Ayahs 3:154–155احد کے مصائب سزا نہیں بلکہ آزمائش تھے اور جو لغزش بعض صحابہ کرام سے ہوئی وہ معاف کردی گئی
ولیبتلی اللہ ما فی صدور کم آلایتہ سے معلوم ہوا کہ غزوہ احد میں جو مصائب اور تکالیف صحابہ کرام کو پیش آئیں وہ بطو سزا نہیں بلکہ بطور آزمائش تھیں، اس امتحان کے ذریعہ مؤ منین، مخلصین اور منافقین میں فرق کا اظہار کرنا تھا اور اثابکم غماً کے الفاظ سے جو اس کا سزا ہونا معلوم ہوتا ہے اس کی تطبیق یہ ہے کہ صورت تو سزا ہی کی تھی مگر یہ سزا مربیانہ اصلاح کے لئے تھی، جیسے کوئی بات اپنے بیٹے کو، استاذ اپنے شاگرد کو کچھ سزا دیتا ہے تو عرف میں اس کو سزا بھی کہہ سکتے ہیں، مگر درحقیقت یہ تربیت اور اصلاح کی ایک صورت ہوتی ہے، حاکمانہ سزا اس سے مختلف ہے۔
واقعہ احد میں مسلمانوں پر مصائب کے اسباب کیا تھے ؟:۔ جملہ مذکور لیبتلی سے آخر آیت تک جو ارشاد ہے اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ وقوع مصائب کا سبب یہ ربانی حکمتیں تھیں، لیکن اگلی آیت میں انما استزلھم الشیطان بعض ماکسبوا سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کی کوئی سابقہ لغزش اس شیطانی اثر کا سبب ہے۔ جواب یہ ہے کہ ظاہری سبب تو وہ لغزش ہی ہوئی کہ اس کی وجہ سے شیطان کو ان سے اور معصیت کرا دینے کی بھی طمع ہوگئی اور اتفاق سے اس کی وہ طلمع پوری بھی ہوگئی، مگر اس لغزش اور اس کے پیچھے آنے والے نتائج میں یہ تکوینی حکمتیں مستر تھیں، جن کو لیبتلیکم دلائے جن کو لے کر حق تعالیٰ سے ملنا ان کو اچھا نہ معلوم ہوا، اس لئے جہاں سے ہٹ گئے، تاکہ وہ اپنی حالت کو درست کر کے پھر پسندیدہ حالت پر جہاد کریں اور شہید ہو کر اللہ سے ملیں۔ ایک گناہ دوسرے گناہ کا بھی سبب ہوجاتا ہے۔ آیت مذکورہ سے معلوم ہوا کہ ایک گناہ دوسرے گناہ کو کھینچ لاتا ہے، جیسے ایک نیکی دوسری کو کھینچتی ہعے، بعض اعمال حسنہ اور سیسہ میں تجاذب ہے، جب انسان کوئی ایک نیک کام کرلیتا ہے تو تجربہ شاہد ہے اس کے لئے دوسری نیکیاں بھی آسان ہوا کرتی ہیں، اس کے دل میں نیک اعمال کی رغبت بڑھ جاتی ہے، اسی طرح انسان کوئی گناہ کرتا ہے تو وہ اس کے دسرے گناہوں کا راستہ ہموار کردیتا ہے، دل میں گناہ کی رغبت بڑھ جاتی ہے، اسی لئے بعض بزرگوں نے فرمایا۔
”یعنی نیک کام کی ایک نقد جزاء وہ دوسری نیکی ہے جس کی توفیق اس کو ہوجاتی ہے اور برے عمل کی ایک سا وہ دوسرا گناہ جس کے لئے پہلے گناہ نے راستہ ہموار کردیا ہے۔ حضرت حکیم الامت نے مسائل السلوک میں فرمایا کہ حدیث کی تصریح کے مطابق گناہ سے قلب میں ایک ظلمت اور تاریکی پیدا ہوجاتی ہے اور جب قلب میں ظلمت آجاتی ہے تو شیطان قابو پا لیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک صحابہ کرام کا مقام بلند اور ان کی خطاؤں پر عفو و درگذر کا بیمثال معاملہ۔
واقعہ احد میں جو لغزشیں اور خطائیں بعض اصحاب کرام سے صادر ہوئیں وہ اپنی ذات میں بڑی شدید اور سخت تھیں، جس مورچہ پر پچاس صحابہ کو یہ حکم دے کر بٹھایا تھا کہ ہم پر کچھ بھی حال گذرے تم یہاں سے نہ ہٹنا، ان کی بڑی تعداد یہاں سے ہٹ گی، اگرچہ ہٹنے کا سبب ان کی یہ اجتہادی غلطی سہی کہ اب فتح ہوچکی ہے اس حکم کی تعمیل پوری ہوچکی ہے، یہاں سے نیچے آ کر سب مسلمانوں کے ساتھ مل جانا چاہئے، مگر درحقیت آنحضرت ﷺ کی واضح ہدایات کے خلاف تھا، اسی خطاء و قصور کے نتیجہ میں میدان جنگ سے بھاگنے کی غلطی سر زد ہونی چاہئے اس میں بھی کسی تاویل ہی کا سہارا لیا گیا ہو، جیسا کہ زجاج سے اوپر نقل کیا جا چکا ہے پھر یہ میدان جنگ سے بھاگنا ایسی حالت میں ہوا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے ساتھ ہیں اور پیچھے سے ان کو آواز دے رہے ہیں، یہ چیزیں اگر شخصیات اور گرد و پیش کے حالات سے الگ کر کے دیکھی جائیں تو بلاشبہ سخت ترین اور ایسے سنگین جرم تھے، کہ مشاجرات صحابہ کے سلسلہ میں مختف صحابہ پر جتن الزامات مخالفین کی طرف سے لگائے جاتے ہیں یہ ان سب سے زیادہ شدید جرائم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر غور کیجئے کہ حق تعالیٰ نے ان تمام خطاؤں اور لغزشوں کے بعد بھی ان حضرات کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا، وہ مذکورہ آیات میں بڑی وضاحت سے آگیا کہ اول ظاہری انعام اونگھ کا بھیج کر انکی تکلیف اور تکان و پریشانی دور کی گئی، پھر یہ بتلایا گیا کہ جو مصائب اور غم مسلمانوں کو اس وقت پہنچا ہے وہ نری سزا اور عقوبت نہیں بلکہ اس میں کچھ مربیانہ حکمتیں مستور ہیں، پھر صاف لفظوں میں معافی کا اعلان فرمایا، یہ سب چیزیں ایک مرتبہ اس سے پہلے آ چکی ہیں، اس جگہ پھر ان کا اعادہ فرمایا، اس تکرار کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ پہلی مرتبہ تو خود صحابہ کرام کی تسلی کے لئے یہ ارشاد فرمایا گیا اور اس جگہ منافقین کے اس قول کا رد بھی مقصود ہے، جو وہ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ تم نے ہماری رائے پر عمل نہ کیا اس لئے مصائب و تکالیف کا سامنا ہوا۔ بہرحال ان تمام آیات میں یہ بات بڑی وضاحت سے سامنے آگئی کہ حق تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے رسول محمد مصطفے ﷺ کے ساتھیوں کو محبوبیت کا وہ مقام حاصل ہے کہ اتنی بڑی عظیم خطاؤں اور لغزشوں کو باوجود ان کے ساتھ معاملہ صرف عفو و درگزر کا ہی نہیں، بلکہ لطف و کرم کار فرمایا گیا، یہ معاملہ تو خود حق تعالیٰ کا اور نصوص قرآنی کا بیان کیا کیا ہوا ہے، اسی طرح کا ایک معاملہ حضرت حاطب ابن ابی بلتعہ کا حضور کے سامنے پیش ہوا، انہوں نے مشرکین مکہ کو مسلمانوں کے حالات کے متعلق ایک خط لکھ رہا تھا، جب حضور ﷺ بذریعہ وحی اس کی حقیقت کھلی اور خط پکڑا گیا تو صحابہ کرام میں حاطب ابن ابی بلتعہ کے خلاف سخت غیظ و غضب تھا، فاروق اعظم، نے عرض کیا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن مار دوں، مگر رسول اللہ ﷺ کو معلوم تھا کہ وہ منافق نہیں مومن مخلص ہیں مگر یہ غلطی ان سے سرزد ہوگئی۔ اس لئے اس کو معاف فرمایا اور فرمایا کہ یہ اہل بدر میں سے ہیں اور شاید اللہ تعالیٰ نے تمام حاضر بن بدر کے متعلق مغفرت اور معافی کا حکم نافذ کردیا ہے (یہ روایت حدیث کی سب معتبر کتب میں موجود ہے)
صحابہ کرام کے متعلق عام مسلمانوں کے لئے ایک سبق۔
