Ayah 3:120اس کافرانہ ذہنیت کی مزید توضیح یہ ہے کہ ان تمسسکم حسنۃ یعنی ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر تمہیں کوئی اچھی حالت پیش آجائے تو یہ ان لوگوں کو دکھ پہنچاتی ہے اور اگر تم پر کوئی بری حالت آپڑتی ہے تو یہ اس سے خوش ہوتے ہیں۔ پھر منافقوں کے کید و مکر اور شدید مخالفین کے عناد اور مخالفت کے نتائج سے محفوظ رہنے کا آسان اور سہل الاصول نسخہ یہ بیان کیا گیا کہ (وان تصبروا وتتقوا لا یضرکم کیدھم شیئا ان اللہ بما یعملون محیط) اگر تم صبر اور تقوی اختیار کئے رہو تو تم کو ان کی چالیں ذرا بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گی۔
مسلمانوں کی فتح و کامیابی اور تمام مشکلات میں آسانی کا راز صبر اور تقوی کی دو صفتوں میں مضمر ہے۔
قرآن کریم نے مسلمانوں کو ہر قسم کے مصائب اور پریشانیوں سے محفوظ رہنے کے لئے صبر وتقوی کو صرف اسی آیت میں نہیں بلکہ دوسری آیات میں بھی ایک موثر علاج کی حیثیت سے بیان فرمایا، اسی رکوع کے بعد دوسرے رکوع میں ہےبلی ان تصبروا و تتقوا ویاتوکم من فورھم ھذا یمددکم ربکم بخمسۃ الاف من الملئکۃ مسومین۔ (3: 125) اس میں امداد غیبی کا وعدہ انہی دو شرطوں یعنی صبر وتقوی پر موقوف رکھا گیا ہے، سورة یوسف میں فرمایاانہ من یتق ویصبر۔ (12: 90) اس میں بھی فلاح و کامیابی صبر وتقوی کے ساتھ وابستہ بتلائی گئی ہے، اسی سورة کے ختم پر صبر کی تلقین ان الفاظ میں کی جارہی ہےیایھا الذین امنوا اصبروا و صابروا ورابطوا واتقوا اللہ لعلکم تفلحون۔ (3: 200) اس میں بھی فلاح و کامیابی کو صبر وتقوی پر معلق کیا گیا ہے۔ صبر وتقوی مختصر عنوان کے اندر انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر شعبہ عوامی اور فوجی نظم و نسق کا ایک کامیاب ضابطہ بڑی جامعیت کے ساتھ آگیا۔ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کا ارشاد گرامی ہےعن ابی ذر قال قال رسول اللہ ﷺ انی لاعلم ایۃ لواخذ الناس بھا لکفتھم ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا الایۃ۔ (65: 2) رواہ احمد) " رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں کہ اگر لوگ اس پر عمل اختیار کرلیں تو ان کے دین و دنیا کے لئے وہی کافی ہے وہ آیت یہ ہے ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا۔ یعنی جو شخص اللہ سے ڈرے اللہ تعالیٰ اس کے لئے راستہ نکال دیتے ہیں "۔
Ayah 3:121ربط آیات
گزشتہ آیات میں بیان ہوا تھا کہ اگر مسلمان صبر وتقوی پر قائم رہیں تو کوئی طاقت ان کو ضرر نہیں پہنچا سکتی، اور یہ کہ غزوہ احد کے موقع پر جو عارضی شکست اور تکلیف مسلمانوں کو پہنچی وہ انہی دو چیزوں میں بعض حضرات کی طرف سے کوتاہی کی بناء پر تھی، مذکورہ آیات میں اسی غزوہ احد کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، اور غزوہ بدر میں فتح کا۔
خلاصہ تفسیر
اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جب کہ آپ صبح کے وقت (تاریخ قتال سے پہلے) اپنے گھر سے (اس غرض سے) نکلے (کہ) مسلمانوں کو (کفار سے) مقاتلہ کرنے کے لئے (مناسب) مقامات پر جمانے (کے لئے آمادہ کر) رہے تھے (پھر اسی تجویز کے مطابق سب کو ان مقامات پر جمادیا) اور اللہ تعالیٰ (اس وقت کی باتیں) سب سن رہے تھے (اور اس وقت کے حالات) سب جان رہے تھے (اسی کے ساتھ یہ قصہ بھی ہوا کہ) تم (مسلمانوں) میں سے دو جماعتوں نے (کہ وہ بنی سلمہ اور بنی حارثہ ہیں) دل میں خیال کیا کہ ہمت ہاریں (اور ہم بھی عبداللہ بن ابی منافق کی طرح اپنے گھر جابیٹھیں) اور اللہ تعالیٰ تو ان دونوں جماعتوں کا مددگار تھا، (بھلا ان کو کب ہمت ہارنے دیتا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس خیال پر عمل کرنے سے محفوظ رکھا) اور (ہم آئندہ کے لئے ان جماعتوں اور سب کو نصیحت کرتے ہیں کہ جب تم مسلمان ہو) پس مسلمانوں کو تو اللہ تعالیٰ ہی پر اعتماد کرنا چاہئے (اور ایسی کم ہمتی کبھی نہ کرنا چاہئے) اور یہ بات محقق ہے کہ حق تعالیٰ نے تم کو (غزوہ) بدر میں منصور فرمایا، حالانکہ تم (محض) بےسروسامان تھے (کیونکہ مجمع بھی کفار کے مقابلہ میں کم تھا، وہ ایک ہزار تھے اور مسلمان تین سو تیرہ تھے اور ہتھیار وغیرہ بھی بہت کم تھے) سو (چونکہ یہ منصور بدولت تقوی کے تھا جس میں استقلال و صبر بھی داخل ہے تو تم پر لازم ہے کہ آئندہ بھی) اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو (اسی کا نام تقوی ہے) تاکہ تم (اس نعمت نصرت کے) شکر گزار رہو، (کیونکہ شکر گزاری صرف زبان کے ساتھ خاص نہیں بلکہ پورا شکر یہ ہے کہ زبان اور قلب بھی مشغول ہو اور اطاعت کی بھی پابندی ہو بالخصوص جبکہ اس اطاعت کا اس نعمت میں دخیل ہونا بھی ثابت ہوجائے)۔
معارف و مسائل
غزوہ احد کا پس منظرآیت مذکورہ کی تفسیر سے قبل ضروری ہے کہ غزوہ احد کے واقعاتی پس منظر کو سمجھ لیا جائے۔ رمضان المبارک 2 ھ میں بدر کے مقام پر قریشی فوج اور مسلمان مجاہدین میں جنگ ہوئی، جس میں کفار مکہ ستر نامور اشخاص مارے گئے، اور اسی قدر گرفتار ہوئے، اس تباہ کن اور ذلت آمیز شکست سے جو حقیقتا عذاب الہی کی پہلی قسط تھی قریش کا جذبہ انتقام بھڑک اٹھا، جو سردار مارے گئے تھے ان کے اقارب نے تمام عرب کو غیر دلائی، اور یہ معاہدہ کیا کہ جب تک ہم اس کا بدلہ مسلمانوں سے نہ لے لیں گے چین سے نہ بیٹھیں گے، اور اہل مکہ سے اپیل کی کہ ان کا تجارتی قافلہ جو مال شام سے لایا ہے وہ سب اسی مہم پر خرچ کیا جائے تاکہ ہم محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے اپنے مقتولین کا بدلہ لے سکیں، سب نے منظور کیا، اور 3 ھ میں قریش کے ساتھ بہت سے دوسرے قبائل بھی مدینہ پر چڑھائی کرنے کی غرض سے نکل پڑے، حتی کہ عورتیں بھی ساتھ آئیں تاکہ موقع آنے پر مردوں کو غیرت دلا کر پسپائی سے روک سکیں، جس وقت یہ تین ہزار کا لشکر اسلحہ وغیرہ سے پوری طرح آراستہ ہو کر مدینہ سے تین چار میل جبل احد کے قریب خیمہ زن ہوا تو نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا۔ آپ کی رائے مبارک یہ تھی کہ مدینہ کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ بہت آسانی اور کامیابی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے، یہ پہلا موقع تھا اس کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی جو بظاہر مسلمانوں میں شامل تھا، اس سے بھی رائے لی گئی، جو حضور ﷺ کی رائے کے موافق تھی مگر بعض پرجوش مسلمان جنہیں بدر کی شرکت نصیب نہ ہوئی تھی اور شوق شہادت بےچین کر رہا تھا مصر ہوئے کہ ہم کو باہر نکل کر مقابلہ کرنا چاہئے، تاکہ دشمن ہمارے بارے میں بزدلی اور کمزوری کا گمان نہ کرے، کثرت رائے اسی طرف ہوگئی۔ اس عرصہ میں آپ ﷺ مکان کے اندر تشریف لے گئے، اور زرہ پہن کر باہر آئے، تو اس وقت بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ ہم نے آپ کو آپ کی رائے کے خلاف مدینہ سے باہر جنگ کرنے پر مجبور کیا، یہ غلط ہوا، اس لئے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اگر آپ کا منشاء نہ ہو تو یہیں تشریف رکھئے، فرمایا " ایک پیغمبر کو سزاوار نہیں کہ جب وہ زرہ پہن لے اور ہتھیار لگا لے پھر بدون قتال کئے ہوئے بدن سے اتارے " اس جملہ میں نبی اور غیر نبی کا فرق واضح ہورہا ہے کہ نبی کی ذات سے کبھی کمزوری کا اظہار نہیں ہوسکتا، اور اس میں امت کے لئے بھی ایک بڑا سبق ہے۔
