Ayahs 9:44–451:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والنحاس نے اپنی ناسخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) لا یستاذنک الذین یومنون باللہ والیوم الاخر “ ان دو آیتوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ تفسیر ہے منافقین کے لئے ہے جب انہوں نے بغیر عذر کے جہاد سے (روگردانی کرتے ہوئے) بیٹھ رہنے کی اجازت طلب کی اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کا عقد قبول کرتے ہوئے فرمایا (آیت) فاذا استاذنوک لبعض شانہم فاذن لمن شئت منہم “
2:۔ ابوعبید وابن منذر وابن ابی حاتم والنحاس نے اپنی ناسخ میں ابن عباس ؓ نے (آیت) لا یستاذنک الذین یومنون “ سے روایت کیا کہ انہوں نے ان دو آیتوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کی اس آیت نے منسوخ کردیا جو سورة نور میں ہے (یعنی) (آیت) انما المومنون الذین امنوا باللہ ورسولہ “ سے لے کر آیت) ” ان اللہ غفور رحیم (62) “ تک اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو دو اعلی نظریوں کا اختیار دیا اور جو کوئی پیچھے رہے تو وہ بغیر کسی حرج کے پیچھے بیٹھا رہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے۔
Ayahs 9:46–481:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولکن کرہ اللہ انبعاثہم “ یعنی ان کے نکلنے کو (اللہ تعالیٰ نے ناپسند فرمایا)
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انبعاثہم “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو روک لیا۔
3:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لوخرجوا فیکم ما زادوکم الا خبالا “ یعنی غزوہ تبوک میں جو منافق تھے ان کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں اپنے نبی کریم ﷺ اور ایمان والوں سے سوال فرمایا اور فرمایا کون سی چیز تم کو غمگین کررہی ہے۔ (آیت) ” لوخرجوا فیکم ما زادوکم الاخبالا “ یعنی تمہارے لئے وہ لوگ (اگر) جمع ہونے اور عملاشریک ہوئے اور ایسا کام کرے جس سے تمہاری رسوائی ہوئی۔
4:۔ عبدالرزاق وابن ابی حاتم وابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ولا اوضوا خللکم “ یعنی تمہارے چھوڑ دیئے اور وہ بھاگ جاتے ” (آیت) ” یبغونکم الفتنۃ “ یعنی عبداللہ بن نبیل، عبداللہ بن ابی ابن سلول رفاعہ بن تابوت، اوس بن قنطی سے تمہارے معاملے میں ٹال مٹول کرتے رہے (آیت) ” وفیکم سمعون لہم “ اس میں منافقین کے علاوہ دوسرے لوگ مراد ہیں جو ان منافقین کی طرح باتیں کرنے والے ہیں اور وہ منافقین کے جاسوس ہیں۔
6:۔ ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وفیکم سمعون لہم “ سے مراد ہیں کہ تم میں ان تک باتیں پہنچانے والا موجود ہے۔
7:۔ ابن اسحاق وابن منذر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی عبداللہ بن نبیل، رفاعہ بن زید بن تابوت منافقین کے بڑے لوگوں میں سے تھے اور یہ ان لوگوں میں موجود تھے جو اسلام کو فریب دیتے تھے اور اسلام والوں کو بھی اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ (آیت) لقد ابتغوا الفتنۃ من قبل وقلبوالک الامور “
Ayah 9:491:۔ ابن منذر والطبرانی وابن مردویہ وابو نعیم نے معرفۃ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی کریم ﷺ نے غزوہ تبوک کی طرف نکلنے کا ارادہ فرمایا تو آپ نے جد بن قیس سے فرمایا بنواصغر کے جہاد کے بارے میں تو کیا کہتا ہے ؟ اس نے کہا میں ڈرتا ہوں اس بات سے کہ اگر میں بنواصفر کی عورتوں کو دیکھ لوں تو میں فتنہ میں مبتلا ہوجاوں گا مجھ کو اجازت دیجئے اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ومنہم من یقول ائذن لی ولا تفتنی “
جنگ سے منہ موڑنے پر وعید :
2:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا آپ جد بن قیس کو فرما رہے تھے۔ اے جد کیا بنو اصفر کے خلاف لڑائی کے لئے تیار ہے۔ جد نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اجازت دیجئے میں عورتوں کے عشق و محبت میں مبتلا ہونے والا آدمی ہوں۔ اور میں ڈرتا ہوں اگر میں بنو اصفر کی عورتوں کو دیکھوں گا تو فتنہ میں مبتلا ہوجاوں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حالانکہ آپ اس سے اعراض فرما رہے تھے میں نے تجھ کو اجازت دے دی تو اللہ تعالیٰ نے (آیت) ” ومنہم من یقول ائذن لی ولا تفتنی “ (الآیہ)
3:۔ طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم غزوہ میں شریک ہو اور تم بنو اصفر کی بیٹیوں کی غنیمت پاؤ گے منافقین میں سے کچھ لوگوں نے کہا بلاشبہ یہ تم کو عورتوں کے فتنے میں مبتلا کردے گا توا للہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” ومنہم من یقول ائذن لی ولا تفتنی “
4:۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ومنہم من یقول ائذن لی ولا تفتنی “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت جد بن قیس کے بارے میں نازل ہوئی اس نے کہا اے محمد ﷺ مجھ کو اجازت دیجئے اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالے بنو اصفر کی عورتوں کے ذریعہ۔
5:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ومنہم من یقول ائذن لی ولا تفتنی “ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تبوک کا جہاد کرو تم اصفر کی بیٹیوں کو غنیمت میں پاؤ گے جو روم کی عورتیں ہیں تو (بعض منافقین) نے کہا ہم کو اجازت دیجئے اور ہم کو عورتوں کے ذریعہ فتنہ میں نہ ڈالئے۔
6:۔ ابن اسحاق وابن منذر والبیہقی نے دلائل میں اپنی سند سے عاصم بن عمر بن قتادہ و عبداللہ بن ابی بکر بن حزم دونوں سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ بہت کم غزوات میں تشریف لے جاتے تھے مگر یہ واضح ہوتا کہ آپ کا نکلنا کسی اور ارادہ سے ہے۔ سوائے غزوہ تبوک کے کہ آپ نے اعلان کرتے ہوئے فرمایا اے لوگوں میں روم کا ارادہ کرتا ہوں اور میں ان کو خوب جانتا ہوں اور یہ تنگی کا زمانہ تھا گرمی کی شدت اور شہروں کی خشک سالی کا زمانہ تھا اور وہ وقت پھلوں کے پکنے کا تھا۔ اور لوگ اپنے پھلوں میں ٹھہرنے اور ان کے سائے میں بیٹھنا پسند کرتے تھے اور وہاں سے نکلنے کو ناپسند کرتے تھے۔ اس درمیان کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن اپنی تیاری میں تھے اچانک آپ نے جد بن قیس سے فرمایا اے جد کیا بنو اصفر کی بیٹیوں کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے۔ اس نے کہا یا رسول اللہ میری قوم جانتی ہے کہ مجھ سے زیادہ عورتوں کو پسند کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اور مجھے خوف ہے کہ اگر میں نے بنواصفر کی عورتوں کو دیکھ لیا تو میں فتنہ میں پڑجاوں گا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اجازت دیجئے کہ (میں جہاد میں نہ جاوں) تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے اعراض فرمایا اور فرمایا تجھ کو اجازت ہے تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ومنہم من یقول ائذن لی ولا تفتنی “ الا فی الفتنۃ سقطوا “ کہتے ہیں کہ (ایسا کہنے سے) وہ رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ جانے سے وہ جس فتنہ میں واقع ہوا صرف اپنی ذات میں رغبت رکھنے کا سبب تو یہ فتنہ بنواصفر کی عورتوں کے فتنہ سے شدید اور بڑا ہے۔ جس سے وہ ڈرتا تھا فرمایا (آیت) ” وان جھنم لمحیطۃ بالکفرین “ یعنی اسی کا سبب جہنم ان کو گھیرے ہوئے ہے اور منافقین میں سے ایک آدمی نے کہا (آیت) ” لا تنفروا فی الحر “ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” قل نار جھنہم اشد حرا لو کانوا یفقھون “ راوی نے کہا پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے سفرکا اہتمام فرمایا اور لوگوں کو تیاری کرنے کا حکم فرمایا اور مالدار لوگوں کو خرچ کرنے پر اور اللہ کے راستے میں سواریاں دینے پر آمادہ فرمایا تو مالدار لوگوں میں سے بہت سے افراد نے یہ بوجھ اٹھایا اور ثواب کی امید رکھی حضرت عثمان ؓ سے روایت کیا کہ اس غزوہ میں اتنا عظیم مال دیا کسی نے آپ سے بڑھ کر اتنا خرچہ نہیں کیا۔ اور دو سو اونٹوں کا بوجھ پیش کیا۔
غزوہ تبوک سے پیچھے رہنے والے :
7:۔ بیہقی (رح) نے دلائل میں عروہ موسیٰ بن عقبہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جہاد کی تیاری فرمائی شام کا ارادہ کرتے ہوئے اور لوگوں کو نکلنے کی اجازت عطا فرمائی اور ان کو نکلنے کا حکم بھی فرمایا (کہ جہاد کے لئے نکلو) اس وقت شدید گرم راتیں تھیں اور لوگوں کے لئے اپنی کھجوروں کا پھل چننے کا موسم تھا۔ اس لئے بہت لوگوں نے دیر لگائی۔ اور کہنے لگے روم کے ساتھ (لڑنے کی) کوئی طاقت نہیں ہے۔ خاندانی شرافت والے لوگ نکلے اور منافق پیچھے رہ گئے اور انہوں نے اپنی طرف سے یہ باتیں بنانی شروع کیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کی طرف کبھی واپس نہیں آئیں گے جنہوں نے ان کی باتوں کو تسلیم کیا انہوں نے ان کو اپنی طرف کھینچ لیا اور جانے سے باز رکھا اور مسلمانوں سے بھی کچھ لوگ پیچھے رہ گئے اپنے عار کے سبب ان میں سے بیمار اور تنگدست بھی تھے۔ اور چھ آدمی جو سب تنگدست تھے اور سواری مانگ رہے تھے وہ پیچھے رہ جانے کو پسند نہیں کرتے تھے رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا میں تمہارے لئے کوئی سواری نہیں پاتا اور (اس حال) میں لوٹ گئے کہ ان کی آنکھیں غم کی وجہ سے بہہ رہی تھیں کہ ان کے پاس اتنا مال نہیں تھا کہ وہ خرچ کرسکیں ان میں بنو سلمہ میں سے عمر بن غنمہ اور بنومازن میں سے ابن النجار ابو یعلی عبدالرحمن بن کعب اور بنو حارث
میں سے علیہ بن زید اور بنو عمر وبن عوف میں سے سالم بن عمیر اور ھرم بن عبداللہ تھے اور انکو نبی البکاء پکارا جاتا ہے اور عبداللہ بن عمر از بنو مزینہ میں سے ایک آدمی یہ لوگ رو رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے جان لیا کہ یہ لوگ جہاد سے محبت کرتے ہیں۔ اور انہوں نے اپنے طرف سے کوشش کی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی عذر قبول فرماتے ہوئے فرمایا (آیت) ” لیس علی الضعفآء ولا علی المرضی ولا علی الذین لا یجدون ما ینفقون حرج اذا نصحوا للہ ورسولہ “ (الآیۃ) اور اس کے بعد دو آیتیں۔
اور جد بن قیس سلمی بھی آیا اس حال میں آپ مسجد میں ایک جماعت کے ساتھ تشریف فرما تھے کہنے لگے یا رسول اللہ مجھ کو جہاد سے بیٹھ جانے کی اجازت دیجئے بیشک میں جائیداد والا ہوں اور اس میں کئی اسباب ایسے ہیں جو میرے لئے عذاب ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیاری کرو بلاشبہ تو مالدار ہے شاید کہ تو اپنے ساتھ سوار کرے بنو اصفر کی کسی بیٹی کو اس نے کہا یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجئے اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت) ” ومنہم من یقول ائذن لی ولا تفتنی “ اور اس کے ساتھ پانچ آیات ہیں جو بعض کے پیچھے نازل ہوئیں۔ رسول اللہ ﷺ نکلے اور آپ کے ساتھ ایمان والے بھی تھے اور پیچھے رہ جانے والوں میں سے غنمہ بن ودیعہ بھی تھے جو بنو عمر و بن عوف میں سے تھے ان سے کہا گیا تجھے کس چیز نے رسول اللہ ﷺ سے پیچھے کردیا حالانکہ تو مسلمان ہے تو اس نے کہا دل لگی اور خوش طبعی نے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں اور پیچھے رہ جانے وال منافقین کے بارے میں نازل فرمایا (آیت) ” ولئن سالتہم لیقولن انما کنا نخوض ونلعب “ سے تین آیات لگاتار ہیں۔
8:۔ ابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو فرمایا اگر اللہ نے چاہا تو ہم روم کے ساتھ جہاد کریں گے۔ اور ہم بنو اصفر کی بیٹیوں کو پائیں گے۔ آپ ﷺ ان کے حسن کا تذکرہ فرماتے تھے مسلمان جہاد میں ترغیب دینے کے لئے منافقین میں سے ایک نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ عورتوں سے میری محبت کو آپ جانتے ہیں مجھ کو اجازت دیجئے اور مجھ کو ساتھ نہ لے جائیے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
9:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تفتنی “ سے مراد ہے کہ مجھے نہ نکالئے۔ (آیت) الا فی الفتنۃ سقطو ا “ میں فتنے کا معنی حرج ہے۔
10:۔ ابن منذر وابو الشیخ (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تفتنی “ یعنی مجھ کو گنہگار نہ کیجئے۔ (آیت) ” الا فی الفتنۃ سقطوا “ خبردار یہ گناہ میں گر چکے ہیں۔
Ayah 9:50پیچھے رہنے والے منافقین کا حال :
1:۔ ابن ابی حاتم نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ منافقین جو مدینہ منورہ میں پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں بری خبریں پھیلانی شروع کیں کہتے تھے کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں نے اپنے سفر میں بہت مشقت اٹھائی اور وہ ہلاک ہوگئے۔ پھر ان کے پاس ان کی باتوں کا جھوٹا ہونا اور نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کا عافیت کی خبر پہنچتی۔ تو یہ خبران کو بہت بری لگتی اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” ان تصبک حسنۃ تسوھم “