یہیں سے اہل سنت والجماعت کے اس عقیدہ اور عمل کی تصدیق ہوتی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اگرچہ گناہوں سے معصوم نہیں، ان سے بڑے گناہ بھی ہو سکتے ہیں اور ہوئے بھی ہیں، لیکن اس کے باوجود امت کے لئے یہ جائز نہیں کہ ان کی طرف کسی برائی اور عیب کو منسوب کرے، جب اللہ تعالیٰ اور اس کو رسول ﷺ نے ان کی اتنی بڑی لغزشوں اور خطاؤں کو معاف کر کے ان کے ساتھ لطف و کرم کا معاملہ فرمایا اور ان کو ؓ و رضوا عنہ کا مقام عطا فرمایا، تو پھر کسی کو کیا حق ہے کہ ان میں سے کسی کا برائی کے ساتھ تذکرہ کرے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے حضرت عثمان غنی اور بعض صحابہ کرام پر غزوہ احد کے اسی واقعہ کا ذکر کر کے طعن کیا کہ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ اس پر حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ جس چیز کی معافی کا اللہ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا اس پر طعن کرنے کا کسی کو کیا حق ہے۔ (صحیح بخاری)
اس لئے اہل السنت و الجماعتہ کے عقائد کی کتابیں سب اس پر متفق ہیں کہ تمام صحابہ کرام کی تعظیم اور ان پر طعن اعتراض سے پرہیز واجب ہے، عقائد نسفیہ میں ہے
”یعنی واجب ہے کہ صحابہ کا ذکر بغیر خیر کے اور بھلائی کے نہ کرے۔“
”یعنی اہل السنتہ و الجماعتہ کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام کو عدول و ثقافت سمجھیں، ان کا ذکر مدح وثناء کے ساتھ کریں۔“”یعنی تمام صحابہ کی تعظیم واجب ہے، اور ان پر طعن و اعتراض سے باز رہنا واجب ہے۔“
حافظ ابن تیمیمہ نے عقیدہ واسطیہ میں فرمایا ہے کہ۔ اہل سنت والجماعتہ کا عقیدہ یہ ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان جو اختلافات اور قتل و قتال ہوئے ہیں ان میں کسی پر الزام و اعتراض کرنے سے باز رہیں وجہ یہ ہے کہ تاریخ میں جو روایات ان کے عیوب کے متعلق آئی ہیں ان میں بکثرت تو جھوٹی اور غلط ہیں جو (دشمنوں نے اڑائی ہیں اور بعض وہ ہیں جن میں کمی بیشی کر کے اپنی اصلیت کے خلاف کردی گئی ہیں اور جو بات صحیح بھی ہے تو صحابہ کرام اس میں اجتہادی رائے کی بناء پر معذور ہیں اور بالفرض جہاں وہ معذور بھی نہ ہوں تو اللہ کا قانون یہ ہے کہ ان الحسنات یدھبن السیات یعنی اعمال صالحت کے مجولے اعمال کا بھی کفارہ ہوجاتا ہے، اور یہ ظاہر ہے کہ صحابہ کرام کے اعمال صالحہ کے برابر کسی دوسرے کے اعمال نہیں ہو سکتے، اور اللہ تعالیٰ کے عفو و کرم کے جتنے وہ مستحق ہیں کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا، اس لئے کیسے ہو سکتے اور اللہ تعالیٰ کے عفو و کرم کے جتنے وہ مستحق ہیں کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا، اس لئے کسی کو یہ حق نہیں کہ ان کے اعمال پر مواخذہ کرے اور ان میں سے کسی پر لعن و اعتراض کی زبان کھولے (عقیدہ واسطیہ ملخصاً)۔
Ayahs 3:156–158زبط آیات
پچھلی آیتوں میں منافقین کا یہ قول بیان کیا گیا تھا کہ لوکان لنا من الامر شیء ما قتلناھما، یعنی اگر ہمارا کچھ اختیار ہوتا اور ہماری رائے مانی جاتی تو ہم یہاں قتل نہ ہوتے جس کو آگے بھی نقل کیا گیا ہے، ایسے اقوال کے سننے سے یہ احتمال تھا کہ مخلص مسلمانوں کے دلوں میں کچھ شک و شبہات نہ پیدا ہوجائیں، اس لئے مذکورہ بالا آیات میں مسلمانوں کو ایسے اقوال و احوال سے پرہیز کرنے کی اور موت وحیات کو صرف تابع تقدیر ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جو (حقیقت میں) کافر ہیں (گو ظاہراً اسلام کا دعویٰ کرتے ہوں) اور کہتے ہیں اپنے (ہم نسب یا ہم مشرک) بھائیوں کی نسبت جبکہ وہ لوگ کسی سر زمین میں سفر کرتے ہیں (اور وہاں اتفاقاً مر جاتے ہیں) یا وہ لوگ کہیں غازی بنتے ہیں (اور اس میں تقدیر سے قتل ہوجاتے ہیں تو وہ منافق کہتے ہیں) کہ اگر یہ لوگ ہمارے پاس رہتے (سفر اور غزوہ میں نہ جاتے) تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے (یہ بات انکے دل اور زبان پر اس لئے آتی ہے) تاکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو ان کے قلوب کے لئے موجب حسرت کردیں (یعنی نتیجہ اس طرح کی باتوں میں حسرت کے سوا کچھ نہیں) اور مارتا چلاتا تو اللہ ہی ہے (خواہ سفر یا حضر اور جنگ ہو یا امن) اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ (تو اگر تم بھی ایسی باتیں کرو یا ایسے خیالات میں مبتلا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ رہے گا) اور اگر تم لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا کہ (اللہ کی راہ میں) مر جاؤ (تو یہ کوئی) خسارہ نہیں نفع ہی نفع ہے کیونکہ بالضرور اللہ تعالیٰ کے پاس مغفرت اور رحمت و دنیا کی، ان چیزوں سے بدر جہا بہتر ہے جن کو یہ لوگ جمع کر رہے ہیں (اور اسی کے لالچ میں زندگی کو محبوب رکھتے ہیں اور) اگر تم (ویسے بھی) مر گئے یا مارے گئے (تب بھی) بالضرور اللہ ہی کے پاس جمع کئے جاؤ گے (پس اول تو قضا ٹلتی نہیں اور دوسرے اللہ کے پاس جانے سے کسی حال بچ نہیں سکتے اور دنیا کی راہ میں فرمایا مارا جانا تو موجب مغفرت و رحمت ہے تو پھر ویسے مرنے سے دین ہی کی راہ میں جان دینا بہتر ہے اس لئے ایسے اقوال دنیا میں موجب حسرت اور آخرت میں موجب نار جہنم ہے ان سے پرہیز لازم ہے۔)
Ayah 3:159ربط آیات
غزوہ احد میں بعض مسلمانوں کی لغزش اور میدان چھوڑنے سے جو صدمہ اور غم رسول اللہ ﷺ کو پہنچا تھا، اگرچہ آنحضرت ﷺ نے اپنے طبعی اخلاق اور عادات عفو و کرم کی بنا پر ان کو اس پر کوئی ملامت نہیں کی اور کوئی معاملہ سختی کا بھی نہیں کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو اپنے رسول کے ساتھیوں کی دلجوئی اور ان کے دلوں میں اس غلطی پر جو صدمہ اور اپنے قصور پر جو ندامت تھی ان سب کو دھو دینا منظور ہوا تو اس آیت میں آپ کو مزید لطف و کرم کی ہدایت اور صحابہ کرام سے معاملات میں مشورہ لینے کا حکم دیا۔
خلاصہ تفسیر
بعد اس کے (کہ صحابہ کرام سے ایسی لغزش ہوئی جس پر آپ کو ملامت اور مواخذہ کرنے کا حق تھا) خدا ہی کی رحمت کے سبب (جو کہ آپ پر ہے) آپ ان کے ساتھ نرم رہے اور اگر آپ (خدانخواستہ) تند خو سخت مزاج ہوتے تو یہ (بیچارے) آپ کے پاس سے سب منتشر ہوجاتے (پھر ان کو یہ فیوض برکات کہاں نصیب ہوتے) سو (جب آپ نے برتاؤ میں ایسی نرمی فرمائی تو ان سے جو غلطی آپ کی تعمیل حکم میں ہوگئی ہے اس کو دل سے بھی ان کو معاف کر دیجئے (اور ان سے جو غلطی اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوتاہی سے ہوئی اس کے لئے) آپ ان کے لئے استغفار کیجئے (اگرچہ اللہ تعالیٰ نے خود انکی معافی اور مغفرت کا اعلان پہلے ہی فرما دیا تھا مگر آپ کا ان کے لئے دعا مغفرت کرنا مزید ان کے لئے مفید اور موجب تسلی ہوگا) اور ان سے خاص خاص باتوں میں (بدستور) مشورہ لیتے رہا کیجئے (تاکہ اس خصوصی لطف سے ان کے دلوں سے غم دھل جائے) پھر (مشورہ لینے کے بعد) جب آپ (کسی ایک جانب) رائے پختہ کرلیں (خواہ وہ ان کے مشورہ کے موافق ہو یا مخالف) تو اللہ تعالیٰ پر اعتماد (کر کے اس کام کو کر ڈالا) کریں بیشک اللہ تعالیٰ ایسے اعتماد کرنے والوں سے محبت رکھتے ہیں۔
معارف و مسائل
