3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعارف القرآن

Ayah 3:19

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader

بیشک دین جو ہے اللہ کے یہاں سو یہی مسلمانی حکمبرداری اور مخالف نہیں ہوئے کتاب والے مگر جب ان کو معلوم ہوچکا آپس کی ضد اور حسد سے اور جو کوئی انکار کرے اللہ کے حکموں کا تو اللہ جلدی حساب لینے والا ہے۔

دین اور اسلام کے الفاظ کی تشریح عربی زبان میں لفظ دین کے چند معنی ہیں، جس میں ایک معنی ہیں طریقہ اور روش، قرآن کریم کی اصطلاح میں لفظ دین ان اصول و احکام کے لئے بولا جاتا ہے جو حضرت آدم ؑ سے خاتم الانبیاء ﷺ تک سب انبیاء میں مشترک ہیں، اور لفظ " شریعت " یا " منہاج " یا بعد کی اصطلاحات میں لفظ " مذہب " فروعی احکام کے لئے بولے جاتے ہیں، جو مختلف زمانوں اور مختلف امتوں میں مختلف ہوتے چلے آئے ہیں، قرآن کریم کا ارشاد ہے (شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا۔ 42: 13) " یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین جاری فرمایا جس کی وصیت تم سے پہلے نوح ؑ کو اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کو کی گئی تھی " اس سے معلوم ہوا کہ دین سب انبیاء (علیہم السلام) کا ایک ہی تھا، یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کے جامع کمالات اور تمام نقائص سے پاک ہونے اور اس کے سوا کسی کا لائق عبادت نہ ہونے پر دل سے ایمان اور زبان سے اقرار، روز قیامت اور اس میں حساب کتاب اور جزا و سزا اور جنت و دوزخ پر دل سے ایمان لانا اور زبان سے اقرار کرنا، اس کے بھیجے ہوئے ہر نبی و رسول اور ان کے لائے ہوئے احکام پر اسی طرح ایمان لانا۔ اور لفظ " اسلام " کے اصلی معنی ہیں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا، اور اس کے تابع فرمان ہونا، اس کے معنی کے اعتبار سے ہر نبی و رسول کے زمانہ میں جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کے لائے ہوئے احکام میں ان کی فرمانبرداری کی وہ سب مسلمان اور مسلم کہلانے کے مستحق تھے، اور ان کا دین دین اسلام تھا، اسی معنی کے لحاظ سے حضرت نوح ؑ نے فرمایا(وامرت ان اکون من المسلمین (سورة یونس72) اور اسی لئے حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے آپ کو اور اپنی امت کو امت مسلمہ فرمایا (ربنا واجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک۔ (2: 128) اور حضرت عیسیٰ ؑ کے حواریین نے اسی معنی کے اعتبار سے کہا تھا (واشھد بانا مسلمون۔ (آل عمران52) اور بعض اوقات یہ لفظ خصوصیت سے اس دین و شریعت کے لئے بولا جاتا ہے جو سب سے آخرت میں خاتم الانبیاء ﷺ لے کر آئے، اور جس نے پچھلی تمام شرائع کو منسوخ کردیا اور جو قیامت تک باقی رہے گا، اس معنی کے اعتبار سے یہ لفظ صرف دین محمدی اور امت محمدیہ کے لئے مخصوص ہوجاتا ہے۔ جبرئیل ؑ کی ایک حدیث جو تمام کتب حدیث میں مشہور ہے اس میں رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی یہی خاص تفسیر بیان فرمائی ہے، آیت مذکورہ کے لفظ " الاسلام " میں بھی دونوں معنی کا احتمال ہے۔ پہلے معنی لئے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول دین صرف دین اسلام ہے، یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان بنانا اور ہر زمانہ میں جو رسول آئے اور وہ جو کچھ احکام لائے اس پر ایمان لانا اور اس کی تعمیل کرنا اس میں دین محمدی کی اگرچہ تخصیص نہیں، لیکن عام قاعدہ کے ماتحت حضرت سید الانبیاء ﷺ کے تشریف لانے کے بعد ان پر اور ان کے لائے ہوئے تمام احکام پر ایمان و عمل بھی اس میں داخل ہوجاتا ہے، جس کا حاصل یہ ہوگا کہ نوح ؑ کے زمانہ دین مقبول وہ تھا جو نوح ؑ لائے، اور حضرت ابراہیم ؑ کے زمانہ میں وہ جو ابراہیم ؑ لے کر آئے، اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ کے زمانہ کا اسلام وہ تھا جو الواح توراۃ اور موسوی تعلیمات کی صورت میں آیا۔ اور عیسیٰ ؑ کے زمانہ کا اسلام وہ جو انجیل اور عیسوی ارشادات کے رنگ میں نازل ہوا اور آخرت میں خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانہ کا اسلام وہ ہوگا جو قرآن وسنت کے بتلائے ہوئے نقشہ پر مرتب ہوا۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ہر نبی کے زمانہ میں ان کا لایا ہوا دین ہی دین اسلام اور عنداللہ مقبول تھا، جو بعد میں یکے بعد دیگرے منسوخ ہوتا چلا آیا، آخر میں خاتم الانبیاء ﷺ کا دین دین اسلام کہلایا، جو قیامت تک باقی رہے گا، اور اگر اسلام کے دوسرے معنی لیے جائیں یعنی وہ شریعت جو حضرت خاتم الانبیاء ﷺ لے کر تشریف لائے، تو آیت کا مفہوم یہ ہوجاتا ہے کہ اس زمانہ میں صرف وہی اسلام مقبول ہے جو نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہے، پچھلے ادیان کو بھی اگرچہ ان کے اوقات میں اسلام کہا جاتا تھا، مگر اب وہ منسوخ ہوچکے ہیں، اور دونوں صورتوں میں نتیجہ کلام ایک ہی ہے، کہ ہر پیغمبر کے زمانہ میں اللہ کے نزدیک مقبول دین وہ اسلام ہے جو اس پیغمبر کی وحی اور تعلیمات کے مطابق ہو اس کے سوا دوسرا کوئی دین مقبول نہیں، خواہ وہ پچھلی منسوخ شدہ شریعت ہی ہو، اگلے زمانہ کے لئے وہ اسلام کہلانے کی مستحق نہیں، شریعت ابراہیم ؑ ان کے زمانہ میں اسلام تھی، موسیٰ ؑ کے زمانہ میں اس شریعت کے جو احکام منسوخ ہوگئے وہ اب اسلام نہیں رہے، اسی طرح عیسیٰ ؑ کے زمانہ میں شریعت موسویہ کا اگر کوئی حکم منسوخ ہوا ہے تو وہ اب اسلام نہیں، ٹھیک اسی طرح خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانہ میں شرائع سابقہ کے جو احکام منسوخ ہوگئے وہ اب اسلام نہیں رہے، اس لئے جو امت قرآن کی مخاطب ہے اس کے لئے اسلام کے معنی عام لئے جائیں یا خاص، دونوں کا حاصل یہی ہے کہ رسول کریم ﷺ کی بعثت کے بعد صرف دین اسلام کہلانے کا مستحق وہ ہے جو قرآن اور آنحضرت ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہو اور وہی اللہ کے نزدیک مقبول ہے، اس کے سوا کوئی دین مقبول اور ذریعہ نجات نہیں، یہ مضمون قرآن مجید کی بیشمار آیات میں مختلف عنوانات سے آیا ہے ایک آیت کے الفاظ میں اس طرح وارد ہے (ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ۔ 3: 85) " یعنی جو شخص اسلام کے سوال کوئی دین اختیار کرے گا تو وہ اس سے قبول نہ کیا جائے گا اس کے تابع جو عمل کیا جائے گا وہ ضائع ہوگا "۔ اس زمانہ میں نجات اسلام میں منحصر ہے غیر مسلم کے اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ بھی مقبول نہیں۔ ان آیات نے پوری وضاحت کے ساتھ اس ملحدانہ نظریہ کا خاتمہ کردیا جس میں اسلام کی رواداری کے نام پر کفر و اسلام کو ایک کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور یہ قرار دیا گیا ہے کہ دنیا کا ہر مذہب خواہ یہودیت و نصرانیت ہو یا بت پرستی ہر ایک ذریعہ نجات بن سکتا ہے، بشرطیکہ اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کا پابند ہو، اور یہ درحقیقت اسلام کے اصول کو منہدم کرنا ہے، جس کا حاصل یہ ہوجاتا ہے کہ اسلام کی کوئی حقیقت ہی نہیں، محض ایک خیالی چیز ہے جو کفر کے ہر جامہ میں بھی کھپ سکتا ہے، قرآن کریم کی ان آیات اور انہی جیسی بیشمار آیات نے کھول کر بتلادیا ہے کہ جس طرح اجالا اور اندھیرا ایک نہیں ہوسکتے اسی طرح یہ بات نہایت نامعقول اور ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی نافرمانی اور بغاوت بھی ایسے ہی پسند ہو جیسے اطاعت و فرمانبرداری، جو شخص اسلام میں سے کسی ایک چیز کا منکر ہے وہ بلا شبہ خدا تعالیٰ کا باغی اور اس کے رسولوں (علیہم السلام) کا دشمن ہے، خواہ فروعی اعمال اور رسمی اخلاق میں وہ کتنا ہی اچھا نظر آئے، نجات آخرت کا مدار سب سے پہلے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری پر ہے جو اس سے محروم رہا اس کے کسی عمل کا اعتبار نہیں، قرآن مجید میں ایسے ہی لوگوں کے اعمال کے متعلق ارشاد ہے(فلا نقیم لھم یوم القیامۃ وزنا۔ 18: 105) " یعنی ہم قیامت کے دن ان کے کسی عمل کا وزن قائم نہ کریں گے "۔ اس آخری آیت میں اور اس سے پچھلی آیات میں چونکہ روئے سخن اہل کتاب کی طرف ہے اس لئے آخری آیت میں ان کی بیوقوفی اور غلط کاری کو اس طرح بیان فرمایا ہے(وما اختلف الذین اوتوا الکتب الا من بعد ماجاء ھم العلم بغیا بینھم) " یعنی اہل کتاب نے جو خاتم الانبیاء ﷺ کی نبوت اور اسلام میں خلاف اور جھگڑا ڈالا تو وہ اس وجہ سے نہیں کہ ان کو کوئی اس معاملہ میں اشتباہ رہ گیا بلکہ ان کو اپنی کتاب تورات و انجیل سے اور دوسرے ذرائع سے پوری طرح اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی حقانیت کا علم ہوچکا تھا، لیکن مسلمانوں سے حسد اور حب جاہ و مال نے ان کو اس اختلاف میں مبتلا کیا ہے۔ آخر میں فرمایا ہے (ومن یکفر بایت اللہ فان اللہ سریع الحساب۔) " یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ جلد اس سے حساب لینے والے ہیں "۔ اول تو مرنے کے بعد اس عالم کا امتحان داخلہ قبر کے اس عالم میں ہوگا جس کو برزخ کہا جاتا ہے اور پھر تفصیلی حساب قیامت میں اس حساب و کتاب کے وقت سب جھگڑوں کی حقیقت کھل جائے گی، باطل پرستوں کو اپنی حقیقت واضح ہوجائے گی اور پھر اس کی سزا سامنے آجائے گی۔
Ayah 3:20

