3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 3:65–68

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:65 in the Quran reader

اے اہل کتاب کیوں جھگڑتے ہو ابراہیم کی بابت اور توریت اور انجیل تو اتریں اس کے بعد کیا تم کو عقل نہیں سنتے ہو

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:66 in the Quran reader

تم لوگ جھگڑ چکے جس بات میں تم کو کچھ خبر تھی، اب کیوں جھگڑتے ہو جس بات میں تم کو کچھ خبر نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:67 in the Quran reader

نہ تھا ابراہیم یہودی اور نہ تھا نصرانی لیکن تھا حنیف یعنی سب جھوٹے مذہبوں سے بیزار اور حکمبردار اور نہ تھا مشرک،

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:68 in the Quran reader

لوگوں میں زیادہ مناسب ابراہیم سے ان کو تھی جو ساتھ اس کے تھے اور اس نبی کو اور جو ایمان لائے اس نبی پر اور اللہ والی ہے مسلمانوں کا۔

خلاصہ تفسیر اے اہل کتاب کیوں حجت کرتے ہو (حضرت) ابراہیم ؑ کے بارے میں (کہ وہ طریق یہودیت پر تھے یا نصرانیت پر تھے) حالانکہ نہیں نازل کی گئی توراۃ اور انجیل، مگر ان کے (زمانہ کے بہت) بعد (اور یہ دونوں طریق ان دونوں کتابوں کے نزول کے بعد سے ظاہر ہوئے پہلے سے ان کا وجود ہی نہ تھا، پھر حضرت ابراہیم ؑ ان طریقوں پر کس طرح ہوسکتے ہیں) کیا (ایسی خلاف عقل بات منہ سے نکالتے ہو اور) پھر سمجھتے نہیں ہو، ہاں تم ایسے ہو کہ ایسی بات میں حجت کر ہی چکے تھے جس سے تم کو کسی قدر تو واقفیت تھی (گو اس میں ایک غلط مقدمہ لگا کر نتیجہ غلط نکالتے تھے مراد اس سے خوارق ہیں عیسیٰ ؑ کے کہ یہ مطابق واقع کے ہے۔ البتہ اس میں یہ مقدمہ غلط ملا لیا گیا کہ ایسے خوارق والا الہ یا ابن الہ ہوگا لیکن ایک مقدمہ منشاء اشتباہ تو تھا، اس لئے اس کو ناکافی واقفیت کہیں گے۔ جب اس میں تمہاری غلطی ظاہر ہوگئی) سو ایسی بات میں (پھر) کیوں حجت کرتے ہو جس سے تم کو اصلا واقفیت نہیں (کیونکہ اس دعوے کے لئے تو کوئی سبب اشتباہ کا بھی تمہارے پاس نہیں، کیونکہ ان کے اور ابراہیم ؑ کے فروع شریعت میں موافقت بھی نہ تھی) اور اللہ تعالیٰ (ابراہیم ؑ کے طریق کو خوب) جانتے ہیں تم نہیں جانتے (جب تم ایسے بےسروپا دعوے کرتے ہو جس سے علم بھی مثل عدم علم کے سمجھا جاتا ہے، تو اب اللہ تعالیٰ سے ان کے طریق کو سنو کہ) ابراہیم ؑ نہ تو یہودی تھے اور نہ نصرانی تھے، لیکن (البتہ) طریق مستقیم والے (یعنی) صاحب اسلام تھے اور مشرکین میں سے (بھی) نہ تھے (سو یہود اور نصاری کو تو مذہبی طریق کے اعتبار سے ان کے ساتھ کوئی مناسبت نہ ہوئی، ہاں) بلاشبہ سب آدمیوں میں زیادہ خصوصیت رکھنے والے (حضرت) ابراہیم ؑ کے ساتھ البتہ وہ لوگ تھے جنہوں نے (ان کے وقت میں) ان کا اتباع کیا تھا اور یہ نبی (محمد ﷺ ہیں، اور یہ ایمان والے (جو نبی ﷺ کی امت ہیں) اور اللہ تعالیٰ حامی ہیں ایمان والوں کے (کہ ان کو ان کے ایمان کا ثواب دیں گے)۔
Ayah 3:69

وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 3:69 in the Quran reader

آرزو ہے بعض اہل کتاب کو کہ کس طرح گمراہ کریں تم کو اور گمراہ نہیں کرتے مگر اپنے آپ کو اور نہیں سمجھتے،

خلاصہ تفسیر دل سے چاہتے ہیں بعضے لوگ اہل کتاب میں سے اس امر کو کہ تم کو (دین حق سے) گمراہ کردیں، گمراہ نہیں کرسکتے مگر خود اپنے آپ کو (وبال اضلال میں گرفتار کر رہے ہیں) اور اس کی اطلاع انہیں رکھتے، اے اہل کتاب کیوں کفر کرتے ہو اللہ تعالیٰ کی (ان) آیتوں کے ساتھ (جو تورات اور انجیل میں نبوت محمدیہ ﷺ پر دلالت کرتی ہیں، کیونکہ حضور ﷺ کی نبوت کا انکار کرنا ان آیات کی تکذیب کرنا ہے جو کفر ہے) حالانکہ تم (اپنی زبان سے) اقرار کرتے ہو (کہ وہ آیات حق ہیں، یہ تو ملامت ہوئی ان کے ضلال پر، آگے ضلال پر ملامت فرماتے ہیں کہ) اے اہل کتاب کیوں مخلوط کرتے ہو واقعی (مضمون یعنی نبوت محمدیہ) کو غیر واقعی (یعنی عبارت تحریف شدہ یا تفسیر فاسد) سے اور (کیوں) چھپاتے ہو واقعی بات کو حالانکہ تم جانتے ہو (کہ حق بات چھپا رہے ہو)۔
Ayahs 3:70–71

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 3:70 in the Quran reader

اے اہل کتاب کیوں انکار کرتے ہو اللہ کے کلام کا اور تم قائل ہو،

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 3:71 in the Quran reader

اے اہل کتاب کیوں ملاتے ہو سچ میں جھوٹ اور چھپاتے ہو سچی بات جان کر۔

معارف و مسائل(انتم تشھدون) اور (انتم تعلمون) کے الفاظ سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اگر وہ اقرار حق نہ کریں یا ان کو علم نہ ہو تو ان کے لئے کفر جائز ہوگا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ کفر اپنی ذات کے اعتبار سے ایک قبیح فعل ہے، یہ ہر حالت میں ناجائز ہے، البتہ علم و اقرار کے بعد کفر اختیار کرنے میں ملامت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
Ayahs 3:72–74

وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ Open ayah 3:72 in the Quran reader

اور کہا بعض اہل کتاب نے مان لو جو کچھ اترا مسلمانوں پر دن چڑھے اور منکر ہوجاؤ آخر دن میں شاید وہ پھر جاویں،

وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ Open ayah 3:73 in the Quran reader

اور نہ مانیو مگر اس کی جو چلے تمہارے دین پر کہہ دے کہ بیشک ہدایت وہی ہے جو اللہ ہدایت کرے اور یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ اور کسی کو بھی کیوں مل گیا جیسا کچھ تم کو ملا تھا وہ غالب کیوں آگئے تم پر تمہارے رب کے آگے تو کہہ بڑائی اللہ کے ہاتھ میں ہے دیتا ہے جس کو چاہے اور اللہ بہت گنجائش والا ہے

یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 3:74 in the Quran reader

خبردار خاص کرتا ہے اپنی مہربانی جس پر چاہے اور اللہ کا فضل بڑا ہے۔

خلاصہ تفسیر اور بعضے لوگوں نے اہل کتاب میں سے (بطور مشورہ باہم) کہا کہ (مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک تدبیر ہے کہ ظاہرا) ایمان لے آؤ اس (کتاب) پر جو نازل کی گئی ہے (بواسطہ رسول اللہ ﷺ کے) مسلمانوں پر (مراد یہ کہ قرآن پر ایمان لے آؤ) شروع دن میں (یعنی صبح کے وقت) اور (پھر) انکار کر بیٹھو آخر دن (یعنی شام کو) عجب کیا (اس تدبیر سے مسلمانوں کو بھی قرآن اور اسلام کے حق میں شبہ پڑجائے اور) وہ (اپنے دین سے) پھر جاویں، (اور یہ خیال کریں کہ یہ لوگ علم والے ہیں اور بےتعصب بھی ہیں کہ اسلام قبول کرلیا، اس پر بھی جو پھرگئے تو ضرور اسلام کا غیر حق ہونا ان کو دلائل علمیہ سے ثابت ہوگیا ہوگا، اور ضرور انہوں نے اسلام میں کوئی خرابی دیکھی ہوگی جب ہی تو اس سے پھرگئے اور اہل کتاب نے یہ بھی باہم کہا کہ مسلمانوں کے دکھلانے کو صرف ظاہری ایمان لانا) اور (صدق دل سے) کسی کے روبرو (دین کا) اقرار مت کرنا، مگر ایسے شخص کے روبرو جو تمہارے دین کا پیرو ہو (اس کے روبرو تم کو اپنے قدیم دین کا اقرار خلوص سے کرنا چاہئے باقی غیر مذاہب والوں کے یعنی مسلمانوں کے روبرو ویسے ہی بہ مصلحت مذکورہ زبانی اسلام کا اقرار کرلینا حق تعالیٰ ان کی تدبیر کے لچر ہونے کا اظہار فرماتے ہیں کہ) اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ (ان چالاکیوں سے کچھ نہیں ہوتا، کیونکہ) یقینا ہدایت (جو بندوں کو ہوتی ہے وہ) ہدایت اللہ کی (طرف سے ہوتی) ہے (پس جب ہدایت قبضہ خداوندی میں ہے تو وہ جس کو ہدایت پر قائم رکھنا چاہیں اس کو کوئی دوسرا کسی تدبیر سے نہیں بچا سکتا ہے، آگے ان کے اس مشورہ و تدبیر کی علت بتلاتے ہیں کہ اے اہل کتاب تم) ایسی باتیں اس لئے کرتے ہو کہ کسی اور کو بھی ایسی چیز مل رہی ہے جیسی تم کو ملی تھی (یعنی کتاب اور دین آسمانی) یا وہ اور لوگ تم پر غالب آجویں (اس دین حق کی تعیین میں جو) تمہارے رب کے نزدیک (ہے، حاصل علت کا یہ ہوا کہ تم کو مسلمانوں پر حسد ہے کہ ان کو آسمانی کتاب کیوں مل گئی، یا یہ لوگ ہم پر مذہبی مناظرہ میں کیوں غالب آجاتے ہیں، اس حسد کی وجہ سے اسلام اور اہل اسلام کے تنزل کی کوشش کر رہے ہیں، آگے اس حسد کا رد ہے کہ) اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ بیشک فضل تو خدا کے قبضہ میں ہے وہ اس سے جسے چاہیں عطا فرمادیں اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں (ان کے یہاں فضل کی کمی نہیں اور) خوب جاننے والے ہیں (کہ کس وقت کس کو دینا مناسب ہے اس لئے) خاص کردیتے ہیں اپنی رحمت (و فضل) کے ساتھ، جس کو چاہیں اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں (پس اس وقت برعایت حکمت مسلمانوں پر فضل و رحمت فرمادیا اس میں حسد کرنا فضول اور جہل ہے)۔
Ayah 3:75

وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:75 in the Quran reader

اور بعضے اہل کتاب میں وہ ہیں کہ اگر تو ان کے پاس امانت رکھے ڈھیر مال کا تو ادا کردیں تجھ کو اور بعضے ان میں وہ ہیں کہ اگر تو ان کے پاس امانت رکھے ایک اشرفی تو ادا نہ کریں تجھ کو مگر جب تک کہ تو رہے اس کے سر پر کھڑا یہ اس واسطے کہ انہوں نے کہہ رکھا ہے کہ نہیں ہے ہم پر ان لوگوں کے حق لینے میں کچھ گناہ اور جھوٹ بولتے ہیں اللہ پر اور وہ جانتے ہیں۔

ربط آیات اوپر کی آیتوں میں اہل کتاب کی خیانت فی الدین کا ذکر تھا، یعنی ان کا کفر کرنا آیات اللہ کے ساتھ اور خلط کرنا حق اور باطل کا، اور حق کے چھپانے کا، اور تدبیر کرنا مومنین کی گمراہی کی، اگلی آیت میں ان کے اموال میں خیانت کرنے کا ذکر ہے، اور ان میں سے چونکہ بعض امانت دار بھی تھے، اس لئے دونوں قسموں کو ذکر فرمایا۔ خلاصہ تفسیر اور اہل کتاب میں سے بعض شخص ایسے ہے کہ (اے مخاطب) اگر تم اس کے پاس انبار کا انبار مال بھی امانت رکھ دو تو وہ (مانگنے کے ساتھ ہی) اس کو تمہارے پاس لا رکھے اور ان ہی میں سے بعض وہ شخص ہے کہ اگر تم اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھ دو تو وہ بھی تم کو ادا نہ کرے (بلکہ امانت رکھانے کا بھی اقرار نہ کرے) مگر جب تک کہ تم (امانت رکھ کر) اس کے سر پر (برابر) کھڑے رہو (اس وقت تک تو انکار نہ کرے اور جہاں الگ ہوئے پھر ادا کرنے کا تو کیا ذکر ہے، سرے سے امانت ہی سے مکر جاوے) یہ (امانت کا ادا نہ کرنا) اس سبب سے ہے کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر غیر اہل کتاب کے (مال کے) بارے میں (اگر چوری چھپے لیا جاوے مذہبا) کسی طرح کا الزام نہیں (یعنی غیر اہل کتاب مثلا قریش کا مال چرا لینا یا چھین لینا سب جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ آگے ان کے اس دعوی کی تکذیب فرماتے ہیں) اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ لگاتے ہیں (کہ اس فعل کو حلال سمجھتے ہیں) اور دل میں وہ بھی جانتے ہیں (اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال نہیں کیا محض تراشیدہ دعوی ہے معارف و مسائل کسی غیر مسلم کے اچھے اوصاف کی مدح کرنا درست ہے (ومن اھل الکتاب من ان تامنہ بقنطار یودہ الیک) اس آیت میں بعض لوگوں کی امانت دار ہونے پر مدح کی گئی ہے اگر اس بعض سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو ایمان لاچکے تھے تو ان کی تعریف کرنے میں کوئی اشکال نہیں، لیکن اگر خاص مومن مراد نہ ہوں بلکہ مطلقا اہل کتاب ہوں جن میں غیر مسلم بھی شامل ہیں تو اس صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کافر کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا تو پھر ان کی مدح سے کیا فائدہ ؟ جواب یہ ہے کہ کسی چیز کا مقبول ہونا اور چیز ہے اور اس کی مدح کرنا اور چیز ہے، مدح کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اللہ کے ہاں مقبول بھی ہے، اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ اچھی بات گو کافر کی ہو وہ بھی کسی درجہ میں اچھی ہی ہے، جس کا فائدہ اس کو دنیا میں " نیک نامی " ہے، اور آخرت میں عذاب کی کمی۔ اس بیان سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام تعصب اور تنگ نظری سے کام نہیں لیتا بلکہ وہ کھلے دل سے اپنے مخالف کے ہنر کی بھی اس کے مرتبہ کے مطابق داد دیتا ہے۔ (الا ما دمت علیہ قائما) اس آیت سے امام ابوحنیفہ ؒ نے استدلال کیا ہے کہ دائن کو یہ حق ہے کہ وہ مدیون سے اپنا حق وصول کرنے تک اس کا پیچھا کرتا رہے۔ (قرطبی، جلد 4)
Ayahs 3:76–77

بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:76 in the Quran reader

کیوں نہیں جو کوئی پورا کرے اپنا اقرار اور وہ پرہیزگار ہے تو اللہ کو محبت ہے پرہیزگاروں سے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:77 in the Quran reader

جو لوگ مول لیتے ہیں اللہ کے اقرار پر اور اپنی قسموں پر تھوڑا سا مول اور کچھ حصہ نہیں آخرت میں اور نہ بات کرے گا ان سے اللہ اور نہ نگاہ کرے گا ان کی طرف قیامت کے دن اور نہ پاک کرے گا ان کو اور ان کے واسطے عذاب ہے دردناک۔

ربط آیات اوپر ویقولون سے اہل کتاب کے دعوی کی تکذیب مذکور تھی، آگے ان آیات سے اسی تکذیب کی تاکید اور ایفاء عہد کی فضیلت اور نقض عہد کی مذمت کی تصریح ہے۔ خلاصہ تفسیر (خائن پر) الزام کیوں نہ ہوگا (ضرور ہوگا، کیونکہ اس کے متعلق ہمارے یہ دو قانون ہیں، (ایک یہ کہ) جو شخص اپنے عہد کو (خواہ وہ عہد اللہ تعالیٰ سے ہوا ہو، یا بشرط جواز کسی مخلوق سے) پورا کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرے تو بیشک اللہ تعالیٰ محبوب رکھتے ہیں (ایسے) متقیوں کو (اور دوسرا قانون یہ ہے کہ) یقینا جو لوگ معاوضہ (یعنی نفع دنیوی) لے لیتے ہیں بمقابلہ اس عہد کے جو (انہوں نے) اللہ تعالیٰ سے کیا ہے (مثلا انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان لانا) اور (بمقابلہ) اپنی قسموں کے (مثلا حقوق العباد و معاملات کے باب میں قسم کھا لینا) ان لوگوں کو کچھ حصہ آخرت میں (وہاں کی نعمت کا) نہ ملے گا اور نہ اللہ تعالیٰ ان سے (لطف کا) کلام فرماویں گے پاک کریں گے، اور ان کے لئے دردناک عذاب (تجویز) ہوگا۔ معارف و مسائل عہد کی تعریف اور اس کے خلاف کرنے والے پر چند وعیدیں عہد اس قول کا نام ہے جو فریقین کے درمیان باہمی بات چیت سے طے ہوتا ہے، جس پر جانبین کو قائم رہنا ضروری ہوتا ہے، بخلاف وعدہ کے کہ وہ صرف جانب واحد سے ہوتا ہے، یعنی عہد عام ہے اور وعدہ خاص ہے۔ ایفائے عہد کی قرآن وسنت میں بہت تاکید آئی ہے، چناچہ اوپر کی آیت نمبر 77 میں بھی عہد کی خلاف ورزی کرنے والے پر پانچ وعیدیں مذکور ہیں۔ (1) ان کے لئے جنت کی نعمتوں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا، ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس آدمی نے جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا حق دبایا تو اس نے اپنے لئے آگ کو واجب کردیا، راوی نے عرض کیا کہ اگر وہ چیز معمولی سی ہو تب بھی اس کے لئے آگ واجب ہوگی ؟ آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا اگرچہ وہ درخت کی سبز ٹہنی ہی کیوں نہ ہو۔ (رواہ مسلم بحوالہ مظہری) (2) اللہ تعالیٰ ان سے خوش کن بات نہیں کریں گے۔ (3) اور اللہ تعالیٰ ان کی طرف قیامت کے دن رحمت کی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔ (4) اور اللہ تعالیٰ ان کے گناہ کو معاف نہیں کریں گے، کیونکہ عہد کے خلاف کرنے کی وجہ سے عہد کا حق تلف ہوا ہے اور حق العبد کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کریں گے۔ (5) اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا۔
Ayah 3:78

وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:78 in the Quran reader

اور ان میں ایک فریق ہے کہ زبان مروڑ کر پڑہتے ہیں کتاب تاکہ تم جانو کہ وہ کتاب میں ہے اور وہ نہیں کتاب میں اور کہتے ہیں وہ اللہ کا کہا ہے، اور وہ نہیں اللہ کا کہا اور اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں جان کر

خلاصہ تفسیر اور بیشک ان میں سے بعضے ایسے ہیں کہ کج کرتے ہیں اپنی زبانوں کو کتاب (پڑھنے) میں (یعنی ان میں کوئی لفظ یا کوئی تفسیر غلط ملا دیتے ہیں اور غلط پڑھنا کج زبان کہلاتا ہے) تاکہ تم لوگ (جو اس کو سنو تو) اس (ملائی ہوئی چیز) کو (بھی) کتاب کا جزو سمجھو، حالانکہ وہ کتاب کا جزو نہیں اور (صرف دھوکہ دینے کے لئے اس عملی طریق پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ زبان سے بھی) کہتے ہیں کہ یہ (لفظ یا مطلب) اللہ تعالیٰ کے پاس سے (جو الفاظ یا قواعد نازل ہوئے ہیں ان سے ثابت) ہے حالانکہ وہ (کسی طرح) اللہ تعالیٰ کے پاس سے نہیں (پس ان کا جھوٹا ہونا لازم آگیا، آگے تاکید کے لئے اس کی پھر تصریح ہے) اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں اور (اپنا جھوٹا ہونا دل میں خود بھی) وہ جانتے ہیں، کسی بشر سے یہ بات نہیں ہوسکتی کہ اللہ تعالیٰ (تو) اس کو کتاب اور (دین کی) فہم اور نبوت عطا فرمادیں (جن میں ہر ایک کا مقتضا ہے کفر و شرک سے ممانعت اور) پھر وہ لوگوں سے (یوں) کہنے لگے کہ میرے بندے (یعنی عبادت کرنے والے) بن جاؤ، اللہ تعالیٰ (کی توحید) کو چھوڑ کر (یعنی نبوت اور امر بالشرک جمع نہیں ہوسکتے) لیکن (وہ نبی یہ تو) کہے گا کہ تم لوگ اللہ والے بن جاؤ (یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو) بوجہ اس کے کہ تم کتاب (الہی اوروں کو بھی) سکھاتے ہو اور بوجہ اس کے کہ (خود بھی اس کو) پڑھتے ہو (اور اس کتاب میں تعلیم ہے توحید کی) اور نہ (وہ بشر موصوف بالنبوۃ) یہ بات بتلائے گا کہ تم فرشتوں کو اور (یادوسرے) نبیوں کو رب قرار دے لو کیا (بھلا) وہ تم کو کفر کی بات بتلادے گا بعد اس کے کہ تم (اس عقیدہ خاص میں خواہ فی الواقع یا بزعم خود) مسلمان ہو۔
Ayahs 3:79–80

مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 3:79 in the Quran reader

کسی بشر کا کام نہیں کہ اللہ اس کو دیوے کتاب اور حکمت اور پیغمبر کرے پھر وہ کہے لوگوں کو کہ تم میرے بندے ہوجاؤ اللہ کو چھوڑ کر لیکن یوں کہے کہ تم اللہ والے ہوجاؤ جیسے کہ تم سکھلاتے تھے کتاب اور جیسے کہ تم آپ بھی پڑہتے تھے اسے

وَ لَا یَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا١ؕ اَیَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 3:80 in the Quran reader

اور نہ یہ کہے تم کو کہ ٹھہرالو فرشتوں کو اور نبیوں کو رب کیا تم کو کفر سکھائے گا بعد اس کے کہ تم مسلمان ہوچکے ہو۔

معارف و مسائل عصمت انبیاء (علیہم السلام) کی ایک دلیل (ما کان لبشر) وفد نجران کی موجودگی میں بعض یہود و نصاری نے کہا تھا کہ اے محمد ﷺ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمہاری اسی طرح پرستش کرنے لگیں جیسے نصاری عیسیٰ بن مریم کو پوجتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا، معاذ اللہکہ ہم غیر اللہ کی بندگی کریں، یا دوسروں کو اس کی دعوت دیں، حق تعالیٰ نے ہم کو اس کام کے لئے نہیں بھیجا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ " یعنی جس بشر کو حق تعالیٰ کتاب و حکمت اور قوت فیصلہ دیتا اور پیغمبری کے منصب جلیل پر فائز کرتا ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک پیغام الہی پہنچا کر لوگوں کو اس کی بندگی اور وفاداری کی طرف متوجہ کرے، اس کا یہ کام کبھی نہیں ہوسکتا کہ ان کو خالص ایک خدا کی بندگی سے ہٹا کر خود اپنا یا کسی دوسری مخلوق کا بندہ بنانے لگے، اس کے تو یہ معنی ہوں گے کہ خداوند قدوس نے جس کو جس منصب کا اہل جان کر بھیجا تھا فی الواقع وہ اس کا اہل نہ تھا۔ دنیا کی کوئی حکومت بھی اگر کسی شخص کو ایک ذمہ داری کے عہدے پر مامور کرتی ہے تو پہلے دو باتیں سوچ لیتی ہے۔ (1) یہ شخص حکومت کی پالیسی کو سمجھنے اور اپنے فرائض انجام دینے کی لیاقت رکھتا ہے یا نہیں ؟ (2) حکومت کے احکام کی تعمیل کرنے اور رعایا کو جادہ وفاداری پر قائم رکھنے کی کہاں تک اس سے توقع کی جاسکتی ہے، کوئی بادشاہ یا پارلیمنٹ ایسے آدمی کو نائب السلطنت یا سفیر مقرر نہیں کرسکتی جس کی نسبت حکومت کے خلاف بغاوت پھیلانے یا اس کی پالیسی اور احکام سے انحراف کرنے کا ادنی شبہ ہو، بیشک یہ ممکن ہے کہ ایک شخص کی قابلیت یا جذبہ وفاداری کا اندازہ حکومت صحیح طور پر نہ کرسکی ہو، لیکن خداوند قدوس کے یہاں یہ بھی احتمال نہیں، اگر کسی مرد کی نسبت اس کو علم ہے کہ یہ میری وفاداری اور اطاعت شعاری سے بال برابر تجاوز نہ کرے گا تو محال ہے کہ وہ آگے چل کر اس کے خلاف ثابت ہوسکے، ورنہ علم الہی کا غلط ہونا لازم آتا ہے، العیاذ باللہ۔ یہی سے عصمت انبیاء (علیہم السلام) کا مسئلہ واضح ہوجاتا ہے۔ پھر جب انبیاء (علیہم السلام) ادنی عصیان سے پاک ہیں تو شرک اور خدا کے مقابلہ میں بغاوت کرنے کا امکان کہاں باقی رہ سکتا ہے۔ اس میں نصاری کے اس دعوی کا بھی رد ہوگیا جو کہتے تھے کہ ابنیت و الوہیت مسیح کا عقیدہ ہم کو خود مسیح ؑ نے تعلیم فرمایا تھا، اور ان مسلمانوں کو بھی نصیحت کردی گئی جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا تھا کہ ہم سلام کے بجائے آپ ﷺ کو سجدہ کیا کریں تو کیا حرج ہے ؟ اور اہل کتاب پر بھی تعریض ہوگئی جنہوں نے اپنے احبارو رہبان کو خدائی کا درجہ دے رکھا تھا، (العیاذ باللہ)۔ (فوائد عثمانی)
Ayahs 3:81–84

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ١ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْ١ؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا١ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:81 in the Quran reader

