3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعارف القرآن

Ayah 3:96

اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 3:96 in the Quran reader

بیشک سب سے پہلا گھر جو مقرر ہوا لوگوں کے واسطے یہی ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور ہدایت جہان کے لوگوں کو۔

خلاصہ تفسیر یقینا وہ مکان جو سب (مکانات عبادت) سے پہلے لوگوں (کی عبادت گاہ بننے) کے واسطے (منجانب اللہ) مقرر کیا گیا وہ مکان ہے جو کہ (شہر) مکہ میں ہے (یعنی خانہ کعبہ) جس کی حالت یہ ہے کہ وہ برکت والا ہے (کیونکہ اس میں دینی نفع یعنی ثواب ہے) اور (عبادت خاص مثلا نماز کا رخ بتلانے میں) جہان بھر کے لوگوں کا رہنما ہے (مطلب یہ ہے کہ حج وہاں ہوتا ہے اور مثلا نماز کا ثواب بروئے تصریح حدیث وہاں بہت زیادہ ہوتا ہے، دینی برکت تو یہ ہوئی، اور جو وہاں نہیں ہیں ان کو اس مکان کے ذریعے سے نماز کا رخ معلوم ہوتا ہے یہ رہنمائی ہوئی)۔ معارف و مسائل مذکورہ آیت میں ساری دنیا کے مکانات یہاں تک کہ تمام مساجد کے مقابلہ میں بیت اللہ یعنی کعبہ کا شرف اور افضلیت کا بیان ہے، اور یہ شرف و فضیلت کئی وجہ سے ہے۔ فضائل بیت اللہ مع تاریخ و تعمیر اول اس لئے کہ وہ دنیا کی تمام سچی عبادت گاہوں میں سب سے پہلی عبادت گاہ ہے۔ دوسرے کہ وہ برکت والا ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ پورے جہان کے لئے ہدایت و رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ آیت کے الفاظ کا خلاصہ یہ ہے کہ سب سے پہلا گھر جو منجانب اللہ لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا ہے، وہ ہے جو مکہ میں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں سب سے پہلا عبادت خانہ کعبہ ہے، اس کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ دنیا کے سب گھروں میں پہلا گھر عبادت ہی کے لئے بنایا گیا ہو، اس سے پہلے نہ کوئی عبادت خانہ ہو نہ دولت خانہ، حضرت آدم ؑ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں، ان کی شان سے کچھ بعید نہیں کہ انہوں نے زمین پر آنے کے بعد اپنا گھر بنانے سے پہلے اللہ کا گھر یعنی عبادت کی جگہ بنائی ہو، اسی لئے حضرت عبداللہ بن عمر، مجاہد قتادہ، سدی وغیرہ صحابہ وتابعین اسی کے قائل ہیں کہ کعبہ دنیا کا سب سے پہلا گھر ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ لوگوں کے رہنے سہنے کے مکانات پہلے بھی بن چکے ہوں، مگر عبادت کے لئے یہ پہلا گھر بنا ہو حضرت علی ؓ سے یہی منقول ہے۔ بیہقی ؒ نے اپنی کتاب " دلائل النبوۃ " میں بروایت حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت آدم و حوا (علیہما السلام) کے دنیا میں آنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جبرئیل ؑ کے ذریعہ ان کو یہ حکم بھیجا کہ وہ بیت اللہ (کعبہ) بنائیں، ان حضرات نے حکم کی تعمیل کرلی تو ان کو حکم دیا گیا کہ اس کا طواف کریں، اور ان سے کہا گیا کہ آپ اول الناس یعنی سب سے پہلے انسان ہیں، اور یہ گھر اول بیت وضع للناس ہے، یعنی سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ (ابن کثیر) ضعفہ ابن کثیر بابن لہیعہ ولا یخفی انہ الیس بمتروک الحدیث مطلقا ولا سیما فی ہذا المقام فان الروایۃ قد تایدت باشارات الکتاب۔ بعض روایات میں ہے کہ آدم ؑ کی یہ تعمیر کعبہ نوح ؑ کے زمانے تک باقی تھی، طوفان نوح میں منہدم ہوئی، اور اس کے نشانات مٹ گئے، اس کے بعد حضرت ابراہیم ؑ نے انہی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کیا، پھر ایک مرتبہ کسی حادثہ میں اس کی تعمیر منہدم ہوئی تو قبیلہ جرہم کی ایک جماعت نے اس کی تعمیر کی، پھر ایک مرتبہ منہدم ہوئی تو عمالقہ نے تعمیر کی، اور پھر منہدم ہوئی تو قریش نے رسول اللہ ﷺ کے ابتدائی زمانہ میں تعمیر کی، جس میں آنحضرت ﷺ بھی شریک ہوئے اور حجر اسود کو اپنے دست مبارک سے قائم فرمایا، لیکن قریش نے اس تعمیر میں بناء ابراہیمی سے کسی قدر مختلف تعمیر کی تھی کہ ایک حصہ بیت اللہ کا بیت اللہ سے الگ کردیا جس کو حطیم کہا جاتا ہے، اور خلیل اللہ ؑ کی بناء میں کعبہ کے دو دروازے تھے، ایک داخل ہونے کے لئے دوسرا پشت کی جانب باہر نکلنے کے لئے، قریش نے صرف مشرقی دروازہ کو باقی رکھا، تیسرا تغیر یہ کیا کہ دروازہ بیت اللہ کا سطح زمین سے کافی بلند کردیا تاکہ ہر شخص آسانی سے اندر نہ جاسکے، بلکہ جس کو وہ اجازت دیں وہی جاسکے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ موجودہ تعمیر کو منہدم کر کے اس کو بالکل بناء ابراہیمی کے مطابق بنادوں، قریش نے جو تصرفات بناء ابراہیمی کے خلاف کئے ہیں ان کی اصلاح کردوں، لیکن نو مسلم ناواقف مسلمانوں میں غلط فہمی پیدا ہونے کا خطرہ ہے، اسی لئے سردست اس کو اسی حال پر چھوڑتا ہوں، اس راشاد کے بعد اس دنیا میں آپ ﷺ کی حیات زیادہ نہیں رہی۔ لیکن حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے بھانجے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد سنے ہوئے تھے، خلفائے راشدین کے عبد جس وقت مکہ مکرمہ پر ان کی حکومت ہوئی تو انہوں نے بیت اللہ منہدم کر کے ارشاد نبوی اور بناء ابراہیمی کے مطابق بنادیا، مگر عبداللہ بن زبیر ؓ کی حکومت مکہ معظمہ پر چند روزہ تھی، ظالم الامۃ حجاج بن یوسف نے مکہ پر فوج کشی کر کے ان کو شہید کیا، اور حکومت پر قبضہ کر کے اس کو گوارا نہ کیا کہ عبداللہ بن زبیر ؓ کا یہ کارنامہ رہتی دنیا تک ان کی مدح وثناء کا ذریعہ بنا رہے، اس لئے لوگوں میں مشہور کیا کہ عبداللہ بن زبیر ؓ کا یہ فعل غلط تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو جس حالت پر چھوڑا تھا ہمیں اسی حالت پر اس کو رکھنا چاہئے، اس بہانے سے بیت اللہ کو پھر منہدم کر کے اسی طرح کی تعمیر بنادی جو زمانہ جاہلیت میں قریشی نے بنائی تھی، حجاج بن یوسف کے بعد آنے والے بعض مسلم بادشاہوں نے پھر حدیث مذکور کی بنا پر یہ ارادہ کیا کہ بیت اللہ کو از سر نو حدیث رسول کریم ﷺ کے موافق بنادیں، لیکن اس زمانہ کے امام حضرت امام مالک بن انس ؓ نے یہ فتوی دیا کہ اب بار بار بیت اللہ کو منہدم کرنا اور بنانا آگے آنے والے بادشاہوں کے لئے بیت اللہ کو ایک کھلونا بنادے گا، ہر آنے والا بادشاہ اپنی نام آوری کے لئے یہی کام کرے گا، اس لئے اب جس حالت میں بھی ہے اس حالت میں چھوڑدینا مناسب ہے، تمام امت نے اس کو قبول کیا، اسی وجہ سے آج تک وہی حجاج بن یوسف ہی کی تعبیر باقی ہے، البتہ شکست و ریخت اور مرمت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا۔ ان روایات سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ کعبہ دنیا کا سب سے پہلا گھر ہے، اور یا کم از کم سب سے پہلا عبادت خانہ ہے، قرآن کریم میں جہاں یہ ذکر ہے کہ کعبہ کی تعمیر بامر خداوندی حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) نے کی ہے وہیں اس کے اشارات بھی موجود ہیں کہ ان بزرگوں نے اس کی ابتدائی تعمیر نہیں فرمائی، بلکہ سابق بنیادوں پر اسی کے مطابق تعمیر فرمائی، اور کعبہ کی اصل بنیاد پہلے ہی سے تھی۔ قرآن کریم کے ارشاد (واذ یرفع ابراہیم القواعد من البیت واسماعل۔ 2: 127) سے بھی ایسا ہی مفہوم ہوتا ہے کہ قواعد بیت اللہ یعنی اس کی بنیادیں پہلے سے موجود تھیں سورة حج کی آیت میں ہے(واذ بوانا لابراہیم مکان البیت۔ 22: 26) " یعنی جب ٹھیک کردیا ہم نے ابراہیم کے لئے ٹھکانا اس گھر کا "۔ اس سے بھی یہی مستفاد ہوتا ہے کہ بیت اللہ کی جگہ پہلے سے متعین چلی آتی تھی، اور پہلی آیت سے اس کی بنیادوں کا ہونا بھی مفہوم ہوتا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ جب حضرت خلیل اللہ علیہ وسلم کو تعمیر بیت اللہ کا حکم دیا گیا تو فرشتہ کے ذریعہ ان کو بیت اللہ کی جگہ سابق بنیادوں کی نشاندہی کی گئی جو ریت کے تودوں میں دبی ہوئی تھی۔ بہر حال آیت مذکورہ سے کعبہ کی ایک فضیلت یہ ثابت ہوئی کہ وہ دنیا کا سب سے پہلا گھر یا پہلا عبادت خانہ ہے، صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ دنیا کی سب سے پہلی مسجد کون سی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا، مسجد حرام، انہوں نے عرض کیا اس کے بعد کونسی مسجد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا مسجد بیت المقدس ہے، پھر دریافت کیا کہ ان دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنی مدت کا فاصلہ ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا چالیس سال کا۔ اس حدیث میں بیت اللہ کی بناء جدید جو ابراہیم ؑ کے ہاتھوں ہوئی اس کے اعتبار سے بیت المقدس کی تعمیر کا فاصلہ بیان کیا گیا ہے، کیونکہ روایات سے یہ بھی ثابت ہے کہ بیت المقدس کی ابتدائی تعمیر بھی حضرت ابراہیم ؑ کے ذریعہ بیت اللہ کی تعمیر سے چالیس سال بعد میں ہوئی، اور حضرت سلیمان ؑ نے جو بیت المقدس کی تعمیر کی یہ بھی بیت اللہ کی طرح بالکل نئی اور ابتدائی تعمیر نہ تھی، بلکہ سلیمان ؑ نے بناء ابراہیمی پر اس کی تجدید کی ہے، اس طرح روایات میں باہم کوئی تعارض نہیں رہتا۔ حاصل یہ ہے کہ ہمیشہ سے دنیا میں اس کی تعظیم و تکریم ہوتی چلی آئی ہے، اس میں لفظ وضع للناس میں اس کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اس گھر کی تعظیم و تکریم کسی خاص قوم یا جماعت ہی کا حصہ نہیں، بلکہ عامہ خلائق اور سب انسان اس کی تعظیم کریں گے، اس کی سرشت میں حق تعالیٰ نے ایک عظمت اور ہیبت کا داعیہ رکھا ہے کہ لوگوں کے قلوب اس کی طرف خود بخود مائل ہوتے ہیں، اس میں لفظ " بکہ " سے مراد مکہ معظمہ ہے، خواہ یہ کہا جائے کہ میم کو باء سے بدل دیا گیا ہے، عرب کے کلام میں اس کی نظائر بکثرت ہیں کہ میم کو باء سے بدل دیا کرتے ہیں، اور یا یہ کہا جائے کا مکہ کا دوسرا نام بکہ بھی ہے۔ بیت اللہ کی برکات اس آیت میں بیت اللہ کی دوسری فضیلت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ مبارک ہے، لفظ مبارک، برکت سے مشتق ہے، برکت کے معنی ہیں بڑہنا اور ثابت رہنا، پھر کسی چیز کا بڑھنا اس طرح بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا وجود کھلے طور پر مقدار میں بڑھ جائے، اور اس طرح بھی کہ اگرچہ اس کی مقدار میں کوئی خاص اضافہ نہ ہو لیکن اس سے کام اتنے نکلیں جتنے عادۃ اس سے زائد نکلا کرتے ہیں، اس کو بھی معنوی طور پر زیادتی کہا جاسکتا ہے۔ بیت اللہ کا بابرکت ہونا ظاہری طور پر بھی ہے معنوی طور پر بھی، اس کے ظاہری برکات میں یہ مشاہدہ ہے کہ مکہ اور اس کے آس پاس ایک خشک ریگستان اور بنجر زمین ہونے کے باوجود اس میں ہمیشہ ہر موسم میں ہر طرح کے پھل اور ترکاریاں اور تمام ضروریات مہیا رہتی ہیں، کہ صرف اہل مکہ کے لئے نہیں بلکہ اطراف عالم سے آنے والوں کے لئے بھی کافی ہوجاتی ہیں، اور آنے والوں کا حال دنیا کو معلوم ہے کہ خاص موسم حج میں تو لاکھوں انسان اطراف عالم سے جمع ہوتے ہیں جن کی مردم شماری اہل مکہ سے چوگنی پانچ گنی ہوتی ہے، یہ ہجوم عظیم وہاں صرف دو چار روز نہیں بلکہ مہینوں رہتا ہے، موسم حج کے علاوہ بھی کوئی وقت ایسا نہیں آتا جس میں باہر سے ہزاروں انسانوں کی آمد و رفت نہ رہتی ہو، پھر خاص موسم حج میں جبکہ وہاں لاکھوں انسانوں کا زائد مجمع ہوتا ہے کبھی نہیں سنا گیا کہ بازار میں کسی وقت بھی ایشاء ضرورت ختم ہوگئیں، ملتی نہیں، یہاں تک کہ قربانی کے بکرے جو وہاں پہنچ کر ایک ایک انسان سو سو بھی کرتا ہے اور اوسط فی کس ایک کا تو یقینی ہے، یہ لاکھوں بکرے وہاں ہمیشہ ملتے ہیں، یہ بھی نہیں کہ دوسرے ملک سے منگوانے کا اہتمام کیا جاتا ہو، قرآن کریم میں (یجبی علیہ ثمرت کل شیء۔ 28: 57) " یعنی اس میں باہر سے لائے جاتے ہیں ثمرات ہر چیز کے " ان الفاظ میں اس کی طرف واضح اشارہ بھی موجود ہے۔ یہ تو ظاہری برکات کا حال ہے جو مقصود کی حیثیت نہیں رکھتیں، اور معنوی و باطنی برکات تو اتنی ہیں کہ اس کا شمار نہیں ہوسکتا، بعض اہم عبادات تو بیت اللہ کے ساتھ مخصوص ہیں، ان میں جو اجر عظیم اور برکات روحانی ہیں ان سب کا مدار بیت اللہ پر ہے، مثلا حج وعمرہ، اور بعض دوسری عبادات کا بھی مسجد حرام میں ثواب بدرجہا بڑھ جاتا ہے، رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ کوئی انسان گھر میں نماز پڑھے اس کو ایک نماز کا ثواب ملے گا، اور اگر اپنے محلہ کی مسجد میں ادا کرے تو اس کو پچیس نمازوں کا ثواب حاصل ہوگا، اور جو جامع مسجد میں ادا کرے تو پانچ سو نمازوں کا ثواب پائے گا، اور اگر مسجد اقصی میں نماز ادا کی تو ایک ہزار نمازوں کا اور میری مسجد میں پچاس ہزار نمازوں کا ثواب ملتا ہے، اور مسجد حرام میں ایک لاکھ نمازوں کا۔ (یہ روایت ابن ماجہ و طحاوی وغیرہ نے نقل کی ہے) حج کے فضائل میں یہ حدیث عام مسلمان جانتے ہیں کہ حج کو صحیح طور پر ادا کرنے والا مسلمان پچھلے گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ماں کے پیٹ سے پاک و صاف پیدا ہوا ہے، ظاہر ہے کہ یہ سب بیت اللہ کی معنوی اور روحانی برکات ہیں، انہی برکات کو آیت کے آخر میں لفظ ھدی سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ (مبارکا وھدی للعالمین)۔
Ayah 3:97

فِیْهِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِیْمَ١ۚ۬ وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا١ؕ وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:97 in the Quran reader

اس میں نشانیاں ہیں ظاہر جیسے مقام ابراہیم اور جو اس کے اندر آیا اس کو امن ملا اور اللہ کا حق ہے لوگوں پر حج کرنا اس گھر کا جو شخص قدرت رکھتا ہو اس کی طرف راہ چلنے کی اور جو نہ مانے تو پھر اللہ پر واہ نہیں رکھتا جہان کے لوگوں کی۔

خلاصہ تفسیر اس میں (کچھ تشریعی کچھ تکوینی) کھلی نشانیاں (اس کی افضلیت کی موجود) ہیں (چنانچہ تشریعی نشانیوں میں اس کا مبارک اور ہدی بتفسیر مذکور ہونا بیان ہوچکا اور کچھ مقام ابراہیم کے بعد مذکور ہیں یعنی اس میں داخل ہونے والے کا مستحق امن ہوجانا اور اس کا حج بشرائطہ فرض ہونا جو کہ مطلق مشروعیۃ مذکورہ سابق پر زائد مفہوم ہے۔ یہ چار نشانیاں تو تشریعی اس جگہ مذکور ہیں، اب درمیان میں تکوینی کا ذکر فرماتے ہیں کہ) منجملہ ان (نشانیوں) کے ایک مقام ابراہیم (نشانی) ہے، اور (ایک تشریعی نشانی یہ ہے کہ) جو شخص اس (کے حدود متعلقہ) میں داخل ہوجاوے وہ (شرعا) امن والا ہوجاتا ہے اور (ایک تشریعی نشانی یہ ہے کہ) اللہ کے (خوش کرنے کے) واسطے لوگوں کے ذمہ اس مکان کا حج کرنا (فرض) ہے (مگر سب کے ذمہ نہیں بلکہ خاص خاص) یعنی اس شخص کے جو کہ طاقت رکھے وہاں تک (پہنچنے) کے سبیل کی اور جو شخص (احکام خداوندی کا) منکر ہو تو (خدا تعالیٰ کا کیا ضرر کیونکہ) اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے غنی ہیں (کسی کا ماننے پر ان کا کوئی کام اٹکا نہیں پڑا بلکہ خود اس منکر ہی کا ضرر ہے)۔ معارف و مسائل بیت اللہ کی تین خصوصیات اس آیت میں بیت اللہ یعنی کعبہ کی خصوصیت اور فضائل بیان کئے گئے ہیں، ایک یہ کہ اس میں اللہ کی قدرت کی بہت سی نشانیاں ہیں، منجملہ ان کے مقام ابراہیم ہے، دوسرے یہ کہ جو شخص اس میں داخل ہوجائے وہ امن والا اور محفوظ ہوجاتا ہے، کوئی اس کو قتل نہیں کرسکتا، تیسرے یہ کہ ساری دنیا کے مسلمانوں پر اس بیت اللہ کا حج فرض ہے، بشرطیکہ وہاں تک پہنچنے کی استطاعت ہو، اور قدرت رکھتا ہو۔ پہلی بات کہ اس میں اللہ جل شانہ کی قدرت کی بڑی نشانیاں ہیں، اس کی توضیح یہ ہے کہ جب سے بیت اللہ قائم ہوا اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو مخالفین کے حملوں سے محفوظ فرمادیا، ابرہہ نے ہاتھیوں کا لشکر لے کر چڑھائی کی، تو اللہ جل شانہ نے اپنی قدرت کاملہ سے ان کو پرندوں کے ذریعہ تباہ و ہلاک کردیا، حرم مکہ میں داخل ہونے والاانسان بلکہ جانور تک محفوظ ہے، جانوروں میں بھی اس کا احساس ہے، حدود حرم کے اندر جانور بھی اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں وہاں وحشی شکاری جانور انسان سے نہیں بھاگتا، عام طور پر یہ بھی مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ بیت اللہ کی جس جانب بارش ہوتی ہے اس جانب کے ممالک زیادہ بارش سے سیراب ہوتے ہیں ایک عجیب نشانی یہ ہے کہ جمرات جن پر ایک حج کرنے والا سات سات کنکریاں روزانہ تین روز تک پھینکتا ہے، اور ہر سال لاکھوں حجاج وہاں جمع ہوتے ہیں، یہ ساری کنکریاں اگر وہاں جمع ہو کر باقی رہیں تو ایک ہی سال میں وہ جمرات کنکریوں کے ڈھیر میں دب جائیں، اور چند سال میں تو وہاں ایک پہاڑ بن جائے۔ حالانکہ مشاہدہ میں یہ ہے کہ حج کے تینوں دن گزرنے کے بعد وہاں کنکریوں کا کوئی بہت بڑا انبار جمع نہیں ہوتا، کچھ کنکریاں پھیلی ہوئی نظر آتی ہیں جس کی وجہ حدیث آنحضرت ﷺ نے یہ بیان فرمائی کہ یہ کنکریاں فرشتے اٹھا لیتے ہیں اور صرف ایسے لوگوں کی کنکریاں باقی رہ جاتی ہیں جن کا حج کسی وجہ سے قبول نہیں ہوا، اور یہی وجہ ہے کہ جمرات کے پاس سے کنکریاں اٹھا کر رمی کرنے کی ممانعت کی گئی ہے، کیونکہ وہ غیر مقبول ہیں، رسول کریم ﷺ کے اس ارشاد کی تصدیق ہر دیکھنے والا آنکھوں سے مشاہدہ کرتا ہے، کہ جمرات کے آس پاس بہت تھوڑی سی کنکریاں نظر آتی ہیں، حالانکہ وہاں سے اٹھا نے یا صاف کرنے کا نہ کوئی اہتمام حکومت کی طرف سے ہوتا ہے نہ عوام کی طرف سے۔ (حاشیہ 1) (حاشیہ) اب معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے اٹھوانے کا انتظام کیا ہے۔ (محمد تقی عثمانی) اس وجہ سے شیخ جلال الدین سیوطی ؒ نے خصائص کبری میں فرمایا کہ رسول کریم ﷺ کے بعض معجزات ایسے بھی ہیں جو آپ کی وفات کے بعد بھی موجود اور قائم ہیں، اور قیامت تک باقی رہیں گے، اور ہر شخص ان کا مشاہدہ کرسکے گا، ان میں سے ایک تو قرآن کا بےنظیر ہونا ہے کہ ساری دنیا اس کی مثال لانے سے عاجز ہے، یہ عجز جیسے عہد نبوی میں تھا ایسے ہی آج بھی موجود ہے، اور قیامت تک رہے گا، ہر زمانہ کا مسلمان پوری دنیا کو چیلنج کرسکتا ہے کہ (فاتوا بسورۃ من مثلہ) اسی طرح جمرات کے بارے میں جو آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ ان پر پھینکی ہوئی کنکریاں نامعلوم طور پر فرشتے اٹھا لیتے ہیں، صرف ان بدنصیب لوگوں کی کنکریاں رہ جاتی ہیں جن کے حج قبول نہیں ہوتے، آپ ﷺ کے اس ارشاد کی تصدیق ہر زمانہ ہر قرن میں ہوتی رہی ہے، اور قیامت تک ہوتی رہے گی، یہ رسول کریم ﷺ کا ہمیشہ باقی رہنے والا معجزہ اور بیت اللہ سے متعلق اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نشانی ہے۔ مقام ابراہیم ان نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی مقام ابراہیم ہے، اسی لئے قرآن کریم نے اس کو مستقل طور پر علیحدہ بیان فرمایا، مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم ؑ بیت اللہ کی تعمیر فرماتے تھے، اور بعض روایات میں ہے کہ پتھر تعمیر کی بلندی کے ساتھ ساتھ خودبخود بلند ہوجاتا تھا، اور نیچے اترنے کے وقت نیچا ہوجاتا تھا، اس پتھر کے اوپر حضرت ابراہیم ؑ کے قدم مبارک کا گہرا نشان آج تک موجود ہے، ظاہر ہے کہ ایک بےحس و بےشعور پتھر میں یہ ادراک کہ ضرورت کے موافق بلند یا پست ہوجائے اور یہ تاثر کہ موم کی طرح نرم ہو کر قدمین کا مکمل نقشہ اپنے اندر لے لے، یہ سب آیات قدرت ہیں جو بیت اللہ کی اعلی فضیلت ہی سے متعلق ہیں، یہ پتھر بیت اللہ کے نیچے دروازے کے قریب تھا، جب قرآن کا یہ حکم نازل ہوا کہ مقام ابراہیم پر نماز پڑھو (واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی) اس وقت طواف کرنے والوں کی مصلحت سے اس کو اٹھا کر بیت اللہ کے سامنے ذرا فاصلے پر مطاف سے باہر بیر زمزم کے قریب رکھ دیا گیا، اور آج کل اس کو اسی جگہ ایک محفوظ مکان میں مقفل کیا ہوا ہے، طواف کے بعد کی دو رکعتیں اسی مکان کے پیچھے پڑھی جاتی ہیں، حال میں یہ ترمیم ہوئی کہ وہ مکان تو ہٹا دیا گیا اور مقام ابراہیم کو ایک بلوری خول کے اندر محفوظ کردیا گیا، مقام ابراہیم اصل میں اس خاص پتھر کا نام ہے، اور طواف کے بعد کی رکعتیں اس کے اوپر یا اس کے پاس پڑھنا افضل ہے، لیکن مقام ابراہیم کے لفظی معنی کے اعتبار سے یہ لفظ تمام مسجد حرام کو حاوی ہے، اسی لئے حضرات فقہاء نے فرمایا کہ مسجد حرام کے اندر جس جگہ بھی طواف کی رکعتیں پڑھ لے واجب ادا ہوجائے گا۔ داخل بیت اللہ کا مامون ہونا آیت مذکورہ میں بیت اللہ کی دوسری خصوصیت یہ بتلائی گئی ہے کہ جو اس میں داخل ہوجائے وہ امن والا یعنی مامون و محفوظ ہوجاتا ہے، اس میں داخل ہونے والے کا مامون و محفوظ ہونا ایک تو تشریعی اعتبار سے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو یہ حکم ہے کہ جو شخص اس میں داخل ہوجائے اس کو نہ ستاؤ نہ قتل کرو، اگر کوئی شخص کسی کو قتل کر کے یا کوئی اور جرم کر کے وہاں چلا جائے اس کو بھی اس جگہ سزا نہ دی جائے، بلکہ اس کو اس پر مجبور کیا جائے کہ وہ حرم سے باہر نکلے، حرم سے باہر آنے پر سزا جاری کی جائے گی، اس طرح حرم میں داخل ہونے والا شرعی طور پر مامون و محفوظ ہوگیا۔ دوسرے حرم میں داخل ہونے کا مامون و محفوظ ہونا یوں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تکوینی طور پر ہر قوم و ملت کے دلوں میں بیت اللہ کی تعظیم و تکریم ڈال دی ہے اور وہ سب عموما ہزاروں اختلافات کے باوجود اس عقیدے پر متفق ہیں کہ اس میں داخل ہونے والا اگرچہ مجرم یا ہمارا دشمن ہی ہو تو حرم کا احترام اس کا مقتضی ہے کہ وہاں اس کو کچھ نہ کہیں، حرم کو عام جھگڑوں لڑائیوں سے محفوظ رکھا جائے، زمانہ جاہلیت کے عرب اور ان کے مختلف قبائل خواہ کتنی ہی عملی خرابیوں میں مبتلا تھے، مگر بیت اللہ اور حرم محترم کی عظمت پر سب جان دیتے تھے، ان کی جنگ جوئی اور تند خوئی ساری دنیا میں مشہور ہے، لیکن حرم کے احترام کا یہ حال تھا کہ باپ کے قاتل بیٹے کے سامنے آتا تو مقتول کا بیٹا جو اس کے خون کا پیاسا ہوتا تھا اپنی آنکھیں نیچی کر کے گذر جاتا تھا اس کو کچھ نہ کہتا تھا۔ فتح مکہ میں صرف رسول اللہ ﷺ کے لئے دین کی اہم مصلحت اور بیت اللہ کی تطہیر کی خاطر صرف چند گھنٹوں کے لئے حرم میں قتال کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی تھی، اور فتح کے بعد آپ ﷺ نے بڑی تاکید کے ساتھ اس کا اعلان و اظہار فرمایا کہ یہ اجازت صرف رسول اللہ ﷺ کے لئے تطہیر بیت اللہ کی غرض سے تھی اور وہ بھی چند گھنٹوں کے لئے تھی، اس کے بعد ہمیشہ کے لئے پھر اس کی وہی حرمت ثابت ہے جو پہلے سے تھی، اور فرمایا کہ حرم کے اندر قتل و قتال نہ مجھ سے پہلے حلال تھا نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہے، اور میرے لئے بھی صرف چند گھنٹوں کے لئے حلال ہوا تھا پھر حرام کردیا گیا۔ رہا یہ معاملہ کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ ابن زبیر ؓ کے خلاف مکہ میں فوج کشی کی اور قتل و غارت کیا، یہ اس امن عام کے تشریعی طور پر اس لئے خلاف نہیں کہ باجماع امت اس کا یہ فعل حرام اور سخت گناہ تھا، تمام امت نے اس پر نفرین کی اور تکوینی طور پر بھی اس کو احترام بیت اللہ کے منافی اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ حجاج خود بھی اپنے اس عمل کے حلال ہونے کا معتقد نہ تھا، وہ بھی جانتا تھا کہ میں ایک سنگین جرم کر رہا ہوں، لیکن سیاست و حکومت کی مصالح نے اس کو اندھا کیا ہوا تھا۔ بہرحال یہ بات پھر بھی محفوظ تھی کہ عامہ خلائق بیت اللہ اور حرم کو اس درجہ واجب الاحترام سمجھتے رہے ہیں کہ اس میں قتل و قتال اور لڑائی جھگڑے کو بدترین گناہ سمجھتے ہیں، اور یہ ساری دنیا میں صرف بیت اللہ اور حرم محترم ہی کی خصوصیت ہے۔ حج بیت اللہ کا فرض ہونا آیت میں بیت اللہ کی تیسری خصوصیت یہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر بیت اللہ کا حج کرنا لازم واجب قرار دیا ہے، بشرطیکہ وہ بیت اللہ تک پہنچنے کی قدرت و استطاعت رکھتے ہوں، اس مقدرت و استطاعت کی تفصیل یہ ہے کہ اس کے پاس ضروریات اصلیہ سے فاضل اتنا مال ہو جس سے وہ بیت اللہ تک آنے جانے اور وہاں کے قیام کا خرچ برداشت کرسکے، اور اپنی واپسی تک ان اہل و عیال کا بھی انتظام کرسکے جن کا نفقہ ان کے ذمہ واجب ہے، نیز ہاتھ پاؤں اور آنکھوں سے معذور نہ ہو، کیونکہ ایسے معذور کو تو اپنے وطن میں چلنا پھرنا بھی مشکل ہے، وہاں جانے اور ارکان حج ادا کرنے پر کیسے قدرت ہوگی۔ اسی طرح عورت کے لئے چونکہ بغیر محرم کے سفر کرنا شرعا جائز نہیں، اس لئے وہ حج پر قادر اس وقت سمجھی جائے گی جبکہ اس کے ساتھ کوئی محرم حج کرنے والا ہو، خواہ محرم اپنے خرچ سے حج کر رہا ہو، یا یہ عورت اس کا خرچ بھی برداشت کرے، اسی طرح وہاں تک پہنچنے کے لئے راستہ کا مامون ہونا بھی استطاعت کا ایک جزء ہے، اگر راستہ میں بدامنی ہو، جان و مال کا قوی خطرہ ہو حج کی استطاعت نہیں سمجھی جائے گی۔ لفظ حج کے لغوی معنی قصد کرنے کے ہیں، اور شری معنی کی ضروری تفصیل تو خود قرآن کریم نے بیان فرمائی کہ طواف کعبہ اور وقوف عرفہ و مزدلفہ وغیرہ ہیں، اور باقی تفصیلات رسول کریم ﷺ نے اپنے زبانی ارشادات اور عملی بیانات کے ذریعہ واضح فرمادی ہیں، اس آیت میں حج بیت اللہ کے فرض ہونے کا اعلان فرمانے کے بعد آخر میں فرمایا (ومن کفر فان اللہ غنی عن العلمین) یعنی جو شخص منکر ہو تو اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے تمام جہان والوں سے۔ اس میں وہ شخص تو داخل ہے ہی جو صراحۃ فریضہ حج کا منکر ہو، حج کو فرض نہ سمجھے، اس کا دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہونا تو ظاہر ہے، اس لئے ومن کفر کا لفظ اس پر صراحۃ صادق ہے، اور جو شخص عقیدہ کے طور پر فرض سمجھتا ہے، لیکن باوجود استطاعت وقدرت کے حج نہیں کرتا، وہ بھی ایک حیثیت سے منکر ہی ہے، اس پر لفظ ومن کفر کا اطلاق تہدید اور تاکید کے لئے ہے، کہ یہ شخص کافروں جیسے عمل میں مبتلا ہے، جیسے کافر و منکر حج نہیں کرتے یہ بھی ایسا ہی ہے، اسی لئے فقہاء رحمہم اللہ نے فرمایا کہ آیت کے اس جملہ میں ان لوگوں کے لئے سخت وعید ہے جو باوجود قدرت و استطاعت کے حج نہیں کرتے کہ وہ اپنے اس عمل سے کافروں کی طرح ہوگئے۔ (العیاذ باللہ)
Ayahs 3:98–101