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

پھر بھی اگر تجھ سے جھگڑیں تو کہہ دے میں نے تابع کیا اپنا منہ اللہ کے حکم پر اور انہوں نے بھی کہ جو میرے اور کہہ دے کتاب والوں کو اور ان پڑھوں کو کہ تم بھی تابع ہوتے ہو، پھر اگر وہ تابع ہوئے تو انہوں نے راہ سیدھی پائی اور اگر منہ پھیریں تو تیرے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے، اور اللہ کی نگاہ میں ہیں بندے۔

خلاصہ تفسیر ربط آیات شروع سورت میں توحید کا اثبات اور تثلیث کا رد کیا گیا تھا، ان آیات میں مشرکین اور منکرین اہل کتاب کی حجتوں کا جواب دیا گیا ہے۔ (اسلام کے حق ہونے پر دلیل قائم ہونے کے بعد) پھر بھی اگر یہ لوگ آپ ﷺ سے (خوامخواہ کی) حجتیں نکالیں تو آپ (جواب میں) فرمادیجیے کہ (تم مانو یا نہ مانو) میں تو اپنا رخ خاص اللہ کی طرف کرچکا اور جو میرے پیروکار تھے وہ بھی (اپنا رخ خاص اللہ کی طرف کرچکے۔ یہ کنایہ ہے اس سے کہ ہم سب اسلام اختیار کرچکے جس میں اعتقاد الوہیت کے اعتبار سے قلب کا رخ خاص اللہ ہی کی طرف ہوتا ہے، کیونکہ دوسرے مذاہب میں کچھ کچھ شرک ہوگیا تھا) اور (اس جواب کے بعد دریافت فرمانے کے طور پر) کہیں اہل کتاب سے اور (مشرکین) عرب سے کہ کیا تم بھی اسلام لاتے ہو سو اگر وہ لوگ اسلام لے آئیں تو وہ لوگ بھی راہ راست پر آجائیں گے اور اگر وہ لوگ (اس سے بدستور) روگردانی رکھیں سو (آپ اس کا بھی غم نہ کیجیے، کیونکہ) آپ کے ذمہ صرف (احکام خداوندی کا) پہنچا دینا ہے اور (آگے) اللہ تعالیٰ خود دیکھ (اور سمجھ) لیں گے، (اپنے) بندوں کو (آپ ﷺ سے کوئی باز پرس نہیں ہے)
Ayahs 3:21–22

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

جو لوگ انکار کرتے ہیں اللہ کے حکموں کا اور قتل کرتے ہیں پیغمبروں کو ناحق اور قتل کرتے ہیں ان کو جو حکم کرتے ہیں انصاف کرنے کا لوگوں میں سے، سو خوش خبری سنا دے ان کو عذاب درد ناک کی ،

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

یہی ہیں جن کی محنت ضائع ہوئی دنیا میں اور آخرت میں اور کوئی نہیں ان کا مدد گار۔

خلاصہ تفسیر ربط آیات شروع سورة میں کلام کا زیادہ رخ نصاری کی طرف تھا، پھر آیت بالا میں (الذین اوتوا الکتاب) کا عنوان نصاری اور یہود دونوں کو شامل تھا، اب ان آیات میں یہود کے بعض خاص احوال کا بیان ہے، روح المعانی میں بروایت ابن ابی حاتم ؒ اس آیت کی تفسیر میں خود حضور ﷺ سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل نے تینتالیس (43) نبیوں کو ایک وقت میں قتل کیا، ان کی نصیحت کے لئے ایک سو ستر (170) بزرگ کھڑے ہوئے، اسی دن ان کا بھی کام تمام کردیا۔ (بیان القرآن) بیشک جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ (جیسے یہود کہ انجیل اور قرآن کو نہیں مانتے تھے) اور قتل کرتے ہیں پیغمبروں کو (اور وہ قتل کرنا خود ان کے خیال میں بھی) ناحق (ہوتا ہے) اور (نیز) قتل کرتے ہیں ایسے شخصوں کو جو (افعال و اخلاق کے) اعتدال کی تعلیم دیتے ہیں، سو ایسے لوگوں کو خبر سنا دیجیے سزائے درد ناک کی (اور) یہ وہ لوگ ہیں کہ (مجموعہ افعال مذکورہ کے سبب سے) ان کے سب اعمال (صالحہ) غارت ہوگئے دنیا میں (بھی) اور آخرت میں (بھی) اور (سزا کے وقت) ان کا کوئی حامی و مددگار نہ ہوگا۔
Ayahs 3:23–25

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

کیا نہ دیکھا تو نے ان لوگوں کو جن کو ملا کچھ ایک حصہ کتاب کا ان کو بلاتے ہیں اللہ کی کتاب کی طرف تاکہ وہ کتاب ان میں حکم کرے پھر منہ پھیرتے ہیں بعضے ان میں سے تغافل کرکے،

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

یہ اس واسطے کہ کہ کہتے ہیں وہ ہم کو ہرگز نہ لگے گی آگ دوزخ کی مگر چند دن گنتی کے اور بہکے ہیں اپنے دین میں اپنی بنائی باتوں پر

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

پھر کیا حال ہوگا جب ہم ان کو جمع کریں گے ایک دن کہ اس کے آنے میں کچھ شبہ نہیں اور پورا پاوے گا ہر کوئی اپنا کیا، اور ان کی حق تلفی نہ ہوگی۔

(اے محمد ﷺ کیا آپ نے ایسے لوگ نہیں دیکھے جن کو کتاب (سماوی یعنی توراۃ) کا ایک (کافی) حصہ دیا گیا (کہ اگر ہدایت کے طالب ہوتے تو وہ حصہ اس غرض کی تکمیل کے لئے کافی تھا) اور اسی کتاب اللہ کی طرف اس غرض سے ان کو بلایا بھی جاتا ہے کہ وہ ان کے درمیان (مذہبی اختلاف کا) فیصلہ کردے پھر (بھی) ان میں سے بعض لوگ انحراف کرتے ہیں بےرخی کرتے ہوئے (اور) یہ (بےاعتنائی) اس سبب سے ہے کہ وہ لوگ یوں کہتے ہیں (اور یہی ان کا اعتقاد ہے) کہ ہم کو صرف گنتی کے تھوڑے دنوں تک دوزخ کی آگ لگے گی (پھر مغفرت ہوجاوے گی) اور ان کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ان کی تراشی ہوئی باتوں نے (جیسے اسی تراشے ہوئے عقیدہ نے ان کو دھوکہ دیا کہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں، اس خاندانی بزرگی سے ہماری نجات ضرورت ہوجائے گی، اس کے نتیجہ میں وہ اور کتاب اللہ سے بےاعتنائی کرنے لگے) سو (ان احوال و افعال و اقوال کفریہ کے سبب) ان کا کیا (برا) حال ہوگا، جبکہ ہم ان کو اس تاریخ میں جمع کرلیں گے جس (کے آنے) میں ذرا شبہ نہیں اور (اس تاریخ میں) پورا پورا بدلہ مل جائے گا (کہ بےجرم یا زیادہ از جرم سزا نہ ہوگی)
Ayah 3:26

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

تو کہہ یا اللہ مالک سلطنت کے تو سلطنت دیوے جس کو چاہے اور سلطنت چھین لیوے جس سے چاہے اور عزت دیوے جسکو چاہے اور ذلیل کرے جسکو چاہے، تیرے ہاتھ ہے سب خوبی بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے

خلاصہ تفسیر ان آیات میں امت محمدیہ کو ایک دعا و مناجات کی تلقین اس انداز سے کی گئی ہے کہ اس کے ضمن میں امت محمدیہ کے کفار پر غلبہ پانے کی طرف اشارہ بھی ہے، جیسا اس کے شان نزول سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے روم وفارس فتح ہوجانے کا وعدہ فرمایا تو منافقین و یہود نے استہزاء کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کما فی روح المعانی عن الواحدی عن ابن عباس و انس ؓ۔ مختصر تفسیر ان آیات کی یہ ہے (اے محمد ﷺ آپ (اللہ تعالیٰ سے) یوں کہیے کہ اے اللہ مالک تمام ملک کے آپ ملک (کا جتنا حصہ چاہیں) جس کو چاہیں دیدیتے ہیں اور جس (کے قبضہ) سے چاہیں ملک (کا حصہ) لے لیتے ہیں اور جس کو آپ چاہیں غالب کردیتے ہیں اور جس کو آپ چاہیں پست کردیتے ہیں آپ ہی کے اختیار میں ہے سب بھلائی بلا شبہ آپ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں، آپ (بعض موسموں میں) رات (کے اجزاء) کو دن میں داخل کردیتے ہیں (جس سے دن بڑا ہونے لگتا ہے) اور (بعض موسموں میں) ان (کے اجزاء) کو رات میں داخل کردیتے ہیں (جس سے رات بڑھنے لگتی ہے) اور آپ جان دار چیز کو بےجان سے نکال لیتے ہیں (جیسے بیضہ سے بچہ) اور بےجان چیز کو جان دار سے نکال لیتے ہیں (جیسے پرندے سے بیضہ) اور آپ جس کو چاہتے ہیں بیشمار رزق عطا فرماتے ہیں۔ معارف و مسائل اس آیت کا شان نزول اور غزوہ خندق کا واقعہ بدر و احد میں مشرکین مکہ کی مسلسل شکست اور مسلمانوں کے خلاف ہر جدو جہد میں ناکامی کے ساتھ مسلمانوں کی مسلسل ترقی اور اسلام کی روز افزوں اشاعت نے قریش مکہ اور تمام غیر مسلموں میں ایک بوکھلاہٹ پیدا کردی تھی، جس سے وہ اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہورہے تھے، جس کا نتیجہ ایک عام سازش کی صورت میں یہ ظاہر ہوا کہ مشرکین عرب اور یہود و نصاری سب کا ایک متحدہ محاذ مسلمانوں کے خلاف بن گیا، اور سب نے ملکر کر مدینہ پر یکبارگی حملہ اور فیصلہ کن جنگ کی ٹھان لی، اور ان کا بےپناہ لشکر اسلام اور مسلمانوں کو دنیا سے مٹا ڈالنے کا عزم لے کر مدینہ پر چڑھ آیا، جس کا نام قرآن میں غزوہ احزاب اور تاریخ میں غزوہ خندق ہے، کیونکہ اس میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ ؓ کے ساتھ مشورہ سے یہ طے فرمایا تھا کہ غنیم کے راستہ میں مدینہ سے باہر خندق کھودی جائے۔ بیہقی اور ابو نعیم اور ابن خزیمہ کی روایت میں ہے کہ خندق کھودنے کا کام مجاہدین اسلام صحابہ کرام ؓ کے سپرد ہوا تو چالیس چالیس ہاتھ لمبی خندق دس دس آدمیوں کے سپرد تھی، یہ خندق کئی میل لمبی اور خاصی گہری اور چوڑی تھی جس کو غنیم عبور نہ کرسکے، اور کھدائی کے لئے تکمیل جلد سے جلد کرنا تھی، اس لئے جاں نثار صحابہ کرام ؓ بڑی محنت سے اس میں مشغول تھے کہ قضائے حاجت اور کھانے وغیرہ کی ضروریات کے لئے یہاں سے ہٹنا مشکل ہورہا تھا، مسلسل بھوکے رہ کر یہ کام انجام دیا جارہا تھا، اور یقینا کام ایسا تھا کہ آج کل کی جدید آلات والی پلٹن بھی ہوتی تو اس تھوڑے وقت میں اس کام کا پورا کرنا آسان نہ ہوتا، مگر یہاں ایمانی طاقت کام کر رہی تھی جس نے بآسانی تکمیل کرادی۔ سید الانبیاء ﷺ بھی ایک فرد کی حیثیت سے اس کھدائی کے کام میں شریک تھے، اتفاقا خندق کے ایک حصہ میں پتھر کی بڑی چٹان نکل آئی، جن حضرات کے حصہ میں خندق کا یہ ٹکڑا تھا وہ اپنی پوری قوت صرف کر کے عاجز ہوگئے، تو حضرت سلمان فارسی ؓ کو آنحضرت ﷺ کے پاس بھیجا کہ اب حضور ﷺ کا کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ اسی وقت موقع پر تشریف لائے اور کدال آہنی خود دست مبارک میں لے کر ایک ضرب لگائی تو اس چٹان کے ٹکڑے ہوگئے، اور ایک آگ کا شعلہ بر آمد ہوا جس سے دور تک اس کی روشنی پھیل گئی، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس روشنی میں بحیرہ ملک فارس کے محلات و عمارات دکھلائی گئیں۔ پھر دوسری ضرب لگائی اور پھر ایک شعلہ برآمد ہوا تو فرمایا کہ اس کی روشنی میں مجھے رومیوں کے سرخ سرخ محلات و عمارات دکھلائی گئیں، پھر تیسری ضرب لگائی اور روشنی پھیلی تو فرمایا کہ اس میں مجھے صنعاء یمن کے عظیم محلات دکھلائے گئے، اور فرمایا کہ میں تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ مجھے جبرئیل امین نے خبر دی ہے کہ میری امت ان تمام ممالک پر غالب آئے گی۔ منافقین مدینہ نے یہ سنا تو ان کو استہزاء و تمسخر کا موقع ہاتھ آیا، مسلمانوں کا مذاق اڑایا، کہ دیکھو ان لوگوں کو جو حریف مقابل کے خوف سے خندق کھودنے میں اس طرح مشغول ہیں کہ ان کو اپنی ضروریات کا بھی ہوش نہیں، اپنی جانوں کی حفاطٹ ان کو مشکل ہورہی ہے، ملک فارس و روم اور یمن کی فتوحات کے خواب دیکھ رہے ہیں، حق تعالیٰ نے ان بیخبر ظالموں کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی۔ (قل اللھم مالک الملک توتی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء وتعز من تشاء وتذل من تشاء بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر) جس میں مناجات و دعا کے پیرایہ میں قوموں کے عروج و زال اور ملکوں کے انقلاب میں حق جل شانہ کی قدرت کاملہ کا بیان ایک نہایت بلیغ انداز سے کیا گیا ہے، اور فارس و روم کی فتوحات کے بارے میں رسول کریم ﷺ کی پیشنگوئی کے پورا ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا، اس میں دنیا کے انقلابات سے بیخبر قوموں کے عروج وزوال کی تاریخ سے ناواقف، قوم نوح اور عاد وثمود کے واقعات سے غافل اور جاہل، دشمنان اسلام کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تم ظاہری شان و شوکت کے پرستار یہ نہیں جانتے کہ دنیا کی ساری طاقتیں اور حکومتیں سب ایک ذات پاک کے قبضہ قدرت میں ہیں، عزت و ذلت اسی کے ہاتھ ہے، وہ بلا شبہ اس پر قادر ہے کہ غریبوں اور فقیروں کو تخت و تاج کا مالک بنادے، اور بڑے بڑے بادشاہوں سے حکومت و دولت چھین لے، اس کے لئے کچھ مشکل نہیں کہ آج کے خندق کھودنے والے فقیروں کو کل شام و عراق اور یمن کی حکومت عطا فرمادے۔ ذرہ ذرہ ہر کا پابستہ تقدیر ہے زندگی کے خواب کی جامی یہی تعبیر ہے جو چیزیں عادۃ بری سمجھی جاتی ہیں انجام کے اعتبار سے وہ بھی بری نہیں آیت کے اخیر میں فرمایا (بیدک الخیر) " یعنی آپ کے ہاتھ میں ہے ہر بھلائی " شروع آیت میں چونکہ حکومت دینے اور واپس لینے کا نیز عزت اور ذلت دونوں کا ذکر تھا، اس لئے بظاہر مقتضائے مقام یہ تھا کہ اس جگہ بھی (بیدک الخیر والشر) کہا جاتا، یعنی ہر بھلائی اور برائی آپ کے ہاتھ میں ہے، لیکن اس آیت میں اس جگہ صرف لفظ " خیر " لاکر ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جس چیز کو کوئی شخص یا کوئی قوم برائی یا مصیبت سمجھتی ہے اور وہ اس خاص قوم کے لئے گو تکلیف و مصیبت ہوتی ہے لیکن اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو مجموعہ عالم کے اعتبار سے وہ برائی نہیں ہوتی، قوموں کے عروج ونزول اور اس میں مصائب کے بعد فوائد کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو عربی کے مشہور شاعر متنبی کا یہ مصرعہ ایک زندہ حقیقت بن کر سامنے آجاتا ہے کہ مصائب قوم عند قوم فوائد " یعنی ایک قوم کے مصائب دوسری قوم کے فوائد ہوتے ہیں " مجموعہ عالم کے مصالح و فوائد پر نظر کرنے والا کسی نہ کسی درجہ میں اس حقیقت کو پاسکتا ہے کہ اس میں جتنی چیزیں خراب اور بری سمجھی جاتی ہیں، وہ اپنی ذات میں چاہے بری سمجھی جائیں، مگر پورے عالم کو اگر ایک جسم فرض کرلیا جائے تو وہ اس کے چہرہ کے خال اور بال ہیں، خال اور بال اگر بدن سے الگ کر کے دیکھے جائیں تو ان سے زیادہ خراب کوئی چیز نہیں، لیکن ایک حسین چہرہ کا جزء ہونے کی حالت میں یہی چیزیں رونق حسن ہوتی ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ جن چیزوں کو ہم برا کہتے ہیں اور برا سمجھتے ہیں ان کی برائی جزوی ہے اور خالق کائنات اور رب العالمین کی نسبت اور مجموعہ عالم کی مصلحت کے اعتبار سے کوئی چیز شر یا خراب نہیں، کسی نے خوب کہا ہے نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں اس لئے اس آیت کے ختم میں صرف لفظ " خیر " پر اکتفا کر کے فرمایا گیا (بیدک الخیر) کیونکہ خالق کائنات کی حکمت اور حکومت اور مجموعہ عالم کی مصلحت کے لحاظ سے ہر چیز خیر ہی خیر ہے، یہاں تک پہلی آیت کا مضمون ختم ہوا، جس میں تمام عالم عناصر کی طاقتوں اور دنیا کی سب حکومتوں کا حق تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہونا بیان فرمایا ہے
Ayah 3:27

