Ayah 9:118کاتبین صحابہ سے بائیکاٹ کا واقعہ :
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابو الشیخ وابن منذر وابن مردویہ وابن عساکر رحمہما اللہ نے جابر بن عبداللہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ سے مراد کعب بن مالک ہلال بن امیہ مرارہ بن ربیع اور یہ سب انصار میں سے تھے۔
2:۔ ابن مردویہ رحمہم اللہ نے مجمع بن جاریہ سے روایت کیا کہ وہ تین آدمی جو پیچھے رہ گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی (ان کے نام یہ تھے) کعب بن مالک ہلال بن امیہ مرارہ بن ربیع۔
3:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ وہ تین آدمی تھے جو پیچھے رہ گئے تھے وہ کعب بن مالک جو بنو سلمہ میں سے ہلال بن امیہ تھے بنو واقف میں سے اور وہ مرارہ بن ربیع تھے بنوعمرو بن عوف میں سے۔
4:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ ذی اوان میں پہنچے تو عام منافقین جو آپ سے پیچھے رہ گئے تھے آپ ان سے ملاقات کرتے تھے رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب سے فرمایا کسی آدمی سے ہرگز بات نہ کرنا جو ہم سے پیچھے رہ گیا اور نہ اس کے ساتھ بیٹھنا۔ یہاں تک کہ میں تم کو اجازت نہ دوں تو تم ان سے بات نہ کرنا جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو وہ لوگ آئے جو پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے سلام کیا تو آپ نے ان سے منہ پھیرلیا اور ایمان والوں نے بھی منہ پھیرلیا یہاں تک کہ ایک آدمی سے اس کجے بھائی نے اس کے باپ نے اس کے چچا نے منہ پھیرلیا وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آنا شروع ہوئے اور غدر کرتے تھے مشقتوں کا اور بیمار یوں کا رسول اللہ ﷺ نے ان پر رحم فرمایا ان سے بیعت لی اور ان کے لئے استغفار بھی فرمایا اور ان لوگوں میں سے جو پیچھے رہ گئے تھے بغیر شک بغیر نفاق کے یہ تین آدمی تھے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة توبہ میں فرمایا (ان کے نام یہ تھے) کعب بن مالک السلمہ، ھلال بن امیہ واقفی اور مرارہ بن ربیع عامری۔
5:۔ ابن منذر وابن عساکر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ سے مراد کعب بن مالک، مرارہ بن ربیع اور ھلال بن ربیع عامری ،
6:۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ واحمد والخاری ومسلم وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم ابن حبان وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ زہری (رح) کے راستے سے زہری (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو عبدالرحمن بن عبد اللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی کہ عبداللہ بن کعب ابن مالک نے بیان کیا اور وہ کعب کا ہاتھ پکڑ کر ان کو چلاتے تھے اس کے بیٹوں میں سے جب وہ نابینا ہوگئے کہ میں نے کعب بن مالک کو اپنی بات بیان کرتے ہوئے سنا کہ جس غزوہ پر بھی رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے میں کسی غزوہ میں حضور کے ساتھ سے سوائے غزوہ تبوک کے پیچھے نہیں رہا اور وہاں غزوہ بدر میں ساتھ نہیں گیا تھا اور بدر میں میرا شریک نہ ہونا قابل مواخذہ بھی نہ تھا کیونکہ جو لوگ بدر کو نا جاسکے ان میں سے کسی پر اللہ نے عتاب نہیں کیا وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ قریش کے قافلہ کے ارادہ سے نکلے تھے (لڑائی کا ارادہ ہی نہ تھا) لیکن بغیر کسی مقررہ وعدہ کے دشمن سے بحکم خدا مڈبھیڑ ہوگئی میں عقبہ والی رات میں بھی حاضر تھا تیسرے عقبہ کے موقع پر جب انصار نے بیعت کیا تھی میں بھی موجود تھا وہاں ہم سب نے اسلام پر مضبوط عہدوپیمان کیا تھا اگرچہ لوگوں میں بدر کی شہرت زیادہ ہے لیکن شب عقبہ کی حاضری کے مقابلہ میں بدر کی شرکت میرے خیال میں افضل نہیں ہے۔
میرا واقعہ یہ ہوا کہ غزوہ تبوک کے زمانہ میں بڑا طاقت ور اور فراخ حال تھا اس سے پہلے کبھی بھی اتنا مرفہ الحال اور طاقت ور نہیں ہوا اس حال میں پہلی ہی مرتبہ میرے پاس سواری کی دو اونٹنیاں ہوئیں اس سے پہلے میرے پاس کبھی دو سواریاں نہیں ہوئیں رسول اللہ ﷺ کا قائدہ تھا کہ جب کسی جہاد کا ارادہ کرتے تھے تو بطور توریہ کسی دوسرے جہاد کا نام لے دیتے تھے اور فرماتے تھے لڑائی خفیہ تدبیر (کانام) ہے جب تبوک کے جہاد کا موقع آیا تو گرمی سخت تھی سفر طویل تھا راستے میں بیابان تھے دشمنوں کی تعداد بہت تھی اس لئے رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں سے کھول کر بیان فرما دیا تھا اور اپنے رخ کی اطلاع دیدی تھی تاکہ اپنے جہاد کی تیاری کرلیں مسلمانوں کی تعداد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بہت تھی بقول مسلم دس ہزار مسلمان ساتھ تھے حاکم نے کلیل میں حضرت معاذ کی روایت سے لکھا ہے کہ غزوہ تبوک کو جانے کے وقت ہماری تعداد تیس ہزار سے بھی زائد تھی ابوزرعہ نے کہا کس کتاب میں ان کے نام محفوظ نہ تھے زہری نے کہا کتاب سے مراد رجسٹر ہے جو آدمی بھی غیر حاضر ہونا چاہتا تھا وہ یہی سمجھتا تھا کہ جب تک میرے بارے میں اللہ کی وحی نہ آئے میرا معاملہ پوشیدہ رہے گا کسی کو پتہ بھی نے ملے گا حضور ﷺ نے غزوہ تبوک کا ارادہ ایسے وقت کیا جب پھل اور درختوں کے ہمسائے خوشگوار ہوگئے تھے حضور ﷺ اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے تیاری کرلی میں بھی روزانہ صبح کو تیاری کرنے کے ارادہ سے گھر سے نکلتا تھا کہ بغیر کئے واپس آجاتا تھا اور دل میں کہتا تھا مجھ میں استطاعت ہے جب چاہوں گا کرلوں گا یونہی وقت ٹلتا رہا یہاں تک کہ گرمی سخت ہوگئی اور رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوگئے اور میں کچھ بھی تیاری نہ کرسکا اور دل میں خیال کرلیا کہ حضور ﷺ کے بعد ایک دو روز میں تیاری مکمل کرکے پیچھے سے جاپہنچوں گا مسلمانوں کی روانگی کے بعد میں تیاری کرنے کے لئے صبح کو نکلا مگر بغیر کچھ کئے لوٹ آیا ہم دوسرے روز صبح کو نکلا تب بھی کچھ نہ کیا اسی طرح مدت بڑھتی گئی یہاں تک کہ لوگ دور چلے گئے اور تیزی کے ساتھ جہاد کی طرف بڑھ گئے اور میں ارادہ ہی کرتا رہا کہ جلد کوچ کرگئے ان کو پیچھے سے جاملوں گا کاش میں نے ایسا کرلیا ہوتا مگر میرے مقدر میں ہی نہیں تھا رسول اللہ کی روانگی کے بعد جب میں باہر نکل کر لوگوں کو دیکھتا تھا تو گھومنے کے بعد مجھے یا تو صرف وہ لوگ نظر آتے تھے جو منافق کہے جاتے تھے یا وہ کمزور دکھائی دیتے تھے جس کو اللہ نے معذور بنادیا تھا اور کوئی نظر نہیں آتا تھا تبوک پہنچنے تک رسول اللہ ﷺ نے میرا تذکرہ نہیں کیا تبوک پہنچ کر ایک روز آپ صحابہ کرام ؓ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ دریافت فرمایا کعب بن مالک کو کیا ہوگیا بنی سلمہ کے یا میری قوم کے ایک آدمی نے جس کا نام حسب روایت محمد بن عمر عبداللہ بن انیس سلمی تھا کہا یا رسول اللہ اس کو اس کی دو چادروں نے اور غرور وفخر کے اپنے دونوں پہلووں پر دیکھنے میں نہیں آنے دیا یعنی آج کل وہ مرفہ حال ہے ایک چادر باندھتا ہے ایک اوڑھتا ہے اور دونوں طرف گردن موڑ موڑ کر اپنے مونڈھوں کو دیکھتا ہے اسی وجہ سے نہآسکا معاذ بن جبل یا ابوقتادہ نے کہا تم نے بری بات کہی ایسا نہیں ہے یا رسول اللہ ﷺ خدا کی قسم میں نے اس کے اندر سوائے اچھائی کے کچھ نہیں پایا رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے۔