مرشد و مربی کی خاص صفات۔
صحابہ کرام جو رسول کریم ﷺ کے عشاق اور اپنی جان و مال سے زیادہ آپ کو عزیز رکھنے والے تھے، ان سے جب آپ کے حکم کے خلاف ایک لغزش صادر ہوگئی تو یہاں اسی کی طرف تو یہ خطرہ تھا کہ ان حضرات کو جب اپنی لغزش اور خلاف ورزی حکم پر تنبیہ ہو تو ان کا صدمہ حد سے بڑھ جائے، جو ان کے قلب و دماغ کو معطل کر دے۔ یا رحمت سے مایوس بنا دے، اس کا علاج تو پچھلی آیت میں بتلا دیا گیا کہ فاثا بکم غما علم اس لغزش کی سزا دنیا میں دی جا چکی ہے آخرت کا کھاتہ بیباق ہوگیا۔
دوسری طرف رسول کریم ﷺ اس غلطی اور لغزش کے نتیجہ میں زخمی ہوئے، جس سے جسمانی تکلیف بھی پہونچی، اور روحانی تکلیف تو پہلے ہی سے تھی، تو اس جسمانی و روحانی تکلیف سے یہ احتمال تھا کہ آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک میں صحابہ کرام کی طرف سے تکدر پیدا ہوجائے جو ان کی ہدایت و تلقین میں مخل ہوجائے، اس کے لئے آنحضرت ﷺ کہ یہ تعلیم دینا تھی کہ آپ ان کی خطا سے درگذر فرمائیں، ان کی لغزش دل سے معاف کردیں، اور آئندہ کے لئے بھی لطف و مہربانی کا معاملہ جاری رکھیں۔ اس مضمون کو حق تعالیٰ نے ایک عجیب و غریب اسلوب بیان کے ساتھ ارشاد فرمایا، جس میں ضمنی طور پر چند اہم فوائد بھی آگئے۔
ایک یہ کہ آنحضرت ﷺ کو ان چیزوں کا حکم ایسے انداز سے دیا گیا ہے جس میں آپ کی ثناء و تعریف اور عظمت شان کا اظہار بھی ہے کہ یہ صفات آپ کے اندر پہلے سے موجود ہیں اور دوسرے اس سے پہلے فبما رحمة کا لفظ بڑھا کر یہ بھی بتلا دیا کہ ان صفات کمال کا آپ کے اندر ہونا یہ ہماری رحمت سے ہے، کسی کا ذاتی کمال نہیں پھر لفظ رحمت کو بصورت نکرہ لا کر رحمت کے عظیم اور وسیع ہونے کی طرف اشارہ کر کے یہ بھی واضح کردیا کہ یہ رحمت صرف صحابہ کرام پر ہی نہیں، بلکہ خود آنحضرت ﷺ پر بھی ہے کہ آپ کو ان صفات کمال کے ساتھ متصف فرما دیا۔ اس کے بعد ایک تیسرا اہم فائدہ بعد کے جملوں سے ظاہر فرما دیا کہ یہ نرم خوئی، خوش اخلاقی، عفو و درگزر اور لطف و مہربانی کی صفات اگر آپ کے اندر نہ ہوتیں تو اصلاح خلائق کا جو کام آپ کے سپرد ہے وہ حسب منشاء انجام نہ پاتا، لوگوں کے ذریعہ اپنی اصلاح اور تزکیہ اخلاق کا فائدہ حاصل کرنے کے بجائے آپ سے بھاگ جاتے۔
اور اس سب مجموعہ سے ایک اور اہم فائدہ یہ حاصل ہوا کہ ارشاد اصلاح اور تبلیغ کے آداب اس سے معلوم ہوگئے کہ جو شخص رشد و ہدایت اور دعوت الی اللہ اور اصلاح خلق کے کام کا ارادہ کرے اس کے لئے ضروری ہے کہ یہ صفات اپنے اندر پیدا کر ے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کے محبوب رسول کی سختی برداشت نہیں ہو سکتی تو پھر کس کی مجال ہے کہ وہ تشدد اور کج خلقی کے ساتھ خلق اللہ کو اپنے گرد جمع کرسکے اور ان کی اصلاح کا فرض انجام دے سکے۔
اس آیت میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اگر آپ تند خو، سخت طبیعت ہوتے تو لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہوجاتے، اس سے معلوم ہوا کہ مرشد و مبلغ کے لئے تند خوئی سخت کلامی، زہر اور اس کے کام کو ضائع کرنے والی چیز ہے۔
اس کے بعد ارشاد فرمایا فاعف عنھم یعنی ان سے جو خطا ہوگئی ہے اس کو آپ معاف فرما دیں، اس سے معلوم ہوا کہ مصلح کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ عوام کی خطاؤں کا انتقام نہ لے۔ بلکہ عفو و درگزر سے کام لے، برا کہنے والوں پر مشتعل نہ ہو، ایذا دینے والوں سے نرمی کا معاملہ کرے۔
اس کے بعد ارشاد فرمایا واستغفرلھم، یعنی آپ ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے بھی مغفرت طلب کریں، جس میں یہ ہدایات ہے کہ صرف یہی نہیں کہ خود ان کی ایذاؤں پر صبر کریں۔ بلکہ دل سے ان کی خیر خواہی نہ چھوڑیں اور چونکہ سب سے بڑی خیر خواہی ان کی آخرت کی درستی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے عذب اسے بچانے کے لئے بخشش کی دعا مانگیں۔
اس کے بعد ارشاد ہے وشاورھم فی الامر یعنی حسب سابق اپنے فیصلوں اور کاموں میں ان حضرات سے مشوہ بھی لیا کریں تاکہ ان کی پوری تسلی ہوجائے، اس میں اس کی طرف ہدایت فرمائی کہ جو خیر خواہی کا داعیہ ان کے لئے قلب میں ہے عمل سے بھی اس کا اظہار کریں کہ اپنی مشاورت سے ان کو مشرف فرماویں۔
اس پوری آیت میں مصلح و مبلغ کے لئے چند صفات کا ہونا ضروری قرار دیا گیا، اول سخت کلامی اور کج خلقی سے بچنا، دوسرے ان لوگوں سے کوئی غلطی یا ان کے متعلق ایذاء کی کوئی چیز صادر ہوجائے تو انتقام کے در پے نہ ہونا بلکہ عفو و در گزر کا معاملہ کرنا، تیسرے یہ کہ ان کی خطاؤں اور لغزشوں کی وجہ سے ان کی خیر خواہی نہ چھوڑنا، ان کے لئے دعا، و استغفار بھی کرتے رہنا اور ظاہری معاملات میں ان کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ چھوڑا، مذکورہ آیت میں آنحضرت ﷺ کو صحابہ کرام سے مشورہ لینے کا حکم اور پھر مشورہ کے بعد طریق عمل کی ہدایت کی گئی ہے، مشورہ کے بارے میں قرآن کریم نے دو جگہ صریح حکم دیا ہے، ایک یہی آیت مذکورہ دوسرے سورة شوری کی آیت جس میں سچے مسلمانوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ایک صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ وامرھم شوری بینھم ص (24: 83) ”یعنی اور ان کا ہر کام آپس کے مشورہ سے ہوتا ہے۔“ اور بعض جگہ ضمنی طور پر مشورہ کی ہدایت فرمائی ہے جیسے رضاعت کے احکام میں ارشاد فرمایاعن تراض منھما وتشاور (2: 332) یعنی بچے کا دودھ چھڑانا ماں اور باپ دونوں کی رضامندی اور مشورہ سے ہونا چاہئے، مشورہ سے متعلق چند اہم مسائل قابل غور ہیں۔
پہلا مسئلہ، لفظ امر اور مشورہ کے معنی، دوسرا مسئلہ، مشورہ کی شرعی حیثیت، تیسرا مسئلہ رسول کریم ﷺ کو صحابہ کرام سے مشورہ لینے کا درجہ، چوتھا مسئلہ، حکومت اسلامی میں مشورہ کا درجہ، پانچواں مسئلہ، مشورہ میں اختلاف رائے ہو تو فیصلہ کی صورت، چھٹا مسئلہ، ہر کام میں مکمل تدبیر کرنے کے بعد اللہ تعال یر توکل۔
پہلا مسئلہ لفظ امر اور شوری کی تحقیق۔