اور جب لیا اللہ نے عہد نبیوں سے کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتاب اور علم پھر آؤے تمہارے پاس کوئی رسول کہ سچا بتادے تمہارے پاس والی کتاب کو تو اس رسول پر ایمان لاؤگے اور اس کی مدد کرو گے فرمایا کہ کیا تم نے اقرار کیا اور اس شرط پر میرا عہد قبول کیا بولے ہم نے اقرار کیا فرمایا تو اب گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں

فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 3:82 in the Quran reader

پھر جو کوئی پھر جاوے اس کے بعد تو وہی لوگ ہیں نافرمان

اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ Open ayah 3:83 in the Quran reader

اب کوئی اور دین ڈھونڈہتے ہیں سوا دین اللہ کے اور اسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے خوشی سے یا لاچاری سے اور اسی کی طرف سب پھر جاویں گے،

قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١۪ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:84 in the Quran reader

تو کہہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو کچھ اترا ہم پر اور جو کچھ اترا ابراہیم پر اور اسماعیل پر اور اسحاق پر اور یعقوب پر اور اس کی اولاد پر اور جو ملا موسیٰ کو اور عیسیٰ کو اور جو ملا سب نبیوں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ہم جدا نہیں کرتے ان میں کسی کو اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔

اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب کہ اللہ تعالیٰ نے عہد لیا (حضرات) انبیاء (علیہم السلام) سے کہ جو کچھ تم کو کتاب اور علم (شریعت) دوں (اور) پھر تمہارے پاس کوئی (اور) پیغمبر آوے جو مصداق (اور موافق) ہو اس (علامت) کا جو تمہارے پاس (کی کتاب اور شریعت میں) ہے (یعنی دلائل معتبرہ عند الشرع سے اس کی رسالت ثابت ہو) تو تم ضرور اس رسول (کی رسالت) پر (دل سے) اعتقاد بھی لانا اور (ہاتھ پاؤں سے) اس کی مدد بھی کرنا (پھر یہ عہد بیان کر کے ارشاد فرمایا کہ آیا تم نے قرار کیا اور لیا اس (مضمون) پر میرا عہد (اور حکم قبول کیا) وہ بولے کہ ہم نے اقرار کیا، ارشاد فرمایا تو (اپنے اس اقرار پر) گواہ بھی رہنا (کیونکہ گواہی سے پھرنے کو ہر شخص ہر حال میں برا سمجھتا ہے، بخلاف اقرار کرنے والے کے کہ بوجہ صاحب غرض ہونے کے اس کا پھرجانا زیادہ مستبعد نہیں ہوتا، اسی طرح تم صرف اقراری نہیں بلکہ گواہ کی طرح اس پر قائم رہنا) اور میں (بھی) اس (مضمون) پر تمہارے ساتھ گواہوں میں سے (یعنی واقعہ کی اطلاع اور علم رکھنے والا) ہوں، سو جو شخص (امتوں میں سے) روگردانی کرے گا (اس عہد سے) بعد اس کے (کہ انبیاء تک سے عہد لیا گیا اور امتیں تو کس شمار میں ہیں) تو ایسے ہی لوگ (پوری) نافرمانی کرنے والے (یعنی کافر) ہیں، کیا (دین اسلام سے جس کا عہد لیا گیا ہے روگردانی کر کے) پھر (اس) دین خداوندی کے سوا اور کسی طریقہ کو چاہتے ہیں حالانکہ حق تعالیٰ (کی یہ شان ہے کہ ان) کے (حکم کے) سامنے سب سر افگندہ ہیں جتنے آسمانوں میں (ہیں) اور (جتنے) زمین میں ہیں (بعضے) خوشی (اور اختیار سے) اور (بعضے) مجبوری سے اور (اول تو اس عظمت ہی کا مقتضی یہ تھا کہ کوئی ان کے عہد کی مخالفت نہ کرے خاص کر جبکہ آئندہ سزا کا بھی ڈر ہو چنانچہ) سب خدا ہی کی طرف (قیامت کے روز) لوٹائے (بھی) جاویں گے (اور اس وقت مخالفین کو سزا ہوگی) (اے محمد ﷺ آپ (دین اسلام کے اظہار کے لئے خلاصہ کے طور پر یہ) فرمادیجیے کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس (حکم) پر جو ہمارے پاس بھیجا گیا اور اس (حکم) پر جو (حضرت) ابراہیم و اسماعیل و یعقوب (علیہم السلام) اور اولاد یعقوب (میں جو نبی گزرے ہیں ان) کی طرف بھیجا گیا اور اس (حکم و معجزہ) پر بھی جو (حضرت) موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے نبیوں کو دیا گیا ان کے پروردگار کی طرف سے (سو ہم ان سب پر ایمان رکھتے ہیں، اور ایمان بھی) اس کیفیت سے کہ ہم ان (حضرات) میں سے کسی ایک میں بھی (ایمان لانے کے معاملہ میں) تفریق نہیں کرتے (کہ کسی پر ایمان رکھیں اور کسی پر نہ رکھیں) اور ہم تو اللہ ہی کے مطیع ہیں (اس نے ہی دین ہم کو بتلایا ہم نے اختیار کرلیا)۔ معارف و مسائل اللہ تعالیٰ کے تین عہد اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے تین طرح کے عہد لئے ہیں۔ ایک کا ذکر سورة اعراف میں (الست بربکم۔ 7: 172) کے تحت کیا گیا ہے، اس عہد کا مقصد یہ تھا کہ تمام بنی نوع انسان خدا کی ہستی اور ربوبیت عامہ پر اعتقاد رکھے کیونکہ مذہب کی ساری عمارت اسی سنگ بنیاد پر ہے، جب تک یہ اعتقاد نہ ہو، مذہبی میدان میں عقل و فکر کی رہنمائی کچھ نفع نہیں پہنچا سکتی، اس کی مزید تفصیل انشاء اللہ اپنے مقام پر آئے گی۔ دسرے کا ذکر (واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب لتبیننہ للناس ولا تکتمونہ۔ 3: 187) سے کیا گیا، یہ عہد صرف اہل کتاب کے علماء سے لیا گیا تھا کہ وہ حق کو نہ چھپائیں، بلکہ صاف اور واضح طور پر بیان کریں۔ تیسرے عہد کا بیان واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتب و حکمۃ سے کیا گیا ہے اس کی تفصیل آگے آئے گی۔ (تفسیر احمدی) میثاق سے کیا مراد ہے اور یہ کہاں ہوا ؟ میثاق کہاں ہوا ؟ یا تو عالم ارواح میں ہوا یا دنیا میں بذریعہ وحی ہوا، دونوں احتمال ہیں۔ (بیان القرآن) میثاق کیا ہے ؟ اس کی تصریح تو قرآن نے کردی ہے۔ لیکن یہ میثاق کس چیز کے بارے میں لیا گیا ہے اس میں اقوال مختلف ہیں۔ حضرت علی اور حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد نبی ﷺ ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ عہد تمام انبیاء سے صرف محمد ﷺ کے بارے میں لیا تھا کہ اگر وہ خود ان کا زمانہ پائیں تو ان پر ایمان لائیں اور ان کی تائید و نصرت کریں اور اپنی اپنی امتوں کو بھی یہی ہدایت کر جائیں۔ حضرت طاؤس، حسن بصری اور قتادہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ میثاق انبیاء سے اس لئے لیا گیا تھا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کی تائید و نصرت کریں۔ (تفسیر ابن کثیر) اس دوسرے قول کی تائید اللہ تعالیٰ کے قول (واذ اخذنا من النبیین میثاقھم ومنک ومن نوح و ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ ابن مریم واخذنا منھم میثاقا غلیظا۔ 33: 7۔ احزاب) سے بھی کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ یہ عہد ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کے لئے لیا گیا تھا۔ (تفسیر احمدی) درحقیقت مذکورہ دونوں تفسیروں میں کوئی تعارض نہیں ہے، اس لئے دونوں ہی مراد لی جاسکتی ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر) تمام انبیاء سے ایمان کے مطالبے کا فائدہ بظاہر یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو علیم وخبیر ہیں ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ محمد ﷺ کسی نبی کی موجودگی میں تشریف نہیں لائیں گے تو پھر انبیاء کے ایمان لانے کا کیا فائدہ ؟ ذرا غور کیا جائے تو فائدہ بالکل ظاہر معلوم ہوگا کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر محمد ﷺ کی ذات والا صفات پر ایمان قبول کرنے کا پختہ ارادہ کریں گے تو اسی وقت سے ثواب پائیں گے۔ (صاوی بحوالہ جلالین) حضور اکرم ﷺ کی نبوت عامہ (واذ اخذ اللہ میثاق النبیین) ان آیات میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے یہ پختہ عہد لیا کہ جب تم میں سے کسی نبی کے بعد دوسرا نبی آئے جو یقینا پہلے انبیاء اور ان کی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہوگا، تو پہلے نبی کے لئے ضروری ہے کہ پچھلے نبی کی سچائی اور نبوت پر ایمان خود بھی لائے اور دوسروں کو بھی اس کی ہدایت کرے، قرآن کے اس قاعدہ کلیہ سے روز روشن کی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کے بارے میں بھی اسی طرح کا عہد انبیاء سے لیا ہوگا جیسا کہ علامہ سبکی ؒ اپنے رسالہ " التعظیم والمنۃ فی لتومنن بہ ولتنصرنہ " میں فرماتے ہیں کہ " آیت میں رسول سے مراد محمد ﷺ ہیں اور کوئی نبی بھی ایسا نہیں گزرا جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات والا صفات کے بارے میں تائید و نصرت اور آپ ﷺ پر ایمان لانے کا عہد نہ لیا ہو، اور کوئی بھی ایسا نبی نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو آپ ﷺ پر ایمان لانے اور تائید و نصرت کی وصیت نہ کی ہو، اور اگر حضور اکرم ﷺ کی بعثت انبیاء کے زمانے میں ہوتی تو ان سب کے نبی آپ ﷺ ہی ہوتے اور وہ تمام انبیاء آپ ﷺ کی امت میں شمار ہوتے، اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کی شان محض نبی الامت ہی کی نہیں ہے بلکہ نبی الانبیاء کی بھی ہے۔ چناچہ ایک حدیث میں آپ ﷺ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر آج موسیٰ ؑ بھی زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ تھا۔ اور ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ جب عیسیٰ ؑ نازل ہوں گے تو وہ بھی قرآن حکیم اور تمہارے نبی ہی کے احکام پر عمل کریں گے۔ (تفسیر ابن کثیر) اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کی نبوت " عامہ اور شاملہ " ہے، اور آپ ﷺ کی شریعت میں سابقہ تمام شریعتیں مدغم ہیں، اس بیان سے آپ ﷺ کے اشاد " بعثت الی الناس کافۃ " کا صحیح مفہوم بھی نکھر کر سامنے آجاتا ہے کہ اس حدیث کا مطلب یہ سمجھنا کہ آپ ﷺ کی نبوت آپ ﷺ کے زمانے سے قیامت تک کے لئے ہے صحیح نہیں، بلکہ آپ ﷺ کی نبوت کا زمانہ اتنا وسیع ہے کہ آدم ؑ کی نبوت سے پہلے شروع ہوتا ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ " کنت نبیا و ادم بین الروح والجسد " محشر میں شفاعت کبری کے لئے پیش قدمی کرنا اور تمام بنی آدم کا آپ ﷺ کے جھنڈے تلے جمع ہونا اور شب معراج میں بیت المقدس کے اندر تمام انبیاء کی امامت کرانا حضور ﷺ کی اسی سیاست عامہ اور امامت عظمی کے آثار میں سے ہے۔
Ayah 3:85

وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُ١ۚ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 3:85 in the Quran reader

اور جو کوئی چاہے سوا دین اسلام کے اور کوئی دین سو اس سے ہرگز قبول نہ ہوگا، اور وہ آخرت میں خراب ہے۔

خلاصہ تفسیر اور جو شخص اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو طلب کرے گا تو وہ (دین) اس (شخص) سے (خدا تعالیٰ کے نزدیک) مقبول و (منظور) نہ ہوگا اور (وہ شخص) آخرت میں تباہ کاروں میں سے ہوگا (یعنی نجات نہ پائے گا)۔ معارف و مسائل اسلام کی تعریف اور اس کا مدار نجات ہونا " اسلام " کے لفظی معنی اطاعت و فرمانبرداری کے ہیں، اور اصطلاح میں خاص اس دین کی اطاعت کا نام " اسلام " ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے، کیونکہ اصول دین تمام انبیاء (علیہم السلام) کی شریعتوں میں ایک ہی ہیں۔ پھر لفظ " اسلام " کبھی تو اس عام مفہوم کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی صرف اس آخری شریعت کے لئے بولا جاتا ہے جو خاتم الانبیاء ﷺ پر نازل ہوئی، قرآن کریم میں یہ دونوں طرح کے اطلاقات موجود ہیں، انبیاء سابقین کا اپنے آپ کو مسلم کہنا اور اپنی امت کو امت مسلمہ کہنا بھی نصوص قرآن سے ثابت ہے، اور نام کا خاتم الانبیاء ﷺ کی امت کے ساتھ مخصوص ہونا بھی مذکور ہے۔ (ھو سمکم المسلمین من قبل وفی ھذا۔ 22: 78) خلاصہ یہ کہ ہر دین الہی جو کسی نبی و رسول کے ذریعے دنیا میں آیا اس کو بھی " اسلام " کہا جاتا ہے، اور امت محمدیہ کے لئے یہ خاص لقب کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ قرآن کریم میں اس جگہ " اسلام " کے لفظ سے کونسا مفہوم مراد ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ دونوں میں سے جو بھی مراد لیا جائے، نتیجہ کے اعتبار سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، کیونکہ انبیاء سابقین کے دین کو جو اسلام کا نام دیا گیا ہے وہ ایک محدود طبقہ اور مخصوص زمانے کے لئے تھا، اسوقت کا اسلام وہی تھا، اس طبقہ اور امت کے علاوہ دوسروں کے لئے اس وقت بھی وہ اسلام معتبر نہ تھا اور جب اس نبی کے بعد اور کوئی نبی بھیج دیا گیا تو اب وہ اسلام نہیں رہا، اس وقت کا اسلام وہ ہوگا جو جدید نبی پیش کرے، جس میں یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی اصولی اختلاف نہیں ہوگا مگر فروعی احکام مختلف ہوسکتے ہیں، اور خاتم الانبیاء ﷺ کو جو اسلام دیا گیا وہ ناقابل نسخ دائمی تا قیامت رہے گا، اور حسب قاعدہ مذکورہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد پچھلے تمام ادیان منسوخ ہوگئے، اب وہ اسلام نہیں بلکہ اسلام صرف وہ دین ہے جو آنحضرت ﷺ کے واسطہ سے پہنچا، اسی لئے احادیث صحیحہ معتبرہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آج اگر حضرت موسیٰ ؑ زندہ ہوتے تو اس وقت ان پر بھی میرا ہی اتباع لازم ہوتا۔ اور ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ قریب قیامت میں حضرت عیسیٰ ؑ نازل ہوں گے، تو باوجود اپنے وصف نبوت اور عہدہ نبوت پر قائم رہنے کے اس وقت وہ بھی آپ ﷺ ہی کی شریعت کا اتباع کریں گے۔ اس لئے اس جگہ خواہ اسلام کا مفہوم عام مراد لیں یا مخصوص امت محمدیہ کا دین مراد لیں، نتیجہ دونوں کا ایک ہی ہے کہ خاتم الانبیاء ﷺ کی بعثت کے بعد صرف وہی دین اسلام کہلائے گا جو آپ ﷺ کے ذریعہ دنیا کو پہنچا ہے۔ وہی تمام انسانوں کے لئے مدار نجات ہے، آیت مذکورہ میں اسی کے متعلق ارشاد فرمایا گیا کہ اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین جو شخص اختیار کرے وہ اللہ کے نزدیک مقبول نہیں، اس مضمون کی مزید تفصیل اسی سورة کی آیت (ان الدین عنداللہ الاسلام) کے تحت جلد دوم میں گزر گئی ہے۔
Ayahs 3:86–91

كَیْفَ یَهْدِی اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ وَ شَهِدُوْۤا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّ جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:86 in the Quran reader

کیونکر راہ دے گا اللہ ایسے لوگوں کو کہ کافر ہوگئے ایمان لا کر اور گواہی دے کر کہ بیشک رسول سچا ہے اور آئیں ان کے پاس نشانیاں لے کر اور اللہ راہ نہیں دیتا ظالم لوگوں کو

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ اَنَّ عَلَیْهِمْ لَعْنَةَ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 3:87 in the Quran reader

ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَۙ Open ayah 3:88 in the Quran reader

ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ ہلکا ہوگا ان سے عذاب اور نہ ان کو فرصت ملے

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١۫ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:89 in the Quran reader

مگر جنہوں نے توبہ کی اس کے بعد اور نیک کام کئے تو بیشک اللہ غفور رحیم ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ Open ayah 3:90 in the Quran reader

جو لوگ منکر ہوئے مانکر پھر بڑہتے رہے انکار میں ہرگز قبول نہ ہوگی ان کی توبہ اور وہی ہیں گمراہ

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠ Open ayah 3:91 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور مرگئے کافر ہی تو ہرگز قبول نہ ہوگا کسی ایسے سے زمین بھر کر سونا اگرچہ بدلہ دیوے اس قدر سونا ان کو عذاب درد ناک ہے اور کوئی نہیں ان کا مدد گار۔