2:۔ سعید وابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان تصبک حسنۃ تسوھم “ کے بارے میں فرمایا کہ اگر آپ کو غزوہ تبوک کے اس سفر میں کوئی اچھی حالت پیش آجائے (آیت) ” حسنۃ تسوھم “ یعنی جسے اور اس کے ساتھیوں کو بری لگتی ہے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان تصبک حسنۃ تسوھم “ یعنی اگر آپ کو عافیت آسودگی اور غنیمت مل جائے تو ان کو بری لگتی ہے۔ (آیت) ” وان تصبک مصیبۃ “ یعنی اگر مصیبت اور سختی پہنچ جائے “ (آیت) یقولوا قد اخذنا امرنا من قبل “ کا معنی ہے ” قد اخذنا “ یعنی بچاؤ کرلیا تھا۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان تصبک حسنۃ تسوھم “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اگر تجھ کو فتح دی اور تجھ کو صحیح سالم لوٹایا تو یہ ان کو برا لگتا ہے۔ (آیت) ” ان تصبک مصیبۃ یقولوا قد اخذنا امرنا “ (یعنی اگر تجھ کو کوئی مصیبۃ یقولوا قد اخذنا امرنا “ (یعنی اگر تجھ کوئی مصیبت پہنچ جائے تو کہتے ہیں) کہ ہم اس مصیبت کے پہنچنے سے پہلے بیٹھ گئے تھے (ہم بچ گئے )
Ayah 9:511:۔ ابوالشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) قل لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا “ یعنی جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے فیصلہ دیا ہے (وہی ہم کو تکلیف پہنچے گی)
2:۔ ابن ابی حاتم نے مسلم بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ تقدیر کے بارے میں کلام کرنا ایسا ہے جیسے دو وسیع عریض وادیاں ہیں ان دنوں میں بھوکے ہلاک ہوجاتے ہیں ان کی چوڑائی کا ایک ادراک نہیں ہوسکتا تو اس آدمی (کی طرح) عمل کرتا رہے جو جانتا ہے کہ وہ نجات نہیں پائے گا۔ مگر اپنے عمل سے۔ اور اس آدمی (کی طرح) تو کل کرتا رہے جو جانتا ہے کہ اس کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی مگر جو اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے لکھ دی ہے۔
3:۔ ابوالشیخ نے مطرف (رح) سے روایت کیا کہ کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ گھر کے اوپر چڑھ کر اپنے آپ کو نیچے گرا دے پھر یوں کہے کہ میرے لئے یہ مقدر میں تھا۔ لیکن ہمیں بچنا چاہیے اور احتیاط کرنی چاہئے۔ اگر ہم کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو ہم جان لیں کہ ہم کو ہرگز کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی مگر جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے لکھ دی ہے۔
4:۔ احمد (رح) نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر چیز کی ایک حقیقت ہے اور کوئی بندہ ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا۔ یہاں تک کہ وہ جان لے کہ جو مصیبت اس کو پہنچ ہے۔ وہ اس سے چوکنے والی نہ تھی اور جو مصیبت اس سے چوک گئی وہ اسے ہرگز نہیں پہنچ سکتی۔
Ayah 9:521:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل ھل تربصون بنا الا احدی الحسنین “ سے مراد فتح یا شہادت ہے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) الا احدالحسنین “ یعنی فتح پانا یا اللہ کے راستہ میں شہید ہوجانا۔
فتح وشکت دونوں میں مسلمانوں کے لئے خیر ہے :
3:۔ حاکم نے (اور آپ نے اس کو صحیح کہا) اور ذہبی (رح) نے اس کو ضعیف کہا۔ سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں۔ اس درمیان کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ روحاء (کے کنویں) پر تھے اچانک سرب سے ایک دیہاتی آیا۔ اور پوچھا کہ تم لوگ کون سی قوم میں سے ہو اور تم کیا ارادہ رکھتے ہو۔ انہوں نے اسے بتایا یہ قوم نبی کریم ﷺ کے ساتھ نکلی ہے اس نے کہا کیا ہے مجھے کہ میں تم کو خستہ حالت میں اور تھوڑے ہتھیار والے دیکھ رہا ہوں آپ نے فرمایا ہم دو بھلائیوں میں ایک بھلائی کا انتظار کا انتظار کررہے ہیں یا تو ہم قتل کردیئے جائیں تو ہمارے لئے جنت ہے یا ہم غالب آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کو ہمارے لئے جمع فرما دیں یعنی کامیابی اور جنت کو اس نے کہا تمہارے نبی کہاں ہیں یہ وہی ہیں (جنہوں نے تجھ سے بات کی ہے) اس نے کہا اے اللہ کے نبی میرے لئے کوئی حاجت اور مصلحت نہیں اور اپنی حاجت پوری کرے۔ رسول اللہ ﷺ بدر کے دن نکلے وہ آدمی اپنے اہل و عیال کی طرف گیا یہاں تک کہ وہ اپنی ضرورت سے فارغ ہوگیا پھر وہ ان کے ساتھ بدر میں مل گیا اور ان کے ساتھ صف میں داخل ہوگیا اس نے لوگوں کو قتل کیا اور شہادت پانے والوں میں سے ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ فتح کامرانی حاصل ہونے کے بعد کھڑے ہوئے اور شہداء کے درمیان میں گزرے ان کے ساتھ عمر بھی تھے آپ نے فرمایا اے عمر یہ وہ جس کی تو بات کو پسند کرتا ہے کہ بلاشبہ شہداء کے سردار اشراف اور ملوک ہیں اے عمر اور یہ آدمی بھی ان میں سے ایک ہے۔
4:۔ ابن منذر (رح) نے ابن جریر (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل ھل تربصون بنا الا احدی الحسنین ونحن نتربص بکم ان یصیبکم اللہ بعذاب من عندہ او بایدینا “ یعنی تلواروں سے قتل کرنا۔
Ayahs 9:53–541:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جدبن قیس نے کہا جب میں عورتوں کو دیکھوں گا تو صبر نہ کروں گا یہاں تک کہ فتنہ میں ڈالا جاوں گا۔ لیکن میں اپنے مال سے آپ کی مدد کروں گا۔ اللہ نے فرمایا کہ اس بارے میں آیت (آیت) ” قل انفقوا طوعا او کرھا لن یتقبل منکم “ اس کا سبب اس کا یہ کہنا تھا کہ میں اپنے مال سے آپ کی مدد کروں گا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر گزتم سے قبول نہیں کیا جائے گا۔
Ayahs 9:55–561:۔ ابن منذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلا تعجبک اموالہم ولا اولادہم انما یرید اللہ لیعذبہم بھا فی الحیوۃ الدنیا “ سے مراد ہے آخرت میں (اللہ تعالیٰ ان کو ان کی اولاد اور ان کے مالوں کے ذریعہ آخرت میں عذاب دے گا)
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انما یرید اللہ لیعذبہم بھا فی الحیوۃ الدنیا “ یعنی ان میں مصیبتوں کے ساتھ (اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دیں گے) وہ مصائب ان کے لئے عذاب اور مومنین کے لئے اجر کا باعث ہے۔
3:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلا تعجبک اموالہم ولا اولادہم “ یہ مقادیم کلام میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آپ کو ان کا مال اور ان کی اولاد دنیا کی زندگی میں تعجب میں نہ ڈالے اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ ان کو آخرت میں عذاب دینے کا ارادہ فرماتے ہیں۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتزھق انفسہم وھم کفرون “ ان کا سانس دنیا کی زندگی میں اس حال میں نکلے کہ وہ کافر ہوں (آیت) ” وھم کفرون “ فرمایا اس آیت میں تقدیم اور تاخیر ہے۔
5:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلاتعجبک “ یعنی تجھ کو دھوکہ میں نہ ڈال دے (آیت) ” وتزھق “ یعنی دنیا میں ان کا سانس نکلے (آیت) ” وھم کفرون “ اس حال میں کہ وہ کافر ہوں۔
Ayah 9:571:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویحلفون باللہ انہم لمنکم “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ تقیۃ قسمیں کھاتے تھے (بچنے کے لئے )
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لویجدون ملجا “ میں ملجا سے مراد ہے پہاڑوں میں پناہ لینا اور غارت سے مراد ہے غاریں پہاڑوں میں اور المدخل سے مراد ہے تہہ خانہ۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم نے (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لویجدون ملجا اومغرت او مدخلا “ کے بارے میں فرمایا اگر وہ اپنے لئے کوئی بچ نکلنے کی جگہ پالیں کہ وہ اس کی طرف تم سے بھاگ جائیں۔ (آیت) ” لولوا الیہ “ وہ یقینا اس کی طرف تم سے بھاگ جائیں گے۔
4:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھم یجمحون “ یعنی وہ بھاگنے میں جلدی کریں گے۔
Ayahs 9:58–59رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ انصاف فرمانے والے ہیں :
1:۔ بخاری و نسائی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ نبی کریم ﷺ کچھ تقسیم فرما رہے تھے۔ اچانک ان کے پاس ذوالخویصرہ التیمیمی آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ انصاف کیجئے آپ نے فرمایا افسوس ہے تجھ پر کون انصاف کرے گا جب میں بھی انصاف نہ کروں ؟ عمر بن خطاب نے فرمایا یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجئے اس کے بارے میں اس کی گردن مار دوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو چھوڑ دو کیونکہ اس کے کئی ساتھی ہیں کہ تم میں سے ہر کوئی اپنی نمازوں کو اور روزوں کے مقابلہ میں حقیر جانتا ہوگا۔ لیکن وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے کہ تیر نشانے سے نکل جاتا ہے پھر اس کے پیروں میں دیکھا جائے گا تو اس میں کسی چیز کو نہیں پاتا پھر تیر اور پیکان کے درمیان حصہ کو دیکھتا ہے۔ تو اس میں کسی چیز کو نہیں پاتا پھر وہ اس کے پٹھے میں دیکھتا ہے تو اس میں بھی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی اس کے بھالے اور پھل میں دیکھتا ہے تو اسمیں بھی کسی چیز کو نہیں پاتا حالانکہ وہ گوبر اور خون گرا چکا ہو تو ان کی نشانی وہ کالا آدمی ہے جس کا ہاتھ یا فرمایا اس عورت کے پستان کے مثل ہوں گے یا گوشت کے ٹکڑے کے مثل وہ ایسے چباتے ہوئے لوگوں کے ایک گروہ کے پاس آئیں گے آپ نے فرمایا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ومنہم من یلمزک فی الصدقت “ (الآیہ) ابو سعید ؓ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ جب علی ان کو قتل اور میں ان کے ساتھ تھا تو وہاں مٹی کا ایک آدمی کو لایا گیا جیسا کہ جو رسول اللہ ﷺ اس کا حلیہ بیان فرمایا۔
2:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومنہم من یلمزک فی الصدقت “ یعنی جو آپ پر طعن کرتے ہیں۔
3:۔ سعید وابن جریر نے داود بن ابی عاصم (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک صدقہ میں مال لایا گیا آپ نے اس کو یہاں اور یہاں تقسیم فرما دیا یہاں تک کہ وہ ختم ہوگیا انصار میں سے ایک آدمی نے دیکھ کر کہا کیا یہ انصاف ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی۔
4:۔ ابوالشیخ نے ایاد بن لقیط (رح) سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” وان لم یعطوا منھا اذا ھم یسخطون (58) “
5:۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے حنین کے غنیمت کے مال کو جب تقسیم فرما دیا تو میں نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہ ایسی تقسیم ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کی رضا مندی کا ارادہ نہیں کیا میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ کی رحمت ہو وہ تکلیف دیئے گئے مجھ سے بھی زیادہ (مگر) انہوں نے صبر کیا اور (یہ آیت) ” ومنہم من یلمزک فی الصدقت “ نازل ہوئی۔
Ayah 9:60آیت کا شان نزول :
1:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے (غنیمت کا مال) مانگا اور آپ (اس وقت) مال تقسیم فرما رہے تھے۔ آپ نے اس سے اعراض فرمایا اور تقسیم فرماتے رہے اس نے کہا کیا آپ بکریاں چرانے والوں کو بھی دیں گے ـ؟ اللہ کی قسم آپ نے انصاف نہیں کیا آپ نے فرمایا افسوس ہے تجھ پر کون انصاف کرے گا اگر میں انصاف نہ کروں ؟ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) انما الصدقت للفقرآء “ (الآیۃ)
2:۔ ابو داود اور والبغوی نے اپنی معجم میں والطبرانی والدارقطنی اور آپ نے اس کو ضعیف کہا زیادبن حارث صدائی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھے صدقہ میں سے عطا فرمائیے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی نبی اس کے علاوہ کسی دوسرے کے فیصلہ کے ساتھ راضی نہیں ہوئے صدقات کے بارے میں یہاں تک کہ اس بارے میں خود ہی حکم فرمایا اور اس کے آٹھ اجزاء کو مصارف کے طور پر بیان فرمایا اگر تو ان میں سے ہے تو میں تجھ کو تیرا حق ضرور دوں گا۔
3:۔ ابن سعد نے زیاد بن حرث صدائی ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ ہم رسول اللہ ؓ کے ساتھ بیٹھے تھے اچانک ایک قوم اپنے عامل کی شکایت کرتے ہوئے آئی پھر انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اس نے ہم سے اتنی چیز لی ہے حالانکہ ہمارے اور اس کے درمیان زمانہ جاہلیت میں مراسم تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کے لئے حکومت میں خیر نہیں ہے۔ پھر وہ آدمی کھڑا ہو اور کہا یارسول اللہ ﷺ مجھے صدقہ میں سے عطا فرمائے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس کی تقسیم کو کسی مقرب فرشتے کے سپرد نہیں کیا اور نہ کسی نبی مرسل کے فرمایا حتی کہ اس کے آٹھ مصارف بیان فرمائے اگر تو اس میں سے ایک جز ہے تو میں تجھ کو دوں گا۔ اگر تو (اس صدقہ کے لینے سے) غنی ہے (تو تجھے لینا جائز نہیں ہے) کیونکہ یہ سر میں درد اور پیٹ میں بیماری (کی طرح) ہے۔