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

تو داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرے دن کو رات میں اور تو نکالے زندہ مردہ سے اور نکالے مردہ زندہ سے اور تو رزق دے جس کو چاہے بےشمار۔

دوسری آیت میں آسمانی طاقتوں اور فلکیات پر حق جل وعلا شانہ کی قدرت کاملہ کا احاطہ اس طرح بیان فرمایا ہے (تولج اللیل فی النھار وتولج النھار فی اللیل) " یعنی آپ جب چاہتے ہیں رات کے اجزاء دن میں داخل فرما کر دن کو بڑا کردیتے ہیں، اور جب چاہتے ہیں دن کے اجزاء رات میں داخل کر کے رات بڑی کردیتے ہیں "۔ اور یہ ظاہر ہے کہ رات اور دن کے بڑے چھوٹے ہونے کا مدار آفتاب کے طلوع و غروب اور اس کی حرکات پر ہے، اس لئے اس کا حاصل یہ ہوا کہ آسمان اور اس کے متعلق سب سے بڑا سیارہ شمس اور سب سے معروف سیارہ قمر سب آپ کے احاطہ قدرت میں ہیں، پھر عالم عناصر اور دنیا کی باقی طاقتوں میں کسی شک و شبہ کی کیا گنجائش ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد عالم روحانیت پر جل وعلاشانہ کا احاطہ قدرت اس طرح بیان فرمایا (تخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی) " یعنی آپ زندہ کو مردہ سے نکال لیتے ہیں، جیسے بیضہ سے بچہ یا نطفہ سے انسان یا دانہ سے درخت کو نکال لیتے ہیں اور مردہ کو زندہ سے نکال لیتے ہیں، جیسے جانور سے بیضہ اور انسان سے نفطہ یا درخت سے پھل اور دانہ خشک "۔ اور اگر زندہ اور مردہ کا مفہوم عام لیا جائے تو عالم اور جاہل اور کامل و ناقص اور مومن و کافر سب کو شامل ہوجاتا ہے جس سے حق جل وعلاشانہ کی قدرت کاملہ اور اس کے تصرفات تمام عالم ارواح اور روحانیات پر واضح ہوجاتے ہیں کہ وہ جب چاہیں تو کافر سے مومن یا جاہل سے عالم پیدا کردیں اور جب چاہیں مومن سے کافر یا عالم سے جاہل پیدا کردیں، آذر کے گھر میں خلیل اللہ پیدا ہوجائے اور نوح ؑ کے گھر میں ان کا بیٹا کافر رہ جائے، عالم کی اولاد جاہل رہ جائے اور جاہل کی اولاد عالم ہوجائے۔ اس تفصیل سے آپ نے معلوم کیا ہوگا کہ کیسی بلیغ ترتیب کے ساتھ حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا تمام کائنات عالم پر محیط ہونا ترتیب وار بیان فرمایا گیا ہے کہ پہلے عالم عناصر اور اس کی قوتوں اور حکومتوں کا ذکر آیا ہے، پھر عالم افلاک اور اس کی قوتوں کا اور ان سب کے بعد روح اور روحانیت کا ذکر آیا ہے جو درحقیقت سارے عالم کی ساری قوتوں میں سب سے بالا تر قوت ہے، آخر آیت میں ارشاد فرمایا(وترزق من تشاء بغیر حساب) " یعنی آپ جس کو چاہیں بیشمار رزق عطا فرمادیں " جس کو کوئی مخلوق نہ معلوم کرسکے، اگرچہ خالق کے علم میں ذرہ ذرہ لکھا ہوا ہے۔ آیت مذکورہ کی مخصوص فضیلت امام بغوی ؒ نے اپنی سند کے ساتھ اس جگہ ایک حدیث نقل فرمائی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جو شخص ہر فرض نماز کے بعد سورة فاتحہ اور آیۃ الکرسی اور آل عمران کی تین آیتیں ایک آیت نمبر 18 (شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو آخر تک۔ اور دوسری و تیسری (26، 27) آیت (قل اللھم مالک الملک سے بغیر حساب تک پڑھا کرے تو میں اس کا ٹھکانا جنت میں بنادوں گا، اور اس کو اپنے حظیرۃ القدس میں جگہ دوں گا، اور ہر روز اس کی طرف ستر مرتبہ نظر رحمت کروں گا، اور اس کی ستر حاجتیں پوری کروں گا اور ہر حاسد اور دشمن سے پناہ دوں گا، اور ان پر اس کو غالب رکھوں گا۔
Ayahs 3:28–30

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

نہ بنادیں مسلمان کافروں کو دوست مسلمانوں کو چھوڑ کر اور جو کوئی یہ کام کرے تو نہیں اس کو اللہ سے کوئی تعلق مگر اس حالت میں کہ کرنا چاہو تم ان سے بچاؤ اور اللہ تم کو ڈراتا ہے اپنے سے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے،

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

تو کہہ اگر تم چھپاؤ گے اپنے جی کی بات یا اسے ظاہر کرو گے جانتا ہے اس کو اللہ، اور اس کو معلوم ہے جو کچھ کہ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

جس دن موجود پاوے گا ہر شخص جو کچھ کہ کی ہے اس نے نیکی اپنے سامنے اور جو کچھ کہ کی ہے اس نے برائی آرزو کرے گا کہ مجھ میں اور اس میں پڑجائے فرق دور کا اور اللہ ڈراتا ہے تم کو اپنے سے اور اللہ بہت مہربان ہے بندوں پر۔