خلاصہ تفسیر (اول ان مرتدین کا بیان ہے جو کفر پر قائم رہ کر اس کو ہدایت سمجھتے رہے، چونکہ ان کا اعتقاد یا دعوی یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اب ہدایت فرمائی، لہذا ان کی مذمت میں اس کی نفی بھی فرماتے ہیں کہ بھلا) اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو کیسے ہدایت کریں گے جو کافر ہوگئے بعد ایمان لانے کے (دل سے) اور بعد اپنے اس اقرار کے (زبان سے) کہ رسول ﷺ دعوی رسالت میں) سچے ہیں، اور بعد اس کے کہ ان کو واضح دلیل (حقانیت اسلام کے) پہنچ چکے تھے، اور اللہ تعالیٰ ایسے بےڈھنگے لوگوں کو ہدایت نہیں کیا کرتے (یہ مطلب نہیں کہ ایسوں کو کبھی توفیق اسلام کی نہیں دیتے، بلکہ مقصود ان کے اسی دعوی مذکورہ بالا کی نفی کرنا ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ہم نے جو اسلام چھوڑ کر یہ طریق اختیار کیا ہے ہم کو خدا نے ہدایت دی ہے۔ خلاصہ نفی کا یہ ہوا کہ جو شخص کفر کا بےڈھنگا راستہ اختیار کرے وہ ہدایت خداوندی پر نہیں، اس لئے وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھ کو خدا نے ہدایت دی ہے، کیونکہ ہدایت کا یہ راستہ نہیں ہے، بلکہ ایسے لوگ یقینا گمراہ ہیں اور) ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی بھی لعنت ہوتی ہے اور فرشتوں کی بھی اور (بہتیرے) آدمیوں کی بھی (غرض) سب کی (اور پھر وہ لعنت بھی ایسے طور پر رہے گی کہ) وہ ہمیشہ ہمیشہ کو اسی (لعنت) میں رہیں گے (اور چونکہ اس لعنت کا اثر جہنم ہے تو حاصل یہ ہوا کہ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور) ان پر سے عذاب ہلکا بھی نہ ہونا پاوے گا اور نہ (داخل ہونے سے قبل) ان کو (کسی میعاد تک) مہلت ہی دی جاوے گی (آگے ان کا بیان ہے جو پھر مسلمان ہوگئے ان کو اس حکم سے مستثنی فرماتے ہیں یعنی) ہاں مگر جو لوگ توبہ کرلیں اس (کفر) کے بعد (یعنی مسلمان ہوجاویں) اور اپنے (دل) کو (بھی) سنواریں (یعنی منافقانہ طور پر صرف زبان سے توبہ کافی نہیں) سو بیشک (ایسوں کے لئے) اللہ تعالیٰ بخش دینے والے رحمت کرنے والے ہیں، بیشک جو لوگ کافر ہوئے اپنے ایمان لانے کے بعد پھر بڑہتے رہے کفر میں (یعنی کفر پر دوام رکھا ایمان نہیں لائے) ان کی توبہ (جو کہ اور گناہوں سے کرتے ہیں) ہرگز مقبول نہ ہوگی (کیونکہ توب عن المعاصی ایک اطاعت فرعیہ ہے، اور اطاعت فرعیہ کے مقبول ہونے کی شرط ایمان ہے) اور ایسے لوگ (اس توبہ کے بعد بھی بدستور) پکے گمراہ ہیں۔ بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور وہ مر بھی گئے حالت کفر ہی میں، سو ان میں سے کسی کا (بطور کفارہ) زمین بھر سونا بھی نہ لیا جائے گا، اگرچہ وہ معاوضہ میں اس کو دینا بھی چاہے (اور بےدیئے تو کون پوچھتا ہے) ان لوگوں کو سزائے دردناک ہوگی اور ان کے حامی (مددگار) بھی نہ ہوں گے۔ معارف و مسائل ایک شبہ کا ازالہ کیف یھدی اللہ الخ۔ اس آیت سے بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ کسی کو مرتد ہونے کے بعد ہدایت نصیب نہیں ہوتی، حالانکہ واقعہ اس کے خلاف ہے، کیونکہ بہت سے لوگ مرتد ہونے کے بعد ایمان قبول کر کے ہدایت یافتہ بن جاتے ہیں۔ جواب یہ ہے کہ یہاں جو ہدایت کی نفی کی گئی ہے اس کی مثال ہمارے محاورات میں ایسی ہے جیسے کسی بدمعاش کو کوئی حاکم اپنے ہاتھ سے سزا دے اور وہ کہے کہ مجھ کو حاکم نے اپنے ہاتھ سے خصوصیت عنایت فرمائی ہے، اور اس کے جواب میں کہا جائے کہ ایسے بدمعاش کو ہم خصوصیت کیوں دینے لگے، یعنی یہ امر خصوصیت ہی نہیں، اور یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ایسا شخص کسی طرح قابل خصوصیت نہیں ہوسکتا اگرچہ شائستہ بن جاوے۔ (بیان القرآن)
Ayah 3:92

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ۬ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 3:92 in the Quran reader

ہرگز نہ حاصل کرسکو گے نیکی میں کمال جب تک نہ خرچ کرو اپنی پیاری چیز سے کچھ اور جو چیز خرچ کرو گے سو اللہ کو معلوم ہے۔

