Ayahs 3:187–189ربط آیات
جیسا کہ پچھلی ایٓات میں یہودیوں کے افعال بد اور بری خصلتوں کا بیان تھا، مذکورہ پہلی آیت میں ان کے ایک ایسے ہی برے عمل کا ذکر ہے اور وہ ہے عہد و پیمان کی خلاف ورزی کیونکہ اہل کتاب سے اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام جو تورات میں آئے ہیں وہ ان کی اشاعت عام کریں گے اور کسی حکم کو اپنی نفسانی غرض سے چھپائیں گے نہیں اہل کتاب نے یہ عہد توڑ دیا، احکام کو چھپایا اور پھر دلیری یہ کی کہ اس پر خوشی کا اظہار کیا اور اپنے اس فعل کو قابل تعریف قرار دیا۔
خلاصہ تفسیر
(یہ حالت بھی قابل ذکر ہے) جبکہ اللہ تعالیٰ نے (کتب سابقہ میں) اہل کتاب سے یہ عہد لیا (یعنی ان کو حکم فرمایا اور انہوں نے قبول کرلیا) کہ اس کتاب کے (سب مضامین) عام لوگوں کے روبرو بیان کردینا اور اس (کے کسی مضمون) کو (دنیوی غرض سے) پوشیدہ نہ رکھنا، سو ان لوگوں نے اس (عہد) کو اپنے پس پشت پھینک دیا، (یعنی اس پر عمل نہ کیا) اور اس کے مقابلہ میں (دنیا کا) کم حقیقت معاوضہ لے لیا، سو بری چیز ہے جس کو وہ لوگ لے رہے ہیں (کیونکہ انجام اس کا سزائے دوزخ ہے)
(اے مخاطب) جو لوگ ایسے ہیں کہ اپنے کردار (بد) پر خوش ہوتے ہیں اور جو (نیک) کام نہیں کیا اس پر چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف ہو سو ایسے شخصوں کو ہرگز ہرگز مت خیال کرو کہ وہ (دنیا میں) خاص طور کے عذاب سے بچاؤ اور (حفاظت) میں رہیں گے (ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں بھی کچھ سزا ہوگی) اور (آخری میں بھی) ان کو درد ناک سزا ہوگی۔
اور اللہ ہی کے لئے (خاص) ہے سلطنت آسمانوں کی اور زمین کی اور اللہ تعالیٰ ہر شئے پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔
معارف و مسائل
علم دین کو چھپانا حرام اور بغیر عمل کئے اس مدح پر تعریف کا انتظار و اہتمام مذموم ہے
مذکورہ تین آیتوں میں علماء اہل کتاب کے دو جرم اور ان کی سزا کا بیان ہے اور یہ کہ ان کو حکم یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی کاتب میں جو احکام آئے ہیں ان کو سب کے سامنے بےکم وکاست بیان کریں گے اور کسی حکم کو چھپائیں گے نہیں، مگر انہوں نے اپنی دنیوی اغراض اور طمع نفسانی کی خاطر اس عہد کی پروا نہ کی، بہت سے احکام کو لوگوں سے چھپا لیا۔
دوسرے یہ کہ وہ نیک عمل کرتے تو ہے نہیں اور چاہتے ہیں کہ بغیر عمل کے ان کی تعریف کی جائے۔
احکام تو رات کو چھپانے کا واقعہ تو صحیح بخاری میں بروایت حضرت عبداللہ بن عباس منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہود سے ایک بات پوچھی کہ کیا یہ تورات میں ہے ان لوگوں نے چھپا لیا، اور جو تورات میں تھا اس کے خلاف بیان کردیا اور اپنے اس عمل بد پر خوش ہوتے ہوئے واپس آئے کہ ہم نے خوب دھوکا دیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جس میں ان لوگوں کے لئے وعید ہے۔
اور دوسرا معاملہ نہ کئے ہوئے عمل پر تعریف و مدح کے خواہشمند ہیں یہ ہے کہ منافقین یہود کا ایک طرز عمل یہ بھی تھا کہ جب کسی جہاد کا وقت آتا تو بہانے کر کے گھر میں بیٹھ جاتے، اور اس طرح جہاد کی مشقت سے بچنے پر خوشیاں مناتے اور جب رسول اللہ ﷺ واپس آتے تو آپ کے سامنے جھوٹی قسمیں کھا کر عذر بیان کردیتے اور اس کے طالب ہوتے تھے کہ ان کے اس عمل کی تعریف کی جائے (رواہ البخاری)
قرآن کریم نے ان دونوں چیزوں پر ان کی مذمت فرمائی جس سے معلوم ہوا کہ علم دین اور احکام خدا رسول کو چھپانا حرام ہے، مگر یہ حرمت اسی طرح کے چھپانے کی ہے جو یہود کا عمل تھا کہ اپنی دنیوی اغرض سے احکام خداوندی کو چھپاتے تھے اور اس پر لوگوں سے مال وصول کرتے تھے اور اگر کسی دینی اور شرعی مصلحت سے کوئی کم عوام پر ظاہر نہ کیا جائے تو وہ اس میں داخل نہیں، جیسا کہ امام بخاری نے ایک مستقل باب میں اس مسئلہ کو بحوالہ احادیث بیان فرمایا ہے کہ بعض اوقات کسی حکم کے اظہار سے عوام کی غلط فہمی اور فتنہ میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہوتا ہے اس خطرہ کی بناء پر کوئی حکم پوشیدہ رکھا جائے تو مضائقہ نہیں۔
اور کوئی نیک عمل کرنے کے بعد بھی اس پر مدح ثناء کا انتظار و اہتمام کرے تو عمل کرنے کے باوجود بھی قواعد شرعیہ کی رو سے مذموم ہے اور نہ کرنے کی صورت میں تو اور بھی زیادہ مذموم ہے اور طبعی طور پر یہ خواہش ہونا کہ میں بھی فلاں نیک کام کروں اور نیک نام ہوں وہ اس میں داخل نہیں، جبکہ اس نیک نامی کا اہتمام نہ کرے۔ (بیان القرآن)
Ayah 3:190ربط آیات
چونکہ اوپر اختصاص سے توحید مفہوم ہوئی، اگلی آیت میں توحید پر دلیل لاتے ہیں اور اس کے ساتھ توحید کے کامل اقتضاء پر عمل کرنے والوں کی فضیلت بیان فرماتے ہیں، جس میں اشارة دوسروں کو بھی ترغیب ہے اس اقتضاء پر عمل کرنے کی، اوپر جو کفار سے ایذائیں پہنچنے کا مضمون تھا، آیت آئندہ کو اس سے بھی مناسبت ہے، اس طرح کہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ سے عناداً یہ درخواست کی کہ صفاء پہاڑ کو سونے کا بنادیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ حق کے دلائل تو بہت ہیں، ان میں کیوں نہیں فکر کرتے۔
اور ان لوگوں کی یہ درخواست حقیقتا حق کے لئے نہ تھی، بلکہ عنادًا تھی جس سے درخواست پورا ہونے پر بھی ایمان نہ لاتے۔
خلاصہ تفسیر