خلاصہ تفسیر ربط آیاتمذکور الصدر آیات میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کافروں کو دوست نہ بنائیں اور اس ہدایت کی مخالفت کرنے والوں کے لئے سخت وعید ہے کہ جو ان کو دوست بنائے گا، اس کا اللہ تعالیٰ سے دوستی و محبت کا علاقہ قطع ہوجائے گا، کافروں سے باطنی اور دلی دوستی تو مطلقا حرام ہے، اور ظاہری دوستی معاملات کے درجہ میں اگرچہ جائز ہے، مگر بلا ضرورت وہ بھی پسند نہیں۔ مختصر تفسیر ان آیات کی یہ ہے مسلمانوں کو چاہئے کہ (ظاہرا یا باطنا) کفار کو دوست نہ بنائیں مسلمانوں (کی دوستی) سے تجاوز کر کے (یہ تجاوز دو صورت سے ہوتا ہے، ایک یہ کہ مسلمانوں سے بالکل دوستی نہ رکھیں، دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ بھی دوستی ہو اور کفار کے ساتھ بھی، دونوں صورتیں ممانعت میں داخل ہیں) اور جو شخص ایسا (کام) کرے گا سو وہ اللہ کے ساتھ دوستی رکھنے کے کسی شمار میں نہیں (کیونکہ جن دو شخصوں میں باہم عداوت ہو ایک سے دوستی کر کے دوسرے سے دوستی کا دعوی قابل اعتماد نہیں ہوسکتا) مگر ایسی صورت میں (ظاہری دوستی کی اجازت ہے) کہ تم اس سے کسی قسم کا (قوی) اندیشہ رکھتے ہو (وہاں دفع ضرر کی ضرورت ہے) اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنی ذات (عظیم الشان سے) ڈراتا ہے (کہ اس کی ذات سے ڈر کر احکام کی مخالفت مت کرو) اور خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اس وقت کی سزا کا خوف کرنا ضرور ہے) آپ ﷺ (ان سے) فرمادیجیے کہ اگر تم (دل ہی دل میں) پوشیدہ رکھو گے اپنا مافی الضمیر یا اس کو (زبان وجوارح سے) ظاہر کردو گے اللہ تعالیٰ اس کو (ہرحال میں) جانتے ہیں اور (اسی کی کیا تخصیص ہے) وہ تو سب کچھ جانتے ہیں، جو کچھ کہ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ کہ زمین میں ہے (کوئی چیز ان سے مخفی نہیں) اور (علم کے ساتھ) اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت بھی کامل رکھتے ہیں (سو اگر تم کسی امر قبیح کا ارتکاب کرو گے خواہ ظاہرا یا باطنا تو وہ تم کو سزا دے سکتے ہیں) جس روز (ایسا ہوگا) کہ ہر شخص اپنے اچھے کئے ہوئے کاموں کو سامنے لایا ہوا پائے گا، اور اپنے برے کئے ہوئے کاموں کو (بھی پائے گا اس روز) اس بات کی تمنا کرے گا کہ کیا خوب ہوتا جو اس شخص کے اور اس روز کے درمیان دور دراز کی مسافت (حائل) ہوتی (تاکہ اپنے اعمال بد کا معائنہ نہ کرنا پڑتا) اور (تم سے پھر مکرر کہا جاتا ہے کہ) خدا تعالیٰ تم کو اپنی ذات (عظیم الشان) سے ڈراتے ہیں (اور یہ ڈرانا اس وجہ سے ہے کہ) اللہ تعالیٰ نہایت مہربان ہیں (اپنے) بندوں (کے حال) پر (اس مہربانی سے یوں چاہتے ہیں کہ یہ سزائے آخرت سے بچے رہیں، اور بچنے کا طریقہ ہے اعمال بد کا ترک کرنا، اور ترک کرنا عادۃ بدون ڈرانے کے ہوتا نہیں، اس لئے ڈراتے ہیں، پس یہ ڈرانا عین شفقت و رحمت ہے) معارف و مسائل اس مضمون کی آیات قرآن کریم میں جابجا مختلف عنوانات کے ساتھ بکثرت آئی ہیں، سورة ممتحنہ میں ارشاد ہے(یا ایھا الذین امنوا لا تتخوا عدوی وعدوکم اولیاء تلقون الیھم بالمودۃ۔ " یعنی اے ایمان والو ! میرے دشمن اور اپنے دشمن یعنی کافر کو دوست نہ بناؤ کہ تم ان کو پیغام بھیجو دوستی کے "۔ پھر اس کے آخر میں فرمایا(ومن یفعلہ منکم فقد ضل سواء السبیل۔ " جس شخص نے ان سے دوستی کی تو وہ سیدھے راستہ سے گمراہ ہوگیا "۔ اور دوسری جگہ ارشاد ہے(یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیاء بعضھم اولیاء بعض ومن یتولھم منکم فانہ منھم۔ " یعنی اے ایمان والو ! یہود و نصاری کو دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں (مسلمانوں سے ان کو کوئی دوستی اور ہمدردی نہیں) تو جو ان سے دوستی کرے گا وہ انہی میں شمار ہوگا "۔ اور سورة مجادلہ میں ہے(لا تجد قوم یومنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ ولو کانوا اباءھم او ابناءھم او اخوانھم او عشیرتھم۔ " یعنی آپ ﷺ نہ پائیں گے کسی قوم کو جو یقین رکھتے ہوں اللہ پر اور آخرت کے دن پر کہ دوستی کریں ایسے لوگوں سے جو مخالف ہیں اللہ کے اور اس کے رسول کے خواہ وہ اپنے باپ دادا ہی ہوں، یا اپنی اولاد یا اپنے بھائی، یا اپنے خاندان والے "۔ کفار کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں ؟ یہ مضمون بہت سی آیات قرآنیہ میں مجمل اور مفصل مذکور ہے جس میں مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ساتھ موالات اور دوستی اور محبت سے شدت کے ساتھ روکا گیا ہے، ان تصریحات کو دیکھ کر حقیقت حال سے ناواقف غیر مسلموں کو تو یہ شبہ ہوجاتا ہے کہ مسلمانوں کے مذہب میں غیر مسلموں سے کسی قسم کی رواداری اور تعلق کی بلکہ حسن اخلاق کی بھی کوئی گنجائش نہیں، اور دوسری طرف اس کے بالمقابل جب قرآن کی بہت سی آیات سے اور رسول کریم ﷺ کے ارشادات اور عمل سے خلفائے راشدین ؓ اور دوسرے صحابہ کرام ؓ کے تعامل سے غیر مسلموں کے ساتھ احسان و سلوک اور ہمدردی و غمخواری کے احکام اور ایسے ایسے واقعات ثابت ہوتے ہیں جن کی مثالیں دنیا کی اقوام میں ملنا مشکل ہیں، تو ایک سطحی نظر رکھنے والے مسلمان کو بھی اس جگہ قرآن وسنت کے احکام و ارشادات میں باہم تعارض اور تصادم محسوس ہونے لگتا ہے، مگر یہ دونوں خیال قرآن کی حقیقی تعلیمات پر طائرانہ نظر اور ناقص تحقیق کا نتیجہ ہوتے ہیں، اگر مختلف مقامات سے قرآن کی آیات کو جو اس معاملہ سے متعلق ہیں جمع کر کے غور کیا جائے تو نہ غیر مسلموں کے لئے وجہ شکایت باقی رہتی ہے، نہ آیات و روایات میں کسی قسم کا تعارض باقی رہتا ہے، اس لئے اس مقام کی پوری تشریح کردی جاتی ہے جس سے موالات اور احسان و سلوک یا ہمدردی و غمخواری میں باہمی فرق اور ہر ایک کی حقیقت بھی معلوم ہوجائے گی، اور یہ بھی کہ ان میں کون سا درجہ جائز ہے کون سا ناجائز اور جو ناجائز ہے اس کی وجوہ کیا ہیں۔ بات یہ ہے کہ دو شخصوں یا دو جماعتوں میں تعلقات کے مختلف درجات ہوتے ہیں، ایک درجہ تعلق کا قلبی موالات یا دلی موددت و محبت ہے، یہ صرف مومنین کے ساتھ مخصوص ہے غیر مومن کے ساتھ مومن کا یہ تعلق کسی حال میں قطعا جائز نہیں۔ دوسرا درجہ مواسات کا ہے جس کے معنی ہیں ہمدردی و خیر خواہی اور نفع رسانی کے، یہ بجز کفار اہل حرب کے جو مسلمانوں سے برسر پیکار ہیں باقی سب غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے۔ سورة ممتحنہ کی آٹھویں آیت میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے جس میں ارشاد ہے۔ (لا ینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطوا الیھم۔ 60: 8) " یعنی اللہ تعالیٰ تم کو منع نہیں کرتا ان سے جو لڑتے نہیں تم سے دین پر اور نکالا نہیں تم کو تمہارے گھروں سے کہ ان کے ساتھ احسان اور انصاف کا سلوک کرو "۔ تیسرا درجہ مدارات کا ہے جس کے معنی ہیں ظاہری خوش خلقی اور دوستانہ برتاؤ کے، یہ بھی تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے، جبکہ اس سے مقصود ان کو دینی نفع پہنچانا ہو یا وہ اپنے مہمان ہوں، یا ان کے شر اور ضرر رسانی سے اپنے آپ کو بچانا مقصود ہو، سورة آل عمران کی آیت مذکورہ میں (الا ان تتقوا منھم تقتۃ) سے یہی درجہ مدارات کا مراد ہے، یعنی کافروں سے موالات جائز نہیں، مگر ایسی حالت میں جبکہ تم ان سے اپنا بچاؤ کرنا چاہو اور چونکہ مدارات میں بھی صورت موالات کی ہوتی ہے اس لئے اس کو موالات سے مستثنی قرار دے دیا گیا۔ (بیان القرآن) چوتھا درجہ معاملات کا ہے کہ ان سے تجارت یا اجرت و ملازمت اور اور صنعت و حرفت کے معاملات کئے جائیں، یہ بھی تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے، بجز ایسی حالت کے کہ ان معاملات سے عام مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو، رسول کریم ﷺ اور خلفائے راشدین ؓ اور دوسرے صحابہ ؓ کا تعامل اس پر شاہد ہے، فقہاء نے اسی بناء پر کفار اہل حرب کے ہاتھ اسلحہ فروخت کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے، باقی تجارت وغیرہ کی اجازت دی ہے، اور ان کو اپنا ملازم رکھنا یا خود ان کے کارخانوں اور اداروں میں ملازم ہونا یہ سب جائز ہے۔ اس تفصیل سے آپ کو یہ معلوم ہوگیا کہ قلبی اور دلی دوستی و محبت تو کسی کافر کے ساتھ کسی حال میں جائز نہیں، اور احسان و ہمدردی و نفع رسانی بجز اہل حرب کے اور سب کے ساتھ جائز ہے، اسی طرح ظاہری خوش خلقی اور دوستانہ برتاؤ بھی سب کے ساتھ جائز ہے، جبکہ اس کا مقصد مہمان کی خاطر داری یا غیر مسلموں کو اسلامی معلومات اور دینی نفع پہنچانا یا اپنے آپ کو ان کے کسی نقصان و ضرر سے بچانا ہو۔ رسول کریم ﷺ جو رحمۃ للعالمین ہو کر اس دنیا میں تشریف لائے، آپ ﷺ نے غیر مسلموں کے ساتھ جو احسان و ہمدردی اور خوش خلقی کے معاملات کئے، اس کی نظیر دنیا میں ملنا مشکل ہے، مکہ میں قحط پڑا تو جن دشمنوں نے آپ ﷺ کو اپنے وطن سے نکالا تھا، ان کی خود امداد فرمائی، پھر مکہ مکرمہ فتح ہو کر یہ سب دشمن آپ ﷺ کے قابو میں آگئے تو سب کو یہ فرماکر آزاد کردیا کہ (لاتثریب علیکم الیوم) یعنی آج تمہیں صرف معافی نہیں دی جاتی بلکہ تمہارے پچھلے مظالم اور تکالیف پر ہم کوئی ملامت بھی نہیں کرتے، غیر مسلم جنگی قیدی ہاتھ آئے تو ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جو اپنی اولاد کے ساتھ بھی ہر شخص نہیں کرتا، کفار نے آپ ﷺ کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچائیں، کبھی آپ ﷺ کا ہاتھ انتقام کے لئے نہیں اٹھا، زبان مبارک سے بد دعا بھی نہیں فرمائی، بنوثقیف جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے ان کا ایک وفد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو ان کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا گیا، جو مسلمانوں کے لئے سب سے زیادہ عزت کا مقام تھا۔ فاروق اعظم ؓ نے غیر مسلم محتاج ذمیوں کو مسلمانوں کی طرح بیت المال سے وظیفے دیئے۔ خلفائے راشدین اور صحابہ کرام ؓ اجمعین کے معاملات اس قسم کے واقعات سے بھرے ہوئے ہیں، یہ مواسات یا مدارات یا معاملات کی صورتیں تھیں، جس موالات سے منع کیا گیا وہ نہ تھی۔ اس تفصیل اور تشریح سے ایک طرف تو یہ معلوم ہوگیا کہ غیر مسلموں کے لئے اسلام میں کتنی رواداری اور حسن سلوک کی تعلیم ہے دوسری طرف جو ظاہری تعارض ترکب موالات کی آیات سے محسوس ہوتا تھا وہ بھی رفع ہوگیا۔ اب ایک بات یہ باقی رہ گئی کہ قرآن نے کفار کی موالات اور قلبی دوستی و محبت کو اتنی شدت کے ساتھ کیوں روکا کہ وہ کسی حال میں کسی کافر کے ساتھ جائز نہیں رکھی، اس میں کیا حکمت ہے ؟ اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ اسلام کی نظر میں اس دنیا کے اندر انسان کا وجود عام جانوروں یا جنگل کے درختوں اور گھاس پھوس کی طرح نہیں کہ پیدا ہوئے، پھولے پھلے پھر مر کر ختم ہوگئے، بلکہ انسان کی زندگی اس جہان میں ایک مقصدی زندگی ہے، اس کی زندگی کے تمام ادوار، اس کا کھانا پینا، اٹھنا، بیٹھنا، سونا جاگنا، یہاں تک کہ جینا اور مرنا سب ایک مقصد کے گرد گھومتے ہیں، جب تک وہ اس مقصد کے مطابق ہیں تو یہ سارے کام صحیح و درست ہیں، اس کے مخالف ہیں تو یہ سب غلط ہیں، دانائے روم نے خوب فرمایا زندگی از بہر ذکر و بندگی ست بے عبادت زندگی شرمندگی ست جو انسان اس مقصد سے ہٹ جائے وہ دانائے روم و اہل حقیقت کے نزدیک انسان نہیں۔ آنچہ می بینی خلاف آدم اند نینند آدم غلاف آدم اند قرآن حکیم نے اسی مقصد کا اقرار انسان سے ان الفاظ میں لیا ہے۔ (قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین۔ 6: 162) " آپ کہیے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے "۔ اور جب انسان کی زندگی کا مقصد اللہ رب العالمین کی اطاعت و عبادت ٹھہرا تو دنیا کے کاروبار ریاست و سیاست اور عائلی تعلقات سب اس کے تابع ٹھہرے، تو جو انسان اس مقصد کے مخالف ہیں وہ انسان کے سب سے زیادہ دشمن ہیں، اور اس دشمنی میں چونکہ شیطان سب سے آگے ہے اس لئے قرآن حکیم نے فرمایا (ان الشیطان لکم عدوا فاتخذوہ عددوا۔ 35: 6) " یعنی شیطان تمہارا دشمن ہے اس کی دشمن کو ہمیشہ یاد رکھو "۔ اسی طرح جو لوگ شیطان وساوس کے پیرو اور انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ آئے ہوئے احکام خداوندی کے مخالف ہیں ان کے ساتھ دلی ہمدردی اور قلبی دوستی اس شخص کی ہو ہی نہیں سکتی جس کی زندگی ایک مقصدی زندگی ہے، اور دوستی و دشمنی اور موافقت و مخالفت سب اس مقصد کے تابع ہیں۔ اسی مضمون کو صحیحین کی ایک حدیث میں اس طرح ارشاد فرمایا گیا ہے(من احب للہ وابغض للہ فقد استکمل ایمانہ (بخاری، مسلم) " یعنی جس شخص نے اپنی دوستی اور دشمنی کو صرف اللہ کے لئے وقف کردیا اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا "۔ معلوم ہوا کہ ایمان کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جبکہ انسان اپنی محبت و دوستی اور دشمنی و نفرت کو اللہ تعالیٰ کے تابع بناوے، اس لئے مومن کی قلبی موالات اور مودت صرف اسی کے لئے ہوسکتی ہے جو اس مقصد کا ساتھی اور اللہ جل شانہ کا تابع فرمان ہے، اس لئے قرآن کریم کی مذکورہ آیتوں میں کافروں کے ساتھ دلی اور قلبی موالات اور دوستی کرنے والوں کے بارے میں کہا گیا کہ وہ انہی میں سے ہیں۔ آخر آیت میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تم کو اپنی ذات عظیم سے ڈراتا ہے، ایسا نہ ہو کہ چند روزہ اغراض و مقاصد کی خاطر موالات کفار میں مبتلا ہو کر اللہ جل شانہ کو ناراض کر بیٹھو، اور چونکہ موالات کا تعلق دل سے ہے، اور دل کا حال اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لئے یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص واقع میں تو کفار کی موالات و محبت میں مبتلا ہو مگر زبانی انکار کرے، اس لئے دوسری آیت میں فرمایا کہ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف و خبردار ہیں، یہ انکار و حیلہ ان کے سامنے نہیں چل سکتا کار ہا با خلق آری جملہ راست با خدا تزویر و حیلہ کے رواست
Ayahs 3:31–32

