Ayah 4:126322 کائنات سب کی سب اللہ ہی کی ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آسمان و زمین کی اس پوری کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے۔ خلق کے اعتبار سے بھی، کہ خالق سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اور ملک کے اعتبار سے بھی کہ مالک حقیقی بھی سب کا وہی ہے۔ اور ملک یعنی حکومت اور بادشاہی کے اعتبار سے بھی کہ سب پر حکومت و بادشاہی بھی اسی وحدہ لاشریک کی ہے۔ اور تصرف کے اعتبار سے بھی کہ اس کائنات میں جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے یا آئندہ ہوگا وہ سب اسی وحدہ لاشریک کے حکم سے اور اسی کی مشیئت کے مطابق ہو رہا ہے۔ پس غلط اور سراسر غلط ہیں وہ لوگ جنہوں نے ازخود اللہ پاک کی زمین کے طرح طرح کے ناموں سے حصے بخرے کر رکھے ہیں اور بغیر کسی دلیل و سند اور بدوں کسی حجت و برھان کے انہوں نے ان کو اپنے طور پر مختلف ناموں سے بانٹ رکھا ہے۔ اور کسی کو انہوں نے " داتا کی نگری " کسی کو " خواجہ اجمیر کی نگری "، کسی کو " پیر بابا کا علاقہ " اور کسی کو کسی اور کا ایریا قرار دے رکھا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ فَاَنّٰی لَہُمْ ذَالِکَ وَعَلٰی اَیّ اَسَاسٍ مِنَ النَّقْل وَالعَقْل ۔ بہرکیف اس ارشاد سے { مَنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلَّہِ } کی علت بیان فرما دی گئی ہے کہ جب آسمانوں اور زمین کی اس ساری کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے۔ وہی اس ساری کائنات کو چلا رہا ہے اور اسی نے اس پوری کائنات کو اپنے علم اور اپنی قدرت کے اعتبار سے احاطے میں لے رکھا ہے۔ اس لئے وہی اس لائق ہے کہ ہر کوئی اپنی ذات کو اس کے حوالے کر دے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 4:127323 یتیم و بےسہارا عورتوں کے بارے میں حکم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں سے کہو کہ اللہ تم کو اجازت دیتا ہے ان عورتوں کے بارے میں اور وہ جو تم لوگوں پر پڑھا جاتا ہے اس کتاب میں ان یتیم عورتوں کے بارے میں جن کو تم لوگ ان کا مقرر کردہ حق نہیں دیتے اور ان سے نکاح کی خواہش بھی رکھتے ہو۔ اور اس طرح وہ مظلوم اور بےسہارا عورتیں ظلم اور زیادتی کا شکار ہوتی ہیں، جیسا کہ ام المومنین حضرت عائشہ ۔ ؓ ۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی کی سرپرستی میں کوئی یتیم بچی رہ جاتی تو وہ اس پر کپڑا ڈال دیتا۔ جس کے بعد اس کو اور کوئی نہیں لے سکتا تھا۔ اب اگر وہ خوبصورت ہوتی تو وہ سرپرست اس کے ساتھ نکاح بھی کرلیتا اور اس کا مال بھی ہڑپ کرجاتا۔ اور اگر وہ خوبصورت نہ ہوتی تو اس سے نہ وہ خود نکاح کرتا اور نہ کسی اور کو ایسا کرنے دیتا یہاں تک کہ وہ مرجاتی تو اس کے مال پر یہ شخص قبضہ کرلیتا۔ تب اسلام کی ان رحمتوں بھری تعلیمات نے آ کر ان مظالم پر روک لگائی اور ان مظلوم عورتوں کو ان مظالم سے نجات دلائی۔ (بخاری کتاب التفسیر، ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، روح المعانی، وغیرہ) ۔ یہاں پر { تَرْغَبُوْنَ } کے جملے میں دو احتمال ہیں اور دونوں ہی صحیح اور علی سبیل البدل دونوں ہی مقصود و مراد ہوسکتے ہیں۔ اور یہ اس لئے کہ { تَرغَبُوْنَ } جو کہ " رَغبْۃ " سے ماخوذ و مشتق ہے، اس کا صلہ یہاں پر مذکور نہیں ہے۔ اور اس کا صلہ " عن " بھی آتا ہے اور " فی " بھی۔ پہلی صورت میں اس کا معنی ہوگا اعراض کرنا، منہ موڑنا، اور رغبت نہ رکھنا وغیرہ۔ اور یہی مروی و منقول ہے ام المومنین حضرت عائشہ ۔ ؓ ۔ سے اور اسی کو اختیار کیا ہے حضرت تھانوی نے اپنی تفسیر بیان القرآن میں۔ اور دوسری صورت میں جبکہ اس کا صلہ " فی " ہو تو اس صورت میں اس کا معنی ہوگا چاہنا رغبت کرنا، اور شوق رکھنا۔ اور اسی کو اختیار فرمایا ہے حضرت شیخ الہند (رح) نے اپنے ترجمہ میں۔ اور اسی کو ہم نے بھی اختیار کیا ہے اپنے ترجمے میں۔ اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں ہی مطلب صحیح اور درست ہیں اور یہ دونوں ہی صورتیں زمانہ جاہلیت کے اس جاہلی معاشرے میں موجود و مروج تھیں۔ اور یہ دونوں ہی ظلم و زیادتی کی عکاس و آئینہ دار تھیں۔ کیونکہ اگر کسی عورت کے پاس مال اور جمال دونوں ہوتے تو وہ لوگ اس سے نکاح کی رغبت رکھتے اور نکاح کرلیتے تاکہ عورت بھی مل جائے اور مال بھی۔ لیکن اس کا حق مہر وغیرہ وہ لوگ صحیح طور پر اس کو ادا نہ کرتے۔ اور اگر کسی عورت کے پاس مال تو ہوتا مگر جمال نہ ہوتا، تو وہ اس سے نکاح کی رغبت بھی نہ رکھتے اور اس کو اس کی بھی اجازت نہ دیتے کہ وہ اپنی خواہش ومرضی کے مطابق کسی اور شخص سے نکاح کرلے، تاکہ اس کا مال ان کے ہاتھ سے نہ نکلنے پائے۔ تو اسلام نے اس ظلم و زیادتی کیخلاف قدغن لگا کر عورتوں کو اس طرح کی زیادتیوں سے ہمیشہ کیلئے نجات دلا دی۔ چونکہ یہ دونوں مطلب صحیح اور اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ اس لئے حضرت سعید بن جبیر نے دونوں ہی کو اختیار فرمایا ہے اور چونکہ ان دونوں مفہوموں کے درمیان کوئی اختلاف و تضاد بھی نہیں، اس لئے یہ لبس و التباس کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ یہ اجمال اور جامعیت کا عکاس و آئینہ دار ہے۔ (محاسن التاویل للعلامہ محمد جمال الدین القاسمی الدمشقی (رح)) ۔ بہرکیف اس آیت کریمہ سے ایک طرف تو اس حکم اور ارشاد کی وضاحت فرما کر شروع والی آیت کریمہ سے متعلق ابہام کو رفع فرما دیا گیا اور اس بارے کیے جانے والے سوالات کا جواب بھی ارشاد فرما دیا گیا۔ اور دوسری طرف صنف نازک کو اس ظلم سے ہمیشہ کیلئے نجات دلا دی گئی ۔ فالحمد للہ رب العالمین -