بلاشبہ آسمانوں اور زمین کے بنانے میں اور یکے بعد دیگرے رات اور دن کے آنے جانے میں دلائل (توحید کے موجود) ہیں اہل عقل (سلیم کے) کے (استدلال کے) لئے جانے کی حالت یہ ہے (جو آگے آتی ہے اور یہی حالت ان کے عاقل ہونے کی علامت بھی ہے کیونکہ عقل کا اقتضاء دفع مضرت و تحصیل منفعت ہے اور اس پر اس حالت کا مجموعہ دال ہے۔ وہ حالت یہ ہے) کہ وہ لوگ (ہر حال میں دل سے بھی اور اس زبان سے بھی) للہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں، کھڑے بھی بیٹھے بھی لیٹے بھی اور آسمانوں اور زمین کے پیدا ہونے میں (اپنی قوت عقیلہ سے) غور کرتے ہیں (اور غور کا جو نتیجہ ہوتا ہے یعنی حدوث ایمان یا تجدید وتقویت ایمان اس کو اس طرح ظاہر کرتے ہیں کہ اسے ہمارے پروردگار آپ نے اس مخلوق کو لایعنی پیدا نہیں کیا (بلکہ اس میں حکمتیں رکھی ہیں جن میں ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ اس مخلوق سے سمجھتے ہیں (اس لئے ہم نے استدلال کیا اور توحید کے قائل ہوئے) سو ہم کو (موحد و مومن ہونے کی وجہ سے) عذاب دوزخ سے بچا لیجئے (جیسا کہ شرعاً اس کا یہ مقتضی ہے گو کسی عارض سے یہ اقتضاء ضعیف ہوجاوے اور چندے عذاب ہونے لگے، ایک عرض تو ان لوگوں کی یہ تھی اور وہ اسی مضمون ایمان کے مناسب اور معروضات بھی کرتے ہیں جو آگے آتے ہیں) اے ہمارے پروردگار (ہم اس لئے عذاب دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں کہ) بیشک آپ جس کو (بطور اصل جزاء کے) دوزخ میں داخل کریں اس کو واقعی رسوا ہی کردیا، (مراد اس سے کافر ہے) اور ایسے بےانصافوں ا (جن کی اصلی جزاء دوزخ تجویز کی جاوے) کوئی بھی ساتھ دینے والا نہیں اور آپ کا وعدہ ہے اہل ایمان کے لئے رسوا نہ کرنے کا بھی اور نصرت کرنے کا بھی، بس ایمان لا کر ہماری درخواست ہے کہ کفر کی اصلی جزاء سے بچایئے، ایمان کا اصل مقتضاء یعنی دوزخ سے نجات مرتب فرمایئے۔)
اے ہمارے پروردگار ہم نے (جیسے مصنوعات کی دلالت سے عقلی استدلال کیا اسطرح ہم نے) ایک (حق کی طرف) پکارنے والے کو (مراد اس سے حضرت محمد ﷺ ہیں بواسطہ یا بلاواسطہ) سنا کر وہ ایمان لانے کے لئے اعلان کر رہے ہیں کہ (اے لوگو) تم اپنے پروردگار (کی ذات وصفات) پر ایمان لاؤ سو ہم (اس دلیل نقلی سے استدلال کر کے بھی) ایمان لے آئے (اس درخواست میں ایمان باللہ کے ساتھ ایمان بالرسول بھی ضمناً آ گیا، پس ایمان کے دونوں جزو یعنی اعتضاد توحید و اعتقاد رسالت کامل ہوگئے۔
اے ہمارے پروردگار پھر (اس کے بعد ہماری یہ درخواست ہے کہ) ہمارے (بڑے) گناہوں کو بھی معاف فرما دیجئے اور ہماری (چھوٹی) بدیوں کو ہم سے (معاف کر کے) زائل کر دیجئے اور (ہمارا انجام بھی جس پر مداوا ہے درست کیجئے اس طرح کہ) ہم کو نیک لوگوں کے ساتھ شامل رکھ کر) موت دیجئے (یعنی نیکی پر خاتمہ ہو)۔
اے پروردگار اور (جس طرح ہم نے اپنی مضرتوں سے محفوظ رہنے کے لئے درخواست کی ہے جیسے دوزخ و رسوائی اور ذنوب وسیات، اسی طرح ہم اپنے منافع کی دعا کرتے ہیں کہ) ہم کو وہ چیز (یعنی ثواب و جنت) بھی دیجئے، جس کا ہم سے اپنے پیغمبروں کی معرفت آپ نے وعدہ فرمایا ہے (کہ مومنین و ابرار کو اجر عظیم ملے گا) اور (یہ ثواب و جنت ہم کو اس طرح دیجئے کہ ثواب ملنے سے پہلے بھی) ہم کو قیامت کے روز رسوا نہ کیجئے جیسا کہ بعض کو اول سزا ہوگی پھر جنت میں جاویں گے، مطلب یہ کہ اول ہی سے جنت میں داخل کر دیجئے اور) یقیناً آپ (تو) وعدہ خلافی نہیں کرتے (لیکن ہم کو یہ خوف ہے کہ جن کے لئے وعدہ ہے یعنی مؤمنین و ابرار کہیں ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ ہم ان صفات سے موصوف نہ رہیں جن پر وعدہ ہے، اس لئے ہم آپ سے یہ التجائیں کرتے ہیں کہ ہم کو اپنے وعدہ کی چیزیں دیجئے، یعنی ہم کو ایسا کر دیجئے اور ایسا ہی رکھئے جس سے ہم وعدہ کے مخاطب و محل ہوجاویں۔)
معارف و مسائل
اس آیت کے شان نزول سے متعلق ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور محدیث ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے کہ عطاء بن ابی رباح حضرت عائشہ کے پاس تشریف لے گئے اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے حالات میں جو سب سے زیادہ عجیب چیز آپ نے دیکھی ہو وہ مجھے بتلایئے، اس پر حضرت عائشہ نے فرمایاآپ کس کی شان پوچھتے ہو ؟ ان کی تو ہر شان عجیب ہی تھی، ہاں ایک واقعہ عجیب سناتی ہوں، وہ یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ ایک رات میرے پاس تشریف لائے اور لحاف میں میرے ساتھ داخل ہوگئے پھر فرمایا کہ اجازت دو کہ میں اپنے پروردگار کی عبادت کروں، بستر سے اٹھے، وضو فرمایا، پھر نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور قیام میں اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو سینہ مبارک پر بہہ گئے، پھر رکوع فرمایا اور اس میں بھی روئے پھر سجدہ کیا اور سجدہ میں بھی اسی قدر روئے پھر سر اٹھایا اور مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی، حضرت بلال آئے اور حضور ﷺ کو نماز کی اطلاع دی، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ حضور اس قدر کیوں گریہ فرماتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، آپ نے فرمایا تو کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں ؟ اور شکریہ میں گریہ وزاری کیوں نہ کروں جب کہ اللہ تعالیٰ نے آج کی شب مجھ پر یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی ہےان فی خلق السموات والارض الآیتہ اس کے بعد آپ نے فرمایا بڑی تباہی ہے اس شخص کے لئے جس نے ان آیتوں کو پڑھا اور ان میں غور نہیں کیا۔ لہٰذا آیت پر غور و فکر کے سلسلے میں مندرجہ ذیل مسائل پر غور کرنا ہے۔
خلق السموات والارض سے کیا مراد ہے۔
