Ayah 3:104ربط آیات
پچھلی دو آیتوں میں مسلمانوں کے اجتماعی فلاح و صلاح کے دو اصول بتلائے گئے تھے جن میں ہر فرد کو ایک خاص انداز سے اپنی اصلاح کرنے کی ہدایت تھی کہ ہر شخص تقوی اختیار کرے، اور اللہ تعالیٰ کے سلسلہ (اسلام) سے مربوط ہوجائے اس طرح انفرادی اصلاح کے ساتھ ساتھ خودبخود ایک اجتماعی قوت بھی مسلمانوں کو حاصل ہوجائے گی، مذکورہ دو آیتوں میں اسی نظام صلاح و فلاح کا تکملہ اس طرح کیا گیا ہے کہ مسلمان صرف اپنے اعمال و افعال کی اصلاح پر بس نہ کریں، بلکہ اپنے دوسرے بھائیوں کی اصلاح کی فکر بھی ساتھ ساتھ کریں، اسی صورت سے پوری قوم کی اصلاح بھی ہوگی، اور ربط و اتحاد کو بقاء و قیام بھی ہوگا۔
خلاصہ تفسیر
اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے کہ (اور لوگوں کو بھی) خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کاموں کے کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں اور ایسے لوگ (آخرت میں ثواب سے) پورے کامیاب ہوں گے، اور تم لوگ ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جنہوں نے (دین میں) باہم تفریق کرلی اور (نفسانیت سے) باہم اختلاف کرلیا، ان کے پاس واضح احکام پہنچنے کے بعد اور ان لوگوں کے لئے سزائے عظیم ہوگی (یعنی قیامت کے روز)۔
معارف و مسائل
مسلمانوں کی قومی اور اجتماعی فلاح دو چیزوں پر موقوف ہے
پہلے تقوی اور اعتصام بحبل اللہ کے ذریعہ اپنی اصلاح دوسرے دعوت و تبلیغ کے ذریعہ دوسروں کی اصلاح۔ آیت ولتکن منکم میں اسی دوسری ہدایت کا بیان ہے، گویا ان دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہوا کہ خود بھی اپنے اعمال و اخلاق کو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے قانون کے مطابق درست کرو، اور اپنے دوسرے بھائیوں کے اعمال کو درست کرنے کی بھی فکر رکھو، یہی مضمون ہے جو سورة والعصر میں ارشاد فرمایا ہےالا الذین امنوا و عملوا الصلحت وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر۔ " یعنی آخرت کے خسارہ سے صرف وہ لوگ محفوظ ہیں جو خود بھی ایمان اور عمل صالح کے پابند ہیں اور دوسروں کو بھی عقائد صحیحہ اور اعمال صالحہ کی ہدایت کرتے رہتے ہیں "۔ قومی اور اجتماعی زندی کے لئے جس طرح یہ ضروری تھا کہ ان کا کوئی مضبوط و مستحکم رشتہ وحدت ہو، جس کو پہلی آیت میں اعتصام بحبل اللہ کے الفاظ سے واضح فرمایا گیا ہے، اسی طرح رشتہ کو قائم اور باقی رکھنے کے لئے یہ دوسرا عمل بھی ضروری ہے جو اس آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے، یعنی دوسرے بھائیوں کو احکام قرآن و سنت کے مطابق اچھے کاموں کی ہدایت اور برے کاموں سے روکنے کو ہر شخص اپنا فریضہ سمجھے، تاکہ یہ حبل اللہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ نہ جائے، کیونکہ بقول استاد مرحوم شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی " اللہ تعالیٰ کی یہ رسی ٹوٹ تو نہیں سکتی ہاں چھوٹ سکتی ہے " اس لئے قرآن کریم نے اس رسی کے چھوٹ جانے کے خطرے کے پیش نظر یہ ہدایت جاری فرمائی کہ ہر مسلمان جس طرح خود نیک عمل کرنے کو اور گناہ سے بچنے کو اپنا فرض سمجھتا ہے اس کو بھی ضروری سمجھے کہ دوسرے لوگوں کو بھی نیک عمل کی ہدایت اور برے اعمال سے روکنے کی کوشش کرتا رہے، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ سب ملکر مضبوطی کے ساتھ حبل متین کو تھامے رہیں گے، اور اس کے نتیجہ میں فلاح دنیا و آخرت ان کے ساتھ ہوگی، اپنی اصلاح کے ساتھ دوسروں کی اصلاح کی ذمہ داری ہر مسلمان پر ڈالنے کے لئے قرآن کریم میں بہت سے واضح ارشادات وارد ہیں۔ سورة العصر کا مضمون ابھی آپ دیکھ چکے ہیں اور اسی سورة آل عمران میں ارشاد ہےکنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر۔ (3: 110) " تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے نکالی گئی ہے کیونکہ تم نیک کاموں کا لوگوں کو حکم کرتے ہور اور برے کاموں سے روکتے ہو "۔ اس میں بھی پوری امت پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ عائد کیا گیا ہے، اور دوسری امتوں پر اس کی فضیلت کا سبب ہی اس خاص کام کو بتلایا ہے، اسی طرح رسول کریم ﷺ کے ارشادات اس بارے میں بیشمار ہیں، ترمذی اور ابن ماجہ وغیرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاوالذی نفسی بیدہ لتامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر او لیوشکن اللہ ان یبعث علیکم عقابا من عندہ ثم لتدعنہ فلا یستجیب لکم۔ " قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ تم ضرور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ گنہگاروں کے ساتھ تم سب پر بھی اپنا عذاب بھیج دے اس وقت تم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو گے تو قبول نہ ہوگی۔ ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہےمن رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ وان لم یستطع فبقلبہ وذلک اضعف الایمان۔ " یعنی تم میں سے جو شخص کوئی گناہ ہوتا ہوا دیکھے تو اس کو چاہے کہ اپنے ہاتھ اور قوت سے اس کو روک دے، اور اگر یہ بھی نہ کرسکے تو زبان سے روکے اور یہ بھی نہ کرسکے تو کم از کم دل میں اس فعل کو برا سمجھے، اور یہ ادنی درجہ کا ایمان ہے "۔
ان تمام آیات اور روایات سے یہی ثابت ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر امت کے ہر فرد پر لازم ہے، البتہ تمام احکام شرعیہ کی طرح اس میں بھی ہر شخص کی قدرت و استطاعت پر احکام دائر ہوں گے جس کو جتنی قدرت ہو اتنا ہی امر بالمعروف کا فریضہ اس پر عائد ہوگا ابھی جو حدیث آپ نے دیکھی ہے اس میں استطاعت ہی پر مدار رکھا گیا ہے۔ پھر استطاعت وقدرت ہر کام کی جدا ہوتی ہے، امر بالمعروف کی قدرت پہلے تو اس پر موقوف ہے کہ وہ معروف و منکر اس شخص کو پوری طرح صحیح صحیح معلوم ہو، جس کو خود ہی معروف و منکر کی تمییز نہ ہو یا اس مسئلہ کا پورا علم نہ ہو، وہ اگر دوسروں کو امر بالمعروف یا نہی عن المنکر کرنے لگے تو ظاہر ہے کہ بجائے اصلاح ہونے کے فساد ہوگا، اور بہت ممکن ہے کہ وہ اپنی ناواقفیت کی بناء پر کسی معروف کو منع کرنے لگے، یا منکر کا حکم کرنے لگے، اس لئے جو شخص خود معروف و منکر سے واقف نہیں اس پر یہ فریضہ تو عائد ہے کہ واقفیت اور احکام شرعیہ کے معروف و منکر کا علم حاصل کرلے، اور پھر اس کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی خدمت انجام دے۔ لیکن جب تک اس کو واقفیت نہیں اس کا اس خدمت کے لئے کھڑا ہونا جائز نہیں جیسے اس زمانہ میں بہت سے جاہل وعظ کہنے کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں نہ انہیں قرآن کا علم ہے نہ حدیث کا، یا بہت سے عوام سنی سنائی غلط باتوں کو لے کر لوگوں سے جھگڑنے لگتے ہیں کہ ایسا کرو ایسا نہ کرو، یہ طریق کار بجائے معاشرہ کے درست کرنے کے اور زیادہ ہلاکت اور جنگ و جدل کا سبب ہوتا ہے۔ اسی طرح امر بالمعروف کی قدرت میں یہ بھی داخل ہے کہ اپنے آپ کو کوئی ناقابل برداشت ضرر پہنچنے کا قوی خطرہ نہ ہو، اسی لئے حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ گناہ کو ہاتھ اور قوت سے نہ روک سکے تو زبان سے روکے، اور زبان سے روکنے پر قدرت نہ ہو تو دل ہی سے برا سمجھے ظاہر ہے کہ زبان سے روکنے پر قدرت نہ ہونے کے یہ معنی تو ہیں نہیں کہ اس کی زبان حرکت نہیں کرسکتی، بلکہ مراد یہی ہے کہ اس کو یہ خطرہ قوی ہے کہ اس نے حق بات کی تلقین کی تو اس کی جان جائے گی، یا کوئی دوسرا شدید نقصان پہنچ جائے گا، ایسی حالت میں اس شخص کو قادر نہ سمجھا جائے گا، اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ترک پر اس کو گنہگار نہ کہا جائے گا، یہ دوسری بات ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال کی پرواہ نہ کرے، اور نقصان برداشت کر کے بھی امر بالمعروف نہی عن المنکر کی خدمت انجام دے، جیسے بہت سے صحابہ وتابعین اور ائمہ اسلام کے واقعات منقول ہیں، یہ ان کی اولوا العزمی اور بڑی فضیلت ہے، جس سے ان کا مقام دنیا و آخرت میں بلند ہوا، مگر ان کے ذمہ ایسا کرنا فرض واجب نہ تھا۔
سورة والعصر کی آیت اور کنتم خیر امۃ (3: 110) وغیرہ آیات سے، نیز احادیث مذکورہ سے امت کے ہر فرد پر اس کی قدرت کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر واجب کیا جارہا ہے، لیکن اس کے وجوب میں یہ تفصیل ہے کہ امور واجبہ میں معروف کا امر اور منکر سے نہی کرنا واجب اور امور مستحبہ میں مستحب ہے، مثلا نماز پنجگانہ فرض ہے تو ہر شخص پر واجب ہوگا کہ بےنمازی کو نصیحت کرے اور نوافل مستحب ہیں، اس کی نصیحت کرنا مستحب ہوگا، اس کے علاوہ ایک ضروری ادب یہ بھی پیش نظر رکھنا ہوگا کہ مستحبات میں مطلقا نرمی سے اظہار کرے اور واجبات میں اولا نرمی سے اور نہ ماننے پر سختی کی بھی گنجائش ہے، آج کل لوگ مستحبات میں یا مباحات میں تو سختی سے روک ٹوک کرتے ہیں لیکن امور واجبہ اور فرائض کے ترک پر کوئی ملامت نہیں کرتے۔ نیز ہر شخص پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ اس وقت عائد ہوگا جبکہ وہ اپنے سامنے کسی منکر کو ہوتے ہوئے دیکھے، مثلا ایک شخص دیکھ رہا ہے کہ کوئی مسلمان شراب پی رہا ہے یا چوری کر رہا ہے یا کسی غیر عورت سے مجرمانہ اختلاط کر رہا ہے، تو اس کے ذمہ واجب ہوگا کہ اپنی استطاعت وقدرت کے مطابق اس کو روکے، اور اگر اس کے سامنے یہ سب کچھ نہیں ہورہا ہے تو یہ فریضہ اس کے ذمہ نہیں، بلکہ اب یہ فریضہ اسلامی حکومت کا ہے کہ مجرم کے جرم کی تفتیش و تحقیق کر کے اس کو سزا دے۔
نبی کریم ﷺ کے ارشاد من رای منکم میں اسی طرف اشارہ ہے کیونکہ اس میں ارشاد ہے کہ جو شخص تم میں سے کسی منکر کو دیکھے۔
امر بالمعروف کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک جماعت خاص دعوت و ارشاد ہی کے لئے قائم رہے اس کا وظیفہ یہ یہی ہو کہ اپنے قول و عمل سے لوگوں کو قرآن و سنت کی طرف بلائے، اور جب لوگوں کو اچھے کاموں میں سست یا برائیوں میں مبتلا دیکھے اس وقت بھلائی کی طرف متوجہ کرنے اور برائی سے روکنے کی اپنے مقور کے موافق کوتاہی نہ کرے، اور چونکہ اس اہم فریضہ یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو پوری طرح اسی وقت ادا کیا جاسکتا ہے جب کہ اس کو مسائل کا پورا علم بھی ہو اور امر بالمعروف کو موثر بنانے کے آداب اور طریقے بھی سنت کے مطابق اس کو معلوم ہوں، اس لئے مکمل طور پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے لئے مسلمانوں میں سے ایک مخصوص جماعت کو اس منصب پر مامور کیا گیا، جو ہر طرح دعوت الی الخیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہل ہو، چناچہ اسی آیت میں ایسی جماعت کی ضرورت اور اہمت کو بتلاتے ہوئے فرمایا
ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر۔ " یعنی تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے کہ خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کاموں کے کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں "۔ ولتکن منکم امۃ میں اشارہ ہے کہ اس جماعت کا وجود ضروری ہے، اگر کوئی حکومت یہ فریضہ انجام نہ دے تو تمام مسلمانوں پر فرض ہوگا کہ وہ ایسی جماعت قائم کریں کیونکہ ان کی حیات ملی اسی وقت محفوظ رہے گی جب تک یہ جماعت باقی ہے، پھر اس جماعت کے بعض اہم اوصاف اور امتیازات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا یدعون الی الخیر یعی اس جماعت کا پہلا امتیاز خصوصی یہ ہوگا کہ وہ خیر کی طرف دعوت دیا کرے گی، گویا دعوت الی الخیر اس کا مقصد اعلی ہوگا، خیر سے مراد کیا ہے، رسول کریم ﷺ نے اس کی تفسیر میں ارشاد فرمایا کہ الخیر ھو اتباع القران وسنتی، " یعنی خیر سے مراد قرآن اور میری سنت کا اتباع ہے "۔ (ابن کثیر)
" خیر " کی اس سے زیادہ جامع اور مانع تعریف نہیں ہوسکتی، پورا دین شریعت اس میں آگیا پھر یدعون کو صیغہ مضارع سے لاکر بتلایا کہ اس جماعت کا وظیفہ دعوت الی الخیر ہوگا، یعنی دعوت الی الخیر کی مسلسل اور لگاتار کوشش ان کا فریضہ ہوگا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے تو یہ سمجھا جاسکتا تھا کہ اس کی ضرورت خاص مواقع پر ہوگی، جب وہ منکرات دیکھے جائیں، لیکن یدعون الی الخیر کہہ کر بتلادیا کہ اس جماعت کا کام دعوت الی الخیر ہوگا، اگرچہ اس وقت منکرات موجود نہ ہوں، یا کسی فرض کی ادائیگی کا وقت نہ ہو، مثلا آفتاب نکلنے کے بعد زوال تک نماز کا وقت نہیں ہے، لیکن وہ جماعت اس وقت بھی نماز پڑھنے کی تلقین کرے گی کہ وقت نماز آنے کے بعد نماز ادا کرنا ضروری ہے یا روزہ کا وقت نہیں آیا ابھی رمضان کا مہینہ دور ہے، لیکن وہ جماعت اپنے فرض سے غافل نہیں رہے گی، بلکہ وہ پہلے سے لوگوں کو بتلاتی رہے گی کہ جب رمضان کا مہینہ آئے تو روزہ رکھنا فرض ہوگا، غرضیکہ اس جماعت کا فریضہ دعوت الی الخیر ہوگا۔ پھر اس دعوت الی الخیر کے بھی دو رجے ہیں، پہلا یہ کہ غیر مسلموں کو خیر یعنی اسلام کی طرف دعوت دینا ہے مسلمانوں کا ہر فرد عموما اور یہ جماعت خصوصا دنیا کی تمام قوموں کو خیر یعنی اسلام کی دعوت دے، زبان سے بھی اور عمل سے بھی، چناچہ مسلمانوں کو جس آیت میں قتال و جہاد کا حکم دیا وہاں سچے مومنین کی اس طرح تعریف کی
