Ayah 3:164رسول کریم ﷺ کا وجود باجود پوری انسانیت پر سب سے بڑا احسان ہے
آیت لقد من اللہ علی المومنین الآیتہ اسی مضمون کی ایک آیت 129 تقریباً انہی الفاظ کے ساتھ سورة بقرہ میں گذر چکی ہے جس کی تفسیر و تشریح تفصیل کے ساتھ معارف القرآن جلد اول صفحہ 329 میں آ چکی ہے، اس کو دیکھ لیا جائے یہاں آیت میں ایک لفظ زائد ہے، لقد من اللہ علی المومنین، یعنی رسول اللہ ﷺ کو دنیا میں مبعوث فرما کر حق تعالیٰ نے مومنین پر بڑا احسان فرمایا ہے۔ اس کے متعلق پہلی بات تو یہ قابل غور ہے کہ قرآن کریم کی تصریح کے مطابق آنحضرت ﷺ رحمتہ للعالمین ہیں اور پورے عالم کے لئے آپ کا وجود نعمت کبری اور احسان عظیم ہے، اس جگہ اس کو صرف مؤمنین کے لئے فرمانا ایسا ہی ہے جیسے قرآن کریم کو ھدی للمتقین فرمانا کہ قرآن کا سارے عالم کے لئے ہدایت ہونا دوسری آیات سے ثابت ہے مگر بعض جگہ اس کو متقین کے ساتھ مخصوص کر کے بیان فرمایا اس کی وجہ دونوں جگہ مشترک طور پر ایک ہی ہے کہ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کا وجود باوجود سارے عالم اور ہر مومن و کافر کے لئے نعمت کبریٰ اور احسان عظیم ہے اسی طرح قرآن کریم سارے عالم انسانیت کے لئے صحیفہ ہدایت ہے، مگر چونکہ اس نعمت و ہدایت کا نفع صرف مؤمنین اور متقین نے حاصل کیا اس لئے کسی جگہ اس کو ان کے ساتھ مخصوص کر کے بھی بیان کردیا گیا۔
دوسری بات رسول کریم ﷺ کو مؤمنین کے لئے یا پورے عالم کے لئے نعمت کبری اور احسان عظیم ہونے کی تشریح و توضیح ہے۔
یہ بات ایسی ہے کہ اگر آج کل کا انسان روحانیت فراموش اور مادیت کا پرستار نہ ہوتا تو یہ مضمون کسی توضیح و تشریح کا محتاج نہیں تھا، عقل سے کام لینے والا ہر انسان اس احسان عظیم کی حقیقت سے خود واقف ہوتا، مگر ہو یہ رہا ہے کہ آج کا انسان دنیا کے جانوروں میں ہوشیا رترین جانور سے زیادہ کچھ نہیں رہا اس کو احسان و انعام صرف وہ چیز نظر آتی ہے جو اس کے پیٹ اور نفسانی خواہشات کا سامان مہیا کرے، اس کے وجود کی اصل حقیقت جو اس کی روح ہے اس کی خوبی اور خرابی سے وہ یکسر غافل ہوگیا ہے، اس لئے اس تشریح کی ضرورت ہوئی کہ انسان کو پہلے تو یہ بتلایا جائے کہ اس کی حقیت صرف چند ہڈیوں اور گوشت پوست کا مجموعہ نہیں، بلکہ حقیقت انسان وہ روح ہے جو اس کے بدن کے ساتھ متعلق ہے، جب تک یہ روح اس کے بدن میں ہے اس وقت تک انسان انسان ہے، اس کے حقوق انسانیت قائم ہیں، خواہ وہ کتنا ہی ضعیف و کمزور، لب دم کیوں نہ ہو، کسی کی مجال نہیں کہ اس کی جائیداد اور اموال پر قبضہ کرسکے، یا اس کے حقوق سلب کرسکے، لیکن جس وقت یہ روح اس کے بدن سے الگ ہوگئی، تو خواہ وہ کتنا ہی قوی اور پہلوان ہو اور اس کے اعضاء سب اپنی اصلی ہئیت میں ہوں وہ انسان نہیں رہا، اس کا کوئی حق خود اپنی جائیداد و اموال میں باقی نہیں رہا۔
انبیاء (علیہم السلام) دنیا میں آتے ہیں اس لئے کہ وہ انسانی روح کی صحیح تربیت کر کے انسان کو حقیقی انسان بنائیں، تاکہ اس کے بدن سے جو اعمال و افعال صادر ہوں وہ انسانیت کے لئے مفید ثابت ہوں، وہ درندے اور زہریلے جانوروں کی طرح دوسرے انسانوں کو ایذاء اور تکلیف دیتا نہ پھرے اور خود اپنے بھی انجام کو سمجھ کر آخرت کی دائمی زندگی کا سامان مہیا کرے، ہمارے رسول کریم ﷺ کو جیسے زمرہ انبیاء میں امامت و سیادت کا منصب حاصل ہے، انسان کو صحیح انسان بنانے میں بھی آپ کی شان تمام انبیاء (علیہم السلام) سے بہت ممتاز ہے، آپ نے اپنی مکی زندگی میں صرف یہی کام افراد سازی کا انجام دیا اور انسانوں کا ایسا معاشرہ تیار کردیا جس کا مقام فرشتوں کی صفوف سے آگے ہے اور زمین و آسمان نے اس سے پہلے ایسے انسان نہیں دیکھے، ان میں سے ایک ایک رسول اللہ ﷺ کا زندہ معجزہ نظر آتا ہے، ان کے بعد کے لئے بھی آپ نے جو تعلیمات اور ان کے رواج دینے کے طریقے چھوڑے ہیں اس پر پورا عمل کرنے والے اسی مقام کو پاسکتے ہیں جو صحابہ کرام نے پایا ہے، یہ تعلیمات سارے عالم کے لئے ہیں، اس لئے آپ کا وجود باجود پورے عالم انسان کے لئے احسان عظیم ہے، گو اس سے پورا نفع مؤمنین ہی نے اٹھایا ہے۔
Ayah 3:165واقعہ احد میں مسلمانوں کو عارضی شکست اور زخم و قتل کے مصائب پیش آنے کے بعض اسباب اور حکمتیں
آیتہ اولما اصابتکم آلایتہ، سابقہ آیات میں کئی جگہ اس مضمون کا ذکر آ چکا ہے، یہاں پھر اس کی تاکید مزید توضیح کے ساتھ بیان کی گئی ہے، کیونکہ مسلمانوں کو اس واقعہ سے سخت کلفت تھی یہاں تک کہ بعض حضرات کی زبان پر بھی آیا انی ھذا کہ یہ مصیبت ہم پر کہاں سے آ پڑی، جب کہ ہم رسول ﷺ کے ساتھ شریک جہاد ہیں۔
آیت مذکورہ میں اول تو یہ بات یاد دلائی کہ جتنی مصیبت تم پر آج پڑی ہے تم اس سے دوگنی اپنے مخالف پر اس سے پہلے غزوہ بدر میں ڈال چکے ہو، کیونکہ غزوہ احد میں ستر مسلمان شہید ہوئے تھے اور غزوہ بدر میں مشرکین کے ستر سردار مارے گئے تھے اور ستر گرفتار ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آئے تھے، اس بات کے یاد دلانے سے ایک تو یہ مقصد ہے کہ مسلمانوں کو اپنی موجودہ تکلیف و پریشانی کا احساس گھٹ جائے کہ جس شخص کی دوگنی جیت ہوچکی ہو اگر ایک دفعہ آدھی ہار و شکست بھی ہوجائے تو زیادہ غم اور تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ دوسرا اصل مقصد آیت کے آخری جملہ قل ھو من عند انفسکم میں بتلایا کہ یہ تکلیف مصیبت درحقیقت دشمن کی قوت و کثرت کے سبب سے نہیں، بلکہ تمہاری اپنی بعض کوتاہیوں کے سبب سے ہے کہ امر رسول اللہ ﷺ کی تعمیل میں سے کوتاہی ہوگئی۔
Ayahs 3:166–168اس کے بعد کی آیت فباذن اللہ میں اس طرف اشارہ کیا گیا کہ یہ جو کچھ ہوا حق تعالیٰ کے اذن و مشیت سے ہوا، جس میں بہت سی حکمتیں مستور ہیں، جن میں سے بعض کا بیان پہلے بھی، یعنی مؤمنین کا اخلاص اور منافقین کی منافقت ایسی واضح ہوجائے کہ ہر دیکھنے والا دیکھ سکے یہاں اللہ تعالیٰ کے دیکھنے سے مراد یہی ہے کہ دنیا میں جو دیکھنے کی صورت متعارف ہے اس صورت میں دیکھ لیں ورنہ اللہ تعالیٰ تو ہر وقت ہر چیز کو دیکھ رہے ہیں چناچہ یہ حکمت اس طرح واضح ہوگئی کہ اس شدت کے وقت منافقین الگ ہو کر کھڑے ہوئے اور مخلص مومن معرکہ میں ڈٹے رہے۔
