Ayahs 9:75–78ثعلبہ بن حاطب کا واقعہ :
1:۔ حسن بن سفیان وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والعسکر نے الامثال من والطبرانی وابن منذرو الباوردی وابو نعیم نے معرفتہ الصحابہ میں وابن مردویہ اور بیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں ابوامامہ باہلی ؓ سے روایت کیا کہ ثعلبہ بن حاطب ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ مجھ کو مال عطا فرمائے آپ نے فرمایا اے ثعلبہ تجھ پر افسوس ہے۔ تو اس پر راضی نہیں ہے کہ تو میری طرح ہوجائے اگر میں چاہتا تو میرا رب ان پہاڑوں کو میرے ساتھ چلاتا تو یقینا چل پڑتے اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھ کو مال عطا فرمائے اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ مجھ کو مال دیں گے تو میں ضرور ہر حق والے کو اس کا حق دوں گا آپ نے فرمایا اے ثعلبہ افسوس ہے تجھ پر وہ تھوڑا جس کے ساتھ تو شکر ادا کرتا رہے۔ وہ بہتر ہے اس کثیر مال سے جس کے ساتھ تو شکر ادا کر نہ کرسکے۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے تو رسول اللہ ﷺ نے دعا کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ اس کو مال عطا فرما چناچہ اس نے تجارت کی اور بکریاں خریدیں اس میں اس کے لئے برکت دی گئی اور وہ اتنی زیادہ بڑھیں جیسا کہ کپڑے بڑھتے ہیں یہاں تک کہ مدینہ منورہ کی سرزمین اس کے لئے تنگ ہوگئی۔ تو وہ وہاں سے دور چلا گیا اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دن کو نماز میں حاضر ہوتا اور رات کو حاضر نہ ہوتا پھر (بکریاں) اور زیادہ بڑھیں جیسے کیڑے بڑھتے ہیں تو وہ یہاں سے بھی دور چلا گیا۔ اب وہ جمعہ کے سوا دن رات کی نمازوں میں سے کسی کے لئے رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر نہ ہوسکتا تھا پھر (بکریاں) اور بڑھ گئیں جیسے کیڑے بڑھتے ہیں تو وہ اس کے لئے جگہ تنگ ہوگئی تو وہ وہاں سے اور زیادہ دور چلا گیا۔ اب وہ جمعہ کی نماز میں اور جنازہ کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر نہیں ہوسکتا تھا اب وہ قافلوں سے ملا کرتا تھا اور ان سے مدینہ منورہ کی خبریں پوچھ لیتا تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو گم پایا تو اس کے بارے میں پوچھا آپ کو لوگوں نے بتایا کہ اس نے بکریوں کو خرید کیا ( بکریاں اتنی بڑھیں) کہ مدینہ منورہ (کا شہر) اس کے لئے تنگ ہوگیا اور لوگوں نے اس کے بارے میں (پوری پوری) خبر دی) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ثعلبہ بن حاطب ہلاک ہوگیا بعد میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو صدقات کے لینے کا حکم فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” خذ من اموالہم صدقۃ “ (التوبہ آیت 103) تو رسول اللہ ﷺ نے دو آدمیوں کو بھیجا قبیلہ جہینہ میں ایک آدمی اور بنوسلمہ میں سے ایک آدمی تاکہ وہ صدقات وصول کریں اور ان کو اونٹوں اور بکریوں کی عمریں لکھ دیں کہ وہ کیسے ان سے زکوٰۃ وصول کریں گے اور ان دونوں کو حکم فرمایا کہ ان کا گذر ثعلبہ بن حاطب اور بنی سلیم کے ایک آدمی کے پاس سے ہوگا چناچہ یہ دونوں ثعلبہ کے پاس آئے اور اور اپنے زکوٰۃ کے بارے میں حکم سنایا اس نے کہا مجھ کو اپنی تحریر دکھاؤ جب اس نے اس میں دیکھا تو کہا یہ تو جزیہ ہی ہے تم جاؤ اور فارغ ہونے کے بعد میرے پاس سے گزر جانا روای کا بیان ہے کہ وہ دونوں چلے اور جب سلیمی نے ان کی بات سنی اس نے فورا اپنے اونٹوں میں سے انتہائی عمدہ اونٹ ان کو پیش کیا اسے دیکھ کر ان دونوں نے کہا تجھ پر یہ دینا لازم نہیں ہے سلیمی نے کہا میں اپنے عمدہ مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا تقرب چاہتا ہوں انہوں نے اس کو قبول کرلیا جب یہ دونوں فارغ ہوئے تو پھر ثعلبہ کے پاس سے گزرے پھر اس نے کہا مجھ کو اپنی تحریر دکھاؤ اس نے اس میں غور وفکر کیا اور کہا یہ تو جزیہ ہی ہے۔ تم جاؤ یہاں تک کہ میں اپنی رائے بنالوں گا یہ دونوں چلے یہاں تک کہ مدینہ منورہ آگئے جب رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو دیکھا ان سے ان سے بات کرنے سے پہلے ہی فرمایا ہلاک ہوگیا ثعلبہ بن حاطب اور سلیمی کے لئے برکت کی دعا فرمائی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ومنہم من عھد اللہ لئن اتنا من فضلہ لنصدقن “ تین آیات اس آیات کو ثعلبہ کے بعض رشتہ داروں میں کسی نے سنا اور وہ فورا ثعلبہ کے پاس پہنچا اور کہا اے ثعلبہ تیرے لئے ہلاکت ہو اللہ تعالیٰ نے تیرے بارے میں اس طرح اور اس طرح نازل فرمایا (یہ سن کر) ثعلبہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ میرے مال کا صدقہ ہے ( یعنی زکوٰۃ ہے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تیرا مال قبول کرنے سے منع فرمادیا ہے۔ اس نے رونا شروع کیا اور اپنے سر میں مٹی ڈالنے لگا رسول اللہ ﷺ فرمایا یہ تیرا اپنا عمل ہے میں نے تجھے کہا تھا تو نے میری بات نہ مانی چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے مال قبول نہ فرمایا یہاں تک کہ وہ چلا گیا۔
پھر ابوبکر کا دور خلافت آیا اور کہا اے ابوبکر ؓ مجھ سے میری زکوٰۃ قبول کیجئے آپ نے انصار میں سے میری قدرومنزلت کو جانتے ہیں ابوبکر ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اس کو قبول نہیں فرمایا اور میں اس کو قبول کرسکتا ہوں ؟ چناچہ ابوبکر ؓ نے اس کو قبول نہ فرمایا پھر عمر بن خطاب ؓ خلیفہ ہوئے تو ان کے پاس آیا اور کہا اے ابو حفص ! مجھ سے میری زکوٰۃ کو قبول کیجئے آپ کو مہاجرین اور انصار اور رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کا وسیلہ بھی پیش کیا مگر حضرت عمر ؓ نے فرمایا جس کو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ نے قبول نہیں کیا تو کیا میں اس کو قبول کرلوں گا ؟ پس آپ نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ پھر حضرت عثمان ؓ خلیفہ ہوئے تو حضرت عثمان ؓ کی خلافت میں وہ فوت ہوگیا۔ اس بارے میں (یہ آیت) ” الذین یلمزون المطوعین من المومنین فی الصدقت “۔ نازل ہوئی۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ومنہم من عھد اللہ لئن اتنا من فضلہ لنصدقن ولنکونن من الصلحین “ کے بارے میں فرمایا کہ ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی تو ثعلبہ کہا جاتا تھا اور وہ انصار میں سے تھا ایک مجلس میں آیا اور ان کو گواہ بناتے ہوئے کہا اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اپنے فضل سے (مال) دیا تو میں ہر حق والے کا حق اد کروں گا اور اس میں سے صدقہ کروں گا اور اس میں سے رشتہ داروں کا حصہ بھی نکالوں گا اللہ تعالیٰ نے اس کو آزمائش میں مبتلا کرتے ہوئے اس کو اپنے فضل سے مال عطا فرمایا اس نے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اللہ تعالیٰ نے اس پر غصہ ہوئے جو اس نے اپنے وعدہ کی خلاف ورزی کی اللہ تعالیٰ نے اس کو حالت کو قرآن میں بیان فرمایا۔