الذین ان مکنھم فی الارض اقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ وامروا بالمعروف ونھوا عن المنکر۔ (22: 41) " یعنی سچے مسلمان وہ ہیں کہ جب ہم ان کو زمین کی تمکین وقدرت یعنی حکومت دیتے ہیں تو ان کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہا اللہ کی زمین میں نظام اطاعت قائم کرتے ہیں جس کا ایک مظہر نماز ہے اور اپنا مالیاتی نظام زکوٰۃ کے اصولوں پر قائم کرتے ہیں، نیز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اپنا مقصد حیات بناتے ہیں، اگر آج امت مسلمہ اپنا مقصد دیگر اقوام کو خیر کی طرف دعوت دینا بنالیں تو وہ سب بیماریاں ختم ہوجائیں گی جو دوسری قوموں کی نقالی سے ہمارے اندر پھیلی ہیں، کیونکہ جب کوئی قوم اس عظیم مقصد (دعوت الی الخیر) پر مجتمع ہوجائے اور یہ سمجھ لے کہ ہمیں علمی اور عملی حیثیت سے اقوام عالم پر غالب آنا ہے اور اقوام کی تربیت و تہذیب ہمارے ذمہ ہے تو اس کی نااتفاقیاں بھی یکسر ختم ہوجائیں گی، اور پوری قوم ایک عظیم مقصد کے حصول کے لئے لگ جائے گی، رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کامیابیوں کا راز اسی میں مضمر تھا، حدیث میں ہے کہ حضرت ضحاک نے یہ آیت ولتکن منکم تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا ھم خاصۃ اصحاب رسول اللہ ﷺ (ابن جریر) یعنی یہ جماعت مخصوص صحابہ کرام کی جماعت ہے، کیونکہ ان نفوس قدسیہ کا ہر فرد خود کو دعوت الی الخیر کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔ دعوت الی الخیر کا دوسرا درجہ خود مسلمانوں کو دعوت خیر دینا ہے، کہ تمام مسلمان علی العموم اور جماعت خاصہ علی الخصوص مسلمانوں کے درمیان تبلیغ اور فریضہ دعوت الی الخیر انجام دے، پھر اس میں بھی ایک تو دعوت الی الخیر عام ہوگی، یعنی تمام مسلمانوں کو ضروری احکام و اسلامی اخلاق سے واقف کیا جائے، دوسری دعوت الی الخیر خاص ہوگی یعنی امت مسلمہ میں علوم قرآن و سنت کے ماہرین پیدا کرنا، اس طرف ایک دوسری آیت میں رہنمائی کی گئیفلو لا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون۔ (9: 122) آگے اس جماعت داعیہ کا دوسرا وصف اور امتیاز خصوصی یہ بتلایا یامرون بالمعروف وینھون عن المنکر یعنی وہ لوگ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور منکر سے روکتے ہیں۔ معروف وہ تمام نیکیاں اور بھلائیاں داخل ہیں جن کا اسلام نے حکم دیا ہے اور ہر نبی نے ہر زمانے میں اس کی ترویج کی کوشش کی، اور چونکہ یہ امور خیر جانے پہچانے ہوئے ہیں اس لئے معروف کہلاتے ہیں۔
اسی طرح منکر میں تمام وہ برائیاں اور مفاسد داخل ہیں جن کو رسول کریم ﷺ کی طرف سے ناجائز قرار دینا معلوم و معروف ہے، اس مقام پر واجبات اور معاصی کے بجائے معروف و منکر کا عنوان اختیار کرنے میں شاید یہ حکمت بھی ہو کہ روکنے ٹوکنے کا معاملہ صرف ان مسائل میں ہوگا جو امت میں مشہور و معروف ہیں اور سب کے نزدیک متفق علیہ ہیں، اجتہادی مسائل جن میں اصول شرعیہ کے ماتحت رائیں ہوسکتی ہیں، ان میں یہ روک ٹوک کا سلسلہ نہ ہونا چاہیے، افسوس ہے کہ عام طور پر اس حکیمانہ تعلیم سے غفلت برتی جاتی ہے اور اجتہادی مسائل کو جدال کا میدان بنا کر مسلمانوں کی جماعت کو ٹکرایا جاتا ہے، اور اس کو سب سے بڑی نیکی قرار دیا جاتا ہے، اور اس کے بالمقابل متفق علیہ معاصی اور گناہوں سے روکنے کی طرف توجہ بہت کم دی جاتی ہے، آیت کے اختتام پر اس جماعت کے انجام اور عاقبت محمودہ کو ان لفظوں میں فرمایا واولئک ھم المفلحون، یعنی درحقیقت یہ لوگ کامیاب ہیں، فلاح وسعادت دارین انہی کا حصہ ہے۔ اس جماعت کا سب سے پہلا مصداق جماعت صحابہ ہے، جو دعوت الی الخیر اور امر بالمروف اور نہی عن المنکر کے عظیم مقصد کو لے کر اٹھی اور قلیل عرصہ میں ساری دنیا پر چھا گئی، روم و ایران کی عظیم سلطنتیں روند ڈالیں، اور دنیا کو اخلاق و پاکیزگی کا درس دیا، نیکی اور تقوی کی شمعیں روشن کیں۔
Ayah 3:105حق تعالیٰ نے امت داعیہ الی الخیر کی ضرورت اور اس کے اوصاف کو بیان کرنے کے بعد مذکورہ صدر دوسری آیت میں مسلمانوں کو باہمی اختلاف اور تفرق و انتشار سے بچانے کی ہدایت فرمائی ہے، ارشاد ہے
ولا تکونوا کالذین تفرقوا واختلفوا من بعد ماجاءھم البینت، " یعنی ان لوگوں کی طرح نہ بنو جنہوں نے واضح اور روشن دلائل آنے کے بعد اختلاف کیا "۔ مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاری کی طرح مت بنو، جنہوں نے حق تعالیٰ کے صاف احکام پہنچنے کے بعد محض اوہام و اہوا کی پیروی کر کے اصول شرع میں متفرق ہوگئے، اور باہمی جنگ وجدال سے عذاب الہی میں مبتلا ہوگئے، یہ آیت درحقیقت آیت واعتصموا بحبل اللہ جمیعا کا تتمہ ہے، اسی آیت میں مرکز وحدت اعتصام بحبل اللہ کی طرف دعوت دی گئی، اور اشارۃ بتلایا گیا کہ اجتماع اور اتحاد امت تمام امت اور قوم کو ایک شخص واحد میں تبدیل کردیتا ہے، پھر دعوت الی الخیر اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے اسی وحدت و اجتماع کو غذا پہنچائی جاتی ہے اور نشوونما کیا جاتا ہے، پھر ولاتفرقوا اور آیت ولا تکونوا کالذین تفرقوا سے اس کی ہدایت کی گئی ہے کہ تفرق اور اختلاف نے پچھلی قوموں کو تباہ کردیا، ان سے عبرت حاصل کرو، اور اپنے میں یہ مرض پیدا ہونے نہ دو۔
آیت میں جس تفرق و اختلاف کی مذمت ہے اس سے مراد وہ تفریق ہے جو اصول دین میں ہو یا فروع میں نفسانیت کے غلبہ کی وجہ سے ہو، چناچہ آیت میں یہ قید کہ " احکام واضحہ آنے کے بعد " اس امر پر واضح قرینہ ہے، کیونکہ اصول دین سب واضح ہوتے ہیں، اور فروع بھی بعض ایسے واضح ہوتے ہیں کہ اگر نفسانیت نہ ہو تو اختلاف کی گنجائش نہ ہوتی، لیکن جو فروع غیر واضح ہیں کسی نص صریح نہ ہونے کی وجہ سے یا نصوص کے ظاہری تعارض کی وجہ سے ایسے فروع میں رائے و اجتہاد سے جو اختلاف پیدا ہوتا ہے وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل نہیں، اور وہ حدیث صحیح اس کی اجازت کے لئے کافی ہے جس کو بخاری و مسلم نے مرفوعا عمرو بن العاص سے روایت کی ہے کہ جب کوئی اجتہاد کرے اور وہ حکم ٹھیک ہو تو اس کو دو اجر ملتے ہیں اور جب اجتہاد میں غلطی کرے تو اس کو ایک اجر ملتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ جس اختلاف اجتہادی میں خطا ہونے پر بھی ایک ثواب ملتا ہے وہ مذموم نہیں ہوسکتا، لہذا وہ اجتہادی اختلاف جو صحابہ ؓ اور ائمہ مجتہدین میں ہوا ہے اس کو اس آیت مذکورہ سے کوئی تعلق نہیں، بقول حضرت قاسم بن محمد و حضرت عمر بن عبدالعزیز صحابہ کا اختلاف لوگوں کے لئے موجب رحمت و رخصت ہے۔ (کذا فی روح المعانی نقلا عن البیہقی والمدخل)
اجتہادی اختلافات میں کوئی جانب منکر نہیں ہوتی اس پر نکیر جائز نہیں