324 بےسہارا بچوں کی حق تلفی سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نیز وہ حکم ان بچوں کے بارے میں ہے جو بےسہارا ہیں کہ ان کا حق نہیں مارنا، جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ہوا کرتا تھا، کہ بچوں اور عورتوں کو میراث سے محروم کردیا جاتا تھا، کہ وہ نہ کچھ کما سکتے ہیں اور نہ ہی دشمن کے مقابلے میں دفاغ کرسکتے ہیں۔ اور جاہلیت کے ان علمبرداروں کا یہ کہنا اور ماننا تھا کہ وراثت کا حقدار وہی ہوسکتا ہے جو کما کر لاسکتا ہو اور جو دشمن کا مقابلہ کرسکتا ہو، اس لیے عورتوں اور بچوں وغیرہ کو حق میراث سے محروم کردیا جاتا تھا۔ سو دین حنیف نے اپنی رحمت بھری تعلیمات مقدسہ سے ایسے تمام مظالم اور حق تلفیوں کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کردیا ۔ فالحمدللہ رب العالمین ۔ سو { وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ } کا عطف { یَتَامَی النِّسَائ } پر ہے۔ یعنی یہ ارشاد یتیم عورتوں اور ان کمزور بچوں کے حق میں ہے جو بےسہارا ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں بچوں کو میراث کے حق سے محروم کردیا جاتا تھا۔ جیسا کہ عورتوں کو محروم کردیا جاتا تھا۔ کیونکہ ان لوگوں کا کہنا جیسا کہ ابھی اوپر گزرا یہ تھا کہ میراث کے حقدار وہی مرد ہوسکتے ہیں جو کہ لڑنے بھڑنے، کما کا لانے اور دشمن کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوں۔ لہٰذا " الرَّجَال القَوَّام "۔ یعنی طاقتور مرد ہی میراث کے حقدار ہوسکتے ہیں۔ سو اسلام نے اس ظلم کا خاتمہ کردیا اور ہر صاحب حق کو اس کا حق دیا۔ خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت، مقرر کردہ حصہ کے مطابق۔
325 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو بھی کوئی نیکی تم لوگ کرو گے تو یقینا اللہ اس کو پوری طرح جانتا ہے کہ کب کی، کہاں کی، کن حالات میں کی، اور کس نیت و ارادہ سے کی۔ اس کے مطابق وہ تمہیں اس کی جزاء سے نوازے گا۔ پھر تمہیں پرواہ کیا ہے کہ رب کریم تمہاری نیکیوں کو اس طرح محفوظ رکھتا ہے۔ پس ہمیشہ اس وحدہ لاشریک کے ساتھ اپنے دل کا معاملہ صحیح رکھو اور بس۔ پس تم نیکیوں کا سرمایہ بڑھانے اور ان کو جمع کرنے اور جوڑنے میں لگے رہو۔ اس کے ضیاع کا کوئی اندیشہ نہ رکھو۔ البتہ اپنی نیتوں اور اپنے بواطن کو درست اور صحیح رکھو ۔ فَاِیَّاکَ نَسْأَلُ یَا رَبَّنَا اَنْ تُشَرِّفَنَا بِہَا بِمَحْض مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ -
Ayah 4:128326 زوجین میں باہم صلح و صفائی کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے کسی بد سلوکی یا بےرخی کا کوئی خدشہ و اندیشہ ہو تو ان دونوں پر اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ وہ آپس میں کوئی صلح کرلیں۔ یعنی کسی بھی طرح کی صلح جس سے رشتہ زوجیت قائم اور برقرار رہے۔ مثلاٰ یہ کہ عورت اپنے نان و نفقہ اور قسمت و شب باشی کے حقوق میں سے کچھ یا سب چھوڑ دے۔ تاکہ خاوند کے حبالہ عقد میں رہنے کی عزت بھی برقرار رہے اور فرقت و علیحدگی کے دکھ بھی نہ برداشت کرنے پڑیں۔ یا خاوند اپنی بیوی کو اس کے حق واجب سے زیادہ دے دے تاکہ اس طرح عورت کی دلجوئی ہوتی رہے اور ان کا رشتہ ازدواج باقی و برقرار رہے۔ سو یہ نشوز یعنی اعراض اور بےرخی اگر عورت کی طرف سے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر کی حاکمیت اور اس کی قوامیت کو تسلیم نہیں کرتی۔ اور اگر یہ نشوز و اعراض مرد کی طرف سے ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مرد عورت کے حقوق تسلیم نہیں کرتا اور وہ اس سے پیچھا چھڑانا چاہتا ہے۔ سو ان دونوں میں سے جو بھی صورت ہو اس میں تبدیلی پیدا کر کے صلح و صفائی کی کوشش کی جائے۔
327 صلح بہرحال بہتر ہے : یعنی صلح بہرحال بہتر ہے فرقت و طلاق سے۔ کہ اس میں امن و سکون اور بہت سے مخاوف و مخاطر سے حفاظت کا سامان ہے۔ اس لئے جہاں تک ہوسکے صلح و صفائی ہی سے کام لو۔ سو صلح ہر حال میں اور ہر معاملے میں ہی بہتر اور مطلوب ہے لیکن رشتہ زوجیت میں خاص طور پر اس کی زیادہ اہمیت ہے کیونکہ انسانوں کے باہمی مواثیق میں سب سے بڑا عہد و میثاق رشتہ ازدواج ہی ہے۔ کہ اس سے ایک خاندان بنتا ہے جو کہ معاشرے کی سب سے اہم اور سب سے پہلی اکائی ہے۔ اور یہی وہ عہد و پیمان ہے جسکے ذریعے دو انسانوں کو باہم اس طرح مربوط کردیا جاتا ہے کہ وہ یک قلب اور دو قالب کا مصداق بن کر رہ جاتے ہیں۔ اور یہی وہ باہمی رشتہ ہے جس کی استواری اور درستگی و پختگی پر دو شخصوں، دو خاندانوں اور پورے معاشرے کی صلاح و فلاح کا دارومدار ہے۔ اسی لیے اس کو قرآن حکیم میں مثیاق غلیظ فرمایا گیا ہے۔ اسی لئے طلاق کو دین حنیف میں " ابغَضْ الْحَلَال " قرار دیا گیا۔ چناچہ سنن ابوداؤد وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا " ابْغضُ الْحلَال الی اللّٰہ الطلاق " (ابو داؤد : کتاب الطلاق باب فی کراہیۃ الطلاق، ابن ماجہ : کتاب الطلاق) اس لیے اس سے جتنا ممکن ہو سکے بچا جائے۔
328 حرص و آز انسانی فطرت کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حرص و آز کو انسانی فطرت میں پیوست کردیا گیا ہے۔ جس کے باعث ہر شخص اپنے حقوق کا طلب گار ہوتا ہے جس سے باہمی اختلاف اور تنازع کی شکلیں پیدا ہوتی رہتی ہیں، لیکن ان جھگڑوں کا علاج بھی اسی فطری اور جبلی کشمکش میں ہے کہ آدمی اگر اپنے حقوق میں سے کچھ چھوڑ دے تو اس سے دوسرا نرم پڑجائے گا اور باہمی کشاکش امن و صلح سے بدل جائے گی، کہ اپنی اس طبعی اور جبلی حرص و آز کی بنا پر وہ اس میں اپنا فائدہ دیکھے گا اور اس کی طرف مائل ہوجائے گا۔ " شح " کے معنیٰ بخل کے بھی آتے ہیں اور حرص کے بھی۔ بخل تو یہ ہے کہ آدمی ادائیگی حقوق میں تنگ دلی برتے اور یہ چیز بہرحال مذموم ہے۔ سو حرص اچھی چیز کی بھی ہوسکتی ہے اور بری چیز کی بھی۔ حد کے اندر بھی ہوسکتی ہے، حد سے باہر بھی۔ اس لئے اس کا اچھا یا برا ہونا ایک اضافی چیز ہے۔ اپنے اچھے پہلو کے اعتبار سے یہ چیز انسانی فطرت کے اندر اپنا ایک مقام رکھتی ہے کہ اسی کی بناء پر انسان اپنے لئے اچھائیوں اور بھلائیوں کا ذخیرہ جمع کرتا ہے، لیکن عام طور پر لوگوں کے اندر اس کے برے پہلو کا ایسا غلبہ ہوجاتا ہے کہ یہ چیز ایک معاشرتی روگ اور بیماری بن کر رہ جاتی ہے۔ یہاں یہ اس کا ذکر اسی پہلو سے کیا ہے۔ بہرکیف حرص و آز کے جذبات انسان کی فطرت کے اندر موجود ہیں۔