پہلا یہ کہ خلق السموت والارض سے کیا مراد ہے ؟ خلق مصدر ہے، جس کے معنی ایجاد و اختراع کے ہیں، معنی یہ ہوئے کہ آسمان اور زمین کے پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیاں ہیں، اس لئے اس میں تمام وہ مخلوقات اور مصنوعات باری تعالیٰ بھی داخل ہوجاتی ہیں جو آسمان اور زمین کے اندر ہیں، پھر ان مخلوقات میں قسم قسم کی مخلوقات ہیں جن میں ہر ایک کے خواص و کیفیات علیحدہ علیحدہ ہیں اور ہر مخلوق اپنے خالق کی پوری طرح نشان دہی کر رہی ہے، پھر اگر زیادہ غور کیا جائے تو سمجھ میں آتا ہے کہ السموات میں تمام رفعتیں داخل ہیں اور الارض میں تمام پستیاں داخل ہیں، سو جس طرح اللہ تعالیٰ رفعتوں کا خالق ہے اسی طرح پستیوں کا بھی خالق ہے۔
اختلاف لیل و نہار کی مختلف صورتیں۔
دوسرا یہ کہ اختلاف لیل و نہار سے کیا مراد ہے ؟ لفظ اختلاف اس جگہ عربی کے اس محاورہ سے ماخوذ ہے کہ اختلف فلان فلانا، یعنی وہ شخص فلاں شخص کے بعد آیا، پس اختلاف اللیل و النہار کے معنی یہ ہوئے کہ رات جاتی ہے اور دن آتا ہے اور دن جاتا ہے تو رات آتی ہے۔
اختلاف کے دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اختلاف سے زیادتی و کمی مراد لی جائے سردیوں میں رات طویل ہوتی ہے اور دن چھوٹا ہوتا ہے اور گرمیوں میں اس کے برعکس ہوتا ہے، اسی طرح رات دن میں تفاوت ملکوں کے تفاوت سے بھی ہوتا ہے، مثلاً جو ممالک قطب شمالی سے قریب ہیں ان میں دن زیادہ طویل ہوتا ہے بہ نسبت ان شہروں کے جو قطب شمالی سے دور ہیں اور ان امور میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مسئلہ پر روشن دلیل ہے۔
لفظ آیات کی تحقیق۔
تیسرا امر یہ ہے کہ لفظ ”آیات“ کے کیا معنی ہیں ؟ آیات، آیتہ کی جمع ہے اور یہ لفظ چند معانی کے لئے بولا جاتا ہے، آیات، معجزات کو بھی کہا جاتا ہے اور قرآن مجید کی آیات پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، اس کے تیسرے معنی دلیل اور نشانی کے بھی ہیں، یہاں پر یہی تیسرے معنی مراد ہیں، یعنی ان امور میں اللہ کی بڑی نشانیاں اور قدرت کے دلائل ہیں۔
چوتھا امر اولوالالباب کے معنی سے متعلق ہے، الباب، لب کی جمع ہے، جس کے معنی مغز کے ہیں اور ہر چیز کا مغز اس کا خلاص ہی ہوتا ہے، اور اسی سے اس کی خاصیت و فوائد معلوم ہوتے ہیں، اسی لئے انسانی عقل کو لب کہا گیا ہے، کیونکہ عقل ہی انسان کا اصلی جوہر ہے، اولوالالباب کے معنی ہیں عقل والے۔
عقل والے صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے اور ہر حال میں اس کا ذکر کرتے ہیں۔ اب یہاں یہ مسئلہ غور طلب تھا کہ عقل والوں سے کون مراد ہیں، کیونک ساری دنیا عقلمند ہونے کی مدعی ہے، کوئی بیوقوف بھی اپنے آپ کو بےعقل تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں، اس لئے قرآن کریم نے عقل والوں کی چند ایسی علامات بتلائی ہیں جو درحقیت عقل کا صحیح معیار ہیں، پہلی علامت اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے، غور کیجئے تو محسوسات کا علم کان، آنکھ، ناک، زبان، وغیرہ سے حاصل ہوتا ہے ج بےعقل جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے اور عقل کا کام یہ ہے کہ علامات و قرائن اور دلائل کے ذریعہ کسی ایسے نتیجہ تک پہنچ جائے جو محسوس نہیں ہے، اور جس کے ذریعہ سلسلہ اسباب کی آخری کڑی کو پایا جاسکے۔
اس اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے کائنات عالم پر غور کیجئے آسمان اور زمین اور ان میں سمائی ہوئی تمام مخلوقات اور ان کی چھوٹی بڑی چیزوں کا مستحکم اور حیرت انگیز نظام عقل کو کسی ایسی ہستی کا پتہ دیتا ہے، جو علم و حکمت اور قوت وقدرت کے اعتبار سے سب سے زیادہ بالاتر ہو اور جس نے ان تمام چیزوں کو خاص حکمت سے بنایا ہو اور جس کے ارادہ اور مشیت سے یہ سارا نظام چل رہا ہو اور وہ ہستی ظاہر ہے کہ اللہ جل شانہ، ہی کی ہو سکتی ہے، کسی عارف کا قول ہے۔
ہر گیا ہے کہ از زمین ردید
وحدہ، لاشریک لہ گوید
انسانی ارادوں اور تدبیروں کے فیل ہونے کا ہر جگہ اور ہر وقت مشاہدہ ہوتا رہتا ہے، اس کو اس نظام کا چلانے والا نہیں کہا جاسکتا، اس لئے آسمان اور زمین کی پیدائش اور ان میں پیدا ہونے والی مخلوقات کی پیدائش میں غور و فکر کرنے کا نتیجہ عقل کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی اطاعت و ذکر جو اس سے غافل ہے وہ عقلمند کہلانے کا مستحق نہیں، اس لئے قرآن کریم نے عقل والوں کی یہ علامت بتلائی
Ayahs 3:191–194الذین یذکرون اللہ قیاماً و قعودا و علی جنوبھم یعنی عقل والے وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو یاد کریں کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہوئے مراد یہ ہے کہ ہر حالت اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہوں۔
اس سے معلوم ہوا کہ آج کی دنیا نے جس چیز کو عقل اور عقلمندی کا معیار سمجھ لیا ہے وہ محض ایک دھوکا ہے، کسی نے مال و دولت سمیٹ لینے کو عقلمندی قرار دیدیا، کسی نے مشینوں کے کل پرزے بنانے یا برق اور بھاپ کو اصلی پاور سمجھ لینے کا نام عقلمندی رکھ دیا لیکن عقل سلیم کی بات وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل لے کر آئے کہ علم و حکمت کے ذریعہ سلسلہ اسباب میں ادنی سے اعلی کی طرف ترقی کرتے ہوئے درمیانی مراحل کو نظر انداز کیا، خام مودا سے مشینوں تک اور مشینوں سے برق اور بھاپ کی قوت تک تمہیں سائنس نے پہونچایا عقل کا کام یہ ہے کہ ایک قدم اور آگے بڑھو تاکہ تمہیں یہ معلوم ہو کہ اصل کام نہ پانی مٹی یا لوہے، تانبے کا ہے، نہ مشین کا، نہ اس کے ذریعہ پیدا کی ہوئی اسٹیم کا، بلکہ کام اس کا ہے جس نے آگ اور پانی اور ہوا پیدا کی، جس کے ذریعہ یہ برق و بھاپ تمہارے ہاتھ آئی۔