یہاں سے ایک بہت اہم اصولی بات واضح ہوگئی کہ جو اجتہادی اختلاف شرعی اجتہاد کی تعریف میں داخل ہے اس میں اپنے اپنے اجتہاد سے جس امام نے جو جانب اختیار کرلی اگرچہ عنداللہ اس میں سے صواب اور صحیح صرف ایک ہے دوسرا خطا ہے، لیکن یہ صواب و خطا کا فیصلہ صرف حق تعالیٰ کے کرنے کا ہے، وہ محشر میں بذریعہ اجتہاد و صواب پر پہنچنے والے عالم کو دوہرا ثواب عطا فرمادیں گے، اور جس کے اجتہاد نے خطا کی ہے اس کو ایک ثواب دیں گے، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اجتہادی اختلاف میں یہ کہنے کا حق نہیں کہ یقینی طور پر یہ صحیح ہے دوسرا غلط ہے، ہاں اپنی فہم و بصیرت کی حد تک ان دونوں میں جس کو وہ اقرب الی القرآن والسنۃ سمجھتے اس کے متعلق یہ کہہ سکتا ہے کہ میرے نزدیک یہ صواب ہے، مگر احتمال خطاء کا بھی ہے، اور دوسری جانب خطا ہے، مگر احتمال صواب کا بھی ہے، اور یہ وہ بات ہے جو تمام ائمہ فقہاء میں مسلم ہے، اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ اجتہادی اختلاف میں کوئی جانب منکر نہیں ہوتی کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ماتحت اس پر نکیر کیا جائے، اور جب وہ منکر نہیں تو غیر منکر پر نکیر خود امر منکر ہے، اس سے پرہیز لازم ہے یہ وہ بات ہے جس میں آج کل بہت سے اہل علم بھی غفلت میں مبتلا ہیں، اپنے مخالفین نظریہ رکھنے والوں پر تبرا اور سب و شتم سے بھی پرہیز نہیں کرتے، جس کا نتیجہ مسلمانوں میں جنگ وجدل اور انتشار و اختلاف کی صورت میں جگہ جگہ مشاہدہ میں آرہا ہے۔ اجتہادی اختلاف بشرطیکہ اصول اجتہاد کے مطابق ہو، وہ تو ہرگز آیت مذکورہ ولا تفرقوا سے خلاف اور مذموم نہیں، البتہ اس اجتہادی اختلاف کے ساتھ جو معاملہ آج کل کیا جارہا ہے کہ اسی کی بحث و مباحثہ کو دین کی بنیاد بنالی گئی، اور اسی پر باہمی جنگ و جدل اور سب وشتم تک نوبت پہنچا دی گئی، یہ طرز عمل بلا شبہ ولا تفرقوا کی کھلی مخالفت اور مذموم اور سنت سلف، صحابہ وتابعین کے بالکل خلاف ہے، اسلاف امت میں کبھی کہیں نہیں سنا گیا کہ اجتہادی اختلاف کی بنا پر اپنے سے مختلف نظریہ رکھنے والوں پر اس طرح نکیر کیا گیا ہو، مثلا امام شافعی اور دوسرے ائمہ کا مسلک یہ ہے کہ جو نماز جماعت کے ساتھ امام کے پیچھے پڑھی جائے اس میں بھی مقتدیوں کو سورة فاتحہ پڑھنا فرض ہے، اور ظاہر ہے جو اس فرض کو ادا نہیں کرے گا، اس کی نماز ان کے نزدیک نہیں ہوگی، اس کے بالمقابل امام ابوحنیفہ کے نزدیک مقتدی کو امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا جائز نہیں، اسی لئے حنفیہ نہیں پڑھتے، لیکن پوری امت کی تاریخ میں کسی سے نہیں سنا گیا کہ شافعی مذہب والے حنفیوں کو تارک نماز کہتے ہوں، کہ تمہاری نمازیں نہیں ہوئیں، اس لئے تم بےنمازی ہو، یا ان پر اس طرح نکیر کرتے ہوں جیسے منکرات شرعیہ پر کی جاتی ہے۔ امام ابن عبدالبر اپنی کتاب جامع العلم میں اس مسئلہ کے متعلق سنت سلف کے بارے میں یہ بیان فرماتے ہیں
عن یحییٰ بن سعید قال ما برح اھل الفتوی یفتون فیحل ھذا ویحرم ھذا فلا یری المحرم ان المحل ھلک لتحلیلہ ولا یری المحل ان المحرم ھلک لتحریمہ۔ (جامع بیان العلم، ص 80)
" یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ ہمیشہ اہل فتوی فتوی دیتے رہے ہیں ایک شخص غیر منصوص احکام میں ایک چیز کو اپنے اجتہاد سے حلال قرار دیتا ہے، دوسرا حرام کہتا ہے، مگر نہ حرام کہنے والا یہ سمجھتا ہے کہ جس نے حلال ہونے کا فتوی دیا ہے وہ ہلاک اور گمراہ ہوگیا، اور نہ حلال کہنے والا یہ سمجھتا ہے کہ حرام کا فتوی دینے والا ہلاک اور گمراہ ہوگیا "۔
تنبیہ ضروری
یہ تمام گفتگو اس اجتہاد میں ہے جو شریعت کے اصول اجتہاد کے ماتحت ہو جس کی پہلی شرط یہ ہے کہ اجتہاد صرف ان مسائل میں کیا جاسکتا ہے جن کے متعلق قرآن و حدیث میں کوئی فیصلہ موجود نہیں، یا ایسا مبہم ہے کہ اس کی تفسیریں مختلف ہوسکتی ہیں، یا چند آیات و روایات سے ظاہرا دو متضاد چیزیں سمجھی جاتی ہیں، ایسے مواقع میں صرف ان لوگوں کو اجتہاد کرنے کی اجازت ہے جن میں شرائط اجتہاد موجود ہیں۔ مثلا قرآن و حدیث کے متعلق تمام علوم و فنون کی مکمل مہارت، عربی زبان کی مکمل مہارت، صحابہ وتابعین کے اقوال و آثار کی مکمل واقفیت وغیرہ، تو جو شخص کسی منصوص مسئلہ میں اپنی رائے چلائے وہ اجتہادی اختلاف نہیں۔
اسی طرح شرائط اجتہاد جس میں موجود نہیں اس کے اختلاف کو اجتہادی اختلاف نہیں کہا جاسکتا، اس کے قول کا کوئی اثر مسئلہ پر نہیں پڑتا، جیسے آج کل بہت سے لکھے پڑھے لوگوں نے یہ سن لیا ہے کہ اسلام میں اجتہاد بھی ایک اصول ہے اور ان منصوصات شرعیہ میں رائے زنی کرنے لگے، جس میں کسی امام مجتہد کو بھی بولنے کا حق نہیں، اور یہاں تو شرائط اجتہاد کیا نفس علم دین سے بھی واقفیت نہیں ہوتی۔ العیاذ باللہ۔
Ayah 3:106خلاصہ تفسیر
اس روز (یعنی قیامت کے روز) کہ بعضے چہرے سفید (روشن) ہوجاویں گے اور بعضے چہرے سیاہ (اور تاریک) ہوں گے، سو جن کے چہرے سیاہ ہوگئے ہوں گے ان سے کہا جائے گا کیا تم (ہی) لوگ کافر ہوئے تھے، اپنے ایمان لانے کے بعد تو (اب) سزا چکھو بسبب اپنے کفر کے اور جن کے چہرے سفید ہوں گے وہ اللہ کی رحمت (یعنی جنت) میں (داخل) ہوں گے، (اور) وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ (جو اوپر مذکور ہوئیں) اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو صحیح صحیح طور پر ہم تم کو پڑھ کر سناتے ہیں (اس سے تو مضمون بالا کا صحیح ہونا معلوم ہوا) اور اللہ تعالیٰ مخلوقات پر ظلم کرنا نہیں چاہتے (پس جو کچھ کسی کے لئے جزا و سزا تجویز کی ہے، وہ بالکل مناسب ہے اس سے تجویز مذکور کا مناسب ہونا معلوم ہوا) اور اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے (پس جب سب ان کی ملک ہے تو ان سب کے ذمہ اطاعت واجب تھی، ان سے ان کا مملوک ہونا اور وجوب اطاعت ثابت ہوا) اور اللہ ہی کی طرف سب مقدمات رجوع کئے جاویں گے (کوئی دوسرا صاحب اختیار نہ ہوگا)
معارف و مسائل
چہرے کی سفیدی اور سیاہی سے کیا مراد ہے ؟
چہرے کی سفیدی اور سیاہی کا ذکر قرآن مجید میں بہت سے مقامات میں آیا ہے، مثلا۔ ویوم القیامۃ تری الذین کذبوا علی اللہ وجوھھم مسودۃ۔ (زمر 39: 60) وجوہ یومئذ مسفرۃ، ضاحکۃ مستبشرۃ، ووجوہ یومئذ علیھا غبرۃ، ترھقھا قترۃ۔ (عبس 80: 38 تا 41) وجوہ یومئذ ناضرۃ، الی ربھا ناضرۃ۔ (قیامہ 75: 22، 23)
ان آیات میں ایک ہی مفہوم سے متعلق متعدد الفاظ ذکر کئے گئے ہیں، یعنی " بیاض " اور " سواد "، " غبرہ "، " قترۃ " اور " نضرۃ "۔ جمہور مفسرین کے نزدیک سفیدی سے مراد نور ایمان کی سفیدی ہے، یعنی مومنین کے چہرے نور ایمان سے روشن اور غایت مسرت سے خنداں اور فرحاں ہوں گے، اور سیاہی سے مراد کفر کی سیاہی ہے، یعنی کافروں کے چہروں پر کفر کی کدورت چھائی ہوگی، اور اوپر سے فسق و فجور کی ظلمت اور زیادہ تیرہ و تاریک کردے گی۔
سیاہ چہرے والے اور سفید چہرے والے کون لوگ ہیں
ان لوگوں کی تعیین میں مفسرین کے متعدد اقوال مذکور ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اہل سنت کے چہرے سفید ہوں گے اور اہل بدعت کے سیاہ ہوں گے، حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار کے چہرے سفید ہوں گے اور بنی قریظہ اور بنی نضیر کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ (قرطبی)