Ayah 3:169اور ایک وجہ تسلی یہ بھی ہے کہ جو مسلمان اس معرکہ میں شہید ہوگئے ہیں ان کو حق تعالیٰ نے وہ انعامات دیئے ہیں کہ دوسروں کو ان پر رشک آنا چاہئے اس مناسبت سے اس کے بعد کی آیت ولاتحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتاً میں شہداء کے خاص فضائل بیان فرمائے گئے ہیں۔
اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے خاص فضائل اور درجات۔
اس آیت میں شہداء کے خاص فضائل کا بیان ہے اور احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی تفصیل وارد ہوئی ہے، امام قرطبی نے فرمایا ہے کہ شہداء کے بھی درجات اور حالات مختلف ہوتے ہیں، اس لئے روایات حدیث میں جو مختلف صورتیں آئی ہیں، وہ مختلف حالات کے اعتبار سے ہیں۔
یہاں شہداء کی پہلی فضیلت تو یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ مرے نہیں، بلکہ دائمی زندگی کے مالک ہوگئے ہیں، یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ بظاہر ان کا مرنا اور قبر میں دفن ہونا تو مشاہد اور محسوس ہے، پھر قرآن کی متعدد آیات میں ان کو مردہ نہ کہنے اور نہ سمجھنے کی جو ہدایت آئی ہے اس کا کیا مطلب ہے ؟ اگر کہا جائے کہ حیات برزخی مراد ہے، تو وہ ہر شخص مومن و کافر کو حاصل ہے کہ مرنے کے بعد اس کی روح زندہ رہتی ہے اور قبر کے سوال و جواب کے بعد مؤمنین حاصل ہے کہ مرنے کے بعد اس کی روح زندہ رہتی ہے اور قبر کے سوال و جواب کے بعد مؤمنین صالحین کے لئے سامان راحت اور کفار فجار کے لئے قبر کا عذاب قرآن و سنت سے ثابت ہے، تو یہ حیات برزخی جب سب کے لئے عام ہے تو شہداء کی کیا خصوصیت ہوتی ؟
جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کی اسی آیت نے یہ بتلایا ہے کہ شہداء کو اللہ کی طرف سے جنت کا رزق ملتا ہے اور رزق زندہ آدمی کو ملا کرتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا سے منتقل ہوتے ہی شہید کے لئے رزق جنت جاری ہوجاتا ہے اور ایک خاص قسم کی زندگی اسی وقت سے اس کو مل جاتی ہے، جو عام مردوں سے ممتاز حیثیت کی ہے (قرطبی) اب رہا کہ وہ امتیاز کیا ہے ؟ اور وہ زندگی کیسی ہے ؟ اس کی حقیت سوائے خالق کائنات کے نہ کوئی جان سکتا ہے نہ جاننے کی ضرورت ہے، البتہ بسا اوقات ان کی حیات خاص کا اثر اس دنیا میں بھی ان کے ابدان پر ظاہر ہوتا ہے کہ زمین ان کو نہیں کھاتی وہ صحیح سالم باقی رہتے ہیں (قرطبی) جس کے بہت سے واقعات مشاہدہ کئے گئے ہیں۔ شہداء کی پہلی فضیلت اس آیت میں ان کی ممتاز دائمی حیات ہے، دوسری یہ کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق ملتا ہے، تیسری فضیلت فرحین بما اتھم اللہ میں یہ بیان کی گئی کہ وہ ہمیشہ خوش و خرم رہیں گے، ان نعمتوں میں جو ان کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں۔
Ayahs 3:170–171چوتھی فضیلت یہ ہے ویستبشرون بالذین لم یلحقوابھم، یعنی وہ اپنے جن متعلقین کو دنیا میں چھوڑ گئے تھے ان کے متعلق بھی ان کو یہ خوشی ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں رہ کر نیک عمل اور جہاد میں مصروف رہیں تو ان کو بھی یہاں آ کر یہی نعمتیں اور درجات عالیہ ملیں گے۔
اور سدی نے بیان فرمایا کہ شہید کا جو کوئی عزیز دوست مرنے والا ہوتا ہے شہید کو پہلے سے اس کی اطلاع کردی جاتی ہے کہ فلاں شخص اب تمہارے پاس آ رہا ہے وہ اس سے ایسا خوش ہوتا ہے جیسے دنیا میں کسی دور افتادہ دوست سے بعد مدت ملاقات کی خوشی ہوتی ہے۔
اس آیت کا شان نزول جو ابو داؤد نے باسناد صحیح حضرت ابن عباس سے روایت کیا وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ جب واقعہ احد میں تمہارے بھائی شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز پرندوں کے جسم میں رکھ کر آزاد کردیا وہ جنت کی نہروں اور باغات کے پھلوں سے اپنا رزق حاصل کرتے ہیں اور پھر ان قندیلوں میں آجاتے ہیں جو ان کے لئے عرش رحمن کے نیچے معلق ہیں، جب ان لوگوں نے اپنی راحت و عیش کی یہ زندگی دیکھی تو کہنے لگے کہ (ہمارے متعلقین دنیا میں ہمارے مرنے سے غمگین ہیں) کیا کوئی ہمارے حالات کی خبر ان کو پہنچا سکتا ہے، تاکہ وہ ہم پر غم نہ کریں اور وہ بھی جہاد میں کوشش کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم تمہاری یہ خبر ان کو پہنچائے دیتے ہیں اس پر یہ آیت نازل فرمائی گئی۔ (قرطبی)
Ayah 3:172خلاصہ تفسیر
جن لوگوں نے اللہ و رسول کے کہنے کو (جبکہ ان کو تعاقب کفار کے لئے بلایا گیا) قبول کرلیا بعد اس کے کہ ان کو (ابھی تازہ) زخم (لڑائی میں) لگا تھا ان لوگوں میں جو نیک اور متقی ہیں (اور واقع میں سب ہی ایسے ہیں) ان کے لئے (آخرت میں) ثواب عظیم ہے، یہ ایسے (مخلص) لوگ ہیں کہ (بعض) لوگوں نے (یعنی عبدالقیس والوں نے جو) ان سے (آکر) کہا کہ ان لوگوں (یعنی اہل مکہ نے) تمہارے (مقابلہ کے) لئے (بڑا) سامان جمع کیا ہے، سو تم کو ان سے اندیشہ کرنا چاہئے تو اس (خبر) نے ان کے (جوش) ایمان کو اور زیادہ کردیا اور (نہایت استقلال سے یہ) کہہ (کر بات کو ختم کر) دیا کہ ہم کو حق تعالیٰ (مشکلات کے لئے) کافی ہے اور وہی سب کام سپرد کرنے کے لئے اچھا ہے (اسی سپرد کرنے کو توکل کہتے ہیں) پس یہ لوگ خدا کی نعمت اور فضل سے (یعنی ثواب اور نفع تجارت سے) بھرے ہوئے واپس آئے کہ ان کو کوئی ناگواری پیش نہیں آئی اور وہ لوگ (اس واقعہ میں) رضائے حق کے تابع رہے (اس کی بدولت اپنی دنیوی نعمتوں سے سرفراز ہوئے) اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے (مسلمانو !) اس سے زیادہ کوئی (قابل اندیشہ) بات نہیں کہ یہ مخبر (فعلاً) شیطان ہے کہ اپنے (ہم مذہب) دوستوں سے (تم کو ڈرانا (چاہتا ہے، سو تم ان سے کبھی مت ڈرنا اور صرف مجھ ہی سے ڈرنا اگر تم ایمان والے ہو۔
معارف و مسائل
ربط آیات اور شان نزول
اوپر غزوہ احد کے قصہ کا ذکر تھا، مذکورہ آیات میں اسی غزوہ سے متعلق ایک دوسرے غزوہ کا ذکر ہے، جو غزوہ حمرا الاسد کے نام سے مشہور ہے، حمرالاسد مدینہ طیبہ سے آٹھ میل کے فاصلہ پر ایک مقام کا نام ہے۔ واقعہ اس غزوہ کا یہ ہے کہ جب کفار مکہ احد کے میدان سے واپس ہوگئے، تو راستے میں جا کر اس پر افسوس ہوا کہ ہم غالب آجانے کے باوجود خواہ مخواہ واپس لوٹ آئے، ہمیں چاہئے تھا کہ ایک ہلہ کر کے سب مسلمانوں کو ختم کردیتے اور اس خیال نے کچھ ایسا اثر کیا کہ پھر واپس مدینہ کی طرف لوٹنے کا ارداہ کرنے لگا، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر رعب ڈال دیا اور سیدھے مکہ مکرمہ کو ہو لئے، لیکن بعض مسافروں سے جو مدینہ کی طرف جا رہے تھے یہ کہہ گئے کہ تم جا کر کسی طرح مسلمانوں کے دل میں ہمارا رعب جماؤ کہ وہ پھر لوٹ کر آ رہے ہیں، آنحضرت ﷺ کو بذریعہ وحی یہ بات معلوم ہوگئی، اس لئے آپ ان کے تعاقب میں حمرا الاسد تک پہنچے (ابن جریر کذافی الروح)