329 احسان اور تقویٰ اصلاح معاشرہ کی دو اہم بنیادیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ اچہا برتاؤ کرو اور تم پرہیزگار رہو تو اس کا بہتر بدلہ ضرور پاؤ گے کہ بیشک اللہ پوری طرح باخبر ہے ان تمام کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ احسان یعنی دوسروں سے اچھائی اور بھلائی کا برتاؤ کرنا، اور تقویٰ یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور دوسرے کا حق مارنے سے بچ کر رہنا، دو ایسی عمدہ اور مبارک خصلتیں ہیں کہ ان سے معاشرے کا کتنا ہی بگاڑ خود بخود ختم ہوجاتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج کے معاشرے میں اور خاص کر اس مسلم معاشرے میں جس کو ان اخلاق عالیہ کا نمونہ اور مثال ہونا چاہیئے تھا، اس میں بھی یہ دونوں صفتیں عنقاء ہیں ۔ اِلَّا مَا شَائَ اللّٰہُ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جس کے نتیجے میں آج جگہ جگہ اور طرح طرح کے فتنے و فساد اور نت نئے جھگڑے جنم لیتے ہیں۔ فساد رونما ہوتے ہیں، حق تلفیاں ہوتی ہیں، مظالم اور زیادتیوں کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور تقویٰ و پرہیزگاری اور خدا خوفی کے مظاہر و آثار عنقاء ہوتے جارہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر بیوی کو شوہر کی طرف سے کسی اعراض و بےرخی کا کوئی خوف و خدشہ ہو تو ان دونوں پر اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ وہ دونوں مل کر آپس میں کوئی سمجھوتہ کرلیں کہ یا عورت اپنے حق مہر اور نان نفقے وغیرہ حقوق کے ضمن میں مرد کو کچھ رعایتیں دے دے یا شوہر اپنے حقوق میں کچھ نرمی کرلے۔ کیونکہ میاں بیوی کا رشتہ قائم ہوجانے کے بعد دونوں کی بہتری اسی میں ہے کہ ان دونوں کا رشتہ برقرار رہے۔ اور یہ کٹنے اور ٹوٹنے نہ پائے ۔ وباللہ التوفیق -
330 بیویوں کے درمیان عدل و مساوات سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنی بیویوں کے درمیان کبھی عدل اور برابری نہیں کرسکو گے اگرچہ تم اس کی حرص بھی رکھو۔ یعنی قلبی تعلق اور لگاؤ کے اعتبار سے۔ سو بیویوں کے درمیان جو عدل و مساوات مامور و مطلوب ہے اس سے مراد ان کے درمیان حقوق کے اعتبار سے برابری ہے نہ کہ قلبی لگاؤ کے اعتبار سے۔ پس بیویوں کے درمیان قلبی میلان کے اعتبار سے عدل و مساوات مراد نہیں کہ یہ چیز انسان کے بس میں نہیں۔ اور جو چیز کسی کے بس میں نہ ہو اس کو اسکا مکلف نہیں قرار دیا جاسکتا۔ پس اس سے پرویزی اور دوسرے ملحد قسم کے لوگ تعدد ازدواج کے مسئلے پر اپنے باطل موقف کے حق میں دلیل نہیں پکڑ سکتے جس طرح کہ وہ عام اور سادہ لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے ایسا کرتے ہیں۔ چناچہ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ تعدد ازدواج کی اجازت عدل و انصاف کی شرط کے ساتھ مقید و مشروط ہے اور یہاں پر اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ وہ انسان کے بس میں نہیں، اگرچہ وہ اس کی حرص بھی کرے۔ لہذا تعدد ازدواج کی اجازت نہیں۔ لیکن ان لوگوں کا یہ استدلال درست نہیں۔ بلکہ یہ محض ایک دھوکہ اور مغالطہ ہے۔ اور یہ اس لئے کہ یہاں جس عدل و مساوات کی نفی ہے، اس سے مراد وہ قلبی لگاؤ ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ اور جو چیز کسی کے اپنے بس اور اختیار میں نہ ہو، اس پر اس کی کوئی گرفت اور پکڑ نہیں ہوسکتی۔ اسی لئے نبی اکرم ﷺ اس بارے ارشاد فرماتے تھے " اَللّٰہُمَّ ہٰذَا قَسْمِیْ فِیْمَا اَمْلِکُ فَلا تَلُمْنِیْ فِیْمَا تَمْلِکُ وَلا اَمْلِکُ "، " اے اللہ، یہ میری تقسیم ہے ان امور میں جو میرے قبضہ و اختیار میں ہیں۔ پس ان امور پر مجھ سے مواخذہ نہ فرمانا جو آپ کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ میرے اختیار میں نہیں " یعنی قلبی میلان و رحجان۔ (ابوداؤد کتاب النکاح، باب ماجاء فی القسم بین النسائ، ترمذی (رح) ، کتاب النکاح باب ماجاء فی التسویۃ بین الضرائر، نسائی کتاب عشرۃ النسائ، باب میل الرجل الی بعض نسایہ دون بعض، ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب القسمتہ بین النساء وغیرہ) ۔ سو یہاں پر اس عدل وانصاف سے مراد یہی قلبی تعلق و لگاؤ ہے جو کہ انسان کے بس اور اختیار میں نہیں ہوتا، جبکہ اس عدل وانصاف سے مراد جس کی شرط وہاں رکھی گئی ہے وہ عدل و انصاف ہے جو کہ حقوق کے اعتبار سے ہوتا ہے کہ وہ انسان کے دائرہ اختیار میں ہے جیسا کہ تمام ثقہ مفسرین کرام کا کہنا ہے۔ لہذا اہل زیغ و ضلال کے اس استدلال فاسد کی اساس و بنیاد ہی ختم ہوجاتی ہے، اور اسی کو توضیح کے لئے ہم نے اپنے ترجمے میں بین القوسین کے ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ -
Ayahs 4:129–130331 عورت کو معلقہ بنا کر رکھنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ایک طرف اس قدر نہ جھکو جاؤ کہ دوسری کو معلقہ بنا کر رکھ دو کہ نہ وہ ادھر کی رہے نہ ادھر کی۔ نہ خاوند والی، نہ طلاق والی، کہ نہ تو اس کو زن و شوہر کے حقوق حاصل ہوں، اور نہ طلاق کی آزادی، کہ کہیں اور جاسکے۔ سو ایسا مت کرو کہ یہ ظلم ہے جس کی اجازت اسلام نہیں دے سکتا۔ اور اس کی صاف وصریح تعلیم ہے کہ ظلم حرام ہے۔ پس تم کسی پر ظلم نہیں کرنا اور یہ کہ ظلم قیامت کے روز ہولناک اندھیروں کی شکل میں سامنے آئے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے عدل مطلوب کی تصریح فرما دی گئی کہ جو عدل قلبی لگاؤ اور طبعی میلان کے اعتبار سے ہوتا ہے وہ تمہارے بس میں نہیں کہ دل کا میلان انسان کے اپنے بس کی چیز نہیں ہوتا لیکن جو عدل مامور و مطلوب ہے وہ ظاہری سلوک اور عملی برتاؤ کے لحاظ سے ہے۔ پس تم ایک بیوی کی طرف ایسے نہ جھک جاؤ کہ دوسری یونہی لٹکی رہ جائے۔ اور اگر کوئی حق تلفی ہوجائے تو اس کی تلافی کی کوشش کرو اور ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہا کرو ۔ وباللہ التوفیق -
332 انسان اپنی قدرت سے زیادہ مکلف نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم بقدر امکان اصلاح کرتے اور بچتے اور ڈرتے رہو۔ تو کمی بیشی معاف کردی جائے گی کہ بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ کہ اس سے زیادہ کا وہ غفور و رحیم تم کو مکلف بھی نہیں کرتا۔ اور اس کا اپنا صاف وصریح ارشاد بھی یہ ہے { لا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا } پس تم لوگ بقدر امکان اصلاح کی کوشش کرتے اور اس کی معصیت و نافرمانی سے بچتے رہو۔ اس سے آگے وہ غفور و رحیم معاف فرما دے گا کہ اس کی شان ہی عفو اور غفور کی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو انسان سے اصل مطلوب یہی ہے کہ وہ اپنے بس اور امکان کی حد تک اصلاح احوال کی کوشش کرے۔ اور اپنے خالق ومالک سے ڈرتا رہے اور جو کوئی فروگزاشت اس سے ہوجائے تو اس کے لئے وہ عفو و درگزر کی دعا و درخواست کرتا رہے ۔ وباللّٰہ التوفیق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدَ وَہَوَالہادی اِلٰی سَوَائ السَّبِیل -