3:۔ سعید بن منصور وابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ منافق کی پہچان تین چیزوں کے ساتھ حاصل کرو جب بات کرے گا تو جھوٹ بولے گا جب وعدہ کرے گا تو اس کے خلاف کرے گا جب معاہدہ کرے گا تو اسے توڑ دے گا اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” ومنہم من عھد اللہ لئن اتنا من فضلہ لنصدقن “ آیت کے آخر تک۔
4:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ تین باتیں جس میں ہوں گی تو وہ منافق ہوگا جب بات کرے گا تو جھوٹ بولے گا جو وعدہ کرے گا تو اس کے خلاف کرے گا جب امانت رکھی جائے تو خیانت کرے اور یہ آیت تلاوت کی (آیت) ” ومنہم من عھد اللہ لئن اتنا من فضلہ “۔ آیت کے آخر تک۔
5:۔ بخاری ومسلم والترمذی والنسائی رحمہم اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے جب امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
6:۔ ابو الشیخ والخرائطی (رح) نے مکارم الاخلاق میں محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے تین نشانیوں کے بارے میں سنا جو منافق کے بارے میں بیان کی جاتی ہیں جب امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے میں ان کو کتاب میں ایک زمانہ تک ڈھونڈتا رہا یہاں تک کہ میں نے اس کو ایک مدت کے بعد پالیا ہم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کہ اللہ تعالیٰ ان آیات میں ذکر فرماتے ہیں (آیت) ” ومنہم من عھد اللہ لئن اتنا من فضلہ “۔ سے لے کر ” وبما کانوا یکذبون “ تک اور فرمایا (آیت) ” انا عرضنا الامانۃ علی السموت والارض “ (الاحزاب آیت 72) (آیت) ” اذا جآءک المنفقون “۔ سے لے کر ” واللہ یشھدان المنفقین لکذبون ‘ (المنافقون آیت 1)
7:۔ ابوا لشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انصار سے ایک آدمی ہے جس نے یہ کہا تھا اس کا چچا کا بیٹا مرگیا اور وہ اس کی طرف سے مال کا وارث بنا اس نے بخل کیا ور اس نے ان امور کو پورا نہ کیا جس کا اس نے وعدہ کیا تھا پس اس کے بعد نفاق سے کام لینے لگا یہاں تک کہ وہ منافق بن گیا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) بما اخلفو اللہ ما وعدوہ وبما کانوا یکذبون “
8:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابو قلاب (رح) سے روایت کیا کہ خواہش پر چلنے والوں کی مثال منافقین کی طرح ہے ان کا کلام مختلف ہوتا ہے اور ان تمام معاملات میں نفاق ہے پھر یہ آیات تلاوت کی (آیت) ” ومنہم من عھد اللہ ’“ اور ومنہم من یلمزک “ اور ” ومنہم الذین یوذون النبی “ ( سورة توبہ)
9:۔ ابو الشیخ (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” بما اخلفوا اللہ ما وعدہ وبما کانوا یکذبون “ کے بارے میں فرمایا کہ تم جھوٹ سے بچو کیونکہ وہ نفاق میں سے ایک دروازہ ہے اور سچائی کو لازم پکڑو کیونکہ وہ ایمان میں سے ایک دروازہ ہے اور ہم کو (یہ بات) ذکر کی گئی کہ اللہ کے نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) ، بنی اسرائیل کے لئے جب تورات لے آئے تو بنی اسرائیل نے کہا کہ تورات (میں احکام) بہت ہیں ہم اس کے لئے فارغ نہیں آپ ہمارے لئے ایک اجتماعی حکم کے بارے سوال کیجئے جس پر ہم عمل کرسکیں اور ہم اپنے کاروبار کے لئے بھی ہوسکیں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ٹھہر جاؤ ٹھہر جاؤ اے میری قوم یہ اللہ کی کتاب ہے اللہ کا بیان ہے اللہ کا نور ہے اور اللہ کی حفاظت میں ہے۔ چناچہ انہوں نے آپ کے ساتھ پہلے کی طرح دوبارہ گفتگو کی یہاں تک کہ تین بار انہوں نے ایسا ہی کیا رب تبارک وتعالیٰ نے فرمایا بلاشبہ میں ان کو حکم دیتا ہوں کہ اگر انہوں نے ان (احکام) کی حفاظت اور ان احکام پر عمل کیا تو ان کے ذریعے جنت میں داخل ہوں گے وہ یہ ہیں کہ اپنی میراث کی تقسیم کرنے سے رک جائیں اور اس میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کریں اور اپنی آنکھوں کو گھروں میں داخل نہ کریں (یعنی وہ گھروں میں نظر نہ ڈالیں) جب تک ان کو اجازت نہ دی جائے۔ اور کھانا نہ کھائیں یہاں تک کہ وضو نہ کرلیں جیسے نماز کا وضو ہوتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف لوٹ آئے تو وہ ان احکام کے مارے سن کر خوش ہوگئے اور کہنے لگے ہم ان پر قائم رہیں گے۔ اللہ کی قسم ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ وہ غفلت اور سستی میں مبتلا ہوگئے اور آپ ان سے الگ ہوگئے۔ جب اللہ کے نبی ﷺ نے اس بات کو بیان فرمایا بنی اسرائیل کے بارے میں تو فرمایا مجھ کو چھ باتوں کا ضامن بناؤ میں تمہارے جنت کا ضامن بنوں گا۔ جب تم بات کرو تو جھوٹ نہ بولو جب تم وعدہ کرو تو خلاف ورزی نہ کرو۔ جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت نہ کرو۔ اور اپنی آنکھوں کو نیچا رکھو اور اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو قتادہ (رح) نے فرمایا (یہ احکام) بہت مشکل اور سخت ہیں اللہ کی قسم مگر جس کو اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔
Ayah 9:791:۔ بخاری ومسلم وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ وابو نعیم نے معرفتہ میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب صدقہ کی آیت نازل ہوئی تو ہم اپنے پیٹھوں پر بوجھ اٹھا کر لائے تھے ایک آدمی آیا اور اس نے بہت چیزوں کا صدقہ کیا لوگوں نے کہا یہ ریاکاری ہے ابو عقیل آدھا صاع لے کر آیا تو منافقین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس صدقہ سے بےپرواہ ہیں تو (یہ آیت نازل ہوئی یعنی) الذین یلمزون المطوعین من المومنین فی الصدقت والذین لا یجدون الا جھدھم “ (الآیہ)
2:۔ بزار وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحہم اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگ صدقہ کرو کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں اس پر خوب آمادہ کرون عبدالرحمن آئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس چار ہزار ہیں دو ہزار میں اپنے رب کو قرضہ دیتا ہوں اور دو ہزار میرے اہل و عیال کے لئے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تیرے لئے برکت دے جو تو نے دیئے اور ان میں بھی برکت دے جو تو نے (اپنے اہل و عیال کے لئے) روک لئے۔ انصاری میں ایک ایک آدمی آیا اس نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں نے رات بھر اجرت پر ریشم کا کام کیا۔ اور کھجور کے دو صاع کو میں نے پایا (مزدوری میں) اور ایک صاع میں اپنے رب کو قرضہ دیتا ہوں اور ایک صاع اپنے اہل و عیال کے لئے (رکھتا ہوں) تو منافقین نے بد گوئی کی اور کہا اللہ کی قسم ابن عوف نے ریاکاری کے طور پر (صدقہ) دیا ہے اور کہا کیا اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ایک صاع سے غنی ہے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری الذین یلمزون المطوعین “ (الآیہ)
3:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کا حکم فرمایا تو عبدالرحمن بن عوف صدقہ لے کر آئے اور ایمان والوں میں سے خوشی خوشی صدقہ کرنے والے بھی آئے اور ابوعقیل ایک صاع لے کر آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے رات بھر اجرت پر ریشم کا کام کیا ہے اور دو صاع کھجور میں سے کمائے ہیں ان میں سے ایک صاع میں آپ کے پاس لے کر آیا اور دوسرا صاع میں اپنے اہل و عیال کی خوراک کے لئے چھوڑا منافقین نے کہا عبدالرحمن اور یہ لوگ سب ریاکاری کے طور پر لے آئے بلاشبہ اللہ تعالیٰ ابو عقیل کے صدقہ سے بےپرواہ ہیں تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری الذین یلمزون المطوعین “ (الآیہ)
4:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن ابی حاتم والبغوی نے اپنی معجم میں والطبرانی وابو الشیخ وابن مردویہ و ابونعیم نے معرفتہ میں ابو عقیل ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رات گزاری ریشم کی مزدوری کرتے ہوئے اپنی پیٹھ پر دو صاع کھجور کی اجرت سے ( یعنی دو صاع کھجور کے بدلے) ان میں سے ایک حصہ (یعنی ایک صاع) لے کر اپنے گھر والوں کو دیا جب سے وہ اپنی خوراک کا انتظام کریں۔ اور دوسرا حصہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعہ اپنے رب کا تقرب حاصل کروں پس میں نے سب کچھ آپ کو بتادیا آپ نے فرمایا ان کو مسجد میں (صدقہ کے اوپر) بکھیر دو پس ایک قوم نے مذاق اڑایا اور کہا البتہ تحقیق اللہ تعالیٰ اس مسکین اس صاع سے غنی ہے تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔
صدقہ کے بارے میں منافقین کی الزام تراشی :
5:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الذین یلمزون المطوعین “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا کہ عبد الرحمن بن عوف چالیس اوقیہ نبی کریم ﷺ کے پاس لے کر آیا۔ انصاری میں سے ایک آدمی کو ایک صاع غلہ لے کر آیا بعض منافقین نے کہا اللہ کی قسم عبدالرحمن جو لے آیا وہ ریاکاری ہے، اور کہا اللہ اور اس کا رسول بےپرواہ ہیں ایک صاع سے۔
6:۔ ابن جریر (رح) نے عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت کیا کہ جس شخص نے ایک صاع کھجور کا صدقہ کیا تھا تو منافقوں نے اسے عیب لگایا وہ ابو خیثمہ انصاری تھے۔
7:۔ بغوی نے اپنی معجم میں اور ابن قانع وابن مردویہ رحمہم اللہ نے لیلی بنت عدی ؓ سے روایت کیا کہ میری ماں عمیرہ بنت سہیل بن رافع صاحب صاعین کی بیٹی ہے جس پر منافقوں نے طعن کیا تھا ان کی ماں نے خبر دی کہ وہ ایک صاع کھجور لے کر نکلے اور اس کی بیٹی عمیرہ بھی (ساتھ تھی) یہاں تک کہ یہ ایک صاع کھجور لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ سے وہ سب وہاں بکھیر دیا۔
8:۔ عبدالرزاق وابن عساکر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الذین یلمزون المطوعین من المومنین فی الصدقت “ کے بارے میں فرمایا کہ عبدالرحمن بن عوف نے اپنے آدھے مال آٹھ ہزار دینار کا صدقہ کیا منافقین میں سے کچھ لوگوں نے کہا کہ عبدالرحمن بڑا ریا کار ہے تو اللہ عزوجل نے فرمایا (آیت) ” الذین یلمزون المطوعین من المومنین فی الصدقت “ اور انصار میں ایک آدمی کھجور کے دو صاع میں سے ایک صاع لے کر آیا تو منافقین میں سے کچھ لوگوں نے کہا بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس ایک صاع سے غنی ہے اور منافقین ان پر طعن کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” والذین لا یجدون الا جھدہم فیسخرون منہم “ (الآیہ)
9:۔ ابونعیم (رح) نے معرفۃ میں قتادہ (رح) سے روایت کیا غریب مسلمان میں سے ایک آدمی آیا جس کو حجاب ابو عقیل کہا جاتا تھا۔ اس نے کہا اے اللہ کے نبی ! میں نے آج رات ریشم کی مزدوری کرتے ہوئے گزاری دو صاع کے بدلے میں ایک صاع کو میں نے اپنے اہل و عیال کے لئے روک لیا اور دوسرا صاع یہ ہے ( اس کو قبول فرمائیے) منافقون نے کہا کیا اللہ اور اس کا رسول دونوں اس صاع سے غنی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” الذین یلمزون المطوعین من المومنین “ (الآیہ)
10:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو صدقہ کے لئے بلایا تو عبدالرحمن بن عوف چار ہزار دینار لے آئے۔ اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ یہ صدقہ ہے تو بعض قوم نے (ان پر) طعن کیا اور کہا یہ عبدالرحمن ریاکاری کے طور پر لے آیا۔ ابوعقیل ایک صاع کھجور لے آئے تو بعض قوم نے کہا کہ ابو عقیل کی ایک صاع کھجور کی اللہ تعالیٰ کو کوئی حاجت نہ تھی۔ تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” الذین یلمزون المطوعین من المومنین فی الصدقت “ سے لے کر ” فلن یغفر اللہ لہم “
11:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو اپنے صدقات جمع کرنے کا حکم فرمایا عبدالرحمن بن عوف کے پاس آٹھ ہزار دینار تھے وہ چار ہزار دینار صدقہ کے طور پر لے آئے اور کہا یہ وہ رقم ہے جو میں اللہ تعالیٰ کو قرض دے رہا ہوں۔ اور اس کے برابر باقی بھی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تیرے لئے برکت دی گئی اس میں جو تو نے دیا اور اس میں جو تو نے روک لیا۔ ابو نھیک انصار میں سے ایک آدمی ایک صاع کھجور لے آئے جن پر اس نے ساری رات کام کیا جب صبح ہوئی تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس لے آئے منافقین میں سے ایک آدمی نے کہا کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ بڑا ریاکار ہے۔ اور دوسرے کے لئے کہا کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہ ہے اس ایک صاع سے تو اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت) اتاری (آیت) ” الذین یلمزون المطوعین من المومنین فی الصدقت “ سے مراد عبدالرحمن بن عوف ؓ ہیں اور (آیت) والذین لا یجدون الا جھدہم “ میں ایک صاع والے کا ذکر ہے۔
12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ لوگوں کو بڑی مشقت نہیں تو رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کرنے کا حکم فرمایا اور فرمایا اے لوگو ! صدقہ کرو۔ تو لوگوں نے صدقہ کرنا شروع کیا۔ عبدالرحمن بن عوف چار ہزار اوقیہ سونا لے کر آئے۔ اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے پاس آٹھ سو اوقیہ سونا تھا۔ میں چار ہزار لے آیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کچھ اس نے دیا اس میں برکت فرما اور جو روک لیا اس میں برکت عطا فرما۔
13:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ جب عید الفطر کا دن تھا عبدالرحمن بن عوف نے بہت بڑا مال صدقہ خیرات کیا اور عاصم بن عدی نے بھی اسی طرح کیا اور ایک آدمی نے دو صاع پیش کئے اور ایک آدمی نے ایک صاع دیا۔ لوگوں میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ عبدالرحمن نے جو کچھ لے آیا بطور ریا کاری کے لایا لیکن ایک صاع والے اور دو صاع والے بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول غنی ہے ایک صاع یا دو صاع سے انہوں نے ان کا مذاق اڑایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت اتاری (آیت) ” الذین یلمزون المطوعین من المومنین فی الصدقت “
14:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو صدقہ کرنے کا حکم فرمایا عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا ( میرے پاس) وافر مال تھا تو میں نے آدھا لے لیا اور کہا کہ میں بہت سا مال اٹھا کرلے آیا ہوں منافقین میں سے ایک آدمی نے کہا اے عمیر کیا تو لوگوں کو دکھا رہا ہے ؟ فرمایا ہاں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو دکھا رہا ہوں ان کے علاوہ کسی اور کو نہیں۔ راوی نے کہا کہ انصار میں سے ایک آدمی آیا اس کے پاس چیز نہ تھی اس نے اپنی جان کو مزدوری پر لگایا اپنی گردن پر ریشم کو لے جانے پر دو صاع کے بدلے میں (کھجور میں سے) ایک صاع اس نے اپنے اہل و عیال کے لئے چھوڑا اور ایک صاع کو اٹھا کرلے آیا بعض منافقین نے اس سے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ایک صاع سے غنی ہیں اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” الذین یلمزون المطوعین من المومنین فی الصدقت “
15:۔ ابو الشیخ (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الذین یلمزون المطوعین “ یعنی اپنی خوشی سے صدقات دینے والوں پر طعن کرتے تھے۔
16:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) والذین لا یجدون الا جھدہم “ میں رفاعہ بن سعد مراد ہیں۔
17:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) والذین لا یجدون الا جھدہم “ میں جھد سے مراد ہے قوت میں محنت کرنا اور عمل میں محنت کرنا۔؎
18:۔ ابو الشیخ (رح) نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا جھد سے مراد ہے جھد الانسان یعنی انسان کی محنت اور یعنی مملوک چیز میں مشقت۔
19:۔ ابن منذر (رح) نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ جو آدمی جس نے اپنی محنت سے صدقہ کیا تھا اس کا نام ابو عقیل سہیل بن رافع تھا وہ کھجور میں سے ایک صاع لایا اور اس کو صدقہ (کے مال) پر ڈال دیا تو منافق اس پر ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ابو عقیل کے صدقہ سے بےپرواہ ہیں۔
بھوکوں کو کھانا کھلانا :۔
20:۔ ابو الشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک جگہ لوگوں کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا اے لوگو ! صدقہ کرو میں تمہارے لئے قیامت کا دن اس کی گواہی دوں گا۔ خبر دار شاید کہ تم میں سے کوئی اس طرح رات بسر کرے گا کہ اس کے اونٹ اور گائے کے بچے تو خوب سیراب ہوں اور اس کا چچا کا بیٹا بھوکا ہے۔ خبردار شاید کہ تم میں سے کوئی اپنا مال بڑھاتا رہے اور اس کا پڑوسی مسکین ہو وہ کسی چیز پر قادر نہ مگر وہ آدمی جو اپنے اونٹوں میں ایک اونٹنی عطا کی وہ بہت زیادہ گروہ کے ساتھ صبح سویرے نکلتا ہے۔ اور شام کے وقت ایک گروہ کے ساتھ واپس لوٹتا ہے۔ وہ صبح کے وقت گھروالوں کو دودھ پلا کر نکلتا ہے اور شام کے وقت ان کے لئے دودھ اور ان کے لئے دیگر خوراک لے کر واپس لوٹتا ہے اور اس کا اجر بہت بڑا ہے پس ایک آدمی اٹھا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس چار اونٹ ہیں۔ پھر ایک دوسرا آدمی اٹھا جس کا قد چھوٹا اور چہرہ بھی بدصورت تھا وہ ایک اونٹنی کو پکڑے ہوئے تھا جو بہت خوبصورت تھی منافقین میں سے ایک آدمی نے ہلکی سی آواز میں ایک کلمہ کہا جس کو نبی کریم ﷺ سن لیا کہ اس کی اونٹنی اس سے بہتر ہے جب نبی کریم ﷺ نے اس بات کو سنا تو فرمایا تو نے جھوٹ کہا وہ تجھ سے اور اس اونٹنی سے بہتر ہے پھر عبدالرحمن بن عوف کھڑے ہوئے اور کہا یارسول اللہ ﷺ میرے پاس آٹھ ہزار (دینار) ہیں۔ اس میں سے چار ہزار میں اپنے اہل و عیال کے لئے چھوڑآیا اور (باقی چار) ہزار میں لے آیا ہوں جس کو اللہ کے لئے پیش کرتا ہوں جو کچھ وہ لے آئے منافقین نے آپ کے صدقہ کو بہت شمار کیا پھر عاصم بن عدی انصاری کھڑے ہوئے اور کہا یارسول اللہ میرے پاس ستر وسق کھجوروں کے ہیں اس سال سے توڑے ہوئے جو کچھ وہ لے آیا تو منافقین نے اسے بھی بہت زیادہ گمان کیا اور کہنے لگے یہ چار ہزار لے آیا اور یہ ستر وسق کھجوریں لے آیا ریاکاری اور شہرت کے لئے انہوں نے اس (صدقہ) کو کیوں نہیں مخفی رکھا کیوں نہیں انہوں نے اس کو متفرق کرکے دیا ہوتا۔ پھر انصار میں سے ایک آدمی اٹھا اس کا نام حجاب تھا اور کنیت ابوعقیل تھی اس نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے مال میں سے سوائے اس کے اور کچھ نہیں تھا کہ میں نے بنو فلاں کے ہاں مزدوری کی۔ میں نے کھجور کے دو صاع کے بدلے میں اپنے کندھے پر ریشم کو اٹھایا اور ایک صاع اپنے اہل و عیال کے لئے چھوڑ آیا اور ایک صاع کو میں اللہ تعالیٰ کی طرف پیش کرتا ہوں تو منافقین نے طعن وتشنیع کی اور کہنے لگے اونٹ والا اونٹ لے آیا اور چاندی والا چاندی لے آیا اور یہ کھجوریں لے کر آیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” الذین یلمزون المطوعین “ (الآیہ)
21:۔ عبداللہ بن احمد (رح) سے نے زہد الزھد میں ابو السلیل (رح) سے روایت کیا کہ ایک شیخ ہماری مجلس میں آکر ٹھہرا اور کہا میرے باپ نے یا میرے چچا نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ بقیع میں تشریف فرما تھے اور فرمایا آج کون صدقہ کرتا ہے کہ میں اس کے لئے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک گواہی دوں گا ایک آدمی آیا اللہ کی قسم بقیع میں کوئی اس سے زیادہ سخت سیاہ چہرہ والا نہ تھا۔ اور نہ اس سے کوئی چھوٹے قد والا تھا اور نہ ہی اس سے بڑھ کر کوئی مذموم آنکھوں والا تھا وہ ایک اونٹنی پکڑے ہوئے تھا اور اللہ کی قسم بقیع میں اس اونٹنی سے بڑی کوئی خوبصورت چیز نہ تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا یہ صدقہ ہے اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ایک آدمی نے طعن و تشیع کی اور کہا یہ جو چیز صدقہ کررہا ہے اللہ کی قسم وہ اس کی ذات سے بہتر ہے رسول اللہ ﷺ نے اس کی بات کو سن لیا اور فرمایا تو نے جھوٹ کہا بلکہ وہ بہتر ہے تجھ سے اور اس اونٹنی سے تو نے جھوٹ کہا کہ وہ بہتر ہے تجھ سے اور اس اونٹنی سے تین مرتبہ فرمایا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مگر جس نے یہ کہا کہ اس کی قبضہ میں اتنا اور اتنا ہے اور جس کا اس نے ارادہ کیا ہے وہ تھوڑا ہے۔ پھر فرمایا تحقیق کامیاب ہوگئی غریب کم مال والا اور مشقت اٹھانے والا کامیاب ہوگیا غریب کم مال والا اور محنت و مشقت کرنے والا کامیاب ہوگیا۔