تفسیر قرطبی میں ہے کہ احد کے دور سے دن رسول اللہ ﷺ نے اپنے مجاہدین میں اعلان فرمایا کہ ہمیں مشرکین کا تعاقب کرنا ہے، مگر اس میں صرف وہی لوگ جاسکیں گے جو کل کے معرکہ میں ہمارے ساتھ تھے، اس اعلان پر دو سو مجاہدین کھڑے ہوگئے۔ اور صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ کون ہے جو مشرکین کے تعاقب میں جائے تو ستر حضرات کھڑے ہوگئے جن میں ایسے لوگ بھی تھے جو گزشتہ کل کے معرکہ میں شدید زخمی ہوچکے تھے، دوسروں کے سہارے چلتے تھے، یہ حضرات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مشرکین کے تعاقب میں روانہ ہوئے، مقام حمراء الاسد پر پہنچنے تو وہاں نعیم بن مسعود ملا، اس نے خبر دی کہ ابوسفیان نے اپنے ساتھ مزید لشکر جمع کر کے پھر یہ طے کیا ہے کہ پھر مدینہ پر چڑھائی کریں اور اہل مدینہ کا استیصال کریں، زخم خوردہ ضعیف صحابہ اس خبر و وحشت اثر کو سن کر یک زبان ہو کر بولے کہ ہم اس کو نہیں جانتے حسبنا اللہ و نعم الوکیل یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے لئے کافی ہے اور وہی بہتر مددگار ہے۔
اس طرف تو مسلمانوں کو مرعوب کرنے کے لئے یہ خبر دی گئی اور مسلمان اس سے متاثرہ نہیں ہوئے، دوسری طرف معبد خزاغی بنی خزاعہ کا ایک آدمی مدینہ سے مکہ کی طرف جا رہا تھا یہ اگرچہ مسلمان نہ تھا مگر مسلمانوں کا خیر خواہ تھا، اس کا قبیلہ رسول اللہ ﷺ کا حلیف تھا، اس لئے جب راستہ میں مدینہ سے لوٹے ہوئے ابوسفیان کو دیکھا کہ وہ اپنے لوٹنے پر پچھتا رہا ہے اور پھر واپسی کی فکر میں ہے تو اس نے ابوسفیان کو بتایا کہ تم دھوکے میں ہو کہ مسلمان کمزور ہوگئے، میں ان کے بڑے لشکر کو حمرا الاسد میں چھوڑ کر آیا ہوں، جو پورے ساز و سامان سے تمہارے تعاقب میں نکلا ہے، ابوسفیان پر اس کی خبر نے رعب ڈال دیا۔ اسی واقعہ کا بیان مذکورہ تین آیتوں میں فرمایا گیا ہے، پہلی آیت میں ارشاد ہے کہ غزوہ احد میں زخم خوردہ ہونے اور مشقتیں برداشت کرنے کے باوجود جب ان کو دوسرے جہاد کی طرف اللہ اور اس کے رسول نے بلایاتو وہ اس کے لیے بھی تیار ہوگئے، اس مقام پر ایک امر قابل غور ہے وہ یہ کہ یہاں جن مسلمانوں کی تعریف بیان کی جا ری ہے ان کے دو وصف بیان کئے گئے، ایک تو من بعد ما اصابھم القرح یعنی اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر تیار ہونے والے وہ لوگ جن کو احد میں زخم پہنچ چکے تھے اور ان کے ستر نامور بہادر شہید ہوچکے تھے اور ان کے جسم بھی زخموں سے چور تھے، لیکن جب ان کو دوسری دفعہ بلایا گیا تو وہ فوراً جہاد کے لئے تیار ہوگئے۔
دوسرا وصف للذین احسنوا منھم واتقوا میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ عملی جدوجہد اور جاں نثاری کے عظیم کارناموں کے ساتھ یہ حضرات احسان وتقوی کی صفات کمال سے بھی آراستہ تھے اور یہ مجموعہ ہی ان کے اجر عظیم کا سبب ہے۔ اس آیت میں لفظ منہم سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ یہ سب لوگ احسان وتقوی کے حامل نہیں، بلکہ ان میں سے بعض تھے، اس لئے کہ یہاں حرف من ”تبعیض کے لئے نہیں بلکہ بیانیہ ہے جس پر خود اسی آیت کے ابتدائی الفاظ الذین استجابوا شاہد ہیں کیونکہ یہ استجابت و اطاعت بغیر احسان وتقوی کے ہو ہی نہیں سکتا اس لئے اکثر مفسرین نے اس جگہ ”من“ کو بیانیہ قرار دیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ سب لوگ جو احسان وتقویٰ کی صفات سے آراستہ تھے ان کے لئے اجر عظیم ہے۔
کسی کام کے لئے صرف جدوجہد اور جاں نثاری کافی نہیں جب تک اخلاص نہ ہو۔
البتہ اس خاص عنوان سے ایک اہم فائدہ یہ حاصل ہوا کہ کوئی کام کتنا ہی نیک ہو اور اس کے لئے کوئی شخص کتنی ہی جاں نثاری دکھلائے اللہ کے نزدیک وہ موجب اجر اسی وقت ہوگی، جب کہ اس کے ساتھ احسان وتقوی بھی ہو، جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ عمل خالص اللہ کے لئے ہو ورنہ محض جاں نثاری اور بہادری کے واقعات تو کفار میں بھی کچھ کم نہیں۔
حکم رسول درحقیقت حکم خدا ہے
اس واقعہ میں مشرکین کے تعاقب میں جان کا حکم رسول اللہ ﷺ نے دیا تھا، قرآن کی کسی آیت میں مذکور نہیں، مگر اس آیت میں جب ان لوگوں کی اطاعت شعاری کی مدح فرمائی تو اس حکم کو اللہ اور رسول دونوں کی طرف منسوب کر کے الذین استجابوا اللہ والرسول فرمایا گیا جس نے واضح طور پر ثابت کردیا کہ رسول اللہ ﷺ جو حکم دیتے ہیں وہ اللہ کا حکم بھی ہوتا ہے، اگرچہ اللہ کی کتاب میں مذکور نہ ہو۔
جو بےدین حدیث کا انکار کرتے ہیں اور رسول کی حیثیت صرف ایک قاصد کی بتلاتے ہیں (معاذ اللہ) ان کے سمجھنے کے لئے یہ جملہ بھی کافی ہے کہ رسول کے حکم کو اللہ تعالیٰ نے اپنا ہی حکم قرار دیا جس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ رسول خود بھی اپنی صواب دید پر مصلحت کے مطابق کچھ احکام دے سکتے ہیں اور ان کا وہی درجہ ہوتا ہے جو اللہ کی طرف سے دیئے ہوئے احکام کا ہے۔
احسان کی تعریف۔
احسان کی تعریف حدیث جبرئیل کے اندر رسول اللہ ﷺ نے اس طرح فرمائی ہے”یعنی تم اپنے پروردگار کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو۔ اور اگر یہ حالت پیدا نہ ہو تو کم از کم یہ حالت تو ہو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔“
تقویٰ کی تعریف۔
تقویٰ کی تعریف متعدد تعبیرات سے کی گئی، لیکن سب سے زیادہ جامع تعریف وہ ہے جو حضرت ابی بن کعب ؓ نے حضرت عمر ؓ کے سوال کرنے پر فرمائی، حضرت عمر نے پوچھا تھا کہ تقوی کیا ہے ؟ حضرت ابی بن کعب نے فرمایا کہ امیر المومنینکبھی آپ کا ایسے راستہ پر بھی گذر ہوا ہوگا جو کانٹوں سے پر ہو، حضرت عمر نے فرمایا، کئی بار ہوا ہے، حضرت ابی بن کعب نے فرمایا ایسے موقع پر آپ نے کیا کیا، حضرت عمر نے فرمایا کہ دامن سمیٹ لئے اور نہایت احتیاط سے چلا، حضرت ابن بن کعب نے فرمایا کہ بس تقوی اسی کا نام ے، یہ دنیا ایک خارستان ہے، گناہوں کے کانٹوں سے بھری پڑی ہے، اس نئے دنیا میں اس طرح چلنا اور زندگی گذارنا چاہئے کہ دامن گناہوں کے کانٹوں سے نہ الجھے اسی کا نام تقوی ہے، جو سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہے، حضرت ابوالدردا ؓ یہ شعر اکثر پڑھا کرتے تھے۔