کار زلف تست مشک افشانی اما عاشقاں
مصلحت راتہمتے برآ ہوئے چین بستہ اند
اس کو ایک عامیانہ محسوس مثال سے یوں سمجھئے کہ ایک جنگل کا رہنے والا جاھل انسان جب کسی ریلوے اسٹیشن پر پہنچنے اور یہ دیکھے کہ ریل جیسی عظیم الشان سواری ایک سرخ جھنڈی کے دکھانے سے رک جاتی ہے اور سبز کے دکھانے سے چلنے لگتی ہے تو اگر وہ یہ کہے کہ یہ سرخ اور سبز جھنڈی بڑے پاور اور طاقت کی مالک ہے کہ اتنی طاقت والے انجن کو روک دیتی اور چلا دیتی ہے، تو علم و عقل والے اس کو احمق کہیں گے اور بتلائیں گے کہ طاقت ان جھنڈیوں میں نہیں بلکہ اس شخص کے پاس ہے جو انجن میں بیٹھا ہوا ان جھنڈیوں کو دیکھ کر روکے یا چلانے کا کام کرتا ہے، لیکن جس کی عقلی کچھ اس سے زیادہ ہے وہ کہے گا کہ انجن درائیور کو پاور یا طاقت کا مالک سمجھنا بھی غلطی ہے، کیونکہ درحقیقت اس کی طاقت کو اس میں کوئی دخل نہیں، وہ ایک قدم اور بڑھ کر اس طاقت کو انجن کے کل پرزوں کی طرف منسوب کرے گا، لیکن ایک فلاسفر یا سائنس داں اس کو بھی یہ کہہ کر بیوقوف بتلائے گا کہ بےحس کل پرزوں میں کیا رکھا ہے، اصل طاقت اس بھاپ اور اسٹیم کی ہے، جو انجن کے اندر آگ اور پانی کے ذریعہ پیدا کی گی ہے، لیکن حکمت و فلسفہ یہاں آ کر تھک جاتا ہے، انبیاء (علیہم السلام) فرماتے ہیں کہ ظالم ! جس طرح جھنڈیوں کو یا ڈرائیور کو یا انجن کے کل پرزوں کو طاقت اور پاور کا مالک سمجھ بیٹھنا اس جاہل کی غلطی تھی، اسی طرح بھاپ اور اسٹیم کو طاقت کا مالک سمجھ لینا بھی تیری فلسفیانہ غلطی ہے، ایک قدم اور آگے بڑھ، تاکہ تجھے اس الجھی ہوئی ڈور کا سرا ہاتھ آئے اور سلسلہ اسباب کی آخری کڑی تک تیری رسائی ہوجائے کہ دراصل ان ساری طاقتوں اور پاوروں کا مالک وہ ہے جس نے آگ اور پانی پیدا کئے اور یہ اسٹیم تیار ہوئی۔
اس تفصیل سے آپ نے معلوم کرلیا کہ عقل والے کہلانے کے مستحق صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پہچانیں اور ہر وقت ہر حالت میں اس کو یاد کریں، اسی لیے اولی الالباب کی صفت قرآن کریم نے یہ بتلائی الذین یذکرون اللہ قیاماً و قعودا وعلے جنوبھم
اس لئے حضرات فقہا کرام نے لکھا ہے کہ اگر کوئی انتقال سے قبل یہ وصیت کر جائے کہ میرا مال عقلاء کو دے دیا جائے، تو کس کو دیا جائے گا ؟ اس کے جواب میں حضرات فقہاء کرام نے تحریر فرمایا کہ ایسے عالم زاہد اس مال کے مستحق ہوں گے جو دنیا طلب اور غیر ضروری مادی وسائل سے دور ہیں، کیونکہ صحیح معنی میں وہی عقلاء ہیں (در مختار، کتاب الوصیتہ)
اس جگہ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ شریعت میں ذکر کے علاوہ کسی اور عبادت کی کثرت کا حکم نہیں دیا گیا، لیکن ذکر کے متعلق ارشاد ہے کہ اذکروا اللہ ذکراً کثیرا (33: 14) وجہ اس کی یہ ہے کہ ذکر کے سوا سب عبادات کے لئے کچھ شرائط اور قواعد ہیں جن کے بغیر وہ عبادات ادا نہیں ہوتیں، بخلاف ذکر کے کہ اس کو انسان کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہوئے، باوضو ہو یا بےوضو ہر حالت میں اور ہر وقت انجام دے سکتا ہے، اس آیت میں شاید اسی حکمت کی طرف اشارہ ہے۔
آیت مذکورہ میں عقل والوں کی دوسری علامت یہ بتلائی گی ہے کہ وہ آسمان و زمین کی تخلیق و پیدائش میں تفکر کرتے ہیںیتفکرون فی خلق السموت والارض، الایتہ یہاں غور طلب یہ امر ہے کہ اس تفکر سے کیا مراد ہے اور اس کا کیا درجہ ہے ؟
فکر اور تفکر کے لفظی معنی غور کرنے اور کس چیز کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرنے کے ہیں، اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر عبادت ہے اسی طرح فکر بھی ایک عبادت ہے، فرق یہ ہے کہ ذکر اللہ جل شانہ کی ذات وصفات کا مطلوب ہے اور فکر و تفکر اس کی مخلوقات میں مقصود ہے، کیونکہ ذات وصفات الہیہ کی حقیقت کا ادراک انسان کی عقل سے بالاتر ہے، اس میں غور و فکر اور تدبر و تفکر بجز حیرانی کے کوئی نتیجہ نہیں رکھتا، عارف رومی نے فرمایا۔
دور بینان بارگاہ الست
غیر ازیں پے نبردہ اندکہ ہست
بلکہ بعض اوقات حق جل شانہ کی ذات وصفات میں زیادہ غور و فکر انسان کی ناقص عقل کے لئے گمراہی کا سبب بن جاتا ہے، اس لئے اکابر اہل معرفت کی وصیت ہے کہ تفکروا فی آیت اللہ ولاتتفکروا فی اللہ،”یعنی اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی نشانیوں میں غور و فکر کرو مگر خود اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں غور و فکر نہ کرو، کہ وہ تمہاری رسائی سے بالاتر ہے، آفتاب کی روشنی میں ہر چیز کو دیکھا جاسکتا ہے، مگر خود آفتاب کو کوئی دیکھنا چاہے تو آنکھیں خیر ہوجاتی ہیں، ذات وصفات کے مسئلہ میں تو بڑے بڑے ماہر فلاسفہ اور جہانوں کی سیر کرنے والے ارباب معرفت نے آخرکار یہی نصیحت کی ہے کہ
نہر ہر جائے مرکب تواں تاختن
کہ جا ا سپر باید انداختن
