Ayah 9:331:۔ احمد ومسلم والحاکم وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات اور دن نہیں گزریں گے (یعنی ختم نہیں ہوں گے) یہاں تک کہ لات اور عزی کی عبادت کی جائے گی۔ عائشہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے تو یہ خیال کیا تھا جب اللہ تعالیٰ نے (آیت) ” لیظہرہ علی الدین کلہ “ نازل فرمائی کہ عنقریب (دین) پورا ہوجائے گا۔ آپ نے فرمایا جب تک اللہ تعالیٰ چاہیں گے ہوتا رہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا کو بھیجیں گے تو ہر وہ آدمی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر خیر ہوگی وہ فوت ہوجائے اور وہ آدمی باقی رہے گا جس میں کوئی خیر نہیں ہوگی وہ لوٹ جائیں گے اپنے آباواجداد کے دین کے طرف۔
2:۔ ابوالشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی “ ھدی سے مراد توحید قرآن اور اسلام ہے۔
3:۔ ابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم ﷺ کو سارے دین کے تمام امور پر غلبہ عطا فرما دیں گے اور وہ سب کے سب اس کو عطا فرما دے گا اور اس میں سے کوئی چیز آپ پر چھپی نہیں رہے گی حالانکہ مشرکین اور یہودی اس بات کو ناپسند کرتے تھے۔
4:۔ ابن ابی حاتم ابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا تاکہ سب دینوں پر ان کو غالب کردے اس لئے ہمارا دین سب دینوں سے بلند ہے۔ اور ہمارے مرد ان عورتوں پر غالب ہیں اور ان کے مرد ہماری عورتوں پر غالب نہیں ہوں گے۔
دین اسلام کا مکمل غلبہ :
5:۔ سعید بن منصور ابن منذر والبیہقی نے اپنی سنن میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لیظہرہ علی الدین کلہ “ کے بارے میں فرمایا یہ (اس وقت تک) نہیں ہوگا یہاں تک کہ کوئی یہودی اور کوئی نصرانی دین والا باقی نہ رہے گا سوائے اسلام کے یہاں تک کہ بکری بھیڑئیے سے گائے شیر سے اور انسان سانپ سے محفوظ ہوجائے۔ یہاں تک کہ کوئی چوہا چمڑے کے تھیلے کو نہ کاٹے جزیہ ختم کردیا جائے گا صلیب کو توڑ دیا جائے گا خنزیر کو قتل کردیا جائے اور یہ (سب کچھ) اس وقت ہوگا جب عیسیٰ نازل ہوں گے۔
6:۔ عبد بن حمید ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لیظہرہ علی الدین کلہ “ کے بارے میں فرمایا کہ مذہب چھ قسم کے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے (یعنی مسلمان) وہ لوگ جو یہودی ہیں صائبین ہیں نصاری ہیں اور مجوس ہیں اور وہ لوگ ہیں جو مشرک ہیں سب دین اسلام میں داخل ہوں گے۔ اور اسلام اس میں داخل نہیں ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس کے بارے میں فیصلہ فرما دیا ہے اسے پورا کیا ہے اور اس لئے یہ فیصلہ فرمایا ہے اس دین (اسلام) کو سارے دینوں پر غالب کریں گے اگرچہ مشرکین ناپسند کریں۔
7:۔ عبد حمید وابو الشیخ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لیظہرہ علی الدین کلہ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خروج کے ساتھ ہوگا۔
Ayah 9:341:۔ ابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یایھا الذین امنوا ان کثیرا من الاحبار “ میں احبار سے مراد ہے یہود کے علماء والرھبان یعنی نصاری کے علماء ”(آیت) لیاکلون اموال الناس بالباطل “ سے باطل سے مراد ہے کہ (سائل کو ایسا حکم لکھ دیتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں فرمایا تھا اور اس کے ذریعہ لوگوں سے (مال لے کر) کھاتے تھے اور اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فویل للذین یکتبون الکتب بایدیہم ثم یقولون ھذا من عند اللہ “۔
2:۔ ابوالشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ اس (آیت) کے بارے میں فرمایا کہ احبار یہود سے ہیں اور رھبان نصاری میں سے ہیں اور سبیل اللہ سے مراد محمد ﷺ ہیں۔
3:۔ ابوالشیخ نے فضیل بن عیاض (رح) سے روایت کیا کہ آخرت کا علم رکھنے والے کی پیروی کرو اور دنیا کے عالم (یعنی دین دارعالم) سے بچو وہ تم کو تکلیف نہیں دے گا اپنے شکر (یعنی تعریف) کے ساتھ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (آیت) ان کثیرا من الاحبار والرھبان لیاکلون اموال الناس بالباطل ویصدون عن سبیل اللہ “
4:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” والذین یکنزون الذھب والفضۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد لوگ ہیں جو اپنے اموال کی زکوٰۃ نہیں دیتے اور ہر وہ مال جس کی زکوٰۃ نہ دی جائے وہ زمین کے اوپر ہو یا اس کے اندر دفن ہو۔
جس مال کی زکوٰۃ ادا کردی جائے وہ خزانہ نہیں :
5:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جس کی زکوٰۃ ادا کردی جائے وہ خزانہ نہیں ہے۔
6:۔ مالک وابن ابی شیبہ وابن منذر ابی حاتم وابوالشیخ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جس کی زکوٰۃ ادا کردی جائے وہ خزانہ نہیں ہے اگرچہ وہ سات زمینوں کے نیچے ہو اور جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی جائے وہ خزانہ ہے اگرچہ وہ ظاہر ہو۔
7:۔ ابن مردویہ (رح) سے نے ابن عمر ؓ سے مرفوعا اسی طرح روایت کیا ابن عدی اور خطیب نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس مال کی زکوٰۃ ادا کردی جائے وہ خزانہ نہیں ہے۔
8:۔ احمد نے زہد میں والبخاری وابن ماجہ وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن ابی شیبہ (رح) نے جابر ؓ سے روایت کیا ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا یہ حکم زکوٰۃ کے نازل ہونے سے پہلے کا تھا جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اموال سے پاک ہونے کا ذریعہ بنا دیا پھر فرمایا مجھے کوئی پرواہ نہیں اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو میں اس کی مقدار کو جان لوں گا اس کی زکوٰۃ ادا کروں گا اور اس میں اللہ کی اطاعت کے ساتھ عمل کروں گا۔