جب آپ ﷺ مدینہ سے باہر تشریف لے گئے، تقریبا ایک ہزار آدمی آپ کے ساتھ تھے، مگر منافق عبداللہ بن ابی تقریبا تین سو آدمیوں کو ساتھ لے کر راستہ سے یہ کہتا ہوا واپس ہوگیا کہ جب میرا مشورہ نہ مانا اور دوسروں کی رائے پر عمل کیا تو ہم کو لڑنے کی ضرورت نہیں، کیوں ہم خواہ مخواہ اپنے کو ہلاکت میں ڈالیں، اس کے ساتھیوں میں زیادہ تو منافقین ہی تھے، مگر بعض مسلمان بھی ان کے فریب میں آکر ساتھ لگ گئے تھے۔
آخر آپ کل سات سو سپاہیوں کی جمعیت لے کر میدان جنگ میں پہنچ گئے، آپ نے بہ نفس نفیس فوجی قاعدہ سے صفیں ترتیب دیں، صف آرائی اس طرح کی کہ احد کو پشت کی جانب رکھا، اور دوسرے انتظامات اس طرح کئے کہ حضرت مصعب بن عمیر کو علم (جھنڈا) عنایت کیا، حضرت زبیر بن عوام کو رسالہ کا افسر مقرر کیا، حضرت حمزہ کو اس حصہ فوج کی کمان ملی جو زرہ پوش نہ تھے، پشت کی طرف احتمال تھا کہ دشمن ادھر سے آئے، اس لئے پچاس تیر اندازوں کا دستہ متعین کیا، اور حکم دیا کہ وہ پشت کی جانب ٹیلہ پر حفاظت کا کام سرانجام دیں، لڑنے والوں کی فتح و شکست سے تعلق نہ رکھیں اور اپنی جگہ سے نہ ہٹیں، عبداللہ بن جبیر ان تیر اندازوں کے افسر مقرر ہوئے، قریش کو بدر میں تجربہ ہوچکا تھا اس لئے انہوں نے بھی ترتیب سے صف آرائی کی۔
نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کی جنگی ترتیب غیروں کی نظر میں
نبی کریم ﷺ کی اس صف آرائی اور فوجی قواعد کے لحاظ سے نظم و ضبط کو دیکھ کر یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ حضور اکرم ﷺ امت کے رہبر کامل، مقدس نبی ہونے کے ساتھ سپہ سالار اعظم کے لحاظ سے بھی بےنظیر ہیں، آپ نے جس انداز میں مورچے قائم کئے اور لڑائی کا نظم قائم کیا، اس وقت کی دنیا اس سے ناآشنا تھی، اور آج جبکہ فن حرب ایک مستقل سائنس کی حیثیت اختیار کرگیا ہے، وہ بھی آپ کے فوجی قواعد اور نظم و ضبط کو سراہتا ہے، اسی حقیقت کو دیکھ کر ایک مسیحی مورخ بول اٹھا
" برخلاف اپنے مخالفین کے جو محض ہمت و شجاعت ہی رکھتے تھے محمد ﷺ نے کہنا چاہئے کہ فن حرب کی بھی نئی راہ نکالی، مکہ والوں کی بےدھڑک اور اندھا دھند لڑائی کے مقابلہ میں خود دور اندیشی اور سخت قسم کے نظم و ضبط سے کام لیا "۔ یہ الفاظ بیسیوں صدی کے ایک مورخ ٹام انڈر کے ہیں جو اس نے لائف آف محمد میں بیان کئے۔
جنگ کا آغاز
اس کے بعد جنگ شروع ہوئی ابتداء مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا، یہاں تک کہ مقابل کی فوج میں ابتری پھیل گئی، مسلمان سمجھے کہ فتح ہوگئی، مال غنیمت کی طرف متوجہ ہوئے ادھر جن تیر اندازوں کو نبی کریم ﷺ نے پشت کی جانب حفاظت کے لئے بٹھایا تھا انہوں نے جب دیکھا کہ دشمن بھاگ نکلا ہے تو وہ بھی اپنی جگہ چھوڑ کر پہاڑ کے دامن کی طرف آنے لگے، حضرت عبداللہ بن جبیر نے ان کو نبی کریم ﷺ کا تاکیدی حکم یاد دلا کر روکا، مگر چند آدمیوں کے سوا دوسروں نے کہا کہ حضور کے حکم کی تعمیل تو موقت تھی اب ہمیں سب کے ساتھ مل جانا چاہئے، اس موقع سے خالد بن ولید نے جو ابھی تک مسلمان نہ تھے اور اس وقت لشکر کفار کے رسالہ کی کمان کر رہے تھے، بروقت فائدہ اٹھایا، اور پہاڑی کا چکر کاٹ کر عقب کے درہ سے حملہ کردیا، عبداللہ بن جبیر اور ان کے قلیل ساتھیوں نے اس حملہ کو ہمت و شجاعت سے روکنا چاہا، مگر مدافعت نہ کرسکے، اور یہ سیلاب یکایک مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا، دوسری طرف جو دشمن بھاگ گئے تھے وہ بھی پلٹ کر حملہ آور ہوگئے، اس طرح لڑائی کا پانسہ ایک دم پلٹ دیا، اور مسلمان اس غیر متوقع صورت حال سے اس قدر سراسیمہ ہوئے کہ ان کا ایک بڑا حصہ پراگندہ ہو کر میدان سے چلا گیا، تاہم کچھ صحابہ ابھی تک میدان میں ڈٹے ہوئے تھے، اتنے میں کہیں سے یہ افواہ اڑ گئی کہ نبی کریم ﷺ شہید ہوگئے، اس خبر نے صحابہ کے رہے سہے ہوش و حواس بھی گم کردیئے اور باقی ماندہ لوگ بھی ہمت ہار کر بیٹھ گئے، اس وقت نبی کریم ﷺ کے گرد وپیش صرف دس بارہ جان نثار رہ گئے تھے، اور آپ خود بھی زخمی ہوگئے تھے، شکست کی تکمیل میں کوئی کسر باقی نہیں رہی تھی، کہ عین وقت پر صحابہ کو معلوم ہوگیا کہ آنحضرت ﷺ بسلامت تشریف رکھتے ہیں۔ چناچہ وہ ہر طرف سے سمٹ کر پھر آپ کے گرد جمع ہوگئے اور آپ کو بہ سلامت پہاڑی کی طرف لے گئے، اس شکست کے بعد مسلمان حد درجہ پریشان رہے اور یہ عارضی شکست چند اسباب کا نتیجہ تھی، قرآن مجید نے ہر سبب پر جچے تلے الفاظ میں تبصرہ کیا اور آئندہ کے لئے محتاط رہنے کی تلقین فرمائی۔
اس واقعہ کی تفصیل میں کچھ ایسے واقعات ہیں جو اپنے اندر عظیم سبق لئے ہوئے ہیں۔ اور اس میں تمام مسلمانوں کے لئے موعظت و نصیحت کے جواہر پارے مخفی ہیں۔
احد کے واقعہ سے چند سبق
1۔ پہلی بات جیسا کہ پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ کفار قریش اس جنگ میں عورتوں کو بھی لائے تھے تاکہ وہ مردوں کو پسپائی سے روک سکیں، نبی کریم ﷺ نے دیکھا کہ عورتیں ہندہ زوجہ ابی سفیان کی سربراہی میں اشعار گا کر مردوں کو جوش دلا رہی ہیں
ان تقبلوا نعانق ونفرش النمارق
او تدبروا نفارق فراق غیر وامق
" مطلب یہ تھا کہ اگر مقابلہ پر ڈٹے رہے اور فتح پائی تو ہم تم کو گلے لگائیں گے، اور تمہارے لئے نرم بستر بچھائیں گے، لیکن اگر تم نے پیٹھ موڑی تو ہم تم کو بالکل چھوڑدیں گے " خاتم الانبیاء ﷺ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ دعائیہ جاری تھےاللھم بک اصول وبک اقاتل حسبی اللہ ونعم الوکیل۔ " اے اللہ میں تجھ ہی سے قوت حاصل کرتا ہوں اور تیرے ہی نام سے حملہ کرتا ہوں اور تیرے ہی دین کے لئے قتال کرتا ہوں، اللہ ہی کافی ہے اور وہ بڑا اچھا کارساز ہے "۔
