9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 9:92

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

اور ان لوگوں پر بھی کوئی گناہ نہیں جو آپ کے پاس اس لئے حاضر ہوئے کہ آپ انکو سواری دے دیں۔ آپ نے کہہ دیا کہ میں ایسی چیز نہیں پاتا جس پر تمہیں سوار کردوں وہ اس حال میں واپس ہوگئے کہ ان رنج میں ان کی آنکھوں سے آنسوبہ رہے تھے کہ وہ خرچ کرنے کے لئے نہیں پاتے

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے مدینہ منورہ میں ایسی قوم کو چھوڑا ہے جنہوں نے تمہارے ساتھ کوئی بھی سفر نہیں کیا اور تمہارے ساتھ وادیوں کو عبور نہیں کیا اور نہ تمہارے ساتھ دشمن کا سامنا کیا مگر وہ تمہارے ساتھ شریک ہیں اجر میں پھر آپ نے ( یہ آیت) ” ولا علی الذین اذا ما اتوک “ تلاوت کی۔ 2:۔ ابن جریر وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو حکم فرمایا کہ وہ غازین (یعنی دشمن سے لڑنے والے) کو بھیجیں (یعنی جہاد کے لئے تیار ہوں) آپ کے صحابہ میں سے ایک جماعت آئی ان میں عبداللہ بن معقل لمزنی تھے انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم کو سوار کیجئے (یعنی سواری کے جانور دیجئے) آپ نے فرمایا اللہ کی قسم میں کوئی سواری نہیں پاتا کہ اس پر میں تم کو سوار کروں یہ لوگ روتے ہوئے لوٹ گئے اور ان پر یہ احساس غالب تھا کہ وہ جہاد سے ہلاک کردیئے گئے وہ خود نہ تو خرچ کرپاتے تھے اور نہ سواری کرپاتے تو اللہ تعالیٰ ان کے عذر قبول کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ولا علی الذین اذا ما اتوک “ (الآیہ) 3:۔ ابن سعد و یعقوب بن سفیان (رح) نے اپنی تاریخ میں وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے عبداللہ بن مقعل ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ میں اس جماعت میں سے ہوں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ (آیت) ” ولا علی الذین اذا ما اتوک “ (الآیہ) 4:۔ ابن جریر (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے سواری مانگی آپ نے فرمایا میں ایسی کوئی چیز نہیں پاتا کہ جس پر میں تم کو سوار کروں (اس بارے میں) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ولا علی الذین اذا ما اتوک لتحملہم “ (الآیہ) اور یہ سات آدمی تھے بنو عمر بن عوف میں سے سالم بن عمیر، بنوواقف میں سے حرس بن عمر و، بنومازن ابن النجار میں سے عبدالرحمن بن کعب جن کی ابولیلی کنیت تھی بنو المعلی میں سے سلمان بن صخرہ بنوحارثہ میں سے عبدالرحمن بن زید ابو عبلہ اور بنو مسلمہ میں سے عمرو بن غنمہ اور عبداللہ بن عمر والمزنی۔ سات صحابہ کرام ؓ کا تذکرہ : 5:۔ ابن مردویہ (رح) نے مجمع بن حارثہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ لوگ جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے سواری مانگی اور آپ نے فرمایا کہ میں کوئی چیز نہیں پاتا کہ جس پر تم کو سوار کروں یہ سات آدمی تھے علیہ بن زید الحارثی عمر بن غنم الساعدی، عمر و بن ھرمی الرافعی۔ ابو لیلی المزنی سالم بن عمرو العمری سلمہ بن محزالرزق اور عبداللہ بن عمر والمزنی۔ 6:۔ عبد الغنی بن سعید (رح) نے اپنی تفسیر میں و ابونعیم (رح) نے حلیہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا علی الذین اذا ما اتوک “ ان میں سے سالم بن عمیر تھے جو قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں سے ایک تھے۔ 7:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے عبدالرحمن بن عمر والسلمی وحجر بن الکلائی دونوں سے روایت کیا کہ ہم عرباص بن ساریہ کے پاس آئے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ولا علی الذین اذا ما اتوک لتحملہم “ (الآیۃ) 8:۔ ابن مسعد وابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ولا علی الذین اذا ما اتوک لتحملہم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ قبیلہ مزینہ سے بنو متفرق تھے اور یہ سات آدمی تھے۔ 9:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے کثیر بن عبداللہ عمر و بن عوف المزنی (رح) اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں اللہ کی قسم کہ میں ان لوگوں میں سے ایک ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ولا علی الذین اذا ما اتوک لتحملہم “ 10:۔ ابن اسحاق وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے زہری (رح)، یزید بن یسار، عبداللہ بن ابی بکر اور عاصم بن عمر بن قتادہ اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور وہ رو رہے تھے اور وہ سات آدمی تھے انصار میں سے اور دوسرے لوگوں میں سے بنوعمروبن عوف میں سے سالم بن عمیر بنو حارثہ میں سے عتبہ بن زید بنومازن بن النجار میں سے ابو لیلی عبدالرحمن بن کعب بنوسلمہ میں سے عمرو بن عمرو بن جھام بن الجموح اور بنو واقف میں سے ھری بن عمرو اور بنومدینہ میں سے عبداللہ بن معقل اور بنو فزراہ میں سے عرباص بن ساریہ تھے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سواری مانگی اور اہل حاجت (یعنی غریب لوگوں) میں سے تھے۔ آپ نے فرمایا میں کوئی چیز نہیں پاتا کہ جس پر میں تم سوار کروں۔ 11:۔ ابو الشیخ وابن مردویہ رحمہما اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ معقل بن یسار ؓ ان رونے والوں میں سے تھے (جن کے بارے میں) اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” اذا ما اتوک لتحملہم “ (الآیہ) 12:۔ ابوالشیخ (رح) نے حسن اور بکر بن عبداللہ المزنی دونوں سے روایت کیا کہ انہوں نے اس (آیت) ” ولا علی الذین اذا ما اتوک لتحملہم “ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) عبداللہ بن معقل جو مزینہ میں سے تھے کہ بارے میں نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تاکہ وہ انکو سوار کردیں۔ 13:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن الھیعہ (رح) سے روایت کیا کہ ابو شریح الکعبی ؓ ان لوگوں میں سے تھے کہ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ولا علی الذین اذا ما اتوک لتحملہم “ 14:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے انس بن مالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) لا اجد ما احملکم علیہ “ سے مراد ہے کہ پانی اور زادہ راہ 15:۔ ابن منذر (رح) نے علی بن صالح (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو جھینہ کے مشائخ نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا ہم نے لوگوں کو پایا جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سواریوں کا سوال کیا تھا انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف گھوڑوں پر سوار کرنے کی درخواست کی تھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ولا علی الذین اذا ما اتوک لتحملہم “ 16:۔ ابن ابی حاتم ابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابراہیم بن ادھم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ولا علی الذین اذا ما اتوک لتحملہم “ کے بارے میں فرمایا انہوں نے آپ ﷺ سے سواریوں کا سوال نہیں کیا تھا بلکہ صرف نعل لگے ہو وں کا سوال کیا تھا۔ 17:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے آپ ﷺ سے نعال والی سواریوں کا سوال کیا تھا۔
Ayahs 9:93–96