9:۔ ابن ابی شیبہ وابوالشیخ نے سعد بن ابی سعید ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے عمر کے زمانہ میں گھر بیچا۔ عمر نے اس سے فرمایا اس کی قیمت کی حفا ظت کر اپنی بیوی کے بستر کے نیچے سے کھود کردفن کردو اس نے کہا اے امیر المومنین کیا یہ خزانہ نہیں ہے ؟ فرمایا یہ خزانہ نہیں ہے جب تو اس کی زکوٰۃ ادا کردے۔
10:۔ ابن مردویہ والبیہقی نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میرے پاس سونے اور چاندی کے زیور ہیں کیا وہ خزانہ ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ زیور جس کی تو زکوٰۃ ادا کرے وہ خزانہ نہیں ہے۔
11:۔ احمد والترمذی اور آپ نے اس کو حسن کہا اور ابن ماجہ وابن ابی حاتم وابن شاھان نے ترغیب فی الذکر میں ابو الشیخ وابن مردویہ وابو نعیم نے حلیۃ میں ثوبان ؓ سے روایت کیا جب (یہ آیت) ” والذین یکنزون الذھب والفضۃ “ نازل ہوئی۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ کے بعض سفر میں تھے آپ کے بعض صحابہ نے عرض کیا اگر ہم کو معلوم ہوجائے کون سامال بہتر ہے تو ہم اس کو لے لیتے آپ نے فرمایا (مال) یہ ہے کہ ذکر کرنے والی زبان شکر کرنے والا دل اور مومن بیوی جو اس کے ایمان پر اس کی مدد کرتی ہے۔ اور دوسرے الفاظ میں یوں ہے جو اس کی آخرت کے کام پہ مددگار ہو۔
12:۔ ابن ابی شیبہ نے اپنی مسند میں وابو داود وابو یعلی وابن ابی حاتم والحاکم اور آپ نے اس کی تصحیح کی وابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) ” والذین یکنزون الذھب والفضۃ ‘ نازل ہوئی تو (یہ حکم) مسلمانوں پر دشوار ہوا۔ اور انہوں نے عرض کیا ہم میں سے کوئی بھی جو مال رکھتا ہے اپنی اولاد کے لئے اپنے بعد باقی نہیں رکھے گا یہ سن کر عمر ؓ نے فرمایا میں تم سے اس غم کو زائل کردوں گا۔ عمر ؓ چلے اور ان کے پیچھے ثوبان بھی چلے۔ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی آپ کے صحابہ پر یہ آیت بہت دشوار ہوگئی ہے۔ آپ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کو فرض نہیں فرمایا مگر تاکہ اس کے ذریعہ تمہارے باقی مال پاک ہوجائیں اور زکوٰۃ کو فرض کردیا گیا ہے اموال میں سے جو تمہارے بعد اور باقی رہیں گے عمر ؓ نے اللہ اکبر کہا پھر ان سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تجھ کو اس سے بہتر کی خبر نہ دوں جو آدمی خزانہ بناتا ہے اور وہ نیک اور صالح بیوی جب بھی اس کی طرف دیکھے تو اس کو خوشی کرے جب اس کو حکم کرے تو اس کی اطاعت کرے اور جب اس سے غائب ہوجائے تو اس کے مال اور عزت کی حفاظت کرے۔
13:۔ دارقطنی نے الافراد میں اور ابن مردویہ نے بریدہ ؓ سے راویت کیا کہ نیک عورت وہ ہے کہ اس کی طرف (اس کا شوہر) دیکھے تو اس کو خوش کرے جب اس کو حکم دے تو اس کی اطاعت کرے اور جب اس سے غائب ہوجائے تو اس کے مال اور عزت کی حفاظت کرے۔
14:۔ دارقطنی نے الافراد میں اور ابن مردویہ نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) ” والذین یکنزون الذھب والفضۃ ‘ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے کہا آج کنز (یعنی خزانہ) کے بارے میں حکم نازل ہوا۔ ابوبکر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آج ہم کیا خزانہ جمع کریں ! آپ نے فرمایا تمہارا خزانہ ہونا چاہئے (بہترین خزانہ یہ ہے) ذکر کرنے والی زبان شکر کرنے والا دل اور نیک بیوی جو تم میں سے کسی کو اس کے ایمان کے بارے میں مددگار ہو۔
15:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ جب تو اپنے خزانہ کا صدقہ (یعنی زکوٰۃ نکال دے گا تو تو نے اس کا شر دور کردیا یا اب وہ خزانہ نہیں ہے۔
16:۔ ابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا تو انہوں نے ( آیت) ” والذین یکنزون الذھب والفضۃ ‘ کے بارے میں فرمایا اس سے اہل کتاب مراد ہیں اور فرمایا یہ (حکم) خاص اور عام (سب کے لئے) ہے۔
17:۔ ابن الضریس نے علبائ بن احمر (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ نے فرمایا جب انہوں نے مصاحف کے لکھنے کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے ارادہ کیا والدین کی مراد کو لغو کردیں (یعنی مٹادیں) جو سورة براءۃ میں ہے۔ یعنی ( آیت) ” والذین یکنزون الذھب والفضۃ “ اس سے فرمایا تم ضرور بالضرور اس کو ساتھ کیا (یعنی واو کو شامل کرو یا میں ضرور اپنی تلوار کو اپنے کاندھے پر رکھ لوں گا (یعنی تم سے لڑوں گا) تو ان لوگوں نے اسے ساتھ لکھ دیا۔
18۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا چار ہزار یا اس سے کم تو نقفہ یعنی خرچہ ہے اور جو اس سے اوپر ہے وہ خزانہ ہے۔
19:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ( آیت) ” والذین یکنزون الذھب والفضۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ قید والے ہیں۔
20:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے عراک بن مالک اور عمر بن عبدالعزیز دونوں حضرات سے روایت کیا کہ انہوں نے ( آیت) ” والذین یکنزون الذھب والفضۃ ‘ کے بارے میں فرمایا کہ اس کو دوسری آیت یعنی (آیت) ” خذمن اموالہم صدقۃ تطھرہم وتزکیہم بھا “ نے منسوخ کردیا۔
Ayah 9:35زکوۃ ادا نہ کرنے پر وعید :
1:۔ بخاری ومسلم وابوداود وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سونے والا چاندی والا جو اس کو حق ادا کرے گا تو ان کو قیامت کے دن اس کی چوڑی تلواریں بنادی جائیں گی۔ پھر ان کو جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا پھر اس کے ساتھ اس کے پہلووں کو اس کی پیشانی کو اور اس کی پیٹھ کو داغا جائے گا اس دن میں کہ اس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے جائے گا اور ہر کوئی اپنا دانہ دیکھے گا جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔
2:۔ ابویعلی وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دینار کو دینار پر یا درہم کو درہم پر نہیں رکھا جائے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو جلا کر وسیع کردے گا فرمایا (آیت) ” فتکون بھا جباہم وجنوبہم وظھورھم ھذا ماکنزتم لانفسکم فذوقوا ماکنتم تکنزون (یعنی ان پیشانیوں، پہلووں کو پشتوں کو داغا جائے گا)
3:۔ ابن ابی حاتم والطبرانی وابوالشیخ نے ابومسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یوم یحمی علیھا فی نار جھنم “ یعنی کعئی آدمی عذاب نہیں دیا جائے گا اس کی جلد کو پھیلا دیا جائے گا یہاں تک کہ ہر دینار کو الگ الگ رکھا جائے گا اور درہم درہم کو اور دینار دینار کو نہیں چھوئے گا۔
4:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فتکوی بھا “ یعنی اس کے ذریعہ اس کی جلد کو پھیلا دیا جائے۔
5:۔ ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یوم یحمی علیھا “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا ایک سانپ ہوگا جو لپٹے گا اس کے پہلووں اور اس کے چہرے کو اور کہے گا میں تیرا مال ہوں جس کے ساتھ تو نے بخل کیا۔
6:۔ ابن ابی حاتم نے ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ جو آدمی اس حال میں مرے گا اور اس کے پاس چاندی یا سونا ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر قیراط سے آگ کی ایک تختی بنا دیں گے جس کے ذریعہ اس کے قدم سے لے کر ٹھوڑی تک داغا جائے گا اس کے بعد اس کو بخش دیا جائے گا یا عذاب دیا جائے گا۔
7:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں ابن ابی شیبہ سے اس طرح ایک مرفوع روایت آپ سے نقل کی ہے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ خزانہ والوں کو خوشخبری دیدو کہ داغا جائے گا انکی پیشانیوں میں ان کے پہلووں میں اور ان کی پیٹھوں میں۔
8:۔ ابن سعد ابن ابی شیبہ والبخاری وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ نے زید بن وھب ؓ سے روایت کیا کہ ربذہ میں میں ابوذر ؓ کے پاس سے گزرا میں نے عرض کیا اس زمین میں کسی نے آپ کو اتار دیا انہوں نے فرمایا کہ شام کے کاتبوں نے میں نے (یہ آیت) ” والذین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ فبشرھم بعذاب الیم (34) “ پڑھی تو معاویہ نے فرمایا یہ ہمارے پاس میں نہیں ہے یہ اہل کتاب کے بارے میں ہے میں نے کہا یہ ہمارے بارے میں ہے اور ان کے بارے میں بھی ہے۔
9:۔ مسلم وابن مردویہ نے احنف بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ ابوذر آئے اور انہوں نے فرمایا خزانہ بنا کر رکھنے والوں کے لئے خوشخبری ہے داغ دینے کی ان کی پیٹھوں کی طرف جو پہلووں سے نکلیں گے اور داغا جائے گا ان کی پیشانیوں کی طرف سے جو نکل جائیں گے ان کی گدیوں سے میں سے کہا یہ کیا ہے فرمایا میں نے نہیں کہا مگر جو میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا۔
10:۔ ابن سعد واحمد نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ ایک دوست نے مجھ سے معاہدہ کیا جو مال سونا چاندی کا ہوگا اس پر داغا جائے گا اور وہ ایک انگارہ ہوگا اپنے مالک پر یہاں تک کہ وہ اس کو اللہ کے راستہ میں (خرچ کرکے) فارغ ہوجائے۔ اور (دنیا میں اس کا یہ حال تھا) کہ جب اس کے پاس کوئی مال آتا تو اپنے خادم کو بلاکر اس سے پوچھتا ان چیزوں کے بارے میں جو اس کو ایک سال کے لئے کافی ہوجائیں تو ان کو خرید کرلیتا پھر جو مال باقی بچ جاتا اس کے پیسے خرید کرلیتا۔
ہرمال پر الگ زکوٰۃ ہے :
11:۔ ابن ابی شیبہ وابن مردویہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اونٹ میں بھی اس کا صدقہ ہے ( یعنی زکوٰۃ ہے) اور گائے میں بھی اس کا صدقہ ہے اور بکری میں بھی اس کا صدقہ ہے اور کیڑوں میں سے اس کا صدقہ ہے۔ اور جس شخص نے دینار یا درہم یا پتریاں یا چاندی حاصل کی اور وہ اسے اپنے قرض خواہ کو دیتا ہے (یعنی قرض خواہ کو اد انہیں کرتا) اور نہ اس کو اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے تو وہ ایسا خزانہ ہے کہ اس کی وجہ سے قیامت کے دن اس کو داغا جائے گا۔
12:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے اس طرح کی مرفوع روایت بیان کی ہے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دینار کنز ہے (خزانہ ہے) اور درہم بھی کنز ہے اور قیراط بھی کنز ہے۔
13:۔ احمد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن حبان والحاکم وابن مردویہ نے ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ ابوہریرہ ؓ کی تلوار کی دھار چاندی کی تھی تو ان سے ابوذر ؓ نے فرمایا کیا تو نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جو آدمی سونا یا چاندی چھوڑ جائے گا تو اس کی وجہ سے (قیامت کے دن) داغا جائے گا۔
14:۔ طبرانی وابن مردویہ نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی سونے اور چاندی کو چھوڑ کر مرگیا تو اس کو قیامت کے دن اسی کے ساتھ داغا جائے گا اس کے بعد اس کو بخش دیا جائے یا عذاب دیا جائے (جیسے اللہ چاہیں گے)
15:۔ ابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خزانہ والا کوئی آدمی جس نے اس کا حق ادا نہیں کیا تھا (یعنی زکوٰۃ نہیں دی تھی) وہ (اس حال میں) قیامت کے دن لایا جائے گا۔ کہ اس کے بدلہ میں اس کے پہلووں اور پیشانی کو دغا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا یہ تیرا خزانہ ہے کہ جس کے ساتھ تو بخل کرتا تھا۔