”یعنی لوگ اپنے دنیوی فائدے اور مال کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، حالانکہ تقوی سب سے بہتر سرمایہ ہے۔“
Ayah 3:173دوسری آیت میں اس جہاد کے لئے بڑھنے والے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی مزید توصیف و تعریف اس طرح کی گئی۔
الذین قال لھم الناس ان الناس قد جمعوا لکم فاخشوھم فزادھم ایماناً یعنی یہ وہ حضرات ہیں کہ جب ان لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف دشمنوں نے بڑا سامان اکٹھا کیا ہے ان سے ڈرو جنگ کا ارادہ نہ کرو تو اس خبر نے ان کا جوش ایمان اور بڑھا دیا درجہ یہ ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت جب ان حضرات نے قبول کی تھی تو پہلے ہی دن سے محسوس کرلیا تھا کہ ہم نے جس راستہ پر سفر شروع کیا ہے وہ خطرات سے پر ہے، قدم قدم پر مشکلات و موانع پیش آئیں گے، ہمارا راستہ روکا جائے گا اور ہماری انقلابی تحریک کو مٹانے کے لئے مسلح کوششیں کی جائیں گی اس لئے جب یہ حضرات اس قسم کی مشکلات کو دیکھتے تھے تو ایمان کی قوت پہلے سے زیادہ ہوجاتی تھی اور پہلے سے زیادہ جانفشانی اور فداکاری کے ساتھ کام کرنے لگتے تھے۔ ظاہر یہ ہے کہ ان حضرات کا ایمان تو اسلام لانے کے اول روز ہی سے کامل تھا، لہٰذا ان دونوں آیتوں میں ایمان کی زیادتی سے ایمان کی صفات اور ایمان کے ثمرات کی زیادتی مراد ہے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی دعوت پر تیار ہوجانے والے صحابہ کی اس حالت کو بھی اس جگہ خصوصیت کے ساتھ بیان کیا کہ اس جہاد کے سفر میں تمام راستہ یہ جملہ ان کے ورد زبان رہا حسبنا اللہ و نعم الوکیل اس جملہ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے کافی ہے اور وہی بہتر کار ساز ہے
یہاں یہ بات خصوصیت سے قابل غور ہے کہ رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام سے زیاد ہوتا دنیا میں کسی کا توکل و اعتماد اللہ تعالیٰ پر نہیں ہو سکتا، لیکن آپ کی صورت توکل یہ نہ تھی، کہ اسباب ظاہرہ کو چھوڑ کر بیٹھے رہتے اور کہتے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کافی ہے وہ بیٹھے بیٹھائے ہمیں غلبہ عطا فرما دے گا، نہیں بلکہ آپ نے صحابہ کرام کو جمع کیا، زخم خوردہ لوگوں کے دلوں میں نئی روح پیدا فرمائی، جہاد کے لئے تیار کیا اور نکل کھڑے ہوئے جتنے اسباب و ذرائع اپنے اختیار میں تھے وہ سب مہیا اور استعمال کرنے کے بعد فرمایا کہ ہمیں اللہ کافی ہے، یہی وہ صحیح توکل ہے جس کی تعلیم قرآن میں دی گئی اور رسول کریم ﷺ نے اس پر عمل کیا اور کرایا، اسباب ظاہرہ دنیویہ بھی اللہ تعالیٰ کا انعام ہیں، ان کو ترک کردینا اس کی ناشکری ہے، ترک اسباب کر کے توکل کرنا سنت رسول اللہ ﷺ نہیں ہے، کوئی مغلوب الحال ہو تو وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے، ورنہ صحیح بات یہی ہے کہ برتوکل زانوے اشتر بہ بند
رسول کریم ﷺ نے خود ایک واقعہ میں اسی آیت حسبنا اللہ و نعم الوکیل کے بارے میں واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے
عوف بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں دو شخصوں کا مقدمہ آیا آپ نے ان کے درمیان فیصلہ فرمایا، یہ فیصلہ جس شخص کے خلاف تھا اس نے فیصلہ نہایت سکون سے سنا اور یہ کہتے ہوئے چلنے لگا کہ حسبی اللہ ونعم الوکیل حضور ﷺ نے فرمایا اس شخص کو میرے پاس لاؤ اور فرمایا
”یعنی اللہ تعالیٰ ہاتھ پیر توڑ کر بیٹھ جانے کو ناپسند کرتا ہے بلکہ تم کو چاہئے کہ تمام ذرائع اختیار کرو پھر بھی عاجز ہوجاؤ اس وقت کہو حسبی اللہ و نعم الوکیل۔“
Ayahs 3:174–175تیسری آیت میں ان حضرات صحابہ کے اقدام جہاد اور حسبنا اللہ و نعم الوکیل کہنے کے فوائد وثمرات اور برکات کا بیان ہے، فرمایا ہے
فانقلبوا بنعمة من اللہ و فضل لم یمسھم سوء واتبعوا رضوان اللہ یعنی یہ لوگ اللہ کے انعام اور فضل کے ساتھ واپس آئے کہ انہیں کوئی ناگواری ذرا نہ پیش آئی اور یہ لوگ رضائے الٰہی کے تابع رہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو تین نعمتیں عطا کیں، پہلی نعمت تو یہ کہ کافروں کے قلوب میں رعب وہیبت ڈال دی اور وہ لوگ بھاگ گئے جس کی وجہ سے یہ حضرات قتل و قتال سے محفوظ رہے، اس نعمت کو اللہ تعالیٰ نے نعمت ہی کے لفظ سے تعبیر فرمایا اور دوسری نعمت اللہ تعالیٰ نے یہ عطا فرمائی کہ ان حضرات کو حمراء الاسد کے بازار میں تجارت کا موقع ملا اور اس مال سے منافع حاصل ہوا اس کو لفظ فضل سے تعبیر فرمایا ہے۔
تیسری نعمت جو ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے وہ رضائے الٰہی کا حصول ہے جو اس جہاد میں ان حضرات کو خاص انداز میں حاصل ہوئی۔ حسبنا اللہ و نعم الوکیل کے جو فوائد و برکات قرآن کریم نے بیان فرمائے وہ کچھ صحابہ کرام کے ساتھ مخصوص نہ تھے، بلکہ جو شخص بھی جذبہ ایمانی کے ساتھ اس کا ورد کرے وہ یہ برکات حاصل کرے گا۔
مشائخ و علماء نے حسبنا اللہ و نعم الوکیل پڑھنے کے فوائد میں لکھا ہے کہ اس آیت کو ایک ہزار مرتبہ جذبہ ایمان وانقیاد کے ساتھ پڑھا جائے اور دعا مانگی جائے تو اللہ تعالیٰ رد نہیں فرماتا۔ ہجوم افکار و مصائب کے وقت حسبنا اللہ ونعم الوکیل کا پڑھنا مجرب ہے۔
چوتھی آیت میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ مسلمانوں کو مرعوب کرنے کے لئے مشرکین کے دوبارہ لوٹنے کی خبر دینے والا اصل میں شیطان ہے، جو تم کو اپنے اولیاء یعنی ہم مذہب کفار سے ڈرانا چاہتا ہے، تو گویا اصل عبارت میں یخوف کا ایک مفعول محذوف ہے، یعنی یخوفکم اور دوسرا مفعول اولیآء ہو مذکور ہے۔
پھر ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کو ایسی خبروں سے ہرگز ڈرنا نہیں چاہئے، البتہ مجھ سے ڈرتے رہنا ضروری ہے، یعنی میری اطاعت کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے ہر مومن کو ڈرانا ضروری ہے، اللہ تعالیٰ کی مدد ساتھ ہو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