اس دعا کا ایک ایک لفظ تعلق مع اللہ کی تاکید اور مسلمانوں کے تمام افعال و اعمال حتی کہ جنگ و قتال کو بھی دیگر اقوام کے جنگ و قتال سے ممتاز کر رہا ہے۔ 2۔ دوسری چیز قابل غور یہ ہے کہ اس غزوہ میں بعض صحابہ نے بہادری و شجاعت و جاں نثاری اور فدائیت کے وہ نقوش چھوڑے کہ تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے، حضرت ابو دجانہ نے اپنے جسم کو حضور ﷺ کے لئے ڈھال بنالیا تھا کہ ہر آنے والا تیر اپنے سینہ پر کھاتے تھے، حضرت طلحہ نے بھی اسی طرح اپنے بدن کو چھلنی کرالیا تھا، لیکن حضور کی رفاقت کو نہیں چھوڑا، حضرت انس بن مالک کے چچا حضرت انس بن النضر جنگ بدر سے غیر حاضر رہے تھے اس لئے ان کو اس کا افسوس تھا، آرزو کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ کی رفاقت میں اگر کوئی موقع ہاتھ آیا تو اپنے دل کی حسرت پوری کروں گا۔ جب کچھ دن کے بعد جنگ احد کا واقعہ پیش آیا تو انس بن النضر شریک ہوئے مسلمان جب منتشر ہوگئے تھے اور کفار قریش کا سیلاب امنڈ رہا تھا تو یہ اپنی تلوار لے کر آگے بڑھے، اتفاقا حضرت سعد سے ملاقات ہوئی، سعد بھی منتشر ہونے والوں میں جا رہے تھے، پکار کر کہا، سعدکہاں چلے جارہے ہو ؟ میں تو احد کے اس دامن میں جنت کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں۔ یہ کہہ کر آگے بڑھے اور شدید قتال کے بعد اپنی جان جہاں آفریں کے سپرد کردی۔ (ابن کثیر) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ جب مسلمان منتشر ہوگئے اس وقت حضور اکرم ﷺ کے ساتھ صرف گیارہ حضرات رہ گئے تھے جن میں حضرت طلحہ بھی تھے، کفار قریش کا سیلاب امڈ رہا تھا، حضور اکرم ﷺ نے فرمایا، کون ان کی خبر لے گا ؟ حضرت طلحہ بول ا تھے، میں یا رسول اللہایک دوسرے انصاری صحابی نے کہامیں حاضر ہوں۔ انصاری کو آپ نے جانے کا حکم دیا، وہ قتال کے بعد شہید ہوگئے، پھر ایک ریلہ آیا آپ نے پھر وہی سوال کیا، حضرت طلحہ نے وہی جواب دیا، اور بےتاب ہورہے تھے کہ حضور حکم دیں تو میں آگے بڑھوں، حضور نے پھر کسی دوسرے انصاری صحابی کو بھیج دیا، اور حضرت طلحہ کی تمنا پوری نہیں ہوئی، اسی طرح سات بار حضور نے کہا اور ہر مرتبہ حضرت طلحہ کو اجازت نہیں دی گئی، اور دوسرے صحابہ کو اجازت دی جاتی تھی وہ شہید ہوجاتے تھے۔ جنگ بدر میں باوجود قلت تعداد کے مسلمانوں کو فتح ہوئی، غزوہ احد میں بدر کی بہ نسبت کثرت تھی، پھر بھی شکست ہوئی، اس میں بھی مسلمانوں کے لئے عبرت ہے کہ مسلمان کو کبھی کثرت سازو سامان پر نہیں جانا چاہئے، بلکہ فتح کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے سمجھے اور اسی سے اپنے تعلق کو مضبوط رکھے۔
جنگ یرموک کے موقع پر جب محاذ جنگ سے حضرت عمر کو مزید فوجی کمک بھیجنے کے لئے لکھا گیا اور قلت تعداد کی شکایت کی گئی تو تحریر فرمایا
(قد جاءنی کتابکم تستمدوننی وانی ادلکم علی من ھو اعز نصرا واحصن جندا اللہ عزوجل فاستنصروہ فان محمدا ﷺ قد نصر فی یوم بدر فی اقل من عدتکم فاذا جاء کم کتابی ھذا فقاتلوھم ولا تراجعونی۔ (بحوالہ مسند احمد)
" میرے پاس تمہارا خط آیا جس میں تم نے زیادہ فوجی مدد طلب کی ہے لیکن میں تم کو ایک ایسی ذات کا پتہ دیتا ہوں جو نصرت کے لحاظ سے سب سے زیادہ غالب اور فوج کے لحاظ سے زیادہ محفوظ ہے وہ اللہ رب العالمین کی ذات ہے، لہذا تم اسی سے مدد طلب کرو محمد ﷺ کو بدر میں باوجود قلت عدد کے مدد دی گئی، جب میرا یہ خط تم کو پہنچے تو ان پر ٹوٹ پڑو اور مجھ سے اس سلسلہ میں کوئی مراجعت نہ کرو "۔
اس واقعہ کے راوی بیان کرتے ہیں کہ جب ہم کو یہ خط ملا ہم نے اللہ کا نام لے کر کفار کے لشکر کثیر پر یکبارگی حملہ کیا جس میں ان کو شکست فاش ہوئی، حضرت فاروق اعظم کو معلوم تھا کہ مسلمانوں کی فتح و شکست، قلت و کثرت پر دائر نہیں ہوتی، بلکہ اللہ پر توکل اور اس کی مدد پر موقوف ہے جیسا کہ قرآن کریم نے غزوہ حنین کے بارے میں اس حقیقت کو وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا، ارشاد ہےیوم حنین اذ اعجبتکم کثرتکم فلم تغن عنکم شیئا۔ (9: 25)
" یعنی غزوہ حنین کو یاد کرو جب کہ تم کو اپنی کثرت پر ناز ہوگیا تھا، تو یہ کثرت تم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکی "۔
اب آیات کی تفسیر پر غور فرمائیےاذ غدوت من اھلک یعنی جبکہ آپ صبح کے وقت اپنے گھر سے چلے، جنگ کے لئے مختلف مورچوں پر مسلمانوں کو بٹھا رہے تھے قرآن مجید کا نقل واقعات میں ایک خاص معجزانہ اسلوب ہے کہ وہ عام طور پر کوئی واقعہ پوری تفصیل اور جزئیات کے ساتھ بیان نہیں کیا کرتا، مگر جن واقعات اور جزئیات میں خاص ہدایات مضمر ہوتی ہیں وہ بیان کی جاتی ہیں، مذکورہ آیت میں جو خاص جزوی امور کی تصریح ہے، مثلا گھر سے نکلنے کا وقت کیا تھا، اس کو لفظ غدوت سے بیان فرمادیا، اور روایات حدیث سے یہ ثابت ہے کہ یہ صبح ساتویں تاریخ شوال کی 3 ھ کی تھی۔ اس کے بعد یہ بھی بتلایا کہ اس سفر کی ابتداء کس جگہ سے ہوئی، من اھلک کے لفظ سے اشارہ ہوا کہ آپ اس وقت اپنے اہل و عیال میں تھے، ان کو وہیں چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے حالانکہ یہ حملہ مدینہ پر ہونے والا تھا، ان جزوی حالات میں یہ ہدایت مضمر ہے کہ جب اللہ کا حکم آجائے تو اس کی تعمیل میں اہل و عیال کی محبت سنگ راہ نہیں ہونی چاہئے، اس کے بعد گھر سے نکل کر محاذ جنگ تک پہنچنے کے جزئی واقعات کو چھوڑ کر محاذ جنگ کا پہلا کام یہ بیان کیا گیا کہتبوی المومنین مقاعد للقتال، یعنی آپ مسلمانوں کو قتال کے لئے مناسب مقامات پر جما رہے تھے پھر اس آیت کو اس طرح ختم کیا گیا کہ واللہ سمیع علیم یعنی اللہ تعالیٰ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے، سمیع علیم کی صفات کو یاد دلا کر اس طرف اشارہ کردیا کہ اس وقت مخالفین و موافقین دونوں جو کچھ اپنی اپنی جگہ پر کہہ سن رہے تھے وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں آچکا، اور اس موقع پر مخالفین و موافقین کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس میں سے کوئی شے اس سے مخفی نہیں رہی، اور اسی طرح اس جنگ کا انجام بھی اس سے مخفی نہیں۔
Ayah 3:122اس کے بعد دوسری آیت ہے اذ ھمت طائفتن منکم ان تفشلا۔