16:۔ طبرانی الاوسط میں وابوبکر الشافعی غیلانیات میں علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مالدار مسلمانوں کے مالوں میں اتنی مقدار فرض کی ہے کہ جو ان کے فقراء کے لئے کافی ہوتی ہے اور فقراء ہرگز محنت اور کوشش نہیں کریں گے۔ جب وہ بھوکے ہوں گے یا ننگے ہوں گے مگر صرف اتنی مقدار جو اغنیاء کو ہلاک کردے گی۔ خبردار جان لو اللہ تعالیٰ ان کا سخت حساب لیں گے یا ان کو دردناک عذاب دیں گے۔
17:۔ طبرانی نے صیغر میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن زکوٰۃ تو روکنے والے دوزخ میں ہوں گے۔
18۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ زکوٰۃ کو روکنے والا مسلمان نہیں ہے۔
19:۔ ابن ابی شیبہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ نماز نہیں ہے (یعنی قبول نہیں ہوتی مالدار آدمی کی) مگر زکوٰۃ ( کی ادائیگی) کے ساتھ۔
20:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ صدقہ (یعنی زکوٰۃ) کو روکنے والا ملعون ہوگا قیامت کے دن محمد ﷺ کے ارشاد کے مطابق۔
21:۔ حاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا اور ذھبی نے اس کو ضعیف کہا ابو سعید خدری سے روایت کیا کہ انہوں نے بلال سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بلال اللہ تعالیٰ فقیر سے ملاقات نہ کر اور مالدار سے ملاقات کر میں نے عرض کیا میرے لئے یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا جب تو رزق دے دیا جائے تو اس کو نہ چھپا۔ اور جب تو سوال کیا جائے (یعنی جب تجھ سے کوئی مانگے) تو انکار نہ کر میں نے عرض کیا یہ میرے لئے کیسے ہوسکتا ہے فرمایا اسی طرح ہے ورنہ آگ ہوگی۔
22:۔ احمد نے زہد میں ابوبکر بن منکدر (رح) سے روایت کیا کہ حبیب بن سلمہ نے مجھے ابوذر ؓ کی طرف بھیجا تین سو دینار دے کر اور (ان دونوں) وہ شام کے امیر تھے اور کہا کہ ان (پیسوں) کے ذریعہ اپنی حاجت پر مدد حاصل کیجئے ابوذر نے فرمایا اس کی طرف واپس لے جا کیا اس نے ہم میں سے کسی کو اللہ کے ساتھ زیادہ دھوکہ دینے والا نہیں پایا ہمارے لئے ایک خیمہ ہے کہ جس کے ذریعہ ہم چھپ جاتے ہیں اور تین بکریاں ہیں جو شام کے وقت ہمارے پاس آتی ہیں ہماری ایک باندی ہے جو اپنی خدمات ہم کو پیش کرتی ہے۔ بلاشبہ پھر بھی میں زائد مال سے گھبراتا اور ڈرتا ہوں۔
23:۔ احمد نے زہد میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ دو درہم والا ایک درہم والے کی نسبت زیادہ روکنے والا ہوتا ہے۔
24:۔ بخاری ومسلم نے احنف بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ میں قریش کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا ایک آدمی آیا جس کے بال کپڑے پراگندہ تھے یہاں تک کہ اس کے پاس کھڑے ہو کر ان کو سلام کیا پھر کہا خوشخبری ہو خزانہ جمع کرنے والوں کے لئے سرخ گرم پتھر کی جو جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا پھر اسے ان کی پیشانی کے سرے پر رکھ دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ اس کے کندھے کے کنارے سے جا نکلے گا اور پھر اس کے کندھے کے کنارے پر رکھا جائے گا تو اس کی چھاتی کے کنارے سے نکلے گا اور وہ لٹکنے لگے گا پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چلا گیا اور ایک ستون کی طرف بیٹھ گیا میں اس کے پیچھے گیا اور اس کے پاس جاکر بیٹھ گیا میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے میں نے کہا میں نے قوم کو نہیں دیکھا مگر یہ کہ انہوں نے ناپسند کیا جو کچھ آپ نے کہا اس نے کہا وہ ایسے لوگ ہیں جو ذرا بھی عقل نہیں رکھتے مجھ سے میرے دوست نے فرمایا میں نے کہا آپ کا دوست کون ہے ؟ اس نے کہا نبی کریم ﷺ ! کیا تو نے احد پہاڑ دیکھا ہے میں کہا ہاں (پھر) اس نے کہا میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور میں سارا خرچ کردوں مگر تین دینار (خرچ نہ کروں) اور بلاشبہ یہ لوگ عقل نہیں رکھتے۔ یہ لوگ دنیا کے لئے جمع کرتے ہیں اور اللہ کی قسم میں ان سے دنیا کا سوال نہیں کروں گا اور نہ ان سے دین کے بارے میں پوچھوں گا یہاں تک کہ اللہ عزوجل سے جاملوں گا۔
25:۔ احمد والطبرانی نے شداد بن اوس ؓ سے روایت کیا کہ ابوذر ؓ رسول اللہ ﷺ سے کوئی حکم سنتے جس میں شدت ہوتی پھر وہ جنگل کی طرف نکل جاتے پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اس حکم کے بارے میں رخصت کا حکم فرما دیتے اور وہ اس حکم کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے رخصت کو یاد کبھی کرلیتے لیکن اس کو ابوذر ؓ نے خود سنا نہ ہوتا تو (اس لئے) ابوذر ؓ پہلے حکم لیتے تھے جو انہوں نے اس سے سنا ہوتا۔
Ayah 9:36سال کے بارہ مہینے :
1:۔ احمد والبخاری ومسلم ابو داود ابن منذر ابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے حج میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا خبردار ! بلاشبہ زمانہ گھوم کر اپنی اس اصلی حالت پر آگیا، جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو بنایا تھا سال بارہ مہینوں کا ہے اس میں چار مہینے عزت والے ہیں تین مہینے متواتر ہیں ذوالقعدہ ذوالحجہ اور محرم اور رجب مضر (قبیلہ کے نزدیک) جو دونوں جمادی اور شعبان کے درمیان ہے۔
2:۔ بزاروابن جریر وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زمانہ گھوم کر اپنی اصلی حالت پر آگیا (مطلب یہ ہے مشرکوں نے جو مہینوں کو آگے پیچھے کردیا تھا آخر اس پر مہینہ بھی اصلی حالت پر آگیا) جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا اس میں سے چار ماہ عزت والے ہیں تین ماہ لگاتار ہیں اور جب مضر (قبیلہ کے نزدیک) دونوں جمادی اور شعبان کے درمیان ہے۔
3:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے منی کے مقام پر حجۃ الوداع میں ایام تشریق کے دوران میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے لوگوں زمانہ گھوم کر اپنی اس اصلی حالت میں آگیا۔ جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں اس میں چار مہینہ عزت والے ان میں سے پہلا رجب ہے۔ جو مضر (قبیلہ کے نزدیک) دونوں جمادی اور شعبان کے درمیان ہے اور اس کے علاوہ ذوالقعد ذوالحجہ اور محرم ہیں۔
4:۔ ابن منذر ابو الشیخ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے لوگوں زمانہ گھوم کر اپنی اصلی حالت پر آگیا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اس میں سے چار مہینے عزت والے ہیں تین لگاتار ہیں (اور) مضر کا رجب حرمت والا ہے خبردار ماہ حرام کو حلال اس کے جیسا ماہ حلال کو حرام قرار دینا کفر میں زیادتی ہے اس کے ذریعہ کافر گمراہ کرتے ہیں۔
مسلمانوں کی خون ریزی حرام ہے :
5:۔ احمد الباوردی وابن مردویہ نے ابوحمزہ الرقاشی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ جو صحابی تھے انہوں نے بیان فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کی لگام پکڑے ہوئے تھا ایام تشریق کے درمیانی دن میں اور لوگوں کو آپ سے دور ہٹا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا اے لوگو ! کیا تم جانتے ہو کہ تم کس مہینہ میں ہوا ور تم کس دن میں ہو اور تم کس شہر میں ہو صحابہ نے عرض کیا عزت والے دن میں عزت والے مہینے میں اور عزت والے شہر میں۔ آپ نے فرمایا بلاشبہ تمہارا خون تمہارے مال میں تمہاری عزتیں تم پر حرام ہیں جیسے تمہارے آج کے اس دن میں اور تمہارے اس مہینے میں اور تمہارے اس شہر میں حرام ہیں اس دن تک جب تم اس سے (یعنی اللہ تعالیٰ سے) ملو گے پھر فرمایا تم لوگ مجھ سے یہ بات سن لو کہ تم زندگی گزارو مگر خبر دو تم آپس میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا خبردار تم آپس میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا کسی آدمی کا مال حلال نہیں ہے مگر اس کے دل کی خوشی سے ساتھ خبردار ہر خون اور مال اور خاندان شرافت جو جاہلیت میں تھی وہ میرے قدموں کے نیچے ہے قیامت کے دن سب سے پہلے ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کا خون چھوڑا جائے گا جو بنولیث میں دودھ پلانے والی عورت تلاش کرنے لگے تھے اور اس کو جاہل نے قتل کیا تھا خبردار ہر سود جو جاہلیت میں تھا (اس کو) ختم کردیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ پہلا سود جو ختم کردیا گیا وہ عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے تمہارے لئے اصل مال حلال ہے۔ نہ تم ظلم کرو گے اور نہ تم ظلم کئے جاؤ گے خبردار زمانہ اس طرح آج بھی گردش کرتا ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا خبردار مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اس میں سے چار مہینے عزت والے ہیں یہ دین قائم رہنے والا ہے سو تم ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو خبردار میرے بعد کافر بن کر نہ لوٹ جانا کہ بعض تمہارے بعض کی گردنوں کو مارنے لگے۔ خبردار ! شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ جزیرہ عرب میں اس کی عبادت کی جائے۔ لیکن آپس کی لڑائی سے (وہ مایوس نہیں ہوا) اور عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہوکیون کہ وہ تمہارے پاس تمہاری مدد کرنے والی ہیں وہ اپنی جان کی ذرا بھی مالک نہیں ہیں ان کا تمہاراے اوپر حق ہے اور تمہارا ان پر حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی کو نہ آنے دیں تمہارے علاوہ اور تمہارے گھروں کو کسی کو اجازت نہ دیں جن کو تم ناپسند کرتے ہو اگر تم کو ان کی نافرمانی کا خوف ہو تو ان کو نصیحت کرو اور ان کی لیٹنے کی جگہوں سے دور ہٹا دو اور ان کو سخت نہ مارو اور ان کا کھلانا پلانا اور اس کا پہنانا اچھے طریقے سے ان کو مہیا تم نے ان کو اللہ کی امانت کو اس تک پہنچا دے جس نے اس کو امین بنایا اور اپنا ہاتھ پھیلایا پھر فرمایا اے اللہ تحقیق میں نے (آپ کا پیغام) پہنچا دیا خبردار میں نے یقینا پہنچا دیا ہے پھر فرمایا حاضر آدمی ان باتون کو غائب تک پہنچا دے بسا اوقات جن تک پیغام پہنچایا جائے وہ زیادہ سعادت مند ہوتا ہے سننے والے سے۔
6:۔ سعید بن منصور وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” منھا اربعۃ حرم “ سے مراد ہے محرم، رجب، ذوالقعدہ اور ذوالحجۃ۔
7:۔ ابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ان مہینوں کو حرمت والا اس لئے کہا جاتا ہے تاکہ اس میں لڑائی نہ ہو۔
8:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ذلک الدین القیم “ سے مراد ہے القضاء القیم یعنی مضبوط فیصلہ۔
9:۔ ابوداود والبیہقی نے شعب الایمان میں مجیبۃ باہلی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے یا اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر مسلمان ہوگئے پھر وہ چلے گئے اور ایک سال کے بعد پھر آئے تو ان کی حالت اور کیفیت تبدیل ہوچکی تھی عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ نے مجھے نہیں پہنچانا فرمایا تو کون ہے ؟ عرض کیا میں باہلی ہوں پہلے سال میں آپ کے پاس آیا تھا آپ نے فرمایا تجھے کس چیز نے تبدیل کردیا تو اچھی شکل و صورت والا تھا عرض کیا میں نے کھانا نہیں کھایا جب سے آپ جدا ہوا تھا مگر تھوڑا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے اپنی جان کو کیوں عذاب دیا پھر فرمایا صبر کے مہینہ کے روزے رکھو (یعنی رمضان کے روزے رکھو) اور ہر ماہ میں ایک روزہ رکھو عرض کیا میرے لئے زیادہ کیجئے کیونکہ میں زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں فرمایا دو دن روزے رکھو عرض کیا اور زیادہ کیجئے میرے لئے۔ فرمایا تین دن کے روزے رکھو عرض کیا میرے لئے اور زیادہ کیجئے۔ آپ نے فرمایا عزت والے مہینوں (یعنی رجب، ذوالقعد، ذوالحجہ اور محرم) میں روزے رکھ پھر چھوڑ دے (پھر فرمایا) عزت والے مہینوں میں روزے رکھو پھر چھوڑ دے اور آپ نے اپنی تین انگلیوں کے ساتھ اشارہ کرکے ارشاد فرمایا پس آپ نے پہلے ان کو ملایا پھر چھوڑ دیا۔