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

الزام تو انہی لوگوں پر ہے جو مالدار ہوتے ہوئے آپ سے اجازت چاہتے ہیں وہ اس بات پر راضی ہوگئے کہ پیچھے رہ جانے والی عورتوں کے ساتھ رہ جائیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہرلگا دی سو وہ نہیں جانتے

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

وہ لوگ آپ کے پاس عذر پیش کریں گے جب آپ ان کی طرف واپس ہوں گے۔ آپ فرما دیجئے عذر پیش نہ کرو ہم ہرگز تمہاری بات کو سچی نہ مانیں گے۔ اللہ نے تمہاری خبریں ہمیں بتادیں ہیں، اور عنقریب اللہ تمہارے عمل کو دیکھ لے گا اور اس کا رسول بھی۔ پھر تم اس ذات کی طرف لوٹائے جاوگے جو چھپی ہوئی اور ظاہری باتوں کا جاننے والا ہے، سو وہ تمہیں ان کاموں سے باخبر فرما دے گا جو تم کیا کرتے تھے

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

وہ عنقریب تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو۔ سو آپ ان سے اعراض کریں بیشک وہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ ان کو ان کاموں کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

وہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ سو اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا

1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول (آیت) ” انما السبیل علی الذین یستاذنونک “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت اور جو اس کے بعد ہے یعنی (آیت) ” فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین “ تک منافقین کے بارے میں۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” قد نبانا اللہ من اخبارکم “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ خبر دی گئی اگر تم نکلتے ہمارے ساتھ تو تم لوگ ہمارے ساتھ نہ زیادہ کرتے مگر فساد یا خرابی کو اور فرمایا (آیت) ” فاعرضوا عنہم انہم رجس “ یعنی رجس یعنی جب نبی کریم ﷺ واپس لوٹے تو آپ نے فرمایا (صحابہ کرام ؓ کے تم لوگ نہ اس سے بات کرو اور نہ ان کے ساتھ بیٹھو پس انہوں نے کہا تم ان سے اس طرح اعراض کرو جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا۔ 3:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لتعرضوا عنہم “ سے مراد ہے کہ البتہ تم لوگ ان سے درگزر کرو۔
Ayah 9:97

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

دیہاتی لوگ کفر اور نفاق میں بہت سخت ہیں اور اس لائق ہیں کہ اللہ نے اپنے رسول پر جو احکام نازل فرمائے ہیں ان سے واقف نہ ہوں اور اللہ جاننے والا ہے حکمت والا ہے