Ayah 4:131335 کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے کہ اس سب کا خالق بھی وہی ہے اور مالک بھی وہی۔ اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی وحدہ لا شریک ہے۔ دیکھا کہ کس طرح اس حقیقت کا باربار اعادہ کیا جا رہا ہے اور تاکید فرمائی جا رہی ہے کہ زمین و آسمان کی اس سب کائنات کا خالق ومالک وہی وحدہ لاشریک ہی ہے مگر اس کے باوجود دوسرے کھلے مشرکوں کے علاوہ کلمہ گو مشرکوں نے بھی اس کی اس زمین کو از خود مختلف حصوں اور نگریوں میں تقسیم کر کے مافوق الاسباب طور پر ان کے مختلف مالک تجویز کر رکھے ہیں، کہ یہ حصہ فلاں کا ہے، اور یہ نگری فلاں کی تحویل میں ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور اس بنا پر آگے طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کیا جاتا ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ جَلَّ وَعَلَا ۔ بہرکیف یہاں پر اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ تم لوگوں کو جو ہدایات دی جا رہی ہیں یہ خود تمہارے اپنے ہی بھلے کے لئے ہیں۔ اگر تم لوگ صدق دل سے ان کو اپناؤ گے تو خود تمہارا اپنا بھلا۔ ورنہ خود تمہارا ہی نقصان۔ اللہ تعالیٰ جو اس ساری کائنات کا بلا شرکت غیرے خالق ومالک اور اس میں حا کم و متصرف ہے، اس کا کچھ بھی نہیں بگڑیگا۔ وہ ایسے ہر تصور سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
336 اہل کتاب کو بھی تقوی کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے تاکید کردی تھی ان لوگوں کو بھی جن کو کتاب دی گئی تھی تم سے پہلے اور تم کو بھی کہ تم لوگ ڈرتے رہا کرو اللہ سے۔ یعنی یہود و نصاری وغیرہ اھل کتاب جن کو اپنے اپنے دور میں پیغام الہٰی اور وحی خداوندی کا امین و پاسدار بنایا گیا تھا، ان کو بھی اسی کی تاکید و تلقین کی گئی تھی کہ تم ہمیشہ ایک اللہ سے ڈرتے اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہنا کہ اسی میں خود تمہارا ہی بھلا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ وہ چونکہ اس پوری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے، اس لئے اس نے اس سے پہلے اہل کتاب کو بھی اپنے احکام اور حدود سے آگاہ فرمایا اور اب تم لوگوں کو بھی ان سے آگاہ فرما دیا ہے۔ اور سب سے یہی کہا کہ تم سب اللہ سے ڈرتے اور اس کی معصیت و نافرمانی سے بچتے رہو۔ اہل کتاب نے اگر اس کی نافرمانی کی تو انہوں نے اپنی شامت بلائی، خدا کا کچھ نہیں بگاڑا اسی طرح اگر تم نے بھی کفر و انکار سے کام لیا تو تم بھی اپنا ہی نقصان کرو گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
337 تقویٰ و پرہیزگاری کی عظمت و اہمیت : سو اس سے تقوی و پرہیزگاری کی صفت کی عظمت و اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کی تاکید اہل کتاب کو بھی کی گئی اور اہل ایمان کو بھی۔ پس معلوم ہوا کہ تقویٰ اور خدا ترسی نہایت اہم اور بنیادی تعلیم ہے، جس پر مدارو انحصار ہے ہے دوسرے تمام اعمال و اخلاق کا۔ اس لئے اسی کی تاکید فرمائی گئی ہے پہلی امتوں کو بھی، اور اسی کی تاکید و تلقین ہے اس امت کو بھی۔ مگر اس کے باوجود آج دنیا اس سے غافل ہے ۔ الاماشاء اللہ ۔ حالانکہ یہ ایسا عظیم الشان اور موثر نسخہ ہے کہ اس سے انسان اور معاشرے کی آپ سے آپ اصلاح ہوتی جاتی ہے۔ مگر افسوس کہ اتباع ھویٰ اور اس کے غلبہ و تسلط نے آج دنیا کو خدا خوفی کے اسی عنصر سے خالی اور محروم کردیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
ٍ 338 کائنات پوری میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے : سو اس سے تصریح فرما دی کہ اللہ ہی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمان و زمین کی اس پوری کائنات میں ہے کہ اس سب کا خالق ومالک بھی وحدہ لا شریک ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی۔ سو اس میں پھر اسی حقیقت کا اعادہ و تکرار ہے کہ زمین و آسمان کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک بلا شرکت غیرے اللہ رب العزت ہی ہے۔ لیکن کلمہ گو مشرک نے اس کے باوجود اس کے حصے بخرے کرکے طرح طرح کی شرکیات کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ نیز اس حقیقت کے اظہار وبیان اور تاکید و تکرار سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جب آسمان و زمین کی یہ ساری کائنات اسی وحدہ لاشریک کی ہے تو اس میں حکم اور قانون بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلے گا۔ اس کے ملک اور اس کی حکومت اور کائنات میں اس کے حکم و قانون کیخلاف کوئی حکم اور قانون چلانا کھلا ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ نیز جو لوگ اس کے حکم و ارشاد کی خلاف ورزی کریں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑیں گے کہ وہ اس ساری کائنات کا بلا شرکت غیرے خالق ومالک ہے۔ اس کے اوامرو ارشادات کی اتباع و پیروی میں خود انسان کا اپنا ہی بھلا ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہان میں بھی۔ اور اس سے اعراض و روگردانی میں خود اسی کا نقصان ہے ۔ والعیاذ باللہ -
339 اللہ تعالیٰ کی صفت غنیٰ اور حمد کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑا ہی بےنیاز ہر تعریف کا حقدار ہے۔ پس نہ تو تمہارے ایمان و اطاعت سے اس کی خدائی میں ذرہ برابر کوئی اضافہ ہوسکتا ہے، اور نہ ہی تمہارے کفر و معصیت سے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس میں ذرہ برابر کوئی نقصان اور فرق واقع ہوسکتا ہے۔ یہ سب کچھ تو تم لوگ خود اپنے ہی لئے کر رہے ہو۔ اور وہ تمہیں ایمان و شکر کی جو دعوت دیتا اور تلقین فرماتا ہے تو محض اس لئے کہ تاکہ اس سے خود تمہارا بھلا ہو۔ اور یہ اس کی رحمت و عنایت کا تقاضا ہے کہ وہ رحمان و رحیم ہے، نہ کہ اس میں اس کے کسی فائدے کا کوئی سوال، کہ وہ غنی مطلق اور حمید مطلق اس طرح کے تمام تصورات سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس جو کوئی اس کے آگے جھکے گا اور اس کی عبادت و بندگی کے شرف سے مشرف ہوگا وہ اپنے ہی بھلے اور بہتری کا سامان کرے گا۔ اور جو اس سے منہ موڑے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ اللّٰھُمَّ فَوَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ و َتَرْضٰی -
