل غرض وغایت یہی ہے کہ آپ اس کے مطابق اور اس رائے کی روشنی میں جو اللہ آپ کو دکھائے لوگوں کے درمیان بغیر کسی رو رعایت کے فیصلہ فرمائیں۔ روایات میں ہے کہ طعمہ بن ابیرق نامی ایک منافق نے ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں اپنے ایک پڑوسی کا کچھ سامان چرا کر بڑی چالاکی کے ساتھ اسے ایک یہودی کے ذمے لگا دیا۔ پھر یہودی کی جوابی نشاندہی کے بعد جب اس سے پوچھ گچھ کا موقع آیا تو اس کی قوم بنو ظفر نے بڑے زور وشور سے اس کی صفائی بیان کی اور اسے بےقصور ٹھہرا دیا۔ اس کے مطابق آنحضرت ﷺ نے اس کی براءت فرما دی۔ اور دوسری روایت کے مطابق اس کی براءت کا ارادہ فرمایا، تو اس پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں جن سے حقیقت حال بھی واضح ہوگئی اور اسلامی قانون کی یہ عظیم اور ابدی دفعات بھی امت مسلمہ کو نصیب ہوگئیں ۔ والحمد للہ رب العالمین -
281 خیانت کرنے والوں کی طرفداری کرنے سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑنے والا نہیں بننا۔ جیسا کہ طعمہ بن ابیرق کے اس کیس میں لاعلمی سے ایسے ہوگیا تھا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ کسی معاملہ میں فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے بارے میں صحیح علم حاصل کرنا نہایت ضروری امر ہے تاکہ نہ کسی کی حق تلفی ہونے پائے اور نہ کسی خائن کی طرف داری کی نوبت آئے۔ نبی معصوم ﷺ کو تو اللہ پاک وحی کے ذریعے آگہی بخشتا اور اس کی حفاظت فرماتا ہے۔ اور باقی کسی کو یہ شرف نصیب ہو نہیں سکتا۔ اس لئے ایسے تمام ذمہ دار لوگوں کو ایسے معاملات میں پوری پوری چھانٹ پھٹک کر لینی چاہیئے۔ طعمہ بن ابیرق کے اس قصے سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ پیغمبر نہ تو عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل۔ جیسا کہ ہمارے یہاں کے اہل بدعت کا کہنا ہے۔ سو اس طرح کے قصوں اور واقعات سے ان لوگوں کے اس طرح کے خود ساختہ عقیدوں کی جڑ کٹ جاتی ہے، کیونکہ اگر پیغمبر عالم غیب اور مختار کل ہوتے تو نہ ایسی صورتحال پیدا ہوتی اور نہ ہی اس پر آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے اس طرح کی تنبیہات فرمائی جاتیں ۔ صَلَوَات اللّٰہ وَسَلَامُہٗ عَلَیْہِ-
Ayah 4:106282 پیغمبر کا استغفار ان کے مقام رفیع کے مطابق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بخشش مانگو اللہ سے۔ بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ یعنی آپ اے پیغمبر اس قسم کی باتوں سے استغفار کریں جو اگرچہ گناہ نہیں صرف خلاف اولیٰ قسم کی ہیں، مگر آپ ﷺ کی شان رفیع کے اعتبار سے یہ بھی بڑی چیز قرار پا جاتی ہیں۔ اس لیے آپ ﷺ اس پر استغفار کریں۔ امام ابن جریر طبری (رح) اس کی تفسیر میں کہتے ہیں " اِنَّ الْمَعْنی اِسْتَغفِر اللّٰہَ مِنْ ذَنْبِکَ فِیْ خِصَامِکَ لِلْخَائِنِیْنَ " سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتا ہے نہ مختار کل۔ کیونکہ اگر ایسے ہوتا تو آپ ﷺ ایسے خلاف اولیٰ قسم کے کاموں کا بھی ارتکاب نہ کرتے، اور نہ ہی آپ ﷺ کو استغفار کا حکم دیا جاتا کہ استغفار اور اختیار کلی کے درمیان تضاد اور منافات ہے۔ اور صحیحین وغیرہ کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے اس کی مزید توضیح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ لوگو آگاہ رہو کہ میں ایک بشر اور انسان ہوں۔ میں جیسا سنتا ہوں اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص زیادہ تیز طرار ہو اور میں اس کی حجت بازی کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ کروں۔ سو یاد رکھو اگر میں نے کسی کے حق میں اس طرح کا کوئی فیصلہ کردیا تو اس سے وہ چیز اس کیلئے حلال نہیں ہوجائے گی بلکہ وہ اس کیلئے آگ کا ٹکڑا ہوگا۔ اب اس کی مرضی ہے کہ وہ اس کو لے لے یا چھوڑ دے۔ (بخاری کتاب المظالم، باب اثم من خاصم فی باطل و ہو یعلمہ) اب دیکھیے پیغمبر اپنے بارے میں خود کیا ارشاد فرماتے ہیں اور یہ لوگ کیا کہتے ہیں۔
Ayah 4:107283 برائی کا ارتکاب خود اپنی جان پر ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان لوگوں کی طرف سے مت لڑو جو خیانت کرتے ہیں خود اپنی جانوں سے کہ اس کا وبال خود انہی پر پڑے گا۔ سو جو کوئی خیانت یا کوئی اور برائی کرتا ہے تو وہ اصل میں اپنے ہی خلاف کرتا ہے مگر وہ اس کو سمجھتا نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اسکا بھگتان بہرحال خود اسی کو بھگتنا ہوگا۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور اس کے بعد آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے لوگوں کی خیانت سے خدا یا اس کے رسول کا کچھ نہیں بگڑتا۔ نقصان خود انہی لوگوں کا ہے جو خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں لیکن ان کو یہ حقیقت نظر نہیں آتی اور یہ اس کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اور جو بیمار اپنے آپ کو بیمار بھی نہ سمجھے اس کی محرومی اور بدبختی کا کیا ٹھکانا ہوسکتا ہے۔ نیز ایسے لوگ اپنے ضمیر کی نگاہوں میں بھی مجرم ہوتے ہیں اور یہ جانتے ہوتے ہیں کہ یہ سامنے کیا کرتے ہیں اور پیٹھ پیچھے کیا کرتے ہیں کہ انسان سے اس کی اپنی کوئی حالت و حرکت پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