1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الاعراب اشد کفرا ونفاقا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس میں پھر استثنی کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” ومن الاعراب من یومن باللہ والیوم الاخر “ (الآیہ) 2:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واجدر الا یعلموا حدود ما انزل اللہ علی رسولہ “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو احکام اور سنتوں کا بہت کم علم رکھنے والے ہیں۔ 3:۔ ابن سعد وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ زید بن صوحان بیان کرتے تھے کہ ایک دیہاتی نے کہا کہ تیری بات مجھ کو تعجب میں ڈال رہی ہے۔ اور تیرا ہاتھ مجھے شک میں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کیا تو اس کو باتیں گمان کررہا ہے۔ دیہاتی نے کہا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ وہ دایاں کاٹیں گے یا بایاں تو زید نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا (آیت) ” الاعراب اشد کفرا ونفاقا واجدر الا یعلموا حدود ما انزل اللہ علی رسولہ “ 4:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الاعراب اشد کفرا ونفاقا “ یعنی مدینہ کے منافقوں میں سے (آیت) ” واجدر الا یعلموا حدود ما انزل اللہ علی رسولہ “ اور وہ یہ حق رکھتے ہیں کہ وہ فرائض کو اور جو ان کو جہاد کا حکم دیا گیا اسے نہ جانیں۔ 5:۔ ابو الشیخ (رح) نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت قبیلہ اسد اور غطفان کے بارے میں نازل ہوئی۔ 6:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابن سرین (رح) سے روایت کیا کہ جب تم میں سے کوئی اس (آیت) ” الاعراب اشد کفرا ونفاقا “ کی تلاوت کرے تو تو اس کو چاہئے کہ دوسری آیت ” ومن الاعراب من یومن باللہ والیوم الاخر “ کی بھی تلاوت کرے اور خاموش نہ رہے۔ دیہاتیوں کے اخلاق : 7:۔ احمد ابوداود و ترمذی اور آپ نے اس کو حسن کہا والنسائی والبیہقی نے الشعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے جنگل میں سکونت اختیار کرلی اس نے ظلم وجفا کی اور جو شکار کے پیچھے لگا وہ غلط ہوا اور جو سلطان کے پاس آیا تو فتنہ میں مبتلا ہو۔ 8:۔ ابو داود والبیہقی : نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو جنگ میں جا کر رہا اس نے جفا کی جو شخص شکار کے پیچھے لگا وہ (اللہ کی یاد سے) غافل ہوگیا۔ اور جو شخص بادشاہ کے دروازوں پر آیا فتنہ میں ڈال دیا گیا اور جس نے بادشاہ سے قریب ہونے کو زیادہ کیا تو اس نے اللہ سے دور ہونے کو زیادہ کیا۔
Ayah 9:98

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور دیہاتیوں میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو اپنے خرچ کرنے کو تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے لئے مصیبتوں کے آنے کے منتظر رہتے ہیں۔ ان پر بری گردش ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

1:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن الاعراب من یتخذ ما ینفق مغرما “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کسی ثواب اور جزا کی امید نہیں رکھتے اور جو صدقات وزکوۃ دیتے ہیں وہ ان کے لئے اجر ہے۔ اور فرمایا (آیت) ” ویتربص بکم الدوآئر “ یعنی وہ تمہاری ہلاکت کی انتظار میں رہتے ہیں۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن الاعراب من یتخذ ما ینفق مغرما “ سے دیہاتی لوگوں میں منافق مراد ہے جو ریاکاری کے طور پر خرچ کرتے ہیں اور غزوات پر جانے، جنگ میں شریک ہونے اور قتال سے بچنے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور وہ اپنے خرچ کرنے کو تاوان سمجھتے ہیں۔ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ومن الاعراب من یتخذ ما ینفق مغرما “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کو تاوان شمار کرتے ہیں جو اس کو ادا کررہے ہیں (آیت) ” ویتربص “ یعنی وہ محمد ﷺ کے ہلاکت کی انتظار کرتے ہیں۔
Ayah 9:99

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور دیہاتیوں میں وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے نزدیکی کا اور رسول کی دعائیں لینے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ خبردار یہ ان کے لئے نزدیکی کا سبب ہے اللہ عنقریب انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ بلاشبہ اللہ غفور ہے، رحیم ہے

دیہاتیوں کے مضبوط ہونے کی تعریف : 1:۔ سعید بن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن الاعراب من یومن باللہ والیوم الاخر “ سے مرادخزینہ قبیلہ میں ہے بنو معراج میں اور یہ لوگ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ولا علی الذین اذا ما اتوک لتحملہم “ 2:۔ ابن جریر وابن منذر ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے وصلوت الرسول “ یعنی نبی کریم ﷺ کا استغفار کرنا (ان ایمان والوں کے لئے) 3:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ومن الاعراب من یومن باللہ والیوم الاخر “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تعریف ہے۔ دیہاتی لوگوں کی جانب سے اور ” وصلوت الرسول “ یعنی رسول اللہ ﷺ کی دعائیں۔
Ayah 9:100