Ayahs 4:132–133340 کائنات میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آسمان و زمین میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے کہ اس سب کا خالق بھی وہی ہے، مالک بھی وہی۔ اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی کا چلتا ہے۔ اس میں کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہیں۔ پس اسی پر اعتماد و یقین رکھنا عقل و نقل اور مومن کے ایمان کا تقاضا ہے۔ پس بڑے بہکے بھٹکے اور سخت گمراہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے طرح طرح کی دوسری ہستیوں کو اس کا شریک وسہیم ٹھہرا رکھا ہے ۔ تبارک و تعالیٰ ۔ اور وہ بھی جو اس کی اس خدائی اور کائنات میں اس کے حکم و قانون کے خلاف اپنی مرضی کے مطابق حکم و قانون چلاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس جب یہ ساری کائنات مخلوق بھی اسی وحدہ لاشریک کی ہے۔ اس میں حاکم و فرمانروا اور متصرف بھی وہی ہے۔ تو اس میں حکم و قانون بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلے گا۔ اس میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اب دیکھیے کہ قرآن بار بار اور اعادہ و تکرار کے ساتھ بیان کر رہا ہے کہ زمین و آسمان کی اس ساری کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے لیکن اس کے باوجود آج کے جاہل مسلمان نے طرح طرح کے من گھڑت ناموں سے مختلف سرکاریں گھڑ رکھی ہیں اور ان کے لئے مختلف علاقے اور ایریے الاٹ کر رکھے ہیں کہ یہ فلاں کی نگری اور یہ فلاں کا ایریا وغیرہ وغیرہ ۔ فالی اللہ المشتکیٰ -
Ayah 4:134342 دنیا ہی کو اپنا مقصود بنالینا ہولناک خسارہ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی دنیا ہی کا بدلہ چاہے گا تو [ وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ ورنہ ] اللہ کے پاس تو دنیا کا بدلہ بھی ہے اور اخرت کا بھی۔ سو متاع دنیا ہی کو مقصد بنانے والے نے اپنا ہی نقصان کیا کہ اس نے آخرت کی اعلیٰ وارفع اور دائمی و ابدی نعمتوں کے مقابلے میں دنیا کی ادنیٰ و حقیر اور فانی و زائل نعمتوں کو پیش نظر رکھا، جنکی آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں کوئی حقیقت اور حیثیت ہی نہیں۔ سو ایسی فانی اور بےحقیقت چیز کو آخرت کی بےمثال اور دائمی نعمتوں کے مقابلے میں مقصد حیات بنالینا ایک بڑا ہی ہولناک خسارہ و نقصان ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جو دنیا ہی کے صلے کا طالب ہوگا اس کو اس کی چاہت کے مطابق دنیا ہی کا صلہ ملے گا آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا { وَمَا لَہٗ فِی الْاخِرَۃ مِنْ نَصَیْبٍ } اور دنیا میں بھی اس کو وہی کچھ ملے گا جو اللہ چاہیگا جیسا کہ دوسرے موقع پر اس کی تصریح فرمائی گئی { عَجَّلْنَا لَہٗ فِیْہَا مَا نَشَائُ لِمَنْ نُرِیْدُ } سو صرف دنیا ہی کو مقصد بنانا بڑے ہولناک خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
343 اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے : لہذا اس سے تمہاری کوئی بھی حالت اور کیفیت کبھی بھی اور کسی بھی طرح مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ سو وہ تمہاری دعاؤں اور التجاؤں کو بھی خوب سنتا جانتا ہے۔ اور تمہارے احوال و کو ائف کو بھی پوری طرح دیکھتا ہے۔ اس لیے تم لوگوں کو ہمیشہ اس امر کا خیال رکھنا اور اسی کی کوشش میں رہنا چاہیئے کہ اس سمیع وبصیر سے تمہارا معاملہ صحیح رہے۔ ظاہر کے اعتبار سے بھی اور باطن اور نیت کے لحاظ سے بھی کہ رجوع بہرحال اسی کی طرف کرنا اور اس کے یہاں جواب دینا ہے۔ نیز وہ سمیع وبصیر خداوند قدوس نہ کسی کی دعاء و فریاد سے غافل و بیخبر ہے اور نہ کسی کی حالت اور حاجت اس سے مخفی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اس کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کر کے وسیلے اور واسطے مت گھڑو۔
Ayah 4:135344 عدل و انصاف کو قائم کرنے کا حکم و ارشاد : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ انصاف قائم کرنے والے بن جاؤ۔ کہ اسی پر تمہاری دارین کی فلاح موقوف ہے اور یہی تمہارے ایمان کا تقاضا ہے کہ مومن کے ایمان کا تقاضا اور حاصل یہی ہے کہ وہ عدل و انصاف کے قائم کرنے والا بنے۔ کہ عدل و انصاف کے قیام ہی پر آسمان اور زمین کا سارا نظام قائم و موقوف ہے اور اب چونکہ عدل و انصاف کی میزان وہ کتاب حکیم ہے جسکو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اپنی آخری اور کامل کتاب کی صورت میں قیامت تک کی سب دنیا کی ہدایت و راہنمائی کے لیے اتارا ہے۔ اس کے بغیر عدل و انصاف کا قیام ممکن ہی نہیں۔ اس لیے تمہارا ہر قول و فعل شریعت کے اسی باٹ پر تلا ہوا ہونا چاہیئے اور وہ عدل و انصاف کا نمونہ اور اس کی مثال ہونا چاہئے ۔ وباللہ التوفیق -
345 حق کے گواہ بننے کی ہدایت و تلقین : سو ایمان والوں کو ہدایت فرمائی گئی کہ تم لوگ انصاف قائم کرنے والے بن جاؤ حق کے گواہ بن کر۔ کہ صحیح فیصلہ بنیادی طور پر اسی پر موقوف اور منحصر ہوتا ہے کہ گواہی سچ اور حق ہو۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ گواہ ہی دراصل قاضی ہوتے ہیں " اَلشُّہُوْدُ ہُمُ الْقُضَاۃُ " اور اس کامل اور آخری شریعت کے حامل اور علمبردار چونکہ تم ہی لوگ ہو، اس لیے تمہارا قول و فعل شریعت کے عین مطابق ہے۔ نیز شہادت حق چونکہ تمہاری ذمہ داری ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَتَکُوْنُوْا شُہَدَائَ عَلَی النَّاسِ } سو تمہارا کام صرف اتنا ہی نہیں کہ تم عدل و انصاف پر قائم رہو، بلکہ تمہاری ذمہ داری اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم عدل و انصاف کو قائم کرنے والے بنو کہ تم لوگ اللہ کی طرف سے اس کے داعی اور گواہ بھی ہو۔ اور اس کو قائم کرنا تمہاری ذمہ داری ہے۔
346 گواہی اللہ کی رضا کیلئے : سو ایمان والوں سے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ انصاف کو قائم کرنے والے بن جاؤ حق کے گواہ بن کر اللہ کی رضا کے لیے۔ اس کے سوا دوسری کوئی غرض یا مفاد تمہارے پیش نظر نہ ہو، بلکہ اللہ پاک کی رضاء و خوشنودی ہی تمہارا اصل مقصود ہو کہ اس کی رضاء و خوشنودی سب سے بڑی نعمت ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ اور اس کی رضا و خوشنودی کیلئے گواہی دینے ہی سے عدل و انصاف کا قیام ممکن ہوسکتا ہے۔ سو شہادت و گواہی محض اللہ کی رضا کے لئے ہونی چاہئے، تاکہ عدل و انصاف کا دور دورہ ہو سکے کہ شہادت حق مسلمانوں کی دینی اور ایمانی ذمہ داری ہے، تاکہ اس طرح امن وامان کی فضاء قائم ہو اور عدل و انصاف کا دور دورہ ہو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