10:۔ طبرانی نے الاوسط میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے عزت والے مہینے میں سے خمیس جمعہ اور ہفتہ کے دن کے روزے رکھے اللہ تعالیٰ اس کے لئے دو سال کی عبادت (کا ثواب) لکھ دیں گے۔
11:۔ مسلم وابو داود نے عثمان بن حکیم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے سعید بن جبیر سے رجب کے روزے کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا کہ مجھے ابن عباس ؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے تھے کہ اب آپ روزے نہیں چھوڑے گے۔ اور آپ روزے رکھنا چھوڑ دیتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے تھے کہ اب آپ روزے نہ رکھیں گے۔
12:۔ بیہقی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے رجب میں ایک روزہ رکھا تو اس کا (یہ روزہ) ایک سال کے روزہ کے برابر ہوگا اور جس شخص نے سات روزے رکھے اس سے جہنم کے سات دروازے بند کردیئے جائیں گے۔ اور جس نے آٹھ روزے رکھے تو اس کے لئے جنت کے آٹھ دروازے کھول دیئے جائیں گے اور جس نے دس دن کے روزے رکھے تو وہ اللہ تعالیٰ سے جس چیز کا سوال کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو عطا فرمائیں گے اور جس نے پندرہ دن کے روزے رکھے تو آسمان سے ایک آواز دینے والا آواز دے گا۔ تیرے پچھلے گناہ سب معاف کردیئے جائیں گے اب نئے سرے سے مل کر اور تیری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا گیا۔ اور جس نے اور زیادہ کیا ( یعنی زیادہ روزے رکھے) اللہ تعالیٰ بھی اس میں اضافہ فرما دیتا ہے۔ رجب میں نوح (علیہ السلام) کشتی میں سوار ہوئے اور نوح (علیہ السلام) نے روزہ رکھا اور جو ان کے ساتھ (کشتی میں) تھے ان کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا کشتی ان کو چھ ماہ تک یعنی محرم کی دس تاریخ تک چلتی رہی۔
13:۔ بیہقی نے اصبہانی نے ابواقلابہ (رح) سے روایت کیا کہ رجب کے روزے رکھنے والوں کے لئے جنت میں ایک محل ہے۔ بیہقی نے فرمایا کہ (یہ حدیث) ابوقلابہ پر موقوف ہے اور وہ تابعین میں سے ہیں اور وہ اس کی مثل روایت تب بیان کرتے ہیں جب ان سے اوپر والا ان سے سن کر خبردے جن پاس وحی آتی ہے۔ (یعنی جب ان کو کوئی صحابی رسول اللہ ﷺ سے سن کر خبر دے۔ )
14:۔ بیہقی نے اور آپ نے اس کو ضعیف کہا ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے بعد رجب اور شعبان کے روزے نہیں رکھے۔
15:۔ امام بیہقی نے اور آپ نے اس کو ضعیف کہا عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رجب اللہ کا مہینہ ہے اس کو شہر الحرم کہا جاتا ہے۔ اور زمانہ جاہلیت والے لوگ جب رجب کا مہینہ داخل ہوتا تھا تو اپنے اسلحہ کو رکھ دیتے تھے اور لوگ سوجاتے تھے اور راستے میں امن ہوجاتے تھے اور ان کو بعض کو بعض کا خوف نہیں ہوتا تھا یہاں تک کہ (یہ مہینہ) ختم ہوجاتا۔ آپ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا۔
16:۔ امام بیہقی نے قیس بن ابی حازم ؓ سے روایت کیا کہ ہم رجب کے مہینے کو جاہلیت میں الاہم ( یعنی گونگا) کہتے تھے اپنے دلوں سے رجب کی انتہائی حرمت ہونے کے سبب۔
17:۔ امام بخاری اور بیہقی نے ابو رجاء عطار (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں جب رجب داخل ہوتا تو ہم دور جاہلیت میں کہا کرتے تھے نیزوں کے پھل نکالنے والا آگیا ہم کسی تیر میں کوئی لوہا نہیں چھوڑیں گے اور نہ ہی کسی نیزہ کی کوئی نوک چھوڑیں گے مگر یہ کہ ہم اس کو اتار کر پھینک دیں گے۔
18۔ امام بیہقی نے قیس بن ابواحازم (رح) سے روایت کیا کہ ہم زمانہ جاہلیت میں رجب کے مہینے کو الاھم کہتے ہیں اس کی شدید حرمت کی وجہ سے۔
ستائیں رجب کا روزہ :
19:۔ امام بیہقی نے اور آپ نے اس کو ضعیف کہا سلمان فارسی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رجب میں ایک دن اور ایک رات ایسی ہے کہ جو اس دن میں روزہ رکھے اور اس رات میں قیام کرے تو اس کو اس شخص کے بر ابر ثواب ملے گا جس نے سو سال روزے رکھے اور سو سال قیام کیا اور اس سے مراد وہ دن ہے جب کہ کے تین دن باقی ہوں۔ (یعنی ستائیویں رجب) جس میں اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا علامہ بیہقی نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا۔
20:۔ امام بیہقی نے (اور آپ نے اس کو ضعیف کہا) انس ؓ سے مرفوعہ روایت کیا کہ رجب میں ایک رات ایسی ہے کہ اس میں عمل کرنے والے کہتے ہیں ایک نیکی سو سال کی نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور یہ رات رجب سے تین راتیں باقی رہنے والی رات ہے۔ جو شخص اس میں بارہ رکعت پڑھے اور ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور ایک سورة قرآن میں سے بھی پڑھے اور دو رکعت کے بعد تشہد بھی پڑھے اور ان کے آخر میں سلام پھیر دے پھر (یہ کلمات) پڑھے۔ سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر سو مرتبہ پڑھے اور سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے اور سو مرتبہ نبی کریم ﷺ پر درود بھیجے اور پھر اپنے لئے دعا مانگے جو چاہئے اپنی دنیا اور اپنی آخرت کے کاموں میں سے اور صبح کو روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کی ساری دعاوں کو قبول فرمائیں گے مگر یہ کہ کسی گناہ کی دعا نہ ہو۔ بیہقی نے کہا کہ یہ پہلے روایت سے زیادہ ضعیف ہے۔