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:98 in the Quran reader

تو کہہ اے اہل کتاب کیوں منکر ہوتے ہو اللہ کے کلام سے اور اللہ کے روبرو ہے جو تم کرتے ہو

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا وَّ اَنْتُمْ شُهَدَآءُ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:99 in the Quran reader

تو کہہ اے اہل کتاب کیوں روکتے ہو اللہ کی راہ سے ایمان لانیوالوں کو کہ ڈھونڈہتے ہو اس میں عیب اور تم خود جانتے ہو اور اللہ بیخبر نہیں تمہارے کام سے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ یَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 3:100 in the Quran reader

اے ایمان والوں اگر تم کہا مانو گے بعضے اہل کتاب کا تو پھر کردیں گے وہ تم کو ایمان لائے پیچھے کافر

وَ كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ وَ اَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ اٰیٰتُ اللّٰهِ وَ فِیْكُمْ رَسُوْلُهٗ١ؕ وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِیَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 3:101 in the Quran reader

اور تم کس طرح کافر ہوتے ہو اور تم پر پڑھی جاتی ہیں آیتیں اللہ کی اور تم میں اس کا رسول ہے اور جو کوئی مضبوط پکڑے اللہ کو تو اس کو ہدایت ہوئی سیدھے راستے کی۔