امام ترمذی نے حضرت ابو امامہ سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ اس سے مراد خوارج ہیں، یعنی سیاہ چہرے خوارج کے ہوں گے اور سفید چہرے ان لوگوں کے ہوں گے جن کو وہ قتل کریں گے، فقال ابو امامۃ کلاب النار شر قتل تحت ادیم السماء وخیر قتلی من قتلوہ ثم قراء، " یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ " ابو امامہ سے جب یہ پوچھا گیا کہ آپ نے یہ حدیث حضور ﷺ سے سنی ہے تو آپ نے جواب میں شمار کر کے بتلادیا کہ اگر حضور سے میں نے سات مرتبہ یہ حدیث سنی ہوئی نہ ہوتی تو میں بیان نہ کرتا۔ (ترمذی)
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ سیاہ چہرے اہل کتاب کے ان لوگوں کے ہوں گے جو آپ ﷺ کی بعثت سے قبل تو آپ کی تصدیق کرتے تھے لیکن جب آپ مبعوث ہوئے تو بجائے آپ کی تائید و نصرت کرنے کے الٹا تکذیب کرنی شروع کردی۔ (تفسیر قرطبی)
مذکورہ اقوال کے علاوہ اور بھی بہت سے اقوال ہیں، لیکن ان سب میں کوئی تعارض نہیں ہے، سب کا حاصل ایک ہی ہے، امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں آیت " یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ " کے متعلق فرمایا کہ مومنین مخلصین کے چہرے سفید ہوں گے، لیکن ان کے علاوہ ان تمام لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے، جنہوں نے دین میں تغیر و تبدل کیا ہو، خواہ وہ مرتد اور کافر ہوگئے ہوں، خواہ اپنے دلوں میں نفاق کو چھپائے ہوئے ہوں، ان سب کے ساتھ یہی معاملہ کیا جائے گا۔ (تفسیر قرطبی)
چند اہم فوائد
اللہ تعالیٰ نے " یوم تبیض وجوہ و تسود وجوہ " میں بیاض کو سواد پر مقدم کیا، لیکن فاما الذین اسودت وجوھھم میں سود کو بیاض پر مقدم کیا، حالانکہ ترتیب کا تقاضا یہ تھا کہ بیاض کو یہاں بھی مقدم رکھا جاتا، اس ترتیب کو برعکس کرنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقصد تخلیق کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ مقصد اپنی مخلوق پر رحمت کرتا ہے، نہ کہ عذاب، اس لئے سب سے قبل اللہ تعالیٰ نے اہل بیاض کو بیان کیا جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور ثواب کے مستحق ہیں، اس کے بعد اہل سواد کو ذکر کیا گیا جو عذاب کے مستحق ہیں، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آیت کے خاتمہ پر ففی رحمۃ اللہ سے اپنی رحمت عظمی کا بھی اظہار فرمایا تو آیت کے شروع اور اس کے آخر دونوں جگہ اہل رحمت کو بیان کیا، درمیان میں اہل سواد کا جس میں اپنی رحمت بیکراں کی طرف اشارہ کردیا کہ بنی نوع انسان کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ ان کو اپنے عذاب کا مظہر بنایا جائے بلکہ اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری رحمت سے فائدہ اٹھاسکیں۔
دوسرا فائدہ یہ کہ اہل بیاض کے بارے میں ارشاد ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی رحمت میں رہیں گے، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت سے مراد اس جگہ جنت ہے یہاں بھی بظاہر جنت کو رحمت سے تعبیر کرنے میں یہ حکمت ہے کہ آدمی خواہ کتنا ہی عابد اور زاہد کیوں نہ ہو، وہ جنت میں محض اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہی جائے گا، کیونکہ عبادت کرنا بھی انسان کا کوئی ذاتی کمال نہیں ہے، بلکہ اس کی قدرت بھی اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہے، اس لئے عبادت کرنے سے دخول جنت ضروری نہیں ہوجاتا، بلکہ جنت کا داخلہ تو اللہ کی رحمت ہی سے ہوگا۔ (تفسیر کبیر)
Ayahs 3:107–109تیسرا فائدہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے " ففی رحمۃ اللہ کے بعد ھم فیھا خلدون " فرماکر بتادیا کہ مومنین اللہ کی جس رحمت میں ہوں گے وہ ان کے لئے عارضی نہیں ہوگی بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہوگی ان سے یہ نعمت کبھی سلب یا کم نہ کی جائے گی، اس کے بالمقابل اہل سواد کے لئے یہ تصریح نہیں فرمائی کہ وہ اس حال میں ہمیشہ رہیں گے۔ آدمی سزاد اپنے ہی گناہوں کی پاتا ہے
" فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون " میں اشارہ فرمادیا کہ آج کا عذاب ہماری طرف سے نہیں بلکہ تمہاری اپنی کمائی سے ہے جو دنیا میں کرتے رہے ہو، کیونکہ در حقیقت جنت و دوزخ کی نعمتیں اور مصائب درحقیقت ہمارے اعمال ہی کی بدلی ہوئی صورتیں ہیں، اسی بات پر متنبہ کرنے کے لئے آخر میں یہ بھی فرمادیا " وماللہ یرید ظلما للعلمین " یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے عذاب ثواب جو کچھ ہے عین انصاف و مقتضائے حکمت و رحمت ہے۔
Ayah 3:110ربط آیات
سابقہ آیات میں مسلمانوں کو ایمان پر ثابت قدم رہنے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا خاص اہتمام کرنے کی ہدایت تھی، اس آیت میں اس کی مزید تاکید اس طرح کی گئی ہے کہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کو جو حق تعالیٰ نے تمام امتوں سے افضل و اعلی اور خیر الامم قرار دیا ہے اس کی بڑی وجہ ان کی یہی صفات ہیں۔
خلاصہ تفسیر
(اے امت محمدیہ) تم لوگ (سب اہل مذاہب سے) اچھی جماعت ہو کہ وہ جماعت (عام) لوگوں کے (نفع ہدایت پہنچانے کے لئے) ظاہر کی گئی ہے (اور نفع پہنچانا جو اس امت کے خیر اور افضل ہونے کی وجہ سے اس کی صورت یہ ہے کہ) تم لوگ (بمقتضائے شریعت زیادہ اہتمام کے ساتھ) نیک کاموں کو بتلاتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور (خود بھی) اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہو (یعنی ایمان پر قائم رہتے ہو یہاں اللہ پر ایمان میں وہ تمام عقائد و اعمال داخل ہیں جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئے ہیں) اور اگر اہل کتاب (بھی جو تم سے مخالفت کر رہے ہیں، تمہاری طرح) ایمان لے آتے تو ان کے لئے زیادہ اچھا ہوتا (کہ وہ بھی اہل حق کی اسی بہتر جماعت میں داخل ہوجاتے، مگر افسوس کہ وہ سب مسلمان نہ ہوئے بلکہ) ان میں سے بعض تو مسلمان ہیں (جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاکر داخل اسلام ہوگئے) اور زیادہ حصہ ان میں سے کافر ہیں (کہ خاتم الانبیاء ﷺ پر ایمان نہیں لائے اور ان کی بہتر امت میں شامل نہیں ہوئے)۔
معارف و مسائل
امت محمدیہ کا خیر الامم ہونا اور اس کی چند وجوہ