22:۔ ابو داود وابن خزیمہ والحاکم نے ( اور آپ نے اس کو صحیح کہا ہے) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کون ساصدقہ افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ کم جان اور تنگ دست کی محنت ومشقت کے ساتھ ہو اور صدقہ دینے میں پہلے سے شروع کرے جو زیادہ حاجت مند اور عیال دار ہوں۔
Ayah 9:801:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے عروہ ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی (رئیس المنافقین) نے اپنے ساتھیوں سے کہا اگر تم محمد ﷺ اور ان کے اصحاب پر خرچ نہ کرتے تو یہ لوگ اس کے اردگرد سے بھاگ جاتے۔ اور وہ کہنے لگے (آیت) ” لیخرجن الاعزمنھا الاذل “ (المنافقون آیت 8) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” استغفرلہم اولا تستغفرلہم ان تستغفرلہم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لہم “ (اس آیت کے نازل ہونے کے بعد) نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں ستر مرتبہ سے زیادہ (استغفار) کرلوں گا) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” سواء علیہم استغفرت لہم ام لم تستغفرلہم لن یغفر اللہ لہم “
2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب (آیت) ” استغفرلہم اولا تستغفرلہم ان تستغفرلہم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لہم “ نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں ستر سے زیادہ کرلوں گا تو اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں یہ آیت اتاری جس میں منافقین کا ذکر ہے یعنی (آیت) ” فلن یغفر اللہ لہم “ (الآیہ)
3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں اپنے رب کے بارے میں خیال کرنے لگا کہ میرے لئے ان (منافقین) کے بارے میں رخصت دی گئی ہے۔ اللہ کی قسم میں ضرورستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کروں گا شاید کہ اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان (منافقین) پر سخت غصہ کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” سوآء علیہم استغفرت لہم استغفرلہم اولا تستغفرلہم ان تستغفرلہم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لہم “ ان اللہ لا یھدی القوم الفسقین (6) “
4:۔ احمد والبخاری والترمذی النسائی وابن ابی حاتم والنحاس وابن حبان وابن مردویہ وابو نعیم نے حلیہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عمر ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب عبداللہ بن ابی فوت ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ کو اس پر نماز پڑھنے کے لئے بلایا گیا۔ آپ کھڑے ہوگئے اور اس (کے جنازے) پر ٹھہرے میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے دشمنوں میں سب سے بڑھ کر عبداللہ بن ابی ہے جو اس طرح اور اس طرح کہتا ہے اور وہ اس طرح اور اس طرح کہتا ہے میں نے اس کے دنوں کو شمار کیا اور رسول اللہ ﷺ نے تبسم فرماتے رہے یہاں تک کہ جب بہت سے د ن شمار کر لئے گئے تو آپ نے فرمایا اے عمر مجھ سے پیچھے ہٹ جاؤ بلاشبہ مجھے اختیار دیا گیا ہے مجھ سے کہا گیا ہے (آیت) ” استغفرلہم اولا تستغفرلہم ان تستغفرلہم سبعین مرۃ “ اگر میں اس بات کو جان لیتا کہ اگر میں ستر مرتبہ سے زیادہ کروں تو اس کی مغفرت کردی جائے گی تو میں اس پر (ضرور) زیادہ کرلیتا پھر رسول اللہ ﷺ نے اس پر نماز پڑھائی اور اس کے ساتھ چلے یہاں تک کہ اس کی قبر پر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ وہ اس کے (دفن سے) فارغ ہوگئے۔ میں نے اپنے لئے بڑا تعجب کیا اور اپنی جرات پر جو رسول اللہ ﷺ پر میں نے کی اور اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں (اس کے معاملہ میں) اللہ کی قسم ! تھوڑی دیر نہ گزری تھی یہاں تک کہ یہ دو آیتیں نازل ہوئی (آیت ) ” ولا تصل علی احدمنہم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ “ (اس کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے کسی منافق پر نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے آپ کو اس دنیا سے اٹھالیا۔
5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے فرمایا میں نے اسلام میں اتنی جلدی کی کہ اس طرح کبھی جلدی نہیں کی کہ رسول اللہ ﷺ نے جب عبداللہ بن ابی پر نماز پڑھنے کا ارادہ فرمایا تو میں نے آپ کے کپڑے کو پکڑ کر عرض کیا۔ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم نہیں فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” استغفرلہم اولا تستغفرلہم ان تستغفرلہم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لہم “ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے رب نے مجھے اختیار دیا ہے اور فرمایا ہے (آیت) ” استغفرلہم اولا تستغفرلہم “ رسول اللہ ﷺ قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے اور لوگوں نے اس کے بیٹے سے کہنا شروع کیا۔ یا حباب اس طرح کر یا حباب اس طرح کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حباب شیطان کا نام ہے تو عبداللہ ہے۔
6:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا انہوں نے اس آیت ” استغفرلہم “ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) منافقین پر نماز پڑھنے کے بارے میں نازل ہوئی اور فرمایا کہ جب عبداللہ بن ابی بن سلول منافق مرگیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر میں اس بات کو جان لیتا کہ اگر اس کے لئے اکہتر مرتبہ استغفار کروں تو اس کو بخش دیا جائے گا تو میں ایسا ضرور کرتا (اس کے بعد) آپ نے اس پر نماز پڑھی ( بعد میں) اللہ تعالیٰ نے منافقین پر اور ان کی قبروں پر ٹھہرنے سے منع فرما دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ “ (اور) سورة منافقین میں فیصلہ کن امر کو نازل کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” سوآء علیہم استغفرلہم اولا تستغفرلہم ان تستغفرلہم “۔
Ayah 9:81جہنم کی آگ بہت زیادہ گرم ہے :
1:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” بمقعدہم خلف رسول اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ غزوہ تبوک سے (ان کا پیچھے رہ جانا)
2:۔ ابو الشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا یعنی وہ لوگ جن کو پیچھے چھوڑ دیا گیا اس طرح پر کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی روانگی کے بعد (گھروں میں) بیٹھے رہیں۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن ابی شیبہ ابو رزین سے اسی طرح روایت کیا جعفر بن محمد (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ تبوک کا آخری غزوہ تھا جس میں رسول اللہ ﷺ خود تشریف لے گئے۔ اور یہی غزوہ الحر کہلاتا تھا لوگوں نے کہا گرمی میں نہ جاؤ اور یہی غزوۃ العسرہ ہے۔