4:۔ سعید بن منصور الطبرنی وابن مردویہ نے موسیٰ بن یزید کندی (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ ایک آدمی کو پڑھاتے تھے اس نے پڑھا (آیت) انما الصدقت للفقرآء والمسکین “ اس نے فقراء کو بغیر لا کے پڑھا ابن مسعود نے فرمایا نبی کریم ﷺ نے یہ آیت مجھے اس طرح نہیں پڑھائی اس آدمی نے کہا اور کس طرح آپ نے تم کو پڑھائی ہے تو آپ نے فرمایا مجھے آپ نے اس طرح پڑھایا (آیت) انما الصدقت للفقرآء والمسکین “ یعنی آپ نے اس کو قد کے ساتھ پڑھا۔
5:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت نے قرآن میں ہر صدقہ کو منسوخ کردیا جسے (آیت) وات ذا لقربی حقہ والمسکین وابن السبیل “ (آیت 26) اور فرمایا (آیت) ان تبدوالصدقت ‘ (البقرہ آیت 271) اور فرمایا (آیت) ” وفی اموالہم حق للسآئل والمحروم (19) (الذریات آیت 19) (ان سب آیات میں جو حکم تھا وہ منسوخ ہوگیا)
6:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) انما الصدقت للفقرآء والمسکین “ کہ یہ وہ چیز (یعنی حکم) ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بتایا کہ یہ انکے لئے ہے پس تم ان میں سے جس صفت کو دے دو گے تو تجھ سے کافی ہوجائے گا۔
7:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابو الشیخ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) انما الصدقت للفقرآء “ کے بارے میں فرمایا اگر تو چاہے تو ان میں سے جس صنف کو دے دے ان صنفوں میں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا دو کو یہ تین کو۔
8:۔ ابن ابی شیبہ نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ کوئی حرج نہیں ان میں سے صرف ایک صنف کو دینے میں صنفوں میں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔
9:۔ ابن ابی شیبہ وابوالشیخ نے حسن عطاء ابراہیم سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہرحمہم اللہ سے روایت کیا کہ اللہ سب نے اسی طرح فرمایا۔
10:۔ ابن منذر والنحاس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ فقراء سے مراد ہیں مسلمانوں کے فقراء اور مساکین سے مراد ہیں طوافون پھرنے والے (جو صدقہ خیرات مانگنے کے لئے پھرتے رہتے ہیں)
11:۔ عبدالرزاق وابن منذر وابن ابی حاتم والنحاس وابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ فقیر وہ ہے جو اپاہج ہو اور مسکین وہ محتاج ہے کہ جو اپاہج نہ ہو۔
حضرت عمر ؓ کا انصاف :
12:۔ سعید بن منصور وابن ابی حاتم نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ اہل کتاب میں سے ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو ایک دروازہ پر پڑا ہوا تھا اس نے کہا کہ انہوں نے مجھ سے سخت محنت لی ہے اور مجھ سے جزیہ وصول کیا یہاں تک کہ میری بصارت ختم ہوگئی اب کوئی بھی نہیں جو میری طرف کوئی چیز لے کر آئے عمر نے فرمایا تب تو ہم نے کوئی انصاف نہ کیا پھر فرمایا یہ ان لوگوں میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) انما الصدقت للفقرآء والمسکین “ پھر اس کے لئے فرمایا کہ اس کو رزق دیا جائے اور اس کے نام جاری کیا جائے۔
13:۔ ابن ابی شیبہ نے عمر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) انما الصدقت للفقرآء والمسکین “ سے اہل کتاب میں سے اپاہج لوگ مراد ہیں۔
14:۔ ابن ابی شبیہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ زکوٰۃ میں مشرکوں کو نہ دیا جائے اور نہ کفارات میں سے کوئی چیز دی جائے۔
15:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ وہ فقیر نہیں ہے جو ایک درہم کو دوسرے درہم کے ساتھ جمع کرے اور نہ وہ فقیر ہے جو کھجور کو کھجور کے ساتھ جمع کرے۔ فقیر وہ ہے جو اپنے کپڑے کو اور اپنے دل کو صاف ستھرا اور خالی کردے۔ اور وہ ذات پر قادر نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” یحسبہم الجاہل اغنیآء من التعفف “ (البقرہ آیت 273)
16:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے جابر بن زید (رح) سے روایت کیا کہ فقراء وہ ہیں جو سوال سے بچنے والے ہیں اور مساکین سوال کرنے والے ہیں۔
17:۔ ابن ابی شیبہ نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا فقراء وہ ہیں جو اپنے گھروں میں ہوتے ہیں اور وہ سوال نہیں کرتے۔ اور مساکین وہ ہیں جو باہر نکل کر سوال کرتے پھرتے ہیں۔
18۔ ابن ابی حامت نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ فقیر وہ آدمی ہوتا ہے جو اپنی قوم اپنے کنبے اور اپنے قریبی رشتہ داروں کے درمیان رہتا ہے اور اس کے پاس کوئی مال نہیں ہوتا اور مسکین وہ ہے جس کا کوئی کنبہ قرابت اور رشتہ داری نہ ہو اور اس کے پاس کوئی مال بھی نہ ہو۔
19:۔ ابن ابی شبیہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ان سے آیت کے بارے میں فرمایا فقراء وہ ہیں جنہوں نے ہجرت کی بعد مساکین وہ ہیں جنہوں نے ہجرت نہیں کی
20:۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ہر اس شخص کو زکوٰۃ میں سے دیا جائے جس کا گھر ہو خادم ہو اور گھوڑا ہو۔
21:۔ ابن ابی شیبہ نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اسے زکوٰۃ دینے سے منع نہیں کرتے تھے جس کا گھر اور خادم ہوتا۔
22:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت) ” والعملین علیھا “ یعنی صدقات وصول کرنے کے لئے دوڑ دھوپ اور کوشش کرنے والے۔
23:۔ عبدا الرزاق وابن منذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ہر عامل کو اس کے عمل اور محنت کے مطابق مال زکوٰۃ میں سے دیا جائے گا۔
24:۔ ابن ابی شیبہ نے رافع بن خدیج ؓ سے روایت کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حق کے ساتھ زکوٰۃ وصول کرنے والے غازی کی طرح ہے۔ یہاں تک کہ میں اپنے گھر کی طرف لوٹ آئے۔ س
25:۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” والمولفۃ قلوبہم “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے مراد ایسے لوگ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہو کر اسلام قبول کرتے تو آپ ان کو صدقات میں سے کچھ عطا فرما دیتے۔ جب آپ ان کو صدقات میں سے عطا فرمادیتے تو وہ اس کلمہ خیر اپنی زبان سے رد کرتے اور کہتے یہ اچھا دین ہے اور اگر اس طرح نہ ہوتا تو وہ اس کو عیب لگاتے اور اس کو چھوڑ دیتے۔