لفظ امر کا اطلاق عربی زبان میں کئی معنی کے لئے ہوتا ہے، ایک عام معنی میں آتا ہے، جو ہر مہتمم بالشان قول و فعل کو شامل ہے، دوسرا اطلاق بمعنی حکم اور حکومت ہے، جس پر قرآن کریم میں لفظ اولی الامر محمول ہے، تیسرا اطلاق حق تعالیٰ کی ایک مخصوص صفت کے لئے ہے، جس کا ذکر قرآن مجید کی بہت سی آیات میں ہے مثلاً الا لہ الخلق والامر (7: 45) الیہ یرجع الامرکلة (11: 321) ان الامرکلہ للہ (3: 451) امرہ الی اللہ (2: 572) اور محققین کے نزدیک قل الروح میں امر ربی (71: 58) میں بھی یہی امر مراد ہے، اب قرآن کے ارشاد وشاورھم فی الامر (3: 951) اور وامرھم شوری بینھم (24: 83) میں دونوں معنی کا احتمال ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ پہلے ہی معنی مراد ہیں اور دوسرے معنی بھی اس میں شامل ہیں تو یہ بھی کچھ بعید نہیں، کیونکہ حکم اور حکومت کے معاملات سبھی خاص اہمیت رکھتے ہیں، اس لئے امر کے معنے ان آیات میں ہر اس کام کے ہیں جو خاص اہمیت رکھتا ہو، خواہ حکومت سے متعلق ہو خواہ معاملات سے، اور لفظ شوریٰ ، مشورہ، مشاورت کے معنی ہیں کسی قابل غور معاملہ میں لوگوں کی رائے حاصل کرنا، اس لئے وشاورھم فی الامر کے معنی یہ ہوئے کہآنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ قابل غور معاملات میں جن میں حکومت کے متعلقہ معاملات بھی شامل ہیں، صحابہ کرام سے مشورہ لیا کریں، یعنی ان حضرات کی رائے معلوم کیا کریں۔
اسی طرح سورة شوری کی آیت 83 وامرھم شوری بینھم کے معنی یہ ہوئے کہ ہر قابل غور معاملہ میں جس میں کوئی اہیمت ہو، خواہ حکم و حکومت سے متعلق ہو یا دوسرے معاملات سے، ان میں سچے مسلمانوں کی عادت مستمرہ یہ ہے کہ باہم مشوہ سے کام کیا کرتے ہیں۔
دوسرا مسئلہ مشورہ کی شرعی حیثیت۔
اس بارے میں قرآن کریم کے ارشادات مذکورہ اور احادیث نبویہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایسے معاملہ میں جس میں رائیں مختلف ہو سکتی ہیں خواہ وہ حکم و حکومت سے متعلق ہو یا کسی دوسرے معاملہ سے باہمی مشورہ لینا رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی سنت اور دنیا و آخرت میں باعث برکات ہے، قرآن و حدیث میں اس کی تائید آتی ہے اور جن معاملات کا تعلق عوام سے ہے جیسے معاملات حکومت ان میں مشورہ لینا واجب ہے (ابن کثیر)
بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عبداللہ عمر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاجو شخص کسی کام کا ارداہ کرے اور باہم مشورہ کرنے کے بعد اس کے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو صحیح اور مفید صورت کی طرف ہدایت مل جاتی ہے۔
اور ایک حدیث میں ہے کہ جب تمہارے حکام تم میں سے بہترین آدمی ہوں اور تمہارے مالدار سخی ہوں اور تمہارے معاملات آپس میں مشورہ سے طے ہوا کریں تو زمین کے اوپر رہنا تمہارے لئے بہتر ہے اور جب تمہارے حکام بدترین افراد ہوں اور تمہارے مالدار بخیل ہوں، اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو زمین کے اندر دفن ہوجانا تمہارے زندہ رہنے سے بہتر ہوگا۔
مطلب یہ ہے کہ جب تم پر خواہش پرستی غالب آجائے کہ بھلے برے اور نافع و مضر سے قطع نظر کر کے محض عورت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنے معاملات اس کے سپرد کردو تو اس وقت کی زندگی سے تمہارے لئے موت بہتر ہے، ورنہ مشورہ میں کسی عورت کی بھی رائے لینا کوئی ممنوع نہیں، رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے تعامل سے ثابت ہے اور قرآن کریم میں سورة بقرہ کی آیت 332 جو ابھی بیان کی گئی ہے اس میں ارشاد ہے عن تراض منھما وتشاور یعنی بچہ کا دودھ چھڑانا باپ اور ماں کے باہمی مشورہ سے ہونا چاہئے، اس میں چونکہ معاملہ عورت سے متعلق ہے، اس لئے خاص طور سے عورت کے مشورہ کا پابند کیا گیا ہے۔
ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ”یعنی جس شخص سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امین ہے اس پر لازم ہے کہ اس معاملہ میں جو کام وہ خود اپنے لئے تجویز کرتا ہے وہی رائے دوسرے کو دے اس کے خلاف کرنا خیانت ہے۔“ یہ حدیث طبرانی نے معجم اوسط میں بسند حسن حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے (مظہری) البتہ یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ مشورہ صرف انہی چیزوں میں مسنون ہے جن کے بارے میں قرآن و حدیث کا کوئی واضح قطعی حکم موجود نہ ہو، ورنہ جہاں کوئی قطعی اور واضح حکم شرعی موجود ہو اس میں کسی سے مشورہ کی ضرورت نہیں بلکہ جائز بھی نہیں، مثلاً کوئی شخص اس میں مشورہ کرے کہ نما پڑھے یا نہیں، زکوة دے یا نہیں حج کرے یا نہیں، یہ مشورہ کی چیزیں نہیں، شرعی طور پر فرض قطعی ہیں، البتہ اس میں مشورہ کیا جاسکتا ہے کہ حج کو اس سال جائے یا آئندہ اور پانی کے جہاز سے جائے یا ہوائی جہاز سے اور خشکی کے راستہ سے جائے یا دوسرے طریق سے۔
اسی طرح زکوة کے معاملہ میں یہ مشورہ لیا جاسکتا ہے کہ اس کو کہاں اور کن لوگوں پر خرچ کیا جائے کیونکہ یہ سب امور شرعاً اختیاری ہیں۔
ایک حدیث میں خود اس کی تشریح رسول کریم ﷺ سے منقول ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ کے بعد اگر ہمیں کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جس کا حکم صراحتا قرآن میں نازل نہیں ہوا اور آپ سے بھی اس کے متعلق کوئی ارشاد ہم نے نہ سنا ہو تو ہم کیا کریں ؟ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایسے کام کے لئے اپنے لوگوں میں سے عبادت گذار فقہاء کو جمع کرو اور ان کے مشورہ سے اس کا فیصلہ کرو، کسی کی تنہا رائے سے فیصلہ نہ کرو۔
اس حدیث شریف سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ مشورہ صرف دنیوی معاملات میں نہیں بلکہ جن احکام شرعیہ میں قرآن و حدیث کی صریح نصوص نہ ہوں ان احکام میں بھی باہمی مشورہ مسنون ہے اور دوسرے یہ بھی معلوم ہوا کہ مشورہ ایسے لوگوں سے لینا چاہئے جو موجودہ لوگوں میں تفقہ اور عبادت گذاری میں معروف ہوں (اخرجہ الخطیب کذا فی الروح)
نیز خطیب بغدادی نے حضرت ابوہریرہ کی ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد بھی نقل کیا ہے۔
”یعنی عقلمند آدمی سے مشورہ لو اور اس کے خلاف نہ کرو ورنہ ندامت اٹھانی ہوگی۔“ ان دنوں حدیثوں کو ملانے سے معلوم ہوا کہ مجلس شوریٰ کے ارکان میں دو وصف ضروری ہیں ایک صاحب عقل و رائے ہونا، دوسرے عبادت گذار ہونا، جس کا حاصل ہے ذی رائے اور متقی ہونا اور اگر مسئلہ شرعی ہے تو فقیہ ہونا بھی لازم ہے۔
تیسرا مسئلہرسول کریم ﷺ کو صحابہ کرام سے مشورہ لینے کا درجہ۔
آیت میں آنحضرت ﷺ کو اس کا حکم دیا گیا ہے کہ صحابہ کرام سے مشورہ لیں، اس میں یہ اشکال ہے کہ آنحضرت ﷺ اللہ کے رسول اور صاحب وحی ہیں، آپ کو کسی سے مشورہ کی کیا حاجت ہے آپ کو ہر چیز حق تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی معلوم ہو سکتی ہے اس نے بعض علماء نے اس حکم مشورہ کو اس پر محمول کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو نہ مشورہ کی ضرورت تھی نہ اس مشورہ پر آپ کے کسی کام کا مدار تھا، صرف صحابہ کرام کے اعزاز اور دل جوئی کے لئے مشورہ کا حکم آپ کو دیا گیا ہے لیکن امام ابوبکر حصاص نے فرمایا کہ یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اگر یہ معلوم ہو کہ ہمارے مشورہ پر کوئی عمل نہیں ہوگا اور نہ مشورہ کا کسی کام پر کوئی اثر ہے تو پھر اس مشورہ پر کوئی دل جوئی اور اعزاز بھی نہیں رہتا، بلکہ حقیقت امر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو عام امور میں تو براہ راست حق تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی ایک طریق کار متعین کردیا جاتا ہے، مگر بمقضائے حکمت و رحمت بعض امور کو آنحضرت ﷺ کی رائے اور صوابدید پر چھوڑدیا جاتا ہے، ایسے ہی امور میں مشورہ کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی قسم کے امور میں مشورہ لینے کا آپ کو حکم دیا گیا، رسول کریم ﷺ کی مجالس مشاورت کی تاریخ بھی یہی بتلاتی ہے۔