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ سبقت لے جانے والے ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہوا وہ اللہ سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے

1:۔ ابوعبید وسعید وابن جریر وابن منذر وابن جریر ورحمہم اللہ نے عمر بن عامر الانصاری ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے یوں پڑھا (آیت) ” والسبقون الاولون من المھجرین والانصار والذین اتبعوھم باحسان “ انہوں نے لفظ انصار کو رفع دیا اور ” الذین “ میں واو نہیں لگایا زیدبن ثابت ؓ عنہنے ان سے کہا یہ والذین ہے لیکن عمر ؓ نے فرمایا یہ الذین ہے زید نے کہا امیر المومنین زیادہ جانتے ہیں عمر ؓ نے فرمایا میرے پاس ابی بن کعب ؓ کو لے آؤ جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے اس بارے میں ان سے پوچھا تو ابی نے فرمایا ” والذین “ عمر ؓ نے فرمایا ہاں اب ٹھیک ہے اور انہوں نے ان کی پیروی کی۔ 2:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کی کہ عمر ؓ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو یوں پڑھ رہا رہا تھا (آیت) ” والسبقون الاولون من المھجرین والانصار “ عمر ؓ نے اس کے ہاتھ کو پکڑا اور فرمایا تجھے کس نے یہ پڑھایا ہے اس نے کہا ابی بن کعب ؓ نے عمر ؓ نے فرمایا تو مجھ سے جدا نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ میں تجھے اس کے پاس لے جاوں گا چناچہ جب آپ انکے پاس پہنچے تو عمر ؓ نے فرمایا کیا تو نے یہ آیت اس کو اس طرح پڑھائی ہے۔ انہوں نے کہا ہاں اور کہا کہ تو نے اس کو رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے انہوں نے کہا ہاں ! عمر ؓ نے فرمایا کہ تحقیق میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ ہم اتنی بلندی اور رفعت پر فائز ہیں کہ ہمارے بعد کوئی بھی وہاں تک نہیں پہنچے گا۔ ابی نے فرمایا اس کی تصدیق سورة جمعہ کے اول میں ہے (یعنی) (آیت) ” واخرین منہم لما یلحقوا بہم “ اور سورة حشر میں ہے (آیت) ” والذین جآء و من بعدہم یقولون ربنا اغفرلنا ولا خواننا الذین سبقونا بالایمان “ اور انفال میں ہے (آیت) ” والذین امنوا من بعدوھا جرواوجھدوا معکم فاولئک منکم “ فاروق اعظم ؓ اور ابی بن کعب ؓ میں مکالمہ : 3:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابو اسامہ اور محمد بن ابراہیم تمیمی (رح) دونوں سے روایت کیا کہ عمر ؓ ایک آدمی کے پاس سے گزرے اور وہ پڑھ رہا تھا (آیت) ” والسبقون الاولون من المھجرین والانصار والذین اتبعوھم باحسان “ عمر ؓ ٹھہر گئے اور وہ آدمی پڑھ چکا تو عمر ؓ اس سے پوچھا تجھے یہ کس نے پڑھا یا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے اس کو ابی بن کعب ؓ سے پڑھا ہے عمر ؓ نے فرمایا اس کی طرف چلو۔ تو دونوں ان کے پاس پہنچے فرمایا اے ابو المنذر (یہ ابی بن کعب ؓ کی کنیت ہے) اس کے بارے میں مجھے بتائیے کہ تو نے اس آدمی کو یہ آیت پڑھائی۔ عرض کیا ہاں میں نے اس کو سنا ہے رسول اللہ ﷺ کے منہ مبارک سے۔ عمر ؓ نے فرمایا کہ تو نے اس کو رسول اللہ ﷺ سے حاصل کیا عرض کیا ہاں ! عمر ؓ نے تیسری بار پھر پوچھا تو انہوں نے غصہ کی حالت میں عرض کیا ہاں اللہ کی قسم کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو جبرئیل (علیہ السلام) پر نازل فرمایا اور جبرئیل (علیہ السلام) نے اس کو محمد ﷺ کے دل پر نازل فرمایا اور اس بارے میں انہوں نے کوئی مشاورت نہیں کی خطاب سے اور نہ اس کے بیٹے عمر ؓ سے اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے ہوئے وہاں سے نکل گئے اور فرما رہے تھے اللہ اکبر اللہ اکبر۔ 4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ ابو نعیم نے المعرفتہ میں ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والسبقون الاولون “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دو قبلوں کی طرف منہ کرکے نمازیں ادا کیں۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم وابن منذر وابن مردویہ وابو نعیم نے المعرمہ میں سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والسبقون الاولون “ سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے دو قبلوں کی طرف منہ کرکے نمازیں ادا کیں۔ 