26:۔ بخاری وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ علی بن ابی طالب ؓ نے نبی کریم ﷺ کے پاس یمن سے کچھ چیزیں بھیجیں جن پر سونے کا پانی چڑھا ہوا تھا اور ان میں وہاں کی مٹی بھی تھی، آپ نے اس کو مولفہ میں سے چار آدمیوں کے درمیان تقسیم فرمایا الاقرع بن حالیس الحنظلی، علقمہ بن علاثہ العامری، عیینہ بن بدر الفزاری اور زید الخیل الطائی تو قریش اور انصار نے کہا نجد والوں کے سرداروں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا ہم کو چھوڑ دیا جائے گا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے ان کی تالیف قبول کی ہے۔
مولفۃ القلوب کون لوگ ہیں ـ؟
27:۔ عبدالرزاق وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) والمولفۃ قلوبہم “ (یہ لوگ تھے) بنوہاشم میں سے ابو سفیان بن الحارث بن عبدالمطلب، بنوامیہ میں سے ابو سفیان بن حرب، بنو مخزوم میں سے الحارث بن ہاشم عبد الرحمن بن یربوع، بنواسد میں سے حکیم بن حزام، بنو عامر میں سے سہیل بن عمر و مویطب بن عبدالعزی بنوجمع میں سے صفوان بن امیہ بنو سہم میں سے عدی بن قیس ثقیف میں سے العلا بن حارثہ یا حارثہ بنوفزارہ میں سے عیینہ بن حسین بنو تمیم میں میں سے اقرع بن حابس بنونصر میں سے مالک بن عوف، بنوسلیم میں سے عباس بن مرداس، نبی کریم ﷺ نے ان میں سے ہر ایک آدمی کو سو سو اونٹ مگر عبدالرحمن بن یربوع اور جو یطب بن عبدالعزی کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کو پچاس اونٹیناں دیں۔
28:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) والمولفۃ قلوبہم “ وہ لوگ ہیں جو اسلام میں داخل ہوں گے قیامت کے دن تک۔
29:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا (آیت) والمولفۃ قلوبہم “ وجوہ عرب میں سے وہ قوم ہے کہ لوگ ان کے پاس آتے ہیں اور جب تک وہ رہیں یہ ان پر خرچ کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں یہاں پھر واپس لوٹ جائیں۔
30:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ابن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آج کوئی مولفہ قلوب نہیں ہے۔
31:۔ بخاری نے اپنی میں وابن منذروابن ابی حاتم وابوالشیخ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ آج کوئی مولفہ قبول نہیں ہے یہ وہ لوگ تھے کہ نبی کریم ﷺ نے جن کی تالیف کیا کرتے تھے۔ جب ابوبکر ؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اسلام میں اس سلسلہ کو ختم کردیا۔
مولفۃ القلوب کا زمانہ ختم ہوگیا :
32:۔ ابن ابی حاتم نے عبیدہ سلمانی (رح) سے روایت کیا کہ عیینہ بن حصن اوراقرع بن حابس ابوبکر کے پاس آئے اور کہا اے رسول اللہ کے خلیفہ ہمارے نزدیک شور والی زمین سے کہ جس میں کوئی گھاس نہیں اگتی اور نہ اس کا کوئی اور نفع ہے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہم کو زمین کا کوئی ٹکڑا عطا فرما دیں کہ ہم اس میں کھیتی لگائیں شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ ہم کو نفع عطا فرمائے۔ تو ابوبکر نے وہ زمین ان کے حوالے کردی اور اس بارے میں ان دونوں کو ایک تحریر بھی لکھ دی اور اس کو گواہ بھی بنا لیا یہ دونوں عمر کے پاس گئے تاکہ ان کو بھی اس پر گواہ بنالیں اس تحریر پر جو کچھ اس میں لکھا ہے۔ جب عمر ؓ نے اس کو پڑھا جو خط میں لکھا ہوا تھا تو ان کے ہاتھوں سے لے لیا اس میں تھوک دیا اور اس کو پھینک دیا (ایسا کرنے پر) دونوں اس پر ناراض ہوئے اور آپ کو سخت الفاظ کہے عمر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ان دونوں کی تالیف فرمایا کرتے تھے۔ اسلام ان دنوں کمزور تھا (اب) اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطا فرما دیا ہے تو دونوں جاؤ اور محنت کرو اللہ تعالیٰ تمہاری رعایت نہیں فرمائیں گے اگر تم نے اپنی رعایت نہ کی۔
33:۔ ابن سعد نے ابو وائل (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ مولفہ قلوب کے حصہ کا کیا کیا جائے۔ فرمایا دوسروں کے حصوں میں اضافہ کردو۔
34:۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وفی الرقاب “ سے مکاتب مراد ہیں۔
35:۔ ابن منذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ زکوٰۃ میں سے پورا غلام آزاد نہیں کیا جائے گا اور غلام دیا جائے گا۔ اور مکاتب کی مدد کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
36:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے عمر بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ رکاب کا حصہ دو برابر حصوں میں آدھا آدھا کیا جائے گا ایک آدھا ہر اس مکاتب کے لئے ہے جو ان لوگوں میں سے ہو جو اسلام کا دعوی کرتے ہیں۔ اور باقی آدھے سے ان غلاموں کو دیا جائے گا جو نماز پڑھتے ہوں روزہ رکھتے ہوں اور اسلام پر ثابت قدم ہوں مرد ہو یا عورت ان کو اللہ کے لئے آزاد کیا جائے گا۔
37:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں دیکھتے کہ کوئی آدمی کو حج کے لئے اپنی زکوٰۃ میں سے دے یا کسی غلام کو آزاد کرے۔
38:۔ ابوعبید وابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اپنے زکوٰۃ کے مال سے غلاموں کو آزاد کر۔
39:۔ ابوعبید وابن منذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس بات میں سے کوئی حرج نہیں دیکھتے کہ ایک آدمی کے زکوٰۃ کے مال سے ایک غلام کو خرید کر آزاد کردیا جائے۔
40:۔ ابو عبیدوسعید بن منصور ابن منذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ مال زکوٰۃ سے غلام کی مدد کی جاسکتی ہے۔ اور اس سے آزاد نہیں کیا جائے گا۔
41:۔ ابو عبید وابن ابی شیبہ وابن منذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ اپنے مال زکوٰۃ سے کسی کو آزاد نہ کر کیونکہ اس میں ولاء جاری ہوتی ہے۔ ابو عبید ؓ نے فرمایا کہ ابن عباس ؓ کا قول اونچا ہے۔ جو ہم اس باب میں لے آئے اور وہ افضل ہے اتباع کے لحاظ سے اور زیادہ معروف ہے۔ تاویل کے لحاظ سے اور اس پر بہت سے اہل علم نے آپ کے ساتھ موافقت کی ہے۔
42:۔ ابن ابی شیبہ نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الغرمین “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد قرض والے اور مسافر مراد ہیں اگرچہ (وہ مالدار ہو)
43:۔ عبدالرزاق وابن شیبہ وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الغرمین “ سے مراد ہے کہ جس کا گھر جل گیا ہو یا اس کا مال سیلاب میں بہہ گیا ہو اور اس کے اہل و عیال پر قرض کا بوجھ ہو۔