آنحضرت ﷺ نے غزوہ بدر کے لئے صحابہ کرام سے مشورہ لیا تو صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اگر آپ ہمیں دریا میں کود پڑنے کا حکم دیں تو ہم اس میں کود پڑیں گے اور اگر آپ ہمیں برک الغماد جیسے دور دراز مقام کی طرف چلنے کا ارشاد فرمائیں گے تو ہم آپ کے ساتھ ہوں گے، ہم موسیٰ ؑ کے ساتھیوں کی طرح یہ نہ کہیں گے کہ آپ اور آپ کا رب کفار سے مقابلہ کریں، بلکہ ہم یہ عرض کریں گے کہ آپ تشریف لے چلیں ہم آپ کے ساتھ آپ سے آگے اور پیچھے اور دائیں بائیں دشمن کا مقابلہ کریں گے۔
اسی طرح غزوہ احد میں اس بارے میں مشورہ کیا کہ کیا مدینہ شہر کے اندر رہ کر مدافعت کریں یا شہر سے باہر نکل کر، عام طور سے صحابہ کرام کی رائے باہر نکلنے کی ہوئی، تو آپ نے اسی کو قبول فرمایا، غزوہ خندق میں ایک خاص معاہدہ پر صلح کرنے کا معاملہ پیش آیا، تو سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ نے اس معاہدہ کو مناسب نہ سمجھ کر اختلاف کیا، آپ نے انہی دونوں کی رائے قبول فرمائیں، حدیبیہ کے ایک معاملہ میں مشورہ لیا تو صدیق اکبر کی رائے پر فیصلہ فرما دیا۔ قصہ افک میں صحابہ کرام سے مشورہ لیا، یہ سب معاملات وہ تھے جن میں آنحضرت ﷺ کے لیے بذریعہ وحی کوئی خاص جانب متعین نہیں کی گئی تھی۔
خلاصہ یہ ہے کہ نبوت و رسالت اور صاحب وحی ہونا کچھ مشورہ کے منافی نہیں اور یہ بھی نہیں کہ یہ مشوہ محض نمائشی دل جوئی کے لئے ہو، اس کا اثر معاملات پر نہ ہو بلکہ بہت مرتبہ مشورہ دینے والوں کی رائے کو آپ نے اپنی رائے کے خلاف بھی قبول فرما لیا، بلکہ بعض امور میں آنحضرت ﷺ کے لئے بذریعہ وحی کوئی خاص صورت متعین نہ فرمانے اور مشورہ لے کر کام کرنے میں حکمت و مصلحت یہ بھی ہے کہ آئندہ امت کے لئے ایک سنت رسول کریم ﷺ کے عمل سے جاری ہوجائے کہ جب آپ کو بھی مشورہ سے استثناء نہیں تو پھر ایسا کون ہے جو استغناء کا دعویٰ کرسکے، اسی لئے رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام میں ایسے مسائل میں مشاورت کا طریق ہمیشہ جاری رہا، جن میں کوئی نص شرعی نہ تھی اور آنحضرت ﷺ کے بعد صحابہ کرام کا بھی یہی معمول رہا، بلکہ بعد میں تو ایسے احکام شرعیہ کی دریافت کے لئے بھی مشورہ کا معمول رہا جن میں قرآن و حدیث کا کوئی صریح فیصلہ نہ تھا، کیونکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سوال کو جواب میں آنحضرت ﷺ نے یہی طریق کار بتلایا تھا۔
چوتھا مسئلہ۔ حکومت اسلامی میں مشورہ کا درجہ کیا ہے
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن کریم نے دو جگہ مشورے کا صریح حکم دیا ہے، ایک یہی آیت مذکورہ اور دوسرے سورة شوری کی آیت جس میں سچے مسلمانوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ایک صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے وامرھم شوری بینھم (24: 83) یعنی اور ان کا کام آپس کے مشورہ سے ہوتا ہے ان دونوں جگہ پر مشورہ کے ساتھ لفظ امر مذکور ہے، اور لفظ امر کی مفصل تحقیق اوپر بیان ہوچکی ہے کہ ہر مہتمم بالشان قول و فعل کو بھی کہا جاتا ہے اور حکم اور حکومت کے لئے بھی بولا جاتا ہے، امر کے خواہ معنی اول مراد لیں یا دوسرے معنی، حکمت کے معاملات میں مشورہ لینا بہرصورت ان آیات سے ضروری معلوم ہوتا ہے حکم یا حکومت مراد لینے کی صورت میں تو ظاہر ہی ہے اور اگر معنی عام لئے جائیں جب بھی حکم اور حکومت کے معاملات مہتمم بالشان ہونے کی حیثیت سے قابل مشورہ ٹھہریں گے، اس لئے امیر اسلام کے فرائض میں سے ہے کہ حکومت کے اہم معاملات میں اہل حل و عقد سے مشورہ لیا کرے، قرآن کی آیات مذکورہ اور رسول کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کا مسلسل تعامل اس کی روشن سند ہے۔
ان دونوں آیتوں میں جس طرح معاملات حکومت میں مشورہ کی ضرورت واضح ہوئی اسی طرح ان سے اسلام کے طرز حکومت اور آئین کے کچھ بنیادی اصول بھی سامنے آگئے کہ اسلامی حکومت ایک شورائی حکومت ہے، جس میں امیر کا انتخاب مشورہ سے ہوتا ہے، خاندانی وراثت سے نہیں، آج تو اسلامی تعلیمات کی برکت سے پوری دنیا میں اس اصول کا لوہا مانا جا چکا ہے۔ شخصی بادشاہتیں بھی طوعاً و کرباً اسی طرف آ رہی ہیں، لیکن اب سے چودہ سو برس پہلے زمانہ کی طرف مڑ کر دیکھئے جبکہ پوری دنیا پر آج کے تین بڑوں کی جگہ دو بڑوں کی حکومت تھی، ایک کسری دوسرا قیصر اور ان دونوں کے آئین حکومت شخصی اور وراثتی بادشاہت ہونے میں مشترک تھے، جس میں ایک شخص واحد لاکھوں کروڑوں انسانوں پر اپنی قابلیت و صلاحیت سے نہیں، بلکہ وراثت کے ظالمانہ اصولوں کی بناء پر حکومت کرتا تھا اور انسانوں کو پالتو جانوروں کا درجہ دینا بھی بادشاہی انعام سمجھا جاتا تھا، یہی نظریہ حکومت دنیا کے بیشتر حصہ پر مسلط تھا، صرف یونان میں جمہوریت کے چند دھندلے اور ناتمام نقوش پائے جاتے تھے، لیکن وہ بھی اتنے ناقص اور مدھم تھے کہ ان پر کسی مملکت کی بنیاد رکھنا مشکل تھا، اسی وجہ سے جمہوریت کے ان یونانی اصولوں پر کبھی کوئی مستحکم حکومت نہیں بن سکی، بلکہ وہ اصول ارسطو کے فلسفہ کی ایک شاخ بن کر رہ گئے۔ اس کے برخلاف اسلام نے حکومت میں وراثت کا غیر فطری اصول باطل کر کے امیر مملکت کا عزل و نصب جمہور کے اختیار میں دیدیا، جس کو وہ اپنے نمائندوں اہل حل و عقد کے ذریعہ استعمال کرسکیں، بادشاہ پرستی کی دلدل میں پھنسی ہوئی دنیا اسلامی تعلیمات ہی کے ذریعہ اس عادلانہ اور فطری نظام سے آشنا ہوئی اور یہی روح ہے اسی طرز حکومت کی جس کو آج جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے۔ لیکن موجودہ طرز کی جمہوریتیں چونکہ بادشاہی ظلم و ستم کے ردعمل کے طور پر وجود میں آئیں تو وہ بھی اس بداعتدالی کے ساتھ آئیں کہ عوام کو مطلقا العنان بنا کر پورے آئین حکومت اور قانون مملکت کا ایسا آزاد مالک بنایا کہ ان کے قلب و دماغ زمین و آسمان اور تمام انسانوں کے پیدا کرنے والے خدا اور اس کی اصل ملکیت و حکومت کے تصور سے بھی بیگانہ ہوگئے، اب ان کی جمہوریت اللہ تعالیٰ ہی کے بخشے ہوئے عوامی اختیار پر اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ پابندیوں کو بھی بار خاطر خلاف انصاف تصور کرنے لگیں۔
