9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 9:13–15

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

کیا تم ایسے لوگوں سے جنگ نہیں کرتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ دیا اور رسول کو نکالنے کا پختہ ارادہ کیا اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے تم سے پہلے خود چھیڑ چھاڑ کی ابتداء کی کیا تم ان سے ڈرتے ہو۔ سو اللہ اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مومن ہو

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

ان سے جنگ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا اور ان کو ذلیل کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے گا اور مسلمانوں کے سینوں کو شفاء دے گا

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور ان کے دلوں کی جلن کو دور فرما دے گا اور جس کو چاہے توبہ نصیب فرمائے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

1:۔ ابن منذر وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانہم “ کے بارے میں فرمایا کہ قریش نے نبی کریم ﷺ کے اتحادیوں سے قتال کی اور انکو اور رسول اللہ ﷺ کو نکال دینے کا ارادہ کیا اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ یہ نبی کریم ﷺ کی عمر 55 سال ہے جو ہجرت کا ساتواں سال ہے اور انہوں نے اپنے دلوں میں یہ پروگرام بنایا کہ جب وہ لوگ مکہ میں داخل ہوں تو آپ کو اس میں سے نکال دیں گے پس یہ انکا آپ کو نکالنے کا ارادہ تھا لیکن قبیلہ خزاعہ نے اس بات پر ان کی تابعداری نہیں کی۔ جب نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ سے نکل گئے قریش نے خزیمہ سے کہا کہ تم نے ہم کو آپ کے نکالنے سے اندھا کردیا اور پھر ان سے لڑے اور ان میں سے کئی آدمیوں کو مار دیا۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم وابن منذر وابو الشیخ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ” قاتلوہم یعذبہم اللہ بایدیکم ویخزہم وینصرکم علیہم ویشف صدور قوم مومنین “ خزاعہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 3:۔ ابن منذروابن ابی حاتم وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویشف صدورقوم مومنین “ سے قبلہ خزاعہ مراد ہے جو رسول اللہ ﷺ کی اتحادی تھے۔ 4:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویشف صدورقوم مومنین “ سے وہ خزاعہ مراد ہیں ان کے سینے نبی بکر سے صحت مند ہوں گے (آیت) ” ویذھب غیظ قلوبہم “ یہ اس وقت فرمایا بنوبکر نے ان کو قتل کیا اور قریش نے ان کی مدد کی۔ 5:۔ ابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ویذھب غیظ قلوبہم “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت خزاعہ کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے بنوبکر والوں کو مکہ میں قتل کرنا شروع کیا۔ 6:۔ ابن اسحاق والبیہقی نے دلائل میں مروان بن حکم اور مسور بن خزاعہ (رح) دونوں حضرات سے روایت کیا کہ حدیبیہ کے دن رسول اللہ ﷺ کی صلح میں جو قریش اور آپ کے درمیان ہوئی۔ یہ بھی تھا کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کے معاہدہ اور اس عہد میں داخل ہونا چاہے۔ تو وہ اس میں داخل ہوجائے۔ اور جو شخص قریش کے عہد میں اور ان کے معاہدہ میں داخل ہونا چاہے تو اس میں داخل ہوجائے تو خزاعہ والے کو دوڑے اور انہوں نے کہا کہ ہم محمد ﷺ کے عہد اور ان کے معاہدہ میں داخل ہوں گے اور بنوبکر روپڑے اور انہوں کہا کہ ہم قریش کے عہد اور ان کے معاہدہ میں داخل ہوں گے اس عارضی صلح میں سے لوگ سترہ یا اٹھارہ مہینے رہے پھر بنوبکر جو قریش کے عقد اور ان کے معاہدہ میں داخل ہوئے تھے وہ خزاعہ پر کود پڑے جو رسول اللہ ﷺ کے معاہدہ اور آپ کے عہد میں داخل تھے رات کے وقت ان کے پانی پر قبضہ کرلیا جس کو وتیرہ کہا جاتا ہے۔ جو مکہ کے قریب تھا قریش نے کہا محمد ﷺ ہمارے بارے میں نہیں جانیں گے کیونکہ یہ رات (کا وقت) ہے اور ہم کسی کو (اس وقت) نہیں دیکھتے تو قریش نے انکی مدد کی ہتھیاروں اور اسلحہ کے ساتھ اور ان کے ساتھ باقاعدہ لڑائی میں شریک ہوئے رسول اللہ ﷺ کے خلاف کینہ اور بغض رکھتے ہوئے اور عمرو بن سالم خزاعہ اور بنوبکر کے وتیر کے مقام پر (آپس میں لڑائی) کے معاملہ کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس سوار ہو کر مدینہ منورہ آئے اور خاص طور پر یہ اشعار (ان کے سامنے) پڑھے۔ اللہم انی ناشد محمدا خلف ابینا وابیہ ولا تلدا ترجمہ : اے اللہ میں محمد ﷺ کو اپنے آباواجداد کا معاہدہ یاد دلاتا ہوں۔ کنا والد اوترکنتم والدا ثمت اسلمنا ولم ننزع یدا ترجمہ : اے محمد اے آل محمد تمہاری ہی نسل ہو اور ہمارے اندر کے لوگ تم کو جننے والے ہیں اس وجہ سے ہم نے اسلام قبول کیا اور اپنا ہاتھ نہیں کھینچا۔ فانصر رسول نصرا عندا وادع عباد اللہ یا تو امددا ترجمہ : پس اے رسول اللہ ﷺ میری فوری مدد کیجئے اور اللہ کے نیک بندوں کو بلائیے تو وہ ہماری مدد کے لئے آجائیں۔ فیہم رسول اللہ قد تجردا ان شئتم حسنا فوجھہ بدربدا ترجمہ : ان میں اللہ کے رسول اللہ ﷺ ہیں جو واحد منفرد پیش رکھتے ہیں اگر تم ان کا حسن و جمال دیکھنا چاہو تو اس کا چہرہ بدر ہوچکا ہے۔ فی فیلق کالبحر یجزی مزیدا ان قریشا اخلفوک الموعدا ترجمہ : اس وقت وہ عظیم لشکر کے ساتھ جو سمندر کی طرح سامنے گرتے ہیں جھاگ اچھالتے ہوئے بیشک قریش نے آپ کے ساتھ کئے گئے وعدہ کی خلاف ورزی کی۔ ونقضوا میثاقک الموکدا وزعموا ان لیس تدعوا احد ترجمہ : اور آپ کے پختہ معاہدہ کو توڑ دیا اور انہوں نے گمان کرلیا کہ وہ کسی کو نہیں پکاریں گے۔ فہم اذل واقل عددا قد جعلوا بکداء رصدا ترجمہ : اور وہ قریش سب سے ذلیل اور کم عدد ہیں انہوں نے مقام کداء میں گھات لگائی ہوئی ہے۔ ھم بیتونا نیر مجدا وقتلونا رکعا وسجدا ترجمہ : انہوں نے وتیر پر رات کے وقت ہم پر حملہ کیا جب ہم سوئے ہوئے پڑے تھے اور ہمیں رکوع اور سجدے کے حالت میں قتل کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عمرو بن سالم تیری مددکریدی گئیں ابھی وہ حالت تھی کہ آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا ظاہر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ بادل البتہ گواہی دے رہا ہے بنوکعب کی مدد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو جہاد کا حکم فرمایا اور اپنے نکلنے کو ان سے چھپایا اور اللہ تعالیٰ سے التجا کی کہ ان کے آنے کی خبر قریش کو نہ پہنچے یہاں تک کہ آپ اچانک ان تک جا پہنچیں ان کے شہروں میں۔
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم کو یہ گمان ہے چھوڑ دئیے جاوگے اور حالانکہ اللہ نے ابھی تم میں سے ان لوگوں کو نہیں جانا جنہوں نے جہاد کیا اور جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے علاوہ کسی کو دوست نہیں بنایا اور اللہ ان کاموں سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام حسبتم ان تترکوا ولما یعلم اللہ الذین جھدوا منکم “ کے بارے میں میرے باپ نے فرمایا کہ (کیا تم گمان کرتے ہو) کہ اللہ تعالیٰ چھوڑ دے انکو آزمائے بغیر۔ 2:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولیجۃ “ سے اہل و عیال میں سے خاص افراد مراد ہیں دین کے علاوہ۔ 3:۔ عبد بن حمید وابن منذر نے قتادہ (رح) سے فرمایا کہ (آیت) ’ ولیجۃ “ سے مراد ہے مہربانی اور شفقت ورحمت کرنے والا۔
Ayahs 9:17–18