ربط آیات مع تشریح اس سے پہلی آیت میں کفار و منکرین کے صدقات و خیرات کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک غیر مقبول ہونا بیان کیا گیا تھا، اس آیت میں مومنین کو صدقہ مقبولہ اور اس کے آداب بتلائے گئے ہیں، اس آیت کے الفاظ میں سب سے پہلے لفظ بر کے معنی اور اس کی حقیقت کو سمجھئے، تاکہ آیت کا پورا مفہوم صحیح طور پر ذہن نشین ہوسکے۔ لفظ بر کے لفظی اور حقیقی معنی ہیں کسی شخص کے حق کی پوری ادائیگی اور اس سے کامل سبکدوشی اور احسان اور حسن سلوک کے معنی میں بھی آتا ہے، بر بالفتح اور بار اس شخص کے لئے استعمال ہوتا ہے جو اپنے ذمہ عائد ہونے والے حقوق کو پوری طرح ادا کردے۔ قرآن کریم میں برا بوالدتی۔ 19: 32) اور برا بوالدیہ۔ 19: 14) اسی معنی میں استعمال ہوا ہے، ان حضرات کے لئے یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے جو اپنے والدین کے حقوق کو مکمل طور پر ادا کرنے والے تھے۔ اسی لفظ بر بالفتح کی جمع ابرار ہے، جو قرآن کریم میں بکثرت استعمال ہوئی ہے، ارشاد ہے (ان الابرار یشربون من کاس کان مزاجھا کافورا۔ 76: 5) اور دوسری جگہ ارشاد ہے (ان الابرار لفی نعیم علی الارائک ینظرون۔ 83: 22، 23) اور ایک جگہ ارشاد ہے (ان الابرار لفی نعیم وان الفجار لفی جحیم۔ 82: 13، 14) اس آخری آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ " بر " کا مقابل اور ضد " فجور " ہے۔ امام بخاری ؒ کے ادب المفرد میں اور ابن ماجہ اور مسند احمد میں حضرت صدیق اکبر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سچ بولنے کو لازم پکڑو، کیونکہ " صدق "، " بر " کا ساتھی ہے، اور وہ دونوں جنت میں ہیں، اور جھوٹ سے بچو، کیونکہ وہ فجور کا ساتھی ہے، اور یہ دونوں دوزخ میں ہیں۔ اور سورة بقرہ کی آیت میں مذکور ہے کہ (لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق والمغرب ولکن البر من امن باللہ والیوم الاخر۔ 2: 177) اس آیت میں نیک اعمال کی ایک فہرست دے کر ان سب کو " بر " فرمایا گیا ہے، مذکورہ آیت سے معلوم ہوا کہ اعمال بر میں افضل ترین بر یہ ہے کہ اپنی محبوب چیز اللہ کی راہ میں خرچ کی جائے، آیت مذکورہ میں ارشاد ہے کہ تم ہرگز " بر " کو حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی پیاری چیزوں میں سے کچھ خرچ نہ کرو، تو معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے حق کی مکمل ادائیگی اور اس سے پوری سبکدوشی اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک اپنی محبوب اور پیاری چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کریں، اسی مکمل ادائیگی کو خیرکامل یا نیکی میں کمال ثواب عظیم سے ترجمہ کیا گیا ہے، اور مراد یہ ہے کہ ابرار کی صفت میں داخل ہونا اس پر موقوف ہے کہ اپنی محبوب چیزیں اللہ کی راہ میں قربان کی جائیں۔ خلاصہ تفسیر (اے مسلمانو) تم خیر کامل (یعنی اعظم ثواب) کو کبھی حاصل نہ کرسکو گے یہاں تک کہ اپنی (بہت) پیاری چیز کو (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو گے اور (یوں) جو کچھ بھی خرچ کرو گے (گو غیر محبوب چیز ہو) اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتے ہیں (مطلق ثواب اس پر بھی دیدیں گے، لیکن کمال ثواب حاصل کرنے کا وہی طریقہ ہے) معارف و مسائل آیت مذکورہ اور صحابہ کرام ؓ کا جذبہ عمل صحابہ کرام ؓ جو قرآنی احکام کے اولین مخاطب اور رسول کریم ﷺ کے بلا واسطہ شاگرد اور احکام قرآنی کی تعمیل کے عاشق تھے، اس آیت کے نازل ہونے پر ایک ایک نے اپنی محبوب چیزوں پر نظر ڈالی، اور ان کو اللہ کی راہ میں خڑچ کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ کے سامنے درخواستیں ہونے لگیں، انصار مدینہ میں سب سے زیادہ مالدار حضرت ابو طلحہ ؓ تھے، مسجد نبوی کے بالکل مقابل اور متصل ان کا باغ تھا، جس میں ایک کنواں بیر حاء کے نام سے موسوم تھا، اب اس باغ کی جگہ تو باب مجیدی کے سامنے اصطفا منزل کے نام سے ایک عمارت بنی ہوئی ہے جس میں زائرین مدینہ قیام کرتے ہیں، مگر اس کے شمال مشرق کے گوشے میں یہ بیر حاء اسی نام سے اب تک موجود ہے۔ رسول کریم ﷺ کبھی کبھی اس باغ میں تشریف لے جاتے اور بیرحاء کا پانی پیتے تھے، آپ ﷺ کو اس کنویں کا پانی پسند تھا، حضرت طلحہ ؓ کا یہ باغ بڑا قیمتی اور زرخیز اور ان کو اپنی جائیداد میں سب سے زیادہ محبوب تھا، اس آیت کے نازل ہونے پر وہ حضرت رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے تمام اموال میں بیر حاء مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، میں اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہتا ہوں، آپ جس کام میں پسند فرمائیں اس کو صرف فرماویں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ تو عظیم الشان منافع کا باغ ہے، میں مناسب یہ سمجھتا ہوں کہ اس کو آپ اپنے اقرباء میں تقسیم کردیں، حضرت ابو طلحہ ؓ نے آنحضرت ﷺ کے اس مشورہ کو قبول فرماکر اپنے اقرباء اور چچازاد بھائیوں میں تقسیم فرمادیا۔ (یہ حدیث بخاری و مسلم کی ہے) اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خیرات صرف وہ نہیں جو عام فقراء اور مساکین پر صرف کی جائے، اپنے اہل و عیال اور عزیز و رشتہ داروں کو دینا بھی بڑی خیرات اور موجب ثواب ہے۔ حضرت زید بن حارثہ ؓ اپنا ایک گھوڑا لئے ہوئے حاضر خدمت ہوئے، اور عرض کیا کہ مجھے اپنی املاک میں یہ سب سے زیادہ محبوب ہے میں اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہتا ہوں، آپ ﷺ نے اس کو قبول فرمالیا، لیکن ان سے لے کر انہی کے صاحبزادے اسامہ ؓ کو دیدیا، زید بن حارثہ ؓ اس پر کچھ دلگیر ہوئے کہ میرا صدقہ میرے ہی گھر میں واپس آگیا، لیکن آنحضرت ﷺ نے ان کی تسلی کے لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا یہ صدقہ قبول کرلیا ہے۔ (تفسیر مظہری، بحوالہ ابن جریر و طبری وغیرہ) حضرت فاروق اعظم ؓ کے پاس ایک کنیز سب سے زیادہ محبوب تھی، آپ نے اس کو لوجہ اللہ آزاد کردیا۔ الغرض آیت متذکرہ کا حاصل یہ ہے کہ حق اللہ کی مکمل ادائیگی اور خیر کامل اور نیکی کا کمال جب ہی حاصل ہوسکتا ہے جب کہ آدمی اپنی محبوب چیزوں میں سے کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرے، آیت مذکورہ میں چند مسائل قابل نظر اور یاد رکھنے کے قابل ہیں۔ اس آیت میں لفظ بر تمام صدقات واجبہ اور نفلیہ کو شامل ہےاول یہ کہ اس آیت میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب ہے اس سے مراد بعض حضرات مفسرین کے نزدیک صدقات واجبہ زکوٰۃ وغیرہ ہیں، اور بعض کے نزدیک صدقات نافلہ ہیں، لیکن جمہور محققین نے اس کے مفہوم کو صدقات واجبہ اور نفلیہ دونوں میں عام قرار دیا ہے، اور صحابہ کرام ؓ کے واقعات متذکرہ بالا اس پر شاہد ہیں کہ ان کے یہ صدقات، صدقات نفلیہ تھے۔ اس لئے مفہوم آیت کا یہ ہوگیا کہ اللہ کی راہ میں جو صدقہ بھی ادا کرو خواہ زکوٰۃ فرض ہو یا کوئی نفلی صدقہ و خیرات ان سب میں مکمل فضیلت اور ثواب جب ہے کہ اپنی محبوب اور پیاری چیز کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو، یہ نہیں کہ صدقہ کو تاوان کی طرح سر سے ٹالنے کے لئے فالتو، بیکار، یا خراب چیزوں کا انتخاب کرو۔ قرآن کریم کی دوسری ایک آیت میں اس مضمون کو اور زیادہ واضح اس طرح بیان فرمایا گیا ہے (یایھا الذین امنوا انفقوا من طیبت ما کسبتم ومما اخرجنا لکم من الارض و لا تیمموا الخبیث منہ تنفقون ولستم باخذیہ الا ان تغمضوا فیہ۔ 2: 268) " یعنی اے ایمان والو اپنی کمائی میں سے اور جو کچھ ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا ہے اس میں سے عمدہ چیزوں کو چھانٹ کر اس میں سے خرچ کرو اور ردی چیز کی طرف نیت مت لے جایا کرو کہ اس میں سے خرچ کردو حالانکہ دو چیزیں اگر تمہارے حق کے بدلے میں تمہیں دی جائیں تو تم ہرگز قبول نہ کرو گے، بجز اس کے کہ کسی وجہ سے چشم پوشی کر جاؤ "۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ خراب اور بےکار چیزوں کا انتخاب کر کے صدقہ کرنا مقبول نہیں، بلکہ صدقہ مقبولہ جس پر مکمل ثواب ملتا ہے وہی ہے جو محبوب اور پیاری چیزوں میں سے خرچ کیا جائے۔ صدقہ کرنے میں اعتدال چاہئے دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ آیت میں لفظ مما سے اشارہ کردیا گیا ہے کہ یہ مقصود نہیں ہے کہ جتنی چیزیں اپنے نزدیک محبوب اور پیاری ہیں ان سب کو اللہ کی راہ میں خرچ کردیا جائے، بلکہ مقصود یہ ہے کہ جتنا بھی خرچ کرنا ہے اس میں اچھی اور پیاری چیز دیکھ کر خرچ کریں تو مکمل ثواب کے مستحق ہوں گے۔ تیسرا مسئلہ یہ کہ محبوب چیز خرچ کرنا صرف اسی کا نام نہیں کہ کوئی بڑی قیمت کی چیز خرچ کی جائے، بلکہ جو چیز کسی کے نزدیک عزیز اور محبوب ہے، خواہ کتنی ہی قلیل اور قیمت کے اعتبار سے کم ہو، اس کے خرچ کرنے سے بھی اس " بر " کا مستحق ہوجائے گا، حضرت حسن بصری ؒ نے فرمایا کہ جو چیز آدمی اخلاص کے ساتھ اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرے وہ اگرچہ کھجور کا ایک دانہ بھی ہو اس سے بھی انسان اس ثواب عظیم اور بر کامل کا مستحق ہوجاتا ہے جس کا آیت میں وعدہ کیا گیا ہے۔ چوتھا مسئلہ یہ ہے کہ اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں جس خیر عظیم اور بر کا ذکر ہے اس سے وہ غریب لوگ محروم رہیں گے جن کے پاس خرچ کرنے کے لئے مال نہیں، کیونکہ آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ خیر عظیم بغیر محبوب مال خرچ کئے حاصل نہیں کی جاسکتی، اور فقراء و مساکین کے پاس مال ہی نہیں جس کے ذریعہ ان کی یہاں تک رسائی ہو، لیکن غور کیا جائے تو آیت کا یہ مقصد پورا نہیں ہوسکتا، بلکہ بات یہ ہے کہ یہ خیر عظیم کسی دوسرے ذریعہ سے مثلا عبادت، ذکر اللہ، تلاوت قرآن، کثرت نوافل سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس لئے فقراء و غرباء کو بھی یہ خیر عظیم دوسرے ذرائع سے حاصل ہوسکتی ہے، جیسا کہ بعض روایات حدیث میں صراحۃ بھی یہ مضمون آیا ہے۔ مال محبوب سے کیا مراد ہے پانچواں مسئلہ یہ ہے کہ مال کے محبوب ہونے سے کیا مراد ہے ؟ قرآن کی دوسری آیت سے معلوم ہوا کہ محبوب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز اس کے کام میں آرہی ہو اور اس کو اس چیز کی حاجت ہو، فالتو اور بیکار نہ ہو، قرآن کریم کا ارشاد ہے(ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا۔ 76: 8) " یعنی اللہ کے مقبول بندے وہ ہیں جو حاجت مندوں کو کھانا کھلاتے ہیں، باوجود اس کے کہ اس کھانے کی خود ان کو بھی ضرورت ہے "۔ اسی طرح دوسری آیت میں اسی مضمون کی اور زیادہ وضاحت اس طرح فرمائی(ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ۔ 59: 9) " یعنی اللہ کے مقبول بندے اپنے اوپر دوسروں کو مقدم رکھتے ہیں اگرچہ خود بھی حاجت مند ہوں "۔ فالتو سامان اور حاجت سے زائد چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بھی ثواب سے خالی نہیںچھٹا مسئلہ یہ ہے کہ آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ خیر کامل اور ثواب عظیم اور وصف ابرار میں داخلہ اس پر موقوف ہے کہ اپنی محبوب چیز اللہ کی راہ میں خرچ کریں، مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ضرورت سے زائد فالتو مال خرچ کرنے والے کو کوئی ثواب ہی نہ ملے، بلکہ آیت کے آخر میں جو یہ ارشاد ہے (وما تنفقوا من شیء فان اللہ بہ علیم) " یعنی تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے "۔ آیت کے اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ اگرچہ خیر کامل اور صف ابرار میں داخلہ خاص محبوب چیز خرچ کرنے پر موقوف ہے، لیکن مطلق ثواب سے کوئی صدقہ خالی نہیں، خواہ محبوب چیز خرچ کریں یا زائد اور فالتو اشیاء۔ ہاں مگر وہ اور ممنوع یہ ہے کہ کوئی آدمی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے یہی طریقہ اختیار کرلے کہ جب خرچ کرے فالتو اور خراب چیز ہی کا انتخاب کر کے خرچ کیا کرے، لیکن جو شخص صدقہ خیرات میں اپنی محبوب اور عمدہ چیزیں بھی خرچ کرتا ہے، اور اپنی ضرورت سے زائد چیزیں، بچا ہوا کھانا یا پرانے کپڑے، عیب دار برتن یا استعمالی چیزیں بھی خیرات میں دیدیتا ہے، وہ ان چیزوں کا صدقہ کرنے سے کسی گناہ کا مرتکب نہیں بلکہ اس کو ان پر بھی ضرور ثواب ملے گا، اور محبوب چیزوں کے خرچ کرنے پر اس کو خیر عظیم بھی حاصل ہوگی، اور صف ابرار میں اس کا داخلہ بھی ہوگا۔ آیت کے اس آخری جملہ میں یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ آدمی جو کچھ خرچ کرتا ہے اس کی اصلی حقیقت اللہ پر روشن ہے کہ وہ اس کے نزدیک محبوب ہے یا نہیں۔ اور اخلاص کے ساتھ اللہ کی رضا کے لئے خرچ کر رہا ہے یا ریا وشہرت کے لئے، محض کسی کا زبانی دعوے اس کے لئے کافی نہیں کہ میں اپنی محبوب چیز کو اللہ کے لئے خرچ کر رہا ہوں، بلکہ علیم وخبیر جو دل کے پوشیدہ رازوں سے واقف ہے، دیکھ رہا ہے کہ واقع میں اس کے لئے خرچ کا کیا درجہ ہے۔
Ayahs 3:93–95

كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَآءِیْلُ عَلٰى نَفْسِهٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:93 in the Quran reader

سب کھانے کی چیزیں حلال تھیں بنی اسرائیل کو مگر وہ جو حرام کرلی تھیں اسرائیل نے اپنے اوپر توریت نازل ہونے سے پہلے تو کہہ لاؤ توریت اور پڑھو اس کو اگر تم سچے ہو،

فَمَنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَؐ Open ayah 3:94 in the Quran reader

پھر جو کوئی جوڑے اللہ پر جھوٹ اس کے بعد تو وہی ہیں بڑے بےانصاف

قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ١۫ فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:95 in the Quran reader

تو کہہ سچ فرمایا اللہ نے اب تابع ہوجاؤ دین ابراہیم کے جو ایک ہی کا ہو رہا تھا اور نہ تھا شرک کرنے والا۔

خلاصہ تفسیر (جن کھانے کی چیزوں میں گفتگو ہے یہ) سب کھانے کی چیزیں (حضرت ابراہیم ؑ کے وقت سے ہرگز حرام نہیں چلی آرہی ہیں بلکہ یہ چیزیں) نزول توراۃ کے قبل باستثناء اس کے (یعنی گوشت شتر کے) جس کو (حضرت) یعقوب ؑ نے (ایک خاص وجہ سے) اپنے نفس پر حرام کرلیا تھا، (اور پھر وہ ان کی اولاد میں بھی حرام چلا آیا، باقی سب چیزیں خود) بنی اسرائیل (تک) پر (بھی) حلال تھیں (تو ابراہیم ؑ کے وقت سے ان کی تحریم کا دعوی کب صحیح ہوسکتا ہے، اور نزول توراۃ کے قبل اس واسطے فرمایا کہ نزول توراۃ کے بعد ان مذکورہ حلال چیزوں میں سے بھی بہت سی چیزیں حرام ہوگئی تھیں، جس کی کچھ تفصیل سورة انعام کی اس آیت میں ہے (وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر۔ الخ۔ 6: 147) اور اگر اب بھی یہود کو تحریم کی قدامت مذکورہ کا دعوی ہے تو اے محمد ﷺ ان سے) فرما دیجیے کہ (اچھا تو) پھر توراۃ لاؤ پھر اس کو (لاکر) پڑھو اگر تم (دعوی مذکور میں) سچے ہو (تو اس میں کوئی آیت وغیرہ اس مضمون کی نکال دو ، کیونکہ امور منقولہ میں نص کی ضرورت ہے، اور دوسری نصوص یقینا منفی ہیں، صرف توراۃ باقی ہے، سو اس میں دکھلا دو ، چناچہ اس میں نہ دکھلا سکے تو کذب ان کا اس دعوے میں ثابت ہوگیا، آگے اس پر مرتب کر کے فرماتے ہیں) سو جو شخص اس (ظہور کذب بالدلیل) کے بعد (بھی) اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بات کی تہمت لگائے (جاوے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کے وقت سے گوشت شتر وغیرہ کو حرام فرمایا ہے) تو ایسے لوگ بڑے بےانصاف ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے سچ کہہ دیا سو (اب) تم (کو چاہئے کہ بعد ثبوت حقیت قرآن کے) ملت ابراہیم (یعنی اسلام) کا اتباع (اختیار) کرو جس میں ذرا کجی نہیں اور وہ (ابراہیم علیہ السلام) مشرک نہ تھے۔ معارف و مسائل اوپر کی آیتوں میں اہل کتاب سے بحث چلی آتی ہے، کہیں یہود سے کہیں نصاری سے کہیں دونوں سے، ایک بحث کا آگے بیان آتا ہے، جس کا قصہ روح المعانی میں بروایت واحدی کلبی سے منقول ہے کہ جب حضور ﷺ نے اپنا ملت ابراہیمی پر ہونا باعتبار تمام اصول شرعیہ اور اکثر فروع کے بیان فرمایا تو یہود نے اعتراضا کہا کہ آپ ﷺ اونٹ کا گوشت اور دودھ کھاتے ہیں، حالانکہ حضرت ابراہیم ؑ پر حرام تھا، جناب رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ نہیں، ان پر یہ حلال تھا، یہود نے کہا جتنی چیزیں ہم حرام سمجھتے ہیں یہ سب حضرت نوح و حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کے وقت سے حرام چلی آتی ہیں۔ یہاں تک کہ ہم تک وہ تحریم پہنچی، تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت کل الطعام کان حلا لبنی اسرائیل الخ تکذیب یہود کے لئے نازل فرمائی، جس میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ نزول توراۃ کے قبل باستثناء اس کے یعنی گوشت شتر کے جس کو حضرت یعقوب ؑ نے ایک خاص وجہ سے خود اپنے نفس پر حرام کرلیا تھا اور پھر وہ ان کی اولاد میں حرام چلا آیا، باقی سب چیزیں خود بنی اسرائیل پر بھی حلال تھیں۔ دراصل اس میں قصہ یہ ہوا کہ حضرت یعقوب ؑ کو عرق النساء کا مرض تھا، آپ نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اس سے شفاء دیں تو سب سے زیادہ جو کھانا مجھ کو محبوب ہے اس کو چھوڑ دوں گا، ان کو شفاء ہوگئی اور سب سے زیادہ محبوب آپ کو اونٹ کا گوشت تھا اس کر ترک فرما دیا۔ (اخرجہ الحاکم وغیرہ بسند صحیح عن ابن عباس کذا فی روح المعانی واخرجہ الترمذی فی سورة الرعد مرفوعا) پھر یہی تحریم جو نذر سے ہوئی تھی بنی اسرائیل میں بحکم وحی باقی رہ گئی، اور معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شریعت میں نذر سے تحریم بھی ہوجاتی ہوگی، جس طرح ہماری شریعت میں مباح کا ایجاب ہوجاتا ہے، مگر تحریم کی نذر جو درحقیقت یمین ہے ہماری شریعت میں جائز نہیں بلکہ اس میں قسم توڑنا پھر اس کا کفارہ دینا واجب ہے۔ کما قال اللہ تعالیٰ لم تحرم ما احل اللہ لک۔ 66: 1) الایۃ۔ اسی طرح تفسیر کبیر میں ہے۔