البتہ غور و فکر اور عقل کی دوڑ دھوپ کا میدان مخلوقات الہیہ ہیں، جن میں صحیح غور و فکر کا لازمی نتیجہ ان کے خالق جل شانہ کی معرفت ہے، اتنا عظیم الشان وسیع و عریض آسمان اور اس میں آفتاب و مہتاب اور دوسرے ستارے جن میں کچھ ثوابت ہیں جو دیکھنے والوں کو اپنی جگہ ٹھہرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کوئی بہت آہستہ حرکت ہو تو اس کا علم پیدا کرنے والے ہی کو ہے اور انہی ستاروں میں کچھ سیارات ہیں جن کے دورے نظام شمسی و قمری وغیرہ کے انداز میں نہایت محکم و مضبوط قانون کے تحت مقرر اور متعین ہیں، نہ ایک سیکنڈ ادھر ہوتے ہیں نہ ان کی مشینری کا کوئی پرزہ گھستا ہے، نہ ٹوٹتا ہے، نہ کبھی ان کو کسی ورکشاپ میں بھیجنے کی ضرورت ہوتی ہے، نہ اس کی مشینری کبھی رنگ و روغن چاہتی ہے، ہزاروں سال سے ان کے مسلسل دورے اسی نظام محکم اور معین اوقات کے ساتھ چل رہے ہیں، اسی طرح زمین کا پورا کرہ، اس کے دریا اور پہاڑ، اور دونوں میں طرح طرح کی مخلوقات درخت اور جانور اور زمین کی تہہ میں چھپی ہوئی معدنیات، اور زمین آسمان کے درمیان چلنے والی ہوا اور اس میں پیدا ہونے اور برسنے والی برق و باراں اور سال کے مخصوص نظام یہ سب کے سب سوچنے، سمجھنے والے کے لئے کسی ایسی ہستی کا پتہ دیتے ہیں جو علم و حکمت اور قوت وقدرت میں سب سے بالاتر ہے اور اسی کا نام معرفت ہے، تو یہ غور و فکر معرفت الہیہ کا سبب ہونے کی وجہ سے بہت بڑی عبادت ہے، اس لئے حضرت حسن بصری نے فرمایا، تفکر ساعة خیرمن قیام لیلتة ”(ابن کثیر) ”یعنی ایک گھڑی آیات قدرت میں غور کرنا پوری رات کی عبادت سے بہتر اور زیادہ مفید ہے۔
اور حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس غور و فکر کو افضل عبادت فرمایا ہے (ابن کثیر) حسن بن عامر نے فرمایا کہ میں نے بہت سے صحابہ کرام سے سنا ہے، سب یہ فرماتے تھے کہ ایمان کا نور اور روشنی تفکر ہے۔
حضرت ابو سلیمان دارانی ؒ نے فرمایا کہ میں گھر سے نکلتا ہوں تو جس چیز پر میری نگاہ پڑتی ہے میں کھلی آنکھوں دیکھتا ہوں کہ اس میں میرے لئے اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے، اور اس کے وجود میں میرے لئے عبرت حاصل کرنے کا سامان موجود ہے (ابن کثیر) اسی کو بعض عارفین نے فرمایا کہ
ہر گیا ہے کہ از زمین روید
وحدہ لاشریک لہ گوید
حضرت سفیان بن عینیہ کا ارشاد ہے کہ غور و فکر ایک نور ہے جو تیرے دل میں داخل ہو رہا ہے۔
حضرت وہب بن منبہ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص کثرت سے غور و فکر کرے گا تو حقیقت سمجھ لے گا اور جو سمجھ لے گا اس کو علم صحیح حاصل ہوجائے گا اور جس کو علم صحیح حاصل ہوگیا وہ ضرور عمل بھی کرے گا (ابن کثیر)
حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ ایک بزرگ کا گذر ایک عابد زاہد کے پاس ہوا جو ایسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے ایک طرف قبرستان تھا اور دوسری طرف گھروں کا کوڑا کباڑ وغیرہ تھا، گذرنے والے بزرگ نے کہا کہ دنیا کے دو خزانے تمہارے سامنے ہیں ایک انسانوں کا خزانہ جس کو قبرستان کہتے ہیں، دوسرا مال و دولت کا خزانہ جو فضلات اور گندگی کی صورت میں ہے، یہ دونوں خزانے عبرت کے لئے کافی ہیں۔ (ابن کثیر)
حضرت عبداللہ بن عمر اپنے قلب کی اصلاح و نگرانی کے لئے شہر سے باہر کسی ویرانہ کی طرف نکل جاتے تھے اور وہاں پر پہنچ کر کہتے این این اھلک یعنی تیرے بسنے والے کہاں گئے ؟ پھر خود ہی جواب دیتے کل شی ھالک الاوجھہ (82: 88) یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے (ابن کثیر) اس طرح تفکر کے ذریعہ آخرت کی یاد اپنے قلب میں مستحضر کرتے تھے۔
حضرت بشر حافی نے فرمایا کہ اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی عظمت میں تفکر کرتے تو اس کی معصیت و نافرمانی نہ کرسکتے۔
اور حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایااے ضعیف الخلقت آدمی ! تو جہاں بھی ہو خدا سے ڈر، اور دنیا میں ایک مہمان کی طرح بسر کر اور مساجد کو اپنا گھر بنا لے اور اپنی آنکھوں کو خوف خدا سے رونے کا اور جسم کو صبر کا اور قلب کو تفکر کا عادی بنا دے اور کل کے رزق کی فکر نہ کر۔
آیت مذکورہ میں اسی فکر و تفکر کو عقلمند انسان کا اعلی وصف کر کے بیان فرمایا ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کر کے حق تعالیٰ کی معرفت اور دنیا کی ناپائیداری کا علم حضوری حاصل کرلینا افضل عبادت اور نور ایمان ہے، اسی طرح آیات الہیہ کو دیکھنے اور برتنے کے باوجود خود ان مخلوقات کی ظاہری ٹیپ ٹاپ میں الجھ کر رہ جاتا اور ان کے ذریعہ مالک حقیقی کی معرفت حاصل نہ کرنا سخت نادانی اور ناسمجھ بچوں کی سی حرکت ہے، مولانا جامی نے اسی کو فرمایا ہے۔
ہمہ اندرزمن ترا زین است
کہ تو طفلی و خانہ رنگین است
اور اسی بےبصیرتی کو حضرت مجذب نے اس طرح بیان فرمایا۔
کچھ بھی مجنوں جو بصیرت تجھے حاصل ہو جائے
تو نے لیلی جسے سمجھا ہے وہ محمل ہو جائے
بعض حکماء نے فرمایا ہے کہ جو شخص کائنات عالم کو عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا تو بقدر اس کی غفلت کے اس کے قلب کی بصیرت مٹ جاتی ہے آج کی سائنٹفک اور حیرت انگیز ایجادات اور ان میں الجھ کر رہ جانے والے موجدین کی اللہ تعالیٰ اور اپنے انجام کار سے غفلت حکماء کے اس مقولہ کی کھلی شادت ہے کہ سائنس کی ترقیات جوں جوں اللہ تعالیٰ کی کمال صنعت کے رازوں کو کھولتی جاتی ہیں، اتنا ہی وہ خدا شناسی اور حقیقت آگاہی سے اندھے ہوتے جاتے ہیں، بقول اکبر مرحوم
بھول کر بیٹھا ہے یورپ آسمانی باپ کو
بس خدا سمجھا ہے اس نے برق کو اور بھاپ کو
قرآن کریم نے ایسی ہی بےبصیرت لکھے پڑھے جاہلوں کے متعلق ارشاد فرمایا ہے۔ وکاین من ایة فی السموت والارض یمرون علیھا وھم عنھا معرضون، یعنی آسمان اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن سے یہ لوگ منہ موڑ کر گذر جاتے ہیں ان کی حقیقت و صنعت اور ان کے صانع کی طرف توجہ نہیں دیتے