347 حق کی گواہی بغیر کسی رو رعایت کے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم حق کی گواہی دو اللہ کی رضا کے لیے اگرچہ وہ شخص جس کے بارے میں تم گواہی دے رہے ہو۔ پس تم کسی کے حال کی پرواہ مت کرو، خواہ وہ امیر ہو یا غریب۔ تم بہرحال عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق گواہی دینے والے بنو۔ پس یہ جائز نہیں کہ امیر کے لئے اور باٹ سے تولو اور غریب کے لئے اور باٹ سے۔ قوی اور با اثر لوگوں کے لئے الگ قانون و شریعت ہو، اور کمزور و بےاثر لوگوں کے لئے الگ۔ بلکہ سب کے لئے اللہ تعالیٰ کے قانون عدل و انصاف کے مطابق ایک ہی معاملہ کرو کہ اللہ کا حق سب پر یکساں ہے، اور اس کا حق دوسرے تمام حقوق سے بڑا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
348 اللہ سب سے زیادہ خیر خواہ ہے : کہ وہ رحمان و رحیم بھی ہے اور علیم وخبیر بھی۔ اور ودود و کریم بھی۔ اور سب کا خالق ومالک بھی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لئے تم ایسے لوگوں کا خیال رکھنے اور ان کی طرف داری کرنے کی بجائے حق و انصاف کا خیال رکھو اور اسی کی پاسداری کرو کہ خیر بہرحال اسی میں ہے کہ گواہی حق و انصاف کے مطابق ہو۔ پس تمہاری گواہی اگر کسی کے خلاف جاتی ہو تو بھی تمہیں اس کی کوئی پرواہ اور کسی طرح کی کوئی رو رعایت نہیں کرنی چاہئے کہ بہتری بہرحال اللہ ہی کے حکم و ارشاد میں ہے۔ اس خالق ومالک سے بڑھ کر خیر خواہ اور کون ہوسکتا ہے ۔ سبحانہ وتعالی -
349 گواہی میں کج بیانی سے بچنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم نے کج بیانی سے کام لیا کہ ایسی پیچ دار یا گول مول بات کی جس سے حق واضح نہ ہو سکے۔ سو یہ شہادت اور نظام شہادت کو بگاڑنے کی ایک شکل ہے جس سے حق اور ادائیگی حق میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ یہود نے اسی کا ارتکاب کیا اور انہوں نے شہادت حق میں کج بیانی سے کام لیکر اس کو بگاڑا۔ جیسا کہ سورة آل عمران کی آیت نمبر 78 میں بیان فرمایا گیا۔ پس تم لوگ خواہشات کی پیروی سے بچ کر رہنا۔ کیونکہ تم نے اگر اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر خواہشات نفس کی پیروی کی تو تم اس عدل و قسط سے ہٹ جاؤ گے جس پر اللہ نے تم کو قائم کیا ہے اور جس کی دعوت اور شہادت پر تم لوگوں کو مامور کیا گیا ہے۔ اور جس میں سب کے حقوق محفوظ اور سب کا بھلا ہے۔
350 گواہی سے اعراض برتنے اور منہ موڑنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یا تم نے گواہی دینے سے پہلو تہی کی کہ تم نے سرے سے گواہی دینے ہی سے منہ موڑ لیا، اور کنی کترا گئے، جسکے نتیجے میں حقدار اپنے حق سے محروم ہوگیا، اور عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو سکے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو گواہی کے سلسلہ میں کج بیانی اور روگردانی کی یہ دونوں صورتیں ممنوع اور گواہی کے تقاضوں کیخلاف ہیں۔ اگر کسی نے ان میں سے کسی کا بھی ارتکاب کیا وہ اپنے خالق ومالک کی گرفت و پکڑ سے نہیں بچ سکے گا کہ وہ خبیر مطلق ایسے لوگوں کی ہر حرکت سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے نظام قسط کو بگاڑنے کی دو شکلوں کی طرف اشارہ فرما دیا گیا۔ ایک یہ کہ اس کو کج کرنے اور بگاڑنے اور مسخ کرنے کی کوشش کی جائے جیسا کہ یہود نے کیا اور جس کا ذکر سورة اٰل عمران نمبر 7 میں { یَلْونَ اَلْسِنَتَہُمْ بالْکِتَاب } کے الفاظ سے کیا گیا ہے، اور دوسری شکل اس کی یہ ہے کہ اس کی صورت کو تو نہ بگاڑا جائے لیکن اس سے اعِراض اور روگردانی برتی جائے اور زندگی کے معاملات میں اس کو کوئی اہمیت نہ دی جائے۔ سو فرمایا گیا کہ ان دونوں شکلوں میں سے جس ظلم کا بھی ارتکاب تم لوگ کرو گے اس کا بھگتان تم کو بہر حال بھگتنا پڑے گا اور اللہ تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے ۔ سبحانہ وتعالی -
Ayah 4:136351 ایمان پر ثابت قدمی کا حکم وارشاد : سو اس سے ایمان والوں کو ایمان پر ثابت و مستقیم رہنے کی ہدایت کی گئی اور حکم ارشاد فرمایا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان والو ایمان لاؤ تم اللہ پر، اس کے رسول پر اور اس کی اس کتاب پر جو اس نے اتاری ہے اپنے رسول پر۔ یعنی قرآن حکیم، جو کہ سب سے کامل اور سب کی جامع اور سب کی ناسخ کتاب ہے۔ اور جس کو اب اس خدائے مہربان نے حضرت امام الانبیا ﷺ پر اتارا ہے۔ (روح، صفوۃ، وغیرہ) ۔ سو سچے دل سے تم لوگ ان سب پر ایمان لاؤ، اور اس ایمان پر ثابت و مستقیم رہو کہ یہی راستہ ہے دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مندی و سرفرازی کا { یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا } کے خطاب میں فعل اپنے ابتدائی اور ظاہری معنیٰ میں بھی استعمال ہوتا ہے، اور اپنے حقیقی اور کامل مفہوم میں بھی۔ یہاں پر مسلمان من حیث الجماعت اس کے مخاطب ہیں جس میں خام و پختہ، ناقص و کامل اور مخلص و منافق وغیرہ سب ہی عناصر شامل ہیں۔ ان سب کو خطاب کر کے تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ اے ایمان کا دعوی کرنے والو تم سچے اور پکے مومن بن جاؤ۔ گویا خطاب تو عام ہے لیکن روئے سخن خام کاروں اور مدعیوں کی طرف ہے۔
352 الکتاب سے مراد جنس کتاب : یعنی " الکتاب " سے یہاں پر جنس کتاب مراد ہے نہ کہ کوئی خاص کتاب (جامع البیان، صفوہ التفاسیر، وغیرہ) ۔ اور ان کتابوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اپنے وقتوں میں یہ سب سچی اور برحق کتابیں تھیں۔ اور انسانی ہدایت انہی سے وابستہ تھی۔ مگر قرآن پاک کے نزول کے بعد اب یہ سب منسوخ ہوگئی ہیں۔ اب ان کا صرف وہی حکم قابل عمل اور قابل قبول ہوسکتا ہے جو قرآنی تعلیمات سے متصادم نہ ہو۔ کیونکہ سابقہ نبوتوں کی طرح یہ کتابیں بھی خاص خاص ادوار کیلئے تھیں، نہ کہ ابدی اور دائمی۔ اسی لئے ان کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ پا ک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے اپنے ذمے نہیں لی تھی۔ بلکہ ان ہی لوگوں کے علماؤ مشائخ پر ڈالی تھی۔ جبکہ قرآن پاک کی حفاظت اس نے خود اپنے ذمے لی ہے کہ اس کتاب حکیم نے قیامت تک باقی رہنا ہے اور دنیا کو راہ حق و صواب دکھانی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے { اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ } (الحجر : 9) ۔