خوف خدا سے مراد کیا ہے۔
اس آیت میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتے رہیں اور دوسری آیت میں ان لوگوں کی مدح فرمائی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں، یخافون ربھم من فوقھم (61: 05) مگر بعض اکابر نے فرمایا کہ خوف خدا رونے اور آنسو پونچھنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ سے ڈرنے والا وہ ہے جو ہر اس چیز کو چھوڑ دے جس پر اللہ کی طرف سے عذاب کا خطرہ ہو۔
ابو علی دقاق رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ابوبکر بن فواک بیمار تھے، میں ان کی عیادت کر گیا، مجھے دیکھ کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے، میں نے کہا کہ گھبرایئے نہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء و عافیت دیں گے، وہ فرمانے لگے کہ کیا تم یہ سمجھے کہ میں موت کے خوف سے روتا ہوں، بات یہ نہیں، مجھے مابعد الموت کا خوف ہے کہ وہاں کوئی عذاب نہ ہو (قرطبی)
Ayahs 3:176–177ربط آیات
سابقہ آیات میں منفاقین کی بےوفائی، بدخواہی کا ذکر تھا، مذکورہ آیتوں میں رسول اللہ ﷺ کی تسلی ہے کہ آپ ان کفار کی حرکتوں سے رنجیدہ اور شکستہ خاطر نہ ہوں، وہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، آخری آیت میں اس خیال کا جواب ہے کہ بظاہر تو دنیا میں یہ کفار پھلتے پھولتے نظر آتے ہیں تو ان کو مقہور و مغضوب کیسے سمجھا جائے ؟
خلاصہ تفسیر
اور آپ کے لئے وہ لوگ موجب غم نہ ہونے چاہئیں جو جلدی سے کفر (کی باتوں) میں جا پڑتے ہیں، (جیسے منافقین کہ ذرا مسلمانوں کا پلہ ہلکا دیکھا تو کھلم کھلا کفر کی باتیں کرنے لگتے ہیں، جیسا کہ واقعات مذکورہ میں معلوم ہوچکا ہے) یقینا وہ لوگ اللہ تعالیٰ (کے دین) کو ذرہ برابر بھی ضرر نہیں پہنچا سکتے (اس لئے آپ کو یہ غم تو ہونا نہیں چاہئے کہ ان کی حرکتوں سے اللہ کے دین کو ضرر پہنچ جائے گا اور اگر آپ کو خود ان کافروں کا غم ہو کہ یہ بدنصیب کیوں جہنم کی طرف جا رہے ہیں تو بھی آپ غم نہ کریں) کیونکہ اللہ تعالیٰ کو (تکوینی طور پر) یہ منظور ہے کہ آخرت میں ان کو کوئی حصہ نہ دے (اس لئے ان سے موافقت کی امید رکھنا صحیح نہیں، اور رنج وہیں ہوتا ہے جہاں امید ہو) اور (ان کے لئے صرف آخرت کی نعمتوں سے محرومی ہی نہیں بلکہ) ان لوگوں کو سزائے عظیم بھی ہوگی (اور جس طرح وہ لوگ دین اسلام کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے، اسی طرح) یقینا جتنے لوگوں نے ایمان (کو چھوڑ کر اس) کی جگہ کفر کو اختیار کر رکھا ہے (خواہ منافق ہوں یا کھلے کافر اور خواہ پاس کے ہوں یا دور کے) یہ لوگ (بھی) اللہ تعالیٰ (کے دین) کو ذرہ برابر ضرر نہیں پہنچا سکتے اور ان کو (بھی پہلے لوگوں کی طرح) دردناک سزا ہوگی، اور جو لوگ کفر کر رہے ہیں وہ یہ خیال ہرگز نہ کریں کہ ہمارا ان کو (عذاب سے) مہلت دینا (کچھ) ان کے لئے بہتر (اور مفید) ہے (ہرگز نہیں بلکہ) ہم ان کو اس لئے مہلت دے رہے ہیں (جس میں زیارت عمر کی وجہ سے) ان کو جرم میں اور ترقی ہوجائے (تاکہ یکبارگی پوری سزا ملے گی) اور (دنیا میں اگر سزا نہ ہوئی تو کیا ہے آخرت میں تو) ان کو توہین آمیز سزا ہوگی۔
Ayah 3:178معارف و مسائل
کفار کی دنیوی عیش و عشرت بھی درحقیقت عذاب ہی کی تکمیل ہے۔
یہاں کوئی یہ شبہ نہ کرے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کافروں کو مہلت اور عمر دراز اور عافیت و راحت کے سامان اس لئے دیئے ہیں کہ وہ اپنے جرم میں اور بڑھتے جائیں تو پھر کفار بےقصور ہوئے، کیونکہ مقصود آیت کا یہ ہے کہ کفار کی اس چند روزہ مہلت اور عش و عشرت سے مسلمان پریشان نہ ہوں، کیونکہ باوجود کفر و عصیان کے ان کو دنیوی قوت، طاقت، سامان دنیا یہ بھی ان کے عذاب ہی کی ایک صورت ہے، جس کا احساس آج نہیں اس دنیا سے جانے کے بعد ہوگا کہ یہ دنیا کا سامان راحت جو انہوں نے گناہوں میں خرچ کیا، درحقیقت جہنم کے انگارے تھے، جیسا کئی آیتوں میں خود حق تعالیٰ نے فرمایاانما یرید اللہ لیعذبھم بھا (9: 55) یعنی کفار کے اموال اور عیش و عشرت ان کے لئے کو فخفر کرنے کی چیز نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے عذاب ہی کی ایک قسط ہے، جو ان کے عذاب آخرت بڑھانے کا سبب ہے۔
Ayah 3:179ربط آیات
پچھلی آیت میں اس شبہ کا جواب تھا کہ جب کفار اللہ تعالیٰ کے نزدیم مبغوض اور مردود ہیں تو دنیا میں ان کو اموال و جائیدا اور عیش و عشرت کے سامان کیوں حاصل ہیں مذکورہ آیت میں اس کے بالمقابل اس شبہ کا ازالہ ہے کہ مومن مسلمان جو اللہ کے مقبول بندے ہیں ان پر تکالیف و مصائب کیوں آتے ہیں، مقبولیت کا تقاضا تو یہ تھا کہ راحتیں اور سامان راحت ان کو ملتا۔
خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس حالت پر رکھنا نہیں چاہتا جس پر تم ہو (کہ کفر و ایمان اور حق و باطل اور مومن و منافق میں اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے انعامات دینوی کے اعتبار سے کوئی امتیاز اور فرق نہیں، بلکہ مسلمانوں پر شدائد و مصائب کا نازل ہوتے رہنا اس وقت تک ضروی ہے) جب تک کہ ناپاک (یعنی منافق) کو پاک (یعنی مومن مخلص) سے ممتاز نہ کردیا جائے (اور یہ تمیز و تبیین مصائب و مشکلات ہی کے پیش آنے پر پوری طرح ہو سکتی ہے اور اگر کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ مومن و کافر اور حق و باطل میں امتیاز پیدا کرنے کے لئے کیا ضروری ہے کہ حوادث و مصائب ڈال کر ہی یہ امتیاز حاصل کیا جائے، اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی اس کا اعلان فرما سکتے ہیں کہ فلاں مومن مخلص ہے اور فلاں منافق اور فلاں چیز حلال ہے فلاں حرام، تو اس کا جواب یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ (بمقتضائے حکمت) ایسے امور غیبیہ پر تم کو (لا واسطہ ابتلاء و امتحان کے) مطلع نہیں کرنا چاہتے، لیکن ہاں جس کو (اس طرح مطلع کرنا) خود چاہیں اور (ایسے حضرات) وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں ان کو (بلاواسطہ حوادث بھی غیبی خبروں پر مطلع کرنے کے لئے اپنے بندوں میں سے) منتخب فرما لیتے ہیں، (اور تم پیغمبر ہو نہیں، اس لئے ایسے امور کی اطلاع نہیں دی جاسکتی، البتہ ایسے حالات پیدا فرماتے ہیں کہ ان سے مخلص و منافق کا فرق خود بخود واضح ہوجائے اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ دنیا میں کافروں پر عذاب نازل نہ ہونا بلکہ عیش و عشرت ملنا اور مسلمانوں پر بعض مصائب و شدائد نازل ہونا عین تقاضائے حکمت ہے، یہ باتیں کسی کے مقبول یا مردود ہونے کی دلیل نہیں ہو سکتیں) پس اب تم (ایمان کے پسندیدہ اور کفر کے ناپسندیدہ ہونے میں کوئی شبہ نہ کرو، بلکہ) اللہ پر اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لے آؤ اور اگر تم ایمان لے آؤ اور (کفر و معاصی سے) پرہیز رکھو تو پھر تم کو اجر عظیم ملے۔