44:۔ عبدالرزاق وابن منذور وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ابو جعفر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الغرمین “ سے مراد ہے قرضہ طلب کرنے والا بغیر کسی فساد کے اور ابن السبیل سے مراد ہے ایک زمین سے دوسری زمین (یعنی دوسرے علاقہ) میں جانے والا مسافر۔
45:۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الغرمین “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہلاکت اور بڑی امت میں قبیلہ ہونے کے بعد سوال کرتے ہیں۔ وفی سبیل اللہ یعنی مجاہدین وابن السبیل سے مراد راستہ میں اپنے ساتھیوں سے بچھڑ جانے والا مسافر اس قدر اس کو دیا جائے کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔
46:۔ ابن ابی حاتم ابوالشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ وفی سبیل اللہ سے مراد ہے اللہ کے راستوں میں لڑنے والا وابن السبیل سے مراد ہے مسافر۔
47:۔ ابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابن السبیل سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑنے والا مراد ہے اور ابن السبیل سے مراد ہے مسافر۔
48:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابن السبیل سے وہ فقیر مہمان مراد ہے۔ جو مسلمانوں کے پاس آکر اترتا ہے۔
49:۔ ابن ابی شیبہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اس مسافر آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو سفر میں اس حال میں نکلا کہ وہ مالدار تھا۔ سفر کے دوران اس کے پاس ساز و سامان ضائع ہوگیا۔ اور وہ محتاج ہوگیا تو فرمایا سفر کے دوران اس کو مال زکوٰۃ میں دیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ مسافر ہے۔
50:۔ عبد بن حمید وابن منذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وفی سبیل اللہ “ سے مراد ہے زکوٰۃ میں سے اللہ کے راستے میں کسی آدمی کو سواری دی جائے (آیت) ” وابن السبیل “ سے مراد مہمان اور مسافر ہے جو راستہ سے کٹ جائے اور اس کے پاس کوئی چیز نہ ہو۔ (آیت) ” فریضۃ من اللہ واللہ علیم حکیم “ یعنی کہ یہ حصے آٹھ ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو فرض فرمایا اور ان کے بارے میں بتایا۔
51:۔ ابن ابی شیبہ وابو داود ابن ماجہ وابن منذر وابن مردویہ نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی غنی کے لئے صدقہ (یعنی زکوٰۃ) حلال نہیں ہے مگر پانچ آدمیوں کے لئے عامل کے لئے جو زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے محنت کرتا ہے یا وہ آدم جس نے اپنے مال کے عوض صدقہ کی کوئی چیز بدلی یا مقروض کے لئے یا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کے لئے یا مسکین کا کوئی چیز صدقہ اور زکوٰۃ دی گئی اور پھر اس نے اس میں کوئی چیز مالدار کو بطور ہدیہ کے دے دی۔
52:۔ ابن ابی شیبہ وابو داود والترمذی (اور آپ نے اس کو حسن کہا) وابن ماجہ والنحاس نے اپنی ناسخ میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے صدقہ یا زکوٰۃ کا سوال کیا حالانکہ اس کے پاس اتنا مال ہے جو اس کو غنی کرسکتا ہے تو اس کا سوال قیامت کے دن خراش کی صورت میں ظاہر ہوگا صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! کتنا مال اس کو غنی کرسکتا ہے فرمایا پچاس درہم یا اس کی قیمت سونے میں سے۔
زکوۃ مالدار کے حلال نہیں :
53:۔ ابو الشیخ نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے صدقہ کے مال کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ برا مال ہے یہ لچے لنگڑے اور اندھے اور ہر راستہ بھٹک جانے والے کا مال ہے پوچھا گیا کیا صدقہ وصول کرنے والوں کا اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والوں کا اس مال پر حق ہے آپ نے فرمایا عاملین کے لئے ان کے عمل کے بقدر ہے اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے ایک ایسی قوم ہے کہ انکے لئے حلال ہے مگر صدقہ (یعنی زکوٰۃ) کسی مالدار اور ذی مرتبہ آدمی کے لئے حلال نہیں۔
54:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کو آٹھ حصوں میں فرض فرمایا سونے میں چاندی میں اونٹ میں گائے میں بکری میں کھیتی میں انگور میں اور کھجور میں پھر زکوٰۃ کے آٹھ ہی مصرف بیان کئے گئے۔ جس کا ذکر اس آیت میں ہے (آیت) ” انما الصدقت للفقرآء “ (الآیہ)
55:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے تخمینوں میں مسلمانوں پر تخفیف کرو کیونکہ ان میں عرایا بھی ہیں اور وصایا بھی ہے پس عرایا تو کھجور کے تین یا چار یا اس سے کم اور زیادہ درخت ہیں ایک آدمی اپنے بھائی کو اس کا بھی پھل دیتا ہے تاکہ وہ اس کے گھر والے اس کا پھل کھائیں لیکن فرمایا وہی آٹھ حصے ہیں جیسے فرمایا (آیت) ” انما الصدقت للفقرآء والمسکین “ سے لے کر واللہ علیم حکیم “ تک۔
56ـ:۔ احمد نے بنو ھلال کے ایک آدمی سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا مالدار کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے اور نہ کسی ذی مرتبہ کے لئے۔
57:۔ ابن ابی شبیہ وابو داود والترمذی نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مالدار کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے اور نہ کسی ذی مرتبہ کے لئے۔
58ـ:۔ ابن ابی شبیہ وابو داود والنسائی نے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے روایت کیا کہ مجھے دو آدمیوں نے خبر دی کہ وہ دونوں حجۃ الوداع میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ صدقہ (مال) تقسیم فرما رہے تھے۔ تو ان دونوں نے آپ سے سوال کیا اس میں سے آپ نے ہماری طرف نظر اٹھائی پھر نیچے کرلی اور ہمارے جسموں کو دیکھا اور فرمایا اگر تم چاہوں تو میں تم کو دے دوں لیکن اس میں مالدار کے لئے کوئی حصہ نہیں اور نہ طاقت ور کمانے والے کے لئے۔
Ayah 9:611:۔ ابن اسحاق وابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبیل بن حرث رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا اور آپ کے پاس ؓ عنہبیٹھ کر آپ کی باتیں سنتا تھا۔ پھر آپ کی بات کو منافقین کی طرف پہنچاتا تھا اور وہی آدمی ہے کہ اس نے ان منافقین سے کہا کہ محمد ﷺ کو جو بھی کوئی بات کہہ دے تو اس کی تصدیق کرلیتے ہیں (یعنی سچ مان لیتے ہیں) اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ومنہم الذین یوذون النبی ویقولون ھو اذن “