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات و مصنوعات میں غور و فکر کر کے اس کی عظمت وقدرت کا استحضار ایک اعلی عبادت ہے، ان سے کوئی عبرت حاصل نہ کرنا سخت نادانی ہے، آیت مذکورہ کے آخری جملے نے آیات قدرت میں غور و فکر کا نتیجہ بتلایا ہے۔ ربنا ماخلقت ھذا باطلاً یعنی حق تعالیٰ کی عظیم اور غیر محصور مخلوقات میں غور و فکر کرنے والا اس نتیجہ پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ان تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے فضول و بیکار پیدا نہیں کیا ہے، بلکہ ان کی خلقت میں ہزاروں حکمتیں مضمر ہیں، ان سب کو انسان کا خادم اور انسان کو مخدوم کائنات بنا کر انسان کو اس غور و فکر کی دعوت دی ہے کہ ساری کائنات تو اس کے فائدہ کے لئے بنی ہے، اور انسان اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کے لئے پیدا ہوا ہے، یہی اس کا مقصد زندگی ہے، اس کے بعد غور و فکر اور تفکر و تدبر کے نتیجہ میں وہ لوگ اس حقیقت پر پہنچے کہ کائنات عالم فضول و بیکار پیدا نہیں کی گئی، بلکہ یہ سب خالق کائنات کی عظیم قدرت و حکمت کے روشن دلائل ہیں۔
آگے ان لوگوں کی چند درخواستوں اور دعاؤں کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنے رب کو پہچان کر اس کی بارگاہ میں پیش کیں۔
پہلی درخواست یہ ہے کہ ہمیں آخرت کی رسوائی سے بچایئے، کیونکہ جن کو آپ نے جہنم میں داخل کردیا اس کو سارے جہان کے سامنے رسوا کردیا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ میدان حشر کے اندر رسوائی ایک ایسا عذاب ہوگا کہ آدمی یہ خواہش کرے گا کہ کاش ! اسے جہنم میں ڈال دیا جائے اور اس کی بدکاریوں کا چرچا اہل محشر کے سامنے نہ ہو۔
تیسری درخواست یہ ہے کہ ہم نے آپ کی طرف سے آنے والے منادی یعنی رسول اللہ ﷺ کی آواز کو سنا، اور اس پر ایمان لائے تو آپ ہمارے بڑے گناہوں کو معاف فرما دیں اور ہمارے عیوب اور برائیوں کا کفارہ فرما دیں اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دیں، یعنی ان کے زمرہ میں شامل فرما لیں۔
یہ تین درخواستیں تو عذاب اور تکلیف اور مضرت سے بچنے کے لئے تھیں، آگے چوتھی درخواست فوائد اور منافع حاصل کرنے کے متعلق ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعے جو وعدہ آپ نے جنت کی نعمتیں کا فرمایا ہے وہ ہمیں اس طرح عطا فرمایئے کہ قیامت میں رسوائی بھی نہ ہو، یعنی اول مواخذہ اور بدنامی، بعد میں معافی کی صورت کے بجائے اول ہی سے معافی فرما دیجئے، آپ تو وعدہ خلافی نہیں کیا کرتے، مگر اس عرض و معروض کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اس قابل بنا دیجئے کہ ہم یہ وعد حاصل کرنے کے مستحق ہوجائیں اور پھر اس پر قائم رہیں، یعنی خاتمہ ایمان اور عمل صالح پر ہو۔
Ayahs 3:195–199ربط آیات
سابقہ آیات میں مومنین صالحین کی چند دعاؤں کا ذکر تھا، مذکورہ پہلی آیت میں ان دعاؤں کی قبولیت اور ان کے اعمال صالحہ کے اجر عظیم کا بیان ہے، دوسری تیسری آیتوں میں یہ ہدایت ہے کہ کفار کے ظاہر عیش و عشرت مال و دولت اور دنیا میں چلنے پھرنے سے مسلمانوں کو دھوکہ نہ ہونا چاہئے کہ وہ چند روزہ ہے اور پھر عذاب دائمی۔
چوتھی آیت میں پھر تقوی شعار مسلمانوں کے لئے جنت کی لازوال نعمتوں کا وعدہ ہے، پانچویں میں خصوصیت سے ان مسلمانوں کے اجر عظیم کا ذکر ہے جو پہلے اہل کتاب میں سے تھے پھر مسلمان ہوگئے۔
خلاصہ تفسیر
سو قبول کرلیا ان کی دعاؤں کو ان کے رب نے اس وجہ سے (کہ میری عادت مستمرہ ہے کہ) میں کسی شخص کے (نیک) کام کو جو تم میں سے کام کرنے والا ہو اکارت نہیں کرتا (کہ اس کا بدلہ نہ دیا جائے) خواہ وہ (کام کرنے والا) مرد ہو یا عورت (دونوں کے لئے ایک ہی قانون ہے کیونکہ) تم (دونوں) آپس میں ایک دوسرے کے جزو ہو (اس لئے حکم بھی دونوں کا ایک سا ہی ہے، پس جب انہوں نے ایمان قبول کر کے ایک بڑا نیک عمل کیا، اور اس پر مرتب ہونے والے اثرات کی درخواست کی تو میں نے ان کی دعاء و درخواست کو اپنی عادت مستمرہ کے مطابق منظور کرلیا اور جب ہم ایمان پر ایسے ثمرات عطا فرماتے ہیں) تو جن لوگوں نے (ایمان کے ساتھ اور اعمال شاقہ بھی کئے جیسے ہجرت یعنی) ترک وطن کیا اور (وہ بھی ہنسی خوشی، سیرو سیاحت کے لئے نہیں، بلکہ اس طرح کہ) اپنے گھروں س (تنگ کر کے) نکالے گئے اور (اس کے سوا طرح طرح کی) تکلیفیں (بھی) دیئے گئے (اور یہ باتیں یعنی ہجرت اور وطن سے نکالنا اور مختلف قسم کی ایذائی سب) میری راہ میں (یعنی میرے دین کے سبب ان کو پیش آئیں اور ان سب کو انہوں نے برداشت کیا) اور (اس سے بڑھ کر انہوں نے یہ کام کیا کہ) جہاد (بھی) کیا اور (بہت سے ان میں سے) شہید (بھی) ہوگئے (اور آخر تک جہاد سے نہ ہٹے، تو ایسے محنت کے اعمال پر ثمرات اور نعمتیں کیوں نہ ملیں گی) ضرور ان لوگوں کی تمام خطائیں (جو میرے حقوق کے متعلق ہوگئی ہوں) معاف کر دوں گا اور ضرور ان کو (بہشت کے) ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے (محلات کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی (ان کو یہ بدلہ ملے گا اللہ کے پاس سے اور اللہ ہی کے پاس (یعنی اس کے قبضہ قدرت میں) اچھا عوض ہے، (مذکورہ آیات میں مسلمانوں کی کلفتوں کا بیان اور اس کا انجام نیک مذکور تھا، آگے کافروں کے عیش و آرام اور اس کے انجام بد کا ذکر ہے، تاکہ مسلمانوں کی تسلی ہو اور بدعمل لوگوں کو اصلاح اور توبہ کی توفیق ہو۔)