قرآن کریم نے امت محمدیہ کو خیر الامم قرار دینے کی وجوہ متعدد آیتوں میں بیان فرمائی ہیں، اس سلسلہ کی سب سے اہم آیت سورة بقرہ میں گزر چکی ہے " وکذلک جعلنکم امۃ وسطا " (2: 143) وہیں اس آیت کی تفسیر اور امت محمدیہ کے خیر الامم ہونے کی بڑی وجہ اس کا اعتدال مزاج ہونا اور پھر ہر شعبہ زندگی میں امت محمدیہ کے اعتدال کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ (معاف القرآن جلد اول، ص 309 تا 316) اس آیت میں امت محمدیہ کے خیر الامم ہونے کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ خلق اللہ کو نفع پہنچانے ہی کے لئے وجود میں آئی ہے، اور اس کا سب سے بڑا نفع یہ ہے کہ خلق اللہ کی روحانی اور اخلاقی اصلاح کی فکر اس کا منصبی فریضہ ہے اور پچھلی سب امتوں سے زیادہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل اس امت کے ذریعہ ہوئی، اگرچہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ پچھلی امتوں پر عائد تھا، جس کی تفصیل احادیث صحیحہ میں مذکور ہے، مگر اول تو پچھلی بہت سی امتوں میں جہاد کا حکم نہیں تھا، اس لئے ان کا امر بالمعروف صرف دل اور زبان سے ہوسکتا تھا، امت محمدیہ میں اس کا تسیرا درجہ ہاتھ کی قوت سے امر بالمعروف کا بھی ہے جس میں جہاد کی تمام اقسام بھی داخل ہیں، اور بزور حکومت اسلامی قوانین کی تنفیذ بھی اس کا جزء ہے، اس کے علاوہ امم سابقہ میں جس طرح دین کے دوسرے شعائر غفلت عام ہو کر محو ہوگئے تھے، اسی طرح فریضہ امر بالمعروف بھی بالکل متروک ہوگیا تھا، اور اس امت محمدیہ کے متعلق آنحضرت ﷺ کی یہ پیشگوئی ہے کہ " اس امت میں تا قیامت ایک ایسی جماعت قائم رہے گی جو فریضہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر قائم رہے گی "۔
دوسری امتیازی صفت اس امت کی تو منون باللہ بیان فرمائی ہے، یہاں یہ سوال ہوتا ہے کہ ایمان باللہ تو تمام انبیاء سابقین اور ان کی امتوں کا مشترک وصف ہے پھر اس کو وجہ امتیازی کس بنا پر قرار دیا۔ جواب واضح ہے کہ اصل ایمان تو سب میں مشترک ہے، مگر کمال ایمان کے درجات مختلف ہیں، ان میں امت محمدیہ کو جو درجہ حاصل ہے وہ سابقہ امتوں کے مقابلہ میں خاص امتیاز رکھتا ہے۔ اور آکر آیت میں جو اہل کتاب کے متعلق فرمایا کہ ان میں سے کچھ مسلمان ہیں اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، جیسے حضرت عبداللہ ابن سلام وغیرہ۔
Ayah 3:111ربط آیات
پچھلی آیتوں میں اہل کتاب کی مسلمانوں سے دشمنی اور ان کو دینی ضرر پہنچانے کی تدبیریں کرنا مذکور تھا، اس آیت میں مسلمانوں کے لئے دنیوی ضرر کی تدبیریں کرنے کا ذکر ہے۔
خلاصہ تفسیر
وہ (اہل کتاب) تم کو ہرگز کوئی ضرر نہ پہنچا سکیں گے مگر ذرا ہلکی سی اذیت (یعنی زبانی برا بھلا کہہ کر دلا دکھانا) اور اگر وہ (اس سے زیادہ کی ہمت کریں اور) تم سے مقاتلہ کریں تو تم کو پیٹھ دکھا کر بھاگ جائیں گے پھر (اس سے بڑھ کر یہ ہوگا کہ) کسی طرف سے ان کی امداد بھی نہ ہوگی۔
معارف و مسائل
یہ قرآن کی پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ اہل کتاب زمانہ نبوت میں کسی موقع پر بھی صحابہ کرام پر جو کہ بقرینہ مقام اس مضمون کے خاص مخاطب ہیں غالب نہ آسکے، خصوصا یہود جن کے قبائل خصوصیت سے اس جگہ مذکور ہیں جس میں وہ حصہ صحابہ کرام کے آپس میں تفرقہ ڈالنے کی کارروائی کا بھی ہے، انجام یہ ہوا کہ یہ لوگ ذلیل و خوار ہوئے، بعض پر جزیہ لگایا گیا، بعض مقتول ہوئے، بعض جلا وطن کئے گئے، آیت آئندہ میں اسی مضمون کا تکملہ ہے
Ayah 3:112خلاصہ تفسیر
چھا دی گئی ہے ان پر ذلت جہاں کہیں بھی پائے جاویں گے مگر ہاں (دو ذریعوں سے وہ اس ذلت سے نجات پاسکتے ہیں) ایک تو ایسے ذریعہ کے سبب جو اللہ کی طرف سے ہے اور ایک ایسے ذریعہ کے سبب جو آدمیوں کی طرف سے ہے (اللہ کی طرف کا ذریعہ تو یہ ہے کہ کوئی کتابی غیر مسلم اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اپنے طریق پر ایسا مشغول و مصروف ہو کہ مسلمانوں سے لڑتا بھڑتا نہ ہو، اس کو جہاد میں قتل نہیں کیا جاتا، اگرچہ اس کی کافرانہ عبادت آخرت میں اس کے کام نہ آئے گی، اسی طرح اللہ کی طرف کے ذریعہ میں یہ بھی آگیا کہ وہ کتابی نابالغ یا عورت ہو کہ شریعت اسلام کی رو سے ان کو بھی جہاد میں قتل کرنے کی اجازت نہیں ہے اور آدمیوں کی طرف کے ذریعہ سے مراد معاہدہ اور صلح ہے، جو مسلمانوں کے ساتھ ہوجاوے، کیونکہ شریعت اسلام میں جس شخص سے کوئی معاہدہ صلح کا ہوجائے وہ بھی مامون ہے اس کا قتل جائز نہیں) اور مستحق ہوگئے (یہ لوگ) غضب الہی کے، اور جما دی گئی ان پر پستی (کہ ان کے طبائع میں بھی اولوا العزمی نہ رہی، نیز جزیہ و خراج مسلمانوں کو ادا کر کے رہنا بھی مسکنت اور پستی میں داخل ہے یہ (ذلت و غضب) اس وجہ سے ہوا کہ وہ لوگ منکر ہوجاتے تھے احکام الہیہ سے، اور قتل کردیا کرتے تھے پیغمبروں کو (اس طرح سے کہ وہ قتل خود ان کے نزدیک بھی) ناحق (ہوتا تھا) اور یہ ذلت و غضب اس وجہ سے بھی ہوا کہ انہوں نے اطاعت نہ کی اور دائرہ اطاعت سے نکل جاتے تھے۔
معارف مسائل
یہود پر ذلت و غضب کا مطلب موجودہ اسرائیلی حکومت سے شبہ اور جواب
یہ بحث سورة بقرہ کی آیت (61) میں تفصیل سے گزر چکی ہے جس میں کوئی اسثناء نہیں ہے، آیت آل عمران میں الا بحبل اللہ من اللہ وحبل من الناس کے استثناء کی تحقیق وہاں گزر چکی ہے، اس کو معارف القرآن جلد اول ص 179 تا 181 میں دیکھ لیا جائے، اتنی بات یہاں مکرر قابل ذکر ہے کہ کشاف کی تفسیر کے مطابق استثناء کو متصل قرار دے کر معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہود پر ذلت و خواری لگی ہی رہے گی، مگر صرف دو صورتوں میں وہ اس ذلت سے بچ سکتے ہیں۔ ایک اللہ کا عہد مثلا نابالغ بچہ یا عورت ہونے کی بناء پر بحکم خداوندی وہ قتل وغیرہ سے مامون ہیں۔ دوسرے بحبل من الناس، یعنی لوگوں سے معاہدہ صلح کی بناء پر ان کی ذلت و خواری کا ظہور نہ ہو، اس جگہ الفاظ قرآن بحبل من الناس ہیں، جو مومنین و کافر سب کو شامل ہیں، اس میں یہ صورت بھی داخل ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں سے معاہدہ صلح کر کے بےفکر ہوجائیں گے، اور یہ بھی محتمل ہے کہ دوسری غیر مسلم طاقتوں سے معاہدہ صلح کر کے محفوظ ہوجائیں، جیسا کہ حکومت اسرائیل کی موجودہ صورت ہے کہ کسی صاحب بصیرت پر مخفی نہیں کہ اسرائیل کی حکومت درحقیقت اہل یورپ کی ایک مشترکہ چھاؤ نی سے زیادہ نہیں، اس کی جو کچھ قوت نظر آتی ہے وہ سب غیروں کے بل بوتہ پر ہے اگر امریکہ، برطانیہ، روس وغیرہ آج اس پر سے اپنا ہاتھ اٹھا لیں تو وہ ایک دن اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا۔ واللہ اعلم
Ayahs 3:113–117ربط آیات
اوپر اہل کتاب کے متعلق بیان ہوا تھا کہ ان میں کچھ لوگ مسلمان بھی ہیں اور زیادہ کافر ہیں، اسی مضمون کی مزید تفصیل ان آیات میں ہے۔
خلاصہ تفسیر
یہ (اہل کتاب) سب برابر نہیں (بلکہ) ان (ہی) اہل کتاب میں ایک جماعت وہ بھی ہے جو (دین حق پر) قائم ہیں (اور) اللہ کی آیتیں (یعنی قرآن) اوقات شب میں پڑھتے تھے اور وہ نماز بھی پڑھتے ہیں (اور) اللہ پر اور قیامت والے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں اور (دوسروں کو) نیک کام بتلاتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نیک کاموں میں دوڑاتے ہیں اور یہ لوگ (اللہ کے نزدیک) شائستہ لوگوں میں (شمار کئے جاتے ہیں) اور یہ لوگ جو نیک کام کریں گے اس (کے ثواب) سے محروم نہ کئے جائیں گے، اور اللہ تعالیٰ اہل تقوی کو خوب جانتے ہیں (اور یہ لوگ چونکہ اہل تقوی ہیں تو حسب وعدہ جزاء کے مستحق ہیں) بیشک جو لوگ کر رہے ہرگز ان کے کام نہ آویں گے ان کے مال اور نہ اولاد اللہ کے (عذاب کے) مقابلہ میں ذرا بھی اور وہ لوگ دوزخ والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے (اور کبھی نجات نہ ہوگی) وہ (کفار) جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس دنیوی زندگانی میں اس کی حالت (بردباد و ضائع ہونے میں) اس حالت کے مثل ہے کہ ایک ہوا ہو جس میں تیز سردی (یعنی پالا) ہو (اور) وہ لگ جاوے ایسے لوگوں کی کھیتی جنہوں نے (بددینی سے) اپنا نقصان کر رکھا ہو پس وہ (ہوا) اس (کھیتی) کو برباد کر ڈالے (اسی طرح ان لوگوں کو خرچ کرنا آخرت میں سب ضائع ہے) اور (اس ضائع کرنے میں) اللہ تعالیٰ نے ان پر (کوئی) ظلم نہیں کیا، لیکن وہ خود (کفر کے ارتکاب سے جو کہ مانع قبول ہے) اپنے آپ کو ضرر پہنچا رہے تھے (نہ وہ کفر کرتے نہ ان کے سب نقصانات ضائع ہوتے)۔