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

تو کہہ اگر تم محبت رکھتے ہو اللہ کی تو میری راہ چلو تاکہ محبت کرے تم سے اللہ اور بخشے گناہ تمہارے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

تو کہہ حکم مانو اللہ کا اور رسول کا پھر اگر اعراض کریں تو اللہ کو محبت ہے نہیں کافروں سے۔

خلاصہ تفسیر ربط آیات پچھلی آیات میں توحید کا وجود اور کفر کی مذمت مذکور تھی، آگے اعتقاد رسالت اور اتباع رسول کا وجوب بیان فرماتے ہیں، تاکہ معلوم ہوجائے کہ جس طرح انکار توحید کفر ہے اسی طرح انکار رسالت بھی کفر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے آپ (لوگوں سے) فرما دیجیے کہ اگر تم (بزعم خود) خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو (اور محبت رکھنے کی وجہ سے یہ بھی چاہتے ہو کہ خدا تعالیٰ بھی تم سے محبت کرے) تو تم لوگ (اس مقصد کے حاصل کرنے کے طریقوں میں) میرا اتباع کرو (کیونکہ میں خاص اسی تعلیم کے لئے مبعوث ہوا ہوں جب ایسا کرو گے) خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے اور تمہارے سب گناہوں کو معاف کردیں گے (کیونکہ میں اس معافی کا طریقہ بھی تعلیم کرتا ہوں، اس پر عمل کرنے سے لا محالہ حسب وعدہ گناہ معاف ہوجائیں گے، مثلا گناہوں سے توبہ اللہ تعالیٰ کے حقوق جو فوت کئے ہیں ان کو پورا کرنا، حقوق العباد کا ادا کرلینا یا معاف کرالینا) اور اللہ تعالیٰ بڑے معاف کرنے والے اور بڑی عنایت فرمانے والے ہیں، (اور) آپ یہ (بھی) فرمادیجیے کہ تم اطاعت کیا کرو اللہ تعالیٰ کی (کہ اصل مقصود تو وہی ہے (اور (اطاعت کیا کرو) رسول کی (یعنی میری اطاعت اس حیثیت سے کرنا ضروری ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں، میری معرفت اپنی اطاعت کے طریقے بتلائے ہیں) پھر (اس پر بھی) اگر وہ لوگ (آپ کی اطاعت سے کہ ادنیٰ اس کا اعتقاد رسالت ہے) اعراض کریں سو (وہ لوگ سن رکھیں کہ) اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتے (اور اس صورت میں یہ لوگ کافر ہوں گے سو ان کو اللہ سے دعوائے محبت کرنا یا ہوس محبوبیت رکھنا محض بےحقیقت ہے) معارف و مسائل محبت ایک مخفی چیز ہے، کسی کو کسی سے محبت ہے یا نہیں، اور کم ہے یا زیادہ ہے، اس کا کوئی پیمانہ بجز اس کے نہیں کہ حالات اور معاملات سے اندازہ کیا جائے، محبت کے کچھ آثار اور علامات ہوتی ہیں ان سے پہچانا جائے، یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے محبت کے دعویدار اور محبوبیت کے متمنی تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان آیات میں اپنی محبت کا معیار بتلایا ہے، یعنی اگر دنیا میں آج کسی شخص کو اپنے مالک حقیقی کی محبت کا دعویٰ ہو تو اس کے لئے لازم ہے کہ اس کو اتباع محمدی ﷺ کی کسوٹی پر آزما کر دیکھ لے، سب کھرا کھوٹا معلوم ہوجائے گا، جو شخص اپنے دعوی میں جتنا سچا ہوگا اتنا ہی حضور اکرم ﷺ کی اتباع کا زیادہ اہتمام کرے گا، اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی روشنی کو مشعل راہ بنائے گا، اور جتنا اپنے دعوے میں کمزور ہوگا اسی قدر آپ ﷺ کی اطاعت میں سستی اور کمزوری دیکھی جائے گی۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاجس نے محمد ﷺ کا اتباع کیا اس نے درحقیقت اللہ کا اتباع کیا، اور جس نے محمد ﷺ کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی "۔ (تفسیر مظہری، جلد 2)
Ayahs 3:33–34