353 منکر حق بہت دور کی گمراہی میں ۔ والعیاذ باللہ : سو ایسے لوگ دور کی گمراہی میں پڑے ہیں جہاں سے سچی توبہ اور رجوع الی الحق کے بغیر واپسی ممکن ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ایسا عادۃً اور عام طور پر ہوتا نہیں کہ ایسے لوگوں کے دل سیاہ اور مسخ ہوجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ایسے سیاہ بختوں کو حق اور ہدایت کی طرف رجوع کی توفیق نہیں ملتی، جس سے دائمی محرومی کا شکار ہو کر ایسے لوگ ہلاکت و تباہی کے دائمی گڑھے میں جاگرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے اس کلمہ جامعہ کی طرف اشارہ فرما دیا گیا جو امت و سط اور امت قائم بالقسط کا کلمہ ہے۔ یعنی بلا کسی تفریق کے تمام انبیاء و رسل، اور تمام آسمانی صحیفوں پر ایمان لانا۔ جو اس بات کی شہادت ہے کہ یہ امت عدل و قسط پر قائم ہے۔ یہود و نصاریٰ کی طرح کے تعصب اور تحزب کے جنون میں مبتلا نہیں کہ اس طرح تعصب اور تحزب کے جنون کے باعث راہ حق و عدل سے ہٹ جائیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 4:137354 ایمان کے بعد کفر کی شناعت و قباحت : بعض حضرات مفسرین نے اس سے یہود مراد لئے ہیں، اور بعض نے منافقین۔ لیکن حق یہ ہے کہ اس ارشاد وبیان کو الفاظ کے عموم و اطلاق کے مطابق عام رکھا جائے، کہ جو بھی اس شنیع و قبیح طریقے کو اپنائے گا اور اختیار کرے گا اس کا یہی حکم اور یہی حال اور یہی مآل ہوگا۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو ۔ وَ الْعِیَاذ باللّٰہ ۔ سو دولت ایمان سے سرفرازی کے بعد ظلمت کفر کو اپنانا بڑا ہی شنیع و قبیح اور ہلاکت و تباہی میں ڈالنے والا امر ہے جو خساروں کا خسارہ اور ابدی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اہل ایمان کے صحیح موقف کو واضح کرنے کے بعد اب اس ارشاد سے منافقین وغیرہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے پھر انہوں نے کفر کیا اور اس کے بعد وہ اپنے کفر ہی میں بڑھتے چلے گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگ مغفرت و بخشش اور ہدایت خداوندی کے سزا وار نہیں ہوسکتے۔ سو ایسے منافقوں کو دردناک عذاب کی بشارت سنا دو جو ان کو اپنی منافقت کی پاداش میں بھگتنا ہوگا۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
355 ایمان کے بعد کفر انتہائی ہولناک محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان کے بعد کفر وانکار کا ارتکاب کرنے والوں کی اللہ نہ بخشش فرمائے گا اور نہ ہی ایسے لوگوں کو وہ حق و ہدایت کی کوئی راہ نصیب فرمائے گا۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اخلاص اور سچی توبہ پر بھی ان کی بخشش نہیں ہوگی کہ سچی توبہ کے بعد تو وہ غفور و رحیم سب گناہ معاف فرما دیتا ہے، بلکہ مطلب اسکا یہ ہے کہ ایسوں کو ان کی اپنی بدباطنی کے سبب سچی توبہ کی توفیق ہی نہیں ملتی ۔ والعیاذ باللہ ۔ جسکے باعث وہ کفر و انکار ہی پر بڑھتے چلے جاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ مغفرت و بخشش خداوندی اور راہ حق و ہدایت سے محروم ہو کر ہلاکت و تباہی کے دائمی گڑھے میں جاگرتے ہیں۔ اور اس طرح وہ ہمیشہ ہمیش کے خسارے سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایمان کے بعد کفر کتنا بڑا جرم اور کس قدر ہولناک محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:138356 منافقوں کیلئے دردناک عذاب کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ خوشخبری سنادو منافقوں کو اس بات کی کہ ان کے لیے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے۔ کہ انہوں نے ایمان کا لیبل لگا کر اپنے اندر کفر کو چھپائے رکھا، اور توبہ و استغفار کی سیدھی و صحیح راہ اختیار کرنے کی بجائے انہوں نے اپنے کفر و نفاق پر اصرار کے طریقے ہی کو اپنائے رکھا۔ اور ایسے لوگوں کا کفر کھلے کافروں سے بھی زیادہ سخت اور خطرناک ہے۔ اس لیے ایسوں کیلئے بڑا دردناک عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ایسے منافق زیادہ تر اہل کتاب بالخصوص یہود میں سے ہی تھے اور انہی کے زیر اثر بھی۔ سو اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو ان کے ایمان و کفر کا ایک کھیل تو وہ ہے جو انہوں نے اس سے پہلے تورات کے ساتھ کھیلا۔ اور دوسرا وہ جو ایسے لوگ اب اسلام کے ساتھ کھیل رہے ہیں کہ پہلے آگے بڑھ کر اس کو جاننے کا اعلان کیا اور پھر دن رات اس کے خلاف سازشوں میں لگ گئے جس سے ان کا جرم اور سنگین ہوگیا جس سے سنگین عذاب کے مستحق ٹھہرے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:139357 ایمان والوں کو چھوڑ کر کفار و مشرکین کو دوست بنانا منافقون کی نشانی ۔ والعیاذ باللہ : سو ان منافقوں کی خاص صفت کی ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جو کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں ایمان والوں کو چھوڑ کر۔ پس مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار کے ساتھ دل کی دوستی اور تعلق جائز نہیں۔ البتہ ظاہری میل ملاپ اور کاروبار، جو معاشرتی تقاضوں کے مطابق کرنا پڑتا ہے اس کا معاملہ الگ ہے۔ وہ ممنوع نہیں۔ اس کی اجازت ہے۔ مگر ان سے دلی دوستی رکھنا ایمان کے منافی اور کفر و نفاق کی علامت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہاں پر منافقوں کی اس صفت اور خصلت کو بیان فرمایا گیا کہ یہ لوگ اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں حالانکہ اہل ایمان کیلیے ایسا کرنا جائز نہیں۔ سو ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بنانا منافقوں کی نشانی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