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکین اس کے اہل نہیں ہیں کہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں اس حال میں کہ وہ اپنے بارے میں کافر ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال اکارت ہوگئے اور وہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور جنہوں نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے۔ سو توقع ہے کہ یہ لوگ ہدایت پانے والوں میں سے ہوں گے

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماکان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ “ اور فرمایا (آیت) ” انما یعمرمسجد اللہ من امن باللہ “ کہ ان دونوں آیتوں میں مشرکین کو مسجد سے روکتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ جب شخص نے اللہ تعالیٰ کو ایک مانا اور اس چیز پر ایمان لایا جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” واقام الصلوۃ “ یعنی پانچوں نمازوں کو قائم کیا (آیت) ” ولم یخش الا اللہ “ اور اس نے اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کی (آیت) ” فعسی اولیک “ یعنی یہ لوگ ہدایت پانے والے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اپنے نبی کریم ﷺ کے لئے (آیت) عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا (79) فرماتے ہیں کہ تیرا رب عنقریب آپ کو مقام محمود عطا فرمائے گا اور وہی مقام شفاعت ہے اور قرآن میں عسی کا (لفظ) وہ جواب اور اثبات کے لئے ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” ماکان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ “ فرمایا وہ صرف ایک ہی مسجد ہے۔ 3:۔ ابن منذر نے حماد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبداللہ بن کثیر سے حروف پڑھتے ہوئے سنا (آیت) ” ماکان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ “ یعنی مشرکین کے لئے یہ لائق نہیں کہ وہ صرف اللہ کی مسجد کو آباد کریں۔ 4:۔ احمد وعبد بن حمید والدارمی والترمذی اور آپ نے اس کو حسن کہا وابن ماجہ وابن منذر وابن ابی حاتم ابن خزیمہ وابن حبان وابوالشیخ والحاکم اور آن نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں ابو سعید خدری ؓ سے رویت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کسی آدمی کو دیکھو کہ وہ مسجد میں آتا جاتا رہتا ہے۔ تو اس کے ایمان کی گواہی دو ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) انما یعمر مسجد اللہ من امن باللہ والیوم الاخر “ 5:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص نماز کی اذان کو سنے پھر اس کا جواب نہ دے اور مسجد میں آیا اور نماز پڑھی تو اس کی نماز نہ ہوگی اور اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” انما یعمر مسجد اللہ “ 6:۔ بیہقی نے شعب الایمان میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں زمین والوں پر عذاب کا ارادہ کرتا ہوں پھر جب میں اپنے گھروں یعنی مسجدوں کے آباد کرنے کی طرف دیکھتا ہوں اور میری رضا کے لئے آپس میں محبت کرنے والوں کو اور سحری کے وقت استغفار کرنے والوں کو دیکھتا ہوں تو ان پر (عذاب کو) ہٹا دیتا ہوں۔ 7:۔ عبدالرزاق والبیہقی نے معمر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی سے مرفوع حدیث روایت کرتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندوں میں سے میرے نزدیک وہ بندے مجھے زیادہ محبوب ہیں جو آپس میں میرے لئے محبت رکھتے ہیں اور وہ لوگ جو میری مسجدوں کو آباد کرتے ہیں اور وہ لوگ جو سحری کے وقت استغفار کرتے ہیں اور جب میں اپنی مخلوق کے ساتھ عذاب کا ارادہ کرتا ہوں تو میں ان لوگوں کو یاد کرتے ہوئے اپنی مخلوق سے اپنے عذاب کو ہٹا لیتا ہوں۔ 8:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ والبزار (اور آپ نے اس کو حسن کیا) والطبرانی والبیہقی نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے سلمان کی طرف لکھا اے میرے بھائی کہ مسجد تیرا گھر ہوجائے کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسجد ہر متقی کا گھر ہے اور اللہ تعالیٰ نے انکے لئے راحت و سکون اور پل صراط سے رب تعالیٰ کی رضا کی طرف گزرنے کی ضمانت دی ہے جنکے گھرمسجدیں ہیں۔ 9:۔ عبدالرزاق والبیہقی نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ کہا جاتا تھا کہ مسلمان کا لباس (یعنی حسن) نہیں ہیں مگر تین کاموں میں مسجد میں کہ وہ اس کو آباد کرتا ہے یا گھر میں جہاں وہ رہتا ہے یا اپنے رب کے فضل سے رزق کے طلب کرنے میں۔ 10:۔ ابوبکر عبدالرحمن بن قاسم بن الفرج الہاشمی نے اپنی جزاء میں جو ابو مسہر کے نسخہ سے مشہور ہے ابو ادریس خولانی (رح) سے روایت کیا کہ مساجد قابل عزت لوگوں کی مجالس ہیں۔ 11:۔ احمد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مساجد کے لئے کیل ہوتے ہیں فرشتے ان کے پاس بیٹھنے والے ہوتے ہیں اگر وہ غائب ہوجائیں تو ان کو تلاش کرتے ہیں اگر بیمار ہوجائیں تو ان کی عیادت کرتے ہیں اور اگر وہ کسی حاجت میں ہوتے ہیں تو انکی مدد کرتے ہیں پھر فرمایا مسجد میں بیٹھنے والا تین حالتوں میں سے کسی ایک پر ہوتا ہے یا وہ بھائی ہے جس سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔ یا وہ مضبوط کلمہ ہے یا وہ ایسی رحمت ہے جس کا انتظار کیا جاتا ہے۔ مسجدیں زمین میں اللہ تعالیٰ کا گھر ہیں : 12:۔ الطبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زمین میں اللہ کے گھر مسجدیں ہیں اور اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ وہ زیارت کرنے والے کا اکرام کرے۔ 13:۔ عبدالرزاق وابن جریر والبیہقی نے شعب الایمان میں عمروبن میمون اودی ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے خبر دی کہ مسجدیں زمین میں اللہ کے گھر ہیں اور اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ وہ اس شخص کا اکرام کرے جو اس کی زیارت کے لئے ان میں آئے۔ 14:۔ البزار وابو یعلی والطبرانی نے الاوسط میں اور بیہقی نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب آسمان سے کوئی مصیبت اترتی ہے تو مسجدوں کے آباد کرنے والوں سے ہٹا دی جاتی ہے۔ 15:۔ بیہقی نے عبیداللہ بن سلام ؓ سے روایت کیا کہ مسجدوں کے لئے کیلیں ہوتی ہیں اور وہ ہیں اس کے آباد کرنے والے فرشتے ان کے ہم نشین ہوتے ہیں تو فرشتے ان کی عیادت کرتے ہیں اور اگر وہ کسی حاجت میں ہوتے ہیں تو ان کی مدد کرتے ہیں۔ 16:۔ طبرانی نے الاوسط میں وابن عدی نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مسجد سے محبت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتے ہیں۔ 17:۔ الطبرانی نے حسن بن علی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے اپنے نانا رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص مسجد کی طرف ہمیشہ آنا جانا رکھا وہ پالیتا ہے ایسے بھائی کو جس سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اور ایسا علم پالیتا ہے جو انتہائی عمدہ اور اعلی ہے اور ایسا کلمہ پالیتا ہے جو اس کو ہدایت کی طرف دعوت دیتا ہے اور ایسا کلمہ پالیتا ہے کہ تو اس کو پھیر دیتا ہے بیکار کاموں سے اور وہ چھوڑ دیتا ہے گناہوں کو حیا کرتے ہوئے ڈرتے ہوئے یا وہ نعمت کو پالیتا ہے یا رحمت کو جس کا وہ انتظار کرنے والا ہے۔ 18۔ طبرانی نے ایک صحیح سند سے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنے گھر میں وضو کیا پھر وہ مسجد کو آیا تو وہ اللہ تعالیٰ کی زیارت کرنے والا ہے اور جس کی زیارت کی جائے اس پر حق ہے کہ وہ زیارت کرنے والے کا اکرام کرے۔ 19:۔ امام بیہقی نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ابن ابی شیبہ اور امام احمد (رح) نے سلیمان ؓ سے اس کو موقوفا روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا رات کے اندھیرے میں چلنے والوں کے لئے پورے نور کی خوشخبری ہے قیامت کے دن۔ 20:۔ ابن ابی شیبہ والطبرانی والبیہقی (رح) نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا کی نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص رات کے ا ندھیرے میں مسجدوں کی طرف چلا اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن نور عطا فرمائیں گے۔ 21:۔ طبرانی نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا رات کو اندھیرے میں مسجدوں کی طرف چلنے والوں کے لئے خوشخبری ہے قیامت کے دن نور کے منبروں کی، خوف زدہ ہوں گے اور یہ لوگ خوف زدہ نہیں ہوں گے۔ 22:۔ طبرانی (رح) نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صبح اور شام کو مسجد کی طرف جانا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے میں سے ہے۔ 23:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عبدالرحمن بن مغفل ؓ سے روایت کیا کہ ہم یہ بیان کرتے تھے کہ مسجد مضبوط قلعہ ہے شیطان (کے بچاؤ) سے۔ 24:۔ الطبرانی اور بیہقی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مسجدیں اللہ کا گھر ہیں زمین میں آسمان والوں کے لئے چمکتے ہیں جیسے آسمان کے ستارے زمین والوں کے لئے چمکتے ہیں 25:۔ امام احمد (رح) نے عبداللہ بن عمیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کے لئے مسجد بنائی اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ وسیع ایک گھر اس کے لئے جنت میں بنائیں گے۔ 26:۔ امام احمد (رح) سے اور طبرانی رحمہا اللہ نے بشر بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ واثلہ بن اسقع ؓ تشریف لائے اور ہم اپنی مسجد بنا رہے تھے وہ ہمارے پاس ٹھہرے اور ہم کو سلام کیا پھر فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس شخص نے مسجد بنائی کہ جب وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں اس سے افضل واعلیٰ گھر بنائیں گے۔ مسجدبنانے کا اجر وثواب : 27:۔ ابان ابی شیبہ واحمد البزار رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اللہ کے لئے مسجد بنائی اگرچہ وہ اس گھڑے کی طرح ہو جیسے مرغ سنگ خوار انڈے دینے کے لئے بناتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک گھر جنت میں بنا دیں گے۔ 28:۔ امام طبرانی (رح) نے الاوسط میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے مسجد بنائی اور اس اس نے ریا کاری اور شہرت کا ارادہ نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک گھر جنت میں بنا دیں گے۔ 29:۔ امام طبرانی (رح) نے ا لاوسط میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کوئی گھر بنایا کہ وہ اس میں اللہ کی عبادت کرے گا حلال مال سے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک گھر جنت میں بنادیں گے موتی اور یاقوت سے۔ 30:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے مسجد بنائی اگرچہ اتنی چھوٹی ہو جیسے مرغ سنگ خوار کا گھڑا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک گھر جنت میں بنا دیں گے۔ 31:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس نے ایسی مسجد بنائی کہ جس میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک محل جنت میں بنا دیں گے۔ 32:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسجدیں بناؤ اور اس کو محفوظ جگہ بناؤ غیر کے تصرف سے۔ 33:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو حکم دیا گیا کہ ہم کثیر تعداد میں مسجدی بنائیں اور عزت وشرف والے شہر تعمیر کریں۔ 34:۔ ابن ابی شبیہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو منع کردیا گیا کہ ہم کنگروں والی مسجد میں نماز پڑھیں۔ 35:۔ ابن ابی شبیہ (رح) نے بن شفیق (رح) سے فرمایا کہ مسجدیں کثیر ہیں اور بلاشبہ لوگوں کی عزت وشرف زمانے کی ایجاد میں سے ہے۔ 36:۔ ابن ابی شبیہ (رح) نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ کہا جاتا ہے کہ ضرور لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ مسجدیں بنائیں گے اور آپس میں فخر کریں گے اور ان کو پہنچاننے والے تھوڑے ہوں گے۔ 37:۔ ابن ابی شبیہ (رح) نے یزید بن اصم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے مسجدوں کو بہت بلند کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ 38:۔ ابن ابی شبیہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تم ضرور اپنی مسجدوں کو آراستہ کرو گے جیسے یہود و نصاری اپنی مسجدوں کو آراستہ کرتے ہیں۔ 39:۔ ابن ابی شبیہ (رح) نے ابی ؓ سے روایت کیا کہ جب تم اپنی مسجدوں کو آراستہ کرو گے اور اپنے مصحفوں کو زیور پہناؤ گے تو تم پر ہلاکت اور بربادی ہوگی۔ 40:۔ طبرانی نے مسند الشامنین نے علی بن طالب ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فریا جس نے مسجد میں چراغ لٹکایا تو ستر ہزار فرشتے اس پر رحمت کی دعا کرتے ہیں اور اس کے لئے استغفار کرتے ہیں جب تک کہ چراغ جلتا رہتا ہے۔ 41:۔ سلیم الرازی نے ترغیب میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے مسجد میں چراغ جلایا تو فرشتے اور عرش کو اٹھانے والے اس کے لئے برابر استغفار کرتے ہیں جب تک مسجد میں اس کی روشنی برستی ہے۔ 42:۔ ابوبکر الشافعی (رح) نے اپنی رباعیات میں اور طبرانی نے ابو قرصافہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنامسجدیں بناؤ اور اس میں سے کوڑا کرکٹ کو باہر نکالو۔ اور میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا مسجد سے کوڑا کرکٹ باہر نکالنا حور عین کا مہر ہے اور یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ جس کسی نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مسجد بنائی اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ وہی مساجد ہیں جو راستوں میں بنائی جاتی ہیں تو آپ نے فرمایا ہاں یہ وہی مساجد ہیں جو راستوں میں بنائی جاتی ہیں۔ 43:۔ احمدنے انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ سے گزرا آپ نے کچی اینٹوں سے بنا ہوا ایک قبہ دیکھا۔ پوچھا یہ کس کا ہے ؟ میں نے عرض کیا یہ فلاں صحابی کا ہے آپ نے فرمایا ہر تعمیر اپنے مالک پر بوجھ ہوگی قیامت کے دن سوائے مسجد کی تعمیر کے (وہ بوجھ نہ ہوگی) پھر ( دوسری مرتبہ) آپ گزرے تو اس (قبہ) کو نہ دیکھا آپ نے فرمایا وہ قبہ کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا جو آپ نے فرمایا وہ بات اس مالک کو پہنچ گئی تو اس نے اس کو گرا دیا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے۔ مساجد کو آباد کرنے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو روکتا ہے : 44:۔ احمد نے زہد میں اور حکیم ترمذی نے مالک بن دینار : سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں زمین والوں پر عذاب کا ارادہ کرتا ہوں (لیکن) جب قرآن کے ہم نشینوں کو اور مسجدوں کے آباد کرنے والوں کو اور اسلام کے فرزندوں کو دیکھتا ہوں تو میرا غصہ ٹھہر جاتا ہے۔ ( یعنی ختم ہوجاتا ہے )