4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو اپنے ساتھ چلنے کا حکم فرمایا اور یہ گرمی کا موسم تھا لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ سخت گرمی ہے اور ہم نکلنے کی طاقت نہیں رکھتے اور تم بھی گرمی میں نہ جاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” قل نار جھنم اشد حرا لوکانوا یفقھون “ اور آپ کو نکلنے کا حکم فرمایا۔
5:ـ۔ ابن منذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا تنفروا فی الحر “ یہ منافقین کا قول ہے جس دن رسول اللہ ﷺ نے تبوک کی جنگ کی۔
6:۔ ابن جریر (رح) نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ شدید گرمی میں تبوک کی طرف نکلے۔ بنوسلمہ میں سے ایک آدمی نے کہا گرمی میں نہ نکلو تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” قل نار جھنم اشد حرا “۔
7:۔ ابن مردویہ (رح) نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ منافقین میں سے کچھ لوگ اس وقت رسول اللہ ﷺ کے گرد گھومنے لگے (تاکہ ان کو اجازت دے دی جائے) جب آپ نے جد بن قیس کو اجازت دے دی۔ اور ان لوگوں نے کہا یارسول اللہ ﷺ ہم کو اجازت دیجئے۔ ہم اس گرمی میں جانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ تو آپ نے ان کو اجازت دیدی اور ان سے اعراض فرمایا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) ” قل نار جھنم اشد حرا “۔
Ayah 9:821:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فلیضحکوا قلیلا ولیبکوا کثیرا “ کے بارے میں فرمایا ان سے مراد منافق اور کافر ہیں جنہوں نے اپنے دین کو مذاق اور کھیل بنایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” فلیضحکوا قلیلا “ یعنی دنیا میں (تھوڑا ہنسو) (آیت) ” ولیبکوا کثیرا “ یعنی آخرت میں زیادہ رو وگے۔
2:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلیضحکوا قلیلا “ یعنی دنیا تھوڑی ہے تو اس میں جتنا تم چاہو ہنس لو۔ جب دنیا ختم ہوجائے گی اور اللہ کی طرف جائیں گے تو رونا شروع کریں گے جو کبھی ختم نہ ہوگی۔
3:۔ بخاری والترمذی وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم جانتے ہو جو میں جانتا ہوں تو تم تھوڑے ہنستے اور زیادہ روتے۔
اللہ تعالیٰ کی عظمت وقدرت کو تسلیم کرنا :۔
4:۔ ابن مردویہ (رح) نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں جو کچھ دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے اور میں جو سنتا ہوں تم نہیں سنتے۔ آسمان چرچرایا اور اس پر واجب ہے کہ وہ چرچرائے اس میں چار انگل کے برابر بھی جگہ خالی نہیں ہے کہ جس میں کوئی فرشتہ اپنے چہرہ کو رکھے ہوئے اللہ کے لئے سجدہ کرنے والا نہ ہو۔ اللہ کی قسم اگر تم جان لیتے جو کچھ میں جانتا ہوں تو تم تھوڑے ہنستے اور زیادہ روتے اور تم بستر پر عورتوں کے ساتھ لذت حاصل نہ کرتے۔ اور تم جنگلوں کی طرف نکل جاتے اور اللہ کی پناہ ڈھونڈتے میں اس بات کو دوست رکھتا ہوں کہ میں ایک درخت ہوں جو مددگار ثابت ہوتا ہے۔
5:۔ ابن ابی شیبہ وابن ماجہ وابو یعلی رحمہم اللہ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرمات ہوئے سنا اے لوگوں رو و اگر تم نہیں روتے تو رونے والی شکل بناؤ کیونکہ دوزخ والے روئیں گے۔ یہاں تک کہ ان کے آنسو ان کے چہروں میں اس طرح بہیں گے گویا کہ نالیاں ہیں یہاں تک کہ آنسو ختم ہوجائیں تو آنکھیں بہہ بہہ کر زخمی ہوجائیں گی اور اتنے آنسو بہائیں گے اگر اس میں کشتیاں چھوڑی جائی تو وہ بھی جاری ہوجائیں۔
6:۔ ابن ابی الدنیا نے صفۃ النار میں زوید بن رفیع (رح) سے روایت کیا کہ وہ مرفوع حدیث میں روایت کرتے ہیں کہ دوزخ والے جب دوزخ میں داخل ہوں گے تو ایک زمانہ تک آنسو روئیں گے پھر ایک زمانہ تک خون روئیں گے۔ پھر ان کو چوکیدار کہے گا اے بدبختوں کی جماعت تم نے اس دار میں رونے کو چھوڑ دیا جس میں رحم کیا جاتا تھا۔ اس کے رہنے والے دنیا میں تھے کیا تم آج کسی کو پاتے ہو کہ جس سے تم فریاد کررہے ہو وہ اپنی آوازیں کو بلند کرتے ہوئے کہیں گے اے جنت والو اے باپوں ماوں اور اولاد کے گروہ ہم قبروں میں سے پیاسے نکلے اور ہم بہت لمبا کھڑے رہے پیاسے ہونے کی حالت میں اور آج کے دن بھی ہم پیاسے ہیں ہم پر پانی بہاؤ یا ان چیزوں میں سے جو اللہ تعالیٰ نے تم کو رزق دیا وہ چالیس سال تک پکارتے رہیں گے ان کو جواب نہیں دیا جائے گا پھر اس کو جواب ملے گا کہ تم ہمیشہ رہو گے تو وہ ہر خیر سے ناامید ہوجائیں گے۔
7:۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ واحمد رحمہم اللہ نے زہد میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے بصرہ میں لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگوں رو و اگر تم نہیں روتے تو منہ بنا کر روؤ۔ اس لئے کہ دوزخ والے آنسو روئیں گے۔ یہاں تک کہ وہ ختم ہوجائیں گے پھر خون سے روئیں گے یہاں تک کہ ان سے اگر کشتیاں چلا دی جائیں تو ہو چل پڑیں۔
8:۔ احمد (رح) نے زہد میں عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اگر تم جانتے ہو جو کچھ میں جانتا ہوں تو تم تھوڑا ہنستے اور زیادہ روتے۔ اگر تم علم کا حق جانتے تو یقینا تم میں سے ہر ایک چیختا یہاں تک کہ اس کی آواز ختم ہوجاتی اور سجدہ کرتا یہاں تک کہ اس کی پیٹھ ٹوٹ جاتی۔
9:۔ احمد (رح) نے زہد میں ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ اگر تم جانتے ہو کچھ میں جانتا ہوں تو تھوڑا ہنستے اور زیادہ روتے اور تم روتے ہوئے نکل جاتے تم نہیں جانتے کہ تم نجات پاوگے۔ یا نجات نہیں پاوگے۔
Ayah 9:831:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فان رجعک اللہ الی طآ ئفۃ منہم “ ہم کو ذکر کیا گیا کہ وہ منافقین بارہ آدمی تھے۔ اور اس میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ انہی کے بارے میں کہا گیا۔
2:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں آپ بتائیے اگر آپ نکلتے تو بھی آپ کے ساتھ نکلنے کی اجازت مانگتے آپ فرما دیجئے تم ہرگز میرے ساتھ نہیں نکلوگے۔
3:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاقعدوا مع الخلفین “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو (جنگ) جانے سے پیچھے رہ گئے تھے۔
Ayahs 9:84–85منافقین کی نماز جنازہ سے ممانعت :
1:۔ بخاری ومسلم وابن ابی حاتم وابن منذر وابو الشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جب عبداللہ بن ابی سلول کی وفات ہوئی تو اس کا بیٹا عبد اللہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا کہ اپنی قمیص عطاء فرمائیے تاکہ اس میں کفن دیا جائے۔ آپ نے عطا فرما دی پھر اس نے سوال کیا کہ آپ اس پر نماز بھی پڑھایئے۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تو عمر بن خطاب ؓ کھڑے ہوئے اور آپ کا کپڑا پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ اس پر نماز پڑھ رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے منافقین پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا آپ نے فرمایا میرے رب نے مجھے اختیار دیتے ہوئے فرمایا (آیت) ” استغفرلہم اولا تستغفرلہم ان تستغفرلہم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لہم “ اور میں عنقریب ستر بار سے زیادہ (استغفار) کرلوں گا۔ عمر ؓ نے فرمایا وہ منافق مگر آپ نے اس پر نماز پڑھ لی پھر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا (آیت) ولا تصل علی احدمنہم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ “ پھر آپ نے ان پر نماز پڑھنا چھوڑ دیا۔
2:۔ طبرانی وابن مردویہ والبیہقی رحمہما اللہ نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن عبداللہ بن ابی سے اس کے باپ نے کہا اے میرے بیٹے نبی کریم ﷺ کے کپڑوں میں سے میرے لئے ایک کپڑاطلب کرو اور اس میں مجھ کو کفن دو اور آپ ﷺ سے عرض کرنا کہ میری نماز جنازہ پڑھائیں۔ وہ حاضر خدمت ہوا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ عبداللہ کے شرف اور اس کی سرداری جانتے ہیں اور وہ آپ کے کپڑوں میں ایک کپڑا طلب کرتا ہے ہم اس میں اس کو کفن دیں گے اور آپ اس پر نماز بھی پڑھائیے۔ عمر ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ آپ نے عبداللہ اور اس کے نفاق کو پہچان لیا کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر نماز پڑھنے کو منع فرمایا آپ نے فرمایا اور بیٹا (تو منافق نہیں ہے) پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت) ” استغفرلہم اولا تستغفرلہم ان تستغفرلہم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لہم “ فرمایا میں عنقریب ستر سے زیادہ استغفار کروں گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت فرمائی (آیت) ” ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ “ آپ نے عمر ؓ کو بلا بھیجا اور ان کو اس (حکم) کے بارے میں بتایا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” سوآء علیہم استغفرت لہم امرلم تستغفرہم “۔
3:۔ ابن منذر (رح) نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ جب عبداللہ بن ابی سلول بیمار ہوا اس مرض میں جس میں وہ مرگیا تو رسول اللہ ﷺ ھنے اس کی عیادت فرمائی جب وہ مرگیا تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس کی قبر پر بھی ٹھہرے عمر ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم ہم کچھ راتیں ہی ٹھہرے تھے (یہ آیت) ” ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ “
4:۔ ابن ماجہ والبزار وابن جریر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ راس المنافقین مدینہ میں مرگیا اس نے وصیت کی کہ اس پر نبی کریم ﷺ نماز پڑھائی اور ان کی قمیص میں اس کو کفن دیا جائے۔ اس کا بیٹا نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ میرے باپ نے مجھے وصیت کی کہ آپ کی قمیض میں کفن دیا جائے پھر آپ نے اس پر نماز پڑھائی اور اس کو اپنی قمیض بھی پہنائی اور اس کی قبر پر بھی کھڑے ہوئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ (آیت) ” ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ “
5:۔ ابویعلی وابن جریر وابن مردویہ رحمہم اللہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارادہ فرمایا عبداللہ بن ابی پر نماز پڑھنے کا تو جبرئیل نے آپ کا کپڑا پکڑ کر فرمایا (آیت) ” ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ “
6:۔ ابوالشیخ (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ عبداللہ بن ابی کے پاس ٹھہرے اور اس کو دعوت دی تو وہ سخت کلامی سے پیش آیا اور نبی کریم ﷺ کی داڑھی مبارک کو پکڑ لیا، ابو ایوب ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی داڑھی مبارک سے اپنا ہاتھ کو روک لو۔ اللہ کی قسم اگر مجھے اجازت دی جائے تو میں تیرے اندر ضرور ہتھیار سے تیرا کام تمام کردوں گا وہ بیمار ہوا تو اس نے نبی کریم ﷺ کو بلابھیجا اور آپ کی قمیض کو بھی طلب کیا۔ عمر ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم وہ اس لائق نہیں کہ آپ اس کے پاس جائیں۔ آپ نے فرمایا کیوں نہیں پھر آپ اس کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا تجھے تیری یہود کے ساتھ دوستی نے ہلاک کیا اس نے کہا میں نے آپ کو اس لئے بلایا ہے تاکہ آپ میری بخشش کے لئے دعا فرمائیں۔ اور میں آپ کو اس لئے نہیں بلایا ا کہ آپ ملاقات کریں اور ڈانٹیں۔ پھر اس کے کہا مجھے اپنی قمیض عطا فرمائیں۔ تاکہ مجھے اس میں کفن دیا جائے آپ نے اس کو عطا فرمائی اور آپ نے اس کے جسم میں تھوکا اور اس کی قبر میں بھی اترے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ولا تصل علی احد منہم مات ابدا (الآیہ) صحابہ کرم ؓ اجمعین نے آپ کی قمیض مبارک کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا میری قمیض اس کو فائدہ نہیں دے گی۔ اللہ کی قسم میں امید رکھتا ہوں کہ بنوخزرج میں سے ایک ہزار سے زیادہ مسلمان ہوجائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ولا تعجبک اموالہم واولادہم “ (الآیہ )
Ayah 9:861:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اولوالطول سے مراد ہیں مالدار لوگ۔
Ayahs 9:87–891:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” رضوا بان یکونوا مع الخوالف “ یعنی عورتوں کے ساتھ (انہوں نے) بیٹھنا پسند کیا اور جہاد میں جانا پسند نہ کیا۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے سعد بن وقاص ؓ سے روایت کیا کہ علی بن ابی طالب ؓ نبی کریم ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ثنیۃ الوداع پر آئے اور آپ تبوک کے طرف ارادہ رکھتے تھے۔ علی ؓ رونے لگے اور فرما رہے تھے کیا مجھے پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ پیچھے چھوڑ دیں گے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو اس پر راضی نہیں ہے کہ تو میرے نزدیک موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی طرح (قائم مقام) ہوجائے مگر نبوت کے علاوہ (یعنی ہارون (علیہ السلام) کی طرح نبوت تو نہیں ملے گی مگر تو ان جیسا قائم مقام ملے گا)
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” رضوا بان یکونوا مع الخوالف “ یعنی وہ لوگ راضی ہیں کہ پیچھے بیٹھ جائیں (اور جہاد میں نہ جائیں) جیسے کہ عورتیں بیٹھی ہوئی ہیں۔
4:۔ ابو الشیخ (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” رضوا بان یکونوا مع الخوالف “ خوالف سے مراد عورتیں ہیں یعنی عورتوں (کی طرح) ہم بھی بیٹھ جائیں (آیت) ” وطبع علی قلوبہم “ یعنی ان کے اعمال کے سبب ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔
Ayah 9:901:۔ ابن منذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وجآء المعذرون من الاعراب “ یعنی ان میں سے عذر والے ہوئے بلکہ ان کو اجازت مل جائے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآء المعذرون من الاعراب “ سے مراد ہیں عذر والے لوگ (یعنی بہانے والے) اور وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” وجآء المعذرون “ (یعنی بغیر تشدید کے تخفیف کے ساتھ)
3:۔ ابن الانباری نے کتاب الاضداد میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ یوں پڑھتے ہیں (آیت) ” وجآء المعذرون من الاعراب “ اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ عذر کرنے والوں پر (یعنی بہانے بنانے والوں پر) لعنت کرے۔
4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ کسی نے اس کو پڑھا (آیت) ” وجآء المعذرون من الاعراب “ خفیف کرتے ہوئے تو فرمایا وہ بنومقرن ہیں اور جن کسی نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” وجآء المعذرون “ تو فرمایا انہوں نے ایسی چیز کے ساتھ عذر کیا اور ان کے عذر حق نہیں تھا۔
5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت پڑھتے (آیت) ” وجآء المعذرن “ اور فرماتے یعنی انہوں نے اس چیز کے ساتھ عذر کیا جو سچ نہیں تھا۔
6:۔ ابن منذر وابو الشیخ وابن حاتم رحمہم اللہ نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآء المعذرون من الاعراب “ یعنی مجھ کو یہ بات ذکر کی گئی کہ وہ لوگ بنوغفار میں سے تھے۔ وہ آئے اور معذرت کرنے لگے ان میں سے خفاف بن ایماء خرصی قبیلہ میں سے تھے۔
Ayah 9:911:۔ ابن ابی حاتم والدارقطنی نے الافراد میں وابن مردویہ رحمہم اللہ نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے لئے سورة برات لکھ رہا تھا اور جو آپ پر نازل ہوتا تھا۔ میں اس کو لکھ لیتا تھا اور میں اپنا قلم اپنے کان پر رکھے ہوئے تھا اچانک آپ نے ہم کو قتال کا حکم دیا پھر رسول اللہ ﷺ نے احکام نازل ہونے کا اتنظار فرمانے لگے اچانک ایک اندھا آدمی آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ میرا معاملہ کیسے ہوگا میں تو اندھا ہوں تو (یہ آیت) نازل ہوئی۔ (آیت ) ” لیس علی الضعفآء “۔ (الآیہ)
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لیس علی الضعفآء “۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت عائز بن عمرو اور اس کے علاوہ دوسرے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اس قول (آیت) ” عفا اللہ عنک “ سے لے کر (آیت) ” ماعلی المحسنین من سبیل واللہ غفور رحیم “ تک منافقین کے بارے میں نازل ہوئی۔
4:۔ ابن ابی شیبہ واحمد نے زہد میں الحکیم الترمذی (رح) نے نوادرالاصول میں ابن ابی حاتم نے ابو ثمامہ الصائدی سے روایت کیا کہ حواریوں نے کہا اے روح اللہ ہم کو اللہ کے لئے نصیحت کرنے والے کے بارے میں بتائیے آپ نے فرمایا وہ آدمی جو اللہ کے حق کو لوگوں کے حق پر ترجیح دیتا ہے اور جب اس کے لئے دو امر پیش آجائیں۔ یا اس کے سامنے امر دنیا بھی ہو اور امر آخرت بھی تو آغاز اور آخرت سے کرنے اور اس سے فارغ ہونے کے بعد امر دنیا کی طرف توجہ کرے۔
مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی :
5:۔ مسلم وابو داود والنسائی رحمہم اللہ نے تمیم داری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دین نصیحت ہے کیا رسول اللہ ﷺ کس کے لئے تو آپ نے فرمایا اللہ کے لئے اس کے رسولوں کے لئے مسلمان آئمہ کے لئے اور عام مسلمانوں کے لئے۔
6:۔ ابن عدی (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دین خیرخواہی ہے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کس کے لئے ؟ فرمایا اللہ کے لئے اس کے رسول کے لئے اور مسلمان آئمہ کے لئے اور عام مسلمانوں کے لئے۔
7:۔ بخاری ومسلم الترمذی رحمہم اللہ نے جریر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے نماز کے قائم کرنے پر زکوٰۃ کے ادا کرنے پر اور ہر مسلمان کے لئے خیر خواہی (چاہنے پر بیعت کی)
8:۔ احمد والحکیم الترمذی رحمہما اللہ نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں مجھے یہ زیادہ محبوب ہے کہ جو عبادت میرے بندے نے میرے لئے مخلص ہو کر کی۔
9:۔ احمد (رح) نے الزہد میں وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک راہب نے ایک آدمی سے کہا میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے انہیں اس طرح مخلص ہونے کی جیسے کتا مخلص ہوتا ہے۔ اپنے گھروالوں کے لئے بلاشبہ وہ اس کو بھوکا رکھتے ہیں اور اس کو دور بھی بھگاتے ہیں۔ اور وہ (باہر جانے سے) انکار کرتا ہے مگر وہ اللہ ان کی حفاظت کرتا ہے اور ان کی خیر خواہی کرتا ہے۔
10:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ اس قول (آیت) ” ماعلی المحسنین من سبیل “ کے بارے میں فرمایا ان لوگوں پر کوئی الزام نہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے لئے خیرخواہی کی مگر جہاد کی طاقت نہ رکھی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے عذر کو قبول فرمایا اور ان کے لئے وہ اجر کردیا گیا جو مجاہدین کے لئے کیا گیا تھا کیا تو نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا (آیت) ” لا یستوی القعدون من المومنین غیر اولی الضرر “ (النساء آیت 95) پس جو لوگ عذر والے تھے ضعفاء میں سے اور تکلیف والوں میں سے اور ان لوگوں میں سے جو خرچ کرنے کو کچھ نہیں پاتے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جہاد کرنے والوں کی طرح ہی اجر بنا دیا۔
معذور کے اجر وثواب :
11:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں وابن ابی شیبہ واحمد والبخاری وابو الشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے اور مدینہ منورہ میں داخل ہونے کے قریب ہوئے تو آپ نے فرمایا والبتہ تحقیق تم نے مدینہ منورہ میں ایسے آدمی چھوڑے ہیں جو تمہارے ساتھ سفر پر نہیں تھے۔ ان کی کوئی چیز خرچ نہیں کی اور نہ تم ان کے ساتھ وادیوں کو عبور کیا مگر اس غزوہ میں وہ تمہارے ساتھ تھے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ ہمارے ساتھ کس طرح ہوں گے حالانکہ وہ مدینہ منورہ میں تھے آپ نے فرمایا ان کو عذر نے روک لیا تھا (اس لئے ان کو ایسا ہی اجر ملے گا جیسے وہ تمہارے ساتھ تھے)
12:۔ احمد ومسلم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے مدینہ منورہ میں ایسے لوگ پیچھے چھوڑے ہیں جنہوں نے نہ تمہارے ساتھ وادیوں کو عبور کیا اور نہ انہوں نے تمہارے ساتھ سفر کیا وہ تمہارے اجر میں شریک ہیں کیونکہ ان کو مرض نے روک لیا تھا۔
13:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول ’(آیت) ما علی المحسنین من سبیل “ کے بارے میں فرمایا اور اللہ تعالیٰ گناہ کرنے والوں کے لئے مغفرت فرمانے والا ہے اور رحم فرمانے والا ہے۔