لایغرنک (اے طالب حق) تجھ کو ان کافروں کا (کسب معاش یا تفریحات کے لئے) چلنا پھرنا مغالطہ میں نہ ڈال دے (کہ اس حالت کی کچھ وقعت کرنے لگے) یہ چند روزہ بہار ہی (کیونکہ مرتے ہی اس کا نام و نشان بھی نہ رہے گا، اور) پھر (انجام یہ ہوگا کہ) ان کا ٹھکانہ (ہمیشہ کے لئے) دوزخ ہوگا اور وہ بری ہی آرام گاہ ہے، لیکن (ان میں سے بھی) جو لوگ خدا سے ڈریں (اور مسلمان و فرمانبردار ہوجائیں) ان کے لئے بہشتی باغات ہیں جن کے (محلات کے) نیچے نہریں جاری ہوگی، وہ ان (باغوں) میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، یہ (ان کی) مہمانی ہوگی اللہ کی طرف سے اور جو چیزیں خدا کے پاس ہیں (جن کا ابھی ذکر ہوا یعنی بہشتی باغ اور نہریں وغیرہ) یہ نیک بندوں کے لئے بدر جہا بہتر ہیں (کفار کی چند روزہ عیش و مسرت سے)۔
(مذکورہ آیات دعاء سے پہلے اہل کتاب کی بری خصلتوں اور ان کے عذاب و انجام بد کا مسلسل ذکر آیا ہے آ گے ان لوگوں کا ذکر ہے جو اہل کتاب میں سے مسلمان صالح ہوگئے، اس لئے قرآن کی عام عادت کے مطابق بدکرداروں کے قبائح کے بعد نیکو کاروں کی مدائح کا ذکر ہے)
وان من اھل الکتب اور بالقین بعضے لوگ اہل کتاب میں سے ایسے بھی ضرور ہیں جو اللہ پر اعتقاد رکھتے ہیں اور اس کتاب کے ساتھ بھی (اعتقاد رکھتے ہیں) جو تمہارے پاس بھیجی گئی (یعنی قرآن) اور اس کتاب کے ساتھ بھی (اعتقاد رکھتے ہیں) جو ان کے پاس بھیجی گئی (یعنی توراة اور انجیل اور خدا کے ساتھ جو اعتقاد رکھتے ہیں تو) اس طور پر کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے (بھی) ہیں (اس لئے اس اعتقاد میں حدود سے تجاوز نہیں کرتے کہ اللہ پر اولاد کی تہمت لگائیں یا احکام میں افتراء کریں اور تورات و انجیل کے ساتھ جو اعتقاد رکھتے ہیں تو اس طور پر کہ) اللہ تعالیٰ کی آیات کے مقابلہ میں دنیا کا) کم حقیقت معاوضہ نہیں لیتے، ایسے لوگوں کو ان کا نیک عوض ملے گا ان کے پروردگار کے پاس (اور اس میں کچھ دیر بھی نہ لگے گی، کیونکہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ جلد ہی حساب (کتاب) کردیں گے (اور حساب کتاب کرتے ہی سب کا دینا لینا بےباق کردیں گے۔)
معارف و مسائل
ہجرت اور شہادت سے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں، مگر قرض وغیرہ حقوق العباد کی معافی کا وعدہ نہیں۔
لاکفرن عنھم سیاتھم کے تحت خلاصہ تفسیر میں قید لگائی گی ہے کہ اللہ کے حقوق میں جو کو تاہیاں اور گناہ ہوئے وہ معاف ہوں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیث میں قرض اور دین کا مستثنی ہونا بیان فرمایا ہے، اس کی معافی کا ضابطہ یہی ہے کہ خود یا اس کے وارث ان حقوق کو ادا کردیں یا معاف کرا دیں اور کسی شخص پر حق تعالیٰ خاص فضل فرما دیں اور اصحاب حق کو اس سے راضی کر کے معاف کرا دیں یہ اور بات ہے اور بعض کے ساتھ ایسا بھی ہوگا۔
Ayah 3:200ربط آیات
یہ سورة آل عمران کی آخری آیت ہے، مسلمانوں کے لئے چند اہم وصیتوں پر مشتمل ہے، گویا پوری سورت کا خلاصہ ہے۔
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو (تکالیف پر) خود صبر کرو اور (جب کفار سے مقاتلہ ہو تو) مقاتلہ میں صبر کرو اور (احتمال مقاتلہ کے وقت) مقابلہ کے لئے مستعد رہو اور (ہر حال میں) اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو (کہ حدود شرعیہ سے نہ نکلو) تاکہ تم پورے کامیاب ہو (آخرت میں لازمی اور ضروری اور بعض اوقات دنیا میں بھی)۔
معارف و مسائل
اس آیت میں تین چیزوں کی وصیت مسلمانوں کو کی گئی ہے، صبر، مصابرہ، مرابطہ اور چوتھی چیز تقوی ہے جو ان تینوں کے ساتھ لازم ہے۔
صبر کے لفظی معنی روکنے اور باندھنے کے ہیں اور اصطلاح قرآن و سنت میں نفس کو خلاف طبع چیزوں پر جمائے رکھنے کو صبر کہا جاتا ہے، جس کی تین قسمیں ہیںاولصبر علی الطاعات، یعنی جن کاموں کا اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہے، ان کی پابندی طبیعت پر کتنی بھی شاق ہو اس پر نفس کو جمائے رکھنا۔
دوسرے، صبر عن المعاصی، یعنی جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے وہ نفس کیلئے کتنی ہی مرغوب ولذیذ ہوں نفس کو اس سے روکنا۔
تیسرے صبر علی المصائب، یعنی مصیبت و تکلیف پر صبر کرنا حد سے زائد پریشان نہ ہونا اور سب تکلیف و راحت کو حق تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کر نفس کو بےقابو نہ ہونے دینا۔
مصابرت اسی لفظ صبر سے ماخوذ ہے، اس کے معنی ہیں دشمن کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنا، مرابطہ، یہ لفظ صبر سے ماخوذ ہے، اس کے معنی ہیں دشمن کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنا، مرابطہ، یہ لفظ رب سے بنا ہے جس کے اصل معنی باندھنے کے ہیں اور اسی وجہ سے رباط اور مرابطہ کے معنے گھوڑے باندھنے اور جنگ کی تیاری کے لئے جاتے ہیں، قرآن کریم میں اسی معنی کے لئے آیا ہے، ومن رباط الخیل (8: 06) اصطلاح قرآن و حدیث میں یہ لفظ دو معنی کے لئے استعمال کیا گیا ہے
اول اسلامی سرحدوں کی حفاظت جس کے لئے جنگی گھوڑوں اور جنگی سامان کے ساتھ مسلح رہنا لازمی ہے، تاکہ دشمن اسلامی سرحد کی طرف رخ کرنے کی جرأت نہ کرے۔
دوسرے نماز با جماعت کی ایسی پابندی کہ ایک نماز کے بعد ہی دوسری نماز کے انتظار میں رہے، یہ دونوں چیزیں اسلام میں بڑی مقبول عبادت ہیں، جن کے فضائل بیشمار ہیں، ان میں سے چند یہاں لکھے جاتے ہیں
رباط یعنی اسلامی سرحد کی حفاظت کا انتظام۔