ربط آیات اوپر سے اہل کتاب کے عقائد فاسدہ اور ان کے شبہات پر کلام چل رہا تھا، درمیان میں بیت اللہ اور حج کا تذکرہ آیا، آگے پھر اہل کتاب ہی سے خطاب ہے جس کا تعلق ایک خاص واقعہ سے ہے، کہ ایک یہودی شماس بن قیس مسلمانوں سے بہت کینہ رکھتا تھا، اس نے ایک مجلس میں انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج کو ایک جگہ مجتمع و متفق دیکھا تو حسد سے بےچین ہوگیا، اور ان میں تفریق ڈالنے کی فکر میں لگا، آخر یہ تجویز کی کہ ایک شخص سے کہا کہ ان دونوں قبیلوں میں اسلام سے پہلے جو ایک بڑی جنگ عرصہ دراز تک رہ چکی ہے، اور اس کے متعلق فریقین کے فخریہ اشعار ہیں وہ اشعار ان کی مجلس میں پڑھ دیئے جائیں۔ چناچہ اشعار کا پڑھنا تھا فورا ایک آگ سی بھڑک اٹھی، اور آپس میں چناں چنیں ہونے لگی، یہاں تک کہ موقع اور وقت لڑائی کا پھر مقرر ہوگیا۔ حضور ﷺ کو خبر ہوئی تو آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اندہیر ہے، میرے ہوتے ہوئے پھر مسلمان ہونے اور باہم متفق و مانوس ہونے کے بعد یہ کیا جہالت ہے، کیا تم اسی حالت میں کفر کی طرف عود کرنا چاہتے ہو ؟ سب متنبہ ہوئے اور سمجھا کہ یہ شیطانی حرکت تھی، اور ایک دوسرے کے گلے لگ کر بہت روئے اور توبہ کی، اس واقعہ میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ اس واقعہ کو روح المعانی میں بروایت ابن اسحاق اور ایک جماعت نے زید بن اسلم سے روایت کیا ہے، یہ مضمون کئی آیتوں تک چلا گیا ہے، جس میں اول ملامت ہے ان اہل کتاب پر جنہوں نے یہ کارروائی کی تھی اور یہ ملامت بڑی بلاغت سے کی گئی، کہ اس فعل پر ملامت ہے پہلے ان کے کفر پر بھی ملامت کی، جس کا حاصل یہ ہوا کہ چاہئے تو یہ تھا کہ خود بھی مسلمان ہوجائے نہ یہ کہ دوسروں کے گمراہ کرنے کی فکر میں لگ رہے، پھر خطاب و فہمائش مسلمانوں کو ہے۔ خلاصہ تفسیر (اے محمد ﷺ آپ (ان اہل کتاب سے) فرما دیجیے کہ اے اہل کتاب تم (بعد ظہور حجت حقانیت اسلام کے) کیوں انکار کرتے ہو اللہ تعالیٰ کے احکام کا (اصول و فروع اس میں سب آگئے) حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کی اطلاع رکھتے ہیں (تم کو اس سے بھی ڈر نہیں لگتا، اور اے محمد ﷺ ان سے یہ بھی) فرما دیجیے کہ اے اہل کتاب کیوں (ہٹانے کی کوشش کرتے) ہو اللہ کی راہ (یعنی اس کے دین حق) سے ایسے شخص کو جو (اس دین حق کے ہونے پر) ایمان لاچکا اس طور پر کہ کجی (کی باتیں) ڈھوندتے ہو اس راہ کے (اندر پیدا کرنے کے) لئے (جیسا کہ قصہ مذکورہ میں کوشش کی تھی کہ اس کارروائی سے ان کے دین کے اندر بوجہ نااتفاقی کہ گناہ بھی ہے اور اجتماعی قوت کی بربادی بھی، اور یہ کہ ان بکھیڑوں میں پڑ کر دین حق سے ان کو بعد ہوجاوے گا) حالانکہ تم خود بھی (اس حرکت کے قبیح ہونے کی) اطلاع رکھتے ہو، اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے بیخبر نہیں (وقت معین پر اس کی سزا دیں گے) اے ایمان والو اگر تم کہنا مانو گے کسی فرقہ کا ان لوگوں میں سے جن کو کتاب دی گئی ہے (یعنی اہل کتاب میں سے) تو وہ لوگ تمہارے ایمان لائے پیچھے (اعتقادا یا عملا) کافر بنادیں گے اور (بھلا) تم کفر کیسے کرسکتے ہو (یعنی تمہارے لئے کب روا ہوسکتا ہے) حالانکہ (اسباب مانع کفر کے پورے جمع ہیں کیونکہ) تم کو اللہ تعالیٰ کے احکام (قرآن میں) پڑھ کر سنائے جاتے ہیں اور (پھر) اللہ کا رسول ﷺ موجود ہیں (اور دونوں قوی ذرائع ہیں ایمان پر قائم رہنے کے، پس تم کو چاہئے کہ ان دونوں ذریعوں کی تعلیم تلقین کے موافق ایمان پر اور ایمان کی باتوں پر قائم رہو) اور (یاد رکھو کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کو مضبوط پکڑتا ہے (یعنی ایمان پر پورا قائم رہتا ہے، کیونکہ اللہ کو مضبط پکڑنا یہی ہے کہ اس کی ذات وصفات کی تصدیق کرے، اس کے احکام کو مضبوط پکڑے، کسی دوسرے مخالف کی موافقت نہ کرے) تو (ایسا شخص) ضرور راہ راست کی ہدایت کیا جاتا ہے (یعنی وہ راہ راست پر ہوتا ہے، اور راہ راست پر ہونا اصل ہے ہر صلاح و فلاح کی، پس اس میں ایسے شخص کے لئے ہر صلاح کی بشارت و وعدہ ہے)۔
Ayah 3:102

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 3:102 in the Quran reader

اے ایمان والو ڈرتے رہو اللہ سے جیسا چاہئے اس سے ڈرنا اور نہ مریو مگر مسلمان

ربط آیات سابقہ آیات میں مسلمانوں کو اس پر تنبیہ کی گئی تھی کہ اہل کتاب اور دوسرے لوگ جو تمہیں گمراہی میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں ان کی گمراہی سے باخبر رہ کر بچنے کا اہتمام کریں، مذکورہ دو آیتوں میں مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو مضبوط، ناقابل تسخیر بنانے کے دو اہم اصول بتلائے گئے ہیں۔ اول تقوی، دوسرے باہمی اتفاق و اتحاد، اور تفرق و اختلاف سے بچنا۔ خلاصہ تفسیر اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے (ایسا) ڈرا کرو (جیسا) ڈرنے کا حق ہے (کامل ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح شرک و کفر سے بچتے ہو اسی طرح تمام گناہوں سے بھی بچا کرو اور بلا وجہ شرعی لڑنا معصیت ہے تو اس سے بھی بچنا فرض ہے) اور بجز اسلام (کامل) کے (جس کا حاصل وہی ہے جو کامل ڈرنے کا حق تھا) اور کسی حالت پر جان نہ دینا (یعنی اسی کامل تقوی اور کامل اسلام پر تادم مرگ قائم رہنا) اور مضبوط پکڑے رہو، اللہ تعالیٰ کے سلسلہ کو (یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کو جس میں اصول و فروع سب آگئے) اس طور پر کہ باہم سب متفق بھی رہو (جس کی اسی دین میں تعلیم بھی ہے) اور باہم نااتفاقی مت کرو (جس کی اسی دین میں ممانعت بھی ہے) اور تم پر جو اللہ تعالیٰ کا انعام (ہوا) ہے اس کو یاد کرو جبکہ تم کم (باہم) دشمن تھے (یعنی قبل اسلام کے، چناچہ اوس و خزرج کے دو قبیلوں میں طویل مدت سے جنگ چلی آتی تھی، اور عام طور پر اکثر عرب کے لوگوں کی یہی حالت تھی) پس اللہ تعالیٰ نے (اب) تمہارے قلوب میں (ایک دوسرے کی) الفت ڈال دی، سو تم اللہ تعالیٰ کے (اس) انعام (تالیف قلوب) سے (اب) آپس میں بھائی بھائی (کی طرح) ہوگئے اور (ایک انعام جو کہ انعام مذکورہ کی بھی اصل ہے یہ فرمایا کہ) تم لوگ (بالکل) دوزخ کے گڑھے کے کنارے (ہی) پر کھڑے تھے (یعنی بوجہ کافر ہونے کے دوزخ سے اتنے قریب تھے کہ بس دوزخ میں جانے کے لئے صرف مرنے کی دیر تھی) سو اس (گڑھے) سے اللہ تعالیٰ نے تمہاری جان بچائی (یعنی اسلام نصیب کیا جس نے جہنم سے نجات دلائی، تو اب تم ان انعاموں کی قدر پہچانو اور آپس کے جدال و قتال سے جو کہ معصیت ہے اللہ کی ان نعمتوں کو زائل نہ کرو، کیونہ باہمی جنگ وجدال سے پہلا انعام سب کے قلوب کا باہم مربوط اور مانوس ہونا تو خود ہی زائل ہوجائے گا، اور دوسرا انعام یعنی دین اسلام بھی اس سے مختل اور کمزور ہوجائے گا اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ احکام واضح طور پر بیان فرمائے ہیں) اسی طرح اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو اپنے (اور) احکام (بھی) بیان کر کے بتلاتے ہیں تاکہ تم لوگ راہ (راست) پر قائم رہو۔ معارف و مسائل مسلمانوں کی اجتماعی قوت کے دو اصول، تقوی اور باہمی اتفاق مذکورہ بالا دو آیتوں میں سے پہلی آیت میں پہلا اصول اور دوسری میں دوسرا بتلایا گیا ہے، پہلا اصول جو مذکورہ آیت نے بتلایا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے یعنی اس کی ناپسندیدہ چیزوں سے بچنے کا مکمل اہتمام جو اللہ تعالیٰ کے حق کے مطابق ہو۔ لفظ تقوی اصل عربی زبان میں بچنے اور اجتناب کرنے کے معنی میں آتا ہے، اس کا ترجمہ ڈرنا بھی اس مناسبت سے کیا جاتا ہے کہ جن چیزوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے وہ ڈرنے ہی کی چیزیں ہوتی ہیں، تاکہ ان سے عذاب الہی کا خطرہ ہے، وہ ڈرنے کی چیز تقوی کے کئی درجات ہیں، ادنی درجہ کفر و شرک سے بچنا ہے، اس معنی کے لحاظ سے ہر مسلمان کو متقی کہا جاسکتا ہے، اگرچہ گناہوں میں مبتلا ہو، اس معنی کے لئے بھی قرآن میں کئی جگہ لفظ متقین اور تقوی استعمال ہوا ہے۔ دوسرا درجہ جو اصل میں مطلوب ہے وہ ہے اس چیز سے بچنا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک پسندیدہ نہیں، تقوی کے فضائل و برکات جو قرآن و حدیث میں آئے ہیں وہ اسی درجہ پر موعود ہیں۔ تیسرا درجہ تقوی کا اعلی مقام ہے جو انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے خاص نائیبین اولیاء اللہ کو نصیب ہوتا ہے کہ اپنے قلب کو ہر غیر اللہ سے بچانا اور اللہ کی یاد اور اس کی رضا جوئی سے معمور رکھنا، مذکورہ آیت میں اتقوا اللہ کے بعد حق تقاتہ کا کلمہ بڑھا دیا گیا ہے کہ تقوی کا وہ درجہ حاصل کرو جو حق ہے تقوی کا۔ حق تقوی کیا ہے ؟ اس کی تفسیر حضرت عبداللہ بن مسعود اور ربیع اور قتادہ اور حسن بصری ؓ نے یہ فرمائی ہے جو مرفوعا خود رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے " حق تقاتہ ھو ان یطاع فلا یعصی و یذکر فلا ینسی ویشکر فلا یکفر " (بحر محیط) حق تقوی یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت ہر کام میں کی جائے کوئی کام اطاعت کے خلاف نہ ہو اور اس کو ہمیشہ یاد رکھیں کبھی بھولیں نہیں اور اس کا شکر ہمیشہ ادا کریں کبھی ناشکری نہ کریں۔ اسی مفہوم کو ائمہ تفسیر نے دوسرے عنوانات سے بھی ادا کیا ہے، مثلا بعض نے فرمایا کہ حق تقوی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی کی ملامت اور برائی کی پروا نہ کرے اور ہمیشہ انصاف پر قائم رہے، اگرچہ انصاف کرنے میں خود اپنے نفس یا اپنی اولاد یا ماں باپ ہی کا نقصان ہوتا ہو، اور بعض نے فرمایا کہ کوئی آدمی اس وقت تک حق تقوی ادا نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ اپنی زبان کو محفوظ نہ رکھے۔ اور قرآن کریم کی ایک دوسری آیت میں جو اتقوا اللہ ما استطعتم ہے یعنی اللہ سے ڈرو جتنا تمہاری قدرت میں ہے تو حضرت ابن عباس ؓ اور طاؤس ؒ نے فرمایا کہ یہ درحقیقت حق تقاتہ کی ہی تفسیر و تشریح ہے اور مطلب یہ ہے کہ معاصی اور گناہوں سے بچنے میں اپنی پوری توانائی اور طاقت صرف کردے تو حق تقوی ادا ہوگیا، اگر کوئی شخص اپنی پوری توانائی صرف کرنے کے بعد کسی ناجائز میں مبتلا ہو ہی گیا تو وہ حقوق تقوی کے خلاف نہیں۔ اگلے جملے میں جو ارشاد فرمایا فلا تموتن الا وانتم مسلمون، اس سے معلوم ہوا کہ تقوی درحقیقت پورا اسلام ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مکمل اطاعت اور اس کی نافرمانی میں حکم یہ ہے کہ تمہاری موت اسلام ہی پر آنی چاہیے اسلام کے سوا کسی حال پر موت نہ آتی چاہیے۔ تو یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ موت تو آدمی کے اختیار میں نہیں کسی وقت کسی حال میں آسکتی ہے، کیونکہ حدیث میں ہے کما تحیون تموتون وکما تموتون تحشرون، یعنی جس حالت پر تم اپنی زندگی گزار دو اسی پر موت آئے گی، اور جس حالت میں موت آئے گی اسی حالت میں حشر میں کھڑے کئے جاؤ گے۔ تو جو شخص اپنی پوری زندگی اسلام پر گزارنے کا پختہ عزم رکھتا ہے اور زندگی بھر اس پر عمل کرتا ہے اس کی موت انشاء اللہ اسلام ہی پر آئے گی، بعض روایات حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ بعض آدمی ایسے بھی ہوں گے کہ ساری عمر اعمال صالحہ کرتے ہوئے گزر گئی، آخر میں کوئی ایسا کام کر بیٹھے جس سے سارے اعمال حبط و برباد ہوگئے، یہ ایسے ہی لوگوں کو پیش آسکتا ہے جن کے عمل میں اول اخلاص اور پختگی نہیں تھی۔ واللہ اعلم
Ayah 3:103

وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا١۪ وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًا١ۚ وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 3:103 in the Quran reader

اور مضبوط پکڑو رسی اللہ کی سب مل کر اور پھوٹ نہ ڈالو اور یاد کرو احساناللہ کا اپنے اوپر جب کہ تھے تم آپس میں دشمن پھر الفت دی تمہارے دلوں میں اب ہوگئے اس کے فضل سے بھائی، اور تم تھے کنارے پر ایک آگ کے گڑھے کے پھر تم کو اس سے نجات دی اسی طرح کھولتا ہے اللہ تم پر آیتیں تاکہ تم راہ پاؤ۔

مسلمانوں کی اجتماعی قوت کا دوسرا اصول باہمی اتفاق دوسری آیت واعتصموا بحبل اللہ جمیعا۔ میں اس کو نہایت بلیغ اور حکیمانہ انداز سے بیان فرمایا ہے کہ سب سے پہلے وہ اصول اور گر بتلایا جو انسانوں کو باہمی مربوط اور متفق کرنے کا نسخہ اکسیر ہے، اس کے بعد آپس میں متفق ہونے کا حکم دیا، اس کے بعد آپس کے افتراق و انتشار سے منع فرمایا۔ تشریح اس کی یہ ہے کہ اتفاق و اتحاد ایک ایسی چیز ہے جس کے محمود و مطلوب ہونے پر دنیا کے تمام انسان خواہ وہ کسی ملک اور کسی زمانے کے ہوں، کسی مذہب و مشرب سے تعلق رکھتے ہوں سب کا اتفاق ہے اس میں دو رائیں ہونے کا امکان ہی نہیں، دنیا میں شاید کوئی ایک آدمی بھی ایسا نہ نکلے جو لڑائی جھگڑے کو بذاتہ مفید اور بہتر جانتا ہوں، اس لئے دنیا کی ہر جماعت، ہر پارٹی لوگوں کو متفق کرنے کی ہی دعوت دیتی ہیں، لیکن دنیا کے حالات کا تجربہ بتلاتا ہے کہ اتفاق کے مفید اور ضروری ہونے پر سب کے اتفاق کے باوجود ہو یہ رہا ہے کہ انسانیت فرقوں، گروہوں، پارٹیوں میں بٹی ہوئی ہے، پھر ہر فرقہ کے اندر فرقے اور پارٹی کے اندر پارٹیوں کا لامحدود سلسلہ ایسا ہے کہ صحیح معنی میں دو آدمیوں کا اتحاد و اتفاق بھی ایک افسانہ بن کر رہ گیا ہے، وقتی اغراض کے تحت چند آدمی کسی بات پر اتفاق کرتے ہیں، اغراض پوری ہوجائیں، یا ان میں ناکامی ہوجائے تو نہ صرف یہ کہ اتفاق ختم ہوجائے بلکہ افتراق اور عداوتوں کی نوبت آتی ہے۔ غور کیا جائے تو اس کا سبب یہ معلوم ہوگا کہ ہر گروہ و ہر فرقہ اور ہر شخص لوگوں کو اپنے خود ساختہ پروگرام پر متحد و متفق کرنا چاہتا ہے، اور جبکہ دوسرے لوگ خود اپنا بنایا ہوا کوئی نظام و پروگرام رکھتے ہوں تو وہ ان سے متفق ہونے کی بجائے ان کو اپنے پروگرام پر متحد ہونے کی دعوت دیتے ہیں، اس لئے لازمی طور پر ہر دعوت اتحاد کا نتیجہ ایک ہی جماعتوں اور افراد کا افتراق و انتشار نکلتا ہے، اور اختلافات کی دلدل میں پھنسی ہوئی انسانیت کے ہاتھ اس کے سوا کچھ نہیں آتا کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی اس لئے قرآن حکیم نے صرف اتحاد و اتفاق اور تنظیم و اجتماع کا وعظ ہی نہیں فرمایا بلکہ اس کے حاصل کرنے اور باقی رکھنے کا ایک ایسا منصفانہ و عادلانہ اصول بھی بتلادیا جس کے ماننے سے کسی گروہ کو اختلاف نہیں ہونا چاہیے، وہ یہ ہے کہ کسی انسانی دماغ یا چند انسانوں کے بنائے ہوئے نظام و پروگرام کو دوسرے انسانوں پر تھوپ کر ان سے یہ امید رکھنا کہ وہ سب اس پر متفق ہوجائیں گے عقل و انصاف کے خلاف اور خود فریبی کے سوا کچھ نہیں، البتہ رب العالمین کا دیا ہوا نظام و پروگرام ضرور ایسی چیز ہے کہ اس پر سب انسانوں کو متفق ہونا ہی چاہیے، کوئی عقلمند انسان اس سے اصولا انکار نہیں کرسکتا، اب اگر اختلاف کی کوئی راہ باقی رہتی ہے تو وہ صرف اس بات کے پہچاننے میں ہوسکتی ہے کہ احکم الحاکمین رب العالمین کا بھیجا ہوا نظام کیا اور کون سا ہے، یہودی نظام تورات کو، نصاری نظام انجیل کو اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہواواجب التعمیل بتلاتے ہیں، یہاں تک کہ مشرکین کی مختلف جماعتیں بھی اپنی اپنی مذہبی رسوم کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کرتی ہیں۔ لیکن اول تو اگر انسان اپنے جماعتی تعصب اور آبائی تقلید سے ذرا بلند ہو کر اپنی عقل خداداد سے کام لے تو یہ حقیقت بےنقاب ہو کر اس کے سامنے آجاتی ہے کہ خاتم الانبیاء ﷺ جو اللہ تعالیٰ کا آخری پیام قرآن کی صورت میں لائے ہیں، آج اس کے سوا کوئی نظام اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول نہیں، اس سے بھی قطع نظر کیجئے تو اس وقت مخاطب مسلمان ہیں جن کا اس پر ایمان ہے کہ آج قرآن کریم ہی ایک ایسا نظام حیات ہے جو بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا ہے، اور چونکہ خود حق تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے، اس لئے قیامت تک اس میں کسی قسم کی تحریف و تغییر کا بھی امکان نہیں، اس لئے سردست میں غیر مسلم جماعتوں کی بحث کو چھوڑ کر قرآن پر ایمان رکھنے والے مسلمانوں ہی سے کہتا ہوں کہ ان کے لئے تو صرف یہی لائحہ عمل ہے، اگر مسلمانوں کی مختلف پارٹیاں قرآن کریم کے نظام پر متفق ہوجائیں تو ہزاروں گروہی اور نسلی وطنی اختلافات ایک لحظہ میں ختم ہوسکتے ہین، جو انسانی کی ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔ اب اگر مسلمانوں میں کوئی باہمی اختلاف رہے گا تو وہ صرف فہم قرآن اور تعبیر قرآن میں رہ سکتا ہے اور اگر ایسا اختلاف حدود کے اندر ہے بھی تو نہ وہ مذموم ہے اور نہ انسان کی اجتماعی زندگی کے لئے مضر بلکہ ایسا اختلاف رائے عقلاء کے درمیان رہنا فطری امر ہے، سو اس پر قابو پانا اور حدود کے اندر رکھنا کچھ دشوار نہیں، بخلاف اس کے کہ قرآنی نظام سے آزاد ہو کر ہماری پارٹیاں لڑتی رہیں تو اس وقت خلاف وجدال کا کوئی علاج نہیں رہتا، اور اسی اختلاف و انتشار کو قرآن کریم نے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، اور آج اسی قرآنی اصول کو نظر انداز کردینے کی وجہ سے ہماری پوری ملت انتشار و افتراق میں پھنس کر برباد ہورہی ہے، قرآن کریم کی آیت مذکورہ میں اس افتراق کو مٹانے کا نسخہ اکسیر اس طرح بتلایا ہے واعتصموا بحبل اللہ جمیعا۔ " یعنی اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھامو " اللہ کی رسی سے مراد قرآن مجید ہے، عبداللہ بن مسعود ؓ راوی ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایاکتاب اللہ ھو حبل اللہ الممدود من السماء الی الارض۔ یعنی کتاب اللہ اللہ تعالیٰ کی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے۔ (ابن کثیر) زید بن ارقم کی روایت میں حبل اللہ ہوا القرآن کے الفاظ آئے ہیں۔ (ابن کثیر) محاورہ عربی میں حبل سے مراد عہد بھی ہوتا ہے اور مطلقا ہر وہ شے جو ذریعہ یا وسیلہ کا کام دے سکے، قرآن کو یا دین کو رسی سے اس لئے تعبیر کیا گیا کہ یہی وہ رشتہ ہے جو ایک طرف اہل ایمان کا تعلق اللہ تعالیٰ سے قائم کرتا ہے اور دوسری طرف تمام ایمان لانے والوں کو باہم ملا کر ایک جماعت بناتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ قرآن کے اس ایک جملہ میں حکیمانہ اصول بتلائے گئے، ایک یہ کہ ہر انسان پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نظام حیات یعنی قرآن پر مضبوطی سے عامل ہو، دوسری یہ کہ سب مسلمان ملکر اس پر عمل کریں، جس کا نتیجہ لازمی یہ ہے کہ مسلمان سب باہم متفق و متحد اور منظم ہوجائیں، جیسے کوئی جماعت ایک رسی کو پکڑے ہوئے ہو تو پوری جماعت ایک جسم وحد بن جاتی ہے، قرآن کریم نے ایک دوسری آیت میں اس کو اور زیادہ واضح اس طرح بیان فرمایا ہےان الذین امنوا و عملوا الصلحت سیجعل لھم الرحمن ودا (19: 96)۔ " یعنی جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اللہ تعالیٰ ان کے آپس میں دوستی و محبت پیدا فرمادیتے ہیں "۔ پھر اس میں ایک لطیف تمثیل بھی ہے کہ مسلمان جب اللہ کی کتاب سے اعتصام کر رہے ہوں تو اس کی مثال اس حالت جیسی ہے جو کسی بلندی پر چڑھتے وقت ایک مضبوط ریس کو پکڑ لیں، اور ہلاکت سے محفوظ رہیں، لہذا اشارہ فرمایا کہ اگر سب ملکر اس کو پوری قوت سے پکڑے رہو گے، کوئی شیطان شرانگیزی میں کامیاب نہ ہوسکے گا، اور انفرادی زندگی کی طرح مسلم قوم کی اجتماعی قوت بھی غیر متزلزل اور ناقابل تسخیر ہوجائے گی، قرآن کریم سے تمسک کرنا ہی وہ چیز ہے جس سے بکھری ہوئی قوتیں جمع ہوتی ہیں اور ایک مردہ قوم حیات تازہ حاصل کرلیتی ہے، اور اس سے ہٹ کر ان کی قومی و اجتماعی زندگی تو تباہ ہو ہی جائے گی اور اس کے بعد انفرادی زندگی کی بھی کوئی خیر نہیں۔ پوری مسلم قوم کا اتفاق صرف اسلام ہی کی بنیاد پر ہوسکتا ہے نسبی اور وطنی وحدت سے یہ کام نہیں ہوسکتایہاں سب سے پہلے یہ جاننا لازمی ہے کہ وحدت و اتفاق کے لئے ضروری ہے کہ اس وحدت کا کوئی خاص مرکز ہو، پھر مرکز وحدت کے بارے میں اقوام عالم کی راہیں مختلف ہیں، کہیں نسلی اور نسبی رشتوں کو مرکز وحدت سمجھا گیا، جیسے قبائل عرب کی وحدت تھی کہ قریش ایک قوم اور بنو تمیم دوسری قوم سمجھی جاتی تھی، اور کہیں رنگ کا امتیاز اس وحدت کا مرکز بن رہا تھا، کہ کالے لوگ ایک قوم اور گورے دوسری قوم سمجھتے جاتے، کہیں وطنی اور لسانی وحدت کو مرکز اتحاد بنایا ہوا تھا کہ ہندی ایک قوم اور عربی دوسری قوم، کہیں آبائی رسوم و رواج کو مرکز وحدت بنایا گیا تھا، کہ جو ان رسوم کے پابند ہیں وہ ایک قوم اور جو ان کے پابند نہیں وہ دوسری قوم، جیسے ہندوستان کے ہندو اور آریہ سماج وغیرہ۔ قرآن کریم نے ان سب کو چھوڑ کر مرکز وحدت حبل اللہ قرآن کریم کو یعنی اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نظام محکم کو قرار دیا، اور دو ٹوک فیصلہ کردیا کہ مومن ایک قوم ہے جو حبل اللہ سے وابستہ ہے، اور کافر دوسری قوم جو اس حبل متین سے وابستہ نہیں، خلقکم فمنکم کافرو منکم مومن (64: 3) کا یہی مطلب ہے، جغرافیائی وحدتیں ہرگز اس قابل نہیں کہ ان کو مرکز وحدت بنایا جائے، کیونکہ وہ وحدتیں عموما غیر اختیاری امور ہین، جن کو کوئی انسان اپنے سعی و عمل سے حاصل نہیں کرسکتا، جو کالا ہے وہ گورا نہیں ہوسکتا، جو قریشی ہے وہ تمیمی نہیں بن سکتا، جو ہندی ہے وہ عربی نہیں بن سکتا، اس لئے ایسی وحدتیں بہت ہی محدود دائرہ میں ہوسکتی ہیں، ان کا دائرہ کبھی اور کہیں پوری انسانیت کو اپنی وسعت میں لے کر پوری دنیا کو ایک وحدت پر جمع کرنے کا دعوی کر ہی نہیں سکتا، اس لئے قرآن کریم نے مرکز وحدت حبل اللہ یعنی قرآن اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نظام حیات کو بنایا جس کا اختیار کرنا اختیاری امر ہے، کوئی مشرق کا رہنے والا ہو یا مغرب کا، گورا ہو یا کالا، عربی زبان بولتا ہو یا ہندی و انگریزی، کسی قبیلہ کسی خاندان کا ہو ہر شخص اس معقول اور صحیح مرکز وحدت کو اختیار کرسکتا ہے، اور دنیا بھر کے پورے انسان اس مرکز وحدت پر جمع ہو کر بھائی بھائی بن سکتے ہیں، اور اگر وہ آبائی رسم و رواج سے ذرا بلند ہو کر غور کریں تو ان کو اس کے سوا کوئی معقول اور صحیح راہ ہی نہ ملے گی، کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نظام کو پہچانیں، اور اس کا اتباع کر کے حبل اللہ کو مضبوطی سے تھام لیں، جس کا نتیجہ ایک طرف یہ ہوگا کہ پوری انسانیت ایک مضبوط و مستحکم وحدت سے مربوط ہوجائے گی۔ دوسرا یہ کہ اس وحدت کا ہر فرد اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نظام کے مطابق اپنے اعمال و اخلاق کی اصلاح کر کے اپنی دنیوی اور دینی زندگی کو درست کرلے گا، یہ وہ حکیمانہ اصول ہے جس کو لے کر ایک مسلمان ساری دنیا کی اقوام کو للکار سکتا ہے کہ یہی صحیح راستہ ہے، اس طرح آؤ، اور مسلمان اس پر جتنا بھی فخر کریں بجا ہے، لیکن افسوس ہے کہ یورپ والوں کی گہری سازش جو اسلامی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے صدیوں سے چل رہی ہے وہ خود اسلام کے دعویداروں میں کامیاب ہوگئی، اب امت اسلامیہ کی وحدت عربی، مصری، ہندی، سندھی میں بٹ کر پارہ پارہ ہوگئی، قرآن کریم کی یہ آیت ہر وقت اور ہر جگہ ان سب کو بآواز بلند یہ دعوت دے رہی ہے کہ یہ جاہلانہ امتیازات درحقیقت امتیازات ہیں اور نہ ان کی بنیاد پر قائم ہونے والی وحدت کوئی معقول وحدت ہے، اس لئے اعتصام بحبل اللہ کی وحدت اختیار کریں، جس نے ان کو پہلے بھی ساری دنیا میں غالب اور فائق اور سربلند بنایا اور اگر پھر ان کی قسمت میں کوئی خیر مقدر ہے تو وہ اسی راستہ سے مل سکتی ہے۔ الغرض اس آیت میں مسلمانوں کو دو ہدایتیں دی گئی ہیں، اول یہ کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نظام حیات کے پابند ہوجائیں، دوسرے یہ کہ سب ملکر مضبوطی کے ساتھ اس نظام کو تھام لیں، تاکہ ملت اسلامی کا شیرازہ خود بخود منظم ہوجائے، جیسا کہ اسلام کے قرون اولی میں اس کا مشاہدہ ہوچکا ہے۔ مسلمانوں میں اتفاق کے ایجابی پہلو کی وضاحت کے بعد فرمایا ولا تفرقوا باہم نااتفاقی نہ کرو، قرآن حکیم کا یہ حکیمانہ انداز ہے کہ وہ جہاں ایجابی پہلو واضح کرتا ہے وہیں سلبی پہلو سے مخالف چیزوں سے منع فرماتا ہے، چناچہ ایک دوسری آیت میں ارشاد فرمایاوان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ ولا تتبعوا السبل فتفرق بکم عن سبیلہ۔ (6: 154) اس آیت میں بھی صراط مستقیم پر قائم رہنے کی تلقین ہے، اور اپنی خواہشات کے زیر اثر خودساختہ راستوں پر چلنے کی ممانعت نااتفاقی کسی قوم کی ہلاکت کا سب سے پہلا اور آخری سبب ہے، اسی لئے قرآن حکیم نے بار بار مختلف اسالیب میں اس کی ممانعت فرمائی ہے۔ ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا لست منھم فی شیء۔ (6: 16) " یعنی جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقے ڈالے اور مختلف پارٹیوں میں تقسیم ہوگئے آپ کا ان سے کوئی تعلق اور کوئی واسطہ نہیں "۔ علاوہ ازیں انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں کے واقعات کو نقل فرمایا کہ کس طرح وہ امتیں باہمی اختلاف و شقاق کے باعث مقصد حیات سے منحرف ہو کر دنیا و آخرت کی رسوائیوں میں مبتلا ہوچکی ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تین چیزوں کو پسند فرمایا ہے، اور تین چیزوں کو ناپسند، پسندیدہ چیزیں یہ ہیں اول یہ کہ تم عبادت اللہ تعالیٰ کے لئے کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو مضبوطی سے تھامو، اور نااتفاقی سے بچو۔ سوم یہ کہ اپنے حکام اور اولوا الامر کے حق میں خیر خواہی کا جذبہ رکھو۔ اور وہ تین چیزیں جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں یہ ہیں۔ (1) بےضرورت قیل و قال اور بحث و مباحثہ (2) بلا ضرورت کسی سے سوال کرنا (3) اضاعت مال۔ (ابن کثیر عن ابی ہریرہ) اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ کیا ہر اختلاف مذموم ہے، یا کوئی اختلاف غیر مذموم بھی ہے، جواب یہ ہے کہ ہر اختلاف مذموم نہیں ہے، بلکہ مذموم وہ اختلاف ہے کہ جس میں اپنی اہواء اور خواہشات کی بناء پر قرآن سے دور رہ کر سوچا جائے، لیکن اگر قرآن پر مجتمع رہتے ہوئے اور حضور اکرم ﷺ کی تشریح و تفصیل کو قبول کرتے ہوئے اپنی فطری استعداد اور دماغی صلاحیتوں کی بناء پر فروع میں اختلاف کیا جائے تو یہ اختلاف فطری ہے، اور اسلام اس سے منع نہیں کرتا، صحابہ وتابعین اور ائمہ فقہاء کا اختلاف اسی قسم کا اختلاف تھا، اور اسی اختلاف کو رحمت قرار دیا گیا، ہاں اگر انہی فروعی بحثوں کو اصل دین قرار دیا جائے اور ان میں اختلاف کو جنگ و جدل اور سب و شتم کا ذریعہ بنا لیا جائے تو یہ بھی مذموم ہے، باہمی اتحاد کے ان دونوں پہلوؤں کو واضح کرنے کے بعد اس حالت کی طرف اشارہ کیا گیا جس میں اسلام سے پہلے اہل عرب مبتلا تھے، قبائل کی باہمی عداوتیں، بات بات پر ان کی لڑائیاں اور شب و روز کے کشت وخون کی بدولت قریب تھا کہ پوری عرب قوم نیست و نابود ہوجاتی، اس آگ میں جل مرنے سے اگر کسی چیز نے انہیں بچایا تو وہ یہی نعمت اسلام تھی۔ چناچہ فرمایا گیا۔ واذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذ کنتم اعداء فالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہ اخوانا وکنتم علی شفا حفرۃ من النار فانقذکم منھا۔ " یعنی اللہ کا یہ انعام اپنے اوپر یاد رکھو کہ جب تم باہم دشمن تھے تو اس نے تمہارے قلوب میں الفت ڈال دی، سو تم اس کے انعام سے آپس میں بھائی بھائی بن گئے، اور تم دوزخ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، سو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا " یعنی صدیوں کی عداوتیں اور کینے نکال کر اللہ تعالیٰ نے اسلام اور نبی کریم ﷺ کی برکت سے بھائی بھائی بنادیا، جس سے تمہارے دین و دنیا درست ہوگئے اور ایسی دوستی قائم ہوگئی جسے دیکھ کر تمہارے دشمن مرعوب ہوئے، اور یہ برادرانہ اتحاد خدا کی اتنی بڑی نعمت ہے جو روئے زمین کا خزانہ خرچ کر کے بھی میسر نہ آسکتی تھی۔ واقعہ شان نزول میں شریر لوگوں نے جو اوس و خزرج کے قبیلوں کو پچھلی جنگ یاد دلا کر فساد برپا کرنا چاہا تھا آیت مذکور میں اس کا مکمل علاج ہوگیا، نتائج اور بذریعہ اسلام ان سے رہائی کا بیان فرمادیا۔ مسلمانوں کا باہمی اتحاد اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر موقوف ہے قرآن حکیم کے اس ارشاد سے ایک اور حقیقت کا انکشاف ہوا، وہ یہ کہ دلوں کا مالک درحقیقت اللہ جل شانہ ہے، دلوں کے اندر محبت یا نفرت پیدا کرنا اسی کا کام ہے، کسی جماعت کے قلوب میں باہمی محبت اور موددت پیدا کرنا خالص انعام خداوندی ہے، اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا انعام صرف اس کی اطاعت و فرمانبرداری ہی سے حاصل ہوسکتا ہے، معصیت و نافرمانی کے ساتھ یہ انعام نہیں مل سکتا۔ اس کا نتیجہ یہ بھی ہوا کہ اگر مسلمان مستحکم و اتحاد چاہتے ہیں تو اس کا ذریعہ فقط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کو اپنا شعار بنالیں، اسی طرف اشارہ کرنے کے لئے آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا ہے کہ کذلک یبین اللہ لکم ایتہ لعلکم تھتدون " یعنی اسی طرح اللہ تعالیٰ تم لوگوں کے لئے حقائق واضح کر کے بیان فرماتے ہیں تاکہ تم لوگ صحیح راہ پر رہو۔