Ayah 3:118خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو اپنے (لوگوں کے) سوا (اور مذہب والوں میں سے) کسی کو (محبت کے برتاؤ میں) صاحب خصوصیت مت بناؤ (کیونکہ) وہ لوگ تمہارے ساتھ فساد کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے (اور دل سے بھی) تمہاری مضرت (دنیوی و دینی) کی تمنا رکھتے ہیں، (دلوں میں تمہاری طرف سے اس قدر بغض بھرا ہے کہ) واقعی (وہ) بغض (بعض اوقات) ان کے منہ سے (بےاختیار بات چیت میں) ظاہر ہو پڑتا ہے، اور جس قدر ان کے دلوں میں ہے وہ تو بہت کچھ ہے (چنانچہ) ہم (ان کی عداوت کے) علامات (اور قرائن) تمہارے سامنے ظاہر کرچکے اگر تم عقل رکھتے ہو (تو ان یقینی علامات سے دیکھ لو) ہاں (سمجھو) تم ایسے ہو ان لوگوں سے محبت (کا برتاؤ) رکھتے ہو، اور یہ لوگ تم سے اصلا محبت نہیں رکھتے (نہ دل سے نہ برتاؤ سے) حالانکہ تم تمام (آسمانی) کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اس بات میں ان کی کتابیں بھی شامل ہیں اور وہ تمہاری کتاب یعنی قرآن پر ایمان نہیں رکھتے مگر وہ تو باوجود اس تمہارے ایمان کے بھی تم سے محبت نہیں رکھتے اور تم باوجود ان کے اس عدم ایمان کے بھی ان سے محبت رکھتے ہو) اور (تم ان کے ظاہری دعوی ایمان سے شبہ مت کرنا کہ وہ بھی تو ہماری کتاب پر ایمان رکھتے ہیں، کیونکہ) یہ لوگ جب تم سے ملتے ہیں (صرف تمہارے دکھانے کو منافقانہ طو رپر) کہہ دیتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، اور جب (تم سے) الگ ہوتے ہیں تو تم پر اپنی انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں مارے غیظ (وغضب) کے (یہ کنایہ ہے شدت غضب سے) آپ (ان سے) کہہ دیجیے کہ تم مرر ہو اپنے غصہ میں (مراد یہ کہ اگر تم مر بھی جاؤ گے تب بھی تمہاری مراد پوری نہ ہوگی) بیشک اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں دلوں کی باتوں کو (اسی لئے ان لوگوں کے دلوں میں جو رنج و غبار اور عداوت تمہاری طرف سے بھری ہیں سب بتلا دی اور ان کا یہ حال ہے کہ) اگر تم کو کوئی اچھی حالت پیش آتی ہے (مثلا تم میں باہم اتفاق ہو، غیروں پر غلبہ ہوجائے) تو ان کے لئے موجب رنج ہوتی ہے (جس کا سبب اشد درجہ کا حسد ہے) اور اگر تم کو کوئی ناگواری حالت پیش آتی ہے تو اس سے (بڑے) خوش ہوتے ہیں (جس سے ان کی شماتت ثابت ہے، سو ان کے جب یہ حالات ہیں تو وہ اس قابل کب ہیں کہ ان سے دوستی یا دوستی کا برتاؤ کیا جاوے، ان کے مذکورہ حالات سننے کے بعد دلوں میں یہ خیال پیدا ہونا بعید نہیں تھا کہ یہ لوگ مسلمانوں کو ضرر پہنچانے میں کوئی کسر نہیں رکھیں گے، اس لئے گلی آیت میں مسلمانوں کی تسلی کے لئے فرمایا) اور اگر تم استقلال اور تقوی کے ساتھ رہو تو ان لوگوں کی تدبیر تم کو ذرا بھی ضرر نہ پہنچا سکے گی (تم اس سے بےفکر رہو تو دنیا میں تو ان کو یہ ناکامی نصیب ہوگی اور آخرت میں سزائے دوزخ ہوگی کیونکہ) بلا شبہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال پر (علمی) احاطہ رکھتے ہیں (کوئی عمل ہم سے مخفی نہیں اس لئے وہاں سزا سے بچنے کے لئے کسی حیلہ حوالہ کی گنجائش نہیں)۔
معارف و مسائل
شان نزول اس آیت کا یہ ہے کہ مدینہ کے اطراف میں جو یہودی آباد تھے ان کے ساتھ اوس اور خزرج کے لوگوں کی قدیم زمانہ سے دوستی چلی آتی تھی، انفرادی طور پر بھی ان قبیلوں کے افراد ان کے افراد سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے، اور قبائلی حیثیت سے بھی یہ اور یہود ایک دوسرے کے ہمسایہ اور حلیف تھے، جب اوس اور خزرج کے قبیلے مسلمان ہوگئے تو اس کے بعد بھی وہ یہودیوں کے ساتھ پرانے تعلقات نبھاتے رہے، اور ان کے افراد اپنے سابق یہودی دوستوں سے اسی محبت و خلوص کے ساتھ ملتے رہے، لیکن یہودیوں کو حضرت خاتم الانبیاء ﷺ سے اور آپ کے لائے ہوئے دین سے جو عداوت تھی اس کی بناء پر وہ کسی ایسے شخص سے مخلصانہ محبت رکھنے کے لئے تیار نہ تھے جو اس دعوت کو قبول کر کے مسلمان ہوگیا ہو، انہوں نے انصار کے ساتھ ظاہر میں تو وہی تعلقات رکھے جو پہلے سے چلے آرہے تھے، مگر دل میں اب وہ ان کے دشمن ہوچکے تھے، اور اسی ظاہری دوستی سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ہر وقت اس کوشش میں لگے رہتے تھے کہ کسی طرح مسلمانوں کی جماعت میں اندرونی فتنہ و فساد برپا کردیں، اور ان کے جماعتی راز معلوم کر کے ان کے دشمنوں تک پہنچائیں، اللہ تعالیٰ یہاں ان کی اس منافقانہ روش سے مسلمانوں کو محتاط رہنے کی ہدایت فرما رہے ہیں، اور ایک نہایت اہم ضابطہ بیان فرماتے ہیں کہ
" یایھا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم " یعنی اے ایمان والو اپنے (یعنی مسلمانوں کے) علاوہ کسی کو گہرا اور راز دار دوست نہ بناؤ، بطانۃ کے معنی ہیں ولی، دوست، راز دار اور بھیدی، کپڑے کا باطنی استر جو جسم سے ملا رہے وہ بھی بطانہ کہلاتا ہے، یہ بطن سے مشتق ہے، بطن کا استعمال ہر شے میں ظہر کے خلاف ہوتا ہے، اوپر کی جانب کو ظہر اور اندر کی جانب کو بطن بولتے ہیں، اور کپڑے کے اوپر کے حصہ کو ظہارہ اور اندرونی اور نیچے کے حصہ کو جسم سے ملا رہے جیسے استر وغیرہ کو بطانہ کہتے ہیں، جس طرح ہم اپنی زبان میں بولتے ہیں کہ وہ اس کا اوڑھنا بچھونا ہے، یعنی وہ اس کو نہایت مرغوب و محبوب ہے، اسی طرح بطانہ الثوب سے بطور استعارہ ولی، دوست اور معتمد جو باطنی امور کا رازدار ہو اس کے لئے بطانہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، عربی لغت کی مشہور معتبر کتاب لسان العرب میں بطانہ کے معنی اس طرح کئےبطانۃ الرجل صاحب سرہ و داخلۃ امرہ الذی یش اورہ فی احواہ، یعنی بطانۃ الرجل کسی شخص کے ولی اور رازدار دوست اور اس کے معاملات میں دخیل کو کہا جاتا ہے، جس سے وہ اپنے معاملات میں مشورہ لے، اصفہانی نے مفردات القرآن میں اور قرطبی نے اپنی تفسیر میں بھی یہی معنی بیان کئے ہیں، جس کا حاصل یہ ہوا کہ بطانہ اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کو راز دار، ولی اور دوست سمجھا جائے، اور اس کو اپنے معاملات میں معتمد اور مشیر بنایا جائے۔