معارف و مسائل
مؤ من و منافق میں امتیاز وحی کے بجائے عملی طور پر کرنے کی حکمت۔
اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ مومن مخلص اور منافق میں امتیاز کے لئے حق تعالیٰ ایسے حالات حوادث و مشکلات کے پیدا فرماتے ہیں جن سے عملی طور پر منافقین کا نفاق کھل جائے اور یہ امتیاز اگرچہ یوں بھی ہوسکتا تھا کہ بذریعہ وحی منافقین کے نام متعین کر کے بتلا دیا جائے، مگر بمقتضائے حکمت ایسا نہیں کیا گیا اللہ تعالیٰ کے افعال کی پوری حکمتیں تو اسی کو معلوم ہیں، یہاں ایک حکمت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر مسلمانوں کو بذریعہ وحی بتلا دیا جائے کہ فلاں منافق ہے تو مسلمانوں کو اس سے قطع تعلق اور معاملات میں احتیاط کے لئے کوئی ایسی واضح حجت نہ ہوتی جس کو منافق بھی تسلیم کرلیں، وہ کہتے کہ تم غلط کہتے ہو ہم تو پکے سچے مسلمان ہیں۔
بخلاف اس پر عملی امتیاز کے جو مصائب کے ابتلاء کے ذریعہ ہوا کہ منافق بھاگ کھڑے ہوئے عملی طور پر ان کا نفاق کھل گیا، اب ان کا یہ منہ نہیں رہا کہ مومن و مخلص ہونے کا دعویٰ کریں۔ اور اس طرح نفاق کھل جانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ مسلمانوں کا ان کے ساتھ ظاہری اختلاط بھی قطع ہو ورنہ دل میں اختلاف کے باوجود ظاہری اختلاط رہتا تو وہ بھی مضر ہی ہوتا۔
امور غیب پر کسی کو مطلع کردیا جائے تو وہ علم غیب نہیں۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ امور غیب پر بذریعہ وحی اطلاع اس سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ پھر تو انبیاء بھی علم غیب کے شریک اور عالم الغیب ہوگئے کیونکہ وہ علم غیب جو حق تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے کسی مخلوق کو اس میں شریک قرار دینا شرک ہے، وہ دو چیزوں کے ساتھ مشروط ہے، ایک یہ کہ وہ علم ذاتی ہو کسی دسرے کا دیا ہوا نہ ہو دوسرے تمام کائنات ماضی و مستقبل کا علم محیط ہو، جس سے کسی ذرے کا علم بھی مخفی نہ ہو، حق تعالیٰ خود بذریعہ وحی اپنے انبیاء کو جو امور غیبیہ بتلاتے ہیں وہ حقیقتاعلم غیب نہیں ہے بلکہ غیب کی خبریں ہیں جو انبیاء کو دی گئی ہیں جن کو خود قرآن کریم نے کئی جگہ انبیاء الغیب کے لفظ سے تعبیرمن انبآء الغیب نوحیھا الیک (11: 94)
Ayah 3:180ربط آیات
سورة آل عمران کے شروع میں یہودیوں کی بری خصلتوں اور شرارتوں کا ذکر تھا یہاں سے پھر اسی کی طرف عود کیا گیا، آیات مذکورہ سب اسی طرح کے مضامین پر مشتمل ہیں، درمیان میں رسول اللہ ﷺ کی تسلی اور مسلمانوں کے لئے نصائح کا ذکر ہے
خلاصہ تفسیر
اور ہرگز نہ خیال کریں ایسے لوگ جو (ضروری مواقع میں) ایسی چیز (کے خرچ کرنے) میں بخل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے دی ہے کہ یہ بات ان کے لئے کچھ اچھی ہوگی، (ہرگز نہیں) بلکہ یہ بات ان کے لئے بہت ہی بری ہے (کیونکہ انجام اس کا یہ ہوگا کہ) وہ لوگ قیامت کے روز طوق پہنائے جائیں گے اس (مال) کا (سانپ بنا کر) جس میں انہوں نے بخل کیا تھا اور (بخل کرنا یوں بھی حماقت ہے کہ) اخیر میں (جب سب مر جایں گے) سب آسمان و زمین (ور جو کائنات ان کے اندر ہیں سب) اللہ ہی کا رہ جاوے گا (لیکن اس وقت یہ مال اللہ کے لئے ہوجانے سے تمہیں کوئی ثواب نہیں ملے گا، کیونکہ تم نے اپنے اختیار سے نہیں دیئے اور جب انجام کار سب اللہ ہی کا ہونا ہے تو عقل کی بات یہ ہے کہ ابھی اپنے اختیار سے دے دو تاکہ ثواب کے مستحق بنو) اور اللہ تمہارے سب اعمال کی پوری خبر رکھتے ہیں (اس لئے جو کچھ خرچ کرو اخلاص کے ساتھ اللہ کے لئے کرو۔)
بیشک اللہ نے سن لیا ہے ان (گستاخ) لوگوں کا قول جنہوں نے (استہزاء) یوں کہا کہ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ مفلس ہے اور ہم مالدار ہیں، (اور صرف اس سننے پر اکتفاء نہیں کیا جاوے گا بلکہ ہم ان کے کہے ہوئے کو (ان کے نامہ اعمال میں) لکھ کر رہیں گے اور (اسی طرح) ان کا انبیاء (علیہم السلام) کو ناحق قتل کرنا بھی (ان کے نامہ اعمال میں لکھا جاوے گا) اور ہم (ان پر سزا جاری کرنے کے وقت جتلانے کے لئے) کہیں گے کہ (لو) چکھو آگ کا عذاب، (اور ان کو روحانی رنج دینے کے لئے اس وقت یہ بھی کہا جاوے گا کہ) یہ (عذاب) ان اعمال (کفریہ) کی وجہ سے ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں سمیٹے ہیں اور یہ امر ثابت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنیوالے نہیں، وہ (یہود) ایسے لوگ ہیں کہ (بالکل جھوٹ تراش کر) کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو (بواسطہ انبیاء سابقین) حکم فرمایا تھا کہ ہم کسی پیغمبری کے مدعی) پر اعتقاد (ان کے پیغمبر ہونے کا) نہ لاویں جب تک ہمارے سامنے معجزہ (خاص) نذر و نیاز خداوندی کا ظاہر نہ کرے، کہ اس کو (آسمانی) آگ کھا جاوے (پہلے انبیاء (علیہم السلام) کا یہ معجزہ ہوا ہے کہ کوئی چیز جاندار یا بےجان اللہ کے نام کی نکال کر کسی میدان یا پہاڑ پر رکھ دی، غیب سے ایک آگ نمودار ہوئی اور اس چیز کو جلا دیا یہ علامت قبول صدقات کی ہوتی تھی، مطلب یہ ہے کہ آپ نے یہ خاص معجزہ ظاہر نہیں فرمایا، اس لئے ہم آپ پر ایمان نہیں لاتے، حق تعالیٰ اس کا جواب تعلیم فرماتے ہیں کہ) آپ فرما دیجئے کہ بالیقین بہت سے پیغمبر مجھ سے پہلے بہت سے دلائل (معجزات وغیرہ) لے کر آئے اور خود یہ معجزہ بھی جس کو تم کہہ رہے ہو، سو تم نے ان کو کیوں قتل کیا تھا اگر تم (اس امر میں) سچے ہو سو اگر یہ (کفار) لوگ آپ کی تکذیب کریں تو (غم نہ کیجئے کیونکہ) بہت سے پیغمبروں کی جو آپ سے پہلے گذرے ہیں، تکذیب کی جا چکی ہے، جو معجزات لے کر آئے تھے اور (چھوٹے چھوٹے) صحیفے لے کر اور روشن کتاب لے کر (جب کفار کی یہ عادت ہی ہے کہ انبیاء کی تکذیب کیا کرتے ہیں تو پھر آپ کو کیا غم ہے۔)