یعنی جب تم میں سے دو جماعتیں اس کا خیال کر بیٹھیں کہ ہمت ہار دیں، درآنحالیکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا ان دونوں جماعتوں سے مراد قبیلہ اوس کے بنی حارثہ اور قبیلہ خزرج کے بنی سلمہ ہیں، ان دونوں جماعتوں نے عبداللہ بن ابی کی مثال دیکھ کر اپنے میں کمزوری اور کم ہمتی محسوس کی لیکن اللہ کے فضل نے دستگیری کی اور اس وسوسہ کو وسوسہ کے درجہ سے آگے نہ بڑھنے دیا اور یہ خیال بھی جو انہیں پیدا ہوا، اپنی قلت تعداد، قلت سامان اور مادی کمزوری کی بناء پر تھا، نہ کہ ضعف ایمان کی بناء پر، مغازی کے مشہور امام مورخ ابن ہشام نے اس کو واضح فرمادیا ہے، اور واللہ ولیھما کا جملہ خود ان کے ایمان کامل کا شہادت دے رہا ہے اس لئے ان دونوں قبیلوں کے بعض بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ" اگرچہ اس آیت میں ہم پر کچھ عتاب بھی ہے لیکن واللہ ولیھما کی بشارت بھی ہمارے لئے آئی ہے "۔ اس آیت کے آخر میں فرمایا " مسلمانوں کو اللہ پر اعتماد رکھنا چاہئے "، اس میں واضح کردیا کہ کثرت عدد اور سازوسامان پر مسلمانوں کو اعتماد نہیں کرنا چاہئے، بلکہ بقدر استطاعت مادی سامان جمع کرنے کے بعد بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک پر ہونا چاہئے، بنو حارثہ اور بنو سلمہ کو کمزوری اور کم ہمتی کا جو وسوسہ پیدا ہوا تھا وہ اسی مادی ضعف کی بناء پر تھا اس لئے ان کے وسوسہ کا علاج توکل سے بتلایا گیا کہ توکل و اعتماد ان وساوس کے لئے نسخہ اکسیر ہے۔ توکل انسان کی اعلی صفات میں سے ہے، محققین صوفیا نے اس کی حقیقت پر مفصل بحثیں کی ہیں، یہاں اس قدر سمجھئے کہ توکل کے معنی یہ نہیں کہ تمام اسباب ظاہری سے بالکل قطع تعلق کر کے اللہ پر اعتماد کیا جائے، بلکہ توکل یہ ہے کہ تمام اسباب ظاہری کو اپنی قدرت کے مطابق جمع کرے اور اختیار کرے، اور پھر نتائج اللہ کے سپرد کرے، اور ان ظاہری اسباب پر فخر و ناز نہ کرے، بلکہ اعتماد صرف اللہ پر رہے، نبی کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ ہمارے سامنے ہے، خود اسی جہاد میں مسلمانوں کے لشکر کو جنگ کے لئے منظم کرنا، اپنی قدرت کے موافق اسلحہ اور دیگر سامان حرب فراہم کرنا، محاذ جنگ پر پہنچ کر مناسب حال و مقام نقشہ جنگ تیار کرنا، مختلف مورچے بنا کر صحابہ کرام کو ان پر بٹھانا وغیرہ۔ یہ سب مادی انتظامات ہی تو تھے جن کو سید الانبیاء ﷺ نے اپنے دست مبارک سے استعمال فرماکر بتلادیا کہ مادی اسباب بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں، ان سے قطع نظر کرنے کا نام توکل نہیں، یہاں مومن اور غیر مومن میں فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ مومن سب سامان اور مادی طاقتیں حسب قدرت جمع کرنے کے بعد بھی بھروسہ و توکل صرف اللہ پر کرتا ہے، غیر مومن کو یہ روحانیت نصیب نہیں، اس کو صرف اپنی مادی طاقت پر بھروسہ ہوتا ہے، اور اسی فرق کا ظہور تمام اسلامی غزوات میں ہمیشہ مشاہدہ ہوتا رہا ہے۔ اب اس کے بعد اس غزوہ کی طرف ذہن کو منتقل کیا جارہا ہے جس میں مسلمانوں نے کامل توکل کا مظاہرہ کیا تھا، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیابی و نصرت سے سرفراز کیا تھا،
Ayah 3:123ارشاد ہے (ولقد نصرکم اللہ ببدر وانتم اذلۃ)
یعنی اس وقت کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے بدر میں تمہاری امداد فرمائی، جبکہ تم تعداد میں بھی صرف تین سو تیرہ تھے، اور وہ بھی سب بےسروسامان۔
بدر کی اہمیت اور اس کا محل وقوع
بدر مدینہ کے جنوب مغرب میں کوئی اسی میل کے فاصلہ پر ایک پر اؤ اور منڈی کا نام ہے۔ اس وقت اس کو اس لئے اہمیت حاصل تھی کہ یہاں پانی کی افراط تھی، اور یہ عرب کے ریگستانی میدانوں میں بڑی چیز تھی، توحید اور شرک کے درمیان یہیں سب سے پہلا معرکہ بروز جمعہ 17، رمضان المبارک 2 ھ مطابق 11 مارچ 624 ء کو پیش آیا تھا، یہ غزوہ بظاہر تو ایک مقامی جنگ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے دنیا کی تاریخ میں ایک عظیم انقلاب پیدا کردیا، اسی لئے قرآن کی زبان میں اس کو یوم الفرقان کہا گیا ہے، فرنگی مورخوں نے بھی اس کی اہمیت کا اقرار کیا ہے۔ امریکی پروفیسر ہٹی اپنی کتاب ہسٹری آف دی عربین میں کہتا ہے" یہ اسلام کی سب سے پہلی فتح مبین تھی "۔ وانتم اذلۃ، یعنی تم اس وقت تعداد میں قلیل اور سامان میں حقیر تھے، مسلمان تعداد میں قوی روایات کے مطابق 313 تھے، اس فوج کے ہمراہ گھوڑے صرف دو تھے، اور اونٹ ستر کی تعداد میں تھے، انہی پر لوگ باری باری سوار ہوتے تھے۔
آخر کی آیت میں فرمایا گیا فاتقوا اللہ لعلکم تشکرون، یعنی اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تم شکر گزار ہو "۔ قرآن نے جگہ جگہ منافقین کے کید اور شدید مخالفین کے عناد و مخالفت کے نتائج بد سے محفوظ رہنے کے لئے تقوی اور صبر بتلایا ہے، انہی دو چیزوں کے اندر ساری تنظیمی جدوجہد اور فتح مبین کا راز مضمر ہے، جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے، اور یہاں صبر وتقوی کے بجائے صرف تقوی پر اکتفاء کیا گیا ہے، کیونکہ درحقیقت تقوی ایسی صفت جامع ہے کہ صبر بھی اس میں شامل ہے۔
Ayah 3:124ربط آیات
سابقہ آیات میں بضمن قصہ احد غزوہ بدر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امداد غیبی ہونے کا ذکر تھا، آگے اس امداد کی کچھ تفصیل اور فرشتوں کے بھیجنے کی حکمت کا بیان ہے۔
خلاصہ تفسیر
اذ تقول للمومنین (الی) فینقلبوا خائبین، (غزوہ بدر میں اللہ تعالیٰ کی یہ امداد اس وقت ہوئی تھی) جب آپ (اے محمد ﷺ مسلمانوں سے یوں فرما رہے تھے کہ کیا تم کو (تقویت قلب کے لئے) یہ امر کافی نہ ہوگا کہ تمہارا رب تمہاری امداد کرے تین ہزار فرشتوں کے ساتھ (جو اسی کام کے لئے آسمان سے) اتارے جاویں گے (جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے درجے کے فرشتے ہوں گے، ورنہ جو فرشتے پہلے سے زمین پر موجود تھے ان سے بھی یہ کام لیا جاسکتا تھا (روح) پھر اوپر کے استفہام کا خود جواب اس طرح ارشاد فرمایا) ہاںکیوں نہیں (کافی ہوگا، اس کے بعد اس امداد میں مزید زیادتی کا وعدہ اس طرح فرمایا کہ مقابلہ کے وقت) اگر مستقل رہو گے اور تقوی پر قائم رہو گے (یعنی کوئی امر خلاف اطاعت نہ کرو گے) اور وہ لوگ تم پر یکبارگی حملہ کردیں گے (جس میں عادۃ کسی مخلوق سے مدد پہنچنا مشکل ہوتا ہے) تو تمہارا رب تمہاری امداد فرمائے گا پانچ ہزار فرشتوں سے جو ایک خاص وضع کے بنائے ہوں گے (جیسے عام جنگوں میں اپنی اپنی فوج کی پہچان کے لئے کوئی خاص وردی ہوتی ہے، آگے اس امداد و نصرت کی حکمت کا بیان ہے کہ اور اللہ تعالیٰ نے یہ امداد (مذکور جو فرشتوں سے ہوئی) محض اس لئے کہ کہ تمہارے لئے (غلبہ اور فتح کی) بشارت ہو، اور تمہارے دلوں کو اس سے قرار آئے اور نصرت (و غلبہ) تو صرف اللہ کی طرف سے ہے جو کہ زبردست ہیں (کہ ویسے بھی غالب کرسکتے ہیں لیکن) حکیم (بھی) ہیں (تو جب مقتضائے حکمت یہ ہوتا ہے کہ اسباب کے ذریعہ غلبہ دیا جائے تو ویسے ہی اسباب پیدا فرمادیتے ہیں یہ تو امداد بالملائکہ کی حکمت تھی آگے اس کی حکمت کا بیان ہے کہ یہ فتح و غلبہ تمہیں کیوں عطا کیا گیا، اس کے لئے ارشاد فرمایا گیا) تاکہ کفار میں سے ایک گروہ کو ہلاک کردے (چنانچہ کافروں کے ستر سردار رئیس مارے گئے) یا ان (میں سے بعض) کو ذلیل و خوار کردے پھر وہ ناکام لوٹ جاویں (یعنی ان میں سے کوئی نہ کوئی بات ضرور ہوجائے اور اگر دونوں ہوجاویں تو اور بھی بہتر ہے، چناچہ دونوں باتیں ہوئیں کہ ستر سردرا مارے گئے، ستر قید ہو کر ذلیل ہوئے، باقی ذلیل و خوار ہو کر بھاگ گئے) لیس لک من الامر شیء (الی قولہ) غفور رحیم۔ (اے محمد ﷺ آپ کو (کسی کے مسلمان ہونے یا کافر رہنے کے متعلق خود) کوئی دخل نہیں (خواہ علم کا دخل ہو یا قدرت کا بلکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے علم اور قبضہ میں ہے، آپ کو صبر کرنا چاہئے) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان پر یا تو (رحمت سے) متوجہ ہوجاویں (یعنی ان کو اسلام کی توفیق دیدیں، تو اس وقت صبر فرح اور سرور سے بدل جائے گا) اور یا ان کو (دنیا ہی میں) کوئی سزا دیں (تو اس وقت صبر تسکین قلبی میں بدل جائے گا، اور سزا دینا کچھ بےجا بھی نہیں) کیونکہ وہ ظلم بھی بڑا کر رہے ہیں (مراد اس سے کفر و شرک ہے، جیسا کہ فرمایا " ان الشرک لظلم عظیم " آگے اس مضمون کی تاکید ہے) اور اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ بھی آسمانوں میں ہے اور جو کچھ کہ زمین میں ہے وہ جس کو چاہیں بخش دیں (یعنی اسلام نصیب کردیں جس سے مغفرت ہوتی ہے) اور جس کو چاہیں عذاب دیں (یعنی اسلام نصیب نہ ہو اور اس وجہ سے عذاب دائمی ہو) اور اللہ تعالیٰ تو بڑے مغفرت کرنے والے (اور) بڑے رحمت کرنے والے ہیں (تو بخشنے کا تو ذرا بھی تعجب نہیں، کیونکہ رحمت تو ان کی سابق ہی ہے، اس لئے عذاب دینے کی وجہ اوپر بیان فرمائی، فانہم ظلمون)۔
Ayahs 3:125–127معارف و مسائل
فرشتوں کی امداد بھیجنے کی حکمت اور اصل مقصد اور تعداد ملائکہ میں مختلف عدد بیان کرنے کی حکمت
یہاں طبعی طور پر ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کو وہ طاقت بخشی ہے کہ ایک ہی فرشتہ پوری بستی کا تختہ الٹ سکتا ہے، جیسا کہ قوم لوط کی زمین تنہا جبرئیل امین نے الٹ دی تھی، تو پھر فرشتوں کا لشکر بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔ نیز یہ کہ جب فرشتے میدان میں آئے ہی تھے تو ایک کافر بھی بچنا نہیں چاہئے تھا اس کا جواب خود قرآن کریم نے آیت " وما جعلہ اللہ الا بشری " میں دیدیا، کہ فرشتوں کے بھیجنے میں در حقیقت ان سے کوئی میدان جنگ فتح کرانا مقصود نہ تھا، بلکہ مجاہدین مسلمین کی تسلی اور تقویت قلب اور بشارت فتح دینا مقصود تھا، جیسا کہ اس آیت کے الفاظ الا بشری اور لتطمئن قلوبکم سے واضح ہے، اور اس سے زیادہ صریح سورة انفال میں اسی واقعہ کے متعلق آئے ہوئے الفاظ ہیں فثبتوا الذین امنوا (8: 12) جس میں فرشتوں کو خطاب کر کے ان کے سپرد یہ خدمت کی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کے قلوب کو جمائے رکھیں، پریشان نہ ہونے دیں، اس تثبیت قلوب کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں، ایک یہ بھی ہے کہ اپنے تصرف کے ذریعہ ان کے قلوب کو مضبوط کردیں، جیسا کہ مشائخ صوفیہ اہل تصرف کو معمول ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مسلمانوں کو مختلف طریقوں سے یہ واضح کردیں کہ اللہ کے فرشتے ان کی مدد پر کھڑے ہیں، کبھی سامنے ظاہر ہوکر، کبھی آواز سے، کبھی کسی اور طریق سے، جیسا کہ میدان بدر میں یہ سب طریقے استعمال کئے گئے، فاضربوا فوق الاعناق (8: 12) کی ایک تفسیر میں یہ خطاب فرشتوں کو ہے، اور بعض روایات حدیث میں ہے کہ مسلمان نے کسی مشرک پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو اس کا سر خود ہی بدن سے جدا ہوگیا۔ (کما روی عن سہل بن حنیف بروایۃ الحاکم و تصیح اللبیہقی) اور بعض صحابہ کرام نے جبرئیل امین کی آواز بھی سنی کہ اقدم حیزوم فرما رہے ہیں، اور بعض نے خود بھی بعض ملائکہ کو دیکھا بھی (رواہ مسلم) یہ سب مشاہدات اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں، کہ ملائکہ اللہ نے مسلمانوں کو اپنی نصرت کا یقین دلانے کے لئے کچھ کچھ کام ایسے بھی کئے ہیں کہ گویا وہ بھی قتال میں شریک ہیں، اور دراصل ان کا کام مسلمانوں کی تسلی اور تقویت قلب تھا، فرشتوں کے ذریعہ میدان جنگ فتح کرانا مقصود نہیں تھا، اس کی واضح دلیل یہ بھی ہے کہ اس دنیا میں جنگ و جہاد کے فرائض انسانوں پر عائد کئے گئے ہیں، اور اسی وجہ سے ان کو فضائل و درجات حاصل ہوتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوتی کہ فرشتوں کے لشکر سے ملک فتح کرائے جائیں تو دنیا میں کفر و کافر کا نام ہی نہ رہتا، حکومت و سلطنت کی تو کیا گنجائش تھی، مگر اس کارخانہ قدرت میں اللہ تعالیٰ کی یہ مشیت ہی نہیں، یہاں تو کفر و ایمان اور اطاعت و معصیت ملے جلے ہی چلتے رہیں گے، ان کے نکھار کے لئے حشر کا دن ہے۔ رہا یہ معاملہ کہ غزوہ بدر میں ملائکہ اللہ کو مدد کے لئے بھیجنے میں جو وعدے آئے ہیں ان میں سورة انفال کی آیت میں تو ایک ہزار کا وعدہ ہے، اور آل عمران کی مذکورہ آیت میں پہلے تین ہزار کا پھر پانچ ہزار کا وعدہ ہے، اس میں کیا حکمت ہے ؟ بات یہ ہے کہ سورة انفال میں مذکور یہ ہے کہ جب میدان بدر میں مسلمانوں نے مخالف کی تعداد ایک ہزار دیکھی اور ان کی تعداد تین سو تیرہ تھی تو بارگاہ رب العزت میں استغاثہ کیا، اس پر یہ وعدہ ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا کیا گیا، کہ جو عدد تمہارے دشمن کا ہے اتنا ہی عدد فرشتوں کا بھیج دیا جائے گا، آیت کے الفاظ یہ ہیںاذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملئکۃ مردفین۔ (8: 9) اور اس آیت کے بعد بھی فرشتوں کی مدد بھیجنے کا یہی مقصد ظاہر فرما دیا کہ مسلمانوں کے قلوب جمے رہیں اور ان کو فتح کی بشارت ملے۔ چناچہ اس کے بعد کی آیت کے الفاظ یہ ہیںوما جعلہ اللہ الا بشری ولتطمئن بہ قلوبکم۔ اور سورة آل عمران کی آیت زیر نظر میں تین ہزار فرشتوں کا وعدہ شاید اس بناء پر کیا گیا کہ بدر کے میدان میں مسلمانوں کو یہ خبر ملی کہ زبن جابر محاربی اپنے قبیلہ کا لشکر لے کر مشرکین مکہ کی امداد کو آرہا ہے (کذا فی الروح) یہاں دشمن کی تعداد مسلمانوں سے تین گناہ زیادہ پہلے ہی سے تھی، مسلمان اس خبر سے کچھ پریشان ہوئے تو تین ہزار فرشتوں کا وعدہ کیا گیا تاکہ معاملہ برعکس ہو کر مسلمانوں کی تعداد دشمن سے تین گنا ہوجائے گی۔ پھر اسی آیت کے آخر میں اس تعداد کو چند شرطوں کے ساتھ بڑھا کر پانچ ہزار کردیا وہ شرطیں دو تھیں۔ ایک یہ کہ مسلمان صبر وتقوی کے مقام اعلی پر قائم رہیں، دوسرے یہ کہ دشمن ان پر یکبارگی حملہ کردے، مگر ان دو شرطوں میں سے دوسری شرط یکبارگی حملہ کی واقع نہیں ہوئی، اس لئے پانچ ہزار کی تعداد کا وعدہ نہ رہا، پھر اس میں ائمہ تفسیر و تاریخ کے اقوال مختلف ہیں، کہ اگرچہ وعدہ کی یہ شرط متحقق نہیں ہوئی، پھر بھی یہ وعدہ پانچ ہزار کی صورت میں پورا ہوا یا صرف تین ہزار کی صورت میں، یہ اقوال مختلفہ روح المعانی میں مذکور ہیں۔
Ayahs 3:128–129آیت لیس لک من الامر شیء۔ یہاں سے پھر اصل قصہ احد کی طرف عود ہے، درمیان میں مجملا قصہ بدر کا ذکر آگیا تھا، اور سبب نزول اس آیت کا یہ ہے کہ اس غزوہ احد میں حضور اقدس ﷺ کا دندان مبارک جو کہ سامنے کے دو اوپر کے دو نیچے کے دانتوں کی کروٹوں میں چار دانت ہوتے ہیں دو اوپر داہنے بائیں، دو نیچے داہنے بائیں، ان چاروں میں نیچے داہنی طرف کا دانت شہید ہوگیا، اور چہرہ مبارک مجروح ہوگیا، تو آپ کی زبان مبارک پر یہ کلمات آگئے، کہ ایسی قوم کو کیسے فلاح ہوگی جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا کیا، حالانکہ وہ نبی ان کو خدا کی طرف بلا رہا ہے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
بخاری سے ایک قصہ اور بھی نقل کیا گیا ہے کہ آپ نے بعض کفار کے لئے بد دعا بھی فرمائی تھی، اس پر یہ آیت نازل فرمائی، جس میں رسول اللہ ﷺ کو صبر و تحمل کی تعلیم دی گئی ہے۔ (از بیان القرآن ملخصا)
Ayahs 3:130–131خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو سود مت کھاؤ (یعنی مت لو اصل سے) کئی حصے زائد (کر کے) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو امید ہے کہ تم کامیاب ہو (یعنی جنت نصیب ہو اور دوزخ سے نجات ہو) اور اس آگ سے بچو جو (دراصل) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے (اور آگ سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ سود وغیرہ سے بچو)۔
معارف و مسائل
اس آیت میں سود کھانے کی حرمت و ممانعت کے ساتھ اضعافا مضاعفۃ کا ذکر حرمت کی قید نہیں، بلکہ سود کی قباحت کو واضح کرنے کے لئے ہے، کیونکہ دوسری آیات میں مطلقا ربو کی حرمت کا بیان نہایت تشدید و تاکید کے ساتھ آیا ہے، جس کی تفصیل سورة بقرہ میں آچکی ہے، اور اضعافا مضاعفۃ کے ذکر میں اس طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ جس کو سود کھانے کی عادت ہوجائے خواہ وہ اصطلاحی سود مرکب یعنی سود در سود کے معاملہ سے پرہیز بھی کرلے تو سود سے حاصل شدہ کمائی کو جب دوبارہ سود پر چلائے گا تو وہ لامحالہ اضعاف مضاعف ہوتا چلا جائے گا، اگرچہ سود خوروں کی اصطلاح میں اس کو سود مرکب یعنی سود در سود نہ کہیں، اس کا حاصل یہ ہے کہ ہر ایک سود انجام کار اضعاف مضاعف ہی ہوتا ہے۔
Ayah 3:132خلاصہ تفسیر
اور خوشی سے کہا مانو اللہ کا اور (اس کے) رسول ﷺ کا امید ہے کہ تم رحم کئے جاؤ گے (یعنی قیامت میں) اور دوڑو طرف مغفرت کے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے (نصیب) ہو اور (دوڑو) طرف جنت کے (مطلب یہ ہے کہ ایسے نیک کام اختیار کرو جس سے پروردگار تمہاری مغفرت کردیں اور تم کو جنت عنایت ہو اور وہ جنت ایسی ہے) جس کی وسعت ایسی (تو) ہے (ہی) جیسے سب آسمان اور زمین (اور زیادہ کی نفی نہیں، چناچہ واقع میں زائد ہونا ثابت ہے اور) وہ تیار کی گئی ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لئے۔
معارف و مسائل
آیت مذکورہ میں دو مسئلے زیادہ اہم ہیں۔ اول پہلی آیت کا مضمون جس میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ رسول کی اطاعت کا بھی حکم دیا گیا ہے، اس میں یہ بات قابل غور ہے کہ اگر رسول کی اطاعت بعینہ اللہ تعالیٰ کی اور اس کی بھیجی ہوئی کتاب " قرآن " کی اطاعت کا نام ہے تو پھر اس کے علیحدہ بیان کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے اور اگر ان دونوں میں کچھ فرق ہے تو کیا ہے ؟
دوسری بات جو ہمیشہ یاد رکھنے اور اپنی عملی زندگی کا قبلہ بنانے کے قابل ہے وہ وہ صفات اور علامات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے مقبول اور پرہیزگار بندوں کے لئے ان آیات میں بتلا کر یہ واضح فرمادیا ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت محض زبانی جمع خرچ سے نہیں ہوتی بلکہ اطاعت گزاروں کے کچھ صفات اور حالات ہوتے ہیں جن سے وہ پہچانے جاتے ہیں۔
رسول کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ سے الگ کر کے بیان کرنے کی حکمت
پہلا مسئلہپہلی مختصر آیت میں اس طرح بیان فرمایا(واطیعوا اللہ والرسول لعلکم ترحمون۔ " یعنی اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے " اس میں رحمت خداوندی کے لئے جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو ضروری اور لازم قرار دیا ہے، رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو بھی اسی طرح لازم اور ضروری قرارد یا ہے، اور یہ پھر صرف اسی آیت میں نہیں پورے قرآن میں بار بار اس کا تکرار اسی طرح ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم ہوتا ہے وہیں اطاعت رسول کا بھی ذکر مستقلا ہے، قرآن حکیم کے یہ متواتر اور مسلسل ارشادات ایک انسان کو اسلام اور ایمان کے بنیادی اصول کی طرف متوجہ کر رہے ہیں کہ ایمان کا پہلا جزء خدائے تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت اور اس کی بندگی اور اس کی اطاعت کا اقرار کرنا ہے، تو دوسرا جزء " رسول " کی تصدیق اور اس کی اطاعت ہے۔ اب یہاں غور طلب یہ ہے کہ قرآن کریم ہی کے ارشادات سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ جو کچھ فرماتے ہیں وہ سب باذن خداوندی ہوتا ہے، اپنی طرف سے کچھ نہیں ہوتا۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے " وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی " (53: 3، 4) یعنی رسول کریم ﷺ جو کچھ بولتے ہیں وہ کسی اپنی خواہش سے نہیں کہتے، بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے " وحی " ہوتی ہے، اس کا حاصل تو یہ ہوا کہ " رسول " کی اطاعت بعینہ اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہوتی ہے، اس سے الگ کوئی چیز نہیں، سورة نساء آیت 80 میں خود قرآن نے بھی ان الفاظ میں اس کو واضح فرمادیا" من یطع الرسول فقد اطاع اللہ " (یعنی جس نے اطاعت کی رسول کی اس نے اطاعت کی اللہ کی) تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ان دونوں اطاعتوں کو الگ الگ بیان کرنے میں کیا فائدہ ہے ؟ خصوصا اس التزام اور اہتمام کے ساتھ کہ پورے قرآن کریم میں یہی عادت مستمرہ ہے کہ دونوں اطاعتوں کا ساتھ ساتھ حکم دیا جاتا ہے۔ راز اس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کے لئے ایک کتاب بھیجی، اور ایک رسول، رسول کے ذمہ یہ کام لگائے گئے، اول یہ کہ وہ قرآن کریم کی آیات ٹھیک اسی صورت اور لب و لہجہ کے ساتھ لوگوں کو پہنچا دیں جس صورت سے وہ نازل ہوئیں۔ دوسرے یہ کہ وہ لوگوں کو ظاہری اور باطنی گندگیوں سے پاک کریں۔ تیسرے یہ کہ وہ اس کتاب کے مضامین کی امت کو تعلیم دیں، اور اس کے مقاصد کو بیان فرمائیں، نیز یہ کہ وہ کتاب کے ساتھ حکمت کی تعلیم دیں، یہ مضمون قرآن کریم کی متعدد آیتوں میں تقریبا ایک ہی عنوان سے آیا ہے۔ یتلوا علیھم ایتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمۃ۔ (ق۔ 62: 2)
معلوم ہوا کہ رسول کے فرائض منصبی میں صرف اتنا ہی داخل نہیں کہ وہ قرآن لوگوں تک پہنچا دیں، بلکہ اس کی تعلیم اور تبیین بھی رسول کے ذمہ ہے، اور یہ بھی ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺ کے مخاطب عرب کے فصحاء و بلغاء تھے، ان کے لئے قرآن کریم کی تعلیم کے یہ معنی تو نہیں ہوسکتے کہ محض الفاظ قرآنی کے لفظی معنی ان کو سمجھائے جائیں، کیونکہ وہ سب خود بخود سمجھتے تھے بلکہ اس تعلیم و تبیین کا مقصد صرف یہی تھا اور یہی ہوسکتا ہے کہ قرآن کریم نے ایک حکم مجمل یا مبہم الفاظ میں بیان فرمایا، اس کی تشریح اور تفصیل رسول کریم ﷺ نے اس وحی کے ذریعے سے لوگوں تک پہنچائی جو قرآن کے الفاظ میں نہیں آئی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلب مبارک میں ڈالی جس کی طرف آیت قرآن ان ھو الا وحی یوحی میں اشارہ کیا گیا ہے، مثلا قرآن نے بیشمار مواقع میں صرف اقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ فرمانے پر اکتفا کیا ہے، کہیں نماز کے معاملہ میں قیام، رکوع اور سجدہ کا ذکر بھی آیا تو وہ بھی بالکل مبہم ہے ان کی کیفیات کا ذکر نہیں، رسول کریم ﷺ کو جبریل امین نے خود آکر اللہ کے حکم سے ان تمام اعمال اور ارکان کی تفصیل صورت عمل کر کے بتلائی، اور آپ نے اسی طرح قول و عمل کے ذریعہ امت کو پہنچا دیا۔ زکوٰۃ کے مختلف نصاب اور ہر نصاب پر زکوٰۃ کی مقدار کا تعین، پھر یہ بات کہ کس مال پر زکوٰۃ ہے اور کس مال پر نہیں، اور مقادیر نصاب میں کتنا حصہ معاف ہے، یہ سب تفصیلات رسول کریم ﷺ نے بیان فرمائیں، اور ان کے فرامین لکھوا کر متعدد صحابہ کرام کے سپرد فرمائے۔ یا مثلا قرآن حکیم نے حکم دیا کہلا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل۔ (2: 188) " یعنی آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقہ پر ناحق نہ کھاؤ "۔
اب اس کی یہ تفصیل کہ رائج الوقت معاملات، بیع و شراء اور اجارہ میں کیا کیا صورتیں ناحق اور بےانصافی یا ضرر عوام پر مشتمل ہونے کی وجہ سے باطل ہیں، یہ سب حضور اکرم ﷺ نے باذن خداوندی امت کو بتلائی، اسی طرح تمام شرعی احکام کا بھی یہی حال ہے۔ تو یہ تمام تفصیلات جو آنحضرت ﷺ نے اپنے فرض منصبی کی ادائیگی کے لئے بہ وحی الہی امت کو پہنچائیں، چونکہ یہ تفصیلات قرآن کریم میں مذکور نہیں، اس لئے یہ احتمال تھا کہ کسی وقت کسی ناواقف کو یہ دھوکا ہو کہ یہ تفصیلی احکام اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے احکام نہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ان کی تعمیل ضروری نہیں، اس لئے حق تعالیٰ نے سارے قرآن میں بار بار اپنی اطاعت کے ساتھ ساتھ رسول کی اطاعت کو لازم قرار دیا ہے، جو حقیقت میں تو اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے مگر ظاہری صورت اور تفصیل بیان کے اعتبار سے اس سے کچھ مختلف بھی ہے، اس لئے بار بار تاکیدات کے ساتھ بتلادیا کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں جو کچھ حکم دیں اس کو بھی اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت سمجھ کر مانو، خواہ وہ قرآن میں صراحۃ موجود ہو یا نہ ہو، یہ مسئلہ چونکہ اہم تھا اور کسی ناواقف کو دھوکہ لگ جانے کے علاوہ دشمنان اسلام کے لئے اسلامی اصول میں گڑ بڑ پھیلانے اور مسلمانوں کو اسلام کے صحیح راستہ سے بہکانے کا بھی ایک موقع تھا، اس لئے قرآن کریم نے اس مضمون کو صرف لفظ اطاعت رسول کے ساتھ ہی نہیں بلکہ مختلف عنوانات سے امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کو بتلایا ہے، مثلا آپ کے فرائض میں تعلیم کتاب کے ساتھ تعلیم حکمت کا اضافہ کر کے اس طرف اشارہ کردیا، کہ علاوہ کتاب کے کچھ اور بھی آپ کی تعلیمات میں داخل ہے اور وہ بھی مسلمانوں کے لئے واجب الاتباع ہے، جس کو لفظ حکمت سے تعبیر فرمایا گیا ہے، کہیں ارشاد فرمایا کہلتبین للناس ما نزل الیھم (16: 44) " یعنی رسول کے بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے لئے آپ پر نازل شدہ آیات کے مطالب و مقاصد اور تشریحات کو بیان فرمائیں "۔ اور کہیں یہ ارشاد ہے کہ ما اتکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا۔ (59: 7) " یعنی رسول تم کو جو کچھ دین وہ لے لو، اور جس سے روکیں اس سے باز آجاؤ "۔ یہ سب انتظام اس کا کیا گیا کہ کل کو کوئی شخص یہ نہ کہنے لگے کہ ہم تو صرف ان احکام کے مکلف ہیں جو قرآن میں آئے ہیں، جو احکام ہمیں قرآن میں نہ ملیں ان کے ہم مکلف نہیں، رسول کریم ﷺ پر غالبا یہ منکشف ہوگیا تھا کہ کسی زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو رسول کی تعلیمات اور تشریحات سے گلو خلاصی حاصل کرنے کے لئے یہی دعوی کریں گے کہ ہمیں کتاب اللہ کافی ہے، اس لئے ایک حدیث میں صراحۃ بھی اس کا ذکر فرمایا، جس کو ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ، بیہقی اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہم نے اپنی اپنی کتابوں میں ان الفاظ سے نقل فرمایا ہے(لا الفین احدکم متکئا علی اریکتہ یاتیہ الامر من امری مما امرت بہ او نھیت عنہ فیقول لا ادری ما وجدنا فی کتاب اللہ اتبعناہ۔)
" یعنی ایسا نہ ہو کہ میں تم سے کسی کو ایسا پاؤں کہ وہ اپنی مسند پر تکیہ لگائے ہوئے بےفکری سے بیٹھے ہوئے میرے امر و نہی کے متعلق یہ کہہ دے کہ ہم اس کو نہیں جانتے ہمارے لئے تو کتاب اللہ کافی ہے، جو کچھ اس میں پاتے ہیں اس کا اتباع کرلیتے ہیں "۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ جگہ جگہ رسول کی اطاعت کا بار بار ارشاد اور پھر مختلف عنوانات سے رسول کے دیے ہوئے احکام کو ماننے کی ہدایات یہ سب اس خطرہ کے پیش نظر ہیں کہ کوئی شخص ذخیرہ احادیث میں رسول اللہ ﷺ کی بیان کی ہوئی تفصیلات احکام کو قرآن سے الگ اور اطاعت اللہ تعالیٰ سے جدا سمجھ کر انکار نہ کر بیٹھے، کہ وہ در حقیقت الگ نہیں
گفتہ او گفتہ اللہ بود
گرچہ از حلقوم عبداللہ بود
Ayah 3:133دوسری آیت میں مغفرت اور جنت کی طرف مسابقت اور مسارعت کا حکم دیا گیا ہے، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد یہ دوسرا حکم دیا گیا، یہاں مغفرت سے مراد اسباب مغفرت ہیں، یعنی وہ اعمال صالحہ جو باعث مغفرت الہی ہیں، صحابہ وتابعین سے اس کی تفسیریں مختلف عنوانات سے منقول ہی، مگر معنون اور مضمون سب کا ایک ہی ہے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کی تفسیر " ادائیگی فرض " سے فرمائی۔ حضرت ابن عباس نے " اسلام " سے ابوالعالیہ نے " ہجرت " سے، انس بن مالک نے " تکبیر اولی " سے، سعید بن جبیر نے " اداء طاعت " سے، ضحاک نے " جہاد " سے، عکرمہ نے " توبہ " سے کی ہے، ان تمام اقوال کا حاصل یہی ہے کہ مغفرت سے مراد وہ تمام اعمال صالحہ ہیں جو مغفرت الہی کا باعث اور سبب ہوتے ہیں۔ اس مقام پر دو باتیں قابل غور ہیں، پلی بات تو یہ ہے اس آیت میں مغفرت اور جنت کی طرف مسابقت اور مسارعت کا حکم دیا جارہا ہے، حالانکہ دوسری آیت میں لا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض (4: 32) فرما کر دوسرے فضائل حاصل کرنے کی تمنا کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ فضائل دو قسم کے ہیں، ایک فضائل تو وہ ہیں جن کا حاصل کرنا انسان کے اختیار اور بس سے باہر ہو جن کو فضائل غیر اختیاریہ کہتے ہیں، جیسے کسی کا سفید رنگ یا حسین ہونا یا کسی بزرگ خاندان سے ہونا وغیرہ، دوسرے وہ فضائل جن کو انسان اپنی محنت اور کوشش سے حاصل کرسکتا ہے، ان کو فضائل اختیاریہ کہتے ہیں، فضائل غیر اختیاریہ میں دوسرے کی فضیلت حاصل کرنے کی کوشش بلکہ اس کی تمنا کرنے سے بھی اس لئے روکا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے مطابق مخلوق میں تقسیم کئے ہیں، کسی کی کوشش کا اس میں دخل نہیں، اس لئے وہ فضائل جو کوشش اور تمنا سے حاصل تو ہوں گے نہیں۔ اب سوائے اس کے کہ اس کے دل میں حسد اور بغض کی آگ بھڑکتی رہے اور کوئی فائدہ نہیں، مثلا ایک شخص کالا ہے وہ گورا ہونے کی تمنا کرتا رہے تو اس سے کیا نتیجہ نکلے گا، البتہ جو فضائل اختیاریہ ہیں ان میں مسابقت اور مقابلہ کا حکم دیا گیا، صرف ایک آیت میں نہیں بلکہ متعدد آیتوں میں آیا ہے، ایک جگہ ارشاد ہے فاستبقوا الخیرات۔ (2: 148) دوسری جگہ ارشاد ہے وفی ذلک فلیتنافس المتنافسون (83: 26)
ایک بزرگ نے فرمایا کہ اگر کسی انسان میں کوئی فطری اور طبعی کوتاہی ہو جس کا دور کرنا اس کے بس سے باہر ہو تو اس کو چاہئے کہ اپنی اس کوتاہی پر قانع رہ کر دوسروں کے کمال کو دیکھے بغیر اپنا کام کرتا رہے، کیونکہ اگر وہ اپنی کوتاہی پر تاسف اور دوسروں کے کمال پر حسد کرتا رہا تو جتنا کام کرسکتا ہے اس قدر بھی نہیں کرسکے گا، اور بالکل ناکارہ ہو کر رہ جائے گا۔
دوسری چیز جو اس جگہ قابل غور ہے وہ یہ کہ اللہ تبارک وتعالی نے مغفرت کو جنت سے مقدم کیا، اس میں ممکن ہے کہ اس امر کی طرف اشارہ ہو کہ جنت حاصل کرلینا مغفرت الہی کے بغیر ناممکن ہے، کیونکہ انسان اگر تمام عمر بھر نیکیاں کرتا رہے اور معصیت سے کنارہ کش رہے تب بھی اس کے تمام اعمال جنت کی قیمت نہیں ہوسکتے، جنت میں لے جانے والی صرف ایک چیز ہے اور وہ مغفرت باری تعالیٰ ہے اور اس کا فضل ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا(سددوا و قاربوا و ابشروا فانہ لن یدخل احدا لجنۃ عملہ قالوا ولا انت یا رسول اللہ قال ولا انا ان یتغمدنی اللہ برحمتہ۔) (ترغیب وترھیب بحوالہ بخاری ومسلم) " راستی اور حق کو اختیار کرو، درمیانی راہ اختیار کرو اور (اللہ کے فضل) کی بشارت حاصل کرو کسی شخص کا عمل اس کو جنت میں نہیں پہنچائے گا، لوگوں نے کہا نہ آپ کا یا رسول اللہ، آپ نے فرمایا، نہ میرا عمل جنت میں پہنچائے گا، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے "
حاصل یہ ہے کہ ہمارے اعمال جنت کی قیمت نہیں ہیں، لیکن عادت اللہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسی بندے کو نوازتا ہے جو اعمال صالحہ کرتا ہے، بلکہ جس کو اعمال صالحہ کی توفیق ہوگی، وہی علامت ہے کہ اللہ اس سے راضی ہیں، لہذا اعمال کی ادائیگی میں کبھی کوتاہی نہیں کرنا چاہئے، معلوم ہوا کہ دخول جنت کا اصلی باعث اور سبب مغفرت الہی ہے، اسی لئے مغفرت کی اہمیت کے پیش نظر مطلق مغفرت نہیں فرمایا گیا، بلکہ مغفرۃ من ربکم فرمایا گیا، صفت ربوبیت کے بیان کرنے میں مزید لطف اور امتنان کا اظہار مقصود ہے۔
دوسری چیز جس کی طرف دوڑنے کا حکم دیا جارہا ہے وہ جنت ہے، اور جنت کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اس کی وسعت اس قدر ہے جتنا سارا آسمان و زمین ہے، انسان کے دماغ میں آسمان و زمین کی وسعت سے زیادہ اور کوئی وسعت آ ہی نہیں سکتی، اس لئے سمجھانے کے لئے جنت کے عرض کو اس سے تشبیہ دی، گویا بتلا دیا کہ جنت بہت وسیع ہے، اس کے عرض میں سارے زمین و آسمان سما سکتے ہیں، پھر جب اس کے عرض کا یہ حال ہے تو طول کا حال خدا جانے کیا ہوگا، یہ معنی تو اس وقت ہیں جب عرض کو طول کے مقابل کیا جائے، لیکن اگر عرض کو ثمن یعنی قیمت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جنت کوئی معمولی شے نہیں ہے، اس کی قیمت سارا آسمان و زمین ہیں، لہذا ایسی قیمتی اور عظیم الشان چیز کے لئے مسابقت اور مسارعت کرو۔
تفسیر کبیر میں ہے(قال ابو مسلم ان العرض ھناما یعرض من الثمن فی مقابلۃ المبیع ای ثمنھا لو بیعت کثمن السموت والارض و المراد بذلک عظم مقدارھا وجلالۃ خطرھا وانہ لا یساویھا شیء وان عظم)
" ابو مسلم کہتے ہیں کہ عرض سے مراد آیت میں وہ چیز ہے جو مبیع کے مقابلہ میں بطور قیمت پیش کی جائے، مطلب یہ ہے کہ اگر بالفرض جنت کی قیمت لگائی جائے تو سارا آسمان و زمین اور ان کی کائنات اس کی قیمت ہوگی، مقصود اس سے جنت کی عظمت اور جلالت قدر کا بیان کرنا ہے "
جنت کا دوسرا وصف بتلایا، اعدت للمتقین یعنی جنت پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جنت پیدا کی جاچکی ہے، قرآن و حدیث کے واضح اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت ساتویں آسمان کے اوپر ہے، اس طرح کہ ساتواں آسمان اس کی زمین ہے۔