21:۔ امام بیہقی (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سب مہینوں میں سے ایک رجب کا مہینہ چن لیا اور وہ اللہ کا مہینہ ہے جس نے رجب کے مہینہ کی تعظیم کی تو اس نے اللہ کے حکم کی تعظیم کی اور جس نے اللہ کی حکم کی تعظیم کی تو اللہ تعالیٰ اس کو جنات النعیم میں داخل فرمائیں گے اور اس کے لئے بڑی رضا مندی کردی جائے گی۔ اور فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے جس نے شعبان کی تعظیم کی اس نے میرے حکم کی تعظیم کی تو میں اس کے لئے آگے جانے والا اور ذخیرہ کرنے والا رہوں گا قیامت کے دن اور رمضان کا مہینہ میری امت کا مہینہ ہے۔ جس نے رمضان کے مہینے کی تعظیم کی اور اس کی حرمت کی تعظیم کی اور اس کی بےحرمتی نہ کی۔ اس کے دن میں روزہ رکھا اور رات کو قیام کیا (یعنی تراویح پڑھی) اور اپنے اعضاء کی حفاظت کی (یعنی کوئی خلاف شرع کام نہ کیا) تو وہ رمضان سے ایسے نکلے گا کہ اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ جس کے سبب اس کا محاسبہ کرے گا۔
22:۔ ابن ماجہ اور بیہقی نے اور آپ نے اس کو ضعیف کہا ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سارے رجب کے مہینے کے روزے سے منع فرمایا۔
23:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ان عدۃ الشھور عنداللہ اثنا عشر شھرا فی کتب اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے کسی کا شر اور برائی پہنچائی جاسکتی ہے۔ جو کہ سائل سے کم ہونسئی مراد ہے کہ جو مشرک مہینوں کو آگے کردیتے تھے۔
24ـ:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب الا ایمان میں ابن عباس ؓ روایت کیا کہ (آیت) ’ ’ ان عدۃ الشھور عند اللہ اثنا عشر شھرا فی کتب اللہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی تعداد زیادہ ہے پھر ان میں سے چار مہینوں کو عزت والا بنایا اور ان کی عزت کو عظیم قرار دیا ور ان میں گناہ کو بھی بنادیا اور نیک عمل کو اور اثر کو برا کردیا۔ (آیت) ” فلا تظلموا فیھن انفسکم “ یعنی ان سب مہینوں میں اپنے آپ پر ظلم نہ کرو (اور فرمایا) (آیت) ” وقاتلو المشرکین کافۃ “ یعنی تمام مشرکین سے قتال کرو۔
25:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فلا تظلموا فیھن انفسکم “ کے بارے میں فرمایا کہ ان عزت والے مہینوں میں ظلم کرنا بڑا گناہ پایا اس ظلم سے جو ان کے سوا (دوسرے مہینوں میں) اگرچہ ظلم ہر حال میں بڑا گناہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے ؓ عنہحکم میں سے جس کو چاہتے ہیں بڑا بنا دیتے ہیں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے خالص کسی پسندیدہ کو اپنی مخلوق میں سے چن لیا اور فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چن لئے اور لوگوں میں سے پیغام پہنچانے والے چن لئے اور کلام میں سے اپنے ذکر کو چن لیا اور زمین میں سے مساجد کو چن لیا اور مہینوں میں سے رمضان کو چن لیا اور دنوں میں سے جمعہ کا دن چن لیا اور راتوں میں سے لیلۃ القدر کو چن لیا اور تعظیم کرو جس کو اللہ تعالیٰ نے معظم بنایا۔ اس لیے کہ ان کاموں کی تعظیم کرنا جن کو اللہ تعالیٰ نے معظم بنایا سمجھ اور عقل والے لوگوں کے نزدیک (لازم) ہے۔
26:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلا تظلموا فیھن انفسکم “ یعنی تمام مہینوں میں اپنے آپ پر ظلم نہ کرو۔
27:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلا تظلموا فیھن انفسکم “ میں ظلم سے مراد اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا عمل کرنا اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کو چھوڑ دینا۔
28:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے مقاتل (رح) سے کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وقاتلوا المشرکین کافۃ “ کے بارے میں فرمایا اس آیت نے ان تمام آیات کو منسوخ کردیا۔ جن میں رخصت ہے۔
29:۔ امام بیہقی نے شعب الایمان میں کعب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے شہروں کو چنا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہروں میں سے سب سے محبوب شہر البدالحرام یعنی مکہ مکرمہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے زمانہ کو چنا تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب زمانہ عزت والے مہینے ہیں اور سب سے محبوب مہینے اللہ کے نزدیک ذوالحجہ ہے اور ذوالحجہ (میں سے) سب سے محبوب اللہ تعالیٰ کے نزدیک پہلے دس دن ہیں اور اللہ تعالیٰ نے دنوں کو چنا تو دنوں میں سے سب سے محبوب دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک جمعہ کا دن ہے اور اللہ کے نزدیک راتوں میں سب سے محبوب رات لیلۃ القدر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کے وقت کو چنا تو سب سے زیادہ محبوب اوقات اللہ تعالیٰ کے نزدیک فرض نمازوں کے اوقات ہیں اور اللہ تعالیٰ نے کلام کو چنا تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب کلام لا الہ اللہ اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمد للہ ہے۔
Ayah 9:37نسئ کیا چیز ہے :
1:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک عقبہ پر ٹھہرے اور فرمایا کہ بلاشبہ نسئ شیطان کی طرف سے ہے (اسی کو فرمایا) (آیت) ” زیادۃ الکفر یضل بہ الذین کفروا یحلونہ عاما ویحرمونہ عاما “ یہ لوگ ایک سال محرم کو حرام کردیتے تھے اور ایک سال صفر کو حرام کردیتے تھے اور محرم کو حلال کرلیتے تھے اور نسئی سے یہی مراد ہے۔
2:۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جنادہ بن عوف کنانی ہر سال موسم حج میں آتا تھا اس کی کنیت ابوثمامہ تھی اور وہ آواز لگاتا خبردار ابو ثمامہ کو نہ ڈرایا جاسکتا ہے اور نہ عیب لگا یا جاسکتا ہے۔ خبردار پہلا صفر (یعنی محرم) حلال ہے۔