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ منافقین میں سے کچھ لوگ اکٹھے ہوئے ان میں جلاس بن سوید بن صامت جحش بن حمیر ودیعہ بن ثابت تھے انہوں نے ارادہ کیا کہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں بدگمائی کریں ان کے بعض نے بعض کو منع کیا اور کہا ہم ڈرتے ہیں کہ (یہ بات) محمد ﷺ کو پہنچ جائے اور (پھر) وہ تم سے انتقام لیں گے ان کے بعض نے کہا محمد ﷺ تو کانوں کے کچے ہیں ہم ان کے لئے قسم کھالیں گے۔ تو وہ ہماری تصدیق کرلیں گے۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت) ” ومنہم الذین یوذون النبی “۔
3:۔ ابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقولون ھو اذن “ یعنی کہ وہ ہر ایک سے سن لیتے ہیں اللہ عزوجل نے فرمایا (آیت) ” قل اذن خیر لکم یومن لکم یومن باللہ ویومن للمومنین “ یعنی اللہ تعالیٰ کی تصدیق کرتے ہیں اور ایمان والوں کی بھی تصدیق کرتے ہیں۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقولون ھو اذن “ ینی وہ سن لیتے ہیں جو کچھ ان کو کہا جائے۔
5:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقولون ھو اذن “ یعنی ہم عنقریب ان کو جو ہم چاہیں گے کہہ لیں گے پھر ہم ان کے لئے قسمیں کھائیں گے تو وہ ہماری تصدیق کرلیں گے۔
6:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ الاذن سے مراد ہے کہ جو ہر ایک کی بات سنتا ہو اور اس کی تصدیق بھی کرتا ہو۔
رسول اللہ ﷺ کو یذا دینا حرام ہے :
7:۔ ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویومن للمومنین “ یعنی وہ ایمان والوں کی بھی تصدیق کرتے ہیں، ان معاملات میں جو ان کے درمیان واقع ہوتے ہیں ان کی گواہوں میں اور ان کی قسموں میں ان کے حقوق پر اور ان کی عورتوں پر اور ان کے مالوں پر۔
8:۔ طبرانی وابن عساکر وابن مردویہ نے عمیر بن سعد (رح) سے روایت کیا میرے بارے میں (یہ آیت) نازل ہوئی یعنی (آیت) ” ویقولون ھو اذن “ اور یہ اس وجہ سے کہ عمیر بن سعد اہل مدینہ کی باتیں سنتا تھا (پھر) نبی کریم ﷺ کے پاسآکر سرگوشیاں کیا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ عمیر بن سعد کو تکلیف دیتے اور آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھنے کو ناپسند کرتے اور کہتے تھے (آیت) ” ھواذن “ وہ تو کان ہے ( یعنی کانوں کا کچا ہے )
Ayah 9:621:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ منافقین میں سے ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم کہ یہ لوگ (یعنی منافقین) البتہ ہمارے اختیار اور ہمارے اشراف ہیں اور جو محمد ﷺ فرماتے ہیں اگر وہ سچ ہے تو گدھوں نے بڑھ کر ان کے لئے برا ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے اس بات کو سن لیا تو اس نے کہا اللہ کی قسم جو کچھ محمد ﷺ فرماتے ہیں جو یقینا سچ ہے البتہ تو گدھے سے بھی زیادہ برا ہے وہ آدمی دوڑتا ہوا نبی کریم ﷺ کے پاس گیا اور ان کو یہ بات بتائی آپ نے کسی کو بھیج کر اس (منافق) کو بلوایا اور فرمایا تجھے کس بات نے آمادہ کیا تھا اس پر جو تو نے بات کہی۔ تو وہ لعنت کرنے اور اللہ کی قسمیں اٹھانے لگا کہ میں نے یہ بات نہیں کہی۔ اور مسلمان آدمی یہ کہنے لگا کہ اے اللہ سچ بولنے والے کو سچا کر اور جھوٹ بولنے والے کو جھوٹا کر تو اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) ” یخلفون باللہ لکم لیرضوکم “ نازل فرمائی۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) نے اسی طرح فرمایا اور اس مسلمان آدمی کا نام عامر بن قیس تھا جو انصاری میں سے تھا۔
Ayah 9:63اللہ و رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دشمنی کا برا انجام :
1:۔ ابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم یعلموا انہ من یحادد اللہ ورسولہ “ یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ سے دشمنی کرتا ہے۔
2:۔ ابو الشیخ نے یزید بن ہارون (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر صدیق ؓ نے خطبہ ارشاد فرمایا اپنے خطبہ میں فرمایا ایک بندہ لایا جائے گا جس پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا تھا اور اس کو وافر رزق عطا فرمایا۔ اس کو صحت مند بدن عطا فرمایا حالانکہ اپنے رب کی نعمتوں کی ناشکری کی اس کو اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا۔ اور اس سے کہا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا تو نے اپنے اس دن کے لئے کیا عمل کیا اور تو نے اپنے لئے کیا آگے بھیجا (لیکن) اس نے ( کسی عمل) کو نہ پایا تو اس نے کوئی نیک عمل آگے بھیجا ہو وہ رونے لگے گا یہاں تک کہ اس کے آنسو بہنے لگیں گے۔ پھر اس کو عار دلائی جائے گی اور اس کو رسوا کیا جائے گا جو کچھ اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو ضائع کیا تھا پھر وہ خون سے روئے گا پھر اس کو عار دلائی جائے گی اور اس کو رسوا کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ کو اس کی کہنیوں تک کھاجائے گا۔ پھر اس کو عار دلائی جائے گی اور اس کو رسوا کیا جائے گا۔ جو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو ضائع کیا تھا تو وہ اونچی آواز سے زور زور سے روئے گا یہاں تک کہ اس کی آنکھ کے ڈھیلے گرپڑیں اس کے رخساروں پر اور ہر ایک ان میں سے بہت بڑی کشادگی میں ہوگا۔ پھر اس کو عار دلائی جائے گی اور رسوا کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ کہے گا اے میرے رب مجھ کو آپ کی طرف بھیج دیجئے اور اس مقام پر مجھ پر رحم فرمائیے۔ اور اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” انہ من یحادد اللہ ورسولہ فان لہ نار جھنم “ سے لے کر ” ذلک الخزی العظیم “ تک۔
Ayah 9:641:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یحذر المنفقون ان تنزل علیہم سورة تنبئہم بما فی قلوبہم “ یعنی وہ آپس کی باتیں کرتے ہیں پھر وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہمارے خلاف افشانہ کردے۔
2:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ سورة فاضحہ کہلاتی تھی یعنی منافقین کو رسوا کرنے والی اور اس کو مشیرہ بھی کہا جاتا تھا اس نے ان کے عیوب ونقائض ظاہر کردیئے۔
3:۔ سعید بن منصور وابن منذر وابوالشیخ نے مسیب بن رافع (رح) سے روایت کیا کہ جو آدمی سات گھروں میں کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر فرما دے گا اور جو آدمی سات گھروں میں (یعنی چھپ کر) کوئی برا عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر فرما دے گا اور اس بات کی تصدیق اللہ تعالیٰ کے کلام میں ہے یعنی (آیت) ” ان اللہ مخرج ما تحذرون “