6:۔ ابن منذر وابو نعیم رحمہما اللہ نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والسبقون الاولون “ سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے دو قبلوں کی طرف منہ کر کے نمازیں ادا کیں اورو وہ اصحاب بدر ہیں۔ 7:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والسبقون الاولون “ سے ابوبکر عمر، علی سلمان اور عمار بن یاسر ؓ مراد ہیں۔ 8:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابوالشیخ وابو نعیم رحمہم اللہ نے المعرفۃ میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والسبقون الاولون “ سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے بیعت رضوان کو پایا اور سب سے پہلے بیعت رضوان سنان بن وھب نے کی۔ 9:۔ ابن مردویہ (رح) نے غیلان بن جریر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے اس نام انصار کے بارے میں پوچھا تم نے اپنے پاس سے یہ نام رکھا ہے۔ یا اللہ تعالیٰ نے آسمان سے تمہارا نام رکھا ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام آسمان سے رکھا ہے۔ 10:۔ ابن ابی شیبہ والنسائی واحمد رحمہم اللہ نے معاویہ بن ابی سفیان ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس نے انصار سے محبت کی تو اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرمائیں گے اور جس نے انصار سے دشمنی رکھی اللہ تعالیٰ بھی اس سے دشمنی رکھیں گے۔ 11:۔ احمد والبخاری ومسلم رحمہم اللہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور نفاق کی نشانی انصار سے دشمنی ہے۔ 12:۔ احمد (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے اللہ انصار کو انصار کے بیٹوں کو انصار کی بیویوں کو انصار کی اولاد کو بخش دے۔ انصار میری جماعت اور میری حفاظت کا ذریعہ ہے۔ اور سبب ہیں اگر لوگ اپنی اپنی جماعت بنالیں اور انصار بھی اپنی جماعت بنالیں میں ضرور انصار کی جماعت کو لوں گا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک آدمی ہوتا۔ 13:۔ ابن ابی شیبہ واحمد رحمہما اللہ نے حارث بن زیاد (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے انصار سے محبت کی اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرمائیں گے جب وہ اس سے ملاقات کریں گے اور جس نے انصار سے دشمنی رکھی تو اللہ تعالیٰ اس سے نفرت فرمائیں گے جب وہ ان سے ملاقات کرے گا۔ 14:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے قیس بن سعد بن عبادہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول ؓ نے فرمایا اے اللہ انصار پر رحمت فرما اور انصار کی اولاد پر اور انصار کی اولاد کی اولاد پر۔ 15:۔ ابن ابی شیبہ رحمہما اللہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر لوگ کسی وادی اور گھاٹی کی طرف چلیں گے اور ( اے انصار) ہو اور تم ایک وادی میں اور گھاٹی کی طرف چلو گے تو میں تمہاری وادی اور تمہاری گھاٹی کی طرف چلوں گا تم لوگ شعار (وہ لباس جو جسم کے ساتھ ہوا ہے) لوگ دیار ( کپڑوں کے اوپر لی ہوئی چادر) ہیں۔ اگر ہجرت نہ ہوتی تو انصار میں سے ایک آدمی ہوتا پھر آپ نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی کو دیکھا پھر آپ نے فرمایا اے اللہ انصار کو انصار کے بیٹوں کو اور انصار کی بیٹیوں کو بخش دے۔ 16:۔ ابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ رحمہم اللہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انصار سے صرف مومن بھی محبت رکھتا ہے اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھتا ہے اور جس نے ان سے محبت کی اللہ تعالیٰ بھی ان سے محبت فرمائیں گے اور جس نے ان سے دشمنی کی اللہ تعالیٰ بھی ان سے دشمنی فرمائیں گے۔ 17:۔ ابن ابی شیبہ اور ترمذی (رح) نے (اور آپ نے اس کو حسن کہا ہے) ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبردار بیشک میری جماعت وہ ہے کہ جن کی طرف میرے گھر والوں نے ٹھکانہ پکڑا اور بلاشبہ میری جماعت انصار ہیں پس معاف کردو ان کی غلطیاں کرنے والوں کو اور ان کے محسن کو قبول کرلو۔ 18۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے سعد بن عبادہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ قبیلہ انصار میں سے ہے ان کی محبت ایمان ہے اور ان کا بغض نفاق ہے۔ 19:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اے اللہ انصار کو انصار کی اولاد انصار کی عورتوں کو اور انصار کی بیٹوں کو عورتوں کو اور انصار کے بیٹوں اور بیٹیوں کی عورتوں کو بخش دے۔ 20:۔ ابن ابی شیبہ اور ترمذی نے (اور آپ نے اس کو حسن کہا ہے) اور نسائی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انصار سے وہ آدمی بغض نہیں رکھتا جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔ 21:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے معاذ بن رفاعہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ بخش دے انصار کو انصار کی اولاد کو ان کی اولاد کو ان کے غلاموں کو اور ان کے پڑوسیوں کو۔ 22:۔ ابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم رحمہم اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قریش انصار جھینہ مزینہ اسلم اور غفار سب اللہ اور اس کے رسول کے دوست اور موالی ہیں اور آپ کے علاوہ ان کا کوئی آقا نہیں۔ 23:۔ ابن ابی شیبہ ومسلم رحمہم اللہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انصار سے وہ آدمی بغض نہیں رکھتا جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتا ہے۔ انصار مدینہ کی تعریف : 24:۔ طبرانی (رح) نے سائب بن یزید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس مال غنیمت کو تقسیم فرمایا قریش میں سے اہل مکہ اور دوسرے لوگوں کے درمیان جو اللہ تعالیٰ نے غزوہ حنین میں عطا فرمائی تو انصار ناراض ہوگئے آپ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا اے انصار کی جماعت مجھ کو تمہاری بات پہنچی ہے۔ ان غنیمتوں کے بارے میں جو میں نے اس کے ذریعہ دوسرے لوگوں کو ترجیح دی ہے تاکہ ان کو اسلام کی طرف مائل کرسکوں تاکہ وہ آج کے بعد گواہی دیں کیونکہ ابھی تھوڑا وقت گزرا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں اسلام کو داخل کیا ہے۔ اے انصار کی جماعت کیا اللہ تعالیٰ نے تم پر ایمان کے ساتھ احسان نہیں فرمایا اور تم کو خصوصی عزت و کرامت کے ساتھ نوازا ہے۔ اور ناموں میں سے سب سے اچھا نام اللہ تعالیٰ نے تمہارا رکھا ہے۔ یعنی اللہ کی مددگار اور اس کے رسول کے مددگار۔ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں یقینا انصار کا ایک فرد ہوتا۔ اور اگر تم لوگ کسی اور وادی میں چلو گے تو میں تمہاری وادی سے چلوں گا کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ لوگ ان غنیمتوں (کا مال) بکریاں اور اونٹوں کو لے کر جائیں اور تم رسول اللہ ﷺ کو ساتھ لے کر جاؤ۔ صحابہ کرام ؓ اجمعین نے کہا ہم راضی ہیں آپ نے فرمایا مجھ کو جواب دو اس بارے میں جو میں نے کہا تو انہوں نے کہا یارسول اللہ ﷺ آپ نے ہم کو اندھیرے میں پایا ہم کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ نور اور روشنی عطا فرمائی۔ اور آپ نے ہم کو آگ کے گھڑے کے کنارے پر پایا تو اللہ تعالیٰ نے ہم کو آپ کے ذریعہ سے گرنے سے بچایا اور آپ نے ہم کو گمراہ پایا اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ ہم کو ہدایت دی ہم راضی ہیں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر آپ نے فرمایا، اللہ کی قسم اگر تم مجھے اس بات کے علاوہ کوئی اور جواب دیتے تو میں پھر بھی کہتا ہوں تم نے سچ کہا اگر تم کہو کیا تم بھاگ کر ہمارے پاس نہیں آئے اور ہم نے آپ کو پناہ دی۔ اور آپ جھٹلائے ہوئے ہو کر آئے ہم نے تیری تصدیق کی اور آپ مدد سے محروم ہو کر آئے۔ آپ کی مدد کی اور ہم نے اس کو قبول کیا جسے لوگوں نے رد کردیا اگر تم یہ بات کہتے تو میں تمہاری تصدیق کرتا۔ صحابہ کرام ؓ اجمعین نے عرض کیا کہ بلکہ اللہ اور اس کے رسول کا احسان اور فضل ہے ہم پر اور ہمارے غیروں پر ( یعنی ہمارے دوسرے لوگوں پر) 25:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عبد الرحمن بن ابی یعلی (رح) سے روایت کیا کہ لوگ تین قسم پر تھے سب سے پہلے ہجرت کرنے والے۔ اور وہ لوگ جنہوں نے احسان کے ساتھ ان کی پیروی کی۔ اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ایمان لانے میں ہم سے بڑھ گئے اور سب سے اچھا وہی ہے جو اس مرتبہ میں ہے۔ 26:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان کے پاس آدمی آیا اور اس نے بعض صحابہ کا ذکر کرتے ہوئے ان میں عیب نکالے تو ابن نے فرمایا (آیت) ” والسبقون الاولون من المھجرین والانصار والذین اتبعوھم باحسان ‘ 27:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا انہوں نے (آیت) ” والذین اتبعوھم باحسان “ کے بارے میں فرمایا کہ جو شخص اہل اسلام میں سے باقی ہوگا قیامت کے قائم ہونے تک ( وہ سب اس میں شامل ہوں گے) 28:۔ ابو الشیخ (رح) نے عصہرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ میں نے سفیان سے تابعین کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے اصحاب کو پایا اور نبی کریم ﷺ کو نہیں پایا اور ان لوگوں کے بارے میں پوچھا جنہوں نے اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کی تو انہوں نے فرمایا جو ان کے بعد آئیں گے میں نے پوچھا قیامت تک فرمایا میں امید کرتا ہوں (کہ ایسا ہی ہوگا ) صحابہ کرام ؓ اجمعین کی لغزشوں کا معاف ہونا : 29:۔ ابو الشیخ وابن عساکر رحمہما اللہ نے ابو صخر حمید بن زیاد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے پوچھا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے بارے میں بتائیے میں صرف آزمائش کا ارادہ کرتا ہوں تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سب صحابہ کرام ؓ کو بخش دیا ہے اور ان کے نیکوں اور ان کے بروں کے لئے اپنے کتاب میں جنت کو واجب کردیا میں نے کہا کون سی جگہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اپنی کتاب میں جنت کو واجب کردیا فرمایا کیا تو نے نہیں پڑھا (آیت) ” والسبقون الاولون “ (الآیہ) نبی کریم ﷺ کے سب صحابہ کرام ؓ کے لئے جنت اور رضا مندی کو واجب کردیا اور تابعین پر ایک شرط لگائی کہ جو ان کے بارے میں شرط نہیں لگائی میں نے کہا ان پر کون سی شرط لگائی میں نے کہ ان پر کون سی شرط لگائی یا تو انہوں نے فرمایا ان پر یہ شرط لگائی کہ ان (صحابہ) کے اخلاص کے ساتھ تابعداری کریں اور فرماتے ہیں کہ وہ لوگ ان کی اقتداء کریں گے ان کے نیک اعمال میں اور ان کے علاوہ دوسرے امور میں ان کی اقتدار نہیں کریں گے ابوصخر نے فرمایا گویا کہ میں نے یہ آیت اس سے پہلے پڑھی ہی نہیں اور میں نے اس کی تفسیر کو نہیں پہچانا تھا یہاں تک کہ میں نے اس کو محمد بن کعب پر پڑھا (تو انہوں نے مجھے اس کی تفسیر بتائی) 30:۔ ابن مردویہ (رح) نے اوزاعی کے راستے سے اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یحی بن ابی کثیر، قاسم مکحول وعبدہ بن ابی لبابہ اور حسان بن عطیہ (رح) سب حضرات نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے اصحاب کی ایک جماعت کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب یہ آیت ” والسبقون الاولون “ سے لے کر ” ورضوا عنہ “ تک نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ میری ساری امت کے لئے ہے اور راضی ہونے کے بعد کوئی ناراضگی نہیں ہوتی۔
Ayah 9:101

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور تمہارے گردوپیش جو دیہاتی ہیں ان میں منافق ہیں اور اہل مدینہ میں بھی ایسے لوگ ہیں جو منافقت پر اڑ گئے ہیں آپ انہیں نہیں ہم انہیں جانتے ہیں، ہم انہیں دو مرتبہ عذاب دیں گے پھر وہ عذاب عظیم کی طرف لوٹائے جائیں گے

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی نے الاوسط میں وابو الشیخ وابن جریر رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وممن حولکم من الاعراب منفقون “ کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے فلانے اے فلانے کھڑا ہوجا اور نکل جا بیشک تو منافق ہے (اس طرح) ان کو ان کے ناموں کے ساتھ باہر نکال دیا۔ اور ان کو خوب رسوا کیا اس جمعہ میں عمر بن خطاب ؓ اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے حاضر نہیں تھے عمر ؓ ان سے ملے اور وہ لوگ مسجد سے نکل رہے تھے اور اس حیا کے سبب ان سے چھپنے لگے کہ آپ اس جمعہ میں حاضر نہیں تھے اور آپ نے لوگوں کے بارے میں یہ گمان کیا کہ یہ لوگ جھوٹ بول کر واپس آرہے ہیں اور وہ لوگ بھی حضرت عمر ؓ نے چھپنے لگے اور منافقوں نے گمان کیا کہ ان کو اس معاملے کا علم ہوچکا ہے۔ حضرت عمر ؓ مسجد میں داخل ہوئے لوگ (ابھی) نہیں گئے تھے ایک آدمی نے ان سے کہا اے عمر ؓ آپ کو بشارت اللہ تعالیٰ نے آج کے دن منافقوں کو رسوا کردیا ہے اور یہ پہلا عذاب ہے اور دوسرا عذاب قبر کا عذاب ہے۔ 2:۔ ابن منذر (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وممن حولکم من الاعراب “ سے مراد ہے جھینہ مزینہ اشجع، اسلم اور غفار ہیں۔ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مردوا علی النفاق “ سے مراد ہے کہ وہ اس (نفاق) پر قائم رہے اور انہوں نے توبہ نہیں کی جیسے دوسرے نے توبہ کی۔ 4:۔ ابن منذر (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” مردوا علی النفاق “ کے بارے میں فرمایا کہ اسی (نفاق) پر عبداللہ بن ابی ابو عامر الراھب اور امجد بن قیس مرے ( انہوں نے توبہ نہیں کی) 5:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” نحن نعلمہم “ سے مراد ہے کہ ہم ان کو پہنچانتے ہیں۔ 6:۔ عبدالرزاق وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لاتعلمہم، نحن نعلمہم “ کے بارے میں فرمایا کیا حال ہے ان اقوام کا جو لوگوں پر باتیں بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلاں جنت میں ہے اور فلاں جہنم میں ہے جب ان میں سے کسی سے اسی کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو کہتا ہے میں نہیں جانتامیری عمر کی قسم کو اپنی ذات کے بارے میں زیادہ جانتا ہے لوگوں کے اعمال کی نسبت اور تو نے اتنی چیزوں کا تکلف کیا ہے کہ جن کا کسی نبی نے وہ تکلف نہیں کیا نوح (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” وما علمی بما کانوا یعملون “ اور شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” وما انا علیکم بحفیظ “ اور اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کے لئے فرمایا (آیت) ” لا تعلمہم، نحن نعلمہم “ 7:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سنعذبہم مرتین “ (یعنی ہم ان کو دو مرتبہ عذاب دیں گے) بھوک اور قتل کے ساتھ (آیت ) ” سنعذبہم مرتین “ یعنی بھوک سے اور قبر کے عذاب ہے (ہم ان کو دو مرتبہ عذاب دیں گے ) ۔ 8:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سنعذبہم مرتین “ یعنی بھوک سے اور قبر کے عذاب سے (ہم ان کو دو مرتبہ دیں گے) 9:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سنعذبہم مرتین “ یعنی قبر میں عذاب دینے سے اور دوزخ میں عذاب دینے سے۔ 10:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ والبیہقی (رح) نے عذاب القبر میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سنعذبہم مرتین “ یعنی قبر میں عذاب دینے سے اور دوزخ میں عذاب دینے سے۔ 11:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سنعذبہم مرتین “ سے مراد ہے کہ وہ مبتلا کئے جائیں گے دنیا میں اور قبر کے عذاب میں (آیت) ” ثم یردون الی عذاب عظیم “ اس میں عذاب سے مراد جہنم کا عذاب ہے۔ 12:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابن زیدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سنعذبہم مرتین “ کہ دنیا کا عذاب دینا کے قانون اور اولاد کے سبب اور یہ آیت ” انما یرید اللہ لیعذبہم بھا فی الحیوۃ الدنیا وتزھق انفسہم وھم کفرون (55) “ یعنی اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ مصیبتوں کے ذریعہ ان کو دنیا کی زندگی میں عذاب دے پس یہ مصائب ان کے لئے عذاب ہیں اور فرمایا کہ آخرت کا عذاب دوزخ میں ہوگا (آیت) ” ثم یرودن الی عذاب عظیم “ اور عذاب سے مراد جہنم کا عذاب ہے۔ 13:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ لوگ کہتے ہیں (آیت ) ” سنعذبہم مرتین “ یعنی قتل اور قتل کے بعد برزخ (کا عذاب) اور برزخ کے مراد موت کے بعد دوبارہ اٹھانے کا وقت ہے۔ (آیت) ” ثم یردون الی عذاب عظیم “ یعنی جہنم کے عذاب (کی طرف لوٹا دیا جائے گا) 14:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” سنعذبہم مرتین “ کے بارے میں فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے منافقین کو جمعہ کے دن اپنی زبان مبارک سے منبر پر (کھڑے ہوکر) عذاب پہنچاتے تھے یعنی اس کا نام لے کر ان کو رسوا کیا۔ اور دوسرا قبر کا عذاب مراد ہے۔ 15:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو نبی کریم ﷺ ایسا عظیم خطبہ دیا میں نے کبھی بھی اس کی مثل نہیں سنا۔ فرمایا اے لوگ بلاشبہ تمہارے اور منافق میں جس کا میں نام لوں تو اس کو چاہئے کہ کھڑا ہوجائے اے فلاں کھڑا ہوجا اسے فلاں کھڑا ہوجا یہاں تک کہ چھتیس آدمی کھڑے ہوئے پھر فرمایا بیشک وہ تم میں سے ہیں بیشک تم میں سے ہیں اور بیشک وہ تم میں سے ہیں اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرو۔ حضرت عمر ؓ ایک آدمی کو ملے اس کے اور ان کے درمیان بھائی چارہ تھا حضرت عمر ؓ نے فرمایا تیرا حال ہے اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو خطبہ کرتے ہوئے اس طرح فرمایا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تجھ سے سارا دن دور رکھے۔