کعب بن مالک ؓ کا بیان ہے جب مجھے اطلاع ملی رسول اللہ ﷺ واپس آنے کے لئے چل پڑے ہیں تو مجھے بڑی فکر ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کرنے کے لئے حل بنانے لگا اور اسی بات کی تیاری کرنے لگا کہ کل کو رسول اللہ ﷺ کی ناراضگی سے میں کس طرح بچ سکوں گا مختلف اہل الرائے اور گھر والوں سے میں نے اس معاملہ میں مدد بھی لی پھر جب مجھ سے کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ قریب ہی آپہنچے میں تو میرے دل میں تمام غلط خیالات جاتے رہے اور میں سمجھ گیا کہ جس بات میں جھوٹ کی آمیزش ہوگی اس کے ذریعہ سے میں ناراضگی سے کبھی محفوظ نہیں رہ سکتا چناچہ میں نے سچ بولنے کا پختہ ارادہ کرلیا اور یقین کرلیا کہ سچائی ہی مجھے نجات دے سکتی ہے صبح کو حضور ﷺ تشریف لے آئے۔
کعب ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ جب (سفر سے واپس) آتے تھے سب سے پہلے مسجد میں پہنچ کر دو رکعت نماز پڑھتے تھے پھر وہیں بیٹھ جاتے تھے حسب دستور آپ نے سب سے پہلے مسجد میں پہنچ کر دو رکعت نماز پڑھی پھر وہیں لوگوں کے معاملات سننے کے لئے بیٹھ گئے اب تبوک کی شرکت سے رہنے والے لوگ آنے لگے اور اپنے اپنے عذر پیش کرنے اور قسمیں کھانے لگے یہ سب لوگ اسی (80) کے اوپر تھے رسول اللہ ﷺ نے ان کے ظاہری عذر کو قبول کرلیا ان سے بیعت لے لی اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کردیا جب میں خدمت گرامی میں حاضر ہوا اور سلام کیا تو آپ مسکر دیئے مگر مسکراہٹ غصہ آلود تھی اور فرمایا آؤ میں چلتا چلتا سامنے پہنچ کر بیٹھ گیا تم (ساتھ جانے سے) کیوں رہ گئے کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی میں نے عرض کیا بیشک ( میں نے سواری بھی خریدی تھی) یارسول اللہ ﷺ اگر میں کسی اور دنیا دار کے پاس اس وقت بیٹھا ہوتا تو خدا کی قسم کوئی عذر معذرت کرکے اس کی ناراضگی سے بچ جاتا کیونکہ مجھ سے قوت کی امید اور دلیل کی طاقت موجود ہے لیکن مجھے معلوم ہے کہ اگر میں آپ کے سامنے جھوٹ بنا بھی دوں گا تو آپ بھی راضی ہوجائیں گے تب بھی عنقریب اللہ آپکو مجھ سے ناراض کردے گا اور اگر سچ سچ کہہ دوں گا تو گو آپ ناراض ہوجائیں گے مگر امید ہے کہ اللہ مجھے معاف فرما دے گا بخدا مجھے کوئی عذر نہ تھا اس سے پہلے میں اتنا طاقت ور اور فراخ حال (کبھی ہوا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس لئے سچی بات کہہ دی اب تم اٹھ جاؤ اور اللہ جو کچھ چاہے گا تمہارے متعلق فیصلہ کردے گا۔
صحابی رسول کا جھوٹ سے اجتناب :
میرے سچ بولنے کی وجہ سے بنی سلمہ کے کچھ لوگ برانگیختہ ہوگئے اور کہنے لگتے تو نے اس سے پہلے تو کوئی جرم کیا نہ تھا نہ اتنا کمزور تھا کہ جس طرح دوسرے شرکت نہ کرنے والوں نے اپنی عدم شرکت کے عذر کئے (اور عتاب سے بچ گئے) تو کوئی عذر نہ پیش کرسکتا ( آئندہ) رسول اللہ کی دعائے مغفرت تیرے اس گناہ کے معاف ہونے کے لئے کافی تھی غرض وہ برابر مجھے ڈانٹنے اور سرزنش کرتے رہے اور اتنی سرزش کی کہ میرا ارادہ ہوگیا کہ دوبارہ خدمت گرامی میں حاضر ہو کر اپنے پہلے قول کی تکذیب کردوں پھر میں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ میرے ساتھ ایسا کوئی اور بھی ہے جو تبوک کو نہیں گیا ہو ( اور اس نے کوئی عذر تراشی بھی نہ کی ہو) لوگوں نے کہا ہاں دو آدمی اور بھی ہیں جنہوں نے اسی طرح کی بات کہی تھی جیسی تو نے کی تھی اور ان کو بھی وہی ہدایت کی گئی جو تجھے کی گئی میں نے پوچھا وہ دونوں کون ہیں لوگوں نے کہا مرارہ بن ربیع عمری اور ہلال بن امیہ واقضی۔
کعب ؓ کا بیان ہے لوگوں نے میرے سامنے دو نیک آدمیوں کا نام لیا جو بدر میں شریک ہوچکے تھے اور جن کی یروی کی جاسکتی تھی ان کا نام سن کر میں اپنی سابق رائے پر قائم رہا جو لوگ تبوک کو نہیں گئے تھے ان میں سے صرف ہم تینوں سے ہی رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو کلام کرنے کی ممانعت فرما دی لوگ اس فرمان کے بعد ہمارے لئے بالکل بدل گئے۔
وہ سرزمین ہی میرے لئے اجنبی ہوگئی وہ بستی وہ نہ رہی جو میری شناسائی تھی یہ حالت پچاس رات قائم رہی میرے دونوں ساتھی تو کمزور تھے وہ گھروں میں بیٹھ رہے مگر میں طاقت ور اور جوان تھا گھر سے نکل کر مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوتا تھا اور بازاروں میں گھومتا تھا مگر کوئی مجھ سے کلام سلام نہیں کرتا تھا نماز کے بعد جب رسول اللہ ﷺ صحابہ کے جلسہ میں بیٹھے ہوتے تو میں حاضر ہو کر سلام کرتا اور دل میں کہتا کیا حضور ﷺ نے سلام کا جواب دینے کے لئے لب مبارک ہلائے یا نہیں پھر حضور ﷺ کے پاس پہنچ کر دانستہ نماز پڑھتا اور کن انکھیوں سے دیکھتا رہتا کہ حضور ﷺ کی توجہ میری طرف ہوئی یا نہیں جب نماز کی طرف متوجہ ہوتا تو حضور ﷺ میری طرف منہ کرلیتے لیکن جب میں التفات نظر کرتا تو آپ منہ پھیر لیتے جب مدت تک لوگ مجھ سے یونہی دور دور رہے تو ایک روز دیوار پھلانگ کر میں ابوقتادہ ؓ کے پاس ان کے باغ میں پہنچ گیا ابو قتادہ ؓ میرے چچا زاد تھے ان سے بڑی محبت تھی میں نے ان کو سلام کیا مگر خدا کی قسم انہوں نے سلام کا جواب نہیں دیا میں کہا ابوقتادہ یہ تو تم کو معلوم ہی ہے کہ میں اللہ اور کے رسول سے محبت کرتا ہوں ابو قتادہ ؓ خاموش رہے میں پھر اپنی بات دہرائی وہ خاموش رہے کوئی بات نہیں کی تیسری یا چوتھی بارکہنے کے بعد کہا اللہ اور اس کے رسول ہی کو خوب معلوم ہے یہ سن کر میری آنکھوں آنسو بہہ نکلے اور لوٹ کر دیوار پھلانگ کر میں آگیا ایک روز بازار میں جارہا تھا کہ علاقہ شام کا رہنے والا ایک دیہاتی پر نظر پڑی وہ شخص غلہ لے کر مدینہ میں بیچنے آیا تھا کسی سے اس نے پوچھا مجھے کعب بن مالک کا پتہ بتادے لوگوں نے میری طرف اشارہ کردیاوہ میرے پاس آیا اور ایک خط مجھے دیا جو شاہ غسان کی طرف سے تھا (یعنی بادشاہ شام کی طرف سے) اور اس میں لکھا تھا مجھے اطلاع ملی ہے کہ تمہارے ساتھی نے تم کو دور کردیا اور اللہ نے تم کو ایسا نہیں بنایا کہ ذلت کے مقام میں رہو اور تمہارا حق ضائع کیا جاتا رہے اس لئے اگر تم سکونت منتقل کرنا چاہتے ہو تو ہم سے آملو ہم تمہاری ہمدردی کریں گے خط پڑھ کر میں نے کہا یہ بھی (اللہ کی طرف سے) آزمائش ہے (کہ کافر بھی میرا لالچ کرنے لگے میری ذات کافروں کے لالچ کی جو لان گاہ بن گئی پھر میں نے تحریر کو تنور میں جھونک دیا۔
قبولیت توبہ کی بشارت :
جب پچاس راتوں میں سے چالیس راتیں گذرگئی تو اچانک رسول اللہ ﷺ کا ایک قاصد میرے پاس پہنچا قاصد نے کہا رسول اللہ ﷺ نے تم کو حکم دیا ہے کہ اپنی بیوی سے الگ ہوجاؤ میں نے کہا کہ کیا طلاق دے دوں یا یا کچھ اور اس نے کہا طلاق کا حکم نہیں ہے اس سے الگ رہو قربت نہ کرو میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی یہی حکم پہنچا حسب الحکم میں نے اپنی بیوی سے کہا اپنے گھر چلی جا اور فیصلہ قطعی ہونے تک وہیں رہ ہلال بن امیہ کی بیوی یعنی خولہ بن عصم نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہلال بن امیہ بوڑھا آدمی ہے اپنا خرچ نہیں کرسکتا اور اس کا کوئی خادم بھی نہیں ہے کیا اگر میں اس کا کام کردیا کروں تو حضور کی ناگواری کا باعث تو نہ ہوگا حضور ﷺ نے فرمایا نہیں کام کردینے کی ممانعت نہیں ہے) مگر وہ تجھ سے قربت نہ کرے، عورت نے کہا خدا کی قسم اس کو تو کسی بات کی حس ہی نہیں ہے جب سے اس کا یہ واقعہ ہوا ہے برابر آج تک رونے میں مشغول ہے کعب کا بیان ہے مجھ سے بھی میری کسی گھروالے نے کہا اگر ہلال بن امیہ کی بیوی کی طرح تم بھی اپنی بیوی کے لئے رسول سے اجازت لے لو کہ ہو تمہاری خدمت کردیا کرے تو مناسب ہے میں نے کہا خدا کی قسم میں رسول اللہ ﷺ سے اجازت نہیں مانگوں گا کیا معلوم حضور کیا فرمائیں اور میں تو جوان آدمی ہوں مجھے دوسرے سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہے اسی حالت میں دس راتیں اور گزر گئیں اور پچاس راتیں اور ہوگئیں۔
کعب ؓ کا بیان ہے کہ پچاسویں رات کی صبح کو میں فجر کی نماز پڑھنے کے بعد اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا تھا میری حالت وہ تھی جو اللہ نے بیان فرمایا ہے وضاحت (آیت) ” علیہم الارض بما رحبت “ زمین باجود فراخ ہونے کے میرے لئے تنگ ہوگئی تھی یکدم ایک چیخنے والے کی آواز سنائی دی جو کہ سلع پر چڑھ کر انتہائی اونچی آواز سے چیخا تھا اے کعب بن مالک تجھے خوشخبری ہو۔
کعب کا بیان ہے آواز سنتے ہی میں سجدہ میں گرپڑا اور خوشی سے رونے لگا اور سمجھ گیا کہ کشائش کا وقت آگیا رسول اللہ ﷺ نے نماز فجر ادا کرنے کے بعد ہماری توبہ قبول ہونے کا اعلان فرمایا لوگ ہم کو بشارت دینے کے لئے آگئے اور لوگ میرے دونوں ساتھیوں کو خوشخبری دینے کے لئے پہنچے ایک شخص گھوڑا دوڑاتا میرے پاس آیا محمد بن عمر ؓ نے کہا یہ زبیر بن عوام ؓ تھے قبیلہ اسلم کا ایک اور شخص بھی دوڑ پڑا مگر گھوڑے کے پہنچنے سے پہلے مجھے آواز پہنچ گئی تھی اس لئے جب وہ شخص آیا جس کی آواز میں نے سنی تھی یعنی حمزۃ اسلمہ تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کو پہنا دیئے خدا کی قسم میرے پاس ان دو کپڑوں کے سوا اور کپڑے ہی نہ تھے اور کپڑے ” عاریۃ “ لے کر میں نے پہنے۔
کعب بن مالک کا بیان ہے میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہواراستہ میں لوگوں کے گروہ در گروہ مبارک باد دینے کے لئے مجھ سے ملتے رہے آخر میں مسجد میں داخل ہوا رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے گردا گرد لوگ بھی موجود تھے مجھے دیکھ کر طلحہ بن عبیداللہ اٹھے اور لپک کر میری طرف بڑھے مجھے مصافحہ کیا اور مبارک باد دی مہاجرین میں سے سوائے طلحہ کے اور کوئی نہیں اٹھا میں طلحہ کی یہ بات نہیں بھولوں گا رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک خوشی سے چمک رہا تھا میں نے سلام کیا حضور ﷺ نے فرمایا جب سے تو ماں کے بیٹ سے پیدا ہوا ہے اس وقت سے آج تک ہر دن سے بہتر دن کی تجھے بشارت ہو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے فرمایا نہیں اللہ کی طرف سے ہے پھر رسول اللہ ﷺ کی عادت تھی کہ خوشی کے وقت آپ کا چہرہ چمکنے لگتا تھا معلوم ہوتا تھا چاند کا ٹکڑا ہے ہم دیکھ کر پہچان لیتے تھے (کہ حضور اس وقت خوش ہیں) جب میں سامنے بیٹھا تو عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میری توبہ کا تتمہ یہ ہے کہ اپنے کل مال سے دست بردار ہوجاوں اور بطور صدقہ اللہ اور اس کی رسول کی خدمت میں پیش کردوں فرمایا کچھ مال اپنے لئے بھی روک رکھو تمہارے لئے یہی بہتر ہے میں نے عرض کیا تو خیبر میں جو میرا حصہ ہے میں اس کو روکے رکھتا ہوں پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ نے سچ بولنے کی وجہ سے مجھے نجات دی لہذا میری توبہ کا تتمہ بھی ہے کہ جب تک زندہ رہوں گا چناچہ اس عہد کے بعد آج تک میں نے کبھی جھوٹ نہیں اور امید ہے کہ جب تک زندہ رہوں گا اللہ جھوٹ سے مجھے محفوظ رکھے گا (اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول فرمانے کے سلسلہ میں (یہ آیت) لقد تاب اللہ علی النبی والمھجرین والانصار “ سے لے کر ” وکونوا مع الصدقین (119) تک نازل فرمائی۔ اللہ تعالیٰ کی قسم جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی توفیق دی اس کے بعد سے کوئی اس نعت سے بڑی نہیں عنایت فرمائی رسول اللہ ﷺ کے سامنے سچ کہنے سے مجھے ملی مگر میں جھوٹ بول دیتا تو میں بھی ان لوگوں کی طرح ہلاک ہوجاتا جنہوں نے جھوٹ بولا تھا اور اللہ تعالیٰ نے بدترین الفاظ میں ان کا ذکر فرمایا کہ (آیت) ” تعملون (94) سیحلفون باللہ لکم اذا انقلبتم الیہم لتعرضوا عنہم، فاعرضوا عنہم، انہم رجس “ سے لے کر ” الفسقین “ تک کعب نے فرمایا جن لوگوں نے قسمیں کھائی تھیں اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے عذر کو قبول فرما لیا تھا اور ان سے بیعت لے لی تھی اور انکے لئے دعائے مغفرت بھی کردی تھی ہم تینوں کا معاملہ ان کے معاملے سے پیچھے رکھا گیا تھا ہمارے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے فیصلہ تک رسول اللہ ﷺ نے ملتوی رکھا تھا اسی لئے فرمایا (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ آپ ﷺ کا ہمارے فیصلہ کو ملتوی کرنے اور ہمارے معاملہ کو موخر کرنا اس لئے نہیں تھا کہ ہم غزوہ سے پیچھے رہ گئے تھے بلکہ یہی آپ کے لئے قسم اور آپ کے ہاں معذرت تھی جس کو قبول کرلیا گیا۔
7:۔ ابو الشیخ وابن مردویہ رحمہما اللہ نے کعب بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ جب میری توبہ نازل ہوئی تو میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ کے ہاتھوں کو اور آپ کے گھٹنوں کو چوم لیا اور خوشخبری دینے والے کو میں نے دو کپڑے پہنائے۔
8:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ کے بارے میں فرمایا (یہ وہ لوگ تھے) جن کا معاملہ (خدا کے حکم آنے تک ملتوی کرلیا گیا ( جس کے بارے میں) سورة برات کے درمیان میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” واخرون مرجون لامر اللہ “ (اور یہ تین آدمی تھے) ہلال بن امیہ مرارہ بن ربیعہ اور کعب بن مالک۔
9:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ یعنی وہ لوگ جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔
10:ـ۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے تبوک کی جنگ کی تو کعب بن مالک ھلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع پیچھے رہ گئے ان میں سے ایک کا باغ تھا جب وہ بڑھا اور اس میں سرخی اور زردی پھیل گئی (یعنی باغ خوب ہر ابھرا ہوگیا) تو اس نے کہا میں آپ کی بیعت میں جہاد کروں گا۔ جہاد کروں گا جہاد کروں گا۔ اگر میں ایک سال اس باغ میں ٹھہرا رہا تو میں اس کے سبب آزمائش میں مبتلا ہوجاوں گا جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب نکلے تو باغ میں داخل ہوا اور کہا کسی نے مجھے رسول اللہ ﷺ سے پیچھے نہیں رکھا اور ایمان والے لوگ جہاد فی سبیل اللہ میں آگے بڑھ گئے مگر تیرے ساتھ میرے بخل کرنے کے سبب کئی افراد اس سے بکھرے ہوئے تھے اور وہ لوگ اس کے پاس جمع ہوئی (پھر) اس نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب چلے گئے تو کہا مجھ کو رسول اللہ ﷺ سے کسی نے پیچھے نہیں رکھا اور ان کی طرف مجاہدین فی سبیل اللہ کو مجھ سے سبقت نہیں لے گئے مگر تمہارے حرص اور بخل کے سبب اے گھروالوں اے اللہ بیشک میرا تیرا ساتھ یہ وعدہ ہے کہ میں نہیں لوٹوں گا اپنے اہل اور اپنے مال کی طرف۔ یہاں تک کہ میں جان لوں جو میرے بارے میں کیا جائے گا اور تیسرے نے کہا اے اللہ تیرا مجھ پر یہ حق تھا کہ میں قوم کی جانب پیچھے سے جاتا یہاں تک کہ ان کو پالیتا ان سے کٹ جاتا پس تنگ دستی اور پریشانیاں اس پر لگا تار آئے گا یہاں تک کہ میں قوم کے ساتھ مل گیا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” لقد تاب اللہ علی النبی “ سے لے کر (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ حتی اذا ضاقت علیہم الارض بما رحبت “ حسن (رح) نے فرمایا سبحان اللہ اللہ کی قسم نہ انہوں نے حرام مال کو کھایا نہ وہ حرام خون کو پہنچے اور نہ انہوں نے زمین میں فساد کیا سوائے اس کے کہ وہ نیک عمل خیر یعنی اللہ کے راستے جس میں جہاد کرنے سے پیچھے رہے اور سستی کی۔ حالانکہ اللہ کی قسم انہوں نے جہاد کیا انہوں نے جہاد کیا انہوں نے جہاد کیا۔ لیکن ان کو جو کچھ پہنچا جو تم نے سنا اس طرح مومن کو گناہ مشقت میں مبتلا کردیتا تھا۔
11:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ یعنی ان کی توبہ کو ملتوی کردیا ان کی توبہ قبول نہیں کی گئی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ابو لبابہ اور اس کے ساتھیوں کی توبہ قبول فرمائی۔
12:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابو الشیخ وابن عساکر رحمہم اللہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ یعنی ان تینوں کو توبہ سے موخر کردیا گیا۔
13:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ بن خالد المخزوی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ نصب کے ساتھ ان تینوں پر جو محمد ﷺ اور آپ اصحاب کے پیچھے رہ گئے۔
14:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو اپنی توبہ کی طرف بلایا جو کہتا تھا (آیت) انا ربکم الاعلی (24) “ اور فرمایا (آیت) ماعلمت لکم من الہ غیری “ (القصص آیت 38) اور جو بندہ توبہ سے ناامید ہوا ان کے بعد تو گویا اس نے اللہ کی کتاب کا انکار کیا لیکن بندہ توبہ کرنے پر قادر نہیں ہوتا ہے یہاں تک اللہ تعالیٰ اس پر نظر رحمت فرمائے (اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا) (آیت) ” ثم تاب علیہم لیتوبوا “ تو توبہ کی ابتدا اللہ عزوجل کی طرف سے ہوئی۔
Ayah 9:1191:۔ ابن منذر وابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے نافع ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین “ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) ان تین آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہا گیا کہ تم محمد ﷺ اور ان کے اصحاب کے ساتھ ہوجاؤ۔
2:۔ ابن منذر (رح) نے کعب بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے بارے میں (یہ آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین “ بھی نازل ہوئی۔
3:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین “ کہ محمد ﷺ اور اس کے اصحاب کے ساتھ ہوجاؤ۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین “ سے مراد ہے کہ ابوبکر وعمر ؓ اجمعین کے ساتھ ہوجاؤ۔
5:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن عساکر رحمہم اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین “ یعنی حکم دیا گیا ہے کہ تم لوگ ابوبکر اور عمر ؓ دونوں کے ساتھیوں کے ساتھ ہوجاؤ۔
6:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین “ یعنی علی بن ابی طالب ؓ کے ساتھ ہوجاؤ۔
7:۔ ابن عساکر (رح) نے ابو جعفر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین “ یعنی علی بن ابی طالب ؓ کے ساتھ ہوجاؤ۔
8:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین “ سے مراد ہے کہ تم کعب بن مالک فرارہ بن ربیعہ اور ھلال بن امیہ کے ساتھ ہوجاؤ۔
9:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن عدی وابوالشیخ ابن مردویہ والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جھوٹ جائز نہیں سنجیدگی میں نہ مذاق میں اور نہ یہ جائز ہے کہ تم میں سے کوئی اپنے بچے کو کوئی چیز دینے کا وعدہ کرے پھر اس (وعدہ) کو پورا نہ کرے اگر تم چاہو تو پڑھ لو (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین “ اور یہ عبداللہ کی قرأت میں بھی اسی طرح ہے (پھر فرمایا) کیا تم کسی کے لئے جھوٹ بولنے کی رخصت پاتے ہو۔
10:۔ ابن الانبری (رح) المصاحف میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہو اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” وکونوا مع الصدقین “
سچائی کو لازم پکڑنے کی ترغیب :
11:۔ ابوداود الطیالسی والبخاری نے الادب میں وابن عدی والبیقہی (رح) نے الشعب میں ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تم سچائی کو لازم پکڑو کیونکہ وہ نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور یہ دونوں جنت میں ہوں گے اور تم جھوٹ سے بچو کیونکہ وہ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور یہ دونوں آگ میں ہوں گے اور آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ نے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جائے۔
12:۔ ابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم وابن عدی والبیہقی وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سچائی کو لازم پکڑو کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی اگر بولتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سچا لکھا جاتا ہے اور تم جھوٹ سے بچوں کیونکہ یہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی آگ کی طرف لے جاتی ہے۔ آدمی البتہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹا لکھا جاتا ہے۔
13:۔ ابن عدی (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ آگ کی طرف لے جاتے ہیں اس لئے کہا جاتا ہے سچائی اور نیکی (ساتھ ساتھ ہیں )
14:۔ احمد والبیہقی (رح) نے الشعب میں ابومالک جشعمی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا مجھے بتاؤ اگر میرے دو غلام ہوں، ان میں سے ایک خیانت کرتا ہو اور تیری بات کو جھٹلاتا ہو اور دوسرا تیری خیانت نہ کرتا ہو اور تیری بات کی تصدیق کرتا ہوں ان دونوں میں سے کون سا تجھے زیادہ محبوب ہے۔ میں نے کہا جو میری خیانت نہ کرتا ہو اور میری بات کی تصدیق کرتا ہوں فرمایا اسی طرح تم اپنے رب کے نزدیک ہو۔
جھوٹ مذاق میں بھی جائز نہیں :
15:۔ حاکم (رح) نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا اور بیہقی (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا جھوٹ سنجیدگی اور مذاق میں جائز نہیں، اور کوئی آدمی اپنے بیٹے سے وہ وعدہ نہ کرے جس کو پورا نہ کرسکے بیشک سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے۔ اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ اور جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی آگ کی طرف لے جاتی ہے سچ بولنے والے کو صدق اور بر کہا جاتا ہے۔ اور جھوٹ بولنے والے کو کذب اور فجر کہا جاتا ہے۔ اور ایک آدمی البتہ سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سچا لکھا جاتا ہے اور ایک آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹا لکھا جاتا ہے۔
16:۔ ابن ابی شیبہ واحمد والبیہقی (رح) نے اسماء بنت یزید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کس چیز نے تم کو آمادہ کیا کہ تم جھوٹ میں ایک کی اس طرح پیروی کرتے ہو جیسے پروانے آگ میں ایک دوسرے کی پیروی کراتے رہتے ہیں ہر جھوٹ ابن آدم پر لکھا جاتا ہے مگر وہ آدمی جو جنگی دھوکہ دہی کے لئے جھوٹ بولتا ( وہ جائز ہے) اور وہ درمیان صلح کرتے ہیں (جھوٹ بولتا ہے یا آدمی اپنی بیوی سے ایسی (جھوٹی) بات بیان کرتا ہے تاکہ وہ راضی ہوجائے۔
17:۔ بیہقی (رح) نے اس بن سمعان کلابی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے لئے نہیں ہے کہ میں تم کو اس حال میں دیکھوں کہ تم لوگ تیزی سے جھوٹ میں گرتے چلے جارہے ہو جیسے پروانے آگ میں تیزی سے گرتے ہیں ہر جھوٹ ابن آدم میں لکھا جاتا ہے سوائے اس کے کسی نے جنگی دھوکہ دہی کے لئے جھوٹ بولا یا دو آدمیوں کے درمیان صلح کراتے ہوئے (جھوٹ بولنا) یا وہ آدمی جو اپنی بیوی کو (جھوٹی) باتیں بتاتا ہے تاکہ وہ اس کو راضی کرے۔
18:۔ بیہقی (رح) نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ وہ جھوٹا نہیں ہے جس نے اپنے نفس سے کسی کو دور کیا۔
19:۔ ابن عدی والبیہقی (رح) نے (اور بیہقی نے اس کو ضعیف کہا) ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جھوٹ ایمان کو ہٹانے والا ہے۔
20:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عدی (رح) ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ ایمان کے لئے پردے ہیں۔
21:۔ ابن عدی والبیہقی رحمہما اللہ نے سعد بن وقاص ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مومن کی ہر چیز پر پیدائش ہوتی ہے مگر خیانت اور جھوٹ پر (پیدائش نہیں ہوتی)
22:۔ ابن عدی (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مومن کی ہر خصلت پر پیدائش ہوتی ہے مگر خیانت اور جھوٹ پر (پیدائش نہیں ہوتی ) ۔
23:۔ ابن عدی (رح) نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومن کی مختلف خصلتوں پر پیدائش کی جاتی ہے (جیسے) سخاوت بخل اور اچھا اخلاق لیکن مومن کی پیدائش نہیں کی جاتی جھوٹ پر اور نہ وہ جھوٹا ہوتا ہے۔
24:۔ ابن ابی شیبہ واحمد رحمہما اللہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی ہر خصلت پر پیدائش ہوتی ہے مگر جھوٹ اور خیانت پر نہیں۔
25:۔ بیہقی (رح) نے عبداللہ بن ابی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی ہر خصلت پر پیدائش ہوتی ہے۔ مگر جھوٹ اور خیانت پر نہیں۔
26:۔ ابو نعیم (رح) نے الحلیۃ میں جعفر بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ انسان کو خصلتوں پر پیدا کیا جاتا ہے پس وہ انہی پر ہوتا ہے جس پر اسے پیدا کیا گیا اور اس کو خیانت اور جھوٹ پر پیدا نہیں کیا جاتا۔
27:۔ مالک عبد اور البیہقی (رح) نے صفوان بن سلیم (رح) سے روایت کیا کہ پوچھا گیا یا رسول اللہ ! کیا مومن بزدل ہوتا ہے فرمایا کیوں پوچھا گیا کہ مومن بخیل ہوتا ہے۔ فرمایا ہاں، پھر پوچھا گیا کیا مومن جھوٹا ہوتا ہے فرمایا نہیں۔
28:۔ بیہقی وابویعلی (رح) نے اور ابویعلی نے اس کو ضعیف کہا ابوبردہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جھوٹ چہرہ کو کالا کردیتا ہے اور چغلی کھانا عذاب قبر (کا باعث) ہے۔
29:۔ حاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا والبیہقی (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹ سے بڑھ کر کوئی عادت زیادہ مبغوض نہیں تھی اور ایک آدمی ایک کے پاس جھوٹ کو جھٹلاتا ہے۔ اور لگاتار یہ عمل اپنے آپ کو میں جاری رکھتا ہے یہاں تک کہ وہ جان لیتا ہے۔ کہ اس نے اس سے توبہ کرلی۔
30:۔ احمد وھنادی السری رحمہما اللہ نے الزھد میں وابن عدی والبیہقی رحمہما اللہ نے نواس بن سمعان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کو (ایک بات) بیان کرتا ہے وہ تیری بات کو سچا سمجھ رہا ہے اور تو اس سے جھوٹ بولنے والا ہے۔
31:۔ احمد والبیہقی رحمہما اللہ نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ میں عائشہ ؓ کی ساتھ تھیں کہ میں نے ان کو تیار کیا تھا میں نے اس کو نبی کریم ﷺ کے پاس داخل کردیا عورتوں (کی جماعت) میں ہم نے آپ کے پاس کچھ نہ پایا نکالنے کے لئے سوائے ایک پیالہ دودھ کے آپ نے اس کو پیا پھر آپ نے اس کو عائشہ ؓ کو دیدیا اس نے آپ سے شرم کیا میں نے کہا رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک سے واپس نہ لوٹا اس نے اس کو لے کر اس میں سے پیا پھر آپ نے فرمایا اپنی ساتھی کو دیدو۔ میں نے عرض کیا ہماری خواہش نہیں ہے آپ نے فرمایا ہرگز نہ جمع کرو جھوٹ اور بھوک کو میں نے عرض کیا اگر ہم میں سے کوئی ایک چیز کے لئے یہ کہ وہ اس کی خواہش رکھتی ہے (پھر کہہ دیتی ہے) میں نہیں چاہتی کہ یہ جھوٹ شمار کیا جاتا ہے آپ نے فرمایا جھوٹ کو جھوٹ لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ چھوٹا جھوٹ بھی لکھ دیا جاتا ہے۔
32:۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ واحمد والبیہقی رحمہما اللہ نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے اور میں چھوٹا بچہ تھا میں کھیلنے لگا تو میری ماں نے مجھ سے کہا اے عبداللہ میرے پاس آ میں تجھ کو کچھ دوں گی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے اس کو کیا دینے کا ارادہ کیا ؟ میری ماں نے کہا میں نے اس کو ایک کھجور دینے کا ارادہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر تو ایسا نہ کرتی تو تیرے اوپر ایک جھوٹ لکھا جاتا۔
33:۔ الطیالسی واحمد الترمذی اور آپ نے اس کو صحیح کہا والدارمی وابویعلی وابن حبان والطبرانی والبیہقی والضیاء رحمہم اللہ نے حسن بن علی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اس چیز کو چھوڑ دے جو تجھ کو شک میں ڈالے اس چیز کی طرف جو تجھ کو شک میں نہ ڈالے بیشک سچائی اطمینان کا باعث ہے اور جھوٹ شک کا باعث ہے۔
34:۔ ابن عدی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا گناہ جھوٹ بولنے والی زبان ہے۔
35:۔ ابن عدی (رح) نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے۔
36:۔ ابن ماجہ والحکیم الترمذی نے نوادرالاصول میں والخرائطی نے کلام اخلاق میں والبیہقی نے عبداللہ بن عمر وبن عاص ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! لوگوں میں کون بہتر ہے فرمایا محموم دل والا اور سچی زبان رکھنے والا ہم نے عرض کیا سچی زبان کو تو ہم نے پہچان لیا یہ محموم دل کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا صاف شفاف اور پاکیزہ دل کی اس میں کوئی نہ گناہ ملا ہو اور نہ بغاوت ہو نہ خیانت ہو اور نہ حسد ہو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ کون ہے جس میں اس کی نشانیاں ہوں فرمایا جو دنیا سے نفرت کرتا ہے اور آخرت کو محبوب رکھتا ہے ہم نے عرض کیا یہ تو ہم رسول اللہ ﷺ کے غلام رافع کے بغیر کسی میں نہیں پاتے (اور) کون ہے اس کی نشانیوں پر فرمایا ایسا مومن جس میں اچھے اخلاق ہوں ہم نے عرض کیا لیکن یہ (صفت) ہم میں موجود ہے۔
37:۔ بیہقی (رح) نے الشعب میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا تو مومن کو جھوٹا نہیں پائے گا۔
امانت داری میں سچائی اختیار کرنا :ـ
38:۔ بیہقی (رح) نے عمربن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ کسی آدمی کی نماز کی طرف اور اس کے روزوں کی طرف نہ دیکھو لیکن تم اس آدمی کی طرف دیکھا جب وہ سچ بولے جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو ادا کرے اور جب وہ شفا کو طلب کرتا ہے تو گناہ سے بچتا ہے۔
39:۔ بیہقی (رح) نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ آدمی البتہ رات کو قیام کرنے اور دن کو روزہ رکھنے سے محروم کردیا جاتا ہے۔ اس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتا ہے۔
40:۔ ابن عدی والبیہقی (رح) نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ کلام اس سے زیادہ وسیع ہے کہ کوئی ظریف الطبع آدمی جھوٹ بولے۔
41:۔ بیہقی (رح) نے مطر الوراق (رح) سے روایت کیا کہ دو عادتیں جب کسی بندے میں ہوں تو اس کے سارے اعمال ان دونوں کے تابع ہوجاتے ہیں نماز کا حسن اور بات کی سچائی۔
42:۔ بیہقی (رح) نے فضیل (رح) سے روایت کیا کہ لوگ کسی چیز سے خوبصورت نہیں بنے سچائی اور حلال کی طلب سے بڑھ کر۔
43:۔ بیہقی (رح) نے عبدالعزیز بن ابی داود (رح) سے روایت کیا کہ دنیا کی نیکی جھوٹ اور قلت حیاء ہے جس شخص نے دنیا کو ان دونوں کے بغیر طلب کیا تو اس نے راستہ اور مطلب کے حاصل کرنے غلطی کی اور آخرت کی نیکی حیا اور سچائی ہے۔ جس نے ان دونوں کو بغیر آخرت کو طلب کیا اس نے راستہ اور مطلب (کے حاصل کرنے میں) غلطی کی۔
44:۔ بیہقی (رح) نے یوسف بن اسباط (رح) سے روایت کیا کہ سچائی کی وجہ سے تین خصلتیں عطا کی جاتی ہیں۔ حلاوت، ملاحت ، (یعنی طرافت طبع اور خوبصورتی) اور مہابت (یعنی رغبت)
45:۔ بیہقی (رح) نے حاتم بن یوسف (رح) سے روایت کیا کہ میں فضیل بن عیاض کے دروازہ پر آیا میں نے ان کو سلام کیا اور میں نے عرض کیا اے علی کے باپ میرے پاس پانچ حدیثیں ہیں اگر آپ مجھ کو اجازت دیں تو میں آپ کو سناوں انہوں نے مجھ سے فرمایا پڑھ تو میں نے پڑھیں تو وہ چھ تھیں انہوں نے مجھ سے فرمایا اے میرے بیٹے کھڑے ہوجاؤ پہلے سچائی سیکھو پھر حدیث لکھو۔
46:۔ ابن عدی (رح) نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک مبہم کلام میں البتہ گنجائش ہوتی ہے جھوٹ سے۔
47:۔ ابن عدی (رح) نے ابی بن طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مبہم کلام میں سے عاقل آدمی بھی جھوٹ سے پرواہ نہیں کرتا۔
Ayahs 9:120–1211:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عمرو بن مالک کے راستے سے عمرو بن مالک (رح) رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ جب (یہ آیت) ” ماکان لاھل المدینۃ ومن حولہم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ “ نازل ہوئی تو رسول اللہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر لوگوں میں ضعیف لوگ نہ ہوتے تو کوئی لشکر ایسا نہ ہوتا مگر میں اس میں شامل ہوتا۔
2:۔ ابن جریر ابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ” ماکان لاھل المدینۃ ومن حولہم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ اس وقت تھا جب اسلام والے تھوڑے تھے۔ جب اسلام والے بہت ہوگئے اور اسلام پھیل گیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وما کان المومنون لینفروا کآفۃ “
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) لا یصیبہم ظما “ یعنی پیاس والا نصب یعنی تھان۔
4:۔ ابن ابی حاتم (رح) رجاء بن حیوہ اور مکحول (رح) سے روایت کیا کہ دونوں حضرات جہاد میں منہ اور ناک کو کپڑے سے لپٹنے کو اور گردکوکپڑے سے لپٹنے کو اور گردوغبار سے بچنے کے لئے مکروہ سمجھتے تھے۔
5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے اوزاعی عبد اللہ بن مبارک ابراہیم بن محمد غزاری اور عیسیٰ بن یونس السبیعی رحمہم اللہ ان سب حضرات سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ولا ینالون من عدو نیلا الا کتب لہم بہ عمل صالح “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت مسلمانوں کے لئے ہے قیامت کے قیائم ہونے تک۔
6:۔ ابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماکان لاھل المدینۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کو اس کے بعد والی آیت نے منسوخ کردیا یعنی (آیت) ” وما کان المومنون لینفروا کافۃ “ نے۔
7:۔ الحاکم وابن مردویہ (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک غزوہ میں نکلے اور جعفر کو اپنے اہل و عیال میں پیچھے چھوڑ گئے جعفر نے کہا اللہ کی قسم میں آپ کے پیچھے نہ رہتا مگر آپ نے مجھے پیچھے ہٹا دیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کون سی چیز کی بنا پر آپ کے پیچھے بیٹھا جو قریش ہے اور اور وہ ان سے پیچھے بیٹھ گیا اور دوسری بات یہ ہے کہ میں نے فضل کو طلب کیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے کیونکہ میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا (آیت) ” ولا یطون موطئا یغیظ الکفار “ (پھر فرمایا) کہ تیرا یہ کہنا کہ قریش کہیں گے۔ کتنی جلدی اور نہ اس کے چچا کے بیٹے نے اس کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور پیچھے بیٹھ گیا ہے اور انہوں نے تو یہ بھی کہا کہ بلاشبہ میں جادوگر ہوں اور میں بہت جھوٹ بولنے والا ہوں اور تیرے لئے میرا طریقہ موجود ہے کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ تو مجھے منزلہ موسیٰ (علیہ السلام) (کے بھائی) ہارون کی طرح ہوجائے سوائے اس کے میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تیرا یہ قول کہ تو نے اللہ سے فضل کو طلب کیا ہے ( یعنی مال کو) تو ہمارے پاس یمن سے چیزیں آچکی ہیں۔ اس کو بیچو اور اپنے اور فاطمہ پر خرچ کرو یہاں تک کہ اس کے سبب تم دونوں کو رزق عطا فرمائے گا۔
Ayah 9:122علم دین حاصل کرنا ضروری ہے :
1:۔ ابوداود نے اپنی ناسخ میں وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیات (آیت) ” انفروا خفافا وثقالا “ (اور) ” الا تنفروا یعذبکم عذابا الیما “ اور اس آیت ” وما کان المومنون لینفروا کآفۃ “ سے منسوخ کردی گئی اور فرماتے ہیں کہ ایک جماعت کو چاہئے کہ وہ چلی جائے (جہاد میں) اور ایک جماعت کو چاہئے کہ وہ ٹھہری رہے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ٹھہرنے والے لوگ وہ ہوں جو دین میں سمجھ رکھتے ہیں اور اپنے ان بھائیوں کو ڈراسکتے ہیں جب وہ ان کی طرف جنگ سے واپس لوٹ کر آملیں شاید کہ وہ بچیں (ان احکام کی خلاف ورزی سے) جو ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اور اپنی حدود کے بارے میں نازل فرمائے۔
جہاد میں نکلنے کا طریقہ :
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے المدخل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کان المومنون لینفرواکافۃ “ یعنی ایمان والوں کو نہ چاہئے کہ وہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں اور نبی کریم ﷺ کو اکیلا چھوڑ دیں (پھر فرمایا) (آیت) فلالا نفر من کل فرقۃ منہم طائفۃ “ (کیوں نہ نکلی چھوٹی جماعت بڑی جماعت میں سے) یعنی کیوں نہ نکلے ہر قبیلہ میں سے ایک گروہ یعنی دستے اور آپ کی اجازت کے بغیر نہیں چلیں گے جب وہ لشکر لوٹ کر اس حال میں کہ قرآن نازل ہوچکا ہو اور اس کو سیکھ لیا ہو نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیٹھنے والوں نے تو وہ کہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کریم ﷺ پر تمہارے بعد قرآن نازل فرمایا تو ہم نے اسے سیکھ لیا ہے۔ پس وہ لشکر ٹھہر جائیں گے اور وہ سیکھیں گے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر انکے بعد نازل فرمایا تھا اور اب دوسرے لشکروں کو بھیج دیں گے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” لیتفقھوا فی الدین “ یعنی وہ سیکھیں گے جو کچھ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم ﷺ پر نازل فرمایا اور ان لشکروں کے واپس لوٹنے پر ان کو سکھائیں گے (آیت ) ” لعلہم یحذرون “ (شاید کہ وہ) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے (بچیں)
3:۔ ابن جریر وابن ابی ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما کان المومنون لینفروا کآفۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت جہاد کے بارے میں نہیں ہے لیکن جب رسول اللہ ﷺ مضر (قبیلہ) پر مدد کی قول کے ساتھ تو ان کے شہر خشک ہوگئے اور ان میں سے قبیلہ سارے کا سارا آیا یہاں تک کہ وہ قوت کے ساتھ مدینہ منورہ میں گرپڑے اور اسلام کے ساتھ فخر اور تکبر کرنے لگے حالانکہ وہ جھوٹے تھے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کو تنگ کیا اور ان کو مشقت میں ڈال دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ ایمان والے نہیں ہیں تو ان کو لوٹا دیا گیا ان کے قبیلوں کی طرف اور ان کی قوم کو ڈرایا گیا ان جیسا کام سے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ولینذروا قومہم اذا رجعوا الیہم لعلہم یحذرون “
4:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے عبداللہ بن عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ ایمان والے لوگ ان کو جہاد پر ابھارتے تھے جب رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا وہ اس (جہاد) میں نکلے اور نبی کریم ﷺ کو مدینہ منورہ میں کمزور لوگوں میں چھوڑ گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” وما کان المومنون لینفروا کآفۃ “ حکم دیا گیا کہ جب نبی کریم ﷺ نے ایک لشکر کو بھیجا تو چاہئے ایک جماعت نکل جائے اور دوسری جماعت مقیم رہے۔ مقیم رہنے والے حفاظت کریں گے ان لوگوں کے اہل و عیال پر جو نکل گئے اور اس دوران اللہ تعالیٰ قرآن میں جو حکم نازل فرماتے اور سنتوں میں سے جو سنت ظاہر ہو جب ان کے بھائی لوٹ کر آئیں تو ان کو ان احکام کی خبر دیں اور ان کو سکھائیں اور جب رسول اللہ ﷺ بذات خود نکلیں تو کوئی بھی پیچھے نہ رہے مگر اللہ کی اجازت سے یا عذر سے۔
5:۔ ابن جریر وابن منذر وابو الشیخ (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا جب (یہ آیت) ” الا تنفروا یعذبکم عذابا الیما “ اور ماکان لاھل المدینۃ “ نازل ہوئی تو منافقوں نے کہا کہ دیہات کے رہنے والے ہلاک ہوگئے جو محمد ﷺ کے پیچھے رہ گئے اور آپ کے ساتھ انہوں نے جہاد نہیں کیا حالانکہ کچھ لوگ دیہات کی طرف نکلے ہوئے تھے اور اپنی قوموں کی طرف تاکہ ان کو (دین کے احکامات) سکھائیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” وما کان المومنون لینفروا کآفۃ “ اور یہ آیت بھی نازل فرمائی (آیت) والذین یحآجون فی اللہ من بعد ما استجیب لہ حجتہم داحضۃ “ ( الشوری آیت 16)
6:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما کان المومنون لینفروا کآفۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ؓ میں سے کچھ لوگ دیہات میں نکلے اور انہوں نے لوگوں سے رزق اور خوشحالی کی ایسی چیز پر مکمل کریں جن سے وہ نفع اٹھا سکتے تھے اور جن لوگوں کو انہوں نے پایا ان کے لئے ہدایت کی طرف دعوت دی کچھ لوگوں نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں صرف اس طرح دیکھ رہے ہیں کہ تم نے چھوڑ دیا اپنے ساتھیوں کو اور تم ہمارے پاس آگئے یہ سن کر انہوں نے بھی اپنے دلوں میں تنگی کو پایا چناچہ وہ دیہات سے واپس آگئے سب کے سب اور نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فلولا نفر من کل فرقۃ منہم طآ ئفۃ “ بعض لوگ نکلے اور بعض لوگ بیٹھ گئے جو خیر کو طلب کرنے والے تھے (آیت) لیتفقھوا فی الدین “ اور تاکہ وہ لوگوں کو احکام سناسکیں جو ان کے بعد نازل اور (آیت) ” ولینذروا قومہم “ (تو وہ اپنی قوم کو ڈرائیں) جب سب لوگ ان کی طرف لوٹ آئیں تو (آیت) ” لعلہم یحذرون “ شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچیں۔[
Ayah 9:1231:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قاتلوا الذین یلونکم من الکفار “ یعن (وہ کفار) جو زیادہ قریب ہیں اور پھر جو ان کے بعد قریب ہیں (ان سے جنگ کرو)
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا کہ ابن زید (رح) اس آیت کے بارے میں فرمایا عرب کے کافر جو آپ کے آس پاس تھے۔ آپ ان سے لڑے یہاں تک کہ آپ ان سے فارغ ہوجاؤ۔
3:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے جعفر بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ ان سے دیلم کے قتال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ان سے لڑو بلاشبہ یہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” قاتلوا الذین یلونکم من الکفار “
4:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روم اور دیلم کی لڑائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے (یہ آیت) ” قاتلوا الذین یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظۃ “ تلاوت فرمائی۔
5:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ دیلم کی لڑائی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (آیت) ” قاتلوا الذین یلونکم من الکفار “ سے روم مراد ہے۔
6:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما الہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ولیجدوا فیکم غلظۃ “ یعنی سختی اور شدت۔
Ayahs 9:124–1261:۔ عبد بن حمید وابن منذر رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) فمنہم من یقول ایکم زادتہ “ سے مراد ہے کہ منافقین میں سے بعض وہ ہیں جو یہ کہتے ہیں۔
اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہونا :
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فاما الذین امنوا فزادتھم ایمانا “ کے بارے میں فرمایا کہ جب کوئی سورت اترتی تھی تو (مومنین) اس پر ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان اور تصدیق میں اضافہ کردیا اور وہ اس کے ذریعہ خوش ہورہے تھے۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” فزادتھم رجسا الی رجسہم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سورت نے ان کے پہلے شک میں اور شک کا اضافہ کردیا۔
4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولایرون انہم یفتنون “ یعنی وہ آزمائش میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔
5:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یفتنون “ یعنی مبتلا کئے جاتے ہیں۔ ’(آیت) ” فی کل عام مرۃ اومرتین “ تین قحط سالی سے اور بھوک سے (ہرسال ایک بار یا دو بار آزمائے جائے جاتے ہیں)
6:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یفتنون فی کل عام مرۃ اومرتین “ یعنی وہ آزمائش میں مبتلا کئے جاتے ہیں دشمن کے ذریعہ ہر سال میں ایک یا دو مرتبہ۔
7:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یفتنون فی کل عام “ یعنی وہ لوگ آزمائش میں مبتلا کئے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں جنگ لڑنے کی وجہ سے۔
8:۔ ابو الشیخ (رح) نے عتبی (رح) سے روایت کیا کہ جب کوئی بندہ بیمار ہوا پھر اس کو عافیت دی گئی تو پھر بھی وہ خیر (کے کاموں) میں زیادہ نہیں ہوا۔ تو فرشتے کہتے ہیں یہ وہ آدمی ہے کہ جس کو ہم نے دوا دی مگر اس کو دوا نے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
9:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابو سعید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولایرون انہم یفتنون فی کل عام مرۃ او مرتین “ یعنی ان کے لئے ہر سال میں ایک بار یا دو بار جھوٹ بولنا ہوتا ہے۔
11:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم ابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اولایرون انہم یفتنون فی کل عام مرۃ او مرتین “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم سنتے ہیں ہر سال میں ایک بار یا دو بار جھوٹ کو اور اس کے ذریعہ گمراہ ہوجاتی ہے ایک جماعت بہت سے لوگوں میں۔
12:ـ۔ ابو الشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ کی قرأت میں یوں ہے (آیت) ” اولایرون انہم یفتنون فی کل عام مرۃ او مرتین وما یتذکرون “
Ayah 9:1271:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے فرمایا کہ (آیت) ” واذا ما انزلت سورة نظر بعضہم الی بعض “ یعنی وہ منافق مراد ہیں (کہ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں)
2:۔ ابو الشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذا ما انزلت سورة نظر بعضہم الی بعض، ھل یرکم من احد “ (کیا کوئی تم کو دیکھ تو نہیں رہا) اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ وہ ہم کو اس کے ذریعہ پکڑے۔
3:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذا ما انزلت سورة نظر بعضہم الی بعض، ھل یرکم من احد “ یعنی کیا کوئی ایسا انسان تم کو دیکھ تو نہیں رہا جس نے تمہاری خبرسن رکھی ہو۔ اگر کسی نے تم کو دیکھا ہے تو وہ آپ کو خبر دے گا۔ جب کسی چیز کے بارے میں کوئی حکم نازل ہوتا۔ تو وہ ان کے کلام کے بارے میں خبر دے دیتا اور وہ منافق ہیں۔
4:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہم نماز سے۔
5:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ تم یوں نہ کہو کہ ہم نماز سے پھرگئے کیونکہ ایک قوم پھری تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پھیر دیئے۔ بلکہ تم یہ کہو ہم نے نماز پوری کرلی (یعنی نماز ادا کرلی)