تو اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنی ملت والوں کے سوا کسی کو اس طرح کا معتمد اور مشیر نہ بناؤ کہ اس سے اپنے اور اپنی ملت و حکومت کے راز کھول دو ، اسلام نے اپنی عالمگیر رحمت کے سایہ میں جہاں مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ساتھ ہمدردی، خیر خواہی، نفع رسانی اور مروت و رواداری کی غیر معمولی ہدایات فرمائی اور نہ صرف زبانی ہدایات بلکہ رسول کریم ﷺ نے تمام معاملات میں اس کو عملی طور پر رواج دیا ہے وہیں عین حکمت کے مطابق مسلمانوں کی اپنی تنظیم اور ان کے مخصوص شعائر کی حفاظت کے لئے یہ احکام بھی صادر فرمائے کہ قانون اسلام کے منکروں اور باغیوں سے تعلقات ایک خاص حد سے آگے بڑھانے کی اجازت مسلمان کو نہیں دی جاسکتی، کہ اس سے فرد اور ملت دونوں کے لئے ضرر اور خطرے کھلے ہوئے ہیں، اور یہ ایسا صریح، معقول، مناسب اور ضروری انتظام ہے جس سے فرد اور ملت دونوں کی حفاظت ہوتی ہے، جو غیر مسلم اسلامی مملکت کے باشندے ہیں یا مسلمانوں سے کوئی معاہدہ کئے ہوئے ہیں ان کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور ان کی حفاظت کے لئے انتہائی تاکیدات اسلامی قانون کا جزء ہیں، حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے
(من اذی ذمیا فانا خصمہ و من کنت خصمہ خصمتہ یوم القیامۃ۔ (عن ابن مسعود) " جس شخص نے کسی ذمی کو ستایا تو قیامت کے روز اس کی طرف سے میں دعویدار بنوں گا، اور جس مقدمہ میں میں دعویدار ہوں تو میں ہی غالب رہوں گا "
ایک دوسری حدیث میں فرمایا(منعنی ربی ان اظلم معاھدا ولا غیرہ (عن علی)
" مجھے میرے پروردگار نے منع فرمایا ہے کہ میں کسی معاہدہ یا کسی دوسرے پر ظلم کروں " ایک اور حدیث میں فرمایا(الا من ظلم معاھدا اونتقصہ او کلفہ فوق طاقتہ او اخذ منہ شیئا بغیر طیب نفس منہ فانا حجیجہ یوم القیامۃ)
" خبردار جو کسی غیر مسلم معاہد پر ظلم کرے، یا اس کے حق میں کمی کرے یا اس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالے، یا اس سے کوئی چیز بغیر اس کی دلی رضامندی کے حاصل کرے تو قیامت کے روز میں اس کا وکیل ہوں گا "
لیکن تمام مراعات کے ساتھ مسلمانوں کی اپنی جماعت اور ملت کی حفاظت کے لئے یہ ہدایات بھی دی گئیں کہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کو اپنا گہرا دوست اور رازدار معتمد نہ بنایا جائے۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے کہ فاروق اعظم حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے کہا گیا کہ یہاں ایک غیر مسلم لڑکا ہے جو بڑا اچھا کاتب ہے اگر اس کو آپ اپنا میر منشی بنالیں تو بہتر ہو، اس پر فاروق اعظم نے فرمایا(قد اتخذت اذا بطانۃ من دون المومنین) " یعنی اس کو میں ایسا کروں تو مسلمانوں کو چھوڑ کر دوسرے ملت والے کو راز دار بنالوں گا جو نص قرآن کے خلاف ہے "۔ امام قرطبی جو پانچویں صدی کے مشہور عالم اور مفسر ہیں بری حسرت اور درد کے ساتھ مسلمانوں میں اس تعلیم کی خلاف ورزی اور اس کے نتائج بد کا بیان اس طرح فرماتے ہیں
(وقد انقلبت الاحوال فی ھذہ الازمان باتخاذ اھل الکتاب کتبۃ وامناء وتسودوا بذلک عند جھلۃ الاغنیاء من الولاۃ والامراء)
" یعنی اس زمانہ میں حالات میں ایسا انقلاب آیا کہ یہود و نصاری کو رازدار اور امین بنالیا گیا، اور اس ذریعہ سے وہ جاہل اغنیاء و امراء پر مسلط ہوگئے "
آج بھی کسی ایسے مملکت میں جس کا قیام کسی خاص نظریہ پر ہو وہاں اس نئی روش کے زمانے میں بھی کسی ایسے شخص کو جو اس نظریہ کو قبول نہیں کرتا، مشیر اور معتمد نہیں بنایا جاسکتا۔ روس اور چین میں کسی ایسے شخص کو جو کمیونزم پر ایمان نہیں رکھتا ہو، کسی ذمہ دار عہدہ پر فائز نہیں کیا جاتا، اور اس کو مملکت کا رازدار اور مشیر نہیں بنایا جاتا، اسلامی مملکتوں کے زوال کی داستانیں پڑہئے تو زوال کے دوسرے اسباب کے ساتھ بکثرت یہ بھی ملے گا کہ مسلمانوں نے اپنے امور کا رازدار و معتمد غیر مسلموں کو بنا لیا تھا، سلطنت عثمانی کے زوال میں بھی اس کو کافی دخل تھا۔ آیت مذکورہ میں اس حکم کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے لا یالونکم خبالا۔ یعنی وہ لوگ تمہیں وبال و فساد میں مبتلا کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں رکھتے، اور تمہارے دکھ پہنچنے کی آرزو رکھتے ہیں، بعض تو ان کی زبانوں سے ظاہر ہو پڑتا ہے، اور جو کچھ وہ اپنے دل میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اور بھی بڑھ کر ہے، ہم تو تمہارے لئے نشانیاں کھول کر ظاہر کرچکے ہیں، اگر تم عقل سے کام لینے والے ہو۔
مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو آگاہ کیا جارہا ہے کہ مسلمان اپنے اسلامی بھائیوں کے سوا کسی کو بھیدی اور مشیر نہ بنائیں، کیونکہ یہود ہوں یا نصاری، منافقین ہوں یا مشرکین، کوئی جماعت تمہاری حقیقی خیر خواہ نہیں ہوسکتی، بلکہ ہمیشہ یہ لوگ اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ تمہیں بیوقوف بناکر نقصان پہنچائیں اور دینی و دنیوی خرابیوں میں مبتلا کریں، ان کی آرزو یہ ہے کہ تم تکلیف میں رہو اور کسی نہ کسی تدبیر سے تم کو دینی یا دنیوی ضرر پہنچے، جو دشمنی یا ضرر ان کے دلوں میں ہے وہ تو بہت ہی زیادہ ہے، لیکن بسا اوقات عداوت غیظ و غضب سے مغلوب ہو کر کھلم کھلا بھی ایسی باتیں کر گزرتے ہیں جو ان کی گہری دشمنی کا صاف پتہ دیتی ہیں، مارے دشمنی اور حسد کے ان کی زبان قابو میں نہیں رہتی، پس عقل مند آدمی کا کام نہیں کہ ایسے دشمنوں کو راز دار بنائے، خدائے تعالیٰ نے دوست دشمن کے پتے اور موالات کے احکام بتلا دیئے ہیں، جس میں عقل ہوگی اس سے کام لے گا۔
ودوا ما عنتم، یہ فقرہ کافرانہ ذہنیت کا پورا ترجمان ہے، اس کے اندر گہری تعلیم اس بات کی آگئی کہ کوئی غیر مسلم کسی حال میں مسلمانوں کا حقیقی دوست اور خیر خواہ نہیں ہوسکتا۔
Ayah 3:119اس کے بعد فرمایا گیا ھانتم اولاء تحبونھم۔ یعنی تم تو ایسے ہو کہ ان سے محبت رکھتے ہو اور یہ تم سے ذرا محبت نہیں رکھتے، اور تم سب کتابوں کو مانتے ہو اور وہ جب تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں، اور جب اکیلے ہوتے ہیں تو کاٹ کاٹ کھاتے ہیں تم پر انگلیاں غصہ سے، کہہ دیجیے کہ تم غیظ میں مر رہو، بیشک اللہ دلوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے، یعنی یہ کیسی بےموقع بات ہے کہ تم ان کی دوستی کا دم بھرتے رہو اور وہ تمہارے دوست نہیں بلکہ جڑ کاٹنے والے دشمن ہیں، اور عجیب بات یہ ہے کہ تم تمام آسمانی کتابوں کو مانتے ہو خواہ وہ کسی قوم کی ہوں، اور کسی زمانہ میں کسی پیغمبر پر نازل ہوئی ہوں، اس کے برخلاف یہ لوگ تمہاری کتاب اور پیغمبر کو نہیں مانتے، بلکہ اپنی کتابوں پر بھی خود ان کا ایمان صحیح نہیں، اس لحاظ سے چاہئے تھا کہ وہ تم سے قدرے محبت کرتے اور تم ان سے سخت نفور اور بیزار رہتے، مگر یہاں معاملہ بالکل برعکس ہورہا ہے۔