3:۔ وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے اور عربوں کے بعض گروہ جب ارادہ کرے اور دشمنوں پر حملہ کرنے کا تو وہ اس کے پاس آتے اور کہتے ہمارے لئے اس مہینہ کو حلال کردو اور وہ اس سے صفر مراد لیتے تھے اور عرب کے لوگ ان عزت والے مہینوں میں نہیں لڑتے تھے اور وہ ان کے لئے ایک سال حلال کردیتا تھا اور دوسرے سال میں ان پر حرام کردیتا تھا اور محرم کو آئندہ سال میں حرام کردیتا تھا (آیت) ” لیواطئوا عدۃ ما حرم اللہ “ اور کہتا تھا تاکہ وہ عزت والے مہینے چار بنادیں سوائے اس کے کہ انہوں نے صفر کو ایک سال حلال کیا اور ایک سال حرام کردیا۔
4:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انس بن مالک کا ایک قبیلہ تھا اور بنی مالک کنانہ اور وہ بنوتمیم میں سے تھے انکے آخری لوگوں میں سے ایک آدمی تھا جس کو قلمس کہا جاتا تھا۔ یہ ول آدمی تھا جو محرم کو موخر کردیتا تھا۔ اور یہ بادشاہ تھا ایک سال محرم کو حلال کردیتا تھا اور ایک سال اس کو حرام کردیتا تھا جب اس کو حرام کردیتا تھا تو تین ماہ متواتر ہوجاتے تھے۔ ذوالقعدۃ، ذوالحجہ اور محرم اور یہی وہ تعداد ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کے زمانہ میں حرام کی اور جب وہ اس کو حلال قرار دیتا تو اس کی جگہ صفر کو حرام مہینوں سے داخل کردیتا تاکہ گنتی پوری ہوجائے۔ اور کہتا تھا کہ میں نے چار ماہ پورے کردیئے تھے کیونکہ میں نے ایک مہینہ کو حلال قرار دے کر اس کی جگہ دوسرے مہینے کو حرام قرار دیا ہے پس اس عرب پر قلمس کی بادشاہی کا قبضہ تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا اور لگاتار تین مہینوں کو حرمت والے قرار دیا اور جب (قبیلہ) کا مہینہ ہے جو جمادی اور شعبان کے درمیان ہے۔
5:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم ابو وائل (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” انما النسیٓ زیادۃ فی الکفر “ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) بنوکنانہ کے آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس کو نسئی کہا جاتا تھا اور وہ محرم کو صفر بنا دیتا تھا تاکہ اس میں غنیمتوں کے مالوں کو حلال قرار دے۔
نسئ کا طریقہ :
6:۔ ابو وائل (رح) سے روایت کیا کہ الناس بنی کنانہ کا ایک صاحب رائے آدمی تھا وہ اس کی رائے کے پیش نظر اسے اپنے سردار مانتے تھے تو وہ ایک سال محرم کو صفر بنا دیتا تھا اور اس میں وہ غارت گری کرتے تھے جنگ کو حلال سمجھتے وہ ان پر حملے کرتے اور مال غنیمت حاصل کرتے تھے اور پھر وہ ایک سال اسے حرام قرار دے دیتا۔
7:۔ ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” انما النسی ٓ زیادۃ فی الکفر “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا کہ گمراہ لوگوں میں سے کچھ لوگوں نے ارادہ کیا اور عزت والے مہینوں میں صفر کو زیادہ کردیا۔ اور ان کے کہنے والے موسم حج میں کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ تمہارے معبودوں نے صفر کو حرام کردیا ہے، تو وہ اس کو اس سال میں حرام کرلیتے تھے اور دونوں مہینوں کو صفر کہا جاتا ہے اور یہ بنومالک بنوکنانہ میں سے پہلے آدمی تھے جنہوں نے حرمت والے مہینوں کو پیچھے ہٹایا اور یہ تین آدمی تھے۔ ابوثمامہ صفوان بن امیہ بنو تمیم بن حرث میں سے ایک پھر بنوکنانہ میں سے ایک۔
8:۔ عبدالرزاق وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” انما النسی ٓ زیادۃ فی الکفر “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ذوالحجہ میں حج کو فرض فرمایا اور مشرکین مہینوں کے نام اس طرح شمار کرتے تھے ذوالحجہ، محرم، صفر، ربیع، ربیع، جمادی، جمادی، رجب شعبان، رمضان، شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ پھر اس میں حج کرتے تھے پھر محرم سے خاموش ہوجاتے تھے اور اس کا ذکر نہیں کرتے تھے پھر وہ لوٹتے تھے اور اس طرح نام لیتے تھے، صفر، صفر بعد میں وہ نام بیان کرتے رجب اور جمادی آخر، پھر نام لیتے شعبان رمضان اور رمضان شوال اور وہ نام لیتے ذوالقعد شوال پھر لیتے ذوالحجہ ذوالقعد پھر کہتے محرم اور ذوالحجہ پھر وہ اس میں حج کرتے اور اس کا نام ان کے نزدیک ذوالحجہ تھا پھر وہ اس بیان کے مطابق اعادہ کرتے اور ہر ماہ میں وہ اس سال حج کرتے تھے یہاں تک کہ ابوبکر کا دوسرا حج اس سال ذوالقعدہ میں ہوا پھر نبی کریم ﷺ نے اپنے حج کو ذوالحجہ کے موافق ادا فرمایا اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ زمانہ اپنی اصلی حالت پر گھوم رہا کہ جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا تھا۔
9:۔ اب ابی حاتم سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا بنوکنانہ میں سے ایک آدمی تھا جس کو حبادہ بن عوف کہا جاتا تھا اور اس کی کنیت ابو امامہ تھی وہ مہینوں کو موخر کردیتا تھا عرب لوگوں پر یہ بات بھاری گزری تھی کہ وہ تین ماہ ٹھہرے رہیں اور آپس میں ایک دوسرے پر حملہ آور نہ ہوں چناچہ جب وہ ارادہ کرتا کہ کسی پر حملہ کرے تو وہ منی میں کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے کہتا کہ میں نے محرم کو حلال کردیا ہے اور اس کی جگہ صفر کو حرام کردیا ہے تو لوگ محرم میں آپس میں لڑنے لگتے جب صفر کا مہینہ ہو تو وہ اپنے نیزے کے پھلوں کو اتار کر رکھ دیتے پھر آنے والے سال میں وہ کھڑے ہو کر کہتا کہ میں نے صفر کو حلال کیا اور محرم کو حرام کیا تو (اس طرح) وہ چار مہینوں کو پورا کردیتے اور وہ لوگ محرم کو حلال کرلیتے۔
10ـ:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یحلونہ عاما ویحرمونہ عاما “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد صفر کا مہینہ ہے کہ (قبیلہ) ھوازن اور عطفان ایک سال اس کو حلال کرلیتے تھے اور ایک سال اس کو حرام کرلیتے تھے۔