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

بیشک اللہ نے پسند کیا آدم کو اور نوح کو اور ابراہیم کے گھر کو اور عمران کے گھر کو سارے جہان سے

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

جو اولاد تھے ایک دوسرے کی اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

انبیاء سابقین کا تذکرہ برائے تسلی آنحضرت ﷺ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے اس لئے گریز کرتے تھے کہ ان کو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت ہی میں شبہ تھا، ان کی ہدایت کے لئے ان آیات میں کچھ نظائر انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے بیان فرماتے ہیں، جن سے یہ شبہات رفع ہوجائیں، ان انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے تذکرہ میں حضرت آدم، نوح، آل ابراہیم، آل عمران (علیہم السلام) کا ذکر تو اجمال و اختصار کے ساتھ کردیا گیا ہے، اس کے بعد دراصل ذکر حضرت عیسیٰ ؑ کا کرنا ہے، اس سے پہلے ان کی نانی اور والدہ کا بھی تفصیلی تذکرہ اور حضرت عیسیٰ ؑ کا نہایت مفصل ذکر کیا گیا ہے جس کی حکمت و مصلحت کا بیان مسئلہ حیات عیسیٰ ؑ کے تحت آئے گا، خلاصہ یہ ہے کہ امت محمدیہ کو آخر زمانہ میں حضرت مسیح ؑ کے ساتھ کام کرنا ہے اس لئے ان کی پہچان اور علامات کے بیان کرنے کا اہتمام قرآن میں سب انبیاء سے زیادہ کیا گیا ہے۔ خلاصہ تفسیر بیشک اللہ تعالیٰ نے (نبوت کے لئے) منتخب فرمایا ہے (حضرت) آدم ؑ اور (حضرت) نوح ؑ کو اور (حضرت) ابراہیم ؑ کی اولاد (میں سے بعضوں) کو (جیسے حضرت اسماعیل ؑ ، حضرت اسحاق ؑ ، حضرت یعقوب ؑ ، اور تمام انبیاء بنی اسرائیل کہ اولاد یعقوب ؑ کی ہیں، اور ہمارے رسول ﷺ کی اولاد اسماعیل ؑ سے ہیں) اور عمران کی اولاد (میں سے بعضوں) کو (اگر یہ عمران حضرت موسیٰ ؑ کے والد ہیں تو اولاد سے مراد حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون ؑ ہیں، اور اگر یہ عمران حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد ہیں تو اولاد سے مراد حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں، غرض ان حضرات کو نبوت کے لئے) تمام جہان (کی مخلوقات) پر (منتخب فرمایا ہے) بعضے ان میں بعضوں کی اولاد ہیں (جیسے حضرت آدم ؑ کی اولاد سب ہیں، اسی طرح نوح ؑ کی اولاد سب ہیں اور حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں اولاد عمران بھی ہے) اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والے ہیں خوب جاننے ولے ہیں (کہ سب کے قول سنتے ہیں سب کے احوال کو جانتے ہیں بس جس کے اقوال و احوال مناسب شان نبوت کے دیکھے ان کو نبی بنادیا)۔
Ayahs 3:35–36

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

جب کہا عمران کی عورت نے کہ اے رب میں نے نذر کیا تیرے جو کچھ میرے پیٹ میں ہے سب سے آزاد رکھ کر سو تو مجھ سے قبول کر بیشک تو ہی ہے اصل سننے والا جاننے والا

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

پھر جب اس کو جنا بولی اے رب میں نے تو اس کو لڑکی جنی اور اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ اس نے جنا اور بیٹا نہ ہو جیسی وہ بیٹی اور میں نے اس کا نام رکھا مریم اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اس کو اس کی اولاد کو شیطان مردود سے۔

خلاصہ تفسیر (وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جبکہ عمران (پدر مریم) کی بی بی نے (حالت حمل میں حق تعالیٰ سے) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میں نے نذر (یعنی منت) مانی ہے آپ (کی عبادت) کے لئے اس بچے کی جو میرے شکم میں ہے کہ وہ (خانہ خدا کی خدمت کے واسطے) آزاد (فارغ) رکھا جائے گا (اور میں اس کو اپنے کام میں نہ لگاؤں گی) سو آپ (اس کو) مجھ سے قبول کر لیجیے، بیشک آپ خوب سننے والے خوب جاننے والے ہیں (کہ میری عرض کو سن رہے ہیں اور میری نیت کو جان رہے ہیں) پھر جب (ان بی بی نے) لڑکی جنی (تو ان کو رنج ہوا کہ یہ تو خدمت بیت المقدس کے لائق نہیں، یہ کام تو مردوں کا ہے، اس لئے حسرت سے) کہنے لگیں کہ اے میرے پروردگار ! میں نے تو حمل لڑکی جنی (حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے خیال سے حسرت کر رہی تھیں) حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ جانتے ہیں (اس لڑکی کی شان) کو جو انہوں نے جنی اور (کسی طرح بھی) وہ لڑکا (جو انہوں نے چاہا تھا) اس لڑکی کے برابر نہیں (ہوسکتا تھا، بلکہ یہ لڑکی ہی افضل ہے کہ اس کے کمالات و برکات عجیب و غریب ہوں گے، یہ ارشاد خداوندی بطور جملہ معترضہ کے تھا، پھر بی بی کا قول ہے) اور میں نے اس لڑکی کا نام مریم رکھا اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو (اگر کبھی اولاد ہو) آپ کی پناہ (اور حفاظت) میں دیتی ہوں شیطان مردود سے۔ معارف و مسائل انبیاء سابقین (علیہم السلام) کی شریعت میں ایک طریقہ عبادت کا یہ بھی تھا کہ اپنی اولاد میں سے کسی بچے کو اللہ کے لئے مخصوص کردیں کہ اس سے دنیا کی کوئی خدمت نہ لیں، حضرت مریم (علیہا السلام) کی والدہ نے اسی قاعدہ کے مطابق اپنے حمل کے متعلق یہ منت مان لی کہ اس کو خاص بیت المقدس کی خدمت کے لئے رکھوں گی، دنیا کے کام میں نہ لگاؤں گی، مگر جب حمل سے لڑکی پیدا ہوئی تو یہ خیال کر کے افسوس کیا کہ لڑکی تو یہ کام نہیں کرسکتی، مگر حق تعالیٰ نے ان کے اخلاص کی برکت سے اس لڑکی ہی کو قبول فرمالیا، اور اس کی شان ساری دنیا کی لڑکیوں سے ممتاز کردی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ماں کو اپنے بچے کی تعلیم و تربیت کے لئے ایک گونہ ولایت حاصل ہے، کیونکہ اگر ماں کو بچے پر ولایت حاصل نہ ہوتی تو حضرت مریم (علیہا السلام) کی والدہ نذر نہ مانتیں، اسی طرح یہ بھی ثابت ہوا کہ ماں کو بھی حق ہے کہ اپنے بچے کا نام خود تجویز کرلے۔ (جصاص)
Ayah 3:37

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

پھر قبول کیا اس کو اس کے رب نے اچھی طرح کا قبول اور بڑھایا اس کو اچھی طرح بڑھانا اور سپرد کی زکریا کو جس وقت آتے اس کے پاس زکریا حجرے میں پاتے اس کے پاس کچھ کھانا کہا اے مریم کہاں سے آیا تیرے پاس یہ کہنے لگی یہ اللہ کے پاس سے آتا ہے اللہ رزق دیتا ہے جس کو چاہے بےقیاس۔

