9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 9:25–27

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

یہ واقعی بات ہے کہ اللہ نے بہت سے مواقع میں تمہاری مدد فرمائی اور حنین کے دن بھی، جب تمہیں اپنی کثرت پہ گھمنڈ ہوگیا۔ پھر اس کثرت نے تمہیں کچھ بھی فائدہ نہ دیا اور زمین میں اپنی فراخی کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی۔ پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر اور مومنین پر اطمینان قلبی نازل فرمایا اور ایسے لشکر اتاردئیے جنہیں تم نہیں دیکھ رہے تھے، اور اللہ نے کافروں کو عذاب دیا اور یہ سزا ہے کافروں کی۔

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر اس کے بعد اللہ جس کی چاہے توبہ قبول فرمائے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

1:۔ فریابی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ “ کے بارے میں فرمایا یہ پہلی آیت ہے جو اللہ تعالیٰ نے سورة براۃ میں نازل فرمائی۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ و سعید ابن جبروابن منذروابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ پہلی آیت سورة براۃ میں ہے (آیت) ” لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ “ نازل ہوئی انہوں نے مدد کو پہچان لیا اور ان کو غزوہ تبوک کے لئے آمادہ کرلیا۔ 3:۔ ابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ان کاموں میں سے ہے کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان فرمایا خاص طور پر انکی مدد سے بہت مواقد ہیں۔ 4:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ حنین طائف اور مکہ کے درمیان ایک پانی ہے نبی کریم ﷺ نے ھوازن اور ثقیف والوں سے قتال کیا اور ھوازن کا سردار مالک بن عوف اور ثقیف کا سردار عید یا لیل بن عمروالتقضی تھا۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے عروہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ فتح کے بعد آدھا مہینہ ٹھہرے ابھی اس سے زائد دن نہیں گزرے تھے یہاں تک ھوازن اور ثقیف حنین کے مقام پر اترے۔ حنین ایک وادی ہے۔ ذی المجاز کے پہلو کی طرف۔ 6:۔ ابن منذر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ جب اہل مکہ اور اہل مدینہ جمع ہوئے تو انہوں نے کہا رب اللہ تعالیٰ کی قسم اب ہم لڑیں گے جب ہم اکھٹے ہوگئے ہیں رسول اللہ ﷺ نے انکے اس قول کو ناپسند فرمایا جو انہوں نے کہا کیونکہ انہوں نے اپنی کثرت کا اظہار کیا آپس میں جنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دیدی حتی کہ ان میں سے ایک بھی کسی کے مقابلہ میں نہ ٹھہرا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے عرب کے قبائل کو آواز دینی شروع کی کہ میری طرف آجاؤ اللہ کی قسم ان کی طرف کوئی بھی اوپر نہ چڑھا یہاں تک کہ آپ نے اپنی جگہ خالی کردی آپ نے انصار کی طرف توجہ فرمائی اور وہ اطراف میں تھے آپ نے ان کو آواز دی اے اللہ کی مدد کرنے والے اے اس کے رسوک کی مدد کرنے والے اللہ کے بندو ! میری طرف آؤ میں اللہ کا رسول ہوں وہ لوگ امڈ آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ کعبہ کے رب کی قسم ہم ایک ساتھ ہیں اللہ کی قسم انہوں نے اپنے سروں کو جھکا دیا اور رونے لگے۔ اور اپنی تلواروں کو آگے کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے آگے دشمن کو مارنے لگے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطا فرمائی۔ 7ـ:۔ بیہقی نے دلائل میں ربیع ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے حنین کے دن کہا ہم ہرگز قلت تعداد کے سبب مغلوب نہیں ہوسکے۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو ناگوار گزری تو اللہ تعالیٰ (یہ آیت) ” ویوم حنین اذا عجبتکم کثرتکم “ اتاری ربیع نے فرمایا اور (اس وقت) ہم بارہ تھے ان میں سے دوہزار مکہ والوں میں سے تھے۔ 8:۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ واحمد والبغوی نے اپنی معجم میں وابن مردویہ نے والبیہقی نے دلائل میں ابو عبدالرحمن فہری ؓ سے روایت کیا کہ حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شدید گرمی کے دن میں ہم چلے ہم ایک درخت کے سائے کے نیچے اترے جب سورج ڈھل گیا میں نے اپنی زرہ پہنی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوا پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے اسلام علیکم یا رسول اللہ روحمتہ اللہ وبرکاتہ روانہ ہونے کا وقت قریب آگیا یا رسول اللہ آپ نے فرمایا ہاں پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بلال وہ درخت کے نیچے سے اٹھے جس کا سایہ ایک پرندہ کے سائے (کے برابر) تھا عرض کیا میں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے حکم کے مطابق موافقہ کرنے والا ہوں۔ اور میں آپ پر فدا ہوں پھر آپ نے فرمایا میرے گھوڑے کو زین پہنا دو ۔ چناچہ کھجور کی چھال کے دو تکیے لائے۔ جن میں تکبر ونخر نام کا نہ تھا۔ راوی نے کہا کہ آپ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے پھر ہم نے ان سے لڑنا شروع کردیا۔ مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگے جیسے عزوجل نے فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ نے پکارنا شروع کیا اے اللہ کے بندو ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں رسول اللہ ﷺ اپنے گھوڑے سے نیچے اترے۔ مجھ سے بیان کیا اس آدمی نے جو آپ کی طرف مجھ سے زیادہ قریب تھا آپ نے مٹی سے ایک لب بھری اور اس کو قوم کے چہروں میں پھینکا۔ اور فرمایا (آیت) ” شاھت ولوجوہ “ یعلی بن عطا نے فرمایا ہم کو ان کے بیٹوں نے اپنے بوپوں کی طرف سے یہ خبر دی کہ ان کافروں نے کہا ہم میں سے کوئی باقی نہیں بچا اس کی آنکھیں اور اس کا منہ مٹی سے بھرا اور ہم نے آسمانوں سے گھنٹی کی آواز اس طرح سنی جیسے لوہا لگنے سے لوہے کے طشت پر اور اللہ عزوجل نے ان کو شکست دی۔ غزوہ حنین میں مشرکین کی طرف مٹھی پھینکنا : 9:۔ طبرانی والحاکم وابو انعیم والبیہقی نے دلائل میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ حنین کے دن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا لوگ آپ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے یہاں تک کہ آپ کے ساتھ صرف اسی آدمی رہ گئے مہاجرین اور انصار میں سے ہم تقریبا اسی قدموں کا فاصلہ پر کھڑے ہوئے۔ اور ہم نے پیٹھ نہیں پھیری (یعنی ہم نہیں بھاگے اور اپنی جگہ پر کھڑے رہے) اور یہ وہ لوگ تھے کہ ان پر اللہ تعالیٰ نے سکینہ کو نازل فرمایا اور رسول اللہ ﷺ اپنے خچر پر سوار تھے آپ چند قدم چلے اور فرمایا مٹی سے ایک ہتھیلی بھر کر مجھ کو دو ۔ میں نے آپ کو دی تو آپ نے ان کے چہروں پر پھینکی تو ان کی آنکھیں مٹی سے بھر گئیں اور مشرکین پیٹھ پھیر کر الٹے پاوں بھاگ گئے۔ 10:۔ ابن ابی شیبہ واحمد والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں انس ؓ سے روایت کیا کہ حنین کے دن (قبیلہ) ہوازن عورتوں کو، بچوں کو، اونٹوں کو اور بھیڑ بکریوں کے ریوڑوں کو لے کر آئے انہوں نے ان کی صفیں بنائیں تاکہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہماری کثرت ہوجائے پھر مسلمان اور مشرک آپس میں ملے (یعنی جنگ کی) تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے جیسے اللہ عزوجل نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے آواز دی۔ اے اللہ کے بندو ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر فرمایا اے انصار کی جماعت ! میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول ہوں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی نہ کسی نے تلوار چلائی اور نہ نیزہ مارا۔ 11:۔ عبدالرزاق وابن سعد واحمد ومسلم والنسائی وابن منذر وابن ابی حاتم والحاکم (اور آپ نے اس کو صحیح کہا) وابن مردویہ نے عباس بن عبدالمطلب ؓ سے روایت کیا کہ میں حنین کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر ہوا اور میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ کے ساتھ کوئی نہیں تھا صرف میں اور ابوسفیان بن حرث بن عبدالمطلب کے ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہے۔ اور ہم آپ سے جدا نہیں ہوئے۔ اور آپ اپنے خچر شہباد پر سوار تھے جس کو فروہ بن معاویہ جذامی نے آپ کو ہدیہ کیا تھا جب مسلمان اور مشرک آپس میں لڑے تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے اور نبی کریم ﷺ اپنے خچر کو کافروں کی طرف دوڑانے لگے اور میں آپ کی لگام پکڑے ہوئے تھا میں اس کو روک رہا تھا تاکہ وہ جلدی اور تیز رفتاری سے نہ چلے حالانکہ آپ تو مشرکین کی طرف بہت تیزی سے بڑھنے میں کوئی تاخیر نہیں فرما رہے تھے ابو سفیان بن حارث رسول اللہ ﷺ کی رکاب کو پکڑے ہوئے تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عباس ؓ ! ببول والوں کو بلاؤ اے اصحاب البقرہ اللہ کی قسم ! پس ان پر بہت مہربان ہوں جیسے گائے مہربان ہوتی ہے اپنی اولاد پر جب وہ میری آواز کو سنیں گے تو پکارنے لگیں گے ہم مہاجرین ہم حاضر ہیں مسلمان آگئے اور کفار کے ساتھ جنگ شروع ہوگئی۔ آوازیں بلند ہوئیں اور وہ کہہ رہے تھے اے انصار کا گروہ اے انصار کا گروہ پھر بلاوا بنوالحارث بن الخزاج پر محدود ہوگیا رسول اللہ ﷺ کو اپنے خچر پر ٹھہرنا لمبا ہوگیا۔ اور آپ نے فرمایا کہ اب جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے کنکریوں کو لیا اور ان کو کافروں کے چہروں پر مارا پھر فرمایا کعبہ کے رب کی قسم (کافر) شکست کھاگئے۔ میں نے دیکھا شروع کیا اتنے میں جنگ ٹھنڈی پڑگئی۔ اور یہ جب ایسا ہوا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ان پر کنکریوں پھینکی تھیں (جو ان کی آنکھیں اور منہ میں بھرگئیں) میں برابر دیکھ رہا تھا کہ ان کی (تلواروں کی) دھاریں کند ہوگئیں۔ اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے ان کو شکست دے دی۔ انصارکا آپ ﷺ پر جانثار کرنا :۔ 12:۔ حاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین کے دن انصار کو آواز دی اور فرمایا اے انصار کا گروہ انہوں نے جواب دیا ہم حاضر ہیں ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ آپ نے فرمایا پوری توجہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف آجاؤ وہ تم کو ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ لوگ آگئے اور معرکہ حنین انہی کا شکار ہوگیا یہاں تک کہ انہوں نے گھیرے میں لے لیا ایک جماعت کو جو متکبرانہ انداز میں کندھوں کو ہلاک جنگ پڑتے تھے اور (برابر) لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی۔ 13:۔ ابوالشیخ والحاکم (اور آپ نے اس کو صحیح کہا) وابن مردویہ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ حنین کے دن جب مکہ والے اور مدینہ والے جمع ہوئے تو ان کو اپنی کثرت خوش لگی اور قوم نے کہا آج اللہ کی قسم ہم (دشمن سے خوب) لڑیں گے جب (دشمن سے) جنگ ہوئی اور لڑائی سخت ہوئی اور پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے انصار کو آواز دی اور فرمایا اے مسلمان کے لشکر اللہ کے بندوں کی طرف آؤ میں اللہ کا رسول ہوں انہوں نے کہا آپ کی طرف آئے اللہ کی قسم ہم آرہے ہیں انہوں نے اپنے سروں کو جھکا لیا پھر لڑے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطا فرمائی۔ 14:۔ حاکم نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین کے دن اونٹ کے بالوں کو لیا پھر فرمایا اے لوگو میرے لئے حلال نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو تم کو مال غنیمت عطا فرمایا ہے اس میں خمس کے سوا اتنی مقدار بھی حلال نہیں میرے لئے اور پھر پانچواں حصہ بھی تم پر لوٹا دیا جائے۔ لہذا دھاگے اور سوئی تک سب پہنچا دو ۔ اور تم مال غنیمت میں سے چوری کرنے سے بچو کیونکہ یہ باعث ننگ وعار ہوگا قیامت کے دن ایسا کرنے والے کے لئے اور تم پر لازم ہے اللہ تعالیٰ کے راستے پر جہاد کرنا کیونکہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ رنج وغم کو دور فرماتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ مال غنیمت کو پسند فرماتے تھے چاہئے کہ خوشحال اور مضبوط مومن اپنے کمزور پر لوٹا دے (اپنے مال غنیمت کو) 15:۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے حنین کے دن دیکھا کہ دونوں جماعتیں (مسلمان اور کافر) بھاگ رہے ہیں عکرمہ نے فرمایا جب حنین کا دن تھا مسلمان اور مشرک پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ رسول اللہ ﷺ ثابت قدم رہے اور فرمایا میں محمد اللہ کا رسول ہوں تین مرتبہ فرمایا اور ان کے پہلو میں آپ کے چچاعباس ؓ تھے نبی کریم ﷺ نے اپنے چچا عباس ؓ سے فرمایا اے عباس آواز لگاؤ اے شجرہ والو (یعنی) بیت رضوان میں شریک ہونے والو ! تو ہر جگہ سے انہوں نے جواب دیا ہم حاضر ہیں ہم حاضر ہیں یہاں تک کہ انہوں نے اپنے نیزوں کے ساتھ آپ پر سایہ کردیا پھر آپ مسلسل جنگ لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کامیابی عطا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ( آیت) ” ویوم حنین اذا عجبتکم کثرتکم “ 16:۔ ابوالشیخ نے محمد بن عبید اللہ بن عمیر الیثی سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ انصار میں سے چار ہزار جہینہ میں سے ایک ہزار مزینہ میں سے ایک ہزار اور قبیلہ اسلم میں ایک ہزار غفار میں سے ایک ہزار اشجع میں سے ایک ہزار مہاجرین اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں میں سے ایک ہزار اس طرح آپ کے ساتھ دس ہزار کا لشکر تھا اور آپ بارہ ہزار کا لشکر لے کر حنین کی طرف روانہ ہوئے۔ اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ( آیت) ” ویوم حنین اذا عجبتکم کثرتکم فلم تغن عنکم شیئا “ 17:۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم وابن مردویہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا کہ تم بھی حنین کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تھے فرمایا اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ نے پیٹھ نہیں پھیری لیکن آپ کے صحابہ میں سے نوجوان اور ان کے پیچھے کچھ تھکے ماندے لوگ نکلے (کیونکہ) ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا اور ان کا سامنا ھوازن اور بنونظر کے تیر اندازوں کے ایک گروہ سے ہوگیا ان پر تیر برسنے لگے اور جو تیر مارتے وہ خطا ہوجاتے۔ پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف آئے اور آپ اپنے سفید خچر پر تھے اور آپ کے چچا کا بیٹا ابو سفیان بن حرث بن عبدالمطلب اس کی لگام پکڑے ہوئے تھا پھر آپ نیچے اترے اور دعا فرمائی اور مدد طلب فرمائی اللہ تعالیٰ سے پھر فرمایا ” انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب “ یعنی میں نبی ہوں اس میں کھوٹ نہیں اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں پھر آپ کے صحابہ کرام ؓ نے صف بندی کی۔ 18۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وانزل جنودا لم تروھا وعذب الذین کفروا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کو تلوار سے قتل کیا۔ غزوہ حنین کے موقع پر فرشتوں کی مدد : 19:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ حنین کے دن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کی مدد فرمائی پانچ ہزار فرشتوں کے ساتھ نشان لگے ہوئے اس دن اللہ تعالیٰ نے انصار کو مومنین کے نام سے پکارا اور ارشاد فرمایا (آیت) ” ثم انزل اللہ سکینتہ علی رسولہ وعلی المومنین “ 20:۔ ابن اسحاق وابن منذر وابن مردویہ و ابونعیم والبیہقی نے جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ میں نے قوم کی شکست سے پہلے دیکھا اور لوگ ایک دوسرے کو قتل کررہے تھے کہ آسمان سے ایک چیز دھاری دار کمبل کی طرح اتر رہی ہے یہاں تک کہ وہ قوم کے درمیان اتر پڑی میں نے دیکھا اچانک سیاہ رنگ کی چینٹیوں پھیل گئی اور اس میں وادی کو بھر دیا میں نے اس بات میں شک نہیں کیا وہ ملائکہ (علیہم السلام) تھے پھر (اس مدد سے) قوم کو شکست ہوگئی۔ 21:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعذب الذین کفروا “ سے شکست مراد ہے۔ 22:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن زہری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعذب الذین کفروا “ سے مراد ہے شکست اور قتل اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت) ” ثم یتوب اللہ من بعد ذلک علی من یشآء “ یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی توبہ قبول فرمائے گا جنہوں نے حنین کے دن نبی کریم ﷺ سے شکست کھائی۔ 23:۔ ابن سعد البخاری نے تاریخ میں اور حاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا والبیہقی نے دلائل میں عبداللہ بن عیاض بن حرص (رح) سے روایت کیا کہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قبیلہ ھوازن کے پاس بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ تشریف لائے اور آپ نے حنین کے دن طائف کے لوگ بدر کے دن کے مقتولین کے برابر قتل کئے اور رسول اللہ ﷺ نے ایک مٹھی کنکریوں میں سے لی اور ان کو ہمارے چہروں پر پھینکا جس سے ہم کو شکست ہوگئی۔ 24:۔ احمد ومسلم نے سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین میں جنگ کی جب ہم دشمن کے سامنے ہوئی تو میں آگے بڑھا تو وہ لوگ گھاٹی پر چڑھے ہوئے تھے دشمن کا ایک آدمی سامنے آیا میں نے اس پر تیر چلایا تو وہ مجھ سے چھپ گیا میں نہیں جانتا پھر اس نے جو کچھ کیا میں نے قوم کی طرف دیکھا کہ اچانک گھاٹی سے نکل آئے اور ان کی نبی ﷺ کے اصحاب کے ساتھ جنگ چھڑگئی اور میں چادر باندھے ہوئے تھا اور شکست کھاتے ہوئے پیچھے لوٹا اور میں دو چادریں پہنے ہوئے تھا ان میں سے ایک تو نیچے باندھے ہوئے تھا اور دوسرے کو اوڑھے ہوئے تھا میری چادر کھل گئی میں نے ان دونوں کو اکھٹا کیا اور شکست کھاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اور آپ اپنے خچر شہباپرسوار تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے ابن الاکوع کو گھبرائے ہوئے دیکھا جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو گھیر لیا تو آپ خچر سے اتر آئے پھر آپ نے زمین کی مٹی میں ایک مٹھی بھری ان کے چہروں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا (آیت) شاھۃ الوجہ “ بدشکل ہوگئے اور مٹی ان پر پھینک دی ان میں سے جس انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا اس کی آنکھیں مٹی سے بھر گئیں اس مٹی کے ساتھ وہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگے اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دی اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی غنیمت کے مال کو مسلمانوں میں تقسیم فرمایا۔ 25:۔ بخاری نے تاریخ میں اور بیہقی نے دلائل میں عمروبن سفیان سقفی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین کے دن کنکریوں میں سے ایک مٹھی بھری اور ہمارے چہروں پر پھینکی تو ہم شکست کھا گئے ہماری طرف کوئی گھوڑا سوار نہیں تھا مگر یہ کہ ہر پتھر پر اور ہر درخت گھوڑ سوار تھا جو ہم کو تلاش کررہا تھا۔ 26:۔ بخاری نے تاریخ میں وابن مردویہ والبیہقی نے یزید بن عامر سوائی سے روایت کیا کہ وہ حنین میں مشرکین کے ساتھ حاضر ہوئی پھر اسلام لے آئے حنین کے دن رسول اللہ ﷺ نے زمین میں ایک مٹھی بھری اور اس کو مشرکین کے چہروں پر پھینک دی اور فرمایا ” ارجعو شاھۃ الوجوہ “ لوٹ جاؤ منہ بدشکل ہوئے جس سے بھی کوئی بھاگ ملا وہ یہ شکایت کررہا تھا کہ اس کی آنکھوں میں تنکا پڑگیا اور وہ اپنی آنکھوں کو مسل رہا تھا۔ غزوہ حنین میں مشرکین کا پلٹ کر حملہ کرنا :۔ 27:۔ مسدد نے اپنی مسند میں والبیہقی وابن عساکر نے عبدالرحمن مولیٰ ام برثن سے روایت کیا کہ مجھے مشرکین میں سے ایک جماعت نے حنین کے دن بیان کیا کہ جب ہم اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام آپس میں لڑے تو وہ لوگ (یعنی صحابہ) ایک بکری کے دوہنے تک بھی ہمارے ساتھ نہیں ٹھہرسکے مگر یہ کہ ہم ان پر غالب آگئے اس درمیان کہ ہم ان کو پیچھے دھکیلے جارہے تھے کہ اچانک ہم ملے ایک سفید خچر والے سے اور وہ رسول اللہ ﷺ تھے ہم ان کے پاس خوبصورت سفید چہرے والے سردیکھتے انہوں نے ہم سے کہا ” شاھت الوجوہ ارجو “ یعنی منہ بدشکل ہوئے لوٹ جاؤ ہم لوٹ گئے اور ہمارے کندھوں پر سوار ہوگئے حالانکہ وہ وہی تھے کہ (ہم پر غالب آگے ہم تھک ہار گئے تھے) 28:۔ بیہقی نے ابن اسحاق کے راستے سے امیہ بن عبداللہ بن عمر وبن عثمان بن عفان سے روایت کیا کہ مالک بن عوف نے جاسوس بھیجے پس وہ آپ کے پاس آئے (اس حال میں) کہ ان کے جوڑ کاٹ دیئے گئے تھے۔ انہوں نے دیکھ کر پوچھا افسوس ہے تم کو کیا ہوا انہوں نے کہا ہمارے پاس سفید آدمی سیاہ سفید داغوں والے گھوڑوں پر آئے اللہ کی قسم انہوں نے ہم کو مضبوط پکڑ لیا اور وہی ہمارے ساتھ یہ کچھ ہوگیا۔ جو تم دیکھتے ہو۔ 29:۔ ابن مردویہ والبیہقی وابن عساکر نے مصعب بن شیبہ عن عثمان الجعبی (رح) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ حنین کے دن نکلا اللہ کی قسم ! میں مسلمان ہو کر نہیں نکلا تھا لیکن میں یہ ڈرتے ہوئے نکلا تھا کہ کہیں ہوازن قریش پر غالب آجائیں اللہ کی قسم میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑا ہوا تھا اچانک میں نے کہا اے اللہ کے نبی میں نے ایک سیاہ سفید داغوں والے گھوڑا دیکھا ہے آپ نے فرمایا اے شیبہ اس کو نہیں دیکھے گا مگر کافر آپ نے اپنے ہاتھ مبارک میرے سینے کے پاس مارا یہاں تک کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی کو اپنے نزدیک آپ سے بڑھ کر زیادہ محبوب نہیں پایا راوی نے کہا مسلمان لڑے جو قتل ہونا تھا وہ قتل ہوا پھر نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور عمر ؓ لگام پکڑے ہوئے تھے اور حضرت عباس ؓ رکاب تھامے ہوئے تھے عباس نے آواز لگائی مہاجرین کہاں ہیں سورة بقرہ والے کہاں ہیں اونچی آواز کے ساتھ یہ رسول اللہ ﷺ ہیں لوگ متوجہ ہوئے اور نبی کریم ﷺ یہ فرما رہے تھے میں نبی ہوں اس میں جھوٹ نہیں ہے اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں مسلمان متوجہ ہوئے اور وہ تلواروں سے لڑنے لگے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اب جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