(تم میں) ہر جان (دار) کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور (مرنے کے بعد) تم کو پوری پاداش تمہاری (بھلائی برائی کی) قیامت ہی کے روز ملے گی (اگر دنیا میں کافروں پر کسی سزا کا ظہور نہ ہو تو اس سے تکذیب کرنے الوں کو خوشی کا اور تصدیق کرنے والوں کو غم کا کوئی موقع نہیں، آگے اس پاداش کی تفصیل ہے) تو جو شخص دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا سو پورا کامیاب وہ ہوا، (اسی طرح جو جنت سے جدا رہا اور دوزخ میں بھیجا گیا پورا ناکام وہ ہوا) اور دنیوی زندگی تو کچھ بھی نہیں صرف (ایسی چیز ہے جیسے) دھوکہ کا سودا (ہوتا) ہے (جس کی ظاہری آب و تاب کو دیکھ کر خریدار پھنس جاتا ہے، بعد میں اس کی قلعی کھل جاتی ہے تو افسوس کرتا ہے اسی طرح دنیا کی ظاہری چمک دمک سے دھوکہ کھا کر آخرت سے غافل نہ ہونا چاہئے۔
(ابھی کیا ہے) البتہ آگے (آگے) اور آزمائے جاؤ گے اپنے مالوں (کے نقصان) میں اپنی جانوں (کے نقصان) میں اور البتہ آگے کو اور سنو گے بہت سی باتیں دل آزاری کی ان لوگوں سے (بھی) جو تم سے پہلے (آسمانی کتاب دیئے گئے ہیں (یعنی اہل کتاب سے) اور ان ان لوگوں سے (بھی) جو کہ مشرک ہیں اور اگر (ان مواقع پر) صبر کرو گے اور خلاف شروع امور ہے۔) پرہیز رکھو گے تو (تمہارے لئے اچھا ہوگا، کیونکہ) یہ (صبر وتقویٰ) تاکیدی احکام میں سے ہے۔
معارف و مسائل
مذکورہ سات آیتوں میں سے پہلی آیت میں بخل کی مذمت اور اس پر وعید مذکور ہے۔ بخل کے معنی شرعی یہ ہیں کہ جو چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرنا کسی پر واجب ہو۔
بخل کی تعریف اور اس پر سزا کی تفصیل۔
اس کو خرچ نہ کرے، اسی لئے بخل حرام ہے اور اس پر جہنم کی وعید شدید ہے۔ اور جن مواقع میں خرچ کرنا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے، وہ اس بخل حرام میں داخل نہیں، البتہ معنی عام کے اعتبار سے اس کو بھی بخل کہہ دیا جاتا ہے، اس قسم کا بخل حرام نہیں، مگر خلاف اولیٰ ہے۔ بخل ہی کے معنی میں ایک دوسرا لفظ بھی احادیث میں آیا ہے، یعنی شح، اس کی تعریف یہ ہی کہ اپنے ذمہ جو خرچ کرنا واجب تھا وہ ادا نہ کرے، اس پر مزید یہ کہ مال بڑھانے کی حرص میں مبتلا رہے، تو وہ بخل سے بھی زیادہ شدید جرم ہے، اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
”یعنی شح و ایمان کسی مسلمان کے قلب میں جمع نہیں ہو سکتے۔“ (قرطبی)
بخل کی جو سزا اس آیت میں ذکر کی گئی ہے کہ قیامت کے روز جس چیز کے دینے میں بخل کیا اس کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ اس کی تفسیر رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمائی ہے
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو اللہ نے کوئی مال عطا فرمایا پھر اس نے اس کی زکوة اد نہیں کی تو قیامت کے روز یہ مال ایک سخت زہریلا سانپ بن کر اس کے گلے کا طوق بنادیا جائے گا وہ اس شخص کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں تیرا سرمایہ ہوں، پھر حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ (نسائی از تفسیر قرطبی)
Ayahs 3:181–182دوسری آیت میں یہود کی ایک سخت گستاخی پر تنبیہ اور سزاء کا ذکر ہے، جس کا واقعہ یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے زکوة و صدقات کے احکام قرآن سے بتلائے تو گستاخ یہود یہ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ فقیر محتاج ہوگیا اور ہم مالدار ہیں جب ہی تو ہم سے مانگتا ہے (نعوذ باللہ من) ظاہر یہ ہے کہ اس بیہودہ قول کے موافق ان کا اعتقاد تو نہ ہوگا، مگر رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کے لئے کہا ہوگا کہ اگر قرآن کی یہ آیات صحیح ہیں تو ان سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ فقیر و محتاج ہے، ان کا یہ لغو استدلال تو بدایتا باطل ہونے کی وجہ سے قابل جواب نہ تھا، کیونکہ حق تعالیٰ کا حکم صدقات کا اپنے نفع کے لئے نہیں خود اصحاب مال کے نفع دینی اور دنیوی کے لئے ہے، مگر اس کو کہیں اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کا عنوان اس لئے دے دیا گیا کہ جس طرح قرض کی ادائیگی ہر شریف آدمی کے لئے ضروری اور یقینی ہوتی ہے، اسی طرح جو صدقہ انسان دیتا ہے اس کی جزاء اللہ تعالیٰ اپنے ذمہ ایسی قرار دیتے ہیں جیسے کسی کا قرض دینا ہو، جو شخص اللہ تعالیٰ کو کائنات کا خالق اور مالک جانتا ہے، اس کو ان الفاظ سے کبھی وہ شبہ نہیں ہوسکتا جو گستاخ یہودیوں کے اس قول میں ہے اس لئے قرآن کریم نے اس شبہ کا جواب تو دیا نہیں، صرف ان کی اس گستاخی اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب اور آپ کا استہزاء کرنے کے متعدد شدید جرائم کی سزا میں یہ فرمایا کہ ہم ان کے گستاخانہ کلمات کو لکھ کر رہیں گے تاکہ قیامت کے روز ان پر حجت تمام کر کے عذاب دیا جائے، اور اللہ تعالیٰ کو لکھنے کی ضرورت نہیں۔
پھر یہود کی اس گستاخی کے ذکر کے ساتھ ان کا ایک دوسرا جرم یہ بھی ذکر کردیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے انبیاء کی صرف تکذیب و استہزاء ہی نہیں کیا، بلکہ قتل کر ڈالنے سے بھی باز نہیں رہے، تو ایسے لوگوں سے کسی نبی و رسول کی تکذیب یا استہزاء پر کیا تعجب ہوسکتا ہے۔
کفرو معصیت پر دل سے راضی ہونا بھی ایسا ہی عظیم گناہ ہے
یہاں یہ بات قابل نظر ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور قرآن کے مخاطب یہود مدینہ ہیں، اور قتل انبیاء کا واقعہ ان سے بہت پہلے حضرت یحییٰ اور زکریا (علیہما السلام) کے زمانے کا ہے تو اس آیت میں قتل انبیاء کا جرم ان مخاطبین کی طرف کیسے منسوب کیا گیا، وجہ یہ ہے کہ یہود مدینہ اپنے سابق یہودیوں کے اس فعل پر راضی اور خوش تھے، اس لئے یہ خود بھی قاتلین کے حکم میں شمار کئے گئے۔ امام قرطبی نے فرمایا اپنی تفسیر میں کہ یہ بڑا اہم مسئلہ ہے کہ کفر پر راضی ہونا بھی کفر اور معصیت میں داخل ہے، رسول کریم ﷺ کا ایک ارشاد اس کی مزید توضیح کرتا ہے، آپ نے فرمایا کہ جب زمین پر کوئی گناہ کیا جاتا ہے تو جو شخص وہاں موجود ہو مگر اس گناہ کی مخالفت کرے اور اس کو برا سمجھے تو وہ ایسا ہے گویا یہاں موجود نہیں، یعنی وہ ان کے گناہ کا شریک نہیں اور جو شخص اگرچہ اس مجلس میں موجود نہیں مگر ان کے اس فعل سے راضی ہے وہ باوجود غائب ہونے کے ان کا شریک گناہ سمجھا جائے گا۔ انتہی اس آیت کے اخیر اور آگے والی آیت میں ان گستاخوں کی سزا یہ بتلائی ہے کہ ان کو دوزخ میں ڈال کر کہا جائے گا کہ اب آگ میں جلنے کا مزہ چکھو، جو تمہارے اپنے ہی عمل کا نتیجہ ہے، اللہ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں۔