اسلامی آئین نے جس طرح خلق خدا کو کسری و قیصر اور دوسری شخصی بادشاہتوں کے جبر و استبداد کے پنجہ سے نجات دلائی، اسی طرح ناخدا آشنا مغربی جمہوریتوں کو بھی خدا شناسی، اور خدا پرستی کا راستہ دکھلایا اور بتلایا کہ ملک کے حکام ہوں یا عوام اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے قانون کے سب پابند ہیں، ان کے عوام اور عوامی اسمبلی کے اختیارات، قانون سازی، عزل و نصب اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حدود کے اندر ہیں، ان پر لازم ہے کہ امیر کے انتخاب میں اور پھر عہدوں اور منصوبوں کی تقسیم میں ایک طرف قابلیت اور صلاحیت کی پوری رعایت کریں تو دوسری طرف ان کی دیانت و امانت کو پرکھیں، اپنا امیر ایسے شخص کو منتخب کریں جو علم، تقوی، دیانت، امانت، صلاحیت اور سیاسی تجربہ میں سب سے بہتر ہو، پھر یہ امیر منتخب بھی آزاد اور مطلق العنان نہیں، بلکہ اہل الرائے سے مشورہ لینے کا پابند رہے، قرآن کریم کی آیت مذکورہ اور رسول اکرم ﷺ اور خلفائے راشدین کا تعامل اس پر شاہد عدل ہیں، حضرت عمر کا ارشاد ہے۔
”یعنی شورائیت کے بغیر خلافت نہیں ہے۔“
(کنزالعمال بحوالہ ابن ابی شیبة)
شورائیت اور مشورہ کو اسلامی حکومت کے لئے اساسی اور بنیادی حیثیت حاصل ہے حتیٰ کہ اگر امیر مملکت مشورہ سے آزاد ہوجائے یا ایسے لوگوں سے مشورہ لے جو شرعی نقطہ نظر سے مشورہ کے اہل نہ ہوں تو اس کا عزل کرنا ضروری ہے۔
”ابن عطیہ نے فرمایا کہ شورائیت شریعت کے قواعد اور بنیادی اصولوں میں سے ہے جو امیر اہل علم اور اہل دین سے مشورہ نہ لے، اس کا عزل کرنا واجب ہے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں کسی کا اختلاف نہیں۔“
مشورہ کے ضروری ہونے سے اسلامی حکومت اور اس کے باشندوں پر جو ثمرات اور برکات حاصل ہوں گے، اس کا اندازہ اس سے لگایئے کہ رسول اکرم ﷺ نے مشورہ کو رحمت سے تعبیر فرمایا، ابن عدی اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اس مشورہ کی حاجت نہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو امیری امت کے لئے ایک رحمت بنایا ہے (بیان القرآن)
مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اپنے رسول کو ہر کام بذریعہ وحی بتلا دیتا، کسی کام میں بھی مشورہ کی ضرورت نہ چھوڑتا، لیکن امت کی مصلحت اس میں تھی کہ آپ کے ذریعے مشورہ کی سنت جاری کرائی جائے، اس لئے بہت سے امور ایسے چھوڑ دیئے جن میں صراحتا کوئی وحی نازل نہیں ہوئی، ان میں آپ کو مشورہ لینے کی ہدایت فرمائی گئی۔
پانچواں مسئلہمشورہ میں اختلاف رائے ہوجائے، تو فیصلہ کی کیا صورت ہوگی ؟:۔
مشورہ میں اگر اختلاف رائے ہوجائے تو کیا آج کل کے پارلیمانی اصول پر اکثریت کا فیصلہ نافذ کرنے پر امیر مجبور ہوگا، یا اس کو اختیار ہوگا کہ اکثریت ہو یا اقلیت جس طرف دلائل کی قوت اور مملکت کی مصلحت زیادہ نظر آئے اس کو اختیار کرے ؟ قرآن و حدیث اور رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کے تعامل سے یہ امر ثابت نہیں ہوتا کہ اختلاف رائے کی صورت میں امیر اکثریت رائے کے فیصلہ کا پابند و مجبور ہے، بلکہ قرآن کریم کے بعض اشارات اور حدیث اور تعامل صحابہ کی تصریحات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اختلاف رائے کی صورت میں امیر اپنی صوابدید کے مطابق کسی ایک صورت کو اختیار کرسکتا ہے، خواہ اکثریت کے مطابق ہو یا اقلیت کے، البتہ امیر اپنا اطمینان حاصل کرنے کے لئے جس طرح دوسرے دلائل پر نظر کرے گا اسی طرح اکثریت کا ایک چیز پر متفق ہونا بھی بعض اوقات اس کے لئے سبب اطمینان بن سکتا ہے۔
آیت مذکورہ میں غور فرمایئے، اس میں رسول اکرم ﷺ کو مشورہ کا حکم دینے کے بعد فرمایا گیا ہے فاذا عزمت فتوکل علے اللہ، یعنی مشورہ کے بعد آپ جب کسی جانب کو طے کر کے عزم کرلیں تو پھر اللہ پر بھروسہ کیجئے، اس میں عزمت کے لفظ میں عزم یعنی نفاذ حکم کا پختہ ارادہ صرف آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کیا گیا۔ عزمتم نہیں فرمایا جس سے عزم و تنفیذ میں صحابہ کی شرکت معلوم ہوتی، اس کے اشارہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مشورہ لینے کے بعد نفاذ اور عزم صرف امیر کا معتبرہ ے، حضرت عمر بن الخطاب بعض وقت دلائل کے لحاظ سے اگر عبداللہ بن عباس کی رائے زیادہ مضبوط ہوتی تھی تو ان کی رائے پر فیصلہ نافذ فرماتے تھے، حالانکہ مجلس میں اکثر ایسے صحابہ موجود ہوتے تھے، جو ابن عباس سے عمر اور علم اور تعداد میں زیادہ ہوتے تھے، حضور اکرم ﷺ نے بہت مرتبہ حضرات شیخین صدق اکبر اور فاروق اعظم کی رائے کو جمہور صحابہ کے مقابلہ میں ترجیح دی ہے، حتی کہ یہ سمجھا جانے لگا کہ آیت مذکورہ صرف ان دونوں حضرات سے مشورہ لینے کے لئے نازل ہوئی۔ حاکم نے مستدرک میں اپنی سند کے ساتھ ابن عباس سے روایت کیا ہے
”ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس آیت میں شاورھم کی ضمیر سے مراد حضرات شیخین ہیں۔“”ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر و عمر سے مشورہ لینے کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یہ دونوں حضرات جناب رسول اکرم ﷺ کے خاص صحابی اور وزیر تھے، اور مسلمانوں کے مربی تھے۔“
رسول اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ حضرات شیخین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا۔
”جب تم دونوں کسی رائے پر متفق ہوجاؤ تو میں تم دونوں کے خلاف نہیں کرتا۔
ایک اشکال اور اس کا جواب۔
یہاں یہ اشکال کیا جاسکتا ہے کہ یہ تو جمہوریت کے منافی ہے، اور شخصی حکومت کا طرز ہے اور اس سے جمہور کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
جواب یہ ہے کہ اسلامی آئین نے اس کی رعایت پہلے کرلی ہے، کیونکہ عوام کو یہ اختیار ہی نہیں دیا کہ جس کو چاہیں امیر بنادیں بلکہ ان پر لازمی قرار دیا ہے کہ علم و عمل اور صلاحیت کار اور خدا ترسی اور دیانت کی رو سے جس شخص کو سب سے بہتر سمجھیں صرف اس کو امیر منتخب کریں تو جس شخص کو ان اعلی اوصاف اور اعلی صفات کے تحت منتخب کیا گیا ہو، اس پر ایسی پابندیاں عائد کرنا جو بد دیانت اور فساق، فجار پر عائد کی جاتی ہیں، عقول انصاف کا خون کرنا اور کام کرنے والوں کی ہمت شکنی اور ملک و ملت کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہوگا۔
چھٹا مسئلہ۔ ہر کام میں مکمل تدبیر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا
اس جگہ یہ بات بہت ہی قابل غور ہے کہ نظام حکومت اور دوسرے اہم امور میں تدبیر اور مشورہ کے احکام کے بعد یہ ہدایت دی گئی ہے کہ سب تدبیریں کرنے کے بعد بھی جب کام کرنے کا عزم کرو تو اپنی عقل و رائے اور تدبیروں پر بھروسہ نہ کرو بلکہ بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر کرو، کیونکہ یہ سب تدبیر مدبر الامور کے قبضہ قدرت میں ہیں، انسان کیا اور اس کی رائے و تدبیر کیا، ہر انسان اپنی عمر کو ہزاروں واقعات میں ان چیزوں کی رسوائی کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے۔ مولانا رومی نے خوب فرمایا ہے۔
خویش رادیدیم و رسوائی خویش
امتحان مامکن اے شاہ بیش
اس جملہ فاذا عزمت فتوکل علی اللہ سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ توکل ترک اسباب اور ترک تدبیر کا نام نہیں بلکہ اسباب قریبہ کو چھوڑ کر توکل کرنا سنت انبیاء اور تعلیم قرآن کے خلاف ہے، ہاں اسباب بعیدہ اور دور دراز کار فکروں میں پڑے رہنا یا صرف اسباب اور تدابیر ہی کو مؤ ثر سمجھ کر مسبب الاسباب اور مدبر الامور سے غافل ہوجانا بیشک خلاف توکل ہے۔
Ayah 3:160ربط آیات
واقعہ احد میں عارضی شکست اور مسلمانوں کی پریشانی پر حضرات صحابہ کرام کی تسلی کے لئے حضور ﷺ کی تسلی کے لئے حضور ﷺ کو چند امور کا حکم ہوا تھا جس سے رسول اللہ ﷺ کی ناراضی کا خطرہ تو زائل ہوگیا، لیکن ان حضرات کو اس واقعہ مغلوبیت سے حسرت بھی تھی، اس لئے متذکرہ بالا بارہ آیات میں سے پہلی آیت میں ان کی حسرت مغلوبیت کو دل سے اتارتے ہیں، نیز بدر کے روز مال غنیمت میں ایک چادر گم ہوگئی، بعض (کم سمجھ یا منافق) لوگوں نے کہا کہ شاید رسول اللہ ﷺ نے لے لی ہو اور یہ امر حقیقتا ہو یا صورة خیانت ہے، نبی کی شان اس سے منزہ ہے لہٰذا دوسری تیسری اور چوتھی آیات کے اندر جناب رسول مقبول ﷺ کی عظیم الشان صفت امانت اور اس خیال کی غلطی کو بیان کر کے پانچویں آیت کے اندر خود حضور ﷺ کے وجود باجود کا نعمت عظمی ہونا اور آپ کی بعثت کا انسانیت کے لئے احسان عظیم ہونا واضح فرمایا گیا ہے۔ چونکہ مؤمنین کو اس شکست کی سخت کلفت تھی کہ باوجود مسلمان ہونے کے یہ مصیبت کیوں اور کدھر سے آگئی، اس پر صحابہ کرام کو تعجب اور افسوس تھا، نیز منافقین کہا کرتے تھے کہ اگر یہ لوگ گھروں میں بیٹھے رہتے تو ہلاک نہ ہوتے اور ان شہداء کی موت کو بدنصیبی اور محرومی قرار دیتے تھے، اس لئے چھٹی، ساتویں اور آٹھویں آیات کے اندر دوسرے عنوان سے اس عارضی مصیبت و تکلف کی علت و حکمت واضح فرمائی گئی اور اس کے ضمن میں منفاقین کی تردید بھی۔ اور نویں آیت میں ان کے غلط عقیدہ کہ گھروں میں بیٹھے رہنا ہلاکت سے نجات کا سبب ہے تردید کی گی اور دسویں، گیارہویں اور بارہویں آیات میں حضرات شہداء کرام کی اعلی درجہ کی کامیابی اور حیات حقیقیہ اور دائمی نعمتوں کا اثبات فرما دیا گیا ہے۔
خلاصہ تفسیر
اگر حق تعالیٰ تمہارا ساتھ دیں تب تو تم سے کوئی نہیں جیت سکتا اور اگر تمہارا ساتھ نہ دیں تو اس کے بعد ایسا کون ہے جو تمہارا ساتھ دے اور (اور تم کو غالب کر دے) اور صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان والوں کو اعتماد رکھنا چاہیے اور نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ (نعوذ باللہ) خیانت کرے حالانکہ (خائن کی تو قیامت میں رسوائی اور فضیحت ہوگی، کیونکہ) جو شخص خیانت کرے گا وہ شخص اپنی اس خیانت کی ہوئی چیز کو قیامت کے دن (میدان حشر میں) حاضر کرے گا (تاکہ سب خلائق مطلع ہوں اور سب کے روبرو فضیحت اور رسوائی ہو) پھر (میدان قیامت کے بعد) ہر شخص کو (ان خائنوں میں سے) اس کے کئے کا (دوزخ میں) پورا عوض ملے گا اور ان پر بالکل ظلم نہ ہوگا (کہ جرم سے زائد سزا ہونے لگے، غرض خائن تو مغضوب اور مستحق جہنم ہوا اور انبیاء (علیہم السلام) بوجہ رضا جوئی حق کے قیامت میں سربلند ہوں گے پس دونوں امر جمع نہیں ہو سکتے، جیسا آگے ارشاد ہے) سو ایسا شخص جو رضائے حق کا تابع ہو (جیسے نبی) کیا وہ اس شخص کے مثل ہوجائے گا جو کہ غضب الٰہی کا مستحق ہو اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہو، (جیسے خائن) اور وہ جانے کی بری جگہ ہے (ہرگز دونوں برابر نہیں ہوں گے بلکہ) یہ مذکورین (یعنی متبعان رضائے حق اور مغضوبین) درجات میں مختلف ہوں گے اللہ تعالیٰ کے نزدیک (کہ متبع محبوب جنتی ہے اور مغضوب دوزخی ہے) اور اللہ تعالیٰ خوب دیکھتے ہیں ان کے اعمال کو (اس لئے ہر ایک کے مناسب معاملہ فرما دیں گے) حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر (بڑا) احسان کیا، جب کہ ان میں انہی کی جنس سے ایک ایسے (عظیم الشان) پیغمبر کو بھیجا کہ وہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں (اور احکام) پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اور (ظاہری اور باطنی گندگیوں سے) ان لوگوں کی صفائی کرتے رہتے ہیں اور ان کو کتاب (الٰہی) اور سمجھ کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں اور بالیقین یہ لوگ (آپ کی بعثت کے) قبل سے صریح غلطی (یعنی شرک و کفر) میں (مبتلا) تھے اور جب (احد میں) تمہاری ایسی ہار ہوئی جس سے دوگنا تم (بدر میں) جیت چکے تھے (کیونکہ احد میں ستر مسلمان شہید ہوئے اور بدر میں ستر کافروں کو قید اور ستر کو قتل کیا تھا) تو کیا ایسے وقت میں تم (بطور اعتراض نہ سہی بطور تعجب کے) یوں کہتے ہو کہ (باوجود ہمارے مسلمان ہونے کے) یہ (ہار) کدھر سے ہوئی (یعنی کیوں ہوئی) آپ فرما دیجئے کہ یہ ہار تمہاری طرف سے ہوئی (اگر آپ ﷺ کی رائے کے خلاف نہ کرتے تو نہ ہارتے، کیونکہ اس قید کے ساتھ وعدہ نصرت ہوچکا تھا) بیشک اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے (جب تم نے اطاعت کی اپنی قدرت سے تم کو غالب کردیا اور جب خلاف کیا اپنی قدرت سے تم کو مغلوب کردیا) اور جو مصیبت تم پر پڑی جس روز کہ دونوں گروہ (مسلمانوں اور کفار کے) باہم (مقاتلہ کے لئے) مقابل ہوئے۔ (یعنی احد کے دن) سو (وہ مصیبت) اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوئی (کیونکہ چند در چند حکمتیں تھیں جن کا بیان اوپر بھی آ چکا ہے) اور (ان میں سے ایک حکمت یہ ہے) تاکہ اللہ تعالیٰ مؤمنین کو بھی دیکھ لیں (کیونکہ مصیبت کے وقت اخلاص و غیر اخلاص ظاہر ہوجاتا ہے جیسا گذر بھی چکا ہے) اور ان لوگوں کو بھی دیکھ لیں جنہوں نے نفاق کا برتاؤ کیا اور ان سے (شروع جنگ کے وقت جبکہ تین سو آدمیوں نے مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ دیا تھا جیسا کہ پہلے آ چکا ہے) یوں کہا گیا کہ (میدان جنگ میں) آؤ (پھر ہمت ہو تو) اللہ کی راہ میں لڑنا یا (ہمت نہ ہو تو گنتی ہی بڑھا کر) دشمنوں کی مدافعت کرنا (کیونکہ بہت سی بھیڑ دیکھ کر کچھ تو ان پر رعب ہوگا اور اس سے شاید ہٹ جاویں) وہ بولے کہ اگر ہم ڈھنگ کی لڑائی دیکھتے تو ضرور تمہارے ساتھ ہو لیتے (لیکن یہ کوئی لڑائی ہے کہ وہ لوگ تم سے تین چار گنے زیادہ پھر ان کے پاس سامان بھی زیادہ ایسی حالت میں لڑنا ہلاکت میں پڑنا ہے، لڑائی اس کو نہیں کہتے حق تعالیٰ اس پر ارشاد فرماتے ہیں کہ) یہ منافقین اس روز (جبکہ ایسا خشک جواب دیا تھا) کفر سے (ظاہراً بھی) نزدیک تر ہوگئے، بہ نسبت اس حالت کے کہ وہ (پہلے سے ظاہراً) ایمان سے (کسی قدر) نزدیک تھے (کیونکہ پہلے سے گو وہ دل سے مومن نہ تھے مگر مسلمانوں کے سامنے موافقت کی باتیں بناتے رہتے تھے، اس روز ایسی طوطا چشمی غالب ہوئی کہ کھلم کھلا مخالفت کی باتیں منہ سے نکلنے لگیں، اس لئے پہلے سے جو ظاہری قرب ایمان کے ساتھ تھا وہ کفر کے قرب میں تبدیل ہوگیا اور یہ قرب اس قرب سے زیادہ اس لئے ہے کہ موافقت کی باتیں دل سے نہ تھیں، اس لئے زور دار نہ تھیں اور یہ مخالفت کی باتیں دل سے تھیں اس لئے عبارت بھی زور دار تھی) یہ لوگ اپنے منہ سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں (یعنی دل میں تو یہ ہے کہ ان مسلمانوں کا کبھی ساتھ نہ دیں گو لڑائی ڈھنگ ہی کی کیوں نہ ہو) اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ اپنے دل میں رکھتے ہیں (اس لئے ان کے اس قول کا غلط ہونا اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے) یہ ایسے لوگ ہیں کہ (ود تو جہاد میں شریک نہ ہوئے اور) اپنے (2 م نسب) بھائیوں کی نسبت (جو کہ مقتول ہوگئے، گھروں میں) بیٹھے ہوئے باتیں بناتے ہیں کہ اگر ہمارا کہنا مانتے (یعنی ہمارے منع کرنے پر نہ جاتے) تو (بےفائدہ) قتل نہ کئے جاتے، آپ فرما دیجئے کہ اچھا تو اپنے اوپر سے موت کو ہٹاؤ اگر تم (اس خیال میں) سچے ہو (کہ میدان میں جانے سے ہی ہلاکت ہوتی ہو، کیونکہ قتل سے بچنا تو موت ہی سے بچنے کے لئے مقصود ہے جب وقت مقرر پر موت گھر بیٹھے بھی آجاتی ہے تو قتل بھی وقت مقرر پر نہیں ٹل سکتا) اور (اے مخاطب) جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں (یعنی دین کے واسطے) قتل کئے گئے ان کو (اور مردوں کی طرح) مردہ مت خیال کر بلکہ وہ لوگ (ایک ممتاز حیات کے ساتھ) زندہ ہیں (اور) اپنے پروردگار کے مقرب (یعنی مقبول ہیں) ان کو رزق بھی ملتا ہے (اور) وہ خوش ہیں اس چیز سے جو ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم) سے عطا فرمائی (مثلاً درجات قرب وغیرہ یعنی رزق ظاہری بھی ملتا ہے اور رزق معنوی یعنی مسرت بھی) اور (جس طرح وہ اپنے حال پر خوش ہیں اس طرح) جو لوگ (ابھی دنیا میں زندہ (شہداء) خوش ہوتے ہیں کہ (اگر وہ بھی شہید ہوجاویں تو ہماری طرح) ان پر بھی کسی طرح کا خوف واقع ہونے والا نہیں اور نہ وہ (کسی طرح) مغموم ہوں گے (غرض ان کو دو خوشیاں کا سبب یہ بتلایا کہ) وہ (اپنی حالت پر تو) خوش ہوتے ہیں بوجہ نعمت و فضل خداوندی کے (جس کا انہوں نے مشاہدہ کرلیا) اور (دوسروں کی حالت پر خوش ہوتے ہیں) اس وجہ سے کہ جو لوگ ان کے متعلقین پیچھے رہ گئے ہیں اور نیک اعمال جہاد وغیرہ میں لگے ہیں ان کو بھی ایسے ہی انعامات ملیں گے۔)
Ayahs 3:161–163معارف و مسائل
مال غنیمت میں چوری گناہ عظیم ہے کسی نبی سے ایسے گناہ کا احتمال نہیں
آیت ماکان لنبی ان یغل، ایک خاص واقعہ کے متعلق آئی ہے، اس کے ضمن میں غلول، یعنی مال غنیمت کی چوری کا مسئلہ بھی آ گیا۔
واقعہ حسب روایت ترمذی یہ ہے کہ غزوہ بدر میں مال غنیمت میں ایک چادر گم ہوگئی، بعض لوگوں نے کہا کہ شاید رسول اللہ ﷺ نے لے لی ہو، یہ کہنے والے یہ سمجھا ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کو اس طرح کا اختیار ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں غلول کا گناہ عظیم ہونا اور قیامت کے روز اس کی سزائے شدید کا ذکر ہے اور یہ کہ کسی نبی کے متعلق یہ گمان کرنا کہ اس نے یہ گناہ کیا ہوگا نہایت بیہودہ جسارت ہے، کیونکہ انبیاء ہر گناہ سے معصوم ہوتے ہیں۔ لفظ غلول مطلق خیانت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور خاص کر مال غنیمت کی خیانت کے لئے بھی اور مال غنیمت میں چوری اور خیانت کا جرم عام چوریوں اور خیانتوں سے زیادہ اشد ہے، کیونکہ مال غنیمت میں پورے لشکر اسلام کا حق ہوتا ہے، تو جس نے اس میں چوری کی اس نے سینکڑوں ہزاروں آدمیوں کی چوری کی، اگر کسی وقت اس کو تلافی کا خیال بھی آوے تو بہت مشکل ہے کہ سب کو ان کا حق پہنچائے یا معاف کرائے۔ بخلاف دوسری چوریوں کے کہ مال کا مالک معلوم و متعین ہے، کسی وقت اللہ نے توبہ کی توفیق دی تو اس کا حق ادا کر کے یا معاف کرا کر بری ہوسکتا ہے، یہی وجہ تھی کہ ایک غزوہ میں ایک شخص نے اون کا کچھ حصہ چھپا کر اپنے پاس رکھ لیا تھا، مال غنیمت تقسیم ہونے کے بعد اس کو خیال آیا تو حضور ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا۔ آپ نے باوجود رحمتہ للعالمین ہونے اور امت پر ماں باپ سے زیادہ شفیق ہونے کے اس کو یہ کہہ کر واپس کردیا کہ اب میں اس کو کس طرح سارے لشکر میں تقسیم کروں، اب تو قیامت کے روز ہی تم اس کو لے کر حاضر ہو گے۔ اسی لئے غلول کی سزا بھی عام چوریوں سے زیادہ اشد ہے کہ میدان حشر میں جہاں ساری مخلوق جمع ہوگی، سب کے سامنے اس کو اس طرح رسوا کیا جائے گا کہ جو مال چوری کیا تھا وہ اس کی گردن پر لدا ہوا ہوگا، صحیحین میں بروایت حضرت ابوہریرہ مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دیکھو ایسا نہ ہو کہ قیامت میں کسی کو اس طرح دیکھوں کہ اس کی گردن پر ایک اونٹ لدا ہوا ہو (اور یہ اعلان ہوتا ہے کہ اس نے مال غنیمت کا اونٹ چرایا تھا) وہ شخص اگر مجھ سے شفاعت کا طالب ہوگا تو میں اس کو صاف جواب دے دوں گا کہ میں نے حکم الہی پہنچا دیا تھا اب میں کچھ نہیں کرسکتا۔ اللہ بچائے یہ میدان حشر کی رسوئی ایسی ہوگی کہ بعض روایات میں ہے کہ جن کے ساتھ یہ معاملہ ہوگا وہ تمنا کریں گے کہ ہمیں جہنم میں بھیج دیا جائے مگر اس رسوائی سے بچ جائیں۔
اموال اوقاف اور سرکاری خزانہ میں چوری بحکم غلول ہے۔
یہی حال مساجد، مدارس، خانقاہوں اور اوقاف کے اموال کا ہے جس میں ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کا چندہ ہوتا ہے، اگر معاف بھی کرائے تو کس کس سے معاف کرائے، اسی طرح حکومت کے سرکاری خزانے (بیت المال) کا حکم ہے، کیونکہ اس میں پورے ملک کے باشندوں کا حق ہے، جو اس میں چوری کرے اس نے سب کی چوری کی، مگر چونکہ یہی اموال عموماً ایسے ہوتے ہیں جن کا کوئی شخص مالک نہیں ہوتا، نگرانی کرنے والے بےپروائی کرتے ہیں، چوری کے مواقع بکثرت ہوتے ہیں، اس لئے آج کل دنیا میں سب سے زیادہ چوری اور خیانت انہی اموال میں ہو رہی ہے اور لوگ اس کے انجام بد اور وبال عظیم سے غافل ہیں کہ اس جرم کی سزا علاوہ عذاب جہنم کے میدان حشر کی رسوائی بھی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی شفاع سے محرومی بھی (نعوذ باللہ منہ)