اے ایمان والو ! مشرکین پلید ہیں سو وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس نہ آئیں اور اگر تم فقر سے ڈرتے ہو تو عنقریب اللہ تمہیں اپنے فضل سے غنی کردے گا اگر چاہے بیشک اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے

1:۔ احمد ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے اس سال کے بعد کوئی مشرک مسجد حرام میں داخل نہیں ہوگا سوائے معاہدہ کرنے والوں اور تمہارے خدمت کرنے والوں کے۔ 2:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجدالحرام بعد عامہم ھذا “ (یعنی مشرک اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ جائیں) مگر وہ (کسی مسلمان کا) غلام ہو یا ذمی لوگوں میں سے ہو (ان کو اجازت ہے) 3:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما المشرکون نجس “ یعنی پلید و ناپاک ہیں “ (آیت) ” فلا یقربوا المسجدالحرام بعد عامہم ھذا “ اور یہ وہ سال تھا جس میں ابوبکر ؓ نے حج کیا اور علی ؓ نے اعلان فرمایا اور یہ ہجرت کا نواں سال تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے آئندہ سال میں الوداعی حج کیا۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد آپ نے حج نہیں کیا جب سے آپ نے ہجرت فرمائی جب اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو مسجد حرام سے روک دیا تو یہ حکم مسلمان پر بھاری گزرا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” وان خفتم علیۃ فسوف یغنیکم اللہ من فضلۃ ان شآء “ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس خراج اور اس پر نافذ شدہ جزیہ سے مستفعی کردیا جو وہ ان سے ہر مہینہ اور ہر سال بعد لیتے تھے۔ (اب) کسی مشرک کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب جائے مگر یہ کہ جزیہ ادا کرنے والا ہو یا مسلمان میں سے کسی آدمی کا غلام ہو۔ 4:۔ سعید بن منصور وابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین بیت اللہ کی طرف آتے تھے اور اپنے ساتھ غلہ لاتے تھے کہ اس میں وہ تجارت کرتے تھے جب بیت اللہ سے ان کو روک دیا گیا تو مسلمانوں نے کہا ہمارے لئے غلہ کون لائے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” وان خفتم علیۃ فسوف یغنیکم اللہ من فضلۃ ان شآء “ ابن عباس نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر بارش کو نازل فرمایا ان کی خوشحالی اور خیر میں اضافہ ہوگیا جب مشرکین ان سے چلے گئے۔ 5:۔ ابن جریر وابوالشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) انما المشرکون نجس فلایقربوا المسجد الحرام بعد عامہم ھذا “ نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ کے اصحاب پر (یہ حکم) بھاری گزرا۔ اور انہوں نے کہا ہمارا غلہ اور سامان کون لائے گا تو (یہ آیت) ” وان خفتم عیلۃ (الآیہ) نازل ہوئی۔ 6:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا جب اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو مسجد حرام سے روک دیا۔ تو شیطان نے ایمان والوں کے دلوں میں (یہ بات) ڈالی اور کہا کہ تم کہاں سے کھاؤ گے اور مشرکین کو روک دیا گیا اور تم سے قافلوں کو کاٹ دیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وان خفتم علیۃ فسوف یغنیکم اللہ من فضلۃ ان شآء “ اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے ساتھ لڑنے کا حکم فرمایا اور ان کو اپنے فضل سے غنی کردیا۔ مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے : 7:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت کے بارے میں فرمایا کہ ایمان والوں نے کہا مشرکین کی منڈیوں سے ہم اشیاء لے لیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا کہ وہ ان کو اپنے فضل سے غنی کردیں گے ان کافروں کے بدلے میں لیکن وہ لوگ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں۔ یہ آیت سورة براۃ کی پہلی آیتوں میں سے ہے قرات میں اور اس کی آخری آیتوں میں سے ہے تاویل کے لحاظ سے۔ 8:۔ ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ سارے حرم میں مشرک داخل نہیں ہوگا اور یہ آیت تلاوت فرمائی۔ 9:۔ عبدالرزاق والنحاس نے اپنی ناسخ میں عطاء (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلایقربو المسجد الحرام “ سے مراد دیوار حرم ہے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ سارے حرم میں مشرک داخل نہ ہوگا۔ 10:۔ عبدبن حمید وابن منذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان خفتم عیلۃ “ میں علیہ سے مراد ہے فاقہ۔ 11:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فسوف یغنیکم اللہ من فضلہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جاری رہنے والے جزیہ (یعنی ٹیکس) سے مالدار بنا دیا۔ 12:۔ ابوالشیخ نے اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن عبدالعزیز (رح) نے لکھا کہ یہود و نصاری کی مسجدوں میں داخل ہونے سے روک دیا جائے اور اس میں انہوں نے اس نبی کی اتباع کی (آیت) ” انما المشرکون نجس “ 13:۔ ابوالشیخ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما المشرکوں نجس “ (کی وجہ سے) جو ان سے مصافحہ کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ وضو کرے۔ 14:۔ ابوالشیخ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کسی مشرک سے مصافحہ کیا تو اس کو چاہئے کہ وضو کرے یا اس کو چاہئے کہ اپنے ہاتھوں کو دھوئے۔ 15:۔ ابن مردویہ نے ہشام بن عروہ (رح) سے روایت کیا کہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور آپ نے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دیا تو انہوں نے اسے اپنے ہاتھ میں لینے سے انکار کردیا آپ نے فرمایا اے جبرئیل (علیہ السلام) تجھے کس چیز نے روکا ہے کہ تو میرے ہاتھ کو پکڑے انہوں نے کہا آپ نے ایک یہودی کا ہاتھ پکڑا ہے تو میں نے اپنے ہاتھ کو آپ کے ہاتھ سے چھونے کو ناپسند کیا ہے کیونکہ آپ نے ایک کافر کے ہاتھ کو چھوا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے پانی منگوا کو وضو فرمایا پھر اپنے ہاتھ کو ان کے ہاتھوں میں دیا تو انہوں نے بھی اسے پکڑ لیا (یعنی مصافحہ فرمایا) 16:۔ ابن مردویہ اور سمویہ اپنے فوائد میں ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مسلمان کے سوا کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا۔ اور ننگے ہو کر کوئی بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا۔ اور اس سال کے لئے کوئی مشرک مسجد حرام کے قریب نہیں جائے گا اور جس آدمی کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کوئی معاہدہ ہے تو اس کے لئے معاہدہ کی مدت تک مہلت ہے۔ 17:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال فرمایا کہ مسجد حرام میں کوئی مشرک داخل نہ ہوگا اور کوئی مسلمان جزیہ ادا نہیں کرے گا۔ یہود و نصاری کو جزیرۃ العرب سے نکالنا : 18۔ عبدالرزاق نے مصنف میں عمر بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سب سے آخر میں جو بات فرمائی وہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ یہود و نصاری کو قتل کرے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ کرنے کی جگہ بنالیا۔ (اب) عرب کی زمین میں دو دین باقی نہیں رہیں گے (صرف ایک دین اسلام ہوگا) 19:۔ عبدالرزاق نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی موت کے وقت وصیت فرمائی کہ کسی یہودی یا نصرانی کو حجاز کی زمین میں نہ چھوڑو اور اسامہ کے لشکر کو شام کی طرف روانہ کرو اور قبط (قبیلہ) کے لئے خیروبھلائی کے مبارک کی وصیت فرمائی کیونکہ ان کے ساتھ قرابت کا تعلق تھا۔ 20:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک مرفوع روایت میں ہے کہ مشرکین کو عرب کے جزیرہ سے نکال دو ۔ 21:۔ ابن ابی شیبہ نے ابو عبیدہ بن جراح ؓ سے روایت کیا کہ آخری بات جو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی وہ یہ تھی کہ یہودیوں کو حجاز کی زمین سے نکال دو اور نجران والوں کو عرب کے جزیرہ سے نکال دو ۔ 22:۔ ابن ابی شیبہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں باقی رہا تو مشرکین کو عرب کے جزیرہ سے میں ضرور نکال دوں گا۔ حضرت عمر خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ان کو نکال دیا۔
Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں سمجھتے اور دین حق کو قبول نہیں کرتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں کتاب دی گئی ان سے یہاں تک جنگ کرو کہ وہ ماتحت ہو کر ذلت کی حالت میں اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں

1:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت) اس سال میں اتاری جس میں ابوبکر ؓ نے مشرکین کے ساتھ عہد توڑنے کا اعلان کیا۔ یعنی (آیت) یایھا الذین امنوا انما المشرکون نجس “ (اور) مشرکین تجارت کا مال لے کر آتے تھے جس سے مسلمان بھی نفع اٹھاتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے مشرکین مسجد حرام کے قریب آنے کو حرام کو دیا تو مسلمانوں کے دلوں میں یہ خیال آیا کہ ان کی وہ تجارت ختم ہوجائے گی جس کا لین دین مشرک کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) ” وان خفتم عیلۃ فسوف یغنیکم اللہ من فضلہ ان شآء “ اس لئے آیت میں جو اس کے پیچھے آرہی ہے (کافروں سے) جزیہ (لینے کا حکم فرمایا) اس سے پہلے نہیں لیا جاتا تھا اور اس کو مشرکین کے تجارت کے مال کے عوض میں بنادیا جس سے ان کو روک دیا گیا۔ پھر فرمایا (آیت) ” قاتلوا الذین لا یومنون باللہ ولا بالیوم الاخر “ سے لے کر ” صغرون “ تک پس مسلمان اس کا زیادہ حق رکھتے ہیں کہ وہ پہچانیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس منافع سے افضل اور بہترعوض عطا فرمایا ہے۔ جو وہ مشرکین سے تجارت کرکے حاصل کرتے تھے۔ قتال کی دو صورتیں : 2:۔ ابن عساکر نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قتال کی دو صورتوں میں ایک ہے مشرکین سے لڑنا یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں یا اپنے ہاتھ سے یہ جزیہ اس حال میں کہ وہ ذلیل ہوں۔ اور باغیوں کی جماعت سے لڑنا یہاں تک کہ وہ لوٹ آئیں اللہ کے حکم کی طرف اگر وہ لوٹ آئیں تو پھر عدل و انصاف کیا جائے گا۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والبیہقی نے اپنی سنن میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قاتلوا الذین لا یومنون باللہ “ کے (یہ آیت) نازل ہوئی جب محمد ﷺ کو اور آپ کے اصحاب کو غزوہ تبوک کا حکم دیا گیا۔ 4:۔ ابن منذر نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ (یہ آیت) کفار قریش اور عرب کے بارے میں نازل ہوئی (فرمایا) (آیت) ” وقتلوہم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین للہ “ (البقرۃ آیت 193) اور اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوا۔ (آیت ) ” قاتلوا الذین لایومنون باللہ ولا بالیوم الاخر “ سے لے کر ” یعطوا الجزیۃ “ سب سے پہلے نجران والوں نے جزیہ دیا۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے ” الجزیۃ عن ید “ کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا زمین کا اور غلام کا جزیہ (لیا جائے گا) 6:۔ نحاس نے اپنی ناسخ میں اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قاتلوا الذین لایومنون باللہ ولا بالیوم الاخر “ کے بارے میں فرمایا اس آیت کے ذریعہ اس آیت کے ذریعہ مشرکین سے در گزر کرنے کو منسوخ کردیا گیا۔ 7:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا جب رسول اللہ ﷺ عرب کے قریب لوگوں کے لڑنے سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے جہاد کرنے کا حکم فرمایا۔ 8:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قاتلوا الذین لایومنون باللہ “ سے مراد ہے یعنی وہ لوگ جو اللہ کی توحید کی تصدیق نہیں کرتے (اور فرمایا) (آیت) ” ولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ “ یعنی شراب اور خنزیر کو وہ حرام نہیں سمجھتے ” (آیت) ” ولایدینون دین الحق “ یعنی دین اسلام کو وہ قبول نہیں کرتے (آیت) ” من الذین اوتوا الکتب “ یعنی یہود و نصاری میں سے جن کو امت محمد ﷺ کے مسلمانوں سے پہلی کتاب دی گئی تھی (فرمایا) (آیت) ” حتی یعطوا الجزیۃ عن یدوہم صغرون “ یعنی وہ ذلیل ورسوا ہوں۔ 9:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” عن ید “ سے مراد ہے منسوب اور مجبور ہو کر (جزیہ ادا کریں) 10:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عینیہ (رح) سے فرمایا کہ ” عن ید “ سے مراد ہے کہ اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں اور اپنے علاوہ کسی اور کے ہاتھ نہ بھیجے۔ 11:۔ ابن منذر نے ابوسفیان (رح) سے روایت کیا کہ ” عن ید “ سے مراد ہے قدرت سے دینا۔ 12:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عن یدوہم صغرون “ سے مراد ہے کہ وہ مکہ نہ مار رہے ہوں۔ 13:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھم صغرون “ سے مراد ہے کہ اس خیال میں وہ پسندیدہ اور قابل تعریف نہیں۔ رستم کی طرف قاصد بھیجے گئے : 14:۔ ابن ابی حاتم مغیرہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ رستم کی طرف بھیجے گئے رستم نے ان سے کہا تم کس بات کی طرف بلاتے ہو ؟ انہوں نے اس سے فرمایا تجھ کو میں اسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں اگر تو اسلام لے آیا تو تیرے لئے وہی (حقوق) ہوں گے جو ہمارے لئے ہیں اور تجھ پر وہ ذمہ داریاں ہوں گی جو ہم پر ہیں اس نے کہا اگر میں انکار کردوں تو فرمایا اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کر اس حال میں کہ تو مغلوب ہو تو اس نے اپنے ترجمان سے کہا کہ جزیہ دینے کے مفہوم کو میں نے جان لیا ہے لیکن تیرا قول ” وانت ساغر “ سے مراد ہے اس حال میں کہ تو کھڑا ہو اور میں بیٹھا ہوں اور کوڑا تیرے سر پر ہو۔ 15:۔ ابوالشیخ نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے قلعہ والوں سے فرمایا جب مسلمانوں نے اس کا محاصرہ کر رکھا تھا انہوں نے سوال کیا کہ جزیہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہم تم سے دراہم کو وصول کریں گے اور مٹی تمہارے سروں پر ہوگی۔ 16:۔ ابن ابی شیبہ واحمد نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ وہ قلعہ کی طرف پہنچے اور ان سے کہا اگر تم ایمان لے آؤ تو تمہارے لئے وہی حقوق ہیں جو ہمارے لئے ہیں اور تم پر سب ذمہ داریاں ہوں گی جو ہم پر ہیں اگر تم انکار کرو گے تو جزیہ ادا کرو اس حال میں کہ تم مغلوب ہو اگر تم انکار کرو تو ہم تمہارے (سر سے معاہدوں کو) پھینک دیں گے برابری کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے۔ 17:۔ ابوالشیخ نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ ذمی لوگوں کے لئے یہ زیادہ محبوب ہے وہ جزیہ کی ادائیگی میں اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے (آیت) حتی یعطوا الجزیۃ عن یدوہم صغرون “۔ 18۔ ابن ابی شیبہ نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ کو یمن کی طرف بھیجا تو ان کو حکم فرمایا ہر جوان مرد سے ایک دینار (جزیہ) یا اس کے برابر ستو۔ 19:۔ ابن ابی شیبہ نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجر والوں کے مجوسیوں سے جزیہ لیا اور یمن کے یہودی اور ان کے نصاری میں سے ہر جوان مرد سے ایک دینار لیا۔ 20:۔ ابن ابی شیبہ نے بجالہ (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ عنہنے مجوس سے جزیہ نہیں کیا یہاں تک کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ نے گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجر کے مجوس سے جزیہ لیا تھا (تو پھر عمر ؓ نے لینا شروع کیا) 21:۔ ان ابی شیبہ نے حسن بن محمد علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجر کے مجوسیوں کی طرف خط لکھا اور ان کو اسلام کی دعوت دی جو اسلام لے آیا اس سے قبول فرمایا جس نے انکار کیا تو ان پر جزیہ لگا دیا یہاں تک کہ آپ نے حکم فرمایا ان کا ذبیحہ نہ کھایا جائے اور ان میں سے کسی عورت سے نکاح نہ کیا جائے۔ 22:۔ مالک والشافع وابوعبید نے کتاب الرسول میں وابن ابی شیبہ نے جعفر (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمربن خطاب ؓ نے مجوسیوں سے جزیہ لینے کے بارے میں صحابہ ؓ اجمعین سے مشورہ لیا تو عبدالرحمن بن عوف نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ان کے ساتھ اہل کتاب کا طریقہ اختیار کرو۔ 23:۔ ابن منذر نے حذیفہ بن یمان ؓ سے رورایت کیا کہ اگر میں اپنے اصحاب کو مجوس سے جزیہ لیتا ہوا نہ دیکھتا تو میں ان سے نہ لیتا اور یہ (آیت) ” قاتلوا الذین لا یومنون باللہ “ تلاوت فرمائی۔ 24:۔ عبدالرزاق نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ان سے مجوس سے جزیہ لینے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم آج کے دن زمین پر مجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں اس مسئلہ کے بارے میں مجوس اہل کتاب تھے جس کی وہ معرفت رکھتے ہیں وہ اہل علم تھے (کیونکہ) وہ اس علم کو پڑھتے تھے ان کے امیر نے شراب پی لی اس کو نشہ ہوا تو وہ اپنی بہن پر واقع ہوگیا۔ مسلمانوں کی ایک جماعت نے اس کو دیکھا جب صبح ہوئی تو اس کی بہن نے کہا تو نے جو میرے ساتھ اس طرح اور اس طرح کیا ہے ایک جماعت نے تجھ کو دیکھا ہے کہ وہ تجھ پر اس بات کو نہیں چھپائیں گے اس نے لالچ والوں کو بلایا اور ان کو (خوب مال) عطا کیا پھر ان سے کہا تم جانتے ہو کہ آدم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کا اپنی بیٹی سے نکاح کیا تھا اتنے میں وہ لوگ آگئے جنہوں نے اس کو دیکھا تھا اور انہوں نے کہا (اللہ کی رحمت سے) دور ہونے والے کے لئے ہلاکت ہے۔ بلاشبہ تیری پیٹھ پر اللہ کی حد جاری ہوگی تو اس نے ان لوگوں کو قتل کردیا جو اس (امیر) کے پاس تھے۔ پھر ایک عورت آئی اس نے اسے کہا کیوں نہیں بلکہ میں نے بھی تجھ کو اس کے پاس دیکھا ہے۔ اس نے اس عورت سے کہا کے باغیوں کے لئے ہلاکت ہو عورت نے کہا اللہ کی قسم وہ باغی تھی پھر اس نے توبہ کرلی تو اس نے اس کو بھی قتل کردیا پھر جو کچھ ان کے دلوں میں تھا اور ان کی کتابوں میں تھا سب رات کے وقت ان سے لے لیا گیا اور صبح کے وقت ان کے پاس کوئی چیز نہ رہی۔ 25:۔ ابن ابی شیبہ وابوالشیخ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جزیرہ عرب کے رہنے والوں کو اسلام پر قتال کیا اور سب نے ان سے اس کے سوا کوئی چیز قبول نہیں کی اور یہ افضل ترین جہاد سے اس امت پر جہاد کے فرض ہونے کے بعد اہل کتاب کے بارے میں یہ حکم نازل ہوا (جس کو فرمایا) (آیت) قاتلوا الذین لا یومنون باللہ “ 26:۔ ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ بت پرستوں سے اسلام کی بنا پر قتال کیا جائے گا۔ اور اہل کتاب سے جزیہ (کے ادا نہ کرنے پر) کی بنا پر جہاد کیا جائے گا۔ 27:۔ ابو الشیخ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اہل کتاب کی بعض عورتوں ہمارے لئے حلال ہیں اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو ہمارے لئے حلال نہیں ہیں اور (یہ آیت) ” قاتلوا الذین لا یومنون باللہ ولا بالیوم الا خر “ تلاوت کی پس جنہوں نے جزیہ ادا کی ان کی عورتیں ہمارے لئے حلال ہیں اور جنہوں نے جزیہ نہیں دیا ان کی عورتیں ہمارے لئے حلال نہیں ہیں۔ ابن مردویہ کے الفاظ یوں ہیں اہل کتاب کا نکاح حلال نہیں ہے جب وہ حربی (یعنی لڑنے والے) ہوں پھر یہ آیت تلاوت کی۔ 28:۔ عبدالرزاق نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ایک آدمی نے کہا جو میں نے ایک ویران زمین کو لیا اس کو آباد کیا اور میں اس کا خراج ادا کرتا ہوں انہوں نے اس سے روک دیا پھر فرمایا کہ تم لوگ نہ ارادہ کرو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کافر کو اس کا بنایا ہو کہ وہ اسے اس کی گردن سے اتار کر اپنی گردن میں ڈال لے۔ پھر (یہ آیت تلاوت فرمائی) ” قاتلوا الذین لا یومنون باللہ “ سے لے کر ” وھم صغرون “ تک۔
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہودیوں نے کہا کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاری نے کہا کہ مسیح، اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ ان کی باتیں ہیں جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہیں۔ یہ ان لوگوں کی طرح باتیں کرتے ہیں جنہوں نے ان سے پہلے کفر اختیار کیا۔ اللہ انہیں غارت کرے، کدھر الٹے جارہے ہیں