اسلامی سرحدوں کی حفاظت کے لئے جنگ کی تیاری کے ساتھ وہاں قیام کرنے کو رباط اور مرابطہ کہا جاتا ہے، اس کی دو صورتیں ہیں، ایک تو یہ کہ کسی جنگ کا خطرہ سامنے نہیں، سرحد مامون و محفوظ ہے، محض حفظ ماتقدم کے طور پر اس کی نگرانی کرنا ہے، ایسی حالت میں تو یہ بھی جائز ہے کہ آدمی وہاں اپنے اہل و عیال کے ساتھ رہنے بسنے لگے اور زمین کی کاشت وغیرہ سے اپنا معاش پیدا کرتا رہے، اس حالت میں اگر اس کی اصل نیت حفاظت سرحد کی ہے، رہنا بسنا اور کسب معاش اس کے تابع ہے تو اس شخص کو بھی رباط فی سبیل اللہ کا ثواب ملے گا، خواہ کبھی جنگ نہ کرنا پڑے، لیکن جس کی اصل نیت حفاظت سرحد نہ ہو بلکہ اپنا گذارہ ہی مقصد ہو خواہ اتفاقی طور پر سرحد کی حفاظت کی بھی نوبت آجائے یہ شخص مرابطہ فی سبیل اللہ نہیں ہوگا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ سرحد پر دشمن کے حملہ کا خطرہ ہے، ایسی حالت میں عورتوں بچوں کو وہاں رکھنا درست نہیں، صرف وہ لوگ رہیں جو دشمن کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ (قرطبی)
ان دونوں صورتوں میں رباط کے فضائل بیشمار ہیں، صحیح بخاری میں حضرت سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ”اللہ کے راستے میں ایک دن کا رباط تمام دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔“ اور صحیح مسلم میں بروایت سلمان مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ”ایک دن رات کا رباط ایک مہینہ کے مسلسل روزے اور تمام شب عبادت میں گذارنے سے بہتر ہے اور اگر وہ اسی حال میں مر گیا تو اس کے عمل رباط کا روزانہ ثواب ہمیشہ کے لئے جاری رہے گا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا رزق جاری رہے گا اور وہ شیطان سے مامون و محفوظ رہے گا۔
اور ابوداؤد نے بروایت فضالہ بن عبید نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر ایک مرنے والے کا عمل اس کی موت کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے، بجز مرابط کے کہ اس کا عمل قیامت تک بڑھتا ہی رہتا ہے اور قبر میں حساب و کتاب لینے والوں سے مامون و محفوظ رہتا ہے۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ عمل رباط ہر صدقہ جاریہ سے بھی زیادہ افضل ہے، کیونکہ صدقہ جاریہ کا ثواب تو اسی وقت تک جاری رہتا ہے، جب تک اس کے صدقہ کئے ہوئے مکان، زمین یا تصانیف کتب یا وقف کی ہوئی کتابوں وغیرہ سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں جب یہ فائدہ منقطع ہوجائے تو ثواب بھی بند ہوجاتا ہے، مگر مرابط فی سبیل اللہ کا ثواب قیامت تک منقطع ہونے والا نہیں، وجہ یہ ہے کہ سب مسلمانوں کو اعمال صالحہ پر قائم رہنا جب ہی ممکن ہے جبکہ وہ دشمن کے حملوں سے محفوظ ہوں تو ایک مرابط کا عمل تمام مسلمانوں کے اعمال صالحہ کا سبب بنتا ہے، اسی لئے قیامت تک اس کے عمل رباط کا ثواب بھی جاری رہے گا اور اس کے علاوہ وہ جتنے نیک کام دنیا میں کیا کرتا تھا ان کا ثواب بھی بغیر عمل کئے ہمیشہ جاری رہے گا، جیسا کہ ابن ماجہ میں باسناد صحیح حضرت ابوہریرہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ
”جو شخص حالت رباط میں مر جائے تو وہ جو کچھ عمل صالح دنیا میں کیا کرتا تھا ان سب اعمال کا ثواب برابر جاری رہے گا اور اس کا رزق بھی جاری رہے گا اور شیطان سے (یا سوال قبر سے) محفوظ رہے گا اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو ایسا مطمئن اٹھائیں گے کہ محشر کا کوئی خوف اس پر نہ ہوگا۔“
اس روایت میں جو فضائل مذکور ہیں ان میں شرط یہ ہے کہ حالت رباط ہی میں اس کی موت آجائے، مگر بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ زندہ بھی اپنے اہل و عیال کی طرف لوٹ گیا تو یہ ثواب پھر بھی جاری رہے گا۔
حضرت ابن بن کعب کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں کی کمزور سرحد کی حفاظت اخلاص کے ساتھ ایک دن، رمضان کے علاوہ دوسرے دنوں میں کرنے کا ثواب سو سال کے مسلسل روزوں اور شب بیداری سے افضل ہے اور رمضان میں ایک دن کا رباط افضل و اعلی ہے ایک ہزار سال کے صیام و قیام سے (اس لفظ میں راوی نے کچھ تردد کا اظہار کیا ہے) پھر فرمایا اور اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو صحیح سالم اپنے اہل و عیال کی طرف لوٹا دیا تو ایک ہزار سال تک اس پر کوئی گناہ نہ لکھا جائے گا اور نیکیاں لکھی جاتی رہیں گی اور اس کے عملی رباط کا اجر قیامت تک جاری رہے گا۔ (قرطبی)
نماز کے بعد دوسری کے انتظار میں رہنا بھی رباط فی سبیل اللہ ہے۔
ابوسلمہ بن عبدالرحمن کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں وہ چیز بتاتا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرما دیں اور تمہارے درجات بلند کریں، وہ چیزیں یہ ہیں، وصول کو مکمل طور پر کرنا باوجود یکہ سردی یا کسی زخم ورد وغیرہ کے سبب اعضاء وضو کا دھونا مشکل نظر آ رہا ہو اور مسجد کی طرف کثرت سے جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار پھر فرمایاذلکم الرباط (یعنی یہی رباط فی سبیل اللہ ہے)
امام قرطبی نے اس کو نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ اس حدیث کی رو سے امید ہے کہ جو شخص ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کی پابندی کرے اس کو بھی اللہ تعالیٰ وہ ثواب عظیم عطا فرما دیں گے جو رباط فی سبیل اللہ کے لئے احادیث میں مذکور ہے۔
فائدہ۔ اس آیت میں اول تو مسلمانوں کو صبر کا حکم دیا گیا ہے جو ہر وقت ہر حال میں ہر جگہ ہوسکتا ہے، اور اس کی تفصیل اوپر بیان ہوچکی ہے، دوسرا حکم مصابرہ کا جو کفار سے مقابلہ اور مقاتلہ کے وقت ہوتا ہے، تیسرا حکم مرابطہ کا جو کفار سے مقابلہ کا احتمال اور خطرہ لاحق ہونے کے وقت ہوتا ہے اور سب سے آخر میں تقوی کا حکم ہے جو ان سب کاموں کی روح اور قبولیت اعمال کا مدار ہے، یہ مجموعہ تقریباً تمام احکام شرعیہ پر حاوی ہے حق تعالیٰ ہم سب کو ان احکام پر عمل کرنے کی توفیق کامل عطا فرمائیں۔ وللہ الحمداولہ و اخرة