Ayah 3:183چوتھی آیت میں انہی یہود کا ایک افتراء و بہتان کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہ کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کے لئے یہ حلیہ پیش کیا کہ پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کے زمانہ میں یہ طریقہ تھا کہ صدقات کے مال کسی میدان یا پہاڑ پر رکھ دیئے جاتے تھے اور آسمانی آگ ان کو آ کر جلا دیتی تھی، یہی علامت صدقات کی قبولیت کی ہوتی تھی، رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کو حق تعالیٰ نے یہ خاص امتیاز عطا فرمایا تھا کہ اموال صدقات آسمانی آگ کی نذر کرنے کے بجائے مسلمان فقیروں و محتاجوں کو دیئے جاتے ہیں، چونکہ پچھلے انبیاء کے طرز مذکور کے یہ طرز خلاف تھا، اس لئے اس کو مشرکین نے بہانہ بنایا کہ اگر آپ نبی ہوتے تو آپ کو بھی یہ معجزہ عطا ہوتا کہ آسمانی آگ اموال صدقات کو کھا جاتی اس پر مزید یہ جرأت کی کہ اللہ تعالیٰ پر یہ بہتان باندھا کہ اس نے ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ ہم اس شخص پر ایمان نہ لائیں جس سے یہ معجزہ آسمانی آگ کے آنے اور مال صدقہ کو جلانے کا صادر نہ ہو۔ چونکہ یہود کا یہ دعویٰ بالکل بےدلیل اور باطل تھا کہ اللہ نے ان سے یہ عہد لیا ہے، اس کا جواب دینے کی تو ضرورت نہ تھی، ان کو انہی کے مسلمہ قول سے مغلوب کرنے کے لئے یہ ارشاد فرمایا کہ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے ایسا عہد لیا ہے، تو پھر جن انبیاء سابقین نے تمہارے کہنے کے مطابق یہ معجزہ بھی دکھلایا تھا کہ آسمانی آگ مال صدقہ کو کھا گئی تو تم ان پر تو ایمان لاتے، مگر ہوا یہ کہ تم نے ان کی بھی تکذیب ہی کی، بلکہ ان کو قتل تک کر ڈالا۔
یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ اگرچہ یہود کا یہ دعویٰ اور مطالبہ قطعاً غلط تھا، لیکن اگر آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر یہ معجزہ بھی ہوجاتا تو شاید ایمان لے آتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ یہ لوگ محض عناد اور ہٹ دھرمی سے یہ باتیں کہہ رہے ہیں اگر ان کے کہنے کے مطابق معجزہ ہو بھی جاتا، جب بھی یہ ایمان نہ لاتے۔
Ayah 3:184پانچویں آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ ان کی تکذیب پر آپ غمگین نہ ہوں، کیونکہ یہ معاملہ تو سبھی انبیاء کے ساتھ ہوتا چلا آیا ہے۔
Ayahs 3:185–186فکر آخرت سارے غموں کا علاج اور شبہات کا جواب ہے۔
چھٹی آیت میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ اگر کبھی کسی جگہ کافروں کو غلبہ ہی ہوجائے اور دنیا کی عیش و عشرت پوری پوری مل جائے اور مسلمانوں کو اس کے برعکس کچھ مصائب و مشکلات اور اسباب دنیا کی تنگی بھی پیش آجائے، تو یہ کوئی تعجب کی بات ہے نہ غمگین ہونے کی، کیونکہ اس حقیقت سے کسی مذہب و مشرب والے کو اور کسی فلسفہ والے کو انکار نہیں ہوسکتا کہ دنیا کے رنج و راحت دونوں چند روزہ ہیں، کوئی جاندار موت سے نہیں بچ سکتا، اور دنیا کی راحت و مصیبت اکثر تو دنیا ہی میں حالات بدل کر ختم ہوجاتی ہیں اور بالفرض دنیا میں نہ بدلی تو موت پر سب کا خاتمہ ہوجانا یقینی ہے عقلمند کا کام اس چند روزہ راحت و رنج کی فکر میں پڑے رہنا نہیں، بلکہ مابعد الموت کی فکر کرنا ہے کہ وبال کیا ہوگا ؟
دوران بقاء چوباد صحرا بگذشت تلخی و خوشی و زشت وزیبا بگذشت
اسی لئے اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ ہر جاندار موت کا مزہ چکھے گا اور پھر آخرت میں اپنے عمل کی جزاء و سزا پائے گا، جو شدید بھی ہوگی اور مدید بھی، تو عقلمند کو فکر اس کی کرنی چاہئے اس کی رو سے کامیاب صرف وہ شخص ہے جس کو دوزخ سے چھٹکارا مل جائے اور جنت میں داخل ہوجائے خواہ ابتداً ہی جیسا کہ صلحاً و عباد کے ساتھ معاملہ ہوگا یا کچھ سزا بھگتنے کے بعد جیسا کہ گنگہار مسلمانوں کے ساتھ ہوگا، مگر مسلمان سب کے سب آخر کار جہنم سے نجات پا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت کی راحتوں اور نعمتوں کے مالک بن جائیں گے، بخلاف کفار کے کہ ان کا دائمی ٹھکانا جہنم ہے، وہ اگر دنیا کی چند روزہ راحت پر مغرور ہوں، تو دھوکا ہی دھوکا ہے، اسی لئے آخر آیت میں فرمایا کہ دنیا کی زندگی تو دھوکہ کا سامان ہے، کیونکہ عموماً یہاں کی لذت آخرت کی شدید کلفتوں کا ذریعہ ہوتی ہیں اور یہاں کی تکالیف بیشتر آخرت کے لئے ذخیرہ ہوجاتی ہیں۔
اہل حق کو اہل باطل سے ایذائیں پہنچنا ایک قدرتی امر ہے اور سب کا علاج صبر وتقوی ہے۔
ساتویں آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہے، جس کا ذکر اجمالی ابھی مذکور الصدر دوسری آیت میں آ چکا ہے، تفصیل اس کی یہ ہے کہ قرآن کریم میں جب آیت من ذا الذین یقرض اللہ قرضا حسناً ط (2: 542) نازل ہوئی، جس میں ایک بلیغ عنوان میں صدقہ و خیرات اللہ کو قرض دینے سے تعبیر کیا ہے اور اس بلیغ عنوان میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو کچھ یہاں دو گے اس کا بدلہ آخرت میں ایسا یقینی ہو کر ملے گا جیسے کا قرض ادا کیا جاتا ہے۔ ایک جاہل یا معاند یہودی نے اس کو سن کر یہ الفاظ کہے ان اللہ فقیر و نحن اغنیاء حضرت صدیق اکبر کو اس کی گستاخی پر غصہ آیا اور یہودی کے ایک طمانچہ رسید کیا، یہودی نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، لتبلون فی اموالکم و انفسکم الایتہ جس میں مسلمانوں کو بتلایا گیا ہے کہ دین کے لئے جان و مال کی قربانیوں سے اور آزمائش ہے اور اس میں ان کے لئے بہتر یہی ہے کہ صبر سے کام لینا اور اپنے اصل مقصد تقوی کی تکمیل میں مصروف رہیں ان کی جواب دہی میں کفر میں نہ پڑیں۔