1:۔ ابن اسحاق وابن جریر وابن ابی حاتم ابوالشیخ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سلام بن شکم نعمان بن اوفی، ابوانس، شاس بن قیس اور مالک بن صیف آئے۔ اور انہوں نے کہا ہم آپ کی کیسے تابعداری کریں آپ نے ہمارے قبلہ بھی چھوڑ دیا اور آپ عزیر کو اللہ کا بیٹا بھی نہیں مانتے (مزید) انہوں نے کہا کہ وہ اللہ کا بیٹا اس وجہ سے ہے کہ عزیز اہل کتاب میں سے تھے اور تورات ان کے پاس تھی وہ اس سے اپنا علم حاصل کرلیتے جو اللہ تعالیٰ چاہتے کہ وہ جان لیں پھر انہوں نے تورات کو ضائع کردیا اور حق کے خلاف پر عمل کرنے لگے ان میں تابوت بھی تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے تابوت کو اٹھالیا اور ان کو تورات بھلا دی اور ان کے سینوں سے بھی ختم کردی اور ان پر بیماری بھیج دی کہ اس سے ان کے پیٹ جلنے لگے (یعنی دست آنے لگے) یہاں تک کہ آدمی کا جگر کٹنے لگا اور تورات کو بھول گئے اور ان کے سینوں سے مٹا دیا گیا ان میں عزیر بھی تھے۔ یہ ان کے علماء میں سے تھے۔ عزیز (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کو پکار اور اس کی طرف گڑگڑائے کہ وہ چیز ان کی طرف لوٹ آئے جو ان کے سینے سے مٹ گئے۔ اس درمیان وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اللہ کی طرف گڑگڑا رہے تھے ایک نور اللہ کی طرف سے نازل ہوا اور اس کے پیٹ میں داخل ہوگیا اور وہ چیز لوٹ آئی جو تورات میں اس کے پیٹ سے چلی گئی تھی انہوں نے اپنی قوم میں آواز لگائی اور کہا اے میری قوم اللہ تعالیٰ نے مجھے تورات عطا فرما دی ہے یعنی میری طرف لوٹا دی ہے اور اسے اس شرط پر معلق کیا ہے کہ وہ ان کو اس کی تعلیم دیں گے جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ ٹھہرے رہے اور وہ ان کو سکھاتے رہے پھر وہ تابوت بھی آئی اس کے بعد ان پر نازل ہواجب کہ پہلے سے انکو اٹھالیا گیا تھا جب انہوں نے تابوت کو دیکھا تو جو کچھ اس میں تھا اسے انہوں نے اس پر پیش کیا جو عزیز نے بھی ان کو سکھایا تھا اور انہوں نے اس کو اسی طرح پایا پھر انہوں نے کہا اللہ کی قسم عزیر کو یہ (تورات کا علم) نہیں دیا گیا مگر اس وجہ سے کہ وہ اللہ کا بیٹا ہے۔ 2:۔ ابن منذر نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقالت الیھود عزیر ابن اللہ “ (یہ بات) ایک ہی آدمی نے کہی تھی جس کا نام منحاس تھا۔ بنی اسرائیل کی عورتوں کی نماز : 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل کی عورتیں رات کو جمع ہو کر نماز پڑھتی تھیں اور ایک ہو کر اللہ تعالیٰ کے اس فضل کو یاد کرتی تھیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا فرمایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر مخلوق میں سے سب سے بڑا شریر انسان مسلط کردیا بختی نصر نے تورات کو جلادیا اور بیت المقدس کو تباہ کردیا ان دنوں عزیز ایک نوعمر لڑکے تھے تو عزیز نے فرمایا کیا اس طرح ہوتا ہے تو وہ شہر کو چھوڑ کر پہاڑوں اور صحرا کی طرف چلے اور اس میں عبادت کرنے لگے اور لوگوں سے ملنا چھوڑ دیا ایک دن (دیکھا) ایک عورت قبر کے پاس رو رہی ہے عزیز نے اس سے فرمایا اے اللہ کی بندی ! اللہ سے ڈر ثواب کی امید رکھ اور صبر کیا کر تو نہیں جانتی کہ لوگوں کو اختیار موت تک ہے اس نے کہا اے عزیز تم مجھے روکتے ہو اور تم بنی اسرائیل کو چھوڑ کر پہاڑوں اور جنگلوں میں آگئے ہو اس نے کہا میں عورت نہیں ہوں لیکن میں دنیا ہوں عنقریب تیرے قریب میں ایک چشمہ ابلے گا اور ایک درخت اگے گا چشمہ میں پی لینا اور درخت کے پھل کھا لینا عنقریب تیرے پاس دو فرشتے آئیں گے ان کو چھوڑ دینا وہ کریں گے جو ارادہ رکھیں گے جب دوسرا دن ہوا تو چشمہ ابل پڑا درخت اگ آیا اور انہوں نے چشمہ کے پانی سے پیا اور درخت کے پھل سے کھایا۔ دو فرشتے آئے اور ان کے پاس ایک شیشے کی بوتل تھی جس میں نور تھا انہوں نے آپ کے منہ میں ڈال دیا جو کچھ اس میں تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو (ساری) تورات دل میں ڈال دی۔ انہوں نے آکر لوگوں کو لکھوادی۔ اس وقت لوگ کہنے لگے کہ عزیز اللہ کا بیٹا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بہت بلند شان والی ہے۔ 4: ابوالشیخ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ عزیز نے اپنے رب عزوجل سے دعا فرمائی کہ تورات کو ان کے دل میں ڈال دیا جائے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) پر اتاری گئی تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر (تورات کو) اتار دیا ( یعنی دل میں ڈال دیا) اس وجہ سے یہود نے کہا کہ عزیز اللہ کا بیٹا ہے۔ 5:۔ ابوالشیخ نے حمید خراط سے روایت کیا کہ عزیز تورات کو دس قلموں کے ساتھ لکھتے تھے ہر انگلی میں قل ہوتی تھی۔ 6:۔ ابو الشیخ نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ عزیز تورات کو زبانی پڑھتے تھے اور ان کو یہ قوت دی گئی تھی کہ وہ بادل کی بلندی میں دیکھ لیتے تھے تو اس وجہ سے یہود نے کہا کہ عزیز اللہ کے بیٹے ہیں۔ حضرت عزیز (علیہ السلام) کے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونے کا باطل عقیدہ : 7:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ یہودیوں نے عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہا اس وجہ سے کہ عمالقہ (قوم ان پر) غالب آئی ان کو قتل کیا اور تورات بھی لے لی ان کے علماء جو باقی بچے وہ بھاگے اور پہاڑوں میں تورات کی کتابیں دفن کردیں اور عزیر پہاڑوں کی چوٹیوں میں عبادت کرتے تھے صرف عید کے دن میں اترتے تھے پس یہ غلام رونے لگے اور کہا اے میرے رب آپ نے بنی اسرائیل کو بغیر علم کے چھوڑ دیا۔ وہ برابر ان پر روتا رہا یہاں تک کہ اس کی پلکیں گرگئیں۔ ایک مرتبہ وہ عید کے دن نیچے اترا جو وہ لوٹے تو اچانک وہ ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو کہ ان قبروں میں سے ایک قبر کے پاس رو رہی تھی وہ کہہ رہی تھی کہ اے کھلانے والے اے پہنانے والے، عزیر نے اس عورت سے کہا تو ہلاک ہو تجھے اس آدمی سے پہلے کون کھلاتا تھا کون تجھ کو پہناتا تھا یا تجھ کو پلاتا تھا ؟ کہنے لگی اللہ تعالیٰ عزیر نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ زندہ ہیں وہ نہیں مرے اس عورت نے کہا اے عزیر ! بنی اسرائیل سے پہلے علماء کو کون سکھاتا تھا ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ عورت نے کہا پھر کیوں ان پر روتا ہے ؟ جب انہوں نے پہچان لیا کہ اس عورت سے جھگڑا ہوجائے تو پیٹھ پھیر کر چل دیئے اس عورت نے بلایا اور کہا اے عزیر جب کل صبح ہوگی تو ایک نہر اس طرح اور اس طرح آئے گی۔ اس میں غسل کرلینا پھر تو نکل کر دو رکعت پڑھنا کیونکہ تیرے پاس ایک بوڑھا آدمی آئے گا جو کچھ وہ تجھ کو دے اس کو لے لینا جب صبح ہوئی تو عزیز اس نہر کی طرف چلے اس میں غسل کیا پھر نکلے اور دو رکعت پڑھی اور بوڑھا آدمی ان کے پاسآیا اور کہا اپنے منہ کو کھول آپ نے اپنے منہ کو کھولا تو اس نے اس میں کوئی چیز ڈال دی مانند بڑے انگارے کے جو کہ شیشی نما برتن میں جمع کی ہوئی تھی تین مرتبہ (ان کے منہ میں انڈیل دی) عزیر لوٹ آئے اور وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ تورات کو جاننے والے تھے (آکر) کہا اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس تورات لے کر آیا ہوں لوگوں نے ان سے کہا کیا تو بھی جھوٹ بولتا ہے۔ عزیر نے ارادہ کرتے ہوئے ہر انگلی پر قلم کو باندھ لیا پھر سب انگلیوں کے ساتھ لکھا اور تورات کو لکھ ڈالا۔ جب علماء لوٹے ان کو عزیرکا حال بتایا گیا ان علماء نے اپنی کتابوں کو نکالا جو وہ اسے پہاڑوں میں اٹھا کرلے گئے تھے اور ویرانوں میں دفن کردی تھیں، انہوں نے عزیر کی تورات سے مقابلہ کیا تو اس کو اس کی طرح پایا اور انہوں نے کہا تجھ کو اللہ تعالیٰ نے نہیں عطا کیا مگر یہ کہ تو اللہ کا بیٹا ہے۔ 8:۔ ابن مردویہ وابن عساکر نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین چیزیں ہیں جن میں شک کرتا ہوں میں نہیں جانتا کہ عزیر نبی تھے یا نہیں اور میں نہیں جانتا کہ آیا انکی اقتداء کرنے والے پر لعنت کی گئی ہے یا نہیں راوی کہتے ہیں کہ میں تیسری چیز کو بھول گیا۔ 9:۔ بخاری نے اپنی تاریخ میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ جب احد کا دن تھا رسول اللہ ﷺ کا چہرہ زخمی ہوا اور آپ کے آگے کے چار دانت ٹوٹ گئے رسول اللہ ﷺ اس دن اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر فرما رہے تھے کہ اللہ عزوجل یہودیوں پر بہت غصہ ہوئے کہ جب انہوں نے کہا کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے۔ اور نصاری پر بھی بہت غصہ ہوئے جب انہوں نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ بہت غصہ ہوا جس نے میرا خون بہایا اور میرے کنبہ کو تکلیف پہنچائی۔ 10:۔ ابن النجار نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عزیر نے فرمایا اے میرے رب تیری مخلوق میں سے اس کی علامت کیا ہے جس نے اپنے آپ کو صاف اور پاک کرلیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ جس نے تھوڑی چیز پر قناعت کرلیا اپنے لئے آخرت میں کثیر مال جمع کرلیا۔ 11:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یضاھئون قول الذین کفروا من قبل “ یعنی انہوں نے اس طرح کہا جیسے دوسرے دین والوں نے کہا۔ 12:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے وابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یضاھئون قول الذین کفروا من قبل “ کے بارے میں فرمایا کہ نصاری مشابہ ہوگئے یہود کے بات کے ان سے پہلے (یعنی) نصاری نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے جیسے یہودیوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے۔ 13:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قتلہم اللہ “ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے اور قرآن میں جہاں بھی قتل کا ذکر ہے وہاں لعنت مراد ہے۔ 14:۔ ابن منذر وابو الشیخ نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قتلہم اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ کلمہ عرب کی کلام میں سے ہے۔
Ayah 9:31

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں کو اور دریشوں کو رب بنالیا اور مسیح ابن مریم کو بھی اور حالانکہ ان کو یہی حکم ہوا تھا کہ صرف ایک معبود کی عبادت کریں جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اس چیز سے پاک ہے جو وہ شریک بناتے ہیں

1:۔ ابن سعد وعبد بن حمید والترمذی اور آپ نے اس کی تحسین کی وابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابوالشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں عدی بن حاتم ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سورة براۃ میں (یہ آیت) پڑھ رہے تھے (آیت) ” اتخذوا احبارہم ورھبانہم اربابا من دون اللہ “ پھر آپ نے فرمایا بلاشبہ وہ ان (احبار اور رھبان) کی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن جب انہوں نے ان کے لئے کسی چیز کو حلال کردیا تو ان لوگوں نے بھی اس کو حلال کرلیا اور جب انہوں نے ان پر کسی چیز کو حرام کردیا تو ان لوگوں نے بھی اس کو حرام کرلیا۔ 2:۔ عبدالرزاق والفریابی وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والبیہقی نے اپنی سنن میں ابو البحری (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے حذیفہ سے سوال کیا کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” اتخذوا احبارہم ورھبانہم اربابا من دون اللہ “ کے بارے میں بتائیے کیا وہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے فرمایا نہیں لیکن جب انہوں نے ان کے کسی چیز کو حلال کردیا تو ان لوگوں نے بھی اس چیز کو حلال کرلیا اور جب انہوں پر کسی چیز کو حرام کردیا تو ان لوگوں نے بھی اس کو حرام کرلیا۔ 3:۔ ابوالشیخ اور بیہقی نے شعب الایمان میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اتخذوا احبارہم ورھبانہم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ ان کی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن ان کی اطاعت کرتے تھے اللہ کی نافرمانی میں۔ 4:۔ ابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اتخذوا احبارہم “ یعنی یہود (نے اپنے علماء کے بارے میں) (آیت) ” ورھبانہم “ یعنی نصاری (نے اپنے درویشوں کو رب بنالیا) ” وما امروا “ یعنی جو ان کو حکم دیا گیا تھا اس کتاب میں جو ان کے پاس آئی تھی اور ان سے عہد لیا گیا تھا (آیت) ” الا لیعبدوا الھا واحدلا الہ الا ھو، سبحنہ عما یشرکون “ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی تسبیح اور پاکی بیان فرمائی اس کہ اس پر بہتان لگایا جائے۔ 5:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” احبارہم “ سے مراد ہے ان کے قراء (آیت) ” ورھبانہم “ سے مراد ہے ان کے علماء۔ 6:۔ ابن منذر نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ احبار یہودیوں سے تھے اور رھبان نصاری میں سے تھے۔ 7:۔ ابن ابی حاتم (رح) سے سدی (رح) سے اسی طرح روایت کیا کہ فضیل بن عیاض (رح) نے فرمایا کہ احبار سے علماء مراد ہیں اور رھبان سے عبادت گزار لوگ مراد ہیں۔
Ayah 9:32

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں۔ حالانکہ اللہ کو اس کے علاوہ کوئی بات منظور نہیں کہ وہ اپنے نور کو پورا کرے۔ اگرچہ کافروں کو ناگوارہو

1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یریدون ان یطفئوا نور اللہ بافواہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اسلام کو مٹانا چاہتے ہیں اپنی باتوں سے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یریدون ان یطفئوا نور اللہ “۔ کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ چاہتے ہیں کہ محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ ہلاک ہوجائیں کہ یہ لوگ مسلمان ہو کر زمین میں اللہ کی عبادت نہ کریں۔ یعنی اس سے عرب کے لوگ ہلاک ہوجائیں کہ یہ لوگ مسلمان ہو کر زمین میں اللہ کی عبادت نہ کریں یعنی اس سے عرب کے لوگ ہلاک ہوجائیں کہ لوگ مسلمان ہو کر زمین میں اللہ کی عبادت نہ کریں یعنی اس سے عرب کے وہ کافر اور اہل کتاب مراد ہیں جنہوں نے ان میں سے نبی کریم ﷺ کے ساتھ جنگ کی اور اللہ کی آیات کا انکار کیا۔ 3:۔ عبد بن حمید وابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یریدون ان یطفئوا نور اللہ بافواہم “ سے یہود و نصاری مراد ہیں۔