358 عزت سب کی سب اللہ ہی کیلئے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ ان [ کفارو مشرکین ] کے یہاں عزت ڈھونڈتے ہیں ؟ سو ایسوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ عزت سب یقینا اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہ جسے چاہے اپنے فضل و کرم سے عزت سے نوازے۔ پس کفار و مشرکین کی طرف جھکنے کی بجائے تم لوگ سچے ایمان اور نیک عمل کے ذریعے اللہ والے بن جاؤ۔ تاکہ اس کے یہاں سے تم سچی اور حقیقی عزت سے سرفراز ہو سکو ۔ اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا التَّوْفِیْقَ لِذَالِکَ وَ الثّبَاتَ عَلَیْہ وَالاِسْتِقَامَۃَ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں دور حاضر سمیت ہر دور کے لوگوں کیلئے یہ درس عبرت و بصیرت ہے کہ عزت اہل کفر و باطل کے ساتھ دوستی لگانے میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچے تعلق اور اس کی عبادت و بندگی میں ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو وہ لوگ سخت غلطی پر ہیں جو عزت کی طلب و تلاش میں اللہ کے دشمنوں اور ایمان و یقین سے محروم لوگوں کی طرف دوستی اور محبت کی پینگیں بڑھاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:140359 بددینوں کی مجلسوں سے اجتناب و ابتعاد کا درس : سو اس سے بددینوں کی مجلسوں سے ابتعاد و اجتناب کے حکم کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے یہ حکم اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے۔ جیسا کہ سورة انعام میں ہے جو کہ مکی سورتوں میں سے ہے کہ اس کی آیت نمبر 68 میں اس کی تصریح ہے۔ حضرات علمائے کرام فرماتے ہیں کہ انعام کی یہ آیت کریمہ نازل ہوئی { وَاِذَا رَایْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْٓ اٰیاتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ حَتّٰی یَخُوضُُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ } الآیۃ (الانعام : 68) جسکے بعد مسلمانوں نے ان کی مجلسوں میں بیٹھنا چھوڑ دیا لیکن پھر جب وہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں یہود اور منافقین کی مجلسوں میں بیٹھنے لگے۔ اور یہ لوگ اور خاص کر یہود بھی قرآن کا مذاق اڑاتے تھے تو اس موقع پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ اور اس کے ذریعے ان کو ایسے تمام بددینوں کی مجلسوں سے اجتناب و ابتعاد کا وہ گزشتہ حکم یاد دلایا گیا تو وہ ان کی ہم نشینی سے رک گئے۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے بد دینوں کی ہم نشینی سے ابتعاد و اجتناب سے متعلق گزشتہ حکم کی یاد دہانی فرما دی گئی۔
360 بےدینوں اور بددینوں کے ساتھ بیٹھنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے تم لوگوں پر اپنی کتاب میں یہ حکم و ارشاد نازل فرمایا ہے کہ جب تم لوگ سنو کہ اللہ کی آیتوں کے خلاف کفر پکا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو تم ایسے بدبخت لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو۔ یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں ورنہ تم لوگ بھی انہی جیسے ہوجاؤ گے۔ پس کفار و مشرکین اور ان تمام دوسرے ملحدو بےدین لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنا جائز نہیں جو دین حق کا مذاق اڑاتے ہوں اور جو راہ حق و صواب سے ہٹے ہوئے ہوں۔ جیسے قادیانی، چکڑالوی، رافضی اور قبرپرست، بدعتی وغیرہ وغیرہ۔ کہ ان کی مجلسوں میں بیٹھنا اور ان لوگوں سے دل کا تعلق جوڑنا ایک سچے اور باغیرت مسلمان کے لئے نہ جائز ہے اور نہ ہی اس کی شان کے لائق کہ ان کے ساتھ بیٹھنے اور ان سے میل جول رکھنے سے ان کے کفر و باطل کی سیاہی کے اثرات بد انسان پر پڑتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اہل زیغ و ضلال کے ساتھ بیٹھنا جب کہ اس سے فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہو حرام ہے۔ اسی طرح اگر ان کے ساتھ بیٹھنے سے اس بات کا ابہام ہوتا ہو کہ وہ ان لوگوں کے کرتوتوں سے راضی اور خوش ہے تو اس صورت میں بھی ان کے ساتھ بیٹھنا حرام ہے۔ ہاں اگر اس کا مقصد لوگوں کی اصلاح یا ان کی تردید ہو تو اس صورت میں ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا حرام نہیں ہوگا، کیونکہ یہ بیٹھنا بغرض اصلاح و انکار ہے جو کہ تعلیمات دین کی رو سے مطلوب و مقصود ہے۔ اس کے بغیر ان کے ساتھ بیٹھنا باطن کی سیاہی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
361 بدمذہبوں کی ہم نشینی کے اثرات بہت برے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان کے ساتھ مت بیٹھو ورنہ تم بھی انہی جیسے ہوجاؤ گے۔ سو دیکھا بدمذہبوں کی مجالست اور ہم نشینی آدمی کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔ اس لئے ایسوں کے ساتھ دلی تعلق و محبت حرام ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ ان کی ہم نشینی اور ان کے ساتھ مل بیٹھنے کا مطلب یہ ہوگا کہ تم لوگ ان کے کفر اور ان کے مذاق اڑانے کے اس کافرانہ فعل سے راضی ہو جو کہ ظاہر ہے کفر ہے۔ جس کے نتیجے میں تم لوگ بھی اسی عذاب کے مستحق ہوجاؤ گے جو کہ کافروں کیلئے مقرر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد ربانی سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کافروں اور ان کی کفریات سے راضی ہونا کفر ہے۔ (محاسن التاویل) ۔ حاکم کی روایت کے مطابق حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور حکومت میں کچھ لوگوں کو شراب پیتے ہوئے پکڑا گیا تو آپ ؓ نے حکم دیا کہ ان سب کو شرب خمر کی حد لگائی جائے۔ اس پر آپ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ ان میں ایک روزے دار بھی تھا۔ تو اس پر آپ ؓ نے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔ یہاں تک کہ آپ ؓ { اِنَّکُمْ اِذًا مِثْلُہُمْ } پر پہنچ گئے۔ (محاسن وغیرہ) ۔ اس لیے ایسے لوگوں کی ہمنشینی سے دور اور نفور رہنا چاہئے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
362 کافروں اور منافقوں دونوں کا انجام جہنم : کہ کفر و باطل اور حق اور اھل حق سے عداوت و دشمنی میں یہ دونوں گروہ باہم ایک تھے اور ایک ہیں۔ اس لئے ان کا مال اور انجام و ٹھکانا بھی ایک ہی ہوگا۔ یعنی دوزخ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کافروں کے ساتھ مل بیٹھنے سے جب فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو یہ حرام ہے۔ لیکن جب ان کی مخالطت و مجالست سے ان کی تردید و انکار اور ان کی اصلاح کی غرض سے ہو تو یہ نہ صرف جائز بلکہ موجب اجر وثواب ہے۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سو جو کوئی ایسے لوگوں کے ساتھ مل بیٹھتا ہے جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو اس کا انجام بھی وہی ہوگا جو ان کافروں کا ہوگا۔ بہرحال منافقوں کا منافقانہ ایمان اس روز ان کے کچھ کام نہیں آئے گا کہ وہ جہاں کشف حقائق اور ظہور نتائج کا جہاں ہوگا۔ جہاں ان کے اس منافقانہ ایمان کی قلعی کھل جائیگی اور ان کا انجام بھی کھلے کافروں کی طرح ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -