3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعارف القرآن

Ayah 3:134

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

جو خرچ کئے جاتے ہیں خوشی میں اور تکلیف میں اور دبالیتے ہیں غصہ اور معاف کرتے ہیں لوگوں کو اور اللہ چاہتا ہے نیکی کرنے والوں کو

خلاصہ تفسیر ایسے لوگ (ہیں) جو کہ (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں (ہر حال میں) فراغت میں (بھی) اور تنگی میں (بھی) اور غصہ کے ضبط کرنے والے اور لوگوں (کی تقصیرات) سے درگزر کرنے والے اور اللہ تعالیٰ ایسے نیکوکاروں کو (جن میں یہ خصال ہوں بوجہ اکمل) محبوب رکھتا ہے اور (ایک ان مذکورین کے اعتبار سے دوسرے درجہ کے مسلمان) ایسے لوگ (ہیں) کہ جب کوئی ایسا کام کر گزرتے ہیں جس میں (دوسروں پر) زیادتی ہو یا (کوئی گناہ کر کے خاص) اپنی ذات کا نقصان کرتے ہیں تو (فورا) اللہ تعالیٰ (کی عظمت اور عذاب) کو یاد کرلیتے ہیں، پھر اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں، (یعنی اس طریقہ سے جو معافی کے لئے مقرر ہے کہ دوسروں پر زیادتی کرنے میں ان اہل حقوق سے بھی معاف کرائے اور خاص اپنی ذات کے متعلق گناہ میں اس کی حاجت نہیں، اور اللہ تعالیٰ سے معاف کرانا دونوں میں مشترک ہے) اور (واقعی) اللہ تعالیٰ کے سوا اور ہے کون جو گناہوں کو بخشتا ہو (رہا اہل حقوق کا معاف کرنا سو وہ لوگ اس کا اختیار تو نہیں رکھتے کہ عذاب سے بھی بچالیں اور حقیقی بخشش اسی کا نام ہے) اور وہ لوگ اپنے فعل (بد) پر اصرار (اور ہٹ) نہیں کرتے اور وہ (ان باتوں کو) جانتے بھی ہیں (فلاں کام ہم نے گناہ کا کیا اور یہ کہ توبہ ضرور ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ غفار ہے، مطلب یہ کہ اعمال کی بھی درستی کرلیتے ہیں، اور عقائد بھی درست رکھتے ہیں) ان لوگوں کی جزاء بخشش ہے ان کے رب کی طرف سے اور (بہشت کے) ایسے باغ ہیں کہ ان کے (درختوں اور مکانوں کے) نیچے سے نہریں چلتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہوں گے (اور اسی مغفرت اور جنت کی تحصیل کا شروع آیتوں میں حکم تھا، بیچ میں اس کا طریقہ بتلایا، ختم پر اس کا وعدہ فرمایا) اور (یہ) اچھا حق الخدمت ہے ان کام کرنے والوں کا (وہ کام استغفار اور حسن اعتقاد ہے اور استغفار کا نتیجہ آئندہ اطاعت کی پابندی ہے جس پر عدم اصرار دلالت کرتا ہے) بالتحقیق تم سے قبل (زبانوں میں) مختلف طرق (کے لوگ) گزر چکے ہیں (ان میں مسلمان بھی تھے اور کفار بھی اور ان میں اختلاف و مقابلہ و مقاتلہ بھی ہوا، لیکن انجام کار کفار ہی ہلاک ہوئے، چناچہ اگر تم آثار کا مشاہدہ کرنا چاہو) تو تم روئے زمین پر چلو پھرو، اور دیکھ لو کہ اخیر انجام تکذیب کرنے والوں کا (یعنی کفار کا) کیسا ہوا، (یعنی ہلاک و برباد ہوئے، چناچہ ان کی ہلاکت کے آثار اس وقت تک بھی باقی تھے، جس کو دوسری آیت میں فرمایا ہے فتلک بیوتھم خاویۃ (27: 52) فتلک مساکنھم لم تسکن (28: 58) وانھما لبامام مبین (15: 79) یہ (مضمون مذکور) بیان کافی ہے تمام لوگوں کے لئے (کہ اگر اس میں غور کریں تو عبرت حاصل کرسکتے ہیں) اور ہدایت اور نصیحت ہے خاص خدا سے ڈرنے والوں کے لئے (یعنی ہدایت اور نصیحت بھی یہی لوگ حاصل کرتے ہیں، ہدایت یہ کہ اس کے موافق عمل کریں)۔ معارف و مسائل ان آیات میں حق تعالیٰ نے مومنین متقین کی خاص صفات اور علامات بتلائی ہیں، جن سے بہت سے فوائد متعلق ہیں، مثلا یہ کہ قرآن حکیم نے جگہ جگہ نیک بندوں کی صحبت اور ان کی تعلیم سے فائدہ اٹھانے کی تاکید فرمائی ہے، کہیں صراط الذین انعمت علیھم فرما کر دین کی سیدھی اور صحیح راہ انہی مقبول بندوں سے سیکھنے کی طرف اشارہ فرمایا، کہیں کونوا مع الصادقین فرماکر ان کی صحبت اور معیت کی خاص افادیت کی تلقین فرمائی، اور دنیا میں ہر گروہ کے اندر اچھے برے لوگ ہوا کرتے ہیں، اچھوں کے لباس میں برے بھی ان کی جگہ لے لیتے ہیں، اس لئے ضرورت تھی کہ مقبول بندوں کی خاص علامات وصفات بتلا کر یہ سمجھا دیا جائے کہ یہ لوگ غلط رہنماؤں اور مقتداؤں سے پرہیز کریں اور صادقین کی علامتیں پہچان کر ان کا اتباع کریں، مومنین متقین کی صفات و علامات بیان فرمانے کے بعد ان کی دائمی کامیابی اور جنت کے اعلی مقامات بتلا کر نیک بندوں کو خوشخبری اور بری راہوں پر چلنے والوں کے لئے نصیحت و ترغیب کا راستہ کھولا گیا ہے، ان آیات کے اخیر میں ھذا بیان للناس وھدی و موعظۃ للمتقین میں اسی کی طرف اشارہ ہے، مقبولین کی جو صفات و علامات یہاں ذکر کی گئی ہیں، اس میں ابتدائی آیات میں ان صفات کا بیان ہے جن کا تعلق انسانی حقوق اور باہمی معاشرت سے ہے، اور بعد کی آیات میں وہ صفات ہیں جن کا تعلق حق تعالیٰ کی عبادت و اطاعت سے ہے، جن کو دوسرے لفظوں میں حقوق العباد اور حقوق اللہ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ متذکرہ بالا آیات میں حقوق انسانی سے متعلقہ صفات کو پہلے اور حقوق اللہ سے متعلقہ صفات کو بعد میں فرماکر اس طرف اشارہ فرمایا کہ اگرچہ اصل کے اعتبار سے حقوق اللہ سارے حقوق پر مقدم ہیں، لیکن دونوں میں ایک خاص فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اپنے حقوق بندوں پر لازم کیے ہیں ان سے نہ اللہ تعالیٰ کا اپنا کو فائدہ متعلق ہے نہ خدائے تعالیٰ کو ان کی حاجت ہے، اور نہ ان کے ادا نہ کرنے سے اللہ کا کوئی نقصان ہے، اس کی ذات سب سے بےنیاز ہے، اس کی عبادت سے فائدہ خود عبادت کرنے والے کا ہے، پھر وہ رحیم الرحماء اور کریم الکرماء بھی ہے، اس کے حقوق میں بڑی سے بڑی کوتاہی اور غلطی کرنے والا انسان جس وقت بھی اپنے کئے ہوئے پر نادم ہو کر اس کی طرف متوجہ ہوجائے اور توبہ کرلے تو بارگاہ رحم و کرم سے اس کے سارے گناہ ایک دم میں معاف ہوسکتے ہیں، بخلاف حقوق العباد کے کہ انسان ان کا محتاج ہے، اور جس شخص کے حقوق کسی کے ذمہ لازم ہیں، اگر وہ ادا نہ کرے تو اس کا نقصان بھی ہے اور اپنے نقصان کو معاف کرنا بھی انسان کے لئے آسان نہیں، اس لئے حقوق العباد کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ نظام عالم کی درستی اور انسانی معاشرے کی اصلاح کا سب سے بڑا دار و مدار باہمی حقوق کی ادائیگی پر ہے، اس میں ذرا سی کوتاہی جنگ وجدال اور فساد کی راہیں کھول دیتی ہے، اور اخلاق فاضلہ اگر پید اکرلئے جائیں تو دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں، صدیوں کی لڑائیاں صلح و آشتی میں تبدیل ہوجاتی ہیں، اس لئے بھی ان صفات و علامات کو مقدم کیا گیا جن کا تعلق انسانی حقوق سے ہے، ان صفات میں سب سے پہلی صفت یہ بتلائی گئی ہے(الذین ینفقون فی السراء والضراء، یعنی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے کے ایسے عادی اور خوگر ہیں کہ ان پر فراخی ہو یا تنگی ہر حال میں مقدور بھر خرچ کرتے رہتے ہیں، زیادہ میں سے زیادہ اور کم میں سے کم، اس میں ایک طرف تو یہ ہدایت ہے کہ غریب فقیر آدمی بھی اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بالکل فارغ نہ سمجھیں، اور اس کی راہ میں خرچ کرنے کی سعادت سے محروم نہ ہوں، کیونہ ہزار روپے میں سے ایک روپیہ خرچ کرنے کا جو درجہ ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی ہزار پیسے میں سے ایک پیسہ خرچ کرنے کا بھی ہے، اور عملی طور پر جس طرح ہزار روپے کے مالک کو ایک روپیہ اللہ کی راہ میں خرچ کردینا کچھ مشکل نہیں اسی طرح ہزار پیسوں کے مالک کو ایک پیسہ خرچ کرنے میں کوئی تکلیف نہیں ہوسکتی۔ دوسری طرف یہ ہدایت بھی ہے کہ تنگی کی حالت میں بھی بقدر حیثیت خرچ کرتے رہنے سے خرچ کرنے کی مبارک خصلت و عادت فنا نہیں ہوگی، اور شاید اللہ تعالیٰ اسی کی برکت سے فراغت اور فراخی بھی عطا فرمادیں۔ تیسری اہم چیز اس میں یہ ہے کہ جو شخص اس کا خوگر ہو کہ دوسرے انسانوں پر اپنا مال خرچ کر کے ان کو فائدہ پہنچا سکے، غریبوں، فقیروں کی امداد کرے، ظاہر ہے کہ وہ کبھی دوسروں کے حقوق غصب کرنے اور ان کی مرضی کے خلاف ہضم کرنے کے پاس بھی نہ جائے گا، اس لئے اس پہلی صفت کا حاصل یہ ہوا کہ مومنین متقین اور اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے دوسرے انسانوں کو نفع پہنچانے کی فکر میں رہا کرتے ہیں، خواہ ان پر فراخی ہو یا تنگی۔ حضرت عائشہ ؓ نے ایک وقت صرف ایک انگور کا دانہ خیرات میں دیا، کیونکہ اس وقت ان کے پاس اس کے سوا کچھ نہ تھا، بعض سلف سے منقول ہے کہ کسی وقت انہوں نے صرف ایک پیاز کا صدقہ کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے (اتقوا النار ولو بشق تمرۃ و ردوا السائل ولو بظلف شاۃ) " یعنی تم جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ اگرچہ ایک کھجور کا ٹکڑا صدقہ میں دے کر ہی ہو، اور سائل کو خالی واپس نہ کرو اور کچھ نہ ہو تو بکری کے پاؤں کی کھری ہی دیدو "۔ تفسیر کبیر میں امام رازی نے یہ حدیث بھی نقل کی ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دی تو جن کے پاس سونا چاندی تھا انہوں نے وہ صدقہ میں دیدیا، ایک شخص کھجور کے چھلکے لایا، کہ میرے پاس اور کچھ نہیں، وہ ہی صدقہ کردیئے گئے، ایک اور شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے پاس کوئی چیز صدقہ کرنے کے لئے نہیں ہے، البتہ میں اپنی قوم میں عزت دار سمجھا جاتا ہوں میں اپنی عزت کی خیرات کرتا ہوں کہ آئندہ کوئی آدمی مجھے کتنا ہی برا بھلا کہے میں اس سے ناراض نہیں ہونگا۔ رسول کریم ﷺ کی تعلیمات اور صحابہ کرام کے تعامل سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ انفاق فی سبیل اللہ صرف مالداروں اور اغنیاء ہی کا حصہ نہیں ہے، غریب، فقیر بھی اس صفت کے حامل ہوسکتے ہیں کہ اپنی اپنی مقدرت کے موافق اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کر کے اس عظیم صفت کو حاصل کرلیں۔ انفاق فی سبیل اللہ کے لئے ضروری نہیں کہ مال ہی خرچ کیا جائے یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ قرآن کریم نے اس جگہ ینفقون کا تو ذکر فرمایا کہ وہ لوگ تنگی اور فراخی ہر حال میں فی سبیل اللہ خرچ کرتے ہیں، یہ متعین نہیں فرمایا کہ کیا خرچ کرتے ہیں، اس کے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں صرف مال و دولت ہی نہیں بلکہ ہر خرچ کرنے کی چیز داخل ہے، مثلا جو شخص اپنا وقت، اپنی محنت اللہ کی راہ میں خرچ کرے وہ بھی اس انفاق کی صفت سے موصوف کیا جائے گا، جو حدیث بحوالہ تفسیر کبیر اوپر گزری ہے وہ اس پر شاہد ہے۔ تنگی اور فراخی کے ذکر میں ایک اور حکمت یہ بھی ہے کہ یہی وہ حالتیں ہیں جن میں عادۃ انسان خدا کو بھولتا ہے جب مال و دولت کی فراوانی ہو تو عیش میں خدا کو بھول جاتا ہے اور جب تنگی اور مصیبت ہو تو بسا اوقات اسی کی فکر میں راہ کر خدا سے غافل ہوجاتا ہے اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ اللہ کے مقبول بندے وہ ہیں جو نہ عیش میں خدا کو بھولتے ہیں نہ مصیبت و تکلیف میں، ظفر شاہ دہلوی کا کلام اس معنی میں خوب ہے ظفر آدمی اس کو نہ جانیے گا خواہ ہو کتنا ہی صاحب فہم و ذکا جسے عیش میں خدا نہ رہے جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا اس کے بعد ان کی ایک خاص صفت اور علامت یہ بتلائی گئی کہ اگر ان کو کسی ایسے شخص سے سابقہ پڑے جو ان کو اذیت اور تکلیف پہنچائے تو وہ غصہ میں مشتعل اور مغلوب نہیں ہوجاتے، اور غصہ کے مقتضی پر عمل کر کے انتقام نہیں لیتے، پھر صرف یہی نہیں کہ انتقام نہ لیں بلکہ دل سے بھی معاف کردیتے ہیں، اور پھر اسی پر بس نہیں بلکہ تکلیف دینے والے کے ساتھ احسان کا معاملہ فرماتے ہیں، اسی ایک صفت میں گویا تین صفتیں شامل ہیں، اپنے غصہ پر قابو پانا، تکلیف دینے والے کو معاف کرنا، پھر اس کے ساتھ احسان کا سلوک کرنا، ان تینوں چیزوں کو اس آیت میں بیان فرمایا۔ (والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس واللہ یحب المحسنین) یعنی وہ لوگ جو اپنے غصہ کو دبا لیتے ہیں اور لوگوں کا قصور معاف کردیتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ امام بیہقی نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت سیدنا علی بن حسین ؓ کا ایک عجیب واقعہ نقل فرمایا ہے کہ آپ کی ایک کنیز آپ کو وضو کرا رہی تھی کہ اچانک پانی کا برتن اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر حضرت علی ابن حسین ؓ کے اوپر گرا، تمام کپڑے بھیگ گئے، غصہ آنا طبعی امر تھا، کنیز کو خطرہ ہوا، تو اس نے فورا یہ آیت پڑھی والکاظمین الغیظ، یہ سنتے ہی خاندان نبوت کے اس بزرگ کا سارا غصہ ٹھنڈا ہوگیا، بالکل خاموش ہوگئے، اس کے بعد کنیز نے آیت کا دوسرا جملہ والعافین عن الناس پڑھ دیا، تو فرمایا کہ میں نے تجھے دل سے بھی معاف کردیا، کنیز بھی ہوشیار تھی اس کے بعد اس نے تیسرا جملہ بھی سنا دیا، واللہ یحب المحسنین جس میں احسان اور حسن سلوک کی ہدایت ہے، حضرت علی بن حسین نے یہ سن کر فرمایا کہ جا میں نے تجھے آزاد کردیا۔ (روح المعانی بحوالہ بیہقی) لوگوں کی خطاؤں اور غلطیوں کو معاف کردینا انسانی اخلاق میں ایک بڑا درجہ رکھتا ہے اور اس کا ثواب آخرت نہایت اعلی ہے، حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے " قیامت کے روز حق تعالیٰ کی طرف سے منادی ہوگی کہ جس شخص کا اللہ تعالیٰ پر کوئی حق ہے وہ کھڑا ہوجائے، تو اس وقت وہ لوگ کھڑے ہوں گے جنہوں نے لوگوں کے ظلم و جور کو دنیا میں معاف کیا ہوگ "۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے (من سرہ ان یشرف لہ البنیان وترفع لہ الدرجت فلیعف عن من ظلمہ ویعط من حرمہ ویصل من قطعہ) " جو شخص یہ چاہے کہ اس کے محلات جنت میں اونچے ہوں اور اس کے درجات بلند ہوں اس کو چاہئے کہ جس نے اس پر ظلم کیا ہو اس کو معاف کردے اور جس نے اس کو کبھی کچھ نہ دیا ہو، اس کو بخشش و ہدیہ دیا کرے، اور جس نے اس سے ترک تعلقات کیا ہو یہ اس سے ملنے میں پرہیز نہ کرے "۔ قرآن کریم نے دوسری جگہ اس سے زیادہ وضاحت سے برائی کرنے والوں کے ساتھ احسان کرنے کا خلق عظیم سکھلایا، اور یہ بتلایا ہے کہ اس کے ذریعہ دشمن بھی دوست ہوجاتے ہیں، ارشاد فرمایا(ادفع بالتی ھی احسن فاذا الذی بینک و بینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم۔ (41: 34) " یعنی برائی کی مدافعت بھلائی اور احسان کے ساتھ کرو، تو جس کے ساتھ دشمنی ہے وہ تمہارا گہرا دوست بن جائے گا "۔ حق تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کی اخلاقی تربیت بھی اسی اعلی پیمانہ پر فرمائی ہے کہ آپ نے اپنی امت کو بھی یہ ہدایت دی کہ(صل من قطعک واعف عمن ظلمک واحسن الی من اساء الیک) " یعنی جو شخص آپ سے قطع تعلق کرے آپ ان سے ملیں، اور جو آپ پر ظلم کرے آپ اس کو معاف کریں، اور جو آپ کے ساتھ برائی کرے آپ اس پر احسان کریں "۔ رسول کریم ﷺ کی تو بڑی شان ہے آپ کی تعلیمات کی برکت سے یہی اخلاق و اوصاف آپ کے خدام میں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمادیے تھے جو اسلامی معاشرے کا طرہ امتیاز ہے، صحابہ وتابعین ؓ اور اسلاف امت کی تاریخ اس قسم کے واقعات سے لبریز ہے۔ امام ابوحنیفہ کا ایک واقعہ ہے کہ ایک شخص نے بھرے بازار میں امام اعظم کی شان میں گستاخی کی اور گالیاں دیں، حضرت امام اعظم نے غصہ کو ضبط فرمایا، اور اس کو کچھ نہیں کہا، اور گھر پر واپس آنے کے بعد ایک خوان میں کافی درہم و دینار رکھ کر اس شخص کے گھر تشریف لے گئے، دروازے پر دستک دی، یہ شخص باہر آیا تو اشرفیوں کا یہ خوان اس کے سامنے یہ کہتے ہوئے پیش فرمایا کہ آج تم نے مجھ پر بڑا احسان کیا، اپنی نیکیاں مجھے دیدیں، میں اس احسان کا بدلہ کرنے کے لئے یہ تحفہ پیش کر رہا ہوں، امام کے اس معاملہ کا اس کے قلب پر اثر ہونا ہی تھا، آئندہ کو اس بری خصلت سے ہمیشہ کے لئے تائب ہوگیا، حضرت امام سے معافی مانگی اور آپ کی خدمت اور صحبت میں علم حاصل کرنے لگا یہاں تک کہ آپ کے شاگردوں میں ایک بڑے عالم کی حیثیت اختیار کرلی۔ یہاں تک ان اوصاف کا بیان تھا جو انسانی حقوق سے متعلق ہیں، اس کے بعد حقوق اللہ سے متعلقہ صفات کا بیان اس طرح فرمایا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے، اور کبھی بمقتضائے بشریت ان سے گناہ ہوجاتا ہے تو فورا اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر استغفار کرتے ہیں، اور آئندہ اس گناہ سے باز آنے کا ارادہ پختہ کرلیتے ہیں،
Ayahs 3:135–138

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب کر بیٹھیں کچھ کھلا گناہ یا برا کام کریں اپنے حق میں تو یاد کریں اللہ کو بخشش مانگیں اپنے گناہوں کی اور کون ہے گناہ بخشنے والاسوا اللہ کے اور اڑتے نہیں اپنے کئے پر اور وہ جانتے ہیں

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

انہی کی جزا ہے بخشش ان کے رب کی اور باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ہمیشہ رہیں گے وہ لوگ ان باغوں میں اور کیا خوب مزدوری ہے کام کرنیوالوں کی

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

ہوچکے ہیں تم سے پہلے واقعات سو پھرو زمین میں اور دیکھو کہ کیا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ بیان ہے لوگوں کے واسطے اور ہدایت اور نصیحت ہے ڈرنے والوں کو۔

ارشاد ہے والذین اذا فعلوا فاحشۃ او ظلموا انفسھم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبھم ومن یغفر الذنوب الا اللہ ولم یصروا علی مافعلوا وھم یعلمون) جس میں ایک تو یہ ہدایت کی گئی کہ گناہوں میں مبتلا ہونا اللہ تعالیٰ کی یاد اور ذکر سے غفلت کے سبب ہوتا ہے، اس لئے جب کوئی گناہ سرزد ہو اللہ تعالیٰ کی یاد کو فورا تازہ کرنا چاہئے، اور ذکر اللہ میں مشغول ہونا چاہئے۔ دوسری یہ ہدایت ہے کہ گناہوں کی معافی کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں، ایک پچھلے گناہوں پر ندامت اور اس سے معافی مانگنا اور مغفرت کی دعا کرنا، دوسرے آئندہ کے لئے اس کے پاس نہ جانے کا عزم مکمل کرنا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم کے بتلائے ہوئے اخلاق فاضلہ نصیب فرمادے۔ اللھم آمین
Ayah 3:139

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

اور سست نہ ہو اور نہ غم کھاؤ اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان رکھتے ہو

ربط آیات ان آیات میں پھر قصہ احد کے متعلق مسلمانوں کو تسلی دینے کا مضمون ہے کہ ہمیشہ سے یہی طریق الہی چلا آیا کہ انجام کار کفار ہی خائب و خاسر ہوتے ہیں اگرچہ تم اس وقت اپنی بےعنوانی سے مغلوب ہوگئے، لیکن اگر اپنے مقتضیات ایمان یعنی ثبات وتقوی پر قائم رہے تو اخیر میں کفار ہی مغلوب ہوں گے۔ خلاصہ تفسیر اور تم (اگر اس وقت مغلوب ہوگئے تو کیا ہوا) ہمت مت ہارو اور رنج مت کرو اور آخر تم ہی غالب رہو گے اگر تم پورے مومن رہے (یعنی اس کے مقتضیات پر ثابت) اگر تم کو زخم (صدمہ) پہنچ جاوے (جیسا احد میں ہوا) تو (کوئی گھبرانے کی بات نہیں کیونکہ اس میں چند حکمتیں ہیں، ایک تو یہ کہ) اس قوم کو بھی (جو کہ تمہارے مقابل تھی یعنی کفار) ایسے ہی زخم (صدمہ) پہنچ چکا ہے، (چنانچہ گزشتہ بدر میں وہ صدمہ اٹھا چکے ہیں) اور (ہمارا معمول ہے کہ) ان ایام کو (یعنی غالب و مغلوب ہونے کے زمانہ کو) لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں، (یعنی کبھی ایک قوم کو غالب اور دوسری کو مغلوب کردیا، کبھی اس کا عکس کردیا، سو اسی معمول کے مطابق پار سال وہ مغلوب ہوئے تھے، اب کے تم ہوگئے، ایک حکمت تو یہ ہوئی) اور (دوسری حکمت یہ ہے) تاکہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو (ظاہری طور پر) جان لیویں (کیونکہ مصیبت کے وقت مخلص اور نیک کا امتحان ہوجاتا ہے) اور (تیسری حکمت یہ ہے کہ) کہ تم میں بعض کو شہید بنانا تھا بقیہ حکمتیں آگے آتی ہیں درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر فرماتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ ظلم (کفر وشرک) کرنے والوں سے محبت نہیں رکھتے (پس اس کا احتمال نہ کیا جاوے کہ شاید ان کو محبوب ہونے کی وجہ سے غالب فرما دیا ہو ہرگز نہیں) اور (چوتھی حکمت یہ ہے) تاکہ (گناہوں کے) میل کچیل سے صاف کردے ایمان والوں کو (کیونکہ مصیبت سے اخلاق و اعمال کا تصفیہ ہوجاتا ہے) اور (پانچویں حکمت یہ ہے کہ) مٹا دیوے کافروں کو (یہ اس لئے کہ غالب آجانے سے ان کی ہمت بڑھے گی، پھر مقابلہ میں آئیں گے اور ہلاک ہوں گے، دوسرے یہ کہ مسلمانوں پر ظلم کرنے سے قہر خداوندی میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوں گے) ہاں اور سنو ! کیا تم خیال کرتے ہو کہ جنت میں (خصوصیت کے ساتھ) جا داخل ہو گے، حالانکہ ہنوز اللہ تعالیٰ نے (ظاہری طور پر) ان لوگوں کو دیکھا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے (خوب) جہاد کیا ہو اور جو جہاد میں ثابت قدم رہنے والوں اور تم تو (شہید ہوکر) مرنے کی (بڑی) تمنا کیا کرتے تھے، موت کے سامنے آنے سے پہلے سو (تمنا کے مطابق) اس (کے سامان) کو کھلی آنکھوں دیکھ لیا (پھر اس کو دیکھ کر کیوں بھاگنے لگے اور وہ تمنا کہاں بھول گئے) معارف و مسائل غزوہ احد کا واقعہ اپنی پوری تفصیل کے ساتھ اسی سورت میں بیان کیا جا چکا ہے، جس میں یہ بات معلوم ہوچکی ہے کہ اس جہاد میں مسلمانوں کی بعض کوتاہیوں کے سبب ابتدائی فتح کے بعد پھر مسلمانوں کو شکست ہوئی، ستر صحابہ کرام شہید ہوئے، حضور ﷺ کو زخم آئے، مگر ان سب امور کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے جنگ کا پانسہ پلٹا، اور دشمن پسپا ہوگئے۔ اس عارضی شکست کے تین سبب تھے، پہلا یہ کہ حضور ﷺ نے جو حکم تیر اندازوں کو دیا تھا وہ بعض اسباب سے ان پر قائم نہ رہے، کیونکہ اس بارے میں اختلاف رائے ہوگیا، کوئی کہتا تھا کہ ہم کو یہیں جمے رہنا چاہئے، اکثر نے کہا کہ اب یہاں ٹھہرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہی، چل کر سب کے ساتھ غنیمت حاصل کرنے میں لگنا چاہئے، تو پہلا سبب آپس کا جھگڑا تھا، دوسرا سبب یہ ہوا کہ جب حضور کے قتل کی خبر مشہور ہوگئی تو مسلمانوں کے قلوب میں کمزوری پیدا ہوگئی جس کا نتیجہ بزدلی اور کم ہمتی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ تیسرا سبب جو ان دونوں سببوں سے زیادہ اہم تھا یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل میں اختلاف پیش آیا، یہ تین لغزشیں مسلمانوں سے ہوگئی تھیں، جن کی بناء پر ان کو عارضی شکست ہوئی، یہ عارضی شکست اگرچہ انجام کار فتح میں تبدیل ہوچکی تھی، لیکن مسلمان مجاہدین زخموں سے چور چور تھے، ان کے بڑے بڑے بہادروں کی لاشیں آنکھوں کے سامنے پڑی تھیں، پیغمبر ﷺ کو بھی اشقیاء نے مجروح کردیا تھا، شدائد و یاس کا ہجوم تھا، اور اپنی ان لغزشوں کا بھی شدید صدمہ تھا، اب یہاں دو چیزیں پیدا ہوچکی تھیں، ایک تو گزشتہ باتوں کا رنج و غم، دوسری چیز جس کا خطرہ تھا وہ یہ کہ مسلمان آئندہ کے لئے کہیں کمزور نہ ہوجائیں، اور اقوام عالم کی امامت کا جو فریضہ ان پر عائد ہے اس میں ضعف نہ پیدا ہوجائے، اس لئے ان دونوں رخنوں کو بند کرنے کے لئے قرآن کریم کا یہ ارشاد آیا (لا تھنوا ولا تحزنوا وانتم الاعلون ان کنتم مومنین) یعنی تم آئندہ کے لئے کمزوری اور سستی اپنے پاس نہ آنے دو ، اور گزشتہ پر رنج و ملال نہ کرو، اور انجام کار تم ہی غالب ہو کر رہو گے، بشرطیکہ ایمان و ایقان کے راستہ پر مستقیم رہو، اور حق تعالیٰ کے وعدوں پر کامل وثوق رکھتے ہوئے اطاعت رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے قدم پیچھے نہ ہٹاؤ۔ مطلب یہ تھا کہ گزشتہ باتیں اور لغزشیں جو ہوچکی ہیں ان پر رنج و غم میں اپنا وقت اور توانائی صرف کرنے کے بجائے مستقبل میں اپنے کام کی درستی کی فکر کرو، اور اسے کامیاب بناؤ، ایمان و ایقان، اطاعت رسول درخشاں مستقبل کا ضامن ہے ان کو ہاتھ سے نہ جانے دو ، انجام کار تم ہی غالب رہو گے۔ اس قرآنی آواز نے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دیا، اور پژمردہ جسموں میں تازہ روح پھونک دی، غور فرمایئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کی کس طرح تربیت و اصلاح فرمائی اور ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کو ایک ضابطہ اور اصول دیدیا، کہ گزشتہ فوت شدہ امور پر رنج و ملال میں وقت صرف کرنے کے بجائے آئندہ کے لئے قوت و شوکت کے اسباب بہم پہنچانے چاہئے، پھر اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتلا دیا گیا کہ غلبہ اور بلندی حاصل کرنے کے لئے صرف ایک ہی چیز اصل ہے یعنی ایمان اور اس کے تقاضے پورے کرنا، ایمان کے تقاضہ میں وہ تیاریاں بھی داخل ہیں جو جنگ کے سلسلہ میں کی جاتی ہیں، یعنی اپنی فوجی قوت کا استحکام، سامان جنگ کی بہم رسانی اور ظاہری اسباب سے بقدر وسعت آراستہ و مسلح ہونا، غزوہ احد کے واقعات اول سے آخر تک ان تمام امور کے شاہد ہیں۔ اس آیت کے بعد ایک دوسرے انداز میں مسلمانوں کی تسلی کے لئے ارشاد ہے کہ اگر اس لڑائی میں تم کو زخم پہنچایا تکلیف اٹھانی پڑی تو اسی طرح کے حوادث فریق مقابل کو بھی تو پیش آچکے ہیں، اگر احد میں تمہارے ستر آدمی شہید اور بہت سے زخمی ہوئے تو ایک سال پہلے ان کے ستر آدمی جہنم رسید اور بہت سے زخمی ہوچکے ہیں، اور خود اس لڑائی میں بھی ابتداء ان کے بہت سے آدمی مقتول و مجروح ہوئے۔
Ayahs 3:140–143

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اگر پہنچا تم کو زخم تو پہنچ چکا ہے ان کو بھی زخم ایسا ہی، اور یہ دن باری باری بدلتے رہتے ہیں ہم ان کو لوگوں میں اور اس لئے کہ معلوم کرے اللہ جن کو ایمان ہے اور کرے تم میں سے شہید اور اللہ کو محبت نہیں ظلم کرنے والوں سے

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور اس واسطے کہ پاک صاف کرے اللہ ایمانوالوں کو اور مٹادیوے کافروں کو

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

کیا تم خیال ہے کہ داخل ہوجاؤ گے جنت میں اور ابھی تک معلوم نہیں کیا اللہ نے جو لڑنے والے ہیں تم میں اور معلوم نہیں کیا ثابت رہنے والوں کو

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

اور تم تو آرزو کرتے تھے مرنے کی اس کی ملاقات سے پہلے سو اب دیکھ لیا تم نے اس کو آنکھوں کے سامنے۔

لہذا فرمایا (ان یمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ وتلک الایام نداولھا بین الناس) یعنی اگر تم کو زخم پہنچا تو ان کو بھی ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے، اور ہم ان ایام کو باری باری بدلتے رہتے ہیں، جس میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ اس آیت میں ایک اہم ضابطہ اور اصول کی طرف رہنمائی فرمائی وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی عادت اس عالم میں یہی ہے کہ وہ سختی، نرمی، دکھ، سکھ، تکلیف و راحت کے دنوں کو لوگوں میں ادل بدل کرتے ہیں، اگر کسی وجہ سے کسی باطل قوت کو عارضی فتح و کامرانی حاصل ہوجائے تو جماعت حقہ کو اس سے بد دل نہیں ہونا چاہئے، اور یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ہم کو اب ہمیشہ شکست ہی ہوا کرے گی، بلکہ اس شکست کے اسباب کا پتہ لگا کر ان اسباب کا تدارک کرنا چاہئے، انجام کار فتح جماعت حقہ ہی کو نصیب ہوگی۔
Ayah 3:144

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

اور محمد ﷺ تو ایک رسول ہے ہوچکے اس سے پہلے بہت رسول پھر کیا اگر وہ مرگیا اور مارا گیا تو تم پھر جاؤے گے الٹے پاؤں اور جو کوئی پھرجائے گا الٹے پاؤں تو ہرگز نہ بگاڑے گا اللہ کا کچھ اور اللہ ثواب دے گا شکر گزاروں کو

خلاصہ تفسیر اور محمد ﷺ نرے رسول ہی تو ہیں (خدا تو نہیں جس پر قتل یا موت ممکن نہ ہو) آپ سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں (اسی طرح آپ بھی ایک روز گزر ہی جائیں گے) سو اگر آپ کا انتقال ہوجاوے یا آپ شہید ہوجاویں تو کیا تم لوگ (جہاد یا اسلام سے) الٹے پھر جاؤ گے (جیسا کہ اس واقعہ میں بعضے مسلمان میدان جنگ سے بھاگ پڑے تھے اور منافقین ترغیب ارتداد کی دے رہے تھے) اور جو شخص (جہاد یا اسلام سے) الٹا پھر جاوے گا تو اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہ کرے گا (بلکہ اپنا ہی کچھ کھو دے گا) اور اللہ تعالیٰ جلد ہی (نیک) عوض دے گا، حق شناس لوگوں کو (جو ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد رکھ کر اس کی اطاعت پر قائم و مستقل رہتے ہیں، اور قیامت کو ملنا جلد ہی ملنا ہے، کیونکہ قیامت روزانہ قریب ہی ہو رہی ہے) اور (نیز کسی کے مرنے سے اتنا گھبرانا بھی فضول ہے، کیونکہ اول تو) کسی شخص کو موت آنا ممکن نہیں (خواہ طبعا خواہ عقلا) بدون حکم خدا کے (پھر جب خدا کے حکم سے ہے تو اس پر راضی رہنا ضرور ہے، دوسرے یہ کہ جس کی موت آتی بھی ہے تو) اس طور سے کہ اس کی میعاد معین لکھی ہوئی رہتی ہے (جس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی، تو پھر ارمان اور حسرت محض بیکار ہے، تو وہ وقت پر ضرور ہوگی، اور وقت سے پہلے ہرگز نہ ہوگی) اور (پھر یہ کہ اس توحش پر بھاگنے کا آخر نتیجہ کیا، بجز اس کے کہ دنیا میں اور چند روز زندہ رہیں، سو ایسی تدبیر کا اثر سن لو کہ) جو شخص (اپنے اعمال و تدابیر میں) دنیوی نتیجہ چاہتا ہے تو ہم اس کو دنیا کا حصہ (بشرط اپنی مشیت کے) دیدیتے ہیں (اور آخرت میں اس کے لئے کچھ حصہ نہیں) اور جو شخص (اپنے اعمال و تدابیر میں) اخروی نتیجہ چاہتا ہے (مثلا جہاد میں اس لئے ثابت قدم رہا کہ یہ تدبیر ہے ثواب آخرت کی) تو ہم اس کو آخرت کا (حصہ اور ذمہ کر کے) دیں گے، اور بہت جلد (نیک) عوض دیں گے (ایسے) حق شناسوں کو (جو اپنے اعمال میں آخرت کی نعمت چاہیں)۔ معارف و مسائل یہ آیات بھی غزوہ احد کے واقعات سے متعلق ہیں، کیونکہ ان واقعات کو کئی وجوہ سے خاص اہمیت حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے سورة آل عمران کے چار پانچ رکوع تک غزوہ احد میں پیش آنے والی فتح و شکست اور ان دونوں میں جو قدرتی ہدایات پوشیدہ تھیں ان کا بیان مسلسل فرمایا ہے۔ مذکورہ آیتوں میں سے پہلی آیت میں بعض صحابہ کرام کی ایک لغزش پر تہدید آمیز تنبیہ کر کے ایک ایسے اصولی مسئلہ کی طرف ہدایت کی گئ ہے کہ سوچنے والوں کو اس سے یہ بھی پتہ لگ جاتا ہے کہ اس عارضی شکست اور اس میں آنحضرت ﷺ کے زخمی ہونے اور حضور کی وفات کی خبر پھیل جانے کی اور اس پر بعض صحابہ کی ہمت پست ہوجانے میں یہ راز بھی تھا کہ مسلمان اس اصولی مسئلہ پر عملی طور پر پختہ ہوجائیں، وہ مسئلہ یہ تھا کہ جہاں اصول اسلام میں اس کی بری اہمیت ہے کہ رسول کریم ﷺ کی عظمت و محبت کو جزو ایمان قرار دیا گیا ہے، اس میں ادنی کمزوری کو کفر کے مرادف بتلایا گیا ہے، وہیں یہ بات بھی اتنی ہی اہم تھی کہ کہیں مسلمان اس مرض کا شکار نہ ہوجائیں جس میں نصاری اور عیسائی مبتلا ہوگئے تھے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی عظمت و محبت کو پرستش اور عبادت کی حد تک پہنچا دیا، اور ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک خدائی ٹھہرا لیا۔ غزوہ احد کی عارضی شکست کے وقت جب کسی نے یہ مشہور کردیا کہ آنحضرت ﷺ کی وفات ہوگئی تو صحابہ کرام پر جو کچھ گزری اور گزرنی چاہئے تھی اس کا ادنی سا اندازہ کرنا بھی ہر شخص کے لئے آسان نہیں، اس کا اندازہ کچھ وہی لگا سکتا ہے جس کو صحابہ کرام کی جاں نثاری اور عشق رسول کا کچھ اندازہ ہو، جس کو یہ پوری طرح معلوم ہو کہ یہ وہ حضرات ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی محبت میں مال، اولاد اور اپنی جانیں اور سب کچھ گنوا دینے کو دنیا کی سب سے بڑی سعادت سمجھی اور عمل سے اس کا ثبوت دیا ہے۔ ان عشاق رسول اللہ ﷺ کے کانوں میں جب یہ خبر پری ہوگی ان کے ہوش و حواس کا کیا عالم ہوگا خصوصا جب کہ میدان جنگ گرم ہے، اور فتح کے بعد شکست کا منظر آنکھوں کے سامنے ہے، مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ رہے ہیں، اس عالم میں وہ ہستی جو ساری کوششوں کا محور اور ساری امیدوں کا مظہر تھی، وہ بھی ان سے رخصت ہوتی ہے، اس کا طبعی نتیجہ یہ تھا کہ صحابہ کرام کی ایک بھاری جماعت سراسیمہ ہو کر میدان جنگ سے ہٹنے لگی، یہ میدان جہاد سے ہٹ جانا اگرچہ ہنگامی اور سرسری اور وقتی سراسیمگی کا نتیجہ تھا، خدانخواستہ اسلام سے پھرجانے کا کوئی شبہ یا وسوسہ بھی نہ تھا، لیکن حق تعالیٰ تو اپنے رسول ﷺ کے صحابہ کو ایک ایسی پاکباز فرشتہ خصلت جماعت بنانا چاہتا ہے جو دنیا کے لئے نمونہ عمل بنے، اس لئے ان کی ادنی لغزش بھی سخت قرار دی گئی۔ نزدیکاں رابیش بود حیرانی ان کے لئے میدان جنگ چھوڑنے پر ایسا خطاب کیا گیا جیسے اسلام چھوڑنے پر کیا جاتا ہے، اور سخت عتاب کے ساتھ اس بنیادی مسئلہ پر تنبیہ کی گئی کہ دین و عبادت اللہ کے لئے اور جہاد اسی کے لئے ہیں، جو ہمیشہ زندہ اور قائم ہے، اگر بالفرض یہ خبر صحیح بھی ہوتی کہ آنحضرت ﷺ کی وفات ہوگئی تو بہرحال یہ تو ایک دن ہونا ہی ہے اس پر ہمت ہار بیٹھنا اور دین کا کام چھوڑ دینا ان حضرات کے شایان شان نہیں۔ اس لیے ارشاد فرمایا(وما محمد الا رسول) یعنی محمد ﷺ ایک رسول ہی تو ہیں۔ (خدا تو نہیں) آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں، اگر آپ کی وفات ہوجائے یا آپ کو شہید کردیا جائے تو کیا تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے، اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرجائے گا، وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا اور اللہ تعالیٰ ثواب دے گا شکر گزاروں کو۔ اس میں تنبیہ فرمادی کہ رسول اللہ ﷺ تو ایک نہ ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں، آپ کے بعد بھی مسلمانوں کو دین پر ثابت قدم رہنا ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اس عارضی شکست کے وقت آنحضرت ﷺ کے مجروح ہونے اور وفات کی خبر مشہور ہونے میں یہ قدرتی راز تھا کہ آپ کے بعد جو حالات صحابہ کرام پر پیش آسکتے تھے وہ آپ کی دنیوی حیات ہی میں ظاہر کردیئے گئے تاکہ ان میں جو لغزش ہو اس کی اصلاح خود آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے ہوجائے، اور آئندہ جب یہ واقعہ وفات سچ مچ پیش آئے تو یہ عشاق رسول از جار فتہ نہ ہوجائیں، چناچہ یہی ہوا آپ کی وفات کے وقت جب بڑے بڑے صحابہ کرام کے ہوش و حواس بجا نہ تھے، تو حضرت صدیق اکبر ؓ نے اسی قسم کی آیات قرآنیہ کی سند لے کر ان کو سمجھایا، اور وہ سب سنبھل گئے۔
Ayah 3:145

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور کوئی مر نہیں سکتا بغیر حکم اللہ کے لکھا ہوا ہے ایک وقت مقرر اور جو کوئی چاہے گا بدلہ دنیا کا دیویں گے ہم اس کو دنیا ہی سے اور جو کوئی چاہے گا بدلہ آخرت میں اس میں سے دیویں گے ہم اس کو اور ہم ثواب دیں گے احسان ماننے والوں کو۔

اس کے بعد دوسری آیت میں بھی حوادث اور مصائب کے وقت ثابت قدم رہنے کی تعلیم دینے کے لئے یہ ارشاد فرمایا کہ ہر انسان کی موت اللہ تعالیٰ کے نزدیک لکھی ہوئی ہے اس کی تاریخ، دن اور وقت معین ہے، نہ اس سے پہلے کسی کو موت آسکتی ہے نہ اس کے بعد وہ زندہ رہ سکتا ہے، پھر کسی کی موت سے ایسے سراسیمہ ہوجانے کے کوئے معنی نہیں۔ آخر میں اس پر تنبیہ فرمائی کہ اس حادثہ کے ظاہری اسباب میں ایک سبب یہ بھی تھا کہ جن حضرات کو آنحضرت ﷺ نے عقب کی جانب پہاڑی پر نگراں بنا کر بٹھایا تھا، ابتدائی فتح کے وقت عام مسلمانوں کو مال غنیمت جمع کرنے میں مشغول دیکھ کر ان میں بھی چند حضرات کو یہ خیال پیدا ہوگیا کہ اب فتح ہوگئی، اس جگہ ٹھہرنے کی ضرورت نہ رہی، پھر ہم بھی مال غنیمت جمع کرنے میں کیوں حصہ نہ لیں ؟ وہ اپنی جگہ سے ہٹ گئے، اس لئے فرمایا(ومن یرد ثواب الدنیا نوتہ منھا ومن یرد ثواب الاخرۃ نوتہ منھا وسنجزی الشکرین) یعنی جو شخص اپنے عمل سے دنیا کا بدلہ چاہتا ہے ہم اس کو دنیا میں کچھ حصہ دیدتے ہیں، اور جو آخرت کا ثواب چاہتا ہے تو اس کو آخرت کا ثواب ملتا ہے اور ہم عنقریب شکر گزاروں کو بدلہ دیں گے۔ اس میں اشارہ فرمایا کہ مال غنیمت جمع کرنے کی فکر میں حضور ﷺ کے مقرر کردہ کام کو چھوڑ بیٹھنے میں ان سے غلطی ہوئی، یاد رہے کہ حقیقت کے اعتبار سے مال غنیمت جمع کرنا بھی نری دنیا طلبی نہیں جو شرعا مزموم ہے، بلکہ مال غنیمت جمع کر کے محفوظ کرنا اور پھر اس کو اس کے مصرف میں صرف کرنا یہ بھی ایک جزو جہاد ہے، اور عبادت ہی ہے، ان حضرات صحابہ کا اس میں شریک ہونا صرف طمع دنیوی کی وجہ سے نہ تھا، کیونکہ شرعی ضابطہ سے اگر وہ اس مال کے جمع کرنے میں شریک نہ ہوتے جب بھی ان کو مال غنیمت میں وہ حصہ ملتا جو اب ملا، اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان حضرات نے طمع دنیا کے لئے اپنے مقام کو چھوڑا، لیکن جیسا کہ پہلی آیت کی تفسیر میں بتلایا گیا ہے کہ بڑوں کی تھوڑی لغزش بھی بڑی سمجھی جاتی ہے، ان کے معمولی جرم کو بڑا سخت جرم قرار دے کر عتاب و خطاب کیا جاتا ہے، وہی یہاں بھی ہے کہ مال غنیمت جمع کرنے میں کچھ نہ کچھ دنیوی منفعت کا تعلق ضرور تھا، اور اس تعلق کا طبعی اثر قلوب میں ہونا بھی مستبعد نہ تھا، صحابہ کرام کے معیار اخلاق کو بلند سے بلند کرنے کے لئے ان کے اس عمل کو بھی ارادہ دنیا سے تعبیر کردیا کہ طمع دنیا کا ادنی سا غبار بھی ان کے قلوب تک نہ جاسکے۔
Ayahs 3:146–148

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور بہت نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر لڑے ہیں بہت خدا کے طالب پھر نہ ہارے ہیں کچھ تکلیف پہنچنے سے اللہ کی راہ میں اور نہ سست ہوئے ہیں اور نہ دب گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے ثابت قدم رہنے والوں سے

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور کچھ نہیں بولے مگر یہی کہا اے رب ہمارے بخش ہمارے گناہ اور جو ہم سے زیادتی ہوئی ہمارے کام میں اور ثابت رکھ قدم ہمارے اور مدد دے ہم کو قوم کفار پر

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

پھر دیا اللہ نے ان کو ثوابت دنیا کا اور خوب ثواب آخرت کا اور اللہ محبت رکھتا ہے نیک کام کرنیوالوں سے۔

ربط آیات سابقہ آیات میں غزوہ احد میں پیش آنے والی بعض کوتاہیوں پر مسلمانوں کو تنبیہ اور ملامت تھی، ان آیات میں بھی اس کا تکملہ پچھلی امتوں کے بعض حالات و واقعات کی طرف اشارہ کر کے کیا گیا ہے کہ وہ کس طرح میدان جنگ میں ثابت قدم استقلال کے ساتھ رہے، تمہیں بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔ بعض لغات کی تشریح (ربیون) بکسر راء و تشدید باء مک سورة و ضم یاء رب کی طرف منسوب ہے، جیسے ربانی معنی ہیں رب والے، اس میں حرف راء مفتوح کی بجائے مکسور خلاف قیاس استعمال ہوا ہے، (روح) بعض حضرات نے ربیون کے معنی بہت سی جماعتوں کے کئے ہیں، ان کے نزدیک یہ ربہ بکسر راء بمعنی الجماعۃ کی طرف منسوب ہے، ربیون (اللہ والے) سے مراد یہاں کون لوگ ہیں ؟ حضرت عبداللہ بن عباس اور حسن بصری سے منقول ہے کہ اس سے مراد علماء و فقہاء ہیں، (روح المعانی) استکانوا، استکانۃ سے مشتق ہے جس کے معنی دب جانے اور عاجز ہو کر رک جانے کے ہیں۔ (بیضاوی) وھنوا وھن سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں ضعف و کمزوری۔ خلاصہ تفسیر اور بہت نبی ہوچکے ہیں جن کے ساتھ بہت بہت اللہ والے (کفار کے ساتھ) لڑے ہیں، نہ انہوں نے ہمت ہاری ان مصائب کی وجہ سے جو ان پر اللہ کی راہ میں واقع ہوئیں اور نہ ان کے (قلب یا بدن) کا زور گھٹا اور نہ وہ (دشمن کے سامنے) دبے (کہ ان سے عاجزی اور خوشامد کی باتیں کرنے لگیں) اور اللہ تعالیٰ کو ایسے مستقل مزاجوں سے محبت ہے (اور افعال میں تو ان سے کیا لغزش ہوتی) ان کی زبان سے بھی تو اس کے سوا اور کچھ نہیں نکلا کہ انہوں نے (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) عرض کیا کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہوں کو اور ہمارے کاموں کو حد سے آگے نکل جانے کو بخش دیجئے، اور ہم کو (کفار کے مقابلہ میں) ثابت قدم رکھئے، اور ہم کو کافر لوگوں پر غالب کیجئے تو (اس استقلال اور دعا کی برکت سے) ان کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کا بدلہ بھی دیا (یعنی فتح و ظفر) اور آخرت کا بھی عمدہ بدلہ دیا (یعنی رضا اور جنت) اور اللہ تعالیٰ کو ایسے نیکو کاروں سے محبت ہے۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ میں سابق انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ جہاد میں شریک اللہ والوں کی جنگ میں ثابت قدمی اور مصائب و شدائد سے نہ گھبرانا نہ کمزور ہونا بیان فرمانے کے بعد ان کی ایک اور عظیم الشان صفت کا بیان بھی اس طرح فرمایا ہے کہ وہ اپنی اس بےمثال قربانی کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں چند دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ اول یہ کہ ہمارے پچھلے گناہ معاف فرمادے۔ دوسرے یہ کہ حالیہ عمل جہاد میں ہم سے جو کوتاہی ہوگئی ہو اسد کو معاف فرمادے۔ تیسرے یہ کہ ہمیں ثابت قدمی پر قائم رکھے۔ چوتھے یہ کہ ہمیں دشمنوں پر غالب کرے۔ ان دعاؤں کے ضمن میں مسلمانوں کے لئے چند اہم ہدایات ہیں۔ اپنے کسی نیک عمل پر ناز نہیں کرنا چاہے بلکہ ہر حال میں اللہ سے مغفرت اور عمل پر قائم رہنے کی دعا کرتے رہنا چاہئے اول یہ کہ حقیقت شناس مومن کا کام یہ ہے کہ وہ کتنا ہی بڑا نیک کام اور کتنی ہی جدوجہد اللہ کی راہ میں کر راہ ہو، اس کو یہ حق نہیں کہ اپنے عمل پر ناز و فخر کرے، کیونکہ درحقیقت اس کا عمل بھی اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے، اس کے بغیر کوئی نیک عمل ہو ہی نہیں سکتا، حدیث میں مذکور ہے(فوا اللہ لو لا اللہ ماھتدینا ولا تصدقنا ولا صلینا) " یعنی اگر اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو ہمیں نہ سیدھے راستہ کی ہدایت ملتی اور نہ ہم سے زکوٰۃ و نماز ادا ہوسکتی "۔ اس کے علاوہ جو نیک عمل کوئی انسان کرتا ہے وہ کتنا ہی درست کر کے کرے لیکن مالک الملک والملکوت کی شان جلالی کے مطابق کرلینا اس کے بس میں نہیں، اس لئے اس کے ادائے حق میں کوتاہی ناگزیر ہے، اس سے حالت عمل میں بھی استغفار کی ضرورت ہے، نیز یہ بھی کسی اطمینان نہیں ہوسکتا کہ جو نیک عمل وہ اس وقت کر رہا ہے آگے بھی اسے اس کی توفیق ہوگی، اس لئے موجودہ عمل میں کوتاہی پر ندامت اور آئندہ کے لئے اس پر قائم رہنے کی دعا مومن کا وظیفہ ہونا چاہئے۔ مذکورہ دعاؤں میں سب سے پہلے اپنے پچھلے گناہوں کی معافی کی درخواست کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں انسان کو جو رنج و غم یا کوئی تکلیف یا دشمن کے مقابلہ میں شکست پیش آتی ہے وہ اکثر اس کے سابقہ گناہوں کا اثر ہوتا ہے، جس کا علاج استغفار و توبہ ہے۔ مولانا رومی نے فرمایا غم چو بینی زود استغفار کن غم بامر خالق آمد کارکن آخری آیت میں اللہ والوں کو دنیا وآخرت دونوں میں اچھا بدلہ دینے کا ذکر ہے کہ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ انجام کار دشمنوں پر غالب اور اپنے مقصد میں کامیاب فرماتے ہیں، پھر آخرت کا بدلہ تو اصل بدلہ اور دائمی راحت ہے، جس کو کبھی فنا نہیں، اس کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ثواب آخرت کے ساتھ لفظ حسن بڑھا دیا گیا۔ وحسن ثواب الاخرۃ فرمایا۔
Ayahs 3:149–150

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

اے ایمان والوں اگر تم کہا مانو گے کافروں کا تو وہ تم کو پھیر دیں گے الٹے پاؤں پھر جا پڑوگے تم نقصان میں

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

بلکہ اللہ تمہارا مددگار ہے اور اس کی مدد سب سے بہتر ہے۔

خلاصہ تفسیر ربط آیات غزوہ احد میں مسلمانوں کی عارضی شکست اور رسول اللہ ﷺ کی وفات کی افواہ گرم ہونے پر منافقین نے جب جنگ کا پانسہ پلٹتے دیکھا تو شرارت کا موقع مل گیا، مسلمانوں سے کہنے لگے کہ جب آپ ہی نہ رہے تو ہم اپنا ہی دین کیوں نہ اختیار کرلیں، جس سے سارے جھگڑے مٹ جائیں اس سے منافقین کی خباثت اور مسلمانوں کا بدخواہ دشمن ہونا ظاہر ہے، اس لئے آیت مذکورہ میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان دشمنوں کی بات پر کان نہ لگائیں، ان کو اپنے کسی مشورہ میں شریک نہ کریں، نہ ان کے کسی مشورہ کا اتباع کریں، تو جیسے پچھلی آیات میں اللہ والوں کا اتباع کرنے کی ہدایت تھی اس میں منافقین اور مخالفین اسلام کے مشورہ پر عمل نہ کرنے اور ان سے بچنے رہنے کی ہدایت ہے، خلاصہ تفسیر یہ ہےاے ایمان والو اگر تم کہنا مانگو گے کافروں کا تو وہ تم کو (کفر کی طرف) الٹا پھیر دیں گے (مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا اصل مقصد مسلمانوں کو ان کے دین سے ہٹا اور بدگمان کرنا ہے رفتہ رفتہ ان کے دل سے اسلام کی عظمت و محبت کم ہوتی چلی جائے) پھر تم (ہر طرح) ناکام ہوجاؤ گے (خلاصہ یہ کہ وہ تمہارے دوست ہرگز نہیں اگر اظہار دوستی کا کریں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی تمہارا دوست ہے اور وہ سب سے بہتر مدد کرنے والا ہے (اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ صرف اللہ تعالیٰ پر اعتماد کریں، اسی کی مدد پر بھروسہ کریں، مخالفین اگر تمہاری نصرت و امداد کی کچھ تدبیریں بھی بتلائیں تو اللہ و رسول کے احکام کے خلاف ان پر عمل نہ کرو)
Ayah 3:151

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

اب ڈالیں گے ہم کافروں کے دل میں ہیت اس واسطے کہ انہوں نے شریک ٹھہرایا اللہ کا جس کی اس نے کوئی سندیں اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بڑا ٹھکانا ہے ظالموں کا

ربط آیات۔ سابقہ آیت میں اللہ تعالیٰ کا ناصر و مددگار ہونا مذکور تھا، ان آیات میں نصرت الٰہی کے کچھ واقعات کا ذکر ہے۔ خلاصہ تفسیر ہم ابھی ڈالے دیتے ہیں رعب (ہیبت) کافروں کے دلوں میں، بسب اس کے کہ انہوں نے اللہ کا شریک ایک ایسی چیز کو ٹھہرایا جس (کے قابل شرکت ہونے) پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی (نہ لفظاً اور صراحتاً اور نہ معنی یعنی ایسی دلیل جس کا شرع میں اعتبار ہوا اس میں تمام دلائل عقلیہ قطعیہ داخل ہوگئے، مطلب یہ ہے کہ یوں تو ہر جاہ اپنی کوئی دلیل پیش کیا ہی کرتا ہے، مگر کوئی قابل اعتبار دلیل ان کے پاس نہیں) اور ان کی جگہ جہنم اور وہ بری جگہ ہے ظالموں کی، (اس آیت میں کافر پر رعب وہیبت طاری کرنے کا آج وعدہ ہے اس کا ظہور اس طرح ہوا کہ اول تو باوجود اس کے کہ شکست مسلمانوں کو ہو رہی تھی، مشرکین عرب بلا کسی ظاہری سبب کے مکہ کی طرف لوٹ گئے (بیضاوی) پھر جب کچھ راستہ طے کرچکے تو اپنی حماقت پر افسوس کرنے لگے کہ جب مسلمان دم توڑ چکے تھے تو اس وقت وہاں سے واپس آنا کوئی دانشمندی نہیں تھی اور پھر مدینہ کی طرف واپسی کا کچھ ارادہ کیا، تو اللہ نے ان کے دلوں پر ایسا رعب ڈالا کہ مدینہ کی طرف بڑھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ کسی راہ چلتے گاؤں والے سے کہہ دیا کہ ہم تجھے اتنا مال دیں گے، تم مدینہ جا کر مسلمانوں کو ڈرا دو کہ وہ پھر لوٹ کر آ رہے ہیں، یہاں پر سارا واقعہ آنحضرت ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے تعاقب کے لئے مقام حمرا، الاسد تک پہونچے، مگر وہ بھاگ چکے تھے، یہ آیت اسی واقعہ کے متعلق نازل ہوئی۔ اگلی آیتوں میں غزوہ احد کے اندر مسلمانوں کی عارضی شکست اور مغلوبیت کے اسباب کا بیان ہے، ارشاد ہے) اور یقینا اللہ تعالیٰ نے تو تم سے اپنا وعدہ (نصرت کو سچا کر دکھایا، جس وقت کہ تم (ابتداء قتال میں) ان کفار کو بحکم خداوند قتل کر رہے تھے، (اور یہ تمہارا غلبہ آہستہ آہستہ بڑھتا گیا) یہاں تک کہ تم خود ہی (رائے میں) کمزور ہوگئے (اس طرح کہ جو تجویز رسول اللہ ﷺ کے عقب کے مورچہ پر پچاس سپاہی اور ایک افسر کو بٹھا کر فرمائی تھی اس میں بعض کو غلط فہمی ہوگئی کہ مسلمان فتح پاچکے ہیں، اب یہاں بیٹھے رہنے کی ضرورت ختم ہوگئی، اس لئے ہمیں بھی دشمن کے مقابلہ میں شریک ہوجانا چاہئے، جمے رہنے کی ہدایت پر قائم رہے، مگر بعض دوسروں نے دوسری تجویز پیش کردی، انکار و ملامت اسی دوسری تجویز پر ہے کہ) اور تم (آپ ﷺ کے) کہنے پر نہ چلے بعد اس کے کہ تم کو تمہاری دل خواہ بات (آنکھوں سے) دکھا دی تھی (یعنی مسلمانوں کا غلبہ دکھلایا تھا اور اس وقت تمہاری یہ حالت تھی کہ) تم میں سے بعض تو وہ تھے جو دنیا (کا لینا) چاہتے تھے (یعنی کفار کا تعاقب کر کے مال غنیمت جمع کرنا چاہتے تھے) اور بعض تم میں وہ تھے جو (صرف) آخرت کے طلبگار تھے (اب چونکہ بعض سے رائے کی کمزری اور خلاف حکم رسول اللہ ﷺ دوسری تجویز پیش کرنا اور آپ کہ کہنے پر نہ چلنا اور مطلب دنیا جیسے بعض امور سرزد ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے آئندہ کے لئے اپنی نصرت کو بند کرلیا اور پھر تم کو ان کافر (پر غالب آنے) سے ہٹا دیا (باوجودیکہ یہ عارضی شکست تمہارے فعل کا نتیجہ تھی، مگر پھر بھی منجانب اللہ پر عمل بطور و سزا کے نہیں بلکہ اس مصلحت سے ہوا) تاکہ اللہ تعالیٰ تمہاری آزمائش (ایمان کی) فرما دے (چنانچہ اس وقت منافقین کا نفاق کھل گیا اور مخلصین کی قدر بڑھ گئی اور یقین سمجھو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو معاف کردیا (اب آخرت میں مواخذہ نہ ہوگا) اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں مسلمانوں (کے حال) پر
Ayah 3:152

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور اللہ تو سچا کرچکا تم سے اپنا وعدہ جب تم قتل کرنے لگے ان کو اس کے حکم سے یہاں تک کہ جب تم نے نامردی کی اور کام میں جھگڑا ڈالا اور نافرمانی کی بعد اس کے کہ تم کو دکھا چکا تمہاری خوشی کی چیز کوئی تم میں سے چاہتا تھا دنیا اور کوئی تم میں سے چاہتا تھا آخرت پھر تم کو الٹ دیا ان پر سے تاکہ تم کو آزما دے اور وہ تو تم کو معاف کرچکا اور اللہ کا فضل ہے ایمان والوں پر۔

معارف و مسائل اللہ تعالیٰ کے نزدیک صحابہ کرام کا مقام بلند اور اس کی رعایتیں۔ یہ ظاہر ہے کہ غزوہ احد میں بعض صحابہ کرام کی رائے کی غلطی ہوئی تھی جس پر سابقہ متعدد آیات میں تنبیہ اور آئندہ کے لئے اصلاح حال کی ہدایات کا سلسلہ چلا آتا ہے، مگر اس عتاب اور تنبیہات کے اندر بھی صحابہ کرام کے ساتھ حق جل شانہ کی عنایات قابل دید ہیں، اول تو لیتلیکم فرما کر یہ ظاہر فرما دیا کہ عارضی شکست کی جو صورت پیش آئی یہ بطور سزا کے نہیں، بلکہ آزمائش کے لئے ہے، پھر صاف لفظوں میں خطا کی معافی کا اعلان فرما دیا۔ ولقد عقا عنکم بعض صحابہ کرام کے ارادہ دنیا کا مطلب۔ آیات مذکور میں ارشاد ہوا ہے کہ اس وقت صحابہ کرام کے دو گروہ ہوگئے تھے، بعض دنیا چاہتے تھے، بعض صرف آخرت کے طلب گار تھے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ جن حضرات کے متعلق طالب دنیا ہونے کا ذکر ہے یہ ان کے کسی عمل کی بناء پر ہے ظاہر ہے کہ مال غنیمت جمع کرنے کے ارادے کو طلب دنیا سے تعبیر کیا گیا ہے اب غور کرو کہ اگر یہ حضرات اپنے مورچے پر جمے رہتے اور مال غنیمت جمع کرنے میں شریک نہ ہوتے تو کیا ان کے حصہ غنیمت میں کوئی کمی آجاتی اور شریک ہوگئے تو کوئی زیادہ حصہ مل گیا، قرآن و حدیث سے ثابت شدہ قانون غنیمت کو جو شخص جانتا ہے اس کو اس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا کہ مال غنیمت سے جو حصہ ان کو ملے گا اس میں کسی حال کوئی فرق کمی بیشی کا نہ تھا، مال غنیمت جمع کرنے کی صورت میں بھی ان کا حصہ وہی رہے گا جو اپنی جگہ مورچے پر جمے رہنے کے وقت ملتا۔ تو اب یہ ظاہر ہے کہ ان کا یہ عمل خلاص طلب دنیا تو ہو نہیں سکتا، بلکہ مجاہدین کے کام میں شرکت ہے، ہاں طبعی طور پر اس وقت مال غنیمت کا خیال دل میں آجا مستبعد نہیں، مگر حق تعالیٰ اپنے رسول کے ساتھیوں کے قلوب کو اس سے بھی پاک و صاف دیکھنا چاہتے ہیں کہ مال کا تصرف ہی کیوں آوے، اس لئے اس تصرف کو طلب دنیا سے تعبیر کر کے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا، واللہ اعلم
Ayah 3:153

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

تم چڑھے چلے جاتے تھے اور پیچھے پھر کر نہ دیکھتے تھے کسی کو اور رسول پکارتا تھا تم کو تمہارے پیچھے سے پھر پہنچا تم کو غم عوض میں غم کے تاکہ تم غم نہ کیا کرو اس پر جو ہاتھ سے نکل جاوے اور نہ اس پر کہ جو کچھ پیش آجاوے اور اللہ کو خبر ہے تمہارے کام کی

ربط آیات۔ یہ آیات بھی غزوہ احد کے واقعہ مذکورہ سے متعلق ہیں، پہلی آیت میں اس غم کے ازالہ کا بیان ہے، تیسری آیت میں مکرر اس کا اظہار ہے کہ اس میں جو شکست پیش آئی وہ بھی کوئی سزا نہیں، بلکہ مومنین مخلصین اور منافقین میں تفرقہ کرنے کے لئے ایک آزمائش تھی اور پھر مکرر صحابہ کرام کی لغزش کی معافی کا اعلان ہے۔ خلاصہ تفسیر وہ وقت یاد کرو جب تم (بھاگتے ہوئے جنگل کو) چڑھے چلے جا رہے تھے اور کسی کو مڑ کر بھی نہ دیکھتے تھے اور رسول ﷺ تمہارے پیچھے کی جانب سے تم کو پکار رہے تھے (کہ ادھر آؤ ادھر آؤ مگر تم نے سنا ہی نہیں) سو اللہ نے اس کے بدلے میں غم دیا بسبب (تمہارے) غم دینے کے (رسول اللہ ﷺ کو) تاکہ (اس پاداش اور مصیبت سے تم میں پختگی پیدا ہوجائے جس سے پھر) تم مغمم نہ ہوا کرو نہ اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے نکل جاوے اور نہ اس پر جو تم پر مصیبت پڑے، اور اللہ تعالیٰ سب خبر رکھتے ہیں تمہارے سب کاموں کی (اس لئے تم جیسا کام کرتے ہوئے اس کے مناسب پاداش تجویز فرماتے ہیں آگے ازالہ غم کا بیان ہے) پھر اللہ تعالیٰ نے اس غم کے بعد تم پر چین (اور راحت) بھیج دی یعنی اونگھ (جب کہ کفار میدان سے واپس ہوگئے اس وقت غیب سے مسلمانوں پر اونگھ غالب ہوئی جس سے سب غم غلط ہوگیا) کہ تم میں سے ایک جماعت (یعنی مسلمانوں) پر تو نیند کا غلبہ ہو رہا تھا اور ایک جماعت وہ تھی (یعنی منافقین کی) کہ ان کو اپنی جان ہی کی فکر پڑ رہی تھی (کہ دیکھئے یہاں سے بچ کر بھی جاتے ہیں) وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خلاف واقع گمان کر رہے تھے جو محض حماقت کا خیال تھا (وہ خیال آگے ان کے قول سے اور اس کا حماقت و جہالت ہونا اس کے جواب سے معلوم ہوتا ہے، ان کا قول یہ تھا کہ) وہ یوں کہہ رہے تھے کیا ہمارا اختیار کچھ چلتا ہے (مطلب یہ تھا کہ ہماری رائے کسی نے نہ سنی جو جنگ سے پہلے ہم نے دی تھی خواہ مخواہ سب کو مصیبت میں پھنسا دیا) آپ فرما دیجئے کہ اختیار تو سب اللہ ہی کا (چلتا) ہے (مطلب یہ ہے کہ اگر تمہاری رائے پر عمل بھی ہوتا جب بھی قضاء الٰہی غالب رہتی اور جو افتاد آنے والی تھی آ کر رہتی، چناچہ ان کے قول اور اس کے جواب کا مطلب آگے مفصل ظاہر نہیں کرتے (کیونکہ ظاہر میں ان کے اس قول کا کہ ہمارا کیا اختیار ہے یہ مطلب سمجھا جاسکتا ہے کہ تقدیر الہی کے سامنے بندہ کی تدبیر نہیں چلتی جو کہ عین ایمان کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا جو لطیف جواب دیا گیا اس میں اس معنی کی تصدیق بھی ہے کہ واقعی اختیار اللہ ہی کا غالب ہے مگر درحقیت ان کا مطلب اس قول سے یہ نہیں تھا، بلکہ وہ یہ بات اس معنے سے) کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کچھ اختیار چلتا (یعنی ہمارے رائے پر عمل ہوتا) تو ہم (میں جو لوگ یہاں قتل ہوئے وہ) یہاں مقتول نہ ہوتے (جس کا حاصل یہ ہے کہ تقدیر کوئی چیز نہیں اسی لئے آگے ان کے اس قول کی تکذیب اس طرح کی گئی کہ) آپ فرما دیجئے کہ اگر تم لوگ اپنے گھروں میں بھی رہتے تب بھی جن لوگوں کے لئے قتل مفت ہوچکا تھا وہ لوگ ان مقامات کی طرف (آنے کے لئے) نکل پڑتے جاں وہ (قتل ہو ہو کر) گرے ہیں (غرض یہ ہے کہ یہ ظاہری مضرت جس قدر ہوئی وہ تو ٹلنے والی نہ تھی) اور (اس کے فوائد و منافع بہت عظیم تھے کیونکہ) جو کچھ ہوا مصیبت کے وقت منافقین کا نفاق کھل گیا اور مؤمنین کا ایمان اور زیادہ مؤ کد اور محقق کر دے (کیونکہ مصیبت سے مومن کی توجہ غیر اللہ سے ہٹ کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف لگ جاتی ہے جس سے ایمان کو جلاء اور قوت پہونچتی ہے) اور اللہ تعالیٰ سب باطن کی باتوں کو جرم کھل کر سامنے آجائے ایسے امور واقع کئے جاتے ہیں) یقیناً تم میں جن لوگوں نے (میدان جنگ سے) پشت پھیر دی تھی جس روز کہ وہ دونوں جماعتیں (مسلمانوں اور کفار کی) باہم مقابل ہوئیں (یعنی احد کے روز اس کی وجہ) اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوئی کہ ان کو شیطان نے لغزش دے دیان کے بعض اعمال (گزشتہ) کے سبب سے (یعنی ان سے کچھ خطاء و قصور ایسے ہوگئے تھے جس سے شیطان کو ان سے اور بھی معصیت کرا دینے کی طمع ہوگئی اور اتفاق سے وہ طمع پوری بھی ہوگئی) اور یقین سمجھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف فرما دیا۔ واقعی اللہ تعالیٰ بڑے مغفرت کرنے والے بڑے علم والے ہیں (کہ صدر و خطا کے وقت بھی کوئی سزا نہیں دی) معارف و مسائل مذکور الصدر پہلی آیت میں کچھ صحابہ کرام کا میدان جنگ چھوڑ کر چلا جانا اور خود رسول اللہ ﷺ کے آواز دینے پر بھی ان کا نہ آنا اور اس پر رسول اللہ ﷺ کو غم ہونا اور اس غم کے بدلے میں انجام کار صحابہ کو غم ہونا مذکور ہے اور روایات حدیث میں ہے کہ حضرت کعب بن مالک نے پکارا تو مسلمان جمع ہوگئے۔ اس کی توجیہہ و تطبیق صاحب روح المعانی نے اس طرح کی ہے کہ اول رسول اللہ ﷺ نے پکارا جو صحاب کرام نے سنا نہیں اور دور نکلے چلے گئے، اس وقت حضرت کعب بن مالک نے پکارا وہ سب نے سن لیا تو جمع ہوگئے۔ بیان القرآن میں حضرت حکیم الامت نے فرمایا کہ اصل وجہ گھبراہٹ کی یہ خبر تھی کہ رسول اللہ ﷺ شہید ہوگئے، آپ کے پکارنے میں اس خبر کی کوئی تردید تو تھی نہیں اور آواز اگر پہنچی بھی ہو تو پہچانی نہیں گئی، پھر جب حضرت کعب بن مالک نے پکارا تو اس میں اس خبر کی تردید اور رسول اللہ ﷺ کا حیات ہونا مذکور تھا، یہ سن کر سب کی تسلی ہوئی اور سب جمع ہوگئے باقی رہا یہ کہ پھر اس پر حق تعالیٰ کی طرف سے عتاب اور رسول اللہ ﷺ کو غم کیوں ہوا ؟ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اگر مستقبل مزاج رہتے تو آواز کو پہچان سکتے تھے۔