خلاصہ تفسیر حاصل یہ کہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی والدہ ان کو لے کر مسجد بیت المقدس میں پہنچیں اور وہاں کے مجاورین و عابدین سے جن میں حضرت زکریا ؑ بھی تھے، جاکر کہا کہ اس لڑکی کو میں نے خاص خدا کے لئے مانا ہے، اس لئے میں اپنے پاس نہیں رکھ سکتی، سو اس کو لائی ہوں، آپ لوگ رکھئے۔ حضرت عمران ؑ اس مسجد کے امام تھے، اور حالت حمل میں ان کی وفات ہوچکی تھی، ورنہ سب سے زیادہ مستحق ان کے لینے وہ تھے، لڑکی کے باپ بھی تھے اور مسجد بیت المقدس کے امام بھی، اس لئے بیت المقدس کے مجاورین و عابدین میں سے ہر شخص ان کو لینے اور پالنے کی خواہش رکھتا تھا، حضرت زکریا ؑ نے اپنی ترجیح کی یہ وجہ بیان فرمائی کہ میرے گھر میں ان کی خالہ ہیں اور وہ بمنزلہ ماں کے ہوتی ہے، اس لئے بعد ماں کے وہی رکھنے کی مستحق ہے، مگر اور لوگ اس ترجیح پر راضی اور متفق نہیں ہوئے۔ آخر قرعہ اندازی پر اتفاق قرار پایا، اور صورت قرعہ کی بھی عجیب و غریب خلاف عادت ٹھہری، جس کا بیان آگے آئے گا، اس میں بھی حضرت زکریا ؑ کامیاب ہوئے۔ چناچہ حضرت مریم (علیہا السلام) ان کو مل گئیں اور انہوں نے بعض روایات کے مطابق ایک انا کو نوکر رکھ کر دودھ پلوایا، اور بعض روایات میں ہے کہ دودھ پینے کی ان کو حاجت ہی نہیں ہوئی، غرض وہ خود اٹھنے بیٹھنے لگیں، ان کو مسجد کے متعلق ایک عمدہ مکان میں لاکر رکھا، جب کہیں جاتے اس کو قفل لگا کر جاتے، پھر آکر کھول لیتے، اسی قصہ کا ذکر مختصر آگے آتا ہے، یعنی پس ان (مریم علیہا السلام) کو ان کے رب نے بطریق احسن قبول فرمالیا اور عمدہ طور پر ان کو نشوونما دیا، اور (حضرت) زکریا ؑ کو ان کا سرپرست بنایا جب کبھی (حضرت) زکریا ؑ ان کے پاس (اسی) عمدہ مکان میں (جس میں ان کو رکھا تھا) تشریف لاتے تو ان کے پاس کچھ کھانے پینے کی چیزیں پاتے (اور) یوں فرماتے کہ اے مریم یہ چیزیں تمہارے واسطے کہاں سے آئیں (جبکہ مکان مقفل ہے باہر سے کسی کے آنے جانے کا امکان نہیں) وہ کہتیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس (جو خزانہ غیب ہے اس میں) سے آتیں، بیشک اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں بےاستحقاق رزق عطا فرماتے ہیں، (جیسا اس موقع پر محض فضل سے بےمشقت عطا فرمایا)۔
Ayah 3:38

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے کہا اے رب میرے عطا کر مجھ کو اپنے پاس سے اولاد پاکیزہ بیشک تو سننے والا ہے دعا کا۔

خلاصہ تفسیر (حضرت زکریا ؑ نے حضرت مریم (علیہا السلام) کی تربیت میں غیر معمولی نشانات قدرت دیکھ کر اپنے لئے بھی دعا فرمائی، جن کا بیان یہ ہے) اس موقع پر دعا کی (حضرت) زکریا ؑ نے اپنے رب سے عرض کیا کہ اے میرے رب عنایت کیجیے مجھ کو خاص اپنے سے کوئی اچھی اولاد بیشک آپ بہت سننے والے ہیں دعا کے۔ معارف و مسائل (ھنالک دعا زکریا) حضرت زکریا ؑ کے اس وقت تک اولاد نہ تھی، اور زمانہ بڑھاپے کا آگیا تھا، جس میں عادۃ اولاد نہیں ہوسکتی، اگرچہ خرق عادت کے طور پر قدرت خداوندی کا ان کو پورا اعتقاد تھا کہ وہ ذات اس بڑھاپے کے موقع میں بھی اولاد دے سکتی ہے، لیکن چونکہ اللہ کی ایسی عادت آپ نے مشاہدہ نہیں کی تھی کہ وہ بےموقع اور بےموسم چیزیں عطا کرتا ہے اس لئے آپ کو اولاد کے لئے دعا کرنے کی جرأت نہ ہوتی تھی، لیکن اس وقت جب آپ نے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہا السلام) کو بےموسم میوے عطا فرمائے ہیں تو اب آپ کو بھی سوال کرنے کی جرأت ہوئی، کہ جو قادر مطلق بےموقع پھل عطا کرسکتا ہے وہ بےموقع اولاد بھی عطا کرے گا۔ (قال رب ھب لی من لدنک ذریۃ طیبۃ) اس آیت سے معلوم ہوا کہ اولاد کے لئے دعا کرنا انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین کی سنت ہے۔ ایک دوسری آیت میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے (ولقد ارسلنا رسلا من قبلک وجعلنا لھم ازواجا و ذریۃ۔ 13۔ 38) " یعنی جس طرح حضور اکرم ﷺ کو بیویاں اور اولاد عطا کی گئیں اسی طرح یہ نعمت انبیاء سابقین (علیہم السلام) کو بھی دی گئی تھی "۔ اب اگر کوئی شخص کسی ذریعہ سے اولاد کو پیدا ہونے سے روکنے کی کوشش کرے تو وہ نہ صرف فطرت کے خلاف علم بغاوت بلند کرے گا بلکہ انبیاء (علیہم السلام) کی ایک مشترک اور متفق علیہ سنت سے بھی محروم ہوگا۔ حضور اکرم ﷺ نے نکاح اور اولاد کے مسئلہ کو اتنی اہمیت دی ہے کہ آپ ﷺ نے اس شخص کو اپنی جماعت میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جو بیاہ شادی اور اولاد سے باجود قدرت کے اعراض کرتا ہو۔ چناچہ آپ ﷺ فرماتے ہیں(1: النکاح من سنتی۔ " نکاح میری سنت ہے "۔ 2 فمن رغب عن سنتی فلیس منی۔ " جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں ہوگا "۔ 3 تزوجوا الودود الولود فانی مکاثر بکم الامم۔ " تم خاوند سے دوستی رکھنے والی اور بہت جننے والی سے نکاح کرو کیونکہ تمہاری کثرت کی وجہ سے میں دوسری امتوں پر فخر کروں گا "۔) ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تعریف کی ہے جو اولاد اور بیوی کے حصول اور ان کے نیک صالح ہونے کے لئے اپنے اللہ سے دعائیں کرتے ہیں۔ چناچہ اور شاد باری ہے(والذین یقولون ربنا ھب لنا من ازواجنا و ذریتنا قرۃ اعین۔ 25: 74) " یعنی اللہ کے فرمانبردار لوگ ایسے ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں کہ ہمیں بیوی بچے ایسے عنایت فرما جنہیں دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی اور قلب مسرور ہو "۔ حضرت حسن بصری ؒ نے فرمایا کہ یہاں آنکھوں کی ٹھنڈک سے مراد یہ ہے کہ اپنے بیوی بچوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول دیکھے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے ام سلیم ؓ نے درخواست کی کہ آپ ﷺ اپنے خادم " انس " کے لئے کوئی دعا فرمائیں تو آپ ﷺ نے ان کے لئے یہ دعا کی(اللھم اکثر مالہ و ولدہ وبارک لہ فیما اعطیتہ۔ " یعنی اے اللہ اس (انس) کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اس چیز میں برکت عطا کر جو کہ آپ نے اس کو عطا کی ہے "۔ اسی دعا کا اثر تھا کہ حضرت انس ؓ کی اولاد سو (100) کے قریب ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے مالی وسعت بھی عطا فرمائی۔
Ayah 3:39

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

پھر اس کو آواز دی فرشتوں نے جب وہ کھڑے تھے نماز میں حجرے کے اندر کہ اللہ تجھ کو خوش خبری دیتا ہے یحییٰ کی جو گواہی دے گا اللہ کے حکم کی اور سردار ہوگا اور عورت کے پاس نہ جاوے گا اور نبی ہوگا صالحین سے۔

پس پکار کر کہا اس سے فرشتوں نے جب کہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے محراب میں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بشارت دیتے ہیں یحییٰ (نام بیٹا عطا ہونے) کی جن کے احوال یہ ہوں گے کہ وہ کلمۃ (یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے اور (دوسرے) مقتدائے (دین ہوں گے اور (تیسرے) اپنے نفس کو (لذات سے) بہت روکنے والے ہوں گے اور (چوتھے) نبی بھی ہوں گے اور (پانچویں اعلی درجہ کے شائستہ ہوں گے۔ معارف و مسائل (کلمۃ اللہ) حضرت یحییٰ ؑ کو کلمۃ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ محض اللہ تعالیٰ کے حکم سے خلاف عادت بلا واسطہ باپ کے پیدا کئے گئے۔ (حصورا) حضرت یحییٰ ؑ کی یہ تیسری صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنے نفس کو لذات سے بہت روکنے والے تھے، اور لذات سے روکنے میں مباح خواہشوں سے بچنا بھی داخل ہے، مثلا اچھا کھانا، اچھا پہننا اور نکاح وغیرہ کرنا، اس صفت کو موقع مدح میں فرمانے سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ افضل طریقہ یہی ہے، حالانکہ احادیث سے نکاح فضیلت ثابت ہے، تحقیق اس کی یہ ہے کہ جس شخص کی حالت حضرت یحییٰ ؑ کی سی ہو کہ اس پر آخرت کا خیال اس قدر غالب ہو کہ اس کے غلبہ کی وجہ سے نہ بیوی کی ضرورت محسوس کرے اور نہ بیوی بچوں کے حقوق ادا کرنے کی فرصت ہو، ایسے شخص کے لئے یہی افضل ہے، اسی وجہ سے جن احادیث میں نکاح کی فضیلت آئی ہے ان میں یہ بھی قید مذکور ہے، (من استطاع منکم الباءۃ) یعنی جو آدمی نکاح کرنے کی قدرت رکھتا ہو، اور زوجیت کے حقوق ادا کرسکتا ہو تو اس کے لئے نکاح کرنا افضل ہے ورنہ نہیں۔ (بیان القرآن)